Al-A'raaf 7:1

7. Al-A'raafالأعراف

The Heights · Meccan · 206 ayahs · 24 rukus

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

7:1

الٓمّٓصٓ ۟ۚالۤمّۤصۤ

المص

— Fateh Muhammad Jalandhari

Alif, Lam, Meem, Sad.

— Saheeh International

Juz 8 · Ruku 1 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:1

الف، لام، میم، صاد (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ا۔ ل۔ مّ۔ ص

— مولانا اسحاق مدنی

Alif, Lam, Mim, Sad.

— Muhammad Taqi Usmani

Alif, Lam, Mim, Sad.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Alif-Lam-Mim-Sad.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Alif, Lam, Meem, Sad.

— Saheeh International

Alif. Lam. Mim. Sad.

— Muhammad Sarwar

Alif Lam Mim Suad.

— Muhammad Habib Shakir

Alif-Lam-Mim-Suad,

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 7:1

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–3

اس سورت کی ابتداء میں جو حروف ہیں، ان کے متعلق جو کچھ بیان ہمیں کرنا تھا، اسے تفصیل کے ساتھ سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں مع اختلاف علماء کے ہم لکھ آئے ہیں۔ ابن عباس سے اس کے معنی میں مروی ہے کہ اس سے مراد حدیث (انا اللہ افضل) ہے یعنی میں اللہ ہوں میں تفصیل وار بیان فرما رہا ہوں، سعید بن جبیر سے بھی یہ مروی ہے، یہ کتاب قرآن کریم تیری جانب تیرے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہے، اسمیں کوئی شک نہ کرنا، دل تنگ نہ ہونا، اس کے پہنچانے میں کسی سے نہ ڈرنا، نہ کسی کا لحاظ کرنا، بلکہ سابقہ اولوالعزم پیغمبروں کی طرح صبرو استقامت کے ساتھ کلام اللہ کی تبلیغ مخلوق الٰہی میں کرنا، اس کا نزول اس لئے ہوا ہے کہ تو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 1–2

سورة الْاَعْرَاف 1 کتاب سے مراد یہی سورة اعراف ہے۔ سورة الْاَعْرَاف 2 یعنی بغیر کسی جھجک اور خوف کے اسے لوگوں تک پہنچا دو اور اس بات کی کچھ پرواہ نہ کرو کہ مخالفین اس کا کیسا استقبال کریں گے۔ وہ بگڑتے ہیں، بگڑیں۔ مذاق اڑاتے ہیں، اُڑائیں۔ طرح طرح کی باتیں بناتے ہیں، بنائیں۔ دشمنی میں اور زیادہ سخت ہوتے ہیں، ہوجائیں۔ تم بےکھٹکے اس پیغام کو پہنچاؤ اور اس کی تبلیغ میں ذرا باک نہ کرو۔ جس مفہوم کے لیے ہم نے لفظ ِ جھجک استعمال کیا ہے، اصل عبارت میں اس کے لیے لفظ حَرَج استعمال ہوا ہے۔ لغت میں حرج اس گھنی جھاڑی کو کہتے ہیں جس میں سے گزرنا مشکل ہو۔ دل میں حرج ہونے کا مطلب یہ ہوا کہ مخالفتوں اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ مضامین سورة تمام سورة پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں زیادہ تر مضامین معاد (آخرت) اور رسالت سے متعلق ہیں، اور پہلی ہی آیت كِتٰبٌ اُنْزِلَ میں نبوت کا اور آیت نمبر 6 میں فَلَنَسْــــَٔـلَنَّ میں معاد و آخرت کی تحقیق کا مضمون ہے، اور رکوع چہارم کے نصف سے رکوع ششم کے ختم تک بالکل آخرت کی بحث ہے۔ پھر رکوع ہشتم سے اکیسویں رکوع تک وہ معاملات مذکور ہیں جو انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی امتوں سے ہوئے ہیں۔ یہ سب مسئلے رسالت سے متعلق ہیں، اور ان قصص میں ساتھ ساتھ منکرین رسالت کی سزاؤں کا بھی ذکر چلا آیا ہے، تاکہ منکرین موجودین کو عبرت حاصل ہو، اور رکوع بائیس کے نصف سے تیئیس کے ختم تک پھر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

