Al-A'raaf 7:4

Al-A'raaf · from ayah 4

7:4

وَكَمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا فَجَآءَهَا بَاْسُنَا بَیَاتًا اَوْ هُمْ قَآىِٕلُوْنَ ۟وَكَمۡ مِّنۡ قَرۡيَةٍ اَهۡلَـكۡنٰهَا فَجَآءَهَا بَاۡسُنَا بَيَاتًا اَوۡ هُمۡ قَآئِلُوۡنَ

اور کتنی ہی بستیاں ہیں کہ ہم نے تباہ کر ڈالیں جن پر ہمارا عذاب (یا تو رات کو) آتا تھا جبکہ وہ سوتے تھے یا (دن کو) جب وہ قیلولہ (یعنی دوپہر کو آرام) کرتے تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And how many cities have We destroyed, and Our punishment came to them at night or while they were sleeping at noon.

— Saheeh International

Juz 8 · Ruku 1 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:4

کتنی ہی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کر دیا اُن پر ہمارا عذاب اچانک رات کے وقت ٹوٹ پڑا، یا دن دہاڑے ایسے وقت آیا جب وہ آرام کر رہے تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور کتنی ہی بستیاں ہیں کہ ہم نے تباہ کر ڈالیں جن پر ہمارا عذاب (یا تو رات کو) آتا تھا جبکہ وہ سوتے تھے یا (دن کو) جب وہ قیلولہ (یعنی دوپہر کو آرام) کرتے تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور بہت بستیوں کو ہم نے تباه کردیا اور ان پر ہمارا عذاب رات کے وقت پہنچا یا ایسی حالت میں کہ وه دوپہر کے وقت آرام میں تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

کتنی ہی بستیاں ہیں جن کو ہم نے ہلاک کیا۔ چنانچہ ان کے پاس ہمارا عذاب راتوں رات آگیا، یا ایسے وقت آیا جب وہ دوپہر کو آرام کر رہے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور کتنی ہی بستیاں ہم نے ہلاک کیں تو ان پر ہمارا عذاب رات میں آیا جب وہ دوپہر کو سوتے تھے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور کتنی ہی بستیاں (ایسی) ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کر ڈالا سو ان پر ہمارا عذاب رات کے وقت آیا یا (جبکہ) وہ دوپہر کو سو رہے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور کتنی ہی بستیاں ہیں جنھیں ہم نے ہلاک کردیا، تو ان پر ہمارا عذاب راتوں رات آیا، یا جب کہ وہ دوپہر کو آرام کرنے والے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کتنی ہی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کردیا۔ ہمارا عذاب ان پر رات کے وقت آیا یا جب وہ دوپہر کو سو رہے تھے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور کتنی ہی بستیاں ہوئی ہیں جن کو ہم نے ہلاک کردیا تو آیا ان پر ہمارا عذاب رات میں اچاک یا دن دہاڑے جب وہ دوپہر کے آرام میں تھے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور کتنی ہی بستیاں ایسی تھیں جن کو ہم نے ہلاک کردیا، پس آگیا ان پر ہمارا عذاب راتوں رات، یا جب کہ وہ لوگ محو تھے دوپہر کے آرام میں

— مولانا اسحاق مدنی

اور کتنی ہی بستیاں ہیں کہ ہم نے انہیں تباہ کردیا۔ اور ان پر ہمارا عذاب رات کو پہنچا یا وہ دوپہر کو آرام میں تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

) اور کتنی ہی بستیاں ایسی ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کردیا تو ان پر آپڑا ہمارا عذاب جب وہ رات کو سو رہے تھے یا جب دوپہر کو قیلولہ کر رہے تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور کتنی ہی بستیاں ہم نے تباہ کر ڈالیں۔ جن پر ہمارا عذاب یا تو رات کو آتا تھا جبکہ وہ سو رہے ہوتے یا دن کو جب وہ دوپہر کو آرام کر رہے ہوتے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

How many a township We have destroyed! Our scourge fell upon them at night, or when they were taking midday rest.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

How many a town We have destroyed! Our punishment came upon them at night or when they were having a nap at midday.

— Muhammad Taqi Usmani

How many a town We have destroyed! Our punishment came upon them at night or when they were having a nap at midday.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And a great number of towns We destroyed. Our torment came upon them by night or while they were taking their midday nap.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

How many a township have We destroyed! As a raid by night, or while they slept at noon, Our terror came unto them.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And how many cities have We destroyed, and Our punishment came to them at night or while they were sleeping at noon.

— Saheeh International

How many cities have We destroyed! Our wrath struck their people at night or during their midday siesta.

— Muhammad Sarwar

And how many a town that We destroyed, so Our punishment came to it by night or while they slept at midday.

— Muhammad Habib Shakir

And how many a township We have destroyed, upon them Our violence came at night or while they were taking their midday rest.

— Abdul Majid Daryabadi

How many towns have We destroyed (for their sins)? Our punishment took them on a sudden by night or while they slept for their afternoon rest.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:4

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 4–7

سابقہ باغیوں کی بستیوں کے کھنڈرات باعث عبرت ہیں ان لوگوں کو جو ہمارے رسولوں کی مخالفت کرتے تھے انہیں جھٹلاتے تھے تم سے پہلے ہم ہلاک کرچکے ہیں۔ دنیا اور آخرت کی ذلت ان پر برس پڑی، جیسے فرمان ہے تجھ سے اگلے رسولوں سے بھی مذاق کیا گیا، لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ مذاق نے انہیں تہو بالا کردیا، ایک اور آیت میں ہے، بہت سی ظالم بستیوں کو ہم نے غارت کردیا جو اب تک الٹی پڑی ہیں اور جگہ ارشاد ہے بہت سے اتراتے ہوئے لوگوں کے شہر ہم نے ویران کردیئے دیکھ لو کہ اب تک ان کے کھنڈرات تمہارے سامنے ہیں جو بہت کم آباد ہوئے۔ حقیقتاً وارث ومالک ہم ہی ہیں ایسے ظالموں کے پاس ہمارے عذاب اچانک آگئے اور وہ اپنی غفلتوں اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 4–5

