Al-A'raaf 7:48

Al-A'raaf · from ayah 48

7:48

وَنَادٰۤی اَصْحٰبُ الْاَعْرَافِ رِجَالًا یَّعْرِفُوْنَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ قَالُوْا مَاۤ اَغْنٰی عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ ۟وَنَادٰٓى اَصۡحٰبُ الۡاَعۡرَافِ رِجَالًا يَّعۡرِفُوۡنَهُمۡ بِسِيۡمٰٮهُمۡ قَالُوۡا مَاۤ اَغۡنٰى عَنۡكُمۡ جَمۡعُكُمۡ وَمَا كُنۡتُمۡ تَسۡتَكۡبِرُوۡنَ‏

اور اہل اعراف (کافر) لوگوں کو جنہیں ان کی صورتوں سے شناخت کرتے ہوں گے پکاریں گے اور کہیں گے (کہ آج) نہ تو تمہاری جماعت ہی تمہارے کچھ کام آئی اور نہ تمہارا تکبّر (ہی سودمند ہوا)

— Fateh Muhammad Jalandhari

And the companions of the Elevations will call to men [within Hell] whom they recognize by their mark, saying, "Of no avail to you was your gathering and [the fact] that you were arrogant."

— Saheeh International

Juz 8 · Ruku 6 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:48

پھر یہ اعراف کے لوگ دوزخ کی چند بڑی بڑی شخصیتوں کو ان کی علامتوں سے پہچان کر پکاریں گے کہ "دیکھ لیا تم نے، آج نہ تمہارے جتھے تمہارے کسی کام آئے اور نہ وہ ساز و سامان جن کو تم بڑی چیز سمجھتے تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اہل اعراف (کافر) لوگوں کو جنہیں ان کی صورتوں سے شناخت کرتے ہوں گے پکاریں گے اور کہیں گے (کہ آج) نہ تو تمہاری جماعت ہی تمہارے کچھ کام آئی اور نہ تمہارا تکبّر (ہی سودمند ہوا)

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اہل اعراف بہت سے آدمیوں کو جن کو کہ ان کے قیافہ سے پہچانیں گے پکاریں گے کہیں گے کہ تمہاری جماعت اور تمہارا اپنے کو بڑا سمجھنا تمہارے کچھ کام نہ آیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اعراف والے ان لوگوں کو آواز دیں گے جن کو وہ ان کی علامتوں سے پہچانتے ہوں گے۔ کہیں گے کہ : نہ تمہاری جمع پونجی تمہارے کچھ کام آئی، اور نہ وہ جنہیں تم بڑا سمجھے بیٹھے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اعراف والے کچھ مردوں کو پکاریں گے جنہیں ان کی پیشانی سے پہچانتے ہیں کہیں گے تمہیں کیا کام آیا تمہارا جتھا اور وہ جو تم غرور کرتے تھے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اہلِ اعراف (ان دوزخی) مردوں کو پکاریں گے جنہیں وہ ان کی نشانیوں سے پہچان رہے ہوں گے (ان سے) کہیں گے: تمہاری جماعتیں تمہارے کام نہ آسکیں اور نہ (وہ) تکبّر (تمہیں بچا سکا) جو تم کیا کرتے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ان بلندیوں والے کچھ مردوں کو آواز دیں گے، جنھیں وہ ان کی نشانی سے پہچانتے ہوں گے، کہیں گے تمہارے کام نہ تمہاری جماعت آئی اور نہ جو تم بڑے بنتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور یہ اہل اعراف کچھ لوگوں کو ان کی پیشانیوں سے پہچان کر آواز دیں گے : (کہ آج) نہ تمہاری جمعیت تمہارے کچھ کام آئی اور نہ وہ چیزیں جن کے بل پر تم اکڑا کرتے تھے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور برجیوں والے کچھ اشخاص کو جن کو وہ ان کی علامت سے پہچانتے ہوں گے، آواز دیں گے، کہیں گے، کیا کام آئی تمہارے تمہاری جمعیت اور تمہارا وہ سارا گھمنڈ جو تم کرتے تھے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اعراف والے (دوزخ کی (کچھ ایسی بڑی بڑی شخصیتوں کو جنہیں وہ پچانتے ہوں گے، ان کی نشانیوں سے، پکار کر کہیں گے کہ (صاحب ! یہ کیا ہوا ؟ کہ) نہ تو تمہیں تمہارا جتھا کچھ کام آسکا، اور نہ ہی وہ کچھ جس کی بناء پر تم اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا تھے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور اعراف والے پکاریں گے (بہت سے) اشخاص کو جنہیں وہ ان کے قیافہ سے پہچانیں گے (اور) کہیں گے کہ تمہارے کچھ کام نہ آیا تمہارا جتھا اور تمہارا اپنے کو بڑا سمجھنا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور پکاریں گے اہل اعراف (اہل جہنم میں سے) ان لوگوں کو جنہیں وہ پہچانتے ہوں گے ان کی نشانی سے کہیں گے کہ تمہارے کچھ کام نہ آئی تمہاری جمعیت اور (نہ وہ) جو کچھ تم تکبر کیا کرتے تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اہل اعراف کافر لوگوں کو جنہیں وہ ان کی شکلوں سے پہچانتے ہوں گے پکار کر کہیں گے کہ آج نہ تو تمہاری جماعت ہی تمہارے کچھ کام آئی اور نہ تمہارا تکبر ہی فائدہ مند ہوا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And the people of the Heights will cry out to the men whom they would recognize by their marks. saving: 'Neither your numbers nor the riches of which you were proud availed you.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

The people of A_raf will call out to the people (of Fire) whom they will recognize through their signs: :Your masses were not of any help to you, nor was the arrogance you used to show.