المص۔ حروف مقطعات پر تفصیلی بحث بقرہ میں الٓمٓ کے تحت گزر چکی ہے۔ یہاں الف، لام، میم پر حرف ص کا ضافہ ہے۔ ہم پیچھے اشارہ کر آئے ہیں کہ جن سورتوں کے نام کچھ مشترک سے ہیں ان کے مطالب میں بھی فی الجملہ اشتراک پایا جاتا ہے۔ چناچہ اس سورة کو غور سے پڑھیے تو معلوم ہوگا کہ اس کی بہت سی باتیں بقہ سے ملتی جلتی ہیں اگرچہ دونوں میں مکی و مدنی کا فرق بھی ہے اور دونوں کے مخاطب بھی الگ الگ ہیں۔ یہاں تالیف کلام کی دو صورتیں ممکن ہیں۔ المص کو بحذف مبتدا مستقل جملہ بھی قرار دے سکتے ہیں اور اس کو آگے سے ملانا چاہیں تو اس کو مبتدا اور كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَيْكَ فَلَا يَكُنْ فِيْ صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ کو اس کی…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

المص : سورة بقرہ کے شروع میں گزرچکا ہے کہ یہ علیحدہ علیحدہ حروف جو بہت سی سورتوں کے شروع میں آئے ہیں ان کو حروف مقطعات کہتے ہیں اور ان کے ٹھیک ٹھیک معنی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم نہیں ہیں اور ان کے معنی سمجھنے پر دین کی کوئی بات موقوف نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اس کے بعد اس قصے پر کئی تبصرے سامنے آتے ہیں ۔ ایک تبصرہ فطری عہد کے بعد آتا ہے اس میں اس شخص کی صورت حال کا نقشہ کھینچا گیا ہے جسے اللہ نے اپنی نشانیاں عطا کیں اور وہ اس سے نکل گیا ۔ مثلا بنی اسرائیل اور وہ تمام دوسری اقوام جنہیں اللہ نے اپنی نشانیاں عطا کیں لیکن انہوں نے ان کی پابندی نہ کی ۔ یہ ایک ایسا تبصرہ ہے جس میں تمام اشکال اور تمام حرکات اور اشارات ہماری نظروں کے سامنے آجاتے ہیں اور سورة انعام جیسے مناظر اور مشاہد سامنے آتے ہیں ۔ آیت ” وَاتْلُ عَلَیْْہِمْ نَبَأَ الَّذِیَ آتَیْْنَاہُ آیَاتِنَا فَانسَلَخَ مِنْہَا فَأَتْبَعَہُ الشَّیْْطَانُ فَکَانَ مِنَ الْغَاوِیْنَ (175) وَلَوْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 1–2

8 ابن عباس ؓ نے " حرج " کی تفسیر شک سے کی ہے گویا فلاَ یَکُنْ فِی صَدْرِکَ حَرَجٌ فَلاَ تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ کے ہم معنی ہوگا۔ یعنی پیغمبر جس پر خدا نے اپنی کتاب نازل فرمائی اس کی شان یہ نہیں کہ ذرا سا بھی کھٹکا یا شک و شبہ کتاب کے احکام و اخبار کے متعلق اس کے دل میں راہ پائے۔ دوسرے مفسرین نے الفاظ کو ان کے ظاہر پر رکھا۔ جیسا کہ مترجم محقق نے اختیار فرمایا ہے۔ یعنی تمام خلائق میں سے چن کر جس پر خدا نے اپنی کتاب اتاری اسے لائق نہیں کہ احمقوں اور معاندین کے طعن وتشنیع یا بیہودہ سوالات سے متاثر ہو کر اس کتاب کے کسی حصہ کی تبلیغ سے منقبض اور تنگ دل ہو (فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

