6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 6:40–51

قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ اَوْ اَتَتْكُمُ السَّاعَةُ اَغَیْرَ اللّٰهِ تَدْعُوْنَ١ۚ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 6:40 in the Quran reader

کہو (کافرو) بھلا دیکھو تو اگر تم پر خدا کا عذاب آجائے یا قیامت آموجود ہو۔ تو کیا تم (ایسی حالت میں) خدا کے سوا کسی اور کو پکارو گے ؟ اگر سچے ہو (تو بتاؤ) ۔

بَلْ اِیَّاهُ تَدْعُوْنَ فَیَكْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَیْهِ اِنْ شَآءَ وَ تَنْسَوْنَ مَا تُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 6:41 in the Quran reader

(نہیں) بلکہ (مصیبت کے وقت تم) اسی کو پکارتے ہو تو جس دکھ کے لئے اسے پکارتے ہو وہ اگر چاہتا ہے تو اس کو دور کردیتا ہے اور جن کو تم شریک بناتے ہو (اس وقت) انھیں بھول جاتے ہو

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَخَذْنٰهُمْ بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَتَضَرَّعُوْنَ Open ayah 6:42 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے بہت سی امتوں کی طرف پیغمبر بھیجے (پھر انکی طرف نافرمانیوں کے سبب) ہم انھیں سختیوں اور تکلیفوں میں پکڑتے رہے تاکہ عاجزی کریں۔

فَلَوْ لَاۤ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَ لٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:43 in the Quran reader

تو جب ان پر ہمارا عذاب آتا رہا کیوں نہیں عاجزی کرتے رہے۔ مگر ان کے تو دل ہی سخت ہوگئے تھے۔ اور جو کام وہ کرتے تھے شیطان ان کو (اُنکی نظروں میں) آراستہ کر دکھاتا تھا۔

فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوْا بِمَاۤ اُوْتُوْۤا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ Open ayah 6:44 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو جو انکو کی گئی تھی فراموش کردیا تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھولدیے۔ یہاں تک کہ جب ان چیزوں سے جو ان کو دی گئی تھیں خوب خوش ہوگئے تو ہم نے انکو ناگہاں پکڑ لیا۔ اور وہ اس وقت مایوس ہو کر رہ گئے۔

فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ؕ وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 6:45 in the Quran reader

غرض ظالم لوگوں کی جڑ کاٹ دی گئی۔ اور سب تعریف خدائے رب العالمین ہی کو (سزاوار ہے)

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَخَذَ اللّٰهُ سَمْعَكُمْ وَ اَبْصَارَكُمْ وَ خَتَمَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ مَّنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِهٖ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ هُمْ یَصْدِفُوْنَ Open ayah 6:46 in the Quran reader

(ان کافروں سے) کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر خدا تمہارے کان اور آنکھوں چھین لے اور تمہارے دلوں پر مہر لگا دے تو خدا کے سوا کونسا معبود ہے جو تمہیں یہ نعمتیں پھر بخشے ؟ دیکھو ہم کس کس طرح اپنی آیتیں بیان کرتے ہیں پھر بھی یہ لوگ روگردنی کرتے ہیں۔

قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ بَغْتَةً اَوْ جَهْرَةً هَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:47 in the Quran reader

کہو کہ بھلا بتاؤ تو اگر تم پر خدا کا عذاب بیخبر ی میں یا خبر آنے کے بعد آئے تو کیا ظالم لوگوں کے سواء کوئی اور بھی ہلاک ہوگا ؟

وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١ۚ فَمَنْ اٰمَنَ وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 6:48 in the Quran reader

اور ہم جو پیغمبروں کو بھیجتے رہے ہیں تو خوش خبری سنانے اور ڈرانے کو۔ پھر جو شخص ایمان لائے اور نیکوکار ہوجائے تو ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ اندوہناک ہوں گے۔

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا یَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 6:49 in the Quran reader

اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کی نافرمانیوں کے سبب انھیں عذاب ہوگا۔

قُلْ لَّاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ اِنِّیْ مَلَكٌ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ؕ اَفَلَا تَتَفَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 6:50 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے ہیں اور نہ (یہ کہ) میں غیب جانتا ہوں اور نہ تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں میں تو صرف اس حکم پر چلتا ہوں جو مجھے (خدا کی طرف سے) آتا ہے کہہ دو کہ بھلا اندھا اور آنکھ والا برابر ہوتے ہیں ؟ تو پھر تم غور کیوں نہیں کرتے ؟

وَ اَنْذِرْ بِهِ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْ یُّحْشَرُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ لَیْسَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 6:51 in the Quran reader

اور جو لوگ خوف رکھتے ہیں کہ اپنے پروردگار کے روبرو حاضر کئے جائیں گے (اور جانتے ہیں کہ) اس کے سوا نہ تو ان کا کوئی دوست ہوگا اور نہ سفارش کرنے والا۔ ان کو اس (قرآن) کے ذریعے سے نصیحت کرو تاکہ پرہیزگار بنیں۔