— Muhammad Taqi Usmani

The people of A_raf will call out to the people (of Fire) whom they will recognize through their signs: :Your masses were not of any help to you, nor was the arrogance you used to show.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And the men on Al-A`raf will call unto the men whom they would recognize by their marks, saying: "Of what benefit to you was your gathering, and your arrogance"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And the dwellers on the Heights call unto men whom they know by their marks, (saying): What did your multitude and that in which ye took your pride avail you?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And the companions of the Elevations will call to men [within Hell] whom they recognize by their mark, saying, "Of no avail to you was your gathering and [the fact] that you were arrogant."

— Saheeh International

The people of the Heights will say to those (in hell) whose faces they recognize, "Why did your supporters and your pride not help you?"

— Muhammad Sarwar

And the dwellers of the most elevated places shall call out to men whom they will recognize by their marks saying: Of no avail were to you your amassings and your behaving haughtily:

— Muhammad Habib Shakir

And the fellows of the heights will cry unto the men whom they would recognise by their mark, and say: your multitude availed you naught nor that over which ye were wont to be stiff-necked.

— Abdul Majid Daryabadi

The men on the heights will call to certain men whom they will know from their marks, saying: "Of what profit to you were your hoards and your arrogant ways?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:48

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 48–49

کفر کے ستون اور ان کا حشر کفر کے جن ستونوں کو، کافروں کے جن سرداروں کو اعراف والے ان کے چہروں سے پہچان لیں گے انہیں ڈانٹ ڈپٹ کر کے پوچھیں گے کہ آج تمہاری کثرت جمعیت کہاں گئی ؟ اس نے تو تمہیں مطلقاً فائدہ نہ پہنچایا۔ آج وہ تمہاری اکڑفوں کیا ہوئی تم تو بری طرح عذابوں میں جکڑ دیئے گئے۔ ان کے بعد ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں فرمایا جائے گا کہ بد بختو انہی کی نسبت تم کہا کرتے تھے کہ اللہ انہیں کوئی راحت نہیں دے گا۔ اے اعراف والو میں تمہیں اجازت دیتا ہوں کہ جاؤ بہ آرام بےکھٹکے جنت میں جاؤ۔ حضرت حذیفہ ؓ فرماتے ہیں کہ اعراف والوں کے اعمال صالحہ اس قابل نہ نکلے کہ انہیں جنت میں پہنچائیں لیکن اتنی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 47–51

سورة الْاَعْرَاف 35 اہل جنت اور اہل دوزخ اور اصحاب الاعراف کی اس گفتگو سے کسی حد تک اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ عالم آخرت میں انسان کی قوتوں کا پیمانہ کس قدر وسیع ہوجائے گا۔ وہاں آنکھوں کی بینائی اتنے بڑے پیمانہ پر ہوگی کہ جنت اور دوزخ اور اعراف کے لوگ جب چاہیں گے ایک دوسرے کو دیکھ سکیں گے۔ وہاں آواز اور سماعت بھی اتنے بڑے پیمانہ پر ہوگی کہ ان مختلف دنیاؤں کے لوگ ایک دوسرے سے بآسانی گفت و شینید کرسکیں گے۔ یہ اور ایسے ہی دوسرے بیانات جو عالم آخرت کے متعلق ہمیں قرآن میں ملتے ہیں۔ اس بات کا تصور دلانے کے لیے کافی ہیں کہ وہاں زندگی کے قوانین ہماری موجودہ دنیا کے قوانین طبیعی سے بالکل مختلف ہوں گے،…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

پانچویں آیت میں یہ بھی مذکور ہے کہ اہل اعراف اہل جہنم کو خطاب کرکے بطور علامت کے یہ کہیں گے کہ دنیا میں تم کو جس مال و دولت اور جماعت اور جتھہ پر بھروسہ تھا اور جن کی وجہ سے تم تکبر و غرور میں مبتلا تھے آج وہ کچھ تمہارے کام نہ آیا۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَنَادٰٓي اَصْحٰبُ الْاَعْرَافِ رِجَالًا يَّعْرِفُوْنَهُمْ بِسِيْمٰىهُمْ قَالُوْا مَآ اَغْنٰى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ اصحاب الاعراف کا خطاب کفار کے لیڈروں سے : اصحاب اعراف کا یہ خطاب الفاظ سے واضح ہے کہ اہل دوزخ کے لیڈروں سے ہوگا اس لیے کہ اپنی جمعیت پر ناز اور اپنے مال و جاہ پر غرہ انہی کو تھا۔ دوخ میں یہ لوگ اپنے نمایاں نشان سے ممتاز ہوں گے اس وجہ سے اہل اعراف پہچان جائیں گے کہ یہ ابولہب ہے، ایہ ابوجہل، یہ فلاں اور یہ فلاں، ان کو مخاطب کر کے اہل اعراف ان سے یہ سوال بطور تفضیح کریں گے۔ ہر دور کے ائمہ کفر کا اپنے مال و اسباب اور اپنی تعداد و جمعیت پر غرہ قرآن میں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

48۔ 1 یہ اہل دوزخ ہونگے جن کو اصحاب الاعراف ان کی علامتوں سے پہچان لیں گے اور وہ اپنے جتھے اور دوسری چیزوں پر جو گھمنڈ کرتے تھے اس کے حال سے انہیں یاد دلائیں گے کہ یہ چیزیں تمہارے کچھ کام نہ آئیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 48–52

