Al-An'aam 6:165

Al-An'aam · from ayah 165

6:165

وَهُوَ الَّذِیْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓىِٕفَ الْاَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَبْلُوَكُمْ فِیْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ ؕ— اِنَّ رَبَّكَ سَرِیْعُ الْعِقَابِ ۖؗ— وَاِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ۟۠وَهُوَ الَّذِىۡ جَعَلَـكُمۡ خَلٰٓئِفَ الۡاَرۡضِ وَرَفَعَ بَعۡضَكُمۡ فَوۡقَ بَعۡضٍ دَرَجٰتٍ لِّيَبۡلُوَكُمۡ فِىۡ مَاۤ اٰتٰٮكُمۡ‌ؕ اِنَّ رَبَّكَ سَرِيۡعُ الۡعِقَابِ  ۖ وَاِنَّهٗ لَـغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ

اور وہی تو ہے جس نے زمین میں تم کو اپنا نائب بنایا اور ایک کے دوسرے پر درجے بلند کئے تاکہ جو کچھ اس نے تمہیں بخشا ہے اس میں تمہاری آزمائش ہے بےشک تمہارا پروردگار جلد عذاب دینے والا ہے اور بےشک وہ بخشنے والا مہربان بھی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And it is He who has made you successors upon the earth and has raised some of you above others in degrees [of rank] that He may try you through what He has given you. Indeed, your Lord is swift in penalty; but indeed, He is Forgiving and Merciful.

— Saheeh International

Juz 8 · Ruku 20 of surah · Ruku 7 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-An'aam

All translations of 6:165

وہی ہے جس نے تم کو زمین کا خلیفہ بنایا، اور تم میں سے بعض کو بعض کے مقابلہ میں زیادہ بلند درجے دیے، تاکہ جو کچھ تم کو دیا ہے اسی میں تمہاری آزمائش کرے بے شک تمہارا رب سزا دینے میں بھی بہت تیز ہے اور بہت درگزر کرنے اور رحم فرمانے والا بھی ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور وہی تو ہے جس نے زمین میں تم کو اپنا نائب بنایا اور ایک کے دوسرے پر درجے بلند کئے تاکہ جو کچھ اس نے تمہیں بخشا ہے اس میں تمہاری آزمائش ہے بےشک تمہارا پروردگار جلد عذاب دینے والا ہے اور بےشک وہ بخشنے والا مہربان بھی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور وه ایسا ہے جس نے تم کو زمین میں خلیفہ بنایا اور ایک کا دوسرے پر رتبہ بڑھایا تاکہ تم کو آزمائے ان چیزوں میں جو تم کو دی ہیں۔ بالیقین آپ کا رب جلد سزا دینے واﻻ ہے اور بالیقین وه واقعی بڑی مغفرت کرنے واﻻ مہربانی کرنے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں ایک دوسرے کا جانشین بنایا، اور تم میں سے کچھ لوگوں کو دوسروں سے درجات میں بلندی عطا کی، تاکہ اس نے تمہیں جو نعمتیں دی ہیں ان میں تمہیں آزمائے۔ یہ حقیقت ہے کہ تمہارا رب جلد سزا دینے والا ہے، اور یہ (بھی) حقیقت ہے کہ وہ بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور وہی ہے جس نے زمین میں تمہیں نائب کیا اور تم میں ایک کو دوسرے پر درجوں بلندی دی کہ تمہیں آزمائے اس چیز میں جو تمہیں عطا کی بیشک تمہارے رب کو عذاب کرتے دیر نہیں لگتی اور بیشک وہ ضرور بخشنے والا مہربان ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور وہی ہے جس نے تم کو زمین میں نائب بنایا اور تم میں سے بعض کو بعض پر درجات میں بلند کیا تاکہ وہ ان (چیزوں) میں تمہیں آزمائے جو اس نے تمہیں (امانتاً) عطا کر رکھی ہیں۔ بیشک آپ کا رب (عذاب کے حق داروں کو) جلد سزا دینے والا ہے اور بیشک وہ (مغفرت کے امیدواروں کو) بڑا بخشنے والا اور بے حد رحم فرمانے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہی ہے جس نے تمہیں زمین کے جانشین بنایا اور تمہارے بعض کو بعض پر درجوں میں بلند کردیا، تاکہ وہ ان چیزوں میں تمہاری آزمائش کرے جو اس نے تمہیں دی ہیں۔ بیشک تیرا رب بہت جلد سزا دینے والا ہے اور بیشک وہ یقینا بےحد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہی تو ہے جس نے تمہیں زمین میں نائب بنایا اور ایک کے مقابلے میں دوسرے کے درجے بلند کئے تاکہ جو کچھ اس نے تمہیں دے رکھا ہے اسی میں تمہاری آزمائش کرے۔ بلاشبہ آپ کا پروردگار سزا دینے میں دیر نہیں لگاتا اور (ساتھ ہی ساتھ) وہ یقینا بخشنے والا اور مہربان بھی ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں ایک دوسرے کا جانشین بنایا اور ایک کے درجے دوسرے پر بلند کیے تاکہ جو کچھ اس نے تمہیں بخشا ہے اس میں تم کو آزمائے، بیشک تیرا رب جلد پاداش عمل دینے والے بھی اور وہ بخشنے والا اور مہربان بھی ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور وہ وہی ہے جس نے تمہیں جانشین بنایا اپنی اس زمین کا، اور اس نے تم میں سے بعض کو بعض کے اوپر (دنیا میں) بلند درجہ عطا فرمائے، تاکہ وہ تمہاری آزمائش کرے ان چیزوں میں جو اس نے تمہیں دی ہیں، بیشک تمہارا رب سزا دینے میں بھی بڑا تیز ہے، اور بیشک وہ بڑا بخشنے والا، نہایت ہی مہربان ہے۔

— مولانا اسحاق مدنی

اور وہ وہی ہے جس نے تمہیں زمین پر خلیفہ بنایا اور تم میں سے ایک کے رتبہ دوسرے پر بلند کئے تاکہ تمہیں ان چیزوں میں آزمائے جو اس نے تم کو دے رکھی ہیں۔ بیشک آپ کا پروردگار بہت جلد سزا دینے والا ہے اور بیشک وہ بڑا مغفرت والا ہے بڑا رحمت والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہی ہے جس نے تمہیں زمین کا خلیفہ بنایا اور اس نے تم میں سے بعض کے درجوں کو بعض پر بلند کردیا تاکہ تمہیں آزمائے اس میں جو کچھ اس نے تمہیں بخشا ہے یقیناً آپ کا رب سزا دینے میں بھی بہت تیز ہے اور یقیناً وہ غفور اور رحیم بھی ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور وہی تو ہے جس نے زمین میں تم کو اپنا نائب بنایا اور ایک دوسرے پر درجے بلند کئے تاکہ جو کچھ اس نے تمہیں بخشا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے۔ بیشک تمہارا رب جلد عذاب دینے والا ہے اور بیشک وہ بخشنے والا مہربان بھی ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