اثبات توحید۔ قال اللہ تعالی، قل ارئیتکم۔۔۔ الی۔۔۔ ماتشرکون۔ ربط) ۔ ابتداء سورت سے اثبات توحید اور ابطال شرک کا مضمون چلا آرہا ہے اب ان آیات میں ایک خاص طریقہ پر اثبات توحید فرماتے ہیں مشرکین عرب بتوں کو خدائی کا کارکن سمجھتے تھے مگر جب کوئی مصیبت آن پڑتی تو اللہ ہی کو پکار تے تھے اور اسی سے دعا مانگتے تھے مقصود یہ ہے کہ جب یہ جانتے ہو کہ نفع ونقصان سب ہمارے ہی اختیار میں ہے اور تمہارے ان بتوں کا کوئی اختیار ہیں تو پھر کیوں ان کی عبادت کرتے ہو صرف ہماری پرستش کیوں نہیں کرتے چناچہ فرماتے ہیں اے نبی آپ ان مشرکین سے کہہ دیجئے کہ بھلا مجھ کو یہ بتلاؤ کہ اگر تم پر اللہ کا عذاب آوے یا تم پر قیامت ہی آجائے جو تمام مصیبتوں کا مجموعہ ہے تو کیا اس وقت بھی اللہ کے علاوہ کسی اور کو پکارو گے تم دعوائے اشراک میں سچے ہو یعنی جب تم بتوں کو پوجتے ہو اور ان کو خدا کا شریک سمجھتے ہو تو اگر تم اس اعتقاد میں سچے ہو تو مصیبت کے وقت بھی انہی کو پکارو تاکہ وہ تمہاری مدد کریں مگر اس وقت تم ایسا نہیں کرتے بلکہ اس وقت تم خاص اللہ ہی کو پکارتے ہو پس وہ اس مصیبت کو دفع کردیتا ہے جس کے دفع کرنے کے لیے تم دعا مانگتے ہو اور اگر چاہتا ہے اور جتنا چاہتا ہے اور اس وقت تم ان بتوں کو بھول جاتے ہو جن کو تم اللہ کے ساتھ شریک کرتے ہو یہ اللہ کی طرف سے الزام ہے کہ مصیبت اور سختی کے وقت تو تم خالص اللہ ہی کو پکارتے ہو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے مگر فراخی اور راحت میں اللہ کو چھوڑ کر بتوں کا کلمہ پڑھنے لگتے ہو اگر تمہارے بت کچھ ہیں تو دونوں حالتوں میں ان کی طرف رجوع کیوں نہیں کرتے وہذا لقولہ تعالی، واذا مسکم الضر فی البحر۔۔۔ الی۔۔ الاایاہ۔ آیت۔
Ayahs 6:52–55

وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ١ؕ مَا عَلَیْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ مَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَیْهِمْ مِّنْ شَیْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:52 in the Quran reader

اور جو لوگ صبح وشام اپنے پروردگار سے دعا کرتے ہیں (اور) اسکی ذات کے طالب ہیں انکو (اپنے پاس سے) مت نکالو۔ ان کے حساب (اعمال) کی جوابدہی تم پر کچھ نہیں اور تمہارے حساب کی جواب دہی ان پر کچھ نہیں (پس ایسا نہ کرنا) اگر انکو نکالو گے تو ظالموں میں ہوجاؤ گے۔

وَ كَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنْۢ بَیْنِنَا١ؕ اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰكِرِیْنَ Open ayah 6:53 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے بعض لوگوں کی بعض سے آزمائش کی ہے کہ (جو دولت مند ہیں وہ غریبوں کی نسبت) کہتے ہیں ' کیا یہی لوگ ہیں جن پر خدا نے ہم سے فضل کیا ہے (خدا نے فرمایا) بھلا خدا شکر کرنیوالوں سے واقف نہیں ؟

وَ اِذَا جَآءَكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ١ۙ اَنَّهٗ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوْٓءًۢا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَصْلَحَ فَاَنَّهٗ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 6:54 in the Quran reader

اور جب تمہارے پاس ایسے لوگ آیا کریں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو ( ان سے) سلام علیکم کہا کرو۔ خدا نے اپنی ذات (پاک) پر رحمت کو لازم کرلیا ہے کہ جو کوئی تم میں سے نادانی سے کوئی بری حرکت کر بیٹھے پھر اس کے بعد توبہ کرلے اور نیکوکار ہوجائے تو وہ بخشنے والا مہربان ہے

وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 6:55 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں (تاکہ تم لوگ ان پر عمل کرو) اور اس لئے کہ گناہ گاروں کا راستہ ظاہر ہوجائے

