Explained with ayahs 57–58
تمام مظاہر قدرت اس کی شان کے مظہر ہیں
اوپر بیان ہوا کہ زمین و آسمان کا خالق اللہ ہے۔ سب پر قبضہ رکھنے والا، حاکم، تدبیر کرنے والا، مطیع اور فرمانبردار رکھنے والا اللہ ہی ہے۔ پھر دعائیں کرنے کا حکم دیا کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اب یہاں بیان ہو رہا ہے کہ رزاق بھی وہی ہے اور قیامت کے دن مردوں کو زندہ کردینے والا بھی وہی ہے۔ پس فرمایا کہ بارش سے پہلے بھینی بھینی خوش گوار ہوائیں وہی چلاتا ہے (بشرا) کی دوسری قرأت مبشرات بھی ہے۔ رحمت سے مراد یہاں بارش ہے جیسے فرمان ہے آیت (وَهُوَ الَّذِيْ يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ ۭ وَهُوَ الْوَلِيُّ الْحَمِيْدُ 28) 42۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
سورة الْاَعْرَاف 46
یہاں ایک لطیف مضمون ارشاد ہوا ہے جس پر متنبہ ہوجانا اصل مدعا کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے۔ بارش اور اس کی برکتوں کے ذکر سے اس مقام پر خدا کی قدرت کا بیان اور حیات بعد الممات کا اثبات بھی مقصود ہے اور اس کے ساتھ ساتھ تمثیل کے پیرا یہ میں رسالت اور اس کی برکتوں کا اور اس کے ذریعہ سے خوب و زشت میں فرق اور خبیث و طیّب میں امتیاز نمایاں ہوجانے کا نقشہ دکھانا بھی پیش نظر ہے۔ رسول کی آمد اور خدائی تعلیم و ہدایت کے نزول کو بارانی ہواؤں کے چلنے اور ابر رحمت کے چھا جانے اور امرت بھری بوندوں کے برسنے سے تشبیہ دی گئی ہے۔ پھر بارش کے ذریدہ سے مردہ پڑی ہوئی زمین کے یکایک جی اٹھنے اور اس کے…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور وہ (اللہ) ایسا ہے کہ اپنی باران رحمت سے پہلے ہواؤں کو بھیجتا ہے کہ وہ (بارش کی امید دلا کر دل کو) خوش کردیتی ہیں یہاں تک کہ جب وہ ہوائیں بھاری بادلوں کو اٹھا لیتی ہیں تو ہم اس بادل کو کسی خشک زمین کی طرف ہانک لے جاتے ہیں، پھر اس بادل سے پانی برساتے ہیں، پھر اس پانی سے ہر قسم کے پھل نکالتے ہیں، (جس سے اللہ تعالیٰ کی توحید اور قدرت مطلقہ مردوں کو زندہ کرنے کی ثابت ہوتی ہے، اس لئے فرمایا) یوں ہی (قیامت کے روز) ہم مردوں کو (زمین سے) نکال کھڑا کریں گے (یہ سب اس لئے سنایا) تاکہ تم سمجھو (اور قرآن اور رسول ﷺ کی ہدایت اگرچہ سب کے لئے عام ہے مگر اس سے فائدہ اٹھانے والے کم لوگ ہوتے ہیں…
Read the full tafseer →وَهُوَ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ بُشْرًۢا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهٖ ۭ حَتّٰى اِذَآ اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنٰهُ لِبَلَدٍ مَّيِّتٍ فَاَنْزَلْنَا بِهِ الْمَاۗءَ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ ۭكَذٰلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتٰى لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ۔
امید و بیم دونوں میں خدا ہی کو مرجع بنانے کی تمثیل بارش سے۔
وَهُوَ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ بُشْرًۢا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهٖ ، رحمت سے مراد یہاں بارش ہے۔ قرآن میں بارش کے لیے یہ لفظ ایک سے زیادہ مقامات استعمال ہوا ہے۔ یہ تمثیل ہے اس بات کی کہ خوف و طمع دونوں ہی حالتوں میں اللہ ہی کی طرف رجوع کرنا چاہیے اس لیے کہ رحمت ہمیشہ…
Read the full tafseer →57۔ 1 اپنی الوہیت و ربوبیت کے اثبات میں اللہ تعالیٰ مزید دلائل بیان فرما کر پھر اس سے احیاء موتی کا اثبات فرما رہا ہے۔ بشرا بشیر کی جمع ہے، رحمۃ سے مراد یہاں مطر بارش ہے یعنی بارش سے پہلے وہ ٹھنڈی ہوائیں چلاتا ہے جو بارش کی نوید ہوتی ہیں۔
157۔ 2 بھاری بادل سے مراد پانی سے بھرے ہوئے بادل ہیں۔
57۔ 3 ہر قسم کے پھل، جو رنگوں میں، ذائقوں میں، خوشبوؤں میں اور شکل و صورت میں ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔
57۔ 4 جس طرح ہم پانی کے ذریعے مردہ زمین روئیدگی پیدا کردیتے ہیں اور وہ انواع و اقسام کے غلہ اور پھل پیدا کرتی ہے۔ اسی طرح قیامت والے دن تمام انسانوں کو، جو مٹی میں مل کر مٹی ہوچکے ہونگے ہم دوبارہ…