26: اس سے اشارہ ان دیوتاؤں کی طرف ہے جن کو انہوں نے خدائی میں اللہ تعالیٰ کا شریک مانا ہوا تھا، نیز ان سرداروں اور پیشواؤں کی طرف جنہیں بڑا مان کر انہوں نے بےسوچے سمجھے ان کی پیروی کی، اور یہ سمجھ بیٹے کہ یہ لوگ انہیں اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچالیں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 46–50

روایات میں آتا ہے کہ اعراف جو لوگ کھڑے ہوں گے ۔ یہ انسانوں ہی کا ایک گروہ ہوگا ‘ یاد رہے کہ اعراف جنت میں اور دوزخ کے درمیان حائل جگہ ہوگی ‘ یہ وہ لوگ ہوں گے جن کی نیکیاں اور برائیاں وزن میں برابر ہوں گی ۔ نہ نیکی انہیں جنت میں اہل جنت کے ساتھ لے جاسکے گی اور نہ برائی انہیں اہل جہنم کے ساتھ جہنم میں لے جاسکے گی ۔ یہ لوگ بین بین ہوں گے اور اللہ کے فضل اور رحمت کے انتظار میں ہوں گے ۔ یہ لوگ اہل جنت کو ان کی علامات کی وجہ سے پہچان سکیں گے ‘ کیونکہ اہل جنت کے چہرے ہشاش بشاش اور سفید ہوں گے ‘ انکے آگے ایک نور جاری وساری ہوگا اور ان کا ایمان محسوس ہوگا ۔ یہ لوگ اہل جہنم کو بھی ان کی علامات سے پہچان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی علاوہ دوزخ میں معذب ہونے کے ان کے چہروں سے دوزخی ہونے کی علامات ہویدا ہوں گی۔ یا یہ مطلب ہے کہ وہ ایسے لوگ ہوں گے جن کو اصحاب اعراف نے دنیا میں دیکھا ہوگا۔ اس لئے وہاں صورت دیکھ کر پہچان لیں گے۔ 5 یعنی اس مصیبت کے وقت تمہاری وہ جماعتیں اور جتھے کہاں گئے اور دنیا میں جو بڑھ بڑھ کر شیخیاں مارتے تھے، وہ اب کیا ہوئیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 48 وَنَادآی اَصْحٰبُ الْاَعْرَافِ رِجَالاً یَّعْرِفُوْنَہُمْ بِسِیْمٰٹہُمْ قَالُوْا مَآ اَغْنٰی عَنْکُمْ جَمْعُکُمْ وَمَا کُنْتُمْ تَسْتَکْبِرُوْنَ ۔ وہ انہیں یاد دلائیں گے کہ وہ تمہارے حاشیہ نشین ‘ تمہارے وہ لاؤ لشکر ‘ تمہارا وہ غرور وتکبر ‘ وہ جاہ وحشم سب کہاں گئے ؟ اے ابو جہل ! یہ تیرے ساتھ کیا ہوا ؟ اور اے ولید بن مغیرہ ! یہ تیرا کیا انجام ہوا ؟

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 47–49

48 اہل اعراف کا اہل دوزخ سے مکالمہ :۔ یعنی اصحاب اعراف دوزخیوں کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہ کریں گے کیونکہ وہ خود بھی بیم ورجاء کی حالت میں ہوں گے دوزخ سے ڈر رہے ہوں گے اور جنت کی آس لگائے ہوئے ہوں گے لہذا ان کی آنکھوں کو اہل جہنم کی طرف پھیرا جائے گا تو پہلی بات جو ان کے منہ سے نکلے گی وہ یہ ہوگی کہ اے اللہ ! ہمیں ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کرنا۔ پھر جب نظر پڑ ہی گئی تو سب سے پہلی بات جو وہ اہل دوزخ سے پوچھیں گے یہ ہوگی کہ آج تمہارا وہ جتھا کہاں گیا جس کے متعلق شیخیاں بگھارا کرتے تھے۔ جیسا کہ جب سورة مدثر کی یہ آیت نازل ہوئی کہ دوزخ پر انیس داروغے مقرر ہیں تو کافر کہنے لگے کہ ہم تو ہزاروں کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

67 ۔ (اور اپنی اس قوت و جمعیت کی بنا پر انبیاء کی راہ کا اتباع نہ کرنا) (آیت) ” قالوا یہ بول اٹھنا فرط ہول و دہشت سے ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 48–49

