6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 6:71–90

قُلْ اَنَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُنَا وَ لَا یَضُرُّنَا وَ نُرَدُّ عَلٰۤى اَعْقَابِنَا بَعْدَ اِذْ هَدٰىنَا اللّٰهُ كَالَّذِی اسْتَهْوَتْهُ الشَّیٰطِیْنُ فِی الْاَرْضِ حَیْرَانَ١۪ لَهٗۤ اَصْحٰبٌ یَّدْعُوْنَهٗۤ اِلَى الْهُدَى ائْتِنَا١ؕ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى١ؕ وَ اُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:71 in the Quran reader

کہو کیا ہم خدا کے سوا ایسی چیز کو پکاریں جو نہ ہمارا بھلا کرسکتے ہیں اور نہ برا اور جب ہم کو خدا نے سیدھا راستہ دکھا دیا تو (کیا) ہم الٹے پاؤں پھرجائیں (پھر ہماری ایسی مثال ہو) جیسے کسی کو جنات نے جنگل میں بھلا دیا ہو (اور وہ) حیران (ہورہا ہو) اور اسکے کچھ رفیق ہوں جو اس کو راستے کی طرف بلائیں کہ ہمارے پاس چلا آ کہہ دو کہ راستہ وہی ہے جو خدا نے بتایا ہے اور ہمیں تو یہ حکم ملا ہے کہ ہم خدا رب العالمین کے فرمابردار ہوں

وَ اَنْ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ وَ هُوَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 6:72 in the Quran reader

اور یہ (بھی) کہ نماز پڑھتے رہو اور اس سے ڈرتے رہو اور وہی تو ہے جس کے پاس تم جمع کیے جاو گے

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ یَوْمَ یَقُوْلُ كُنْ فَیَكُوْنُ١ؕ۬ قَوْلُهُ الْحَقُّ١ؕ وَ لَهُ الْمُلْكُ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ١ؕ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:73 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمینوں کو تدبیر سے پیدا کیا ہے اور جس دن وہ فرمائے گا کہ ہوجا تو (حشربرپا) ہوجائے گا۔ اسکا ارشاد برحق ہے۔ اور جس دن صور پھونکا جائے گا (اس دن) اسی کی بادشاہت ہوگی۔ وہی پوشیدہ اور ظاہر (سب) کا جاننے والا ہے اور وہی دانا اور خبردار ہے۔

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ اٰزَرَ اَتَتَّخِذُ اَصْنَامًا اٰلِهَةً١ۚ اِنِّیْۤ اَرٰىكَ وَ قَوْمَكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 6:74 in the Quran reader

اور (وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے) جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ آذر سے کہا کہ تم بتوں کو کیا معبود بناتے ہو۔ میں دیکھتا ہو کہ تم اور تمہاری قوم صریح گمراہی میں ہو۔

وَ كَذٰلِكَ نُرِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لِیَكُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ Open ayah 6:75 in the Quran reader

اور ہم اس طرح ابراہیم (علیہ السلام) کو آسمانوں اور زمین کے عجائبات دکھانے لگے تاکہ وہ خوب یقین کرنے والوں میں ہوجائیں

فَلَمَّا جَنَّ عَلَیْهِ الَّیْلُ رَاٰ كَوْكَبًا١ۚ قَالَ هٰذَا رَبِّیْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَاۤ اُحِبُّ الْاٰفِلِیْنَ Open ayah 6:76 in the Quran reader

(یعنی) جب رات نے ان کو (پردہ تاریکی سے) ڈھانپ لیا تو (آسمان میں) ایک ستارا نظر پڑا۔ کہنے لگے یہ میرا پروردگار ہے۔ جب وہ غائب ہوگیا تو کہنے لگے کہ مجھے غائب ہوجانیوالے پسند نہیں۔

فَلَمَّا رَاَ الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هٰذَا رَبِّیْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَئِنْ لَّمْ یَهْدِنِیْ رَبِّیْ لَاَكُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّیْنَ Open ayah 6:77 in the Quran reader

پھر جب چاند کو دیکھا کہ چمک رہا ہے تو کہنے لگے یہ میرا پروردگار ہے۔ لیکن جب وہ بھی چھپ گیا تو بول اٹھے کہ اگر میرا پروردگار مجھے سیدھا راستہ نہیں دکھائیگا تو میں ان لوگوں میں ہوجاؤں گا جو بھٹک رہے ہیں۔

فَلَمَّا رَاَ الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هٰذَا رَبِّیْ هٰذَاۤ اَكْبَرُ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَتْ قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ Open ayah 6:78 in the Quran reader

پھر جب سورج کو دیکھا کہ جگمگا رہا ہے تو کہنے لگے میرا پروردگار یہ ہے۔ یہ سب سے بڑا ہے۔ مگر جب وہ بھی غروب ہوگیا تو کہنے لگے کہ لوگو ! جن چیزوں کو تم (خدا کا ٰ ) شریک بناتے ہو میں ان سے بیزار ہوں۔

اِنِّیْ وَجَّهْتُ وَجْهِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۚ Open ayah 6:79 in the Quran reader

میں نے سب سے یکسو ہو کر اپنے تئیں اسی ذات کی طرف متوجہ کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔

وَ حَآجَّهٗ قَوْمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوْٓنِّیْ فِی اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنِ١ؕ وَ لَاۤ اَخَافُ مَا تُشْرِكُوْنَ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ رَبِّیْ شَیْئًا١ؕ وَسِعَ رَبِّیْ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 6:80 in the Quran reader

اور انکی قوم ان سے بحث کرنے لگی تو انہوں نے کہا کہ تم مجھ سے خدا کے بارے میں (کیا) بحث کرتے ہو اس نے تو مجھے سیدھا راستہ دکھا دیا ہے اور جن چیزوں کو تم اس کا شریک بناتے ہو میں ان سے نہیں ڈرتا۔ ہاں جو میرا پروردگار اپنے علم سے ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے۔ کیا تم خیال نہیں کرتے ؟

وَ كَیْفَ اَخَافُ مَاۤ اَشْرَكْتُمْ وَ لَا تَخَافُوْنَ اَنَّكُمْ اَشْرَكْتُمْ بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ عَلَیْكُمْ سُلْطٰنًا١ؕ فَاَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ اَحَقُّ بِالْاَمْنِ١ۚ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَۘ Open ayah 6:81 in the Quran reader

بھلا میں ان چیزوں سے جن کو تم (خدا کا) شریک بناتے ہو کیونکہ ڈروں جبکہ تم اس نے نہیں ڈرتے کہ خدا کے ساتھ شریک بناتے ہو جس کی اس نے کوئی سند نازل نہیں کی۔ اب دونوں فریق میں سے کون سا فریق امن (اور جمعیت خاطر) کا مستحق ہے۔ اگر سمجھ رکھتے ہو (تو بتاؤ)

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ۠ Open ayah 6:82 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو (شرک کے) ظلم سے مخلوط نہیں کیا ان کے لئے امن (اور جمعیت خاطر) ہے۔ اور وہی ہدایت پانے والے ہیں۔

وَ تِلْكَ حُجَّتُنَاۤ اٰتَیْنٰهَاۤ اِبْرٰهِیْمَ عَلٰى قَوْمِهٖ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:83 in the Quran reader

اور یہ ہماری دلیل تھی جو ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو انکی قوم کے مقابلہ میں عطا کی تھی۔ ہم جس کے چاہتے ہیں درجے بلند کردیتے ہیں۔ بیشک تمہارا پروردگار دانا اور خبردار ہے۔

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ كُلًّا هَدَیْنَا١ۚ وَ نُوْحًا هَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهٖ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْسُفَ وَ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 6:84 in the Quran reader

اور ہم نے انکو اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) بخشے (اور) سب کو ہدایت دی۔ اور پہلے نوح (علیہ السلام) کو بھی ہدایت دی تھی اور ان کی اولاد میں سے داؤد اور سلیمان (علیہ السلام) اور ایوب (علیہ السلام) اور یوسف (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو بھی۔ یہ ہم نیک لوگوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

وَ زَكَرِیَّا وَ یَحْیٰى وَ عِیْسٰى وَ اِلْیَاسَ١ؕ كُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَۙ Open ayah 6:85 in the Quran reader

اور زکریا (علیہ السلام) اور یحیٰی (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) اور الیاس (علیہ السلام) کو بھی۔ یہ سب نیکو کار تھے۔

وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًا١ؕ وَ كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:86 in the Quran reader

اور اسماعیل (علیہ السلام) اور الیسع (علیہ السلام) اور یونس (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) کو بھی اور ان سب کو جہان کے لوگوں پر فضیلت بخشی تھی۔

وَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ اِخْوَانِهِمْ١ۚ وَ اجْتَبَیْنٰهُمْ وَ هَدَیْنٰهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 6:87 in the Quran reader

اور بعض بعض کو ان کے باپ دادا اور اولاد اور بھائیوں میں سے بھی۔ اور ان کو برگزیدہ بھی کیا تھا ' اور سیدھا راستہ بھی دکھایا تھا۔

ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ لَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:88 in the Quran reader

یہ خدا کی ہدایت ہے اس پر اپنے بندوں میں سے جسے چاہے چلائے اور اگر وہ لوگ شریک کرتے تو جو عمل وہ کرتے تھے سب ضائع ہوجاتے۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ١ۚ فَاِنْ یَّكْفُرْ بِهَا هٰۤؤُلَآءِ فَقَدْ وَ كَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّیْسُوْا بِهَا بِكٰفِرِیْنَ Open ayah 6:89 in the Quran reader

یہ وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا فرمائی تھی۔ اگر یہ (کفّار) ان باتوں سے انکار کریں تو ہم نے ان پر (ایمان لانے کیلئے) ایسے لوگ مقّرر کردیئے ہیں کہ وہ ان سے کبھی انکار کرنیوالے نہیں۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 6:90 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن کو خدا نے ہدیات دی تھی تو تم انھی کی ہدایت کی پیروی کرو۔ کہہ دو کہ میں تم سے اس (قرآن) کا صلہ نہیں مانگتا۔ یہ تو جہان کے لوگوں کے لیے محض نصیحت ہے۔

