اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا
بہت سی آیتوں میں یہ بیان ہوا ہے کہ آسمان و زمین اور کل مخلوق اللہ تعالیٰ نے چھ دن میں بنائی ہے یعنی اتوار سے جمعہ تک۔ جمعہ کے دن ساری مخلوق پیدا ہوچکی۔ اسی دن حضرت آدم پیدا ہوئے یا تو یہ دن دنیا کے معمولی دنوں کے برابر ہی تھے جیسے کہ آیت کے ظاہری الفاظ سے فی الفور سمجھا جاتا ہے یا ہر دن ایک ہزار سال کا تھا جیسے کہ حضرت مجاہد کا قول ہے اور حضرت امام احمد بن حنبل کا فرمان ہے اور بروایت ضحاک ابن عباس کا قول ہے۔ ہفتہ کے دن کوئی مخلوق پیدا نہیں ہوئی۔ اسی لئے اس کا نام عربی میں (یوم السبت) ہے (سبت) کے معنی قطع کرنے ختم کرنے کے ہیں۔ ہاں مسند احمد نسائی اور صحیح مسلم میں جو…
Read the full tafseer →سورة الْاَعْرَاف 40
یہاں دن کا لفظ یا تو اسی چوبیس گھنٹے کے دن کا ہم معنی ہے جسے دنیا کے لوگ دن کہتے ہیں، یا پھر یہ لفظ دور (Period) کے معنی میں استعمال ہوا ہے، جیسا کہ سورة الحج آیت نمبر 47 میں فرمایا وَاِنَّ یَوْمًاعِنْدَرَبِّکِ کَاَلْفِ سَنَةٍمِمَّاتَعُدُّوْنَ (اور حقیقت یہ ہے کہ تیرے رب کے ہاں ایک دن ہزار سال کے برابر ہے اس حساب سے جو تم لوگ لگاتے ہو) ، اور سورة مارج کی آیت 4 میں فرمایا کہ تَعْرُجُ الْمَلٰئِکَةُوَالرُّوْحُ اِلَیْہِ فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَةٍ (فرشتے اور جبرائیل اس کی طرف ایک دن میں چڑھتے ہیں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے)۔ اس کا صحیح مفہوم اللہ…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
بے شک تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے سب آسمانوں اور زمین کو چھ روز (کے برابر وقت) میں پیدا کیا، پھر عرش پر (جو مشابہ ہے تخت سلطنت کے اس طرح) قائم (اور جلوہ فرما) ہوا (جو کہ اس کی شان کے لائق ہے) چھپا دیتا ہے شب (کی تاریکی) سے دن (کی روشنی) کو (یعنی شب کی تاریکی سے دن کی روشنی پوشیدہ اور زائل ہوجاتی ہے) ایسے طور پر کہ وہ شب دن کو جلدی سے آ لیتی ہے (یعنی دن آناً فاناً گزرتا معلوم ہوتا ہے یہاں تک کہ دفعةً رات آجاتی ہے) اور سورج اور چاند اور دوسرے ستاروں کو پیدا کیا، ایسے طور پر کہ سب اس کے حکم (تکوینی) کے تابع ہیں، یاد رکھو اللہ ہی کے لئے خاص ہے خالق ہونا اور حاکم ہونا، بڑے کمالات والے…
Read the full tafseer →فصل 8۔ آیات 54، 58 کا مضمون : اوپر بات شرک کی بےحقیقتی و بد انجامی پر ختم ہوئی تھی۔ آگے کی آیات میں توحید کے مضمون کی وضاحت فرما کر اس کی تکمیل کردی کہ آسمانوں اور زمین کا خالق خدا ہے اور وہ اس کائنات کو پیدا کر کے اس سے بےتعلق نہیں ہو بیٹھا ہے بلکہ اپنے عرش حکومت پر متمکن ہو کر تمام کائنات پر فرمانروائی کر رہا ہے۔ دن اور رات، سورج اور چاند، ستارے اور سیارے سب اسی کے احکام کی تعمیل میں شب و روز گردش میں ہیں۔ جس نے خلق کیا ہے اسی کا امر و حکم تمام کائنات پر جاری ہے اور خالق کائنات کے سوا دوسرا کوئی حق دار کس طرح ہوسکتا ہے کہ خدا کی خلق کی ہوئی کائنات میں اس کا حکم چلے، پھر یہ کائنات اپنے وجود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
54۔ 1 یہ چھ دن اتوار، پیر، منگل، بدھ، جمعرات اور جمعہ ہیں۔ جمعہ کے دن ہی حضرت آدم ؑ کی تخلیق ہوئی، ہفتے والے دن کہتے ہیں کوئی تخلیق نہیں ہوئی، اسی لئے اس کو یوم البست کہا جاتا ہے، کیونکہ سبت کے معنی ہیں قطع (کاٹنے) کے ہیں یعنی اس دن تخلیق کا کام قطع ہوگیا۔ پھر اس دن سے کیا مراد ہے ؟ ہماری دنیا کا دن، جو طلوع شمس سے شروع ہوتا ہے اور غروب شمس پر ختم ہوجاتا ہے۔ یا یہ دن ہزار سال کے برابر ہے ؟ جس طرح کہ اللہ کے یہاں کے دن کی گنتی ہے، یا جس طرح قیامت کے دن کے بارے میں آتا ہے۔ بظاہر یہ دوسری بات زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔ کیونکہ ایک تو اس وقت سورج چاند کا یہ نظام ہی نہیں تھا، آسمان اور زمین کی تخلیق…
Read the full tafseer →28: یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب دنوں کا حساب موجودہ سورج کے طلوع و غروب سے نہیں ہوتا تھا۔ اس وقت کے دن کا شمار بظاہر کسی اور معیار پر کیا گیا ہے۔ جس کی حقیقت اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔ اور یوں تو اللہ تعالیٰ کو یہ بھی قدرت تھی کہ وہ پلک جھپکنے سے بھی پہلے پوری کائنات وجود میں لے آتا، لیکن اس عمل کے ذریعے انسان کو بھی جلد بازی کے بجائے اطمینان اور وقار کے ساتھ کام کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
