6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 6:128–135

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا١ۚ یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُمْ مِّنَ الْاِنْسِ١ۚ وَ قَالَ اَوْلِیٰٓؤُهُمْ مِّنَ الْاِنْسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَّ بَلَغْنَاۤ اَجَلَنَا الَّذِیْۤ اَجَّلْتَ لَنَا١ؕ قَالَ النَّارُ مَثْوٰىكُمْ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:128 in the Quran reader

اور جس دن وہ سب (جن وانس) جو جمع کریگا (اور فرمائے گا کہ) اے گروہ جناّت تم نے انسانوں سے بہت (فائدے) حاصل کیے۔ تو جو انسانوں میں ان کے) (دوست دار ہوں گے وہ کہیں گے کہ پروردگار ہم ایک دوسرے سے فائدہ اٹھاتے رہے اور (آخر) اس وقت کو پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لیے مقرر کیا تھا۔ خدا فرمائے گا (اب) تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے۔ ہمیشہ اس میں (جلتے) رہو گے مگر جو خدا چاہے۔ بیشک تمہارا پروردگار دانا اور خبردار ہے۔

وَ كَذٰلِكَ نُوَلِّیْ بَعْضَ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ۠ Open ayah 6:129 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم ظالموں کو ان کے اعمال کے سبب جو وہ کرتے تھے ایک دوسرے پر مسلط کردیتے ہیں۔

یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ وَ یُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ؕ قَالُوْا شَهِدْنَا عَلٰۤى اَنْفُسِنَا وَ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ Open ayah 6:130 in the Quran reader

اے جن وانسانوں کی جماعت کیا تمہارے پاس پیغمبر نہیں آتے رہے جو میری آیتیں تم کو پڑھ پڑھ کر سناتے اور اس دن کے سامنے آموجود ہونے سے ڈراتے تھے ؟ وہ کہیں گے کہ (پروردگار) ہمیں اپنے گناہوں کا اقرار ہے۔ ان لوگوں کو دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا اور (اب) خود اپنے اوپر گواہی دی کہ کفر کرتے تھے۔

ذٰلِكَ اَنْ لَّمْ یَكُنْ رَّبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا غٰفِلُوْنَ Open ayah 6:131 in the Quran reader

(اے محمد) یہ (جو پیغمبر آتے رہے اور کتابیں نازل ہوتی رہیں تو) اس لیے کہ تمہارا پروردگار ایسا نہیں کہ بستیوں کو ظلم سے ہلاک کردے اور وہاں کے رہنے والوں کو کچھ بھی خبر نہ ہو۔

وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:132 in the Quran reader

اور سب لوگوں کے بلحاظ اعمال درجے (مقرر) ہیں۔ اور جو کام یہ لوگ کرتے ہیں خدا ان سے بیخبر نہیں۔

وَ رَبُّكَ الْغَنِیُّ ذُو الرَّحْمَةِ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَسْتَخْلِفْ مِنْۢ بَعْدِكُمْ مَّا یَشَآءُ كَمَاۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ ذُرِّیَّةِ قَوْمٍ اٰخَرِیْنَؕ Open ayah 6:133 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار بےپروا (اور) صاحب رحمت ہے۔ اگر چاہے (تو اے بندو) تمہیں نابود کردے اور تمہارے بعد جن لوگوں کو چاہے تمہارا جانشین بنادے۔ جیسا تم کو بھی دوسرے لوگوں کی نسل سے پیدا کیا ہے۔

اِنَّ مَا تُوْعَدُوْنَ لَاٰتٍ١ۙ وَّ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 6:134 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ جو وعدہ تم سے کیا جاتا ہے وہ (وقوع میں) آنے والا ہے اور تم (خدا کو) مغلوب نہیں کرسکتے۔

قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:135 in the Quran reader

کہہ دو کہ لوگو ! تم اپنی جگہ عمل کیے جاؤ میں (اپنی جگہ) عمل کیے جاتا ہوں۔ عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا کہ آخرت میں (بہشت) کس کا گھر ہوگا۔ کچھ شک نہیں کہ مشرک نجات نہیں پانے کے۔