آیت نمبر 48 تا 53 ترجمہ : اور اہل اعراف جہنمیوں میں سے بڑے بڑے لوگوں سے جن کو وہ ان کی علامتوں سے پہچانتے ہوں گے پکار کر کہیں گے (سوال کریں گے) کہ تمہارا مال کو جمع کرنا یا تمہاری اکثریت اور تمہارا ایمان سے تکبر کرنا آگ سے بچانے میں کیا کام آیا ؟ اور (اہل اعراف) ضعفاء مسلمین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دوزخیوں سے کہیں گے، کیا یہ اہل جنت وہی لوگ نہیں ہیں جن کے متعلق تم نے قسم کھا کر کہا تھا کہ ان کو خدا کی رحمت کا کچھ بھی حصہ نہ ملے گا ؟ ان سے کہہ دیا گیا ہے کہ جنت میں داخل ہوجاؤ اس حال میں کہ تمہارے لئے نہ کوئی خوف ہے اور نہ غم اُدْخِلُوا، مجہول کے صیغہ کے ساتھ اور دَخَلوا (ماضی معروف) کے ساتھ بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ونادی اصحب الاعراف رجالا یعرفونہم بسیمہم قالوا ما اغنی عنکم جمعکم وما کنتم تستکبرون اور اعراف والے کچھ لوگوں کو ان کی علامات سے پہچان کر پکار کر کہیں گے کہ (آج) تمہارے جتھے اور وہ چیزیں جن پر تم غرور کیا کرتے تھے تم کو کوئی فائدہ نہ پہنچا سکے۔ غرور کرنے سے مراد ہے حق کو حقیر سمجھ کر اعراض کرنا یا مخلوق کے مقابلہ میں غرور کرنا۔ اعراف والے جن لوگوں سے یہ کلام کریں گے وہ وہی کافر ہوں گے جو دنیا میں بڑے مانے جاتے تھے۔ جمع سے مراد ہے قوم برادری ‘ اولاد اور مددگاروں کے جتھوں کی کثرت اور مال جمع کرنا۔ کلبی نے کہا وہ دیوار اعراف پر سے پکاریں گے اے ولید بن مغیرہ ‘ اے ابو جہل بن ہشام ‘ اے فلاں اے فلاں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(48) اور یہ اصحاب اعراف بہت سے کافروں کو ان کی سیاہ اور بدنما صورتوں اور نیلی آنکھوں کی وجہ سے دوزخ میں داخلہ کے وقت پہچان کر کہیں گے مثلا اے ولید بن مغیرہ، اے ابوجہل، اے امیہ بن خلف، اے ابی بن خلف، اے اسود بن عبدالمطلب، اے رؤسا، کفار ! تمہارا مال و دولت اور رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لانے سے تکبر کرنا آج تمہارے کچھ کام نہ آسکا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

يَّعْرِفُوْنَهُمْ بِسِيْمٰىهُمْ : کہ یہ جہنمی ہیں، یا جن کو وہ دنیا میں پہچانتے ہوں گے۔ مَآ اَغْنٰى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”قیامت کے دن اہل نار میں سے اس شخص کو لایا جائے گا جو دنیا میں سب سے زیادہ خوش حال تھا، پھر اسے آگ میں ایک غوطہ دیا جائے گا، پھر کہا جائے گا : ”اے ابن آدم ! تو نے کبھی کوئی آرام دیکھا تھا ؟“ وہ کہے گا : ”نہیں، اللہ کی قسم ! اے میرے رب !“ [ مسلم، صفات المنافقین واحکامہم، باب صبغ أنعم أہل الدنیا فی النار۔۔ : 2807 ]

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 48–49

آیت نمبر : 48۔ 49 قولہ تعالیٰ : آیت : ونادی اصحب الاعراف رجالا یعرفونھم بسیمھم یعنی اعراف والے اہل نار میں سے ان لوگوں کو کہیں گے جنہیں وہ ان کی علامتوں سے پہنچانتے ہوں گے۔ آیت : قالوا ما اغنی عنکم جمعکم وما کنتم تستکبرون وہ انہیں کہیں گے : تمہیںٰ دنیا کے لیے جمع کیے گئے مال نے اور ایمان سے تمہارے غرور اور تکبر کرنے نے کوئی فائدہ نہیں پہنچایا۔ آیت : اھولاء الذین یہ اشارہ مومنین فقراء کے گروہ کی طرف ہے، جیسے حضرت بلال، حضرت سلمان اور حضرت خباب وغیرہ ؓ اقسمتم کیا یہ وہی نہیں ہیں جن کے متعلق تم دنیا میں قسمیں اٹھایا کرتے تھے ؟ آیت : لا ینالھم اللہ کہ آخرت میں اللہ تعالیٰ انہیں عطا نہیں فرمائے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 48–49

(1) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ونادی اصحب الاعراف رجالا “ یعنی جو آگ میں ہوں گے ” ونادی اصحب الاعراف رجالا یعرفونھم بسیمھم قالوا ما اغنی علیکم جمعکم “ اور تم نے تکبر کیا ” وما کنتم تستکبرون “ کے اللہ تعالیٰ نے تکبر والوں سے فرمایا ” اھولاء الذین اقسمتم لا ینالہم اللہ برحمۃ “ کیا یہ وہی اعراب والے نہیں کہ جن کے بارے میں تم قسمیں اٹھایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنی رحمت سے عطا نہیں کرے گا۔ ” ادخلوا الجنۃ لا خوف علیکم ولا انتم تحزنون “ (ان کو تو حکم مل گیا) کہ جنت میں داخل ہو جاؤتم پر نہ کوئی خوف اور نہ غم ہے۔ (2) امام ابن شیبہ، عبد بن حمید، ابن…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَنَادٰٓي [ اور پکاریں گے ] اَصْحٰبُ الْاَعْرَافِ [ بلندیوں والے ] رِجَالًا [ کچھ لوگوں کو ] يَّعْرِفُوْنَهُمْ [ وہ پہچانتے ہوں گے جن کو ] بِسِيْمٰىهُمْ [ ان کی نشانی سے ] قَالُوْا [ کہیں گے ] مَآ اَغْنٰى [ کام نہ آئی ] عَنْكُمْ [ تمہارے ] جَمْعُكُمْ [ تمہارے جتھ بندی ] وَمَا [ اور وہ جس پر ] كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ [ تم لوگ گھمنڈ کرتے تھے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 47–50