حکم اعزاز واکرام درویشان اسلام بتقدیم سلام وتبشیر ایشاں برحمت خداوند نام۔ قال اللہ تعالیٰ ولاتطرد الذین یدعون ربھم۔۔۔ الی۔۔۔ المجرمین۔ ربط) ۔ اوپر سے سلسلہ کلام مشرکین کے بارے میں تھا یہ آیت قریش کے بعض مغرور اور متکبر سرداروں کے بارے میں نازل ہوئی ایک مرتبہ سرداران قریش نے نبی پاک ﷺ کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ آپ کی مجلس میں ہمیشہ فقیر اور غلام ہوتے ہیں جیسے بلال اور صہیب اور عمار اور مقداد اور ابن مسعود ؓ اجمعین، ہمارا دل چاہتا ہے کہ ہم آپ کے پاس آکر بیٹھیں اور آپ کی باتیں سنیں لیکن آپ کے پاس رذیل لوگ بیٹھتے ہیں اور ہم اشراف قریش ہیں ہمارا ان کے ساتھ مل کر بیٹھنا ہمارے لیے عیب اور عار ہے اس لیے ہم جب آپ کے پاس آیا کریں تو آپ اپنی مجلس سے ان لوگوں کو اٹھا دی اکریں نبی ﷺ کا خیال اس طرف ہوا کہ سرداران قریش کی یہ درخواست منظور کرلی جائے شاید اس بہانہ سے یہ لوگ اسلام میں داخل ہوجائیں اور حضرت عمر نے بھی یہی مشورہ دیا کہ یارسول اللہ ایسا کرکے دیکھیے تو سہی کہ سرداران قریش اس کے بعد کیا کرتے ہیں یعنی امتحانا ان کی یہ درخواست منظور کرلی جائے (معاذاللہ) اس سے درویشاں اسلام اور فقراء مسلمین کی تحقیر مقصود نہ تھی بلکہ روسا قریش کی تالیف قلب بامید ہدایت مقصود تھی اور چونکہ خود صحابہ کو اس کا علم تھا اس لیے اس سے ان کی دل شکنی بھی نہ ہوئی یہ رائے ابھی خیال ہی کے درجہ میں تھی کہ عمل کی نوبت ہی نہیں آئی تھی کہ اس بارے میں یہ آیتیں نازل ہوگئی اور اللہ کی طرف سے ممانعت آگئی کہ آپ ہرگز ایسا نہ کریں (تفسیر قرطبی ص 431 ج 6 و تفسیر کبیر ص 50 ج 4) ۔ اور بذریعہ وحی آپ کو بتلا دیا گیا کہ یہ تدبیر نافع نہیں اور حکم آگیا کہ آپ ان متکبرین کی تبلیغ کی خاطر اپنی مجلس سے درویشاں اسلام کو جدا نہ کیجئے بلکہ یہ درویش جب آپ کی مجلس میں حاضر ہوں تو ان کو سلام کیجئے اور اللہ کی رحمت کی بشارت ان کو سنادیجئے ہ لوگ اگرچہ غریب اور فقیر ہیں مگر حق کے طالب صادق ہیں ان کی خاطر داری اور تالیف قلوب روساء کفار کی تالیف پر ہزارہا درجہ مقدم ہے اس ایت سے مقصود یہ بتلانا ہے کہ نیکوں اور بزرگوں کا احترام اور ان کی ایذا رسانی اور تحقیر اور گرانی خاطر سے اجتناب غایت درجہ ضروری اور لازم ہے شیخ فرید الدین عطار فرماتے ہیں، حب درویشاں کلید جنت است۔۔۔ دشمن ایشاں سزائے لعنت است۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے نبی آپ اپنی مجلس سے ان لوگون کو علیحدہ اور در نہ کرو جو صبح اور شام اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں اور صرف اس کی ذات پاک یعنی صرف اس کی رضامندی اور خوشنودی کے طلب گار ہیں یعنی یہ لوگ اللہ کے اس درجہ عاشق ہیں کہ سوائے رضاء مولی کوئی چیز بھی ان کے پیش نظر نہیں ان کی عبادت کسی دنیاوی اور اخروی نعمت کے لیے نہیں یہ لوگ عشق خداوندی کے اس منزل میں پہنچ چکے ہیں کہ سوائے رضا مولی کوئی چیز بھی ان کو مطلوب نہیں مطلب یہ ہے کہ یہ فقرء مسلمین اپنی عبادت میں مخلص ہیں اور اخلاص کا اقتضاء یہ ہے کہ مخلص کے اکرام اور احترام کو ہر حال میں ملحوظ رکھاجائے اور روساء قریش علاوہ ازیں کہ ان کو غریب اور مسکین ہونے کی وجہ سے حقیر سمجھتے تھے ان کے اخلاص اور ایمان پر طعن کرتے تھے اور یہ کہتے تھے کہ یہ لوگ آپ کے گرد کھانے پینے کی غرض سے جمع ہوگئے ہیں تو اللہ اس کے جواب کے لیے فرماتے ہیں نہیں ہے ان کے حساب سے آپ پر کوئی ذمہ داری اور جواب دہی اور نہ آپ کے حساب سے ان پر کوئی ذمہ داری اور جواب دہی ہے یعنی قیامت کے دن ان کے اعمال کی بابت آپ سے باز پرس نہ ہوگی جب کہ وہ ظاہر میں متقی اور پرہیزگار ہیں تو آپ پر ظاہر کے مطابق معاملہ کرنا ضروری ہے جب وہ ظاہر میں نیک ہیں تو آپ بھی ان کو نیک ہی سمجھیے اور اگر ان کے دل میں کچھ کھوٹ ہوگا تو اس کا حساب لینے والا اللہ ہے جیسا کہ نوح (علیہ السلام) کا قول ہے، ان حسباہم الی علی ربی لو تشعرون۔ آیت۔ پس جب ان کے باطن کی تحقیق اور تفتیش آپ کے ذمہ نہیں سو اگر بالفرض آپ ان سرداران قریش کی ہدایت اور ایمان کی طمع میں ان غریب مخلصوں کو اپنی مجلس سے ہٹانے لگیں تو ظالموں میں ہوجائیں گے یعنی نکالنا جب مناسب ہوتا کہ جب تجھ کو یہ خوف ہوتا کہ ان کی مجلس سے مجھ سے باز پرس ہوگی اور جب یہ خوف نہیں تو ایسے مخلصین کا اپنی مجلس سے ہٹانا بےانصافی ہے۔ 1) ۔ آپ ﷺ نے ان فقراء مومنین کا طرد نہیں فرمایا مگر چونکہ ایک دینی مصلحت کی بناء پر ان کی علیحدگی کا ارادہ فرمایا اس لیے اس کو مجازا طرد سے تعبیر سے کردیا گیا گویا کہ ایسے مخلصین کی علیحدگی کا خیال بمنزلہ نکال دینے کے ہے۔ 2) ۔ آیت میں خطاب اگرچہ بظاہر آپ کو ہے مگر مقصود سنانا ان ظالموں کو ہے جو ان درویشان اسلام کو مجلس سے اٹھانا چاہتے تھے اور اسی طرح ہم نے بعض کو بعض سے آزمایا ہے کسی کو فقیر اور کسی کو امیر بنایا اور کسی کو تندرست اور کسی کو بیمار کیا ہمارا مقصود اس سے امتحان اور آزمائش ہے کسی کو دنیا کے معاملہ میں آگے اور آخرت کے معاملہ میں پیچھے کیا اور کسی کو اس کے برعکس تاکہ یہ مالدار لوگ اور رئیس لوگ یہ کہیں گے کیا یہی فقیر اور درویش لوگ ہیں جن پر اللہ نے ہمارے درمیان سے انعام اور احسان کیا ان کو اسلام کی توفیق دی یعنی اسلام اور اللہ کا انعام ہوتا تو ان حقیر اور رذیل لوگوں پر کیوں ہوتا اس کے مستحق تو ہم تھے یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ اللہ ہم رئیسوں پر تو انعام نہ کرے اور ان فقیروں پر انعام کرے جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے لوکان خیرا ماسبقونا الیہ۔ آیت۔ ان لوگوں کا گمان یہ تھا کہ ہم معزز لوگ ہیں اور ہماری دنیاوی خوشحالی اس بات کیع لامت ہے کہ ہم اللہ کے محبوب اور مقبول بندے ہیں ان کو یہ معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ تو دل کو دیکھتا ہے اور اس بات کو کہ کون اللہ کے حق کو مانتا ہے اللہ نے اس کا جواب تو یہ عطا فرمایا کہ دنیا کی امیری اور فقیری خدا کے نزدیک مقبول اور محبوب ہونے کی دلیل نہیں بلکہ یہ من جانب اللہ فتنہ اور آزمائش ہے ایک ضد کو دوسری ضد کے آزماتے ہیں امیروں کا فقیروں سے آزمانا اس طرح ہے کہ وہ ان کو نظر حقارت سے نہ دیکھیں اور فقیروں کا امیروں سے آزمانا اس طرح ہے کہ وہ ان کی دولت پر حسد نہ کریں آئندہ آیت میں ان متکبر اور مغرور اور معاند لوگوں کے اس بےہودہ اعتراض کا ایک اور جواب ارشاد فرماتے ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ کا انعام ان لوگوں پر ہوتا ہے جس اس کی نعمت کے قدردان اور شکرگزار ہوں ناقدروں اور ناشکروں پر انعام نہیں ہوتا چناچہ فرماتے ہیں کیا اللہ اپنے شکرگزار بندوں کو خوب جاننے والا نہیں یعنی خدا خوب جانتا ہے کہ کون دل سے اس کی نعمتوں کا قدر دان اور شکر گزار ہے اور کون ناشکرا ہے اور ناقدرا ہے پس ان درویشوں نے اللہ کی نعمت ہدیات کی قدر کی اس لیے ان کو اسلام اور ہدایت کی توفیق سے نوازا اور تم جیسے متکبرین اور معاندین کو کیا دے جن کو شیوہ ناشکری ہے اور ناشکری ہے اور چونکہ یہ درویش اسلام خدا کے مقبول اور محبوب ہیں اس لیے آپ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ہرگز ہرگز ان کو اپنی مجلس سے اٹھانے کا خیال بھی نہ کریں بلکہ جب یہ مخلص لوگ آپ کے پاس حاضر نہیں اللہ کی طرف سے تم پر سلامتی اور امن ہے تمہارے پروردگار نے اپنی ذات پر تمہارے لیے رحمت اور مہربانی لکھ لیا ہے یعنی لازم کرلیا ہے اور وہ رحمت اور مہربانی یہ ہے کہ تحقیق تم میں سے جو شخص نادانی سے کوئی برا کام کربیٹھے اور پھر اس کے بعد توبہ کرلے اور اپنی حالت کو درست کرے تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ دردمندان گنہ راروز وشب۔۔ شربتے استغفار نیست۔ آرزو مندان وصل یار را۔۔ چارہ غیر از نالہا وزار نیست۔ اور اسی طرح ہم دلائل توحید کو تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں تاکہ مجرمین کی راہ خوب آشکارا ہو اور ظاہر ہوجائے کہ لوگ اس راہ پر چلنے سے اجتناب کریں مطلب یہ ہے کہ حق اور باطل کی راہ الگ الگ اور جدا اور ممتاز ہوجائے تاکہ چلنے والوں کو کوئی اشتباہ باقی نہ رہے۔
Ayahs 6:56–59

قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَتَّبِعُ اَهْوَآءَكُمْ١ۙ قَدْ ضَلَلْتُ اِذًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 6:56 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ کفار سے) کہہ دو کہ جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو مجھے ان کی عبادت سے منع کیا گیا ہے۔ (یہ بھی) کہہ دو کہ میں تمہاری خواہشوں کی پیروی نہیں کروں گا ایسا کرو تو گمراہ ہوجاؤں اور ہدایت یافتہ لوگوں میں سے نہ رہوں۔

قُلْ اِنِّیْ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ كَذَّبْتُمْ بِهٖ١ؕ مَا عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ یَقُصُّ الْحَقَّ وَ هُوَ خَیْرُ الْفٰصِلِیْنَ Open ayah 6:57 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں تو اپنے پروردگار کی دلیل روشن پر ہوں اور تم اس کی تکذیب کرتے ہو۔ جس چیز (یعنی عذاب) کیلئے تم جلدی کر رہے ہو وہ میرے پاس نہیں ہے (ایسا) حکم اللہ ہی کے اختیار میں ہے وہ سچی بات بیان فرماتا ہے وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے

قُلْ لَّوْ اَنَّ عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ لَقُضِیَ الْاَمْرُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:58 in the Quran reader

کہہ دو کہ جس چیز کیلئے تم جلدی کر رہے ہو اگر وہ میرے اختیار میں ہوتی تو مجھ میں اور تم میں فیصلہ ہوچکا ہوتا اور خدا ظالموں سے خوب واقف ہے

وَ عِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ وَ مَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا یَعْلَمُهَا وَ لَا حَبَّةٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَ لَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 6:59 in the Quran reader

اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جن کو اس کے سواء کوئی نہیں جانتا اور اسے جنگلوں اور دریاوں کی سب چیزوں کا علم ہے اور کوئی پتا نہیں چھڑتا مگر وہ اس کو جانتا ہے اور زمین کے اندھیروں میں کوئی دانا اور کوئی ہری اور سوکھی چیز نہیں ہے مگر کتاب روشن میں (لکھی ہوئی) ہے

