6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsمعارف القرآن

Ayah 6:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوْرَ١ؕ۬ ثُمَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ Open ayah 6:1 in the Quran reader

ہر طرح کی تعریف خدا ہی کو سزا وار ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور اندھیرا اور روشنی بنائی۔ پھر بھی کافر (اور چیزوں کو) خدا کے برابر ٹھہراتے ہیں۔

تحمید برخالقیت و اثبات وحدانیت وابطال مجوسیت۔ قال اللہ تعالی، الحمدللہ الذی خلق السماوات۔۔۔ الی۔۔۔ یعدلون۔ ربط) ۔ یہ سورت چونکہ اصول دین کے بیان پر مشتمل ہے اس لیے اللہ نے تحمید اور توحید سے اس سورت کا آغاز فرمایا اور آسمان اور زمین اور نور ور ظلمت کے لیے اپنا خالق ہونا بیان کیا تاکہ توحید ثابت ہو اور مشرکین اور محبوس کا رد فرمایا جو یہ کہتے ہیں کہ دنیا کے دو خالق ہیں ایک یزدان جو خیر کا خالق ہے یعنی نور اور روشنی کا پیدا کرنے والا ہے اور دوسرا ھرمن جو شر کا خالق ہے یعنی ظلمت اور تاریکی کا پیدا کرنے والا ہے اللہ نے اس آیت میں یہ بتلا دیا کہ ہر ظلمت اور ہر نور اور ہر اندھیرے اور اجالے کا پیدا کرنے والا ہی ہے مطلب یہ ہے کہ علویات ہوں یاسفلیات نور ہو یا ظلمت لیل ہو یا نہار موت ہو یا حیات سب کا خالق وہی ہے غرض یہ کہ عالم کی تمام کائنات اور تمام اضداد اور متقابلات سب اس کے قبضہ میں تصرف میں ہیں کوئی اس کا شریک اور سہیہم نہیں اس کی قدرت کاملہ ضدین کو محیط ہے کوئی ضد اس کے احاطہ قدرت سے خارج نہیں آسمان و زمین کی پیدائش سے وجود باری کو ثابت کیا اور منکرین خدا کا رد کیا کہ یہ کون ومکان اور زمین و آسمان کی یہ سیع عمارت خود بخود بن کر نہیں کھڑی ہوئی بغیر بانی کے بناء کا وجود اور بغیر صانع کے صنعت کا ظہور عقلا محال ہے اور نور اور ظلمت کی پیدائش سے مجوس کا رد کیا کہ جو نور اور ظلمت کو مدبر عالم سمجھتے ہیں اور ثم الذین کفرو بربھم یعدلون۔ سے مشرکین عرب کا رد کیا جو غیر اللہ کی عبادت اور پرستش کرتے ہیں۔ بعد ازاں اللہ نے ان آیات میں اپنی حکومت زمین و آسمان میں بیان کی اور پھر اپنا عالم الغیب ہونابیان کیا پھر ان عجائب قدرت کو بیان کرکے کافروں کے اعراض اور انکار اور تکذیب کا نتیجہ بیان کیا تاکہ مشرکین عرب کو اس سے عبرت ہو جو شخص آسمان اور زمین کی پیدائش میں غور کرے گا تو ضرور سمجھ جائے گا کہ کوئی ان کا صانع ضرور ہے اتنا بڑا مکان ہے اور اتنی وسیع عمارت بغیر کسی بنانے والے کے خود بخود نہیں بن گئی اور جو شخص اپنی پیدائش میں غور کرے گا تو اس پر خدا تعالیٰ کا حشرونشر پر قادر ہوناواضح ہوجائے گا کہ جس خدا نے ہم کو پہلی بار مٹی سے پیدا کیا تو کیا پھر وہ دوبارہ ہم کو زندہ نہیں کرسکتا چناچہ فرماتے ہیں کہ سب تعریفیں اللہ کے لیے ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں کو اور زمین کو جو اعیان اور جواہر میں سے ہیں اور جس نے ٹھہرائیں اندھیر یاں اور اجالا جو اعراض میں سے ہیں یعنی قابل تعریف وہ ہے کہ جو جواہر آسمان و زمین اور اعراض تاریکی اور روشنی کا پیدا کرنے والا ہے خواہ تم اس کی تعریف کرو یا نہ کرو پھر تعجب کی بات یہ ہے کہ خدا کی اس عظیم قدرت اور عجیب و غریب صنعت کے مشاہدہ کے بعد بھی یہ منکر اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو برابر قرار دیتے ہیں یعنی اس کی ساتھ اپنے بتوں کو شریک گردانتے ہیں جو محض عاجز اور درماندہ ہیں نضر بن شمیل کہتے ہیں کہ بربہم کی بابمعنی عن ہے اور یعدلوں بمعنی ینحرفون ہے اور مطلب یہ ہے کہ خدا وہ ہے کہ جس نے بلندی اور پستی اور تاریکی اور روشنی کو پیدا کیا اور وہی مستحق تعریف ہے مگر یہ کافر اس سے انحراف کرتے ہیں یعنی اس سے پھرے ہوئے ہیں اور اس کی عظمت ووحدانیت کے قائل نہیں ہوتے آیت میں نور سے راہ حق کی طرف اشارہ ہے اور ظلمت سے غلط راہ کی طرف اشارہ ہے۔ فائدہ) ۔ امام رازی فرماتے ہیں کلمہ الحمدللہ، پانچ سورتوں کے شروع میں مذکور ہے اول سورة فاتحہ دوم اس سورت کے شروع میں الحمدللہ الذی خلق السماوات والارض۔ سوم سورة کہف کے شروع میں الحمدللہ الذی انزل علی عبدہ الکتاب۔ چہارم سورة سباء۔ کے شروع میں الحمدللہ الذی لہ مافی السماوات ومافی الارض پنجم سورة فاطر الحمدللہ فاطر السماوات والارض۔ آیت۔ نکتہ) ۔ اس میں یہ ہے کہ سورة فاتحہ کے شروع میں تحمید عام کا ذکر تھا اور اس کے بعد چارسورتوں میں تحمید خاص کا ذکر ہے جو اسی تحمید عام کا ایک فرد یا جزئی ہے اس لیے کہ الحمدللہ رب العالمین میں تمام عالمین کی ربوبیت کا ذکر ہے اور عالم سے مراد جمیع ماسوی اللہ ہے جس میں ہر موجود داخل ہے اور آسمان و زمین کا پیدا کرنا اور بندوں کے تربیت کے لیے آسمان سے کتاب نازل کرنا وغیرہ وغیرہ یہ سب اسی تحمید عام کے تحت میں مندرج ہیں۔ (تفسیر کبیرص 4 ج 3) ۔
Ayah 6:2

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِیْنٍ ثُمَّ قَضٰۤى اَجَلًا١ؕ وَ اَجَلٌ مُّسَمًّى عِنْدَهٗ ثُمَّ اَنْتُمْ تَمْتَرُوْنَ Open ayah 6:2 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر (مرنے کا) ایک وقت مقرر کردیا۔ اور ایک مدت اسکے ہاں اور مقرر ہے پھر بھی تم (اے کافرو خدا کے بارے میں) شک کرتے ہو۔

دلیل دیگر بروجود صانع۔ قال اللہ تعالی، ھوالذی خلقکم من طین۔۔۔ الی۔۔۔ تمترون۔ ربط) ۔ یہ اثبات صانع کی دوسری دلیل ہے چناچہ فرماتے ہیں خدا وہی ہے جس نے تم کو بواسطہ آدم (علیہ السلام) کے مٹی سے پیدا کیا جس سے پستی میں بڑھ کر کوئی چیز نہیں پھر ہر ایک کی حیات اور زندگی کے لیے ایک وقت مقرر کردیا جس میں نہ کمی ہوسکتی ہے اور نہ زیادتی اور سارے عالم کی دوبارہ زندہ ہونے کی جو مدت مقرر فرمائی وہ اسی کے نزدیک ہے یعنی اس کو معلوم ہے اس کے سوا کسی کو اس مدت کا علم نہیں یعنی خود تمہارا اپنا ہی وجود وجود صانع کے لیے بھی دلیل ہے اور ثبوت قیامت کے بھی دلیل ہے مگر تعجب ہے کہ تم ایسے قوی اور محکم دلائل کے ہوتے ہوئے بھی وجود باری اور ثبوت قیامت کے شک کرتے ہو کیا انسان مٹی سے اور نطفہ سے خود بخود بن گیا بلاشبہ یہ کسی قدیر و حکیم کی کاری گری ہے اس سے وجود صانع ثابت ہوا اور جس خدا نے انسان کو پہلی مرتبہ پیدا کیا وہ دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہوا اس سے حشر ونشر اور قیامت کا اثبات ہوا۔
Ayah 6:3

وَ هُوَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الْاَرْضِ١ؕ یَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَ جَهْرَكُمْ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْسِبُوْنَ Open ayah 6:3 in the Quran reader

اور آسمان اور زمین میں وہی ایک خدا ہے۔ تمہاری پوشیدہ اور ظاہر سب باتین جانتا ہے اور تم جو عمل کرتے ہو سب سے واقف ہے۔

اثبات علم باری تعالی۔ قال اللہ تعالی، وھواللہ فی السماوات وفی الارض۔۔ الی۔۔ تکسبون۔ ربط) ۔ گذشتہ آیت میں صانع مختار کے وجود پر دلیل قائم کی اب اس آیت میں اس کے علم محیط پر دلیل قائم کرتے ہیں کہ جس طرح صانع عالم کی قدرت تمام کائنات کو محیط ہے اسی طرح اس کا علم بھی تمام کائنات کو محیط ہے چناچہ فرماتے ہیں اور وہی ایک معبود برحق ہے آسمانوں میں اور زمین میں اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ تمہارا چھپے اور کھلے کو جانتا ہے خواہ تم کوئی فعل کھلے کرو یا چھپا کر کرو اس کو سب معلوم ہے اور خوب جانتا ہے جو تم عمل کرتے ہو تمہارے عمل کے مطابق تم کو جزا اور سزا دے گا۔ وعید وتہدید براعراض وتکذیب۔
Ayahs 6:4–6

وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ Open ayah 6:4 in the Quran reader

اور خدا کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ان لوگوں کے پاس نہیں آتی مگر یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں۔

فَقَدْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ؕ فَسَوْفَ یَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 6:5 in the Quran reader