29: استواء عربی لفظ ہے جس کے معنی ہیں سیدھا کرنا، قائم ہونا، قابو پانا اور بعض اوقات اس کے معنی بیٹھنے کے بھی ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ چونکہ جسم اور مکان سے پاک ہے اس لئے اس کے یہ معنی سمجھنا صحیح نہیں ہے کہ جس…
Read the full tafseer →آیت ” نمبر 54۔
اسلام کا نظریہ توحید ایسا عقیدہ ہے جو اللہ کی ذات وصفات کے بارے میں ہر قسم کے انسانی تصورات کا قلع قمع کردیتا ہے ۔ اللہ کے افعال کی کیفیات کی بھی وہ نفی کرتا ہے ‘ کیونکہ اللہ ایسا ہے جیسا کوئی بھی نہیں ہے ۔ چناچہ انسانی تصور اللہ کی کوئی تصویر نہیں کھینچ سکتا ‘ کیونکہ انسانی تصور اور انسانی عقل وہی تصاویر اللہ پر چسپاں کرے گا جو وہ اپنے ماحول سے اخذ کرے گا اور اس میں ان اشکال کا دخل ہوگا جو انسان دیکھتا ہے اور اللہ کی ذات ایسی ہے جیسا کوئی اور ذات نہیں ہے لہذا انسانی تصور اللہ کی کوئی تصویر نہیں کھینچ سکتا ۔ اور جب ذات باری انسانی تصور کے دائرہ تصویر کشی سے باہر ہے تو اللہ کے…
Read the full tafseer →4 گذشتہ آیت میں جو معاد کا ذکر تھا، اس رکوع میں مبدا کی معرفت کرائی گئی ہے۔ (قَدْ جَاۗءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بالْحَقِّ ) 7 ۔ الاعراف :53) سے بتلایا گیا تھا کہ جو لوگ دنیا میں انبیاء اور رسل سے منحرف رہتے تھے ان کو بھی قیامت کے دن پیغمبروں کی سچائی کی ناچار تصدیق کرنی پڑے گی۔ یہاں نہایت لطیف پیرایہ میں خدا کی حکومت یاد دلانے اور انبیاء و رسل کی ضرورت کی طرف اشارہ کرنے کے بعد بعض مشہور پیغمبروں کے احوال و واقعات کا تذکرہ پیش کیا جا رہا ہے کہ ان کی تصدیق یا تکذیب کرنے والے کا آخرت سے پہلے دنیا ہی میں کیا انجام ہوا۔ گویا رکوع آنے والے کئی رکوعات کی تمہید ہے۔
5 یعنی اتنے وقت میں جو چھ دن کے برابر…
Read the full tafseer →آیت 54 اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ قف۔
عرش کی حقیقت اور اللہ تعالیٰ کے عرش پر متمکن ہونے کی کیفیت ہمارے تصور سے بالا تر ہے۔ اس لحاظ سے یہ آیت متشابہات میں سے ہے۔ اس کی اصل حقیقت کو اللہ ہی جانتا ہے۔ ممکن ہے واقعتا یہ کوئی مجسم شے ہو اور کسی خاص جگہ پر موجود ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ محض استعارہ ہو۔ عالم غیب کی خبریں دینے والی اس طرح کی قرآنی آیات مستقل طور پر آیات متشابہات کے زمرے میں آتی ہیں۔ البتہ جن آیات میں بعض سائنسی حقائق بیان ہوئے ہیں ‘ ان میں سے اکثر کی صداقت سائنسی ترقی کے باعث منکشف ہوچکی ہے ‘…
Read the full tafseer →53 یہاں دن سے مراد ہمارا یہ 24 گھنٹے کا دن نہیں جو سورج سے تعلق رکھتا ہے کیونکہ یہ سورج تو اس وقت موجود ہی نہ تھا۔ قرآن کریم میں ایک اور مقام پر یوم کی مقدار ایک ہزار سال کا ذکر آیا ہے (22 : 47) اور دوسرے مقام پر پچاس ہزار سال کا (70 : 4) لہذا یہاں چھ دن سے چھ ادوار ہی مراد لیے جاسکتے ہیں۔ (مزید تفصیل کے لیے دیکھئے سورة حم السجدہ 41 کی آیات 9 تا 12)
54 استواء علی العرش کا مفہوم :۔ قرآن میں جہاں بھی استویٰ علی کا لفظ آیا ہے تو اس کے معنی قرار پکڑنا یا جم کر بیٹھنا ہے لیکن بعض عقل پرست فرقے جن میں جہمیہ اور معتزلہ سرفہرست ہیں آیت (اسْتَوٰي عَلَي الْعَرْشِ 59) 25 ۔ الفرقان :59) کا ترجمہ عرش پر…
Read the full tafseer →75 ۔ یعنی عزت و جلال کے تحت پر۔ (آیت) ” خلق السموت والارض “۔ خلق یعنی عدم محض سے انہیں وجود میں لے آیا، یہ نہیں کہ مادہ سب پہلے سے خود بخود یا خود آفریدہ موجود تھا اور خدا نے ان میں صرف ترکیب وترتیب پیدا کردی جیسا کہ بہت سی جاہل مشرک قوموں نے فرض کر رکھا ہے۔ (آیت) ” السموت والارض “۔ یہ پر عظمت وہیبت ناک آسمان جن کی پرستش بطور دیوتا یا خدائے اعظم کے کلدانی اور مصری، ہندی اور یونانی، سب اپنے اپنے اوج تمدن کے وقت کرتے آتے ہیں اور یہ زمین جو دھرتی مائی کی حیثیت سے دنیا میں بہ کثرت پوجی گئی ہے۔ یہ معبود ومسجود ہونا تو الگ رہا، خود اپنے کو وجود میں لانے پر بھی قادر نہیں رہے ہیں، بلکہ ساری دوسری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
