Explained with ayahs 48–49
کفر کے ستون اور ان کا حشر
کفر کے جن ستونوں کو، کافروں کے جن سرداروں کو اعراف والے ان کے چہروں سے پہچان لیں گے انہیں ڈانٹ ڈپٹ کر کے پوچھیں گے کہ آج تمہاری کثرت جمعیت کہاں گئی ؟ اس نے تو تمہیں مطلقاً فائدہ نہ پہنچایا۔ آج وہ تمہاری اکڑفوں کیا ہوئی تم تو بری طرح عذابوں میں جکڑ دیئے گئے۔ ان کے بعد ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں فرمایا جائے گا کہ بد بختو انہی کی نسبت تم کہا کرتے تھے کہ اللہ انہیں کوئی راحت نہیں دے گا۔ اے اعراف والو میں تمہیں اجازت دیتا ہوں کہ جاؤ بہ آرام بےکھٹکے جنت میں جاؤ۔ حضرت حذیفہ ؓ فرماتے ہیں کہ اعراف والوں کے اعمال صالحہ اس قابل نہ نکلے کہ انہیں جنت میں پہنچائیں لیکن اتنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–51
سورة الْاَعْرَاف 35
اہل جنت اور اہل دوزخ اور اصحاب الاعراف کی اس گفتگو سے کسی حد تک اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ عالم آخرت میں انسان کی قوتوں کا پیمانہ کس قدر وسیع ہوجائے گا۔ وہاں آنکھوں کی بینائی اتنے بڑے پیمانہ پر ہوگی کہ جنت اور دوزخ اور اعراف کے لوگ جب چاہیں گے ایک دوسرے کو دیکھ سکیں گے۔ وہاں آواز اور سماعت بھی اتنے بڑے پیمانہ پر ہوگی کہ ان مختلف دنیاؤں کے لوگ ایک دوسرے سے بآسانی گفت و شینید کرسکیں گے۔ یہ اور ایسے ہی دوسرے بیانات جو عالم آخرت کے متعلق ہمیں قرآن میں ملتے ہیں۔ اس بات کا تصور دلانے کے لیے کافی ہیں کہ وہاں زندگی کے قوانین ہماری موجودہ دنیا کے قوانین طبیعی سے بالکل مختلف ہوں گے،…
Read the full tafseer →چھٹی (آیت) میں مذکور ہے اَهٰٓؤ ُ لَاۗءِ الَّذِيْنَ اَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحْمَةٍ ۭ اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلَآ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ
اس کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب اہل اعراف کا سوال و جواب اہل جنت اور اہل دوزخ دونوں کے ساتھ ہوچکے گا، اس وقت رب العالمین اہل دوزخ کو خطاب کرکے یہ کلمات اہل اعراف کے بارے میں فرمائیں گے کہ تم لوگ قسمیں کھایا کرتے تھے کہ ان کی مغفرت نہ ہوگی اور ان پر کوئی رحمت نہ ہوگی، سو اب دیکھو ہماری رحمت اور اس کے ساتھ ہی اہل اعراف کو خطاب ہوگا کہ جاؤ جنت میں داخل ہوجاؤ نہ تم پر پچھلے معاملات کا کوئی خوف ہونا…
Read the full tafseer →اَهٰٓؤُلَاۗءِ الَّذِيْنَ اَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحْمَةٍ ۭ اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلَآ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ۔
اَهٰٓؤُلَاۗءِ الَّذِيْنَ اَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحْمَةٍ۔ یہ سوال ان ائمہ کفر سے، اہل اعراف ساکنین جنت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کریں گے کہ بتاؤ کیا یہی وہ لوگ نہیں ہیں جن کے باب میں تم قسمیں کا کھا کے کہتے تھے کہ یہ کبھی خدا کے کسی فضل کے سزوار نہیں ہوسکتے ؟ قرآن میں مذکور ہے کہ سادات قریش اسلام کے خلاف ایک بہت بڑی دلیل یہی لاتے تھے کہ اگر اس میں کوئی خیر کا پہلو ہوتا تو کیا اس کے پیرو یہی فتو فقیر، فاقہ کش اور غلام و نادار بنتے ؟…
Read the full tafseer →49۔ 1 اس سے مراد وہ اہل ایمان ہیں جو دنیا میں غریب و مسکین اور مفلس و نادار قسم کے تھے جن کا مذاق مذکورہ منکرین اڑایا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے اگر یہ اللہ کے محبوب ہوتے تو ان کا دنیا میں یہ حال نہ ہوتا ؟ پھر مزید جسارت کرتے ہوئے دعویٰ کرتے کہ قیامت والے دن بھی اللہ کی رحمت ہم پر ہوگی نہ کہ ان پر (ابن کثیر) بعض نے اس کا قائل اصحاب الاعراف کو بتلایا ہے اور بعض کہتے ہیں جب اصحاب الاعراف جہنمیوں کو یہ کہیں گے کہ تمہارا جتھہ اور تمہارا اپنے کو بڑا سمجھنا تمہارے کچھ کام نہ آیا۔ تو اس وقت اللہ کی طرف سے جنتیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جائے گا یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں تم قسمیں کھاتے تھے کہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–52
