Al-A'raaf 7:52

Al-A'raaf · from ayah 52

7:52

وَلَقَدْ جِئْنٰهُمْ بِكِتٰبٍ فَصَّلْنٰهُ عَلٰی عِلْمٍ هُدًی وَّرَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ ۟وَلَقَدۡ جِئۡنٰهُمۡ بِكِتٰبٍ فَصَّلۡنٰهُ عَلٰى عِلۡمٍ هُدًى وَّرَحۡمَةً لِّـقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ‏

اور ہم نے ان کے پاس کتاب پہنچا دی ہے جس کو علم ودانش کے ساتھ کھول کھول کر بیان کر دیا ہے (اور) وہ مومن لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We had certainly brought them a Book which We detailed by knowledge - as guidance and mercy to a people who believe.

— Saheeh International

Juz 8 · Ruku 6 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:52

ہم اِن لوگوں کے پاس ایک ایسی کتاب لے آئے ہیں جس کو ہم نے علم کی بنا پر مفصل بنایا ہے اور جو ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم نے ان کے پاس کتاب پہنچا دی ہے جس کو علم ودانش کے ساتھ کھول کھول کر بیان کر دیا ہے (اور) وہ مومن لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ہم نے ان لوگوں کے پاس ایک ایسی کتاب پہنچادی ہے جس کو ہم نے اپنے علم کامل سے بہت واضح کر کے بیان کردیا ہے، وه ذریعہ ہدایت اور رحمت ان لوگوں کے لئے ہے جو ایمان ﻻئے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور حقیقت یہ ہے کہ ہم ان کے پاس ایک ایسی کتاب لے آئے ہیں جس میں ہم نے اپنے علم کی بنیاد پر ہر چیز کی تفصیل بتادی ہے اور جو لوگ ایمان لائیں ان کے لیے وہ ہدایت اور رحمت ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک ہم ان کے پاس ایک کتاب لائے جسے ہم نے ایک بڑے علم سے مفصل کیا ہدایت و رحمت ایمان والوں کے لیے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بیشک ہم ان کے پاس ایسی کتاب (قرآن) لائے جسے ہم نے (اپنے) علم (کی بنا) پر مفصّل (یعنی واضح) کیا، وہ ایمان والوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بلاشبہ یقینا ہم ان کے پاس ایسی کتاب لائے ہیں جسے ہم نے علم کی بنا پر خوب کھول کر بیان کیا ہے، ان لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت بنا کر جو ایمان رکھتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہم ان لوگوں کے پاس ایسی کتاب لائے ہیں جسے ہم نے علم کی بنا پر مفصل بنادیا ہے۔ یہ کتاب ان لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے جو ایمان لاتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے ان کو ایک ایسی کتاب پہنچا دی ہے جس کی تفصیل ہمنے علم قطعی کی بنیاد پر کی ہے، ہدایت و رحمت بنا کر ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور بلاشبہ ہم ان کے پاس لے آئے ہیں ایک ایسی عظیم الشان کتاب، جس کی تفصیل ہم نے خود کی ہے علم کی بنیاد پر، عین ہدایت اور رحمت بنا کر، ان لوگوں کے لئے جو ایمان رکھتے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے ان کے پاس (ایسی) کتاب پہنچا دی ہے جسے ہم نے علم کے ساتھ خوب کھول دیا ہے ان لوگوں کے حق میں بہ طور ہدایت و رحمت کے جو ایمان رکھتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم لے آئے ہیں ان کے پاس ایک کتاب جس کی ہم نے پوری تفصیل بیان کردی ہے علم قطعی کی بنیاد پر ہدایت بھی ہے اور رحمت بھی ان لوگوں کے لیے جو ایمان لے آئیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم نے ان کے پاس کتاب پہنچا دی ہے جس کو علم و دانش کے ساتھ کھول کھول کر بیان کردیا گیا ہے اور وہ مومنین کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Surely We have brought them a Book which We expounded with knowledge; a guidance and a mercy to those who believe '

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Surely We have brought them a book that We have elaborated with knowledge, as guidance and mercy for a people who believe.

— Muhammad Taqi Usmani

Surely We have brought them a book that We have elaborated with knowledge, as guidance and mercy for a people who believe.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Certainly, We have brought to them a Book (the Qur'an) which We have explained in detail with knowledge, a guidance and a mercy to a people who believe.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Verily We have brought them a Scripture which We expounded with knowledge, a guidance and a mercy for a people who believe.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We had certainly brought them a Book which We detailed by knowledge - as guidance and mercy to a people who believe.

— Saheeh International

We have revealed the Book of guidance and mercy to the believers and We know all of its details.

— Muhammad Sarwar

And certainly We have brought them a Book which We have made clear with knowledge, a guidance and a mercy for a people who believe.

— Muhammad Habib Shakir

And assuredly We have brought unto them a book which We have detailed according to knowledge a guidance and, mercy unto a people who believe.