ابطال شرک اثبات توحید وحشر۔ قال اللہ تعالیٰ قل اندعو من دون اللہ مالاینفعنا ولایضرنا۔۔۔ الی۔۔۔ الخبیر۔ ربط) ۔ اوپر سے توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال چلا آرہا ہے اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ یہ لوگ جو دین اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں ان کو اتنی عقل نہیں کہ قابل مضحکہ یہ امر ہے کہ ایسی ذات کو معبود بنالیاجائے کہ جو کسی قسم کے نفع اور نقصان کی مالک نہ ہو ہنسی کے قابل تو یہ بات ہے کہ یہ بت پرست ہیں جو جہالتوں اور ضلالتوں میں حیران اور سرگرداں ہیں چناچہ فرماتے ہیں آپ ان مشرکوں سے یہ کہہ دیجئے کہ کیا ہم اللہ کے سوا کسی ایسی چیز کو اپنی حاجت روائی کے لیے پکاریں گے جو نہ ہم کو کچھ نفع ہی پہنچا سکتی اور نہ ہم کو کچھ نقصان ہی پہنچا سکے یعنی کیا ہم تمہارے کہنے سے بتوں کو پوجنے لگیں جو محض عاجز ہیں اور کسی کو نہ نفع پہنچاسکتے ہیں اور نہ نقصان اور کیا بعد اس کے کہ اللہ نے ہم کو راہ راست پر لگادیا ہے ہم اپنی ایڑیوں پر کفر کی طرف الٹے پاؤں لوت جائیں جب کہ اللہ نے ہم کو کفر سے نکال کر سیدھے راستے کی طرف چلادیا تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم اس صحیح راستہ کو چھوڑ کر پھر اسی گمراہی کے راستہ کی طرف الٹے پیر لوٹ جائیں جس پر پہلے چل رہے تھے لہذا تمہاری یہ توقع کہ ہم کفر اختیار کرلیں بالکل فضول ہے ہم سے ہرگز ایسا نہیں ہوسکتا اور اگر معاذ اللہ ایسا ہوجائے کہ ہم توحید کی صاف اور سیدھی شاہراہ کو چھور کر شرک کی راہ اختیار کرلیں تو ہماری مثال اس شخص کی سی ہوگی جس کو جنات نے جنگل میں لے جا کر سراسیمہ اور حیران اور پریشان کرکے ڈال دیا ہو اور بھٹکتا پھرتا ہو جیسے یہ خبر نہیں کہ جانا کہاں ہے اس کے کچھ رفیق راہ راست پر ہیں جو اس کو سیدھی راہ پر چلاتے ہیں کہ ہمارے پاس آیہ خدا تعالیٰ نے ان کافروں کی مثال بیان کی ہے جو اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو پوجتے ہیں اور مسلمان ان کو راہ راست کی طرف بلاتے ہیں مطلب یہ ہے کہ مشرک کی مثال اس مسافر کی طرح ہے جس کو جنات اور چڑیلوں نے جنگل میں راہ راست سے بہکا کر اس کے رفیقوں سے جدا کردیا اور وہ چاروں طرف بھٹکتا پھرے اور اسکے رفقاء ازراہ خیر خواہی اسے آواز دیں کہ ادھر آجا سیدھاراستہ اسطرف ہے مگر وہ حیران اور مخبوط الحواس ہے عالم حیرانی میں ہے کچھ نہیں سمجھتا کہ کدھر جائے اور کس کا کہا مانے ایسی حالت میں اگر اس نے چڑیلوں کا کہنا مانا تو سیدھار استہ اس کو کبھی نہ ملے گا اور مرجائے گا اور اگر اسنی اپنے رفیقوں کا کہنا مانا تو اس مہلک بیاباں سے نجات پاجائے گا اور راہ راست پر آجائے گا اسی طرح سمجھ لو کہ مسافر آخرت کی سیدھی راہ توحید اور اسلام کی راہ ہے اور یہ سفر نبی اکرم ﷺ اور آپ متبعین کی رفاقت اور معیت میں طے ہوسکتا ہے جو ان کی آواز پر کان دھرے گا وہ منزل مقصود کو پہنچے گا جو شیاطین الانس والجن کی آواز پر چلے گا تو وہ صحرائے ضلالت اور بیاباں حیرت میں بھٹکتا پھرے گا حتی کہ ہلاک ہوجائے گا آپ کہہ دیجئے کہ اللہ کی ہدایت وہی ہے حقیقی ہدایت ہے یعنی ہدایت صرف دین اسلام ہے اور شرک اور بت پرستی گمراہی کی راہ ہے اور ہم کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ تم نماز قائم رکھو او اللہ سے ڈرتے رہو اور وہ وہی ذات ہے کہ جس کی طرف تم سب جمع کیے جاؤ گے اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو تدبیر محکم کے ساتھ پیدا کیا اور جس دن وہ قیامت اور حشر کو کہے گا کہ ہوجا سوفورا وہ حشر اور قیامت ہوجائے گی اور اسی طرح اللہ کا ہر کام ہے جب خدا کسی کام کو کرنا چاہتا ہے تو کن کہہ دیتا ہے اتنے کہنے ہی سے وہ کام فورا ہوجاتا ہے اسی طرح جب وہ قیامت کو کہے گا کہ ہوجا وہ ہوجائے گی اسی کی بات حق ہے اور اسی کی سلطنت اور با دشاہی ہوگی جس دن صور پھونکا جائے گا یعنی اس دن سوائے اس کے کوئی ظاہری اور مجازی بادشاہ بھی نہ ہوگا جتنے بادشاہ دنیا میں ہوئے ہیں ان کا عجز ظاہر ہوجائے گا اور سب کو معلوم ہوجائے گا کہ درحقیقت بادشاہت خدا ہی کے لیے ہے اور اس کے سوا سلطنت کے جس قدر بھی دعوے تھے وہ سب جھوٹے تھے کماقال تعالی، لمن الملک الیوم للہ الواحدالقہار۔ وقال تعالی، الملک یومئذ الحق۔۔۔ الی۔۔ عسیرا۔ آیت۔ صور کے متعلق جمہور کا قول یہ ہے کہ وہ ایک سینگ ہے جس میں قیامت کے دن اسرافیل (علیہ السلام) پھونک ماریں گے پھونک مارتے ہی تمام خلقت فنا ہوجائے گی پھر دوسری مرتبہ صور پھونکیں گے تو سب زندہ ہوجائیں گے اور یہی بات احادیث صحیحہ اوراقوال صحابہ سے ثابت ہے تفصیل کے لیے تفسیر ابن کثیر از ص 146 تا 149 ج 2) ۔ دیکھیں جس میں نفخ صور اور حساب و کتاب کا مفصل بیان ہے نیز دیکھو تفسیر قرطبی ص 20 ج 7) ۔ وہی جاننے والا ہے پنہاں اور آشکارا یعنی چھپے اور کھلے کا اور وہی ہے حکمت والا اور خبردار ہر ایک کو اس کے عمل مطابق جزا دے گا پس جس ذات کی یہ شان ہو کہ وہ خالق سماوات وارض ہو اور عالم الغیب والشہادۃ اور حکیم وخبیر ہو اس کی عبادت اور بندگی کو چھوڑ کر شرک کی راہ کیسے اختیار کی جاسکتی ہے۔
Ayahs 6:91–92

وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖۤ اِذْ قَالُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى بَشَرٍ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِیْ جَآءَ بِهٖ مُوْسٰى نُوْرًا وَّ هُدًى لِّلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَهٗ قَرَاطِیْسَ تُبْدُوْنَهَا وَ تُخْفُوْنَ كَثِیْرًا١ۚ وَ عُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنْتُمْ وَ لَاۤ اٰبَآؤُكُمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِیْ خَوْضِهِمْ یَلْعَبُوْنَ Open ayah 6:91 in the Quran reader

اور ان لوگوں کے خدا کی قدر جیسی جاننی چاہئے تھی نہ جانی۔ جب انہوں نے کہا کہ خدا نے انسان پر (وحی اور کتاب وغیرہ) کچھ بھی نازل نہیں کیا۔ کہو کہ جو کتاب موسیٰ (علیہ السلام) لے کر آئے تھے اسے کس نے نازل کیا تھا ' جو لوگوں کے لئے نور اور ہدایت تھی۔ اور جسے تم نے علیٰحدہ علیٰحدہ اوراق (پر نقل) کر رکھا ہے۔ ان (کے کچھ حصّے) کو تو ظاہر کرتے ہو اور اکثر کو چھپاتے ہو۔ اور تم کو وہ باتیں سکھائی گئیں جنکو نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے باپ دادا۔ کہہ دو (اس کتاب) خدا ہی نے (نازل کیا تھا) پھر انکو چھوڑ دو کہ اپنی بیہودہ بکواس میں کھیلتے رہیں۔

وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ لِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا١ؕ وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَ Open ayah 6:92 in the Quran reader

اور (ویسی ہی) یہ کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے بابرکت جو اپنے سے پہلی (کتابوں) کی تصدیق کرتی ہے اور (جو) اسلئے (نازل کی گئی ہے) کہ تم مکّے اور اس کے آس پاس کے لوگوں کو آگاہ کردو۔ اور جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور وہ اپنی نمازوں کی (پوری) خبر رکھتے ہیں۔

