Al-A'raaf 7:55

Al-A'raaf · from ayah 55

7:55

اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْیَةً ؕ— اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ ۟ۚاُدۡعُوۡا رَبَّكُمۡ تَضَرُّعًا وَّخُفۡيَةً‌ ؕ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الۡمُعۡتَدِيۡنَ‌

(لوگو) اپنے پروردگار سے عاجزی سے اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو۔ وہ حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Call upon your Lord in humility and privately; indeed, He does not like transgressors.

— Saheeh International

Juz 8 · Ruku 7 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:55

ا پنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے، یقیناً و ہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(لوگو) اپنے پروردگار سے عاجزی سے اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو۔ وہ حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا

— مولانا فتح محمد جالندہری

تم لوگ اپنے پروردگار سے دعا کیا کرو گڑگڑا کر کے بھی اور چپکے چپکے بھی۔ واقعی اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ناپسند کرتا ہے جو حد سے نکل جائیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

تم اپنے پروردگار کو عاجزی کے ساتھ چپکے چپکے پکارا کرو۔ یقینا وہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اپنے رب سے دعا کرو گڑگڑاتے اور آہستہ، بیشک حد سے بڑھنے والے اسے پسند نہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

تم اپنے رب سے گڑگڑا کر اور آہستہ (دونوں طریقوں سے) دعا کیا کرو، بیشک وہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اپنے رب کو گڑ گڑا کر اور خفیہ طور پر پکارو، بیشک وہ حد سے بڑھنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اپنے پروردگار کو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے پکارو۔ یقینا وہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے، بیشک وہ حدود سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پکارو تم لوگ (اپنی ہر ضرورت کے لئے، اور ہر حال میں) اپنے رب ہی کو، عاجزی کے ساتھ اور پوشیدہ طور پر، بیشک وہ پسند نہیں کرتا حد سے بڑھنے والوں،

— مولانا اسحاق مدنی

اپنے پروردگار سے دعا کرو عاجزی کے ساتھ اور چپکے چپکے بیشک وہ حد سے نکل جانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پکارتے رہا کرو اپنے رب کو عاجزی کے ساتھ اور چپکے چپکے یقیناً وہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

لوگو ! اپنے رب سے عاجزی سے اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو۔ وہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Call upon your Lord with humility and in secret. Surely He does not love transgressors.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Supplicate to your Lord humbly and secretly. Surely, He does not like those who cross the limits.

— Muhammad Taqi Usmani

Supplicate to your Lord humbly and secretly. Surely, He does not like those who cross the limits.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Invoke your Lord Tadarru`an and Khufyah. He likes not the aggressors.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

(O mankind!) Call upon your Lord humbly and in secret. Lo! He loveth not aggressors.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Call upon your Lord in humility and privately; indeed, He does not like transgressors.

— Saheeh International

Pray to your Lord humbly and privately. God does not love the transgressors.

— Muhammad Sarwar

Call on your Lord humbly and secretly; surely He does not love those who exceed the limits.

— Muhammad Habib Shakir

Call on Your Lord in humility and in secrecy; verily He approveth not the trespassers.

— Abdul Majid Daryabadi

Call on your Lord with humility and in private: for Allah loveth not those who trespass beyond bounds.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:55

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 55–56

انسان دعا مانگے قبول ہوگی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دعا کی ہدایت کرتا ہے جس میں ان کی دنیا اور آخرت کی بھلائی ہے۔ فرماتا ہے کہ اپنے پروردگار کو عاجزی، مسکینی اور آہستگی سے پکارو جیسے فرمان ہے آیت (واذکر ربک فی نفسک) الخ، اپنے رب کو اپنے نفس میں یاد کر۔ بخاری و مسلم میں حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ لوگوں نے دعا میں اپنی آوازیں بہت بلند کردیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگو اپنی جانوں پر رحم کرو تم کسی بہرے کو یا غائب کو نہیں پکار رہے جسے تم پکار رہے ہو وہ بہت سننے والا اور بہت نزدیک ہے۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ پوشیدگی مراد ہے، امام ابن جریر فرماتے ہیں (تضرعا) کے معنی ذلت مسکینی اور اطاعت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 55–56

