Al-A'raaf 7:2

Al-A'raaf · from ayah 2

7:2

كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَیْكَ فَلَا یَكُنْ فِیْ صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ لِتُنْذِرَ بِهٖ وَذِكْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ ۟كِتٰبٌ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ فَلَا يَكُنۡ فِىۡ صَدۡرِكَ حَرَجٌ مِّنۡهُ لِتُنۡذِرَ بِهٖ وَذِكۡرٰى لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ‏

(اے محمدﷺ) یہ کتاب (جو) تم پر نازل ہوئی ہے۔ اس سے تمہیں تنگ دل نہیں ہونا چاہیئے، (یہ نازل) اس لیے (ہوئی ہے) کہ تم اس کے ذریعے سے (لوگوں) کو ڈر سناؤ اور (یہ) ایمان والوں کے لیے نصیحت ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[This is] a Book revealed to you, [O Muhammad] - so let there not be in your breast distress therefrom - that you may warn thereby and as a reminder to the believers.

— Saheeh International

Juz 8 · Ruku 1 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:2

یہ ایک کتاب ہے جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے، پس اے محمدؐ، تمہارے دل میں اس سے کوئی جھجک نہ ہو اس کے اتارنے کی غرض یہ ہے کہ تم اس کے ذریعہ سے (منکرین کو) ڈراؤ اور ایمان لانے والے لوگوں کو یاد دہانی ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اے محمدﷺ) یہ کتاب (جو) تم پر نازل ہوئی ہے۔ اس سے تمہیں تنگ دل نہیں ہونا چاہیئے، (یہ نازل) اس لیے (ہوئی ہے) کہ تم اس کے ذریعے سے (لوگوں) کو ڈر سناؤ اور (یہ) ایمان والوں کے لیے نصیحت ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ ایک کتاب ہے جو آپ کے پاس اس لئے بھیجی گئی ہے کہ آپ اس کے ذریعہ سے ڈرائیں، سو آپ کے دل میں اس سے بالکل تنگی نہ ہو اور نصیحت ہے ایمان والوں کے لئے

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اے پیغمبر) یہ کتاب ہے جو تم پر اس لیے اتاری گئی ہے کہ تم اس کے ذریعے لوگوں کو ہوشیار کرو، لہذا اس کی وجہ سے تمہارے دل میں کوئی پریشانی نہ ہونی چاہیے، اور مومنوں کے لیے یہ ایک نصیحت کا پیغام ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے محبوب! ایک کتاب تمہاری طرف اُتاری گئی تو تمہارا جی اس سے نہ رُکے اس لیے کہ تم اس سے ڈر سناؤ اور مسلمانوں کو نصیحت،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(اے حبیبِ مکرّم!) یہ کتاب ہے (جو) آپ کی طرف اتاری گئی ہے سو آپ کے سینۂ (انور) میں اس (کی تبلیغ پر کفار کے انکار و تکذیب کے خیال) سے کوئی تنگی نہ ہو (یہ تو اتاری ہی اس لئے گئی ہے) کہ آپ اس کے ذریعے (منکرین کو) ڈر سنا سکیں اور یہ مومنین کے لئے نصیحت (ہے)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ایک کتاب ہے جو تیری طرف نازل کی گئی ہے، تو تیرے سینے میں اس سے کوئی تنگی نہ ہو، تاکہ تو اس کے ساتھ ڈرائے اور ایمان والوں کے لیے سراسر نصیحت ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ کتاب آپ کی طرف نازل کی گئی ہے۔ اس (کی تبلیغ) سے آپ کے دل میں گھٹن نہ ہونی چاہیئے۔ (کتاب اتارنے سے غرض یہ ہے) کہ آپ اس کے ذریعہ لوگوں کو ڈرائیں اور یہ مومنوں کے لئے یاد دہانی کا کام دے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ کتاب ہے جو تمہاری طرف اتاری گئی ہے تو اس کے باعث تمہارے دل میں کوئی پریشانی نہ ہو تاکہ تم اس کے ذریعہ سے لوگوں کو ہوشیار کردو اور یہ اہل ایمان کے لیے یاد دہانی ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ ایک (عظیم الشان) کتاب ہے جو اتاری گئی ہے آپ کی طرف (اے پیغمبر !) پس آپ کے دل میں اس کی وجہ سے کوئی تنگی نہیں ہونی چاہیے (اور اتاری اس لئے گئی کہ) تاکہ آپ خبردار کریں اس کے ذریعے اور تاکہ یہ ایک عظیم الشان نصیحت ہو ایمان والوں کے لئے

— مولانا اسحاق مدنی

(یہ) ایک کتاب ہے آپ پر نازل کی گئی کہ آپ اس کے ذریعہ سے (لوگوں کو) ڈرائیں سو آپ کے دل میں اس سے (بالکل) تنگی نہ ہو اور (یہ) نصیحت ہے ایمان والوں کے لئے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ کتاب ہے (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو آپ پر نازل کی گئی ہے تو نہیں ہونی چاہیے آپ کے دل میں کچھ تنگی اس کی وجہ سے (یہ تو اس لیے ہے) تاکہ اس کے ذریعے سے آپ ﷺ خبردارکریں اور یہ یاد دہانی ہے اہل ایمان کے لیے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

(اے محمد ﷺ !) یہ کتاب جو آپ پر نازل ہوئی ہے۔ اس سے آپ کو تنگدل نہیں ہونا چاہئے۔ یہ نازل اس لیے ہوئی ہے کہ تم اس کے ذریعہ سے لوگوں کو ڈر سنائو اور یہ ایمان والوں کے لیے نصیحت ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

This is a Book revealed to you. Let there be no impediment in your heart about it. (It has been revealed to you) that you may thereby warn [the unbelievers], that it may be a reminder to the believers.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(This is) a book sent down to you. Therefore, your heart must not be straitened because of it. (It is revealed to you) so that you may warn through it, and it may be an advice for the believers.

