Al-A'raaf 7:3

Al-A'raaf · from ayah 3

7:3

اِتَّبِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ ؕ— قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ ۟اِتَّبِعُوۡا مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكُمۡ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ وَلَا تَتَّبِعُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اَوۡلِيَآءَ‌ ؕ قَلِيۡلًا مَّا تَذَكَّرُوۡنَ

(لوگو) جو (کتاب) تم پر تمہارے پروردگار کے ہاں نازل ہوئی ہے اس کی پیروی کرو اور اس کے سوا اور رفیقوں کی پیروی نہ کرو (اور) تم کم ہی نصیحت قبول کرتے ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

Follow, [O mankind], what has been revealed to you from your Lord and do not follow other than Him any allies. Little do you remember.

— Saheeh International

Juz 8 · Ruku 1 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:3

لوگو، جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اُس کی پیروی کرو اور اپنے رب کو چھوڑ کر دوسرے سرپرستوں کی پیروی نہ کرو مگر تم نصیحت کم ہی مانتے ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(لوگو) جو (کتاب) تم پر تمہارے پروردگار کے ہاں نازل ہوئی ہے اس کی پیروی کرو اور اس کے سوا اور رفیقوں کی پیروی نہ کرو (اور) تم کم ہی نصیحت قبول کرتے ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

تم لوگ اس کا اتباع کرو جو تمہارے رب کی طرف سے آئی ہے اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر من گھڑت سرپرستوں کی اتباع مت کرو تم لوگ بہت ہی کم نصیحت پکڑتے ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

(لوگو) جو کتاب تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے اتاری گئی ہے، اس کے پیچھے چلو، اور اپنے پروردگار کو چھوڑ کر دوسرے (من گھڑت (سرپرستوں کے پیچھے نہ چلو۔ (مگر) تم لوگ نصیحت کم ہی مانتے ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے لوگو! اس پر چلو جو تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اُترا اور اسے چھوڑ کر اور حاکموں کے پیچھے نہ جاؤ، بہت ہی کم سمجھتے ہو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(اے لوگو!) تم اس (قرآن) کی پیروی کرو جو تمہارے رب کی طرف سے تمہاری طرف اتارا گیا ہے اور اس کے غیروں میں سے (باطل حاکموں اور) دوستوں کے پیچھے مت چلو، تم بہت ہی کم نصیحت قبول کرتے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس کے پیچھے چلو جو تمہاری طرف تمہارے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے اور اس کے سوا اور دوستوں کے پیچھے مت چلو۔ بہت کم تم نصیحت قبول کرتے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(لوگو) جو کچھ تمہاری طرف تمہارے پروردگار سے نازل کیا گیا ہے اس کی پیروی کرو۔ اس کے علاوہ دوسرے سرپرستوں کی پیروی نہ کرو۔ تھوڑے ہی تم نصیحت مانتے ہو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

لوگو، جو چیز تمہاری طرف تمہارے رب کی جانب سے اتاری گئی ہے اس کی پیروی کرو اور اس کے ماسوا سرپرستوں کی پیروی نہ کرو، بہت کم ہی تم لوگ یاد دہانی حاصل کرتے ہو !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پیروری کرو تم (اے لوگو !) اس کتاب کی جو اتاری گئی تمہاری طرف، تمہارے رب کی جانب سے، اور مت پیچھے چلو تم لوگ اس کے سوا اور دوستوں کے، کم ہی نصیحت مانتے ہو تم لوگ

— مولانا اسحاق مدنی

پیروی اس کی کرو جو کچھ تم پر تمہارے پر ورگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اور اللہ کو چھوڑ کر (دوسرے) رفیقوں کی پیروی مت کرو۔ کم ہی تم لوگ نصیحت قبول کرتے ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پیروی کرو اس کی جو نازل کیا گیا تمہاری طرف تمہارے رب کی جانب سے اور مت پیروی کرو اس کے سوا دوسرے سرپرستوں کی۔ کم ہی ہے جو نصیحت تم حاصل کرتے ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

لوگو ! یہ کتاب تم پر تمہارے رب کی طرف سے نازل ہوئی ہے اس کی پیروی کرو۔ اس کے سوا اور رفیقوں کی پیروی نہ کرو۔ اور تم کم ہی نصیحت قبول کرتے ہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

[O men!] Follow what has been revealed to you from your Lord and follow no masters other than Him. Little are you admonished.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(O humankind,) follow what has been sent down to you from your Lord, and do not follow any masters other than Him. Little you heed to advice!

— Muhammad Taqi Usmani

(O humankind,) follow what has been sent down to you from your Lord, and do not follow any masters other than Him. Little you heed to advice!

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Follow what has been sent down unto you from your Lord, and follow not any Awliya' (protectors), besides Him (Allah). Little do you remember!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

(Saying): Follow that which is sent down unto you from your Lord, and follow no protecting friends beside Him. Little do ye recollect!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Follow, [O mankind], what has been revealed to you from your Lord and do not follow other than Him any allies. Little do you remember.

— Saheeh International

(People), follow whatever is revealed to you from your Lord and do not follow other guardians besides Him. However, you pay very little attention (to Our words)

— Muhammad Sarwar

Follow what has been revealed to you from your Lord and do not follow guardians besides Him, how little do you mind.

— Muhammad Habib Shakir

Follow that which is sent down toward you from your Lord, and follow not any patrons beside Him; yet little ye are admonished.