26: اس سے اشارہ ان دیوتاؤں کی طرف ہے جن کو انہوں نے خدائی میں اللہ تعالیٰ کا شریک مانا ہوا تھا، نیز ان سرداروں اور پیشواؤں کی طرف جنہیں بڑا مان کر انہوں نے بےسوچے سمجھے ان کی پیروی کی، اور یہ سمجھ بیٹے کہ یہ لوگ انہیں اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچالیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–50
روایات میں آتا ہے کہ اعراف جو لوگ کھڑے ہوں گے ۔ یہ انسانوں ہی کا ایک گروہ ہوگا ‘ یاد رہے کہ اعراف جنت میں اور دوزخ کے درمیان حائل جگہ ہوگی ‘ یہ وہ لوگ ہوں گے جن کی نیکیاں اور برائیاں وزن میں برابر ہوں گی ۔ نہ نیکی انہیں جنت میں اہل جنت کے ساتھ لے جاسکے گی اور نہ برائی انہیں اہل جہنم کے ساتھ جہنم میں لے جاسکے گی ۔ یہ لوگ بین بین ہوں گے اور اللہ کے فضل اور رحمت کے انتظار میں ہوں گے ۔ یہ لوگ اہل جنت کو ان کی علامات کی وجہ سے پہچان سکیں گے ‘ کیونکہ اہل جنت کے چہرے ہشاش بشاش اور سفید ہوں گے ‘ انکے آگے ایک نور جاری وساری ہوگا اور ان کا ایمان محسوس ہوگا ۔ یہ لوگ اہل جہنم کو بھی ان کی علامات سے پہچان…
Read the full tafseer →6 یہ " اہل جنت " کی طرف اشارہ کر کے دوزخیوں سے کہیں گے کہ وہ ٹوٹے پھوٹے مساکین اور ضعیف الحال جن کو تم حقیر سمجھ کر کہا کرتے تھے کہ کیا خدا کی مہربانی سب کو چھوڑ کر ان جیسوں پر ہوسکتی ہے۔ (اَهٰٓؤُلَاۗءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنْۢ بَيْنِنَا) 6 ۔ الانعام :53) ۔ ان کو تو آج کہہ دیا گیا کہ (اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ ۔ الخ) 7 ۔ الاعراف :49) (چلے جاؤ جنت میں بےخوف و خطر) حالانکہ تم اس عذاب میں مبتلا ہو۔
Read the full tafseer →آیت 49 اَہٰٓؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمْتُمْ لاَ یَنَالُہُمُ اللّٰہُ بِرَحْمَۃٍ ط
اصحاب اعراف کو جنت والوں میں فقراء صحابہ رض ‘ بھی نظر آئیں گے ‘ وہاں وہ حضرت بلال رض کو بھی دیکھیں گے ‘ وہاں ان کی نظر حضرت صہیب رومی رض اور حضرت یاسر رض پر بھی پڑے گی۔ چناچہ وہ ان اصحاب جنت کی طرف اشارہ کر کے جہنمیوں سے پوچھیں گے کہ کیا یہی وہ لوگ تھے جن کے بارے میں تم قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کسی طرح بھی ہم پر فضیلت نہیں دے سکتا ‘ ان تک اللہ کی کوئی رحمت پہنچ ہی نہیں سکتی ‘ کیونکہ تمہارے زعم میں تو وہ مفلس اور نادار تھے ‘ گھٹیا طبقے سے تعلق رکھتے تھے اور گرے پڑے لوگ تھے ! اور تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
48 اہل اعراف کا اہل دوزخ سے مکالمہ :۔ یعنی اصحاب اعراف دوزخیوں کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہ کریں گے کیونکہ وہ خود بھی بیم ورجاء کی حالت میں ہوں گے دوزخ سے ڈر رہے ہوں گے اور جنت کی آس لگائے ہوئے ہوں گے لہذا ان کی آنکھوں کو اہل جہنم کی طرف پھیرا جائے گا تو پہلی بات جو ان کے منہ سے نکلے گی وہ یہ ہوگی کہ اے اللہ ! ہمیں ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کرنا۔ پھر جب نظر پڑ ہی گئی تو سب سے پہلی بات جو وہ اہل دوزخ سے پوچھیں گے یہ ہوگی کہ آج تمہارا وہ جتھا کہاں گیا جس کے متعلق شیخیاں بگھارا کرتے تھے۔ جیسا کہ جب سورة مدثر کی یہ آیت نازل ہوئی کہ دوزخ پر انیس داروغے مقرر ہیں تو کافر کہنے لگے کہ ہم تو ہزاروں کی…
Read the full tafseer →68 ۔ (اور تمہارے خیال میں ہر طرح حقیر و ذلیل اور مستحق حقارت وذلت تھے) (آیت) ” اھؤلآء الذین “۔ یعنی یہی لوگ جو آج جنت میں عیش کررہے ہیں۔ اشارہ ان لوگوں کی طرف ہے جو باوجود دولت ایمان سے مالا مال ہونے کے مادی دولت ووجاہت سے دنیا میں تہی دامن ہوتے ہیں اور اس لیے اہل کبر وضلال کی نظروں میں حقیر و ذلیل۔ جیسے حضرات صحابہ میں بلال حبشی و سلمان فارسی ؓ وغیرھما تھے۔ اشارۃ الی قوم من ال مومنین الفقراء کبلال وسلم ان وخباب وغیرھم (قرطبی) الاشارۃ الی ضعفاء اھل الجنۃ الذین کان الکفرۃ یحتقرونھم فی الدنیا (روح)