— Abdul Majid Daryabadi

For We had certainly sent unto them a Book, based on knowledge, which We explained in detail,- a guide and a mercy to all who believe.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:52

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 52–53

آخری حقیقت جنت اور دوزخ کا مشاہدہ اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے کل عذر ختم کردیئے تھے اپنے رسولوں کی معرفت اپنی کتاب بھیجی جو مفصل اور واضح تھی۔ جیسے فرمان ہے آیت (الۗرٰ ۣ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ ۙ) 11۔ ھود :1) ، اس قرآن کی آیتیں مضبوط اور تفصیل وار ہیں۔ اس کی جو تفصیل ہے وہ بھی علم پر ہے جیسے فرمان ہے آیت (انزلہ بعلمہ) اسے اپنے علم کے ساتھ اتارا ہے۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں یہ آیت اسی آیت پر جاتی ہے جس میں فرمان ہے آیت (كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَيْكَ فَلَا يَكُنْ فِيْ صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ لِتُنْذِرَ بِهٖ وَذِكْرٰي لِلْمُؤْمِنِيْنَ) 7۔ الاعراف :2) ،…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَعْرَاف 36 یعنی اس میں پوری تفصیل کے ساتھ بتادیا گیا ہے کہ حقیقت کیا ہے اور انسان کے لیے دنیا کی زندگی میں کونسا رویّہ درست ہے اور صحیح طرز زندگی کے بنیادی اصول کیا ہیں۔ پھر یہ تفصیلات بھی قیاس یا گمان یا وہم کی بنیاد پر نہیں بلکہ خالص علم کی بنیاد پر ہیں۔ سورة الْاَعْرَاف 37 مطلب یہ ہے کہ اوّل تو اس کتاب کے مضامین اور اس کی تعلیمات ہی بجائے خود اس قدر صاف ہیں کہ آدمی اگر ان پر غور کرے تو اس کے سامنے راہ حق واضح ہو سکتی ہے۔ پھر اس پر مزید یہ ہے کہ جو لوگ اس کتاب کو مانتے ہیں ان کی زندگی میں عملاً بھی اس حقیقت کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ انسان کی کیسی صحیح رہنمائی کرتی ہے اور کتنی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 50–53

خلاصہ تفسیر اور (جس طرح اوپر جنت والوں نے دوزخ والوں سے گفتگو کی اسی طرح) دوزخ والے جنت والوں کو پکاریں گے کہ (ہم مارے بھوک اور پیاس اور گرمی کے بےدم ہوئے جاتے ہیں، خدا کے واسطے) ہمارے اوپر تھوڑا پانی ہی ڈال دو (شاید کچھ تسکین ہوجائے) یا اور ہی کچھ دیدد، جو اللہ تعالیٰ نے تم کو دے رکھا ہے (اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ امید کرکے مانگیں گے، کیونکہ غایت اضطراب میں بعید از توقع باتیں بھی منہ سے نکلا کرتی ہیں) جنت والے (جواب میں) کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے دونوں چیزوں کی (یعنی جنت کے کھانے اور پینے کی) کافروں کے لئے بندش کر رکھی ہے، جنہوں نے دنیا میں اپنے دین کو (جس کا قبول کرنا ان کے ذمہ واجب تھا)…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَلَقَدْ جِئْنٰهُمْ بِكِتٰبٍ فَصَّلْنٰهُ عَلٰي عِلْمٍ هُدًى وَّرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ۔ وَلَقَدْ جِئْنٰهُمْ بِكِتٰبٍ فَصَّلْنٰهُ عَلٰي عِلْمٍ ، ھم کا مرجع قریش ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اوپر اپنے اس احسانِ عظیم کا اظہار فرمایا ہے جو قرآن کی صورت میں ان پر فرمایا۔ اس کتاب کی صفت یہاں یہ بیان فرمائی ہے کہ اس میں ہم نے اپنے علم قطعی کی روشنی میں ان تمام امور کی تفصیل بیان کردی ہے جن سے آگاہ ہونا دنیا و آخرت کی سعادت کے لیے ضروری ہے۔ اس تفصیل سے ان تفصیلات کی طرف بھی اشارہ ہے جو اوپر اہل جنت، اہل دوزخ اور اصحاب الاعراف سے متعلق بیان ہوئی ہیں۔ جو ہیں اگرچہ عالم آخرت سے متعلق لیکن کوئی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

52۔ 1 یہ اللہ تعالیٰ جہنمیوں کے ضمن میں ہی فرما رہا ہے کہ ہم نے تو اپنے علم کامل کے مطابق ایسی کتاب بھیج دی تھی جس میں ہر چیز کو کھول کر بیان کردیا تھا۔ ان لوگوں نے اس سے فائدہ نہیں اٹھایا، تو ان کی بدقسمتی، ورنہ جو لوگ اس کتاب پر ایمان لے آئے، وہ ہدایت و رحمت الٰہی سے فیض یاب ہوئے گویا ہم نے تو (وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا) 17۔ الاسراء :15) جب تک ہم رسول بھیج کر اتمام حجت نہیں کردیتے، ہم عذاب نہیں دیتے ' کے مطابق اہتمام کردیا تھا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 48–52

26: اس سے اشارہ ان دیوتاؤں کی طرف ہے جن کو انہوں نے خدائی میں اللہ تعالیٰ کا شریک مانا ہوا تھا، نیز ان سرداروں اور پیشواؤں کی طرف جنہیں بڑا مان کر انہوں نے بےسوچے سمجھے ان کی پیروی کی، اور یہ سمجھ بیٹے کہ یہ لوگ انہیں اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچالیں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 51–52