منکرین نبوت کی تردید اور تہدید۔ قال اللہ تعالی، وماقدرواللہ حق قدرہ۔۔۔ الی۔۔۔ یحافظون۔ ربط) ۔ گذشتہ آیات میں حضرت ابراہیم کا قصہ بیان کیا جو منکرین توحید کی تردید پر مشتمل تھا اب آئندہ آیات میں منکرین نبوت کے بعض ھفوات کی تردید فرماتے ہیں مالک بن صفیف یہودی عام اوردیگر بعض علماء یہود نے جوش عداوت میں نبی ﷺ کی نبوت کا انکار کرتے ہوئے یہ کہہ دیا کہ اللہ نے کسی بشر پر کوئی کتاب ہی نازل نہیں کی اور ایک روایت میں ہے کہ یہود نے یہ کہا کہ اللہ آسمان سے اللہ نے کوئی کتاب ہی نازل نہیں کی گویا کہ ان معاندین نے جوش عداوت میں انزال کتب وارسال رسل کے سلسلہ ہی کی سرے سے نفی کردی اور ظاہر ہے کہ انزال کتب کا انکار درپردہ اللہ کی صفت علم اور صفت کلام کا انکار ہے اس پر اللہ نے یہ آیتیں نازل کیں اور یہود پر الزام قائم کیا کہ بتلاؤ موسیٰ (علیہ السلام) پر کس نے کتاب نازل کی آخر وہ بھی تو بشر تھے اور ان بدبختوں کی مذمت اور تہدید میں یہ فرمایا کہ بدنصیبوں نے ہماری نعمت کی قدر نہ کی ہم نے ان کی ہدایت کے لیے قرآن جیسی مبارک کتاب نازل کی مگر انہوں نے اس سے اعراض کیا جن کے دل میں خوف خدا ہے وہ خوب جانتے ہیں کہ یہ کلام خداوندی ہے اور جن کو آخرت کا خوف نہیں وہ شرارت سے اس کا انکار کرتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں اور ان معاندین نے اللہ کی قدر نہیں کی جیسی اس کی قدر چاہیے تھی جب کہ انہوں نے ضد اور عناد میں بےدھڑک یہ کہہ دیا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی بشر کبھی کوئی کتاب نازل ہی نہیں کی حالانکہ اللہ کی صحیح معرفت کا ذریعہ وہ صحیفہ ہدایت ہے جو اللہ نے اپنے کسی برگزیدہ بشر پر نازل کیا عجیب بات ہے کہ مشرکین عرب تو سرے ہی سے نبوت اور رسالت کے منکر تھے اور بشریت کو نبوت کے منافی سمجھتے تھے مگر (حجریت کو) یعنی پتھر ہونے کو الوہیت کے منافی نہیں سمجھتے تھے اسلیے کہ وہ پتھروں کو اپنا معبود بنائے ہوتے تھے، قال تعالی، اکان للناس عجبا۔۔ الی۔۔ الناس۔ آیت۔ وقال تعالی، ومامنع الناس۔۔ الی۔۔۔ رسولا۔ آیت۔ اور یہود اگرچہ نبوت و رسالت کے قائل تھے مگر بعض یہودیوں نے نبی ﷺ کی نبوت کا انکار کیا اور ضد کرے ہوئے اور جوش عناد میں یہ کہہ دیا کہ اللہ نے کسی بشر پر کوئی کتاب نازل نہیں کی اور نزول کتاب کو خدا کی ناقدری اس لیے فرمایا جو شخص انبیاء کرام پر نزول کتاب کا قائل نہیں وہ اللہ کا قدر شناس نہیں اور اس کو خدا تعالیٰ کی صحیح معرفت نصیب نہیں خدا کی صحیح معرفت خدا کی نازل کردہ کتاب ہی سے ہوسکتی ہے نیز کلام صفت کمال ہے جو متعکلم نہیں وہ ناقص ہے پس جو شخص نزول وحی اور نزول کتاب کا منکر ہے وہ اللہ کو متکلم نہیں مانتا گویا وہ خدا کو ناقص قرار دے رہا ہے اور خدا کے نبیوں پر نزول کتاب کا انکار یہ اللہ کے غیر متکلم ماننے کی نشانی ہے اس سے بڑھ کر خدا کی گستاخی اور ناقدری کیا ہوسکتی ہے اے نبی آپ ان کے جواب میں یہ کہہ دیجئے کہ اچھا بتلاؤ وہ کتاب کس نے اتاری جس کو موسیٰ بنی اسرائیل کے پاس لے کر آئے یعنی توریت جس کو تم بھی مانتے ہو حالانکہ وہ لوگوں کے لیے روشنی اور ہدایت تھی جس کو تم نے اپنی اغراض نفسانیہ کی بناء پر دو قسم کے ورقوں پر تقسیم کیا ہوا ہے بعض اوراق کو جو تمہاری غرض کے مطابق ہوتے ہیں ان کو ظاہر کردیتے ہو اور بہت سے اوراق کو چھپا کر رکھتے رہو علماء یہود نے توریت کے علیحدہ علیحدہ اوراق کر رکھے تھے جن میں کوئی امر ان کی خواہش کے خلاف نہ ہوتا ان کو سب پر ظاہر کردیتے اور جن میں نبی ﷺ کی بشارت یا صفت مذکور تھی ان کو چھپاتے تھے اور آیت رجم کو چھپاتے اور اسی خدا کی نازل کردہ کتاب، یعنی توریت کی بدولت تم کو وہ باتیں تعلیم کی گئیں جن کو تم نہیں جانتے تھے اور نہ تمہارے آباء و اجداد کو ان کا علم تھا دین اور شریعت کی تمام باتیں تم کو خدا کی نازل کردہ کتاب یعنی توریت یہ کے ذریعہ تم کو معلوم ہوئیں اس سے پہلے تم سب جاہل تھے بتلاو یہ کتاب سراپانور ہدایت کس نے اتاری خیر یہ ضدی لوگ تو کیا جواب دیں گے آپ کہہ دیجئے کہ یہ کتاب اللہ ہی نے اتاری ہے یعنی اس سوال کا ایک ہی جواب ہے جو ایسا ظاہر ہے کہ جس کا کوئی انکار نہیں کرسکتا اس لیے اپ ان کے جواب کا انتظار نہ کیجئے اور خود ہی کہہ دیجئے کہ اللہ نے اتاری ہے پھر بھی اگر وہ نہ مانیں تو انکوچھوڑ دیجئے کہ وہ اپنی بک بک اور کج بحثی میں کھیلا کریں آپ کا کام تو تبلیغ تھا وہ ہوچکا اور جس طرح توریت ہماری نازل کردہ کتاب تھی اسی طرح یہ قرآن ایک عجیب کتاب ہے جس کو ہم نے اتارا ہے بڑی خیرو و برکت والی ہے جس پر ایمان لانا اور اس پر عمل کرنا موجب فلاح دارین ہے کسی کی یہ مجال نہیں کہ اس جیسی بابرکت لاسکے قرآن مجید ہی کی برکت سے عرب کا کا یاپلت ہوگئی علاوہ ازیں یہ کتاب ان آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے جو اس سے پہلے نازل ہوئیں یعنی یہ قرآن کتب سماویہ کی منزل من اللہ ہونے کی تصدیق کرتا ہے کیونکہ توحید کی تعلیم سب میں مجود ہے اور تمام کتب سماویہ اس پر متفق ہیں کہ اللہ تعالیٰ شریک اور تمام عیبوں سے منزہ ہے اور ہم نے اس مبارک کتاب کو اس لیے نازل کیا ہے کہ آپ اس کے ذریعے سے اہل مکہ کو اور تمام روئے زمین کے لوگوں کو جو مکہ کے گردا گرد دنیا میں آباد ہیں سب کو ڈرائیں کہ جو اللہ کی کتاب کو نہیں مانتا وہ مستحق عذاب ہوگا۔ ام القری مکہ کا نام ہے جس کے معنی تمام بستوں کی ماں اور جڑ کے ہیں اس لیے کہ مکہ وسط ارض میں ہے اور ساراجہان اس کے گرد آباد ہے اور تمام روئے زمین کی بستیاں اسی کے گردا گرد جوانب میں ہیں یا یہ معنی ہیں کہ اس مبارک کتاب کے ذریعہ مکہ والوں کو اور اس کے آس پاس کے لوگوں کو خاص طور پر ڈرائیے جیسا کہ وانذر عشیرتک الاقربین میں قریبی رشتہ داروں کو خاص طور پر ڈرانے کا حکم آیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ من حولھا سے مکہ کے آس پاس کی بستیاں مراد ہیں یا سارا جہان مراد ہے کیونکہ مکہ کی زمین تمام زمین کی ناف ہے اسی جگہ سے شرقا وغربا تمام زمین پھیلائی گئی اور جو لوگ آخرت کا یقین رکھتے ہیں جن کو عذاب کا اندیشہ ہے اور جزاوسزا کا ڈر ہے وہ اس مبارک کتاب پر ایمان لاتے ہیں اور وہی اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں تاکہ یہ نماز ان کو آخرت میں کام آئے یعنی جن کو آخرت کا یقین ہے وہ تو نبی کریم ﷺ پر اور قرآن پر جو آپ پر نازل ہوا ہے ایمان لے آتے ہیں اور جو لوگ آخرت سے نڈر ہیں وہ کیوں ایمان لانے لگے۔
Ayahs 6:93–94

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِیَ اِلَیَّ وَ لَمْ یُوْحَ اِلَیْهِ شَیْءٌ وَّ مَنْ قَالَ سَاُنْزِلُ مِثْلَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ بَاسِطُوْۤا اَیْدِیْهِمْ١ۚ اَخْرِجُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ غَیْرَ الْحَقِّ وَ كُنْتُمْ عَنْ اٰیٰتِهٖ تَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 6:93 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو خدا پر جھوٹ افترا کرے یا یہ کہے کہ مجھ پر وحی آئی ہے۔ حالانکہ اس پر کچھ بھی وحی نہ آئی ہو اور جو یہ کہے کہ جس طرح کی کتاب خدا نے نازل کی ہے اس طرح میں بھی بنا لیتا ہوں۔ اور کاش تم ان ظالم (یعنی مشرک) لوگوں کو اس وقت دیکھو جب موت کی سختیوں میں (مبتلا) ہوں اور فرشتے (انکی طرف عذاب کے لئے) ہاتھ بڑھا رہے ہوں۔ کہ نکالو اپنی جانیں آج تم کو ذلّت کے عذاب کی سزا دی جائے گی۔ اس لئے کہ تم خدا پر جھوٹ بولا کرتے تھے۔ اور اس کی آیتوں سے سرکشی کرتے تھے۔

وَ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ تَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ وَرَآءَ ظُهُوْرِكُمْ١ۚ وَ مَا نَرٰى مَعَكُمْ شُفَعَآءَكُمُ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّهُمْ فِیْكُمْ شُرَكٰٓؤُا١ؕ لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَیْنَكُمْ وَ ضَلَّ عَنْكُمْ مَّا كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ۠ Open ayah 6:94 in the Quran reader