سورة الْاَعْرَاف 5 یعنی تمہاری عبرت کے لیے ان قوموں کی مثالیں موجود ہیں جو خدا کی ہدایت سے منحرف ہو کر انسانوں اور شیطانوں کی رہنمائی پر چلیں اور آخر کار اس قدر بگڑیں کہ زمین پر ان کا وجود ایک ناقابل برداشت لعنت بن گیا اور خدا کے عذاب نے آکر ان کی نجاست سے دنیا کو پاک کردیا۔ آخری فقرے سے مقصد دو باتوں پر متنبہ کرنا ہے۔ ایک یہ کہ تلافی کا وقت گزر جانے کے بعد کسی کا ہوش میں نہ آنا اور اپنی غلطی کا اعتراف کرنا بےکار ہے۔ سخت نادان ہے وہ شخص اور وہ قوم جو خدا کی دی ہوئی مہلت کو غفلتوں اور سرشاریوں میں ضائع کردے اور داعیانِ حق کی صداؤں کو بہرے کانوں سے سنے جائے اور ہوش میں صرف اس وقت آئے جب اللہ کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 2–5

معارف و مسائل پوری سورة پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سورة کے مضامین زیادہ تر معاد، یعنی آخرت اور نبوت و رسالت کے متعلق ہیں، چناچہ ابتداء سورة سے چھٹے رکوع تک تقریباً مضمون معاد و آخرت کا بیان ہوا ہے، پھر آٹھویں رکوع سے اکیسویں رکوع تک انبیاء سابقین کے حالات اور ان کی امتوں کے واقعات ان کی جزاء و سزا اور ان پر آنے والے عذابوں کا مفصل تذکرہ ہے۔ (آیت) فَلَا يَكُنْ فِيْ صَدْرِكَ حَرَجٌ پہلی آیت میں رسول کریم ﷺ کو خطاب فرما کر یہ ارشاد کیا گیا ہے کہ یہ قرآن اللہ کی کتاب ہے جو آپ ﷺ کے پاس بھیجی گئی ہے، آپ ﷺ کو اس کی وجہ سے دل تنگی نہ ہونی چاہئے، دل تنگی سے مراد یہ ہے کہ قرآن کریم اور اس کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَكَمْ مِّنْ قَرْيَةٍ اَهْلَكْنٰهَا فَجَاۗءَهَا بَاْسُنَا بَيَاتًا اَوْ هُمْ قَاۗىِٕلُوْنَ۔ قریہ کا مفہوم : قریۃ کا لفظ قریہ اور اہل قریہ دونوں پر حاوی ہوتا ہے۔ اس وجہ سے اس کے لیے ضمیر میں، اشارات اور فعل وغیرہ استعمال کرنے میں، کبھی لفظ کا اعتبار کرتے ہیں، کبھی مفہوم کا۔ یہ اسلوب ہر زبان میں عام ہے۔ قَاىِٕلُوْنَ ، قیلولہ سے ہے۔ قیلولہ کے معنی دوپہر منانے کے ہیں، سونا اس کے لوازم میں سے نہیں ہے۔ عرب کا ملک، گرم ملک ہے اس وجہ سے وہاں دوپہر میں لوگ مجبور ہوتے ہیں کہ اپنے اپنے مکانوں، ڈیروں، خیموں اور باغوں میں آرام کریں۔ اہل تاویل کی ایک غلط فہمی : بعض اہل تاویل کو فَجَاۗءَهَا بَاْسُنَا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

4۔ 1 فَائِلُوْنَ قَیْلُوْلَۃ، ُ سے ہے، جو دوپہر کے وقت استراحت (آرام کرنے) کو کہا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہمارا عذاب اچانک ایسے وقتوں میں آیا جب وہ آرام و راحت کے لئے بیخبر بستروں میں آسودہ خواب تھے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 2–10

2: آپ کو یہ پریشانی نہیں ہونی چاہیے کہ اس کے مضامین کو آپ لوگوں سے کیسے منوائیں گے اور اگر لوگ نہ مانے تو کیا ہوگا ؟ کیونکہ آپ کا فریضہ لوگوں کو ہوشیار اور خبردار کرنا ہے ان کے ماننے نہ ماننے کی ذمہ داری آپ پر نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آیت ” نمبر 4 تا 9۔ اقوام سابقہ کا انجام سبق آموز ہوتا ہے ۔ وہ نہایت ہی اونچا ڈراوا ہوتا ہے ۔ قرآن کریم اقوام سابقہ کے عبرت آموز حصوں کو نہایت ہی موثر انداز میں لاتا ہے جس سے انسان خواب غفلت سے جاگ اٹھتا ہے ۔ اور دل پر سے غفلت کے پردے ہٹ جاتے ہیں۔ بیشمار ایسی بستیاں ہیں جو غفلت کی وجہ سے اللہ کے عذاب کی مستحق ٹھہریں ۔ ان پر جب ہلاکت آئی تو وہ خواب غفلت میں مدہوش تھیں۔ یہ عذاب ان پر رات کے وقت آیا یا دن کے وقت وہ سوتے میں مارے گئے ۔ بالعموم لوگ دوپہر کے وقت آرام کرتے ہیں اور اس وقت ان کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ امن وامان سے رہیں۔ آیت ” وَکَم مِّن قَرْیَۃٍ أَہْلَکْنَاہَا فَجَاء ہَا بَأْسُنَا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 4–5