سورة الْاَعْرَاف 44 زمین میں فساد برپا نہ کرو، یعنی زمین کے انتظام کو خراب نہ کرو۔ انسان کا خدا کی بنگی سے نکل کر اپنے نفس کی یا دوسروں کی بندگی اختیار کرنا اور خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنے اخلاق، معاشرت اور تمدن کو ایسے اصول و قوانین پر قائم کرنا جو خدا کے سوا کسی اور کی رہنمائی سے ماخوذ ہوں، یہی وہ بنیادی فساد ہے جس سے زمین کے انتظام میں خرابی کے بیشمار صورتیں رونما ہوتی ہیں اور اسی فساد کو روکنا قرآن کا مقصود ہے۔ پھر اس کے قرآن اس حقیقت پر بھی متنبہ کرتا ہے کہ زمین کے انتظام میں اصل چیز فساد نہیں ہے جس پر صلاح عارض ہوئی ہو بلکہ اصل چیز صلاح ہے جس پر فساد محض انسان کی جہالت اور سرکشی سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر تم لوگ (ہر حالت میں اور ہر حاجت میں) اپنے پروردگار سے دعا کیا کرو تذلل ظاہر کرکے بھی اور چپکے چپکے بھی (البتہ یہ بات) واقعی (ہے کہ) اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ناپسند کرتے ہیں جو (دعاء میں) حد (ادب) سے نکل جاویں (مثلاً محالات عقلیہ یا محرمات شرعیہ کی دعا مانگنے لگیں) اور دنیا میں بعد اس کے کہ (تعلیم توحید اور بعثت انبیاء کے ذریعہ) اس کی اصلاح اور درستی کردی گئی ہے، فساد مت پھیلاو (یعنی امور حقہ توحید وغیرہ کے ماننے اور ان پر چلنے سے جن کی اوپر تعلیم ہے عالم میں امن قائم ہوتا ہے تم تعلیم مذکور کو چھوڑ کر نقض امن مت کرو) اور (جیسا تم کو اوپر خاص دعا کرنے کا حکم ہوا ہے اسی طرح بقیہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْيَةً ۭاِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ۔ اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْيَةً۔ تضرع، ضراعت سے ہے۔ اس کے معنی عاجزی، خوشامد، لجاجت، تملق کے اظہار کے ہیں۔ یہ اظہار حرکات اور اداؤں سے بھی ہوتا ہے اور الفاظ و عبارات سے بھی۔ اس کی سب سے زیادہ موثر شکل وہ ہوتی ہے جب یہ الفاظ وحرکات دونوں میں کامل ہم آہنگی کے ساتھ نمایاں ہوں جس کی بہترین شکل اسلام میں نماز ہے۔ باوضو ہو کر مودب کھڑا ہونا، ہاتھ باندھ لینا، سر نہیوڑا دینا، گھٹنے ٹیک دینا، ناک اور پیشانی خاک پر رکھ دینا، یہ تضرع کی حرکات اور ادائیں ہیں اور ان مختلف حرکات اور اداؤں کے ساتھ جو دعائیں اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 54–55

54۔ 1 یہ چھ دن اتوار، پیر، منگل، بدھ، جمعرات اور جمعہ ہیں۔ جمعہ کے دن ہی حضرت آدم ؑ کی تخلیق ہوئی، ہفتے والے دن کہتے ہیں کوئی تخلیق نہیں ہوئی، اسی لئے اس کو یوم البست کہا جاتا ہے، کیونکہ سبت کے معنی ہیں قطع (کاٹنے) کے ہیں یعنی اس دن تخلیق کا کام قطع ہوگیا۔ پھر اس دن سے کیا مراد ہے ؟ ہماری دنیا کا دن، جو طلوع شمس سے شروع ہوتا ہے اور غروب شمس پر ختم ہوجاتا ہے۔ یا یہ دن ہزار سال کے برابر ہے ؟ جس طرح کہ اللہ کے یہاں کے دن کی گنتی ہے، یا جس طرح قیامت کے دن کے بارے میں آتا ہے۔ بظاہر یہ دوسری بات زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔ کیونکہ ایک تو اس وقت سورج چاند کا یہ نظام ہی نہیں تھا، آسمان اور زمین کی تخلیق…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

30: اس حد سے گزرنے میں یہ بات بھی داخل ہے کہ بہت اونچی آواز سے دعا مانگی جائے، اور یہ بھی کہ کوئی ناجائز یا ناممکن چیز طلب کی جائے، جو دعا کے بجائے (معاذاللہ) مذاق بن جائے، مثلاً یہ دعا کہ میں ابھی آسمان پر چڑھ جاؤں، کفار بعض اوقات آنحضرت ﷺ سے اس قسم کی دعائیں مانگنے کا مطالبہ کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 55–56

آیت ” نمبر 55 تا 56۔ یہ ہدایات ایسے وقت میں دی جارہی ہیں جبکہ مطالعہ کرنے والا نفسیانی طور پر ان کو قبول کرنے کے لئے پوری طرح آمادہ ہوجاتا ہے ۔ وہ دعاء اور رجوع الی اللہ کی حالت میں ہوتا ہے اور اس عظیم کارخانہ قدرت کے مطالعہ کے بعد اللہ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کی حالت میں ہوتا ہے ۔ خفیہ سے مراد یہ ہے کہ چیخ و پکار نہ کرو ‘ دھیمی آواز سے پکارو کیونکہ اللہ کی جلالت شان کے لائق یہ ہے کہ انسان اسے نہایت ہی نرم اور دھیمی آواز میں پکارے اور اس انداز میں جس سے معلوم ہو کہ اللہ قریب ہے اور سن رہا ہے ۔ مسلم کی روایت ہے۔ حضرت ابو موسیٰ ؓ روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے ۔ ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 جب " عالم خلق و امر " کا مالک اور تمام برکات کا منبع وہ ہی ذات ہے تو دنیاوی و اخروی حوائج میں اسی کو پکارنا چاہئے۔ الحاح و اخلاص اور خشوع کے ساتھ بدون ریا کاری کے ساتھ آہستہ آہستہ۔ اس سے معلوم ہوا کہ دعا میں اصل اخفاء ہے اور یہی سلف کا معمول تھا، بعض مواقع میں جہر و اعلان کسی عارض کی وجہ سے ہوگا جس کی تفصیل روح المعانی وغیرہ میں ہے۔ 11 یعنی دعاء میں حد ادب سے نہ بڑھے۔ مثلاً جو چیزیں عادتاً یا شرعاً محال ہیں وہ مانگنے لگے یا معاصی اور لغو چیزوں کی طلب کرے، یا ایسا سوال کرے جو اس کی شان و حیثیت کے مناسب نہیں یہ سب " اعتداء فی الدعاء " میں داخل ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 55 اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْیَۃًط اِنَّہٗ لاَ یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ۔ گویا زیادہ بلند آواز سے دعا مانگنا اللہ کے ہاں پسندیدہ نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