Read the full tafseer →33: یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ ایک مردہ زمین میں جان ڈال دیتا ہے اسی طرح وہ مردہ انسانوں میں بھی جان ڈالنے پر قادر ہے، مردہ زمین کے زندہ ہونے کے واقعات تم روز مرہ دیکھتے ہو اور یہ بھی مانتے ہو کہ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ہوتا ہے اس سے تمہیں سبق لینا چاہیے کہ انسانوں کو دوبارہ زندگی دینے کو اللہ تعالیٰ کی قدرت سے باہر سمجھنا کتنی بڑی بےوقوفی ہے۔
Read the full tafseer →آیت ” نمبر 57۔
یہاں اس کائنات میں شان ربوبیت کے آثار کو قلم بند کیا گیا ہے ‘ مثلا کائنات میں فعالیت ‘ اس پر کنٹرول اس کا مدبرانہ نظام اور اس کی قوتوں کی تحدید وتقدیر ۔ یہ سب امور اللہ کی عظیم کارفرمائیوں کے مظہر ہیں اور ایسے امور ہیں جو بتاتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی رب نہیں ہو سکتا ۔ وہی خالق اور رازق ہے ‘ مسبب الاسباب ہے اور یہ اسباب اس نے اپنی مخلوق کے لئے تیار کئے ہیں ۔
ہوا ہر وقت چلتی رہتی ہے ‘ ہر وقت وہ اس کائنات میں بادلوں کو اٹھاتی اور دوڑاتی ہے ۔ ہر وقت بادلوں سے بارش برستی رہتی ہے ۔ لیکن یہ سب امور اللہ کے فضل وکرم کے مظہر ہیں جیسا کہ یہ حقیقت ہے ۔ یہ بات ہمارے مشاہدے سے وراء ہے ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
2 پچھلی آیات میں " استواء علی العرش " کے ساتھ فلکیات (چاند، سورج وغیرہ) میں جو خدائی تصرفات ہیں، ان کا بیان تھا، درمیان میں بندوں کو کچھ مناسب ہدایات کی گئیں۔ اب سفلیات اور " کائنات الجو " کے متعلق اپنے بعض تصرفات کا ذکر فرماتے ہیں تاکہ لوگ معلوم کرلیں کہ آسمان زمین اور ان دونوں کے درمیانی حصہ کی کل حکومت صرف اسی رب العالمین کے قبضہء قدرت میں ہے۔ ہوائیں چلانا، مینہ برسانا، قسم قسم کے پھول پھل پیدا کرنا ہر زمین کی استعداد کے موافق کھیتی اور سبزہ اگانا، یہ سب اسی کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کے نشان ہیں۔ اسی ذیل میں مردوں کا موت کے بعد جی اٹھنا اور قبروں سے نکلنا بھی سمجھا دیا۔ حضرت شاہ صاحب…
Read the full tafseer →آیت 57 وَہُوَ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًام بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِہٖ ط۔
یعنی ابر رحمت سے پہلے ہواؤں کے ٹھنڈے جھونکے گویا بشارت دے رہے ہوتے ہیں کہ بارش آنے والی ہے۔ اس کیفیت کا صحیح ادراک کرنے کے لیے کسی ایسے خطے کا تصور کیجیے جہاں زمین مردہ اور بےآب وگیاہ پڑی ہے ‘ لوگ آسمان کی طرف نظریں لگائے بارش کے منتظر ہیں۔ اگر وقت پر بارش نہ ہوئی تو بیج اور محنت دونوں ضائع ہوجائیں گے۔ ایسے میں ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے جب باران رحمت کی نوید سناتے ہیں تو وہاں کے باسیوں کے لیے اس سے بڑی بشارت اور کیا ہوگی۔
حَتّٰیٓ اِذَآ اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالاً
یہ بادل کس قدر بھاری ہوتے ہوں گے ‘ ان کا وزن انسانی…
Read the full tafseer →60 خوف اور طمع سے پکارنے کا مطلب یہ ہے کہ اپنی تمام امیدیں اللہ سے وابستہ رکھے اور اس کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہو اور ڈرنا اس بات سے چاہیے کہ کسی غلطی یا تقصیر کی وجہ سے کہیں اللہ کی بارگاہ میں مردود ہی نہ جاؤں۔ دونوں پہلوؤں کو بہرحال ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ تاہم اللہ سے حسن ظن کا پہلو غالب رہنا چاہیے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے :
جابر بن عبداللہ انصاری کہتے ہیں کہ آپ نے اپنی وفات سے تین دن پہلے فرمایا تم میں سے ہر شخص کو مرتے وقت اللہ سے حسن ظن رکھنا ضروری ہے۔ (مسلم۔ کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا باب الامر بحسن ظن باللہ تعالیٰ )
61 مردہ زمین کی زندگی سے بعث بعد الموت پر استدلال :۔ اکثر دہریت…
