Explained with ayahs 52–53
آخری حقیقت جنت اور دوزخ کا مشاہدہ
اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے کل عذر ختم کردیئے تھے اپنے رسولوں کی معرفت اپنی کتاب بھیجی جو مفصل اور واضح تھی۔ جیسے فرمان ہے آیت (الۗرٰ ۣ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ ۙ) 11۔ ھود :1) ، اس قرآن کی آیتیں مضبوط اور تفصیل وار ہیں۔ اس کی جو تفصیل ہے وہ بھی علم پر ہے جیسے فرمان ہے آیت (انزلہ بعلمہ) اسے اپنے علم کے ساتھ اتارا ہے۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں یہ آیت اسی آیت پر جاتی ہے جس میں فرمان ہے آیت (كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَيْكَ فَلَا يَكُنْ فِيْ صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ لِتُنْذِرَ بِهٖ وَذِكْرٰي لِلْمُؤْمِنِيْنَ) 7۔ الاعراف :2) ،…
Read the full tafseer →سورة الْاَعْرَاف 38
دوسرے الفاظ میں اس مضمون کو یوں سمجھیے کہ جس شخص کو صحیح اور غلط کا فرق نہایت معقول طریقہ سے صاف صاف بتایا جاتا ہے مگر وہ نہیں مانتا، پھر اس کے سامنے کچھ لوگ صحیح راستہ پر چل کر مشاہدہ بھی کرا دیتے ہیں کہ غلط روی کے زمانے میں وہ جیسے کچھ تھے اس کی بہ نسبت راست روی اختیار کر کے ان کی زندگی کتنی بہتر ہوگئی ہے، مگر اس سے بھی وہ کوئی سبق نہیں لیتا، تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اب وہ صرف اپنی غلط روی کی سزا پا کر ہی مانے گا کہ ہاں یہ غلط روی تھی۔ جو شخص نہ حکیم کے عاقلانہ مشوروں کو قبول کرتا ہے اور نہ اپنے جیسے بکثرت بیماروں کو حکیم کی ہدایات پر عمل کرنے کی وجہ سے شفایاب ہوتے دیکھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–53
خلاصہ تفسیر
اور (جس طرح اوپر جنت والوں نے دوزخ والوں سے گفتگو کی اسی طرح) دوزخ والے جنت والوں کو پکاریں گے کہ (ہم مارے بھوک اور پیاس اور گرمی کے بےدم ہوئے جاتے ہیں، خدا کے واسطے) ہمارے اوپر تھوڑا پانی ہی ڈال دو (شاید کچھ تسکین ہوجائے) یا اور ہی کچھ دیدد، جو اللہ تعالیٰ نے تم کو دے رکھا ہے (اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ امید کرکے مانگیں گے، کیونکہ غایت اضطراب میں بعید از توقع باتیں بھی منہ سے نکلا کرتی ہیں) جنت والے (جواب میں) کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے دونوں چیزوں کی (یعنی جنت کے کھانے اور پینے کی) کافروں کے لئے بندش کر رکھی ہے، جنہوں نے دنیا میں اپنے دین کو (جس کا قبول کرنا ان کے ذمہ واجب تھا)…
Read the full tafseer →هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّا تَاْوِيْلَهٗ ۭ يَوْمَ يَاْتِيْ تَاْوِيْلُهٗ يَقُوْلُ الَّذِيْنَ نَسُوْهُ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَاۗءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ ۚ فَهَلْ لَّنَا مِنْ شُفَعَاۗءَ فَيَشْفَعُوْا لَنَآ اَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَيْرَ الَّذِيْ كُنَّا نَعْمَلُ ۭقَدْ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَهُمْ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ
هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّا تَاْوِيْلَهٗ ، تایل کے لفظ پر ہم سورة آل عمران کی تفسیر میں تفصیل سے بحث کرچکے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ ساری باتیں، جو قرآن سنا رہا ہے، ہیں تو اٹل حقیقتیں لیکن چونکہ ابھی یہ واقعات کی صورت میں ظاہر نہیں ہوئی ہیں بلکہ مستقبل کے پردے میں چھپی…
Read the full tafseer →53۔ 1 تاویل کا مطلب ہے کسی چیز کی اصل حقیقت۔ یعنی کتاب الٰہی کے ذریعے سے وعدے، وعید اور جنت و دوزخ وغیرہ کا بیان تو کردیا تھا، لیکن یہ اس دنیا کا انجام اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے منتظر تھے، سو اب وہ انجام ان کے سامنے آگیا۔
53۔ 2 یعنی جس انجام کے منتظر تھے اس کے سامنے آجانے کے بعد اعتراف حق کرنے یا دوبارہ دنیا میں بھیجے جانے کی آرزو اور کسی سفارش کی تلاش، یہ سب بےفائدہ ہونگی۔ وہ معبود بھی ان سے گم ہوجائیں گے جن کی وہ اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے تھے، وہ ان کی مدد کرسکیں گے نہ سفارش اور نہ عذاب جہنم سے چھڑا ہی سکیں گے۔