یہ حروف مقطعات ہیں ‘ اور جیسا کہ پہلے بھی بیان ہوچکا ہے ‘ حروف مقطعات کا حقیقی اور یقینی مفہوم کسی کو معلوم نہیں اور یہ کہ ان تمام حروف کے مفاہیم و مطالب اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے درمیان راز کا درجہ رکھتے ہیں۔ البتہ یہ نوٹ کرلیجیے کہ قرآن مجید کی دو سورتیں ایسی ہیں جن کے شروع میں چار چار حروف مقطعات آئے ہیں۔ ان میں سے ایک تو یہی سورة الاعراف ہے اور دوسری سورة الرعد ‘ جس کا آغازا آآّرٰسے ہو رہا ہے۔ اس سے پہلے تین حروف مقطعات اآآّ سورة البقرۃ اور سورة آل عمران میں آچکے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

1 یہ سورة انعام سے پہلے مکہ میں نازل ہوئی البتہ اس میں آٹھ آیات (آیت) ( وَسْــــَٔـلْهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ الَّتِيْ كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ 163۔ ) 7 ۔ الاعراف :163) سے لے کر ( وَاِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَاَنَّهٗ ظُلَّـةٌ وَّظَنُّوْٓا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمْ ۚ 171؀ ) 7 ۔ الاعراف :171) تک مدنی ہیں اور اس سورة کا نام اعراف اس لیے ہے کہ اس میں جنت اور دوزخ کے درمیانی مقام اعراف اور اصحاب اعراف کا ذکر آیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

1 ۔ حروف مقطعات پر حاشیہ شروع سورة بقرہ میں گزر چکا) یہاں ابن عباس ؓ سے ان حروف کے دو معنی منقول ہیں۔ ایک ان اللہ افضل۔ دوسرے ان اللہ اعلم و افضل (کبیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

آیت نمبر 1 تا 10 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے (المص) اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، یہ ایک کتاب ہے جو آپ پر نازل کی گئی ہے، اس میں آپ کو خطاب ہے تاکہ آپ اس کے ذریعہ لوگوں کو ڈرائیں (لتُنذِرَ ) اُنْزِلَ کے متعلق ہے، ای اُنزِل لِلْانذار، لہٰذا اس کی تبلیغ سے اس خوف سے کہ آپ کی تکذیب کی جائے گی آپ کو کوئی جھجک نہ ہونی چاہیے، اور (تاکہ) اس کے ذریعہ مومنوں کو نصیحت ہو، ان سے کہو، جو قرآن تمہارے رب کی طرف سے تمہارے لئے اتارا گیا ہے اس کی اتباع کرو، اور اللہ کو چھوڑ کر غیر اللہ کو سرپرست نہ بناؤ کہ اللہ کی معصیت میں ان کی اطاعت کرو، تم بہت کم نصیحت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(1) المص۔ اس کے معنی مراد اللہ تعالیٰ ہی جاننے والے ہیں یا یہ کہ یہ قسم ہے کہ جس کے ساتھ کھائی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–2

آیت نمبر 1۔ 2 قولہ تعالیٰ : المص سورة البقرہ کے شروع میں ان حروف کی بحث گزر چکی ہے۔ اور یہ مبتدا ہونے کی وجہ سے محل رفع میں ہے۔ اور کتب اس کی خبر ہے، گویا کہ یہ فرمایا : المص حروف آیت : کتٰب انزل الیک ( یہ حروف ایک کتاب ہے جو آپ کی طرف نازل کی گئی ہے) اور کسائی نے کہا ہے : ای ھذا کتاب ( یہ کتاب ہے) ( اس میں کتاب خبر مبتدا محذوف کی ہے جو کہ ھذا ہے۔ ) قولہ تعالیٰ : آیت : فلا یکن فی صدرک حرج منہ اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ قولہ تعالیٰ : حرج، ای ضیق ( تنگی) یعنی آپ کا سینہ تبلیغ کے سبب تنگ نہ ہو، کیونکہ آپ ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا : انی اخاف ان یثلغوا راسی فیدعوہ خبزۃ ( صحیح…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