58 دعا کے آداب :۔ ایسے ہی ہر چیز کے خالق ومالک اور بابرکت اللہ تعالیٰ کے سامنے تمہیں اپنی حاجات پیش کرنا چاہئیں۔ اسی سے فریاد کرو اور اسی کی عبادت کرو۔ عجز و انکسار کے ساتھ دعا کرو اور تہہ دل سے اور دل میں کرو اور دعا میں ریاکاری کا دخل نہ ہو اور دعا میں حد ادب سے نہ بڑھنا چاہیے مثلاً ایسی چیزوں کی دعا نہ مانگے جو عادتاً یا شرعاً محال ہوں یا معاصی یا سائل لغو چیزوں کی طلب کرنے لگے یا ایسا سوال کرے جو مانگنے والے کی شان اور حیثیت کے مطابق حال نہ ہو۔ مثلاً کوئی اپنے لیے بادشاہ بننے کی دعا کرے کہ بیٹھے بٹھائے بادشاہت مل جائے تو ایسی دعا کرنا بھی حد سے بڑھنے کے ضمن میں آجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

77 ۔ (اور دعا میں آداب دعاوعبودیت کا لحاظ نہ رکھنا بھی ایک صورت حد سے نکل جانے ہی کی ہے) آداب دعا میں یہ بھی داخل ہے کہ دعا نہ محالات عقلیہ وعادیہ کی مانگی جائے۔ اور نہ معاصی کی طلب و تمنا پیش کی جائے۔ (آیت) ” ادعواربکم “۔ یہ دعا مانگنے کی دعوت ہر حال میں اور بڑی چھوٹی ہر حاجت کے لیے دی جارہی ہے۔ (آیت) ” ربکم “ کے لفظ نے بندوں کو یاد دلادیا کہ جس سے دعا مانگ رہے ہو، وہ کوئی ظالم اور سخت گیر حاکم نے، وہ تو تمہار شفیق پروردگار ہے۔ وہی تو تمہاری مادی وروحانی ہر طرح کی ترقیوں کا ضامن ہے۔ (آیت) ” تضرعا “۔ دعا تو خود ایک عبادت ہی ہے چاہیے کہ حسب شان عبودیت لجاجت کے لہجہ میں اور خشوع قلب کے ساتھ ہو۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 54–55

آیت نمبر 54 تا 58 ترجمہ : درحقیقت تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو دنیا کے دنوں کی مقدار کے اعتبار سے چھ دنوں میں پیدا فرمایا، اسلئے کہ اس وقت سورج نہیں تھا، اگر وہ چاہتا تو ایک لمحہ میں پیدا کردیتا، اور ایک لمحہ میں پیدا نہ کرنا لوگوں کو عجلت نہ کرنے کی تعلیم دینے کیلئے ہے، پھر (اپنے) تخت شاہی پر جلوہ فرما ہوا (عرش) لغت میں تخت شاہی کو کہتے ہیں، تخت پر جلوہ فرمائی سے مراد اس کی شایان شان جلوہ فرمائی ہے، وہ شب و روز کو ایک دوسرے سے اس طرح چھپا دیتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کے پیچھے دوڑا چلا آتا ہے جس نے سورج اور چاند اور تارے پیدا کئے جو اس کے حکم کے تابع ہیں (تینوں پر) نصب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ادعوا ربکم تضرعا وخفیۃ اپنے رب سے دعا کیا کرو گڑگڑا کر اور چپکے چپکے۔ یعنی اس کا ذکر کرو ‘ اس کی عبادت کرو ‘ اس سے دعا کرو۔ تَضَرُّعًامصدر بمعنی اسم فاعل ہے اس کا مجرد ضَرْعٌہے۔ ضَرَعَ الرَّجَلَ ضَرَاعۃَوًہ آدمی کمزور اور عاجز ہوگیا۔ ضَارِعٌاور ضرِعٌ کمزور عاجز تَفْرَعَاس نے کمزوری اور عاجزی ظاہر کی (زاری کی گڑگڑایا) قاموس میں ضَرَعِ اِلَیْہِ ضّرَعًا وَضَّرَاعَۃً اس کے سامنے خضوع کیا عاجزی کی اور مسکنت کا اظہار کیا۔ خُفْیَۃً پوشیدہ عبادت اور دعا خلوص کی دلیل ہے اور ریاکاری کے شائبہ سے پاک ہے اس لئے خفیہ دعا کا حکم دیا۔ اگر ذکر سری ہو یا جہری ہو مگر ریاکاری کی اس میں آمیزش نہ ہو تو عبادت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(55) ظاہری اور پوشیدہ طور پر یا یہ کہ ڈر اور عاجزی ظاہر کرکے دعا کیا کرو وہ دعا میں ایسی باتوں کو پسند کرتا ہے جو ان کے لیے نیکوکاروں کے خلاف جائز نہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 55–56

اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْيَةً : ان دو آیات میں چار حکم ہیں، پہلا یہ کہ دعا عاجزی سے گڑ گڑا کر اور خشوع سے ہونی چاہیے اور دعا تنہائی میں کرنا مستحب اور بہتر ہے، کیونکہ اس سے ریا کو راستہ نہیں ملتا اور اخلاص میں خلل نہیں آتا۔ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ : دوسرا یہ کہ حد سے بڑھنا اللہ تعالیٰ کو کسی صورت پسند نہیں۔ اس میں اللہ کے ساتھ شرک کرنا یا کسی پر ظلم کرنا بھی شامل ہے اور ایسی چیز کی دعا کرنا جو ناممکن ہو، مثلاً میں ہمیشہ زندہ رہوں، یا مجھے آخرت میں انبیاء کا مرتبہ حاصل ہوجائے، یا ایسی چیز کی دعا کرنا جس کے متعلق علم نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کو اس کا مانگنا پسند ہے، جیسے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 قولہ تعالیٰ : آیت : ادعوا ربکم یہ دعا اور اس میں عجز و انکساری کرنے کے بارے امر ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس حکم کے ساتھ ایسی صفات کو ملا دیا ہے جو اس کے ساتھ حسین لگتی ہیں اور وہ خشوع اور عجزوانکساری کا اظہار کرنا ہے۔ اور خفیۃ کا معنی ہے وہ راز اور چھپی ہوئی بات جو دل میں ہوتا کہ وہ ریا کاری سے دور اور محفوظ رہے، اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت زکریا (علیہ السلام) کی تعریف کی ہے جب ان کے بارے خبر دیتے ہوئے فرمایا : آیت : اذ نادٰی ربہ ندآء خفیا (مریم) ( جب اس نے پکارا اپنے رب کو چپکے چپکے) اور اسی طرح حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : خیر الذکر الخفی وخیر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 54–56

(1) امام ابو الشیخ نے سمیط (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو ہمارے رب تبارک و تعالیٰ نے اس آیت میں اپنی ذات کے بارے میں بتایا یعنی لفظ آیت ” ان ربکم اللہ الذی خلق السموت والارض “ الآیہ۔ (2) امام ابن ابی الدنیا نے کتاب الدعاء میں اور خطیب نے تاریخ میں حسن بن علی (رح) سے روایت کیا کہ میں ضامن ہوں اس شخص کے لئے جو یہ بیس آیتیں پڑھے کہ اللہ تعالیٰ اس کو بچائیں گے ہر ظالم بادشاہ سے ہر سرکش شیطان سے ہر تکلیف دینے والے درندے سے اور ہر عادی چور سے آیۃ الکرسی تین آیات ( سورة ) اعراف میں سے۔ یعنی لفظ آیت ” ان ربکم اللہ الذی خلق السموت والارض “ اور دس آیات (سورۃ) الصافات کے اول سے اور تین آیات ( سورة ) الرحمن…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اُدْعُوْا [ تم لوگ پکارو ] رَبَّكُمْ [ اپنے رب کو ] تَضَرُّعًا [ گڑگڑاتے ہوئے ] وَّخُفْيَةً ۭ [ اور چپکے چپکے ] اِنَّهٗ [ بیشک وہ ] لَا يُحِبُّ [ پسند نہیں کرتا ] الْمُعْتَدِيْنَ [ حد سے بڑھنے والوں کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

دعا کرنے کے آداب اللہ تعالیٰ کی خالقیت اور حاکمیت بیان فرمانے کے بعد حکم فرمایا کہ اسی کی طرف متوجہ رہو اسی کو پکارو، اسی سے مانگو اسی سے اپنی حاجتوں کا سوال کرو۔ ساتھ ہی دعا کا ادب بھی بتادیا اور وہ یہ کہ تضرع یعنی عاجزی کے ساتھ دعا کیا کرو دعا میں اپنی عاجزی اختیار کرو اور دل سے مانو کہ واقعی ہم عاجز ہیں، نیز یہ بھی بتایا کہ چپکے چپکے دعا کرو۔ بعض مواقع میں زور سے دعا کرنے کا ثبوت ملتا ہے۔ لیکن عام حالت میں چپکے چپکے ہی دعا کرنا چاہئے۔ سورۂ مریم میں حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا کا تذکرہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا (اِذْنَادٰی رَبَّہٗ نِدَآءً خَفِیًّا) (جبکہ زکریا نے اپنے رب کو پکارا پوشیدہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 54–58