— Abdul Majid Daryabadi

Follow (O men!) the revelation given unto you from your Lord, and follow not, as friends or protectors, other than Him. Little it is ye remember of admonition.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:3

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–3

اس سورت کی ابتداء میں جو حروف ہیں، ان کے متعلق جو کچھ بیان ہمیں کرنا تھا، اسے تفصیل کے ساتھ سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں مع اختلاف علماء کے ہم لکھ آئے ہیں۔ ابن عباس سے اس کے معنی میں مروی ہے کہ اس سے مراد حدیث (انا اللہ افضل) ہے یعنی میں اللہ ہوں میں تفصیل وار بیان فرما رہا ہوں، سعید بن جبیر سے بھی یہ مروی ہے، یہ کتاب قرآن کریم تیری جانب تیرے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہے، اسمیں کوئی شک نہ کرنا، دل تنگ نہ ہونا، اس کے پہنچانے میں کسی سے نہ ڈرنا، نہ کسی کا لحاظ کرنا، بلکہ سابقہ اولوالعزم پیغمبروں کی طرح صبرو استقامت کے ساتھ کلام اللہ کی تبلیغ مخلوق الٰہی میں کرنا، اس کا نزول اس لئے ہوا ہے کہ تو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَعْرَاف 4 یہ اس سورة کا مرکزی مضمون ہے۔ اصل دعوت جو اس خطبہ میں دی گئی ہے وہ یہی ہے کہ انسان کو دنیا میں زندگی بسر کرنے کے لیے جس ہدایت و رہنمائی کی ضرورت ہے، اپنی اور کائنات کی حقیقت اور اپنے وجود کی غرض وغایت سمجھنے کے لیے جو علم اسے درکار ہے، اور اپنے اخلاق، تہذیب، معاشرہ اور تمدّن کو صحیح بنیادوں پر قائم کرنے کے لیے جن اصولوں کا وہ محتاج ہے، ان سب کے لیے اسے صرف اللہ رب العالمٰین کو اپنا رہنما تسلیم کرنا چاہیے اور صرف اسی ہدایت کی پیروی اختیار کرنی چاہیے جو اللہ نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے بھیجی ہے۔ اللہ کو چھوڑ کر کسی دوسرے رہنما کی طرف ہدایت کے لیے رجوع کرنا اور اپنے آپ کو اس کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 2–5

معارف و مسائل پوری سورة پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سورة کے مضامین زیادہ تر معاد، یعنی آخرت اور نبوت و رسالت کے متعلق ہیں، چناچہ ابتداء سورة سے چھٹے رکوع تک تقریباً مضمون معاد و آخرت کا بیان ہوا ہے، پھر آٹھویں رکوع سے اکیسویں رکوع تک انبیاء سابقین کے حالات اور ان کی امتوں کے واقعات ان کی جزاء و سزا اور ان پر آنے والے عذابوں کا مفصل تذکرہ ہے۔ (آیت) فَلَا يَكُنْ فِيْ صَدْرِكَ حَرَجٌ پہلی آیت میں رسول کریم ﷺ کو خطاب فرما کر یہ ارشاد کیا گیا ہے کہ یہ قرآن اللہ کی کتاب ہے جو آپ ﷺ کے پاس بھیجی گئی ہے، آپ ﷺ کو اس کی وجہ سے دل تنگی نہ ہونی چاہئے، دل تنگی سے مراد یہ ہے کہ قرآن کریم اور اس کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اِتَّبِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهٖٓ اَوْلِيَاۗءَ ۭ قَلِيْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ۔ کفار قریش کو عذاب کی دھمکی :۔ عام طور پر لوگوں نے اس آیت کا مخاطب مسلمانوں کو مانا ہے لیکن سیاق وسباق اور آیت کے الفاظ دلیل ہیں کہ خطاب کفار قریش سے ہے۔ آنحضرت ﷺ کو اوپر والی آیت میں تسلی دینے کے بعد اب یہ قریش کو دھمکی دی گئی ہے کہ یہ چیز جو تم پر تمہارے رب کی جانب سے اتاری گئی ہے اس کی پیروی کرو اور خدا کے ماسوا دوسرے معبودوں اور شریکوں کی پیروی نہ کرو، یہ خیالی اولیاء و اصنام تمہارے کچھ کام آنے والی نہیں ہیں۔ اس کے بعد بانداز حسرت و افسوس فرمایا کہ قَلِيْلًا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

3۔ 1 جو اللہ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے، یعنی قرآن، اور جو رسول اللہ نے فرمایا یعنی حدیث، کیونکہ آپ نے فرمایا کہ ' میں قرآن اور اس کی مثل اس کے ساتھ دیا گیا ہوں۔ ' ان دونوں کی پیروی ضروری ہے ان کے علاوہ کسے کا اتباع (پیروی) ضروری ٰ نہیں بلکہ ان کا انکار لازمی ہے۔ جیسے کہ اگلے فقرے میں فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسروں کی پیروی مت کرو۔ جس طرح زمانہء جاہلیت میں سرداروں اور نجومیوں کاہنوں کی بات کو ہی اہمیت دی جاتی تھی حتیٰ کہ حلال اور حرام میں بھی ان کو سند تسلیم کیا جاتا تھا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 2–10