For He it is Who has appointed you vicegerent over the earth, and has exalted some of you over others in rank that He may try you in what He has bestowed is upon you. Indeed your Lord is swift in retribution, and He is certainly AllForgiving, All-Compassionate.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

It is He who made you the vicegerents of the earth and raised some of you in ranks over others, so that He may test you in what He has given you. Surely, your Lord is swift in punishing, and surely He is Most-Forgiving, Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani

It is He who made you the vicegerents of the earth and raised some of you in ranks over others, so that He may test you in what He has given you. Surely, your Lord is swift in punishing, and surely He is Most-Forgiving, Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And it is He Who has made you generations coming after generations, replacing each other on the earth. And He has raised you in ranks, some above others that He may try you in that which He has bestowed on you. Surely, your Lord is Swift in retribution, and certainly He is Oft-Forgiving, Most Merciful.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He it is Who hath placed you as viceroys of the earth and hath exalted some of you in rank above others, that He may try you by (the test of) that which He hath given you. Lo! Thy Lord is swift in prosecution, and Lo! He verily is Forgiving, Merciful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And it is He who has made you successors upon the earth and has raised some of you above others in degrees [of rank] that He may try you through what He has given you. Indeed, your Lord is swift in penalty; but indeed, He is Forgiving and Merciful.

— Saheeh International

On earth, We have made each of your generations the successors of their predecessors; We have made some of you do good deeds of a higher degree than others. He will test you in this way through what He has revealed to you. Your Lord's retribution is swift and He is certainly All-forgiving and All-merciful.

— Muhammad Sarwar

And He it is Who has made you successors in the land and raised some of you above others by (various) grades, that He might try you by what He has given you; surely your Lord is quick to requite (evil), and He is most surely the Forgiving, the Merciful.

— Muhammad Habib Shakir

And He it is Who hath made you successors in the earth, and hath raised some of you over others in degrees, that he might prove you by that which He hath vouchsafed unto you. Verily thy Lord is swift in chastising, and verily He is Forgiving, Merciful.

— Abdul Majid Daryabadi

It is He Who hath made you (His) agents, inheritors of the earth: He hath raised you in ranks, some above others: that He may try you in the gifts He hath given you: for thy Lord is quick in punishment: yet He is indeed Oft-forgiving, Most Merciful.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 6:165

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

اللہ کی رحمت اللہ کے غضب پر غالب ہے اس اللہ نے تمہیں زمین کا آباد کار بنایا ہے، وہ تمہیں یکے بعد دیگرے پیدا کرتا رہتا ہے ایسا نہیں کیا کہ زمین میں خلیفہ بنا کر آزمائے کہ تم کیسے اعمال کرتے ہو ؟ اس نے تمہارے درمیان مختلف طبقات بنائے، کوئی غریب ہے، کوئی خوش خو ہے، کوئی بد اخلاق، کوئی خوبصورت ہے، کوئی بد صورت، یہ بھی اس کی حکمت ہے، اسی نے روزیاں تقسیم کی ہیں ایک کو ایک کے ماتحت کردیا ہے فرمان ہے آیت (اُنْظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰي بَعْضٍ ۭ وَلَلْاٰخِرَةُ اَكْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّاَكْبَرُ تَفْضِيْلًا 21؀) 17۔ الإسراء :21) دیکھ لے کہ ہم نے ان میں سے ایک کو ایک پر کیسے فضیلت دی ہے ؟ اس سے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَنْعَام 146 اس فقرہ میں تین حقیقتیں بیان کی گئی ہیں ایک یہ کہ تمام انسان زمین میں خدا کے خلیفہ ہیں، اس معنی میں کہ خدا نے اپنی مملوکات میں سے بہت سی چیزیں ان کی امانت میں دی ہیں اور ان پر تصرف کے اختیارات بخشے ہیں۔ دوسرے یہ کہ ان خلیفوں میں مراتب کا فرق بھی خدا ہی نے رکھا ہے، کسی کی امانت کا دائرہ وسیع ہے اور کسی کا محدود، کسی کو زیادہ چیزوں پر تصرف کے اختیارات دیے ہیں اور کسی کو کم چیزوں پر، کسی کو زیادہ قوت کارکردگی دی ہے اور کسی کو کم، اور بعض انسان بھی بعض انسانوں کی امانت میں ہیں۔ تیسرے یہ کہ یہ سب کچھ دراصل امتحان کا سامان ہے، پوری زندگی ایک امتحان گاہ ہے، اور جس کو جو کچھ بھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

پانچویں اور چھٹی آیت میں ایک جامع نصیحت پر سورة انعام کو ختم کیا گیا ہے، اور وہ عہد ماضی کی تاریخ اور پچھلی قوموں کی سرگزشت کو ان کے سامنے لا کر اپنے مستقبل کی طرف متوجہ فرمایا گیا ہے(آیت) وَهُوَ الَّذِيْ جَعَلَكُمْ خَلٰۗىِٕفَ الْاَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ ، اس میں لفظ خلاَئِف، خلیفہ کی جمع ہے جس کے معنی ہیں کسی کا قائم مقام اور گدی نشین، معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہی تم کو تم سے پہلی قوموں کی جگہ پر آباد کیا ہے، کوئی مکان زمین جس کو آج تم اپنی ملکیت کہتے ہو اور سمجھتے ہو ایسا نہیں جو کل تمہیں جیسے دوسرے انسانوں کی ملکیت میں نہ ہو، اللہ تعالیٰ نے ان کو ہٹا کر تمہیں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَهُوَ الَّذِيْ جَعَلَكُمْ خَلٰۗىِٕفَ الْاَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّيَبْلُوَكُمْ فِيْ مَآ اٰتٰىكُمْ ۭ اِنَّ رَبَّكَ سَرِيْعُ الْعِقَابِ ڮوَاِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔ قریش کو آخری تنبیہ :۔ یہ قریش کو آخری تنبیہ ہے کہ اس دنیا کے اسٹیج پر نمودار ہونے والی تم پہلی قوم نہیں ہو۔ تم سے پہلے کتنی قومیں اس اسٹیج پر نمودار ہوئیں، پھر غائب ہوگئیں۔ یہاں تک کہ خدا نے ان کی جگہ تم کو دی۔ یہ خلافت خود اس بات کی دلیل ہے کہ اس دنیا کے مالک نے جس باٹ اور ترازو سے ان کو تولا اسی باٹ، اسی ترازو سے وہ تم کو بھی تولے گا اور اس کی میزان میں اگر پورے نہ اترے تو جس طرح اس نے دوسروں کو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