اور جیسا ہم نے تم کو پہلی دفعہ پیدا کیا تھا ایسا ہی آج اکیلے اکیلے ہمارے پاس آئے اور جو (مال و متاع) ہم نے تمہیں عطا فرمایا تھا وہ سب اپنی پیٹھ پیچھے چھوڑ آئے۔ اور ہم تمہارے ساتھ تمہارے شفارشیوں کو بھی نہیں دیکھتے جن کی نسبت تم خیال کرتے تھے کہ وہ تمہارے (شفیع اور ہمارے) شریک ہیں۔ (آج) تمہارے آپس کے سب تعلقات منقطع ہوگئے اور جو دعوے تم کیا کرتے تھے سب جاتے رہے۔

مدعیان نبوت کی تہدید۔ قال اللہ تعالی، ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا۔۔۔ الی۔۔۔ تزعمون۔ ربط) ۔ گذشتہ آیات میں منکرین نبوت کی تردید تھی اب ان آیات میں مدعیان نبوت کی تہدید ہے منکرین نبوت، مختلف قسم کے تھے بعض نبوت اور نزول کے تو منکر تھے اذقالو ماانزل اللہ علی بشرمن شئی۔ مگر اپنے لیے بھی وحی اور نبوت کے مدعی نہ تھے اور بعض وہ تھے جو خود اپنے لیے نبوت اور وحی کے مدعی تھے جیسے مسیلمہ کذاب وغیرہ مسیلمہ کذاب کچھ تک بندی کرتا اور دعوی یہ کرتا کہ مجھ پر وحی آتی ہے اور اسی طرح صنعا یمن میں اسود عنسی کو یہ خبط لاحق ہو اور اس نے بھی وحی اور نبوت کا دعوی کیا اور بعض مشرکین جیسے نضر بن ھارث قرآن کریم کی آیتوں کو سن کر کہہ دیتے لونشاء لقنا مثل ھذا۔ یعنی اگر ہم چاہیں تو ہم بھی قرآن جیسا کلام کہہ سکتے ہیں اور قرآن جیسی کتاب تصنیف کرسکتے ہیں یہ لوگ قرآن کریم کو کتاب سماوی اور منزل من اللہ نہیں سمجھتے تھے بلکہ اس کو نبی ﷺ کی تصنیف سمجھتے تھے اور یہ دعوی کرتے تھے کہ ہم بھی اس جیسی کتاب نصنیف کرسکتے ہیں اور نضر بن حارث یہ بھی کہتا کہ اگر بالفرض مجھ پر کوئی عذاب نازل ہونے لگے تو لات وعزی میری شفاعت کردیں گے اور ان تمام معاندین کے جواب میں یہ آیتیں نازل ہوئیں اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا یعنی خدا کی طرف ایسی باتیں منسوب کرے جو اسکی شان رفیع کے لائق نہیں مثلا خدا کا شریک ٹھہرائے یا اس کے لیے بیٹا یا بیوی تجویز کرے یا یوں کہے کہ اللہ نے کسی بشر پر کوئی کتاب نازل نہیں کی ماانزل اللہ علی بشرمن شی۔ یا یہ کہے ابعث اللہ بشر رسولا۔ آیت۔ یا یہ کہے کہ اللہ تو فقیر ہے اور ہم غنی ہیں یا یہ کہے کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں وغیرہ ذالک من الخرافات یا یہ کہے کہ مجھ پر وحی آتی ہے حالانکہ اس پر کوئی وحی نہیں آتی یہ مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی کی طرف اشارہ ہے جنہوں نے پیغمبری کا دعوی کیا یا جیسا کہ اس زمانہ میں مرزاغلام قادیانی نے صدہا جھوٹ اللہ پر باندھے اور وحی اور الہام کا دعوی کیا اور اسی طرح اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم جس نے یہ کہا کہ میں بھی ویسا ہی کلام اتار دوں گا جیسا کہ اللہ نے محمد پر اتارا ہے یہ نضر بن حارث اور مشرکین کے اس قول کی طرف اشارہ تھا جو قرآن سنت کی نسبت کہا کرتے تھے لونشاء لقنا مثل ھذا۔ یعنی اگر ہم چاہیں تو ہم بھی اس جیسا قرآن بناسکتے ہیں اور اس زمانہ میں غلام قادیانی نے بھی اپنے کلام کے معجزہ ہونے کا دعوی کیا اور قصید ﷺ اعجازیہ کے نام سے ایک قصیدہ شائع کیا جو صرفی اور نحوی اور عروضی غلطیوں سے بھرا ہوا ہے اور جو شخص قرآن کریم کی طرح اپنے کلام کے معجز ہونے کا مدعی ہے تو وہ در پردہ مدعی الوہیت ہے کہ کلام خداوندی کی طرح میرا کلام بھی معجز ہے۔ غرض یہ کہ اس قسم کے تمام لوگ بڑے ہی ظالم ہیں اور ظلم میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر ہیں جس نے نبوت اور نزول وحی اور نزول کتاب کا انکار کیا وہ بلا شبہ ظالم ہے اور اس سے بڑھ کر ظالم وہ شخص ہے جو نبوت اور وحی کا اپنے لیے مدعی ہو اور اس سے بڑھ کر ظالم وہ ہے جو اپنے کلام کو کلام خداوندی کی طرح معجز سمجھتا ہو اور اس طرح سے در پردہ الوہیت اور خداوند قدوس کی ہمسری کا مدعی ہو یہ سب اعلیٰ درجہ کے ظالم ہیں اور ان کا انجام سخت خطرناک ہے اور کاش اے مخاطب تو اس وقت کو دیکھے کہ جب یہ ظالم موت کی سختیوں میں گرفتار ہوں گے اور موت کے فرشتے ان کی جان نکالنے کے لیے اپنے ہاتھ پھیلائے ہوئے ہوں گے اور ان سے بطور تمسخر اور تحقیر یہ کہتے ہوں گے کہ اپنی جانوں کو اپنے جسموں سے باہر نکالو آج تم کو ذلت کے عذاب کی جزاٗ دی جائے گی اور ذلت و خواری کا یہ عذاب تمہارے تکبر کی جزاء ہے۔ مطلب یہ ہے کہ فرشتے کافروں کو مار مار کر جان نکالتے ہیں اور یہ کہتے جاتے ہیں کہ ٓج تم کو زلت اور خواری کا عذاب دیا جائے گا اس لیے کہ تم اللہ پر جھوٹ بولتے تھے اور اللہ کی ٓیتوں کے قبول کرنے سے تکبر کرتے تھے یہ کیفیت اور شدت تو موت کے وقت ہوگی اور جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ بطور سرزنش یہ فرمائیں گے البتہ تحقیق تم ہمارے پاس تن تنہا اور ایک ایک کر کے آئے ہو جس طرح ہم نے تم کو پہلی بار دنیا میں پیدا کیا تھا کہ نہ بدن پر کوئی کپڑا تھا اور نہ کوئی جوتا اور جو مال ومتاع ہم نے تم کو دیا تھا جس کے غرہ اور گھمنڈ میں ہمارے احکام کے قبول کرنے سے تکبر کرتے تھے آج وہ سب تم اپنی پیٹھ کے پیچھے ہی چھوڑ آئے یعنی دنیا میں تم کو جو مال وزر اور اولاد اور حشم اور خدم ہم نے دئیے تھے جن پر تم کو گھمنڈ تھا وہ سب پیچھے ہی چھوڑ آئے کہ اب ان سے کوئی چیز تم کو نظر بھی نہیں آتی اور آج ہم تمہارے ساتھ ان سفارشیوں کو بھی نہیں دیکھتے جن کے متعلق تمہارا یہ زعم اور اعتقاد تھا کہ تمہارے اندر یعنی تمہاے معاملہ میں خدا کے شریک ہیں۔ بتوں کے متعلق تمہارا خیال تھا کہ یہ اللہ کے یہاں ہماری سفارش کریں گے قیامت کے دن اس خیال کی غلطی ظاہر ہوجائے گی اور تمہارے درمیان قطع تعلق ہوجائے گا۔ یعنی تم ایک دوسرے سے منقطع ہوجاؤ گے وہ تم سے علیحدہ ہوجائیں گے اور تم ان سے بری اور بیزار ہوجاؤ گے اور تم سے وہ سب کچھ گم ہوجائے گا جو تم گمان کرتے تھے یعنی تمہاری ساری امیدوں پر پانی پھرجائے گا اور تم حیران اور پریشان کھڑے رہ جاؤ گے اور کوئی تمہارا یار و مددگار نہ ہوگا۔ اے بسا آرزو کہ خاک شدہ
Ayahs 6:95–99

اِنَّ اللّٰهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَ النَّوٰى١ؕ یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ مُخْرِجُ الْمَیِّتِ مِنَ الْحَیِّ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 6:95 in the Quran reader

بیشک خدا ہی دانے اور گٹھلی کو پھاڑ (کر ان سے درخت وغیرہ اگاتا) ہے۔ وہی جاندار کو بےجان سے نکالتا ہے اور وہی بےجان کا جان دار سے نکالنے والا ہے۔ یہی تو خدا ہے پھر تم کہاں بہکے پھرتے ہو۔

فَالِقُ الْاِصْبَاحِ١ۚ وَ جَعَلَ الَّیْلَ سَكَنًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ حُسْبَانًا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ Open ayah 6:96 in the Quran reader

وہی (رات کے اندھیرے سے) صبح کی روشنی پھاڑ نکالتا ہے۔ اور اسی نے رات کو (موجب) آرام (ٹھیرایا) اور سورج اور چاند کو (ذرائع) شمار بنایا ہے۔ یہ خدا کے (مقرر کئے ہوئے) اندازے ہیں جو غالب (اور) علم والا ہے۔

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ النُّجُوْمَ لِتَهْتَدُوْا بِهَا فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 6:97 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے ستارے بنائے تاکہ جنگلوں اور دریاؤں کے اندھیروں میں ان سے راستے معلوم کرو۔ عقل والوں کے لئے ہم نے اپنی آیتیں کھول کر بیان کردی ہیں۔