69 ۔ قول انہی اہل اعراف کا اہل دوزخ کو مخاطب کرکے چل رہا ہے کہ تم تو دنیا میں اہل ایمان کو ہر طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
آیت نمبر 48 تا 53
ترجمہ : اور اہل اعراف جہنمیوں میں سے بڑے بڑے لوگوں سے جن کو وہ ان کی علامتوں سے پہچانتے ہوں گے پکار کر کہیں گے (سوال کریں گے) کہ تمہارا مال کو جمع کرنا یا تمہاری اکثریت اور تمہارا ایمان سے تکبر کرنا آگ سے بچانے میں کیا کام آیا ؟ اور (اہل اعراف) ضعفاء مسلمین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دوزخیوں سے کہیں گے، کیا یہ اہل جنت وہی لوگ نہیں ہیں جن کے متعلق تم نے قسم کھا کر کہا تھا کہ ان کو خدا کی رحمت کا کچھ بھی حصہ نہ ملے گا ؟ ان سے کہہ دیا گیا ہے کہ جنت میں داخل ہوجاؤ اس حال میں کہ تمہارے لئے نہ کوئی خوف ہے اور نہ غم اُدْخِلُوا، مجہول کے صیغہ کے ساتھ اور دَخَلوا (ماضی معروف) کے ساتھ بھی…
Read the full tafseer →اہو لآء الذین اقسمتم لا ینالہم اللہ برحمۃ کیا یہ وہی (کمزور حقیر) لوگ ہیں (جن کے متعلق) تم قسم کھا کر کہتے تھے کہ ان کو اللہ کی رحمت نہیں پہنچے گی اور وہ جنت میں داخل نہ ہوں گے۔ پھر اہل اعراف سے کہا جائے گا۔
ادخلوا الجنۃ لا خوف علیکم ولا انتم تحزنون (اب تم) جنت میں چلے جاؤ تمہارے لئے نہ کوئی خوف ہے اور نہ تم رنجیدہ ہو گے۔
میں کہتا ہوں ممکن ہے کہ اُدْخُلُوا الْجَنَّۃَ الخ بھی اصحاب اعراف کے کلام کا تتمہ ہو یعنی اعراف والے کہیں گے کہ کیا یہ کمزور ضعیف لوگ وہی ہیں جن کے متعلق تم نے کہا تھا کہ اللہ کی رحمت ان کو نہیں مل سکتی حالانکہ ان کو تو (آج) حکم دے دیا گیا کہ جنت میں چلے جاؤ اور کوئی خوف و…
Read the full tafseer →(49) پھر ان اصحاب اعراف کی جنت والوں پر نظر پڑے گی وہاں حضرت سلمان فارسی ؓ ، حضرت صہیب ؓ، حضرت عمار ؓ اور تمام ضعیف اور مساکین نظر آئیں گے، تو کہیں گے اے گروہ کفار ! جنت میں وہی کمزور لوگ ہیں جن کے بارے میں تم دنیا میں قسمیں کھا کر کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کو جنت میں نہیں بھیجے گا۔
Read the full tafseer →اَهٰٓؤُلَاۗءِ الَّذِيْنَ اَقْسَمْتُمْ : قریش کے کھاتے پیتے لوگ جب نبی ﷺ کے پاس غریب و نادار مسلمانوں کو دیکھتے تو قسمیں کھا کھا کر کہتے کہ ان لوگوں کی یہ حیثیت نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں اپنی رحمت سے نوازے۔ اب اعراف والے جہنم میں ان لوگوں کو پہچان کر جو نادار مسلمانوں سے اس قسم کی باتیں کیا کرتے تھے، کہیں گے کہ دیکھو یہ وہی لوگ ہیں جن کے متعلق تم قسمیں کھا کر کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ انھیں کوئی رحمت نہیں پہنچائے گا، دیکھ لو ! اب یہ وہی ہیں جنھیں کہا گیا کہ جنت میں داخل ہوجاؤ، نہ تم پر کوئی خوف ہے اور نہ تم غمگین ہو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
آیت نمبر : 48۔ 49
قولہ تعالیٰ : آیت : ونادی اصحب الاعراف رجالا یعرفونھم بسیمھم یعنی اعراف والے اہل نار میں سے ان لوگوں کو کہیں گے جنہیں وہ ان کی علامتوں سے پہنچانتے ہوں گے۔ آیت : قالوا ما اغنی عنکم جمعکم وما کنتم تستکبرون وہ انہیں کہیں گے : تمہیںٰ دنیا کے لیے جمع کیے گئے مال نے اور ایمان سے تمہارے غرور اور تکبر کرنے نے کوئی فائدہ نہیں پہنچایا۔
آیت : اھولاء الذین یہ اشارہ مومنین فقراء کے گروہ کی طرف ہے، جیسے حضرت بلال، حضرت سلمان اور حضرت خباب وغیرہ ؓ اقسمتم کیا یہ وہی نہیں ہیں جن کے متعلق تم دنیا میں قسمیں اٹھایا کرتے تھے ؟ آیت : لا ینالھم اللہ کہ آخرت میں اللہ تعالیٰ انہیں عطا نہیں فرمائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