قال اللہ تعالیٰ ویوم یحشرھم جمیعا۔۔۔ الی۔۔۔ انہ لا یفلح الظلمون (ربط) گذشتہ آیات میں مومن اور کافر کی مثال بیان کی اور یہ بتلایا کہ یہ کافر جو مسلمانوں سے مجادلہ کرتے ہیں اور ان سے جھگڑتے ہیں یہ سب شیاطین کے اغواء سے ہے اب ان آیات میں یہ بیان کرتے ہیں کہ قیامت کے دن شیاطین جن سے باز پرس ہوگی کہ تم نے بہت سے انسانوں کو گمراہ کیا اس کے بعد جو آدمی ان کے مطیع تھے وہ اس کا جواب دیں گے اور بعد اذان شیاطین جن وانس دونوں کے لیے سزا کا اعلان کیا جائے گا چناچہ فرماتے ہیں اور جس دن خدا تعالیٰ جن وانس سب کو یکجا جمع کرے گا تاکہ ایک دوسرے کے سوال جواب کو سن سکے اس دن خدا تعالیٰ سب کو جمع کر کے یہ کہے گا اے گروہ جنات یعنی شیاطین تم نے انسانوں کے گمراہ کرنے میں بڑا حصہ لیا اور بہتوں کو مکروفریب سے (اس لفظ سے گذشتہ آیت عذاب شدید نما کانوا یمکرون) کے ساتھ ربط کی طرف اشارہ ہے) بہکا کر اپنے تابع کرلیا اور اس طرح اپنی بڑی جماعت بنالی اس آیت میں جنات کو اس لیے خطاب فرمایا کہ مکروفریب میں اصل وہی ہیں اور آدمیوں میں سے جو ان کے دوست ہیں ان سے بھی باز پرس ہوگی وہ اقرار کریں گے اور یہ کہیں گے اے پروردگار بیشک ہم قصور وار ہیں ہم نے دنیا میں ایک دوسرے سے فائدہ اٹھایا یعنی جنوں نے ادمیوں سے فائدہ اٹھایا اور آدمیوں نے جنوں سے جنوں نے ادمیوں سے یہ فائدہ اٹھایا کہ آدمیوں نے ان کی اطاعت اور فرمانبرداری کی اور ان کی سرداری مانی اور آدمیوں نے جنوں سے یہ فائدہ اٹھایا کہ جنوں نے ادمیوں کے لیے نفسانی شہوات اور لذات کے عجیب عجیب طریقے تلقین کیے اور ان کی خواہشات کو مزین اور مستحسن کر کے ان کو دلدادۂ شہوات بنایا اس طرح ہم نے خوب مزے اڑائے اور شہوات حاضرہ کو لذات غائبہ پر ترجیح دی حتی کہ ہم نے خواہشات کے حصول اور ان کی جدوجہد میں بےانتہا مشقتیں برداشت کیں یہ تو ہم نے جنات سے فائدہ اٹھایا اور جنات نے ہم سے یہ فائدہ اٹھایا کہ انہوں نے یہ دیکھا کہ انسانوں نے ہمیں اپنا سردار بنالیا ہے اور یہ سب ہمارے حکم اور اشارہ پر دوڑے چلے جارہے ہیں ہمارا کہنا چل رہا ہے اور انبیاء کرام اور ان کے وارثوں کی ہدایات اور ارشادات سے آنکھیں بند کرلی ہیں اور اسی طرح ہم دنیا میں مست اور سرشار رہے یہاں تک کہ ہم اس میعاد اور مدت کو پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لیے مقرر کی تھی یعنی قیامت آگئی جس کو ہم جھٹلاتے تھے اور اب وہ وقت ہمارے سامنے آگیا ہے جس کے ہم انکاری تھے اور آنکھوں سے پرد اٹھ گیا اب جو حکم صادر فرمایا جائے وہ آپ کی مرضی ہے اس وقت حق تعالیٰ کفار جن اور کفار انس دونوں سے یہ فرمائیں گے کہ جب تم بلا تو یہ کیے مدت معینہ پورا کر کے ہمارے روبرو پیش ہوئے تو تم سب کا ٹھکانہ دوزخ ہے تابع اور متبوع خادم اور مخدوم سب دوزخ میں بھی اکٹھے ہی رہیں گے جس طرح دنیا میں اکٹھے تھے تاکہ جس طرح دنیا میں باہمی اجتماع ہو موجب لذت و فرحت تھا اسی طرح دوزخ میں سب کا باہمی اجتماع موجب ذلت و حسرت ہو اور اس آگ کے ٹھکانہ میں تم سب ہمیشہ رہو گے جس سے خلاصی اور رہائی کے کوئی سبیل نہیں مگر یہ کہ خدا ہی کسی کو نکالنا چاہے تو وہ دوسری بات ہے مطلب یہ ہے کہ بیشک کافروں کے لیے دوزخ کا دائمی اور ابدی عذاب ہے مگر وہ اس کے چاہے یعنی اس کے ارادہ اور مشیت پر موقوف ہے وہ جب چاہے موقوف بھی کرسکتا ہے لیکن وہ کافروں کے لیے دائمی اور ابدی عذاب چاہ چکا ہے جس کی خبر اس نے اپنے قرآن کی بہت سی ایتوں میں دیدی اور ہر زمانہ میں پیغمبروں کی زبانی یہ خبر دی جا چکی ہے کہ کافر ہمیشہ ہمیشہ عذاب میں رہیں گے وہ کبھی بھی دوزخ سے نہیں نکل سکیں گے خلاصۂ کلام یہ کہ اس استثناء سے مقصود مبالغہ ہے کہ تم ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں پڑے رہو گے اور تمہارا خلود کبھی کتم نہ ہوگا مگر یہ کہ اللہ ہی چاہے تو پھر اس کا ختم ہونا ممکن ہے خلاصہ مطلب آیت کا یہ ہے کہ جاؤ تم سب کا ٹھکانا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم ہے تم ہمیشہ اس میں رہو گے مگر جب اللہ چاہے تو وہ نکال بھی سکتا ہے لیکن وہ کیوں چاہے گا کہ تم جیسے خدا اور رسول کے جھٹلانے والوں کو جہنم سے نکالے کافروں کے لیے دائمی عذاب کا حکم قطعی صادر ہوچکا ہے بیشک تیرا پروردگار حکمت والا جاننے والا ہے اس کا کوئی کام علم و حکمت سے خالی نہیں کفار کے دائمی عذاب میں بھی حکمت ہے اسے تمام جرائم کا علم ہے جس درجہ کا جرم ہے اسی درجہ کی سزا ہے جو سزا یعنی دائمی عذاب حق تعالیٰ نے ان کے لیے تجویز فرمائی ہے وہ نہایت مناسب ہے اور عین حکمت اور عین صواب ہے تمام اہل سنت والجماعت کا اس پر اجماع ہے کہ اہل ایمان کا ثواب اور کافروں کا عذاب دائمی اور ابدی ہے اہل ایمان ہمیشہ ہمیشہ جنت میں رہیں گے اور کافر ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اہل ایمان کا ثواب اور کافروں کا عذاب کبھی ختم نہ ہوگا۔ اور فرقۂ جہمیہ کا مذہب یہ ہے کہ چند روز کے بعد جنت اور جہنم دونوں فنا ہوجائیں گے ابن تیمیہ حنبلی (رح) تعالیٰ اور ان کے شاگرد خاص ابن قیم (رح) تعالیٰ کا مذہب یہ ہے کہ جنت کا ثواب تو دائمی ہے اہل ایمان تو ہمیشہ ہمیشہ جنت میں رہیں گے (جیسا کہ اہلسنت والجماعت کا مذہب ہے) مگر دوزخ کا عذا دائمی نہیں صرف ایک مدت دراز تک کافروں پر عذاب رہے گا جس کو اللہ تعالیٰ نے خلود سے تعبیر کیا ہے مگر ایک عرصہ کے بعد خدا کے رحم وکرم سے یہ عذاب ختم ہوجائے گا (جیسا کہ فرقہ جہمیہ کا مذہب ہے) ابن تیمیہ (رح) تعالیٰ کا یہ قول سراسر شاذ ہے اور اہل سنت والجماعت کے اجماع کے بالکل خلاف ہے بلکہ صریح آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ کے خلاف ہے جیسا کہ ہم عنقریب واضح کریں گے غرض یہ کہ ثواب اور عقاب کے بارے میں ابن تیمیہ (رح) تعالیٰ کا یہ قول اور یہ مسلک نصف سنی ہے اور نصف جہمی ہے جو صراحۃ نصوص قطعیہ کے خلاف ہے اور وہ نصوص اس درجہ صریح اور واضح ہیں کہ ان میں تاویل کی بھی گنجائش نہیں اور ابن تیمیہ (رح) تعالیٰ اور ابن قیم (رح) تعالیٰ نے جو ضعیف اور موضوع روایتیں اور سلف کے بعض مجمل اور محتمل اقوال اس بارے میں پیش کیے ہیں وہ صریح نصوص قرآنیہ اور احادیث نبویہ کے مقابلہ میں نہیں غھہر سکتیں لہٰذا ان کے جواب دینے کی بھی چنداں ضرورت نہیں۔ آیات قرآنیہ پہلے پارہ میں یہ آیت گذر چکی ہے (1) بلی من کسب سیئۃ واحاطت بہ خطیئتہ فاولئک اصحب النار ھم فیہا خلدون اور یہود بےبہبود کا یہ قول بھی گذر چکا ہے وقالوا لن تمسنا النار الا ایاما معدودۃ لہٰذا جو شخص یہ کہتا ہے کہ چند روز کے بعد جہنم فنا ہوجائے گی یا جہنم کا عذاب ختم ہوجائے گا سو اس کا یہ قول یہود کے اس قول کے مشابہ ہے جو یہ کہتے تھے کہ ہم کو صرف چند روز کے لیے آگ میں رہنا ہوگا جتنے روز بنی اسرائیل نے گو سالہ کی پرستش کی صرف اتنے دن عذاب میں رہنا ہوگا بعد میں نجات ہوجائے گی اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہود کے اس قول کی تردید فرمائی اور بتلادیا کہ یہود کی یہ بات بالکل غلط ہے یہود ہمیشہ کے لیے دوزخ میں رہیں گے اور قاعدہ کلیہ بیان کردیا کہ کافر ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے کبھی اس سے نہیں نکل سکیں اور یہود سے بھی اسی حکم عام اور قاعدۂ کلیہ کے مطابق معاملہ ہوگا اور یہود سے اللہ تعالیٰ نے کوئی عہد نہیں کیا کہ وہ صرف چند روز کے لیے جہنم میں رکھے جائیں گے ابن تیمیہ کا یہ قول یہود کے اس قول کے مشابہ ہے۔ 2 ۔ ان الذین کفروا وماتوا وھم کار اولئک علیھم لعنۃ اللہ والملئکۃ والناس اجمعین خلدین فیھا لا یخفف عنھم العذاب ولا ھم ینظرون 3 ۔ ومن یرتدد منکم عن دینہ فیمت وھو کافر فالئک حبطت اعمالھم فی الدنیا والخرۃ واولئک وصحب النار ھم فیھا خلدون 4 ۔ والذین کفروا اولیئھم الطاغوتیخرجونھم من النور الی الظلمت اولئک اصحب النار ھم فیھا خلدون ومن عاد فاولئک اصحب النار ھم فیھا خلدون 6 ۔ خلدین فیھا لا یخفف عنہم العذاب ولا ھم ینظرون الا الذین تابوا 7 ۔ ان الذین کفروا لن تغنی عنھم اموالھم ولا اولادھم من اللہ شیئا واولئک اصحب النار ھم فیھا خلدون 8 ومن یعص اللہ ورسولہ ویتعدد حدودھہ یدخلہ نارا خالدا فیھا 9 ۔ ومن یقتل مومنا متعمدا فجزاءہ جھنم خالدا فیھا 10 ان الذین کفرو وظلموا لم یکن اللہ لیغفر لھم ولا لیھدیھم طریقا الا طریقہ جھنم خلدین فیھا ابدا 11 ۔ النار مثواکم خلدین فیھا الا ماشاء اللہ 12 ۔ والذین کذبوا بایتنا واستکبروا عنھا اولئک اصحب النار ھم فیھا خلدون 13 ۔ الم یعلموا انہہ من یحادد اللہ ورسولہ فان لہ نار جھنم خالدا فیھا 14 ۔ وعد اللہ المنفقین والمنفقت والکفار نار جھنم خالدین فیھاھی حسبھم ولعنھم اللہ ولھم عذاب مقیم (ای دائم) 15 ۔ کانما اغشیت وجوھھم قطعا من الیل مظلما اولئک اصحب النار ھم فیھا خلدون 16 ۔ فاما الذین شقوا ففی النار لھم فیھا زفیر وشھیق، خلدین فیھا مادامت السموات والارض الا ماشاء ربک 17 ۔ اولئک الذین کفروا بربھم واولئک الاغلل فی اعناقھم واولائک اصحب النار ھم فیھا خلدون 18 ۔ فادخلوا ابواب جھنم خلدین فیھا فلبئس مثوی المتکبرین 19 ۔ ومن خفت موازینہ فاولئک الذین خسروا انفسھم فی جھنم خلدون 20 ۔ وذوقوا عذاب الخلد بما کنتم تعملون 21 ۔ یضعف لہ العذاب یوم القیامۃ ویخلد فیہ مہانا 22 ۔ ان اللہ لعن الکفرین واعد لھم سعیرا۔ خلدین فیھا ابدا 23 ۔ قیل ادخلوا ابواب جھنم خلدین فیھا فبئس مثوی المتکبرین 24 ۔ ذلک جذاء اعداء اللہ النار لھم فیھا دار الخلد 25 ۔ ان المجرمین فی عذاب جھنم خلدون لا یفتر عنہم 26 ۔ کمن ھو خالد فی النار 27 ۔ لن تغنی عنھم اموالھم ولا اولادھم من اللہ شیئا اولئک اصحب النار ھم فیھا خلدون 28 ۔ فکان عقبتھما انھما فی النار خالدین فیھا 29 ۔ والذین کفروا وکذبوا بایتنا اولئک اصحب النار خلدین فیھا وبئس المصیر 30 ۔ ومن یعص اللہ ورسولہ فان لہ نار جھنم خلدین فیھا ابدا 31 ۔ ان الذین کفرو من اھل الکتاب والمشرکین فی نار جھنم خلدین فیھا یہ اکتیس آیتیں جن میں صراحۃً کافروں کے مخلد فی النار ہونے کا ذکر ہے اور بعض آیتوں میں خلود کے ساتھ ابدا کا لفظ بھی آیا ہے اور اگر ان آیات کے ساتھ ان آیتوں کو بھی شامل کرلیا جائے جو انہی آیتوں کے ہم معنی اور ہم مضمون ہیں ت وعدد شمار سے باہر ہوجائے گا مثلاً ۔ 1 ۔ فلا یخفف عنھم العذاب۔ 2 ۔ وماھم بخارجین من النار 3 ۔ وما لہ فی الاخرۃ من خلاق 4 ۔ وما لھم من نصرین 5 ۔ کلما نضجت جلودھم بدلنھم جلودا غیرھا لیذوقوا العذاب 6 ۔ لا یجدون عنھا محیصا 7 ۔ وماھم بخارجین منھا ولہم عذاب مقیم 8 ۔ لیس مصروفا عنہم 9 ۔ اولئک الذین لیس لھم فی الاخرۃ الا النار 10 ۔ مالنا من محیص 11 ۔ جھنم یصلونھا وبئس القرار 12 ۔ اخسئوا فیھا ولا تکلمون 12 ۔ اولئک یئسوا من رحمتی 14 ۔ فالیوم لا یخرجون منھا من غم اعیدو فیھا 17 ۔ مأوھم جھنم کلما خبت زدنھم سعیرا 18 ۔ فالیوم لا یخرجون منھا ولا ھم یستعتبون 19 ۔ ادعوا ربکم یخفف عنا یوم من العذاب 20 ۔ وما دعؤا الفرین الا فی ضلیل 21 ۔ الا ان اظلمین فی عذاب مقیم۔ 22 ۔ فلیس لہ الیوم ھھنا حمیم۔ ولا طعام الا من غسلین 23 ۔ فلن نزیدکم الا عذابا 34 ۔ ثم لا یموت فیھا ولا یحییٰ 25 ۔ نار مؤصدۃ 26 ۔ وما ھم عنھا بغآئبین وغیر ذلک من الآیات۔ اب ان تمام آیات کا مجموعہ 57 ہوا شیخ تقی الدین سبکی (رح) تعالیٰ اپنے رسالہ الاعتبار ببقاء الجنۃ والنار میں ان تمام آیات کو لکھ کر فرماتے ہیں کہ اس قسم کی بیشمار آیتیں ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کافر ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور ان آیات میں تاویل ایسی ہی ناممکن اور محال ہے جیسے بعث جسمانی کی آیتوں میں تاویل ناممکن اور محال ہے شیخ تقی الدین سبکی (رح) تعالیٰ ان آیات کو نقل کر کے فرماتے ہیں کہ اسی طرح کافروں کے دائمی اور ابدی عذاب کے بارے میں احادیث بھی بیشمار آئی ہیں جیسا کہ حدیث میں ہے کہ جب اہل جنت، جنت میں اور اہل نار، نار میں پہنچ جائیں گے تو موت کو مینڈھے کی شکل میں لایا جائے گا اور جنت اور جہنم کے درمیان اس کو ذبح کیا جائے گا اور پھر اللہ کے حکم سے ایک منادی یہ اعلان کریگا کہ اے اہل جنت اب خلود یعنی بقاء اور دوام ہی ہے اور کبھی بھی موت نہیں اور اے اہل نار اب خلود یعنی بقاء اور دوام ہی ہے اس کے بعد موت نہیں یہ سن کر اہل جنت تو خوش ہوجائیں گے اور کافر ناامید اور غمگین ہوجائیں گے۔ اور حدیث میں ہے کہ تمام اہل کبائل جہنم سے نکل جائیں گے اور صرف وہ لوگ جن کو قرآن نے روکا ہے یعنی کافر جہنم میں باقی رہ جائیں گے اور حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں پر جنت کو حرام کردیا ہے۔ (شیخ تقی الدین سبکی (رح) تعالیٰ حدیث اور فقہ کے مسلم حافظ اور فقیہ ہیں اور حافظ ابن تیمیہ (رح) تعالیٰ کے ہمعصر ہیں 756؁ نے جن مسائل میں جمہور امت سے تفرد اور شذوذ کی راہ اختیار کی اور اجماع کی مخالفت کی ان مسائل میں تقی الدین سبکی (رح) تعالیٰ نے ابن تیمیہ (رح) تعالیٰ کا رد لکھا اور خوب لکھا ان میں سے ایک رسالہ یہی ہے جس میں ابن تیمیہ (رح) تعالیٰ کے اس قول شاذ کا رد لکھا کہ دوزخ کا عذاب دائمی نہیں حضرات اہل علم اصل رسالہ کی مراجعت کریں اس کے علاوہ ابن تیمیہ نے جو تین طلاق کو ایک طلاق قرار دیکر اجماع صحابہ وتابعین کے خلاف کیا ہے اور توسل اور زیارت نبوی کے لیے سفر کو ممنوع قرار دیا ہے اس قسم کے تمام مسائل کی تحقیق کے لیے تقی الدین سبکی (رح) تعالیٰ نے مستقل کتابیں لکھی ہیں ان کو دیکھ لیا جائے۔ ) حافظ عسقلانی (رح) تعالیٰ فتح الباری ص 362 ج 11 میں کافروں کے دائمی عذاب کی حدیثوں کو نقل کر کے فرماتے ہیں کہ امام قرطبی (رح) تعالیٰ یہ فرماتے ہیں کہ ان احادیث میں اس امر کی تصریح ہے کہ کافروں کے خلود فی النار کی کوئی حد اور نہایت نہیں اور کفار دوزخ میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے نہ ان کو موت آئیگی اور نہ نفع اور راحت کی کوئی زندگی ہوگی جیسا کہ حق تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے لا یقضی علیھم فیموتوا ولا یخفف عنھم من عذابھا کلما ارادوا ان یخرجوا منھا اعیدوا فیھا۔ بعد ازاں امام قرطبی (رح) تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جس شخص نے یہ زعم کیا کہ کافر دوزخ سے نکال لیے جائیں گے اور دوزخ بالکل خالی رہ جائے گی یا یہ گمان کیا کہ دوزخ ہی سرے سے زائل اور فنا ہوجائے گی تو ایسے قاتل نے اس دین اور شریعت سے خروج اور انحراف کیا کہ جو حضور پر نور ﷺ اللہ کی طرف سے لے کر آئے اور اس زاعم اور قاتل نے اس چیز سے بھی خروج کیا کہ جس پر تمام اہل سنت کا اجماع ہوچکا ہے (امام قرطبی (رح) تعالیٰ کا کلام ختم ہوا ) حافظ عسقلانی (رح) تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جہمیہ کا قول تو یہ ہے کہ جہنم چند روز کے بعد بالکل فنا ہوجائے گی اس لیے کہ وہ حادث ہے اور ہر حادث فانی ہے اور بعض لوگ اس طرف گئے ہیں کہ دوزخ فنا تو نہیں ہوگی مگر کچھ مدت کے بعد اس کا عذاب ختم ہوجائے گا اور دوزخی لوگ اس سے نکل جائیں گے اور بعض متاخرین (یعنی ابن تیمیہ) کا میلان اسی طرف ہے۔ وھو مذھب ردی مردود علی قائلہ وقد اطنب السبکی الکبیر فی بیان وھاتہ فاجاد (فتح الباری ص 362 ج 11 باب صفۃ الجنۃ والنار من کتاب الرقاق) اور یہ مذہب نہایت ردی اور مردود ہے اور شیخ تقی الدین سبکی کبیر (رح) تعالیٰ نے اس قول کے فساد اور خرابی کے بیان میں تفصیل سے کلام کیا ہے اور نہایت عمدہ اور جید طریق سے اس قول کا رد کیا ہے۔ اور ابن حزم نے بھی جنت و جہنم کے ثواب و عقاب کے دائمی ہونے پر اجماع نقل کیا اور یہ کہا ہے کہ امت محمدیہ کے تمام فرقے اس پر متفق ہیں کہ جنت اور جہنم اور ان کا ثواب اور عقاب کبھی ختم نہ ہوگا الخ تفصیل کے لیے ملل ونحل دیکھو ص 83 ج 4 ایک شبہ : جن لوگوں کا یہ خیال خام ہے کہ دوزخ کا عذاب دائمی نہیں ایک عرصہ کے بعد خدا تعالیٰ کے رحم وکرم سے یہ عذاب ختم ہوجائے گا وہ اس آیت میں جو لفظ الا ماشاء اللہ آیا ہے اس سے استدلال کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ یہ لفظ النار مثوکم خلدین فیھا سے استثناء ہے معلوم ہوا کہ کافروں کا عذاب دائمی نہیں۔ جواب : یہ ہے کہ یہ استدلال بالکل غلط ہے آیت میں الا ماشاء اللہ کا لفظ محض اللہ کی مشیت اور اختیار اور قدرت کے بیان کرنے کے لیے بڑھایا گیا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ کافروں کا دائمی عذاب اللہ کے ارادہ اور مشیت پر موقوف ہے وہ جب چاہے اسے ختم کرسکتا ہے یہ استثناء محض اظہار قدرت ومشیت کے لیے ہے نہ کہ خبار کے لیے یعنی اس خبر دینے کے لیے نہیں کہ کافروں کا عذاب چند روز کے بعد ختم ہوجائے گا تاکہ کافر امید لگا کر بیٹھ جائیں کہ چند روز کے بعد یہ مصیبت ختم ہوجائے گی قرآن کریم میں ایک جگہ ارشاد ہے کہ شعیب (علیہ السلام) نے کافروں کے جواب میں یہ فرمایا وما یکون لنا ان نعود فیھا الا ان یشاء اللہ ربنا کہ ہمارا کفر وشرک کی طرف جانا ناممکن اور محال ہے مگر جو اللہ چاہے سو اس استثناء سے معاذ اللہ انبیاء کرام کے کفر وشرک کا امکان بیان کرنا نہیں بلکہ اللہ کی مشیت کو بتلانا مقصود ہے کہ ایمان اور ہدایت سب ان کے اختیار میں ہے اسی طرح اس آیت میں سمجھو کہ اس استثناء سے محظ اظہار قدرت ومشیت مقصود ہے معاذ اللہ یہ خبر دینا مقصود نہیں کہ یہ عذاب دوزخ چند روزہ تکلیف ہے بعد چندے یہ مصیبت ختم ہوجائیگی خدا تعالیٰ نے اپنے کلام کی بیشمار آیتوں میں اس بات کی قطعی خبر دی ہے کہ کافروں کا عذاب کبھی ختم نہ ہوگا اور نہ اس میں تخفیف ہوگی بلکہ دن بدن اس میں زیادتی ہوتی جائے گی حضرت شاہ عبدالقادر (رح) تعالیٰ نے الا ماشاء اللہ کی یہی تفسیر اختیار کی جس کو ہم پہلے بیان اور علامہ آلوسی (رح) تعالیٰ نے بھی اس تفسیر کو اختیار فرمایا ہے۔ (حاشیہ : علامہ آلوسی روح المعانی ص 312 ج 8 میں لکھتے ہیں ونقل عن بعضھم ان ھذا الاستثناء معذوق بمشییئۃ اللہ تعالیٰ دفع العذاب ای یخلدون الی ان یشاء اللہ تعالیٰ لو شاء وفائدتہ اظہار القدرۃ والاذعان بان خلودھم انما کان لان اللہ تعالیٰ شانہ قد شاء ہ وکان من الجائز العقلی فی مشیئۃ ان لا یعذبھم ولو عذبھم لا یخلدھم وان ذلک لیس بامر واجب علیہ ونما ھو مقتضی ارادتہ ومشیئتہ عزوجل وفی الایۃ علی ھذا دفع فی صدور المعتزلۃ الذین یزعمون ان تخلید الکفار واجب علی اللہ بمقتضی الحکمۃ ولعل ھذا ھو الحق الذی لا محیص عنہ کذا فی روح المعانی ص 24 ج 8 ویو ید ذلک ماروا ابن جریر عن ابن عباس انہ کان یتأول فی ھذ الاستثناء ان اللہ جعل امر ھؤ لاء فی مبلغ عذابہ ایاھم الی مشیئتہ، تفسیر ابن جریر ص 26 ج 8 قال ابن حزم الاندلسی الظاھری المتوفی 456 ھ روینا عن عبداللہ بن عمرو بن العاص لو اقام اھل النار فی لنار ماشاء اللہ ان یبقوا لکان لھم علی ذلک یوم یخرجون فیہ منھا قال ابو محمد انما ھو فی اھل الاسلام الداخلین فی النار بکبائرھم ثم یخرجون منھا بالشفاعۃ ویبقی ذلک المکان خالیا ولا یحل لاحدان یظن فی الصالحین الفاضلین خلاف القرآن وحاشا لھما من ذلک وباللہ التوفیق (ملل ونحل لابن حزم ص 86 ج 4) جواب دیگر : ابن عباس ؓ اور دیگر علماء سے یہ مروی ہے کہ اس آیت میں لفظ ما بمعنی من ہے اور اس سے عصاۃ مومنین مراد ہیں یعنی جن اہل ایمان کو اللہ چاہے گا وہ نار میں داخل ہی نہ ہوں گے یا داخل ہونے کے بعد حق تعالیٰ کی رحمت سے یا نبی یا فرشتہ کی شفاعت سے دوزخ سے نکال لیے جائیں گے یا لفظ ما سے وہ لوگ مراد ہیں جو انہی کافروں میں آیندہ چل کر ایمان لے آویں گے اور اسلام میں داخل ہوجائیں گے سو ایسے لوگ النار مثواکم خلدین فیھا کے حکم سے مستثنی ہیں۔ یا یوں کہا جائے کہ شروع آیت میں خطاب تمام مجرمین کو ہے خواہ وہ کفر وشرک کے مجرم ہوں یا ارتکاب کبیرہ کے مجرم ہوں ابتداء سب دوزخ میں داخل کیے جائیں گے بعد چندے عصاۃ مومنیں یعنی گنہگار مسلمان تو دوزخ سے نکال لیے جائیں گے اور کفار کے لیے ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں رہنے کا حکم ہوگا اور یہی مطلب ہے کہ اس کا کہ جو بعض صحابہ ؓ سے نقل کیا جاتا ہے کہ دوزخ پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ کوئی اس میں نہ رہے گا سو بالفرض والتقدیر اگر یہ قول صحیح ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ موحدین اور اہل ایمان سے کوئی شخص دوزخ میں باقی نہیں رہے گا جیسا کہ احادیث متواترہ سے ثابت ہے کہ جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا وہ دوزخ سے نکال لیا جائے گا اور صرف کفار جہنم میں باقی رہ جائیں گے (دیکھو فتح الباری 263 ج 11 و کتاب الملل والنحل لابن حزم ص 86 ج 4 خلاصۂ کلام : یہ کہ معشر جن اور ان کے متبعین کو یہ سزا دی جائے گی کہ جاؤ تم سب مل کر جہنم میں رہو اور جس طرح تم سب دنیا میں ساتھ رہے اسی طرح ہم دوزخ میں بعض ظالموں کو بعض ظالموں کے ساتھ ملادیں گے جس درجہ اور جس قسم کا ظالم ہوگا اسی قسم کے اسی طبقہ میں اس کو اس کے ساتھ ملا دیں گے یعنی اس کا ساتھی بنادیں گے ان کے اعمال کفریہ کی وجہ سے یا یہ معنی ہیں کہ دنیا میں بعض ظالموں کو بعض ظالموں پر مسلط کردیتے ہیں اور اس کو اس کے ہاتھ سے خوار اور ہلاک کراتے ہیں تاکہ وہ اپنے ظلم کی سزا ظلم ہی سے بھگتیں حدیث میں ہے کہ جو ظالم کی مدد کرے گا اللہ اس پر کسی ظالم کو مسلط کرے گا کسی نے کیا خوب کہا وما من ید الا ید اللہ فوقھا وما ظالم الا سیبلی بظالم رجوع بہ مضمون سابق اب اس استطرادی مضمون کے بعد پھر مضمون سابق کی طرف رجوع کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم قیامت کے دن یہ بھی کہیں گے اے گروہ جن وانس تم مکاروں کے دھوکہ میں کیسے آگئے کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے رسول نہیں آئے تھے جو تم سے میرے احکام بیان کرتے تھے اور اس دن کے سامنے آنے سے تم کو ڈراتے تھے پھر کیا وجہ ہے کہ تم کفر سے باز نہ آئے۔ جمہور ائمہ سلف اور خلف کا مذہب یہ ہے کہ رسل فقط انسانوں میں سے آئے ہیں نہ کہ جنات میں سے ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول تو فقط بنی آدم میں سے ہوئے ہیں البتہ منذرین یعنی مبلغین اور واعظین، جنات میں سے بھی ہوئے ہیں جیسا کہ جنات کے بارے میں ارشاد ہے ولو الی قومہم منذرین (دیکھو تفسیر قرطبی ص 86 ج 7 و تفسیر ابن کثیر ص 177 ج 2) بعض لوگوں کو اس آیت سے شبہ ہوا ہے کہ جنات میں سے بھی رسول ہوئے ہیں کیونکہ ظاہرا اس آیت ( یمعشر الجن والانس الم یاتکم رسل منکم) سے بظاہر یہی مفہوم ہوتا ہے کہ رسول جنات اور آدمیوں دونوں سے ہوئے ہیں اگر دونوں میں سے نہ ہوتے تو جنات اور انسانوں دونوں کو مخاطب کر کے یہ نہ کہا جاتا کہ تمہارے پاس تمہارے ہی میں سے رسول نہیں آئے تھے۔ جواب یہ ہے کہ قیامت کے دن یہ خطاب مجموعۂ جن وانس کو ہوگا یعنی مجموعۂ مکلفین کو خطاب ہوگا ہر جماعت سے علیحدہ علیحدہ اور الگ الگ خطاب نہیں ہوگا اور مجموعہ جن وانس میں نبی ہوئے ہیں لہٰذا ان سے یہ پوچھنا صحیح ہے کہ کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے رسول نہیں آئے تھے پس اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ جن اور انس ہر فرقہ سے علیحدہ علیحدہ نبی ہوئے ہیں اس کی نظیر قرآن کریم کی آیت ہے۔ یخرج منھما اللؤلؤ والمرجان۔ ان دونوں دریاؤں میں سے موت اور مونگے نکلتے ہیں حالانکہ یہ چیزیں صرف دریائے شور سے نکلتی ہیں دریائے شیریں سے نہیں نکلتیں لیکن چونکہ ذکر میں دونوں کو ایک ساتھ جمع کرلیا گیا اس لیے ان چیزوں کے نکلنے کی نسبت دونوں کی طرف صحیح ہے کیونکہ یہ چیزیں مجموعہ سے نکلتی ہیں نیز قرآن کریم میں ہے وجعل القمر فیھن نورا یعنی ساتوں آسمانوں میں چاند کو اجالا بنایا حالانکہ چاند ایک ہی آسمان یعنی آسمان دنیا میں ہے نہ کہ سب آسمانوں میں کسی کے نزدیک بھی آیت کا یہ مطلب نہیں کہ ہر آسمان میں چاند ہے چاند تو ایک ہی آسمان میں ہے لیکن ساتوں آسمانوں کے مجموعہ کی طرف اس کی نسبت صحیح ہے مثلا ً اگر کوئی یہ کہے اے عرب وعجم کے باشندو ! اور اے مشرق اور مغرب کے رہنے والو کیا خدا تعالیٰ نے تم ہی میں سے محمد رسول اللہ ﷺ کو پیدا نہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایک محمد تو عرب میں پیدا ہوئے اور ایک محمد عجم میں پیدا ہوئے کیونکہ یہ خطاب مجموعۂ عالم کو ہے انواع اور اجناس کو علیحدہ علیحدہ خطاب نہیں۔ باقی یہ تحقیق کو ہر نوع میں سے الگ اگ پیغمبر بھیجے گئے یا پیغمبر تو فقط نوع بنی انسان سے بھیجے گئے مگر ان کی بعثت جن وانس دونوں کی طرف ہوئی سو یہ آیت اس باین سے ساکت ہے البتہ دوسری آیات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کل پیغمبر حضرت آدم کی اولاد سے ہوئے ہیں اور وہی جنات کو بھی تعلیم دیتے تھے۔ 1 ۔ یا بنی ادم اما یاتینکم رسل منکم یقصون علیکم ایاتی الایۃ 2 ۔ انا اوحینا الیک کما اوحینا الی نوح والنبیین من م بعدہ الی قولہ تعالیٰ رسلا مبشرین ومنذرین لئلا یکون للناس علی اللہ حجۃ م بعد الرسل وجعلنا فی ذریتہ النبوۃ والکتاب یعنی ابراہیم کے بعد ہم نے نبوت اور کتاب کو ابراہیم کی اولاد میں منحصر کردیا 4 ۔ وقال تعالیٰ وما ارسلنا قبلک من المرسلین الا انھم لیا کلون الطعام ویمشون فی الاسواق 5 ۔ وما ارسلنا من قبلک الا رجالا نوحی الیھم من اھل القریٰ وغیر ذلک من الایات قرآن کریم کی بیشمار آیتوں سے یہ بات ثابت ہے کہ انسانوں کی طرف فرشتہ کو رسول بنا کر نہیں بھیجا گیا اس لیے کہ عام انسان فرشتہ کا اصلی صورت میں دیکھنے کا تحمل نہیں کرسکتے اور بےاندازہ خوف وہیبت کی وجہ سے اس سے استفادہ نہیں کرسکتے اور انسانی صورت میں بےتکلف اس سے استفادہ کرسکتے ہیں اسی طرح سمجھو کہ انسان کا جنوں سے خوف وہیبت کی وجہ سے استفادہ بہت مشکل ہے البتہ جنوں کا انسانوں سے استفادہ سہل اور آسان ہے۔ کافروں کی طرف سے اقرار جرم قیامت کے دن کافروں سے جب باز پرس ہوگی کہ کیا تمہارے پاس ہمارے رسول نہیں آئے اور کیا تم کو ہماری ہدایتیں اور احکام نہیں پہنچے تو اسوقت ان سے کوئی جواب نہیں بن پڑے گا اور اپنے کافر ہونے کا اقرار کریں گے اور یہ کہیں گے کہ ہم اپنی جانوں پر خود اپنے جرم کے گواہ ہیں یعنی ہمیں اس بات کا اعتراف اور اقرار ہے کہ ہمارے پاس تیرے رسول آئے اور انہوں نے ہم کو تیرے احکام کی تبلیغ کی اور اس دن کے پیش آنے سے ہم کو ڈرایا مگر ہم نے ان کو جھٹلایا اور ان پر ایمان نہیں لائے اور یہ سب آفت ان پر اس لیے آئی کہ دنیاوی زندگانی نے ان کو دھوکہ اور فریب میں ڈال دیا وہ یہ سمجھے کہ جو کچھ ہے وہ یہیں کا عیش و آرام ہے قیامت اور حشر نشر تو باتیں ہی باتیں ہیں اور گواہی دیں گے وہ اپنی جانوں پر کہ بیشک ہم دنیا میں کفر کرنے والے تھے پہلا قول کفار کا تھا اور یہ حق تعالیٰ کی طرف سے بطور مذمت ان کے کفر کا بیان ہے تاکہ سامعین اس سے عبرت پکڑیں اور سمجھ لیں کہ قیامت کے دن کا اقرار بیکار ہے اب آئندہ آیت میں اپنی رحمت کو بیان فرماتے ہیں یہ یعنی رسولوں کا بھیجنا اس لیے ہے کہ تیرا پروردگار ایسا نہیں کہ کفر اور شرک کی وجہ سے دنیا میں بستیوں کو ہلاک کردے اور وہاں کے لوگ بیخبر ہوں یعنی اللہ تعالیٰ رسولوں کے بھیجنے سے پہلے لوگوں کو نہیں پکڑتا تاکہ کسی کو یہ کہنے کی گنجائش نہ رہے کہ ہم بیخبر تھے ہم کو بغیر خبردار کیے کیسے پکڑ لیا ہاں خدا تعالیٰ جب رسولوں کو بھیج کر لوگوں پر حجت پوری کردیتا ہے اور پھر بھی وہ اپنے کفر وشرک سے باز نہیں آتے تب ان کو ہلاک کرتا ہے کما قال تعالیٰ وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا وقال تعالیٰ کلما القی فیھا فوج سأ لھم خزنتھا الم یأتکم نذیر قالوا بلی قد جاءنا نذیر۔ غرض یہ کہ اس آیت میں بظلم سے کفر اور شرک کے معنی مراد ہیں اور بعض علماء نے آیت کے یہ معنی بیان کیے کہ اللہ تعالیٰ بدون تنبیہ وتذکیر رسل کسی کو ظلما ہلاک نہیں کرتا کیونکہ اللہ ظالم نہیں۔ اور جب لوگوں کے پاس اللہ کے رسول آگئے اور لوگوں کو احکام پہنچ گئے اور اللہ کی حجت ان پر پوری ہوگئی تو جزاء اور سزا کے مستحق ہوگئے اور لوگوں کے اعمال کے مطابق ہر ایک کے درجے مقرر ہیں جس درجہ کا عمل ہوگا اس کے مطابق معاملہ ہوگا کوئی قعر جہنم میں ہوگا اور کوئی اس کے کنارہ پر کوئی وسط جنت میں ہوگا اور کوئی اس کے کنارہ پر اور تیرا پروردگار لوگوں کے اعمال سے غافل نہیں ان کے نیک وبد اعمال سب اس کے پیش نظر ہیں اس کے بعد حق تعالیٰ کی شان بےنیازی اور شان رحمت کو بیان کر کے کافروں سے خطاب فرماتے ہیں کہ خدا اس پر قادر ہے کہ تمہیں ہلاک کردے اور دوسرے لوگوں کو تمہارے قائم مقام کردے چناچہ فرماتے ہیں اور تیرا پروردگار بڑا بےنیاز رحمت والا ہے اسے کسی کی عبادت اور بندگی کی ضرورت نہیں اور نہ کسی کی اطاعت کا محتاج ہے وہ صاحب رحمت ہے لوگوں کے لیے رسول بھیجتا ہے اور گناہوں پر فورا سزا نہیں دیتا اگر وہ چاہے تو تم سب کو یکلخت اس دنیا سے ملک عدم میں لاے جائے اور تمہارے بعد جس کو چاہے تمہارا جانشین کردے جیسا کہ تم کو دوسرے لوگوں کی نسل سے پیدا کیا کہ ان کو تو فنا کردیا اور تم کو ان کا جانشین بنادیا بیشک جس چیز کا تم سے انبیاء کی معرفت وعدہ کیا جارہا ہے یعنی قیامت اور عذاب کا وہ ضرور آنے والی ہے اور تم خدا کو عاجز نہیں کرسکتے۔ یعنی تمہارا یہ خیال ہو کہ قیامت یا عذاب آنے پر ہم کہیں بھاگ نکلیں گے تو سمجھ کہ تمہارا یہ خیال غلط ہے تم خدا تعالیٰ گرفت سے کہیں چھوٹ نہیں سکتے اور کسی صورت تم اللہ کے عذاب سے بچ نہیں سکتے اے نبی ﷺ ! آپ اپنی قوم کے مشرکوں سے یہ کہہدیجیے کہ تم اپنی جگہ پر کام کرتے رہو اور میں اپنی جگہ پر کام کرتا ہوں مطلب یہ ہے کہ تم اپنے کفر اور عداوت کے طریقہ پر قائم رہو اور میں اسلام اور صبر پر قائم ہوں مجھے تمہارے کفر اور عداوت کی کوئی پروا نہیں میں اپنا کام کرتا ہوں تم اپنا کام کیے جاؤ۔ پس عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا کہ آخرت میں اچھا انجام کس کو حاصل ہوتا ہے ہمیں یا تمہیں اور یہ یقینی بات ہے کہ ظالموں کو کبھی فلاح نصیب نہ ہوگی وہ ہمیشہ عذاب میں رہیں گے۔
Ayahs 6:136–140