— Muhammad Taqi Usmani

(This is) a book sent down to you. Therefore, your heart must not be straitened because of it. (It is revealed to you) so that you may warn through it, and it may be an advice for the believers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

(This is the) Book (the Qur'an) sent down unto you, so let not your breast be narrow therefrom, that you warn thereby; and a reminder unto the believers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

(It is) a Scripture that is revealed unto thee (Muhammad) - so let there be no heaviness in thy heart therefrom - that thou mayst warn thereby, and (it is) a Reminder unto believers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[This is] a Book revealed to you, [O Muhammad] - so let there not be in your breast distress therefrom - that you may warn thereby and as a reminder to the believers.

— Saheeh International

A book has been revealed to you, (Muhammad). You should not hesitate to convey its warning and its good advice to the believers.

— Muhammad Sarwar

A Book revealed to you-- so let there be no straitness in your breast on account of it-- that you may warn thereby, and a reminder close to the believers.

— Muhammad Habib Shakir

This is a Book sent down toward thee: so let there be no straitness in thy breast therefor: that thou mayest warn thereby! and this is an admonition unto the believers.

— Abdul Majid Daryabadi

A Book revealed unto thee,- So let thy heart be oppressed no more by any difficulty on that account,- that with it thou mightest warn (the erring) and teach the Believers).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:2

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–3

اس سورت کی ابتداء میں جو حروف ہیں، ان کے متعلق جو کچھ بیان ہمیں کرنا تھا، اسے تفصیل کے ساتھ سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں مع اختلاف علماء کے ہم لکھ آئے ہیں۔ ابن عباس سے اس کے معنی میں مروی ہے کہ اس سے مراد حدیث (انا اللہ افضل) ہے یعنی میں اللہ ہوں میں تفصیل وار بیان فرما رہا ہوں، سعید بن جبیر سے بھی یہ مروی ہے، یہ کتاب قرآن کریم تیری جانب تیرے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہے، اسمیں کوئی شک نہ کرنا، دل تنگ نہ ہونا، اس کے پہنچانے میں کسی سے نہ ڈرنا، نہ کسی کا لحاظ کرنا، بلکہ سابقہ اولوالعزم پیغمبروں کی طرح صبرو استقامت کے ساتھ کلام اللہ کی تبلیغ مخلوق الٰہی میں کرنا، اس کا نزول اس لئے ہوا ہے کہ تو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 1–2

سورة الْاَعْرَاف 1 کتاب سے مراد یہی سورة اعراف ہے۔ سورة الْاَعْرَاف 2 یعنی بغیر کسی جھجک اور خوف کے اسے لوگوں تک پہنچا دو اور اس بات کی کچھ پرواہ نہ کرو کہ مخالفین اس کا کیسا استقبال کریں گے۔ وہ بگڑتے ہیں، بگڑیں۔ مذاق اڑاتے ہیں، اُڑائیں۔ طرح طرح کی باتیں بناتے ہیں، بنائیں۔ دشمنی میں اور زیادہ سخت ہوتے ہیں، ہوجائیں۔ تم بےکھٹکے اس پیغام کو پہنچاؤ اور اس کی تبلیغ میں ذرا باک نہ کرو۔ جس مفہوم کے لیے ہم نے لفظ ِ جھجک استعمال کیا ہے، اصل عبارت میں اس کے لیے لفظ حَرَج استعمال ہوا ہے۔ لغت میں حرج اس گھنی جھاڑی کو کہتے ہیں جس میں سے گزرنا مشکل ہو۔ دل میں حرج ہونے کا مطلب یہ ہوا کہ مخالفتوں اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 2–5

معارف و مسائل پوری سورة پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سورة کے مضامین زیادہ تر معاد، یعنی آخرت اور نبوت و رسالت کے متعلق ہیں، چناچہ ابتداء سورة سے چھٹے رکوع تک تقریباً مضمون معاد و آخرت کا بیان ہوا ہے، پھر آٹھویں رکوع سے اکیسویں رکوع تک انبیاء سابقین کے حالات اور ان کی امتوں کے واقعات ان کی جزاء و سزا اور ان پر آنے والے عذابوں کا مفصل تذکرہ ہے۔ (آیت) فَلَا يَكُنْ فِيْ صَدْرِكَ حَرَجٌ پہلی آیت میں رسول کریم ﷺ کو خطاب فرما کر یہ ارشاد کیا گیا ہے کہ یہ قرآن اللہ کی کتاب ہے جو آپ ﷺ کے پاس بھیجی گئی ہے، آپ ﷺ کو اس کی وجہ سے دل تنگی نہ ہونی چاہئے، دل تنگی سے مراد یہ ہے کہ قرآن کریم اور اس کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَيْكَ فَلَا يَكُنْ فِيْ صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ ، حرج کے معنی تنگی، ضیق اور پریشانی کے ہیں۔ قریش کی مخالفت کے دور شباب میں آنحضرت ﷺ کو تسلی اور آپ کی ذمہ داری کی حد : یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسکین و تسلی کے طور پر نازل ہوئی ہے۔ یہ دور، جیسا کہ سورة کے مطالب کی فہرست سے واضح ہے، قریش کی مخالفت کے شباب کا دور تھا۔ وہ ہر قسم کے اوچھے سے اوچھے ہتھیار استعمال کرنے پر اتر آئے تھے۔ آپ ﷺ کو زچ کرنے کے لیے روز نت نئے مطالبے وہ پیش کرتے۔ ایک طرف مخالفت کی یہ شدت تھی دوسری طرف آنحضرت ﷺ کو اپنے فرض دعوت کا احساس تنا شدید تھا کہ سارے جتن کرنے کے باوجود آپ کو یہ فکر دامن گیر ہی رہتی کہ مبادا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

2۔ 1 یعنی اس کے بھیجنے سے آپ کا دل تنگ نہ ہو کہ کہیں کافر میری تکذیب (جھٹلائیں) نہ کریں اور مجھے ایذا نہ پہنچائیں اس لئے کہ اللہ سب کا حافظ و ناصر ہے یا حرج شک کے معنی میں ہے۔ یعنی اس کی منزل من اللہ ہونے کے بارے میں آپ اپنے سینے میں شک محسوس نہ کریں۔ یہ نہی بطور تعریف ہے اور اصل مخاطب امت ہے کہ وہ شک نہ کرے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 2–10

