Al-A'raaf 7:51

Al-A'raaf · from ayah 51

7:51

الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَهْوًا وَّلَعِبًا وَّغَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا ۚ— فَالْیَوْمَ نَنْسٰىهُمْ كَمَا نَسُوْا لِقَآءَ یَوْمِهِمْ هٰذَا ۙ— وَمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ ۟الَّذِيۡنَ اتَّخَذُوۡا دِيۡنَهُمۡ لَهۡوًا وَّلَعِبًا وَّغَرَّتۡهُمُ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا‌‌ ۚ فَالۡيَوۡمَ نَنۡسٰٮهُمۡ كَمَا نَسُوۡا لِقَآءَ يَوۡمِهِمۡ هٰذَا ۙ وَمَا كَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يَجۡحَدُوۡنَ‏

جنہوں نے اپنے دین کو تماشا اور کھیل بنا رکھا تھا اور دنیا کی زندگی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا تھا۔ تو جس طرح یہ لوگ اس دن کے آنے کو بھولے ہوئے اور ہماری آیتوں سے منکر ہو رہے تھے۔ اسی طرح آج ہم بھی انہیں بھلا دیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Who took their religion as distraction and amusement and whom the worldly life deluded." So today We will forget them just as they forgot the meeting of this Day of theirs and for having rejected Our verses.

— Saheeh International

Juz 8 · Ruku 6 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:51

جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تفریح بنا لیا تھا اور جنہیں دنیا کی زندگی نے فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اللہ فرماتا ہے کہ آج ہم بھی انہیں اسی طرح بھلا دیں گے جس طرح وہ اِس دن کی ملاقات کو بھولے رہے اور ہماری آیتوں کا انکار کرتے رہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جنہوں نے اپنے دین کو تماشا اور کھیل بنا رکھا تھا اور دنیا کی زندگی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا تھا۔ تو جس طرح یہ لوگ اس دن کے آنے کو بھولے ہوئے اور ہماری آیتوں سے منکر ہو رہے تھے۔ اسی طرح آج ہم بھی انہیں بھلا دیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جنہوں نے دنیا میں اپنے دین کو لہو ولعب بنا رکھا تھا اور جن کو دنیاوی زندگی نے دھوکہ میں ڈال رکھا تھا۔ سو ہم (بھی) آج کے روز ان کا نام بھول جائیں گے جیسا کہ وه اس دن کو بھول گئے اور جیسا یہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنا رکھا تھا، اور جن کو دنیوی زندگی نے دھوکے میں ڈال دیا تھا۔ چنانچہ آج ہم بھی ان کو اسی طرح بھلا دیں گے جیسے وہ اس بات کو بھلائے بیٹھے تھے کہ انہیں اس دن کا سامنا کرنا ہے اور جیسے وہ ہماری آیتوں کا کھلم کھلا انکار کیا کرتے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنایا اور دنیا کی زیست نے انہیں فریب دیا تو آج ہم انہیں چھوڑ دیں گے جیسا انہوں نے اس دن کے ملنے کا خیال چھوڑا تھا اور جیسا ہماری آیتوں سے انکار کرتے تھے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جنہوں نے اپنے دین کو تماشا اور کھیل بنا لیا اور جنہیں دنیوی زندگی نے فریب دے رکھا تھا، آج ہم انہیں اسی طرح بھلا دیں گے جیسے وہ (ہم سے) اپنے اس دن کی ملاقات کو بھولے ہوئے تھے اور جیسے وہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ جنھوں نے اپنے دین کو دل لگی اور کھیل بنا لیا اور انھیں دنیا کی زندگی نے دھوکا دیا تو آج ہم انھیں بھلا دیں گے، جیسے وہ اپنے اس دن کی ملاقات کو بھول گئے اور جیسے وہ ہماری آیات کا انکار کیا کرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنا رکھا تھا اور دنیا کی زندگی نے انہیں دھوکے میں ڈال رکھا تھا۔ لہذا آج ہم انہیں ایسے ہی بھلا دیں گے جیسے انہوں نے اس ملاقات کے دن کو بھلا رکھا تھا اور ہماری آیتوں کا انکار کیا کرتے تھے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان کے لیے جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنایا اور جن کو دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈالے رکھا، پس آج ہم ان کو نظر انداز کریں گے جس طرح انہوں نے اپنے اس دن کی ملاقات کو بھلائے رکھا اور جیسا کہ وہ ہماری آیات کا انکار کرتے رہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جنہوں نے کھیل تماشہ بنا رکھا تھا اپنے دین کو، ان کو دھوکے میں ڈالا ہوا تھا دنیا کی زندگی (اور اس کی چمک دمک) نے، سو آج ہم بھی انہیں (اسی طرح) بھلا دیں گے جس طرح کہ انہوں نے بھلا رکھا تھا اپنے اس دن کی پیشی کو، اور جس طرح وہ ہماری آیتوں کا انکار کیا کرتے تھے،

— مولانا اسحاق مدنی

(وہ کافر) جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنا رکھا تھا اور ان کو دنیا کی زندگی نے دھوکہ میں ڈال رکھا تھا سو آج ہم (بھی) انہیں بھلائے رہیں گے جیسا کہ وہ آج کے دن کا پیش آنا ٹالتے رہے تھے اور جیسا وہ ہماری آیتوں سے انکار کرتے رہے تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(ان کے لیے) جنہوں نے اپنے دین کو تماشا اور کھیل بنا لیا تھا اور انہیں دنیا کی زندگی نے دھوکے میں مبتلا کردیا تھا لہٰذا آج کے دن ہم بھی انہیں نظر انداز کردیں گے جیسا کہ انہوں نے اس دن کی ملاقات کو بھلائے رکھا تھا اور جیسا کہ وہ ہماری آیات کا انکار کرتے رہے تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جنہوں نے اپنے دین کو تماشا اور کھیل بنا رکھا تھا اور دنیا کی زندگی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا تھا تو جس طرح یہ لوگ اس دن کے آنے کو بھولے ہوئے ہماری آیتوں سے منکر ہو رہے تھے، اسی طرح آج ہم بھی انہیں بھلا دیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

who have made their religion a sport and play. and whom the life of the world has beguiled. So on that Day We shall forget them in the manner they forget their meeting of this Day with Us and persist in denying Our revelations.'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

who had taken their faith as play and a game, and the worldly life had deceived them. So, We shall forget them today, as they had forgotten to face this day of theirs, and as they used to deny Our signs.