165۔ 1 یعنی حکمران بنا کر اختیارات سے نوازا۔ یا ایک کے بعد دوسرے کو اس کا وارث (خلیفہ) بنایا۔ 165۔ 2 یعنی فقر و غنی، علم و جہل، صحت اور بیماری، جس کو جو دیا، اسی میں اس کی آزمائش ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 164–165

85: کفار کبھی مسلمانوں سے یہ کہتے تھے کہ تم ہمارے مذہب کو اپنا لو، اگر کوئی عذاب ہوا تو تمہارے حصے کا عذاب بھی ہم اپنے سر لے لیں گے، جیسا کہ سورة عنکبوت (12:29) میں قرآن کریم نے ان کی یہ بات ذکر فرمائی ہے۔ یہ آیت اس کے جواب میں نازل ہوئی۔ اور اس میں یہ عظیم سبق ہے کہ ہر شخص کو اپنے انجام کی خود فکر کرنی چاہیے، کوئی دوسرا شخص اسے عذاب سے نہیں بچا سکتا۔ یہی مضمون سورة بنی اسرائیل (15:17) سورة فاطر (18:35) سورة زمر (7:39) اور سورة نجم) (38:53) میں بھی آیا ہے۔ اس کی مزید تفصیل انشاء اللہ سورة نجم میں آئے گی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 160–165

آیت ” نمبر 160 ، تا 165۔ یہ تعقیب اور خاتمہ کلام اس سورة کے شروع کے مضامین کو مد نظر رکھتے ہوئے ‘ ایک نہایت ہی خوبصورت زمزمہ ہے ‘ نہایت موزوں اور خیرہ کن ۔ اس زمزے کے ساتھ ذبیحوں اور نذر ونیاز ‘ پھلوں اور فصلوں سے نیاز ‘ اور اس سلسلے میں جاہلیت کے ادہام ورسومات اور پھر یہ دعوے کہ یہ شریعت من جانب اللہ ہے ‘ کا موضوع یہاں اپنے اختتام کو پہنچتا ہے ۔ یہ تعقیب اور آخری زمزمہ اس مضمون میں کیا اضافہ کرتا ہے ؟ میں سمجھتا ہوں ان موضوعات پر ہم نے جو بات کی ہے اس کے بعد اس پر مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ آیت ” قُلْ إِنَّنِیْ ہَدَانِیْ رَبِّیْ إِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ دِیْناً قِیَماً مِّلَّۃَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی خدا نے زمین میں تم کو اپنا نائب بنایا کہ تم اس کے دیے ہوئے اختیارات سے کام لے کر کیسے کیسے حاکمانہ تصرفات کرتے ہو، یا تم کو باہم ایک دوسرے کا نائب بنایا کہ ایک قوم جاتی ہے، تو دوسری قوم اس کی جانشین ہوتی ہے۔ 6 یعنی تمہارے آپس میں بیحد فرق مدارج رکھا۔ چناچہ شکل و صورت، رنگت، لہجہ، اخلاق و ملکات، محاسن و مساوی، رزق، دولت، عزت و جاہ وغیرہ میں افراد انسانی کے بیشمار درجات ہیں۔ 7 یعنی ظاہر ہوجائے کہ ان حالات میں کون شخص کہاں تک خدا کا حکم مانتا ہے۔ ابن کثیر نے فِی مَا اٰتَاکُمْ سے وہ مختلف احوال و درجات مراد لئے ہیں جن میں حسب استعداد و لیاقت ان کو رکھا گیا ہے۔ اس تقدیر پر آزمایش کا حاصل یہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 165 وَہُوَ الَّذِیْ جَعَلَکُمْ خَلٰٓءِفَ الْاَرْضِ خلیفہ بنانا ایک تو اس مفہوم میں ہے کہ جو خلافت حضرت آدم علیہ السلام کو دی گئی تھی اس کا حصہ بالقوۃ potentially تمام انسانوں کو ملا ہے ‘ اور جو بھی شخص اللہ کا مطیع اور فرماں بردار ہو کر اللہ کو اپنا حاکم اور بادشاہ مان لے تو وہ گویا اس کی خلافت کا حقدار ہوگیا۔ خَلآءِفَ الْاَرْضِکا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ تمہیں زمین میں ایک دوسرے کا جانشین بنایا۔ ایک نسل کے بعد دوسری نسل اور ایک قوم کے بعد دوسری قوم آتی ہے اور انسانی وراثت نسل در نسل اور قوم در قوم منتقل ہوتی جاتی ہے۔ یہی فلسفہ اس سورة کی آیت 133 میں بھی بیان ہوا ہے۔ وَرَفَعَ بَعْضَکُمْ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

190 اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انسان دنیا میں اللہ کا خلیفہ ہے اسے کچھ اختیارات دیئے گئے ہیں تاکہ زمین پر خلافت الٰہیہ قائم کرے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انسان زمین میں اپنے سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کا خلیفہ ہے اور یہ بحث پہلے سورة بقرہ کی آیت نمبر 30 کے تحت گزر چکی ہے۔ 191 انسان کا امتحان انہی چیزوں پر ہے جو اللہ نے اسے دے رکھی ہیں :۔ یعنی کوئی امیر ہے، کوئی غریب، کوئی عالم ہے کوئی جاہل، کوئی عقلمند ہے کوئی بےوقوف، کسی میں قوت کار کی استعداد زیادہ ہے کسی میں کم، جسمانی لحاظ سے کوئی مضبوط اور طاقتور ہے اور کوئی کمزور و نحیف۔ غرض اس دنیا میں انسانوں کے درجات میں تفاوت کے بیشمار پہلو ہیں۔ ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