Read the full tafseer →79 ۔ (عموما وعادۃ) قرآن مجید کی اس قسم کی آیتوں میں اور ان کی تعداد دو ایک کی نہیں پچاسوں کی ہے، یہ خوب یادرکھا جائے کہ بیان واقعات تکوینی کی صرف غالب اور عمومی حالت کا ہوتا ہے۔ حصروکلیت کہیں بھی مقصود نہیں ہوتی ورنہ پھر معجزات وخوارق کا تو سری سے سد باب ہوجائے۔ خارق کے معنی بھی ایک عمومی دستور میں خرق ہوجانے کے ہیں۔
80 ۔ یعنی یہ تکوینی داستان تمہارے سامنے اس لیے دہرائی گئی کہ تم اس مشاہدہ فطرت سے توحید الہی اور مردوں کے زندہ کرنے کی قدرت پر استدلال کرسکو۔ (آیت) ” اقلت سحابا ثقالا “۔ یعنی ہوا بادل کے اجزاء کو باہم ملائے رہتی اور انہیں فضا میں معلق رکھتی ہے۔ سقنہ۔ فانزلنا بہ۔ “ دونوں میں ضمیر…
Read the full tafseer →فانزلنا بہ الماء، جس طرح ہم پانی کے ذریعہ مردہ زمین میں روئیدگی پیدا کردیتے ہیں اور وہ انواع و اقسام کے غلے اور پھل پھول پیدا کرتی ہے اسی طرح قیامت کے دن تمام انسانوں کو جو مٹی میں شامل ہو کر مٹی ہوچکے ہوں گے ہم دوبارہ زندہ کردیں گئ اور ان کا حساب لیں گے۔
Read the full tafseer →وہو الذی یرسل الرسح بشرا بین یدی رحمتہ اور وہ اللہ ایسا ہے کہ باران رحمت سے پہلے خوشخبری دینے کے لئے ہواؤں کو بھیج دیتا ہے۔
بُشْراً یہ لفظ بُشُراً کا مخفف ہے اور بُشُراً بشیر کی جمع ہے۔ رحمت سے مراد بارش۔ باد مشرق (پُروا ہوا) ابر کو اٹھا کر لاتی ہے باد شمالی اب کو جمع کرتی ہے۔ باد جنوبی اب کو چکر دیتی ہے اور باد مغرب (پچھوا ہوا) بادل کو منتشہ کردیتی ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کا بیان ہے میں نے خود سنا رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے ہوا ‘ اللہ کی بھیجی ہوئی راحت ہے یہ رحمت کو بھی لاتی ہے اور عذاب کو بھی (اس کو برا نہ کہو اور اللہ سے اس کی خیر کی طلب کرو اور اس کی خرابی سے اللہ کی پناہ کے خواستگار رہو۔ رواہ…
Read the full tafseer →(57) وہ بارش سے قبل ہوا کو خوشی کا باعث بنا کر بھیجتا ہے جب وہ ہوائیں ایسے بادلوں کو جو پانی سے وزنی ہوں اٹھالیتی ہیں، پھر ہم ایسی جگہ پر جہاں سبزہ نہیں ہوتا، اسے برسادیتے ہیں اور اس بارش کے ذریعے اس جگہ مختلف قسموں کے پھل اگاتے ہیں۔
جیسا کہ ہم چٹیل زمین میں سبزیاں اگاتے ہیں، اسی طرح ہم مردوں کو قبروں سے نکال کھڑا کریں گے تاکہ تم لوگ نصیحت حاصل کرو۔
Read the full tafseer →وَهُوَ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ بُشْرًۢا : ”بُشْرًۢا“ یہ ”بَشِیْرٌ“ کی جمع ہے، یہ وزن مذکر و مؤنث دونوں کے لیے آتا ہے، یعنی ”مُبَشِّرَاتٌ“ خوش خبری دینے والیاں۔ ”رَحْمَتِہٖ“ سے مراد یہاں بارش ہے۔ دیکھیے سورة شوریٰ (28) اور سورة روم (46) ”ثِقَالًا“ یہ ”ثَقِیْلٌ“ کی جمع ہے، یعنی پانی کی کثرت سے بھاری۔ ”لِبَلَدٍ مَّيِّتٍ“ مردہ شہر، یعنی جس زمین میں کوئی پودا نہیں اور نہ چرنے ہی کی کوئی چیز ہے۔
كَذٰلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتٰى۔۔ : بارش کے ساتھ مردہ زمین کی زندگی کو آخرت میں مردوں کو زندہ کرنے کی دلیل کے طور پر پیش فرمایا ہے، یعنی جس ذات پاک نے مردہ زمین کو دم بھر میں زندہ کردیا وہ انسانوں کو بھی…
Read the full tafseer →قولہ تعالیٰ : آیت : وھوالذی یرسل الریح بشرا بین یدی رحمتہ کا عطف قول باری تعالیٰ یغشی الیل النھار پر ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں میں سے ایک دوسری شے کا ذکر کیا ہے اور اپنی وحدانیت اور اپنے الہ ہونے کے ثبوت پر دلیل بیان کی ہے۔ اور ریح کے بارے سورة البقرہ میں کلام گزر چکی ہے۔ ریاح جمع کثرت ہے اور ارواح جمع قلت ہے۔
اور ریح کی اصل روح ہے اور جس نے جمع قلت میں اریاح کہا ہے اس نے خطا کی ہے۔ بشرا میں سات قرائتیں ہیں : اہل حرمین اور ابو عمرو نے نون اور شین کے ضمہ کے ساتھ نشرا پڑھا ہے اور یہ نسبت کے معنی کی بنا پر ناشر کی جمع ہے۔ یعنی ذات نشر ( خوشخبری سنانے والی) پس یہ شاھدا اور شھد کی مثل ہے اور…
Read the full tafseer →(1) امام عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا لفظ آیت ” وھو الذی یرسل الریح بشرا بین یدی رحمتہ “ اس پر اجماع ہے۔ ” بشرا “ خفیف کرتے ہوئے باء کے ساتھ۔