دوزخیوں کا اہل جنت سے پانی طلب کرنا اور دنیا میں واپس آنے کی آرزو کرنا اہل جنت اور اہل اعراف جو دوزخیوں سے خطاب کریں گے۔ گزشتہ آیات میں اس کا تذکرہ فرمایا۔ اس آیت میں اہل دوزخ کے خطاب کا ذکر ہے وہ اہل جنت سے اپنے عذاب کی تخفیف کے لیے سوال کریں گے اور ان سے اپنے لیے کچھ مانگیں گے، وہ کہیں گے کہ ہمارے اوپر کچھ پانی بہا دو ۔ یا دوسری چیزیں جو تمہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کی گئی ہیں ان میں سے کچھ ہماری طرف بھی بھیج دو ۔ اہل جنت جواب دیں گے کہ جنت کا پانی اور جنت کی نعمتیں اللہ تعالیٰ نے کافروں پر حرام کردی ہیں۔ ہم تمہارا سوال کیسے پورا کرسکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 44–53

اہل جنت اور اہل دوزخ اور اہل اعراف کی باہمی گفتگو کا ذکر قال اللہ تعالیٰ ونادی اصحب الجنۃ اصحب النار۔۔۔ الی۔۔۔ وضل عنھم ما کانوا یفترون، (ربط) گزشتہ آیات میں اہل جنت اور اہل نار کی جزاء وسزا کا بیان تھا اب ان آیات میں ان مخاطبات اور مکالمات کا ذکر ہے جو دخول جنت و جہنم کے بعد جنتیوں اور دوزخیوں کے مابین ہوں گے اور ان کے ساتھ اہل اعراف کا بھی ذکر فرمایا جن کی حالت ابتدا میں بین بین ہوگی اور بعد میں ان کو جنت میں داخل ہونے کا حکم ہوجائے گا اور اس تمام تذکرہ سے مقصود یہ بتلانا ہے کہ اس روز اہل ایمان کو سعادت کاملہ حاصل ہوگی اور اسلام کے دشمنوں کو انتہائی رنج وغم اور انتہائی حسرت پیش آئے گی جس کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

54 اصحاب اعراف دوزخیوں میں سے کچھ لوگوں کو ان کی مخصوص نشانیوں سے پہچان لیں گے۔ اور بطور توبیخ ان سے کہیں گے آج وہ تمہاری جمعیتیں کہاں ہوئیں جن کے بل بوتے پر تم دنیا میں فخر و ناز کیا کرتے تھے اور جن پر مغرور ہو کر قبول حق سے روگردانی کیا کرتے تھے۔ سید محمود آلوسی فرماتے ہیں۔ “ وَ مَا کُنْتُمْ تَسْتَکْبِرُوْنَ ” میں مَا سے مراد معبودان باطلہ ہیں اور استکبار سے ان کی عظمت وکبریائی کا اعتقاد مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ دنیا میں تم جن معبودوں کی عظمت وکبریائی کے معتقد تھے آج انہوں نے بھی تمہیں کوئی نفع نہ پہنچایا۔ والمراد بھا حینئذ الاصنام و معنی استکبارھم ایاھا اعتقادھم عظمھا و کبرھا ای ما اغنی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 48–51

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کی کامیابی کا ذکر کیا ان کا جنت کی نعمتوں سے متمع ہونا اور خدا کی مہربانی کے مقام میں داخل ہونے کا باین ہوا پھر اللہ نے جنت اور دوزخ والوں کے مکالمے کا ذکر کیا کہ جنت والے دوزخیوں سے کہیں گے کہ اللہ نے جو وعدہ ہم سے کیا تھا ہم نے تو اس کو برحق پایا اب بتائو تمہارے ساتھ اللہ نے جو وعدہ کیا تھا کہ تمہیں دوزخ میں داخل کرے گا کیا تم نے بھی اس وعدے کو سچا پایا دوزخ والے کہیں گے کہ ہاں ہم نے اپنے رب کے وعدے کو سچا پایا پھر درمیان میں ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا کہ خدا تعالیٰ کی لعنت اور پھٹکار ہو ظلم کرنے والوں پر وہ جو اللہ کے راستے سے روکتے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَہٰٓؤُلَاۗءِ الَّذِيْنَ اَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُہُمُ اللہُ بِرَحْمَۃٍ۝ 0 ۭ اُدْخُلُوا الْجَنَّۃَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلَآ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ۝ 49 ها هَا للتنبيه في قولهم : هذا وهذه، وقد ركّب مع ذا وذه وأولاء حتی صار معها بمنزلة حرف منها، و (ها) في قوله تعالی: ها أَنْتُمْ [ آل عمران/ 66] استفهام، قال تعالی: ها أَنْتُمْ هؤُلاءِ حاجَجْتُمْ [ آل عمران/ 66] ، ها أَنْتُمْ أُولاءِ تُحِبُّونَهُمْ [ آل عمران/ 119] ، هؤُلاءِ جادَلْتُمْ [ النساء/ 109] ، ثُمَّ أَنْتُمْ هؤُلاءِ تَقْتُلُونَ أَنْفُسَكُمْ [ البقرة/ 85] ، لا إِلى هؤُلاءِ وَلا إِلى هؤُلاءِ [ النساء/ 143] . و «هَا» كلمة في معنی الأخذ،…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 48–49