2: آپ کو یہ پریشانی نہیں ہونی چاہیے کہ اس کے مضامین کو آپ لوگوں سے کیسے منوائیں گے اور اگر لوگ نہ مانے تو کیا ہوگا ؟ کیونکہ آپ کا فریضہ لوگوں کو ہوشیار اور خبردار کرنا ہے ان کے ماننے نہ ماننے کی ذمہ داری آپ پر نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آیت ” نمبر 3۔ یہ اس دین کا اساسی مسئلہ ہے ‘ یہ کہ یا تو اس وحی کی پیروی ہوگی تو یہ اسلام ہوگا اور اس میں اللہ کی ربوبیت کا اعتراف ہوگا ۔ اس میں اللہ وحدہ کی حاکمیت کا اعتراف ہوگا ‘ اللہ حکم دے گا اور لوگ اطاعت کریں گے ۔ اللہ نہیں کرے گا اور لوگ رک جائیں گے یا اگر لوگ اپنے لئے کچھ اور لوگوں کو سرپرست بنا لیں گے تو یہ شرک ہوگا اور شرک کے معنی یہ ہوں گے کہ لوگ صرف اللہ کو رب تسلیم نہیں کرتے اس لئے کہ ربوبیت اور اقتدار اعلی صرف اللہ کا ہے ۔ رسول اللہ ﷺ کو خطاب کرتے وقت یہ فرمایا گیا کہ (کتب انزل الیک) (7 : 2) یعنی نزول آپ کی ذات پر ہوا ہے اور جب لوگوں کو خطاب ہوا تو فرمایا آیت ” اتبعوا ماانزل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 آدمی اگر حق تعالیٰ کی تربیت عظیم، اپنے آغاز و انجام اور طاعت و معصیت کے نتائج پر پوری طرح دھیان کرے تو اس کو کبھی جرأت نہ ہو کہ اپنے رب کریم کی اتاری ہوئی ہدایات کو چھوڑ کر شیاطین الانس والجن کی رفاقت میں انہی کے پیچھے چلنا شروع کر دے۔ گذشتہ اقوام میں سے جنہوں نے خدا کی کتابوں اور پیغمبروں کے مقابلہ پر ایسا رویہ اختیار کیا، ان کو جو دنیاوی سزا ملی، وہ آگے مذکور ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 3 اِتَّبِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ پچھلی آیت میں حضور ﷺ سے صیغہ واحد میں خطاب تھا فَلاَ یَکُنْ فِیْ صَدْرِکَ حَرَجٌ مِّنْہُ جب کہ یہاں اِتَّبِعُوْا جمع کا صیغہ ہے۔ یعنی یہاں خطاب کا رخ عام لوگوں کی طرف ہے اور انہیں وحئ الٰہی کی پیروی کا حکم دیا جا رہا ہے۔ وَلاَ تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِیَآءَط قَلِیْلاً مَّا تَذَکَّرُوْنَ ۔ یعنی اپنے رب کو چھوڑ کر کچھ دوسرے اولیاء دوست ‘ سرپرست بنا کر ان کی پیروی مت کرو۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 3–4

4 اسلام میں باہر سے کوئی نظریہ :۔ یہاں اولیاء سے مراد پیشوا اور قائدین ہیں یعنی انسانی زندگی کے لیے جو قوانین اس کتاب میں مذکور ہیں آپ صرف انہیں کا اتباع کیجئے۔ آج بھی غیرمسلم قائدین سے مسلمانوں کو کسی طرح کے قواعد و احکام اسلام میں درآمد کرنے کی ضرورت نہیں رہی کہ وہ مسائل شرعیہ علمائے یہود سے پوچھیں، زہد اور رہبانیت کے لیے ہندی اور یونانی فلسفہ کے محتاج ہوں اپنا معاشی نظام لینن اور کارل مارکس سے حاصل کریں یا روس اور چین سے درآمد کریں۔ سیاسی نظام کے لیے امریکی جمہوریت کو اسلام کے اندر لا گھسائیں بلکہ انسانی زندگی کی ہر طرح کی ضرورت کے لیے انہیں یہ کتاب اور رسول کی سنت کافی ہے مگر آج کے مسلمان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

3 ۔ یہ رفیق وہیں ہیں جنہیں دوسری جگہ قرآن میں شیاطین الجن والانس سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ای یضلونکم من الجن والانس (بیضاوی) انزل الیکم من ربکم “۔ یعنی جو کچھ تمہارے اوپر تمہارے پیغمبر کے واسطے سے نازل ہوا ہے۔ ابھی انزل الیک میں خطاب پیغمبر ﷺ سے براہ راست تھا، اب خطاب مومنین سے ہے جن کا ذکر (آیت) ” ذکری لل مومنین “ کے تحت میں ابھی آچکا ہے۔ اور (آیت) ” انزل الیکم “ سے مراد نزول بواسطہ پیغمبر ہے۔ دونوں طرز تعبیر اپنی اپنی جگہ صحیح ہیں۔ (آیت) ” ماانزل الیکم “۔ کے عموم میں محققین نے قرآن کے ساتھ سنت کو بھی بھی شامل کیا ہے کہ وہ بھی وحی خفی کی ایک صورت ہے، یعنی الکتاب والسنۃ (قرطبی) یتناول الکتاب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 2–7