— Muhammad Taqi Usmani

who had taken their faith as play and a game, and the worldly life had deceived them. So, We shall forget them today, as they had forgotten to face this day of theirs, and as they used to deny Our signs.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Who took their religion as amusement and play, and the life of the world deceived them." So this Day We shall forget them as they forgot their meeting of this Day, and as they used to reject Our Ayat.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Who took their religion for a sport and pastime, and whom the life of the world beguiled. So this day We have forgotten them even as they forgot the meeting of this their Day and as they used to deny Our tokens.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Who took their religion as distraction and amusement and whom the worldly life deluded." So today We will forget them just as they forgot the meeting of this Day of theirs and for having rejected Our verses.

— Saheeh International

On that Day We will neglect those who were deceived by the worldly life and who treated their religion as a useless game, because they had forgotten such a day and rejected Our revelations.

— Muhammad Sarwar

Who take their religion for an idle sport and a play and this life's world deceives them; so today We forsake them, as they neglected the meeting of this day of theirs and as they denied Our communications.

— Muhammad Habib Shakir

Who took their religion as a sport and a play and whom the life of the world beguiled. So today We will forget them even as they forget the meeting of this their Day and as they were ever gainsaying Our signs.

— Abdul Majid Daryabadi

"Such as took their religion to be mere amusement and play, and were deceived by the life of the world." That day shall We forget them as they forgot the meeting of this day of theirs, and as they were wont to reject Our signs.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:51

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 50–51

جیسی کرنی ویسی بھرنی دوزخیوں کی ذلت و خواری اور ان کا بھیک مانگنا اور ڈانٹ دیا جانا بیان ہو رہا ہے کہ وہ جنتیوں سے پانی یا کھانا مانگیں گے۔ اپنے نزدیک کے رشتے کنبے والے جیسے باپ بیٹے بھائی بہن وغیرہ سے کہیں گے کہ ہم جل بھن رہے ہیں، بھوکے پیاسے ہیں، ہمیں ایک گھونٹ پانی یا ایک لقمہ کھانا دے دو۔ وہ بحکم الٰہی انہیں جواب دیں گے کہ یہ سب کچھ کفار پر حرام ہے۔ ابن عباس سے سوال ہوتا ہے کہ کس چیز کا صدقہ افضل ہے ؟ فرمایا حضور کا ارشاد ہے کہ سب سے افضل خیرات پانی ہے۔ دیکھو جہنمی اہل جنت سے اسی کا سوال کریں گے مروی ہے کہ جب ابو طالب موت کی بیماری میں مبتلا ہوا تو قریشیوں نے اس سے کہا کسی کو بھیج کر اپنے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 47–51

سورة الْاَعْرَاف 35 اہل جنت اور اہل دوزخ اور اصحاب الاعراف کی اس گفتگو سے کسی حد تک اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ عالم آخرت میں انسان کی قوتوں کا پیمانہ کس قدر وسیع ہوجائے گا۔ وہاں آنکھوں کی بینائی اتنے بڑے پیمانہ پر ہوگی کہ جنت اور دوزخ اور اعراف کے لوگ جب چاہیں گے ایک دوسرے کو دیکھ سکیں گے۔ وہاں آواز اور سماعت بھی اتنے بڑے پیمانہ پر ہوگی کہ ان مختلف دنیاؤں کے لوگ ایک دوسرے سے بآسانی گفت و شینید کرسکیں گے۔ یہ اور ایسے ہی دوسرے بیانات جو عالم آخرت کے متعلق ہمیں قرآن میں ملتے ہیں۔ اس بات کا تصور دلانے کے لیے کافی ہیں کہ وہاں زندگی کے قوانین ہماری موجودہ دنیا کے قوانین طبیعی سے بالکل مختلف ہوں گے،…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 50–53

خلاصہ تفسیر اور (جس طرح اوپر جنت والوں نے دوزخ والوں سے گفتگو کی اسی طرح) دوزخ والے جنت والوں کو پکاریں گے کہ (ہم مارے بھوک اور پیاس اور گرمی کے بےدم ہوئے جاتے ہیں، خدا کے واسطے) ہمارے اوپر تھوڑا پانی ہی ڈال دو (شاید کچھ تسکین ہوجائے) یا اور ہی کچھ دیدد، جو اللہ تعالیٰ نے تم کو دے رکھا ہے (اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ امید کرکے مانگیں گے، کیونکہ غایت اضطراب میں بعید از توقع باتیں بھی منہ سے نکلا کرتی ہیں) جنت والے (جواب میں) کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے دونوں چیزوں کی (یعنی جنت کے کھانے اور پینے کی) کافروں کے لئے بندش کر رکھی ہے، جنہوں نے دنیا میں اپنے دین کو (جس کا قبول کرنا ان کے ذمہ واجب تھا)…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا دِيْنَهُمْ لَهْوًا وَّلَعِبًا وَّغَرَّتْهُمُ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا ۚ فَالْيَوْمَ نَنْسٰىهُمْ كَمَا نَسُوْا لِقَاۗءَ يَوْمِهِمْ ھٰذَا ۙ وَمَا كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يَجْحَدُوْنَ۔ ایک برمحل تضمین۔ یہ آیت بطور تضمین ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کے جواب حَرَّمَهُمَا عَلَي الْكٰفِرِيْنَ کی وضاحت اپنی طرف سے فرما دی کہ کافرین سے کون لوگ مراد ہیں۔ اس تضمین سے کلام بالکل مطابق حال ہوگیا۔ گویا قریش پر یہ بات واضح کردی گئی کہ وہ یہ نہ سمجھیں کہ یہ صرف دوسروں کی حکایت ہے بلکہ یہ ان کی بھی حکایت ہے۔ اس قسم کی تضمین کی مثال اوپر آیت 45 میں بھی گزر چکی ہے۔ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

