Ayahs 6:111–113بیان کیفیت عناد معاندین
قال اللہ تعالیٰ ولو اننا نزلنا الیھم الملئکۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ولیقترفوا ما ھم مقترفون
(ربط) گزشۃ آیت وما یشعرکم انھا اذا جاءت لا یؤمنون میں معاندین کے عناد کو اجمالا ذکر فرمایا اب ان آیات میں ان کے عناد کی تفصیل فرماتے ہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ ان کے عناد کی کیا کیفیت ہے وہ یہ ہے کہ اگر ان کے فرمائشی معجزات سے بڑھ کر بھی ان کو معجزات دکھلا دئیے جائیں تب بھی یہ لوگ عناد اور ضد کی بناء پر حق کو ماننے والے نہیں اور ساتھ آنحضرت ﷺ کو تسلی بھی ہے کہ آپ ﷺ ان معاندین کے بیجا سوالات اور فرمائشی معجزات سے رنجیدہ اور غمگین نہ ہوں یہ بات کچھ آپ کے زمانہ کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ ہر نبی ﷺ کے زمانہ میں اس قسم کے بیجا سوالات ان سے کیا کرتے تھے چناچہ فرماتے ہیں اور ان معاندین کے عناد اور ضد کی یہ کیفیت ہے کہ ہم ان کی طرف فرشتے بھی اتار دیں جو آپ ﷺ کی نبوت و رسالت اور آپ ﷺ کی صداقت کی شہادت دیں جیسا کہ وہ کہتے تھے لو لآ انزل علینا الملائکۃ او نری ربنا او تأتی باللہ والملائکۃ قبیلا۔ اور مردے بھی زندہ ہو کر ان سے باتیں کرنے لگیں اور آخرت کے چشم دیدہ حالات ان کے سامنے بیان کرنے لگیں جیسا کہ وہ کہتے تھے فأتوا بابآ ئنا اور ہر چیز کو گروہ گروہ ان کے سامنے جمع کردیں اور سب چیزیں تیری نبوت کی شہادت دیں۔ یعنی حیوانات اور نباتات اور جمادات جمع ہو کر ان کی آنکھوں کے روبرو آپ ﷺ کی نبوت کی گواہی دیں تو یہ کافر جب بھی ایمان لانے والے نہیں مگر یہ کہ اللہ ہی چاہے یعنی خدا ہی کو منظور ہو تو یہ ایمان لاسکتے ہیں کہ اس سے بڑھ کر کوئی زبردست نہیں مگر اپنی مرضی سے تو یہ کسی طرح بھی ایمان لانے والے نہیں خدا ہی چاہے تو ان کی شقاوت کو سعادت سے بدل سکتا ہے لیکن اکثر ان میں سے نادان ہیں جہالت کے باعث معجزات قاہرہ طلب کرتے ہیں خواہ مخواہ کی فرمائشیں جہالت کی دلیل ہے حق کی تو طلب نہیں اور دلائل حقہ کی طرف توجہ اور التفات نہیں بےدلیل جو دل میں آیا کہہ دیا یہ جہالت نہیں تو کیا ہے عدالت میں مدعی سے گواہی طلب کی جاتی ہے اور مدعا علیہ کو یہ حق ہوتا ہے کہ گواہوں پر جرح کرے اور گواہوں کا ناقابل شہادت ہونا ثابت کرے لیکن اگر مدعی علیہ مدعی کی پیش کردہ شہادت پر تو کوئی جرح نہ کرسکے مگر یہ کہے کہ میں تو اس دعویٰ کو جب تسلیم کروں گا کہ فلاں فلاں اشخاص اس کی شہادت دیں تو عدالت میں یہ عذر ہرگز قابل سماعت نہ ہوگا اسی طرھ سمجھو کہ مدعی نبوت کے ذمہ مطلق دلائل نبوت اور مطلق شواہد رسالت کا پیش کرنا ضروری ہے سو وہ پیش کردئیے گئے فرمائشی نشانات کا پیش کرنا ضروری نہیں۔
اب آیندہ آیات میں آپ ﷺ کو تسلی دی جاتی ہے کہ ان معاندین کی دشمنی سے رنجیدہ اور ملول نہ ہوں اور یہ شیاطین الانس جو آپ ﷺ کی دشمنی پر تلے ہوئے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ جس طرح یہ لوگ آپ کے دشمن ہیں اسی طرح ہم نے آپ سے پہلے ہر نبی کے لیے شیطانوں کو دشمن بنایا ہے بعضے شیطان آدمیوں کے جنس سے ہیں اور بعضے شیطان جنات کی جنس سے ہیں۔ یعنی ہر زمانہ میں ایسے لوگ ہوئے ہیں جو انبیاء سے دشمنی رکھتے تھے اور ان سے اسی قسم کے بیجا سوالا کیا کرتے تھے اس سے مقصود انبیاء کرام کے صبر کا امتحان ہے کافروں کی عداوت انبیاء اکرام کے رفع درجات کا باعث ہوتی ہے اس لیے خدا تعالیٰ کے یہاں جس نبی کا جس قدر رتبہ بلند ہوتا ہے اسی کے مطابق اس کے مقابلہ کے لیے سخت دشمن ہونا ہے تاکہ اس کی دشمنی سے اس نبی ﷺ کے درجے لند ہوں غرض یہ کہ اس حکمت کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہر نبی ﷺ کے دشمنی کے لیے شیاطین الانس والجن بنائے کہ بعض بعض کی طرف دھوکا دینے کے لیے ملمع باتوں کا دل میں القاء کرتے ہیں یعنی ایسی جھوٹی باتوں کا القاء کرتے ہیں جو بظاہر خوشنما اور آراستہ ہوتی ہیں اور برے اعمال کو اچھا کر کے دکھلاتے ہیں تاکہ ان کو دھوکہ اور فریب میں ڈالیں۔