ذکر تخلیق عالم برائے اثبات ربوبیت والوہیت برائے اثبات قیامت قال اللہ تعالیٰ ان ربکم اللہ الذی خلق السموات والارض۔۔۔ الی۔۔۔ کذلک نصرف الایت لقوم یشکرون (ربط) گزشتہ آیات میں معاد اور جزاء وسزا کا بیان تھا جسکا مشرکین انکار کرتے تھے اب ان آیات میں تخلیق عالم کا ذکر فرماتے ہیں جو حق جل شانہ کی ربوبیت اور الوہیت اور کمال قدرت کے دلائل پر مشتمل ہے جس کو سماوات اور ارضین کی تخلیق سے شروع فرمایا اور بارش اور ارض میتتہ کی حیات یعنی مردہ زمین کی زندگی پر کلام کو ختم فرمایا کہ بارش سے کس طرح زمین زندہ ہوجاتی ہے جس سے مردوں کے دوبارہ زندہ ہونے پر استدلال فرمایا اور یہ فرمایا۔ کذلک نخرج الموتی لعلکم…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

65: چونکہ اللہ تعالیٰ ہی ساری کائنات کا خالق ومالک ہے اور وہی متصرف و مختار ہے لہذا غائبانہ حاجات میں اسی کو پکارو “ المعتدین ” غیر اللہ کو پکارنے والے “ وَلَا تُفْسِدُوْا فِیْ الْاَرْضِ ” ای بالشرک بعد التوحید (مدارک ج 2 ص 43) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 55–56

ربط آیات اصحاب اعراف کے ذکر کے بعد اچھے اور برے لوگوں کا انجام بیان ہوا پھر قدرت تامہ کے دلائل ذکر کیے گئے اللہ تعالیٰ نے ابتدائے تخلیق کائنات ، دن رات کے تغیر و تبدل اور سماوی کر ات کا ذکر کیا جو اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں مقررہ رفتار سے اپنی اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہیں تمام سیارے اور ستارے اللہ تعالیٰ کے حکم سے مسخر ہیں اور اس کی قدرت تامہ کے دلائل ہیں پیدا کرنا بھی اسی کا کام ہے اور حکم دنیا بھی اسی کی شان ہے خدا تعالیٰ کی ذات بڑی بابرکت ہے اور وہ تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ اب آج کے درس کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس کو پکارنے کا طریقہ بیان فرمایا ہے اور دوسری آیت میں نیکی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَا تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِہَا وَادْعُوْہُ خَوْفًا وَّطَمَعًا۝ 0 ۭ اِنَّ رَحْمَتَ اللہِ قَرِيْبٌ مِّنَ الْمُحْسِـنِيْنَ۝ 56 فسد الفَسَادُ : خروج الشیء عن الاعتدال، قلیلا کان الخروج عنه أو كثيرا،. قال تعالی: لَفَسَدَتِ السَّماواتُ وَالْأَرْضُ [ المؤمنون/ 71] ، (س د ) الفساد یہ فسد ( ن ) الشئی فھو فاسد کا مصدر ہے اور اس کے معنی کسی چیز کے حد اعتدال سے تجاوز کر جانا کے ہیں عام اس سے کہ وہ تجاوز کم ہو یا زیادہ قرآن میں ہے : ۔ لَفَسَدَتِ السَّماواتُ وَالْأَرْضُ [ المؤمنون/ 71] تو آسمان و زمین ۔۔۔۔۔ سب درہم برہم ہوجائیں ۔ أرض الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 55–56

1 ؎ عطا نے کہا ہے آمین دعا ہے اور دعا کا آہستہ اور خفیہ کرنا بہتر ہے اس لئے آمین کا نماز میں خفیہ کہنا ہی بہتر ہے جیسا کہ امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 55–56

اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَۃً ط اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ ۔ (الاعراف : 55) ” پکارو اپنے رب کو گڑگڑا کر اور چپکے چپکے۔ اس کو پسند نہیں آتے حد سے آگے بڑھنے والے “۔ دعا کا مفہوم آیت میں دعا اور اس کے آداب کا ذکر ہے۔ لفظ دعا عربی زبان میں کسی کو حاجت روائی کے لیے پکارنا کے معنی میں بھی آتا ہے اور مطلق یاد کرنے کے معنی میں بھی اور یہاں دونوں معنی مراد ہوسکتے ہیں۔ مگر میں اس وقت صرف معنی کی حد تک گفتگو کو محدود رکھنا چاہتا ہوں۔ دعا کے مکمل مفہوم کا سمجھنا ‘ تین باتوں کے جاننے پر موقوف ہے : -1 جس سے دعا مانگی جا رہی ہے ‘ اس کی حیثیت کا تعین۔ -2 دعا مانگنے کے آداب اور اس کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 55–56