Read the full tafseer →27: اس آخری انجام سے مراد قیامت ہے۔ یعنی کیا یہ لوگ ایمان لانے کے لیے قیامت کا انتظار کر رہے ہیں، حالانکہ اس وقت ایمان قبول ہی نہیں ہوگا، اور جب وہ آجائے گی تو ان کو حسرت کرنے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →درس نمبر 76 ایک نظر میں :
پہلے دو اسباق میں ہم نے قصہ آغاز انسانیت ‘ جنت سے اس کے نزول اور پھر حشر ونشر کے میدان اور جنت اور دوزخ کے مناظر کی سیر کی ۔ اب اگلے سبق میں ملکوت السموات والارض کی سیر ہے ۔ اس پھیلی ہوئی کائنات کے ضمیر کی سیر مطلوب ہے ۔ انسان کی تخلیق سے ذرا پیچھے جا کر اس پوری کائنات کی تخلیق کی روئیداد بھی سن لیجئے ۔ متوجہ کیا جاتا ہے کہ ذرا اس کائنات کے اسرار و رموز پر بھی غور کرو اور یہ سمجھو کہ اس کا قصہ تخلیق کیا ہے ؟ ذرا اس کے مناظر ومظاہر پر بھی غور کرو ۔ گردش افلاک میں مناظر لیل ونہار کی دوڑ پر غور کرو۔ سورج اور چاند کو دیکھو اور فضا کی وسعتوں میں سیاروں اور ستاروں کی بندش…
Read the full tafseer →3 کتاب اللہ میں جو دھمکیاں عذاب کی دی گئی ہیں کیا یہ اس کے منتظر ہیں کہ جب ان دھمکیوں کا مضمون (مصداق) سامنے آجائے تب حق کو قبول کریں۔ حالانکہ وہ مضمون جب سامنے آجائے گا یعنی عذاب الہٰی میں گرفتار ہونگے تو اس وقت کا قبول کرنا کچھ کام نہ دے گا۔ اس وقت تو سفارشیوں کی تلاش ہوگی جو خدا کی سزا سفارش کر کے معاف کرا دیں اور چونکہ ایسا سفارشی کافروں کو کوئی نہ ملے گا یہ تمنا کریں گے کہ ہم کو دوبارہ دنیا میں بھیج کر امتحان کرلیا جائے کہ اس مرتبہ اپنے جرائم کے خلاف ہم کیسی نیکی اور پرہیزگاری کے کام کرتے ہیں۔ لیکن اب اس تمنا سے کیا حاصل ؟ جبکہ پہلے خود اپنے ہاتھوں اپنے کو برباد کرچکے اور جو جھوٹے خیالات…
Read the full tafseer →آیت 53 ہَلْ یَنْظُرُوْنَ الاَّ تَاْوِیْلَہٗ ط
یعنی کیا یہ لوگ آیات عذاب کے عملی ظہور کا انتظار کر رہے ہیں ؟ کیا یہ انتظار کر رہے ہیں کہ وقفۂ مہلت کا یہ بند ٹوٹ جائے اور واقعتا ان کے اوپر عذاب کا دھارا چھوٹ پڑے۔ کیا یہ لوگ اس انجام کا انتظار کر رہے ہیں ؟
قَدْ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَہُمْ وَضَلَّ عَنْہُمْ مَّا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ A
اس دن وہ لوگ دوبارہ دنیا میں جانے کی خواہش کریں گے ‘ لیکن تب انہیں اس طرح کا کوئی موقع فراہم کیے جانے کا کوئی امکان نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →52 اہل دوزخ کی دوبارہ دنیا میں آنے کی درخواست اور اس کا جواب :۔ تاویل سے مراد کسی خبر کا مصداق یا اس کے واقع ہونے کا وقت ہے اور یہاں مراد قیامت کا واقع ہونا ہے یعنی جب قیامت واقع ہوجائے گی تو اس وقت کافر کہیں گے کہ وہ بات تو سچ نکلی جو رسول کہا کرتے تھے۔ اب کیا کیا جائے ؟ اب تو ہمیں یقیناً سزا ملے گی پہلے وہ عذاب سے بچاؤ کے لیے کوئی سفارشی دیکھیں گے جب وہ نہ ملے گا تو دنیا میں دوبارہ آنے اور دوبارہ امتحان دینے کی درخواست کریں گے اور کہیں گے کہ اب کی بار ہم یقیناً اللہ کے فرمانبردار بن کے رہیں گے اور یقیناً اس امتحان میں کامیاب اتریں گے۔ اللہ نے اس مقام پر ان کی اس درخواست کا جواب ذکر نہیں…
Read the full tafseer →73 ۔ (اور اب تو ہمیں ان حقائق کا مشاہدہ ہورہا ہے) (آیت) ” ھل ینظرون “۔ یعنی منکرین یا اتمام حجت ووضوح حق کے بعد بھی انکار کیے جانے والے تو بس اسی کے منتظر ہیں۔ (آیت) ” تاویلہ “۔ یعنی وعدۂ سزا کے عملی ظہور اور قرآن کے بتائے ہوئے مصداق کے۔ تاویل سے مراد وعید قرآنی کے آخری نتیجہ کے ہیں۔ عاقبۃ ما وعدلھم فی القران (ابن عباس ؓ ای لاعاقبۃ امرہ وما یؤل الیہ من تبین صدقہ (کشاف) (آیت) ” یوم یاتی تاویلہ “۔ یعنی ان آخرنتائج اور حقائق کے ظہور کا وقت۔ یوم آخرت۔ اے تبدو عواقبہ یوم القیامۃ (قرطبی)
74 ۔ یعنی یہ اقرار واعتراف اب سب بےاثر رہے گا اور کوئی ان کے کچھ کام نہ آئے گا۔ (آیت) ” نرد “۔ یعنی دنیا میں جو…