اس طرح اس طویل منظر کی جھلکیاں سامنے آتی ہیں اور چلی جاتی ہیں ۔ ابھی آخرت کی جھلکی ہے اور ساتھ ہی دنیا کی ایک جھلک دکھائی جاتی ہے ۔ ایک لمحہ ہم اس ان لوگوں کے ساتھ ہوتے ہیں جو آگ میں جل رہے ہیں ‘ جن کا خیال تھا کہ وہ اللہ کے حضور پیش نہ ہوں گے اور جنہوں نے آیات الہی کا انکار کردیا تھا حالانکہ ان کے پاس کتاب مفصل آچکی تھی جو بالکل واضح تھی اور اس کی تفصیلات اللہ کے علم پر مبنی تھیں ۔ انہوں نے اسے پس پشت ڈال دیا اور اپنی پسند کے ادہام اور شکوک کو اختیار کرلیا ۔ دوسرے ہی لمحہ ہم دیکھے ہیں کہ یہ یہی لوگ دنیا میں اس کتاب کے انجام کا انتظار کر رہے ہیں اس میں جو ڈراوے درج ہیں ان کے ظہور کے منتظر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 قرآن جیسی کتاب کی موجودگی میں جس میں تمام ضروریات کی عالمانہ تفصیل موجود ہے اور ہر بات کو پوری آگاہی سے کھول کر بیان کردیا گیا ہے چناچہ ایمان لانے والے اس سے خوب منتفع ہو رہے ہیں، غضب ہے کہ ان متکبر معاندوں نے کچھ بھی اپنے انجام پر غور نہ کیا۔ پھر اب پچھتانے سے کیا حاصل۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 51–52

آیت 51 الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَہُمْ لَہْوًا وَّلَعِبًا وَّغَرَّتْہُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَاج فَالْیَوْمَ نَنْسٰہُمْ کَمَا نَسُوْا لِقَآءَ یَوْمِہِمْ ہٰذَالا نسیان کے ایک معنی تو ہیں بھول جانا ‘ جبکہ اس کے دوسرے معنی ہیں جان بوجھ کر نظر انداز کرنا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

51 کتاب اللہ رحمت کیسے :۔ یعنی ہم نے اپنے علم کی بنا پر یہ بتلا دیا ہے کہ نیکوکاروں کا انجام ایسا ہوگا اور بدکاروں کا ایسا روز آخرت بھی یقینی ہے اور ہر عمل کی جزا و سزا بھی مل کے رہے گی۔ بدکاروں پر اس دنیا میں بھی عذاب آتا ہے اور آخرت میں تو عذاب یقینی ہے۔ غرض ہر طرح کی تفصیل اس کتاب میں مذکور ہے۔ مگر اس کتاب سے فائدہ صرف وہی لوگ اٹھاتے ہیں جو اس پر ایمان لاتے ہیں۔ ایمان لاتے ہی ان کی زندگی میں خوشگوار تبدیلی شروع ہوجاتی ہے۔ ان کے اخلاق سنور جاتے ہیں وہ دوسروں کو فائدہ پہنچانے اور ان کی بھلائی کی باتیں سوچنے لگتے ہیں۔ ان کی زندگی انتہائی ذمہ دارانہ زندگی بن جاتی ہے پھر ان کی آخرت بھی سنور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

72 ۔ (اور جس کتاب میں کسی خطاوغلطی کا امکان نہیں) علی علم منا بہ لم یقع فیہ سھو ولا غلط (قرطبی)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–52

الذین اتخذوا۔۔۔۔۔ ولعبا الخ اہل جنت اور اہل دوزخ اور اصحاب اعراف کی اس گفتگو سے کسی حد تک اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ عالم آخرت میں انسانی قوتوں کا پیمانہ کس قدر وسیع ہوجائیگا وہاں آنکھوں کی بینائی اتنے بڑے پیمانے پر ہوگی کہ دوزخ و جنت اور اعراف کے لوگ جب چاہیں گے ایک دوسرے کو دیکھ سکیں گے، اور وہاں آواز اور سماعت بھی اس قدر بڑھ جائے گی کہ مختلف دنیاؤں کے لوگ بآسانی گفت و شنید کرسکیں گے، یہ اور ایسے ہی بیانات جو ہمیں قرآن میں ملتے ہیں اس بات کا تصور دلانے کیلئے کافی ہیں کہ وہاں زندگی کے قوانین ہماری موجودہ دنیا کے قوانین طبعی سے بالکل مختلف ہوں گے، اگرچہ ہماری شخصیتیں یہی رہیں گئ، جن لوگوں کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولقد جئنہم بکتب فضلنہ علی علم ہدی ورحمۃ لقوم یومنون : ہم نے ان کے پاس ایک ایسی کتاب پہنچا دی ہے جس کو ہم نے اپنے علم کامل سے بہت ہی واضح کر کے بیان کردیا ہے۔ ذریعۂ ہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان لے آئے ہیں۔ کِتَابٌیعنی قرآن فَصَّلْنٰہٗ یعنی ہم نے معافی کی وضاحت کردی۔ حرام حلال کو الگ الگ کردیا ہدایات اور قصے بیان کردیئے اور صحیح غلط عقائد کی صراحت کردی۔ عَلٰی عِلْمٍ یعنی وجوہ تفصیل کا علم رکھتے ہوئے یا انسانوں کے مصالح کو جانتے ہوئے۔ دونوں صورتوں میں فصلنا کی ضمیر فاعل سے حال ہوگا یا وہ کتاب علم کو حاوی ہے اس وقت فصلناہ کی ضمیر مفعول سے حال ہوگا۔ ہدًی اور رحمۃً بھی حال ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(52) اور ہم نے ان لوگوں کی طرف رسول اکرم ﷺ کو ایسا قرآن حکیم دے کر بھیجا ہے، جسے ہم نے اپنے علم کامل سے بہت ہی واضح کیا ہے، وہ گمراہی سے ذریعہ ہدایت اور عذاب سے ذریعہ رحمت ہے، ایسے حضرات کے لیے جو رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان رکھتے ہوں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَقَدْ جِئْنٰهُمْ بِكِتٰبٍ۔۔ : یعنی یہ کفار یہ عذر نہیں کرسکتے کہ ہمیں معلوم نہ تھا، کیونکہ ہم نے ان کی طرف یہ کتاب بھیج کر ہر بات کھول کر بیان کردی تھی اور ہمارا طریقہ ہی نہیں کہ پیغام پہنچائے بغیر عذاب دیں، فرمایا : (وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا) [ بنی إسرائیل : 15 ] ”اور ہم کبھی عذاب دینے والے نہیں، یہاں تک کہ کوئی پیغام پہنچانے والا بھیجیں۔“