بسم اللہ الرحمن الرحیم المص (1) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، ابن مردویہ اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” المص “ سے مراد ہے میں اللہ ہوں اور تفصیل سے بیان کرتا ہوں۔ (2) امام ابن جریر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” المص “ سے مراد ہے کہ میں اللہ ہوں اور تفصیل سے بیان کرتا ہوں۔ (3) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” المص، طہ، طسم، یٓس، ص، حم، حمعسق، ق، ن “ اور اس جیسے (دوسرے حروف) یہ قسم ہے کہ جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ قسم کھاتے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–2

یہ کتاب مومنین کے لیے نصیحت ہے ان آیات میں اولاً تو یہ فرمایا کہ آپ کی طرف یہ کتاب نازل کی گئی ہے تاکہ آپ اس کے ذریعہ لوگوں کو ڈرائیں، ایمان کی دعوت دیں۔ اور جو لوگ نہ مانیں ان کو بتائیں کہ اس کتاب پر ایمان نہ لانے سے عذاب میں مبتلا ہوں گے ساتھ ہی یہ بھی فرمایا (فَلَا یَکُنْ فِیْ صَدْرِکَ حَرَجٌ) کہ آپ کے سینہ میں ذرا بھی تنگی نہ ہو۔ مخاطبین آپ کی دعوت کا جو تکذیب سے مقابلہ کریں اس کی آپ ذرا پرواہ نہ کریں آپ اپنا کام کرتے رہیں اس کے بعد لوگوں سے خطاب فرمایا کہ جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے اس کا اتباع کرو اور اپنے رب کو چھوڑ کر دوسرے لوگوں کو ولی نہ بناؤ۔ تمہارے سامنے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–18

قال اللہ تعالیٰ ۔ المص۔ کتاب انزل الیک۔۔۔ الی۔۔۔ بما کانو بایاتنا یظلمون (ربط) گذشتہ سورت کے آخری رکوع میں قرآن مجید کے اتباع کا حکم اور اس کی ترغیب تھی اور اس سے انحراف اور اعراض پر نزول عذاب کی وعید تھی اور اسی بناء پر گزشتہ سورت کے آخری رکوع کو ان ربک سریع العقاب وانہ لغفور رحیم پر ختم فرمایا اب اس سورت کے آغاز میں قرآن مجید کے اتباع کا حکم دیتے ہیں اور گزشتہ امتوں کے منکرین حق اور مکذبین حق کی ہلاکت اور بربادی کا ذکر کرتے ہیں تاکہ منکرین قرآن اس سے عبرت پکڑیں۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ المص سورة بقرہ کے شروع ہی میں اس قسم کے حروف مقطعات کے متعلق مفسرین کے اقوال بسط اور تفصیل کے ساستھ گزر چکے ہیں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

2:“ ا لمص ” یہ حروف مقطعات میں سے ہیں ان کی مراد اللہ ہی جانتا ہے۔ حروف مقطعات کی تفصیلی بحث سورة بقرہ کی تفسیر میں گذر چکی ہے۔ (ص 81، حاشیہ 2) جیسا کہ خلاصہ میں گذر چکا ہے سورة اعراف میں تین دعوے ذکر کیے گئے ہیں۔ 1 ۔ مسئلہ توحید کی جراءت و استقلال سے تبلیغ کرو اور اس سلسلہ میں جو تکلیفیں آئیں انہیں برداشت کرو اور دل میں تنگی نہ لاؤ۔ 2 ۔ نفی شرک فعلی یعنی اللہ کے نازل کردہ احکام کی پیروی کرو اور شیاطین کی اتباع میں اپنی طرف سے تحریمات اختراع نہ کرو۔ 3 ۔ نفی شرک اعتقادی یعنی غیب دان اور متصرف صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں۔ اس نے کوئی اختیار کسی کے حوالے نہیں کیا لہذا غائبانہ حاجات میں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–7