: شیطان اصل میں اس کو کہتے ہیں جو سرکش اور شریر اور بدذات اور پاجی ہو خواہ انسانوں میں سے ہو یا جنات میں سے اور آیت میں شیاطین سے سرکشان جن وانس مراد ہیں مالک بن دینار (رح) فرماتے ہیں کہ شیطان انس شیطان جن سے زیادہ نقصان دہ ہے کیونکہ جب میں اعوذ باللہ پڑھتا ہوں اور اللہ کی پناہ مانگتا ہوں تو شیطان جن میرے پاس سے بھاگ جاتا ہے مگر شیطان انس میرے پاس سے نہیں ٹلتا اور زخرف القول سے ملمع سازی کی باتیں مراد ہیں جو بظاہر آراستہ ہوں اور باطنی طور پر دھوکہ اور فریب ہوں اور اگر تیرا پروردگار چاہتا تو وہ شیاطین یہ کام نہ کرتے شیاطین لوگوں کے دلوں میں وسوسہ نہ ڈالتے یہ سب اللہ ہی کی قضاء وقدر اور اس کے ارادہ اور مشیت سے ہے پس آپ ان کو چھوڑ دیں وہ جانیں اور ان کا جھوٹ یعنی آپ ان کی ملمع سازی اور افترا پردازی کے فکر میں نہ پڑیں یہ لوگ شیاطین شیاطین الانس والجن کے پیدا کرنے میں ایک حکمت یہ ہے کہ تاکہ ان کے اس ملمع اور دل فریب قول کی طرف ان لوگوں کے دل جھکیں جو آخرت پر یقین رکھتے اور دنیا کی شہوتوں اور لذتوں پر فریفتہ ہیں اور تاکہ وہ اس جھوٹی ملمع بات کو اعتقاد قلب سے پسند کرلیں اور دل سے اس کو حق سمجھنے لگیں اور تاکہ بھی اس کے بعد دل کھول کر بےکھٹکے وہ برے کام کیے جائیں جو کر رہے ہیں جب آدمی کسی بات کو دل سے حق سمجھنے لگے اور آخرت سے بےفکر ہوجائے تو دل کھول کر برے کام کرتا ہے حتی کہ جب جرم کا پیمانہ لبریز ہوجاتا ہے تو پھر اس کو یکایک پکڑ لیا جاتا ہے۔
Ayahs 6:114–121تتمۂ توبیخ معاندین وتحذیر از اتباع مضلین ومجادلین
قال اللہ تعالیٰ افغیر اللہ ابتغی حکما۔۔۔ الی۔۔۔ وان اطعتموھم انکم لمشرکین
(ربط) گذشتہ آیات میں یہ بیان ہوچکا کہ یہ کافر جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں اور ایسے ضدی اور عنادی ہیں کہ جن معجزات کی وہ خواہش رکھتے ہیں ان کے ظاہر ہونے پر بھی ایمان نہیں لائیں گے اگر دل میں کچ بھی قبول حق کا مادہ ہوتا تو پہلے ہی مرتبہ آیات بینات دیکھ کر ایمان لے آتے اس لے کہ اول تو قرآن کریم آپ ﷺ کا عظیم ترین معجزہ ہے اور آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کی روشن دلیل ہے اس کی طرف رجوع کرلینا کافی ہے ؎
آفتاب آمد دلیل آفتاب گر دلیلے باید ازدے رومتاب
ایسی روشن دلیل کے بعد کسی اور فیصلہ کرنے والے کی طرف رجوع کرنا دانی ہے اور دوم یہ کہ علماء اہل کتاب قرآن کریم کی حقانیت سے بخوبی واقف ہیں ایسی کافی اور شافی دلیل اور برہان کے بعد کسی فرمائشی معجزہ کی ضرورت نہیں لہٰذا جب آپ ﷺ کی نبوت ثابت ہوگئی تو اے نبی کریم ﷺ آپ ان مشرکین سے کہدیجیے کہ بھلا خدا سے بڑھ کر کس کی شہادت ہوسکتی ہے جس کی تم فرمائش کرتے ہو اور وہ شہادت خداوندی یہ قرآن کریم ہے اور دوسری شہادت علماء بنی اسرائیل کی شہادت ہے ان دو شہادتوں کے بعد آپ ﷺ کو اہل ضلال واہل جدال کی اتباع سے منع فرمایا چناچہ فرماتے ہیں کیا ان دلائل قاہرہ اور براہین باہرہ کے بعد میں تمہارے اور اپنے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے سوائے خدا کے کسی منصف اور فیصلہ کرنے والے کو ڈھونڈوں کفار آنحضرت ﷺ سے یہ کہتے کہ تو ہمارے اور اپنے درمیان کوئی ثالث مقرر کرلے تاکہ وہ ہمارے اور تیرے درمیان فیصلہ کردے کہ کون حق پر ہے خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ سے بڑھ کر کون فیصل ہوسکتا ہے خدا تعالیٰ نے دعائے نبوت میں میرے حق میں فیصلہ کردیا ہے اور اس نے میرے دعوائے نبوت پر بہت سے شواہد ظاہر کردیے ہیں اب کسی اور فیصل کی کیا ضرورت رہی میری نبوت و رسالت کی سب سے بڑی دلیل یہ قرآن کریم ہے اور وہ فیصلہ کرنے والا وہ خداوند قدوس ہے جس نے تمہاری طرف یہ مفصل کتاب اتاری جس نے نیک اور بد اور حق اور باطل اور سعادت اور شقاوت کو کھول کر بیان کردیا ہے اور ایک کو دوسرے سے جدا کردیا ہے اور یہ کتاب عجیب و غریب حقائق ومعارف اور احکام پر مع دلائل اور براہین کے مشتمل ہے اور شکوکو اور شبہات کے ازالہ میں کافی اور شافی ہے اس کتاب مفصل نے میرے اور تمہارے درمیان میں قطعی فیصلہ کردیا کہ میں حق پر ہوں اور تم باطل پر، کتاب کے مفصل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں حلال و حرام اور امر ونہی اور وعد ووعید سب کچھ مذکور ہے اور اس کا اعجاز لفظی اور معنوی سب کے سامنے ہے اور علاوہ ازیں اس کتاب کی ایک صفت یہ ہے کہ جن لوگوں کو ہم نے توریب وانجیل دی ہے یعنی علماء یہود ونصاری وہ خوب جانتے ہیں کہ یہ قرآن اللہ کی طرف سے اتاری ہوئی کتاب ہے جو حق کے ساتھ متلبس ہے یعنی علماء اہل کتاب خوب جانتے ہیں کہ یہ قرآن وہی آسمانی کتاب ہے جس کی کتب سابقہ میں بشارت دی گئی ہے پس جس کتاب کی یہ شان ہو تو آپ شک کرنے والوں میں سے نہ ہو جیے ایسی مفصل اور مکمل کتاب کی شہادت کے بعد کسی ثالث اور فیصل کے مقرر کرنے کی ضرورت نہیں اور علاوہ ازیں اس کتاب کی ایک صفت یہ ہے کہ تیرے پروردگار کی بات سچائی اور انصاف میں پوری ہے یعنی اس قرآن کی منزل من اللہ ہونے کی ایک دلیل یہ ہے کہ اس کی تمام خبریں سچی ہیں اور اسکے تمام احکام عین عدل اور عین انصاف ہیں معلوم ہوا کہ یہ کتاب خدا کی اتاری ہوئی ہے اگر خدا کی طرف سے نہ ہوتی تو اس میں کوئی نقصان اور غلطی ضرور ہوتی قرآن مجید کے مضامین دو قسم کے ہیں ایک اخبار اور قصص اور دوم احکام یعنی اوامر اور نواہی، صدق کا تعلق اخبار سے ہے قرآن کی سب خبریں سچی ہیں اور عدل کا تعلق احکام سے ہے یعنی قرآن کریم کے تمام احکام عین عدل اور عین انصاف ہیں کوئی حکم خلاف انصاف نہیں۔ یا یوں کہو کہ عدل سے اعتدال مراد ہے کہ اس کے احکام غایب درجہ معتدل ہیں اور افراط اور تفریط سے پاک ہیں اور قرآن کریم کی ایک صفت یہ ہے کہ کوئی اس کی باتوں کو بدل نہیں سکتا یعنی قرآن کریم میں نہ تو تحریف وتبدیل راہ پاس کتی ہے اور کوئی اس کا وعدہ اور خبر غلط ہوسکتی ہے اور وہی سننے والا جاننے والا ہے ان مکذبین کی زخرف القول کو یعنی ان کی ملمع کاری کی باتوں کو سنتا ہے اور ان کے دلوں کے رازوں اور نیتوں کو جانتا ہے پس اے پیغمبر ﷺ ان کلمات الٰہیہ کے ہوتے ہوئے جو صدق اور عدل کے اعتبار سے مکمل ہیں آپ کو کسی حکم اور ثالث کی ضرورت نہیں آپ اللہ تعالیٰ کی وحی کا اتباع کیجیے اور ان نادانوں کے کہنے سننے کی پروا نہ کیجیے اور اگر بالفرض والتقدیر آپ ﷺ اکثر اہل زمین کا کہنا ماننے لگیں اور ان کے کہنے پر چلنے لگیں تو یہ خود بھی گمراہ ہیں اور آپ کو بھی اللہ کے راستہ سے گمراہ کردیں گے اس لیے کہ ان کو حقیقۃ الامر کا علم نہیں۔