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 52 قولہ تعالیٰ : آیت : ولقد جئنھم بکتٰب اس میں کتاب سے مراد قرآن مجید ہے۔ فصلنہ ہم نے اسے واضح کردیا ہے یہاں تک کہ جس نے اس میں تدبر اور غور وفکر کیا اس نے اسے پہچان لیا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ فصلنہ کا معنی ہے ہم نے اسے متفرق طور پر نازل کیا۔ علی علم اپنی طرف سے علم کامل کے ساتھ، لہٰذا اس میں کوئی سہو اور غلطی واقع نہیں ہوئی۔ آیت : ھدی ورحمۃ زجاج نے کہا ہے : یعنی ھادیا و ذارحمۃ (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 480) ( درآنحالیکہ وہ ہدایت دینے والی اور سراپار حمت ہے) انہوں نے اسے فصلنہ کی ہا ضمیر سے حال بنایا ہے۔ زجاج نے کہا ہے : ھدی ورحمۃ پڑھنا بھی جائز ہے : بمعنی ھو ھدی ورحمۃ۔ اور یہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 51–52

(1) امام ابن منذر، ابن ا بی حاتم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” قالیوم ننسھم کما نسوا لقاء یومھم ھذا “ کے بارے میں فرمایا کہ ہم ان کو چھوڑ دیں گے آگ میں ڈال کر جیسے کہ انہوں نے اس دن کی ملاقات کو بھلا دیا تھا۔ (2) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان کو خیر اور بھلائی سے بھول جائیں گے اور شریعی تکلیف اور عذاب سے نہیں بھولیں گے۔ (3) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” فالیوم ننسھم “ کے بارے میں فرمایا کہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَقَدْ جِئْنٰهُمْ [ اور ہم لائے ہیں ان کے پاس ] بِكِتٰبٍ [ ایک ایسی کتاب ] فَصَّلْنٰهُ [ ہم نے کھول کھول کر بیان کیا ہے جس کو ] عَلٰي عِلْمٍ [ علم (کی بنیاد ) پر ) هُدًى [ ہدایت دیتے ہوئے ] وَّرَحْمَةً [ اور رحمت ہوتے ہوئے ] لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ [ ایمان لاتے ہیں ] نوٹ ۔ 1: آج کل مساجد میں اماموں کا معمول ہوگیا ہے کہ عربی کے کچھ دعائیہ کلمات انہیں یاد ہوتے ہیں اور ختم نماز پر وہ انہیں پڑھ دیتے ہیں اور لوگ آمین کہہ دیتے ہیں ۔ اکثریت کو ان کلمات کا مطلب معلوم نہیں ہوتا ۔ اس سارے تماشہ کا حاصل چند کلمات کا پڑھنا ہوتا ہے، دعا مانگنے کی جو حقیقت ہے وہ یہاں پائی ہی نہیں جاتی ۔ دعا پڑھی نہیں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(وَ لَقَدْ جِءْنٰھُمْ بِکِتٰبٍ فَصَّلْنٰہُ عَلٰی عِلْمٍ ھُدًی وَّ رَحْمَۃً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ ) (اور ہم نے انہیں کتاب پہنچا دی ہے یعنی قرآن مجید جس کو ہم نے اپنے علم کامل سے خوب واضح طور پر بیان کردیا۔ (سب ہی کے لیے ہے۔ لیکن) ہدایت و رحمت انہیں لوگوں کے لیے ہے جو اس کو سن کر ایمان لے آتے ہیں)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 44–53

اہل جنت اور اہل دوزخ اور اہل اعراف کی باہمی گفتگو کا ذکر قال اللہ تعالیٰ ونادی اصحب الجنۃ اصحب النار۔۔۔ الی۔۔۔ وضل عنھم ما کانوا یفترون، (ربط) گزشتہ آیات میں اہل جنت اور اہل نار کی جزاء وسزا کا بیان تھا اب ان آیات میں ان مخاطبات اور مکالمات کا ذکر ہے جو دخول جنت و جہنم کے بعد جنتیوں اور دوزخیوں کے مابین ہوں گے اور ان کے ساتھ اہل اعراف کا بھی ذکر فرمایا جن کی حالت ابتدا میں بین بین ہوگی اور بعد میں ان کو جنت میں داخل ہونے کا حکم ہوجائے گا اور اس تمام تذکرہ سے مقصود یہ بتلانا ہے کہ اس روز اہل ایمان کو سعادت کاملہ حاصل ہوگی اور اسلام کے دشمنوں کو انتہائی رنج وغم اور انتہائی حسرت پیش آئے گی جس کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