1 یعنی جب ان کے ظلم وعدوان اور کفر و عصیان کی حد ہوچکی، تو دنیا کی لذات و شہوات میں منہمک اور عذاب الہٰی سے بالکل بےفکر ہو کر خواب استراحت کے مزے لینے لگے کہ یکایک ہمارے عذاب نے آدبوچا۔ پھر ہلاکت آفرینیوں کے اس دہشت ناک منظر اور ہنگامہ دارو گیر میں ساری طمطراق بھول گئے چاروں طرف سے اِنَّا کُنَّا ظَالِمِیْنَ کی چیخ پکار کے سوا کچھ سنائی نہ دیتا تھا۔ گویا اس وقت انہیں واضح ہوا اور اقرار کرنا پڑا کہ خدا کسی پر ظلم نہیں کرتا ہم خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں (تنبیہ) فَجَاءَھَا بَاْسُنَا کی " فائ " میں مفسرین کے کئی قول ہیں، غالباً مترجم محقق قدس سرہ، نے اس کو اَھْلَکْنٰھَاکی تفسیر و تفصیل قرار…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 4 وَکَمْ مِّنْ قَرْیَۃٍ اَہْلَکْنٰہَا فَجَآءَہَا بَاْسُنَآ بَیَاتًا اَوْ ہُمْ قَآءِلُوْنَ۔۔ چو ن کہ اس سورة مبارکہ کے موضوع کا عمود التّذکیر بِاَیَّام اللّٰہ ہے ‘ لہٰذا شروع میں ہی اقوام گزشتہ پر عذاب اور ان کی بستیوں کی تباہی کا تذکرہ آگیا ہے۔ یہ قوم نوح علیہ السلام ‘ قوم ہود علیہ السلام ‘ قوم صالح علیہ السلام علیہ السلام اور قوم شعیب علیہ السلام کی بستیوں اور عامورہ اور سدوم کے شہروں کی طرف اشارہ ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 3–4

4 اسلام میں باہر سے کوئی نظریہ :۔ یہاں اولیاء سے مراد پیشوا اور قائدین ہیں یعنی انسانی زندگی کے لیے جو قوانین اس کتاب میں مذکور ہیں آپ صرف انہیں کا اتباع کیجئے۔ آج بھی غیرمسلم قائدین سے مسلمانوں کو کسی طرح کے قواعد و احکام اسلام میں درآمد کرنے کی ضرورت نہیں رہی کہ وہ مسائل شرعیہ علمائے یہود سے پوچھیں، زہد اور رہبانیت کے لیے ہندی اور یونانی فلسفہ کے محتاج ہوں اپنا معاشی نظام لینن اور کارل مارکس سے حاصل کریں یا روس اور چین سے درآمد کریں۔ سیاسی نظام کے لیے امریکی جمہوریت کو اسلام کے اندر لا گھسائیں بلکہ انسانی زندگی کی ہر طرح کی ضرورت کے لیے انہیں یہ کتاب اور رسول کی سنت کافی ہے مگر آج کے مسلمان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

5 ۔ یعنی عموما ایسے وقت جب وہ غفلت اور بےفکری میں پڑے تھے ان دونوں وقتوں کی تصریح اس لیے کی گئی کہ یہی دو وقت عموما غفلت وبے فکری کے ہوتے ہیں۔ نص ھذان الوقتان لانھما وقتا الغفلۃ (مدارک) معنی الایۃ انھم جاء ھم بأسناوھم غیرمتوقعین لہ اما لیلا وھم نائمون اونھارا وھم قائلون والمقصود انھم جاء ھم العذاب علی حین غفلۃ منھم (کبیر) (آیت) ” اوھم قآئلون “۔ قائل قیلولہ کرنے والے کے معنی میں ہے اور قیلولہ کہتے ہیں دوپہر میں آرام کرنے کو۔ یعنی القائلۃ وھی القیلولۃ وھی نوم نصف النھار وقیل الاستراحۃ نصف النھار اذا اشتدالحر وان لم یکن معنی معھا نوم (قرطبی) قال قال اللیث القیلولۃ نومۃ نصف النھار وقال الازھری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 2–7

فلا یکن فی صدرک حرج، پہلی آیت میں آپ ﷺ کو خطاب فرماتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ یہ قرآن اللہ کی کتاب ہے جو آپ کی طرف نازل کی گئی ہے، لہٰذا آپ کو کسی قوم کی دل تنگی نہ ہونی چاہیے، دل تنگی سے مراد یہ ہے کہ قرآن کریم اور اس کے احکام کی تبلیغ میں آپ کو کسی قسم کا خوف اور جھجک نہیں ہونی چاہیے اور اس سے انکار و تکذیب کی صورت میں آپ کو کوفت اور کڑھن نہ ہونی چاہیے (ای یضیق صدرک اَلاَّ یؤمنونوا بہ) قرطبی (یعنی) قیامت کے روز عوام الناس سے سوال کیا جائیگا کہ ہم نے تمہارے پاس اپنے رسول اور کتابیں بھیجی تھیں تم نے ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا ؟ اور رسولوں سے پوچھا جائیگا کہ جو پیغام رسالت اور احکام شریعت دیکر ہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وکم من قریۃ اہلکنہا فجآء ہا باسنا بیاتا او ہم قائلون اور بہت بستیوں کو ہم نے تباہ کردیا اور ان پر ہمارا عذاب رات کے وقت پہنچا یا ایسی حالت میں کہ دوپہر کے وقت وہ آرام میں تھے۔ ہلاک کرنے سے مراد ہے بستی والوں کو تباہ کرنے کا ارادہ کرنا یا ان کو بےمدد چھوڑ دینا۔ باس عذاب بیات مصدر ہے بمعنی اسم فاعل (جب وہ رات کو آرام کر رہے تھے) قیلولہ دوپہر کو آرام کے لئے لیٹنا نیند ہو یا نہ ہو یا جاءَ ہَا بَاْسُنَا۔ اَہْلَکْنَا ہَا سے بدل ہے اس صورت میں ہلاک کرنے کی تشریح اور توضیح اس سے ہو رہی ہے جیسے محاورہ بولا جاتا ہے تم نے میرے ساتھ احسان کیا کہ مجھے اتنا مال دے دیا۔ خلاصۂ مطلب یہ ہے کہ بہت بستیاں ایسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 3–7

