Al-A'raaf 7:50

Al-A'raaf · from ayah 50

7:50

وَنَادٰۤی اَصْحٰبُ النَّارِ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ اَفِیْضُوْا عَلَیْنَا مِنَ الْمَآءِ اَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ ؕ— قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَی الْكٰفِرِیْنَ ۟ۙوَنَادٰٓى اَصۡحٰبُ النَّارِ اَصۡحٰبَ الۡجَـنَّةِ اَنۡ اَفِيۡضُوۡا عَلَيۡنَا مِنَ الۡمَآءِ اَوۡ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ ‌ؕ قَالُـوۡۤا اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الۡـكٰفِرِيۡنَ

اور وہ دوزخی بہشتیوں سے (گڑگڑا کر) کہیں گے کہ کسی قدر ہم پر پانی بہاؤ یا جو رزق خدا نے تمہیں عنایت فرمایا ہے ان میں سے (کچھ ہمیں بھی دو) وہ جواب دیں گے کہ خدا نے بہشت کا پانی اور رزق کافروں پر حرام کر دیا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And the companions of the Fire will call to the companions of Paradise, "Pour upon us some water or from whatever Allah has provided you." They will say, "Indeed, Allah has forbidden them both to the disbelievers."

— Saheeh International

Juz 8 · Ruku 6 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:50

اور دوزخ کے لوگ جنت والوں کو پکاریں گے کہ کچھ تھوڑا سا پانی ہم پر ڈال دو یا جو رزق اللہ نے تمہیں دیا ہے اُسی میں سے کچھ پھینک دو وہ جواب دیں گے کہ "اللہ نے یہ دونوں چیزیں اُن منکرین حق پر حرام کر دی ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور وہ دوزخی بہشتیوں سے (گڑگڑا کر) کہیں گے کہ کسی قدر ہم پر پانی بہاؤ یا جو رزق خدا نے تمہیں عنایت فرمایا ہے ان میں سے (کچھ ہمیں بھی دو) وہ جواب دیں گے کہ خدا نے بہشت کا پانی اور رزق کافروں پر حرام کر دیا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور دوزخ والے جنت والوں کو پکاریں گے، کہ ہمارےاوپر تھوڑا پانی ہی ڈال دو یا اور ہی کچھ دے دو، جو اللہ نے تم کو دے رکھا ہے۔ جنت والے کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے دونوں چیزوں کی کافروں کے لئے بندش کردی ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور دوزخ والے جنت والوں سے کہیں گے کہ : ہم پر تھوڑا سا پانی ہی ڈال دو ، یا اللہ نے تمہیں جو نعمتیں دی ہیں، ان کا کوئی حصہ (ہم تک بھی پہنچا دو) وہ جواب دیں گے کہ : اللہ نے یہ دونوں چیزیں ان کافروں پر حرام کردی ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور دوزخی بہشتیوں کو پکاریں گے کہ ہمیں اپنے پانی کا فیض دو یا اس کھانے کا جو اللہ نے تمہیں دیا کہیں گے بیشک اللہ نے ان دونوں کو کافروں پر حرام کیا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور دوزخ والے اہلِ جنت کو پکار کر کہیں گے کہ ہمیں (جنّتی) پانی سے کچھ فیض یاب کر دو یا اس (رزق) میں سے جو اﷲ نے تمہیں بخشا ہے۔ وہ کہیں گے: بیشک اﷲ نے یہ دونوں (نعمتیں) کافروں پر حرام کر دی ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور آگ والے جنت والوں کو آواز دیں گے کہ ہم پر کچھ پانی بہا دو ، یا اس میں سے کچھ جو اللہ نے تمہیں رزق دیا ہے۔ وہ کہیں گے بیشک اللہ نے یہ دونوں چیزیں کافروں پر حرام کردی ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور دوزخی اہل جنت کو آواز دیں گے کہ : ہم پر بھی کچھ پانی انڈیل دو یا اللہ نے جو کچھ تمہیں کھانے کو دیا ہے اس میں سے کچھ گرا دو اہل جنت جواب دیں گے کہ : اللہ تعالیٰ نے یہ دونوں چیزیں کافروں پر حرام کردی ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور دوزخ والے جنت والوں کو آواز دیں گے کہ پانی یا ان چیزوں میں سے، جو اللہ نے تمہیں بخش رکھی ہیں، کچھ ہم پر بھی کرم فرماؤ، وہ جواب دیں گے کہ اللہ نے یہ دونوں چیزیں کافروں کے لیے حرام کر رکھی ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور دوزخ والے (بھوک، پیاس اور گرمی، سے بدحواس ہو کر) جنت والوں کو پکار کر کہیں گے، کہ کچھ تھوڑا سا پانی ہم پر بھی ڈال دو ، یا اس رزق میں سے ہی کچھ ہماری طرف پھینک دو ، جو اللہ نے تمہیں بخشا ہے، وہ جواب دیں گے کہ اللہ نے ان دونوں چیزوں کو حرام فرما دیا ہے کافروں پر