حروف مقطعات اس سورة مبارکہ کی ابتداء حروف مقطعات المص ہ سے کی گئی ہے ان حروف کے معانی کے متعلق مفسرین نے مختلف تاویلات پیش کی ہیں تاہم یقین کے ساتھ ان کے معانی کے متعلق کچھ نہیں کہا جاسکتا تفسیر جلالین میں علامہ جلال الدین سیوطی (رح) فرماتے ہیں کہ ان حروف کے متعلق اسی حد تک اعتقاد رکھنا چاہیے اللہ اعلم بمرادہ بذالک (امنا و صدفنا) ان کی حقیقت کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے ہم اسی پر ایمان لاتے ہیں اور اسی کی تصدیق کرتے ہیں لہٰذا ان حروف کے معانی و مطالب کے سلسلے میں یہی طریقہ اختیار کرنا زیادہ اسلم ہے تاکہ انسان گمراہی اور فتنے سے بچ سکے تاہم امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) نے اپنے ذوقی اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

Explained with ayahs 1–2

الۗمّۗصۗ۝ 1 ۚ كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَيْكَ فَلَا يَكُنْ فِيْ صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْہُ لِتُنْذِرَ بِہٖ وَذِكْرٰي لِلْمُؤْمِنِيْنَ۝ 2 كتب والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

1 ؎ المص۔ ان چاروں حروف میں اس طرف بھی لطیفہ اشارہ ہے۔ ا۔ ل۔ م۔ ص۔ الف سے اشارہ اللہ کی طرف ل سے لطفِ الٰہی کی طرف م سے محمد کی طرف۔ ص سے صعود یعنی بلندی و رفعت کی طرف۔ جس کا یہ مطلب ہوا کہ اللہ نے اپنے لطف خاص سے محمد ﷺ اور ان کی امت کو دنیا و آخرت میں سربلندی اور رفعت عطا کی۔ 12 منہ۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–2

الٓمّٓصٓ۔ کِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَیْکَ فَلَا یَکُنْ فِیْ صَدْرِکَ حَرَجٌ مِّنْہٗ لِتُنْذِرَ بِہٖ وَ ذِکْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (الاعراف : 1، 2) (المص۔ یہ ایک کتاب ہے جو تمہاری طرف اتاری گئی ہے تو اس کے باعث تمہارے دل میں کوئی پریشانی نہ ہو ‘ تاکہ تم اس کے ذریعہ سے لوگوں کو ہوشیار کردو اور اہل ایمان کے لیے یاددہانی ہے) مخالفتوں کے ہجوم میں آنحضرت ﷺ کو تسلی اور آپ کی دعوتی ذمہ داری کی حد اس آیت کریمہ میں حرج کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ لغت میں حرج اس گھنی جھاڑی کو کہتے ہیں جس میں سے گزرنا مشکل ہو۔ دل میں حرج ہونے کا مطلب یہ ہوا کہ مخالفتوں اور مزاحمتوں کے درمیان اپنا راستہ صاف نہ پا کر آدمی کا دل آگے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 1: الٓمٓصٓٓ (اللہ تعالیٰ اس کی مراد جانتے ہیں) زجاج (رح) نے فرمایا کہ اس کی تفسیر میں حضرت ابن عباس ؓ کا قول پسندیدہ ہے۔ انا اللّٰہ اعلم و افضل۔ میں ہی اللہ سب کچھ جاننے والا اور سب سے زیادہ عظمت والا ہوں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 1–2

تفسیر (2) (کتب انزل الیک) یعنی قرآن (فلایکن فی صدرک حج منہ) مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ حرج شک کے معنی میں ہے اور خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے اور مراد امت ہے اور ابوالعالیہ (رح) فرماتے ہیں کہ حرج کا معنی تنگی ہے معنی یہ ہے کہ جس چیز کے ساتھ آپ رسول بنائے گئے اس کی وجہ سے دل تنگ نہ ہو۔ (لتذربہ) یعنی کتاب اتاری گئی ہے تاکہ آپ اس کے ذریعے ڈرائیں (وذکری للمومنین) کتاب پر ایمان لانے والوں کو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

یہ حروف مقطعات ہیں ان کے معنے سوائے خدا تعالیٰ کے کسی کو معلوم نہیں چناچہ اس کی تفصیل سورة بقرہ میں گذر چکی ہے :۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–8