(2) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے روایت کیا کہ سدی (رح) نے اس آیت کے بارے میں فرمایا اللہ تعالیٰ ہوا کو بھیجتے ہیں وہ بادلوں کو خافقین یعنی آسمان و زمین کے کنارے جہاں مل رہے ہوں کہ درمیان سے لاتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ وہاں سے اس کو نکالتا ہے۔ پھر اس کو پھیلا دیتا ہے اور اس کو آسمان میں پھیلا دیتا ہے جس طرح چاہتا ہے پھر آسمان کے دروازے سے کھولتا ہے اور پانی کو بادلوں پر بہاتا ہے۔ پھر اس کے بعد بادل بارش…
Read the full tafseer →وَهُوَ الَّذِيْ [ اور وہ ، وہ ہے جو ] يُرْسِلُ [ بھیجتا ہے ] الرِّيٰحَ [ ہواؤں کو ] بُشْرًۢا [ خوشخبری ہوتے ہوئے ] بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهٖ ۭ [ اپنی رحمت کے آگے ] حَتّٰى [ یہاں تک کہ ] اِذَآ [ جب ] اَقَلَّتْ [ وہ بلند کرتی ہیں ] سَحَابًا ثِقَالًا [ بھاری بادل کو ] سُقْنٰهُ [ تو ہم ہانکتے ہیں اس کو ] لِبَلَدٍ مَّيِّتٍ [ کسی مردہ بستی کے لیے ] فَاَنْزَلْنَا [ پھر ہم اتارتے ہیں ] بِهِ [ اس سے ] الْمَاۗءَ [ پانی کو ] فَاَخْرَجْنَا [ پھر ہم نکالتے ہیں ] بِهٖ [ اس سے ] مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ ۭ [ تمام پھلوں میں سے ] كَذٰلِكَ [ اسی طرح سے ] نُخْرِجُ [ ہم نکالیں گے ] الْمَوْتٰى [ مردوں کو ]…
Read the full tafseer →بارش اور اس کے ذریعہ پیداوار اللہ کی بڑی نعمتیں ہیں
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی ایک بہت بڑی نعمت یعنی بارش اور اس کے فوائد کا تذکرہ فرمایا ہے اول تو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہواؤں کو بھیجتا ہے جو اس کی رحمت یعنی بارش سے پہلے خوشخبری دینے والی ہوتی ہیں۔ پھر فرمایا کہ یہ ہوائیں بھاری بھاری بادلوں کو اٹھا لیتی ہیں۔ جن میں پانی بھرا ہوا ہوتا ہے جو زمین بےآب وگیاہ ہوتی ہے اور سبزی کے اعتبار سے مردہ ہوچکی ہوتی ہے اللہ تعالیٰ پانی سے بھرے ہوئے بادلوں کو ایسی زمین کی طرف بھیج دیتا ہے وہاں بارش برستی ہے جس سے پانی جمع ہوجاتا ہے سبزہ نکل آتا ہے، کھیتوں اور باغوں میں جان پڑجاتی ہے جس سے پھل میوے غلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–58
ذکر تخلیق عالم برائے اثبات ربوبیت والوہیت برائے اثبات قیامت
قال اللہ تعالیٰ ان ربکم اللہ الذی خلق السموات والارض۔۔۔ الی۔۔۔ کذلک نصرف الایت لقوم یشکرون
(ربط) گزشتہ آیات میں معاد اور جزاء وسزا کا بیان تھا جسکا مشرکین انکار کرتے تھے اب ان آیات میں تخلیق عالم کا ذکر فرماتے ہیں جو حق جل شانہ کی ربوبیت اور الوہیت اور کمال قدرت کے دلائل پر مشتمل ہے جس کو سماوات اور ارضین کی تخلیق سے شروع فرمایا اور بارش اور ارض میتتہ کی حیات یعنی مردہ زمین کی زندگی پر کلام کو ختم فرمایا کہ بارش سے کس طرح زمین زندہ ہوجاتی ہے جس سے مردوں کے دوبارہ زندہ ہونے پر استدلال فرمایا اور یہ فرمایا۔ کذلک نخرج الموتی لعلکم…
Read the full tafseer →67: یہ “ اَلَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ ” پر معطوف ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی صفات مختصہ کا ذکر کیا گیا ہے۔ وہ بارانِ رحمت سے پہلے ہوا بھیجتا ہے جو پر آب بادلوں کو بنجر زمین کی طرف اٹھا لے جاتے ہیں۔ بارش سے مردہ زمین میں اللہ تعالیٰ جان ڈال دیتا ہے اور وہ ہر قسم کے پھل اور میوے پیدا کرتی ہے۔
68: یہ جملہ معترضہ ہے۔ یعنی جس طرح ہم بنجر زمین کو بارش سے زندہ کر کے قابل روئیدگی بنا دیتے ہیں اسی طرح ہم مردوں کو قبروں سے زندہ کر کے نکال لیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
ربط آیات
اللہ تعالیٰ نے اصحاب اعراف کا ذکر کرنے کے بعد نیک و بدلوگوں کا انجام بیان فرمایا پھر تخلیق کائنات کا ذکر فرمایا ان ربکم الذی خلق السموت والارض فی ستۃ ایام “ اس کے ساتھ عرش الٰہی کا ذکر ہوا نشانات قدرت میں سے سورج ، چاند اور ستاروں کی مقررہ مدار میں گردش کے ساتھ یہ بھی واضح فرما دیا کہ خلق اور امر یعنی پیدا کرنا اور حکم دینا اللہ تعالیٰ ہی کو سزاوار ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ کو پکارنے کے حکم کے ساتھ اس کی دعا اور مناجات کا طریقہ بھی بتلایا کہ اس کے لیے دو باتیں ضروری ہیں ایک گڑگڑانا اور دوسری پوشیدہ طریقے سے دعا کرنا اس کے بعد زمین میں فساد کرنے سے منع فرمایا ، ظاہر ہے کہ کفر ، شرک اور…