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَّ مُسْتَوْدَعٌ١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّفْقَهُوْنَ Open ayah 6:98 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا۔ پھر (تمہارے لئے) ایک ٹھہرنے کی جگہ ہے اور ایک سپرد ہونے کی۔ سمجھنے والوں کے لئے ہم نے (اپنی) آیتیں کھول کھول کر بیان کردی ہیں۔

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ نَبَاتَ كُلِّ شَیْءٍ فَاَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا نُّخْرِجُ مِنْهُ حَبًّا مُّتَرَاكِبًا١ۚ وَ مِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِیَةٌ وَّ جَنّٰتٍ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُشْتَبِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍ١ؕ اُنْظُرُوْۤا اِلٰى ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ یَنْعِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكُمْ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:99 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جو آسمان سے مینہ برستا ہے۔ پھر ہم ہی (جو مینہ برساتے ہیں) اس سے ہر طرح کی روئیدگی اگاتے ہیں پھر اس میں سے سبز سبز کونپلیں نکالتے ہیں اور ان کونپلوں میں سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے دانے نکالتے ہیں اور کھجور کے گابھے میں سے لٹکتے ہوئے گچھے اور انگوروں کے باغ اور زیتون اور انار جو ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں اور نہیں بھی ملتے۔ یہ چیزوں جب پھلتی ہیں تو ان کے پھلوں پر اور (جب پکتی ہیں تو) انکے پکنے پر نظر کرو۔ ان میں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں (قدرت خدا کی بہت سی) نشانیاں ہیں۔

ذکر مظاہرقدرت و عجائب صنعت برائے اثبات الوہیت ووحدانیت قال اللہ تعالیٰ ان اللہ فالق الحب والنوی۔۔۔ الی۔۔۔ لایت لقوم یؤمنون (ربط) گزشتہ آیات میں اثبات نوبت کا بیان تھا اب اس کے بعد پھر اسی مضمون توحید کی طرف رجوع فرماتے ہیں جو شروع سورت سے چلا آرہا ہے ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ نے اشیاء متضادہ ومختلفہ پر اپنی قدرت کاملہ کے آثار اور اپنی مخلوقات کے عجائب حالات کو بیان کیا تاکہ وجود صانع اور اس کی کمال قدرت اور کمال علم و حکمت کی دلیل بنیں اور مشرکین پر یہ امر واضح ہوجائے کہ ان کے تمام معبودان باطلہ اور شرکاء مہملہ ان عجائب قدرت میں سے ایک ادنی سے ادنی چیز کے بھی پیدا کرنے سے عاجز ہیں پس ومستحق عبادت کیسے ہوسکتے ہیں اس سلسلہ میں حق تعالیٰ نے عالم علوی اور عالم سفلی سے پانچ دلیلیں بیان کیں تاکہ بندوں کو اللہ تعالیٰ کی صحیح معرفت حاصل ہو اور یہ پانچ دلیلیں اہل بصیرت کے لیے بمنزلہ آئینہ کے ہیں جن میں سے خداوند ذوالجلال کے جمال باکمال کا جلو نظر آتا ہے۔ دلیل اول : ان اللہ فالق الحب والنوی یخرج الحی من المیت و مخرج المیت من الحی ذلک اللہ فانی تؤفکون۔ بیشک اللہ تعالیٰ پھاڑنے والا ہے دانہ کا اور گٹھلیوں کا یعنی جب دانہ اور گٹھلی کو زمین بویا جاتا ہے تو اس سے قسم قسم کے پھل اور پھول نمودور ہوتے ہیں جو باعتبار صورت اور شکل اور حرارت اور برودت اور کیفیت اور خاصیت اور تلخی اور حلاوت کے مختلف ہوتے ہیں حالانکہ مادہ اور طبیعت سب کی ایک ہے اور چاند اور سورج کی روشنی اور ہوا سب کی ایک ہے اور یہ ایسی عجیب و غریب صنعت ہے جو عقل انسانی سے کہیں بالا اور برتر ہے معلوم ہوا کہ یہ کسی بڑے صانع حکیم اور قادر علیم کی کارسازی ہے جو اس کی کمال قدرت اور کمال حکمت پر دلالت کرتی وہ زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ سے نکالنے والا ہے یعنی ایک ضد کو دوسری ضد سے نکالتا ہے جیسے ایک نطفہ بےجان سے انسان اور حیوان کو نکالتا ہے اور انسان اور حیوان سے نطفہ بیجان نکالتا ہے اور انڈے سے مرغی کا بچہ اور مرغی سے انڈا نکالتا ہے اور مومن زندہ ہے اور کافر مردہ ہے مگر اللہ تعالیٰ کافر سے مومن کو اور مومن سے کافر کو نکالتا ہے یعنی پیدا کرتا ہے یہ ہے اللہ جو ایک ضد کو دوسری ضد سے نکالتا ہے اور عدم کو پھاڑ کر اس میں سے موجود کو نکالتا ہے یہ مادہ اور نیچر اور طبیعت کا کام نہیں کہ صنعت کے ایسے عجیب و غریب کرشمے دکھا سکے پس تم کہاں حق سے پھرے جاتے ہو یعنی خدا تو یہ خالق ہے جس کی صنعت سے عقل حیران ہے ایسے خدا کی عبادت کرو مادہ اور طبیعت اور ایتھر کا کیوں نام لیتے ہو۔ دلیل دوم : فالق الاصباح وجعل الیل سکنا والشمس والقمر حسبانا ذلک تقدیر العزیز العلیم۔ وہ صبح کا پھاڑنے والا ہے یعنی اللہ تعالیٰ رات کی ظلمت اور تاریکی کو پھاڑ کر صبح کا ستون نکالتا ہے یعنی رات ختم ہوجاتی ہے اور صبح صادق نمودار ہوجاتی ہے اور رات کے اندھیرے میں سے صبح صادق کا اجالا نکالنا یہ بھی اس کے کمال قدرت کی دلیل ہے اور اس نے رات کو راحت اور سکون کا ذریعہ بنایا کہ دن کا تکان رات کے سونے سے جاتا رہتا ہے اور اس نے چاند اور سورج کو حساب کا ذریعہ بنایا جس سے لوگوں نے مہینے اور سال مقرر کیے یہ اندازہ ہے زور آور علم والے کا جس میں کوئی غلطی نہیں ہوتی۔ گھڑی غلط ہوجاتی ہے مگر خدا کی گھڑی یعنی چاند اور سورج اپنے طلوع اور غروب میں غلطی نہیں کرتی۔ دلیل سوم : وھو الذی جعل لکم النجوم لتھتدوا بھا فی ظلمات البر والبھر قد فصلنا الایات لقوم یعلمون۔ اور وہ اللہ وہ ہے جس نے تمہارے نفع اور فائدہ کے لیے ستارے بنائے تاکہ تم ان کے ذریعہ جنگلوں اور سمندر کی تاریکیوں میں راستہ معلوم کرسکو اندھیری رات میں ستاروں کے ذریعہ راستہ کی سمت معلوم ہوتی ہے۔ تحقیق ہم نے اپنی قدرت کی نشانیاں ان لوگوں کے لیے کھول کر بیان کردی ہیں جو علم اور عقل رکھتے ہیں یعنی علم اور عقل والوں کو ہم نے استدلال کا طریقہ بتلادیا کہ وہ ان چیزوں سے خدا کی وحدانیت اور قدرت پر استدلال کرسکتے ہیں ستاروں کو اللہ تعالیٰ نے اس لیے پیدا کیا تاکہ وہ اصمان کی زینت ہوں اور شیاطین کے رجم کا سامان ہوں اور رات کی تاریکیوں میں ان سے راستہ اور سمت معلوم ہوسکے باقی ستاروں کی تاثیرات کا قائل ہونا بالکل غلط ہے تاثیر کے معنی کسی چیز میں اپنی قدرت سے اثر کرنے کے ہیں توستارے بالذات تو کسی چیز میں مؤثر نہیں ہوسکتے ہیں کیونکہ ستارے مخلوق ہیں اور مخلوق بالذات کسی چیز میں مؤثر نہیں ہوسکتی اور اگر یہ کہا جائے کہ ان میں اللہ نے یہ تاچیر رکھی ہے تو اس کے لیے کوئی دلیل نہیں اور اسباب ظاہری کی طرح ان میں تجربہ اور مشاہدہ مفقود ہے اور اگر بالفرض اللہ نے ان میں کوئی تاثیر رکھی ہے تو وہ اللہ ہی کو معلوم ہے ہمیں اس تاثیر کا کوئی علم نہیں اللہ تعالیٰ نے جتنا بتلادیا وہ حق ہے اس کے سوا سب وہم و گمان ہے۔ دلیل چہارم : وھو الذی انشأ کم من نفس واحدۃ فمستقر ومستودع قد فصلنا الایات لقوم یفقہون۔ اور وہ وہ ہے کہ جس نے تم کو ایک جان آدم سے پیدا کی اور سلسلہ توالد اور تناسل کا جاری کیا پھر تمہارے لیے ایک مستقر یعنی جائے قرار ہے یعنی ٹھہرنے کی جگہ ہے اس سے مراد دنیا ہے اور ایک مستودع یعنی سونپے جانے کی جگہ ہے اس سے مراد قبر ہے جہاں انسان عارضی طور پر ودیعت رکھا جاتا ہے مطلب یہ ہے کہ پیدا کرنے کے بعد ایک مدت تک تم کو دنیا میں رکھتا ہے قال تعالیٰ ولکم فی الارض مستقر ومتاع الی حین پھر اس کے بعد تم کو مارتا ہے اور مرنے کے بعد تم کو قیامت تک قبروں میں رکھتا ہے اور اس کے بعد تم کو قیامت کے دن دوبارہ زندہ کرے گا اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ مستودع سے چند روزہ دنیا مراد ہے اور مستقر سے قبر مراد ہے جس میں ایک طویل عرصہ تک ٹھہرنا ہے اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ مستقر سے پشت پدر مراد ہے اور مستودع بمعنی جائے امانت سے رحم مادر مراد ہے تحقیق ہم نے اپنی قدرت کی نشانیاں ان لوگوں کے لیے بیان کردیں جو سمجھ بوجھ رکھتے ہیں سمجھ جائیں کہ ایک اصل (یعنی نفس واحدہ) سے بیشمار مختلف الانواع اور مختلف الاشکال اشخاص کا پیدا کرنا کمال قدرت اور کمال حکمت کی دلیل ہے جس پر سوائے خداوند قدوس کے کوئی قار نہیں اور فلاسفہ اور سائنس دانوں کا یہ دعویٰ کہ یہ تمام تغییرات اور انقلابات محض مادہ بسیطہ اور اس کے اجزاء لاتتجزی کی حرکت قدیمہ سے ظہور میں آئے ہیں دعویٰ بلا دلیل ہے جیسا کہ اس ناچیز نے اپنے رسالہ (اثبات صانع عالم وابطال دہریت ومادیت) میں تفصیل کے ساتھ اس دعوے کا مہمل ہونا واضح کردیا ہے اس کو دیکھ لیا جائے۔ دلیل پنجم : وھو الذی انزل من السماء۔۔۔ الی۔۔۔ ان فی ذلکم لایات لقوم یؤمنون۔ اور جس طرح خدا تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے ایک نفس واحدہ (آدم) سے مختلف قسم کے انسان پیدا کیے اسی طرح اس خدا نے آسمان یعنی بادل سے ایک قسم کا پانی اتارا پھر ہم نے اس پانی کے ذریعہ سے باوجود اس پانی کے ایک ہونے کے ہر قسم کی اگنے والی چیزیں اگائیں جن کے اقسام اور انواع کی شمار بھی انسان کی قدرت اور اختیار سے باہر ہے پھر ہم نے اس میں سے سبزہ نکالا جس سے ہم اناج کے دانے نکالتے ہیں جو توبر تو ہوتے ہیں یعنی اس سے ایسے دانے نکالتے ہیں جو ایک دوسرے پر چڑھے ہوئے ہوتے ہیں یہ تو غلوں کی کیفیت کا بیان ہوا جن کا اجمالی طور پر فالق الحب میں ذکر آچکا ہے اب آئندہ آیات میں درختوں اور پھلوں کا ذکر کرتے ہیں جو گٹھلیوں سے پیدا ہوتے ہیں جن کا اجمالی ذکر والنوی میں آچکا ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور کھجور کے درختوں سے یعنی اس کے گابھے سے بعض خوشے ایسے ہوتے ہیں جو لٹکے اور جھکے ہوئے ہوتے ہیں جس تک آدمی کا ہاتھ بآسانی پہنچ سکتا ہے اور بعض بلندی پر ہوتے ہیں اس سے بھی خدا کی قدرت کا کمال ظاہر ہوتا ہے اور اسی ایک پانی سے ہم نے انگوروں کے باغ نکالے اور زیتون اور انار کے درخت نکالے اس حال میں کہ ان کے بعضے پھل صورت اور شکل اور رنگ اور مزہ میں ایک دوسرے کے مشابہ ہوتے ہیں یعنی یکساں اور ملتے جلتے ہوتے ہیں اور بعض مختلف اور جدا ہوتے ہیں بعضے پھل تاثیر اور خاصیت میں ایک دوسرے کے مشابہ ہوتے ہیں اور بعض مختلف ہوتے ہیں اس سے بھی خدا تعالیٰ کی کمال قدرت کا پتہ چلتا ہے کہ مادہ ایک ہے اور خواص اور آثار مختلف ہیں ذرا ان درختوں کے پھلوں کی طرف نظر تو کرو جب درخت پھل لاوے کہ اس کا رنگ اور مزہ کیسا اور بو کیسی اور اس کے پکنے کو دیکھو کہ کس طرح بتدریج پکتا جاتا ہے اور اس کا رنگ اور مزہ بدلتا جاتا ہے اس سے بھی خدا تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کا اندازہ لگاؤ بیشک ان امور مذکورہ بالا میں خدا تعالیٰ کی کمال قدرت اور کمال صنعت کی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں ذرا سے غور سے سمجھ سکتے ہیں کہ یہ تمام تغیرات کسی قادر مختار کی قدرت کے کرشمے ہیں بےجان اور بےشعور طبیعت اور مادہ سے اسی عجیب و غریب صنعتوں کا ظہور عقلاً محال ہے۔ ان آیات میں حق تعالیٰ نے کھیتی کے بعد چار قسم کے درخت ذکر فرمائے۔ کھجور، انگور، زیتون، انار اور کھیتی کو اس لیے مقدم کیا کہ وہ انسان کی غذا ہے اور یہ پھل ہیں اور یہ چاروں میوے تمام میووں سے افضل ہیں اور فوائد اور منافع میں سب سے بڑھ کر ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے صرف ان چار کے ذکر پر اقتصار فرمایا۔ برگ درختان سبز درنظر ہوشیار ہر ورقے دفتر یست معرفت کردگار ظاہر میں توحید کے پانچ دلائل ذکر کیے مگر درحقیقت ہر دلیل بیشمار دلیلوں پر مشتمل ہے ہر گیا ہے کہ ز زمین روید وحدہ لا شریک لہ گوید
Ayah 6:100

