Explained with ayahs 4–7
سابقہ باغیوں کی بستیوں کے کھنڈرات باعث عبرت ہیں
ان لوگوں کو جو ہمارے رسولوں کی مخالفت کرتے تھے انہیں جھٹلاتے تھے تم سے پہلے ہم ہلاک کرچکے ہیں۔ دنیا اور آخرت کی ذلت ان پر برس پڑی، جیسے فرمان ہے تجھ سے اگلے رسولوں سے بھی مذاق کیا گیا، لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ مذاق نے انہیں تہو بالا کردیا، ایک اور آیت میں ہے، بہت سی ظالم بستیوں کو ہم نے غارت کردیا جو اب تک الٹی پڑی ہیں اور جگہ ارشاد ہے بہت سے اتراتے ہوئے لوگوں کے شہر ہم نے ویران کردیئے دیکھ لو کہ اب تک ان کے کھنڈرات تمہارے سامنے ہیں جو بہت کم آباد ہوئے۔ حقیقتاً وارث ومالک ہم ہی ہیں ایسے ظالموں کے پاس ہمارے عذاب اچانک آگئے اور وہ اپنی غفلتوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
سورة الْاَعْرَاف 5
یعنی تمہاری عبرت کے لیے ان قوموں کی مثالیں موجود ہیں جو خدا کی ہدایت سے منحرف ہو کر انسانوں اور شیطانوں کی رہنمائی پر چلیں اور آخر کار اس قدر بگڑیں کہ زمین پر ان کا وجود ایک ناقابل برداشت لعنت بن گیا اور خدا کے عذاب نے آکر ان کی نجاست سے دنیا کو پاک کردیا۔
آخری فقرے سے مقصد دو باتوں پر متنبہ کرنا ہے۔ ایک یہ کہ تلافی کا وقت گزر جانے کے بعد کسی کا ہوش میں نہ آنا اور اپنی غلطی کا اعتراف کرنا بےکار ہے۔ سخت نادان ہے وہ شخص اور وہ قوم جو خدا کی دی ہوئی مہلت کو غفلتوں اور سرشاریوں میں ضائع کردے اور داعیانِ حق کی صداؤں کو بہرے کانوں سے سنے جائے اور ہوش میں صرف اس وقت آئے جب اللہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
معارف و مسائل
پوری سورة پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سورة کے مضامین زیادہ تر معاد، یعنی آخرت اور نبوت و رسالت کے متعلق ہیں، چناچہ ابتداء سورة سے چھٹے رکوع تک تقریباً مضمون معاد و آخرت کا بیان ہوا ہے، پھر آٹھویں رکوع سے اکیسویں رکوع تک انبیاء سابقین کے حالات اور ان کی امتوں کے واقعات ان کی جزاء و سزا اور ان پر آنے والے عذابوں کا مفصل تذکرہ ہے۔
(آیت) فَلَا يَكُنْ فِيْ صَدْرِكَ حَرَجٌ پہلی آیت میں رسول کریم ﷺ کو خطاب فرما کر یہ ارشاد کیا گیا ہے کہ یہ قرآن اللہ کی کتاب ہے جو آپ ﷺ کے پاس بھیجی گئی ہے، آپ ﷺ کو اس کی وجہ سے دل تنگی نہ ہونی چاہئے، دل تنگی سے مراد یہ ہے کہ قرآن کریم اور اس کے…
Read the full tafseer →اصل انذار :۔ یہ وہ انذر ہے جس کا لتنذر بہ میں اشارہ ہے، قریش کو دھمکی دی گئی ہے کہ کتنی قومیں اور بستیاں ہیں جن پر رات میں یا دن میں جب خدا نے چاہا اپنا عذاب بھیج دیا اور وہ تباہ کردی گئیں، ان میں سے کوئی بھی خدا کے مقابل میں کھڑی نہ ہوسکی بلکہ ہر قوم نے اپنے جرم کا اقرار کرتے ہوئے اپنے آپ کو عذاب الٰہی کے حوالہ کیا۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تم نے اس چیز کی پیروی نہ کی جو خدا نے تم پر اتاری ہے تو یہی حشر تمہارا بھی ہونا ہے۔ آج اکڑتے ہو لیکن اس وقت سارے کس بل نکالیں جائیں گے اور تم خود اپنے منہ سے اپنے جرم کا اقرار کرو گے لیکن اس وقت یہ اقرار تمہارے لیے کچھ نافع نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →5۔ 1 لیکن عذاب آجانے کے بعد ایسے اعتراف کا کوئی فائدہ نہیں۔ جیسا کہ پہلے وضاحت گزر چکی ہے (فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُهُمْ اِيْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَـنَا) 40۔ غافر :85) جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو اس وقت ان کا ایمان لانا، ان کے لئے نفع مند نہیں ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–10