گذشتہ آیات میں یہ بیان فرمایا تھا کہ شیاطین الانس والجن ملمع کاری کی باتیں (زخرف القول) دھوکہ دینے کے لیے کرتے ہیں اب ان آیات میں یعنی وان تطع اکثر من فی الارض میں ملمع کاری کی بعض باتیں ذکر کرتے ہیں کہ جو مشرکین مسلمانوں کو احکام خداوندی میں شبہ ڈالنے کے لیے کہا کرتے تھے مشرکین آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں سے یہ مجادلہ کرتے کہ جو جانور طبعی موت سے مرجائے (یعنی میتہ) مسلمان اسے تو حرام کہتے ہیں حالانکہ وہ خدا کا مارا ہوا ہے اور جو جانور خود ان کے ہاتھ کا مارا ہوا ہے یعنی ان کے ہاتھ کا ذبیحہ ہے اسے حلال سمجھتے ہیں یہ کیسا دین ہے کہ جس میں خدا کی ماری ہوئی چیز تو حرام ہے اور اپنے ہاتھ کی ماری ہوئی چیز حلال ہے مسلمانوں کی یہ عجیب بات ہے کہ اپنے مارے ہوئے جانور کو تو کھالیتے ہیں اور خدا کے مارے ہوئے جانور کو نہیں کھاتے آئندہ آیتوں یعنی فکلوا مما ذکر اسم اللہ علیہ الخ میں ان کے اسی شبہ کا جواب دیا گیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ سب کافروں کی ملمع کاری ہے جو انسانوں کو شبہ اور دھوکہ میں ڈالنے کے لیے شیطان ان کو سکھاتے ہیں خوب سمجھ لو کہ حلال و حرام کے بارے میں اللہ ہی کا حکم چلتا ہے محض عقلی ڈھکوسلوں کا کوئی اعتبار نہیں مارنے والا سب کا اللہ ہی ہے جان ڈالنا اور جان نکالنا یہ اللہ ہی کی قدرت اور اختیار میں ہے ذبح کرتے وقت صرف چھری چلانا تو بندہ کا کام ہے باقی جانور کی جان نکالنا یہ اللہ کا کام ہے ذبح کرنا موت کا ایک سبب ظاہری ہے جیسے موت کے اور اسباب ہیں مثلاً چھت سے گر کر مرجانا یا کنویں اور دریا میں ڈوب کر مرجانا مارنے والا ہر حال میں خدا ہی ہے سب اسی کے مارے ہوئے ہیں
البتہ اللہ کے نام کی برکت ہے جو جانور اللہ کے نام پر ذبح کیا جائے وہ حلال ہے اور جو جانور بغیر اس کا نام لیے مرگیا وہ مردار ہے اس کا کھانا فسق اور خلاق حکم ہے ہاں شدید مجبوری کی حالت میں اس کے کھانے کی اجازت دی گئی ہے چناچہ فرماتے ہیں نہیں پیروی کرتے یہ لوگ مگر گمان اور خیال کے پیرو ہیں اور احکام اور حلال و حرام ہیں تو یہ سب اٹکل کے گھوڑے دوڑاتے ہیں محض اپنے اٹکل سے یہ قاعدہ بنالیا کہ جو چیز اللہ کی ماری ہوئی ہو وہ سب حلال ہے جس پر کوئی دلیل نہیں تحقیق تیرا پروردگار خوب جانتا ہے اس شخص کو جو اس کی راہ سے بہکتا ہے اور ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو اس کی راہ پر ہیں پس تم کو چاہیے کہ حلت و حرمت میں اہل ہدایت کا اتباع کرو گمراہوں کے گمان اور خیال کی پیروی نہ کرو پس اے مسلمانو ! تم حلال ذبیحہ میں سے کھاؤ جس پر بوقت ذبح صرف اللہ کا نام لیا گیا ہو وہ ذبیحہ اللہ کے نام کی برکت سے حلال ہوجانا ہے اور مرے ہوئے جانور پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا اس لیے وہ حرام ہوگیا اگر تم اللہ کے حکموں پر یقین رکھتے ہو مت سے جانور نجس ہوجاتا ہے لیکن اگر ذبح کے وقت خدا کا نام لیا گیا ہو تو وہ پھر خدا کے نام کی برکت سے نجاست محفوظ ہوجاتا ہے اور تم کو کیا ہوا کہ تم اس ذبیحہ میں سے نہ کھاؤ کہ جس پر بوقت ذبح اللہ کا نام لیا گیا ہو یعنی اس کے نہ کھانے کی تمہارے پاس کوئی وجہ نہیں اور حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے دوسری آیات میں ان چیزوں کی تفصیل کردی ہے جو اس نے تم پر حرام کی ہیں اور دوسری آیات سے سورة نحل کی آیتیں مراد ہیں جو سورة انعام سے پہلے نازل ہوئی یا یوں کہو کہ اس سے آیت قل لآ اجد فیما اوحی الی الخ کی طرف اشارہ جو چید آیتوں کے بعد آئگی اس کے مطابق اس جانور کو کھاؤ جس پر ذبح کے وقت اللہ کا نام لیا گیا ہو اور مردار کو نہ کھاؤ مگر جب کہ تم بھوک کی وجہ سے مجبور اور لاچار ہوجاؤ تو پھر بقدر سد رمق اس میں سے کھا لینا جائز ہے اور بیشک بہتیرے لوگ بغیر علم اور بغیر دلیل کے اپنی خواہشوں سے لوگوں کو بہکاتے اور گمراہ کرتے ہیں اور لوگوں کے دلوں میں شکوک اور شبہات ڈالتے ہیں بیشک تیرا پروردگار حد سے نکل جانے والوں کو خوب جانتا ہے کہ وہ خدا کی حلال کی ہوئی چیز کو حرام کرتے ہیں اور حرام کیے ہوئے کو حلال بتلاتے ہیں۔ سو اللہ ان کو اس فعل کی ضرور سزا دے گا اور اسے مسلمانو تم کھلے گناہ اور چھپے گناہ کو چھوڑ دو ۔ یعنی ہر قسم کے گناہ کو چھوڑدو اور کسی حلال کو حرام اعتقاد کرنا یہ باطنی گناہ ہے تحقیق جو لوگ گناہ کو کماتے ہیں وہ ضرور اپنے کیے کی سزا پائیں گے عذاب کے وقت پردہ اٹھ جائیگا اور ہر چیز کا حسن وقبح آنکھوں کے سامنے آجائے گا اور اے مسلمانو اس جانور میں سے نہ کھاؤ جس پر بوقت ذبح قصداً اللہ کا نام نہ لیا گیا چہ جائیکہ ان پر بوقت ذبح بتوں کا نام لیا گیا ہو اور تحقیق ایسے جانور کا کھانا جس پر بوقت ذبح قصداً اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو البتہ بڑا ہی گناہ ہے اور بیشک شیاطین اپنے دوستوں کے دل میں وسوسے ڈالتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں مشرکین کا جھگڑا مسلمانوں کے ساتھ یہی تھا کہ وہ یہ کہتے تھے کہ مسلمان اپنے مارے کو تو حلال کہتے ہیں اور اللہ کے مارے ہوئے کو حرام بتاتے ہیں یہ سب القاء شیطانی ہے شیاطین کافروں کو اس قسم کی کٹ حجتیاں مارے ہوئے کو حرام بتاتے ہیں یہ سب القاء شیطانی ہے شیاطین کافروں کو اس قسم کی کٹ حجتیاں القاء کرتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑتے رہیں پس تم ان احتیاط رکھنا اور اگر خدا نخواستہ تم عقائد اور حلال و حرام میں ان لوگوں کا کہنا ماننے لگو تو ضرور تم بھی مشرک ہوجاؤ گے کہ حکم خداوندی کے مقابلہ میں ان کے حکم کو ترجیح دینے لگو
مطلب یہ ہے کہ شرک فقط یہی نہیں کہ خدا کے سوا کسی کو معبود بنا لیا جائے بلکہ یہ امر بھی شرک کے حکم میں ہے کہ بلا دلیل شرعی کسی کو تحلیل وتحریم کا مختا کار سمجھنے لگے کہ جس چیز کو انکا مقتدا محض اپنی رائے اور خیال سے حرام و حلال کردے اس کا تابع ہوجائے جیسا کہ آیت اتخذوا احبارھم ورھبانھم اربابا من دون اللہ کی تفسیر میں حدیث مرفوع گذر چکی ہے اہل کتاب نے وحی الٰہی کو چھوڑ کر صرف احبار اور رہبان کے قول پر تحلیل وتحریم کا مدار رکھ چھوڑا تھا یہ شرک فی الحکم ہے۔
Ayahs 6:122–127مسلمان اور کافر کی مثال
قال اللہ تعالیٰ او من کان میتا فاحییناہ۔۔۔ الی۔۔۔ وھو ولیھم بما کانوا یعملون
(ربط) اوپر کی آیت میں اول مشرکین کے مجادلہ اور عناد کا ذکر فرمایا اور پھر مسلمانوں کو اہل جدال اور اہل ضلال کی اتباع سے منع فرمایا اب ان آیات میں مسلمان اور کافر کی مثال بیان فرماتے ہیں تاکہ دونوں میں فرق ظاہر ہوجائے اور معلوم ہوجائے کہ کون لائق اتباع ہے اور کون لائق نفرت ہے۔
وہ مثال یہ ہے کہ جو شخص کفر کے بعد مسلمان ہوا گویا کہ وہ زندہ ہوگیا اور اس کو روشنی مل گئی ایسا شخص قابل اطاعت اور لائق اتباع ہے اور جو شخص کفر پر قائم ہے وہ اندھیروں میں گھرا ہوا ہے اور سرگرداں اور حیران ہے خلاصی کی کوئی راہ اس کو نظر نہیں آتی ایسا شخص کیسے قابل اتباع ہوسکتا ہے لہذا جس کو نور مل گیا وہ تاریکی والے کا کیوں اتباع کرے (تفسیر کبیر ص 143 ج 4 1
ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ یہ آیت حضرت حمزہ ؓ اور ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی اللہ تعالیٰ نے حضرت حمزہ ؓ کو ہدایت دی اور باوجہل کفر کی تاریکیوں میں پھنسا رہا امام قرطبی ؓ فرماتے ہیں کہ صحیح یہ ہے کہ یہ آیت ہر مومن اور کافر کو شامل ہے (تفسیر قرطبی ص 78 ج 7)