(1) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ونادی اصحب الاعراف رجالا “ یعنی جو آگ میں ہوں گے ” ونادی اصحب الاعراف رجالا یعرفونھم بسیمھم قالوا ما اغنی علیکم جمعکم “ اور تم نے تکبر کیا ” وما کنتم تستکبرون “ کے اللہ تعالیٰ نے تکبر والوں سے فرمایا ” اھولاء الذین اقسمتم لا ینالہم اللہ برحمۃ “ کیا یہ وہی اعراب والے نہیں کہ جن کے بارے میں تم قسمیں اٹھایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنی رحمت سے عطا نہیں کرے گا۔ ” ادخلوا الجنۃ لا خوف علیکم ولا انتم تحزنون “ (ان کو تو حکم مل گیا) کہ جنت میں داخل ہو جاؤتم پر نہ کوئی خوف اور نہ غم ہے۔
(2) امام ابن شیبہ، عبد بن حمید، ابن…
Read the full tafseer →اَهٰٓؤُلَاۗءِ [ کیا یہ ہیں ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جن کی ] اَقْسَمْتُمْ [ تم لوگ قسم کھاتے تھے ] لَا يَنَالُهُمُ [ (کہ ) نہیں پہنچے گا ان کو ] اللّٰهُ [ اللہ ] بِرَحْمَةٍ ۭ [ کسی رحمت سے ] اُدْخُلُوا [ (جنہیں کہا گیا ) داخل ہو ] الْجَنَّةَ [ جنت میں ] لَا خَوْفٌ [ کوئی خوف نہیں ہے ] عَلَيْكُمْ [ تم لوگوں پر ] وَلَآ اَنْتُمْ [ اور نہ ہی تم لوگ ] تَحْزَنُوْنَ [ پچھتاؤگے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
دوزخیوں کا اہل جنت سے پانی طلب کرنا اور دنیا میں واپس آنے کی آرزو کرنا
اہل جنت اور اہل اعراف جو دوزخیوں سے خطاب کریں گے۔ گزشتہ آیات میں اس کا تذکرہ فرمایا۔ اس آیت میں اہل دوزخ کے خطاب کا ذکر ہے وہ اہل جنت سے اپنے عذاب کی تخفیف کے لیے سوال کریں گے اور ان سے اپنے لیے کچھ مانگیں گے، وہ کہیں گے کہ ہمارے اوپر کچھ پانی بہا دو ۔ یا دوسری چیزیں جو تمہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کی گئی ہیں ان میں سے کچھ ہماری طرف بھی بھیج دو ۔ اہل جنت جواب دیں گے کہ جنت کا پانی اور جنت کی نعمتیں اللہ تعالیٰ نے کافروں پر حرام کردی ہیں۔ ہم تمہارا سوال کیسے پورا کرسکتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–53
اہل جنت اور اہل دوزخ اور اہل اعراف کی باہمی گفتگو کا ذکر
قال اللہ تعالیٰ ونادی اصحب الجنۃ اصحب النار۔۔۔ الی۔۔۔ وضل عنھم ما کانوا یفترون،
(ربط) گزشتہ آیات میں اہل جنت اور اہل نار کی جزاء وسزا کا بیان تھا اب ان آیات میں ان مخاطبات اور مکالمات کا ذکر ہے جو دخول جنت و جہنم کے بعد جنتیوں اور دوزخیوں کے مابین ہوں گے اور ان کے ساتھ اہل اعراف کا بھی ذکر فرمایا جن کی حالت ابتدا میں بین بین ہوگی اور بعد میں ان کو جنت میں داخل ہونے کا حکم ہوجائے گا اور اس تمام تذکرہ سے مقصود یہ بتلانا ہے کہ اس روز اہل ایمان کو سعادت کاملہ حاصل ہوگی اور اسلام کے دشمنوں کو انتہائی رنج وغم اور انتہائی حسرت پیش آئے گی جس کی…
Read the full tafseer →55 یہ اصحاب اعراف کے قول ہی کا تتمہ ہے وہ ضعفاء مومنین کی طرف اشارہ کر کے دوزخ میں جلتے ہوئے کافروں سے کہیں گے کیا یہ وہی لوگ ہیں جن کو تم نہایت حقیر و ذلیل سمجھتے تھے اور جن کے بارے میں قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ یہ خدا کی رحمت کے ہرگز مستحق نہیں اور اللہ انہیں جنت میں ہرگز داخل نہیں کرے گا۔ “ اُدْخلُوْا الْجنَّةَ ” ای قیل لھم اب دیکھ لو انہیں اللہ تعالیٰ کا یہ حکم مل چکا ہے کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ جہاں تمہیں کوئی ڈر اور غم نہیں ہوگا اور وہ جنت میں داخل ہو بھی چکے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–51
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کی کامیابی کا ذکر کیا ان کا جنت کی نعمتوں سے متمع ہونا اور خدا کی مہربانی کے مقام میں داخل ہونے کا باین ہوا پھر اللہ نے جنت اور دوزخ والوں کے مکالمے کا ذکر کیا کہ جنت والے دوزخیوں سے کہیں گے کہ اللہ نے جو وعدہ ہم سے کیا تھا ہم نے تو اس کو برحق پایا اب بتائو تمہارے ساتھ اللہ نے جو وعدہ کیا تھا کہ تمہیں دوزخ میں داخل کرے گا کیا تم نے بھی اس وعدے کو سچا پایا دوزخ والے کہیں گے کہ ہاں ہم نے اپنے رب کے وعدے کو سچا پایا پھر درمیان میں ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا کہ خدا تعالیٰ کی لعنت اور پھٹکار ہو ظلم کرنے والوں پر وہ جو اللہ کے راستے سے روکتے…