2: آپ کو یہ پریشانی نہیں ہونی چاہیے کہ اس کے مضامین کو آپ لوگوں سے کیسے منوائیں گے اور اگر لوگ نہ مانے تو کیا ہوگا ؟ کیونکہ آپ کا فریضہ لوگوں کو ہوشیار اور خبردار کرنا ہے ان کے ماننے نہ ماننے کی ذمہ داری آپ پر نہیں ہے۔
Read the full tafseer →آیت ” فَمَا کَانَ دَعْوَاہُمْ إِذْ جَاء ہُمْ بَأْسُنَا إِلاَّ أَن قَالُواْ إِنَّا کُنَّا ظَالِمِیْنَ (5)
” اور جب ہمارا عذاب ان پر آگیا تو ان کی زبان پر اس کے سوا کوئی صدا نہ تھی کہ واقعی ہم ظالم تھے ۔ “
انسان ہر قسم کے بہانے تلاش کرتا ہے لیکن اعتراف اس کے لئے مشکل کام ہوتا ہے ۔ وہ آخری وقت تک اقرار نہیں کرتا ۔ لیکن ان لوگوں کو عذاب الہی نے اس قدر اچانک آلیا تھا کہ ماسوائے اقرار کے ان میں اور کوئی حجت نہی رہی تھی اس لئے کہ وہ نہایت ہی خوفناک اور مرعوب کن پوزیشن میں ڈال دیئے گئے تھے ایسی پوزیشن میں جہاں اقرار و اعتراف آخری کوشش ہوتی ہے ۔ یہاں انہوں نے ظلم یعنی شرک کا اقرار کیا ۔
یہاں ظلم سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
1 یعنی جب ان کے ظلم وعدوان اور کفر و عصیان کی حد ہوچکی، تو دنیا کی لذات و شہوات میں منہمک اور عذاب الہٰی سے بالکل بےفکر ہو کر خواب استراحت کے مزے لینے لگے کہ یکایک ہمارے عذاب نے آدبوچا۔ پھر ہلاکت آفرینیوں کے اس دہشت ناک منظر اور ہنگامہ دارو گیر میں ساری طمطراق بھول گئے چاروں طرف سے اِنَّا کُنَّا ظَالِمِیْنَ کی چیخ پکار کے سوا کچھ سنائی نہ دیتا تھا۔ گویا اس وقت انہیں واضح ہوا اور اقرار کرنا پڑا کہ خدا کسی پر ظلم نہیں کرتا ہم خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں (تنبیہ) فَجَاءَھَا بَاْسُنَا کی " فائ " میں مفسرین کے کئی قول ہیں، غالباً مترجم محقق قدس سرہ، نے اس کو اَھْلَکْنٰھَاکی تفسیر و تفصیل قرار…
Read the full tafseer →آیت 5 فَمَا کَانَ دَعْوٰٹہُمْ اِذْ جَآءَ ہُمْ بَاْسُنَآ اِلَّآ اَنْ قَالُوْٓا اِنَّا کُنَّا ظٰلِمِیْنَ
واقعتا ہمارے رسولوں نے تو ہماری آنکھیں کھولنے کی پوری کوشش کی تھی مگر ہم نے ہی اپنی جانوں پر زیادتی کی جو ان کی دعوت کو نہ مانا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
5 یعنی اللہ کی گرفت ہمیشہ اس وقت آتی ہے جب انسان اللہ کی تنبیہات سے بےنیاز ہو کر غفلت کی نیند سو جاتا ہے پھر جب اللہ کی گرفت یا اس کا عذاب واقع ہوجاتا ہے تو اس وقت یہ اعتراف کرنے لگتا ہے کہ یہ ہمارا ہی قصور تھا جو ہم غفلت میں پڑے رہے مگر وقت گزرنے کے بعد ایسا اعتراف کوئی فائدہ نہیں دیتا، بلکہ حسرت و یاس کا سبب بن جاتا ہے اللہ تعالیٰ فرما یہ رہے ہیں کہ تمہارے سامنے بیسیوں ایسی مثالیں موجود ہیں۔ پھر کیا یہ ضروری ہے کہ تم اسی وقت عبرت حاصل کرو جب تم خود عذاب میں گرفتار ہوجاؤ ؟ آخر تم گزشتہ اقوام کے انجام سے کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے ؟
Read the full tafseer →6 ۔ دنیا میں بھی جب کوئی قوم ادبار وتباہی کے عذاب میں مبتلا ہولیتی ہے تو بعد کو اپنی غفلتوں اور کوتاہیوں کا اقرار ہی کرتے اسے بنتا ہے، اور پھر اسباب پر بحث شروع ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
فلا یکن فی صدرک حرج، پہلی آیت میں آپ ﷺ کو خطاب فرماتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ یہ قرآن اللہ کی کتاب ہے جو آپ کی طرف نازل کی گئی ہے، لہٰذا آپ کو کسی قوم کی دل تنگی نہ ہونی چاہیے، دل تنگی سے مراد یہ ہے کہ قرآن کریم اور اس کے احکام کی تبلیغ میں آپ کو کسی قسم کا خوف اور جھجک نہیں ہونی چاہیے اور اس سے انکار و تکذیب کی صورت میں آپ کو کوفت اور کڑھن نہ ہونی چاہیے (ای یضیق صدرک اَلاَّ یؤمنونوا بہ) قرطبی (یعنی) قیامت کے روز عوام الناس سے سوال کیا جائیگا کہ ہم نے تمہارے پاس اپنے رسول اور کتابیں بھیجی تھیں تم نے ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا ؟ اور رسولوں سے پوچھا جائیگا کہ جو پیغام رسالت اور احکام شریعت دیکر ہم…