آیت نمبر 54 تا 58
ترجمہ : درحقیقت تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو دنیا کے دنوں کی مقدار کے اعتبار سے چھ دنوں میں پیدا فرمایا، اسلئے کہ اس وقت سورج نہیں تھا، اگر وہ چاہتا تو ایک لمحہ میں پیدا کردیتا، اور ایک لمحہ میں پیدا نہ کرنا لوگوں کو عجلت نہ کرنے کی تعلیم دینے کیلئے ہے، پھر (اپنے) تخت شاہی پر جلوہ فرما ہوا (عرش) لغت میں تخت شاہی کو کہتے ہیں، تخت پر جلوہ فرمائی سے مراد اس کی شایان شان جلوہ فرمائی ہے، وہ شب و روز کو ایک دوسرے سے اس طرح چھپا دیتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کے پیچھے دوڑا چلا آتا ہے جس نے سورج اور چاند اور تارے پیدا کئے جو اس کے حکم کے تابع ہیں (تینوں پر) نصب…
Read the full tafseer →ان ربکم اللہ الذی خلق السموات والارض فی ستۃ ایام بیشک تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے سب آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں پیدا کیا۔ دنیا کے انہی چھ دنوں کے برابر وقت میں یا آخرت کے چھ دنوں کے برابر مقدار میں آخرت کا ہر دن دنیا کے ہزار برس کے برابر ہوگا۔ سعید بن جبیر نے فرمایا اللہ سارے آسمان اور زمینیں ایک آن اور ایک پل میں پیدا کرسکتا تھا مگر لوگوں کو ہر کام میں آہستہ روی اور ہر عمل کو دھیرے دھیرے انجام دینے کی تعلیم کے لئے اس نے اس کائنات ارضی و سماوی کو چھ روز میں بنایا حدیث میں آیا ہے آہستہ روی رحمن کی طرف سے ہے اور عجلت پسندی شیطان کی طرف سے۔ رواہ البیہقی فی شعب الایمان مرفوعاً عن انس ؓ بن…
Read the full tafseer →(54) اللہ نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا جس کے ایک دن کی درازی ایک ہزار سال کے برابر تھی، پھر تخت شاہی پر قائم ہوا، رات کو دن سے اور دن کو رات سے چھپا دیتا ہے بایں طور پر رات تیزی سے جاتی ہے اور دن تیزی سے آجاتا ہے، اسی طرح دن تیزی سے جاتا ہے اور رات آجاتی ہے اور سورج وغیرہ کو پیدا کیا کہ سب اپنی رفتار میں اسی کے حکم کے تابع ہیں۔
اللہ ہی نے تمام آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا اور وہی قیامت کے دن تمام مخلوق کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا آقا اور ان کی نگرانی کرنے والا برکتوں اور بلندیوں والا ہے۔
Read the full tafseer →اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ۔۔ : ان چھ دنوں سے مراد دنیا کے چھ دن تو ہو نہیں سکتے، کیونکہ ان کا وجود سورج اور زمین سے ہے اور اس وقت سورج تھا نہ زمین۔ اب یا تو مراد ہزار سال کا وہ دن ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کہا : (وَاِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ) [ الحج : 47 ] ”اور ایک دن تیرے رب کے ہاں ہزار سال کے برابر ہے، اس گنتی سے جو تم شمار کرتے ہو“ یا چھ ادوار مراد ہیں۔ قرآن مجید کی مختلف آیات پر غور کرنے سے یہ بھی معلوم ہوسکتا ہے کہ ہر دور میں کون سی چیز بنائی گئی۔ دیکھیے سورة حم السجدہ (10) صحیح احادیث سے معلوم ہوتا…
Read the full tafseer →آیت نمبر 54
قولہ تعالیٰ : ان ربکم اللہ الذی خلق السموت والارض فی ستۃ ایام اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ وہ قدرت ایجاد میں منفرد اور یکتا ہے، پس وہی اس لائق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے۔
ستۃ کی اصل سدسۃ ہے، پس انہوں نے دال کو سین میں ادغام کرنے کا ارادہ کیا اور وہ دونوں تا کے مخرج کے قریب مل گئے لہٰذا تا ان دونوں پر غالب آگئی۔ اور اگر چاہے تو کہے : دو سینوں میں سے ایک کو توا سے بدل دیا جائے اور پھر اسے دال میں ادغامکر دیا جائے، کیونکہ تو اس کی تصغیر میں کہتا ہے : سدیسۃ اور اس کی جمع اسد اس آتی ہے اور جمع اوع تصغیر دونوں اسماء کو اپنی اصل کی طرف لوٹا دیتے ہیں۔ اور وہ کہتے ہیں : جاء فلان سادساد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
(1) امام ابو الشیخ نے سمیط (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو ہمارے رب تبارک و تعالیٰ نے اس آیت میں اپنی ذات کے بارے میں بتایا یعنی لفظ آیت ” ان ربکم اللہ الذی خلق السموت والارض “ الآیہ۔