کیا وہ شخص جو پہلے اپنے کفر کی وجہ سے مردہ تھا پھر ہم نے ایمان اور ہدایت دے کر اس کو زندہ کیا اور ہم نے اس کو ہدایت کی ایسی روشنی دی جس کو وہ ہر وقت لوگوں میں اپنے ساتھ لیے لیے پھرتا ہے کیا اس شخص کے مانند اور برابر ہوسکتا ہے جس کا حال یہ ہے کہ وہ گمراہی کی ایسی اندھیریوں میں پڑا ہوا ہے کہ جن سے وہ باہر نہیں نکل سکتا ظاہر ہے کہ یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے بلکہ پہلا شخص دوسرے شخص سے ہر طرح بہتر ہے پس ثابت ہوا کہ مسلمان کافر سے بہتر ہے کیونکہ پہلی مثال مومن کی ہے اور تاریکی سے تشبیہ دی ہے اور ظاہر ہے کہ نور ظلمت سے اور حیات موت سے بہتر ہے اسی طرح کافروں کے لیے وہ اعمال آراستہ کر دئیے گئے ہیں جو وہ کرتے ہیں یعنی جس طرح مومنوں کے دل میں ایمان اور اعمال صالحہ کی خوبی بٹھلا دی گئی ہے اسی طرح کافروں کے دل میں کفر اور اعمال قبیحہ کی خوبی ڈال دی گئی ہے ہر شخص اپنے ہی طریقہ کو اچھا جانتا ہے اور اسی طرح ہم نے بغرض امتحان ہر بستی میں اس بستی کے مجرمین کے سرداروں کو پیدا کیا یعنی جس طرح ہم نے مکہ کے مجرموں کو رئیس اور متمول پیدا کیا ہے تاکہ وہ مال و دولت کے نشہ میں دل کھول کر اس بستی میں ھیلہ اور فساد پھیلائیں اور لوگوں کو خراب کریں اور درحقیقت وہ اپنی ہی جانوں سے مکر اور فریب کر رہے ہیں یعنی ان کے مکر کا وبال انہی پر پڑے گا اور وہ نہیں سمجھتے کہ اس مکر اور فریب کا وبال انہی پر پڑے گا۔
حضرت شاہ عبدالقادر (رح) لکھتے ہیں یعنی ہمیشہ کافروں کے سردار حیلہ نکالتے ہیں تا عوام الناس پیغمبر ﷺ کے مطیع نہ ہوجائیں جیسے فرعون نے معجزہ دیکھا تو حیلہ نکالا کہ سحر کے زور سے سلطنت لیا چاہتا ہے۔ (موضح القرآن)
یہ ان معاندین کے جہل اور عناد کے چند واقعات تھے اب آگے ان کے جہل اور عناد اور ان کے تکبر اور غرور کا ایک خاص واقعہ بیان کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ جب ان کے پاس آپ ﷺ کی نبوت و رسالت اور آپ ﷺ کی صداقت کی کوئی نشانی آتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم ہرگز اس نبی کی صداقت پر ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ ہم کو بھی ویسی ہی نشانی ملے جیسے اللہ کے رسولوں کو دی گئی ہے۔ یعنی ہم پر اللہ کا کوئی فرشتہ نازل ہو یا کوئی نوشتہ آسمان سے اترے اور آپ کی صداقت کے شہادت دے اور ہمیں آم ﷺ پر ایمان لانے کا حکم دے کفار یہ کہتے تھے کہ یہ نسبت محمد ﷺ کے ہم نبوت کے زیادہ سزاوار ہیں اس لیے کہ ہم مال اور اولاد اور عزت میں ان سے بڑھے ہوئے ہیں خدا تعالیٰ نے اس کا یہ جواب دیا، اللہ خوب جانتا ہے جہاں وہ اپنی پیغمبری کو رکھتا ہے کہ کون منصب نبوت و رسالت کے لائق ہے ایسے مکاروں اور غداروں اور حاسدوں اور متکبروں اور سرکشوں کو نبوت جیسی نعمت عظمی کیونکر مل سکتی ہے
کلاہ خسروی وتاج شاہی بہر سر کے رسد حاشا و کلا
ایسے ناہنجاروں کو منصب نبوت تو کیا ملتا ایسے مجرموں کو تو اللہ کے یہاں سکت ذلت اور رسوائی پہنچے گی اور سخت عذاب ہوگا بدلہ میں اس مکروفریب کے جو یہ کیا کرتے تھے متکبر کی سزا یہی ہے کہ اس کو ذلت اور خواری کا عذاب دیا جائے پس ان کے اس تکبر اور عناد سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی فطرت اور جبلت اس درجہ فاسد اور خراب ہوچکی ہے کہ اب اس میں قبول حق کی صلاحیت اور استعداد ہی باقی نہیں رہی اس لیے اب آیندہ آیت میں سلیم الفطرت اور فاسد الفطرت کا موازنہ فرماتے ہیں تاکہ دونوں کا فرق واضح ہوجائے پس جس شخص کو اللہ تعالیٰ ہدایت دینے کا ارادہ کرتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے یعنی اس کو دین اسلام کے قبول کرنے کی توفیق دیتا ہے اور اس کے دل کو اس کی طرف راغب کردیتا ہے اور اس کو قبول حق میں ذرہ برابر پس وپیش نہیں ہوتا اور اسلام پر چلنا اس کو آسان ہوجاتا ہے اور جس کو تکویناً وتقدیراً خدا گمراہ کرنا چاہتا ہے اس کا سینہ نہایت درجہ تنگ گھٹا ہوا اور بند کردیتا ہے جس سے ایمان اور ہدایت اس کے اندر داخل نہیں ہوسکتی حق کی بات کے سننے سے اس کو ایسا انقباض ہوتا