فہم القرآن ربط کلام : جب زمین و آسمانوں کا خالق، رات اور دن، شمس و قمر اور ہر چیز کا مالک وہی ہے اور ہر چیز پر اسی کا حکم چلتا ہے۔ تو کسی دوسرے کے سامنے دست سوال دراز کرنے کا کیا معنٰی ؟ لہٰذا حقیقی خالق اور بااختیار مالک سے مانگا کیجیے اس سے نہ مانگنا اور غیروں سے مانگنا اللہ تعالیٰ کی بغاوت ہے جس سے ساری زمین کا نظام بگڑتا ہے۔ دعا کے آداب میں شکرو حمد، درود اور توبہ استغفار کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی جلالت ومنزلت کا تقاضا اور فقیر کی شان یہ ہے کہ مانگتے وقت غایت درجے کی انکساری اور در ما ندگی کا اظہار کرتے ہوئے اسکے سامنے دست سوال دراز کرنا چاہیے۔ شاہ ولی اللہ ؓ نے لکھا ہے کہ دعا مانگنے والا اس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

پکارنے کا حکم ‘ مگر حد سے تجاوز کی ممانعت : آیت 55: اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّ عًا وَّ خُفْیَۃً (تم اپنے رب سے دعا کیا کرو گڑ گڑا کر اور چپکے چپکے بھی) یہ دونوں حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں یعنی عاجزی والا اور پوشیدگی والا۔ التضرع یہ تفعُّل کا وزن ہے الضرعہ سے بنا ہے اور وہ عجزو ذلت کو کہتے ہیں یعنی گڑگڑا کر اور مسکینی ظاہر کر کے حضور ( علیہ السلام) نے فرمایا تم کسی بہرے اور غائب کو نہیں پکار رہے ہو۔ بلکہ تم سمیع و قریب کو پکار رہے ہو۔ وہ تمہارے ساتھ ہے تم جہاں بھی ہو۔ ( بخاری 4384، مسلم 2704) حسن بصری (رح) سے روایت ہے کہ پوشیدہ اور علانیہ پکار نے میں ستر گنا کا فرق ہے۔ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر (55) (ادعوا ربکم تضرعا) اپنے کو ذلیل کرتے ہوئے (وخفیۃ) حسن (رح) فرماتے ہیں کہ خفیہ دعا اور اعلانیہ دعا کے درمیان ستر گنا فرق ہے۔ مسلمان دعا میں خوب کوشش کرتے تھے مگر ان کی آواز نہیں سنی جاتی تھی۔ صرف سرگوشیاں ان کے رب کے ساتھ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خفیہ دعا مانگنے کا حکم دیا اور اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اپنے نیک بندے کا ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ اس کے فعل سے راضی ہوئے (جس وقت اس نے اپنے رب کو پکارا چپکے سے) تو فرمایا (اذ نادی ربہ نداء خفیا) (انہ لایحب المعتدین) بعض نے کہا دعا میں حد سے گزرنے وال۔ ابو مجاز (رح) فرماتے ہیں وہ لوگ مراد ہیں جو انبیاء (علیہم السلام) کے مرتبوں کا سوال کرتے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 55–56

(55 ۔ 56) ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دعا مانگنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ گڑ گڑا کر چپکے سے دعا مانگو تاکہ ریا نہ ہو وے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ خفیہ کے معنے پوشیدہ کے ہیں ابن جریر نے تضرع کے معنے گرگڑانے کے بیان کئے ہیں۔ دعا کے اندر چلانے اور چیخنے سے منع کیا گیا ہے صحیح بخاری اور مسلم میں حدیث ہے کہ ابوموسیٰ اشعری ؓ نے کہا جبکہ لوگوں نے دعا میں آوازیں بلند کیں تو پیغمبر ﷺ نے فرمایا کہ تم کسی بہرے اور غائب کو نہیں پکارتے ہو جو جتلاتے ہو بلکہ جس کو پکارتے ہو وہ سنتا بھی ہے اور قریب ہے پھر کیوں نہیں چپکے سے دعا مانگتے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ دعا میں حد سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 55–56

آیت 55 ” دعا “ میں دعائے مسئلہ اور دعائے عبادت دونوں شامل ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ وہ اسے پکاریں (تضرعا) ” عاجزی سے۔ “ یعنی گڑ گڑا کر اللہ تعالیٰ سے مانگیں اور جم کر اس کی عبادت کریں۔ (وخفیۃ) ” اور چپکے سے “ یعنی با آواز بلند اور علانیہ نہ گڑا گڑائیں جس سے ریا کا خدشتہ ہو بلکہ چھپ چھپ کر خالص اللہ تعالیٰ کے لئے آہ وزاری کریں (انہ لا یحب المعتدین) ” وہ حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ “ یعنی تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ یہ بھی حد سے تجاوز ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ سے ایسی چیزوں کا سوال کرے جو بندے کے لئے درست نہیں، یا دوسرے سے سوال کرنا ہی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 55–141

دعا کا طریقہ قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

78 دعا کے دو اہم آداب کی تعلیم و تلقین یعنی تضرع اور اخفا : سو یہ دعا کے دو اہم آداب ہیں جو اس آیت کریمہ میں ارشاد فرمائے گئے ہیں کہ دعاء عاجزی وزاری کے ساتھ ہو تاکہ ربِّ رحمن کی رحمت کو کھینچے اور متوجہ کرے۔ اور دوسرے یہ کہ دعاء خفیہ و پوشیدہ ہو تاکہ اس میں ریارء و نمود اور دکھلاوا نہ پیدا ہوجائے۔ اور نبی اکرم ۔ ﷺ ۔ نے اپنے ارشادات عالیہ سے دعاء کے ان دونوں ادبوں کو طرح طرح سے واضح فرمایا ہے۔ چناچہ تضرع و انکساری کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ " اپنی دعاؤں میں رویا کرو اور اگر رونا نہ آئے تو رونے کی کوشش کیا کرو اور رونے کی شکل ہی بنا لیا کرو " جبکہ دوسرے ادب یعنی پوشیدہ دعاء کے بارے میں بھی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 54–56