فلا یکن فی صدرک حرج، پہلی آیت میں آپ ﷺ کو خطاب فرماتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ یہ قرآن اللہ کی کتاب ہے جو آپ کی طرف نازل کی گئی ہے، لہٰذا آپ کو کسی قوم کی دل تنگی نہ ہونی چاہیے، دل تنگی سے مراد یہ ہے کہ قرآن کریم اور اس کے احکام کی تبلیغ میں آپ کو کسی قسم کا خوف اور جھجک نہیں ہونی چاہیے اور اس سے انکار و تکذیب کی صورت میں آپ کو کوفت اور کڑھن نہ ہونی چاہیے (ای یضیق صدرک اَلاَّ یؤمنونوا بہ) قرطبی (یعنی) قیامت کے روز عوام الناس سے سوال کیا جائیگا کہ ہم نے تمہارے پاس اپنے رسول اور کتابیں بھیجی تھیں تم نے ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا ؟ اور رسولوں سے پوچھا جائیگا کہ جو پیغام رسالت اور احکام شریعت دیکر ہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اتبعوا ما انزل الیکم من ربکم (رسول کے ذریعہ سے) جو ہدایت تم پر تمہارے رب کی طرف سے اتاری گئی ہے اس پر چلو۔ خواہ وحی جلی ہو یا خفی۔ ما انزل کے تحت حدیث بھی آگئی۔ ولا تتبعوا من دونہ اولیآء اور خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسرے رفیقوں کا اتباع نہ کرو یعنی جن و انس کی اطاعت اللہ کی معصیت میں نہ کرو۔ من دونہ کے لفظ سے انبیاء و اولیاء کے اتباع کی ممانعت آیت کے حکم سے خارج ہوگئی کیونکہ اس مقدس گروہ کی ولایت کا حکم تو اللہ کی طرف سے ہے۔ قلیلا ما تزکرون تم لوگ بہت ہی کم نصیحت مانتے ہو۔ قلیْلاً کا موصوف محذوف ہے یعنی تَذَکُّرًا قَلِیْلاً یا زمانًا قَلِیْلاً لفظ۔ ما۔ کی زیادتی قلت کی تاکید کے لئے ہے یہ مَا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 3–7

(3۔ 4۔ 5۔ 6۔ 7) اور بہت سے بستیوں والوں کو ہم نے عذاب کے ذریعے ہلاک کردیا ہے، ہمارا عذاب رات کو یا دن کو یا دوپہر کے وقت جب کہ وہ آرام میں تھے پہنچا تو جس وقت ان کی ہلاکت کے لیے ہمارا عذاب نازل ہوا تو ماسوا پنے مشرک ہونے کے اقرار کے اور کچھ ان کی زبان سے نہیں جاری ہوا تو ان قوموں سے پیغمبروں کی اطاعت اور پیغمبروں سے تبلیغ رسالت کے بارے میں ہم ضرور پوچھیں گے، ہم ان کے سامنے پیغمبروں کی تبلیغ اور ان کی قوموں کی اطاعت کو بیان کردیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِتَّبِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ : رسالت (پیغام پہنچانے) کا معاملہ تین افراد کے درمیان ہوتا ہے : ”مُرْسِلٌ“ پیغام بھیجنے والا، یعنی اللہ تعالیٰ ، ”مُرْسَلْ“ جسے پیغام دے کر بھیجا جائے، یعنی رسول اور ”مُرْسَلٌ اِلَیْہِ“ ”جس کی طرف پیغام بھیجا جائے، یعنی امت۔ پچھلی آیت میں رسول کو انذار (ڈرانے) اور تذکیر (نصیحت کرنے) کا حکم ہے، اس آیت میں امت کو صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ احکام کی پیروی کا اور اس کے علاوہ کسی بھی دوسرے کی پیروی نہ کرنے کا حکم ہے، کیونکہ اللہ کے نازل کردہ کے سوا کسی بھی دوسرے کی پیروی کرنا اللہ کے مقابلے میں غیر اللہ (من دون اللہ) کو اولیاء بنانا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 3 اس میں دو مسئلے ہیں مسئلہ نمبر 1 : قولہ تعالیٰ : آیت : اتبعوا ما انزل الیکم من ربکم ( پیروی کرو جو نازل کیا گیا ہے تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے) یعنی کتاب و سنت۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : آیت : واما اٰتٰکم الرسول فخذوہ وما نھکم عنہ فانتھوا (الحشر : 7) ( اور رسول (کریم) جو تمہیں عطا فرمادیں وہ لے لو اور جس سے تمہیں روکیں تو رک جاؤ ) اور ایک گروہ نے کہا ہے : یہ امر حضور نبی کریم ﷺ اور آپ کی امت سبھی کو شامل ہے اور ظاہر کلام یہ ہے کہ یہ امر آپ ﷺ کے سوا تمام لوگوں کے لیے ہے، یعنی اتبعوا ملۃ الاسلام والقرآن ( تم دین اور قرآن کی پیروی کرو اور اس کے حلال کو حلال قرار دو اور اس کے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 2–4

(1) امام عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فلا یکن فی صدرک حرج منہ “ میں حرج کے معنی ہے شک اور اعرابی سے فرمایا کہ تمہارے اندر حرج کیا چیز ہے ؟ تو اس نے کہا ایسا شک جو کاٹ دینے والا ہو۔ (2) امام ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فلا یکن فی صدرک حرج منہ “ سے مراد ہے شک۔ (3) امام ابو الشیخ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فلا یکن فی صدرک حرج منہ “ سے مراد ہے تنگی۔ (4) امام عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” اتبعوا ما انزل الیکم من ربکم “ کے بارے میں فرمایا یعنی اس قرآن کی پیروی کرو۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِتَّبِعُوْا [ تم لوگ پیروی کرو ] مَآ [ اس کی جو ] اُنْزِلَ [ اتارا گیا ] اِلَيْكُمْ [ تمہاری طرف ] مِّنْ رَّبِّكُمْ [ تمہارے رب کی طرف سے ] وَلَا تَتَّبِعُوْا [ اور پیروی مت کرو ] مِنْ دُوْنِهٖٓ [ اس کے سوا ] اَوْلِيَاۗءَ ۭ [ کچھ کارسازوں کی ] قَلِيْلًا مَّا [ بہت تھوڑی ہے جو ] تتَذَكَّرُوْنَ [ تم لوگ نصیحت پکڑتے ہو ] (آیت ۔ 3) وَلَا تَتَّبِعُوْا کا مفعول اولیاء ہے تذکرون کی تمیز قلیلا ہے اور اس کے آگے ما اس کو غیر معین کرنے کے لیے ہے ۔ (دیکھیں ۔ آیت نمبر ۔ 2:26، نوٹ ۔ 1) یعنی بہت ہی کم ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 3–6