Read the full tafseer →وَالْبَلَدُ الطَّيِّبُ يَخْرُجُ نَبَاتُہٗ بِـاِذْنِ رَبِّہٖ 0 ۚ وَالَّذِيْ خَبُثَ لَا يَخْرُجُ اِلَّا نَكِدًا 0 ۭ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّشْكُرُوْنَ 58 ۧ
نبت
النَّبْتُ والنَّبَاتُ : ما يخرج من الأرض من النَّامِيات، سواء کان له ساق کا لشجر، أو لم يكن له ساق کالنَّجْم، لکن اختَصَّ في التَّعارُف بما لا ساق له، بل قد اختصَّ عند العامَّة بما يأكله الحیوان، وعلی هذا قوله تعالی: لِنُخْرِجَ بِهِ حَبًّا وَنَباتاً [ النبأ/ 15] ومتی اعتبرت الحقائق فإنّه يستعمل في كلّ نام، نباتا کان، أو حيوانا، أو إنسانا، والإِنْبَاتُ يستعمل في كلّ ذلك . قال تعالی: فَأَنْبَتْنا فِيها حَبًّا وَعِنَباً…
Read the full tafseer →1 ؎ یعنی خشک زمین کی طرف ان بادلوں کو روانہ کردیتے ہیں۔ خشک زمین کو مردہ سے تعبیر کیا گیا۔ 12 منہ
ترکیب : بشراب اور ش دونوں ضمہ سے یہ جمع ہے بشیر کی جیسا کہ قلیب و قلب اور تخفیف کے لیے بسکون شین بھی پڑھا گیا ہے اور بعض نے ب کی جگہ ن بھی پڑھا ہے۔ یہ حال ہے الریاح سے سحاب جمع سحابتہ اور اس لئے اس کی صفت میں ثقال جمع کا صیغہ آیا۔ نکداً کمتر و حقیر۔
تفسیر : اور اب اگر ہر وقت عرش پر بیٹھا رہتا ہے اور عرش کی حرکت دوری سے کبھی نیچے کبھی اوپر ہونے کی تکلیف بھی اٹھاتا ہے تو پھر پچھلی رات کو اس سے نیچے کیوں اتر آتا ہے اور زمین پر نمازی کے سامنے کیوں آکھڑا ہوتا ہے (وغیرہ ذلک) بہت سے دلائلِ نقلیہ آیات و…
Read the full tafseer →ارشاد ہوتا ہے :
وَھُوَ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًا م بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِہٖ ط حَتّٰٓی اِذَآ اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنٰہُ لِبَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَنْزَلْنَا بِہٖ الْمَآئَ فَاَخْرَجْنَا بِہٖ مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ ط کَذٰلِکَ نُخْرِجُ الْمَوْتٰی لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ ۔ (الاعراف : 57)
” اور وہی ہے ‘ جو بھیجتا ہے ہوائوں کو بشارت بنا کر اپنے ابر رحمت سے پہلے۔ یہاں تک کہ جب وہ بوجھل بادل کو اٹھا لیتی ہیں ‘ ہم اس کو ہانکتے ہیں کسی بےآب وگیاہ زمین کی طرف اور وہاں پانی برساتے ہیں۔ پھر ہم اس سے پیدا کرتے ہیں ‘ ہر قسم کے پھل۔ اسی طرح ہم مردوں کو اٹھا کھڑا کریں گے ‘ تاکہ تم یاد دہانی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
رابط کلام : یہ اللہ کی رحمت کا کرشمہ ہے کہ وہ پہلے ٹھنڈی ہوائیں چلاتا ہے تاکہ لوگوں کے دل بارش کے نزول سے پہلے ہی مسرور ہوجائیں اور اپنا سازو سامان سنبھال لیں۔ پھر وہ بارش سے مردہ زمین، مرجھائی فصلوں اور مضمل طبیعتوں کو شاداں اور فرحان کردیتا ہے۔ بارش کا ذکر فرما کر انسان کو سمجھایا گیا ہے کہ دعا کے بعد اللہ کی رحمت کا نزول ہوتا ہے لہٰذا دعا توبہ اور عاجزی کے ساتھ مانگا کرو۔
جو شخص توحید کے منافی عقیدہ رکھتا اور اللہ کے سوا غیروں سے مانگتا ہے وہ زمین میں فساد کا موجب بنتا ہے اب پھر توحید کے آفاقی دلائل کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے کہ صرف ایک ہی ذات کبریا ہے جو کائنات کا نظام سنبھالے…
Read the full tafseer →قدرت کے دلائلِ عقلیہ :
آیت 57: وَھُوَ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ (اور وہ ایسا ہے کہ ہوائوں کو بھیجتا ہے)
قراءت : مکی حمزہ، علی نے الرِّیْحَ پڑھا۔ بُشْرًا (کہ وہ خوش کردیتی ہیں) حمزہ و علی نے نشر کا مصدر نشرًا پڑھا اور اس کے نصب کی وجہ نمبر 1۔ یہ ہے کہ ارسل اور نشر قریب قریب ہیں۔ گویا اس طرح کہا۔ نشرھا نشرًا۔ نمبر 2۔ حال کی وجہ سے منصوب ہے۔ یعنی منشورات پھیلائی ہوئی۔ عاصم نے اس کو بُشْرًا پڑھا ہے۔ بُشْرًا تخفیف کے ساتھ ہو تو یہ بشیر کی جمع ہے۔ کیونکہ ریاح یہ بارش کی خوشخبری دیتی ہیں۔ شامی نے نشرا پڑھا اور نشر کی تخفیف نشر رُسُل اور رُسْلٌ کی طرح ہے۔ اور بقیہ قراء کی قراءت تخفیف والی ہے۔ نُشُر…