— مولانا اسحاق مدنی

اور دوزخ والے پکاریں گے جنت والوں کو کہ ہمارے اوپر کرم کرو کچھ پانی ہی سے یا اس سے جو تمہیں اللہ نے کھانے کو دے رکھا ہے وہ کہیں گے کہ اللہ نے تو ان دونوں چیزوں کو کافروں پر حرام کر رکھا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جہنم والے آواز دیں گے جنت والوں کو کہ کچھ تو بہا دو ہماری طرف پانی میں سے یا اس رزق میں سے (کچھ دے دو) جو اللہ نے تمہیں دے رکھا ہے وہ کہیں گے کہ اللہ نے حرام کردی ہیں یہ دونوں چیزیں (جنت کا پانی اور رزق) کافروں پر۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور وہ دوزخی جنتیوں سے گڑگڑا کر کہیں گے کہ تھوڑا سا پانی ہماری طرف بہا دو یا وہ رزق جو اللہ نے تمہیں دیا ہے ہمیں بھی اس میں سے دے دو۔ وہ جواب دیں گے کہ ”اللہ نے جنت کا رزق اور پانی کافروں پر حرام کردیا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And the people of the Fire will cry out to the people of Paradise: 'Pour out some water on us or throw at us something of what Allah has bestowed upon you.' They will reply: 'Allah has forbidden them to the deniers of the truth,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

The people of the Fire will call out to the people of Paradise, :Pour on us some water, or some of what Allah has provided you. They will say, :Allah has prohibited these for disbelievers,

— Muhammad Taqi Usmani

The people of the Fire will call out to the people of Paradise, :Pour on us some water, or some of what Allah has provided you. They will say, :Allah has prohibited these for disbelievers,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And the dwellers of the Fire will call to the dwellers of Paradise: "Pour on us some water or anything that Allah has provided you with." They will say: "Both (water and provision) Allah has forbidden for the disbelievers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And the dwellers of the Fire cry out unto the dwellers of the Garden: Pour on us some water or some wherewith Allah hath provided you. They say: Lo! Allah hath forbidden both to disbelievers (in His guidance),

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And the companions of the Fire will call to the companions of Paradise, "Pour upon us some water or from whatever Allah has provided you." They will say, "Indeed, Allah has forbidden them both to the disbelievers."

— Saheeh International

The dwellers of the fire will ask the people of Paradise to give them some water or other things which God has granted to them. They will reply, "God has deprived the unbelievers of the blessings of Paradise."

— Muhammad Sarwar

And the inmates of the fire shall call out to the dwellers of the garden, saying: Pour on us some water or of that which Allah has given you. They shall say: Surely Allah has prohibited them both to the unbelievers.

— Muhammad Habib Shakir

And the fellows of the Fire will cry unto the fellows of the Garden: pour out on us water or aught wherewith Allah hath provided you. They will say verily Allah hath forbidden it unto infidels.

— Abdul Majid Daryabadi

The Companions of the Fire will call to the Companions of the Garden: "Pour down to us water or anything that Allah doth provide for your sustenance." They will say: "Both these things hath Allah forbidden to those who rejected Him."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:50

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 50–51

جیسی کرنی ویسی بھرنی دوزخیوں کی ذلت و خواری اور ان کا بھیک مانگنا اور ڈانٹ دیا جانا بیان ہو رہا ہے کہ وہ جنتیوں سے پانی یا کھانا مانگیں گے۔ اپنے نزدیک کے رشتے کنبے والے جیسے باپ بیٹے بھائی بہن وغیرہ سے کہیں گے کہ ہم جل بھن رہے ہیں، بھوکے پیاسے ہیں، ہمیں ایک گھونٹ پانی یا ایک لقمہ کھانا دے دو۔ وہ بحکم الٰہی انہیں جواب دیں گے کہ یہ سب کچھ کفار پر حرام ہے۔ ابن عباس سے سوال ہوتا ہے کہ کس چیز کا صدقہ افضل ہے ؟ فرمایا حضور کا ارشاد ہے کہ سب سے افضل خیرات پانی ہے۔ دیکھو جہنمی اہل جنت سے اسی کا سوال کریں گے مروی ہے کہ جب ابو طالب موت کی بیماری میں مبتلا ہوا تو قریشیوں نے اس سے کہا کسی کو بھیج کر اپنے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 47–51

سورة الْاَعْرَاف 35 اہل جنت اور اہل دوزخ اور اصحاب الاعراف کی اس گفتگو سے کسی حد تک اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ عالم آخرت میں انسان کی قوتوں کا پیمانہ کس قدر وسیع ہوجائے گا۔ وہاں آنکھوں کی بینائی اتنے بڑے پیمانہ پر ہوگی کہ جنت اور دوزخ اور اعراف کے لوگ جب چاہیں گے ایک دوسرے کو دیکھ سکیں گے۔ وہاں آواز اور سماعت بھی اتنے بڑے پیمانہ پر ہوگی کہ ان مختلف دنیاؤں کے لوگ ایک دوسرے سے بآسانی گفت و شینید کرسکیں گے۔ یہ اور ایسے ہی دوسرے بیانات جو عالم آخرت کے متعلق ہمیں قرآن میں ملتے ہیں۔ اس بات کا تصور دلانے کے لیے کافی ہیں کہ وہاں زندگی کے قوانین ہماری موجودہ دنیا کے قوانین طبیعی سے بالکل مختلف ہوں گے،…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 50–53