جب ان کے پاس حق آیا تو اس کو بھی جھٹلا دیا۔ سو ان کو ان چیزوں کا جن کا یہ استہزاء کرتے ہیں عنقریب انجام معلوم ہوجائے گا۔

اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّنْ لَّكُمْ وَ اَرْسَلْنَا السَّمَآءَ عَلَیْهِمْ مِّدْرَارًا١۪ وَّ جَعَلْنَا الْاَنْهٰرَ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 6:6 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی امتوں کو ہلاک کردیا جن کے پاؤں ملک میں ایسے جما دیئے تھے کہ تمہارے پاؤں بھی ایسے نہیں جمائے۔ اور ان پر آسمان سے لگاتار مینہ برسایا اور نہریں بنادیں جو ان کے (مکانوں کے) نیچے بہ رہی تھیں۔ پھر انکو انکے گناہوں کے سبب ہلاک کردیا اور ان کے بعد اور امتیں پیدا کردیں

قال اللہ تعالی، وما تاتیھم من آیۃ۔۔۔ الی۔۔۔ قرنا آخرین۔ ربط) ۔ گذشتہ آیات میں دلائل توحید کا بیان تھا اب ان آیات میں آیات الٰہیہ سے اعراض اور تکذیب پر وعید اور تہدید کا ذکر ہے چناچہ فرماتے ہیں اور ان کفار مکہ کے پاس کوئی نشانی ان کے پروردگار کی نشانیوں میں سے نہیں پہنچتی مگر اس سے منہ پھیرنے والے اور تغافل برتنے والے بن جاتے ہیں جو معجزہ بھی دیکھتے ہیں تو اس سے منہ پھیر لیتے ہیں اور جادو کہہ کر ٹلا دیتے ہیں، پس ثابت ہوا کہ یہ لوگ بہت ہی بدخ وہیں پس تحقیق جھٹلایا اور انہوں نے حق کو جب وہ ان کے پاس آگیا اور پہنچ گیا حق سے مراد نبی کی ذات بابرکات ہے یا قرآن کی آیتیں یا معجزات ہیں پس عنقریب ان کے سامنے ان چیزوں کی حقیقت آجائے گی جن کی یہ ہنسی اڑاتے تھے یعنی ان کو اپنے استہزاء کا مزہ معلوم ہوجائے گا کیا اہل مکہ نے یہ نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی امتوں کو ہلاک کیا اور ان کے استہزاء کا مزہ ان کو چکھایا جن کو ہم نے دنیا میں وہ جسمانی اور مالی قوت اور استقرار اور تمکن عطا کیا تھا کہ جو تم کو نہیں دیا بڑے قدر آور اور تناور تھے ان کی عمریں تم سے دراز تھیں اور ان کی روزی بھی بہ نسبت تمہارے بہت فراخ تھی اور ہم نے ان پر موسلا دھار پانی برسایا یعنی وہ لوگ سرسبز اور شاداب ملکوں کے رہنے ولے تھے اور نہایت خوش حال اور مالدار تھے قحط سالی اور امساک باراں کی ان کو کوئی تکلیف نہیں پہنچتی تھی اور ہم نے ان کے درختوں کے نیچے نہریں جاری کیں یعنی وہ لوگ باغوں والے اور چشموں والے تھے پھر باوجود اس قوت و شوکت اور رحت و ثروت کے ان کے گناہوں یعنی تکذیب حق اور اعراض عن الحق کی وجہ سے ان کو ہلاک کردیا تاکہ ان کی تباہی اور بردباری لوگوں کے لیے عبرت بنے اور ان کے بعد ہم نے دوسرے لوگوں کو پیدا کیا اسی طرح اگر تم پر بھی عذاب نازل کرکے تم کو ہلاک کردیں تو تعجب کیا ہے مطلب یہ ہے کہ اے اہل مکہ پہلی امتوں کے حالات نظر کرو کہ کس طرح عیش و آرام میں تھیں جب انہوں نے خدا کے پیغمبروں کو جھٹلایا تو ان کا انجام کیسا خراب ہوا پس جب ہم نے ان امتوں کو ہلاک کردیا جوہر بات میں تم سے بڑھ چڑھ کر تھے تو تمہارا ہلاک کرنا کیا مشکل ہے۔ فائدہ) ۔ امام رازی فرماتے ہیں کہ ان آیات سے یہ معلوم ہوا کہ کفر کے تین درجے ہیں اول اعراض عن الحق یعنی حق سے منہ پھیرنا اور اس سے تغافل برتنا دوم تکذیب حق یعنی حق کو جھٹلانا سوم استہزاء بالحق یعنی حق کا مذاق اڑانا یہ کفر کا آخری درجہ ہے۔ (تفسیر کبیر ص 12 ج 4) ۔
Ayahs 6:7–11

وَ لَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ كِتٰبًا فِیْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْهُ بِاَیْدِیْهِمْ لَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 6:7 in the Quran reader

اور اگر ہم تم پر کاغذوں پر لکھی ہوئی کتاب نازل کرتے اور یہ اسے اپنے ہاتھوں سے بھی ٹٹول لیتے تو جو کافر ہیں یہی کہہ دیتے کہ یہ تو (صاف اور) صریح جادو ہے۔

وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ مَلَكٌ١ؕ وَ لَوْ اَنْزَلْنَا مَلَكًا لَّقُضِیَ الْاَمْرُ ثُمَّ لَا یُنْظَرُوْنَ Open ayah 6:8 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ ان (پیغمبر ﷺ پر فرشتہ کیوں نازل نہ ہوا (جو انکی تصدیق کرتا) اگر ہم فرشتہ نازل کرتے تو کام ہی فیصل ہوجاتا پھر انھیں (مطلق) مہلت نہ دی جاتی

وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ مَلَكًا لَّجَعَلْنٰهُ رَجُلًا وَّ لَلَبَسْنَا عَلَیْهِمْ مَّا یَلْبِسُوْنَ Open ayah 6:9 in the Quran reader

نیز اگر ہم کسی فرشتے کو بھیجتے تو اسے مرد کی صورت میں بھیجتے اور جو شبہہ (اب) کرتے ہیں اسی شبہ میں انہیں پھر ڈال دیتے۔

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 6:10 in the Quran reader

اور تم سے پہلے بھی پیغمبروں کے ساتھ تمسخر ہوتے رہے ہیں۔ سو جو لوگ ان میں سے تمسخر کیا کرتے تھے ان کو تمسخر کی سزا نے آگھیرا۔

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 6:11 in the Quran reader

کہو کہ (اے منکرین رسالت) ملک میں چلو پھرو پھر دیکھو کہ جھٹلانے نے والوں کا کیا انجام ہوا۔