Read the full tafseer →ھل ینظرون۔۔۔۔ تاویلہ، الخ یعنی یہ جس انجام کے منتظر تھے اس کے سامنے آجانے کے بعد اعتراف حق کرنے یا دوبارہ دنیا میں بھیجے جانے کی آرزو اور کسی سفارشی کی تلاش، یہ سب بےفائدہ ہوں گی وہ معبود ان باطل بھی گم ہوجائیں گے جن کی یہ بندگی کیا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →ہل ینظرون الا تاویلہ ‘ یوم یاتی تاویلہ یقول الذین نسوہ من قبل قد جآءت رسل ربنا بالحق فہل لنا من شفعآء فیشفعوا لنا او نرد فنعمل غیر الذی کنا نعمل قد خسروا انفسہم وضل عنہم ما کانوا یفترون۔ ان لوگوں کو اور کسی بات کا انتظار نہیں صرف آخری نتیجہ کا انتظار ہے جس روز اس کا آخری نتیجہ (سامنے) آجائے گا اس روز جو لوگ اس کو پہلے سے بھولے ہوئے تھے یوں کہیں گے کہ ہمارے رب کے پیغمبر بیشک سچی سچی باتیں لائے تھے۔ سو اب کیا کوئی ہمارا سفارشی ہے کہ ہماری سفارش کر دے یا (دنیا میں) ہم کو لوٹا دیا جائے کہ ہم پہلے کئے ہوئے اعمال کے برخلاف اعمال کرلیں (اس وقت) وہ یقیناً خود خسارہ میں پڑچکے ہوں گے اور جو باتیں وہ…
Read the full tafseer →(53) اہل مکہ کو کسی اور بات کا انتظار نہیں کہ وہ جو ایمان نہیں لاتے مگر اس چیز کے انجام کا انتظا رہے جس کا ان سے قرآن حکیم میں وعدہ کیا گیا ہے اور وہ قیامت کا دن ہے، جب اس وعدہ کا انجام ان کے سامنے آئے گا تو وہ لوگ جو اس دن کے اقرار کو پہلے ہی سے دنیا میں بھولے بیٹھے تھے کہیں گے بیشک رسول (بعث بعد الموت) جنت اور دوزخ کے بیان لے کر آئے، مگر ہم نے ان کو جھٹلایا تو اب عذاب سے نجات دلانے والا کوئی ہے یا دنیا ہی میں ہم کو لوٹا دیا جائے تو ہم شرک کو چھوڑ کر ایمان لائیں اور نیک اعمال کریں، ان لوگوں نے خود جنت کے ضائع کرنے اور دوزخ کو اپنے اوپر لازم کرنے کی وجہ سے اپنے آپ کو دھوکا دیا ہے ان کو جھوٹے…
Read the full tafseer →هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّا تَاْوِيْلَهٗ ۭ: تاویل کا معنی کسی چیز کی اصل حقیقت یا اس کا انجام ہے۔ اس میں جھٹلانے والوں کو تنبیہ فرمائی ہے کہ قرآن میں جس عذاب (دنیوی یا اخروی) کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے، کیا وہ اس کے پیش آنے کا انتظار کر رہے ہیں ؟
يَوْمَ يَاْتِيْ تَاْوِيْلُهٗ۔۔ : شاہ عبد القادر ؓ فرماتے ہیں : ”یعنی کافر راہ دیکھتے ہیں کہ اس کتاب میں خبر ہے عذاب کی۔ ہم دیکھ لیں کہ ٹھیک پڑے (درست نکلے) تب قبول کرلیں۔ سو جب ٹھیک پڑے گی تو خلاصی کہاں ملے گی۔ خبر اس لیے ہے کہ آگے (پہلے) سے بچاؤ پکڑیں۔“ (موضح) یعنی جس انجام کے یہ منتظر تھے اس کے سامنے آجانے کے بعد حق کا اعتراف یا دوبارہ دنیا میں بھیجے…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 53
قولہ تعالیٰ : آیت : ھل ینظرون الا تاویلہ یہ ہمزہ کے ساتھ ہے اور آل سے ماخوز ہے اور اہل مدینہ ہمزے کی تخفیف کرتے ہیں۔ اور النظر کا معنی ہے انتظار کرنا، یعنی کیا وہ انتظار نہیں کر رہے مگر عقاب و حساب میں سے اس کے بارے جس کا قرآن کریم میں ان سے وعدہ کیا گیا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ینظرون، النظر الی یوم القیامہ ( یوم قیامت کی طرف دیکھنے) سے ماخوذ ہے۔ اور تاویلہ کی ضمیر کتاب کی طرف لوٹ رہی ہے۔ اور عاقبۃ الکتاب ( کتاب کا انجام) وہ بعث و حساب ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے اس میں وعدہ فرمایا ہے۔ اور حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : تاویلہ کا معنی جزاوہ ہے یعنی ان کا کتاب کا جھٹلانے کا انجام…
Read the full tafseer →(1) امام عبد الرزاق، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ہل ینظرون الا تاویلہ “ سے مراد ہے اس کا انجام۔
(2) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن منذر اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” یوم یاتی تاویلہ “ یعنی اس کی جزا ” یقول الذین نسوہ من قبل “ یعنی انہوں نے اس سے اعراض کیا تھا۔
(3) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” یوم یاتی تاویلہ “ کے بارے میں فرمایا کہ یوم سے مراد ہے قیامت کا دن۔