ہے گویا کہ وہ بڑی تکلیف اور مصیبت سے چار وناچار آسمان پر چڑھ رہا ہے بعینہ یہی حال کافر کا ہے جب اسے ایمان لانے کو کہا جاتا ہے تو اس کو اس سے ایسی تکلیف ہوتی ہے جیسے اس کو آسمان پر چڑھنے کی تکلیف دی جائے ایمان، انسان کو آسمان یعنی بلندی کی طرف لے جاتا ہے اور کفر انسان کو زمین یعنی پستی اور اندھیرے گرھے کی طرف دھکیلتا ہے ابتداء رکوع میں مومن اور کافر کی مثال بیان فرمائی پہلی مثال اس مومن کی ہے جو سلیم الفطرت اور صحیح الاستعداد ہو اور دوسری مثال اس کافر کی ہے کہ جس کی فطرت اور استعداد بالکل تباہ اور برباد ہوچکی ہو حدیث میں ہے کہ صحابہ کرام ؓ نے پوچھا کہ یارسول اللہ ﷺ شرح صدر سے کیا مراد ہے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ شرح صدر سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے دل میں ایک نور ڈال دیتا ہے جس کی علامت یہ ہے کہ دنیا سے بیزار اور آخرت کے لیے بےقرار ہوجاتا ہے اور موت کے آنے سے پہلے موت کی تیاری میں لگ جاتا ہے اور یہی مضمون دوسری آیت میں اس طرح آیا ہے افمن شرح اللہ صدرہ للاسلام فھو علی نور من ربہ فویل للقاسیۃ قلوبھم من ذکر اللہ اولئک فی ضلل مبین اسی طرح ڈالتا ہے اللہ تعالیٰ کفر کی پلیدی اور ناپاکی ان لوگوں پر جو ایمان نہیں لانے ایسے معاندین کو کفر وشرک کی نجاست اور گندگی اچھی معلوم ہوتی اور دین حق کی خوشبو ان کی بدبو معلوم ہوتی ہے نجاست کا کیڑا عطر کی خوشبو کو برداشت نہیں کرسکتا بسا اوقات عطر کی خوشبو سے مر بھی جاتا ہے۔
اور ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اس آیت میں رجس سے شیطان مراد ہے کیونکہ رجس کے معنی گندہ اور ناپاک کے ہیں شیطان سے بڑھ کر کون گندہ اور ناپاک ہوگا اس صورت میں آیت کا مطلب یہ ہوگا اس صورت میں آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ۔ اللہ تعالیٰ اسی طرح شیطان کو کافروں پر مسلط کردیتا ہے کہ قبول حق کی کبھی توفیق ہی نہیں ہوتی شیطان ان کو بری باتوں پر اکساتا رہتا ہے۔
حضرت شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے ہیں کہ اول فرمایا تھا کہ کافر قسمیں کھاتے ہیں کہ آیت دیکھیں تو البتہ یقینلاویں۔ اور اب فرمایا کہ جب ہم ہی ایمان نہ دیں گے تو کیونکر ایمان لاویں گے (بغیر اس کی توفیق کے کون ایمان لاسکتا ہے) بیچ میں مردار کو حلال کرنے کے حیلے نقل کیے اب اس بات کا جواب فرمایا کہ جس کی عقل اس طرف چلے کہ اپنی بات نہ چھوڑے جو دلیل دیکھے حیلہ بنالے وہ نشان ہے گمراہی کا اور جس کی عقل چلے انصاف برادر حکمبرداری پر وہ نشان ہدایت ہے ان لوگوں میں نشان ہیں گمراہی کے ان پر کوئی آیت اثر نہ کرے گی (موضح القرآن)
اور یہ اسلام تیرے پروردگار کا سیدھا راستہ ہے اس پر چلنے سے آدمی سیدھا خدا تک پہنچ جاتا ہے اور اس کے سوا جتنے راستے ہیں سب ٹیڑھے ہیں تحقیق ہم نے اپنی نشانیوں کو اس گروہ کے لیے تفصیل کے ساتھ بیان کردیا ہے جو گروہ نصیحت پکڑنے والا ہے انہی لوگوں کے لیے ان کے پروردگار کے یہاں سلامتی کا گھر ہے بہشت کا ایک نام دارالسلام ہے کیونکہ وہاں ہر آفت سے سلامتی ہے اور وہی پروردگار ان کا کارساز اور مددگار ہے بوجہ اس کے کہ وہ نیک کام کرتے تھے۔ یعنی خدا تعالیٰ کے نبی ﷺ کی تصدیق اور اطاعت کرتے تھے۔
لطائف ومعارف