قیامت کے دن رسولوں سے اور ان کی امتوں سے سوال اور اعمال کا وزن ان آیات میں آخرت کے سوال و جواب اور عقائد و اعمال کے تولے جانے کا پھر اوزان کے ہلکا بھاری ہونے کا اور اس کے مطابق کامیاب اور نا کام ہونے کا ذکر فرمایا۔ قیامت کے دن امتوں سے سوال ہوگا کہ تمہارے پاس رسول آئے تھے تو تم نے ان کو کیا جواب دیا تھا کمافی سورة القصص (وَ یَوْمَ یُنَادِیْھِمْ فَیَقُوْلُ مَاذَآ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِیْنَ ) اور حضرات رُسُلِ عظام و انبیاء کرام (علیہ السلام) سے بھی سوال ہوگا کہ کیا آپ حضرات نے ہمارا پیغام پہنچایا اور یہ بھی سوال ہوگا کہ امتوں نے اس کا کیا جواب دیا۔ صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–18

قال اللہ تعالیٰ ۔ المص۔ کتاب انزل الیک۔۔۔ الی۔۔۔ بما کانو بایاتنا یظلمون (ربط) گذشتہ سورت کے آخری رکوع میں قرآن مجید کے اتباع کا حکم اور اس کی ترغیب تھی اور اس سے انحراف اور اعراض پر نزول عذاب کی وعید تھی اور اسی بناء پر گزشتہ سورت کے آخری رکوع کو ان ربک سریع العقاب وانہ لغفور رحیم پر ختم فرمایا اب اس سورت کے آغاز میں قرآن مجید کے اتباع کا حکم دیتے ہیں اور گزشتہ امتوں کے منکرین حق اور مکذبین حق کی ہلاکت اور بربادی کا ذکر کرتے ہیں تاکہ منکرین قرآن اس سے عبرت پکڑیں۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ المص سورة بقرہ کے شروع ہی میں اس قسم کے حروف مقطعات کے متعلق مفسرین کے اقوال بسط اور تفصیل کے ساستھ گزر چکے ہیں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

4: دوسرا دعوی۔ یہاں سے دوسرے دعوی کے ابتداء ہوتی ہے اس آیت میں دوسرا دعوی بالاجمال مذکور ہے۔ یعنی اللہ کے نازل کردہ احکام کی پیروی کرو اور شیاطین کی پیروی نہ کرو۔ رکوع 3 اور 4 میں یعنی از “ يٰبَنِیْ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْکُمْ لِبَاسًا ” تا “ فَذُوْقُوْا الْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْسِبُونَ ” یہ دعویٰ تفصیل سے مذکور ہے اس سے پہلے رکوع 2 یعنی “ وَ لَقَدْ خَلَقْنٰکُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰکُمْ ” تا “ وَ مِنْھَا تُخْرَجُوْنَ ” میں اس کی تمہید کا ذکر ہے۔ “ وَ لَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهٖ اَوْلِیَاءَ ” اولیاء سے یہاں شیاطین الانس والجن مراد ہیں جو لوگوں کو گمراہ کرتے، ان سے شرک کراتے اور ان کو…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–7

حروف مقطعات اس سورة مبارکہ کی ابتداء حروف مقطعات المص ہ سے کی گئی ہے ان حروف کے معانی کے متعلق مفسرین نے مختلف تاویلات پیش کی ہیں تاہم یقین کے ساتھ ان کے معانی کے متعلق کچھ نہیں کہا جاسکتا تفسیر جلالین میں علامہ جلال الدین سیوطی (رح) فرماتے ہیں کہ ان حروف کے متعلق اسی حد تک اعتقاد رکھنا چاہیے اللہ اعلم بمرادہ بذالک (امنا و صدفنا) ان کی حقیقت کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے ہم اسی پر ایمان لاتے ہیں اور اسی کی تصدیق کرتے ہیں لہٰذا ان حروف کے معانی و مطالب کے سلسلے میں یہی طریقہ اختیار کرنا زیادہ اسلم ہے تاکہ انسان گمراہی اور فتنے سے بچ سکے تاہم امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) نے اپنے ذوقی اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِتَّبِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِيَاۗءَ۝ 0 ۭ قَلِيْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ۝ 3 تبع يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلک قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ( ت ب ع) تبعہ واتبعہ کے معنی کے نقش قدم پر چلنا کے ہیں یہ کبھی اطاعت اور فرمانبرداری سے ہوتا ہے جیسے فرمایا ؛ فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] تو جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ غمناک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 2–3