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَ الْاَنْعَامِ نَصِیْبًا فَقَالُوْا هٰذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَ هٰذَا لِشُرَكَآئِنَا١ۚ فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمْ فَلَا یَصِلُ اِلَى اللّٰهِ١ۚ وَ مَا كَانَ لِلّٰهِ فَهُوَ یَصِلُ اِلٰى شُرَكَآئِهِمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 6:136 in the Quran reader

اور (یہ لوگ) خدا ہی کی پیدا کی ہوئی چیزوں یعنی کھیتی اور چوپایوں میں خدا کا بھی ایک حصّہ مقرر کرتے ہیں اور اپنے خیال (باطل) سے کہتے ہیں کہ یہ (حصّہ) تو خدا کا اور یہ ہمارے شریکوں (یعنی بتوں) کا۔ تو جو حصّہ ان کے شریکوں کا ہوتا ہے وہ تو خدا کی طرف نہیں جاسکتا۔ اور جو حصّہ خدا کا ہوتا ہے وہ ان کے شریکوں کی طرف جاسکتا ہے یہ کیسا برا انصاف ہے

وَ كَذٰلِكَ زَیَّنَ لِكَثِیْرٍ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ قَتْلَ اَوْلَادِهِمْ شُرَكَآؤُهُمْ لِیُرْدُوْهُمْ وَ لِیَلْبِسُوْا عَلَیْهِمْ دِیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:137 in the Quran reader

اسی طرح بہت سے مشرکوں کو ان کے شریکوں نے ان کے بچّوں کو جان سے مار ڈالنا اچھّا کر دکھایا ہے۔ تاکہ انہیں ہلاکت میں ڈال دیں اور ان کے دین کو ان پر خلط ملط کردیں اور خدا چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے تو ان کو چھوڑ دو کہ وہ جانیں اور ان کا جھوٹ۔

وَ قَالُوْا هٰذِهٖۤ اَنْعَامٌ وَّ حَرْثٌ حِجْرٌ١ۖۗ لَّا یَطْعَمُهَاۤ اِلَّا مَنْ نَّشَآءُ بِزَعْمِهِمْ وَ اَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُوْرُهَا وَ اَنْعَامٌ لَّا یَذْكُرُوْنَ اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا افْتِرَآءً عَلَیْهِ١ؕ سَیَجْزِیْهِمْ بِمَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:138 in the Quran reader