گزشتہ آیات میں ہم نے یہ پڑھا ہے کہ جنت اور دوزخ کے درمیان ایک دیوار ہوگی جس کی چوٹیوں پر کچھ لوگ ہوں گے جنھیں اصحاب الاعراف کہا گیا ہے وہ وہاں سے جنت اور جہنم کو دیکھ سکیں گے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن چونکہ دنیا کے طبعی قوانین کو ختم کردیں گے اور آخرت کے وہ حیرت انگیز قوانین نافذ ہوں گے جن کے نتیجے میں انسانی استعداد اور اس کے حواس میں بےپناہ وسعت پیدا ہوجائے گی آج جن چیزوں کو انسان نہیں دیکھ سکتا وہاں وہ بڑی آسانی سے بتمام و کمال ان چیزوں کو دیکھے گا اور جن آوازوں کو محدود حد تک سن سکتا ہے انھیں بےپایاں وسعتوں کے ساتھ سنے گا آج غفلت اور بیخبر ی کا جو پردہ ہماری صلاحیتوں پر تنا ہوا ہے اسے اتار…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 47–50

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اصحاب اعراف کا جنتیوں کو سلام اور جہنمیوں کو شرم دلانا۔ اعراف کا معنیٰ بلندی ہے جو جنت اور جہنم کے درمیان لامتنا ہی طول و عرض اور بلند وبالا قسم کی دیوار ہوگی اور اس میں ایک دروازہ بھی ہوگا جس کا قدرے تفصیل کے ساتھ ذکر سورة الحدید آیت 13 میں کیا گیا ہے اس پر تشریف فرما لوگوں کو اصحاب الاعراف کے نام سے پکارا جائے گا یہ کون حضرات ہوں گے ان کے بارے میں قرآن و حدیث میں دو اور دو چار کے الفاظ میں وضاحت نہیں ملتی۔ البتہ مفسرین نے متقدمین کے اقوال سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جن کی نیکیاں اور برائیاں برابر ہوں گی۔ بعض حضرات نے لکھا ہے کہ ان سے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اہل اعراف کا کفار سے کلام : آیت 48: وَنَادٰٓ ی اَصْحٰبُ الْاَعْرَافِ رِجَالًا (اور اصحاب اعراف بہت سے آدمیوں کو پکاریں گے) رجال سے سرداران کفار مراد ہیں۔ یَّعْرِفُوْنَھُمْ بِسِیْمٰھُم قَالُوْا مَآ اَغْنٰی عَنْکُمْ جَمْعُکُمْ (جن کو علامات سے پہچانیں گے۔ کہیں گے تمہاری جماعت تمہارے کچھ کام نہ آئی) مال۔ کثرت اجتماع مانافیہ ہے۔ وَمَا کُنْتُمْ تَسْتَکْبِرُوْنَ (اور نہ تمہارا اپنے کو بڑا سمجھنا) حق کے سلسلہ میں تمہارا تکبر اور لوگوں کے سلسلے میں تمہارا تکبر۔ پھر وہ انہیں کہیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(48) (ونادی اصحب الاعراف رجالاً ) جو جہنمی دنیا میں بڑے لوگ تھے (یعرفونھم بسیمھم قالوا ما اغنی عنکم جمعکم) یعنی دنیا کا مال اور اولاد (وما کنتم تستکبرون) ایمان لانے سے کلبی۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں وہ لوگ دیوار پر آواز دیں گے اے ولید بن مغیرہ، اے ابوجہل بن ہشام، اے فلاں پھر وہ جنت کی طرف دیکھیں گے تو اس میں وہ فقیر اور کمزور لوگ ہوں گے جن کا وہ مذاق اڑاتے تھے جیسے سلمان، صہیب، خباب اور بلال ؓ اور ان جیسے دیگر حضرات تو اعراف والے ان کفار کو کہیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 48–49

(48 ۔ 49) ۔ اس آیت شریفہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اعراف والے بڑے بڑے مشرک اور کافروں سے کہ جن کو پہچانتے ہونگے جھڑکی کے طور پر کہیں گے کہ تمہارا وہ مال جو تم نے دنیا میں جمع کیا تھا یا تمہاری کثرت اور جمعیت اور تکبر آج تمہارے کچھ کام نہ آیا آخر عذاب میں گرفتار ہوئے پھر ان کو حسرت دلانے کی غرض سے غریب مسلمانوں کی طرف اشارہ کر کے کہیں گے کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کے حق میں تم قسم کھا کر کہتے تھے کہ ان پر خدا کی رحمت نہ ہوگی اور نہ یہ جنت میں جاویں گے لو اب یہی لوگ تمہارے سامنے جنت میں جاتے ہیں پھر اہل اعراف سے کہا جاویگا کہ تم بھی جنت میں داخل ہو تم کو کچھ خوف و غم نہیں ہے حضرت عبداللہ بن عباس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 46–52

آیت 46 یعنی اہل جنت اور اہل جہنم کے درمیان ایک حجاب ہوگا جسے ” مقام اعراف “ کہا جائے گا۔ یہ مقام جنت میں شامل ہوگا نہ جہنم میں۔ اس مقام سے جنت اور جہنم دونوں میں جھانکا جاسکے گا اور جنتیوں اور جہنمیوں کے احوال کو دیکھا جاسکے گا۔ اس مقام اعراف میں کچھ لوگ ہوں گے جو اہل جنت اور اہل جہنم کو ان کی ان علامات کے ذریعے سے پہچانتے ہوں گے جو ان کی امتیازی علامات ہیں۔ جب وہ اہل جنت کی طرف دیکھیں گے تو پکار کر کہیں گے (ان سلم علیکم) ” سلامتی ہے تم پر “ یعنی وہ ان پر سلام کہیں گے۔ وہ ابھی تک جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے البتہ وہ جنت میں داخلے کے امیدوار ہوں گے اور اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں امید تب ہی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 33–54