(3۔ 4۔ 5۔ 6۔ 7) اور بہت سے بستیوں والوں کو ہم نے عذاب کے ذریعے ہلاک کردیا ہے، ہمارا عذاب رات کو یا دن کو یا دوپہر کے وقت جب کہ وہ آرام میں تھے پہنچا تو جس وقت ان کی ہلاکت کے لیے ہمارا عذاب نازل ہوا تو ماسوا پنے مشرک ہونے کے اقرار کے اور کچھ ان کی زبان سے نہیں جاری ہوا تو ان قوموں سے پیغمبروں کی اطاعت اور پیغمبروں سے تبلیغ رسالت کے بارے میں ہم ضرور پوچھیں گے، ہم ان کے سامنے پیغمبروں کی تبلیغ اور ان کی قوموں کی اطاعت کو بیان کردیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَكَمْ مِّنْ قَرْيَةٍ اَهْلَكْنٰهَا۔۔ : پچھلی آیت میں فرمایا کہ تم بہت کم نصیحت قبول کرتے ہو، یہاں فرمایا کہ دیکھ لو کہ نصیحت اور عبرت کے لیے تمہارے سامنے کتنی ہی بستیاں ہیں، جنھیں غیر اللہ کی عبادت اور رسولوں کو جھٹلانے کی وجہ سے ہم نے ہلاک کردیا، جن میں سے کچھ تو وہ تھے جو رات امن و اطمینان سے سو رہے تھے کہ ان پر ہمارا عذاب آگیا، جیسا کہ قوم لوط اور کچھ وہ تھے جو دوپہر کو آرام کر رہے تھے، جیسے شعیب ؑ کی قوم۔ آرام اور بیخبر ی کی حالت میں آنے والا عذاب زیادہ خوف ناک ہوتا ہے، یعنی ان کفار کو اپنی خوش حالی پر مغرور نہیں ہونا چاہیے، اللہ تعالیٰ کا عذاب اچانک آ کر اپنی گرفت میں لے سکتا ہے اور اس…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 4–5

آیت نمبر : 4۔ 5 قولہ تعالیٰ : آیت : وکم من قریۃ اھلکنٰھا اس میں کم تکثیر کے لیے ہے، جس طرح کہ رب تقلیل کے لیے ہوتا ہے۔ اور کم مبتدا ہونے کی وجہ سے محل رفع میں ہے، اور اھلکنٰھا اس کی خبر ہے، یعنی بہت سے بستیاں تھیں۔ قری بہت سے لوگوں کے اکٹھا رہنے کی جگہوں کو کہتے ہیں۔ ہم نے انہیں ہلاک و برباد کردیا۔ اور کم کو اس بنا پر محل نصب میں قرار دینا بھی جائز ہے کہ اس کے بعد فعل مضمر ہو اور اس سے پہلے فعل مقدر نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ استفہام اپنے سے ما قبل میں عمل نہیں کرتا۔ اور پہلے قول کو یہ قول تقویت دیتا ہے : آیت : وکم اھلکنا من القرون من بعد نوح (الاسراء : 17) ( اور کتنی قومیں ہیں جنہیں ہم نے ہلاک…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 2–4

(1) امام عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فلا یکن فی صدرک حرج منہ “ میں حرج کے معنی ہے شک اور اعرابی سے فرمایا کہ تمہارے اندر حرج کیا چیز ہے ؟ تو اس نے کہا ایسا شک جو کاٹ دینے والا ہو۔ (2) امام ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فلا یکن فی صدرک حرج منہ “ سے مراد ہے شک۔ (3) امام ابو الشیخ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فلا یکن فی صدرک حرج منہ “ سے مراد ہے تنگی۔ (4) امام عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” اتبعوا ما انزل الیکم من ربکم “ کے بارے میں فرمایا یعنی اس قرآن کی پیروی کرو۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَكَمْ مِّنْ قَرْيَةٍ [ اور کتنی ہی بستیاں ہیں ] اَهْلَكْنٰهَا [ ہم نے ہلاک کیا جن کو ] فَجَاۗءَهَا [ پھر آئی ان کے پاس ] بَاْسُنَا [ ہماری سختی ] بَيَاتًا [ رات ہوتے ہوئے ] اَوْ هُمْ [ یا اس حال میں کہ وہ لوگ ] قَاۗىِٕلُوْنَ [ دوپہر کو آرام کرنے والے تھے ] (آیت ۔ 4 ۔ 5) بیاتا حال ہے اور اس کے آگے ھم قائلون پورا جملہ بھی حال ہے ۔ فجاء ھا میں ھا کی ضمیر بستیوں کے لیے ہے جبکہ فجاء ہم میں ھم کی ضمیر بستی والوں کے لیے ہے ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 3–6