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ الْجِنَّ وَ خَلَقَهُمْ وَ خَرَقُوْا لَهٗ بَنِیْنَ وَ بَنٰتٍۭ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یَصِفُوْنَ۠ Open ayah 6:100 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے جنوں کو خدا کا شریک ٹھیرایا حالانکہ ان کو اسی نے پیدا کیا اور بےسمجھے (جھوٹ بہتان) اس کے لئے بیٹے اور بیٹیاں بنا کھڑی کیں وہ ان باتوں سے جو اس کے نسبت بیان کرتے ہے پاک ہے۔ اور (اسکی شان ان سے) بلند ہے۔

ابطال شرک وتشنیع اہل شرک قال اللہ تعالیٰ وجعلوا للہ شرکاء الجن۔۔۔ الی۔۔۔ سبحانہ وتعالی عما یصفون امام رازی فرماتے ہیں کہ گذشتہ آیات میں حق تعالیٰ جل شانہ نے توحید اور الوہیت اور کمال قدرت کی پانچ دلیلیں ذکر فرمائیں اب آئندہ آیات میں ان لوگوں کی تردید اور تہدید فرماتے ہیں جنہوں نے خدا کے لیے شریک اور سہیم ٹھہرائے اور خدا کے شریک ٹھہرانے والے تین گروہ ہیں ایک گروہ بت پرستوں کا ہے جن کا شروع سورت سے لے کر برابر رد ہوتا چلا آیا اور دوسرا گروہ کواکب پرستوں کا ہے جن کا حضرت ابراہیم کے قصہ میں رد ہوچکا ہے اور مشرکین کا تیسرا گروہ مجوس کا ہے جو عالم کے لیے دو خدا کے قائل ہیں ایک خیر کا خالق اور ایک شر کا خالق اب اس پہلی آیت یعنی وجعلوا للہ شرکاء الجن وخلقہم میں مشرکین کے تیسرے گروہ یعنی مجوس کا رد ہے۔ جیسا کہ ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ یہ آیت مجوس کے رد میں نازل ہوئی امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت درا صل مجوس کے بارے میں ہے اور مقصود ان بیوقوفوں پر تشنیع کرنا ہے جو اس عالم کے لیے دو خٰدا مانتے ہیں (تفسیر کبیر ص 111 ج 2 و ص 112) اور بعض علماء تفسیر یہ کہتے ہیں کہ یہ آیت مشرکین عرب کے رد میں ہے اور چونکہ کفر اور شرک کا ارتکاب اغواء شیطانی سے ہوتا ہے اس لیے ان کے اغواء اور اضلال سے غیر اللہ کی عبادت کرنا گویا کہ شیاطین ہی کی عبادت کرنا ہے جیسا کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے بت پرستی کا رد کرتے ہوئے فرمایا یا ابت لا تعبدالشیطان اور دوسری جگہ ارشاد ہے الم اعہد الیکم یا بنی آدم ان لا تعبدوا الشیطان انہ لکم عدو مبین وقال تعالیٰ ان ان یدعون من دونہ الا اناثا وان یدعون الا شیطانا مریدا العنہ اللہ۔ امام رازی کے نزدیک اس آیت کی تفسیر میں راجح قول یہی ہے کہ یہ آیت مجوس کے بارے میں نازل ہوئی اور اس کو شاہ عبدالقادر (رح) نے موضح القرآن میں اختیار فرمایا۔ اب آیت کی تفسیر سنئے اور ان مشرکوں میں سے بعضوں نے جنوں کو اللہ کا شریک اور سہیم ٹھہرا لیا ہے حالانکہ خود ان لوگوں کے اقرار کے موافق بھی اللہ ہی نے ان جنوں اور ان شریک ٹھہرانے والوں کو پیدا کیا ہے سب اس کی مخلوق ہیں جیسا کہ خود ان کو بھی اقرار ہے کہ جنات اور شیاطین سب اللہ ہی کی مخلوق ہیں پس کس قدر ظلم ہے کہ مخلوق کو خالق کا شریک ٹھہراتے ہیں آیت میں جن سے مراد شیاطین ہیں اور یہ آیت مجوس کے متعلق ہے جن کا اعتقاد یہ تھا کہ نور کا خالق خدا ہے اور ظلمت کا خالق شیطان ہے۔ حضرت شاہ عبدالقادر فرماتے ہیں مجوسیوں نے کہا تھا کہ شیطان خدا کا شریک ہے نیکی کو خدا پیدا کرتا ہے اور اس کو یزدان کہتے تھے اور بدی کو شیطان پیدا کرتا ہے اور اس کو اھرمن کہتے تھے (موضح القرآن) اور یزدان کی فوج کو ملائکہ یعنی فرشتے اور اھرمن (یعنی ابلیس) کی فوج کو جن اور شیاطین کہتے تھے۔ امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ حق تعالیٰ نے اس آیت میں مجوس کا مذہب نقل کیا اب آئندہ آیت میں ان لوگوں کا مذہب نقل کرتے ہیں جو خدا کے لیے بیٹے اور بیٹیاں ثابت کرتے ہیں اور پھر اس کا رد فرماتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں اور بعض مشرکین نے بغیر علم کے محض جہالت سے خدا کے لیے بیٹے اور بیٹیاں تراشی ہیں۔ نصاری کہتے ہیں کہ مسیح خدا کا بیٹا ہے اور بعض یہود کہتے ہیں کہ عزیر خدا کا بیٹا ہے اور مشرکین عرب یہ کہتے تھے کہ فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں حق تعالیٰ نے اس آیت میں ان تینوں کی تردید کی اور بتلا دیا کہ یہ ان لوگوں کا خدا پر بہتان ہے جس کی ان کے پاس کوئی دلیل نہیں اولاد اپنے باپ کا جزء ہوتی ہے اور اس کے مشابہ ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ تجزیہ اور مشابہت سے پاک اور منزہ ہے اور وہ ان تمام باتوں سے بلند اور برتر ہے کہ جو یہ لوگ خدا کی نسبت بیان کرے ہیں وہ خداوند قدوس تو بےچون وچگون ہے لیس کمثلہ شیء وھو السمیع البصیر اور وہ چیزیں جن کو ان لوگوں نے خدا کا شریک اور سہیم ٹھہرایا ہے وہ چونی اور چندی میں گرفتار ہیں وہ معبود کیسے ہوسکتی ہیں عبادت کی مستحق تو وہ ذات با برکات ہے جس کے صفات اور کمالات کا اوپر ذکر ہوا۔
Ayahs 6:101–110

بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَنّٰى یَكُوْنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ صَاحِبَةٌ١ؕ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ١ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 6:101 in the Quran reader

(وہی) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنیوالا (ہے) اس کے اولاد کہاں سے ہو جبکہ اس کی بیوی ہی نہیں۔ اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور وہ ہر چیز سے باخبر ہے۔

ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ فَاعْبُدُوْهُ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌ Open ayah 6:102 in the Quran reader

یہی (اوصاف رکھنے والا) خدا تمہارا پروردگار ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ (وہی) ہر چیز کا پیدا کرنے والا (ہے) تو اسی کی عبادت کرو۔ اور وہ ہر چیز کا نگراں ہے

لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ١٘ وَ هُوَ یُدْرِكُ الْاَبْصَارَ١ۚ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:103 in the Quran reader

(وہ ایسا ہے کہ) نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کرسکتا ہے۔ اور وہ بھید جاننے والا خبردار ہے۔

قَدْ جَآءَكُمْ بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ١ۚ فَمَنْ اَبْصَرَ فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ عَمِیَ فَعَلَیْهَا١ؕ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ Open ayah 6:104 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ ان سے کہہ دو کہ) تم تمہارے (پاس) پروردگار کی طرف سے (روشن) دلیلیں پہنچ چکی ہیں تو جس نے (انکی آنکھ کھول کر) دیکھا اس نے اپنا بھلا کیا اور جو اندھا بنا رہا اس نے اپنے حق میں برا کیا۔ اور میں تمہارا نگہبان نہیں ہوں۔

وَ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ وَ لِیَقُوْلُوْا دَرَسْتَ وَ لِنُبَیِّنَهٗ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 6:105 in the Quran reader

اور ہم اسی طرح اپنی آیتیں پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں تاکہ کافر یہ نہ کہیں کہ تم (یہ باتیں اہل کتاب سے) سیکھے ہوئے ہو اور تاکہ سمجھنے والے لوگوں کیلئے تشریح کردیں۔

اِتَّبِعْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:106 in the Quran reader

اور جو حکم تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس آتا ہے اسی کی پیروی کرو اس (پروردگار) کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور مشرکوں سے کنارا کرلو۔

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكُوْا١ؕ وَ مَا جَعَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ Open ayah 6:107 in the Quran reader

اور اگر خدا چاہتا تو یہ لوگ شرک نہ کرتے۔ اور (اے پیغمبر ﷺ ! ) ہم نے تم کو ان پر نگہبان مقرر نہیں کیا اور نہ تم ان کے دروغہ ہو۔

وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَسُبُّوا اللّٰهَ عَدْوًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ كَذٰلِكَ زَیَّنَّا لِكُلِّ اُمَّةٍ عَمَلَهُمْ١۪ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ مَّرْجِعُهُمْ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:108 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو یہ مشرک خدا کے سوا پکارتے ہیں ان کو برا نہ کہنا کہ یہ بھی کہیں خدا کو بےادبی سے بےسمجھے برا (نہ) کہہ بیٹھیں۔ اس طرح ہم نے ہر ایک فرقے کے اعمال (اُنکی نظروں میں) اچھے کر دکھائے ہیں۔ پھر ان کو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانا ہے تب وہ ان کو بتائے گا کہ وہ کیا کیا کرتے تھے

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ لَّیُؤْمِنُنَّ بِهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ وَ مَا یُشْعِرُكُمْ١ۙ اَنَّهَاۤ اِذَا جَآءَتْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:109 in the Quran reader

اور یہ لوگ خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی نشانی آئے تو وہ اس پر ضرور ایمان لے آئیں کہہ دو کہ نشانیاں تو سب خدا ہی کے پاس ہیں۔ اور (مومنو ! ) تمہیں کیا معلوم ہے (یہ تو ایسے بدبخت ہیں کہ انکے پاس) نشانیاں آبھی جائیں تب بھی ایمان نہ لائیں

وَ نُقَلِّبُ اَفْئِدَتَهُمْ وَ اَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ یُؤْمِنُوْا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ نَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ۠ Open ayah 6:110 in the Quran reader

اور ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو الٹ دیں گے (تو) جیسے یہ اس (قرآن) پر پہلی دفعہ نہیں لائے (ویسے پھر نہ لائیں گے اور انکو چھوڑ دیں گے کہ اپنی سرکشی میں بہکتے رہیں