Read the full tafseer →فما کان دعوہم اذ جآء ہم باسنا الا ان قالوا ان کنا ظلمین سو جس وقت ان پر ہمارا عذاب آیا اس وقت ان کے منہ سے بجز اس کے کوئی بات نہیں نکلتی تھی کہ واقعی ہم ظالم تھے۔ دعویبمعنی قول۔ دعائ گڑگڑانا۔ سیبویہ نے کہا عرب کہتے ہیں اے اللہ مسلمانوں کے اچھے دعوے میں تو ہم کو شامل کر دے یعنی اچھی دعاؤں میں۔ مقصد یہ ہے کہ عذاب کو رد کردینے کی تو ان میں سکت نہیں تھی۔ مجبوراً اپنی ناحق کوشیوں کا ان کو اقرار کرنا پڑا مگر ایسے وقت میں اعتراف سود مند نہ تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
(3۔ 4۔ 5۔ 6۔ 7) اور بہت سے بستیوں والوں کو ہم نے عذاب کے ذریعے ہلاک کردیا ہے، ہمارا عذاب رات کو یا دن کو یا دوپہر کے وقت جب کہ وہ آرام میں تھے پہنچا تو جس وقت ان کی ہلاکت کے لیے ہمارا عذاب نازل ہوا تو ماسوا پنے مشرک ہونے کے اقرار کے اور کچھ ان کی زبان سے نہیں جاری ہوا تو ان قوموں سے پیغمبروں کی اطاعت اور پیغمبروں سے تبلیغ رسالت کے بارے میں ہم ضرور پوچھیں گے، ہم ان کے سامنے پیغمبروں کی تبلیغ اور ان کی قوموں کی اطاعت کو بیان کردیں گے۔
Read the full tafseer →فَمَا كَانَ دَعْوٰىهُمْ : ”دعویٰ“ کا معنی دعا بھی ہوتا ہے اور ادّعا بھی، یعنی اس وقت ان سے سوائے گناہ کے اعتراف کے کچھ بن نہ پڑا اور وہ اپنے بنائے ہوئے اولیاء، یعنی جھوٹے معبودوں کو بھول گئے اور اپنے تمام دعوے بھی، مثلاً یہ کہ آخرت کو بھی ہم ہی مقرب ہوں گے، مگر اس وقت کا اعتراف گناہ ان کے کس کام آسکتا تھا ؟ جب گناہ سے توبہ کا وقت تھا اس وقت تو غفلت کی نیند سوتے رہے۔ ایسے وقت میں ان کے منہ سے بےساختہ یہ الفاظ نکلنے سے صاف ظاہر ہے کہ پہلے بھی ان کے دماغ میں یہ بات ہر وقت رہتی تھی کہ تم شرک کر کے اور اللہ کے رسول کو جھٹلا کر ظلم کر رہے ہو، مگر ان کے تکبر اور عناد نے انھیں اقرار نہیں کرنے دیا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
آیت نمبر : 4۔ 5
قولہ تعالیٰ : آیت : وکم من قریۃ اھلکنٰھا اس میں کم تکثیر کے لیے ہے، جس طرح کہ رب تقلیل کے لیے ہوتا ہے۔ اور کم مبتدا ہونے کی وجہ سے محل رفع میں ہے، اور اھلکنٰھا اس کی خبر ہے، یعنی بہت سے بستیاں تھیں۔ قری بہت سے لوگوں کے اکٹھا رہنے کی جگہوں کو کہتے ہیں۔ ہم نے انہیں ہلاک و برباد کردیا۔ اور کم کو اس بنا پر محل نصب میں قرار دینا بھی جائز ہے کہ اس کے بعد فعل مضمر ہو اور اس سے پہلے فعل مقدر نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ استفہام اپنے سے ما قبل میں عمل نہیں کرتا۔ اور پہلے قول کو یہ قول تقویت دیتا ہے : آیت : وکم اھلکنا من القرون من بعد نوح (الاسراء : 17) ( اور کتنی قومیں ہیں جنہیں ہم نے ہلاک…
Read the full tafseer →(1) امام ابن ابی حاتم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ کوئی قوم ہلاک نہیں ہوئی یہاں تک کہ انہوں نے اپنی طرف سے عذر پیش کیا۔ پھر یہ آیت لفظ آیت ” فما کان دعوھم اذجآء ھم باسنا الا ان قالوا انا کنا ظلمین “ پڑھی۔
(2) امام ابن جریر نے ابن مسعود ؓ سے اسی طرح مرفوعا بھی روایت کی۔
Read the full tafseer →فَمَا كَانَ [ تو نہیں تھا ] دَعْوٰىهُمْ [ ان کا پکارنا ] اِذْ [ جب ] جَاۗءَهُمْ [ آئی ان کے پاس ] بَاْسُنَآ [ ہماری سختی ] اِلَّآ اَنْ [ سوائے اس کے کہ ] قَالُوْٓا [ انھوں نے کہا ] اِنَّا كُنَّا [ بیشک ہم تھے ] ظٰلِمِيْنَ [ ظلم کرنے والے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