ازالہ شبہات منکرین نبوت۔ قال اللہ تعالی، ولونزلنا علیک کتابا فی قرطاس۔۔۔ الی۔۔۔ المکذبین۔ ربط) ۔ گذشتہ آیات میں اثبات صانع اور توحید کا بیان تھا اب ان آیات میں معاندین اور منکرین نبوت کے چند شبہات کا جواب دیتے ہیں کفار مکہ قرآن کے کلام الٰہی ہونے میں اور نبی کی نبوت میں کبھی تو یہ شبہ کرتے کہ آسمان سے لکھی ہوئی کتاب کیوں نہیں اتری اور کبھی یہ کہتے کہ فرشتہ اپنی اصلی شکل میں نمودار ہو کر ہمارے سامنے آکر آپ کی صدق کی گواہی کیوں نہیں دیتا اور کبھی یہ کہتے کہ نبی بشری اور انسانی صورت میں کیوں بھیجا گیا فرشتہ کو نبی بنا کر کیوں نہیں بھیجا گیا ان آیات میں اس قسم کے مزخرقات اور مہملات کا رد کیا گیا ہے۔ یا یوں کہو کہ گذشتہ آیات میں کافروں کے اعراض اور تکذیب کا بیان تھا کہ یہ کفار اللہ کی آیات قدرت سے اعراض کرتے ہیں اور انکی تکذیب کرتے ہیں اب ان آیات میں ان کے عناد اور تمسخر کو بیان کرتے ہیں کیونکہ حق سے اعراض اور بےتوجہی یہ کفر کا ادنی درجہ ہے اور حق کا انکار اور اس کی تکذیب یہ کفر کا دوسرا درجہ ہے اور دیدہ دانستہ حق سے انحراف اور اس سے نفرت اور اس سے تمسخر یہ کفر کا اعلی درجہ ہے اور ولقد استھزی برسل من قبلک۔ الخ۔ میں اللہ نے اپنی نبی کو تسلی کے لیے یہ بتلایا کہ یہ سب مسخر ان کی باتیں ہیں تم سے پہلے اور پیغمبروں سے ان کے زمانہ میں کافر ایسی ہی باتیں کرتے تھے جس کا نتیجہ ان کو بھگتنا پڑا اور سب کے سب تباہ اور برباد ہوئے ان کافروں کو چاہیے کہ ان کے آثار قدیمہ سے عبرت پکڑیں کہ ان تکذیب اور تمسخر کرنے والوں کے بڑے بڑے آباد شہروں کو ویران اور کھنڈر بنا دیا گیا چناچہ فرماتے ہیں اور یہ لوگ اس درجہ معاند اور ضدی ہیں کہ اے نبی اگر ہم آپ پر کاغذ میں لکھی ہوئی کوئی کتاب آسمان سے نازل کریں اور یہ اس کتاب کو آسمان سے اترتا ہوا اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں پھر اس کو اپنے ہاتھوں سے بھی چھو لیں اور یہ محسوس کرلیں کہ کوئی تحلیل اور نظر بندی نہیں تب بھی یہی کہیں گے یہ صریح جادو ہے یہ ضد اور عناد کی انتہاء ہے کہ آنکھ سے مشاہدہ اور ہاتھ سے چھولینے کے بعد بھی کسی چیز کو جادو بتلائے ایسے ضدی اور عنادی کو جو محسوسات اور ملموسات میں بھی مکابرہ کرتا ہو اسے کبھی ہدایت نہیں ہوسکتی اور نہ اس کا شبہ کبھی مٹ سکتا ہے۔ حق جل شانہ نے متعدد مواضع میں محسوسات میں ان کے مکابرہ کا ذکر کیا ہے کماقال تعالی، ولوفتحنا علیھم بابا من السماء۔۔۔ مسحورون۔ وقال تعالی، وان یروکسفا من السماء۔۔۔ الی۔۔ مرکوم۔ آیت۔ نضر بن حارث اور عبداللہ بن ابی امیہ اور نوفل بن خویلد نے نبی ﷺ سے یہ کہا کہ اے محمد اگر تو اللہ کے پاس سے کاغذ میں لکھی ہوئی ایک کتاب ہمارے پاس لائے اور اس کے ساتھ چار فرشتے ہوں جو اس کے من جانب اللہ ہونے کی اور تیری نبوت کی شہادت دین تو ہم تجھ پر ایمان لے آئیں گے بغیر اس کے ہم تجھ پر ایمان نہیں لائیں گے اس پر یہ آیت نازل ہوئی مطلب یہ ہے کہ ان کا یہ سوال محض عناد کی بناء پر ہے اگر ہم ان کے کہنے کے مطابق آسمان سے کاغذ میں لکھی ہوئی کتاب بھی اتاردیں اور یہ لوگ اس کتاب کو اپنے ہاتھوں سے چھو بھی لیں تب بھی ایمان نہ لائیں گے اور یہ کہیں گے کہ یہ تو کھلا جادو ہے اور یہ معاندین یہ بھی کہتے ہیں کہ آپ پر کوئی ایسا فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا جو ہمارے روبرو ہوکر آپ کی صداقت کی شہادت دے مطلب یہ تھا کہ جو فرشتے آپ پر اترتے ہیں وہ ہمیں نظر کیوں نہیں آتے اور ہمارے پاس آکر آپ کی نبوت کی تصدیق کیوں نہیں کرتے تاکہ ہم ان کو دیکھ کر اور انکی باتیں سن کر یقین کرلیتے جیسا کہ دوسری آیتوں میں ہے اوتاتی بااللہ والملائکۃ۔ اور لولا انزل علیہ ملک فیکون معہ نذیرا۔ اور لولا انزل علینا الملائکۃ۔ آیت۔ اللہ ان کے جواب میں فرماتے ہیں اور اگر ہم ان کی فرمائش کے مطابق اسی طرح کوئی فرشتہ اتارتے تو بات فیصل ہوجاتی یعنی فرشتہ کے آنے اور دیکھنے کے بعد بھی اگر تکذیب کرتے تو سب ایک ہی دفعہ میں ہلاک کردیے جاتے پھر انکو ایک پل کی بھی مہلت نہ دی جاتی کیونکہ سنت اللہ یہ ہے کہ فرمائشی معجزہ دیے جانے کے بعد مہلت نہیں دی جاتی ان کے دیکھتے ہی عالم آخرت کا نقشہ آنکھوں کے سامنے پھرجاتا ہے کماقال تعالی، یوم یرون الملائکۃ لابشری۔۔۔ الی۔۔ محجورا۔ آیت۔ خلاصہ کلام یہ کہ اگر ان کی یہ فرمائش پوری کردی جاتی تو یہ ضدی اور عنادی پھر بھی ایمان نہ لاتے اور تکذیب کرتے تو یک لخت سب ہلاک کردیے جاتے اور اللہ فی الحال ان کو ہلاک کرنا نہیں چاہتے اس لحاظ سے ان کی فرمائشوں کو پورا نہ کرنا بھی عین رحمت سمجھنا چاہیے کہ توبہ کے لیے وقت مل گیا اور اگر ہم کسی فرشتہ کو پیغمبر بنا کر بھیجتے تو البتہ کسی مرد ہی کی صورت میں بھیجتے تاکہ اس کی بات چیت سن سکیں اور اس سے نفع حاصل کرسکیں کیونکہ فرشتہ اگر اپنی اصلی صورت میں آتا تو بسبب کمال نورانیت اور کمال جلال و جمال یہ لوگ اس کے دیکھنے کی تاب نہ لاسکتے اس کے رعب اور ہیبت سے ان کا دم نکل جاتا یہ صرف حضرات انبیاء کرام کا ظرہے کہ اصلی صورت میں رویت کا تحمل کرسکتے ہیں عام لوگ تو ایک منٹ کے لیے بھی فرشتے کا اصلی صورت میں رویت کا تحمل نہیں کرسکتے لامحالہ اگر فرشتہ کو پیغمبر بنا کر بھیجتے تو آدمی ہی کی صورت میں بھیجتے تاکہ مجانس صوری کی بناء پر لوگ اس کی تعلیم وتلقین سے منتفع ہوسکیں اور اس صورت میں ہم ان کو اسی اشتباہ میں ڈال دیتے جس اشتباہ میں وہ اب پڑے ہوئے ہیں یعنی اس فرشتہ کو بشکل بشر دیکھ کر بھی کہتے کہ یہ تو آدمی ہے جس طرح نبی کی رسالت کا انکار اس بنائ پر کرتے ہیں کہ آپ بشر ہیں اسی طرح اگر فرشتہ کو بشکل بشر رسول بنا کر بھیجتے تو تب بھی یہی اعتراض کرتے اور وہی اشتباہ بحالہ باقی رہتا۔ تسلیہ نبی اکرم ﷺ یہاں تک کفار کے عناد اور اعراض اور تکذیب اور استہزاء کا ذکر کیا جس سے نبی ﷺ کو تکلیف ہوئی تھی اس لیے اب آئندہ آیت میں آپ کی تسلی کا مضمون بیان فرماتے ہیں اور اے نبی آپ ان کے استہزاء سے رنجیدہ اور ملول نہ ہوں البتہ تحقیق آپ سے پہلے بہت سے پیغمبروں کے ساتھ استہزاء اور تمسخر کیا گیا پس آگھیرا ان ہنسی کرنے والوں کو اس عذاب نے جس پر وہ ہنسا کرتے تھے اور اگر اس قہر اور عذاب کا انکار کریں تو آپ ان سے کہہ دیجئے کہ ذراملک میں پھر و پھر دیکھو کہ پیغمبروں کو جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا کہ سب تباہ اور برباد ہوئے یہی حشر ان کافروں کا ہوگا جو آپ کی ہنسی اڑاتے ہیں۔
Ayahs 6:12–18

قُلْ لِّمَنْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلْ لِّلّٰهِ١ؕ كَتَبَ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ١ؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:12 in the Quran reader

( ان سے) پوچھو کہ آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے کس کا ہے کہہ دو خدا کا۔ اس نے اپنی ذات (پاک) پر رحمت کو لازم کرلیا ہے۔ وہ تم سب کو قیامت کے دن جس میں کچھ بھی شک نہیں ضرور جمع کرے گا۔ جن لوگوں نے اپنے تئیں نقصان میں ڈال رکھا ہے وہ ایمان نہیں لاتے۔

وَ لَهٗ مَا سَكَنَ فِی الَّیْلِ وَ النَّهَارِ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 6:13 in the Quran reader

اور جو مخلوق رات اور دن میں بستی ہے سب اسی کی ہے اور وہ سنتا جانتا ہے۔

قُلْ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَتَّخِذُ وَلِیًّا فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ هُوَ یُطْعِمُ وَ لَا یُطْعَمُ١ؕ قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَسْلَمَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:14 in the Quran reader

کہو کیا میں خدا کو چھوڑ کر کسی اور کو مددگار بناؤں کہ (وہی تو) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی (سب کو) کھانا دیتا ہے اور خود کسی سے کھانا نہیں لیتا۔ (یہ بھی) کہہ دو کہ مجھے یہ حکم ہوا ہے کہ میں سب سے پہلے اسلام لانے والا ہوں اور یہ کہ تم (اے پیغمبر ﷺ مشرکوں میں نہ ہونا۔

قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 6:15 in the Quran reader

(یہ بھی) کہہ دو کہ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے دن کا عذاب کا خوف ہے۔

مَنْ یُّصْرَفْ عَنْهُ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَهٗ١ؕ وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ Open ayah 6:16 in the Quran reader

جس شخص سے اس روز عذاب ٹال دیا گیا اس پر خدا نے (بڑی) مہربانی فرمائی اور یہ کھلی کامیابی ہے۔

وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ بِخَیْرٍ فَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 6:17 in the Quran reader

اور اگر تم کو خدا کوئی سختی پہنچائے تو اس کے سوا اس کو کوئی دور کرنے والا نہیں اور اگر نعمت (وراحت) عطا کرے تو (کوئی اسکو روکنے والا نہیں) وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:18 in the Quran reader

اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے اور وہ دانا اور خبردار ہے۔