Read the full tafseer →تفسیر 57(وھو الذین یرسل الریح بشراً ) عاصم (رح) نے باء اور اس کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور شین کے سکون کے ساتھ یہاں اور الفرقان اور سورة النمل میں۔ یعنی ہوائیں بارش کی خوشخبری لاتی ہیں کیونکہ دوسری آیت میں ہے ” الریاح مبشرات “ (بین یدی رحمتہ) اور حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے ” نشرا “ نون اور زبر کے ساتھ پڑھا ہے اور وہ پاکیزہ نرم ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ” والناشرات نشرا “ اور ابن عامر (رح) نے نون کے پیش اور شین کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے نون کے پیش اور شین کے ساتھ پڑھا ہے نشور کی جمع صبور اور صبر اور رسول اور رسل کی طرح یعنی عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ حج کے لئے تشریف لے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
(57 ۔ 58) ۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت شریف میں اپنی قدرت کو بیان فرمایا کہ جس طرح ہم دنیا میں تمہاری آنکھوں کے سامنے ہوائیں چلاتے ہیں اور پھر مینہ برساتے ہیں اور اس سے ہر قسم کا سبزہ نکالتے اسی طرح ہم قیامت کے دن مردوں کو قبروں سے نکالیں گے اس واسطے فرمایا شاید تم سوچو دھیان کرو مینہ کی مثال سے ایک یہ مطلب بھی نکل سکتا ہے کہ جاہل لوگوں میں آسمانی کتاب اور رسولوں کی معرفت علم وہدایت بھیجی جس کے سبب سے اچھے استعداد والے ہر ایک طرح کے کمال کو پہنچ گئے جسے عمدہ زمین میں اچھی پیدا وار ہوتی ہے اور بری استعداد والے لوگ مثل بری زمین کے ہیں کہ جو کچھ اس میں سے نکلے وہ ناقص ہوتا ہے مجاہد وغیرہ نے کہا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
آیت 57
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی قدتر اور رحمت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا (آیت) ” اور وہی ہے جو چلاتا ہے ہوائیں خوشخبری لانے والی اس کی رحمت (بارش) سے پہلے “ یعنی وہ ہوائیں جو بارش کی خوشخبری دیتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے بادلوں کو زمین سے اٹھاتی ہیں اور مخلوق اللہ تعالیٰ کی اس رحمت کو دیکھ کر خوش ہوتی ہے اور اس کے برسنے سے قبل ان کے دلوں میں خوشی کے کنول کھل اٹھتے ہیں۔ (حتی اذا اقلت) ” یہاں تک کہ جب وہ اٹھا لاتی ہیں “ یعنی ہوائیں (سحاباً ثقالاً ) ” بھاری بادلوں کو “ بعض ہوائیں ان بادلوں کو اٹھات یہیں، بعض دوسری ہوائیں ان کو اکٹھا کرتی ہیں اور کچھ ہوائیں ان کو بار دار کرتی ہیں (سقنہ لبلد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–141
دعا کا طریقہ
قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
80 اللہ ہی زمین سے طرح طرح کی پیداواریں نکالتا ہے : سو زمین سے اس کی طرح طرح کی پیداواریں نکالنا قدرت کا ایک عظیم الشان انعام و احسان ہے۔ سو فرمایا گیا کہ بارش سے یہ طرح طرح کی پیداواریں ازخود نہیں نکل جاتیں بلکہ ان کو ہم ہی نکالتے ہیں تاکہ تم طرح طرح کی ان پیداواروں سے بھرپور طریقے سے اور قسما قسم کے فائدے اٹھا سکو۔ سو جب اس وحدہٗ لاشریک نے تمہاری ان ظاہری اور حسی ضروریات کی تکمیل کے لئے اتنے اتنے اور ایسے ایسے عظیم الشان انتظامات کئے تو پھر یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ وہ تمہاری روحانی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے کوئی انتظام نہ فرمائے۔ حالانکہ روحانی ضرورتوں کی تکمیل کا سامان جسمانی ضرورتوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
شکر گزاری کے لیے اللہ کی نعمتوں کا ذکر