قیامت کے دن رسولوں سے اور ان کی امتوں سے سوال اور اعمال کا وزن ان آیات میں آخرت کے سوال و جواب اور عقائد و اعمال کے تولے جانے کا پھر اوزان کے ہلکا بھاری ہونے کا اور اس کے مطابق کامیاب اور نا کام ہونے کا ذکر فرمایا۔ قیامت کے دن امتوں سے سوال ہوگا کہ تمہارے پاس رسول آئے تھے تو تم نے ان کو کیا جواب دیا تھا کمافی سورة القصص (وَ یَوْمَ یُنَادِیْھِمْ فَیَقُوْلُ مَاذَآ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِیْنَ ) اور حضرات رُسُلِ عظام و انبیاء کرام (علیہ السلام) سے بھی سوال ہوگا کہ کیا آپ حضرات نے ہمارا پیغام پہنچایا اور یہ بھی سوال ہوگا کہ امتوں نے اس کا کیا جواب دیا۔ صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–18

قال اللہ تعالیٰ ۔ المص۔ کتاب انزل الیک۔۔۔ الی۔۔۔ بما کانو بایاتنا یظلمون (ربط) گذشتہ سورت کے آخری رکوع میں قرآن مجید کے اتباع کا حکم اور اس کی ترغیب تھی اور اس سے انحراف اور اعراض پر نزول عذاب کی وعید تھی اور اسی بناء پر گزشتہ سورت کے آخری رکوع کو ان ربک سریع العقاب وانہ لغفور رحیم پر ختم فرمایا اب اس سورت کے آغاز میں قرآن مجید کے اتباع کا حکم دیتے ہیں اور گزشتہ امتوں کے منکرین حق اور مکذبین حق کی ہلاکت اور بربادی کا ذکر کرتے ہیں تاکہ منکرین قرآن اس سے عبرت پکڑیں۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ المص سورة بقرہ کے شروع ہی میں اس قسم کے حروف مقطعات کے متعلق مفسرین کے اقوال بسط اور تفصیل کے ساستھ گزر چکے ہیں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 4–5

5: یہ تخویف دنیوی ہے۔ “ اَھْلَکْنٰھَا اَي اھلھا ”۔ یعنی بہت سی بستیوں کے باسیوں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں۔ “ بَیَاتًا ” مصدر بمعنی اسم فاعل “ اَھْلَکْنَا ” کے مفعول سے حال واقع ہے۔ مصدر واقع موقع الحال بمعنی بائتین۔ (مدارک ج 2 ص 24) ۔ “ قَائِلُوْنَ ” قیلولۃ سے ہے جس کے معنی دوپہر کے وقت نیند کرنے کے ہیں۔ “ فَمَا کَانَ دَعْوٰ ھُمْ الخ ” عذاب آنے سے پہلے تو وہ ضد وعناد کی وجہ سے مانتے نہ تھے لیکن جب ان کی بد اعمالیوں اور مسلسل جحود و انکار کے سبب اللہ کا عذاب آجاتا ہے تو اپنے قصور کا اعتراف کرلیتے مگر اس وقت پچھتانے سے کچھ فائدہ نہ ہوتا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–7

حروف مقطعات اس سورة مبارکہ کی ابتداء حروف مقطعات المص ہ سے کی گئی ہے ان حروف کے معانی کے متعلق مفسرین نے مختلف تاویلات پیش کی ہیں تاہم یقین کے ساتھ ان کے معانی کے متعلق کچھ نہیں کہا جاسکتا تفسیر جلالین میں علامہ جلال الدین سیوطی (رح) فرماتے ہیں کہ ان حروف کے متعلق اسی حد تک اعتقاد رکھنا چاہیے اللہ اعلم بمرادہ بذالک (امنا و صدفنا) ان کی حقیقت کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے ہم اسی پر ایمان لاتے ہیں اور اسی کی تصدیق کرتے ہیں لہٰذا ان حروف کے معانی و مطالب کے سلسلے میں یہی طریقہ اختیار کرنا زیادہ اسلم ہے تاکہ انسان گمراہی اور فتنے سے بچ سکے تاہم امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) نے اپنے ذوقی اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَكَمْ مِّنْ قَرْيَۃٍ اَہْلَكْنٰہَا فَجَاۗءَہَا بَاْسُـنَا بَيَاتًا اَوْ ہُمْ قَاۗىِٕلُوْنَ۝ 4 كم كَمْ : عبارة عن العدد، ويستعمل في باب الاستفهام، وينصب بعده الاسم الذي يميّز به نحو : كَمْ رجلا ضربت ؟ ويستعمل في باب الخبر، ويجرّ بعده الاسم الذي يميّز به . نحو : كَمْ رجلٍ. ويقتضي معنی الکثرة، وقد يدخل «من» في الاسم الذي يميّز بعده . نحو : وَكَمْ مِنْ قَرْيَةٍ أَهْلَكْناها[ الأعراف/ 4] ، وَكَمْ قَصَمْنا مِنْ قَرْيَةٍ كانَتْ ظالِمَةً [ الأنبیاء/ 11] ، والکُمُّ : ما يغطّي الید من القمیص، والْكِمُّ ما يغطّي الثّمرةَ ، وجمعه : أَكْمَامٌ. قال : وَالنَّخْلُ ذاتُ الْأَكْمامِ [ الرحمن/ 11] .…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 4–5

2 ؎ لوط کی بستیوں پر بھی اور عاد وثمود کی قوم پر یوں ہی عذاب آیا۔ اس زمانہ میں بھی بعض شہروں میں شب کو زلزلہ شروع ہوا تو ہزاروں ہلاک ہوگئے بعض جا پر شباشب سیلاب نے غارت کیا۔ سینکڑوں شہروں پر وباء آئی۔ بہت کو ظالم بادشاہوں نے ہلاک کیا۔ غرض سینکڑوں طور عذاب الٰہی کے ہیں ڈرنا چاہیے۔ رات کا عذاب اسی طرح دوپہر جو کہ عرب میں آرام کا وقت ہے اور یہی قہر ہے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 4–5