Read the full tafseer →وَنَادٰٓي اَصْحٰبُ النَّارِ اَصْحٰبَ الْجَنَّۃِ اَنْ اَفِيْضُوْا عَلَيْنَا مِنَ الْمَاۗءِ اَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللہُ 0 ۭ قَالُوْٓا اِنَّ اللہَ حَرَّمَہُمَا عَلَي الْكٰفِرِيْنَ 50 ۙ
فيض
فَاضَ الماء : إذا سال منصبّا . قال تعالی: تَرى أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ [ المائدة/ 83] ، وأَفَاضَ إناء ه : إذا ملأه حتی أساله، وأَفَضْتُهُ. قال : أَنْ أَفِيضُوا عَلَيْنا مِنَ الْماءِ [ الأعراف/ 50]
(ی ض ) فاض الماء کے معنی کسی جگہ سے پانی اچھل کر بہ نکلنا کے ہیں اور آنسو کے بہنے کے لئے بھی آتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ تَرى أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ [ المائدة/ 83] تم دیکھتے ہو کہ ان کی آنکھوں…
Read the full tafseer →3 ؎ جو جنت میں غریب مسلمان ہیں۔ 12 منہ
4 ؎ یعنی اہل اعراف ان فقرائِ اسلام سے کہ جن کے حق میں دنیا میں کفار نے قسمیں کھا کر یہ کہا تھا الزام دینے کے بعد یہ کہیں گے کہ خود ان کافروں پر اللہ کی رحمت نہیں ہوئی سو تم جنت میں بلاخوف داخل ہوجائو۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
گزشتہ آیات میں ہم نے یہ پڑھا ہے کہ جنت اور دوزخ کے درمیان ایک دیوار ہوگی جس کی چوٹیوں پر کچھ لوگ ہوں گے جنھیں اصحاب الاعراف کہا گیا ہے وہ وہاں سے جنت اور جہنم کو دیکھ سکیں گے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن چونکہ دنیا کے طبعی قوانین کو ختم کردیں گے اور آخرت کے وہ حیرت انگیز قوانین نافذ ہوں گے جن کے نتیجے میں انسانی استعداد اور اس کے حواس میں بےپناہ وسعت پیدا ہوجائے گی آج جن چیزوں کو انسان نہیں دیکھ سکتا وہاں وہ بڑی آسانی سے بتمام و کمال ان چیزوں کو دیکھے گا اور جن آوازوں کو محدود حد تک سن سکتا ہے انھیں بےپایاں وسعتوں کے ساتھ سنے گا آج غفلت اور بیخبر ی کا جو پردہ ہماری صلاحیتوں پر تنا ہوا ہے اسے اتار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اصحاب اعراف کا جنتیوں کو سلام اور جہنمیوں کو شرم دلانا۔
اعراف کا معنیٰ بلندی ہے جو جنت اور جہنم کے درمیان لامتنا ہی طول و عرض اور بلند وبالا قسم کی دیوار ہوگی اور اس میں ایک دروازہ بھی ہوگا جس کا قدرے تفصیل کے ساتھ ذکر سورة الحدید آیت 13 میں کیا گیا ہے اس پر تشریف فرما لوگوں کو اصحاب الاعراف کے نام سے پکارا جائے گا یہ کون حضرات ہوں گے ان کے بارے میں قرآن و حدیث میں دو اور دو چار کے الفاظ میں وضاحت نہیں ملتی۔ البتہ مفسرین نے متقدمین کے اقوال سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جن کی نیکیاں اور برائیاں برابر ہوں گی۔ بعض حضرات نے لکھا ہے کہ ان سے…
Read the full tafseer →آیت 49: اَھٰٓؤُلَآ ئِ الَّذِیْنَ (کیا یہ وہی ہیں جن کے متعلق) یہ مبتداء ہے الّذِیْنَ ، یہ مبتداء مضمر کی خبر ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے اھؤلاء ھم الذین اقسمتم کیا یہی وہ لوگ ہیں جن کے متعلق قسمیں اٹھاتے تھے۔ اَقْسَمْتُمْ (تم قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے) تم نے دنیا میں قسمیں اٹھائیں۔ ھٰٓؤلٓاء کا مشارٌ الیہ فقراء مؤمنین ہیں۔ جیسے صہیب و سلمان ؓ لَایَنَالُھُمُ اللّٰہُ بِرَحْمَۃٍ (کہ ان پر اللہ تعالیٰ رحمت نہ کرے گا) یہ اقسمتم کا جواب ہے یہ الذین کے صلہ میں داخل ہے تقدیر عبارت یہ ہے تم ان کے متعلق قسمیں اٹھاتے تھے کہ ان کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے نہ نوازیں گے۔ یعنی ان کو جنت میں داخل نہ کریں گے…