(2) امام ابن ابی الدنیا نے کتاب الدعاء میں اور خطیب نے تاریخ میں حسن بن علی (رح) سے روایت کیا کہ میں ضامن ہوں اس شخص کے لئے جو یہ بیس آیتیں پڑھے کہ اللہ تعالیٰ اس کو بچائیں گے ہر ظالم بادشاہ سے ہر سرکش شیطان سے ہر تکلیف دینے والے درندے سے اور ہر عادی چور سے آیۃ الکرسی تین آیات ( سورة ) اعراف میں سے۔ یعنی لفظ آیت ” ان ربکم اللہ الذی خلق السموت والارض “ اور دس آیات (سورۃ) الصافات کے اول سے اور تین آیات ( سورة ) الرحمن…
Read the full tafseer →اِنَّ [ بیشک ] رَبَّكُمُ [ تم لوگوں کا رب ] اللّٰهُ الَّذِيْ [ وہ اللہ ہے جس نے ] خَلَقَ [ پیدا کیا ] السَّمٰوٰتِ [ آسمانوں کو ] وَالْاَرْضَ [ اور زمین کو ] فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ [ چھ دنوں میں ] ثُمَّ [ پھر ] اسْتَوٰى [ وہ متمکن ہوا ] عَلَي الْعَرْشِ [ عرش پر ] يُغْشِي [ وہ ڈھانپتا ہے ] الَّيْلَ [ رات کو ] النَّهَارَ [ دن سے ] يَطْلُبُهٗ [ وہ پیچھے لگتی ہے اسکے ] حَثِيْثًا ۙ [ تیز رفتاری سے ] وَّالشَّمْسَ [ اور (پیدا کیا ) سورج کو ] وَالْقَمَرَ [ اور چاند کو ] وَالنُّجُوْمَ [ اور ستاروں کو ] مُسَخَّرٰتٍۢ [ مطیع کیے ہوئے ] بِاَمْرِهٖ ۭ [ اپنے حکم سے ] اَلَا [ خبردار !] لَهُ [ اس کے لئے ہی ہے ]…
Read the full tafseer →آسمان و زمین کی پیدائش، شمس و قمر اور ستاروں کی تسخیر کا تذکرہ
یہاں سے پھر توحید کا بیان شروع ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے جو بندوں کے سامنے بڑی بڑی مخلوقات ہیں ان کی تخلیق اور تسخیر کا تذکرہ فرمایا۔ یہ چیزیں توحید کی نشانیاں ہیں اول تو یہ فرمایا کہ تمہارا رب وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمینوں کو چھ دن میں پیدا فرمایا۔
اللہ جل شانہٗ آن واحد میں ساری کائنات کو پیدا فرمانے پر قادر ہے پھر آسمان و زمین کو چھ دن میں کیوں پیدا فرمایا ؟ ہمیں اس کی حکمت معلوم ہونا ضروری نہیں ہے۔
حضرات مفسرین نے فرمایا ہے کہ اپنی مخلوق کو تعلیم دینے کے لیے دفعتہ پیدا فرمانے کی بجائے چھ دن میں فرمایا تاکہ وہ سمجھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–58
ذکر تخلیق عالم برائے اثبات ربوبیت والوہیت برائے اثبات قیامت
قال اللہ تعالیٰ ان ربکم اللہ الذی خلق السموات والارض۔۔۔ الی۔۔۔ کذلک نصرف الایت لقوم یشکرون
(ربط) گزشتہ آیات میں معاد اور جزاء وسزا کا بیان تھا جسکا مشرکین انکار کرتے تھے اب ان آیات میں تخلیق عالم کا ذکر فرماتے ہیں جو حق جل شانہ کی ربوبیت اور الوہیت اور کمال قدرت کے دلائل پر مشتمل ہے جس کو سماوات اور ارضین کی تخلیق سے شروع فرمایا اور بارش اور ارض میتتہ کی حیات یعنی مردہ زمین کی زندگی پر کلام کو ختم فرمایا کہ بارش سے کس طرح زمین زندہ ہوجاتی ہے جس سے مردوں کے دوبارہ زندہ ہونے پر استدلال فرمایا اور یہ فرمایا۔ کذلک نخرج الموتی لعلکم…
Read the full tafseer →63 تیسرا دعوی : یہ تیسرا دعوی ہے یعنی کارساز اور غیب دان صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اس نے اپنا کوئی اختیار کسی کے حوالے نہیں کیا لہذا غائبانہ حاجات میں اسی ہی کو پکارو “ ثُمَّ اسْتَوٰي عَلَی الْعَرْشِ ” یہ اس بات سے کنایہ ہے کہ اس نے کسی کے حوالے کچھ نہیں کیا۔ صفت خالقیت بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ ساری کائنات کا مالک اور اس میں متصرف بھی وہی ہے اور اس نے اپنے اختیارات و تصرفات میں کسی کو شریک نہیں کیا۔ قرآن مجید میں استواء علی العرش کا جہاں بھی ذکر آیا ہے اس کے ساتھ زمین و آسمان اور نظام شمسی کی تخلیق کا ذکر بھی ضرور کیا گیا ہے اور یہ کہ سارا نظام عالم اور نظالم عالم کی تدبیر کار اللہ کے اپنے…
Read the full tafseer →ربط آیات
گزشتہ آیات میں اصحاب اعراف کے تذکرے کے بعد اہل جہنم کا ذکر ہوا ، ان کے برے انجام کو بیان کیا گیا پھر ان کی خواہش کا ذکر ہوا …………کہ ان کے لیے کوئی سفارش ہو یا انہیں دنیا میں واپس پلٹا دیا جائے جہاں ر پوہ اچھے کام انجام دیں وہ اس وقت اپنی کوتاہی کا اعتراف کریں گے مر اس وقت کا اقرار کچھ مفید نہیں ہوگا دنیا کی زندگی میں انہوں نے وقت کو ضائع کردیا اور اپنی جانوں کو نقصان میں ڈالا غرضیکہ پہلے اللہ تعالیٰ نے اچھے لوگوں کا انجام بھی بیان کیا اور پھر توحید ، رسالت اور معاد کے منکرین کا حال بھی بیان کیا اب آج کے درس میں اللہ نے ابتدائی تخلیق کا ذکر کیا ہے پہلے ساری کائنات کی تخلیق کا ذکر ہے…