قیامت کے دن رسولوں سے اور ان کی امتوں سے سوال اور اعمال کا وزن
ان آیات میں آخرت کے سوال و جواب اور عقائد و اعمال کے تولے جانے کا پھر اوزان کے ہلکا بھاری ہونے کا اور اس کے مطابق کامیاب اور نا کام ہونے کا ذکر فرمایا۔ قیامت کے دن امتوں سے سوال ہوگا کہ تمہارے پاس رسول آئے تھے تو تم نے ان کو کیا جواب دیا تھا کمافی سورة القصص (وَ یَوْمَ یُنَادِیْھِمْ فَیَقُوْلُ مَاذَآ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِیْنَ )
اور حضرات رُسُلِ عظام و انبیاء کرام (علیہ السلام) سے بھی سوال ہوگا کہ کیا آپ حضرات نے ہمارا پیغام پہنچایا اور یہ بھی سوال ہوگا کہ امتوں نے اس کا کیا جواب دیا۔ صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
قال اللہ تعالیٰ ۔ المص۔ کتاب انزل الیک۔۔۔ الی۔۔۔ بما کانو بایاتنا یظلمون
(ربط) گذشتہ سورت کے آخری رکوع میں قرآن مجید کے اتباع کا حکم اور اس کی ترغیب تھی اور اس سے انحراف اور اعراض پر نزول عذاب کی وعید تھی اور اسی بناء پر گزشتہ سورت کے آخری رکوع کو ان ربک سریع العقاب وانہ لغفور رحیم پر ختم فرمایا اب اس سورت کے آغاز میں قرآن مجید کے اتباع کا حکم دیتے ہیں اور گزشتہ امتوں کے منکرین حق اور مکذبین حق کی ہلاکت اور بربادی کا ذکر کرتے ہیں تاکہ منکرین قرآن اس سے عبرت پکڑیں۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ المص سورة بقرہ کے شروع ہی میں اس قسم کے حروف مقطعات کے متعلق مفسرین کے اقوال بسط اور تفصیل کے ساستھ گزر چکے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
5: یہ تخویف دنیوی ہے۔ “ اَھْلَکْنٰھَا اَي اھلھا ”۔ یعنی بہت سی بستیوں کے باسیوں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں۔ “ بَیَاتًا ” مصدر بمعنی اسم فاعل “ اَھْلَکْنَا ” کے مفعول سے حال واقع ہے۔ مصدر واقع موقع الحال بمعنی بائتین۔ (مدارک ج 2 ص 24) ۔ “ قَائِلُوْنَ ” قیلولۃ سے ہے جس کے معنی دوپہر کے وقت نیند کرنے کے ہیں۔ “ فَمَا کَانَ دَعْوٰ ھُمْ الخ ” عذاب آنے سے پہلے تو وہ ضد وعناد کی وجہ سے مانتے نہ تھے لیکن جب ان کی بد اعمالیوں اور مسلسل جحود و انکار کے سبب اللہ کا عذاب آجاتا ہے تو اپنے قصور کا اعتراف کرلیتے مگر اس وقت پچھتانے سے کچھ فائدہ نہ ہوتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
حروف مقطعات
اس سورة مبارکہ کی ابتداء حروف مقطعات المص ہ سے کی گئی ہے ان حروف کے معانی کے متعلق مفسرین نے مختلف تاویلات پیش کی ہیں تاہم یقین کے ساتھ ان کے معانی کے متعلق کچھ نہیں کہا جاسکتا تفسیر جلالین میں علامہ جلال الدین سیوطی (رح) فرماتے ہیں کہ ان حروف کے متعلق اسی حد تک اعتقاد رکھنا چاہیے اللہ اعلم بمرادہ بذالک (امنا و صدفنا) ان کی حقیقت کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے ہم اسی پر ایمان لاتے ہیں اور اسی کی تصدیق کرتے ہیں لہٰذا ان حروف کے معانی و مطالب کے سلسلے میں یہی طریقہ اختیار کرنا زیادہ اسلم ہے تاکہ انسان گمراہی اور فتنے سے بچ سکے تاہم امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) نے اپنے ذوقی اور…
Read the full tafseer →فَمَا كَانَ دَعْوٰىہُمْ اِذْ جَاۗءَہُمْ بَاْسُـنَآ اِلَّآ اَنْ قَالُوْٓا اِنَّا كُنَّا ظٰلِـمِيْنَ 5
دعا
الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ،
( د ع و ) الدعاء ( ن )
کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب حرف ندا کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