فواحش سے مراد قول باری ہے قل انما حرم ربی الفواحش ماظھرمنھا وما بطن ولاثم والبغی بغیر الحق۔ اے محمد ﷺ ، ان سے کہو کہ میرے رب نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ تو یہ ہیں، بےشرمی کے کام خواہ کھلے ہوں یا چھپے اور گناہ اور حق کے خلاف زیادتی) مجاہد کا قول ہے کہ فواحش سے زنا مراد ہے یہ سری خواحش ہے اور برہنہ حالت میں طواف کرنا جہری فواحش ہے۔ ایک قول ہے کہ بےشرمی کے تمام کام فواحش ہیں۔ شروع میں اجمالاً ان کا ذکر کیا پھر ان کی مختلف صورتوں کی تفصیل بیان کردی اور یہ فرمایا کہ گناہ حق کے خلاف زیادتی اور اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہرانا فواحش کی صورتیں ہیں۔ یعنی لوگوں پر ناحق اور بزور قوت غلبہ جمانے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 48–49

66 متکبروں کے کبر و غرور پر اصحاب اعراف کی طرف سے ایک چوٹ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اعراف والے دوزخ میں بڑی کچھ ایسی بڑی شخصیتوں سے جن کو وہ پہچانتے ہوں گے ان کی نشانیوں سے ان سے کہیں گے کہ صاحب یہ کیا ہوا کہ نہ تم لوگوں کو تمہارے جتھے اور جماعتوں میں سے کچھ کام آسکا۔ اور نہ ہی تمہارے مال و دولت میں سے۔ سو اس طرح اصحاب اعراف ان دوزخیوں کی طرف متوجہ ہو کر ان کے کبر و غرور پر چوٹ لگاتے ہوئے اور ان کے بت پندار پر ٹھوکر مارتے ہوئے ان سے کہیں گے کہ صاحب یہ کیا ہوا کہ آج نہ تمہارا کوئی جتھا تمہارے کچھ کام آسکا اور نہ کوئی پارٹی اور قوم قبیلہ اور نہ ہی تمہارا وہ مال و دولت جس کا تمہیں بڑا دعویٰ اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 44–53

اہل جنت اور اہل جہنم کا مکالمہ اور اصحاب اعراف کا تذکرہ تشریح : آیات 44 تا 53 میں جو کچھ بتایا گیا ہے انتہائی عبرت دلانے والا اور خوش کرنے والا ہے۔ کیونکہ اللہ رب العزت نے اہل جنت اور اہل جہنم کی آپس میں گفتگو نیز اصحاب اعراف کا ایسا نقشہ کھینچا ہے لگتا ہے سب کچھ سامنے ہو رہا ہے۔ یہ سب راز کی باتیں ہیں انسان کی نظر سے پوشیدہ اور تصور سے باہر۔ مگر اللہ سبحانہ تعالیٰ کیونکہ اپنے بندوں پر حد سے زیادہ مہربان ہے اور رحیم و کریم ہے اس لیے لوگوں کو دنیا کی مصیبتوں اور آخرت کے عذاب سے بچانے کے لیے رسول بھیجے، پھر آخری رسول محمد ﷺ پر قرآن مجید نازل فرما کر لوگوں کو خبردار کرنے کے لیے بھیجا۔ مگر کفار و…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 48–53

رکوع نمبر 6 ۔ آیات 48 ۔ تا۔ 53 اسرار و معارف : جہنم میں پڑے ہوئے بعض لوگوں کو تو ان کی شکلوں تک سے پہچانتے ہوں گے اور دنیا میں ان کے کردار سے واقف ہوں گے جب وہ محض مال و دولت یا اختیار و اقتدار پر نازاں عظمت الہی اور دار آخرت کو بھولے ہوئے تھے نہ صرف یہ بلکہ نیک لوگوں پہ پھبتیاں کہتے تھے کہ انہیں دیکھ ویہ آخرت کے انعامات کی امید میں یہاں عبادات کی مصیبت میں پڑے ہیں اور فقر و فاقہ میں بھی شکر ادا کرتے ہیں دولت و مال مل جائے تو بھی عیش ان کے نصیب میں نہیں بھلا آخرت میں انہیں خاک آرام نصیب ہوگا دنیا والوں کے ساتھ تو یہ چل نہیں سکتے اور چلے ہیں آخرت کو پانے ۔ اہل اعراف ان کی یہ باتیں انہیں یاد…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(7:48) اغنی عن۔ فائدہ بخشنا۔ کام آنا۔ غنی بنادینا۔ ما اغنی عنکم وہ تمہارے کسی کام نہ آیا۔ اس نے تمہیں کوئی فائدہ نہ دیا۔ جمعکم۔ تمہاری جمعیت۔ تمہاری جماعت۔ تمہارا جمع ہونا۔ ما اغنی میں ما نافیہ ہے اور ما کنتم تستکبرون میں ما بیانیہ ہے۔ ما کنتم تستکبرون۔ جس کا تم گھمنڈ کیا کرتے تھے۔ ماضی استمراری جمع مذکر حاضر۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 44–49