Read the full tafseer →اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْيَۃً 0 ۭ اِنَّہٗ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ 55 ۚ
دعا
الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ،
( د ع و ) الدعاء ( ن )
کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب حرف ندا کے ساتھ اسم (…
Read the full tafseer →1 ؎ ڈھانکتا ہے رات کو دن سے۔
ترکیب : ربکم اسم ان اللّٰہ الخ خبر یغشی جملہ مستانفہ اس کا فاعل ضمیر راجع اللہ کی طرف اللیل مفعول اول النہار مفعول ثانی والشمس والقمر الخ معطوف ہیں السموات پر مسخرات ان سے حال ہے بامرہ مسخرات سے متعلق ہے تضرعا وخفیۃ حال ہیں فاعل ادعوا سے اسی طرح خوفاوطمعا قریب مذکر آیا بلحاظ رحمۃ مونث کا صیغہ نہ آیا وزن فعیل ہونے کی وجہ سے۔
تفسیر : مسائلِ معاد کے بعد وہ دلائل بیان فرماتا ہے کہ جن سے اللہ تعالیٰ کا وجود اور اس کا ہر ایک چیز پر قبضہ و اقتدار ثابت ہوتا کہ مسائلِ معاد کی تقویت ہوجاوے 1 ؎ اور قرآن علم مبداء کے بعد معاد اور معاد کے بعد مبداء اور مسائلِ نبوت اور توحید کو…
Read the full tafseer →تمہید
گزشتہ رکوع کے اختتام تک شرک کے مختلف پہلوئوں پر تنقید اور اس کے دنیوی اور اخروی نتائج کی بحث کو مکمل کردیا گیا ہے۔ پیش نظر آیات میں توحید کے دلائل کو ذکر فرماتے ہوئے شرک کے پیدا ہونے کے اسباب کو نہایت پہلودار طریقے سے بیان کیا جا رہا ہے۔ اس بحث کو اگر سمجھ لیا جائے تو توحید کی حقیقت اور شرک کی مذمت پیش پا افتادہ حقیقت معلوم ہوتی ہے۔
اِنَّ رَبَّکُمُ اللہ ُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ قف یُغْشِی الَّیْلَ النَّھَارَ یَطْلُبُہٗ حَثِیِْثًا لا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ وَالنُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍ م بِاَمْرِہٖط اَلَا لَہُ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : مشرک جن کو اللہ تعالیٰ کے ہاں سفارشی سمجھتے ہیں۔ ان کا کائنات کی تخلیق اور اس کے چلانے میں کوئی عمل دخل نہیں پھر وہ کس بنیاد پر سفارش کریں گے ؟
قرآن کریم نے مادی کائنات کے آغاز و انجام کا ایک خاص تصور دیا ہے۔ یہ تصور ڈیڑھ سو برس پہلے تک انسان کے لیے بالکل نامعلوم تھا۔ یقیناً نزول قرآن کے زمانے میں تو اس کا شاید تصور بھی کسی انسان کے لیے محال تھا۔ مگر جدید کائنات کے علم نے حیرت انگیز (کسی مسلمان کے لیے تو یہ بالکل حیرت انگیز نہیں ہے۔ ہاں غیر مسلموں کے لیے ضرور ہوسکتا ہے) طور پر اس کی تصدیق کی ہے۔
قرآن کریم میں مظاہر فطرت، تخلیق اور دیگر اہم موضوعات کا تذکرہ ایک مسلسل اور…
Read the full tafseer →تخلیق ارض و سماء :
آیت 54: اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ (بیشک تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے سب آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں پیدا کیا) اس کی مراد آسمان و زمین اور ان کے مابین جو کچھ ہے اس کی تفصیل سورة حم سجدہ میں فرمائی۔ یعنی نمبر 1: اتوار سے جمعہ تک۔ نمبر 2: ملائکہ کے اعتبار سے آہستہ آہستہ۔ نمبر 3: یہ بتلانے کے لیے کہ معاملات میں تدریج ہے۔ نمبر 4: اور اس لئے بھی کہ ہر کام کے لیے ایک دن ہے۔ نمبر 5: اور اس لئے بھی کہ ایک چیز کا دوسری چیز کے بعد بنانا یہ زیادہ دلالت کرتا ہے کہ اس کا بنانے والا عالم۔ مدبر، اور متصرف و مختارِکل ہے۔ اور وہ ان…
Read the full tafseer →(54) (ان ربکم اللہ الذی خلق السموت والارض فی ستۃ ایام) یعنی چھ دن کی مقدار میں اس لئے کہ دن سورج کے طلوع سے غروب تک کا وقت ہے اور اس وقت نہ سورج تھا نہ آسمان اور نہ ایام۔ بعض نے کہا چھ دن آخرت کے دن کی طرح یعنی ہر دن ہزار سال کے برابر اور بعض نے کہا دنیا کے دنوں کی طرح۔ سعید بن جبیر ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آسمان و زمین کے ایک لمحہ میں پیدا کرنے پر قادر تھے لیکن چھ دن میں پیدا کر کے مخلوق کو تعلیم دی ہے کہ اپنے کاموں میں تحمل و وقار اختیار کرو۔ تحقیق حدیث میں آیا ہے کہ وقار رحمٰن کی طرف سے اور جلدی شیطان کی طرف سے ہے۔ (ثم استوی علی الغرش)
استوی علی العرش کی مختلف تفاسیر
کلبی اور مقاتل…