2 ؎ لوط کی بستیوں پر بھی اور عاد وثمود کی قوم پر یوں ہی عذاب آیا۔ اس زمانہ میں بھی بعض شہروں میں شب کو زلزلہ شروع ہوا تو ہزاروں ہلاک ہوگئے بعض جا پر شباشب سیلاب نے غارت کیا۔ سینکڑوں شہروں پر وباء آئی۔ بہت کو ظالم بادشاہوں نے ہلاک کیا۔ غرض سینکڑوں طور عذاب الٰہی کے ہیں ڈرنا چاہیے۔ رات کا عذاب اسی طرح دوپہر جو کہ عرب میں آرام کا وقت ہے اور یہی قہر ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
ارشاد ہوتا ہے :
وَکَمْ مِّنْ قَرْیَۃٍ اَھْلَکْنٰھَا فَجَآئَھَا بَاْسُنَا بَیَاتًا اَوْھُمْ قَآئِلُوْنَ ۔ فَمَا کَانَ دَعْوٰھُمْ اِذْ جَآئَھُمْ بَاْسُنَآ اِلَّآ اَنْ قَالُوْآ اِنَّا کُنَّا ظٰلِمِیْنَ ۔ (الاعراف : 4، 5)
” اور کتنی ہی بستیاں ہوئی ہیں جن کو ہم نے ہلاک کردیا تو آیا ان پر ہمارا عذاب رات میں اچانک یا دن دہاڑے جب وہ دوپہر کے آرام میں تھے تو جب ہمارا عذاب ان پر آیا تو اس کے سوا وہ کچھ نہ کہہ سکے کہ بلا شبہ ہم ہی ظالم تھے “
معذب قوموں کی تاریخ سے استدلال
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے کافروں کے کفر ‘ مشرکوں کے شرک اور ان کی بدکرداریوں کا انجام بیان کیا ہے اور ساتھ ہی اس بات کا بھی ذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے فرمان نہ ماننے اور اس کی نصیحت قبول نہ کرنے والوں کا انجام۔
سورة کے تعارف میں ہم نے عرض کیا ہے کہ سورة کے پہلے رکوع میں ساری سورة کے مضامین کا خلاصہ ذکرہوا ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلی اقوام اور امتوں کے پاس اپنے رسول بھیجے جو انکو اللہ تعالیٰ کے احکام بتلاتے اور باربار نصیحت کرتے تھے کہ اے لوگو ! اپنے رب کی ہدایات پر عمل کرو۔ اس میں تمہارا بھلا ہے اور ہم تمہارے خیرخواہ ہیں لیکن لوگوں نے اپنے رب کی ہدایات ماننے اور انبیاء (علیہ السلام) کی پیروی کرنے کے بجائے اپنے آبا کے رسم و رواج، بزرگوں کے اقوال اور ذاتی خیالات کو مقدم جانا۔ اس فکروعمل پر…
Read the full tafseer →مقدماتِ عذاب کے وقت اعتراف جرم :
آیت 5: فَمَاکَانَ دَعْوٰھُمْ ان کی گڑگڑاہٹ اور پکار اِذْجَآ ئَ ھُمْ بَاْسُنَآ (پس جس وقت ان پر ہمارا عذاب آیا۔ اس وقت ان کے منہ سے کوئی بات نہ نکلی تھی) جب ان پر مقدمات عذاب اترے۔ اِلَّآ اَنْ قَالُوْٓا اِنَّا کُنَّا ظٰلِمِیْنَ (سوائے اس کے کہ بیشک ہم ظالم تھے) انہوں نے اپنے نفسوں پر ظلم و شرک کا اعتراف کیا۔ جبکہ اس کا کوئی فائدہ نہ تھا۔
نحو : دَعْوٰھُمْ یہ کَانَ کا اسم ہے اور اَنْ قَالُوْٓا اس کی خبر ہے اور اس کا عکس بھی جائز ہے۔
Read the full tafseer →(5) (فما کان دعوھم) یعنی ان کا قول اور پکارا اور تضرع و عاجزی اور الدعویٰ کبھی ادعاء بمعنی دعاء کے ہوتا ہے۔ سیبویہ کہتے ہیں عرب کہتے ہیں ” اللھم اشرکنا فی صالح دعویٰ المسلمین “ یعنی ان کی دعائوں میں (اذ جآء ھم باسنآ الا ان قالوا انا کنا ظلمین) مطلب یہ ہے کہ وہ عذاب کے رد کرنے پر قادر نہ ہوئے اور ان کا انجام یہ ہوا کہ انہوں نے جنایت کا اعتراف کرلیا لیکن اس اعتراف نے ان کو نفع نہ دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
(4 ۔ 7) ۔ اوپر کی فہمائش کے بعد ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کو یوں ڈرایا ہے کہ جب تم سے پچھلے لوگوں نے کفر وشرک نہ چھوڑا اور خدا تعالیٰ کے حکموں اور رسولوں کی فرمانبرداری نہ کی تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ رسولوں کی مخالفت کے سبب سے ان نافرمانوں کی بہت سی بستیاں تباہ کردی گئیں دونوں جہان کی ذلت ان کو حاصل ہوئی تم لوگ بھی الگ اللہ کے رسول کی نافرمانی سے باز نہ آئے تو تمہارا بھی یہی انجام ہونے والا ہے قوم لوط (علیہ السلام) پر رات کے وقت اور قوم شعیب (علیہ السلام) پر دوپہر کے وقت عذاب الٰہی نازل ہوا تھا یہ دونوں وقت نہایت آرام و غفلت کے ہوتے ہیں ایسے ہی وقت میں خدا کا عذاب یکایک اترا اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