262 ۔ (کہ کون ان نعمتوں کا حق کہاں تک ادا کرتا ہے اور اس آزمائش کے بعد روحانی اور حقیقی مرتبہ متعین کرے) (آیت) ” جعلکم خلئف الارض “۔ خطاب پوری نسل آدم کو ہے۔ خلافت کی دولت ادنی واعلی ہر ہر انسان کو عطاہوئی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ عالم انسانی کی کثیر آبادی نے اپنے کو نااہل خلافت الہی کا ثابت کیا ہو۔ (آیت) ” رفع بعضکم فوق بعض “۔ یہاں مراد طبعی اور تکوینی فرق مراتب سے ہے، کوئی تندرست ہے کوئی بیمار، کوئی قوی کوئی کمزور، کوئی حاکم کوئی محکوم، کوئی مرد کوئی عورت، کوئی زردار، کوئی نادار، فی الخلق والرزق والقوۃ والبسطۃ والفضل والعلم (قرطبی) (آیت) ” لیبلوکم “۔ یہ آزمائش ایک کی دوسرے کے ذریعہ سے ہوتی رہتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 164–165

لاَ تزِرُ ۔۔۔۔۔۔۔ اخریٰ ، یعنی قیامت کے روز کوئی شخص دوسرے کا بار گناہ نہیں اٹھائیگا، اس آیت میں ایک عام ضابطہ بیان کیا گیا ہے کہ قیامت کے معاملہ کو دنیا پر قیاس نہ کرو یہاں ایک شخص جرم کرکے دوسرے کے سر ڈال سکتا ہے خصوصاً جبکہ دوسرا شخص خود رضا مند ہو، مگر عدالت الہٰیہ میں اس کی کوئی گنجائش نہیں وہاں ایک کے جرم میں دوسرا ہرگز نہیں پکڑا جاسکتا ایک میت کے جنازہ پر حضرت عبد اللہ بن عمر نے کسی کو روتے ہوئے دیکھا تو فرمایا زندوں کے رونے سے مردہ کو عذاب ہوتا ہے، ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ قول حضرت عائشہ ؓ کے سامنے نقل کیا تو انہوں نے فرمایا کہ تم ایک ایسے شخص کا یہ قول نقل کر رہے ہو جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وہو الذی جعلکم خلئف الارض . اور وہ ایسا ہے جس نے تم کو زمین پر (پہلی قوموں کی جگہ) بااختیار بنایا یعنی اے امت محمد ﷺ اللہ نے گزشتہ اقوام کی ہلاکت کے بعد تم کو اس زمین کا والی وارث بنا دیا۔ ورفع بعضکم فوق بعض درجت لیبلوکم فی اما اتکم . اور اس نے تم میں سے بعض سے بعض کے درجے اونچے کئے تاکہ اللہ نے جو کچھ تم کو عطا فرمایا ہے اس میں (ظاہراً ) تمہاری جانچ کرے یعنی جو جاہ و مال تم کو دیا ہے اس میں ظاہر ہوجائے کہ تم شرک کرتے ہو (یا شکر) ان ربک سریع العقاب و انہ لغفور رحیم . بالیقین آپ کا رب جلد سزا دینے والا ہے اور بلاشبہ وہ بڑی مغفرت اور مہربانی کرنے والا (بھی) ہے یعنی جب چاہے گا اپنے دشمنوں پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(165) اسی رب نے گزشتہ قوموں کا تمہیں زمین میں جانشین کیا اور ایک دوسرے پر مال و دولت دے کر رتبہ بڑھایا تاکہ جو مال و دولت بطور خدام تمہیں دے ہیں اس کے ذریعے سے تمہاری آزمایش کرے کافر اور ناشکر گزار کو اللہ تعالیٰ جلد سزا دینے والا ہے اور وہ واقعی مومن مغفرت کرنے والا بڑی مہربانی کرنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَهُوَ الَّذِيْ جَعَلَكُمْ خَلٰۗىِٕفَ الْاَرْضِ : یعنی زمین میں ایک دوسرے کے بعد اقتدار بخشا، یا ایک دوسرے کا جانشین اور وارث بنایا۔ وَرَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ۔۔ : یعنی شکل و صورت، مال و جاہ اور علم و عقل میں ایک دوسرے پر برتری بخشنے کا مقصد اپنی دی ہوئی نعمتوں میں تمہارا امتحان ہے، اگر کفر اختیار کر کے ناکام ہوگئے تو بہت جلد سزا مل جائے گی، کیونکہ ہر آنے والی چیز قریب ہے اور موت اور قیامت تو یقیناً آنے والی ہیں اور بہت جلد آنے والی ہیں اور اگر ایمان لے آئے، پھر کوئی لغزش بھی ہوئی تو وہ ذات پاک حد سے بڑھ کر بخشنے والی اور بیحد رحم کرنے والی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 165 قولہ تعالیٰ : آیت : وھو الذی جعلکم خلٓئف الارض، خلٓئف خلیفہ کی جمع ہے، جیسے کرائم، کریمۃ کی جمع ہے اور ہر وہ جو گزر جانے والے کے بعد آئے وہی خلیفہ ہوتا ہے (تفسیر بغوی، جلد 2، صفحہ 147 ) ، یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہیں گزشتہ امتوں اور قرون سابقہ کا خلیفہ بنایا ہے۔ شحاخ نے کہا ہے : تصیبھم وتخطئنی المنایا واخلف فی ربوع عن ربوع آیت : ورفع بعضکم فوق بعض یعنی خلقت، رزق، قوت، طاقت اور فضل و علم میں، بعض کو بعض پر اس نے بلند کیا۔ درجٰت حرف جر کے حذف کے ساتھ اسے نصب دی گئی ہے، یعنی الی درجات لیبلوکم اسے لام کی کے ساتھ نصب دی گئی ہے اور ابتلاء کا معنی اختبار ( آزمائش) ہے یعنی تاکہ وہ تم میں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وھوالذی جعلکم خلئف الارض یعنی ہلاک کیا قوموں کو اور ہم کو اس میں خلیفہ بنایا ان کے بعد سے لفظ آیت ورفع بعضکم فوق بعض درجت یعنی رزق میں (ہم نے بعض کو بعض پر بلند فرمایا) (2) امام ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وھو الذی جعلکم خلئف الارض کے بارے میں فرمایا کہ (اللہ تعالیٰ ) خلیفہ بناتے ہیں ایک قوم کے بعد دوسری قوم کو اور دوسری قوم کے بعد تیسری قوم کو۔ (3) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مقاتل سے روایت کیا کہ لفظ آیت ورفع بعجکم فوق بعض درجت کے بارے میں فرمایا یعنی بعض کو بعض درجات میں بلند فرمایا فضل…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَهُوَ [ اور وہ ] الَّذِيْ [ وہ ہے جس نے ] جَعَلَكُمْ [ بنایا تم لوگوں کو ] خَلٰۗىِٕفَ الْاَرْضِ [ زمین کے جانشین ] وَرَفَعَ [ اور بلند کیا ] بَعْضَكُمْ [ تمہارے کسی کو ] فَوْقَ بَعْضٍ [ کسی کے اوپر ] دَرَجٰتٍ [ بلحاظ درجات کے ] لِّيَبْلُوَكُمْ [ تاکہ وہ آزمائے تمہیں ] فِيْ مَآ [ اس میں جو ] اٰتٰىكُمْ ۭ [ اس نے دیا تم کو ] اِنَّ [ بیشک ] رَبَّكَ [ آپ کا رب ] سَرِيْعُ الْعِقَابِ [ سزا دینے کا تیز ہے ] ڮوَاِنَّهٗ [ اور بیشک وہ [ لَغَفُوْرٌ [ یقینا بےانتہا بخشنے والا ہے ] رَّحِيْمٌ [ ہر حال میں رحم کرنے والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اللہ تعالیٰ نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا اور ایک کو دوسرے پر فوقیت دی سورۂ انعام ختم ہو رہی ہے اس میں بار بار دین حق کی دعوت دی، توحید کی طرف بلایا، مشرکین کی بےوقوفی بیان فرمائی اور ان کے عقائد باطلہ اور شرکیہ رسم و رواج کی تردید فرمائی اور توحید پر دلائل قائم کیے۔ اب آخر میں اللہ تعالیٰ کی بعض نعمتوں کی تذکیر فرمائی اور وہ یہ کہ اللہ نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا پہلی امتیں چلی گئیں ایک دوسرے کے بعد آتی رہیں۔ اب تم ان کے بعد زمین میں آئے ہو۔ زمین میں تمہیں اقتدار سونپ دیا اور سب کو ایک حالت میں نہیں رکھا غنی بھی ہیں فقیر بھی ہیں، ضعیف بھی ہیں، حاکم بھی ہیں محکوم بھی ہیں۔ یہ اقتدار سپرد…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 159–165