خلاصہ تفسیر اور (جس طرح اوپر جنت والوں نے دوزخ والوں سے گفتگو کی اسی طرح) دوزخ والے جنت والوں کو پکاریں گے کہ (ہم مارے بھوک اور پیاس اور گرمی کے بےدم ہوئے جاتے ہیں، خدا کے واسطے) ہمارے اوپر تھوڑا پانی ہی ڈال دو (شاید کچھ تسکین ہوجائے) یا اور ہی کچھ دیدد، جو اللہ تعالیٰ نے تم کو دے رکھا ہے (اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ امید کرکے مانگیں گے، کیونکہ غایت اضطراب میں بعید از توقع باتیں بھی منہ سے نکلا کرتی ہیں) جنت والے (جواب میں) کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے دونوں چیزوں کی (یعنی جنت کے کھانے اور پینے کی) کافروں کے لئے بندش کر رکھی ہے، جنہوں نے دنیا میں اپنے دین کو (جس کا قبول کرنا ان کے ذمہ واجب تھا)…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَنَادٰٓي اَصْحٰبُ النَّارِ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ اَفِيْضُوْا عَلَيْنَا مِنَ الْمَاۗءِ اَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ ۭ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَي الْكٰفِرِيْنَ۔ لفظ تحریم کا ایک خاص مفہمو : حَرَّمَهُمَا میں جس تحریم کا ذکر ہے یہ شرعی حرمت کے معنی میں نہیں ہے بلکہ یہ اس معنی میں ہے جس معنی میں فانہا محرمۃ علیہم اربعین سنۃ (مائدہ :26) (پس یہ سرزمین ان پر چالیس سال کے لیے حرام کردی گئی) میں ہے۔ یعنی چالیس سال کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حتمی طور پر اس سرزمین سے محروم کردیا۔ ظاہر ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کو کسی چیز سے حتمی طور پر محروم کردے تو نہ وہ چیز کسی طرح اس کو پہنچ سکتی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

50۔ 1 جس طرح پہلے گزر چکا ہے کہ کھانے پینے کی نعمتیں قیامت والے دن صرف اہل ایمان کے لئے ہونگی (خَالِصَةً يَّوْمَ الْقِيٰمَةِ) 7۔ الاعرف :32) یہاں اس کی مزید وضاحت جنتیوں کی زبان سے کردی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 48–52

26: اس سے اشارہ ان دیوتاؤں کی طرف ہے جن کو انہوں نے خدائی میں اللہ تعالیٰ کا شریک مانا ہوا تھا، نیز ان سرداروں اور پیشواؤں کی طرف جنہیں بڑا مان کر انہوں نے بےسوچے سمجھے ان کی پیروی کی، اور یہ سمجھ بیٹے کہ یہ لوگ انہیں اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچالیں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 46–50

روایات میں آتا ہے کہ اعراف جو لوگ کھڑے ہوں گے ۔ یہ انسانوں ہی کا ایک گروہ ہوگا ‘ یاد رہے کہ اعراف جنت میں اور دوزخ کے درمیان حائل جگہ ہوگی ‘ یہ وہ لوگ ہوں گے جن کی نیکیاں اور برائیاں وزن میں برابر ہوں گی ۔ نہ نیکی انہیں جنت میں اہل جنت کے ساتھ لے جاسکے گی اور نہ برائی انہیں اہل جہنم کے ساتھ جہنم میں لے جاسکے گی ۔ یہ لوگ بین بین ہوں گے اور اللہ کے فضل اور رحمت کے انتظار میں ہوں گے ۔ یہ لوگ اہل جنت کو ان کی علامات کی وجہ سے پہچان سکیں گے ‘ کیونکہ اہل جنت کے چہرے ہشاش بشاش اور سفید ہوں گے ‘ انکے آگے ایک نور جاری وساری ہوگا اور ان کا ایمان محسوس ہوگا ۔ یہ لوگ اہل جہنم کو بھی ان کی علامات سے پہچان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 50–51

1 دوزخی بدحواس اور مضطرب ہو کر اہل جنت کے سامنے دست سوال دراز کریں گے کہ ہم جلے جاتے ہیں، تھوڑا سا پانی ہم پر بہاؤ یا جو نعمتیں تم کو خدا نے دے رکھی ہیں کچھ ان سے ہمیں بھی فائدہ پہنچاؤ۔ جواب ملے گا کہ کافروں کے لئے ان چیزوں کی بندش ہے، یہ کافر وہ ہی تو ہیں جو دین کو کھیل تماشہ بناتے تھے اور دنیا کے تُنّعم پر پھولے ہوئے تھے۔ سو جیسا ان کو دنیا کے مزوں میں پڑ کر کبھی آخرت کا خیال نہیں آیا آج ہم بھی ان کا کچھ خیال نہ کریں گے اور جس طرح انہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا تھا آج ہم بھی ان کی درخواست منظور کرنے سے انکار کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 50 وَنَادآی اَصْحٰبُ النَّارِ اَصْحٰبَ الْجَنَّۃِ اَنْ اَفِیْضُوْاعَلَیْنَا مِنَ الْمَآءِ اَوْ مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ ط قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰہَ حَرَّمَہُمَا عَلَی الْکٰفِرِیْنَ اہل جنت جواب دیں گے کہ ہم تو شاید یہ چیزیں تم لوگوں کو دینا بھی چاہتے ‘ کیونکہ ہماری شرافت سے تو یہ بعید تھا کہ تمہیں کو را جواب دیتے ‘ لیکن کیا کریں ‘ اللہ نے کافروں کے لیے جنت کی یہ سب چیزیں حرام کردی ہیں ‘ لہٰذا ہم یہ نعمتیں تمہاری طرف نہیں بھیج سکتے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

49 دوزخی جب آگ میں جل رہے ہوں گے تو اپنے دنیا کے شناسا اہل جنت سے فریاد کریں گے کہ ہم پر کچھ پانی ہی گرا دو تاکہ ہمیں کچھ آرام مل سکے یا کچھ کھانے کے لیے ہی گرا دو ۔ اہل جنت اس کا یہ جواب دیں گے کہ یہ چیزیں تم پر حرام کردی گئی ہیں لہذا ہم اللہ کی نافرمانی کر کے خود گناہ گار نہیں بننا چاہتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