حضرت شاہ ولی اللہ قدس اللہ سرہ ازالۃ الخفاء میں فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام ؓ میں مختلف جماعتیں تھیں ( ایک جماعت تو وہ تھی کہ جو اپنے فہم و فراست کی بنا پر ابتداء بعثت میں آنحضرت ﷺ پر ایمان لے آئی تھی انہی میں عثمان غنی ؓ بھی تھے اور اس جماعت کے سر دفتر صدیق ؓ تھے اور آیۃ کریم فمن یرد اللہ ان یھدیہ یشرح صدرہ للاسلام میں انہی لوگوں کا ذکر ہے جن کی فطرت میں توحید اور ایمان اور ترک اصنام اور ترک زنا اور ترک شراب وغیرہ وغیرہ اس قسم کے محاسن اعمال ابتداء خلقت میں ودیعت رکھے گئے تھے اور اس بارے میں انہوں نے بہت سی خوابیں بھی دیکھی تھیں جو آں حضرت ﷺ کی نبوت و رسالت پر دلالت کرتی تھیں اسی لیے یہ لوگ آنحضرت ﷺ پر بمجرد دعوت ایمان لے آئے اور تکریر دعوت کی ضرورت پیش نہیں آئی۔
اور ایک جماعت وہ تھی کہ جو ایک مدت تک کفر اور اسلام کی عداوت میں رہی اور آپ ﷺ کی رسالت کے منکر رہے انہیں لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے مردوں سے تعبیر کیا ہے مگر بعد میں توفیق الٰہی ان کے شامل حال ہوئی اور اسلام کے زمرہ میں داخل ہوئے اور حیات حقیقی حاصل کی اور بہترین مسلمان کہلائے جیسے حمزہ ؓ اور حضرت عمر ؓ وغیرہ وغیرہ مگر حضرت عمر ؓ اس گروہ کے سر دفتر تھے اور آیۂ کریمہ افمن کان میتا فاحییناہ الایۃ میں اللہ تعالیٰ نے انہی لوگوں کی طرف اشارہ فرمایا ہے وجعلنا لہ نورا یمشی بہ فی الناس میں اس طرف اشارہ ہے کہ وہ شخص باری اور مہدی ہوگا اور مسلمانوں کو اس سے نفع عظیم پہنچے گا اس فریق میں سے یہ صفت فاروق اعظم ؓ کی ذات میں منحصر تھی اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر ؓ کو حیات، معنوی اور ہدایت کے ساتھ موصوف کیا پس جب ان آیات کے سیاق وسباق میں غور کیا جاتا ہے تو ان آیات سے ذہن شیخین ؓ کی طرف منتقل ہوجاتا ہے کیونکہ شرح صدر صدیقیت کی حقیقت ہے اور عطاء نور ہدایت محدثیت کی حقیقت ہے اور انہی کے طریقہ کو اللہ نے صراط مستقیم فرمایا ہے اور کمن مثلہ فی الظلمات لیس بخارج منہا میں ظلمات سے کفر وضلالت کی ظلمتیں مراد ہیں زید بن اسلم ؓ ہے کہ پہلی آیت یعنی اومن کان میتا حضرت عمر ؓ کے بارے میں ہے اور دوسری آیت یعنی کمن مثلہ فی الظلمت لیس بخارج منہا ابوجہل کے بارے میں ہے کیونکہ ابتداء میں دونوں کافر تھے مگر اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر ؓ کو حیات حقیقی عطاء فرمائی اور ابوجہل کو کفر اور ضلالت کی تاریکی میں رکھا اس طرح ان آیات میں بطریق تعریض حضرت عمر فاروق ؓ اور ابوجہل کا حال بیان کیا گیا ہے۔
اور ایک جماعت ضعفاء مسلمین اور فقراء مومنین کی تھی جن کو رؤساء قریش بنظر حقارت دیکھتے تھے اور ان کی مجالست کو اپنے لیے باعث عار سمجھتے تھے انہیں لوگوں کی شان میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ولا تطرد الذین یدعون ربھم بالغدوۃ والعشی یریدون وجہہ
اور آیۂ کریمہ قل ھو القادر علی ان یبعث علیکم عذابا من فوقکم او من تحت ارجلک۔۔۔ الی۔۔۔ ویذیق بعضکم بأ س بعض میں اس قتال مسلمین کی کی طرف اشارہ ہے جو چونتیس سال بعد واقع ہونے والا تھا ایک متواتر اور ظاہر حدیث میں وارد ہوا ہے کہ عذاب تو آنحضرت ﷺ کی دعا سے اٹھادیا گیا مگر آپس میں ایک دوسرے کو اذیت دینا باقی رہا۔
خلاصہ کلام کہ آیۂ کریمہ فمن یرد اللہ ان یھدیہ یشرح صدرہ للاسلام میں ابوبکر صدیق ؓ کی طرف اشارہ ہے اور آیۂ کریمہ او من کان میتا فاحییناہ وجعلنا لہ نورا یمشی بہ فی الناس میں فاروق اعظم ؓ کی طرف اشارہ ہے اور آیۂ کریمہ کمن مثلہ فی الظلمت لیس بخارج منہا میں ابوجہل کی طرف اشارہ ہے اور آیۂ کریمہ ولا تطرد الذین یدعون ربھم بالغدوۃ والعشی یریدون وجھہ میں اصحاب صفہ یعنی درویشان اسلام کے گروہ کی طرف اشارہ ہے۔ اور آیہ کریمہ قل ھو القادر علی ان یبعث علیکم عذابا من فوقکم الخ میں اس فتنہ کی طرف اشارہ ہے جو خلافت راشدہ کے ختم پر مسلمانوں میں باہمی قتل و قتال اور جنگ وجدال کی صورت میں نمودار ہوا (حضرت شاہ ولی اللہ (رح) کے کلام کا خلاصہ ختم ہوا )