ارشاد ہوتا ہے : وَکَمْ مِّنْ قَرْیَۃٍ اَھْلَکْنٰھَا فَجَآئَھَا بَاْسُنَا بَیَاتًا اَوْھُمْ قَآئِلُوْنَ ۔ فَمَا کَانَ دَعْوٰھُمْ اِذْ جَآئَھُمْ بَاْسُنَآ اِلَّآ اَنْ قَالُوْآ اِنَّا کُنَّا ظٰلِمِیْنَ ۔ (الاعراف : 4، 5) ” اور کتنی ہی بستیاں ہوئی ہیں جن کو ہم نے ہلاک کردیا تو آیا ان پر ہمارا عذاب رات میں اچانک یا دن دہاڑے جب وہ دوپہر کے آرام میں تھے تو جب ہمارا عذاب ان پر آیا تو اس کے سوا وہ کچھ نہ کہہ سکے کہ بلا شبہ ہم ہی ظالم تھے “ معذب قوموں کی تاریخ سے استدلال اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے کافروں کے کفر ‘ مشرکوں کے شرک اور ان کی بدکرداریوں کا انجام بیان کیا ہے اور ساتھ ہی اس بات کا بھی ذکر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 4–5

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے فرمان نہ ماننے اور اس کی نصیحت قبول نہ کرنے والوں کا انجام۔ سورة کے تعارف میں ہم نے عرض کیا ہے کہ سورة کے پہلے رکوع میں ساری سورة کے مضامین کا خلاصہ ذکرہوا ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلی اقوام اور امتوں کے پاس اپنے رسول بھیجے جو انکو اللہ تعالیٰ کے احکام بتلاتے اور باربار نصیحت کرتے تھے کہ اے لوگو ! اپنے رب کی ہدایات پر عمل کرو۔ اس میں تمہارا بھلا ہے اور ہم تمہارے خیرخواہ ہیں لیکن لوگوں نے اپنے رب کی ہدایات ماننے اور انبیاء (علیہ السلام) کی پیروی کرنے کے بجائے اپنے آبا کے رسم و رواج، بزرگوں کے اقوال اور ذاتی خیالات کو مقدم جانا۔ اس فکروعمل پر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

نحوی تحقیق : آیت 4: وَکَمْ مِّنْ قَرْیَۃٍ اَھْلَکْنٰھَا (اور بہت بستیوں کو ہم نے تباہ کردیا) کَمْ مبتداء ہے اَھْلَکْنٰھَا اس کی خبر ہے مِّنْ قَرْیَۃٍ ۔ من بیانیہ کم خبریہ کی تمییز پر لایا گیا۔ اھلکنٰھا سے ارادئہ ہلاک مراد ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام میں ارشاد ہے : اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصّلٰوۃِ فَاغْسِلُوْا ( المائدہ : 6) میں ارادئہ قیام کو قیام فرمایا گیا۔ فَجَآ ئَ ھَا اس کے رہنے والوں پر آیا۔ بَاْسُنَا ہمارا عذاب بَیَاتًایہ مصدر ہے جو حال کی جگہ واقع ہوا ہے۔ اس کا معنی بائتین ہے۔ جیسے کہا جاتا ہے بات بیاتا حسناً اس نے خوب رات گزاری اَوْ ھُمْ قَآپلُوْنَیہ بیاتًا پر عطف کی وجہ سے حال ہے گویا تقدیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(4) (وکم من قریۃ اھلکنھا) عذاب کے ساتھ ” کم “ کثرت کے معنی دیتا ہے اور ” رب قلت “ کا معنی دیتا ہے۔ (فجآء ھا باسنا بیاتاً رات اوھم قائلون)” فیلولہ “ مصدر سے ہے۔ اصل عبارت ” فجاء ھابأسنا لیلا وھم نائمون اوتھاراً وھم قائلون “ قیلولہ کر رہے ہوں گے۔” اونائمون ظھیرۃ “ ” قیلولۃ “ آدھے دن میں آرام کرنا اگرچہ نیند نہ آئے اور آیت کا مطلب یہ ہے کہ ان کے پاس ہمارا عذاب آیا اور ان کو امید نہ تھی، رات کو یا دن کو۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں ” او “ عذاب پھیرنے کے لئے ہے یعنی ایک مرتبہ رات کو اور ایک مرتبہ دن کو۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ بعض بستی والوں کو ہم نے رات کو ہلاک کیا اور بعض کو دن کے وقت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 4–7

(4 ۔ 7) ۔ اوپر کی فہمائش کے بعد ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کو یوں ڈرایا ہے کہ جب تم سے پچھلے لوگوں نے کفر وشرک نہ چھوڑا اور خدا تعالیٰ کے حکموں اور رسولوں کی فرمانبرداری نہ کی تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ رسولوں کی مخالفت کے سبب سے ان نافرمانوں کی بہت سی بستیاں تباہ کردی گئیں دونوں جہان کی ذلت ان کو حاصل ہوئی تم لوگ بھی الگ اللہ کے رسول کی نافرمانی سے باز نہ آئے تو تمہارا بھی یہی انجام ہونے والا ہے قوم لوط (علیہ السلام) پر رات کے وقت اور قوم شعیب (علیہ السلام) پر دوپہر کے وقت عذاب الٰہی نازل ہوا تھا یہ دونوں وقت نہایت آرام و غفلت کے ہوتے ہیں ایسے ہی وقت میں خدا کا عذاب یکایک اترا اور اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–8

آیت 1 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ سے قرآن کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : (کتب انزل الیک) ” یہ کتاب اتاری گئی ہے آپ پر ‘ یعنی یہ نہایت جلیل القدر کتاب جو ان امور پر مشتمل ہے جن کے بندے محتاج ہیں اور اس میں تمام مطالب الہیہ اور مقاصد شرعیہ محکم اور فمصل طور پر موجود ہیں (فلایکن فی صدرک حرج منہ) ” پس آپ کا سینہ اس (کے پہنچانے) سے تنگ نہ ہو “ یعنی آپ کے دل میں کوئی تنگی اور شک و شبہ نہ ہو۔ تاکہ آپ جان لیں کہ یہ حکمت والی اور قابل تعریف ہستی کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے اور سب سے سچا کلام ہے۔ (لایتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ) (حم السجدہ :62/31) ” باطل اس کے آگے سے آسکتا ہے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 3–16