51۔ 1 حدیث میں آتا ہے کہ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ اس قسم کے بندے سے پوچھے گا کیا میں نے تمہیں بیوی بچے نہیں دیئے تھے ؟ تمہیں عزت اور اکرام سے نہیں نوازا تھا اور کیا اونٹ اور گھوڑے تیرے تابع نہیں کردیئے تھے ؟ کیا تو سرداری کرتے ہوئے لوگوں سے چونگی وصول نہیں کرتا تھا ؟ وہ کہے گا کیوں نہیں ؟ یا اللہ یہ سب باتیں صحیح ہیں، اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا، کیا تو میری ملاقات کا یقین رکھتا تھا ؟ وہ کہے گا نہیں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا ' پس جس طرح تو مجھے بھولا رہا آج میں بھی تمہیں بھول جاتا ہوں (صحیح مسلم) قرآن کریم کی اس آیت سے معلوم ہوا کہ دین کو لہو و لعب بنانے والے وہی ہوتے ہیں جو دنیا کے فریب میں…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 48–52

26: اس سے اشارہ ان دیوتاؤں کی طرف ہے جن کو انہوں نے خدائی میں اللہ تعالیٰ کا شریک مانا ہوا تھا، نیز ان سرداروں اور پیشواؤں کی طرف جنہیں بڑا مان کر انہوں نے بےسوچے سمجھے ان کی پیروی کی، اور یہ سمجھ بیٹے کہ یہ لوگ انہیں اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچالیں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 51–52

اس طرح اس طویل منظر کی جھلکیاں سامنے آتی ہیں اور چلی جاتی ہیں ۔ ابھی آخرت کی جھلکی ہے اور ساتھ ہی دنیا کی ایک جھلک دکھائی جاتی ہے ۔ ایک لمحہ ہم اس ان لوگوں کے ساتھ ہوتے ہیں جو آگ میں جل رہے ہیں ‘ جن کا خیال تھا کہ وہ اللہ کے حضور پیش نہ ہوں گے اور جنہوں نے آیات الہی کا انکار کردیا تھا حالانکہ ان کے پاس کتاب مفصل آچکی تھی جو بالکل واضح تھی اور اس کی تفصیلات اللہ کے علم پر مبنی تھیں ۔ انہوں نے اسے پس پشت ڈال دیا اور اپنی پسند کے ادہام اور شکوک کو اختیار کرلیا ۔ دوسرے ہی لمحہ ہم دیکھے ہیں کہ یہ یہی لوگ دنیا میں اس کتاب کے انجام کا انتظار کر رہے ہیں اس میں جو ڈراوے درج ہیں ان کے ظہور کے منتظر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 50–51

1 دوزخی بدحواس اور مضطرب ہو کر اہل جنت کے سامنے دست سوال دراز کریں گے کہ ہم جلے جاتے ہیں، تھوڑا سا پانی ہم پر بہاؤ یا جو نعمتیں تم کو خدا نے دے رکھی ہیں کچھ ان سے ہمیں بھی فائدہ پہنچاؤ۔ جواب ملے گا کہ کافروں کے لئے ان چیزوں کی بندش ہے، یہ کافر وہ ہی تو ہیں جو دین کو کھیل تماشہ بناتے تھے اور دنیا کے تُنّعم پر پھولے ہوئے تھے۔ سو جیسا ان کو دنیا کے مزوں میں پڑ کر کبھی آخرت کا خیال نہیں آیا آج ہم بھی ان کا کچھ خیال نہ کریں گے اور جس طرح انہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا تھا آج ہم بھی ان کی درخواست منظور کرنے سے انکار کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 51–52

آیت 51 الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَہُمْ لَہْوًا وَّلَعِبًا وَّغَرَّتْہُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَاج فَالْیَوْمَ نَنْسٰہُمْ کَمَا نَسُوْا لِقَآءَ یَوْمِہِمْ ہٰذَالا نسیان کے ایک معنی تو ہیں بھول جانا ‘ جبکہ اس کے دوسرے معنی ہیں جان بوجھ کر نظر انداز کرنا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

50 کھیل تماشا ہی کو اپنا دین سمجھنے والے :۔ جو انسان روز آخرت پر اور اللہ کے سامنے جواب دہی پر ایمان نہیں رکھتا اس کی زندگی ایمان رکھنے والوں سے یکسر مختلف ہوتی ہے اس کی زندگی کا منتہائے مقصود صرف یہ رہ جاتا ہے کہ دنیا میں جس قدر عیش و عشرت کرسکتا ہے کرلے، جس جائز یا ناجائز طریقے سے مال آتا ہے آئے۔ ان کی نظروں میں یہ دنیا بس ایک تفریح گاہ رہ جاتی ہے جس میں ہر شخص کو اپنی حیثیت کے مطابق عیش و عشرت اور سیر و تفریح کر کے اس دنیا سے رخصت ہونا چاہیے۔ قیامت کے دن ایسے لوگوں سے سلوک بھی ان کے نظریہ کے مطابق کیا جائے گا۔ انہوں نے روز آخرت کو اور اللہ کے سامنے جوابدہی کو بھلایا تو اللہ بھی انہیں ایسے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

71 ۔ جحد کے معنی اوپر بیان ہوچکے ہیں کہ مطلق انکار یا کسی غلط فہمی کی بناء پر انکار کے نہیں بلکہ دل سے حق کے قائل ہو کر بھی ہٹ دھرمی اور ڈھٹائی سے انکار کیے چلے جانے کے ہیں۔ الجحود نفی مافی القلب اثباتہ و اثبات ما فی القلب نفیہ (راغب) (آیت) ” ماکانوا “۔ میں ما مصدری ہے یعنی جیسا کہ انہوں نے بھلادیا تھا۔ مامصدریۃ ای کنسیھم (قرطبی) (آیت) ” دینھم “۔ سے مراد مفسرین نے لی ہے وہ دین جس کا قبول کرنا ان لوگوں پر واجب تھا۔ الذی امر ھم اللہ تعالیٰ بہ (روح) لیکن دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ خود وہی دین جسے وہ اختیار کیے ہوئے تھے اسی کو انہوں نے بچائے زاد آخرت بنانے کے محض ایک کھیل، تماشہ یا سوانگ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–52