خاتمۂ سورت مشتمل بر ترہیب از تفریق دین قویم وترغیب بر اتباع صراط مستقیم قال اللہ تعالیٰ ان الذین فرقوا دینھم وکانوا شیعا۔۔۔ الی۔۔۔ وانہ لغفور رحیم (ربط) گذشتہ آیت میں دین حق سے اعراض اور روگردانی پر توبیخ اور تہدید تھی اب ان آیات میں صراط مستقیم اور ملۃ ابراہیم کے اتباع کی ترغیب اور دین حق میں تفریق اور اختلاف سے ترہیب ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ صراط مستقیم دین ابراہیم ہے اور اس سے اختلاف اور انحراف گمراہی ہے نیز ان آیات میں آں حضرت ﷺ کو تسلی اور تشفی دی جاتی ہے کہ جن لوگوں نے اپنے دین میں اختلاف کیا اور مختلف گروہ بن گئے کوئی عیسیٰ بن مریم کو خدا کہنے لگا اور کوئی بت پرستی میں لگ گیا اور کوئی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

187 مشرکین ایمان والوں سے کہا کرتے تھے کہ “ اِتَّبِعُوْا سَبِیْلَنَا وَلْنَحْمِلْ خَطَايَاکُمْ ” تم ہماری راہ پر آجاؤ ہم تمہارے گناہوں کا ذمہ اٹھا لیتے ہیں۔ فرمایا جرم کی سزا صرف مجرم ہی کو ملے گی۔ یہ نہیں ہوسکے گا کہ ایک مجرم کے گناہ کی سزا کسی اور کو دی جائے۔ “ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وَّازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰي ” یہ تخویف اخروی ہے اور ماقبل کی تاکید ہے۔ 188: یہ ترغیب ہے۔ اللہ ہی نے تم کو تمہارے آباء و اجداد کا جانشین بنایا ہے اور مختلف خوبیوں اور نعمتوں میں بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ کون تم میں سے اس کے احکام کی پیروی کرتا ہے اور کون نافرمانی اور سرکشی کرتا ہے۔ “…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 164–165

اس سورة کے آخری حصہ میں مشرکین کا رد آرہا ہے چناچہ گذشتہ آیت میں توحید الوہیت کا ذکر تھا ” لاشریک لہ “ اس کا کوئی شریک نہیں اس کے سوا کوئی معبود نہیں جس کی عبادت کی جائے تو حید ربوبیت بھی اللہ تعالیٰ ہی کے ساتھ مختص ہے اس کے سوا کوئی ایسی ذات نہیں جس سے مدد طلب کی جائے ” ربنا الرحمن المستعان علی ماتصفون “ ہمارا رب وہی ہے جس سے مصیبتوں ، پریشانیوں اور مشکلات میں استعانت طلب کی جائے ۔ سورة فاتحہ میں ان دونوں چیزوں کا اکٹھا تذکرہ ہے ” ایاک نعبد وایاک نستعین “ یہ بات ہر وقت پیش نظر رہنی چاہئے کہ عبادت صرف خدا تعالیٰ کی ہی ہو سکتی ہے اور مدد بھی اسی سے طلب کی جاسکتی ہے۔ کائنات میں اللہ کے سوا کوئی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَہُوَالَّذِيْ جَعَلَكُمْ خَلٰۗىِٕفَ الْاَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّيَبْلُوَكُمْ فِيْ مَآ اٰتٰىكُمْ۝ 0 ۭ اِنَّ رَبَّكَ سَرِيْعُ الْعِقَابِ۝ 0 ۡ ۖ وَاِنَّہٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۝ 165 ۧ جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ خلف والخِلافةُ النّيابة عن الغیر إمّا لغیبة المنوب عنه، وإمّا لموته، وإمّا لعجزه، وإمّا لتشریف المستخلف . وعلی هذا الوجه الأخير استخلف اللہ أولیاء ه في الأرض، قال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَكُمْ خَلائِفَ فِي الْأَرْضِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 164–165