اثبات توحید۔ قال اللہ تعالی، قل لمن ما فی السماوات والارض۔۔۔ الی۔۔۔ الخبیر۔ ربط) ۔ گذشتہ آیت میں توحید کا بیان تھا اب پھر اس کی طرف عود فرماتے ہیں اور توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال کرتے ہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ تمام مکانیات اور تمام زمانیات سب اللہ ہی کی ملک ہیں قل لمن ما فی السماوات والارض سے ظرف مکان کی تمام مظر وفات کی ملکیت کو بیان کیا ہے مطلب یہ ہوا کہ سب کون ومکان اور زمین وزمان سب اسی کی ملک ہیں چناچہ فرماتے ہیں اے نبی کریم آپ ان معاندین سے بطور الزام واتمام حجت یہ پوچھیے کہ کس کی ملک ہیں جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے اول تو وہ خود ہی یہ جواب دیں گے کہ یہ سب اللہ کی ملک ہے۔ جس سے توحید ثابت ہوجائے گی جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے قل لمن الارض ومن فیھا ان کنتم تعلمون سیقولون للہ۔ آیت۔ اور اگر بالفرض وہ کسی خوف اور ڈر کی بناء پر یاشرم اور حیا کی بناء پر اس کا جواب نہ دیں تو آپ کہہ دیجئے کہ یہ سب اللہ ہی کی ملک ہے اور تمہارے بت کی چیز کے بھی مالک نہیں اور ان سے یہ بھی کہہ دیجئے کہ اللہ نے توبہ کرنے والوں کے لیے محض اپنے فضل وکرم سے اپنی ذات پر رحمت کو لکھ دیا یعنی لازم کرلیا ہے یہ نہیں کہ اس پر کسی کا سور اور دباؤ ہے وہ اپنی رحمت سے عقوبت میں جلدی نہیں کرتا اور توبہ اور انابت کو قبول کرتا ہے لہذا گر تم کفرو کرو اور شرک سے توبہ کرو گے اور اس کی طرف متوجہ ہوؤ گے تو وہ ارحم الراحمین تمہارے اگلے گناہ معاف کردے گا مطلب یہ ہے کہ جب توحید تمہارے اقرار سے ثابت ہوگئی اور حجت تم پر قائم ہوگی تو اس کا مقتضا یہ تھا کہ تم فورا ہلاک کردیے جاتے لیکن اللہ نے اپنے اوپر رحمت کو لازم کرلیا ہے اس لیے وہ عقوبت میں جلدی نہیں کرتا اللہ نے ایک تختی پر یہ لکھ کر میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے عرش پر آویزاں کردیا ہے غرض یہ کہ ان سرکشوں کو اور باوجود حجت پوری ہوجانے کے اللہ کے ساتھ ہمسر بنانے پر خدا تعالیٰ نے اپنی رحمت اور حلم کی وجہ سے اگرچہ دنیا میں سزا نہیں دی مگر اللہ نے قسم کھائی ہے کہ وہ تم سب کو روز قیامت کی طرف اٹھائے گا جس میں ذرہ برابر کوئی شک نہیں اور اس وقت حساب و کتاب کے بعد تم کو سزا دی جائے گی جن لوگوں نے شرک اختیار کرکے اپنی جانوں کو گھاٹے میں رکھا وہ ایمان نہیں لائیں گے کیونکہ ان کی تقدیر میں گھاٹا ہے جس سے وہ باہر نہیں نکل سکتے اور مزید اثبات توحید اور اتمام حجت کے لیے ان سے یہ کہہ دیجئے کہ اسی کی ملک میں ہے جو رات اور دن میں ساکن اور برقرار یعنی کل موجودات جن پر دن اور رات گذرتی ہے وہ سب اسی کی ملک میں ہے زمانہ اور زمانیت اسی کے احاطہ قدرت میں ہے۔ گذشتہ آیت میں یہ بتلایا کہ زمین اور آسمان یعنی ہر مکان اور ہر مکین اور تمام مکانیات کا وہی مالک ہے اور اس آیت میں یہ بتلایا کہ مکان کی طرح زمان لیل ونہار اور تمام اوقات اور تمام زمانیات بھی اسی کی مملوک ہیں اور اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں اور وہی ان باتوں کا سننے والا ہے اور ان کے دلوں اور حالات کا جاننے والا ہے اس آیت کا اور گذشتہ آیات کا قلم لمن ما فی السماوات والارض۔ کا حاصل یہ نکلا کہ مکان اور زمان اور تمام مکانیات اور زمانیات سب اسی کی ملک ہیں پھر اثبات توحید کے بعد ان سے یہ کہیے کہ کیا میں ایسے اللہ کے سوا کسی کو اپنا دوست اور معبود نہ ٹھہراؤں جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود اور کارساز ٹھہراؤں اور وہ اللہ ہی سب کو روزی دیتا ہے اور اس کو روزی نہیں دی جاتی یعنی وجود اور سامان بقاء میں سب اس کے محتاج ہیں اور وہ کسی کا محتاج نہیں پس ایسی ذات کو چھوڑ کر جو سب کو روزی دیتا ہے اور ادنی سے ادنی چیز میں کسی چیز کا وہ محتاج نہیں کسی اور کو اپنا ولی اور کارساز بنانا حماقت نہیں تو اور کیا ہے کماقال تعالی، قل افغیر اللہ تامرونی اعبد ایھا الجاہلون۔ آپ کہہ دیجئے کہ مجھ کو خدا کی طرف سے یہ حکم دیا گیا ہے کہ خدائے برحق کا جس کی صفات اوپر مذکور ہوئیں سب سے پہلا فرمانبردار بنوں کہ بلاشرکت غیر اس کے سامنے گردن ڈال دوں اور مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ تو ہرگز ہرگز مشرکوں میں سے نہ ہونا اے بنی آپ ان مشرکوں سے کہہ دیجئے کہ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو مجھ کو ایک بڑے دن کے عذاب میں گرفتا رہونے کا ڈر ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ نے مجھ کو یہ حکم دیا ہے کہ میں اس کا پہلا فرمانبردار بنوں اور مشرکوں کے گروہ میں شامل نہ ہوں اگر بالفرض میں اس کے حکم کی مخالفت کروں اور تمہارے کہنے سے تمہارا دین اختیار کرلوں تو اس صورت میں مجھے روز قیامت کے عذاب کا ڈر ہے قیامت کے دن کو بڑا دن اس لیے کہا گیا کہ اس کی مقدار پچاس ہزار برس کی ہوگی۔ ف) ۔ اس قسم کی آیات میں آپ پر رکھ کر دوسروں کو سنانا مقصود ہے یعنی بفرض محال اگر خدا کے کسی معصوم اور برگزیدہ بندہ سے بھی عصیان سرزد ہوجائے تو عذاب الٰہی کا اندیشہ ہے پھر کسی کو کب لائق ہے کہ کفر وشرک اور معصیت میں ملوث ہو کر عذاب الٰہی سے بےفکر اور مامون ہو کر بیٹھ جائے۔ جس شخص سے اس دن عذاب ہٹا دیا جائے پس اس پر اللہ نے بڑی ہی رحمت اور عنایت فرمائی اور یہی عذاب خداوندی سے نجات کھلی کامیابی ہے اور اے بندے اگر اللہ تجھ کو کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا کوئی اس کو تکلیف کا دور کرنے والا نہیں یعنی مرض اور قحط اور افلاس اور دیگر مصائب کو خدا ہی دور کرسکتا ہے اور کوئی نہیں کرسکتا اور اے بندے اگر خدا تجھ کو کوئی بھلائی پہنچائے تو اس کے لیے کوئی مشکل نہیں کیونکہ وہ ہر شی پر قادر ہے یعنی نفع ونقصان سب اسی کے ہاتھ میں ہے پس اس کے سوا کسی کو اپنا ولی اور کارساز نہ بناؤ عاجزوں کی خوشامد کرنے سے کیا فائدہ اور وہی غالب ہے اور اپنے بندوں پر سب بندے اس کے زیر حکم ہیں سب پر اسی کا زور چلتا ہے جو چاہتا ہے ان میں تصرف کرتا ہے کسی کی مجال نہیں کہ اس کے حکم کو رد کرسکے ہر شی اس کے سامنے مقہور اور مجبور ہے اس کی عظمت اور جلال اور علو اور قدرت کے سامنے سب کی گردنیں خم ہیں قاہر اس کو کہتے ہیں جس کو اپنے ارادہ پورا کرنے سے کوئی شی عاجزنہ کرسکے۔ ف) ۔ قاہر کے معنی غالب کے ہیں اور فوق کے معنی بلند اور برتر کے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی فوقیت حسی اور مکانی نہیں کیونکہ وہ مکان اور جہت سے بالا اور برتر ہے اس آیت میں فوقیت سے مراد فوقیت قہر اور غلبہ مراد ہے جیسا کہ فوق کل ذی علم علیم میں فوقیت شان اور فوقیت مرتبہ مراد ہے او وہی ہے حکمت والا خبردار اس کا کوئی تصرف و حکمت سے خالی نہیں اور وہ ہر چیز کو جانتا ہے اور اپنے علم کے مطابق ہرا یک کو جزاء اور سزا دے گا اور اس کی شان فوقیت اور قہر اور شان علم و حکمت کا مقتضی یہی ہے کہ اس کے سوا کسی کو اپنا ولی اور کارساز بنایاجائے مطلب یہ کہ الوہیت کے لیے یہ ضروری ہے کہ قدرت کاملہ اور قہرتام ہوکر اس پر کسی کو زور نہ چل سکتے اور علم عام اور محیط ہو اور ہر نفع اور ضرر کا مالک ہوا اور ایسی ذات والا صفات کو چھوڑ کر کسی کو معبود اور کارساز بنانا حماقت نہیں تو کیا ہے۔
Ayahs 6:19–21

قُلْ اَیُّ شَیْءٍ اَكْبَرُ شَهَادَةً١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ۫ شَهِیْدٌۢ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١۫ وَ اُوْحِیَ اِلَیَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَ مَنْۢ بَلَغَ١ؕ اَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُوْنَ اَنَّ مَعَ اللّٰهِ اٰلِهَةً اُخْرٰى١ؕ قُلْ لَّاۤ اَشْهَدُ١ۚ قُلْ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ اِنَّنِیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۘ Open ayah 6:19 in the Quran reader

ان سے پوچھو کہ سب سے بڑھ کر (قرین انصاف) کس کی شہادت ہے۔ کہہ دو کہ خدا ہی مجھ میں اور تم میں گواہ ہے۔ اور یہ قرآن مجھ پر اس لئے اتارا گیا ہے۔ کہ اس کے ذریعے سے تم کو اور جس شخص تک وہ پہنچ سکے اسکو آگاہ کردوں۔ کیا تم اس بات کی شہادت دیتے ہو کہ خدا کے ساتھ اور بھی معبود ہیں۔ (اے محمد ﷺ ! ) کہہ دو کہ میں تو (ایسی) شہادت نہیں دیتا کہہ دو کہ صرف وہی ایک معبود ہے اور جن کو تم لوگ شریک بناتے ہو میں ان سے بیزار ہوں۔

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ١ۘ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 6:20 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے ان (ہمارے پیغمبر ﷺ کو اس طرح پہنچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہنچانا کرتے ہیں جنہوں نے اپنے تئیں نقصان میں ڈال رکھا ہے۔ وہ ایمان نہیں لاتے۔

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:21 in the Quran reader

اور اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہے جس نے خدا پر جھوٹ افتراء کیا یا اس کی آیتوں کو جھُٹلایا۔ کچھ شک نہیں ظالم لوگ نجات نہیں پائیں گے۔