لغات القرآن آیت نمبر (44 تا 49 ) ۔ وجدنا (ہم نے پا لیا ) ۔ وعدنا (ہم سے وعدہ کیا تھا) ۔ حق (سچ ۔ سچا ) ۔ وجدتم (تم نے پایا ) ۔ نعم (جی ہاں) ۔ موذن (پکارنے والا۔ اعلان کرنے والا ) ۔ یصدون (وہ روکتے ہیں ) ۔ یبغون (وہ تلاش کرتے ہیں ) ۔ عوج (ٹیڑ ھا پن۔ کجی ) ۔ حجاب (پردہ ) ۔ الاعراف (ٹیلے۔ پردے) ۔ یطمعون (وہ امید رکھتے ہیں) ۔ صرفت (پھیر دی گئی۔ (پھیر دی جائیں گی) ۔ لا تجعلنا (تونہ بنا ہمیں) ۔ یعرفون (وہ پہچان لیں گے ) ۔ سیما (پیشانیاں۔ نشانیاں ) ۔ تشریح : آیت نمبر (44 تا 49 ) ۔ ” ان آیات میں تین جماعتوں کا ذکر فرمایا گیا ہے (1) اہل جنت (2) اہل جہنم (3) جنت اور جہنم کے درمیان کسی اونچے مقام پر جنت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 48–50

مطلب یہ ہے کہ دوزخ والے جنت والوں سے بھیک کی طرح گڑگڑا کر تھوڑے سے پانی اور کھانے کا سوال کریں گے، مگر ان کو کچھ نہ دیا جائے گا، بلکہ جنتی صاف جواب دیویں گے کہ جنت کی یہ دونوں چیزیں خدائے تعالیٰ نے تم پر حرام کردیں ہیں، اس لئے تم کو کوئی چیز نہیں مل سکتی ہے۔ کیونکہ تم نے دنیا میں نافرمانی کی اور جس طرح دنیا میں تم لوگوں نے مجھ کو بھلا دیا تھا اسی طرح آج میں بھی بھولے بسروں کی طرح تم لوگوں کو اپنی نظر رحمت سے دور ڈالتا ہوں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 46–48

اعراف : (ف 1) جنت اور دوزخ کے بین بین ایک برزخ ہوگا جسے قرآن کی اصطلاح میں اعراف کہا جاتا ہے ان آیات سے معلوم ہوتا ہے ، وہاں ایسے لوگ رہیں گے ، جو جنت میں داخل نہیں ہوئے جن کو یہ معلوم نہیں ، کہ ہمیں کہاں رکھا جائیگا ، جنت والوں کو دیکھ کر وہ خوش ہوتے ہیں ، اور جہنم والوں کو دیکھ کر ڈر جاتے ہیں ، ان کی خواہش یہ ہے ، کہ جنت میں رہیں ۔ بات یہ ہے کہ دنیا میں تین قسم کے لوگ ہیں ایک وہ ہیں جن تک اسلام کی نعمت پہنچی اور انہوں نے قبول کرلی ، ایک وہ ہیں جن تک اسلام پہنچا مگر وہ بدبختی کی وجہ سے محروم رہے باقی سب وہ ہیں جن تک یا تو پیغام پہنچا نہیں یا پہنچا مگر غلط صورت میں لیکن بجائے خود وہ نیک تھے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

48 اور اہل اعراف بہت آدمیوں کو جن کے وہ ان کے چہروں کی علامتوں سے پہچانتے ہوں گے کہ یہ لوگ اہل جہنم سے ہیں ان سے یہ اعرافی یوں کہیں گے کہ تمہاری جمعیت تمہارے جتھے اور تمہارا تکبر آمیز برتائو جو تم مسلمانوں کے ساتھ کیا کرتے تھے اور ہر قسم کی دھمکیاں ان کو دیا کرتے تھے وہ جتھے اور وہ تکبر آج تمہارے کچھ کام نہ آئے اور عذاب خداوندی سے تم کو بچانہ سکے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 46–50

ف 6۔ اس کا خاصہ یہ ہوگا کہ جنت کا اثر دوزخ تک اور دوزخ کا اثر جنت تک نہ جانے دے گی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اصحاب الاعراف کا خطاب اہل دوزخ کے لیڈروں اور پیشوائوں سے : 59: اہل عراف کا یہ خطاب کن سے ہوگا ؟ ان کے الفاظ صاف صاف بتا رہے ہیں کہ وہ اہل دوزخ کے لیڈروں اور پیشوائوں سے مخاطب ہیں اس لئے کہ اپنی جمعیت پر ناز اور اپنے مال وجاہ پر غرہ انہی کو تھا اور یہ بھی کہ دوزخ میں یہ لوگ اپنی نمایاں شان سے ممتاز ہوں گے کیونکہ لیڈر لیڈر ہوتے ہیں خواہ وہاں ہوں یا یہاں یقیناً اہل اعراف پہچان جائیں گے اور جان پہچان اور شکل و صورت کی پہچان وہاں بھی اسی طرح ہوگی جیسا کہ یہاں پر ہے اور ایک دوسرے کو شناخت کرنا اس آیت سے واضح ہے وہ اہل دوزخ کو مخاطب ہو کر کیا کہیں گے ؟ فرمایا وہ کہیں گے کہ تمہاری لیڈر شپ اور تمہارا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The fifth verse (48) also mentions that the people of A` raf will address the people of Hell and admonish them by saying that the wealth and power that they depended on, and because of which they had become proud and arrogant, went the way of waste for all those strengths did not work for them at their hour of need.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 47–51

35. The trialogue between the People of Paradise, the People of the Fire. and the People of the Heights gives some indication of the tremendous range of human faculties in the Next World. These faculties would increase to such an extent that the People of Paradise, the People of the Fire and the People of the Heights will be able to see, hear and talk to one another. Other Qur'anic statements about the Hereafter enable us to realize that the laws operating in the Next World will be altogether different from those in the present. Notwithstanding this, men's personalities will not undergo any…

Read the full tafseer →