ترکیب : قل اغیر اللّٰہ اس کی ترکیب ومن یتبع غیر الاسلام میں گذرچ کی۔ خلائف جمع خلیفہ مفعول ثانی جعل کا۔ فوق بعض رفع کا ظرف درجات کی ترکیب نرفع درجات میں بیان ہوچکی۔ تفسیر : مشرکین یا تو بتوں کو پوجتے اور ان سے مدد مانگتے تھے یا ستاروں کو یا جنوں کو یا ارواح انبیاء و اولیاء کو جیسا کہ عیسائی مسیح (علیہ السلام) کو خدا یا خدا کا بیٹا کہتے ہیں یا عناصر کو لیکن بایں ہمہ سب خدا تعالیٰ کے قائل تھے اور ان چیزوں کو خدا کی پیدا کی ہوئی چیزیں بھی جانتے تھے اور اب بھی مشرکین کا یہی حال ہے اب ان سب کو ایک ایسی دلیل سے ساکت کرتا ہے اور اس کو ان صلاتی ونسکی الخ لاشریک لہ کے بعد بطور دلیل کے لاتا ہے کہ جس کا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ارشاد فرمایا : وَھُوَ الَّذِیْ جَعَلَکُمْ خَلٰٓئِفَ الْاَرْضِ وَ رَفَعَ بَعْضَکُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَبْلُوَکُمْ فِیْ مَآ اٰتٰکُمْ ط اِنَّ رَبَّکَ سَرِیعُ الْعِقَابِ ز صلے وَاِنَّہٗ لَغَفُوْرٌرَّحِیْمٌ۔ (الانعام : 165) (اور وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں ایک دوسرے کا جانشین بنایا اور ایک کے درجے دوسرے پر بلند کیے تاکہ جو کچھ اس نے تمہیں بخشا ہے اس میں تم کو آزمائے بیشک تیرا رب جلد پاداش عمل دینے والا بھی ہے اور وہ بخشنے والا اور مہربان بھی ہے) اس آیت کریمہ میں غور کرنے سے بیک وقت تین مفہوم ابھرتے ہیں جو سہ گونہ احساس کی ترجمانی کرتے ہیں۔ 1 اللہ نے اپنی قدرت کا احساس دلایا ہے کہ اے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے کائنات کا نظام ایسے منضبط اور مربوط طریقہ سے بنایا ہے کہ اس میں کبھی خلل اور خلا پیدا نہیں ہوا۔ رات، دن ایک دوسرے کی جگہ لیتے ہیں روشنی اور اندھیرا ایک دوسرے کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ ایک نسل دوسری نسل کی خلیفہ بنتی ہے۔ ایسے ہی انسانوں کی ایک کھیپ دوسری کھیپ کی جگہ سنبھالتی ہے۔ بیٹا باپ کی اور باپ اپنے باپ کی ذمہ داریاں سنبھالتا ہے۔ آج کا بچہ کل کو باپ بنتا ہے پھر اس کے فوت ہونے کے بعد اس کی اولاد اس کی جائیداد اور معاملات کی وارث بن جاتی ہے۔ اسی طرح ملکوں کی حکمرانی کا معاملہ ہے۔ کل کا حکمران آج نہیں اور آج کے حکمران کی مسند پر ایک مدت کے بعد کوئی اور بیٹھ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

زمین میں آمد و درجہ بندی آزمائش ہے ‘ آنے والے حساب کو آیا ہوا سمجھو : آیت 165: وَہُوَ الَّذِیْ جَعَلَکُمْ خَلٰپفَ الْاَرْضِ کیونکہ محمد ﷺ خاتم النبیین ہیں اور ان کی امت آخری امت بنائی گئی کیونکہ وہ ایک دوسرے کے بعد آئیں گے یا وہ اس زمین پر اللہ تعالیٰ کے خلیفہ ہونگے۔ اور اس کے مالک بنیں گے اور اس میں تصرف کریں گے۔ وَرَفَعَ بَعْضَکُمْ فَوْقَ بَعْضٍ رتبہ میں اور رزق وغیرہ میں دَرَجٰتٍ یہ مفعول دوم ہے یا تقدیر عبارت یہ ہے اِلٰی دَرَجَاتٍ درجات کی طرف یا یہ مصدر کی جگہ آیا ہے گویا اس طرح کہا بلندی کے بعد بلندی لِّیَبْلُوَکُمْ فِیْ مَآ اٰتَکُمْ اس میں جو تمہیں جاہ و مال کی نعمت دے رکھی ہے تم کس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

165- (وھو الذی جعلکم خلئف الارض) یعنی پہلی امتوں سے یعنی اے محمد ﷺ کی امت تمہیں ان کے بعد زمین کا وارث بنایا ہے تمہیں ان کا خلیفہ و نائب بنایا، اسی زمین میں تم ان کے نائب ہو اور ان کے بعد زمین آباد کرتے ہو اور خلائف خلیفتہ کی جمع ہے جیسے ” وصائف وصیفۃ “ کی جمع ہے اور جو شخص کسی کے جانے کے بعد آئے وہ اس کا خلیفہ ہے کیونکہ وہ اس کے پیچھے آیا ہے۔ (ورفع بعضکم فوق بعض درجت) یعنی تمہارے احوال ایک دوسرے کے خلاف کردیئے تو تم میں سے بعض کو خلق، رزق، معاش، قوت اور فضل میں بعض پر بلند کردیا (لیبلوکم فی مااتکم) یعنی اپنے دیئے ہوئے رزق میں تمہارا امتحان کرے یعنی مال دار، فقیر، شریف، گھٹیا، آزاد، غلام سب…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

جس طرح ہر مسلمان کو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور بخشش کی توقع رکھنی چاہئے اسی طرح اس کے عذاب اور غصہ سے بھی ہر وقت ڈرنا چاہئے اس واسطے ایمان امید اور زندگی کے بیچ میں قرار پایا ہے صحیح مسلم ترمذی مسند امام احمد بن حنبل میں ابوہریرہ ؓ اور صحابہ ؓ کی مرفوع اور موقوف حدیثوں کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے عذاب اور غصہ کا حال اگر لوگوں کو معلوم ہوجاوے تو جنت میں داخل ہونے سے ہر ایک کا دل چھوٹ جاوے اسی طرح اس کی رحمت کا حال معلوم ہوجاوے تو کوئی اپنے آپ کو دوزخی نہ خیال کرے صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ رحمت کے سو درجہ اللہ تعالیٰ نے پیدا کئے ہیں ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 165 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ وہ جس راہ ہدایت اور صراط مستقیم پر گامزن ہیں اس کے بارے میں اعلان کردیں یعنی معتدل دین کا جو عقائد نافعہ، اعمال صالحہ، ہر اچھی بات کے حکم اور ہر بری بات سے ممانعت کو متضمن ہے۔ یہ وہ دین ہے جس پر تمام انبیاء ومرسلین عمل پیرا رہے، جو خاص طور پر امام الحنفاء، بعد میں بمعوث ہونے والے تمام انبیاء ومرسلین کے باپ اور اللہ رحمٰن کے خلیل ابراہیم کا دین تھا۔ یہی وہ دین حنیف ہے جو تمام اہل انحراف مثلاً یہود و نصاریٰ اور مشرکین کے ادیان باطلہ سے روگردانی کو متضمن ہے۔ یہ عمومی ذکر ہے پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے افضل ترین عبادت کا خاص طور پر ذکر کرتے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 164–165