2: آپ کو یہ پریشانی نہیں ہونی چاہیے کہ اس کے مضامین کو آپ لوگوں سے کیسے منوائیں گے اور اگر لوگ نہ مانے تو کیا ہوگا ؟ کیونکہ آپ کا فریضہ لوگوں کو ہوشیار اور خبردار کرنا ہے ان کے ماننے نہ ماننے کی ذمہ داری آپ پر نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آیت ” نمبر 1 تا 2۔ یہ کتاب تمہاری جانب اتاری گئی ہے تاکہ تم لوگوں کو بھلایا ہوا سبق یاد دلاؤ اور انجام بد سے ڈراؤ ۔ اس میں جو سچائی ہے اسے صاف صاف لوگوں کے سامنے بیان کردیں اور اس بات کا خیال نہ کریں کہ لوگ اسے پسند کرتے ہیں یا نہیں ۔ یہ کتاب آئی ہی اس لئے ہے کہ لوگوں کے سامنے وہ حقائق پیش کرے جسے وہ پسند نہیں کرتے ‘ یہ آئی ہی اس لئے ہے کہ غلط عقائد ‘ رسومات اور غلط تعلقات کو ختم کرے اور باطل نظامہائے حکومت ‘ باطل قوانین اور باطل معاشروں کا مقابلہ کرے ۔ لہذا اس کتاب کی راہ میں مشکلات بہت ہیں ‘ اس کتاب کا پیغام لے کر جو بھی آئے گا ‘ اے مشکلات کو انگیز کرنا ہوگا ۔ اس کتاب کے اس پہلو کا ادراک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 1–2

8 ابن عباس ؓ نے " حرج " کی تفسیر شک سے کی ہے گویا فلاَ یَکُنْ فِی صَدْرِکَ حَرَجٌ فَلاَ تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ کے ہم معنی ہوگا۔ یعنی پیغمبر جس پر خدا نے اپنی کتاب نازل فرمائی اس کی شان یہ نہیں کہ ذرا سا بھی کھٹکا یا شک و شبہ کتاب کے احکام و اخبار کے متعلق اس کے دل میں راہ پائے۔ دوسرے مفسرین نے الفاظ کو ان کے ظاہر پر رکھا۔ جیسا کہ مترجم محقق نے اختیار فرمایا ہے۔ یعنی تمام خلائق میں سے چن کر جس پر خدا نے اپنی کتاب اتاری اسے لائق نہیں کہ احمقوں اور معاندین کے طعن وتشنیع یا بیہودہ سوالات سے متاثر ہو کر اس کتاب کے کسی حصہ کی تبلیغ سے منقبض اور تنگ دل ہو (فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 2 کِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَیْکَ فَلاَ یَکُنْ فِیْ صَدْرِکَ حَرَجٌ مِّنْہُ رسول اللہ ﷺ دعوت کے لیے ہر ممکن طریقہ استعمال کر رہے تھے ‘ مگر آپ ﷺ کی سالہا سال کی جدوجہد کے باوجود مکہ کے صرف چند لوگ ایمان لائے۔ یہ صورت حال آپ ﷺ کے لیے باعث تشویش تھی۔ ایک عام آدمی تو اپنی غلطیوں کی ذمہ داری بھی دوسروں کے سر پر ڈالنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنی کوتاہیوں کو بھی دوسروں کے کھاتے میں ڈال کر خود کو صاف بچانے کی فکر میں رہتا ہے ‘ لیکن ایک شریف النفس انسان ہمیشہ یہ دیکھتا ہے کہ اگر اس کی کوشش کے خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آ رہے ہیں تو اس میں اس کی طرف سے کہیں کوئی کوتاہی تو نہیں ہو رہی۔ اس سوچ اور احساس کی وجہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

2 یہاں کتاب سے مراد یہی سورة اعراف ہے اور قرآن میں جب کبھی سورة کے ابتداء میں کتاب کا لفظ آتا ہے تو اس کا معنی وہ سورت ہی ہوتا ہے گویا قرآن کریم کی ہر سورة ایک مستقل کتاب ہے جو اپنی ذات میں مکمل ہے اور قرآن ایسی ہی ایک سو چودہ کتابوں (یا سورتوں) کا مجموعہ ہے جیسا کہ سورة البینہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت ( رَسُوْلٌ مِّنَ اللّٰهِ يَتْلُوْا صُحُفًا مُّطَهَّرَةً ۝ ۙ ) 98 ۔ البینة :2) پھر لفظ کتاب کا اطلاق پورے قرآن پر بھی ہوتا ہے۔ 3 جب کبھی کوئی سورة نازل ہوتی اور آپ لوگوں کو سناتے تو کافروں کی طرف سے ردّعمل یہ ہوتا کہ کبھی صاف انکار کردیتے کبھی مذاق اڑاتے، کبھی اعتراضات شروع کردیتے، کبھی کسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

2 ۔ یعنی اس کی نصیحتوں سے تو نفع اہل ایمان ہی اٹھائیں گے۔ (آیت) ” فلا یکن فی صدرک حرج منہ “۔ یعنی یہ خیال کرکے اپنا دل نہ کڑھائیے کہ بہت سے لوگ اس سے انکار وتکذیب کے بھی مرتکب ہوں گے۔ ای لا یضیق صدرک الایومنوا بہ (قرطبی) (آیت) ” لتنذر بہ وذکری لل مومنین “۔ انذار، کافروں کے لیے ہے اور (آیت) ” ذکری “ مومینن کے حق میں۔ الانذار للکافرین وذکری للمومنین لانھم المنتفعون بہ (قرطبی) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا آیت میں شیخ کے لیے اشارہ ہے کہ مخاطب اگر اس کی بات نہ قبول کرے تو شیخ نہ تو بالکل ہی مستغنی رہے اور نہ زیادہ فکروتردد میں پڑے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 2–7