خالق ارض و سما، مدبر الامور اور رب العالمین سے مانگو تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت، عظمت اور صناعی کا ذکر کیا گیا ہے کہ اس نے چھ دن میں آسمان اور زمین بنائے۔ چھ دن کا مطلب ہے کہ زمین و آسمان کی ابتدا تو یکدم ہوئی جیسا کہ اس کا طریقہ، مرضی اور قدرت کاملہ ہے جب وہ بھی کچھ بنانا چاہتا ہے تو اس کو سوائے ” کن “ کہنے کے اور کچھ نہیں کرنا پڑتا۔ یہاں بھی انسان کی ناقص عقل ادھر تک ہی پہنچتی ہے کہ زمین کی ابتدا تو فوراً ہوئی مگر زمین و آسمان کی نشوونما اور انتہائِ تکمیل آہستہ آہستہ ہوئی اسی لیے چھ دن کہا۔ اب دن کا مسئلہ یہ سمجھ میں آتا ہے کہ وہاں ایک دن کتنے عرصہ، یعنی کتنی مدت اور کتنا لمبا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 54–58

رکوع نمبر 7 ۔ آیات 54 ۔ تا۔ 58: اسرارو معارف : تمہارا رب تو بہت بڑا رحم کرنے والا اور کریم تھا اس نے تمہاری تخلیق سے پہلے تمہاری خاطر ایک بہت بڑا احسان پیدا فرمایا چھ دنوں میں آسمان زمین اور ان کی تخلیقات کو مکمل فرمایا اگرچہ ایک آن میں سب کچھ کرنے پہ قادر تھا مگر عمل میں تدریج ، غور و فکر اور ایک حسن انتظام کو پسند فرما کر انسان کے لیے اس میں بھی راہنمائی فرما دی کہ جلد بازی میں فیصلے نہ کئے جائیں بلکہ تمام امور نہایت غور و فکر سے طے کیے جائیں تاکہ پچھتانا نہ پڑے لہذا دو دن میں زمین بنائی جیسا کہ ارشاد ہے خلق الارض فی یومین۔ پھر دو دن میں اس کی آبادی کا سامان پہاڑ دریا معاون اور نباتات کہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 12 یعنی دعاذات و خشوع کے ساتھ ہونی چاہیے اور دعا میں اخفا مستحب ہے کیونکہ اس سے اخلاص پیداہو تا ہے اور ریاکاری راہ نہیں پاتی اور لایحب المعتدین کے معنی یہ ہیں کہ حدود شریعت سے تجاوز کسی صورت بھی اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں اور ایسی چیز کی دعا کرنا ممکن ہو۔ مثلام دنیا میں ہمیشہ زندہ رہوں یا یہ کہ آخرت میں انبیا کا مرتبہ حاصل ہوجائے وغیرہ دعا میں حد سے تجاوز ہے اسی طرح چیخا چلایا جائے اور ادعئیہ یا ثورہ کو چھوڑ کر مقفی کلام اور اشعار پڑھ کر دعا کی جائے وغیر بھی اعتدا فی الد عا میں داخل ہے۔ ( شوکانی وغیرہ) ابو موسیٰ اشعری سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ لوگ بلند آواز سے دعا کرنے لگے آنحضرت ﷺ نے فرمایا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(7:55) ادعوا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تم پکارو دعوۃ سے ۔ باب نصر۔ تضرعا۔ عاجزی سے۔ گڑگڑاکر۔ بروزن تفعل مصدر ہے۔ خفیۃ۔ پوشیدہ۔ چھپا ہوا۔ یہاں بمعنی چپکے چپکے۔ آہستہ آہستہ۔ معتدین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ اعتداء (افتعال) مصدر۔ حد سے آگے بڑھنے والے حد سے تجاوز کرنے والے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 54–55

لغات القرآن آیت نمبر (54 تا 55 ) ۔ ستتہ ایام (چھ دن ) ۔ استوی (برابر ہوا ) ۔ العرش (تخت ) ۔ یغشی (چھا جاتا ہے) ۔ یطلبہ (وہ اس کے پیچھے آتا ہے ) ۔ حثیث (دوڑتا ہوا ) ۔ النجوم (ستارے ) ۔ مسخرت (تابع ہیں ) ۔ بامرہ (اس کے حکم کے ) ۔ الخلق (پیدا کرنا ) ۔ الامر (حکم کرنا ) ۔ ادعوا (پکارو ) ۔ تضرعا (عاجزی (سے) ۔ خفیتہ (چپکے چپکے ) ۔ المعتدین (حد سے گزر جانے والے ) ۔ تشریح : آیت نمبر (54 تا 55 ) ۔ ” اگر غور سے مطالعہ کیا جائے تو اس کائنات میں ہر چیز میں ایک تدریج ہے یعنی ہر چیز آہستہ آہستہ اور اصولوں کے مطابق بنتی اور اپنے عروج و کمال کو پہنچتی ہے۔ حیوانات نباتات وغیرہ میں بھی یہی اصول کار فرما ہے۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