پیروی قرآن قول باری ہے اتبعواماانزل الیکم من ربکم۔ لوگوں جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اس کی پیروی کرو) اس کا مفہوم یہ ہے کہ بندوں کے تمام تصرفات کا دائرہ اللہ کے حکم کی مراد تک محدود ہو یعنی اس کے حکم کی جو مراد ہو اس کے بندے اس کے مطابق عمل کریں۔ یہ اہتمام یعنی اقتداء کی نظیر ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے حکم کی مراد کی اتباع اور اس پر عمل میں اس کی اس طرح اقتداء کی جائے کہ وہ اس کے دائرہ تدبیر سے خارج نہ ہو۔ اگر یہ کہا جائے کہ آیا مباح پر عمل کرنے والا اللہ کے حکم کا متبع ہوتا ہے ؟ تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ایسا شخص اس وقت اللہ کے حکم کا متبع ہوتا ہے جب وہ اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 4–5

8 تاریخ سے درس عبرت لینے کی تعلیم و تلقین : سو اس سے تاریخ اور گذشتہ قوموں کے انجام سے درس عبرت لینے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے۔ سو ان کے انجام سے یہ درس لیں کہ تکذیب و انکارِ حق کا نتیجہ و انجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ان سب کو ہلاک کیا گیا ان کی سرکشی اور تکذیبِ حق کے باعث۔ پس موجودہ دور کے سرکش اور مکذبین بھی ایسے ہی انجام بد سے دو چار ہوسکتے ہیں جن سے سابقہ ادوار کے یہ لوگ ہوچکے ہیں کہ اللہ پاک کا قانون عدل و انصاف یکساں اور سب کے لئے ایک ہے۔ سو یہ تاریخ کا ایک واضح درس ہے کہ سرکشی اور تکذیبِ حق کا نتیجہ و انجام ہلاکت و تباہی ہے۔ جیسا کہ ان گزشتہ قوموں سے ہوچکا ۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 4–7

گناہوں پر عذاب تشریح : یہاں اس عذاب کا ذکر کیا جا رہا ہے جو گزشتہ نافرمان قوموں پر آچکے ہیں۔ اللہ رب العزت بڑا مہربان ہے کہ اس نے بندوں کی ہدایت کے لیے رسول اور آسمانی کتابیں نازل فرمائیں مگر اس کے ساتھ ساتھ رب العالمین بڑا سخت حساب لینے والا اور بڑی سخت سزا دینے والا بھی ہے۔ قرآن مجید میں بڑی تفصیل سے ان قوموں کا ذکر کیا گیا ہے جن کو بڑی مہلت دی گئی اور بالآخر ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان پر عذاب الٰہی نازل ہوا۔ اور یہ تو محض ہلاکت ہی تھی اعمال کا بدلہ تو قیامت کے بعد دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کسی کے ساتھ ناانصافی نہ کرے گا، حالانکہ وہ سب کے اعمال و کردار سے پوری طرح واقف ہے، پھر بھی وہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

رکوع نمبر 1 ۔ آیات نمبر 1 تا 10 ۔ اسرار و معارف : کتاب کا مفہوم : حفورف مقطعات کے متعلق شروع میں ہی عرض کیا جا چکا ہے کہ انھا سر بین اللہ ورسولہ نیز جنہیں قلب اطہر سے نسبت تام نصیب ہوجائے اللہ کی عطا سے وہ بھی اپنی حیثیت کے مطابق آگاہ ہوجاتے ہیں ان پر ایمان ضروری ہے اور تلاوت سے وہ فائدہ جو مقصود ہے نصیب ہوجاتا ہے لہذا ہر کس و ناکس کو معافی کی کرید نہ کرنا چاہئے۔ یہ کتاب ہے جامع مکمل اور سچی محض اوراق لکھ کر جوڑ دینا کتاب کا مفہوم ادا نہیں کرتا اس لیے کہ ہر کتاب کسی موضوع پر ہوتی ہے اور حق یہ ہے کہ اسے موضوع کے بارے مکمل سچی اور حتی بات قاری تک پہنچانا چاہئے۔ انسانی اندازے تو ہوتے ہیں قطعی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 12 یعنی غفلت میں پڑے سو رہے تھے مقصود پیغمبر کی اطاعت سے اعراض پر تنبیہ کرنا ہے کہ ان کفار کو اپینی گرفت میں لے سکتا ہے اور اس کے آنے کا وقت کسی کو معلوم نہیں ہے۔ (کبیر )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 4–5

(7:4) کم سوالیہ استفہام کے لئے آتا ہے ۔ کتنی دیر۔ کتنی مقدار۔ کتنی تعداد ۔ کتنی مدت۔ اس کی تمیز ہمیشہ مفرد منصوب ہوتی ہے کبھی مذکور ہوتی ہے مثلاً کم درھما عندک تیرے پاس کتنے درہم ہیں۔ کبھی محذوف ہوتی ہے مثلاً کم لبثت۔ یعنی کم زمانا لبث۔ تو کتنی مدت ٹھہرا۔ خبریہ۔ جو مقدار کی بیشی اور تعداد کی کثرت کو ظاہر کرتا ہے اس کی تمیز ہمیشہ مجرور ہوتی ہے جیسے کم رجل ضربت۔ میں نے کتنے ہی مردوں کو پیٹا۔ کبھی اس صورت میں اس کی تمیز پر من جارہ داخل ہوتا ہے جیسے کم من قریۃ اہلکناھا۔ (آیۃ ہذا) اور کتنی ہی بستیاں ہیں کہ ہم نے تباہ کر ڈالیں۔ بیانا۔ البیات والتبییت۔ رات کے وقت دشمن پر حملہ کرنا۔ شبخون مارنا۔ آیۃ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–5

لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 5 : لایکن ( نہ ہوں) حرج (تنگی) لاتتبعوا ( تم پیروی نہ کرو) من دونہ (اس کے سوا) تذکرون ( تم دھیان دیتے ہو) کم ( کتنے ۔ کتنی) باسنا ( ہمارا عذاب) بیات ( رات کو) قائلون ( دوپہر کو سونے والے) ۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 5 : قرآن حکیم کی ترتیب کے لحاظ سے سورة اعراف ساتویں بڑی سورت ہے جو ہجرت مدینہ سے کچھ ہی عرصہ پہلے مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی تھی اس سورة کے مضامین کا خاص رخ مکہ مکرمہ کے ان مشرکین اور کفار کی طرف ہے جنہوں نے حق و صداقت کی آواز کو دبانے کے لئے ظلم و ستم کی انتہا کردی تھی جب ہم سورة الانعام اور سورة الاعراف کے مضامین کا مطالعہ کرتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 3–4

اچانک عذاب کا ذکر ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ رسولوں کی نافرمانی کے سبب سے بہت سی بستیاں تباہ کردی گئیں۔ دونوں جہان کی ذلت ان کو حاصل ہوئی اور یہ عذاب ایسے وقت آیا کہ جبکہ انہیں خیال بھی نہ تھا یا تو رات کا وقت تھا اور وہ آرام کی نیند سوتے تھے، یا دن میں دوپہر کا وقت تھا جب مصروف راحت تھے نہ عذاب کے نزول کی کوئی نشانی تھی اچانک عذاب آگیا۔ اس سے کفار کو جتایا جاتا ہے کہ وہ اسباب امن و راحت پر مغرور نہ ہوں۔ عذاب الٰہی جب آتا ہے تو دفعۃ آجاتا ہے۔ عذاب آنے پر انہوں نے اپنے جرم کا اقرار کیا مگر اس وقت اقرار فائدہ مند نہ تھا قیامت کے روز پروردگار پچھلی امتوں سے قائل کرنے کے طور پر پوچھے گا کہ تم نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 3–11

[2] یعنی تمہارے باپ آدم کو۔ [3] یعنی تمہارے باپ آدم کی صورت بنائی۔ [4] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 28 صفحہ 96۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 3–4

دعوت حق : (ف 2) مقصد یہ ہے کہ سب لوگ صرف کلام الہی کے ماننے کے مکلف ہیں ، اس کو ترک کرکے دیگر ارباب کی پیروی گمراہی ہے ، اسلام انسان کو حریت وآزادی کی تلقین کرتا ہے ، وہ دنیا میں صرف اللہ کا محکوم ہے اور اس کی گردن میں بجز اس کے اور کسی کا راقبہ عقیدت نہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

4 اور کتنی ہی بستیاں ایسی ہیں جن کے رہنے والوں کو ہم نے ہلاک کردیا اور تباہ و برباد کرڈالا یعنی ان کی نافرمانی کے سبب پھر ہمارا عذاب ان پر یا تو رات کو ان کے سوتے میں آیا یا دوپہر کو آیا جبکہ وہ آرام کررہے تھے یعنی کسی بستی پر رات کو عذاب نازل ہو اور کسی بستی پر دوپہر کو قیلولہ کے وقت آیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کتنی ہی بستیاں تھیں جن کو اللہ نے اپنے قانون کے مطابق ہلاک کردیا : 4: قابل غور بات یہ ہے کہ جن جماعتوں نے دعوت حق کا مقابلہ کیا۔ وہ پاداش عمل میں ہلاک ہوگئیں کیونکہ انکار وسرکشی کا نتیجہ ہلاکت ونامرادی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا دعوت حق کو ماننے والے باقی رہے ؟ کامیابی و کامرانی کے بعد موت کا آنا اور ناکام ونامراد حکم الٰہی کے مطابق عذاب کی صورت میں ہلاک ہونے میں اگر کوئی فرق نہیں تو سوال صحیح ہے اور اگر ان دونوں مدتوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے تو یہی اس کا جواب ہے۔ اس دنیا میں جو پیدا ہوا اس کو بہرحال مرنا لازم ہے کافر ومسلم کی موت میں فرق یہ ہے کہ مسلم مرنے کے بعد جب دوبارہ اٹھایا جائے گا تو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 2–5

In the statement فَلَا يَكُن فِي صَدْرِ‌كَ حَرَ‌جٌ appearing in the first verse, the address is to the Holy Prophet . ؓ and he has been told: This Qur'an is the Book of Allah sent down to you. This should not cause any constraint on your heart. The word: حَرَج (haraj) translated here as ` constraint' means that ` you should have no anguish or apprehension in conveying the Qur'an and its injunctions lest people belie it and hurt you.' (As reported from Abu Al-` Aliyah - Mazhari) The hint given here is that Allah who has sent down this Book on you has also made arrangements that you shall…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–5

5. People can learn a lesson from the tragic fate of those nations that spurned God's Guidance. and instead followed the guidance of others; and they became so degenerate that their very existence became an intolerable burden on the earth. Eventually, God's scourge seized them. and the earth was cleansed of their filthy existence. The words uttered by, the evil-doers: 'We are indeed transgressors', emphasizes two points, First, that it is pointless for one to realize and repent of one's wrong-doing after the time for such repentance is past. Individuals and communities who allow the term…

Read the full tafseer →