فلا یکن فی صدرک حرج، پہلی آیت میں آپ ﷺ کو خطاب فرماتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ یہ قرآن اللہ کی کتاب ہے جو آپ کی طرف نازل کی گئی ہے، لہٰذا آپ کو کسی قوم کی دل تنگی نہ ہونی چاہیے، دل تنگی سے مراد یہ ہے کہ قرآن کریم اور اس کے احکام کی تبلیغ میں آپ کو کسی قسم کا خوف اور جھجک نہیں ہونی چاہیے اور اس سے انکار و تکذیب کی صورت میں آپ کو کوفت اور کڑھن نہ ہونی چاہیے (ای یضیق صدرک اَلاَّ یؤمنونوا بہ) قرطبی (یعنی) قیامت کے روز عوام الناس سے سوال کیا جائیگا کہ ہم نے تمہارے پاس اپنے رسول اور کتابیں بھیجی تھیں تم نے ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا ؟ اور رسولوں سے پوچھا جائیگا کہ جو پیغام رسالت اور احکام شریعت دیکر ہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

کتب انزل الیک یہ ایک کتاب ہے جو آپ ﷺ کے اوپر اتاری گئی ہے۔ کتابٌ خبر ہے۔ مبتدا محذوف ہے یعنی ہذا کتابیا المصمبتدا ہے اگر اس سے سورت یا قرآن مراد ہو اور کتاب اس کی خبر ہے اُنْزِلَ الیَک۔ کتابٌ کی صفت ہے۔ فلا یکن فی صدرک حرج منہ آپ کے دل میں اس سے بالکل تنگی نہ ہونا چاہئے حرجکا لغوی معنی ہے تنگی۔ مجاہد کے نزدیک اس جگہ شک مراد ہے کیونکہ دل کی تنگی شک کا سبب ہے اور سینہ کی کشائش یقین کا سبب۔ سینہ کی کشائش اور تنگی کی بحث سورة انعام کی آیت : (فمن یرد اللّٰہ ان یہدیہ یشرح صدرہ للاسلام) کی تفسیر کے ذیل میں گزر چکی ہے۔ ابوالعالیہ نے کہا کہ تبلیغ قرآن کی راہ میں لوگوں کے خوف کا حائل ہونا حرج ہے یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(2) یہ قرآن حکیم بذریعہ جبرئیل امین ؑ مکہ والوں کو ڈرانے کے لیے آپ ﷺ پر اتارا گیا ہے تاکہ وہ ایمان لائیں، سو آپ ﷺ کے دل میں کسی کے نہ ماننے پر قرآن کے اللہ کی طرف سے ہونے میں شک اور دل میں تنگ نہ ہونی چاہئے، قرآن کریم نے حلال و حرام تمام چیزوں کو وضاحت سے بیان کردیا ہے لہٰذا اللہ تعالیٰ کے علاوہ معبودان باطل مثلا بتوں وغیرہ کسی کی عبادت نہیں کرنی چاہیے، تم لوگ نہ کسی کم چیز سے نصیحت حاصل کرتے ہو اور نہ زیادہ سے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَيْكَ۔۔ : کتاب نازل کی گئی، کس نے نازل کی، یہ بتانے کی ضرورت ہی نہیں کہ یہ کتاب کس نے نازل کی ہے، کیونکہ سب جانتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ ہے۔ مقصود اس سے یہ ہے کہ آپ جھٹلانے والوں کو ڈرائیں اور خبردار کریں، تاکہ وہ ایمان لے آئیں اور ایمان والوں کو نصیحت کریں، تاکہ ان کے ایمان اور ہدایت میں اضافہ ہو، اس لیے آپ اسے پہنچانے میں دل میں کوئی تنگی یا خوف نہ آنے دیں کہ لوگ آپ کی مخالفت کریں گے، کیونکہ اگر کچھ جھٹلانے والے ہوں گے تو ایمان لانے والے بھی ہوں گے اور آپ پر یہ کتاب اتارنے والا آپ کا حامی و ناصر ہوگا، اس لیے کسی تنگ دہی یا خوف میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں، آپ کا کام صرف…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–2

آیت نمبر 1۔ 2 قولہ تعالیٰ : المص سورة البقرہ کے شروع میں ان حروف کی بحث گزر چکی ہے۔ اور یہ مبتدا ہونے کی وجہ سے محل رفع میں ہے۔ اور کتب اس کی خبر ہے، گویا کہ یہ فرمایا : المص حروف آیت : کتٰب انزل الیک ( یہ حروف ایک کتاب ہے جو آپ کی طرف نازل کی گئی ہے) اور کسائی نے کہا ہے : ای ھذا کتاب ( یہ کتاب ہے) ( اس میں کتاب خبر مبتدا محذوف کی ہے جو کہ ھذا ہے۔ ) قولہ تعالیٰ : آیت : فلا یکن فی صدرک حرج منہ اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ قولہ تعالیٰ : حرج، ای ضیق ( تنگی) یعنی آپ کا سینہ تبلیغ کے سبب تنگ نہ ہو، کیونکہ آپ ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا : انی اخاف ان یثلغوا راسی فیدعوہ خبزۃ ( صحیح…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 2–4

(1) امام عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فلا یکن فی صدرک حرج منہ “ میں حرج کے معنی ہے شک اور اعرابی سے فرمایا کہ تمہارے اندر حرج کیا چیز ہے ؟ تو اس نے کہا ایسا شک جو کاٹ دینے والا ہو۔ (2) امام ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فلا یکن فی صدرک حرج منہ “ سے مراد ہے شک۔ (3) امام ابو الشیخ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فلا یکن فی صدرک حرج منہ “ سے مراد ہے تنگی۔ (4) امام عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” اتبعوا ما انزل الیکم من ربکم “ کے بارے میں فرمایا یعنی اس قرآن کی پیروی کرو۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