اثبات توحید و رسالت۔ قال اللہ تعالی، قل ای شئی اکبر شھادۃ۔۔۔۔ الی۔۔۔ الظالمون۔ ربط) ۔ گذشتہ آیات میں توحیدورسالت کو فردا فردا بیان فرمایا اب ان آیات میں توحید و رسالت کو مجتمعا بیان فرماتے ہیں مشرکین مکہ نے کہا اے محمد ہم کسی کو نہیں دیکھتے کہ جو آپ کو سچا جانے اور آپ کی نبوت کی شہادت دے اور ہم نے علماء یہود ونصاری سے بھی تیری بابت دریافت کیا انہوں نے بھی آپ کی نبوت کی شہادت نہیں دی اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ لوگ جو آپ کی نبوت و رسالت پر شہادت اور گواہی طلب کرتے ہیں آپ ان سے یہ کہہ دیجئے کہ علاوہ ازیں خدا تعالیٰ میری نبوت کا گواہ ہے جس سے بڑھ کر کوئی گواہ نہیں یہ قرآن کریم میری نبوت کا ناقابل تردید گواہ ہے نیز علماء اہل کتاب میری نبوت ایسا یقینی طور پر جانتے ہیں جیسا کہ وہ اپنے بیٹوں کو جانتے ہیں کہ یہ ہمارے بیٹے ہیں مگر حق پوشی کرتے ہیں اس لیے ایمان نہیں لاتے چناچہ فرماتے ہیں (اے نبی) آپ ان مشرکین مکہ سے جو آپ کو مفتری بتلاتے ہیں یہ پوچھیے کہ گواہی کے لحاظ سے کون سی چیز سب سے بڑھ کر ہے کہ اس کی گواہی رد نہ کی جائے اس سوال کے بعد ان کے جواب کا انتظار نہ کیجئے اور یہ کہہ دیجئے کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے اس لیے کہ اللہ سے بڑھ کر کس کی گواہی ہوسکتی ہے مطلب یہ ہے کہ اگر تم میری نبوت پر مقبول الشہادت گواہ چاہتے ہو تو وہ خدا ہے جس سے بڑھ کر گواہ نہیں اور اللہ کی شہادت اور گواہی یہ ہے کہ اس نے مجھ کو دلائل نبوت اور براہین رسالت دے کر بھیجا ہے اور من جملہ شواہد رسالت یہ ہے کہ میری طرف یہ قرآن بذریعہ وحی کے اتارا گیا ہے جو اللہ کا کلام ہے اور میری نبوت کا گواہ ہے اگر میں اللہ کا رسول نہ ہوتا تو وہ مجھ پر اپنا کلام نازل نہ کرتا اور قرآن کریم کا کلام الٰہی ہونا اس کے اعجاز سے عیاں ہے نیز یہ قرآن تمام علوم رشد وہدایت کا جامع ہے مجھ پر اس لیے نازل کیا گیا ہے کہ اس سے تم کو اور جس کو یہ پہنچے عذاب الٰہی سے ڈرواؤں کہ جو توحید اور رسالت کو نہ مانے گا اس پر اللہ کا عذاب نازل ہوگا کیا اس شہادت کبری کے بعد تم یہ گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے ساتھ اور بھی معبود ہیں آپ کہہ دیجئے کہ میں تو یہ گواہی نہیں دے سکتا آپ ببانگ دھل کہہ دیجئے کہ جزایں نیست کہ وہ معبود اکیلا ہے کوئی اس کا شریک نہیں اور میں بری اور بےزار ہوں اس چیز سے جس کو تم خدا کے ساتھ شریک کرتے ہو اور نبوت و رسالت کی شہادت اور گواہی کے بارے میں آپ ان سے یہ کہہ دیجئے کہ جن لوگوں کو ہم نے کتاب توریت وانجیل دی ہے وہ نبی کریم کو ایسا پہچانتے ہیں جیسا کہ وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے علماء یہود نصاری کو یقین کامل ہے کہ آپ بلاشبہ وہی نبی آخرالزمان ہیں جن کی انبیاء سابقین بشارت دیتے چلے آئے انہوں نے آپ کے چہرہ کو دیکھ کر آپ کو اس طرح پہچان لیا ہے جس طرح انسان اپنے بیٹے کی صورت دیکھ کر پہچان لیتا ہے کہ یہ میرا بیٹا ہے البتہ جو لوگ حاسد اور معاندین ہیں اور جنہوں نے اپنی جانوں کو خسارہ میں ڈالا اور وہ ایمان لاکر اپنا نقصان کررہے ہیں عقل کا مقتضی یہ ہے کہ حق پرا یمان لانا چاہیے ان لوگوں نے حق سے اعراض کرکے اپنی جانوں پر بڑا ہی ظلم کیا اور اپنے آپ کو خسارہ میں ڈالا اور اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا یا اس کی آیتوں کو جھٹلایا تحقیق بلاشبہ ظالم لوگ کبھی کامیاب نہیں ہوتے یہود اور نصاری اور مشرکین عرب طرح طرح سے خدائے وحدہ لاشریک پر جھوٹ باندھتے یہود اور نصاری یہ کہتے تھے کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں سوائے چند روز کے ہمیں آگ نہیں چھوئے گی اور عزیر اور مسیح خدا کے بیٹے ہیں اور مشرکین کہتے تھے کہ ہم بت اللہ کے شریک ہیں اللہ نے ہم کو ان کی عبادت کا حکم دیا ہے اور فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں اور اللہ نے سردار جنوں کی لڑکیوں سے شادی کی ہے اور اس نے بحیرہ اور سائبہ وغیرہ کو حرام کیا ہے وغیرہ وغیرہ غرض یہ کہ اور اس قسم کے صد ہا بہتان اللہ پر باندھتے تھے اور آیات قرآنیہ اور دلائل نبوت اور براہین رسالت کی تکذیب کرتے تھے اور سب کو جھٹلاتے تھے اللہ نے ان سب فرقوں کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگ بڑے ظالم ہیں کہ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور آیات خداوندی کو جھٹلاتے ہیں ان ظالموں کو عذاب الٰہی سے کبھی رستگاری نہ ہوگی۔
Ayahs 6:22–32

وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَیْنَ شُرَكَآؤُكُمُ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 6:22 in the Quran reader

اور جس دن ہم سب لوگوں کو جمع کریں گے پھر مشرکوں سے پوچھیں گے کہ (آج) وہ تمہارے شریک کہاں ہیں جن کا تمہیں دعویٰ تھا ؟

ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا وَ اللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:23 in the Quran reader

تو ان سے کچھ عذر نہ بن پڑے گا (اور) بجز اسکے (کچھ چارہ نہ ہوگا) کہ کہیں خدا کی قسم جو ہمارا پروردگار ہے ہم شریک نہیں بناتے تھے۔

اُنْظُرْ كَیْفَ كَذَبُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:24 in the Quran reader

دیکھو انہوں نے اپنے اوپر کیسا جھوٹ بولا اور کو کچھ یہ افتراء کیا کرتے تھے سب ان سے جاتا رہا۔

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ وَ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْكَ یُجَادِلُوْنَكَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 6:25 in the Quran reader

اور ان میں بعض ایسے ہیں کہ تمہاری (باتوں کی) طرف کان رکھتے ہیں اور ہم نے ان کے دلوں پر تو پردے ڈال دیئے ہیں انکو سمجھ نہ سکیں اور کانوں میں ثقل پیدا کردیا ہے (کہ سن نہ سکیں) اور اگر یہ تمام نشانیاں بھی دیکھ لی تب بھی تو ان پر ایمان نہ لائیں۔ یہاں تک کہ جب تمہارے پاس تم سے بحث کرنے کو آتے ہیں تو جو کافر ہیں کہتے ہیں یہ (قرآن) اور کچھ بھی نہیں صرف پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔

وَ هُمْ یَنْهَوْنَ عَنْهُ وَ یَنْئَوْنَ عَنْهُ١ۚ وَ اِنْ یُّهْلِكُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 6:26 in the Quran reader

وہ اس سے (اوروں کو بھی) روکتے ہیں اور خود بھی پرے رہتے ہیں۔ مگر (ان باتوں سے) اپنے آپ ہی کو ہلاک کرتے ہیں اور (اس سے) بیخبر ہیں

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلَى النَّارِ فَقَالُوْا یٰلَیْتَنَا نُرَدُّ وَ لَا نُكَذِّبَ بِاٰیٰتِ رَبِّنَا وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 6:27 in the Quran reader

کاش تم (انکو اس وقت) دیکھو جب یہ دوزخ کے کنارے کھڑے کئے جائیں گے اور کہیں گے کہ اسے کاش ہم پھر (دنیا میں) لوٹا دیئے جائیں تاکہ اپنے پروردگار کی آیتوں کی تکذیب نہ کریں اور مومن ہوجائیں۔

بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُوْا یُخْفُوْنَ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ لَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 6:28 in the Quran reader

ہاں یہ جو کچھ پہلے چھپایا کرتے تھے (آج) ان پر ظاہر ہوگیا ہے اور اگر یہ (دنیا میں) لوٹائے بھی جائیں تو جن (کاموں سے ان) کو منع کیا گیا تھا وہی پھر کرنے لگیں۔ کچھ شک نہیں کہ یہ جھوٹے ہیں۔

وَ قَالُوْۤا اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ Open ayah 6:29 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ ہماری جو دنیا کی زندگی ہے بس یہی (زندگی) ہے اور ہم (مرنے کے بعد) پھر زندہ نہیں کئے جائیں گے۔

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ؕ قَالَ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا١ؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 6:30 in the Quran reader

اور کاش تم (ان کو اسوقت) دیکھو جب یہ اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے کئے جائینگے اور وہ فرمائے گا کیا یہ (دوبارہ زندہ ہونا) برحق نہیں تو کہیں گے کیوں نہیں پروردگار کی قسم (بالکل برحق ہے) خدا فرمائے گا اب کفر کے بدلے (جو دنیا میں کرتے تھے) عذاب کے مزے چکھو۔

قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُوْا یٰحَسْرَتَنَا عَلٰى مَا فَرَّطْنَا فِیْهَا١ۙ وَ هُمْ یَحْمِلُوْنَ اَوْزَارَهُمْ عَلٰى ظُهُوْرِهِمْ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ Open ayah 6:31 in the Quran reader

جن لوگوں نے خدا کے روبرو کھڑے ہونے کو جھوٹ سمجھا وہ گھاٹے میں آگئے۔ یہاں تک کہ جب ان پر قیامت ناگہاں آموجود ہوگی تو بول اٹھیں گے کہ (ہائے) اس تقصیر پر افسوس ہے جو ہم نے قیامت کے بارے میں کی۔ اور وہ اپنے (اعمال کے) بوجھ اپنی پیٹھوں پر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ دیکھو جو بوجھ یہ اٹھا رہے ہیں بہت برا ہے۔

وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ لَلدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 6:32 in the Quran reader

اور دنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور مشغلہ ہے۔ اور بہت اچھا گھر تو آخرت کا گھر ہے (یعنی) ان کے لئے جو (خدا سے) ڈرتے ہیں کیا تم سمجھتے نہیں ؟