60:“ کتاب ” سے جنس کتاب مراد ہے جو تمام آسمانی کتابوں اور صحیفوں کو شامل ہے۔ یعنی ہم نے دنیا میں کتابیں نازل کیں جن میں کامل علم اور حکمت کے ساتھ احکام شرائع کو تفصیل سے بیان کیا اور جو ایمان والوں کے لیے سراپا ہدایت و رحمت تھیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 52–53

ربط آیات اصحاب اعراف کے تذکرے کے بعد اللہ تعالیٰ نے جہنم والوں کا ذکر کیا کہ وہ جنتیوں کو دیکھ کر ان سے الجا کریں گے کہ تھوڑا سا پانی ہم پر بھی بہادو یا جو کچھ اللہ نے تمہیں روزی عطا کی ہے اس میں سے کچھ ہمیں بھی دے دو کیونکہ ہم بہت پریشان حال اور تکلیف میں ہیں مگر اہل ایمان جواب دیں گے کہ یہ دونوں چیزیں اللہ نے اہل دوزخ پر حرام کردی ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے دین کو لہو و لعب نایا اور دنیا کی زندگی نے انہیں دھوکے میں ڈالا پس آج کے دن اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت سے دور رکھیں گے اور ان سے وہی سلوک کریں گے جو فراموش شدہ آدمیوں سے کیا جاتا ہے انہوں نے اس دن کی ملاقات کو فراموش کردیا تھا اس پر ایمان…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ہَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّا تَاْوِيْلَہٗ۝ 0 ۭ يَوْمَ يَاْتِيْ تَاْوِيْلُہٗ يَقُوْلُ الَّذِيْنَ نَسُوْہُ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَاۗءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ۝ 0 ۚ فَہَلْ لَّنَا مِنْ شُفَعَاۗءَ فَيَشْفَعُوْا لَنَآ اَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَيْرَ الَّذِيْ كُنَّا نَعْمَلُ۝ 0 ۭ قَدْ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَہُمْ وَضَلَّ عَنْہُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ۝ 53 ۧ هَلْ : حرف استخبار، إما علی سبیل الاستفهام، وذلک لا يكون من اللہ عزّ وجلّ : قال تعالی: قُلْ هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوهُ لَنا[ الأنعام/ 148] وإمّا علی التّقریر تنبيها، أو تبكيتا، أو نفیا . نحو : هَلْ تُحِسُّ مِنْهُمْ مِنْ أَحَدٍ أَوْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 52–53

ترکیب : بکتاب بذریعہ ب مفعول ثانی جئنا کا کیونکہ یہ بمعنی اتینا ہوگیا۔ فصلناہ اس کی صفت علی علم بمعنی عالمین حال ہے فاعل فصلنا سے ھدیٰ ورحمۃ کتاب سے حال ہیں۔ یوم ظرف ہے یقول کا قدجاءت جملہ مقولہ ہے۔ اسی طرح فہل لنا فیشفعوا منصوب ہے جواب استفہام کی وجہ سے۔ اونرد مرفوع ہے معطوف ہے موضع من شفعاء پر۔ تفسیر : اہل جنت کے درجات اور اہل دوزخ کے حالات اور اہل اعراف کے مقالات و کلمات کا ذکر عالم غیب کی ایسی خبر ہے کہ جس تک عقل کی بغیر مدد الہامِ الٰہی ہرگز رسائی نہیں اور ایسی باتیں بیان کرنا ہادی برحق کا اول کام ہے تاکہ انسان اپنے انجام سے خبر پا کر سعادت کی طرف مائل ہو۔ اس لئے ان آیات میں یہ بات ظاہر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ارشاد فرمایا : وَلَقَدْ جِئْنٰھُمْ بِکِتٰبٍ فَصَّلْنٰہُ عَلٰی عِلْمٍ ھُدًی وَّ رَحْمَۃً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ ۔ (الاعراف : 52) ” اور ہم نے ان کو ایک ایسی کتاب پہنچا دی ہے جس کی تفصیل ہم نے علم قطعی کی بنیاد پر کی ہے ‘ ہدایت و رحمت بنا کر ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائیں “۔ دنیا وعقبیٰ میں ناکامی سے بچنے کا ذریعہ کتاب ہدایت سے وابستگی ہے اے مشرکینِ مکہ اور اے نوع انسانی کے لوگو ! اگر تم واقعی یہ آرزو رکھتے ہو کہ جہنم میں جانے والوں کا جو تذکرہ تم نے پڑھا ہے تمہارا شمار ان میں نہ ہو اور تم اس ہولناک انجام سے دوچار نہ کیے جاؤ جس کا ایک منظر تم دیکھ چکے ہو تو پھر تمہارے لیے سنبھلنے اور راہ راست…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 51–52