الذین اتخذوا۔۔۔۔۔ ولعبا الخ اہل جنت اور اہل دوزخ اور اصحاب اعراف کی اس گفتگو سے کسی حد تک اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ عالم آخرت میں انسانی قوتوں کا پیمانہ کس قدر وسیع ہوجائیگا وہاں آنکھوں کی بینائی اتنے بڑے پیمانے پر ہوگی کہ دوزخ و جنت اور اعراف کے لوگ جب چاہیں گے ایک دوسرے کو دیکھ سکیں گے، اور وہاں آواز اور سماعت بھی اس قدر بڑھ جائے گی کہ مختلف دنیاؤں کے لوگ بآسانی گفت و شنید کرسکیں گے، یہ اور ایسے ہی بیانات جو ہمیں قرآن میں ملتے ہیں اس بات کا تصور دلانے کیلئے کافی ہیں کہ وہاں زندگی کے قوانین ہماری موجودہ دنیا کے قوانین طبعی سے بالکل مختلف ہوں گے، اگرچہ ہماری شخصیتیں یہی رہیں گئ، جن لوگوں کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الذین اتخذوا دینہم لہوا ولعبا وغرتہم الحیوۃ الدنیا جنہوں نے اپنے دین کو کھیل کود بنا رکھا تھا اور دنیوی زندگی نے ان کو فریب دے رکھا تھا۔ بیضاوی نے لکھا ہے حرم سے مراد یہ ہے کہ یہ دونوں چیزیں اللہ نے کافروں سے روک دی ہیں (ممانعت فرما دی ہے) جیسے مکلف کو حرام چیز کی ممانعت کردی جاتی ہے۔ صاحب مدارک نے لکھا ہے یہاں تحریم بمعنی منع ہے جیسے وحرمنا علیہ المراضع میں حَرَّمْنَا کا معنی ہے مَنَعْنَا میں کہتا ہوں آیت حرام علی قریۃ اہلکناہا انہم لا یرجعون میں بھی حرام کا معنی منع ہی ہے۔ ابن ابی الدنیا اور رضیا نے زید بن رفیع کا بیان نقل کیا ہے کہ دوزخی دوزخ میں داخل ہو کر مدت تک آنسوؤں سے روئیں گے پھر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 50–51

(50۔ 51) پھر اللہ تعالیٰ اصحاب اعراف سے فرمائے گا، جنت میں داخل ہوجاؤ آج عذاب کا تم پر کوئی خوف نہیں اور دوزخی جنتیوں سے کہیں گے کہ ہم پر کچھ پانی ڈالو اور کچھ جنت کے میوے دے دو ، اہل جنت کہیں گے کہ جنت کے میوے ایسے لوگوں پر، جنہوں نے دین کو مذاق بنا لیا تھا حرام کردیے گئے ہیں۔ (یعنی اللہ تعالیٰ نے حرام کردیئے ہیں) اور جو دنیاوی فراخیوں میں مست تھے، قیامت کے دن ہم ایسے لوگوں کو دوزخ میں اسی طرح چھوڑتے ہیں، جیسا کہ انہوں نے اس دن کے اقرار کو چھوڑ دیا تھا اور وہ ہمارے رسولوں کی تکذیب کیا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَالْيَوْمَ نَنْسٰىهُمْ۔۔ : آیت کے شروع میں کافروں کی علامات بیان کی گئی ہیں جنھوں نے اپنے دین کو دل لگی اور کھیل بنا لیا اور انھیں دنیوی زندگی کی فراوانی اور خوشحالی نے آخرت کے بارے میں دھوکے میں رکھا اور انھوں نے آخرت کو بھلا دیا اور اسی نسیان کے نتیجے میں انھیں نظر انداز کردیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بندے سے ملے گا اور فرمائے گا : ”اے فلاں ! کیا میں نے یہ نہیں کیا کہ تجھے عزت بخشی ؟ تجھے سردار بنایا ؟ تیری شادی کی ؟ تیرے لیے گھوڑے اور اونٹ تابع کردیے اور تجھے کھلا چھوڑ دیا کہ لوگوں کا سردار بنے اور ان کی آمدنی کا چوتھا حصہ ٹیکس لے ؟“ وہ کہے گا : ”کیوں نہیں، اے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 51 اس میں الذین کافرین کی صفت ہونے کی وجہ سے محل جر میں ہے۔ اور اضمار کے سبب محل رفع اور محل نصب میں بھی ہو سکتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ اہل جنت کے قول میں سے ہے : آیت : فالیوم ننسٰھم یعنی آج ہم انہیں جہنم میں چھوڑ دیں گے۔ آیت : کما نسوا لقاء یومھم ھذا یعنی جیسے انہوں نے ( اس دن کی ملاقات کے مطابق) عمل ترک کردیا تھا اور اسے جھٹلادیا تھا۔ اور اس میں ما مصدر یہ ہے یعنی ان کے بھلا دینے کی طرح۔ آیت : وما کانوا بایتنا یجحدون یہ اس پر معطوف ہے، یعنی وجحدھ ان کے ہماری آیتوں کا انکار کرنے کی طرح ( آج ہم بھی انہیں فراموش کردیں گے)