70 ۔ (اس کے حکم کے خلاف ہم دیں کیسے اور ہم دیں بھی تو تمہیں نفع کیا ہو ؟ تم نے اپنے قوی کو ان سے لطف اٹھانے کے قابل رکھا ہی کب ہے ؟ پھر تمہارے مسخ شدہ اور قہر زدہ حلق اور منہ میں پہنچ کر یہی نعمتیں اور آگ لگا دیں گے) (آیت) ” حرمھما علی الکفرین “۔ تحریم سے مراد دارالجزاء میں حرمت شرعی تو ہو نہیں سکتی۔ مراد یہی ہے کہ یہاں کے کھانے پینے تو تمہارے حلق سے اتریں گے ہی نہیں۔ حضرت مولانا رومی (رح) کی ملفوظ فیہ مافیہ گوفن تصوف و سلوک میں ہے لیکن بعض تفسیری نکتہ بھی اس میں خوب آگئے ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں :۔ ” اہل دوزخ بااہل بہشت فغان کنند کہ آخر کرم شما۔۔۔۔ ازاں عطاہاو بخششہا کہ حق تعالیٰ بہ شما کردہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

ونادی اصحب۔۔۔۔ الجنۃ الخ دوزخی جنتیوں سے بھیک مانگنے والوں کی طرح گڑگڑا کر تھوڑے سے پانی اور کھانے کا سوال کریں گے مگر ان کو کچھ نہ دیا جائیگا، بلکہ جنتی صاف صاف کہہ دیں گے کہ یہ دونوں چیزیں اللہ نے تمہارے لئے حرام کردی ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ونادی اصحب النار اصحب الجنۃ ان افیضوا علینا من المآء او مما رزقکم اللہ : اور دوزخ والے اہل جنت (کے نام لے کر ان) کو پکار کر (اپنی رشتہ داریاں بتا کر) کہیں گے کہ ہماری طرف کو بھی کچھ پانی بہا دو جو اللہ نے تم کو عطا فرمایا ہے ہم کو بھی اس میں سے کچھ دے دو ۔ ما رزقکم اللّٰہسے مراد یا شربت ہے کیونکہ افیضوا (بہا دو ) کا لفظ اسی کو چاہتا ہے یا طعام جنت مراد ہے جیسے عربی محاورہ میں آتا ہے عَلَفْتُہَا تِبْنًا وَمَاءً ا بارِدًا میں نے اونٹنی کو کھلایا بھوسہ اور ٹھنڈا پانی۔ قالوا ان اللہ حرمہما علی الکافرین : وہ کہیں گے اللہ نے قطعاً یہ دونوں چیزیں ان کافروں کے لئے حرام کردی ہیں

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 50–51

(50۔ 51) پھر اللہ تعالیٰ اصحاب اعراف سے فرمائے گا، جنت میں داخل ہوجاؤ آج عذاب کا تم پر کوئی خوف نہیں اور دوزخی جنتیوں سے کہیں گے کہ ہم پر کچھ پانی ڈالو اور کچھ جنت کے میوے دے دو ، اہل جنت کہیں گے کہ جنت کے میوے ایسے لوگوں پر، جنہوں نے دین کو مذاق بنا لیا تھا حرام کردیے گئے ہیں۔ (یعنی اللہ تعالیٰ نے حرام کردیئے ہیں) اور جو دنیاوی فراخیوں میں مست تھے، قیامت کے دن ہم ایسے لوگوں کو دوزخ میں اسی طرح چھوڑتے ہیں، جیسا کہ انہوں نے اس دن کے اقرار کو چھوڑ دیا تھا اور وہ ہمارے رسولوں کی تکذیب کیا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَي الْكٰفِرِيْنَ : جیسا کہ پہلے گزرا کہ جنت کی نعمتیں اہل ایمان کے لیے خالص ہوں گی، جنتی انھیں جواب دیں گے کہ جنت کا پانی اور رزق اللہ تعالیٰ نے کافروں پر حرام کردیا ہے، لہٰذا ہم تم سے کوئی ہمدردی کا سلوک کر کے اس کی نافرمانی نہیں کریں گے۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ اصحاب اعراف کے جنت میں داخل ہونے کے بعد کفار، یعنی جہنمی لوگ یہ فریاد کریں گے۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 50 قولہ تعالیٰ : ونادی اصحب النار اصحب الجنۃ ان افیضوا علینا من الماء او مما رزقکم اللہ اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر۔ 1 قولہ تعالیٰ : ونادی کہا گیا ہے : جب اہل اعراف جنت تک پہنچ جائیں گے تو اہل جہنم خواہش کریں گے اور کہیں گے : اے ہمارے رب ! بیشک جنت میں ہمارے رشتہ دار اور قرابت دار ہیں پس ہمیں اجازت عطا فرمائی جائے کہ ہم انہیں دیکھیں اور ان سے بات کریں۔ اور اہل جنت ان کے چہرے سیاہ ہونے کی وجہ سے انہیں نہ پہنچان سکیں گے، تو وہ ( اہل جن ہم) انہیں کہیں گے : آیت : افیضوا علینا من الماء اومما رزقکم اللہ ( کہ انڈیلو ہم پر کچھ پانی جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تمہیں دیا ہے) تو اس سے یہ ظاہر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) امام ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ پوچھا گیا کونسا صدقہ افضل ہے ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا افضل صدقہ پانی پلانا ہے۔ کیا تو نے دوزخ والوں سے یہ نہیں سنا جب وہ جنت والوں سے مدد مانگیں گے اور کہیں گے ہم پر پانی بہا دو یا ان چیزوں میں سے جو تم کو اللہ تعالیٰ نے رزق دیا ہے۔ (2) امام احمد نے سعد بن عبادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ میری ماں مرگئی کیا میں اس کے لئے صدقہ کرسکتا ہوں فرمایا ہاں پھر پوچھا کون سا صدقہ افضل ہے فرمایا پانی پلانا۔ (3) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَنَادٰٓي [ اور پکاریں ] اَصْحٰبُ النَّارِ [ آگ والے ] اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ [ جنت والوں کو ] اَنْ [ کہ ] اَفِيْضُوْا [ تم لوگ بہاؤ] عَلَيْنَا [ ہم پر ] مِنَ الْمَاۗءِ [ پانی میں سے (کچھ ) ] اَوْ [ یا ] مِمَّا [ اس میں سے جو ] رَزَقَكُمُ [ عطا کیا تم کو ] اللّٰهُ ۭ [ اللہ نے ] قَالُوْٓا [ وہ لوگ کہیں گے ] اِنَّ [ یقینا ] اللّٰهَ [ اللہ نے ] حَرَّمَهُمَا [ حرام کیا دونوں کو ] عَلَي الْكٰفِرِيْنَ [ کافروں پر ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 47–50