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کا جہنم میں جانا اور ان پر جنت کی نعمتوں کا حرام ہونا اس لیے ہوگا کہ یہ دین کو کھیل تماشا سمجھتے ہوئے دنیا کی عیش و عشرت میں غرق ہو کر آخرت کو بھول چکے تھے۔ کھیل تماشا وقتی طور پر دل بہلانے اور ایک حد تک صحت کے لیے مفید ہوتا ہے بشرطیکہ اس میں وقت اور دولت کا ضیاع اور بےحیائی کا عنصر شامل نہ ہو۔ اگر یہ چیزیں کسی کھیل اور گیم میں شامل ہوجائیں تو فائدہ کے بجائے صحت اور وقت کا نقصان ہوتا ہے۔ پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ کھیل کود انسان پوری زندگی اختیار نہیں کرسکتا کیونکہ کھیلنے کودنے سے آدمی کا پیٹ نہیں بھرتا اور نہ ہی زندگی بھر کوئی شخص اسے اختیار کرسکتا ہے۔ یہاں کھیل…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

موجودین کی طرف روئے سخن : آیت 52: وَلَقَدْ جِئْنٰھُمْ بِکِتٰبٍ فَصَّلْنٰہُ (اور ہم نے ان کے پاس ایک ایسی کتاب پہنچا دی جس کو ہم نے بہت ہی واضح کر کے بیان کردیا ہے) ہم نے اس کے حلال و حرام اور مواعظ وقصص کو الگ الگ بیان کیا۔ عَلٰی عِلْمٍ ھُدًی وَّرَحْمَۃً (اپنے علم کامل سے جو ذریعہ ہدایت و رحمت ہے) یہ فَصَّلْنَاہُ ۔ کی ضمیر سے حال ہے جس طرح عَلٰی عِلْمٍاس کی ضمیر مرفوع سے حال ہے۔ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ (ایمان والوں کیلئے)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر (52) (ولقد جئنھم بکتب فصلنہ علی علم) یعنی قرآن جس کو مفصل بیان کیا ہے ہم نے خبرداری سے ہماری طرف سے وہ چیز جو ان کی مناسبت ہے (ھدی و رحمۃ) یعنی ہم نے قرآن کو ہدایت دینے والا اور رحمت والا بنایا ہے (لقوم یومنون)

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 52–53

(52 ۔ 53) ۔ اوپر منکر قرآن لوگوں کا ذکر فرما کر اس آیت میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ مفصل اور مشرح کتاب ان کے پاس بھیج دی تاکہ ان مشرک اور کافروں کو کوئی عذر کر نیکا موقعہ نہ رہے اور ایمان والوں کے لئے یہ کتاب سراسر ہدایت اور رحمت ہوجاوے ہیں کتاب میں جو وعدہ عذاب کا ہے کیا منکر اس کے آنے کی راہ دیکھ رہے ہیں یہ قول مجاہد وغیرہ کا ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ یوم تاویل سے قیامت کا دن مراد ہے اس روز کافر چاہیں گے کہ کوئی ہماری سفارش کرے یا دنیا میں پھرجانا ہم کو نصیب ہو تو اچھے کام کریں غرض کہ اس دن اپنا نقصان ان کو معلوم ہوگا اور سب جھوٹ ان کا جو دنیا میں بناتے تھے بیکار ہوجاویگا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 46–52

آیت 46 یعنی اہل جنت اور اہل جہنم کے درمیان ایک حجاب ہوگا جسے ” مقام اعراف “ کہا جائے گا۔ یہ مقام جنت میں شامل ہوگا نہ جہنم میں۔ اس مقام سے جنت اور جہنم دونوں میں جھانکا جاسکے گا اور جنتیوں اور جہنمیوں کے احوال کو دیکھا جاسکے گا۔ اس مقام اعراف میں کچھ لوگ ہوں گے جو اہل جنت اور اہل جہنم کو ان کی ان علامات کے ذریعے سے پہچانتے ہوں گے جو ان کی امتیازی علامات ہیں۔ جب وہ اہل جنت کی طرف دیکھیں گے تو پکار کر کہیں گے (ان سلم علیکم) ” سلامتی ہے تم پر “ یعنی وہ ان پر سلام کہیں گے۔ وہ ابھی تک جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے البتہ وہ جنت میں داخلے کے امیدوار ہوں گے اور اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں امید تب ہی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 33–54

فواحش سے مراد قول باری ہے قل انما حرم ربی الفواحش ماظھرمنھا وما بطن ولاثم والبغی بغیر الحق۔ اے محمد ﷺ ، ان سے کہو کہ میرے رب نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ تو یہ ہیں، بےشرمی کے کام خواہ کھلے ہوں یا چھپے اور گناہ اور حق کے خلاف زیادتی) مجاہد کا قول ہے کہ فواحش سے زنا مراد ہے یہ سری خواحش ہے اور برہنہ حالت میں طواف کرنا جہری فواحش ہے۔ ایک قول ہے کہ بےشرمی کے تمام کام فواحش ہیں۔ شروع میں اجمالاً ان کا ذکر کیا پھر ان کی مختلف صورتوں کی تفصیل بیان کردی اور یہ فرمایا کہ گناہ حق کے خلاف زیادتی اور اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہرانا فواحش کی صورتیں ہیں۔ یعنی لوگوں پر ناحق اور بزور قوت غلبہ جمانے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