ترکیب : کتاب مبتداء محذوف کی خبر جو ذلک یا ھو ہے۔ انزل الخ اس کی صفت فلایکن لفظوں میں حرج کے لیے نہی ہے اور معنیً مخاطب کے لیے اے لاتخرج بہ لتنذر کالام انزل سے متعلق وذکریٰ معطوف ہے کتاب پر اتبعوا سے من ربکم متعلق ہے۔ اولیاء مفعول لا تتبعوا کا من دونہ مفعول سے حال کم مبتداء من قریۃ بیان کم اھلکناھا خبر بیات اسم مصدر موضع حال میں ہے۔ ییاتًا ای لیلاً اور مصدر وقع موقع الحال یقال بات بیتا وبیاتا قائلون من قیلولۃ وھی النوم فی نصف النہار۔ تفسیر : فیض مبدئِ فیاض جوش زن ہے۔ عرب کی قوت روحانی جو عرصہ سے مردہ ہوگئی تھی۔ آنحضرت ﷺ کے قم باذن اللہ سے حرکت میں آرہی ہے۔ گھر گھر چرچے ہو رہے ہیں۔ مکہ میں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ارشاد فرمایا : اِتَّبِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَلَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِیَآئَ ط قَلِیْلًا مَّا تَذَکَّرُوْنَ ۔ (الاعراف : 3) (لوگو ! جو چیز تمہاری طرف تمہارے رب کی جانب سے اتاری گئی ہے اس کی پیروی کرو اور اس کے ماسوا سرپرستوں کی پیروی نہ کرو بہت کم تم لوگ یاد دہانی حاصل کرتے ہو) مشرکینِ قریش کو عذاب کی دھمکی اس آیت کریمہ میں بعض اہل علم کا خیال ہے کہ خطاب مسلمانوں سے ہے لیکن سیاق کلام پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ خطاب مسلمانوں سے نہیں بلکہ قریش مکہ سے ہے آنحضرت ﷺ کو تسلی دینے کے بعد براہ راست پروردگار قریش مکہ سے خطاب کرتے ہوئے فرما ہے ہیں کہ تم نے اس…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : ہدایت کے متلاشی لوگوں کے لیے نہایت ہی لازم بات ہے کہ وہ ادھر ادھر سے راہنمائی لینے کی بجائے صرف اور صرف قرآن مجید کی اتباع کریں۔ قرآن مجید کے انتباہ سے ڈرنے اور اس کی نصیحت سے مستفید ہونے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ آدمی اس بات کی پیروی کرے جو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے نازل فرمائی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر انسان کا نہ کوئی خیر خواہ ہوسکتا ہے اور نہ اس کے کاموں کا والی اور ذمہ دار بن سکتا ہے۔ اولیاء ولی کی جمع ہے جس کا معنٰیہے دوست اور خیر خواہ۔ یہ لفظ لاکر انسان کی اس فطری کمزوری کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس بناء پر آدمی کسی سے دھوکا کھاتا ہے۔ حضرت آدم (علیہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 3: اِتَّبِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ (اس پر چلو۔ جو ہدایت تم پر تمہارے رب کی طرف سے اتاری گئی ہے) انزل الیکم سے مراد قرآن و سنت ہے۔ وَلَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ (اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسرے رفیقوں کا اتباع مت کرو) ہٖ کی ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے سواء۔ اَوْلِیَآئَ یعنی تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جن و انس شیاطین کی دوستی مت اختیار کرو۔ وہ تمہیں اصنام پرستی، خواہشات پرستی اور بدعات پر آمادہ کریں گے۔ قَلِیْلًا مَّا تَذَکَّرُوْنَ (تم لوگ بہت ہی کم نصیحت مانتے ہو) اس طرح کہ اللہ تعالیٰ کے دین کو تم چھوڑتے ہو اور دوسروں کی اتباع کرتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(3) (اتبعوا) یعنی آپ (علیہ السلام) ان سے کہیں کہ چلواسی پر (ما انزل الیکم من ربکم ولا تتبعوا من دونہ اولیآئ) یعنی اللہ کے علاوہ دوست نہ بنائو جن کی اطاعت کرو اللہ کی نافرمانی میں (قلیلاً ما تذکرون) ابن عامر (رح) نے ” یتذکرون “ یاء اور تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 2–3

(2 ۔ 3) حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ‘ مجاہد (رح) اور قتادہ (رح) کے قول کے موافق اس آیت میں حرج کے معنے شک کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب اس کتاب کے اللہ کا کلام ہونے میں کچھ شک نہیں ہے تو مشرکین مکہ میں سے اکثر لوگوں کے اس قرآن کو سن کر راہ راست پر آنے میں بھی کچھ شک نہیں کرنا چاہئے اس لئے تم اس کتاب کے موافق لوگوں کو ڈراتے رہو اور آخر کو اس ڈرانے کا نتیجہ نیک حسب دل خواہ نکلنے میں کچھ شک وشبہ نہ کرو کیونکہ جو ایمان والے ہیں ان کے لئے تو اس قرآن میں بڑی نصیحت ہے اور جو منکر لوگ اس کی نصیحت نہ مانیں تو اے رسول اللہ کے تمہارا کام فقط اللہ کا کلام ان کو پہنچا دینا ہے جب اہل مکہ باوجود اپنی فصاحت کے دعوے کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–8

آیت 1 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ سے قرآن کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : (کتب انزل الیک) ” یہ کتاب اتاری گئی ہے آپ پر ‘ یعنی یہ نہایت جلیل القدر کتاب جو ان امور پر مشتمل ہے جن کے بندے محتاج ہیں اور اس میں تمام مطالب الہیہ اور مقاصد شرعیہ محکم اور فمصل طور پر موجود ہیں (فلایکن فی صدرک حرج منہ) ” پس آپ کا سینہ اس (کے پہنچانے) سے تنگ نہ ہو “ یعنی آپ کے دل میں کوئی تنگی اور شک و شبہ نہ ہو۔ تاکہ آپ جان لیں کہ یہ حکمت والی اور قابل تعریف ہستی کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے اور سب سے سچا کلام ہے۔ (لایتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ) (حم السجدہ :62/31) ” باطل اس کے آگے سے آسکتا ہے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 3–16

پیروی قرآن قول باری ہے اتبعواماانزل الیکم من ربکم۔ لوگوں جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اس کی پیروی کرو) اس کا مفہوم یہ ہے کہ بندوں کے تمام تصرفات کا دائرہ اللہ کے حکم کی مراد تک محدود ہو یعنی اس کے حکم کی جو مراد ہو اس کے بندے اس کے مطابق عمل کریں۔ یہ اہتمام یعنی اقتداء کی نظیر ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے حکم کی مراد کی اتباع اور اس پر عمل میں اس کی اس طرح اقتداء کی جائے کہ وہ اس کے دائرہ تدبیر سے خارج نہ ہو۔ اگر یہ کہا جائے کہ آیا مباح پر عمل کرنے والا اللہ کے حکم کا متبع ہوتا ہے ؟ تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ایسا شخص اس وقت اللہ کے حکم کا متبع ہوتا ہے جب وہ اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