آیت 1
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ سے قرآن کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : (کتب انزل الیک) ” یہ کتاب اتاری گئی ہے آپ پر ‘ یعنی یہ نہایت جلیل القدر کتاب جو ان امور پر مشتمل ہے جن کے بندے محتاج ہیں اور اس میں تمام مطالب الہیہ اور مقاصد شرعیہ محکم اور فمصل طور پر موجود ہیں (فلایکن فی صدرک حرج منہ) ” پس آپ کا سینہ اس (کے پہنچانے) سے تنگ نہ ہو “ یعنی آپ کے دل میں کوئی تنگی اور شک و شبہ نہ ہو۔ تاکہ آپ جان لیں کہ یہ حکمت والی اور قابل تعریف ہستی کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے اور سب سے سچا کلام ہے۔ (لایتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ) (حم السجدہ :62/31) ” باطل اس کے آگے سے آسکتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–16
پیروی قرآن
قول باری ہے اتبعواماانزل الیکم من ربکم۔ لوگوں جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اس کی پیروی کرو) اس کا مفہوم یہ ہے کہ بندوں کے تمام تصرفات کا دائرہ اللہ کے حکم کی مراد تک محدود ہو یعنی اس کے حکم کی جو مراد ہو اس کے بندے اس کے مطابق عمل کریں۔ یہ اہتمام یعنی اقتداء کی نظیر ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے حکم کی مراد کی اتباع اور اس پر عمل میں اس کی اس طرح اقتداء کی جائے کہ وہ اس کے دائرہ تدبیر سے خارج نہ ہو۔ اگر یہ کہا جائے کہ آیا مباح پر عمل کرنے والا اللہ کے حکم کا متبع ہوتا ہے ؟ تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ایسا شخص اس وقت اللہ کے حکم کا متبع ہوتا ہے جب وہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
8 تاریخ سے درس عبرت لینے کی تعلیم و تلقین : سو اس سے تاریخ اور گذشتہ قوموں کے انجام سے درس عبرت لینے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے۔ سو ان کے انجام سے یہ درس لیں کہ تکذیب و انکارِ حق کا نتیجہ و انجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ان سب کو ہلاک کیا گیا ان کی سرکشی اور تکذیبِ حق کے باعث۔ پس موجودہ دور کے سرکش اور مکذبین بھی ایسے ہی انجام بد سے دو چار ہوسکتے ہیں جن سے سابقہ ادوار کے یہ لوگ ہوچکے ہیں کہ اللہ پاک کا قانون عدل و انصاف یکساں اور سب کے لئے ایک ہے۔ سو یہ تاریخ کا ایک واضح درس ہے کہ سرکشی اور تکذیبِ حق کا نتیجہ و انجام ہلاکت و تباہی ہے۔ جیسا کہ ان گزشتہ قوموں سے ہوچکا ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
گناہوں پر عذاب
تشریح : یہاں اس عذاب کا ذکر کیا جا رہا ہے جو گزشتہ نافرمان قوموں پر آچکے ہیں۔ اللہ رب العزت بڑا مہربان ہے کہ اس نے بندوں کی ہدایت کے لیے رسول اور آسمانی کتابیں نازل فرمائیں مگر اس کے ساتھ ساتھ رب العالمین بڑا سخت حساب لینے والا اور بڑی سخت سزا دینے والا بھی ہے۔ قرآن مجید میں بڑی تفصیل سے ان قوموں کا ذکر کیا گیا ہے جن کو بڑی مہلت دی گئی اور بالآخر ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان پر عذاب الٰہی نازل ہوا۔ اور یہ تو محض ہلاکت ہی تھی اعمال کا بدلہ تو قیامت کے بعد دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کسی کے ساتھ ناانصافی نہ کرے گا، حالانکہ وہ سب کے اعمال و کردار سے پوری طرح واقف ہے، پھر بھی وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