70 قرآن حکیم کا ہر حکم و ارشاد علم و حکمت پر مبنی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس کتاب عظیم کی تفصیل ہم نے خود کی اور کمال علم کی بنا پر کی۔ اس لئے اس کتاب حکیم کا ہر ارشاد علم و حکمت پر مبنی اور عین حق اور صواب ہے۔ اور یہ صرف اور صرف اس کتاب الٰہی ہی کی شان ہے جو ازل سے ابد تک اور انسان کی پیدائش سے لے کر اس کی وفات تک زندگی کے تمام دوائر اور احوال و ظروف سے بحث کرتی اور راہنمائی فرماتی ہے۔ اور ٹھوس علم کی بنیاد پر کرتی ہے، جبکہ باقی ہر جگہ اوہام و ظنون کا دور دورہ ہے ۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ، اَلَّذِیْ شَرَّفَنَا بِہٰذَا الْکِتَابِ الْمُبَارَکِ الْمَجِیْدِ ۔ بہرکیف ارشاد…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 44–53

اہل جنت اور اہل جہنم کا مکالمہ اور اصحاب اعراف کا تذکرہ تشریح : آیات 44 تا 53 میں جو کچھ بتایا گیا ہے انتہائی عبرت دلانے والا اور خوش کرنے والا ہے۔ کیونکہ اللہ رب العزت نے اہل جنت اور اہل جہنم کی آپس میں گفتگو نیز اصحاب اعراف کا ایسا نقشہ کھینچا ہے لگتا ہے سب کچھ سامنے ہو رہا ہے۔ یہ سب راز کی باتیں ہیں انسان کی نظر سے پوشیدہ اور تصور سے باہر۔ مگر اللہ سبحانہ تعالیٰ کیونکہ اپنے بندوں پر حد سے زیادہ مہربان ہے اور رحیم و کریم ہے اس لیے لوگوں کو دنیا کی مصیبتوں اور آخرت کے عذاب سے بچانے کے لیے رسول بھیجے، پھر آخری رسول محمد ﷺ پر قرآن مجید نازل فرما کر لوگوں کو خبردار کرنے کے لیے بھیجا۔ مگر کفار و…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 48–53

رکوع نمبر 6 ۔ آیات 48 ۔ تا۔ 53 اسرار و معارف : جہنم میں پڑے ہوئے بعض لوگوں کو تو ان کی شکلوں تک سے پہچانتے ہوں گے اور دنیا میں ان کے کردار سے واقف ہوں گے جب وہ محض مال و دولت یا اختیار و اقتدار پر نازاں عظمت الہی اور دار آخرت کو بھولے ہوئے تھے نہ صرف یہ بلکہ نیک لوگوں پہ پھبتیاں کہتے تھے کہ انہیں دیکھ ویہ آخرت کے انعامات کی امید میں یہاں عبادات کی مصیبت میں پڑے ہیں اور فقر و فاقہ میں بھی شکر ادا کرتے ہیں دولت و مال مل جائے تو بھی عیش ان کے نصیب میں نہیں بھلا آخرت میں انہیں خاک آرام نصیب ہوگا دنیا والوں کے ساتھ تو یہ چل نہیں سکتے اور چلے ہیں آخرت کو پانے ۔ اہل اعراف ان کی یہ باتیں انہیں یاد…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 فرق ثلاثہ کا مکالمہ نقل کرنے کے بعد اب سے آیت کی دعوت دی جارہی ہے۔ (رازی)5 اس میں تکذیب کرنے والوں کی تنبیہ فرمائی ہے کہ کیا قرآن کا شرف بیان کر کے اس پر غور وفکر کر دعوت دی جا رہی ہے (رازی)5 اس میں تکذیب کرنے والوں کو تنبیہ فرمائی ہے کہ کیا قرآن میں جس عذاب دینوی یا اخری کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے وہ اس کے پیش آنے کا انتظار کر رہے ہیں ( رازی )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(7:52) فصلناہ۔ ماضی جمع متکلم۔ تفصیل (تفعیل) مصدر۔ ہم نے اس کو کھول کر بیان کردیا۔ ہم نے اس کی الگ الگ (مختلف پہلؤں سے) تفصیل (وضاحت) کردی ۔ علی علم۔ یہ اللہ کا حال بھی ہوسکتا ہے اور کتب کا بھی۔ پہلی صورت میں اس کے معنی ہوں گے : ہم نے اپنے علم کامل سے اس کی وضاحت کردی۔ دوسری صورت میں معنی ہوں گے : ہم نے اس کی وضاحت کردی ہے اور وہ تمام علوم پر مشتمل ہے۔ ھدی ورحمۃ۔ حال ہے فصلناہ کا۔ یعنی درآں حال یہ کہ وہ ہدایت اور رحمت ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 50–53