اعمال کی جوابدہی قول باری ہے ( ولا تکسب گل نفس الا علیھا، ہر شخص جو کچھ کماتا ہے اس کا ذمہ دار وہ خود ہے) آیت سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ کسی شخص کو دوسرے پر تصرف کرنے کا حق نہیں ہے۔ اور نہ ہی اس کا جواز ہے۔ اِلا یہ کہ کوئی دلالت قائم ہوجائے جو اس تصرف کے جواز کی نشاندہی کرتی ہو اس لی کہ اللہ تعالیٰ نے آیت میں یہ بات بتائی ہے ک ہر شخص کے افعال کے احکامکا اس کی ذات ک ساتھ تعلق ہوتا ہے کسی اور کے ساتھ نہیں۔ ذاتی ملکیت پر پابندی ناروا ہے اس حکم کے عموم کے تحت یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ بالغ باکرہ لڑکی کا اس کی اجازت کے بغیر نکاح کرا دینے کا جواز ممتنع ہے، نیز ایک شخص پر اپنی املاک کی فروخت پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

349{ خلائف الارض } کا معنیٰ و مفہوم اور اس کی عظمت شان ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اسی نے تم لوگوں کو اس زمین میں خلیفہ بنایا کہ تم اللہ کے خلیفہ کے طور پر اس کی پیدا کردہ اس زمین پر عمل و تصرف کرتے ہو۔ نیز اس نے تم کو خلیفہ و جانشین بنایا ان قوموں کا جو تم سے پہلے اس دنیا میں گزر چکی ہیں۔ نیز تم خلیفہ و جانشین ہو اپنے باپ دادا اور اپنے بڑوں کے۔ اور جس طرح ان کے ترکہ و میراث کے وارث آج تم بنے ہوئے ہو، اسی طرح وقت آنے پر یہ سب کچھ تم سے دوسروں کو منتقل ہوجائے گا۔ سو آج جب کہ یہ سب کچھ تمہارے پاس ہے اس کو راہ حق میں اور مرضی حق کے مطابق صرف و خرچ کر کے اپنی آخرت بنا لو قبل اس سے کہ یہ تمہارے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 159–165

فرقہ بندی کا نقصان، خالص توحید، انسان کی نیابت تشریح : یہ سورة الانعام کی آخری آیات ہیں اور ان میں بیشمار مسائل کا حل بتایا گیا ہے۔ مسلمانوں میں کئی فرقے بن چکے ہیں۔ فرقہ بندی کسی بھی قوم کو کمزور کرنے کا بہت بڑا سبب ہے اس لیے قومی ترقی، کامیابی اور مضبوطی کے لیے ضروری ہے کہ فرقہ پرستی اور گروہ بندی سے بچا جائے۔ رسول اللہ ﷺ کو مسلمانوں کی گروہ بندی سے فکر ہوتی تھی تو رب العلمین نے ان سے کہا کہ آپ اس بات کی ہرگز فکر نہ کریں کیونکہ آپ کا کام تھا تعلیم دینا وہ آپ نے دیدی اب اس پر عمل کرنا نہ کرنا یا اس کو بگاڑ دینا یہ سب ہر شخص کا ذاتی عمل ہے جو بھی غلط کام یا شریعت سے ہٹ کر کام کرے گا وہ عذاب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 156–165

رکوع نمبر 20 ۔ آیات 156 تا 166 ۔ اسرار و معارف : اور اب یہ کتاب ہے یعنی قرآن حکیم جسے ہم نے بہت برکت کے ساتھ نازل فرمایا ہے یعنی کتب سابقہ کا دور ختم ہوا پہلی کتابوں کا انکار نہ کیا جائے گا کہ وہ بھی اللہ کی نازل کردہ تھیں مگر ان پر عمل کا زمانہ بیت چکا اب ساری برکات قرآن کا اتباع کرنے سے ہی نصیب ہوسکتی ہیں اور اللہ کی عظمت کا احساس کرو تاکہ اللہ تم پر رحم فرمائے اور تمہاری کوتاہیوں اور کمزوریوں کو معاف فرمائے کہیں یہ نہ کہنا کہ اللہ کی کتابیں تو صرف یہود و نصاری پہ ہی نازل ہوئی تھیں جنہیں ہم سمجھنے سے قاصر تھے ان کا پڑھنا پڑھانا ہمارے بس میں ہی نہ تھا زبان اور تھی یا اصل کتب نہ رہیں اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 اپنا پہلی امتوں کایا آپس میں ایک دوسرے کا۔4 شکل و صورت مال وجاہ۔ علم و عقل وغیرہ میں۔ (کبیر)6 یہ عذاب گو آخرت میں ہوگا مگر کل ماھو آت فھو جلد ہی آنے والا ہے جیسے فرمایا۔ وَلِلَّهِ غَيْبُ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ وَمَا أَمْرُ السَّاعَةِ إِلا كَلَمْحِ الْبَصَرِ أَوْ هُوَ أَقْرَبُ (نحل :77) یہ کفار کے لیے تخویف ہے۔ (قرطبی، ) الحمد للہ کہ آج صفر المظفر 1389 ھ کو تفسیر ورۃ انعام ختم ہوئی اور بعد از صلوۃ عصر تفسیر سورت اعراف شروع کی والحمد للہ المنعم العلام۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(6:165) لیبلوکم۔ بلایبلوا (نصر) لام تعلیل کے لئے یبلوا مضارع واحد مذکر غائب کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ تاکہ تم کو آزمائے۔ بلاء مصدر۔ ما اتکم۔ (وہ نعمت) جو اس نے تم کو دی۔ سریع العقاب۔ سریع۔ سرعت سے کرنے والا۔ فعیل کے وزن پر بمعنی فاعل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ عقاب سزا۔ عقوبت۔ عذاب۔ سزا دینا۔ عاقب یعاقب (مفاعلۃ) سے ۔ عقوبت۔ معاتبۃ و عقاب تینوں الفاظ عذاب کے لئے مخصوص ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

لغات القرآن : آیت نمبر 165 : خلئف ( خلیفۃ) ۔ نائب۔ قائم مقام ‘ رحیم (بہت رحم کرنے والا) ۔ تشریح : آیت نمبر 165 : گذشتہ آیات میں بتایا گیا ہے کہ اسلام کی روح کیا ہے ؟ ۔ وہ اپنے مسلم میں کون کون سے ظاہری و باطنی صفات ڈھونڈتا ہے ۔ اور کیوں ؟ یہ آخری آیت اسی ” کیوں “ کی تشریح ہے۔ ان صفات کی ضرورت اس لئے ہے تاکہ تم خلیفۃ اللہ فی الارض کی ذمہ داری اٹھا سکو۔ تاکہ تم دنیا کی چیزیں امانت الٰہی سمجھ کر برت سکوتا کہ تم اس کی سزا سے بچ سکو اور اس کی طرف سے معافی اور رحمت حاصل کرسکو۔ جو حاصل زندگی ہے۔ شرک اور خلافت دونوں کا جمع ہونا محال ہے۔ سورة انعام جو سراسر تردید شرک کی سورة ہے اپنی تمام بحث کا خاتمہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 164–165