تشریح : ان آیات میں اللہ رب العزت نے ہوائوں، بادلوں، زمین اور زمین سے پیدا ہونے والے ان تمام پھلوں، سبزیوں اور اناج کا ذکر کیا ہے جو اچھی زرخیز زمین میں سے نکلتے ہیں۔ انسانوں کو فائدہ دیتے ہیں اور انسان اللہ کی دی ہوئی نعمتوں سے مستفید ہوتے ہیں۔ مگر اصل مقصد ان آیات کا یہاں بیان کرنے سے یہ ہے کہ اللہ رب العزت بادل کو اپنے فرامین سے تشبیہ دیتے ہیں کہ میرے ہدایت کے فرمان رسولوں کے ذریعے تمام لوگوں تک پہنچتے ہیں جس طرح بارش ہر قسم کی زمین پر برستی ہے مگر اچھا پھل اچھا اناج اسی اچھی زمین سے اگتا ہے جو زرخیز ہوتی ہے۔ جو زمین پتھریلی، شورزدہ یا اور کسی نقص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–58
رکوع نمبر 7 ۔ آیات 54 ۔ تا۔ 58:
اسرارو معارف :
تمہارا رب تو بہت بڑا رحم کرنے والا اور کریم تھا اس نے تمہاری تخلیق سے پہلے تمہاری خاطر ایک بہت بڑا احسان پیدا فرمایا چھ دنوں میں آسمان زمین اور ان کی تخلیقات کو مکمل فرمایا اگرچہ ایک آن میں سب کچھ کرنے پہ قادر تھا مگر عمل میں تدریج ، غور و فکر اور ایک حسن انتظام کو پسند فرما کر انسان کے لیے اس میں بھی راہنمائی فرما دی کہ جلد بازی میں فیصلے نہ کئے جائیں بلکہ تمام امور نہایت غور و فکر سے طے کیے جائیں تاکہ پچھتانا نہ پڑے لہذا دو دن میں زمین بنائی جیسا کہ ارشاد ہے خلق الارض فی یومین۔ پھر دو دن میں اس کی آبادی کا سامان پہاڑ دریا معاون اور نباتات کہ…
Read the full tafseer →ف 3 یہاں رحمت سے راد بارش ہے۔ ( شوکانی)4 جیسے پانی سے ہر طرح کے پھل نکالتے ہیں۔ (وحیدی)5 یعنی جس ذات پاک نے مردہ زمین کو دم بھر میں زندہ کردیا وہ انسانوں کو بھی ان کے مرجانے کے بعد دوبارہ زندہ کرسکتی ہے اس سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی عظمت کا اندازہ ہوسکتا ہے۔ ( شوکانی )
Read the full tafseer →(7:57) بشرا۔ خوشخبری دینے والی بشر بروزن فعل بشیرۃ کی جمع ہے (ہوائیں آنے والی بارش کی خوشخبری دیتی ہیں)
بین یدی۔ بین۔ درمیان ۔ بیچ۔ جب اس کی اضافت ایدی (ہاتھوں ) کی طرف ہو تو اس کے معنی سامنے اور قریب کے ہوتے ہیں۔ جیسے ثم لاتینھم من بین ایدیہم (7:17) پھر میں ضرور آؤں گا ان پر سامنے سے۔ یا اس کے معنی قبل (پہلے) کے ہوتے ہیں۔ مثلاً آیۃ ہذا۔ بین یدی رحمتہ۔ اس کی رحمت سے پہلے (یہاں رحمت سے مراد بارش ہے)
اقلت۔ قلت اور کثرت اصل وضع کے لحاظ سے صفات عدد سے ہیں جس طرح کہ عظم اور صغر صفات اجسام سے ہیں۔ بعدہ کثرت و قلت اور عظم و صغر میں سے ہر ایک دوسرے کی جگہ بطور استعارہ استعمال ہونے لگا ہے۔ مثلاً قم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
لغات القرآن آیت نمبر (56 تا 58 ) ۔
لا تفسدوا (تم فساد نہ کرو) ۔ اصلاح (درست۔ درستگی) ۔ طمعا (امید) ۔ یرسل (وہ بھیجتا ہے) ۔ الریع (ریع) ۔ ہوائیں) ۔ اقلت (اٹھالائیں۔ (اقلال) ۔ سحاب (بادل) ۔ ثقال (بھاری) ۔ سقناہ (ہم اس کو ہانک دیتے ہیں) ۔ بلدمیث (مردہ شہر) ۔ کل الثمرات (ہر طرح کے پھل) ۔ نخرج (ہم نکالتے ہیں) ۔ تذکرون (تم دھیان دیتے ہو) ۔ البلد الطیب (پاکیزہ شہر۔ مبارک سر زمین) ۔ نبتہ ( اپنا سبزہ۔ اس کا سبزہ) ۔ خبت (خراب۔ گندہ) ۔ نکد (نامکمل چیز۔ ناقص چیز) ۔ یشکرون (وہ شکر کرتے ہیں) ۔
تشریح : آیت نمبر (56 تا 58 ) ۔ ” دو آیت پہلے اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے جن کا تعلق آسمان اور بلندی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
حضرت نوح (علیہ السلام)
حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت شعیب (علیہ السلام) تک چند صاحب شریعت انبیاء کے قصے ان آیتوں میں آنحضرت ﷺ کی تسکین وتشفی کے ارادہ سے اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائے ہیں تاکہ آپ کو یہ اطمینان ہوجاوے کہ سرکش قوموں پر انبیاء کے جھٹلانے کا ہمیشہ سے جس طرح وبال پڑا ہے اگر اہل مکہ مکرمہ مارے گئے اور آپ نے ان کی لاشوں پر ایک ایک کا نام لے کر فرمایا کہ خدا کے وعدے کو تم نے دیکھ لیا اور بقیہ اہل مکہ مکرمہ فتح مکہ پر اسلام لے آئے۔ اگر قضا وقدر میں ان کا ایمان لانا نہ ٹھہرا ہوتا تو پچھلی امتوں کی طرح ضرور سب اہل مکہ ہلاک ہوجاتے۔ سو اس تشفی کے لئے ان قصوں میں آنحضرت ﷺ کی نبوت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