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 51–52

(1) امام ابن منذر، ابن ا بی حاتم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” قالیوم ننسھم کما نسوا لقاء یومھم ھذا “ کے بارے میں فرمایا کہ ہم ان کو چھوڑ دیں گے آگ میں ڈال کر جیسے کہ انہوں نے اس دن کی ملاقات کو بھلا دیا تھا۔ (2) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان کو خیر اور بھلائی سے بھول جائیں گے اور شریعی تکلیف اور عذاب سے نہیں بھولیں گے۔ (3) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” فالیوم ننسھم “ کے بارے میں فرمایا کہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جنہوں نے ] اتَّخَذُوْا [ بنایا ] دِيْنَهُمْ [ اپنے دین کو ] لَهْوًا [ تماشہ ] وَّلَعِبًا [ اور کھیل ] وَّغَرَّتْهُمُ [ اور دھوکہ دیا ان کو ] الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا ۚ [ دنیوی زندگی نے ] فَالْيَوْمَ [ تو آج ] نَنْسٰىهُمْ [ ہم بھول جائیں گے ان کو ] كَمَا [ جیسے کہ ] نَسُوْا [ وہ بھولے ] لِقَاۗءَ يَوْمِهِمْ ھٰذَا ۙ [ اپنے اس دن کی ملاقات کو ] وَمَا [ اور جو ] كَانُوْا [ وہ لوگ ] بِاٰيٰتِنَا [ ہماری نشانیوں کو ] يَجْحَدُوْنَ [ جانتے بوجھتے انکار کرتے تھے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

کافروں نے اپنے دین کو (جو اللہ نے ان کے لیے بھیجا تھا) لہو و لعب کھیل تماشا بنا دیا تھا اس کو قبول نہیں کرتے تھے اور الٹا اس کا مذاق بناتے تھے۔ دنیاوی زندگی نے ان کو دھوکے میں ڈالا اسی کے لیے عمل کرتے رہے اور سب کچھ اسی کو سمجھتے رہے آخرت کے لیے فکر مند نہ ہوئے اور جس دین کے ذریعے آخرت میں نجات ہوتی اسے قبول کرنے سے دور رہے۔ (فَالْیَوْمَ نَنْسٰھُمْ کَمَا نَسُوْا لِقَآءَ یَوْمِھِمْ ھٰذَا) (اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا کہ آج ہم بھی انہیں بھلا دیں گے) یعنی ان کے ساتھ ایسا برتاؤ کریں گے جو ایسے لوگوں کے ساتھ کیا جاتا ہے جن کی طرف رحمت کے ساتھ بالکل توجہ نہ کی جائے اور جنہیں ان کے اپنے حال پر چھوڑ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 44–53

اہل جنت اور اہل دوزخ اور اہل اعراف کی باہمی گفتگو کا ذکر قال اللہ تعالیٰ ونادی اصحب الجنۃ اصحب النار۔۔۔ الی۔۔۔ وضل عنھم ما کانوا یفترون، (ربط) گزشتہ آیات میں اہل جنت اور اہل نار کی جزاء وسزا کا بیان تھا اب ان آیات میں ان مخاطبات اور مکالمات کا ذکر ہے جو دخول جنت و جہنم کے بعد جنتیوں اور دوزخیوں کے مابین ہوں گے اور ان کے ساتھ اہل اعراف کا بھی ذکر فرمایا جن کی حالت ابتدا میں بین بین ہوگی اور بعد میں ان کو جنت میں داخل ہونے کا حکم ہوجائے گا اور اس تمام تذکرہ سے مقصود یہ بتلانا ہے کہ اس روز اہل ایمان کو سعادت کاملہ حاصل ہوگی اور اسلام کے دشمنوں کو انتہائی رنج وغم اور انتہائی حسرت پیش آئے گی جس کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

57: جنہوں نے دین کو ایک کھیل سمجھ رکھا ہے جس چیز کو چاہا حلال کرلیا اور جس کو چاہا حرام کرلیا فحرموا واحلوا ما شاء وا (مدارک ج 2 ص 42) فحرموا ما شاء وا واستحلوا ماشاء وا (روح المعانی) یا اس سے وہ بےاصل اور لا یعنی امور مراد ہیں جن کو انہوں نے دین سمجھ رکھا تھا مثلاً بیت اللہ کے پاس تالیاں اور سیٹیاں بجانا۔ ھو ما زین لھم الشیطان من تحریم البحائر والسوائب والمکاء والتصدیۃ حول البیت وسائر الخصال الذمیمۃ التی کانوا یفعلونھا فی زمان الجاھلیۃ (خازن ج 2 ص 194) آج کل قوالی کے نام سے سارنگی ڈھولک اور دیگر مزامیر کا استمعال بھی لہو و لعب میں داخل ہے جسے آجکل کے دین و شریعت سے بےبہرہ اور روحانیت سے کورے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 48–51

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کی کامیابی کا ذکر کیا ان کا جنت کی نعمتوں سے متمع ہونا اور خدا کی مہربانی کے مقام میں داخل ہونے کا باین ہوا پھر اللہ نے جنت اور دوزخ والوں کے مکالمے کا ذکر کیا کہ جنت والے دوزخیوں سے کہیں گے کہ اللہ نے جو وعدہ ہم سے کیا تھا ہم نے تو اس کو برحق پایا اب بتائو تمہارے ساتھ اللہ نے جو وعدہ کیا تھا کہ تمہیں دوزخ میں داخل کرے گا کیا تم نے بھی اس وعدے کو سچا پایا دوزخ والے کہیں گے کہ ہاں ہم نے اپنے رب کے وعدے کو سچا پایا پھر درمیان میں ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا کہ خدا تعالیٰ کی لعنت اور پھٹکار ہو ظلم کرنے والوں پر وہ جو اللہ کے راستے سے روکتے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَقَدْ جِئْنٰہُمْ بِكِتٰبٍ فَصَّلْنٰہُ عَلٰي عِلْمٍ ہُدًى وَّرَحْمَۃً لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ۝ 52 جاء جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، ( ج ی ء ) جاء ( ض ) جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ اتیان کا لفط خاص کر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 50–51