اور اپنے خیال سے یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ چار پائے اور کھیتی منع ہے۔ اسے اس شخص کے سوا جسے ہم چاہیں کوئی نہ کھائے اور (بعض) چار پائے ایسے ہیں کہ ان کی پیٹھ پر چڑھنا منع کردیا گیا ہے۔ اور بعض مویشی ایسے ہیں جن پر (ذبح کرتے وقت) خدا کا نام نہیں لیتے۔ سب خدا پر چھوٹ ہے۔ وہ عنقریب ان کو انکے جھوٹ کا بدلہ دیگا۔

وَ قَالُوْا مَا فِیْ بُطُوْنِ هٰذِهِ الْاَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُوْرِنَا وَ مُحَرَّمٌ عَلٰۤى اَزْوَاجِنَا١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مَّیْتَةً فَهُمْ فِیْهِ شُرَكَآءُ١ؕ سَیَجْزِیْهِمْ وَصْفَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:139 in the Quran reader

اور یہ بھی کہتے ہیں کہ جو بچّہ ان چارپایوں کے پیٹ میں ہے وہ خاص ہمارے مردوں کے لیے ہے اور ہماری عورتوں کو (اس کا کھانا) حرام ہے۔ اور اگر وہ (بچّہ مرا ہوا ہو تو سب اس میں شریک ہیں۔ (یعنی اسے مرد اور عورتیں سب کھائیں) عنقریب خدا ان کو ان کے ڈھکو سلو کی سزا دیگا۔ بیشک وہ حکمت والا خبردار ہے۔

قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ قَتَلُوْۤا اَوْلَادَهُمْ سَفَهًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ حَرَّمُوْا مَا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ افْتِرَآءً عَلَى اللّٰهِ١ؕ قَدْ ضَلُّوْا وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ۠ Open ayah 6:140 in the Quran reader

جن لوگوں نے اپنی اولاد کو بےوقوفی سے بےسمجھی سے قتل کیا اور خدا پر افترا کرکے اس کی عطا کی ہوئی روزی کو حرام ٹھہرایا ہو گھاٹے میں پڑگئے۔ وہ بےشبہ گمراہ ہیں اور ہدایت یافتہ نہیں ہیں۔

ابطال رسوم جاہلیت قال اللہ تعالیٰ وجعلوا للہ مما ذرا من الحرث والانعام۔۔۔ الے۔۔۔ وما کانو مھتدین (ربط) گذشتہ آیات میں مشرکین کی اعتقادی جہالتوں کا بیان تھا اب ان آیات میں ان کی بعض عملی جہالتوں یعنی ان کی بعض جاہلانہ رسموں اور عادتوں کو بیان کرتے ہیں وہ رسمیں یہ ہیں۔ رسم اول : اور من جملہ ان کی ہزاروں جہالتوں کے ایک جہالت یہ تھی کہ انہوں نے اللہ کی پیدا کی ہوئی کھیتی اور مویشی میں سے ایک حصہ بطور نیاز اللہ کے لیے مقرر کیا۔ یعنی مشرکین عرب میں ایک رسم یہ تھی کہ اپنی کھیتی اور مویشی میں سے ایک حصہ بطور نیاز کے خدا کے نام کا نکالتے اور ایک حصہ اپنے بتوں کے نام کا نکالتے اللہ کا حصہ مہمانوں اور مسکینوں پر خرچ کرتے اور بتوں کے چڑھاوے ان کے مجاوروں پر خرچ کرتے پھر اگر اتفاق سے اللہ کے حصہ میں سے کچھ بتوں کے حصہ میں کوئی چیز گر جاتی تو اس کو اسی میں رہنے دیتے اور کہتے کہ اللہ تو غنی ہے اور بتوں کے حصہ میں شامل کردیتے اور کہتے کہ بت اس کے محتاج ہیں اور اگر اللہ کے حصہ میں سے کوئی چیز ہلاک ہوجاتی تو اس کی پروا نہ کرتے اور اگر بتوں کے حصہ میں کوئی چیز ہلاک ہوجاتی تو اللہ کے حصہ میں سے اس کی کمی پوری کرلیتے اس آیت میں ان کی اسی جہالت کا بیان ہے مطلب یہ ہے کہ ان کی جہالت اور حماقت کا یہ عالم ہے کہ خدا کی پیدا کی ہوئی کھیتی اور مویشی میں سے ایک حصہ خدا کے لیے مقرر کیا اور پھر اپنے گمان میں یہ کہتے ہیں کہ یہ حصہ تو اللہ کا ہے اور یہ حصہ ہمارے بتوں کا ہے پس جو حصہ ان کے معبودوں کا ہے وہ خدا کی طرف نہیں پہنچ سکتا یعنی بتوں کے نام کا حصہ مہمانوں اور مسکینوں پر خرچ نہیں کیا جاسکتا اور البتہ جو حصہ اللہ کے نام کا ہے وہ ان کے بتوں کو پہنچ سکتا یعنی اللہ کا حصہ معبودوں پر صرف ہوسکتا ہے کیا ہی برا ہے وہ فیصلہ جو وہ کر رہے ہیں کیونکہ اول تو یہ کہ کھیتی اور مویشی جو اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوتی تھی اس میں سے غیر اللہ کا حصہ کیسے نکالا دوم یہ کہ بتوں کو فقیر اور محتاج بھی مانتے ہیں اور باوجود محتاج ماننے کے ان کو معبود کہتے ہوئے شرماتے نہیں سوم یہ کہ اللہ تعالیٰ کی جانب پر بتوں کی جانب کو ترجیح دیتے ہیں غرض یہ کہ ان کا یہ فیصلہ سراسر حماقت اور جہالت ہے۔ رسم دوم : اور جس طرح ان کو یہ افعال قبیحہ بھلے معلوم ہوتے ہیں اسی طرح بہت سے مشرکوں کی نظر میں ان کی اولاد کے قتل کو ان کے شرکاء (شیاطین) نے مزین اور مستحسن کر کے دکھلایا ہے یعنی جس طرح شیطانوں نے ان کی نظر میں یہ بات اچھی کر کے دکھلائی تھی کہ کھیتی اور مویشی میں سے بتوں کے نام کا حصہ نکالیں اسی طرح شیطان نے ان کو یہ سمجھا دیا کہ افلاس کے خوف سے اولاد کو قتل کر ڈالیں اور عار کے ڈر سے لڑکیوں کو زندہ گاڑ دیں اور اپنے خیال میں اس کام کو بہت اچھا سمجھتے تھے شیاطین نے مشرکین کو یہی سمجھایا کہ اولاد کو قتل کرنا نہایت اچھا کام ہے تاکہ وہ شیاطین اس طرح سے ان مشرکین کو ہلاک کریں یعنی اس جہالت کے مزین اور مستحسن کرنے سے شیاطین کا مقصود ان کو ہلاکت ابدی میں ڈالنا ہے اور تاکہ ان کا دین خلط ملط کردیں یعنی مشتبہ کردیں مطلب یہ ہے کہ شیاطین کا ایک مقصود تو اس تزیین اور تحسین سے ان کو ہلاکت میں ڈالنا ہے کہ اس جہالت اور سنگ دلی اور بےرحمی پڑ کردینا اور آخرت دونوں ہی کو تباہ اور برباد کریں اور دوسرا مقصود یہ ہے کہ ان کا دین جو اصل میں ابراہیم اور اسمعیل کا دین ہے وہ مشتبہ ہوجائے معاذ اللہ کجادین ابراہیمی اور کجا یہ جہالت وحماقت اور اے نبی کریم ﷺ آپ ان کی ان حرکات شنیعہ سے مغموم نہ ہوں کیونکہ اگر اللہ چاہتا تو وہ یہ خراب کام نہ کرتے مگر ان کی قسمت ہی خراب ہے اللہ کو ان کا ہلاک کرنا ہی منظور ہے پس آپ ان کو اسی اففتراء پردازی میں چھوڑ دیجیے جو افتراء کرتے ہیں وہ کرنے دیجیے ان کی فکر میں نہ پڑے۔ رسم سوم : اور من جملہ ان کی جاہلانہ رسموں کے ایک رسم یہ تھی کہ وہ یہ کہتے کہ یہ خاص چوپائے اور خاص کھیتی ہے جو ممنوع الاستعامل ہے یعنی اس سے انتفاع حاصل کرنا اور اس کو استعمال میں لانا ممنوع ہے اس کو کوئی نہیں کھا سکتا مگر صرف وہ لوگ جن کو ہم اپنے گمان میں چاہیں وہ یعنی صرف بتوں کے مجاور اور مہنت اور صرف مرد کھا سکتے ہیں نہ کہ عورتیں مشرکین نے اپنے خیال میں بعض مویشی اور کھیتوں کے متعلق یہ قیود عائد کر رکھی تھیں جو بتوں کے نام پر وقف کیے جاتے تھے غرض یہ کہ ان کی ایک رسم یہ تھی کہ جن جانوروں وغیرہ کو بتوں کے نام پر وقف کردیتے تھے اس کا کھانا سوائے پوجاریوں کے کسی اور کے لیے جائز نہیں سمجھتے تھے۔ رسم چہارم : اور ایک رسم یہ تھی کہ یہ کہتے تھے کہ یہ مخصوص مویشی ہیں جن کی پیٹھیں حرام ہیں یعنی ان پر سوار ہونا اور ان پر سامان لادنا سب ناجائز ہے یہ مویشی بحیرۂ اور سائبۂ اور حام اور وصیلہ تھے جن کا ذکر پہلے گذر چکا ہے رسم پنجم : اور یہ بھی کہتے تھے کہ یہ مخصوص مویشی ہیں جن پر ذبح کے وقت اللہ کا نام نہیں لیتے تھے بلکہ بتوں کے نام پر ان کو ذبح کرتے تھے۔ بعض جانوروں کے متعلق مشرکین نے یہ قرار دے رکھا تھا کہ ذبح کرنے یا سواری کرنے یا دودھ نکالنے کے وقت ان پر خدا کا نام نہ لیا جائے مبادا جو چیز بتوں کے نامزد ہے کہیں اس میں خدا کی شرکت ہوجائے پھر غضب یہ ہے کہ اپنی ان لغویات اور خرافات اور جہالتوں کو اللہ پر بہتان باندھ کر خدا کی طرف ان کی نسبت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بحیرہ وغیرہ کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے یہ سب اللہ پر افتراء اور بہتان ہے عنقریب اللہ عالیٰ ان کو ان کے اس افتراء کی سزا دے گا اللہ پر افتراء اور بہتان جرم عظیم ہے۔ رسم ششم : اور وہ یہ بھی کہتے تھے کہ جو کچھ ان مویشیوں کے پیٹ میں ہے اگر ان سے زندہ بچہ ظاہر ہو تو وہ صرف ہمارے مردوں کے لیے حلال ہے اور ہماری عورتوں پر حرام ہے اور اگر وہ بچہ مردہ پیدا ہو تو اس سے منتفع ہونے کے جواز اور رحلت میں مرد اور عورت سب شریک ہیں سب کے لیے اس کا کھانا جائز ہے مشرکین یہ کہتے تھے کہ بحائر اور سوائب وغیرہ جو بتوں کے نام پر چھوڑے گئے ہیں ان سے جو بچہ زندہ پیدا ہو اس کا کھانا صرف مردوں کے لیے جو حلال ہے عورتوں کو اس میں سے کھانا حرام ہے اور جو مردہ پیدا ہو تو اس سکو مرد اور عورت سب کھا سکتے ہیں عنقریب اللہ تعالیٰ ان کو اس جھوٹ اور افتراء کی سزا دے گا بیشک وہ حکمت والا جاننے والا ہے اسے سب خبر ہے کسی حکمت سے مہلت دے رکھی ہے یہاں تک مشرکین کی چند جہالتوں اور حماقتوں کو بیان کیا جن میں سب سے زیادہ قبیح عقلا ً و شرعاً قتل اولاد کا جرم تھا اس لیے خاتمۂ کلام پر اس کا خاص طور پر ذکر کرتے ہیں اور فرماتے ہیں بیشک وہ لوگ گھاٹے میں رہے جنہوں نے بیوقوفی سے بلا جانے بوجھے اپنی اولاد کو مار ڈالا یہ ان کی حماقت اور جہالت اور سنگدلی اور بےرحمی کا نتیجہ تھا کہ اپنے ہاتھ سے اپنی ہی اولاد کو قتل کردیا دنیا میں اولاد سے محروم ہوئے اور آخرت کا عذاب سر پر رکھا گیا اس طرح دنیا اور آخرت کا خسارہ اٹھایا اور جو حلال چیزیں اللہ نے ان کو کھانے پینے کے لیے دی تھیں ان کو اپنے اوپر حرام کرلیا اللہ پر جھوٹ باندھ کر اور بیشک وہ گمراہ ہوئے اور راہ پانے والے نہ ہوئے ایسے بےعقل اور سنگ دل لوگ کہاں راہ یاب ہوسکتے ہیں خلاصۂ کلام یہ کہ جو لوگ ان ناشائستہ افعال اور بےہودہ خیالات میں مبتلا ہیں سب زیانکار اور بےعلم اور بےعقل ہیں اور خدا پر جھوٹ افتراء کرنے والے اور گمراہ ہیں۔
Ayahs 6:141–144