غریب و امیر کی آزمائش حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ پچھلی امتوں کے بعد اے امت محمدیہ ! اللہ تعالیٰ نے ان امتوں کے نائب اور قائم مقام کے طور پر تم کو پیدا کیا ہے۔ اور انظام دنیا چلانے کے لئے بعضوں کو تنگدست پیدا کیا تاکہ تنگدست لوگ مالداروں کا کام کاج کر کے اس کے معاوضہ میں جو کچھ کمائیں اس سے اپنی گزران کریں، اور مالدار لوگ تنگ دست لوگوں کے کام کاج سے اپنی ہر طرح کی ضرورتوں کو رفع کر کے اپنی گزران کریں۔ اور امیر و غریب کے پیدا کرنے میں یہ آزمائش بھی ہے کہ مالدار لوگ کہاں تک اس مال ومتاع کے دینے والے کا شکر کرتے ہیں اور غریب لوگ اپنی غریبی پر کہاں تک صبر سے کام لیتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ یہ دنیا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[65] یعنی شکل و صورت میں، حسن و جمال میں، رزق و مال میں، علم و عمل میں، قوت و کمال میں۔ [66] مثلاً غنی حالت غنا میں رہ کر کہاں تک شکر کرتا ہے اور فقیر حالت فقر میں کس حد تک صبر کا ثبوت دیتا ہے۔ [67] اس آزمائش میں جو نالائق ثابت ہوا۔ اللہ تعالیٰ اس کے حق میں سریع العقاب (سزا دینے میں تیز) اور جس سے قدرے کوتاہی رہ گئی اس کے حق میں غفور اور جو پورا اترا اس کے لئے رحیم ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 2) اس ایک آیت میں تین حقائق کی جانب اشارہ ہے ، 1۔ یہ واقعہ ہے کہ اللہ نے مسلمان کو خلعت خلافت دے کر بھیجا ہے ۔ 2۔ یہ ایک صداقت ہے کہ باہمی امتیاز اور تفاضل موجود ہے ۔ 3۔ یہ ایک سچائی ہے کہ خدا یہاں مجرموں کو سزا دیتا ہے وہاں نیک اور صالح بندوں کے لئے انتہا درجہ کا کرم فرما بھی ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

165 اور اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس وہ ہے جس نے تم کو زمین میں اپنا نائب اور خلیفہ بنایا اور تم کو زمین میں تصرف کا حق دیا اور تم سے باعتبارِ درجات کے بعض کو بعض پر فوقیت عطا کی اور ایک کو دوسرے سے مرتبہ میں بڑھایا اور بلند کیا تاکہ اس نے تم کو جو کچھ دیا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے اور تم کو آزمائے یقیناًٰ آپ کا پروردگار جلد سزا دینے والا بھی ہے اور یقیناً وہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔ یعنی زمین میں تم کو رہنے اور بسنے کے لئے جگہ دی اور زمین پر تم کو ہر طرح سے تصرف کا حق دیا جاتا ہے مکان بنائو چاہے کھیتی کرو، کنواں کھودو، نہر بنائو، فرق مراتب کو وجہ آزمائش فرمایا ہر شخص ایک دوسرے کے لئے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 2۔ آزمانا یہ کہ ان نعمتوں کی قدر کرکے منعم کی اطاعت کرتا ہے اور کون بےقدری کرکے اطاعت نہیں کرتا پس بعض مطیع ہوئے بعض نافرمان ہوئے اور دونوں کے ساتھ مناسب معاملہ کیا جائے گا۔ 3۔ پس نافرمانوں کے لیے عقاب ہے اور فرمانبرداروں کے لیے رحمت ہے اور نافرمانی سے فرماں برداری کی طرف آنے والوں کے لیے مغفرت ہے پس مکلفین کے لیے ضرور ہوا کہ دین حق کے موافق اطاعت اختیار کریں اور باطل اور مخالفت سے باز آئیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہی ہے جس نے تم کو جانشین بنایا اور تمہیں درجات میں بلند کیا تاکہ آزمائش کرے : 260: یہ نبی اعظم وآخر ﷺ کے ان مخالفین ومعاندین کے لئے تنبیہ ہے جو آپ ﷺ کو بڑی ڈھٹائی سے یہ کہہ رہے تھے کہ اگر آپ ہمارا دین قبول کرلیں اور ہمارے خدائوں کی پرستش شروع کردیں تو اس سلسلہ میں آپ کو دنیا و آخرت میں کوئی گزند پہنچے تو ہم ذمہ دار ہیں فرمایا تم اس بات کی ذمہ داری کیسے لے سکتے ہو جب کہ تمہارے پہلوں کو اس دنیا سے اٹھانے والا اور تم کو ان کا جانشین بنانے والا اللہ ہے نہ تمہارے پہلے اپنی مرضی کے مطابق یہاں سے رخصت ہوئے اور نہ تم اپنی مرضی سے ان کی جگہ برا جمان ہو کر ان کے جانشین ہوگئے۔ تمہارے پہلوں کو اس دنیا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

In the fifth (164) verse, Surah Al-An` am reaches its end at a comprehensive note of advice. It brings the past history of peoples and their times into focus and invites attention to a projection towards the future by saying: وَهُوَ الَّذِي جَعَلَكُمْ خَلَائِفَ الْأَرْ‌ضِ وَرَ‌فَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَ‌جَاتٍ (And it is He who made you vice-regents of the earth and raised some of you in ranks over some others). Here, the word: خَلَائِفَ (khala'if) is the plural form of khalifah which means vice-regent or deputy. The sense of the verse is: It is Allah Ta` ala who has let you inhabit…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

146. This statement embodies three important truths: First, that human beings as such are vicegerents of God on earth, so that God has entrusted them with many things and endowed them with the power to use them. Second, it is God Himself Who has created differences of rank among His vicegerents. The trust placed in some is more than that of others. Some men have been granted control of more resources than others. Some are more gifted in respect of their abilities. Likewise, some human beings have been placed under the trust of others. Third, all this is indeed designed to test man. The entire…

Read the full tafseer →