ارشاد ہوتا ہے : وَ نَادٰٓی اَصْحٰبُ النَّارِ اَصْحٰبَ الْجَنَّۃِ اَنْ اَفِیْضُوْا عَلَیْنَا مِنَ الْمَآئِ اَوْ مِمَّا رَزَقَکُمْ اللہ ُ ط قَالُوْٓا اِنَّ اللہ َ حَرَّمَھُمَا عَلَی الْکٰفِرِیْنَ ۔ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَھُمْ لَھْوًا وَّ لَعِبًا وَّ غَرَّتْھُمْ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا ج فَالْیَوْمَ نَنْسٰھُمْ کَمَا نَسُوْا لِقآئَ یَوْمِھِمْ ھٰذَا لا وَمَا کَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ ۔ (الاعراف : 50، 51) ” اور دوزخ والے جنت والوں کو آواز دیں گے کہ پانی یا ان چیزوں میں سے جو اللہ نے تمہیں بخش رکھی ہیں کچھ ہم پر بھی کرم فرمائو وہ جواب دیں گے کہ اللہ نے یہ دونوں چیزیں کافروں کے لیے حرام…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 51–52

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کا جہنم میں جانا اور ان پر جنت کی نعمتوں کا حرام ہونا اس لیے ہوگا کہ یہ دین کو کھیل تماشا سمجھتے ہوئے دنیا کی عیش و عشرت میں غرق ہو کر آخرت کو بھول چکے تھے۔ کھیل تماشا وقتی طور پر دل بہلانے اور ایک حد تک صحت کے لیے مفید ہوتا ہے بشرطیکہ اس میں وقت اور دولت کا ضیاع اور بےحیائی کا عنصر شامل نہ ہو۔ اگر یہ چیزیں کسی کھیل اور گیم میں شامل ہوجائیں تو فائدہ کے بجائے صحت اور وقت کا نقصان ہوتا ہے۔ پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ کھیل کود انسان پوری زندگی اختیار نہیں کرسکتا کیونکہ کھیلنے کودنے سے آدمی کا پیٹ نہیں بھرتا اور نہ ہی زندگی بھر کوئی شخص اسے اختیار کرسکتا ہے۔ یہاں کھیل…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

بڑے اسباب دوزخ ‘ دین کا مذاق اڑانا اور طول بقاء کا دھوکا : آیت 51: اَلَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَہُمْ لَھْوًا وَّلَعِبًا (جنہوں نے دنیا میں اپنے دین کو لہو ولعب بنا رکھا تھا) پس انہوں نے جو چاہا حرام و حلال کیا یا ان کا دین ان کی عید تھی۔ وَّغَرَّتْھُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا (اور جن کو دنیوی زندگی نے دھوکہ میں ڈال رکھا تھا) وہ طول بقاء سے دھوکہ میں رہے۔ فَالْیَوْمَ نَنْسٰھُمْ (پس ہم بھی آج کے روز ان کا نام نہ لیں گے) ہم ان کو عذاب میں چھوڑیں گے۔ کَمَا نَسُوْا لِقَآ ئَ یَوْمِھِمْ ھٰذَا وَمَا کَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ (جیسا انہوں نے اس دن کا نام نہ لیا اور جیسا ہی ہماری آیات کا انکار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(الذین اتخذوا دینھم لھوا ولعباو عزتھم الحیوۃ الدنیا) جو شیطان نے ان کے لئے مزین کیا بحریہ وغیرہ کا حرام کرنا اور بیت اللہ کے اردگرد سیٹیاں اور تالیاں بجانا اور وہ تمام برے افعال جو وہ جاہلیت میں کرتے تھے اور بعض نے کہا ہے ”’ ینھم “ یعنی اپنی عید کو۔ اور دھوکے میں ڈالا ان کو دنیا کی زندگانی نے سو آج ہم ان کو بھلا دیں گے) آگ میں چھوڑ دیں گے (فالیوم اننھم، کما نسوا لقآء یومھم ھذا) یعنی جیسے انہوں نے اس دن کی ملاقات کے لئے عمل چھوڑ دیا (وما کانوا بایتنا یجحلون) ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 50–51

(50 ۔ 51) ۔ دوزخ والے جنت والے سے بھیک کی طرح جنت کی نعمتیں مانگے گیں تو جنتی صاف جواب دیں گے کہ جنت کے یہ دونوں چیزیں خدا تعالیٰ نے تمہارے اوپر حرام کردی ہیں اس لئے تم کو کوئی چیز نہیں مل سکتی تفسیر ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے کسی نے دریافت کیا کہ بہتر صدقہ کونسا ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے جواب دیا پیغمبر ﷺ نے فرمایا ہے کہ بہتر صدقہ پانی ہے کہا پھر تجھ کو معلوم نہیں کہ دوزخی لوگ بہشتیوں سے فریاد کر کے کہیں گے کہ تھوڑا پانی اور تم کو جو اللہ نے رزق دیا ہے اس میں سے کچھ ہم کو بھی دے دو حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اس آیت میں طعام و شراب سے جنت کا کھانا پینا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 46–52

آیت 46 یعنی اہل جنت اور اہل جہنم کے درمیان ایک حجاب ہوگا جسے ” مقام اعراف “ کہا جائے گا۔ یہ مقام جنت میں شامل ہوگا نہ جہنم میں۔ اس مقام سے جنت اور جہنم دونوں میں جھانکا جاسکے گا اور جنتیوں اور جہنمیوں کے احوال کو دیکھا جاسکے گا۔ اس مقام اعراف میں کچھ لوگ ہوں گے جو اہل جنت اور اہل جہنم کو ان کی ان علامات کے ذریعے سے پہچانتے ہوں گے جو ان کی امتیازی علامات ہیں۔ جب وہ اہل جنت کی طرف دیکھیں گے تو پکار کر کہیں گے (ان سلم علیکم) ” سلامتی ہے تم پر “ یعنی وہ ان پر سلام کہیں گے۔ وہ ابھی تک جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے البتہ وہ جنت میں داخلے کے امیدوار ہوں گے اور اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں امید تب ہی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 33–54