كِتٰبٌ [ (یہ ) ایک ایسی کتاب ہے جو ] اُنْزِلَ [ اتاری گئی ] اِلَيْكَ [ آپ کی طرف ] فَلَا يَكُنْ [ پس چاہیے کہ نہ ہو ] فِيْ صَدْرِكَ [ آپ کے سینے میں ] حَرَجٌ [ کوئی تنگی ] مِّنْهُ [ اس سے ] لِتُنْذِرَ [ تاکہ آپ خبردار کریں ] بِهٖ [ اس سے ] وَذِكْرٰي [ اور نصیحت ہوتے ہوئے ] لِلْمُؤْمِنِيْنَ (2) [ ایمان لانے والوں کے لیے ] ع ی ش : (ض) معاشا ۔ زندہ رہنا ۔ زندگی گزارنا ۔ وَّجَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا [ اور ہم نے بنایا دن کو زندہ رہنے کے لئے ] 78:11 ۔ اور عیشۃ ، فَهُوَ فِيْ عِيْشَةٍ رَّاضِيَةٍ [ تو وہ من بھاتی زندگی گزارنے میں ہے ] 69:21 ۔ معیشۃ (ج) معایش ۔ زندگی گزارنے کا زذریعہ ۔ سامان…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–2

یہ کتاب مومنین کے لیے نصیحت ہے ان آیات میں اولاً تو یہ فرمایا کہ آپ کی طرف یہ کتاب نازل کی گئی ہے تاکہ آپ اس کے ذریعہ لوگوں کو ڈرائیں، ایمان کی دعوت دیں۔ اور جو لوگ نہ مانیں ان کو بتائیں کہ اس کتاب پر ایمان نہ لانے سے عذاب میں مبتلا ہوں گے ساتھ ہی یہ بھی فرمایا (فَلَا یَکُنْ فِیْ صَدْرِکَ حَرَجٌ) کہ آپ کے سینہ میں ذرا بھی تنگی نہ ہو۔ مخاطبین آپ کی دعوت کا جو تکذیب سے مقابلہ کریں اس کی آپ ذرا پرواہ نہ کریں آپ اپنا کام کرتے رہیں اس کے بعد لوگوں سے خطاب فرمایا کہ جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے اس کا اتباع کرو اور اپنے رب کو چھوڑ کر دوسرے لوگوں کو ولی نہ بناؤ۔ تمہارے سامنے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–18

قال اللہ تعالیٰ ۔ المص۔ کتاب انزل الیک۔۔۔ الی۔۔۔ بما کانو بایاتنا یظلمون (ربط) گذشتہ سورت کے آخری رکوع میں قرآن مجید کے اتباع کا حکم اور اس کی ترغیب تھی اور اس سے انحراف اور اعراض پر نزول عذاب کی وعید تھی اور اسی بناء پر گزشتہ سورت کے آخری رکوع کو ان ربک سریع العقاب وانہ لغفور رحیم پر ختم فرمایا اب اس سورت کے آغاز میں قرآن مجید کے اتباع کا حکم دیتے ہیں اور گزشتہ امتوں کے منکرین حق اور مکذبین حق کی ہلاکت اور بربادی کا ذکر کرتے ہیں تاکہ منکرین قرآن اس سے عبرت پکڑیں۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ المص سورة بقرہ کے شروع ہی میں اس قسم کے حروف مقطعات کے متعلق مفسرین کے اقوال بسط اور تفصیل کے ساستھ گزر چکے ہیں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

3: پہلا دعوی۔ یہ دعوی اولی ہے۔ یعنی بہادر بن کر مسئلہ توحید پہنچاؤ اور دل میں کسی قسم کی تنگی نہ لاؤ اور مشرکین کی تکذیب کی پرواہ مت کرو۔ حرج منہ بتبلیغہ لانہ کان یخاف قومہ و تکذیبھم لہ و اعراضھم عنہ (مدارک ج 2 ص 34) کتاب خبر اور ھذا اس کا مبتدا محذوف ہے۔ “ لِتُنْذِرَ بِهٖ الخ ” یہ “ اَنْزَلَ ” کے متعلق اور “ فَلَا یَکُنْ فِیْ صَدْرِکَ حَرَجٌ” اسی پر متفرع ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–7

حروف مقطعات اس سورة مبارکہ کی ابتداء حروف مقطعات المص ہ سے کی گئی ہے ان حروف کے معانی کے متعلق مفسرین نے مختلف تاویلات پیش کی ہیں تاہم یقین کے ساتھ ان کے معانی کے متعلق کچھ نہیں کہا جاسکتا تفسیر جلالین میں علامہ جلال الدین سیوطی (رح) فرماتے ہیں کہ ان حروف کے متعلق اسی حد تک اعتقاد رکھنا چاہیے اللہ اعلم بمرادہ بذالک (امنا و صدفنا) ان کی حقیقت کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے ہم اسی پر ایمان لاتے ہیں اور اسی کی تصدیق کرتے ہیں لہٰذا ان حروف کے معانی و مطالب کے سلسلے میں یہی طریقہ اختیار کرنا زیادہ اسلم ہے تاکہ انسان گمراہی اور فتنے سے بچ سکے تاہم امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) نے اپنے ذوقی اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

Explained with ayahs 1–2

الۗمّۗصۗ۝ 1 ۚ كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَيْكَ فَلَا يَكُنْ فِيْ صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْہُ لِتُنْذِرَ بِہٖ وَذِكْرٰي لِلْمُؤْمِنِيْنَ۝ 2 كتب والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 2–3

ترکیب : کتاب مبتداء محذوف کی خبر جو ذلک یا ھو ہے۔ انزل الخ اس کی صفت فلایکن لفظوں میں حرج کے لیے نہی ہے اور معنیً مخاطب کے لیے اے لاتخرج بہ لتنذر کالام انزل سے متعلق وذکریٰ معطوف ہے کتاب پر اتبعوا سے من ربکم متعلق ہے۔ اولیاء مفعول لا تتبعوا کا من دونہ مفعول سے حال کم مبتداء من قریۃ بیان کم اھلکناھا خبر بیات اسم مصدر موضع حال میں ہے۔ ییاتًا ای لیلاً اور مصدر وقع موقع الحال یقال بات بیتا وبیاتا قائلون من قیلولۃ وھی النوم فی نصف النہار۔ تفسیر : فیض مبدئِ فیاض جوش زن ہے۔ عرب کی قوت روحانی جو عرصہ سے مردہ ہوگئی تھی۔ آنحضرت ﷺ کے قم باذن اللہ سے حرکت میں آرہی ہے۔ گھر گھر چرچے ہو رہے ہیں۔ مکہ میں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–2