Read the full tafseer →(49) (اھولاء الذین اقسمتم لا ینالھم اللہ برحمۃ) یعنی تم نے قسم اٹھائی تھی کہ یہ جنت میں داخل نہ ہوں گے۔ پھر اعراف والوں کو کہا جائے گا (ادخلوا الجنۃ لاخوف علیکم ولا انتم تحزنون) یہاں ایک دوسرا قول ہے کہ جب اعراف والے جہنمیوں کو یہ باتیں کہیں گے تو وہ کہیں گے کہ اگر یہ لوگ جنت میں داخل ہوگئے ہیں تو تم تو داخل نہیں ہوئے تو ان کو عار دلائیں گے اور قسم کھائیں گے کہ تم جہنم میں داخل ہو گے تو جو فرشتے اعراف والوں کو روکے ہوئے ہوں گے وہ کہیں گے کہ تم ان اعراف والوں کے بارے میں قسم کھا رہے ہو کہ ان کو اللہ کی رحمت نہ پہنچے گی ؟ پھر ان اعراف والوں کو کہیں گے تم جنت میں داخل ہو جائو نہ ڈر ہے تم پر اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
(48 ۔ 49) ۔ اس آیت شریفہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اعراف والے بڑے بڑے مشرک اور کافروں سے کہ جن کو پہچانتے ہونگے جھڑکی کے طور پر کہیں گے کہ تمہارا وہ مال جو تم نے دنیا میں جمع کیا تھا یا تمہاری کثرت اور جمعیت اور تکبر آج تمہارے کچھ کام نہ آیا آخر عذاب میں گرفتار ہوئے پھر ان کو حسرت دلانے کی غرض سے غریب مسلمانوں کی طرف اشارہ کر کے کہیں گے کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کے حق میں تم قسم کھا کر کہتے تھے کہ ان پر خدا کی رحمت نہ ہوگی اور نہ یہ جنت میں جاویں گے لو اب یہی لوگ تمہارے سامنے جنت میں جاتے ہیں پھر اہل اعراف سے کہا جاویگا کہ تم بھی جنت میں داخل ہو تم کو کچھ خوف و غم نہیں ہے حضرت عبداللہ بن عباس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–52
آیت 46
یعنی اہل جنت اور اہل جہنم کے درمیان ایک حجاب ہوگا جسے ” مقام اعراف “ کہا جائے گا۔ یہ مقام جنت میں شامل ہوگا نہ جہنم میں۔ اس مقام سے جنت اور جہنم دونوں میں جھانکا جاسکے گا اور جنتیوں اور جہنمیوں کے احوال کو دیکھا جاسکے گا۔ اس مقام اعراف میں کچھ لوگ ہوں گے جو اہل جنت اور اہل جہنم کو ان کی ان علامات کے ذریعے سے پہچانتے ہوں گے جو ان کی امتیازی علامات ہیں۔ جب وہ اہل جنت کی طرف دیکھیں گے تو پکار کر کہیں گے (ان سلم علیکم) ” سلامتی ہے تم پر “ یعنی وہ ان پر سلام کہیں گے۔ وہ ابھی تک جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے البتہ وہ جنت میں داخلے کے امیدوار ہوں گے اور اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں امید تب ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–54
فواحش سے مراد
قول باری ہے قل انما حرم ربی الفواحش ماظھرمنھا وما بطن ولاثم والبغی بغیر الحق۔ اے محمد ﷺ ، ان سے کہو کہ میرے رب نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ تو یہ ہیں، بےشرمی کے کام خواہ کھلے ہوں یا چھپے اور گناہ اور حق کے خلاف زیادتی) مجاہد کا قول ہے کہ فواحش سے زنا مراد ہے یہ سری خواحش ہے اور برہنہ حالت میں طواف کرنا جہری فواحش ہے۔ ایک قول ہے کہ بےشرمی کے تمام کام فواحش ہیں۔ شروع میں اجمالاً ان کا ذکر کیا پھر ان کی مختلف صورتوں کی تفصیل بیان کردی اور یہ فرمایا کہ گناہ حق کے خلاف زیادتی اور اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہرانا فواحش کی صورتیں ہیں۔ یعنی لوگوں پر ناحق اور بزور قوت غلبہ جمانے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
66 متکبروں کے کبر و غرور پر اصحاب اعراف کی طرف سے ایک چوٹ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اعراف والے دوزخ میں بڑی کچھ ایسی بڑی شخصیتوں سے جن کو وہ پہچانتے ہوں گے ان کی نشانیوں سے ان سے کہیں گے کہ صاحب یہ کیا ہوا کہ نہ تم لوگوں کو تمہارے جتھے اور جماعتوں میں سے کچھ کام آسکا۔ اور نہ ہی تمہارے مال و دولت میں سے۔ سو اس طرح اصحاب اعراف ان دوزخیوں کی طرف متوجہ ہو کر ان کے کبر و غرور پر چوٹ لگاتے ہوئے اور ان کے بت پندار پر ٹھوکر مارتے ہوئے ان سے کہیں گے کہ صاحب یہ کیا ہوا کہ آج نہ تمہارا کوئی جتھا تمہارے کچھ کام آسکا اور نہ کوئی پارٹی اور قوم قبیلہ اور نہ ہی تمہارا وہ مال و دولت جس کا تمہیں بڑا دعویٰ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–53