فواحش سے مراد قول باری ہے قل انما حرم ربی الفواحش ماظھرمنھا وما بطن ولاثم والبغی بغیر الحق۔ اے محمد ﷺ ، ان سے کہو کہ میرے رب نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ تو یہ ہیں، بےشرمی کے کام خواہ کھلے ہوں یا چھپے اور گناہ اور حق کے خلاف زیادتی) مجاہد کا قول ہے کہ فواحش سے زنا مراد ہے یہ سری خواحش ہے اور برہنہ حالت میں طواف کرنا جہری فواحش ہے۔ ایک قول ہے کہ بےشرمی کے تمام کام فواحش ہیں۔ شروع میں اجمالاً ان کا ذکر کیا پھر ان کی مختلف صورتوں کی تفصیل بیان کردی اور یہ فرمایا کہ گناہ حق کے خلاف زیادتی اور اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہرانا فواحش کی صورتیں ہیں۔ یعنی لوگوں پر ناحق اور بزور قوت غلبہ جمانے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

69 دنیاوی زندگی اور اس کا دھوکہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو دھوکے میں ڈال رکھا تھا دنیا کی زندگی اور اس کی چمک دمک نے کہ بس یہی دنیا سب کچھ ہے۔ جس نے یہاں مزے کر لئے اس نے سب کچھ پا لیا ورنہ کچھ نہیں وغیرہ وغیرہ۔ اور دنیاوی زندگی کی چہل پہل اور اسکی چمک دمک ہی سب کچھ ہے۔ اس لیے اسی کو انہوں نے اپنی زندگی کا مقصد اور نصب العین بنادیا اور وہ اسی کیلئے جینے اور اسی کیلئے مرنے لگے۔ جبکہ دنیاوی زندگی اصل میں آخرت کی کھیتی ہے۔ سو دنیاوی زندگی کی ریل پیل، چہل پہل، اور اس کی فانی لذتوں اور عیش پرستیوں نے ان کو آخرت کی حقیقی اور ابدی زندگی اور اس کے تقاضوں سے غافل کر رکھا تھا۔ اور انہوں نے یہ سمجھ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 44–53

اہل جنت اور اہل جہنم کا مکالمہ اور اصحاب اعراف کا تذکرہ تشریح : آیات 44 تا 53 میں جو کچھ بتایا گیا ہے انتہائی عبرت دلانے والا اور خوش کرنے والا ہے۔ کیونکہ اللہ رب العزت نے اہل جنت اور اہل جہنم کی آپس میں گفتگو نیز اصحاب اعراف کا ایسا نقشہ کھینچا ہے لگتا ہے سب کچھ سامنے ہو رہا ہے۔ یہ سب راز کی باتیں ہیں انسان کی نظر سے پوشیدہ اور تصور سے باہر۔ مگر اللہ سبحانہ تعالیٰ کیونکہ اپنے بندوں پر حد سے زیادہ مہربان ہے اور رحیم و کریم ہے اس لیے لوگوں کو دنیا کی مصیبتوں اور آخرت کے عذاب سے بچانے کے لیے رسول بھیجے، پھر آخری رسول محمد ﷺ پر قرآن مجید نازل فرما کر لوگوں کو خبردار کرنے کے لیے بھیجا۔ مگر کفار و…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 48–53

رکوع نمبر 6 ۔ آیات 48 ۔ تا۔ 53 اسرار و معارف : جہنم میں پڑے ہوئے بعض لوگوں کو تو ان کی شکلوں تک سے پہچانتے ہوں گے اور دنیا میں ان کے کردار سے واقف ہوں گے جب وہ محض مال و دولت یا اختیار و اقتدار پر نازاں عظمت الہی اور دار آخرت کو بھولے ہوئے تھے نہ صرف یہ بلکہ نیک لوگوں پہ پھبتیاں کہتے تھے کہ انہیں دیکھ ویہ آخرت کے انعامات کی امید میں یہاں عبادات کی مصیبت میں پڑے ہیں اور فقر و فاقہ میں بھی شکر ادا کرتے ہیں دولت و مال مل جائے تو بھی عیش ان کے نصیب میں نہیں بھلا آخرت میں انہیں خاک آرام نصیب ہوگا دنیا والوں کے ساتھ تو یہ چل نہیں سکتے اور چلے ہیں آخرت کو پانے ۔ اہل اعراف ان کی یہ باتیں انہیں یاد…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 یعنی وہ اسی کو سب کچھ سمجھے بیٹھے تھے خدا اور آخرت سے غافل تھے۔2 یہاں نیسان بمعنی ترک ہے یعنی دوزخ میں ڈال کر ان کی کوئی خبر نہ لیں گے یا یہاں جزائے ئ نسیان کو نسیان سے تعبیر فرمایا ہے یعنی آخرت خواہ کتنا ہی پکاریں ان پر کبھی رحم نہیں کیا جائئے گا۔3 یعنی دین کی عظمت احساس ان کے دلوں سے نکل چکا ہے اور دنیاوی زندگی نے ان کو غرور میں مبتلا کر رکھا ہے اس بنا پر وہ آیات الیٰ کا شدت سے انکار کر رہے ہیں حدیث میں ہے حب الدنیا راو کل خطیئتہ کہ دنیا کی محبت ہر خطا کی جڑ ہے ( رازی )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(7:51) الذین ۔۔ یہ نیا جملہ ہے اور یہاں سے کلام اللہ کی طرف سے ہے۔ اصحاب النار کی التجا اور اہل جنت کا جواب علی الکافرین پر ختم ہوگیا۔ الذین بمعنی جن لوگوں ۔ ما کانوا یجحدون۔ ما بمعنی کما۔ کانوا یجحدون۔ ماضی استمراری۔ وہ انکار کیا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 50–53

لغات القرآن آیت نمبر (50 تا 53 ) ۔ افیضوا (بہائو ) ۔ الماء (پانی ) ۔ حرم (حرام کردیا۔ روک دیا ) ۔ غرت (دھوکے میں ڈال دیا) ۔ ننسی (ہم نے بھلا دیا ) ۔ یجحدون (وہ انکار کرتے ہیں ) ۔ فصلنا (ہم نے تفصیل بتا دی ) ۔ تاویل (انجام ۔ پھیرنا ) ۔ شفعاء (شفیع) ۔ سفارشی) ۔ نرد (ہم لوٹائے جائیں) ۔ نعمل (ہم کام کریں گے ) ۔ تشریح : آیت نمبر (50 تا 53 ) ۔” جس طرح جنت والوں نے جہنم والوں سے کلام کیا تھا۔ اسی طرح اب جہنم والے اہل جنت سے اپنی شدید پیاس اور تڑپادینے والی بھوک کا حوالہ دے کر رحم و کرم کی بھیک مانگیں گے۔ کفار مکہ جنت ، جہنم، قیامت کے دن اور اللہ کے انصاف کو اہمیت نہیں دیتے تھے وہ دنیا کے رزق اقتدار…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 51–52