دوزخیوں کا اہل جنت سے پانی طلب کرنا اور دنیا میں واپس آنے کی آرزو کرنا اہل جنت اور اہل اعراف جو دوزخیوں سے خطاب کریں گے۔ گزشتہ آیات میں اس کا تذکرہ فرمایا۔ اس آیت میں اہل دوزخ کے خطاب کا ذکر ہے وہ اہل جنت سے اپنے عذاب کی تخفیف کے لیے سوال کریں گے اور ان سے اپنے لیے کچھ مانگیں گے، وہ کہیں گے کہ ہمارے اوپر کچھ پانی بہا دو ۔ یا دوسری چیزیں جو تمہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کی گئی ہیں ان میں سے کچھ ہماری طرف بھی بھیج دو ۔ اہل جنت جواب دیں گے کہ جنت کا پانی اور جنت کی نعمتیں اللہ تعالیٰ نے کافروں پر حرام کردی ہیں۔ ہم تمہارا سوال کیسے پورا کرسکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 44–53

اہل جنت اور اہل دوزخ اور اہل اعراف کی باہمی گفتگو کا ذکر قال اللہ تعالیٰ ونادی اصحب الجنۃ اصحب النار۔۔۔ الی۔۔۔ وضل عنھم ما کانوا یفترون، (ربط) گزشتہ آیات میں اہل جنت اور اہل نار کی جزاء وسزا کا بیان تھا اب ان آیات میں ان مخاطبات اور مکالمات کا ذکر ہے جو دخول جنت و جہنم کے بعد جنتیوں اور دوزخیوں کے مابین ہوں گے اور ان کے ساتھ اہل اعراف کا بھی ذکر فرمایا جن کی حالت ابتدا میں بین بین ہوگی اور بعد میں ان کو جنت میں داخل ہونے کا حکم ہوجائے گا اور اس تمام تذکرہ سے مقصود یہ بتلانا ہے کہ اس روز اہل ایمان کو سعادت کاملہ حاصل ہوگی اور اسلام کے دشمنوں کو انتہائی رنج وغم اور انتہائی حسرت پیش آئے گی جس کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

56: یہ مکالمہ جنتیوں اور دوزخیوں کے درمیان ہوگا۔ “ اَوْ مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰهُ ” ای القوا علینا مما رزقکم اللہ۔ یعنی یہاں القو فعل محذوف ہے۔ اور یہ علفتہا تبنا و ماء بارداً کے قبیل سے ہے یعنی ہم پر تھوڑٓ سا پانی ہی گرا دو یا اور جو نعمتیں اللہ نے تم کو دی ہیں ان میں سے کچھ ہماری طرف پھینک دو ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 48–51

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کی کامیابی کا ذکر کیا ان کا جنت کی نعمتوں سے متمع ہونا اور خدا کی مہربانی کے مقام میں داخل ہونے کا باین ہوا پھر اللہ نے جنت اور دوزخ والوں کے مکالمے کا ذکر کیا کہ جنت والے دوزخیوں سے کہیں گے کہ اللہ نے جو وعدہ ہم سے کیا تھا ہم نے تو اس کو برحق پایا اب بتائو تمہارے ساتھ اللہ نے جو وعدہ کیا تھا کہ تمہیں دوزخ میں داخل کرے گا کیا تم نے بھی اس وعدے کو سچا پایا دوزخ والے کہیں گے کہ ہاں ہم نے اپنے رب کے وعدے کو سچا پایا پھر درمیان میں ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا کہ خدا تعالیٰ کی لعنت اور پھٹکار ہو ظلم کرنے والوں پر وہ جو اللہ کے راستے سے روکتے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا دِيْنَہُمْ لَہْوًا وَّلَعِبًا وَّغَرَّتْہُمُ الْحَيٰوۃُ الدُّنْيَا۝ 0 ۚ فَالْيَوْمَ نَنْسٰـىہُمْ كَـمَا نَسُوْا لِقَاۗءَ يَوْمِہِمْ ھٰذَا۝ 0 ۙ وَمَا كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يَجْحَدُوْنَ۝ 51 أخذ ( افتعال، مفاعله) والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ [ المائدة/ 116] ، وقوله تعالی: وَلَوْ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 50–51