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ جَنّٰتٍ مَّعْرُوْشٰتٍ وَّ غَیْرَ مَعْرُوْشٰتٍ وَّ النَّخْلَ وَ الزَّرْعَ مُخْتَلِفًا اُكُلُهٗ وَ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُتَشَابِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍ١ؕ كُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ اٰتُوْا حَقَّهٗ یَوْمَ حَصَادِهٖ١ۖ٘ وَ لَا تُسْرِفُوْا١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَۙ Open ayah 6:141 in the Quran reader

اور خدا ہی تو ہے جس نے باغ پیدا کیے چھتریوں پر چڑھائے ہوئے بھی اور جو چھتریوں پر نہیں چڑھائے ہوئے وہ بھی اور کھجور اور کھیتی جن کے طرح طرح کے پھل ہوتے ہیں اور زیتون اور انار جو (بعض باتوں میں) ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں اور (بعض باتوں میں) نہیں ملتے۔ جب یہ چیزیں پھلیں تو ان کے پھل کھاؤ اور جس دن (پھل توڑو اور کھیتی) کاٹو تو خدا کا حق بھی اس میں سے ادا کرو۔ اور بےجا نہ اڑانا۔ کہ خدا بےجا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔

وَ مِنَ الْاَنْعَامِ حَمُوْلَةً وَّ فَرْشًا١ؕ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 6:142 in the Quran reader

اور چارپایوں میں بوجھ اٹھانے والے (یعنی بڑے بڑے) بھی پیدا کیے اور زمین سے لگے ہوئے (یعنی چھوٹے چھوٹے) بھی۔ (پس) خدا کا دیا ہوا رزوق کھاؤ اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو۔ وہ تمہارا صریح دشمن ہے۔

ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ١ۚ مِنَ الضَّاْنِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْمَعْزِ اثْنَیْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ نَبِّئُوْنِیْ بِعِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَۙ Open ayah 6:143 in the Quran reader

(یہ بڑے چھوٹے چارپائے) آٹھ قسم کے (ہیں) دو (دو ) بھیڑوں میں سے اور دو (دو ) بکریوں میں سے (یعنی ایک ایک نر اور ایک ایک مادہ) (اے پیغمبر ان سے) پوچھو کہ (خدا نے) دونوں (کے) نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں (کی) مادینوں کو یا جو بچہ مادینوں کے پیٹ میں لپٹ رہا ہو اسے ؟ اگر سچے ہو تو مجھے سند سے بتاؤ۔

وَ مِنَ الْاِبِلِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْبَقَرِ اثْنَیْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ وَصّٰىكُمُ اللّٰهُ بِهٰذَا١ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا لِّیُضِلَّ النَّاسَ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 6:144 in the Quran reader

اور دو (دو ) اونٹوں میں سے دو (دو ) گایوں میں سے (ان کے بارے میں بھی ان سے) پوچھو کہ (خدا نے) دونوں (کے نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں (کی) مادینوں کو یا جو بچہ مادینوں کے پیٹ میں لپٹ رہا ہو اس کو بھلا جس وقت خدا نے تم کو اس کا حکم دیا تھا تم اس وقت موجود تھے ـ؟ تو اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہے جو خدا پر جھوٹ افترا کرے تاکہ ازراہ بیدانشی لوگوں کو گمراہ کرے ؟ کچھ شک نہیں کہ خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