[29] جس طرح بارش سے مردہ زمین جس میں زرخیز ہونے کی استعداد موجود ہے لہلہا اٹھتی ہے اسی طرح پیغمبر کی تعلیم و رہنمائی سے صرف وہی انسان فائدہ اٹھاتے ہیں جن میں قبولیت حق کی استعداد ہے اور جن کی صلاحیتوں کو صحیح تعلیم و رہنمائی نہ ملنے کی وجہ سے نمایاں ہونے کا موقع نہیں ملتا۔ لیکن جو انسان شرارت پسند اور قبولیت حق کی استعداد سے محروم ہیں تو جس طرح بارش سے نکمی زمین نکمی ہی پیداوار نکالتی ہے اسی طرح پیغمبر کی تعلیم سے ان لوگوں کو کوئی نفع نہیں پہنچتا بلکہ اس کے برعکس ان کے اندر کی دبی ہوئی خباثتیں ابھر کر برسرکار آجاتی ہیں۔ چناچہ ہر زمانے میں یہ ہوا ہے کہ پیغمبر کی آمد کے بعد انسانیت دو حصوں میں…
Read the full tafseer →(ف 2) معاد پر استدلال ہے یعنی جس طرح ابر کے چند چھینٹے کھیت اور باغ میں زندگی کی روح پیدا کردیتے ہیں ، اسی طرح قیامت کے روز اللہ کی رحمت سے مردہ تنوں میں زندگی پیدا ہوجائے گی ،
Read the full tafseer →57 اور وہ اللہ تعالیٰ وہی ہے جو بارش اور بارانِ رحمت کے آگے آگے خوشخبری اور بشارت کے لئے ہوائیں بھیجتا ہے یہاں تک کہ جب وہ ہوائیں بادلوں کو اٹھا لاتی ہیں تو ہم اس بادل کو کسی مردہ شہر اور بلدہ جس کی زمین خشک ہو اور زمین مری پڑی ہو ایسی زمین کی طرف ہانگ لے جاتے ہیں پھر اس بادل سے پانی برساتے اور اتارتے ہیں پھر ہم اس پانی سے ہر قسم زمین سے نکالتے اور اگاتے ہیں جس طرح ہم مری ہوئی زمین سے پھل نکالتے ہیں اسی طرح ہم قیامت میں مردوں کو ان کے ٹھکانوں سے نکال کھڑا کریں گے تاکہ تم مردوں کے دوبارہ زندہ ہونے پر غور کرو اور نصیحت پکڑو یعنی بارش کے لئے بادلوں کو اکھیڑنے اور چلانے کے لئے ہوائیں بھیجتا ہے…
Read the full tafseer →ف 1۔ یعنی قیامت کے روز
Read the full tafseer →امید وبیم دونوں میں اللہ کی ذات ہی کو مرجع بنانے کی تمثیل بارش سے :
68: رحمت سے مرا اس جگہ بارش ہے اور قرآن کریم میں بارش کے لئے یہ لفظ اکثر مقامات پر استعمال ہوا ہے اور یہ تمثیل ہے اس بات کی کہ خوف وطمع دونوں ہی حالتوں میں اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔ اس لئے کہ رحمت ہمیشہ اللہ ہی کی طرف سے نازل ہوتی ہے۔ بارش پر تمام دنیا کی زندگی کا انحصار ہے لیکن ممکن نہیں ہے کہ کوئی ایک قطرہ اس کا اس زمین پر ٹپکا دے۔ یہ اللہ ہے جو پہلے ہمارے علاقے کے مطابق مون سون لانے والی ہوائیں چلاتا ہے جو بھاری بادلوں کو اپنے کندھوں پر اٹھا لاتی ہیں پھر اللہ تعالیٰ ان کو بےآب وگیاہ علاقوں کی طرف ہانک دیتا ہے اور وہ…
Read the full tafseer →Commentary
In previous verses, Allah Ta` ala has mentioned some of His major and particular blessings. By pointing out to the creation of the heavens and the earth, the day and night, and the sun, moon and stars and how they serve human beings, the lesson driven home is that there is no power other than the sacred Being of Allah Ta` ala to take care of our needs and comforts, then, it becomes necessary that we should pray to none but Him for everything we need and take this turning to Him as the key of our success.
Mmmm48
Also mentioned in the first of the present verses are some other…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
46. It is necessary to grasp the subtle point made here in order to appreciate the full purport of what is being said. The reference to rain and its advantages is intended to bring into focus God's power, and to affirm life after death. Moreover, it is also intended to draw attention in allegorical, albeit graphic, terms to the blessings of prophethood, and how it helps men to distinguish between good and evil, between pure and impure. The intimation of Divine Guidance through the Prophets is compared to the movement of winds, the appearance of rain-laden clouds, and the fall of…
Read the full tafseer →