ارشاد ہوتا ہے : وَ نَادٰٓی اَصْحٰبُ النَّارِ اَصْحٰبَ الْجَنَّۃِ اَنْ اَفِیْضُوْا عَلَیْنَا مِنَ الْمَآئِ اَوْ مِمَّا رَزَقَکُمْ اللہ ُ ط قَالُوْٓا اِنَّ اللہ َ حَرَّمَھُمَا عَلَی الْکٰفِرِیْنَ ۔ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَھُمْ لَھْوًا وَّ لَعِبًا وَّ غَرَّتْھُمْ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا ج فَالْیَوْمَ نَنْسٰھُمْ کَمَا نَسُوْا لِقآئَ یَوْمِھِمْ ھٰذَا لا وَمَا کَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ ۔ (الاعراف : 50، 51) ” اور دوزخ والے جنت والوں کو آواز دیں گے کہ پانی یا ان چیزوں میں سے جو اللہ نے تمہیں بخش رکھی ہیں کچھ ہم پر بھی کرم فرمائو وہ جواب دیں گے کہ اللہ نے یہ دونوں چیزیں کافروں کے لیے حرام…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 47–50

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اصحاب اعراف کا جنتیوں کو سلام اور جہنمیوں کو شرم دلانا۔ اعراف کا معنیٰ بلندی ہے جو جنت اور جہنم کے درمیان لامتنا ہی طول و عرض اور بلند وبالا قسم کی دیوار ہوگی اور اس میں ایک دروازہ بھی ہوگا جس کا قدرے تفصیل کے ساتھ ذکر سورة الحدید آیت 13 میں کیا گیا ہے اس پر تشریف فرما لوگوں کو اصحاب الاعراف کے نام سے پکارا جائے گا یہ کون حضرات ہوں گے ان کے بارے میں قرآن و حدیث میں دو اور دو چار کے الفاظ میں وضاحت نہیں ملتی۔ البتہ مفسرین نے متقدمین کے اقوال سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جن کی نیکیاں اور برائیاں برابر ہوں گی۔ بعض حضرات نے لکھا ہے کہ ان سے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اہل جنت و اہل نار کا مکالمہ : آیت 50: وَنَادٰٰٓی اَصْحٰبُ النَّارِ اَصْحٰبَ الْجَنَّۃِ اَنْ اَفِیْضُوْا عَلَیْنَا مِنَ الْمَآئِ (اور دوزخ والے جنت والوں کو پکاریں گے۔ کہ ہمارے اوپر تھوڑا پانی ہی ڈال دو ) اَنْ مفسرہ ہے اس میں یہ بھی دلیل ہے کہ جنت آگ سے بلند ہے۔ اَوْمِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ (یا اور ہی کچھ دے دو جو اللہ تعالیٰ نے تم کو دے رکھا ہے) ان کے علاوہ مشروبات کیونکہ اضافت کے حکم میں یہ بھی داخل ہے یا ہم پر ڈالو جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تمہیں رزق طعام و پھلوں کی اقسام میں سے دیا ہے پھر یہ علفتھا تبنًا ومائً باردًا کی قسم میں سے ہے۔ یعنی ماء سے سقیتھا کا فعل محذوف ہے۔ سوال : قبولیت سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(ونادی اصحب النار اصحب الجنۃ ان اقیضوا علینا من المآء اومما رزقکم اللہ) اللہ نے جو تم کو جنت کے کھانوں سے رزق دیا کچھ ہم پر بھی کشادگی کرو۔ ابن عباس ؓ سے عطاء نے روایت کی ہے کہ جب اعراف والے جنت چلے جائیں گے تو جہنم والوں کو امید ہوگی کہ اب ہم پر کشادگی ہوجائے گی تو وہ کہیں گے اے ہمارے رب ! بیشک ہمارے رشتہ دار جنت میں ہیں تو ہمیں اجازت دے کہ ہم ان کو دیکھ لیں اور بات کرلیں تو وہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو جنت میں دیکھیں گے کہ وہ نعمتوں میں مزے کر رہے ہیں تو ان کو پہچان لیں گے لیکن جنت والے ان کی سایہی کی وجہ سے ان کو نہ پہچان سکیں گے تو جہنم الے جنت والوں کو ان کے نام لے کر پکاریں گے اور ان کو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 50–51

(50 ۔ 51) ۔ دوزخ والے جنت والے سے بھیک کی طرح جنت کی نعمتیں مانگے گیں تو جنتی صاف جواب دیں گے کہ جنت کے یہ دونوں چیزیں خدا تعالیٰ نے تمہارے اوپر حرام کردی ہیں اس لئے تم کو کوئی چیز نہیں مل سکتی تفسیر ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے کسی نے دریافت کیا کہ بہتر صدقہ کونسا ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے جواب دیا پیغمبر ﷺ نے فرمایا ہے کہ بہتر صدقہ پانی ہے کہا پھر تجھ کو معلوم نہیں کہ دوزخی لوگ بہشتیوں سے فریاد کر کے کہیں گے کہ تھوڑا پانی اور تم کو جو اللہ نے رزق دیا ہے اس میں سے کچھ ہم کو بھی دے دو حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اس آیت میں طعام و شراب سے جنت کا کھانا پینا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 46–52

آیت 46 یعنی اہل جنت اور اہل جہنم کے درمیان ایک حجاب ہوگا جسے ” مقام اعراف “ کہا جائے گا۔ یہ مقام جنت میں شامل ہوگا نہ جہنم میں۔ اس مقام سے جنت اور جہنم دونوں میں جھانکا جاسکے گا اور جنتیوں اور جہنمیوں کے احوال کو دیکھا جاسکے گا۔ اس مقام اعراف میں کچھ لوگ ہوں گے جو اہل جنت اور اہل جہنم کو ان کی ان علامات کے ذریعے سے پہچانتے ہوں گے جو ان کی امتیازی علامات ہیں۔ جب وہ اہل جنت کی طرف دیکھیں گے تو پکار کر کہیں گے (ان سلم علیکم) ” سلامتی ہے تم پر “ یعنی وہ ان پر سلام کہیں گے۔ وہ ابھی تک جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے البتہ وہ جنت میں داخلے کے امیدوار ہوں گے اور اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں امید تب ہی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 33–54