(4) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ”…
Read the full tafseer →هَلْ يَنْظُرُوْنَ [ وہ لوگ کیا انتظار کرتے ہیں ] اِلَّا [ سوائے ] تَاْوِيْلَهٗ ۭ [ اس کے انجام کار کے ] يَوْمَ [ جس دن ] يَاْتِيْ [ آئے گا ] تَاْوِيْلُهٗ [ اس کا انجام ] يَقُوْلُ [ تو کہیں گے ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جو ] نَسُوْهُ [ بھولے اس کو ] مِنْ قَبْلُ [ اس سے پہلے ] قَدْ جَاۗءَتْ [ لائے تھے ] رُسُلُ رَبِّنَا [ ہمارے رب کے رسول ] بِالْحَقِّ ۚ [ حق کو ] فَهَلْ [ تو کیا ] لَّنَا [ ہمارے لیے ] مِنْ شُفَعَاۗءَ [ کوئی بھی شفاعت کرنے والا ہے ] فَيَشْفَعُوْا [ تاکہ وہ شفاعت کریں ] لَنَآ [ ہماری ] اَوْ [ یا ] نُرَدُّ [ ہم لوٹائے جائیں ] فَنَعْمَلَ [ نتیجا ہم عمل کریں ] غَيْرَ الَّذِيْ [ اس کے…
Read the full tafseer →(ھَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا تَاْوِیْلَہٗ ) (الآیۃ) قرآن مجید میں مومن بندوں کا ثواب بتایا ہے ان کو بشارتیں دی ہیں اور اہل کفر کو عذاب سے ڈرایا ہے اور یوم قیامت میں جو ان کو عذاب ہوگا اس کی وعیدیں سنائی ہیں۔ مومنین کے حق میں قرآن مجید کے بتائے ہوئے اعمال خیر کا نتیجہ ہوگا کہ وہ قیامت کے دن نجات پائیں گے اور جنت میں جائیں گے اور کافروں کو جو قرآن مجید نے وعیدیں سنائی ہیں وہ ان وعیدوں کے مطابق اپنا انجام دیکھ لیں گے۔
اسی عاقبت اور انجام کو لفظ تاویل سے تعبیر فرمایا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے اور دعوت حق کو قبول نہیں کرتے ان کی حالت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو بس یہی انتظار ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–53
اہل جنت اور اہل دوزخ اور اہل اعراف کی باہمی گفتگو کا ذکر
قال اللہ تعالیٰ ونادی اصحب الجنۃ اصحب النار۔۔۔ الی۔۔۔ وضل عنھم ما کانوا یفترون،
(ربط) گزشتہ آیات میں اہل جنت اور اہل نار کی جزاء وسزا کا بیان تھا اب ان آیات میں ان مخاطبات اور مکالمات کا ذکر ہے جو دخول جنت و جہنم کے بعد جنتیوں اور دوزخیوں کے مابین ہوں گے اور ان کے ساتھ اہل اعراف کا بھی ذکر فرمایا جن کی حالت ابتدا میں بین بین ہوگی اور بعد میں ان کو جنت میں داخل ہونے کا حکم ہوجائے گا اور اس تمام تذکرہ سے مقصود یہ بتلانا ہے کہ اس روز اہل ایمان کو سعادت کاملہ حاصل ہوگی اور اسلام کے دشمنوں کو انتہائی رنج وغم اور انتہائی حسرت پیش آئے گی جس کی…
Read the full tafseer →61: اب کفار ومشرکین اللہ کی کتاب پر ایمان کیوں نہیں لاتے کیا وہ اس کتاب میں مذکور وعد و وعید کے پورا ہونے کا انتظار کر رہے ہیں ؟ لیکن یہ چیز ان کے لیے مفید نہیں ہوگی جس دن (یعنی قیامت کے دن) مومنین سے کیے گئے انعام واکرام کے وعدے اور مشرکین اور کفار کو سنائی گئی عذاب جہنم کی وعیدیں پوری ہوجائیں گی وہ دن منکرین کے لیے انتہائی حسرت و یاس اور تاسف کا دن ہوگا اس دن وہ نہایت افسوس سے کہیں گے کہ اللہ کے پیغمبر تو بلا شبہ پیغام حق لے کر ہمارے پاس آئے مگر وائے بد قسمتی کہ ہم نے ان کی ایک نہ سنی۔ کیا آج کوئی ایسی ہستی ہے جو ہماری سفارش کر کے آج ہمیں عذاب سے چھڑا لے یا کوئی ایسی صورت ممکن ہے کہ ہمیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
ربط آیات
اصحاب اعراف کے تذکرے کے بعد اللہ تعالیٰ نے جہنم والوں کا ذکر کیا کہ وہ جنتیوں کو دیکھ کر ان سے الجا کریں گے کہ تھوڑا سا پانی ہم پر بھی بہادو یا جو کچھ اللہ نے تمہیں روزی عطا کی ہے اس میں سے کچھ ہمیں بھی دے دو کیونکہ ہم بہت پریشان حال اور تکلیف میں ہیں مگر اہل ایمان جواب دیں گے کہ یہ دونوں چیزیں اللہ نے اہل دوزخ پر حرام کردی ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے دین کو لہو و لعب نایا اور دنیا کی زندگی نے انہیں دھوکے میں ڈالا پس آج کے دن اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت سے دور رکھیں گے اور ان سے وہی سلوک کریں گے جو فراموش شدہ آدمیوں سے کیا جاتا ہے انہوں نے اس دن کی ملاقات کو فراموش کردیا تھا اس پر ایمان…