تقریر توحید وتذکیر انعامات نباتیہ وحیوانیہ قال اللہ تعالیٰ وھو الذی انشأ جنت معروشت۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ لا یھدی القوم الظلمین (ربط) گذشتہ آیات میں مشرکین عرب کی رسوم شرکیہ اور ناشائستہ افعال اور جاہلانہ عادتوں کا ذکر تھا اب ان آیات میں اس کی تردید فرماتے ہیں اور حق جل شانہ نے اس تردید میں دو باتیں ذکر فرمائیں۔ اول یہ کہ ان تمام حیوانات اور نباتات کا خالق صرف حق جل شانہء ہے یہ تمام جانور اور باغات اس کے پیدا کئے ہوئے ہیں جن میں ذرا برابر کوئی اس کا شریک نہیں پھر تم کیوں اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہو کوئی چیز سوائے خالق کے کسی کے نامزد نہیں کی جاسکتی۔ دوسری چیز یہ بیان فرمائی کہ جو چیزیں تم نے حرام ٹھہرا رکھی ہیں اس پر کیا دلیل ہے خدا تعالیٰ کے سوا کسی کو تحلیل وتحریم کا اختیار نہیں کیا خدا نے تمہارے سامنے ان کی حرمت کا حکم دیا تھا اور اس ذیل میں آٹھ قسم کے مویشی کا ذکر فرمایا اور یہ بتلایا کہ یہ سب انواع حلال ہیں، اللہ تعالیٰ نے تمہارے کھانے کے لیے ان کو پیدا کیا اور تم نے محض اپنے جی سے بلا دلیل اور بلا سند بعض کو حرام ٹھہرا لیا یہ محض تمہارا افتراء ہے۔ گذشتہ آیات میں بھی مشرکین کے جھوٹ اور افتراء کا بیان تھا اب ان آیات میں بھی ان کے افتراء کا بیان ہے اور بطور تہکم کے فرماتے ہیں کہ کیا تم اس وقت حاضر تھے جب کہ اللہ نے ان مویشیوں کو تمہارے زعم اور خیال کے مطابق حرام کیا تھا یہ سب تمہارا اللہ پر افتراء ہے اور اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو اللہ پر افتراء کرے چناچہ فرماتے ہیں اور وہ خدا وہ ہے جس نے تمہارے لیے قسم قسم کی نعمتیں پیدا کیں تاکہ ان کے ذریعہ تم اپنے منعم حقیقی کو پہچانو اسی نے تمہارے لیے مختلف قسم کے باغات پیدا کیے کچھ تو انگور کی طرح ٹٹیوں پر چڑھائے ہوئے ہیں اور کچھ نہیں چڑھائے ہوئے انگور اور کدو وغیرہ کی بیلیں ٹٹیوں پر چڑھائی جاتی ہیں اور بغیر ٹٹیوں کے چڑھائے سب ہی درخت ہیں مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ہر قسم کے باغ پیدا کیے ان میں کے بعض ایسے ہیں جن کو تم ٹٹیوں پر چڑھاتے ہو اور بعض ایسے ہیں جن کو ٹٹیوں پر نہیں چڑھاتے اس سے اس کی کمال قدرت اور کمال رحمت عیاں ہے اور اسی نے کھجور اور کھیتی کو پیدا کیا جس کے پھل حجم اور بو اور مزے میں مختلف ہیں اور اسی نے زیتون اور انار کو بھی اسی طرح پیدا کیا کہ بعض تو باہم رنگ اور شکل اور بو اور مزہ میں ایک دوسرے کے مشابہ ہوتے ہیں اور بعض ایک دوسرے کے مشابہ نہیں ہوتے یہ سب اس کی قدرت کے کرشمے اور اس کی رحمت و عنایت کے نمونے ہیں کہ اس نے یہ چیزیں تمہاری غذا اور لذت کے لیے پیدا کیں لہذا تم اس کے پھل کھاؤ جب کہ وہ پھل لادے اور اس کی قدرت کو جانو اور اس کی نعمت کی قدر کرو اور منعم کا شکر کرو اور ساتھ ساتھ فقراء اور مساکین کا بھی خیال رکھو یعنی اس کے کاٹنے اور توڑنے کے دن اس کا حق ادا کرو یعنی پیداوار کا دسواں یا بیسواں حصہ خیرات کرو اس کو اصطلاح فقہاء میں زکوٰۃ الخارج کہتے ہیں امام ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ کے نزدیک اس میں کسی خاص مقدار کی شرط نہیں قلیل وکثیر سب میں واجب ہے اور امام شافعی (رح) تعالیٰ کے نزدیک اس میں ایک خاص مقدار ہونا شرط ہے کتب فقہ و حدیث میں اس کی تفصیل ہے یا یہ مطلب ہے کہ جب تم اپنا کھیت کا ٹویا درختوں کے پھل توڑو تو اس موقعہ پر جو مساکین اور محتاج موجود ہوں ان کو بھی اس میں سے کچھ کھلاؤ ان کا بھی اس میں حق ہے باغ والے کو چاہیے کہ ایسے موقعہ پر اصحاب الجنۃ کے قصے پر دھیان کرے جو سورة نون میں مذکور ہے اور حدود شریعت سے تجاوز نہ کرو یعنی ناجائز باتوں میں نہ خرچ کرو بیشک اللہ اسراف کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا خدا کا دوست وہ ہے جو حدود شریعت کے اندر رہ کر خرچ کرے اور اللہ تعالیٰ نے کھتی اور مویشی کی طرح تمہاری لیے چوپایوں میں سے کچھ تو بوجھ اٹھانے والے پیدا کیے جیسے اونٹ اور گھوڑا اور گدھا اور خچر اور کچھ پستہ قد زمین سے ملے ہوئے پیدا کیے جو بوجھ نہیں اٹھا سکتے جیسے بھیڑ بکری یہ سب سامان اللہ تعالیٰ نے تمہاری راحت کے لیے پیدا کیا پس تم کھاؤ اللہ کے رزق میں سے جو اس نے تم کو دیا ہے اور اس کا شکر کرو اور اس رزق سے اس کی طاعت و عبادت میں قوت حاصل کرو اور اللہ کی دی ہوئی نعمتوں سے نفع اٹھاؤ اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو یعنی شیطان کے بہکائے میں آکر شرک نہ کرو اور نہ حلال کو حرام کرو بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے جس نے تم کو گمراہ کیا اور دنیا کی نعمتوں سے تم کو محروم کیا اور آخرت کا عذاب الگ رہا اب بتلاؤ کہ اس سے بڑھ کر کیا دشمنی ہوگی الغرض حق تعالیٰ نے تمہاری غذا کے لیے نر و مادہ ملا کر آٹھ قسم کے جانور پیدا کیے دو بھیڑ کی قسم سے یعنی نر اور مادہ اور دو بکری قسم سے یعنی نر اور مادہ اور ان سب کو اللہ نے تمہارے لیے حلال کیا اے نبی ﷺ آپ ان کافروں سے پوچھیے تو سہی کہ بتلاؤ ؟ کیا اللہ نے دونوں جانوروں کے نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں کی ماداؤں کو حرام کیا ہے یعنی کیا خدا نے بھیڑ اور بکری کے کل نر حرام کیے ہیں یا دونون کے کل مادہ حرام کیے ہیں یا اس بچہ کو حرام کیا ہے جس پر دونوں ماداؤں کے رحم اپنے اندر لیے ہوئے ہیں مطلب یہ ہے کہ کیا خدا نے پیٹ کے بچہ کو حرام ٹھہرایا ہے خواہ نر ہو یا مادہ مجھے اس بارے میں یقنی بات کی خبر دو اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ اللہ نے ان چیزوں کو حرام کیا ہے۔ : اما اشتملت علیہ ارحام الانثیین سے مشرکین کے اس قول مافی بطون ھذہ الانعام خالصۃ لذکورنا و محرم علی ازواجنا کے رد کی طرف اشارہ ہے یعنی تم جو کبھی نر کو اور کبھی مادہ کو حرام بتلاتے ہو اور کبھی کہتے ہو کہ یہ چیز مردوں کے لیے حرام ہے اور یہ چیز عورتوں کے لیے حرام ہے تمہارے پاس اس تحلیل وتحریم کی کیا دلیل ہے اگر تم اس دعوے میں سچے ہو کہ ان چیزوں کو خدا ہی نے حرام کیا ہے اور حرام کرنے کا حکم اسی کے پاس سے آیا ہے تو کوئی قطعی ثبوت اس کا پیش کرو۔ اور اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اونٹ سے دو قسمیں پیدا کیں یعنی نر اور مادہ اور گائے اور بھینس سے بھی دو قسمیں پیدا کیں یعنی نر اور مادہ اس طرح سے یہ مویشی کل آٹھ جوڑے ہوئے اگرچہ ان کے علاوہ مویشی کے اقسام میں اور بھی جانور ہیں مگر عرب میں بیشتر یہی جانور ہوتے تھے اور انہیں میں سے مشرکین نے بعض کو حلال اور بعض کو حرام کر رکھا تھا اس لیے ان ہی کا ذکر کیا گیا آپ ﷺ ان سے کہیے کہ کیا اللہ نے ان دونوں کے نروں کو حرام کیا ہے یا ان دونوں کی ماداؤں کو حرام کیا ہے یا اس بچہ کو حرام کیا جو کو دونوں ماداؤں کے رحم اپنے اندر لیے ہوئے ہیں یعنی جس پر دونوں ماداؤں کے رحم یعنی بچہ دان مشتمل مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ ان سے پوچھیے کہ ان چیزوں میں حرمت کہاں سے آئی اور ان کی حرمت کی علت کیا ہے ان میں حرمت نر ہونے کی جہت سے آئی ہے یا مادہ ہونے کی جہت سے یا اشتمال رحم سے پیدا ہونے کی جہت سے حرمت آئی ہے پس اگر حرمت کی علت نرم ہونا ہے تو کل نر حرام ہونے چاہئیں اور اگر حرمت کی علت مادہ ہونا ہے تو کل مادائیں حرام ہونی چاہئیں اور اگر اشتمال رحم یعنی رحم سے پیدا ہونا حرمت کی علت ہے تو تمام نر اور مادہ سب ہی حرام ہونے چاہئیں اس لیے کہ نر اور مادہ سب ہی رحم سے پیدا ہوتے ہیں پھر بعض کی کیا تخصیص ہے اور تم بعض کو حرام کہتے ہو سب کو حرام نہیں کہتے جب علت ایک ہے تو اس کی کیا وجہ کہ کوئی حرام ہو اور کوئی حلال ہو (دیکھو تفسیر قرطبی ص 114 ج 7 تفسیر خازن ص 498 ج 2 و تفسیر مظہری ص 335 ج 3) : اس آیت میں ذکور اور اناث اور مافی الارحام کے اس قدر تفصیل اور اس درجہ تعمیم سے مقصود مشرکین کے رد میں مبالغہ کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سب انواع کو حلال کیا ہے پھر تم نے محض اپنے زعم سے ان میں سے بعض کو کیسے حرام ٹھہرایا (تفسیر ابی السعود روح المعانی) خلاصۂ کلام یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کو تمہارے کھانے اور نفع کے لیے پیدا کیا کما قال تعالیٰ وانزل لکم من الانعام ثمانیۃ ازواج اور ان اقسام ہشت گانہ میں سے اللہ تعالیٰ نے کسی شئ کو حرام نہیں کیا نہ ان کو اور نہ ان کی اولاد کو بلکہ سب کو بنی آدم کے نفع کے لیے پیدا کیا کہ ان کو دکھا دیں اور ان پر سوار ہو اور بوجھ الدیں اور ان کا دودھ پئیں اور طرح طرح کے منافع حاصل کریں پس اس کی کیا وجہ ہے کہ تم بعض جانوروں کو بحیرہ اور سائبہ اور وصیلہ ٹھہرا کر حرام قرار دیتے ہو اور مختلف صورتوں سے تحریم کے مدعی ہو اور ڈھٹائی سے ان جانوروں کی حرمت کو خدا کی طرف منسوب کرتے ہو یہ سب دروغ بےفروغ ہے کیا تم اس وقت حاضر تھے جب کہ اللہ نے تم کو اس تحریم وتحلیل کا حکم دیا تھا یعی تم کسی نبوت اور وحی کے تو قائل اور معترف نہیں جو یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ نبی کے یہ حکم بھیجا ہے تو پھر تم کو کس طرح معلوم ہوا کہ یہ چیز حلال ہے اور یہ چیز حرام ہے کیا تم خود خدا سے بالمشافہ یہ حکم سن کر آئے ہو اور جب تم کو اللہ یہ حکم دے رہا تھا تو کیا تم اس وقت اس کے پاس بیٹھے تھے اور ظاہر ہے کہ یہ ناممکن ہے پس اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے کبھی نر کو اور کبھی مادہ کو حرام ٹھہرا کر اللہ ظالموں کو ہدایت یعنی توفیق نہیں دیتا جو شخص طلم پر کمر بستہ ہوجائے اور دلائل واضحہ سے آنکھیں بند کرلے اسے توفیق نصیب نہیں ہوتی