بیان انجام وحال مجادلین ومعاندین۔ قال اللہ تعالی، ویوم نحشرھم جمیعا۔۔۔۔ الی۔۔۔ افلاتعقلون۔ ربط) ۔ گذشتہ آیت میں مشرکین کانہ فلاح مذکور تھا اب ان آیات میں مشرکین مکہ کے جدال اور عناد کا کچھ حال بیان کرتے ہیں یہ بتلاتے ہیں کہ قیامت کے دن ان ظالموں کو اپنی امیدوں کے خلاف ایسی درد انگیز حسرتیں دیکھنی پڑیں گی جو بیان سے باہر ہیں چناچہ فرماتے ہیں اور یاد کرو اس دن کو کہ جب ہم سب عابدوں اور معبودوں کو میدان حشر میں جمع کریں گے اور پھر مشرکین سے بطور توبیخ وسرزنش یہ کہیں گے کہ تمہارے وہ شریک کہاں ہیں جن کے متعلق تم یہ دعوی کرتے تھے کہ وہ خدا کے شریک ہیں جن کو تم اپنا مددگار اور کارساز سمجھتے تھے آج ایسی سختی اور مصیبت کے وقت وہ کہاں چلے گئے اپنے ان شرکاء کو بلاؤ تاکہ تمہاری سفارش کریں پھر ان کا عذر وار بہانہ اس کے سوا کچھ نہ ہوگا کہ یہ کہیں گے کہ قسم ہے اللہ اپنے پروردگار کی کہ ہم دنیا میں مشرک نہ تھے قیامت کے دن مشرکین جب اپنے لیے عذاب اور توحید کے لیے نجات کو دیکھیں گے تو اس وقت شرک سے نفرت اور بےزاری ظاہر کریں گے اور اپنے شرک کو چھپانے کے لیے اللہ کی جھوٹی قسمیں کھائیں گے کہ ہم مشرک نہ تھے اور ہم نے دنیا میں کوئی شرک نہیں کیا۔ ف) ۔ فتنہ کا ترجمہ ہم نے عذر اور بہانہ سے کیا ہے ابواسحاق زجاج یہ فرماتے ہیں کہ فتنہ کے اصل معنی کسی پر شیفتہ اور فریفتہ ہونے کے ہیں پس آیت کا مطلب یہ ہے کہ مشرک جو اپنے بتوں پر اس قدر شیفتہ اور فریفتہ ہیں اس کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ قیامت کے دن وہ اپنے ان محبوبوں سے بری اور بےزار ہوجائیں گے اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص کسی محبوب پر عاشق ہو پھر جب اس کو اس عشق میں کوئی مصیبت پیش آئے تو اس سے بےزار ہوجائے اس پر وہ محبوب یا کوئی دوسرا شخص اس سے یہ کہے کہ بس تیرا عشق اس بےزاری اور نفرت سے زیادہ کچھ نہ تھا۔ (دیکھو تفسیر قرطبی ص 401 ج 6) ۔ دیکھو تو سہی کہ ان لوگوں نے اپنی جانوں پر کیسا سفید جھوٹ بالا جن کی ساری عمر پرستش کرتے رہے آج یک لخت ان سے بری اور بےزار ہوگئے اور ان کے معبود بنانے کا صاف انکار کردیا اور دیکھو تو سہی کہ وہ جھوٹے اور من گھڑت معبود ان سے کیسے غائب ہوئے کہ کوئی ان کے کام نہ آیا چناچہ فرماتے ہیں اور ان مشرکین سے بعض وہ ہیں جو آپ کے قرآن پڑھنے کے وقت آپ کی طرف کان لگاتے ہیں اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ ایک مرتبہ ابوسفیان اور ابوجہل اور ولید بن مغیرہ اور نضر بن حارث اور عتبہ اور شیبہ پسران ربیعہ اور حارث بن عامر اور ابی بن خلف اور امیہ بن خلف نبی کے پاس جمع ہوئے نبی اس وقت قرآن پڑھ رہے تھے ان لوگوں نے آپ کا قرآن سنا پھر سب نے نضر بن حارث سے پوچھا کہ اے ابوقتیلہ کچھ سمجھ میں آتا ہے کہ محمد کیا کہتے ہیں نضر نے کہا میں نہیں جانتا کہ کیا کہتے ہیں اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کہہ سکتا کہ وہ اپنی زبان کو ہلاتے ہیں اور اگلے لوگوں کی کہانیاں بیان کرتے ہیں جیسے تمہیں گزشتہ لوگوں (یعنی رستم اور اسفند یار اور اہل فارس کے قصے سناتا ہوں) ابوسفیا نے کہا میرے خیال میں اس کی بعض باتیں سچی معلوم ہوتی ہیں ابوجہل نے کہا ہرگز نہیں تو اس کی کسی بات کے سچا ہونے کا اقرار نہ کر ہمیں مرنا قبول ہے مگر اس پر ایمان لانا قبول نہیں اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی (روح المعانی وغیرہ) مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اگرچہ آپ کا قرآن سنتے ہیں جس کے دلائل اعجاز اور اسرار بلاغت آفتاب کی طرح روشن ہیں مگر دل چونکہ عناد سے لبریز ہیں اس لیے قرآن کا سننا ان کو سود مند نہیں ہوتا اور ان کے اسی عناد اور سرکشی کی وجہ سے ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے ہیں تاکہ وہ اس کو سمجھ نہ سکیں اور ان کے کانوں میں ڈاٹ لگادی ہے یعنی اللہ نے ان کے دلوں سے سمجھ کو چھین لیا ہے اور حق کے سننے سے ان کے کانوں کو بہرا کردیا ہے وہ قرآن کے اعجاز اور اس کی خوبیوں کا ادراک نہیں کرسکتے اور ان لوگوں کے عناد اور سرکشی کا یہ حال ہوگیا ہے کہ یہ لوگ اگر ساری نشانیاں اور تمام معجزات کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں تب بھی ان پر یقین نہ کریں اور ان کے جادو ہونے کا حیلہ بہانہ نکال کھڑا کریں اور اس عناد کی نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ جب یہ لوگ آپ کے پاس جھگڑنے کے لیے آتے ہیں تو یہ کافر یہ کہتے ہیں کہ یہ قرآن تو کچھ بھی نہیں صرف پہلے لوگوں کے قصے اور داستانیں ہیں جس طرح ہم رستم اور اسفند یار کے قصے سناتے ہیں اسی طرح قرآن میں قوم عاد اور ثمود کے قصے ہیں یہ کوئی اعجاز نہیں اور نہ دلیل نبوت ہے اور تمام اہل ملل اس قسم کی باتیں اور قصے بیان کرتے چلے آئے ہیں اور یہ کافر لوگ قرآن کے سننے اور اس پر ایمان لانے اوروں کو منع کرتے ہیں اور خود بھی اس سے دور رہتے ہیں یعنی خود بھی گمراہ ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں اور وہ اس عمل سے صرف اپنی ہی جانوں کو ہلاک اور تباہ کررہے ہیں اللہ اور اس کے رسول کا کوئی نقصان نہیں نور حق اور نور ہدایت ظاہر اور کامل ہو کر رہے گا لیظہرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون۔ آیت۔ اور یہ سمجھتے بھی نہیں کہ کفر کرکے اپنا ہی نقصان کررہے ہیں اور اے نبی کریم کاش آپ اس وقت کو دیکھیں جب یہ کافر دوزخ پر کھڑے کیے جائیں گے تو اس وقت نہایت حسرت سے یہ کہیں گے کہ کاش ہم دنیا میں لوٹا دیے جاویں اور دنیا میں واپسی کے بعد ہم اپنے پروردگار کی آیتوں کو نہ جھٹلائیں اور ایمان لانے الوں میں سے ہوجائیں گے تو اس وقت نہایت حسرت سے یہ کہیں گے کہ کاش ہم دنیا میں لوٹا دیے جاویں اور دنیا میں واپسی کے بعد ہم اپنے پروردگار کی آیتوں کو نہ جھٹلائیں اور ایمان لانے اولوں میں سے ہوجائیں شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں کہ یعنی دوزخ کے کنارہ پر پہنچ کر حکم ہوگا کہ ٹھہرو تو کافروں کو توقع پڑے گی کہ شاید پھر ہم کو دنیا میں بھیجیں تو اب کی بار کفر نہ کریں ایمان لاویں سو اللہ فرماتا ہے اس واسطے انکو نہیں ٹھہرایا بلکہ اس تدبیر سے ان کے منہ سے اقرار کروایا کہ ہم نے کفر کیا تھا حالانکہ پہلے منکر ہوئے تھے کہ ہم شریک نہ کرتے تھے اور پھر بھیجنا ان کو عبث ہے آگے اللہ فرماتے ہیں کہ ان کی یہ تمنا اور یہ وعدہ کہ اگر ہم دوبارہ دنیا میں لوٹا دیے جائیں تو ایمان لانے والوں سے ہوجائیں گے ان کی یہ تمنا اور یہ وعدہ شوق اور رغبت اور صدق دل سے لانے والوں سے ہوجائیں گے ان کی یہ تمنا اور یہ وعدہ شوق اور رغبت اور صدق دل سے نہیں بلکہ اس وجہ سے ہے کہ اب ان پر وہ چیز ظاہر ہوگئی جس کو وہ پہلے سے چھپاتے تھے یعنی وہ اعمال شنیعہ جو چھپ کر کرتے تھے ان کا راز فاش ہوگیا اور ابھی ابھی جو واللہ ربنا ما کنا مشرکین کہہ چکے تھے اس جھوٹ کی قلعی کھل گئی اور جس عذاب کے منکر تھے وہ آنکھوں کے سامنے آگیا اس لیے اب چار ناچار محض جان بچانے کے لیے دوبارہ دنیا میں واپس جانے کی تمنا کرنے لگے اور یہ بھی جھوٹ ہے کہ ہم دنیا میں واپس ہو کر پکے ایمان دار بن جائیں گے اور ہرگز آیات الٰہی کی تکذیب نہ کریں گ یہ اشقیاء بالفرض اگر دنیا میں لوٹا دیے جائیں تو پھر وہی کام کریں گے جس سے ان کو منع کیا گیا اور بیشک وہ اپنے اس قول میں جھوٹے ہیں کفر اور تکذیب اور بدی اور شر ارت ان کے خمیر میں داخل ہے جب مصیبت ان کو آکر گھیر لیتی ہے تو ایمان کا وعدہ کرنے لگتے ہیں اور چند روز کے بعد وہ سارے عہد و پیمان فراموش کردیتے ہیں کان لم یدعنا الی ضرمسہ۔ اور یہ لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ سوائے اس دنیاوی زندگانی کے اور کوئی ہماری زندگی میں نہیں اور ہم دوبارہ زندہ نہیں کیے جائیں گے وہ یہی دنیا ہے خوب مزے اڑا لو، یہ لوگ حلال و حرام کی تقسیم کے قائل نہیں اور نہ آخرت کے قائل ہیں لامذہب اور دھری لوگوں کا یہی خیال ہے کہ یہ کارخانہ عالم باقتضاء مادہ طبیعت چل رہا ہے یہ لوگ نہ کسی حلال و حرام کے قائل ہیں اور نہ کسی جزاء وسزا کے قائل ہیں اللہ فرماتے ہیں کہ یہ ساری باتیں یہیں ہیں اور جب قیامت آجائے گی اور حقیقت آنکھوں کے سامنے آجائے گی اس وقت عجب حال ہوگا چناچہ فرماتے ہیں اور اگر آپ اس وقت کا مشاہدہ کریں جس وقت یہ لوگ باز پرس اور جواب دہی کے لیے اپنے رب کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے تو آپ عجب منظر دیکھیں گے اللہ ان کو دوبارہ زندہ کرکے ان سے پوچھا گا کہ کیا موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونا جس کے تم دنیا میں منکر تھے حق نہیں کہیں گے کیوں نہیں قسم ہے ہمارے رب کی ضرور حق ہے اللہ فرمائیں گے پس چکھو عذاب کا مزہ بدلے میں اس کے جس کا تم کفر کرتے تھے یعنی تم نے خود قیامت کے حق ہونے کا اقرار کرلیا جس کے تم دنیا میں منکر تھے اب تم اس کفر کا مزہ چکھو اس کے بعد ان کو دوزخ میں بھیج دیا جائے گا تحقیق خراب اور برباد ہوئے وہ لوگ جنہوں نے اللہ کے سامنے پیش ہونے کو جھٹلایا یعنی جنہوں نے اللہ کے سامنے حساب کے لیے پیش ہونے کا انکار کیا یہاں تک کہ جب ان پر قیامت ناگہانی آکھڑی ہوئی تو اس وقت یہ کہیں گے کہ ہائے افسوس ہماری کوتاہی پر جو ہم نے قیامت کے بارے میں کی اور بےدھڑک ہو کر گناہ کیے جس کی اب کوئی تلافی نہیں اور یہ لوگ اپنے گناہوں کے بوجھ کو اپنی پیٹھوں پر لادے ہوئے ہوں گے جس سے پشت جھکی ہوئی ہوگی آگاہ ہوجاؤ وہ بہت ہی برا بوجھ ہے جو اٹھائے ہوئے ہوں گے اور بلاشبہ ظاہر ہے کہ کفر اور معصیت کے بوجھ سے بڑھ کر کون سابوجھ اور بڑا ہوسکتا ہے اور اس مصیبت کی اصل وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ سمجھے ہوئے ہیں کہ اس دنیاوی زندگی کے سوا کوئی زندگی نہیں جیسا کہ گذرا ہی بالکل غلط ہے اور حقیقت اس کے برعکس ہے یہ دنیاوی زندگی کچھ نہیں مگر چند روز کھیل اور دل بہلانا ہے اور کھیل اور تماشہ پر فریفتہ ہونا نابالغوں اور بےعقل اور بےشعور بچوں کا کام ہے اور البتہ دارآخرت وہ دار بقاء اور دوام ہے سو وہ بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو اللہ سے ڈرتے ہیں اور لہو ولعب سے بچتے ہیں کیا تم کو سمجھ نہیں کہ حیات باقیہ کے مقابلہ میں لہو ولعب کو ترجیح دیتے ہو مرد بنو حقیقی منافع کی فکر کرو بچوں اور نابالغوں کی طرح کھیل اور تماشہ پر کیوں مفتون بنے ہوئے ہو۔ خلق اطفالند جز مست خدا۔۔۔ نیست بالغ جزرھیدہ از ہوا۔
Ayahs 6:33–39

قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَیَحْزُنُكَ الَّذِیْ یَقُوْلُوْنَ فَاِنَّهُمْ لَا یُكَذِّبُوْنَكَ وَ لٰكِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 6:33 in the Quran reader

ہم کو معلوم ہے کہ ان (کافروں) کی باتیں تمہیں رنج پہنچاتی ہیں (مگر) یہ تمہاری تکذیب نہیں کرتے بلکہ ظالم خدا کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں۔

وَ لَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰى مَا كُذِّبُوْا وَ اُوْذُوْا حَتّٰۤى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا١ۚ وَ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَكَ مِنْ نَّبَاِی الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 6:34 in the Quran reader

اور تم سے پہلے بھی پیغمبر جھٹلائے جاتے رہے تو وہ تکذیب اور ایذاء پر صبر کرتے رہے۔ یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد پہنچتی رہی۔ اور خدا کی باتوں کو کوئی بھی بدلنے والا نہیں۔ اور تم کو پیغمبروں (کے احوال) کی خبریں پہنچ چکی ہیں (تو تم بھی صبر سے کام لو)

وَ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكَ اِعْرَاضُهُمْ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغِیَ نَفَقًا فِی الْاَرْضِ اَوْ سُلَّمًا فِی السَّمَآءِ فَتَاْتِیَهُمْ بِاٰیَةٍ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدٰى فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 6:35 in the Quran reader

اور اگر ان کی روگردانی تم پر شاق گزرتی ہے تو اگر طاقت ہو تو زمین میں کوئی سرنگ ڈھونڈھ نکالو یا آسمان میں سیڑھی (تلاش کرو) پھر ان کے پاس کوئی معجزہ لاؤ۔ اور اگر خدا چاہتا تو سب کو ہدایت پر جمع کردیتا۔ پس تم ہرگز نادانوں میں نہ ہونا۔

اِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُوْنَ١ؔؕ وَ الْمَوْتٰى یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ ثُمَّ اِلَیْهِ یُرْجَعُوْنَؐ Open ayah 6:36 in the Quran reader

بات یہ ہے کہ (حق کو) قبول وہی کرتے ہیں جو سنتے بھی ہیں اور مردوں کو تو خدا (قیامت ہی کو) اٹھائے گا۔ پھر اسی کی طرف لوٹ کر جائیں گے۔

وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ یُّنَزِّلَ اٰیَةً وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 6:37 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ ان پر ان کے پروردگار کے پاس کے کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوئی ؟ کہہ دو کہ خدا نشانی اتار نے پر قادر ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا طٰٓئِرٍ یَّطِیْرُ بِجَنَاحَیْهِ اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ١ؕ مَا فَرَّطْنَا فِی الْكِتٰبِ مِنْ شَیْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ یُحْشَرُوْنَ Open ayah 6:38 in the Quran reader

اور زمین میں جو چلنے پھرنے والا (حیوان) یا دو پروں سے اڑنے والا جانور ہے انکی بھی تم لوگوں کی طرح جماعتیں ہیں۔ ہم نے کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں کسی چیز (کے لکھنے) میں کوتاہی نہیں کی۔ پھر سب اپنے پروردگار کی طرف جمع کئے جائینگے۔

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا صُمٌّ وَّ بُكْمٌ فِی الظُّلُمٰتِ١ؕ مَنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یُضْلِلْهُ١ؕ وَ مَنْ یَّشَاْ یَجْعَلْهُ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 6:39 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ بہرے اور گونگے ہیں (اسکے علاوہ) اندھیرے میں (پڑے ہوئے) جس کو خدا چاہے گمراہ کردے اور جسے چاہے سیدھے راستے پر چلا دے۔