Read the full tafseer →اِنَّ رَبَّكُمُ اللہُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِـتَّۃِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ 0 ۣ يُغْشِي الَّيْلَ النَّہَارَ يَطْلُبُہٗ حَثِيْثًا 0 ۙ وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍؚبِاَمْرِہٖ 0 ۭ اَلَا لَہُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ 0 ۭ تَبٰرَكَ اللہُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ 54
رب
الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
ترکیب : بکتاب بذریعہ ب مفعول ثانی جئنا کا کیونکہ یہ بمعنی اتینا ہوگیا۔ فصلناہ اس کی صفت علی علم بمعنی عالمین حال ہے فاعل فصلنا سے ھدیٰ ورحمۃ کتاب سے حال ہیں۔ یوم ظرف ہے یقول کا قدجاءت جملہ مقولہ ہے۔ اسی طرح فہل لنا فیشفعوا منصوب ہے جواب استفہام کی وجہ سے۔ اونرد مرفوع ہے معطوف ہے موضع من شفعاء پر۔
تفسیر : اہل جنت کے درجات اور اہل دوزخ کے حالات اور اہل اعراف کے مقالات و کلمات کا ذکر عالم غیب کی ایسی خبر ہے کہ جس تک عقل کی بغیر مدد الہامِ الٰہی ہرگز رسائی نہیں اور ایسی باتیں بیان کرنا ہادی برحق کا اول کام ہے تاکہ انسان اپنے انجام سے خبر پا کر سعادت کی طرف مائل ہو۔ اس لئے ان آیات میں یہ بات ظاہر…
Read the full tafseer →ارشاد ہوتا ہے :
ھَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا تَاْوِیْلَہٗ ط یَوْمَ یَاْتِیْ تَاْوِیْلُہٗ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ نَسُوْہٗ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَآئَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ ج فَھَلْ لَّنَا مِنْ شُفَعَآئَ فَیَشْفَعُوْا لَنَآ اَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَیْرَ الَّذِیْ کُنَّا نَعْمَلُ ط قَدْ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَھُمْ وَ ضَلَّ عَنْھُمْ مَّا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ۔ (الاعراف : 53)
” یہ لوگ اس حقیقت کے انجام کے منتظر ہیں جس روز وہ انجام ان کے سامنے آجائے گا وہ لوگ جنھوں نے اس کو پہلے نظر انداز کیے رکھا کہیں گے بیشک ہمارے رب کے رسول بالکل سچی بات لے کر آئے تھے تو ہیں کوئی ہمارے سفارشی کہ ہماری سفارش کریں یا ہے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید کی ہدایت سے روگردانی کرنے اور آخرت کو بھول جانے کا انجام اور جہنمیوں کی حسرتوں کا بیان۔
قرآن مجید میں لفظ تاویل سترہ آیات میں آیا ہے ان مقامات کی تلاوت سے یہ حقیقت عیاں ہوئی ہے کہ یہ لفظ مختلف معانی کے لیے استعمال ہوا ہے۔ سورة آل عمران آیت 7 میں تفسیر اور تشریح کے لیے استعمال ہوا۔ سورة النساء، آیت : 59 میں نتیجہ اور انجام مراد ہے۔ الاعراف، آیت : 53 سورة یونس، آیت : 39 میں ایسے واقعہ کا ظہور پذیر ہونا جس کی کسی رسول یا نبی نے خبر دی ہو۔ سورة یوسف میں تین دفعہ خواب کی تعبیر کے معنی میں آیا ہے، سورة الکہف، آیت : 78 اور 83 میں کسی کام کے محرک اور سبب کے لیے استعمال…
Read the full tafseer →یہ ضد کی وجہ سے آخری نتیجہ کے منتظر ہیں :
آیت 53: ھَلْ یَنْظُرُوْنَ (ان کو کسی چیز کا انتظار نہیں) وہ صرف انتظار کرتے ہیں۔ اِلَّا تَاْوِیْلَہٗ (صرف اس کے اخیر نتیجہ کا انتظار ہے) مگر اس کے معاملہ کا انجام و نتیجہ اور وہ باتیں جن سے ان کا صدق واضح ہو اور جو وعد و عید کئے گئے ان کا صحیح طور پر ظہور ہو۔ یَوْمَ یَاْتِیْ تَاْوِیْلُہٗ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ نَسُوْہُ مِنْ قَبْلُ (جس دن اس کا آخری نتیجہ سامنے آئے گا اس روز جو لوگ اس کو پہلے سے بھولے ہوئے تھے) اس کو چھوڑا اور اس سے اعراض اختیار کیا۔ قَدْجَآئَ تْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ (یوں کہنے لگیں گے کہ واقعی ہمارے رب کے پیغمبر سچی سچی باتیں لاتے…