6 نزول کتاب کا اصل تقاضا اتباع و پیروی : سو یہ ہے اصل تقاضا اس کتاب حکیم نازل فرمائے جانے کا کہ زندگی کے تمام دوائر میں صدق دل سے اس کی تعلیمات مقدسہ کی پیروی کی جائے کہ یہی راہ ہے حقیقی فوز و فلاح کی۔ نہ یہ کہ اس سے لاپرواہی برتیں اور محض زبانی کلامی عشق و محبت اور صدق و صفا کے دعوے کئے جائیں اور بس ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس کتاب حکیم کی تعلیمات مقدسہ کی اتباع و پیروی ہی وہ گوہر مقصود ہے جس میں فرد اور معاشرے سب کا بھلا ہے۔ اور جس سے انسان کو دنیاوی زندگی میں بھی امن و سکون ملتا ہے اور آخرت میں بھی سدا بہار کامیابی نصیب ہوتی ہے۔ اور { اِتّبِعُوا } کا حکم و ارشاد عام اور سب کو شامل ہے۔ سو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–3

کتاب اللہ کی خصوصیت تشریح : یہ آیات سورة الاعراف کی ابتدائی آیات ہیں اور یہ مکہ میں نازل ہوئی تھیں۔ جب محمد رسول اللہ ﷺ نے نبوت کا دعویٰ کیا لوگوں کو نیکی کی طرف بلانا شروع کیا تو ظاہر ہے اہل مکہ اس دعوت ایمانی سے سخت ناراض ہوئے اور انہوں نے آپ ﷺ کے اور آپ ﷺ کے ماننے والوں کو اس قدر شدید اذیتیں پہنچائیں کہ آپ ﷺ پریشان ہوگئے۔ اللہ جل شانہٗ نے آپ ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا۔ کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان لوگوں سے ہرگز نہ گھبرائیں آپ ﷺ کو علم ہونا چاہئے کہ یہ رسالت کا جو کام آپ کے سپرد کیا گیا ہے تو اس کا مقصد ہی یہی ہے کہ بگڑے ہوئے لوگوں کو درست کرو۔ کتاب جو آپ ﷺ کو دی گئی ہے۔ اس کے ذریعہ سے لوگوں کو اللہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

رکوع نمبر 1 ۔ آیات نمبر 1 تا 10 ۔ اسرار و معارف : کتاب کا مفہوم : حفورف مقطعات کے متعلق شروع میں ہی عرض کیا جا چکا ہے کہ انھا سر بین اللہ ورسولہ نیز جنہیں قلب اطہر سے نسبت تام نصیب ہوجائے اللہ کی عطا سے وہ بھی اپنی حیثیت کے مطابق آگاہ ہوجاتے ہیں ان پر ایمان ضروری ہے اور تلاوت سے وہ فائدہ جو مقصود ہے نصیب ہوجاتا ہے لہذا ہر کس و ناکس کو معافی کی کرید نہ کرنا چاہئے۔ یہ کتاب ہے جامع مکمل اور سچی محض اوراق لکھ کر جوڑ دینا کتاب کا مفہوم ادا نہیں کرتا اس لیے کہ ہر کتاب کسی موضوع پر ہوتی ہے اور حق یہ ہے کہ اسے موضوع کے بارے مکمل سچی اور حتی بات قاری تک پہنچانا چاہئے۔ انسانی اندازے تو ہوتے ہیں قطعی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 10 یعنی صرف کتاب وسنت کی ا اتباع کرو۔ (قرطبی) امام رازی فرماتے ہیں کہ رسالتہ کام معاملہ امور سے پورا ہوتا ہے مو سل یعنی خدا اور مرسل یعنی رسول اور مرسل الیہ یعنی امت اوپر کی آیت میں پیغمبر ﷺ کو تبلیغ والذار کا حکم دیا ہے اور اب اس آیت میں امت کو آنحضرت ﷺ کی متابعت کا ، (کبیر ) 11 ایعنی اللہ تعالیٰ کے سوال کسی کی بندگی نہ کردیا قرآن وسنت کے سوا کسی کی بات نہ مانو خواہ وہ کتنا ہی بڑا امام بزرگ محقق یا دانشور ہی کیوں نہ ہو۔ ہر ایک کی بات کو قرآن و حدیث کو کسوٹی پر پرکھا جائے گا اگر کسی بات پر قرآن و حدیث سے تصریح نہیں ملے گی تو اجماع اور اجتہاد کی طر رجوع کیا جائے گا کیونکہ یہ دونوں بھی کتاب…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(7:3) اتبعوا۔ تم پیروی کرو۔ اتباع سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اس کی دو صورتیں ہیں :۔ (1) اس سے قبل لفظ قل محذوف ہے۔ کہ اے محمد ﷺ تو کہہ دے لوگوں سے۔ (2) یہ بلاواسطہ لوگوں سے خطاب ہے۔ ولا تتبعوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ بمعنی لا تتخذوا۔ تم مت نباؤ۔ تم مت پکڑ دیا لاتتبعوا سے مراد لاتقربوا ہے۔ تم مت کہو قلیلا ما تذکرون۔ تم بہت ہی کم نصیحت قبول کرتے ہو۔ یہ قلت۔ قلت زمانی بھی ہوسکتی ہے یعنی قلیل عرصہ کے لئے نصیحت پکڑتے ہو اور پھر فراموش کردیتے ہو۔ ما عملا زائد ہے لیکن قلت کی تاکید کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–5

لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 5 : لایکن ( نہ ہوں) حرج (تنگی) لاتتبعوا ( تم پیروی نہ کرو) من دونہ (اس کے سوا) تذکرون ( تم دھیان دیتے ہو) کم ( کتنے ۔ کتنی) باسنا ( ہمارا عذاب) بیات ( رات کو) قائلون ( دوپہر کو سونے والے) ۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 5 : قرآن حکیم کی ترتیب کے لحاظ سے سورة اعراف ساتویں بڑی سورت ہے جو ہجرت مدینہ سے کچھ ہی عرصہ پہلے مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی تھی اس سورة کے مضامین کا خاص رخ مکہ مکرمہ کے ان مشرکین اور کفار کی طرف ہے جنہوں نے حق و صداقت کی آواز کو دبانے کے لئے ظلم و ستم کی انتہا کردی تھی جب ہم سورة الانعام اور سورة الاعراف کے مضامین کا مطالعہ کرتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 3–4

اچانک عذاب کا ذکر ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ رسولوں کی نافرمانی کے سبب سے بہت سی بستیاں تباہ کردی گئیں۔ دونوں جہان کی ذلت ان کو حاصل ہوئی اور یہ عذاب ایسے وقت آیا کہ جبکہ انہیں خیال بھی نہ تھا یا تو رات کا وقت تھا اور وہ آرام کی نیند سوتے تھے، یا دن میں دوپہر کا وقت تھا جب مصروف راحت تھے نہ عذاب کے نزول کی کوئی نشانی تھی اچانک عذاب آگیا۔ اس سے کفار کو جتایا جاتا ہے کہ وہ اسباب امن و راحت پر مغرور نہ ہوں۔ عذاب الٰہی جب آتا ہے تو دفعۃ آجاتا ہے۔ عذاب آنے پر انہوں نے اپنے جرم کا اقرار کیا مگر اس وقت اقرار فائدہ مند نہ تھا قیامت کے روز پروردگار پچھلی امتوں سے قائل کرنے کے طور پر پوچھے گا کہ تم نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 3–11

[2] یعنی تمہارے باپ آدم کو۔ [3] یعنی تمہارے باپ آدم کی صورت بنائی۔ [4] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 28 صفحہ 96۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 3–4

دعوت حق : (ف 2) مقصد یہ ہے کہ سب لوگ صرف کلام الہی کے ماننے کے مکلف ہیں ، اس کو ترک کرکے دیگر ارباب کی پیروی گمراہی ہے ، اسلام انسان کو حریت وآزادی کی تلقین کرتا ہے ، وہ دنیا میں صرف اللہ کا محکوم ہے اور اس کی گردن میں بجز اس کے اور کسی کا راقبہ عقیدت نہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

3 اے وہ لوگو ! جو مکلف ہو تم اس کتاب یعنی قرآن کریم کی پیروی کرو جو تمہارے پروردگار کی جانب سے تمہاری ہدایت کے اتاری گئی ہے اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسرے رفیقوں کے کہنے پر نہ چلو یعنی شیاطین کی خواہ وہ انسانوں میں سے ہوں یا جنات میں سے جن کو تم نے اپنا رفیق اور دوست بنارکھا ہے ان کے کہنے پر نہ چلو تم لوگ بہت ہی کم نصیحت مانتے اور قبول کرتے ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ کے نازل کردہ قرآن کی پیروی کرو اور اپنے مددگاروں کے پیچھے مت لگو : 3: ” اولیاء “ ولی کی جمع ہے اس کے معنی ” مددگار “ اور ” سرپرست “ کے ہیں۔ اس جگہ یہ لفظ اس معنی میں استعمال ہوا ہے کہ انسان جس کی رہنمائی پر چلتا ہے اسے درحقیقت ” ولی “ یعنی مددگار یا سرپرست بناتا ہے خواہ زبان سے اس کی حمد وثنا کے گیت گاتا ہو یا اس پر لعنت کی بوچھاڑ کرتا ہو۔ اس کی مددگاری اور سرپرستی کا معترف ہو خواہ بہ شدت اس سے انکار کرتا ہے۔ معبودان باطل کے متعلق گمراہ انسانوں کے مختلف عقائد اور بہت سے مختلف طرز عمل ہیں جن کو قرآن کریم نے ” اللہ کے سوا دوسروں کو اپنا ولی بنانے “ سے تعبیر کیا ہے۔ قرآن کریم کی مختلف آیات…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 2–5

In the statement فَلَا يَكُن فِي صَدْرِ‌كَ حَرَ‌جٌ appearing in the first verse, the address is to the Holy Prophet . ؓ and he has been told: This Qur'an is the Book of Allah sent down to you. This should not cause any constraint on your heart. The word: حَرَج (haraj) translated here as ` constraint' means that ` you should have no anguish or apprehension in conveying the Qur'an and its injunctions lest people belie it and hurt you.' (As reported from Abu Al-` Aliyah - Mazhari) The hint given here is that Allah who has sent down this Book on you has also made arrangements that you shall…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

4. The central theme of the whole surah, and of the present discourse, is the guidance which man needs in order to live a wholesome life, the knowledge which he requires in order to understand the reality of the universe and his own being and the purpose of his existence; the principles which he needs to serve as the basis for morality and social life as well as culture and civilization. In this regard man should look to God alone and follow exclusively, the Guidance which He has communicated to mankind through His Messenger. To look to anyone other than God is dangerous for it has always…

Read the full tafseer →