فواحش سے مراد قول باری ہے قل انما حرم ربی الفواحش ماظھرمنھا وما بطن ولاثم والبغی بغیر الحق۔ اے محمد ﷺ ، ان سے کہو کہ میرے رب نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ تو یہ ہیں، بےشرمی کے کام خواہ کھلے ہوں یا چھپے اور گناہ اور حق کے خلاف زیادتی) مجاہد کا قول ہے کہ فواحش سے زنا مراد ہے یہ سری خواحش ہے اور برہنہ حالت میں طواف کرنا جہری فواحش ہے۔ ایک قول ہے کہ بےشرمی کے تمام کام فواحش ہیں۔ شروع میں اجمالاً ان کا ذکر کیا پھر ان کی مختلف صورتوں کی تفصیل بیان کردی اور یہ فرمایا کہ گناہ حق کے خلاف زیادتی اور اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہرانا فواحش کی صورتیں ہیں۔ یعنی لوگوں پر ناحق اور بزور قوت غلبہ جمانے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

68 اہل دوزخ کی ایک اور تذلیل کا ذکر وبیان : کہ یہ لوگ دوزخ کی بھوک پیاس سے تنگ آ کر جنتیوں سے کھانے اور پانی کی بھیک مانگیں گے۔ سو یہ اہل دوزخ کی ایک اور تذلیل ہوگی کہ ان کو وہاں انہی ضعفاء و مساکین کے سامنے ہاتھ پھیلانے پڑیں گے جن کو یہ دنیا میں بےقدر و قیمت سمجھا کرتے تھے۔ اور جن کے بارے میں وہ قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ اللہ ان کو کسی بھی طرح کی رحمت سے نہیں نوازے گا۔ سو آج انہی کے سامنے یہ لوگ اس طرح ہاتھ پھیلا رہے ہوں گے مگر جواب انکار میں ملے گا یعنی " اللہ نے ان دونوں چیزوں کو کافروں پر حرام کر رکھا ہے "۔ سو اہل جنت کے اس جواب سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ ان کے پاس ان چیزوں کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 44–53

اہل جنت اور اہل جہنم کا مکالمہ اور اصحاب اعراف کا تذکرہ تشریح : آیات 44 تا 53 میں جو کچھ بتایا گیا ہے انتہائی عبرت دلانے والا اور خوش کرنے والا ہے۔ کیونکہ اللہ رب العزت نے اہل جنت اور اہل جہنم کی آپس میں گفتگو نیز اصحاب اعراف کا ایسا نقشہ کھینچا ہے لگتا ہے سب کچھ سامنے ہو رہا ہے۔ یہ سب راز کی باتیں ہیں انسان کی نظر سے پوشیدہ اور تصور سے باہر۔ مگر اللہ سبحانہ تعالیٰ کیونکہ اپنے بندوں پر حد سے زیادہ مہربان ہے اور رحیم و کریم ہے اس لیے لوگوں کو دنیا کی مصیبتوں اور آخرت کے عذاب سے بچانے کے لیے رسول بھیجے، پھر آخری رسول محمد ﷺ پر قرآن مجید نازل فرما کر لوگوں کو خبردار کرنے کے لیے بھیجا۔ مگر کفار و…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 48–53

رکوع نمبر 6 ۔ آیات 48 ۔ تا۔ 53 اسرار و معارف : جہنم میں پڑے ہوئے بعض لوگوں کو تو ان کی شکلوں تک سے پہچانتے ہوں گے اور دنیا میں ان کے کردار سے واقف ہوں گے جب وہ محض مال و دولت یا اختیار و اقتدار پر نازاں عظمت الہی اور دار آخرت کو بھولے ہوئے تھے نہ صرف یہ بلکہ نیک لوگوں پہ پھبتیاں کہتے تھے کہ انہیں دیکھ ویہ آخرت کے انعامات کی امید میں یہاں عبادات کی مصیبت میں پڑے ہیں اور فقر و فاقہ میں بھی شکر ادا کرتے ہیں دولت و مال مل جائے تو بھی عیش ان کے نصیب میں نہیں بھلا آخرت میں انہیں خاک آرام نصیب ہوگا دنیا والوں کے ساتھ تو یہ چل نہیں سکتے اور چلے ہیں آخرت کو پانے ۔ اہل اعراف ان کی یہ باتیں انہیں یاد…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 11 لہذا ہم تم سے کوئی ہمدردی کا سلوک کرکے اس کی نافرمانی کریں گے۔ (وحیدی) بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ اصحاب اعراف کے جنت میں داخل ہونے کے بعد کفار جہنمی لوگ یہ فریاد کریں گے ( شوکانی )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(7:50) افیضوا علینا من المائ۔ افیضوا۔ تم بہاؤ۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ افاضۃ سے۔ افاض المائ۔ کسی جگہ سے پانی کا اچھل کر بہ نکلنا۔ آنسؤں کے بہنے کے لئے بھی آتا ہے جیسے فرمایا تری اعینھم تفیض من الدمع (5:83) تم دیکھتے ہو کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوتے ہیں۔ قرآن میں آیا ہے ثم افیضوا من حیث افاض الناس (2:199) پھر جہاں سے اور لوگ واپس ہوں وہیں سے تم بھی واپس ہو۔ یہاں افاضۃ کے معنی مجمع کثیر کے یکبار گی لوٹنے کے ہیں۔ اور یہ فیضان الماء (یعنی پانی کا زور سے بہ نکلنا) کے ساتھ تشبیہ سے کر بولا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 50–53