Read the full tafseer →(53) (ھل ینظرن الا تاویلہ) مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ تاویل سے جزاء مراد ہے اور سدی (رح) فرماتے ہیں اس کا انجام مراد ہے اور معنی یہ ہے کہ یہ اسی کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے امر کا انجام کیا ہوتا ہے یعنی عذاب اور ان کا جہنم میں جانا۔ (یوم یاتی تاویلہ ) یعنی اس کی جزاء اور ان کا انجام کہنے لگیں گے (یقول الذین نسوہ من قبل قد جآء ث رسل ربنا بالحق) سو اس وقت اعتراف کیا جب ان کو اعتراف نفع نہ دے گا (فھل لنا) سے آج کے دن (من شفعآء فیشفعوا لنا اونرد) یا ان کو لوٹا دیں دنیا کی طرف (فنعمل غیر الذی کنا نعمل ، قدخسروا انفسھم) یعنی عذاب سے ہلاک کردیا (وضل) اس سے مراد باطل ہے (عنھم ما کانوا یفترون)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
(52 ۔ 53) ۔ اوپر منکر قرآن لوگوں کا ذکر فرما کر اس آیت میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ مفصل اور مشرح کتاب ان کے پاس بھیج دی تاکہ ان مشرک اور کافروں کو کوئی عذر کر نیکا موقعہ نہ رہے اور ایمان والوں کے لئے یہ کتاب سراسر ہدایت اور رحمت ہوجاوے ہیں کتاب میں جو وعدہ عذاب کا ہے کیا منکر اس کے آنے کی راہ دیکھ رہے ہیں یہ قول مجاہد وغیرہ کا ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ یوم تاویل سے قیامت کا دن مراد ہے اس روز کافر چاہیں گے کہ کوئی ہماری سفارش کرے یا دنیا میں پھرجانا ہم کو نصیب ہو تو اچھے کام کریں غرض کہ اس دن اپنا نقصان ان کو معلوم ہوگا اور سب جھوٹ ان کا جو دنیا میں بناتے تھے بیکار ہوجاویگا…
Read the full tafseer →آیت 53
جب اہل جہنم کو عذاب پوری طرح گھیر لے گا، جب وہ بےانتہا بھوک اور انتہائی تکلیف وہ پیاس میں مبتلا ہوں گے تو وہ اہل جنت کو پکار کر مدد کے لئے بلائیں گے اور کہیں گے : (افیضوا علینا من المآء اومما رزقکم اللہ) ” بہاؤ ہم پر تھوڑا سا پانی یا کچھ اس میں سے جو روزی دی تم کو اللہ نے “ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو کھانا تمہیں عطا کیا ہ ہے، اہل جنت ان کو جواب میں کہیں گے : (ان اللہ حرمھما) ” اللہ نے ان دونوں کو حرام کردیا ہے “ یعنی جنت کا پانی اور کھانا (علی الکفرین) ” کافروں پر “ یہ سب کچھ اس پاداش میں ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا اور انہوں نے اس دین کو۔۔۔ جس پر قائم رہنے کا انہیں حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–54
فواحش سے مراد
قول باری ہے قل انما حرم ربی الفواحش ماظھرمنھا وما بطن ولاثم والبغی بغیر الحق۔ اے محمد ﷺ ، ان سے کہو کہ میرے رب نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ تو یہ ہیں، بےشرمی کے کام خواہ کھلے ہوں یا چھپے اور گناہ اور حق کے خلاف زیادتی) مجاہد کا قول ہے کہ فواحش سے زنا مراد ہے یہ سری خواحش ہے اور برہنہ حالت میں طواف کرنا جہری فواحش ہے۔ ایک قول ہے کہ بےشرمی کے تمام کام فواحش ہیں۔ شروع میں اجمالاً ان کا ذکر کیا پھر ان کی مختلف صورتوں کی تفصیل بیان کردی اور یہ فرمایا کہ گناہ حق کے خلاف زیادتی اور اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہرانا فواحش کی صورتیں ہیں۔ یعنی لوگوں پر ناحق اور بزور قوت غلبہ جمانے اور…
Read the full tafseer →71 حق کی توضیح و تشریح میں کوئی کسر باقی نہیں رہ گئی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا اب یہ لوگ اس کے بتائے ہوئے انجام ہی کے منتظر ہیں کہ اس کے علاوہ اور کوئی کسر تو اب باقی نہیں رہی۔ سو وہ وقت آنے پر ان کو خود پتہ لگ جائے گا، مگر اس وقت ان کو یاس و حسرت کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا۔ سو اس استفہامیہ ارشاد ربانی میں منکروں کیلئے تنبیہ بھی ہے اور حق کو اپنانے اور قبول کرنے کیلئے ترغیب وتحریض بھی کہ حق کی توضیح و تشریح میں اب کوئی کسر باقی نہیں رہ گئی۔ لہٰذا اب تم نے اس کو قبول کرنا ہے تو صدق دل سے قبول کرلو۔ نہیں تو ہمیشہ کیلئے پچھتانا پڑے گا۔ بہرکیف قرآن حکیم جن اٹل حقائق کی خبر دے رہا ہے وہ چونکہ ابھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–53
اہل جنت اور اہل جہنم کا مکالمہ اور اصحاب اعراف کا تذکرہ