اہل جنت اور اہل جہنم کا مکالمہ اور اصحاب اعراف کا تذکرہ
تشریح : آیات 44 تا 53 میں جو کچھ بتایا گیا ہے انتہائی عبرت دلانے والا اور خوش کرنے والا ہے۔ کیونکہ اللہ رب العزت نے اہل جنت اور اہل جہنم کی آپس میں گفتگو نیز اصحاب اعراف کا ایسا نقشہ کھینچا ہے لگتا ہے سب کچھ سامنے ہو رہا ہے۔ یہ سب راز کی باتیں ہیں انسان کی نظر سے پوشیدہ اور تصور سے باہر۔ مگر اللہ سبحانہ تعالیٰ کیونکہ اپنے بندوں پر حد سے زیادہ مہربان ہے اور رحیم و کریم ہے اس لیے لوگوں کو دنیا کی مصیبتوں اور آخرت کے عذاب سے بچانے کے لیے رسول بھیجے، پھر آخری رسول محمد ﷺ پر قرآن مجید نازل فرما کر لوگوں کو خبردار کرنے کے لیے بھیجا۔ مگر کفار و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–53
رکوع نمبر 6 ۔ آیات 48 ۔ تا۔ 53
اسرار و معارف :
جہنم میں پڑے ہوئے بعض لوگوں کو تو ان کی شکلوں تک سے پہچانتے ہوں گے اور دنیا میں ان کے کردار سے واقف ہوں گے جب وہ محض مال و دولت یا اختیار و اقتدار پر نازاں عظمت الہی اور دار آخرت کو بھولے ہوئے تھے نہ صرف یہ بلکہ نیک لوگوں پہ پھبتیاں کہتے تھے کہ انہیں دیکھ ویہ آخرت کے انعامات کی امید میں یہاں عبادات کی مصیبت میں پڑے ہیں اور فقر و فاقہ میں بھی شکر ادا کرتے ہیں دولت و مال مل جائے تو بھی عیش ان کے نصیب میں نہیں بھلا آخرت میں انہیں خاک آرام نصیب ہوگا دنیا والوں کے ساتھ تو یہ چل نہیں سکتے اور چلے ہیں آخرت کو پانے ۔
اہل اعراف ان کی یہ باتیں انہیں یاد…
Read the full tafseer →ف 10 جیسا کہ قریش کے کھاتے پیتے لوگ جب نبی ﷺ کے پاد غریب مسلمانوں کو دیکھتے تو قسمیں کھاکھا کر کہتے کہ ان لوگوں یہ حیثیت نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت سے نوازے پھر اللہ تعالیٰ نے ان غریب مسلمانوں سے یا اعراف والوں سے فرمائے گا (وحیدی )
Read the full tafseer →(7:49) اھولاء الذین میں أ استفہامیہ ھولاء اسم اشارہ قریب (مبتدا ) اسکا مشار الیہ اصحاب الجنۃ محذوف ہے۔ الذین خبر۔ اقسمتم (تم قسمیں کھاتے تھے) ۔
لا ینالہم اللہ برحمۃ۔ الذین کے صلہ میں داخل ہے۔
تقدیر کلام یوں ہے۔ أھولاء ھم الذین اقسمتم علیہم بان لاینالہم اللہ برحمۃ۔ کیا یہ (جنتی) لوگ وہی ہیں جن کی نسبت تم قسمیں کھاتے تھے کہ اللہ اپنی رحمت سے ان کو نہیں نوازے گا۔
ادخلوا ۔۔ تحزنون۔ (کلام متذکرہ بالا کے بعد اہل جنت کی طرف متوجہ ہوکر وہ یہ کہیں گے یا ان کا کلام برحمۃ پر ختم ہوگیا اور یہ جملہ اصحاب اعراف کے حق میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے کہا گیا کہ اب تم نے اصحاب الجنۃ اور اصحاب النار کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–49
لغات القرآن آیت نمبر (44 تا 49 ) ۔
وجدنا (ہم نے پا لیا ) ۔ وعدنا (ہم سے وعدہ کیا تھا) ۔ حق (سچ ۔ سچا ) ۔ وجدتم (تم نے پایا ) ۔ نعم (جی ہاں) ۔ موذن (پکارنے والا۔ اعلان کرنے والا ) ۔ یصدون (وہ روکتے ہیں ) ۔ یبغون (وہ تلاش کرتے ہیں ) ۔ عوج (ٹیڑ ھا پن۔ کجی ) ۔ حجاب (پردہ ) ۔ الاعراف (ٹیلے۔ پردے) ۔ یطمعون (وہ امید رکھتے ہیں) ۔ صرفت (پھیر دی گئی۔ (پھیر دی جائیں گی) ۔ لا تجعلنا (تونہ بنا ہمیں) ۔ یعرفون (وہ پہچان لیں گے ) ۔ سیما (پیشانیاں۔ نشانیاں ) ۔
تشریح : آیت نمبر (44 تا 49 ) ۔ ” ان آیات میں تین جماعتوں کا ذکر فرمایا گیا ہے (1) اہل جنت (2) اہل جہنم (3) جنت اور جہنم کے درمیان کسی اونچے مقام پر جنت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
مطلب یہ ہے کہ دوزخ والے جنت والوں سے بھیک کی طرح گڑگڑا کر تھوڑے سے پانی اور کھانے کا سوال کریں گے، مگر ان کو کچھ نہ دیا جائے گا، بلکہ جنتی صاف جواب دیویں گے کہ جنت کی یہ دونوں چیزیں خدائے تعالیٰ نے تم پر حرام کردیں ہیں، اس لئے تم کو کوئی چیز نہیں مل سکتی ہے۔ کیونکہ تم نے دنیا میں نافرمانی کی اور جس طرح دنیا میں تم لوگوں نے مجھ کو بھلا دیا تھا اسی طرح آج میں بھی بھولے بسروں کی طرح تم لوگوں کو اپنی نظر رحمت سے دور ڈالتا ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–53