لغات القرآن آیت نمبر (50 تا 53 ) ۔ افیضوا (بہائو ) ۔ الماء (پانی ) ۔ حرم (حرام کردیا۔ روک دیا ) ۔ غرت (دھوکے میں ڈال دیا) ۔ ننسی (ہم نے بھلا دیا ) ۔ یجحدون (وہ انکار کرتے ہیں ) ۔ فصلنا (ہم نے تفصیل بتا دی ) ۔ تاویل (انجام ۔ پھیرنا ) ۔ شفعاء (شفیع) ۔ سفارشی) ۔ نرد (ہم لوٹائے جائیں) ۔ نعمل (ہم کام کریں گے ) ۔ تشریح : آیت نمبر (50 تا 53 ) ۔” جس طرح جنت والوں نے جہنم والوں سے کلام کیا تھا۔ اسی طرح اب جہنم والے اہل جنت سے اپنی شدید پیاس اور تڑپادینے والی بھوک کا حوالہ دے کر رحم و کرم کی بھیک مانگیں گے۔ کفار مکہ جنت ، جہنم، قیامت کے دن اور اللہ کے انصاف کو اہمیت نہیں دیتے تھے وہ دنیا کے رزق اقتدار…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 48–50

مطلب یہ ہے کہ دوزخ والے جنت والوں سے بھیک کی طرح گڑگڑا کر تھوڑے سے پانی اور کھانے کا سوال کریں گے، مگر ان کو کچھ نہ دیا جائے گا، بلکہ جنتی صاف جواب دیویں گے کہ جنت کی یہ دونوں چیزیں خدائے تعالیٰ نے تم پر حرام کردیں ہیں، اس لئے تم کو کوئی چیز نہیں مل سکتی ہے۔ کیونکہ تم نے دنیا میں نافرمانی کی اور جس طرح دنیا میں تم لوگوں نے مجھ کو بھلا دیا تھا اسی طرح آج میں بھی بھولے بسروں کی طرح تم لوگوں کو اپنی نظر رحمت سے دور ڈالتا ہوں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 49–52

(ف 1) (آیت) ” ادخلوا الجنۃ “۔ سے پہلے محذوف ہے عبارت سے سمجھ میں آجاتا ہے کہا گیا ہے کہ جنت میں داخل ہوجاؤ ، ” فالیوم ننسھم “۔ سے مراد یہ نہیں کہ اللہ ان کو بھول جائے گا کیونکہ وہ نسیان وسہو سے بلند ہے ، مقصد یہ ہے کہ ان سے بالکل اس قسم کا سلوک روا رکھا جائے گا کہ گویا ہم بھول گئے ہیں ۔ حل لغات : حرمھما : تحریم سے مراد ممانعت ہے یعنی اللہ نے روک رکھا ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

50 اوراہل دوزخ جنت والوں سے پکار کر یوں کہیں گے کہ اے اہل جنت ہم آگ میں جھلس رہے ہیں تم ہم پر کچھ پانی ہی ڈال دو یا تم کو اللہ تعالیٰ نے جو روزی عطا فرمائی ہے اس میں سے کچھ ہم کو دیدو اہل جنت جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ دونوں چیزیں بند کردی ہیں اور ممانعت فرمادی ہے اور ان منکروں کے لئے ان دونوں چیزوں کی بندش کردی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 46–50

ف 6۔ اس کا خاصہ یہ ہوگا کہ جنت کا اثر دوزخ تک اور دوزخ کا اثر جنت تک نہ جانے دے گی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

دوزخ والے اب جنت والوں سے مخاطب ہو کر کیا کہتے ہیں ؟ : 61: دوزخ والوں نے جب جنت والوں کو عیش و آرام میں دیکھ لیا تو ان کے سامنے دست سوال دراز کردیا اور سخت ضرورت کی چیز طلب کرلی ان کو کہنے لگے کہ اس پانی سے ہم پر بھی کچھ بہا دو یا اس میں سے کچھ دے دو تاکہ تلخی کام ودہن تو کچھ کم ہو تم کو یہ ٹھنڈا پانی جب اللہ نے دیا ہے تو اللہ کے دئیے ہوئے سے کچھ ہم کو بھی دے دو لیکن اہل جنت ان کو جواب دیں گے کہ یہ اللہ نے تم پر حرام کردیا ہے یعنی تم اس سے محروم کر دئیے گئے ہو اور ظاہر ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کو کسی چیز سے حتمی طور پر محروم کر دے تو نہ وہ چیز کسی طرح اس کو پہنچ سکتی ہے اور نہ ہی اس کو وہ کسی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 49–53

Said in the sixth verse (49) is: أَهَـٰؤُلَاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ اللَّـهُ بِرَ‌حْمَةٍ ۚ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلَا أَنتُمْ تَحْزَنُونَ ﴿49﴾ (Is it these for whom you swore that Allah would not reach them with mercy?" - "Enter the Paradise; there is no fear on you, nor shall you grieve). Explaining this, Sayyidna ` Abdullah ibn ` Abbas ؓ says: When the questions and answers between the people of A` raf and the people of Paradise and Hell both will be over, that will be the time when the Lord of all the worlds will address the people of Hell and tell…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 47–51

35. The trialogue between the People of Paradise, the People of the Fire. and the People of the Heights gives some indication of the tremendous range of human faculties in the Next World. These faculties would increase to such an extent that the People of Paradise, the People of the Fire and the People of the Heights will be able to see, hear and talk to one another. Other Qur'anic statements about the Hereafter enable us to realize that the laws operating in the Next World will be altogether different from those in the present. Notwithstanding this, men's personalities will not undergo any…

Read the full tafseer →