تشریح : آیات 44 تا 53 میں جو کچھ بتایا گیا ہے انتہائی عبرت دلانے والا اور خوش کرنے والا ہے۔ کیونکہ اللہ رب العزت نے اہل جنت اور اہل جہنم کی آپس میں گفتگو نیز اصحاب اعراف کا ایسا نقشہ کھینچا ہے لگتا ہے سب کچھ سامنے ہو رہا ہے۔ یہ سب راز کی باتیں ہیں انسان کی نظر سے پوشیدہ اور تصور سے باہر۔ مگر اللہ سبحانہ تعالیٰ کیونکہ اپنے بندوں پر حد سے زیادہ مہربان ہے اور رحیم و کریم ہے اس لیے لوگوں کو دنیا کی مصیبتوں اور آخرت کے عذاب سے بچانے کے لیے رسول بھیجے، پھر آخری رسول محمد ﷺ پر قرآن مجید نازل فرما کر لوگوں کو خبردار کرنے کے لیے بھیجا۔ مگر کفار و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–53
رکوع نمبر 6 ۔ آیات 48 ۔ تا۔ 53
اسرار و معارف :
جہنم میں پڑے ہوئے بعض لوگوں کو تو ان کی شکلوں تک سے پہچانتے ہوں گے اور دنیا میں ان کے کردار سے واقف ہوں گے جب وہ محض مال و دولت یا اختیار و اقتدار پر نازاں عظمت الہی اور دار آخرت کو بھولے ہوئے تھے نہ صرف یہ بلکہ نیک لوگوں پہ پھبتیاں کہتے تھے کہ انہیں دیکھ ویہ آخرت کے انعامات کی امید میں یہاں عبادات کی مصیبت میں پڑے ہیں اور فقر و فاقہ میں بھی شکر ادا کرتے ہیں دولت و مال مل جائے تو بھی عیش ان کے نصیب میں نہیں بھلا آخرت میں انہیں خاک آرام نصیب ہوگا دنیا والوں کے ساتھ تو یہ چل نہیں سکتے اور چلے ہیں آخرت کو پانے ۔
اہل اعراف ان کی یہ باتیں انہیں یاد…
Read the full tafseer →ف 6 شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی کافر راہ دیکھتے ہیں کہ اس کتاب میں خبر ہے عذاب کی ہم دیکھ لیں کہ ٹھیک پڑے تب قبول کرلیں سو جب ٹھیک پڑے گی تو خلاص کہا ملے گی خبر اس لیے ہے کہ یہ لوگ سمجھتے تھے کہ جن کو ہم اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رہے ہیں وہ کسی آڑے وقت ہمارے کام آئیں مگر اب ان کا کچھ پتہ نہیں (شوکانی )
Read the full tafseer →(7:53) ینظرون۔ ای ینظرون۔ وہ انتظار کرتے ہیں۔ یا انتظار کر رہے ہیں۔
ہل۔ یہ حرف استخبار اور کبھی استفہام کے لئے آتا ہے۔ قل ہل عندکم من علم فتخرجوہ لنا (6:149) کہہ دو تمہارے پاس کوئی سند ہے (اگر ہے) تو اسے ہمارے سامنے لاؤ۔ اور کبھی تنبیہ۔ تبکیت یا نفی کے لئے بھی آتا ہے۔ جیسے ہل تعلم لہ سمیا (9: 65) بھلا تم اس کا کوئی ہمنام جانتے ہو۔
(نفی) ہل تری من فطور (37:3) کیا تجھے کوئی شگاف نظر آیا۔
(نفی) ہل ھذا الابشر مثلکم (21:3) ہل ھذا الا بشر مثلکم۔ یہ شخص (کچھ بھی) نہیں ہے مگر تمہارے جیسا آدمی ہے
اللہ تعالیٰ کی قدرت پر تنبیہ اور اس کی سطوت پر تخویف۔ ہل ینظرون الا تاویلہ ان کو کسی بات کا انتظار نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–53
لغات القرآن آیت نمبر (50 تا 53 ) ۔
افیضوا (بہائو ) ۔ الماء (پانی ) ۔ حرم (حرام کردیا۔ روک دیا ) ۔ غرت (دھوکے میں ڈال دیا) ۔ ننسی (ہم نے بھلا دیا ) ۔ یجحدون (وہ انکار کرتے ہیں ) ۔ فصلنا (ہم نے تفصیل بتا دی ) ۔ تاویل (انجام ۔ پھیرنا ) ۔ شفعاء (شفیع) ۔ سفارشی) ۔ نرد (ہم لوٹائے جائیں) ۔ نعمل (ہم کام کریں گے ) ۔
تشریح : آیت نمبر (50 تا 53 ) ۔” جس طرح جنت والوں نے جہنم والوں سے کلام کیا تھا۔ اسی طرح اب جہنم والے اہل جنت سے اپنی شدید پیاس اور تڑپادینے والی بھوک کا حوالہ دے کر رحم و کرم کی بھیک مانگیں گے۔
کفار مکہ جنت ، جہنم، قیامت کے دن اور اللہ کے انصاف کو اہمیت نہیں دیتے تھے وہ دنیا کے رزق اقتدار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
پیدائش عالم کا ذکر اور خدائے تعالیٰ کی قدرت کا بیان
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ابوہریرہ ؓ کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا کہ زمین اللہ تعالیٰ نے ہفتہ کے روز پیدا کی، اور اتوار کو پہاڑ اور منگل کو موذی جانور اور زہریلی چیزیں اور نور بدھ کے دن، اور چوپائے جمعرات کے دن اور جمعہ کے روز حضرت آدم (علیہ السلام) پیدا کئے گئے۔ سب سے پہلے پانی پیدا ہوا، عرش الٰہی پانی پر تھا۔ جب اللہ تعالیٰ کو زمین و آسمان اور مخلوقات کا پیدا کرنا منظور ہوا تو چھ روز میں اتوار سے لے کر جمعہ تک سب کچھ پیدا کیا۔ زیادہ تفصیل اس کی سورة حم سجدہ (پارہ 24) میں آوے گی۔ مطلب یہ ہے کہ آسمان، سورج اور سورج کی گردش کے پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–53