الٓمّٓصٓ۔ کِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَیْکَ فَلَا یَکُنْ فِیْ صَدْرِکَ حَرَجٌ مِّنْہٗ لِتُنْذِرَ بِہٖ وَ ذِکْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (الاعراف : 1، 2) (المص۔ یہ ایک کتاب ہے جو تمہاری طرف اتاری گئی ہے تو اس کے باعث تمہارے دل میں کوئی پریشانی نہ ہو ‘ تاکہ تم اس کے ذریعہ سے لوگوں کو ہوشیار کردو اور اہل ایمان کے لیے یاددہانی ہے) مخالفتوں کے ہجوم میں آنحضرت ﷺ کو تسلی اور آپ کی دعوتی ذمہ داری کی حد اس آیت کریمہ میں حرج کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ لغت میں حرج اس گھنی جھاڑی کو کہتے ہیں جس میں سے گزرنا مشکل ہو۔ دل میں حرج ہونے کا مطلب یہ ہوا کہ مخالفتوں اور مزاحمتوں کے درمیان اپنا راستہ صاف نہ پا کر آدمی کا دل آگے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن المص۔ حروف مقطعات ہیں ان کے بارے میں سورة البقرۃ کی ابتداء میں عرض کیا جاچکا ہے کہ ان حروف کا معنیٰ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور نہ ہی ان کا شریعت کے مسائل کے ساتھ تعلق ہے۔ جس کی وجہ سے صحابہ ؓ نے ان کے معانی رسول اللہ ﷺ سے پوچھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ تفصیل جاننے کے لیے سورة البقرۃ کے ابتدائی حروف ا آم کی تشریح ملاحظہ فرمائیں چناچہ مقطعات کے بعد حکم ہوا۔ اے پیغمبر ! یہ کتاب مقدس اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کی ذات اطہر پر نازل کی گئی ہے تاکہ آپ لوگوں کو پڑھائیں اور سمجھائیں۔ اگر لوگ اسے ماننے سے انکار اور آپ سے تکرار کرتے ہیں تو آپ کو دل میں تنگی اور لوگوں کو سمجھانے میں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 2: کِتٰبٌ (یہ ایک کتاب ہے) یہ مبتدا محذوف کی خبر ہے یعنی ھُوَ کِتَابٌوہ کتاب۔ اُنْزِلَ اِلَیْکَ (جو آپ کے اوپر اتاری گئی ہے) یہ کتاب کی صفت ہے کتاب سے مراد سورت ہے۔ تسلیہ رسول اللہ ﷺ کفار کے انکار سے تنگ دل نہ ہوں : فَلاَ یَکُنْ فِیْ صَدْرِکَ حَرَجٌ مِّنْہُ (آپ کے دل میں اس سے بالکل تنگی نہ ہونی چاہیے) حرج کا معنی شک ہے اور شک کو حرج سے تعبیر اس لیے فرمایا کہ شک کرنے والے کا دل تنگ ہوتا ہے جیسا کہ یقین کرنے والے کے دل میں کشائش ہوتی ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہوا کہ اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتارے جانے میں شک نہ کر۔ یا اس کی تبلیغ کے سلسلہ میں تنگی نہیں ہونی چاہیے آپ ﷺ اپنی قوم کی تکذیب اعراض و…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 1–2

تفسیر (2) (کتب انزل الیک) یعنی قرآن (فلایکن فی صدرک حج منہ) مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ حرج شک کے معنی میں ہے اور خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے اور مراد امت ہے اور ابوالعالیہ (رح) فرماتے ہیں کہ حرج کا معنی تنگی ہے معنی یہ ہے کہ جس چیز کے ساتھ آپ رسول بنائے گئے اس کی وجہ سے دل تنگ نہ ہو۔ (لتذربہ) یعنی کتاب اتاری گئی ہے تاکہ آپ اس کے ذریعے ڈرائیں (وذکری للمومنین) کتاب پر ایمان لانے والوں کو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 2–3

(2 ۔ 3) حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ‘ مجاہد (رح) اور قتادہ (رح) کے قول کے موافق اس آیت میں حرج کے معنے شک کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب اس کتاب کے اللہ کا کلام ہونے میں کچھ شک نہیں ہے تو مشرکین مکہ میں سے اکثر لوگوں کے اس قرآن کو سن کر راہ راست پر آنے میں بھی کچھ شک نہیں کرنا چاہئے اس لئے تم اس کتاب کے موافق لوگوں کو ڈراتے رہو اور آخر کو اس ڈرانے کا نتیجہ نیک حسب دل خواہ نکلنے میں کچھ شک وشبہ نہ کرو کیونکہ جو ایمان والے ہیں ان کے لئے تو اس قرآن میں بڑی نصیحت ہے اور جو منکر لوگ اس کی نصیحت نہ مانیں تو اے رسول اللہ کے تمہارا کام فقط اللہ کا کلام ان کو پہنچا دینا ہے جب اہل مکہ باوجود اپنی فصاحت کے دعوے کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–8

آیت 1 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ سے قرآن کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : (کتب انزل الیک) ” یہ کتاب اتاری گئی ہے آپ پر ‘ یعنی یہ نہایت جلیل القدر کتاب جو ان امور پر مشتمل ہے جن کے بندے محتاج ہیں اور اس میں تمام مطالب الہیہ اور مقاصد شرعیہ محکم اور فمصل طور پر موجود ہیں (فلایکن فی صدرک حرج منہ) ” پس آپ کا سینہ اس (کے پہنچانے) سے تنگ نہ ہو “ یعنی آپ کے دل میں کوئی تنگی اور شک و شبہ نہ ہو۔ تاکہ آپ جان لیں کہ یہ حکمت والی اور قابل تعریف ہستی کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے اور سب سے سچا کلام ہے۔ (لایتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ) (حم السجدہ :62/31) ” باطل اس کے آگے سے آسکتا ہے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