تسلی نبی اکرم ﷺ وتلقین صبر۔ قال اللہ تعالی، قد نعلم انہ۔۔۔۔ الی۔۔۔ مستقیم۔ ربط) ۔ اوپر کی آیتوں میں منکروں کے انکار اور تکذیب کا بیان تھا جس سے نبی کو بمقتضائے شفقت ورافت صدمہ اور رنج ہوتا تھا کماقال تعالی، لعلک باخع نفسک علی۔۔۔ الی۔۔۔ اسفا، وقال تعالی، فلاتذہب نفسک علیھم حسرات۔ آیت۔ لہذا اللہ جل شانہ ان آیات میں نبی کی تسلی اور تشفی فرماتے ہیں کہ اے نبی آپ ان لوگوں کی تکذیب سے رنجیدہ اور ملول نہ ہو یہ تکذیب کرنے والے آپ کی تکذیب کررہے ہیں بلکہ فی الحقیقت اللہ کی تکذیب کررہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو جھٹلا رہے ہیں خدا تعالیٰ خود ہی ان کو سمجھ لے گا کہ آپ فکر میں نہ پڑیں اور آپ کو تو انبیاء سابقین کے حالات بذریعہ وحی معلوم ہوچکے ہیں کہ انہوں نے اپنی قوم کی تکذیب پر کیسا صبر کیا بالاآخر اللہ نے ان کو غالب کردیا اور اللہ نے ان سے جو فتح ونصرت کا وعدہ کیا تھا وہ پورا کیا کما قال اللہ تعالیٰ کتب اللہ لاغلبن انا ورسلی۔۔۔ عزیز۔ وقال تعالی، ولقد سبقت کلتنا لعبادناالمرسلین۔۔۔ الی۔۔۔ الغالبون۔ آیت۔ اسی طرح آپ بھی ان کی تکذیب پر صبر کیجئے اللہ آپ کو ان پر غالب کرے گا اور فتح ونصرت کے خدا تعالیٰ نے جو آپ سے وعدے کیے ہیں وہ ایک ایک کرکے پورے ہوں گے ابوجہل نے ایک مرتبہ نبی سے یہ پوچھا کہ میں آپ کو جھوٹا نہیں سمجھتا بلکہ ان باتوں کو غلط سمجھتا ہوں جو آپ بیان کرتے ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی (تفسیر قرطبی ص 416 ج 6 تفسیر ابن کثیر) ۔ تحقیق ہم کو یہ بات خوب معلوم ہے کہ تجھ کو وہ باتیں غم میں ڈالتی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ سو لوگ حقیقت میں آپ کو نہیں جھٹلاتے لیکن یہ ظالم اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں ان کی جنگ درحقیقت اللہ کے ساتھ ہے آپ ان ظالموں کا معاملہ اللہ کے سپرد کرکے بےفکر ہوجائیں خدا خود ہی ان کو سمجھ لے گا کہ اور اگر کسی درجہ میں آپ کی بھی تکذیب ہے تو آپ کی یہ تکذیب کوئی نئی بات نہیں البتہ تحقیق آپ سے پہلے بہت سے رسولوں کی تکذیب کی گئی اور طرح طرح سے ان کو ایذائیں پہنچائی گئیں پس انہوں نے اپنی تکذیب اور ایذاؤں پر صبر کیا تھا یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد پہنچی حالانکہ وہ بےسروسامان تھے اور اللہ کی باتوں یعنی اس کے وعدوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور اللہ اس پر قادر ہے کہ قلیل کو کثیر پر غالب کرے اور اے نبی بیشک تیرے پاس پیغمبروں کی بعض خبریں پہنچ چکی ہیں جن میں ان کے صبر اور استقلال کا حال بھی مذکور ہے پس تو ان سے اپنی تسلی کر اور یقین رکھ کہ جس طرح پہلے نبیوں کے پاس ان کے جھٹلائے اور ستائے جانے کے بعد ہماری مدد پہنچی اسی طرح ہماری مدد تیرے پاس پہنچے گی اور تو کامیاب ہوگا اور تیرے جھٹلانے والے ہلاک ہوں گے اور اگر آپ پر ان کا اسلام سے اعراض کرنا گراں اور بھاری ہے اور آپ کی تمنا اور خواہش یہ ہے کہ کسی نہ کسی طرح یہ لوگ حق کو قبول کرلیں اگر آپ سے یہ ہوسکتا ہے کہ زمین میں کوئی سرنگ ڈھونڈ نکالیں یا آسمان میں جانے کے لیے کوئی سیڑھی تلاش کریں پھر وہاں سے ان کی فرمائش کے مطابق کوئی معجزہ اور نشانی ان کے پاس لے آویں تو گذرئیے اور ان کی فرمائش کے مطابق زمین و آسمان میں سے کوئی نشانی لاکر ان کو دکھلاسکتے ہو تو دکھلا دیجئے یہ لوگ پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے وان یروکل ایۃ لایومنو بھا۔ آیت۔ اس لیے ان کا معاملہ خدا کے سپرد کردیجئے مقصود اس سے آپ کو ان کے ایمان سے ناامید کرنا ہے اور آپ کو تسلی دینا ہے کہ آپ ان سے اعراض اور تکذیب سے رنجیدہ نہ ہوں اللہ کو ان کی ہدایت منظور نہیں اور انکے ایمان نہ لانے میں تکوینی طور پر اللہ کی حکمتیں ہیں جن کے ادراک سے عقل قاصر ہے۔ کفار کا مطالبہ یہ تھا کہ اگر یہ نبی ہیں تو ان کے ساتھ ہمیشہ ایسی نشانی رہنی چاہیے جسے دیکھ کر ہر کوئی یقین کرلے اور ایمان لانے پر مجبور ہوجائے سو شاید بمقتضائے شفقت حضور پرنور کا دل بھی چاہا تو تادیب وتنبیہ کے لیے اللہ نے فرمایا کہ تکوینی اور تقدیری امور میں اللہ کی مرضی کے تابع رہو اور اگر اللہ کو یہ منظور ہوتا کہ سب ایمان لے آئیں تو بن نشانی سب کے دل پھیر دیتا اور سب کو ہدایت پر جمع کردیتا اور اگر تکوینی اور تقدیری طور پر اللہ یہ چاہتا کہ سب ایمان لے آئیں تو سب کو شروع ہی سے بغیر نشانیوں کے ہدایت پر جمع کردیتا مگر اللہ کو سب کی ہدایت منظور نہیں۔ پس تو نادانوں میں سے مت ہو یعنی ان بدبختوں کے ایمان کی فکر میں مت پڑ ایسے سنگ دلوں کے ایمان اور ہدایت کی فکر میں پڑنا نادانی ہے مقصود اس سے آپ کی تادیب ہے کہ شفقت اور ایمان وہدایت کی حرص میں مبالغہ نہ کریں جزایں نیست حقیقت یہ ہے کہ حق کو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو سنتے ہیں یعنی جو زندہ ہیں اور حق کے طالب ہیں ورنہ جو مردہ دل ہیں وہ کب کسی کی مانتے ہیں اور یہ معاندین تو فی الحال حکما مردے ہیں اور ایک روز حقیقت میں مردے ہوں گے اور قیامت کے دن اللہ سب مردوں کو زندہ کرکے اٹھائے گا پھر وہ سب اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے اور اس وقت ان کو ان کے اعراض اور تکذیب کی سزا ملے گی شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی سب سے توقع نہ رکھو کہ مانیں جن کے دل میں اللہ نے کان نہیں دیے وہ سنتے نہیں مگر یہ کافر کہ مثال مردے کے ہیں قیامت میں دیکھ لیں گے اور یقین کرلیں گے اور یہ معاندین یہ کہتے ہیں کہ اس مدعی رسالت پر اس پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتاری گئی نشانی سے وہ خاص نشانیاں مراد ہیں جن کی وہ فرمائش کرتے تھے جیسے فرشتے کا اترنا وغیرہ وغیرہ ورنہ یوں تو آپ سے بہت ساری نشانیاں دیکھتے رہتے تھے جن کو جادو کہہ کر ٹلا دیتے تھے آپ کہہ دیجئے کہ بیشک اللہ اس پر قادر ہے کہ تمہاری فرمائش کے مطابق کوئی نشانی اتاردے مگر اس کی حکمت اور مصلحت اس کو مقتضی نہیں لیکن ان میں کے اکثر آدمی اس کی مصلحت کو جانتے نہیں اور نہ ان کو اس کے انجام کی خبر ہے وہ یہ نہیں جانتے کہ نشانی کا اترنا سبب عذاب اور ہلاکت کا ہے یعنی فرمائشی نشان کا انجام یہ ہے کہ اگر اس کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائے تو سب ہلاک کردیے جائیں گے کماقال تعالیٰ ولو انزلنا ملکالقضی الامر۔ آیت۔ طالب حق کی ہدایت کے لیے وہ نشانات بہت کافی ہیں جو آپ سے ظاہر ہوچکے ہیں۔ ربط) ۔ گذشتہ آیت والموتی تبعثھم اللہ ثم الیہ یرجعون۔ آیت۔ میں قیامت کے دن مردوں کے بعث اور دوبارہ زندہ ہونے کا بیان فرمایا تھا اب آئندہ آیت میں اس کی تاکید کے لیے دواب اور طیور کے بعث اور حشر کو بیان فرمایا ہے کہ بعث ایک ایسا امر ہے کہ قیامت کے دن جانور جو کہ غیر مکلف ہیں وہ بھی زندہ کیے جائیں گے اور ایک جانور کا دوسرے جانور سے قصاص لیاجائے گا تو انسان تو احکام الٰہیہ کا مکلف ہے اور مورد جزاء وسزا ہے اس کا حشر کیوں نہ ہوگا چناچہ فرماتے ہیں اور نہیں ہے کوئی جانور جو زمین میں چلتا پھرتا ہو اور نہیں ہے کوئی پرندہ کہ جو اپنے دوبازوں سے اڑتا ہو مگر وہ بھی تمہاری طرح امتیں اور جماعتیں اور مختلف گروہ ہیں پیدائش رزق اور موت اور حشر ونشر اور قصاص میں تمہارے مماثل ہیں حشر اجساد میں تمام حیوانات انسان کے مشابہ ہیں ہم نے لوح محفوظ میں کوئی بغیر لکھے نہیں چھوڑی یعنی ہر چیز ہمارے علم میں ہے اور جب یہ بات ہے تو ہر چیز کا حشر اور بعث ہم پر کیا مشکل ہے پھر یہ سب کے سب اپنے پروردگار کی طرف اکٹھے کیے جائیں گے تاکہ ایک دوسرے کا انصاف ہوجائے یعنی آدمی اور بہائم اور پرند سب کے سب قیامت کے دن انصاف کے لیے اللہ کے آگے حاضر کیے جائیں حیوانات نے جو ایک دوسرے پر زیادتی کی ہے اس کا اس سے بدلہ لیاجائے گا حتی کہ بےسینگ والی بکری کا سینگ والی بکری سے بدلہ لیاجائے گا حیوانات کا حشر باز پرس کی غرض سے نہیں ہوگا کہ بلکہ اس لیے ہوگا کہ جو تکلیفیں ان کو دنیا میں پہنچی ہیں ان کا عوض اور بدلہ ایسا ہوتا ہے اور اس کے بعد تمام جانور مٹی کردیے جائیں گے اس وقت کافریہ تمنا کریں گے یلتنی کنت ترابا۔ اور جنہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا یہ لوگ عقل کے بہرے اور گونگے ہیں اور مختلف قسم کی تاریکیوں میں گھرے ہوئے ہیں پس ان کی ہدایت ناممکن ہے اس لیے آپ ان کے اعراض اور تکذیب سے رنجیدہ اور ملول نہ ہوں کیونکہ جو شخص دوسرے کی نہ سن سکے اور نہ دوسرے سے راستہ پوچھ سکے وہ کس طرح تاریکیوں سے باہر نکل سکتا ہے اصل بات یہ ہے کہ اللہ جس کو چاہے گمراہ کردے اور جس کو چاہے سیدھے راستے پر کردے اور اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا۔ اوست سلطاں ہرچہ خواہد کند۔ وہ مالک مطلق ہے وہ اپنی مرضی کا مختار ہے اس کو کافروں کے کفر سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا جو وہ زبردستی ان کو راہ پر لائے۔ شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں کہ یعنی اللہ کی قدرت کی نشانیاں سب جہان میں ہر قسم کے جانوروں کا کارخانہ ایک قاعدہ پر باندھا ہے انسان کا بھی ایک قاعدہ رکھا ہے وہ پیغمبروں کی زبان سے ان کو سکھاتا ہے اور اگر دھیان کریں یہی نشانی بس ہے پیغمبروں کے قول پر لیکن بہرا اور گونگا اندھیرے میں پڑا کیا دیکھے اور کیا سمجھے۔ (موضح القرآن) ۔