ابطال عقیدہ ابنیت قال اللہ تعالیٰ بدیع السموات والارض انی یکون لہ ولد۔۔۔ الی۔۔۔ وھو اللطیف الخبیر (ربط) گذشتہ آیات میں جب توحید کی پانچ دلیلیں بیان کیں اور مشرکین کے عقائد شرکیہ کی تردید کی تو اب آئندہ آیات میں خاص طور پر نصاریٰ کے عقیدہ ابنیت کا ابطال فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اولاد سے پاک اور منزہ ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں وہ بغیر مادہ اور بغیر نمونہ کے آسمانوں اور زمین کا موجد ہے یعنی محض نیست سے ہست کرنے والا ہے یعنی یہ آسمان و زمین جو تمام عالم کو احاطہ کیے ہوئے ہیں سب اسی کا پیدا کیا ہوا اور بنایا ہوا ہے جس میں اھرمن بھی داخل ہے اور حضرت عزیر اور عیسیٰ (علیہما السلام) اور ان کی والدہ مریم صدیقہ اور آسمان و زمین کے تمام فرشتے بھی اس میں داخل ہیں اس کے لیے اولاد کیسے ہوسکتی ہے حالانکہ اس کے کوئی بیوی نہیں اور اولاد کے لیے بیوی کا ہونا ضروری ہے اور نصاری اگرچہ حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا بناتے ہیں لیکن یہ جرات اور جسارت وہ بھی نہیں کرسکے کہ معاذ اللہ حضرت مریم کو خدا تعالیٰ کی بیوی قرار دے سکیں اور خدا تعالیٰ کے لیے بیٹے اور بیوی کا ہونا اس لیے محال ہے کہ بیٹا باپ کے اور بیوی شوہر کے ہم جنس ہوتی ہے اور خدا کا ہم جنس کوئی نہیں اور اللہ ہی نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے پس اگر کسی ایک مخلوق کا خدا کا بیٹا ہونا جائز اور ممکن ہو تو پھر ایک کی خصوصیت کیا ہر مخلوق کا بیٹا بننا ممکن ہوگا اور جس طرح وہ ہر شیء کا پیدا کرنے والا ہے اسی طرح وہ ہر شیء کا جاننے والا ہے کسی شیء کی حقیقت اور اس کی صفت اور حالت اس سے ذرہ برابر پوشیدہ نہیں جس طرح اس کی تخلیق اور ایجاد تمام کائنات کو محیط ہے اسی طرح اس کا علم بھی سب کو ہر طرح سے محیط ہے کیونکہ بغیر علم کے پیدا کرنا ناممکن ہے۔ الا یعلم من خلق وھو اللطیف الخبیر۔ پس معبود وہی ہوسکتا ہے کہ جس کی قدرت اور جس کا علم تمام ممکنات کو محیط ہو یہ ہے اللہ تمہارا پروردگار یعنی جس کی صفات اوپر مذکور ہوئیں وہی اللہ ہے اور ہی قابل عبادت ہے اور جو ایسا نہیں وہ نہ اللہ ہے اور نہ قابل عبادت ہے پس مشرک جو بتوں کو پوجتے ہیں اور نصاری جو خدا کے لیے بیٹا ٹھہراتے ہیں وہ دونوں غلطی پر ہیں جس کے بیٹا ہو وہ خدا ہی کیا ہوا ہم ہی جیسا آدمی ہوا اور بت جو کسی چیز کے خالق نہیں اور نہ ان کو کسی چیز کی کوئی خبر ان کے پوجنے سے کیا حاصل۔ پس خوب سمجھ لو کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی ہر شئے کا پیدا کرنے والا ہے پس اسی کی بندگی کرو اور وہی ہر چیز کا کارساز اور محافظ اور نگہبان ہے مطلب یہ ہے کہ خدا وہ ہے جو کہ بےنظیر اور بےمثال ہو کوئی اس کا ہم جنس نہ ہو اور ہر چیز کا خالق اور محافظ اور نگہبان اور کارساز ہو اور اس کی تخلیق اور تکوین اور اس کا علم تمام ممکنات کو محیط ہو اور جسمیں یہ صفت نہ ہو وہ لائق عبادت نہیں اور معبود برحق کی علو شان کا یہ حال ہے کہ نگاہیں اس کو نہیں پاسکتیں اور وہ سب نگاہوں کو پاتا ہے یعنی سب نگاہیں اس کے ادراک اور احاطہ سے عاجز اور درماندہ ہیں آنکھوں میں یہ طاقت اور قوت نہیں کہ وہ اس کو دیکھ سکیں اور وہ سب آنکھوں اور نگاہوں اور بینائیوں کا محیط ہے اور وہ نہایت لطیف اور باریک بین خبردار ہے۔ وہ ان چیزوں کا بھی ادراک کرتا ہے جن کے ادراک سے تمام نگاہیں قاصر ہیں باریک بین سے مراد یہ ہے کہ وہ اشیاء کے اندرونی حالات سے بخوبی واقف ہے کوئی شیء خواہ کیسی ہی دقیق کیوں نہ ہو وہ اس سے مخفی نہیں اس بیان سے یہ ظاہر ہوگیا کہ لطیف کا تعلق لا تدرکہ الابصار سے خبیر کا تعلق ھو یدرک الابصار سے ہے بلا تشبیہ اور بلا تمثیل کے ایسا سمجھو کہ جیسے روح ہے کہ نگاہیں اس کے ادراک سے قاصر ہیں اور روح نگاہوں کا اور تمام چیزوں کا ادراک کرسکتی ہے اسی وجہ سے افعال انسانی کو روح کی طرف نسبت کیا جاتا ہے کسی اور شئی کی طرف نسبت نہیں کی جاتی اس سے کافروں کے اس شبہ کا بھی جواب ہوگیا کہ خدا ہم سے غائب کیوں ہے اور وہ ہمیں نظر کیوں نہیں آتا۔ جواب اس طرح ہوگیا کہ وہ معبود برحق لطیف وخبیر ہے کمال لطافت کی وجہ سے نظر نہیں آتا جیسے روح کمال لطافت کی وجہ سے نظر نہیں آنی اسی طرح وہ لطیف وخبیر بھی نظر نہیں آتا اور اس عالم اجسام میں ہوا بھی ایک جسم لطیف ہے اپنی لطافت کی وجہ سے نظر نہیں آتی۔ خلاصۂ کلام یہ کہ معبود برحق وہ ہے کہ جو علیم وقدیر اور لطیف وخبیر ہو اور یہ صفت سوائے اللہ کے کسی کے لیے ثابت نہیں پھر کیسے کوئی اس کا شریک اور سہیم ہوسکتا ہے۔ اس آیت یعنی لا تدرکہ الابصار سے معتزلہ اور خوارج اور شیعہ اور مرجۂ وغیرہ بدعتی فرقوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ بہشت میں حق تعالیٰ شانہ کا دیدار نہ ہوگا معتزلہ نے اس آیت سے یہ سمجھا کہ دنیا اور آخرت دونوں میں اللہ کا دیدار ناممکن ہے۔ اہل سنت والجماعت کا اعتقاد اس بارے میں یہ ہے کہ بہشت میں خدا تعالیٰ کا دیدار افضل ترین نعمت ہے اور اگر سچ پوچھا جائے تو اصل بہشت اس کے دیدار کی لذت ہی کا نام ہے وہ بہشت ہی کیا ہوئی جس میں محبوب حقیقی کا دیدار نصیب نہ ہو علاوہ ازیں جنت میں رؤیت باری آیات قرآنیہ اور احادیث متواترہ اور اجماع امت سے ثابت ہے جن کا انکار در پردہ شریعت کا انکار ہے۔ آیات قرآنیہ 1۔ وجوہ یومئذ ناضرۃ الی ربھا ناظرۃ 2۔ للذین احسنوا الحسنی وزیادۃ۔ 3۔ فمن کان یرجوا لقاء ربہ فلیعمل عملا صالحا ولا یشرک بعبادۃ ربہ احدا۔ 4۔ واذا رایت ثم رایت نعیما وملکا کبیرا۔ (ای الحق سبحانہ) 5۔ کلا انھم عن ربھم یومئز لمحجوبون امام شافعی فرماتے ہیں کہ اس آیت میں خدا تعالیٰ نے کفار کو عار دلائی ہے کہ وہ قیامت کے دن اپنے پروردگار سے محجوب ہوں گے یعنی ان کے اور خدا کے درمیان حجاب یعنی پردہ ہوگا اس سے معلوم ہوا کہ اہل ایمان اس کو بےحجاب دیکھیں گے کیونکہ وہ بھی اگر کافروں کی طرح حجاب میں رہے تو ان میں اور کافروں میں کیا فرق رہا اور محجوب ہونے میں کافروں کی کیا تخصیص ہوئی۔ ان آیات کے علاوہ اور بھی آیتیں ہیں جو رؤیت باری تعالیٰ کے امکان اور وقوع پر دلالت کرتی ہیں ان آیات کی تفسیر کے موقع پر اس مقصد کو وضاحت کے ساتھ بیان کریں گے۔ احادیث نبویہ رہی سنت نبوی ﷺ ۔ سو احادیث متواترہ جو صحابہ ؓ کی ایک کثیر جماعت سے مروی ہیں ان سے بطریق تواتر یہ ثابت ہے کہ اہل ایمان اللہ تعالیٰ کو دار آخرت میں بلا اشتباہ اور بلا مزاحمت کے اس طرح دیکھیں گے جیسے چودھویں رات کے چاند کو بلا مزاحمت دیکھتے ہیں۔ کتب احادیث میں رویت باری تعالیٰ کا ایک مستقل باب ہے اور حافظ ابن قیم نے حادی الارواح میں اور جلال الدین سیوطی نے البدور السافرہ میں دیدار خداوندی کی احادیث کو تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے حضرات اہل علم اس کی مراجعت کریں۔ اب رہی آیت زیر تفسیر سو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ آیت اہل سنت کے مسلک کے منافی نہیں اس آیت میں حق تعالیٰ نے رویت کی نفی نہیں کی بلکہ ادراک ابصار کی نفی ہے اور ادراک اور رویت میں بڑا فرق ہے ادراک کے معنی لغت میں کسی چیز کو اپنے احاطہ میں لے لینے کے ہیں خدا تعالیٰ موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ میں فرماتے ہیں قال اصحاب موسیٰ انا لمدرکون یعنی جب فرعون کے لشکر نے بنی اسرائیل کا تعاقب اور پیچھا کیا تو موسیٰ (علیہ السلام) کے اصحاب نے کہا کہ اے موسیٰ اب تو ہم پکڑ لیے گئے اور گھیر لیے گئے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کلا وہ ہرگز نہیں پکڑ سکتے معلوم ہوا کہ ادراک کے معنی رویت کے نہیں بلکہ احاطۂ تام کرلینے اور قبضہ میں لے لینے کے ہیں کیونکہ فرعونیوں نے بنی اسرائیل کو دیکھ تو لیا تھا مگر ادراک یعنی پکڑنے سے قاصر اور عاجز رہے معلوم ہوا کہ ادراک اور شیء ہے اور رویت اور شئی ہے ادراک کی نفی سے رویت کی نفی لازم نہیں آتی پس آیت لا تدرکہ الابصار الخ کے معنی یہ ہوں گے کہ نگاہیں اس کا احاطہ نہیں کرسکتی البتہ وہ لطیف وخبیر تمام ابصار اور مبصرات کا احاطہ کیے ہوئے ہے لہذا آخرت میں حق تعالیٰ کی رویت ہوگی مگر احاطہ نہ ہوگا جیسا کہ قرآن کریم میں ہے ولا یحیطون بہ علما بندے اللہ تعالیٰ کا باعتبار علم کے احاطہ نہیں کرسکتے مگر اللہ تعالیٰ کو جانتے اور پہچانتے سب ہیں احاطہ کی نفی سے مطلق علم کی نفی لازم نہیں آتی اور حدیث میں ہے لا احصی ثناء علیک انت کما اثنیت علی نفسک۔ کوئی بندہ اللہ کی ثناء اور توصیف کا احصاء اور احاطہ نہیں کرسکتا مگر اس سے مطلق ثناء کی نفی لازم نہیں آتی امام قرطبی (رح) فرماتے ہیں کہ ابن عباس ؓ سے بھی یہی منقول ہے کہ لا تدرکہ الابصار وھو یدرک الابصار کے معنی یہ ہیں کہ نگاہیں اگرچہ اللہ تعالیٰ کو دیکھ سکتی ہیں مگر اللہ کا احاطہ نہیں کرسکتیں اور اللہ تعالیٰ تمام ابصار کو احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اور زجاج امام نحویہ کہتے ہیں کہ آیت کے معنی یہ ہیں کہ کوئی اللہ کی کنہ اور حقیقت کو نہیں پہنچ سکتا سو آنکھیں اس کو دیکھیں گی مگر احاطہ نہیں کرسکیں گی جس طرح دل اللہ کو جانتے اور پہچانتے ہیں مگر محیط نہیں اسی طرح آنکھیں اللہ کو دیکھ سکتی ہیں مگر احاطہ نہیں کرسکتیں خلاصۂ کلام یہ کہ آیت میں ادراک بمعنی احاطہ اور تحدید کی نفی ہے مطلق رؤیت کی نفی نہیں۔ مطلق رؤیت باری آیات قرآنیہ اور احادیث متواترہ سے ثابت ہے آنکھیں شمس وقمر کو دیکھتی ہیں مگر اس کی حقیقت اور کنہ کا ادراک نہیں کرتیں تو اسی طرح خداوند قدوس کے دیدار پر انوار کو سمجھو کہ نگاہیں نور السموات والارض کو دیکھیں گی مگر اس کی کنہ اور حقیقت کے ادراک سے عاجز اور درماندہ ہوں گی (دیکھو تفسیر ابن کثیر ص 161 ج 2 و تفسیر قرطبی ص 54 ج 7 و تفسیر کبیر ص 120 ج 4) اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو دنیا کی آنکھیں نہیں دیکھ سکتیں پس اس سے آخرت کے نہ دیکھنے پر استدلال کرنا صحیح نہیں کیونکہ دنیا کی آنکھیں ضعیف ہیں اور آخرت کی آنکھیں قوی ہیں اس میں کیا استبعاد ہے کہ جو بات دنیا میں ناممکن ہو وہ آخرت میں ممکن ہوجائے۔ اور شاہ عبدالقادر (رح) یہ فرماتے ہیں کہ مطلب آیت کا یہ ہے کہ آنکھ میں یہ قوت نہیں کہ اس کو دیکھ سکے ہاں اگر وہ خود ازراہ لطف وکرم اپنے کو دکھانا چاہے گا تو آنکھوں میں ویسی قوت پیدا کردے گا کہ جس سے اہل ایمان حسب مراتب خدا تعالیٰ کو دیکھ سکیں گے انتہی۔