آداب دعا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دعا مانگنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ گڑگڑا کر دعا مانگو۔ دعا میں حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ دعا میں حد سے بڑھنا یہ کہ پیغمبروں کے درجہ کا سوال نہ کرے اور بڑی بات منہ سے نہ نکالے۔ جہاں تک ہو سکے دعا جامع ومختصر ہو۔ پھر فرمایا : ” خدا تعالیٰ نے کتابوں اور رسولوں کو بھیج کر زمین کو سنوار دیا تو اب اس زمین کا بگاڑنا کفر، اور شرک کی رسمیں پھیلانی اور قتل وزنا وغیرہ کا پھیلانا قطعی حرام ہے۔ پھر فرمایا کہ پکارو اس کو ڈر سے اور ثواب کا امید وار ہو کر دعا مانگنی چاہئے۔ پھر فرمایا جو اس طریقہ اور آداب سے کلوص کے ساتھ خدا سے دعا منگتے ہیں وہ نیکوکار ہیں، اور…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 2) خدا کو پکارنے کے آداب یہ ہیں ، کہ دل میں خشیت ورعب ہو ، اور ریاکاری سے الگ ہو کر خدا کو پکاریں ، تاکہ اس کی تجلیات سے دل نورانی ہوجائے ۔ حل لغات : حثیثا ۔ دوڑتا ہوا ، جلدی سے ۔ تضرعا : عاجزی سے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

55 لوگو ! اپنے پروردگار سے گڑگڑا کر تذلل اور انتہائی عاجزی کے ساتھ بھی دعا کیا کرو اور چپکے چپکے بھی بیشک اللہ تعالیٰ حد سے آگے نکل جانے والوں کو پسند نہیں کرتا یعنی جب یہ معلوم ہوگیا کہ جملہ مخلوقات کا خواہ وہ مجردات ہوں یا مادیات اللہ تعالیٰ ہی مالک ہے تو تم سب اپنی حاجات اور ضروریات اس ہی سے مانگا کرو۔ مانگنے کا طریقہ یہ ہے کہ نہایت خشوع و خضوع اور الحاح وزاری اور خلوص کے ساتھ مانگا کرو اور چپکے چپکے آہستہ آہستہ مانگا کرو۔ کیونکہ نہ تو وہ غائب ہے اور نہ وہ بہرا ہے دعا میں اصل اخفا ہے حد سے بڑھ جانے والے وہ ہیں جو دعا میں ریاکاری کریں یا بلاوجہ غل مچائیں یا مبالغہ سے کام لیں یا دعا کے الفاظ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 54–55

ف 5۔ یعنی زمین و آسمان میں احکام جاری کرنے لگا۔ 6۔ یعنی شب کی تاریکی سے دن کی روشنی پوشیدہ اور زائل ہوجاتی ہے۔ 7۔ یعنی دن آنافانا گزرنا معلوم ہوتا ہے حتی کہ دفعتا رات آجاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

رب کریم کے سامنے عاجزی و نیاز مندی کا اظہار کرتے رہنا ہی عقلمندی ہے : 66: گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے خاص خاص مظاہر اور اہم انعامات کا ذکر تھا اس آیت میں اس کا بیان ہے کہ جب قدرت مطلقہ کا مالک حقیقی اور تمام احسانات و انعامات کا کرنے والا صرف اور صرف رب العالمین ہے تو مصیبت اور حاجت کے وقت اسی کو پکارنا اور اسی سے دعا کرنا چاہئے۔ اس کو چھوڑ کر کسی دوسری طرف متوجہ ہونا جہالت اور محرومی ہے۔ پھر دعا کے بعد آداب بھی ارشاد فرما دئیے گئے جن کی رعایت کرنے سے قبولیت دعا کی امید زیادہ ہوجاتی ہے۔ دعا کیا ہے ؟ انسان کا ایک فطری تقاضا ہے اور فطری تقاضے ہر وقت ایک جیسے نہیں ہوتے اور جب وقت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary Mentioned in previous verses were particular manifestations of the perfect power of Allah Ta` ala, and His major blessings. The present verses lead us to consider: When He is the Master of perfect power, the sender of all blessings, and the Lord of all the worlds, it naturally follows that He should be the One to be called upon and prayed to under all circumstances, whether in distress or in need. The attitude of by-passing Him and turning towards some other direction is ignorance and failure. Along with it, identified in these verses are some rules of etiquette to be followed…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 55–56

44. The command not to make mischief in the earth means not to vitiate the right order of life. What basically, constitutes 'mischief-making' is to surrender oneself to one's lusts, to commit acts in subservience to other human beings and to subscribe to base morals, social orders, civilizations, principles and laws derived from sources other than God's Guidance. This is the essential mischief from which innumerable evils issue and which the Qur'an seeks to eradicate. The Qur'an also emphasizes that sound order is the original condition, and disorder and mischief occurred later as accidents…

Read the full tafseer →