بت پرستی کی مذمت اور ممانعت اور خدا پرستی کی حقانیت اور دعوت۔ قال اللہ تعالی، قل انی نھیت۔۔۔۔ الی۔۔۔ فی کتاب مبین۔ ربط) ۔ ان آیتوں میں اللہ جل شانہ نے بت پرستی کی مذمت اور ممانعت ذکر فرمائی اور بعدا زاں خدا پرستی کی حقانیت اور اس کی دعوت کا ذکر فرمایا جو اوصاف معبود میں ہونے چاہیں وہ سوائے الہ کے کسی میں نہیں خدا کے سوا نہ کوئی عالم الغیب ہے اور نہ کوئی قادر مطلق ہے اور نہ کوئی نفع اور ضرر کا مالک ہے پس جب یہ اوصاف خدا کے سوا کسی میں نہیں پائے جاتے تو پھر خدا کے سوا کسی اور کی پرستش کیوں کرتے ہو توحید ہی سیدھا راستہ ہے جس کی اسلام تم کو تعلیم دیتا ہے پس تم ایک ہی خدا کی عبادت اور بندگی کرو اور اسی سے ڈرو جس کی طرف تم سب مرنے کے بعد اٹھائے جاؤ گے یہ سلسلہ کلام قل انی نھیت سے شروع ہو کر وھوالحکیم الخبیر۔ تک چلا گیا چناچہ فرماتے ہیں آپ ان لوگوں سے جو آپ کو بت پرستی کی دعوت دیتے ہیں یہ کہہ دیجئے کہ مجھ کو ممانعت کی گئی کہ میں ان معبودوں کی پرستش کروں جن کو تم خدا کہہ کر پکارتے ہو حالانکہ تم اس کا اعتراف اور اقرار کرتے ہو کہ وہ اللہ سے کمتر ہیں اور جو کمتر ہے وہ خدا نہی ہوسکتا اور نہ مستحق عبادت ہوسکتا ہے خدا تو وہ ہے جو سب بالا اور برتر ہو آپ یہ بھی کہہ دیجئے کہ میں تمہاری خواہشوں کی پیروی نہیں کرتا یعنی میں نہ بتوں کی پرستش کرو گا اور نہ فقراء مسلمین کو اپنے پاس سے ہٹاؤں گا اگر میں ایسا کروں گا تو گمراہ ہوجاؤں اور ہدایت پانے والوں میں سے نہ رہوں حالانکہ تو من جانب اللہ ہدایت دے کر بھیجا گیا ہوں میں کیسے گمراہی کے راستہ کو اختیار کرسکتا ہوں آپ کہہ دیجئے کہ تحقیق میں تو اپنے پروردگار کی طرف سے روشن دلیل پر ہوں کہ تمہارے بتوں کا عجز ظاہر ہے اور عاجز کی عبادت سراسر حماقت ہے اور تم نے اس روشن دلیل کو جھٹلایا جس میں شک اور تردد کی بھی گنجائش نہیں اور جو روش دلائل میں تمہارے سامنے بیان کرتا ہوں تو تم اس کے جواب سے تو عاجز ہو مذاق اڑانے کے لیے یہ کہتے ہو کہ اگر یہ حق ہے تو اس کی تکذیب پر فورا عذاب کیوں نازل نہیں ہوتا تو آپ کہہ دیجئے کہ میرے پاس وہ عذاب نہیں جس کی تم جلدی کرتے ہو یعنی عذاب کا نازل کرنا میرے اختیار میں نہیں جب اللہ کو منظور ہوگا تم پر نازل کردے گا جیسا کہ پہلی امتوں پر نازل ہوچکا ہے حکم کسی کا نہیں سوائے اللہ کے اللہ تعالیٰ حق کو دلائل اور براہین سے بیان کرتا ہے اور وہی سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے میرا اور تمہارا فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے جب چاہے گا فیصلہ کرے گا فیصلہ کی تاریخ مجھے معلوم نہیں آپ کہہ دیجئے کہ تحقیق اگر وہ عذاب جس کو تم جلدی مانگ رہے ہو میرے پاس ہوتا یعنی میرے اختیار میں ہوتا تو میں اب تک اس کو نازل کرچکا ہوتا اور میرے اور تمہارے درمیان میں جھگڑا ہی طے ہوچکا ہوتا اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو خوب جانتا ہے کوئی اس کے علم اور قدرت سے باہر نہیں نکل سکتا سب اس کی نظر میں ہیں وہ علیم بھی ہے اور حلیم بھی ہے اور حکیم بھی ہے عذاب میں جلدی نہیں کرتا اور اس کی تاخیر حکمت سے خالی نہیں اس آیت میں اللہ نے یہ بتلایا کہ کوئی ظالم اور کوئی مجرم اس کی نظر سے پوشیدہ نہیں وہ سب کو خوب جانتا ہے اب آئندہ آیات میں اللہ کے علم محیط اور قدرت کاملہ کا ذکر ہے تاکہ ثابت ہوجائے کہ عذاب میں تاخیر جہل یا عجز کی بناء پر نہیں بلکہ حلم عظیم اور حکمت بالغہ کی بناء پر ہے چناچہ فرماتے ہیں اور اللہ ہی کے پاس ہیں غیب کی کنجیاں یا غیب کے خزانے جن کو سوائے خدا کے کوئی نہیں جانتا اور نہ کوئی جان سکتا ہے۔ امام رازی فرماتے ہیں کہ اس آیت میں جو لفظ مفاتح آیا ہے اس میں علماء تفسیر کے دو قول ہیں۔ بعض علماء کے نزدیک مفاتح، مفتح بکسرالمیم کی جمع ہے جس کے معنی کنجی کے ہیں ان علماء نے مفاتح الغیب کا ترجمہ غیب کی کنجیوں سے کیا ہے اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ جن کنجیوں سے غیب کا قفل کھلتا ہے وہ سب اللہ ہی کے ہاتھ میں ہیں یعنی وہی خدائے برحق عالم الغیب ہے اس کے سوا کسی کو غیب کا علم نہیں۔ دوسرے اور بعض علماء کے نزدیک مفاتح مفتح بفتح المیم کی جمع ہے جس کے معنی خزانہ کے ہیں ان علماء نے مفاتح الغیب کا ترجمہ غیب کے خزانوں سے کیا ہے اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ غیب کے تمام خزانے صرف اللہ ہی کے ہاتھ میں ہیں اس کو اختیار ہے کہ اپنے خزانہ میں سے جس کو چاہے جتنا چاہے دے دے یا جتنا چاہیے اتنا بتلادے کماقال تعالی، ان من شئی الا عندا۔۔۔ الی۔۔۔ بقدرمعلوم۔ پہلے قول کی بناء پر اللہ کا عالم الغیب ہونا اور اس کے احاطہ علمی کا بیان کرنا مقصود ہوگا اور دوسرے قول کی بناء پر اللہ کی کمال قدرت اور کمال تصرف اور کمال ملکیت کا بیان کرنا مقصود ہوگا کہ تمام ممکنات اس کے قبضہ قدرت اور دست تصرف میں ہیں جس طرح چاہتا ہے ان میں تصرف کرتا ہے خلاصہ کلام یہ کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ علم غیب اور احاطہ علمی اور کمال قدرت اور کمال تصرف سب اللہ ہی کے ساتھ مخصوص ہے کوئی اس کا شریک اور سہیم نہیں آئندہ آیت میں پھر اس کے احاطہ علمی کو بیان کرتے ہیں اور وہ جانتا ہے جو کچھ جنگل اور دریا میں ہے مطلب یہ کہ خشکی اور تری کی ہر چیز کی اس کو خبر ہے اور نہیں گرتا درخت سے کوئی پتا مگر وہ جانتا ہے اس کو یعنی خدا کو پتوں کی گنتی بھی معلوم ہے اور نہیں ہے کوئی دانہ زمین کی اندھیروں میں اور نہیں ہے کوئی تر اور نہ کوئی خشک چیز مگر روشن کتاب یعنی لوح محفوظ میں ثبت ہے مطلب یہ ہے کہ کوئی چیز اللہ کے علم سے باہر نہیں خواہ وہ کلی ہو یا جزئی فلاسفہ یونان کا ایک نادان گروہ یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو علم کلیات کا تو ہے مگر جزئیات کا علم نہیں اس آیت سے ان کا رد ہوگیا۔
Ayah 6:60