Read the full tafseer →صحیح مسلم مسند امام احمد بن حنبل اور نسائی اس آیت کے مخالف جو ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت نے ابوہریرہ ؓ کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا کہ زمین اللہ تعالیٰ نے ہفتہ کے روز پیدا کی اور اتوار کے روز پہاڑ پیدا کئے اور منگل کے روز جو چیزیں دنیا میں ناگوار معلوم ہوتی ہیں مثلا موذی جانور اور زہریہ چیزیں پیدا کیں اور نور بدھ کے دن پیدا کیا اور چوپائے جمعرات کے دن اور جمعہ کے روز حضرت آدم ( علیہ السلام) پیدا کئے گئے ہیں حدیث میں امام بخاری اور ائمہ حدیث نے یہ کلام کیا ہے کہ آیت کے مخالف سات روز جملہ چیزوں کی پیدائش کی اس حدیث کے موافق ٹھہرتے ہیں حالانکہ آیت کے موافق چھ روز میں سب کچھ پیدا…
Read the full tafseer →آیت 54
اللہ تبارک و تعالیٰ واضح کرتا ہے کہ وہ اکیلا رب معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ چناچہ فرماتا ہے : (ان ربکم اللہ الذی خلق السموت ولارض) ” بیشک تمہارا رب وہ اللہ ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو “ اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، زمین و آسمان کی وسعت، ان کی عظمت، ان کے محکم ہونے، ان کے مہارت کے ساتھ بنے ہوئے اور ان کی انوکھی تخلیق کے باوصف (فی ستۃ ایام) ” چھ دن میں “ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے چھ دن میں پیدا کیا ہے۔ پہلا دن اتوار تھا اور آخری دن جمعہ تھا۔ جب اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق پوری کردی اور ان کے اندر اپنے تمام امور ودیعت کردیئے۔ (استوی علی العرش) ” وہ عرش پر جا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–54
فواحش سے مراد
قول باری ہے قل انما حرم ربی الفواحش ماظھرمنھا وما بطن ولاثم والبغی بغیر الحق۔ اے محمد ﷺ ، ان سے کہو کہ میرے رب نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ تو یہ ہیں، بےشرمی کے کام خواہ کھلے ہوں یا چھپے اور گناہ اور حق کے خلاف زیادتی) مجاہد کا قول ہے کہ فواحش سے زنا مراد ہے یہ سری خواحش ہے اور برہنہ حالت میں طواف کرنا جہری فواحش ہے۔ ایک قول ہے کہ بےشرمی کے تمام کام فواحش ہیں۔ شروع میں اجمالاً ان کا ذکر کیا پھر ان کی مختلف صورتوں کی تفصیل بیان کردی اور یہ فرمایا کہ گناہ حق کے خلاف زیادتی اور اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہرانا فواحش کی صورتیں ہیں۔ یعنی لوگوں پر ناحق اور بزور قوت غلبہ جمانے اور…
Read the full tafseer →75 تخلیقِ کائنات کے چھ دنوں سے مقصود و مراد ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ تمہارا رب وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کی اس عظیم الشان کائنات کو چھ دنوں میں پیدا فرمایا۔ اور اللہ تعالیٰ کے ان چھ دنوں کی حقیقت و مقدار کو وہی جانتا ہے کہ اس کے یہاں تو ایک دن ایک ہزار سال کا ہوتا ہے ۔ { وَاِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّکَ کَاَلْف سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ } ۔ (الحج : 47) ۔ دنیا کے یہ معروف دن جو ہمارے یہاں کے حساب سے شب و روز کے سلسلے میں سمجھے جاتے ہیں یہ تو بہرحال اس سے مراد نہیں ہوسکتے کہ یہ تو سورج کے طلوع و غروب سے ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ جبکہ یہاں قصہ ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
خالق ارض و سما، مدبر الامور اور رب العالمین سے مانگو
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت، عظمت اور صناعی کا ذکر کیا گیا ہے کہ اس نے چھ دن میں آسمان اور زمین بنائے۔ چھ دن کا مطلب ہے کہ زمین و آسمان کی ابتدا تو یکدم ہوئی جیسا کہ اس کا طریقہ، مرضی اور قدرت کاملہ ہے جب وہ بھی کچھ بنانا چاہتا ہے تو اس کو سوائے ” کن “ کہنے کے اور کچھ نہیں کرنا پڑتا۔ یہاں بھی انسان کی ناقص عقل ادھر تک ہی پہنچتی ہے کہ زمین کی ابتدا تو فوراً ہوئی مگر زمین و آسمان کی نشوونما اور انتہائِ تکمیل آہستہ آہستہ ہوئی اسی لیے چھ دن کہا۔ اب دن کا مسئلہ یہ سمجھ میں آتا ہے کہ وہاں ایک دن کتنے عرصہ، یعنی کتنی مدت اور کتنا لمبا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–58
رکوع نمبر 7 ۔ آیات 54 ۔ تا۔ 58:
اسرارو معارف :