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ مفصل اور مشرح کتاب ان کے پاس بھیج دی تاکہ ان مشرک اور کافروں کو کوئی عذر کرنے کا موقع نہ رہے، اور ایمان والوں کے لئے یہ کتاب سراسر ہدایت اور رحمت ہوجائے۔ اس کتاب میں جو وعدہ عذاب ہے، کیا منکر اس کے آنے کی راہ دیکھ رہے ہیں تو قیامت کے روز کافر چاہیں گے کہ کوئی ہماری سفارش کرے یا دنیا میں پھرجانا ہم کو نصیب ہو تو اچھے کام کریں۔ غرضیکہ اس دن اپنا نقصان ان کو معلوم ہوگا اور سب جھوٹ ان کا جو دنیا میں بناتے تھے بیکار ہوجائے گا۔ عقبیٰ کے عذاب کے وقت یہ نافرمان لوگ اپنی نافرمانی پر بہت پچھتاویں گے، اور عذاب الٰہی سے بچانے والا کوئی سفارشی ڈھونڈیں گے مگر سزا…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 49–52

(ف 1) (آیت) ” ادخلوا الجنۃ “۔ سے پہلے محذوف ہے عبارت سے سمجھ میں آجاتا ہے کہا گیا ہے کہ جنت میں داخل ہوجاؤ ، ” فالیوم ننسھم “۔ سے مراد یہ نہیں کہ اللہ ان کو بھول جائے گا کیونکہ وہ نسیان وسہو سے بلند ہے ، مقصد یہ ہے کہ ان سے بالکل اس قسم کا سلوک روا رکھا جائے گا کہ گویا ہم بھول گئے ہیں ۔ حل لغات : حرمھما : تحریم سے مراد ممانعت ہے یعنی اللہ نے روک رکھا ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

5 1 یہ منکر وہ ہیں جنہوں نے اپنے دین کو تماشا اور کھیل بنارکھا تھا کھیل کود کا نام انہوں نے دین رکھ لیا تھا اور دنیوی زندگی نے ان کو دھوکے اور فریب میں ڈال رکھا تھا اللہ تعالیٰ اہل جنت کی تصدیق فرمائے گا کہ جس طرح ان منکروں نے اپنے اس دن کے ملنے اور آنے کو فراموش کر رکھا تھا اور قیامت کا نام سننا ان کو گوارہ نہ تھا اور جیسا کہ یہ ہماری آیات اور دلائل توحید کا انکار کرتے تھے اسی لئے ہم بھی ان سے آج ایسا برتائو کریں گے جیسے فراموش کردہ اور بھولے ہوئے لوگوں کے ساتھ کیا جاتا ہے یعنی جس طرح ان منکروں نے اپنے اس دن کی ملاقات کو بھلارکھا تھا اور اس دن کا نام بھی سننا نہیں چاہتے تھے یہی برتائو تو ان…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ اوپر تفصیل جزاوسزا کی بیان کی گئی ہے آگے یہ فرماتے ہیں کہ اس واشگاف بیان کا اور نیز دیگر مضامین قرآنیہ کا مقتضایہ ہے کہ کفر و مخالفت سے باز آجائیں چناچہ اہل ایمان اس سعادت سے مشرف ہوتے بھی ہیں لیکن کفار و معاندین کی اس درجہ قساوت بڑھی ہے کہ قبل وقوع سزا کے نہ مانیں گے لیکن اس وقوت ماننا کام نہ آئے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

دنیا کی زندگی پر ریجھ جانے والوں کو اس دن بھلا دیا جائے گا : 62: دنیا میں ان کو موقع دیا گیا تھا لیکن اس کو انہوں نے بھلا دیا اور اپنے دین کو دین نہیں بلکہ کھیل وتماشا بنا رکھا تھا اور دنیا کی زندگی نے انہیں ایسا دھوکے میں ڈالا کہ ان کو آخرت کبھی بھول کر بھی یاد نہ آئی۔ بھلا دینے کے یہاں کیا معنی ہیں ؟ امام رازی (رح) فرماتے ہیں ایک معنی یہ ہیں کہ ہم انہیں چھوڑ دیں گے اور ان کو نجات نہیں دیں گے دوسرے یہ کہ ہم ان سے ایسا برتائو کریں گے جیسے ہم نے ان کو فراموش کردیا ہے۔ گویا انہوں نے ہمارے پیغام کو چھوڑا اور ہم نے ان کا دھیان چھوڑا کیوں ؟ اس لئے کہ وہ ہماری آیتوں سے جان بوجھ کر انکار کرتے تھے۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 49–53

Said in the sixth verse (49) is: أَهَـٰؤُلَاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ اللَّـهُ بِرَ‌حْمَةٍ ۚ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلَا أَنتُمْ تَحْزَنُونَ ﴿49﴾ (Is it these for whom you swore that Allah would not reach them with mercy?" - "Enter the Paradise; there is no fear on you, nor shall you grieve). Explaining this, Sayyidna ` Abdullah ibn ` Abbas ؓ says: When the questions and answers between the people of A` raf and the people of Paradise and Hell both will be over, that will be the time when the Lord of all the worlds will address the people of Hell and tell…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 47–51

35. The trialogue between the People of Paradise, the People of the Fire. and the People of the Heights gives some indication of the tremendous range of human faculties in the Next World. These faculties would increase to such an extent that the People of Paradise, the People of the Fire and the People of the Heights will be able to see, hear and talk to one another. Other Qur'anic statements about the Hereafter enable us to realize that the laws operating in the Next World will be altogether different from those in the present. Notwithstanding this, men's personalities will not undergo any…

Read the full tafseer →