[23] یعنی وعدہ سزا کا عملی ظہور جس کی خبر قرآن میں دی گئی ہے۔
Read the full tafseer →(ف 1) مقصد یہ ہے کہ قرآن حکیم نہایت تفصیل سے دلائل بیان کرتا ہے علم وہدایت کی باتیں تکمیل اور جامعیت کے ساتھ دہراتا ہے ، اس پر بھی وہ نہ مانیں تو کیا پھر انجام کار کا انتظار ہے ۔
جب وہ وقت آپہنچے گا ، اس وقت یہ پچھتائیں گے ، اور کچھ نہ ہو سکے گا یہ چاہیں گے دوبارہ مہلت مل جائے ، کچھ لوگ بخشش کی سفارش کردیں ، اور یہ دونوں باتیں وہاں نہ مل سکیں گی ، کیونکہ حجت تمام ہوچکی ہے ۔
حل لغات :
تاویل : انجام ، عاقبت ، حقیقت ، معنی ۔
Read the full tafseer →53 یہ منکر اب صرف اس بات کے منتظر ہیں کہ قرآن کریم نے جو وعدے اور وعید کئے ہیں ان کا انجام کیا ہوتا ہے جس دن قرآنی وعدے یا وعید کا انجام ظاہر ہوجائے گا تو اس دن وہ لوگ جو پہلے سے اس وقت کو فراموش کئے ہوئے بیٹھے ہیں یوں کہیں گے کہ بیشک ہمارے پروردگار کے فرستادے سچے اور حق لے کر آئے تھے اور وہ جو کچھ کہتے تھے واقع کے مطابق تھا تو پھر اب سفارش کرنے والوں میں سے کچھ ایسے سفارشی ہیں جو ہماری سفارش کردیں اور آج ہم کو عذاب سے بچالیں یا ہم دنیا کی طرف دوبارہ لوٹا دیئے جائیں تاکہ ہم اب تک جو عمل کرتے رہے تھے ان کی بجائے اور ان کے علاوہ اب کی دفعہ دوسرے عمل کریں بلاشبہ ان لوگوں نے اپنے کو سخت نقصان میں…
Read the full tafseer →ف 3۔ یعنی وعدہ سزا۔
4۔ اوپر معاد کی تفصیل تھی چونکہ مشرکین دوبارہ زندہ ہونے کو مستبعد سمجھتے تھے اس لیے آگے اپنی قدرت اور تصرف کامل کا بیان فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →یہ جس انتظار میں ہیں اس کا ہمیں علم ہے اور یقیناً یہ انتظار ان کے لئے مفید نہیں :
64: اب منکرین قرآن کی طرف سلسلہ بیان متوجہ ہوا ہے فرمایا آدم کی اولاد کو ہدایت وحی کے وقتاً فوقتاً ظہور کی جو خبر دی گئی تھی اس کے مطابق اس قرآن کریم کی ہدایت بھی نمودار ہوئی ہے اور اس نے علم وبصیرت کی راہ واضح کردی ہے پھر اگر منکرین سرکشی و فساد سے باز نہیں آتے تو انہیں کس بات کا انتظار ہے ؟ کیا اس بات کا کہ انکار و بد عملی کے جن نتائج کی خبر دی گئی ہے ان کا ظہور اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں ؟ لیکن جس دن ان کا ظہور ہوگا اس دن اس کی مہلت ہی کب باقی رہے گی کہ کوئی ایمان لائے ؟ وہ تو اعمال انسانی کے آخری فیصلہ کا دن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–53
Said in the sixth verse (49) is: أَهَـٰؤُلَاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ اللَّـهُ بِرَحْمَةٍ ۚ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلَا أَنتُمْ تَحْزَنُونَ ﴿49﴾ (Is it these for whom you swore that Allah would not reach them with mercy?" - "Enter the Paradise; there is no fear on you, nor shall you grieve).
Explaining this, Sayyidna ` Abdullah ibn ` Abbas ؓ says: When the questions and answers between the people of A` raf and the people of Paradise and Hell both will be over, that will be the time when the Lord of all the worlds will address the people of Hell and tell…
Read the full tafseer →38. The position of the people in question is as follows. The difference between good and evil was first explained to them, and yet they turned a deaf ear to it. Then some people established a good example by following the right path notwithstanding the dominant trend towards error. The wholesome effect of righteous conduct became evident from the lives of such people, but it made no impression on the people concerned. Their persistence in error could only mean one thing: that they would only learn the lesson the hard way when they saw the painful effects of their error. Such people are like…
Read the full tafseer →