آیت 1 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ سے قرآن کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : (کتب انزل الیک) ” یہ کتاب اتاری گئی ہے آپ پر ‘ یعنی یہ نہایت جلیل القدر کتاب جو ان امور پر مشتمل ہے جن کے بندے محتاج ہیں اور اس میں تمام مطالب الہیہ اور مقاصد شرعیہ محکم اور فمصل طور پر موجود ہیں (فلایکن فی صدرک حرج منہ) ” پس آپ کا سینہ اس (کے پہنچانے) سے تنگ نہ ہو “ یعنی آپ کے دل میں کوئی تنگی اور شک و شبہ نہ ہو۔ تاکہ آپ جان لیں کہ یہ حکمت والی اور قابل تعریف ہستی کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے اور سب سے سچا کلام ہے۔ (لایتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ) (حم السجدہ :62/31) ” باطل اس کے آگے سے آسکتا ہے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–3

کتاب اللہ کی خصوصیت تشریح : یہ آیات سورة الاعراف کی ابتدائی آیات ہیں اور یہ مکہ میں نازل ہوئی تھیں۔ جب محمد رسول اللہ ﷺ نے نبوت کا دعویٰ کیا لوگوں کو نیکی کی طرف بلانا شروع کیا تو ظاہر ہے اہل مکہ اس دعوت ایمانی سے سخت ناراض ہوئے اور انہوں نے آپ ﷺ کے اور آپ ﷺ کے ماننے والوں کو اس قدر شدید اذیتیں پہنچائیں کہ آپ ﷺ پریشان ہوگئے۔ اللہ جل شانہٗ نے آپ ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا۔ کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان لوگوں سے ہرگز نہ گھبرائیں آپ ﷺ کو علم ہونا چاہئے کہ یہ رسالت کا جو کام آپ کے سپرد کیا گیا ہے تو اس کا مقصد ہی یہی ہے کہ بگڑے ہوئے لوگوں کو درست کرو۔ کتاب جو آپ ﷺ کو دی گئی ہے۔ اس کے ذریعہ سے لوگوں کو اللہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

رکوع نمبر 1 ۔ آیات نمبر 1 تا 10 ۔ اسرار و معارف : کتاب کا مفہوم : حفورف مقطعات کے متعلق شروع میں ہی عرض کیا جا چکا ہے کہ انھا سر بین اللہ ورسولہ نیز جنہیں قلب اطہر سے نسبت تام نصیب ہوجائے اللہ کی عطا سے وہ بھی اپنی حیثیت کے مطابق آگاہ ہوجاتے ہیں ان پر ایمان ضروری ہے اور تلاوت سے وہ فائدہ جو مقصود ہے نصیب ہوجاتا ہے لہذا ہر کس و ناکس کو معافی کی کرید نہ کرنا چاہئے۔ یہ کتاب ہے جامع مکمل اور سچی محض اوراق لکھ کر جوڑ دینا کتاب کا مفہوم ادا نہیں کرتا اس لیے کہ ہر کتاب کسی موضوع پر ہوتی ہے اور حق یہ ہے کہ اسے موضوع کے بارے مکمل سچی اور حتی بات قاری تک پہنچانا چاہئے۔ انسانی اندازے تو ہوتے ہیں قطعی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–5

لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 5 : لایکن ( نہ ہوں) حرج (تنگی) لاتتبعوا ( تم پیروی نہ کرو) من دونہ (اس کے سوا) تذکرون ( تم دھیان دیتے ہو) کم ( کتنے ۔ کتنی) باسنا ( ہمارا عذاب) بیات ( رات کو) قائلون ( دوپہر کو سونے والے) ۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 5 : قرآن حکیم کی ترتیب کے لحاظ سے سورة اعراف ساتویں بڑی سورت ہے جو ہجرت مدینہ سے کچھ ہی عرصہ پہلے مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی تھی اس سورة کے مضامین کا خاص رخ مکہ مکرمہ کے ان مشرکین اور کفار کی طرف ہے جنہوں نے حق و صداقت کی آواز کو دبانے کے لئے ظلم و ستم کی انتہا کردی تھی جب ہم سورة الانعام اور سورة الاعراف کے مضامین کا مطالعہ کرتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–2