رکوع نمبر 1 ۔ آیات نمبر 1 تا 10 ۔
اسرار و معارف :
کتاب کا مفہوم :
حفورف مقطعات کے متعلق شروع میں ہی عرض کیا جا چکا ہے کہ انھا سر بین اللہ ورسولہ نیز جنہیں قلب اطہر سے نسبت تام نصیب ہوجائے اللہ کی عطا سے وہ بھی اپنی حیثیت کے مطابق آگاہ ہوجاتے ہیں ان پر ایمان ضروری ہے اور تلاوت سے وہ فائدہ جو مقصود ہے نصیب ہوجاتا ہے لہذا ہر کس و ناکس کو معافی کی کرید نہ کرنا چاہئے۔
یہ کتاب ہے جامع مکمل اور سچی محض اوراق لکھ کر جوڑ دینا کتاب کا مفہوم ادا نہیں کرتا اس لیے کہ ہر کتاب کسی موضوع پر ہوتی ہے اور حق یہ ہے کہ اسے موضوع کے بارے مکمل سچی اور حتی بات قاری تک پہنچانا چاہئے۔ انسانی اندازے تو ہوتے ہیں قطعی…
Read the full tafseer →ف 13 یعنی سوائے اعتراف گناہ کے کچھ بن نہ پڑا اور اپنے تمام جھوٹے معبودوں کو بھول گئے مگر اس وقت کا عتراف گناہ ان کے کس کام آسکتا تھا ؟ جب گناہ سے توبہ کرنے کا وقت تھا اس وقت تو غفلت کی نید سونے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
(7:4) کم سوالیہ استفہام کے لئے آتا ہے ۔ کتنی دیر۔ کتنی مقدار۔ کتنی تعداد ۔ کتنی مدت۔ اس کی تمیز ہمیشہ مفرد منصوب ہوتی ہے کبھی مذکور ہوتی ہے مثلاً کم درھما عندک تیرے پاس کتنے درہم ہیں۔ کبھی محذوف ہوتی ہے مثلاً کم لبثت۔ یعنی کم زمانا لبث۔ تو کتنی مدت ٹھہرا۔
خبریہ۔ جو مقدار کی بیشی اور تعداد کی کثرت کو ظاہر کرتا ہے اس کی تمیز ہمیشہ مجرور ہوتی ہے جیسے کم رجل ضربت۔ میں نے کتنے ہی مردوں کو پیٹا۔ کبھی اس صورت میں اس کی تمیز پر من جارہ داخل ہوتا ہے جیسے کم من قریۃ اہلکناھا۔ (آیۃ ہذا) اور کتنی ہی بستیاں ہیں کہ ہم نے تباہ کر ڈالیں۔
بیانا۔ البیات والتبییت۔ رات کے وقت دشمن پر حملہ کرنا۔ شبخون مارنا۔ آیۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 5 :
لایکن ( نہ ہوں) حرج (تنگی) لاتتبعوا ( تم پیروی نہ کرو) من دونہ (اس کے سوا) تذکرون ( تم دھیان دیتے ہو) کم ( کتنے ۔ کتنی) باسنا ( ہمارا عذاب) بیات ( رات کو) قائلون ( دوپہر کو سونے والے) ۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 5 :
قرآن حکیم کی ترتیب کے لحاظ سے سورة اعراف ساتویں بڑی سورت ہے جو ہجرت مدینہ سے کچھ ہی عرصہ پہلے مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی تھی اس سورة کے مضامین کا خاص رخ مکہ مکرمہ کے ان مشرکین اور کفار کی طرف ہے جنہوں نے حق و صداقت کی آواز کو دبانے کے لئے ظلم و ستم کی انتہا کردی تھی جب ہم سورة الانعام اور سورة الاعراف کے مضامین کا مطالعہ کرتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
حشر کا بیان
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے قیامت کے دن عملوں کو ایک طرح کا جسم دیا جائے گا جس سے جسم میں نیکی کے سبب سے ایک بھاری پر اور بدی کے سبب سے ہلکا پن ہوگا۔ اب عملوں کے تولے جانے کے بعد جن کے نیک عملوں کا پلڑا بھاری ہوگا وہ جنتی قرار پاویں گے، اور جن کا نیکی کا پلڑا ہلکا ہوگا وہ دوزخ میں جاویں گے۔ دوزخ میں جانے کے بعد جس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا آخر کو وہ دوزخ سے نکال کر جنت میں بھیجا جاوے گا، اور برابر والا اعراف پر، جنتیوں اور دوزخیوں کے فیصلہ آخیر تک ٹھہرائے جا کر پھر جنت میں جاوے گا۔ اعراف : جنت اور دوزخ کے درمیان ایک دیوار ہے۔ قیامت کے تین مقام بڑے خوفناک اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–11
[2] یعنی تمہارے باپ آدم کو۔