تمہارا رب تو بہت بڑا رحم کرنے والا اور کریم تھا اس نے تمہاری تخلیق سے پہلے تمہاری خاطر ایک بہت بڑا احسان پیدا فرمایا چھ دنوں میں آسمان زمین اور ان کی تخلیقات کو مکمل فرمایا اگرچہ ایک آن میں سب کچھ کرنے پہ قادر تھا مگر عمل میں تدریج ، غور و فکر اور ایک حسن انتظام کو پسند فرما کر انسان کے لیے اس میں بھی راہنمائی فرما دی کہ جلد بازی میں فیصلے نہ کئے جائیں بلکہ تمام امور نہایت غور و فکر سے طے کیے جائیں تاکہ پچھتانا نہ پڑے لہذا دو دن میں زمین بنائی جیسا کہ ارشاد ہے خلق الارض فی یومین۔ پھر دو دن میں اس کی آبادی کا سامان پہاڑ دریا معاون اور نباتات کہ…
Read the full tafseer →ف 8 اور ہر دن ایک ہزار سال کا ہے۔ (شوکانی) دیکھئے سورت حج آیت 47 ۔ مطلب یہ ہے کہ یہاں دنوں سے ہمارے دن مراد نہیں ہیں جن کا تعلق سورج اور زمین کی گردش سے ہے کیونکہ ان سے لمبا زمانہ یا چھ ادوار مراد ہیں قرآن کی مخلتف آیات پر غور کرنے سے یہ بھی معلوم ہوسکتا ہے کہ ہر دور میں کون سی چیز بنائی گئی دیکھئے سورة فٖصلت آیت 10 ۔۔۔ صحیح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یوم الا حد ( اتوار) سے خلق کی ابتدا ہوتی ہے اور جمعہ کے دن تمام ہوگئی ( ابن کثیر، المار )
9 استویٰ علی العرش قرآن میں ساتھ مقامات پر آّیا ہے اس کے معنی عرش پر بلند ہونے کے ہیں سلف صالح نے بلاتاویل اللہ کو عرش پر تسلیم کیا ہے۔ چناچہ منقول ہے کہ…
Read the full tafseer →(7:54) استوی علی۔ اس نے قرار پکڑا۔ وہ قائم ہوا۔ وہ سیدھا ہوکر بیٹھا۔ متمکن ہوا ملاحظہ ہو (2:29) استوی کا یہ معنی نہیں کہ خداوند تعالیٰ عرش پر بیٹھ گیا۔ کیونکہ مکان اور جلوس سے پاک ہے۔ اس کے استویٰ کا یہ معنی نہیں کہ خداوند تعالیٰ عرش پر بیٹھ گیا۔ کیونکہ مکان اور جلوس سے پاک ہے۔ اس کے استویٰ کی جو کیفیت ہے وہ ہمارے فہم سے بالاتر ہے۔ عرش کے معنی کے لئے ملاحظہ ہو (10:3)
یغشی۔ مضارع واحد مذکر غائب اغشی یغشی (باب افعال متعدی بدو مفعول) یغشی اللیل النھار۔ وہ رات سے دن کو ڈھانک دیتا ہے۔ غشی یغشی (سمع) چھا جانا۔ ڈھانک لینا۔
حثیثا۔ دوڑتا ہوا۔ شتاب۔ جلد ۔ حث سے جس کے معنی کسی کام پر ابھارنے اور رغبت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
لغات القرآن آیت نمبر (54 تا 55 ) ۔
ستتہ ایام (چھ دن ) ۔ استوی (برابر ہوا ) ۔ العرش (تخت ) ۔ یغشی (چھا جاتا ہے) ۔ یطلبہ (وہ اس کے پیچھے آتا ہے ) ۔ حثیث (دوڑتا ہوا ) ۔ النجوم (ستارے ) ۔ مسخرت (تابع ہیں ) ۔ بامرہ (اس کے حکم کے ) ۔ الخلق (پیدا کرنا ) ۔ الامر (حکم کرنا ) ۔ ادعوا (پکارو ) ۔ تضرعا (عاجزی (سے) ۔ خفیتہ (چپکے چپکے ) ۔ المعتدین (حد سے گزر جانے والے ) ۔
تشریح : آیت نمبر (54 تا 55 ) ۔ ” اگر غور سے مطالعہ کیا جائے تو اس کائنات میں ہر چیز میں ایک تدریج ہے یعنی ہر چیز آہستہ آہستہ اور اصولوں کے مطابق بنتی اور اپنے عروج و کمال کو پہنچتی ہے۔ حیوانات نباتات وغیرہ میں بھی یہی اصول کار فرما ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
پیدائش عالم کا ذکر اور خدائے تعالیٰ کی قدرت کا بیان
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ابوہریرہ ؓ کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا کہ زمین اللہ تعالیٰ نے ہفتہ کے روز پیدا کی، اور اتوار کو پہاڑ اور منگل کو موذی جانور اور زہریلی چیزیں اور نور بدھ کے دن، اور چوپائے جمعرات کے دن اور جمعہ کے روز حضرت آدم (علیہ السلام) پیدا کئے گئے۔ سب سے پہلے پانی پیدا ہوا، عرش الٰہی پانی پر تھا۔ جب اللہ تعالیٰ کو زمین و آسمان اور مخلوقات کا پیدا کرنا منظور ہوا تو چھ روز میں اتوار سے لے کر جمعہ تک سب کچھ پیدا کیا۔ زیادہ تفصیل اس کی سورة حم سجدہ (پارہ 24) میں آوے گی۔ مطلب یہ ہے کہ آسمان، سورج اور سورج کی گردش کے پیدا…
Read the full tafseer →[24] دن سے مراد ہماری اس دنیا کا چوبیس گھنٹوں والا دن نہیں بلکہ وہ دن جو ہماری دنیا کے ہزار سال کے برابر ہے۔ (ملاحظہ ہو سورة سجدہ آیت 5 صفحہ 978) ۔ گویا کائنات کی تخلیق چھ ہزار سال میں ہوئی (واللہ اعلم) ۔
[25] عرش کے لفظی معنی تخت کے ہیں اور '' العرش '' سے مراد تخت حکومت ہے جو ہر قسم کے مادی تعینات سے ماوراء ہے۔
[26] اللہ تعالیٰ کا عرش پر متمکن ہونے کی حقیقت کو سمجھنا انسان کے لئے ممکن نہیں۔ یہ متشابہات میں سے ہے جن کے اصل معنی متعین نہیں کئے جاسکتے۔