لغات القرآن آیت نمبر (50 تا 53 ) ۔ افیضوا (بہائو ) ۔ الماء (پانی ) ۔ حرم (حرام کردیا۔ روک دیا ) ۔ غرت (دھوکے میں ڈال دیا) ۔ ننسی (ہم نے بھلا دیا ) ۔ یجحدون (وہ انکار کرتے ہیں ) ۔ فصلنا (ہم نے تفصیل بتا دی ) ۔ تاویل (انجام ۔ پھیرنا ) ۔ شفعاء (شفیع) ۔ سفارشی) ۔ نرد (ہم لوٹائے جائیں) ۔ نعمل (ہم کام کریں گے ) ۔ تشریح : آیت نمبر (50 تا 53 ) ۔” جس طرح جنت والوں نے جہنم والوں سے کلام کیا تھا۔ اسی طرح اب جہنم والے اہل جنت سے اپنی شدید پیاس اور تڑپادینے والی بھوک کا حوالہ دے کر رحم و کرم کی بھیک مانگیں گے۔ کفار مکہ جنت ، جہنم، قیامت کے دن اور اللہ کے انصاف کو اہمیت نہیں دیتے تھے وہ دنیا کے رزق اقتدار…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 51–52

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ مفصل اور مشرح کتاب ان کے پاس بھیج دی تاکہ ان مشرک اور کافروں کو کوئی عذر کرنے کا موقع نہ رہے، اور ایمان والوں کے لئے یہ کتاب سراسر ہدایت اور رحمت ہوجائے۔ اس کتاب میں جو وعدہ عذاب ہے، کیا منکر اس کے آنے کی راہ دیکھ رہے ہیں تو قیامت کے روز کافر چاہیں گے کہ کوئی ہماری سفارش کرے یا دنیا میں پھرجانا ہم کو نصیب ہو تو اچھے کام کریں۔ غرضیکہ اس دن اپنا نقصان ان کو معلوم ہوگا اور سب جھوٹ ان کا جو دنیا میں بناتے تھے بیکار ہوجائے گا۔ عقبیٰ کے عذاب کے وقت یہ نافرمان لوگ اپنی نافرمانی پر بہت پچھتاویں گے، اور عذاب الٰہی سے بچانے والا کوئی سفارشی ڈھونڈیں گے مگر سزا…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 49–52

(ف 1) (آیت) ” ادخلوا الجنۃ “۔ سے پہلے محذوف ہے عبارت سے سمجھ میں آجاتا ہے کہا گیا ہے کہ جنت میں داخل ہوجاؤ ، ” فالیوم ننسھم “۔ سے مراد یہ نہیں کہ اللہ ان کو بھول جائے گا کیونکہ وہ نسیان وسہو سے بلند ہے ، مقصد یہ ہے کہ ان سے بالکل اس قسم کا سلوک روا رکھا جائے گا کہ گویا ہم بھول گئے ہیں ۔ حل لغات : حرمھما : تحریم سے مراد ممانعت ہے یعنی اللہ نے روک رکھا ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

52 اور بالتحقیق ہم ان کے پاس ایک ایسی کتاب لائے ہیں اور ہم نے ایک ایسی کتاب ان کو پہنچادی ہے یعنی قرآن کریم جس میں ہم نے اپنے کمال علم کے ساتھ عقائد و اعمال کو خوب تفصیل سے بیان کردیا ہے اور اپنے علم کی بنا پر خوب واضح اور مفصل بیان کیا ہے اور یہ قرآن کریم ان لوگوں کے لئے جو اہل ایمان ہیں پوری ہدایت اور رحمت ہے یعنی جو سن کر قبول کرلے اسی کے لئے سودمند ہچے ورنہ یوں تو تمام لوگوں کے لئے بھیجا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہم نے ان پر کتاب نازل کر کے حق کی تمام باتیں واضح کردی ہیں : 63: ” کتاب “ اس کتاب سے مراد قرآن کریم ہی ہے بجائے الکتب کے کتاب تنوین کے ساتھ لانا عظمت شان کے لئے ہے اور یہ کتاب بھی ایسی جس میں کسی خطاء وغلطی کا کوئی امکان نہیں اور جس کی حفاظت قیامت تک کے لئے کردی گئی ہے۔ اس کتاب نے جو اہل اعراف ، اہل جنت اور اہل دوزخ کا مکالمہ پیش کیا ہے اس کا مقصد بھی قصہ گوئی اور دستان سرائی نہیں بلکہ مدعا یہ ہے کہ تم اس سے عبرت حاصل کرو اور وہ لغزشیں اور وہ قصور جن کی وجہ سے بڑے بڑے نامور لوگ آتش جہنم میں جھونک دئیے جائیں گے ان سے اجتناب کرو تاکہ اس روز درد ناک انجام سے تمہیں دوچار نہ ہونا پڑے اور ان کی غلط…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 49–53

Said in the sixth verse (49) is: أَهَـٰؤُلَاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ اللَّـهُ بِرَ‌حْمَةٍ ۚ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلَا أَنتُمْ تَحْزَنُونَ ﴿49﴾ (Is it these for whom you swore that Allah would not reach them with mercy?" - "Enter the Paradise; there is no fear on you, nor shall you grieve). Explaining this, Sayyidna ` Abdullah ibn ` Abbas ؓ says: When the questions and answers between the people of A` raf and the people of Paradise and Hell both will be over, that will be the time when the Lord of all the worlds will address the people of Hell and tell…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

36. The Qur'an has spelled out in some detail what constitutes the fundamental reality, explained the attitude that man ought to adopt, and laid down the fundarnentals of the way of life that he ought to follow. The tails laid down in the Book in this regard are based on sound knowledge rather than on conjecture and fancy. 37. The contents and teachings of the Book are perspicuous enough to show one the right way. Moreover, the life-style of those who believe in this Book also bears out, by the beneficial effects it produces on human life, how well it guides man. The blessings of the Qur'an…

Read the full tafseer →