[3] یعنی تمہارے باپ آدم کی صورت بنائی۔
[4] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 28 صفحہ 96۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
(ف 3) یعنی جب لوگوں نے احکام الہی کو تمردو سرکشی کی وجہ سے ٹھکرا دیا ہے تو عذاب نے آگھیرا ہے ، رات کو سوئے ہیں ، اور پھر نہیں اٹھے ، یا دن کو دوپہر کے وقت لیٹے ہیں ، اور خدا کی غیر جوش میں آگئی ، بستیاں الٹ گئیں ، اور یہ مٹ گئے ،
(آیت) ” فلنسئلن “ سے مراد یہ ہے کہ یہ سب کچھ اتمام حجت کے بعد ہوگا ، مجرم پکار اٹھیں گئے کہ واقعی ہم سزاوار تعزیر تھے اور انبیاء (علیہم السلام) برملا کہہ دیں گے کہ ہم نے تمام احکام بلاکم وکاست ان لوگوں تک پہنچا دیئے ،
حل لغات :
بیاتا : سوتے وقت بیات کے معنی رات گزارنے ، کے ہیں ، بیت : اس گھر کو کہتے ہیں جن میں رات گزاری جائیے ، قائلون : ، قیلولۃ یعنی دوپہر کو آرام…
Read the full tafseer →5 پھر جب ہمارا عذاب ان پر آپہنچا تو پھر ان کے منہ سے سوائے اس کے کچھ نہ نکلتا تھا اور ان کی چیخ و پکار بجز اس کے کچھ نہ تھی کہ وہ کہتے تھے بیشک ہم ہی ظالم تھے۔ یعنی اپنے جرم کا اقرار کرنے لگے۔
Read the full tafseer →ف 7۔ یعنی اس وقت اپنے جرم کا اقرار کیا جب کہ اقرار کا وقت گزر گیا۔
Read the full tafseer →عذاب میں مبتلا ہونے والوں نے اعتراف کیا کہ ہم ہی ظالم تھے :
5: عذاب میں مبتلا ہوجانے کے بعد انہوں نے اعتراف کیا اس کے ذکر کرنے کی ضرورت کیا تھی ؟ یہ بتانا مقصود تھا کہ تلافی کا وقت گزر جانے کے بعد کسی کا ہوش میں آنا اور اپنی غلطی کا اعتراف کرنا بیکار ہے۔ سخت نادان ہے وہ شخص اور وہ قوم جو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مہلت کو غفلتوں اور سرشاریوں میں ضائع کر دے اور داعیان حق کو بہرے کانوں سے سنے جائے اور ہوش میں صرف اس وقت آئے جب اللہ کی گرفت کا مضبوط ہاتھ اس پر پڑچکا ہو اور مہلت کا سارا وقت نکل چکا ہو اور یہ کہ افراد کی زندگیوں میں بھی اور اقوام کی زندگیوں میں بھی ایک دو نہیں بیشمار مثالیں تمہارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
In the statement فَلَا يَكُن فِي صَدْرِكَ حَرَجٌ appearing in the first verse, the address is to the Holy Prophet . ؓ and he has been told: This Qur'an is the Book of Allah sent down to you. This should not cause any constraint on your heart. The word: حَرَج (haraj) translated here as ` constraint' means that ` you should have no anguish or apprehension in conveying the Qur'an and its injunctions lest people belie it and hurt you.' (As reported from Abu Al-` Aliyah - Mazhari)
The hint given here is that Allah who has sent down this Book on you has also made arrangements that you shall…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
5. People can learn a lesson from the tragic fate of those nations that spurned God's Guidance. and instead followed the guidance of others; and they became so degenerate that their very existence became an intolerable burden on the earth. Eventually, God's scourge seized them. and the earth was cleansed of their filthy existence.
The words uttered by, the evil-doers: 'We are indeed transgressors', emphasizes two points, First, that it is pointless for one to realize and repent of one's wrong-doing after the time for such repentance is past. Individuals and communities who allow the term…
Read the full tafseer →