[27] یعنی کائنات کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اور وہی اس پر حکومت کر رہا ہے اور اسے دوسروں کے حوالے نہیں کردیا ہے اور نہ اپنی مخلوق میں سے کسی…
Read the full tafseer →تکوین :
(ف 1) ایام سے مراد عرصہ ہائے دراز ہے کیونکہ عربی میں یوم کے معنی مدت مدید کے ہوتے ہیں ، قرآن کا عرف بھی یہی ہے (آیت) ” وذکرھم بایام اللہ “۔
ایام عرب تعبیر ہے معرکے کے دنوں سے شاعر کہتا ہے ، ع لنا ایام غرطوال :
غرض یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو چھ دن کے عرصے اور مدت میں پیدا کیا ہے ۔
استوی علی العرش ، بطور صفت کے نہیں بلکہ شان کے ہے ، خدا کے لئے بہت شون واصولی ہیں ، جن میں ایک شان استواء بھی ہے ۔
آیت کا مقصد توحید ہے یعنی تمہارا رب وہ ہے جس نے آسمان کی بلندیوں اور زمین کی پہنائیوں کو پیدا کیا ، چاند اور ستارے جس کے مسخر ہیں جس نے سب دنیا کو بنایا ہے ، اور جس کی حکومت قائم ہے ، وہ جو…
Read the full tafseer →54 فی الحقیقت تمہارا پروردگار اللہ ہی ہے جس نے سب آسمانوں اور زمین کو چھ 6 دن کی مدت اور میعاد میں پیدا کردیا پھر وہ عرش پر اپنی شان کے لائق متمکن و متصرف اور جلوہ گر ہوا وہ رات کو دن پر ڈھانک دیتا ہے یہ ڈھانکنا اور اڑاھنا اس طور پر ہوتا ہے کہ وہ رات دن کے پیچھے دوڑی چلی آتی ہے اور رات دن کو جلدی سے آلیتی ہے اور دن پر رات چھا جاتی ہے اور اسی اللہ تعالیٰ نے سورج کو اور چاند کو اور تاروں کو اس طور پر پیدا کیا کہ یہ سب اس کے تابع فرمان اور مسخر ہیں سن لو اور آگاہ ہو تخلیق اور حکمرانی کا وہی سزاوار ہے پیدا کرنا اور حاکم ہونا اسی کے لئے خاص ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات بہت بابرکت اور بڑی بلندو باعظمت ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
ف 5۔ یعنی زمین و آسمان میں احکام جاری کرنے لگا۔
6۔ یعنی شب کی تاریکی سے دن کی روشنی پوشیدہ اور زائل ہوجاتی ہے۔
7۔ یعنی دن آنافانا گزرنا معلوم ہوتا ہے حتی کہ دفعتا رات آجاتی ہے۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور ربوبیت کا بیان اور اس کے دلائل :
65: ” توحید الوہیت “ کیا ہے ؟ یہ کہ اللہ کے سوا کوئی ہستی اس کی مستحق نہیں کہ معبود بنائی جائے۔ ” توحید ربوبیت “ کیا ہے ؟ یہ کہ کائنات کی پیدا کرنے والی اور پرورش کرنے والی ہستی صرف اللہ تعالیٰ کی ہستی ہے۔ قرآن کریم کا اسلوب بیان یہ ہے کہ وہ توحید ربوبتت سے توحید الوہیت پر استدلال کرتا ہے یعنی جب خالق ورب اس کے سوا کوئی نہیں تو معبود بھی اس کے سوا کوئی نہیں بنانا چاہئے۔ زیر نظر آیت میں بھی ” توحید ربوبیت “ سے ” توحید الوہیت “ پر استدلال کیا گیا ہے اور توحید الوہیت کی تلقین اور اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ ” خلق “ اور ” امر “ دونوں اللہ…
Read the full tafseer →Commentary
Verse 54 begins with the statement that Allah has created the heavens and the earth and the planets and the stars and that they perform their functions under a firmly established system. The statement releases an inevitable suggestion that the maker of this system has the most perfect power conceivable. This, in turn, invites every reasonable human being to think. Here is the most sacred Being who is capable of bringing this great universe from non-being to the state of being and who can keep it functioning through the wisest of systems. Why would it be difficult for him to undo…
Read the full tafseer →40. The word 'day' in the above verse has been used either in the usual sense of the twenty-four hour unit of time, or in a more general sense of 'period' of time such as in the following verses of the Qur'an:
Verily a Day in the sight of your Lord is like a thousand years of your reckoning (al-Hajj 22: 47).
The angels and the Spirit ascend unto Him on a Day the measure of which is fifty thousand years (al-Ma'arij 70: 4. For further explanation see Fussilat 41, nn. 12-15.)
41. It is quite difficult to appreciate fully the exact nature of the Qur'anic statement: '(Allah) ascended the Throne.'…
Read the full tafseer →