سورة اعراف قول باری ہے فلایکن فی صدرک حرج منہ۔ پس اے محمد ﷺ ! تمہارے دل میں اس سے کوئی جھجک نہ ہو) فقرے کا انداز بیان نہی کی صورت میں ہے اور معنی یہ ہیں کہ مخاطب کو حرج یعنی تنگی سے تعرض کرنے سے روکا گیا ہے جن سے مروی ہے کہ حرج کے معنی تنگی کے ہیں۔ یہی اس کے اصل معنی ہیں۔ پورے فقرے کا مفہوم یہ ہے کہ تمہارا دل اس خوف سے تگ نہ ہو کہ کہیں تم اس کا حق ادا کرنے سے قاصر نہ رہ جائو۔ بات یہ نہیں ہے بلکہ تمہارے ذمہ تو صرف اس کے ذریعے لوگوں کو خدا کے عذاب اور اس کی نافرمانی کے نتائج سے ڈراتے رہنا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ ، مجا، سدی اور قتادہ کا قول ہے کہ حرج سے یہاں شک مراد ہے۔ یعنی تمہیں اس بات میں شک نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

1 قرآن حکیم ایک نہایت ہی عظیم الشان کتاب ہے : یعنی " کِتَابٌ " کی تنوین تعظیم کے لئے ہے۔ اور یہ ایسی عظیم الشان کتاب ہے کہ ِاس کی عظمتوں کا کوئی کنارہ نہیں۔ کہ اس جیسی دوسری کوئی کتاب نہ ہوئی ہے نہ ہوگی۔ اور یہی وہ کتاب حکیم ہے جو انسان کو اس کے آغاز و انجام، مبدا و منتہا، اس کے مقصد حیات، نظام حیات، حقوق اللہ اور حقوق العباد وغیرہ وغیرہ جملہ امور سے متعلق کامل ہدایت دیتی ہے۔ اور ان اہم بنیادی امور سے متعلق کامل، مکمل اور نہایت ہی جامع، معقول اور مبنی برحکمت تعلیمات سے نوازتی ہے۔ اور یہی وہ کتاب حکیم ہے جو وحی خدا وندی کی نعمت عظمیٰ کی امین و پاسدار ہے۔ اور ایسی کہ اس کے سوا اور کوئی ماخذ وحی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–3

کتاب اللہ کی خصوصیت تشریح : یہ آیات سورة الاعراف کی ابتدائی آیات ہیں اور یہ مکہ میں نازل ہوئی تھیں۔ جب محمد رسول اللہ ﷺ نے نبوت کا دعویٰ کیا لوگوں کو نیکی کی طرف بلانا شروع کیا تو ظاہر ہے اہل مکہ اس دعوت ایمانی سے سخت ناراض ہوئے اور انہوں نے آپ ﷺ کے اور آپ ﷺ کے ماننے والوں کو اس قدر شدید اذیتیں پہنچائیں کہ آپ ﷺ پریشان ہوگئے۔ اللہ جل شانہٗ نے آپ ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا۔ کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان لوگوں سے ہرگز نہ گھبرائیں آپ ﷺ کو علم ہونا چاہئے کہ یہ رسالت کا جو کام آپ کے سپرد کیا گیا ہے تو اس کا مقصد ہی یہی ہے کہ بگڑے ہوئے لوگوں کو درست کرو۔ کتاب جو آپ ﷺ کو دی گئی ہے۔ اس کے ذریعہ سے لوگوں کو اللہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

رکوع نمبر 1 ۔ آیات نمبر 1 تا 10 ۔ اسرار و معارف : کتاب کا مفہوم : حفورف مقطعات کے متعلق شروع میں ہی عرض کیا جا چکا ہے کہ انھا سر بین اللہ ورسولہ نیز جنہیں قلب اطہر سے نسبت تام نصیب ہوجائے اللہ کی عطا سے وہ بھی اپنی حیثیت کے مطابق آگاہ ہوجاتے ہیں ان پر ایمان ضروری ہے اور تلاوت سے وہ فائدہ جو مقصود ہے نصیب ہوجاتا ہے لہذا ہر کس و ناکس کو معافی کی کرید نہ کرنا چاہئے۔ یہ کتاب ہے جامع مکمل اور سچی محض اوراق لکھ کر جوڑ دینا کتاب کا مفہوم ادا نہیں کرتا اس لیے کہ ہر کتاب کسی موضوع پر ہوتی ہے اور حق یہ ہے کہ اسے موضوع کے بارے مکمل سچی اور حتی بات قاری تک پہنچانا چاہئے۔ انسانی اندازے تو ہوتے ہیں قطعی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 9 یعنی آپ ﷺ کسی خوف اور جھجک کے بغیر ان لوگوں تک پہنچادیں اور اگر لوگ آپ ﷺ کی مخالفت کریں اور آپ ﷺ کا مذاق اڑائیں تو آپ ﷺ رنجیدہ اور کبیدہ خاطر نہ ہوں کیونکہ آپ ﷺ کے ذمہ صرف پہنچا دینا ہے ہدایت دینا یا نہ دینا آپ ﷺ کا کام نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

کتب۔ خبر ہے۔ جس کا مبتدا محذوف ہے یعنی ھو کتاب۔ کتب سے مراد یہاں القران ہے۔ صدرک۔ تیرا سینہ۔ صدر سے۔ مضاف۔ ک ضمیر واحد مذکر حاضر۔ مضاف الیہ۔ واحد صدور۔ جمع۔ بعض حکماء کے نزدیک قرآن میں جہاں کہیں قلب کا لفظ استعمال ہوا ہے وہاں صرف علم و عقل کی طرف اشارہ ہے۔ جیسے فرمایا ہے ان فی ذلک لذکری لمن کان لہ قلب (50:37) جو شخص دل آگاہ رکھتا ہے اس کے لئے اس میں نصیحت ہے۔ اور جہاں صدر۔ استعمال ہوا وہاں علم و عقل کے علاوہ شہوت۔ ہوائے نفس اور غضب وغیرہ قوی نفسانیہ کی طرف بھی اشارہ ہے۔ چناچہ رب اشرح لی صدری (20:25) میں نفسانی قوی کی اصلاح کا سوال ہے۔ حرج۔ تنگی۔ مضائقہ ۔ شک۔ گناہ۔ تنگ۔ اصل میں حرج کے معنی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–5

لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 5 : لایکن ( نہ ہوں) حرج (تنگی) لاتتبعوا ( تم پیروی نہ کرو) من دونہ (اس کے سوا) تذکرون ( تم دھیان دیتے ہو) کم ( کتنے ۔ کتنی) باسنا ( ہمارا عذاب) بیات ( رات کو) قائلون ( دوپہر کو سونے والے) ۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 5 : قرآن حکیم کی ترتیب کے لحاظ سے سورة اعراف ساتویں بڑی سورت ہے جو ہجرت مدینہ سے کچھ ہی عرصہ پہلے مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی تھی اس سورة کے مضامین کا خاص رخ مکہ مکرمہ کے ان مشرکین اور کفار کی طرف ہے جنہوں نے حق و صداقت کی آواز کو دبانے کے لئے ظلم و ستم کی انتہا کردی تھی جب ہم سورة الانعام اور سورة الاعراف کے مضامین کا مطالعہ کرتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–2

خواص سورة الاعراف : تین مرتبہ سورة اعراف کو سورة اخلاص کے ساتھ ہر روز پڑھنا عقوبت آخرت سے نجات دیتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے ! ﷺ تمہارا کام فقط اللہ کا کلام ان کو پہنچا دینا ہے۔ جب اہل مکہ باوجود اپنی فصاحت کے دعوے کے قرآن کی منند ایک چھوٹی سی سورة بھی بنا کر پیش نہ کرسکے اور ان کے دل میں خیال پیدا ہوگیا کہ قرآن طاقت بشری سے باہر ایک کلام ہے تو ان کے قائل کرنے کو فرمایا کہ اب ہٹ دھرمی نہ کرو قرآن کو کلام الٰہی جانو اور اس کی پیروی کرو۔ سب طرح کے کفر وشرک کو چھوڑ دو سرائے خدا کے کسی کو اپنا کام بنانے والا نہ ٹھہراؤ۔ تم لوگ نصیحت کی باتوں کا بہت کم دھیان کرتے ہو ورنہ قرآن کی نصیحت…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–2

[1] یعنی یہ خیال کر کے اپنا دل نہ کڑھاؤ کہ بہت سے لوگ انکار و تکذیب کے بھی مرتکب ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 1) یہ سورة اعراف کی پہلی آیت ہے ، اعراف ایک مقام ہے جنت اور دوزخ کے بین بین ، اس سورت میں چونکہ اس مقام کا ذکر ہے اس لئے اس کا نام اعراف ہے ، آیت میں قرآن حکیم کا تعارف ہے کہ مومنوں کے لئے اس میں ذکر ونصیحت کا ذخیرہ وافر ہے اور حضور ﷺ کی پیغمبرانہ شفقت کا اظہار کہ آپ کو بیحد روحانی تکلیف ہوتی ہے جبکہ لوگ اس نسخہ کیمیا کو ٹھکرا دیتے ہیں اور نہیں مانتے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 1–2

2 یہ قرآن کریم ایک کتاب ہے جو اے پیغمبر ﷺ ! آپ کی جانب نازل کی گئی ہے لہٰذا اس کی وجہ سے آپ کے دل میں کوئی تنگی نہ ہو یہ اس لئے نازل کی گئی ہے تاکہ آپ اس کے ذریعہ سے لوگوں کو ڈرائیں اور اس کتاب کے احکام کی خلاف ورزی سے لوگوں کو سزا اور عذاب کا خوف دلائیں اور یہ کتاب خاص طور پر ایمان والوں کے لئے نصیحت ہے۔ یعنی اس کتاب کے متعلق منزل من اللہ نصیحت تو سب کے لئے ہے لیکن جو لوگ نصیحت مانتے ہیں انہی کیلئے نصیحت ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 5۔ کیونکہ کسی کے نہ ماننے سے آپ کے انذار میں تو جو کہ اصلی غرض ہے خلل نہیں پڑتا پھر آپ کیوں تنگدل ہوں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قریش کی مخالفت کے دور شباب میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی اور دعوت کو جاری رکھنے کی ہدایت : 2: یہ سورت بعثت نبوی ﷺ کے نو ، دس سال کے بعد نازل ہوئی۔ اس وقت کفار کی اسلام دشمنی زوروں پر تھی۔ آیات الٰہی کی تکذیب ، احکام شرعی کا مذاق ، مسلمانوں پر جو رو ظلم اور نبی اعظم وآخر ﷺ پر ظلم وستم کے پہاڑ ڈھائے جا رہے تھے۔ انہیں راہ راست پر لانے کی ساری کوششیں بظاہر بےاثر معلوم ہو رہی تھیں۔ ان کی اس زور دار مخالفت کا مقابلہ ایک زور دار اعلان سے کرنے کا حکم ہوتا ہے اور وہ اعلان یہ ہے کہ جس مذہب کے تم پیشوا ہو وہ سرا سر گمراہی ہے۔ جس نظام تمدن کے تم سردار ہو وہ اپنی جڑ تک گلا اور سڑا ہوا نظام ہے۔ اللہ کا عذاب تم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 2–5

In the statement فَلَا يَكُن فِي صَدْرِ‌كَ حَرَ‌جٌ appearing in the first verse, the address is to the Holy Prophet . ؓ and he has been told: This Qur'an is the Book of Allah sent down to you. This should not cause any constraint on your heart. The word: حَرَج (haraj) translated here as ` constraint' means that ` you should have no anguish or apprehension in conveying the Qur'an and its injunctions lest people belie it and hurt you.' (As reported from Abu Al-` Aliyah - Mazhari) The hint given here is that Allah who has sent down this Book on you has also made arrangements that you shall…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–2

1. The word 'Book', in this context, signifies this very surah, al-A'raf. 2. The Prophet (peace be on him) is directed to preach his Message without fear and hesitation, and to disregard his opponents' response. Such opponents may well be offended by his preaching of the Message, or may, hold it to ridicule, or go about maliciously twisting it, or acting with greater hostility.All this notwithstanding, the Message of Islam must be preached. The Arabic word haraj (which we have translated as straitness), signifies an intractable bush. (See Ibn Manzur. Lisan al 'Arab and Firuzabadi, al-qamus,…

Read the full tafseer →