وَ هُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّیْلِ وَ یَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ ثُمَّ یَبْعَثُكُمْ فِیْهِ لِیُقْضٰۤى اَجَلٌ مُّسَمًّى١ۚ ثُمَّ اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ یُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 6:60 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جو رات کو (سونے کی حالت میں) تمہاری روح قبض کرلیتا ہے اور جو کچھ تم دن میں کرتے ہو اس سے خبر رکھتا ہے پھر تمہیں دن کو اٹھا دیتا ہے تاکہ (یہی سلسلہ جاری رکھ کر زندگی کی) معین مدت پوری کردی جائے پھر تم (سب) کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (اس روز) وہ تم کو تمہارے عمل جو کرتے ہو (ایک ایک کرکے) بتائے گا

دلائل کمال قدرت قال اللہ تعالی، وھوالذی یتوفکم بالیل۔۔۔ الی۔۔۔ تعملون۔ گزشتہ آیت میں اللہ کے کمال علم کا بیان تھا اب اس آیت میں اللہ کے کمال قدرت اور کمال تصرف کا بیان ہے کہ اللہ بندوں کو ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پلٹتے رہتے ہیں کبھی حیات سے موت کی طرف اور کبھی خواب سے بیداری کی طرف یہ تصرفات حق تعالیٰ کے کمال قدرت اور کمال تصرف پر دلالت کرتے ہیں اور خواب کے بعد بیداری یہ بعث بعد الموت کانمونہ ہے جس سے قیامت کا امکان ثابت ہوتا ہے چناچہ فرماتے ہیں اور وہ اللہ وہ ہے کہ جو رات کو سلا کر تم کو پورا لے لیتا ہے تمہارے ہوش و حواس کو معطل کردیتا ہے کہ مردے اور سوتے میں کوئی فرق نہیں رہتا اور خوب جانتا ہے کہ جو کچھ تم نے دن میں کمایا اور کسب کیا اور پھر وہ تم کو دن میں نیند سے اٹھاتا ہے تاکہ اس سونے اور جاگنے کے دوران عمر کی مدت مقررہ پوری کردی جائے یعنی تمہارے دنیاوی عمر پوری ہوجائے پھر مرنے کے بعد اسی کی طرف لوٹنا ہے پھر وہ تم کو جتائے گا جو کچھ تم دنیا میں کرتے تھے اور اس کے مناسب سزا دے گا خوب سمجھ لو کہ تمہارا سلانا اور جگانا یہ صحت بعث اور امکان قیامت کی واضح دلیل ہے۔
Ayahs 6:61–70

وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ وَ یُرْسِلُ عَلَیْكُمْ حَفَظَةً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَ هُمْ لَا یُفَرِّطُوْنَ Open ayah 6:61 in the Quran reader

اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے اور تم پر نگہبان مقرر کئے رکھتا ہے یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آتی ہے تو ہمارے فرشتے اس کی روح قبض کرلیتے ہیں اور کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے

ثُمَّ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ١ؕ اَلَا لَهُ الْحُكْمُ١۫ وَ هُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِیْنَ Open ayah 6:62 in the Quran reader

پھر (قیامت کے دن تمام) لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائے جائیں گے سن لو کہ حکم اسی کا ہے اور وہ نہایت جلد حساب لینے والا ہے

قُلْ مَنْ یُّنَجِّیْكُمْ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ تَدْعُوْنَهٗ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً١ۚ لَئِنْ اَنْجٰىنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 6:63 in the Quran reader

کہو بھلا تم کو جنگلوں اور دریاؤں کے اندھیروں سے کون مخلصی دیتا ہے (جب) کہ تم اس سے عاجزی اور نیاز پنہانی سے پکارتے ہو (اور کہتے ہو) اگر خدا ہم کو اس تنگی سے نجات بخشے تو ہم اسکے بہت شکرگزار ہوں

قُلِ اللّٰهُ یُنَجِّیْكُمْ مِّنْهَا وَ مِنْ كُلِّ كَرْبٍ ثُمَّ اَنْتُمْ تُشْرِكُوْنَ Open ayah 6:64 in the Quran reader

کہو کہ خدا ہی تم کو اس (تنگی) سے اور ہر سختی سے نجات بخشتا ہے پھر (تم) اس کے ساتھ شرک کرتے ہو

قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰۤى اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ اَوْ یَلْبِسَكُمْ شِیَعًا وَّ یُذِیْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَفْقَهُوْنَ Open ayah 6:65 in the Quran reader