خواص سورة الاعراف : تین مرتبہ سورة اعراف کو سورة اخلاص کے ساتھ ہر روز پڑھنا عقوبت آخرت سے نجات دیتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے ! ﷺ تمہارا کام فقط اللہ کا کلام ان کو پہنچا دینا ہے۔ جب اہل مکہ باوجود اپنی فصاحت کے دعوے کے قرآن کی منند ایک چھوٹی سی سورة بھی بنا کر پیش نہ کرسکے اور ان کے دل میں خیال پیدا ہوگیا کہ قرآن طاقت بشری سے باہر ایک کلام ہے تو ان کے قائل کرنے کو فرمایا کہ اب ہٹ دھرمی نہ کرو قرآن کو کلام الٰہی جانو اور اس کی پیروی کرو۔ سب طرح کے کفر وشرک کو چھوڑ دو سرائے خدا کے کسی کو اپنا کام بنانے والا نہ ٹھہراؤ۔ تم لوگ نصیحت کی باتوں کا بہت کم دھیان کرتے ہو ورنہ قرآن کی نصیحت…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–2

[1] یعنی یہ خیال کر کے اپنا دل نہ کڑھاؤ کہ بہت سے لوگ انکار و تکذیب کے بھی مرتکب ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 1–2

2 یہ قرآن کریم ایک کتاب ہے جو اے پیغمبر ﷺ ! آپ کی جانب نازل کی گئی ہے لہٰذا اس کی وجہ سے آپ کے دل میں کوئی تنگی نہ ہو یہ اس لئے نازل کی گئی ہے تاکہ آپ اس کے ذریعہ سے لوگوں کو ڈرائیں اور اس کتاب کے احکام کی خلاف ورزی سے لوگوں کو سزا اور عذاب کا خوف دلائیں اور یہ کتاب خاص طور پر ایمان والوں کے لئے نصیحت ہے۔ یعنی اس کتاب کے متعلق منزل من اللہ نصیحت تو سب کے لئے ہے لیکن جو لوگ نصیحت مانتے ہیں انہی کیلئے نصیحت ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 4۔ تمام سورت پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ مضامین اس میں معاد اور نبوت کے متعلق ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

” ا لٓمّٓصٓ “ مقطعات سے ہے : 1: حروف مقطعات کی بحث سورة بقرہ کے حاشیہ (1) میں گزر چکی ہے وہاں سے ملاحظہ فرمائیں۔ سورة البقرہ اور سورة آل عمران کے شروع میں ” الف لام۔۔۔۔ می۔۔۔ م “ تھا اس سورت میں ” صا۔۔۔ د “ کا اضافہ یہ بتا رہا ہے کہ اس سورت کا مضمون گزشتہ دونوں سورتوں سے جن کے شروع میں حروف مقطعات آئے ہیں زیادہ اہم اور زیادہ ضروری ہے۔ اسی لئے سامعین کو متنبہ کرنے کے لئے متنبہ کرنے والے حروف میں ایک حرف کا اضافہ فرما دیا۔ پھر سورت کا مضمون شاہد ہے کہ ان مضامین کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ شروع ہی میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی اس کتاب الٰہی سے متعلق تمہاری ذمہ داری صرف یہ ہے کہ تم اس کے ذریعہ سے لوگوں کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary An overview of the Surah shows that most of the subjects it deals with are related to Ma` ad (Return to the Hereafter) and Risalah (Prophethood). The former appear from the beginning of the Surah upto approximately the end of the sixth section. Then, from the eighth to the twenty first sections, there is a detailed description of past prophets, events about their communities, their reward and punishment and the punishment which overtook them.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–2

1. The word 'Book', in this context, signifies this very surah, al-A'raf. 2. The Prophet (peace be on him) is directed to preach his Message without fear and hesitation, and to disregard his opponents' response. Such opponents may well be offended by his preaching of the Message, or may, hold it to ridicule, or go about maliciously twisting it, or acting with greater hostility.All this notwithstanding, the Message of Islam must be preached. The Arabic word haraj (which we have translated as straitness), signifies an intractable bush. (See Ibn Manzur. Lisan al 'Arab and Firuzabadi, al-qamus,…

Read the full tafseer →