[23] یعنی وعدہ سزا کا عملی ظہور جس کی خبر قرآن میں دی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
(ف 1) (آیت) ” ادخلوا الجنۃ “۔ سے پہلے محذوف ہے عبارت سے سمجھ میں آجاتا ہے کہا گیا ہے کہ جنت میں داخل ہوجاؤ ،
” فالیوم ننسھم “۔ سے مراد یہ نہیں کہ اللہ ان کو بھول جائے گا کیونکہ وہ نسیان وسہو سے بلند ہے ، مقصد یہ ہے کہ ان سے بالکل اس قسم کا سلوک روا رکھا جائے گا کہ گویا ہم بھول گئے ہیں ۔
حل لغات :
حرمھما : تحریم سے مراد ممانعت ہے یعنی اللہ نے روک رکھا ہے ۔
Read the full tafseer →49 اور کیوں جی کیا یہ جنتی لوگ وہی نہیں ہیں جن کے متعلق تم قسمیں کھا کھا کر یہ کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان ذلیل لوگوں پر اپنی رحمت نہیں کرے گا حالانکہ ان کو حکم دیدیا گیا کہ تم سب جنت میں داخل ہوجائو تم پر نہ کسی قسم کا خوف ہے اور نہ تم غمگین ہوگے یعنی ان سب کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت اور فضل سے جنت میں جانے کا حکم دیدیا یہ وہی تو ہیں جن پر دنیا میں تم پھبتیاں کسا کرتے تھے اور ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–50
ف 6۔ اس کا خاصہ یہ ہوگا کہ جنت کا اثر دوزخ تک اور دوزخ کا اثر جنت تک نہ جانے دے گی۔
Read the full tafseer →کیا یہ اہل جنت وہی لوگ نہیں جن کے متعلق ناکام ہونے کی تم قسمیں کھاتے تھے :
60: یہی لوگ جو آج جنت میں عیش کر رہے ہیں اشارہ ان لوگوں کی طرف ہے جو باوجود دولت ایمان سے مالا مال ہونے کے مادی دولت و وجاہت سے دنیا میں تہی دست تھے اس لئے اہل کبر وضلال کی نظروں میں حقیر و ذلیل سمجھے جاتے تھے جیسے حضرات صحابہ ؓ میں بلال حبشی ؓ اور سلمان فارسی ؓ وغیرہما تھے۔ یہ بات کون کر رہا ہے اور کس سے کر رہا ہے ؟ یہ اہل اعراف کہہ رہے ہیں اہل دوزخ کو اور بات کر رہے ہیں اہل جنت کی کہ تم تو دنیا میں اہل ایمان کو ہر طرح سے حقیر و ذلیل سمجھتے تھے مگر یہاں تو دیکھو انہیں اس اعزاز واکرام کا مقام دیا گیا ہے اور ان کی خوب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–53
Said in the sixth verse (49) is: أَهَـٰؤُلَاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ اللَّـهُ بِرَحْمَةٍ ۚ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلَا أَنتُمْ تَحْزَنُونَ ﴿49﴾ (Is it these for whom you swore that Allah would not reach them with mercy?" - "Enter the Paradise; there is no fear on you, nor shall you grieve).
Explaining this, Sayyidna ` Abdullah ibn ` Abbas ؓ says: When the questions and answers between the people of A` raf and the people of Paradise and Hell both will be over, that will be the time when the Lord of all the worlds will address the people of Hell and tell…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–51
35. The trialogue between the People of Paradise, the People of the Fire. and the People of the Heights gives some indication of the tremendous range of human faculties in the Next World. These faculties would increase to such an extent that the People of Paradise, the People of the Fire and the People of the Heights will be able to see, hear and talk to one another. Other Qur'anic statements about the Hereafter enable us to realize that the laws operating in the Next World will be altogether different from those in the present. Notwithstanding this, men's personalities will not undergo any…
Read the full tafseer →