کہ دو کہ وہ (اس پر بھی) قدرت رکھتا یے کہ تم پر اوپر کی طرف سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے عذاب بھیجے یا تمہیں فرقہ فرقہ کر دے اور ایک کو دوسرے (سے لڑا کر آپس) کی لڑائی کا مزا چکھا دے دیکھو ہم اپنی آیتوں کو کس کس طرح بیان کرتے ہیں تاکہ یہ لوگ سمجھیں

وَ كَذَّبَ بِهٖ قَوْمُكَ وَ هُوَ الْحَقُّ١ؕ قُلْ لَّسْتُ عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍؕ Open ayah 6:66 in the Quran reader

اور اس (قرآن) کو تمہاری قوم نے جھٹلایا حالانکہ وہ سراسر حق ہے کہہ دو کہ میں تمہارا داروغہ نہیں ہوں

لِكُلِّ نَبَاٍ مُّسْتَقَرٌّ١٘ وَّ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 6:67 in the Quran reader

ہر خبر کیلئے ایک وقت مقرر ہے اور تم کو عنقریب معلوم ہوجائے گا

وَ اِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖ١ؕ وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:68 in the Quran reader

اور جب ایسے لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیتوں کے بارے میں بےہودہ بکواس کر رہے ہیں تو ان سے الگ ہوجاؤ یہاں تک کہ اور باتوں میں مصروف ہوجائیں اور اگر (یہ بات) شیطان تمہیں بھلا دے تو یاد آنے پر ظالم لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو

وَ مَا عَلَى الَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ لٰكِنْ ذِكْرٰى لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 6:69 in the Quran reader

اور پرہیزگاروں پر ان لوگوں کے حساب کی کچھ بھی جواب دہی نہیں ہاں نصیحت تاکہ وہ بھی پرہیزگار ہوں

وَ ذَرِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَعِبًا وَّ لَهْوًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ ذَكِّرْ بِهٖۤ اَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌۢ بِمَا كَسَبَتْ١ۖۗ لَیْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ١ۚ وَ اِنْ تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍ لَّا یُؤْخَذْ مِنْهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اُبْسِلُوْا بِمَا كَسَبُوْا١ۚ لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 6:70 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنا رکھا ہے اور دنیا کی زندگی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے ان سے کچھ کام نہ رکھو ہاں اس (قرآن) کے ذریعے سے نصیحت کرتے رہو تاکہ (قیامت کے دن) کوئی اپنے اعمال کی سزا میں ہلاکت میں نہ ڈالا جائے (اس روز) خدا کے سوا نہ تو کوئی اس کا دوست ہوگا اور نہ سفارش کرنے والا اور اگر وہ ہر چیز (جو روئے زمین پر ہے بطور) معاوضہ دینا چاہے تو وہ اس سے قبول نہ ہو یہی لوگ ہیں کہ اپنے اعمال کے وبال میں ہلاکت میں ڈالے گئے ان کیلئے پینے کو کھولتا ہوا پانی اور دکھ دینے والا عذاب اس لئے کہ کفر کرتے تھے

نوع دیگر از دلائل کمال قدرت و کمال حکمت قال اللہ تعالی، وھوالقاہر فوق عبادہ۔۔۔ الی۔۔۔ یکفرون۔ گذشتہ آیات کی طرح ان آیات میں دوسرے طرح سے اپنی کمال قدرت اور کمال حکمت کے دلائل اور حساب و کتاب اور حشر ونشر کا حق ہونا بیان فرماتے ہیں اور وہی اللہ قاہر اور غالب ہے اپنے بندوں پر یعنی خدا سب پر غالب اور زبردست ہے اور تمام بندے اس کی قدرت اور مشیت کے نیچے مقہور اور مجبور ہیں اور وہ رفعت شان بلندی رتبہ میں سب سے بالا اور برتر ہے امام رازی فرماتے ہیں کہ اس آیت میں فوقیت سے باعتبار مکان اور جہت کے فوقیت مراد نہیں کیونکہ اللہ مکان اور جہت سے پاک اور منزہ ہے بلکہ قہر اور غلبہ اور قدرت کے اعتبار سے فوقیت مراد ہے۔ (تفسیر کبیر س 59 ج 4) ۔ اور اس کے قہر اور غلبہ اور فوقیت کی ایک دلیل یہ ہے کہ وہ تم پر نگہبان فرشمتے بھیجتا ہے کہ جو تمام زندگی تمہارے اعمال کو لکھتے ہیں اور تمہاری جان کی حفاظت اور نگہبانی کرتے ہیں پس اس طرح تمام عمر تم اس قاہر غالب کی نگرانی میں رہتے ہو یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجاتا ہے تو ہمارے فرشتے اس کی روح قبض کرتے ہیں اور وہ فرشتے قبض روح میں کوتاہی نہیں کرتے یعنی جس کام پر وہ متعین ہیں اس کو بخوبی انجام دیتے ہیں جس وقت اور جس طرح قبض روح کا حکم ہوتا ہے اسی طرح اس کو بجالاتے ہیں قبض روح میں فرشتے رشوت نہیں لیتے پھر مرنے کے بعد یہ سب جدے اپنے مولائے برحق کی طرف لوٹا دیے جائیں گے تحقیق سن رکھو حکم اسی کا ہے اس کے سوا کسی اور کا حکم اور فیصلہ نہیں چلتا اور وہ سب حساب لینے والوں سے جلد حساب لینے والا ہے طرفۃ العین میں تمام مخلوقات کا حساب لے لے گا اور ایک لحظہ میں ساری عمر کی بھلائی اور برائی واضح کردے گا باوجود بیشمار مخلوقات کے ایک کا حساب دوسرے کے حساب سے مانع نہ ہوگا جس طرح وہ تمام عالم کو بلاغلطی کے بیک وقت رزق دینے پر قادر ہے اسی طرح وہ قیامت کے دن تمام عالم کا بیک وقت حساب کرنے پر بھی قادر ہوگا اور یہ اس کے کمال قدرت اور کمال قہر کی دلیل ہے۔ ف) ۔ جاننا چاہیے کہ فرشتے تین قسم کے ہیں ایک قسم تو وہ ہے کہ جو انسان کی مضرتوں سے حفاظت کے لیے مقرر کیے گئے کماقال تعالیٰ لہ معقبات من بین یدیہ ومن خلفہ یحفوظہ من امر اللہ۔ آیت۔ دوسری قسم وہ ہے کہ وہ فرشتے انسان کے اعمال کی حفاظت اور کتابت کے لیے مقرر کیے گئے ہیں کماقال تعالیٰ وان علیکم لحافظین، کراما کاتبین، وقال تعالی، اذ یتلقی المتلقیان۔۔۔ الی۔۔۔ قعید۔ تیسری قسم وہ فرشتے ہیں کہ جو انسان کی جان نکالنے کے لیے مقرر کیے گئے ہیں اور اس قسم کے فرشتوں کے سردار حضرت عزرائیل ہیں اس لیے آیات میں توفی اور موت کی اسنادک بھی ملک الموت کی طرف ہوتی ہے اور کبھی دیگر ملائکہ کی طرف ہوتی ہے جو ملک الموت کے اعوان اور مددگار ہیں اور کبھی باری تعالیٰ کی طرف اسناد ہوتی ہے کہ اصل حکم اللہ ہی کا ہے بغیر اس کے حکم کے کسی کو موت نہیں آتی آپ ان لوگوں سے جو اللہ کی حفاظت اور نگرانی اور قہر کے منکر ہیں یہ کہیے کہ بتلاؤ کہ کون ہے وہ ذات جو تم کو جنگل اور سمندر کی تاریکیوں یعنی پریشانیوں اور حیرانیوں سے اس حالت میں نجات دیتا ہے تم اس کو گڑگڑاتے اور آہستہ پکارتے ہو یعنی ایسے وقت میں تم صرف اللہ ہی کو پکارتے ہو اور بتوں کو بھول جاتے ہیں تو پھر بےفائدہ ان کو کیوں پوجتے ہو اور اس وقت تم خدا سے یہ وعدہ کرتے ہو کہ اے اللہ اگر تو نے ہم کو ان مصیبتوں کے تاریکیوں سے نکال دیا تو ہم ضرور بالضرور تیرے شکرگزاروں میں سے ہوجائیں گے آپ کہہ دیجئے کہ اللہ تم کو ان تاریکیوں سے اور ہر غم سے نجات دیتا ہے پھر بھی تم شرک کرنے لگتے ہو یعنی نجات پانے کے بعد اپنے وعدے پر قائم نہیں رہتے اور مصیبت سے رہائی کے بعد بدستور اسی کفر وشرک کی طرف لوٹ جاتے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ تم خدا کے اس مہلت دینے سے بےفکر نہ ہوجاؤ جس طرح وہ شدتوں اور مصیبتوں سے نجات دے سکتا ہے اس طرح وہ تم کو پہلے کی طرح دوبارہ بھی مبتلا کرسکتا ہے کیونکہ وہ اللہ اس بات پر قادر ہے کہ اوپر کی جانب سے یعنی آسمان کی جانب سے تم پر کوئی عذاب بھیج دے جیسے پتھر برسانا ہوا اور بارش کا طوفان آجانا یہ تمہارے پاؤں کے نیچے سے تم پر کوئی عذاب بھیج دے جیسے زلزلہ اور خسف اور غرق مانند فرعون اور قارون کے یا تم کو کسی داخلی اور اندرونی عذاب میں مبتلا کردے وہ یہ کہ تم کو گروہ گروہ بناکرآپس میں بھڑا دے اور ایک دوسرے کی لڑائی مزہ چکھا دے یعنی باہمی خود غرضیوں کو وجہ سے اللہ تعالیٰ تم کو باہمی جنگ وجدال اور پارئی بندی کے عذاب میں مبتلا کردے اس امت کو پہلی قسم کے عذابوں سے محفوظ کردیا گیا یعنی اس امت پر اس قسم کا کوئی عذاب نازل نہ ہوگا جیسا کہ پہلی امتوں پر نازل ہوا البتہ یہ امت تیسری قسم کے عذاب میں مبتلا ہوگی جیسے اندرونی اور داخلی عذاب کہنا چاہیے وہ باہمی پارٹی بندی اور آپس کی جنگ وجدال کا عذاب ہے جب خود غرضی آتی ہے تو پھوٹ پڑجاتی ہے اور آپس کا اختلاف مبدل باختلاف ہوجاتا ہے جو داخلی عذاب ہے اے نبی آپ دیکھیے تو سہی کہ ہم کس طرح بار بار اپنی نشانیوں اور دلیلوں کو بیان کرتے ہیں شایدیہ لوگ سمجھ جائیں اور حق کی طرف رجوع کریں لیکن یہ ایسے نادان ہیں کہ کس طرح ان کو سمجھ میں نہیں آتا بلکہ آپ کی قوم نے تو اس قرآن کو جھٹلایا حالانکہ وہ بالکل برحق ہے اس کے حق اور کلام الٰہی ہونے میں تو کوئی شبہ ہی نہیں یا یہ معنی ہیں کہ آپ کی قوم نے آنے والے عذاب کو جھٹلایا اور یہ کہا کہ یہ سب جھوٹی دھمکیاں ہیں عذاب وغیرہ کچھ نہیں آئے گا حالانکہ اس عذاب کا آنا جس کی خبر دی گئی ہے وہ حق اور صدق ہے وہ عذاب اپنے وقت پر ضرور آئے گا آپ کہہ دیجئے کہ حق تو واضح ہوچکا ہے تم پر نگہبان اور داروغہ نہیں ہوں یعنی حق کا منوانا اور نہ ماننے والوں پر عذاب کا نازل کرنا میرے اختیار میں نہیں میں تو صرف اللہ کا پیغام پہنچانے والا ہوں حق کا دل میں اتارنا یا نہ ماننے پر سزا دینا یہ اللہ کے اختیار میں ہے ہر خبر کا ایک وقت مقرر ہے اور عنقریب تم اس خبر کی صداقت کو جان لوگے جب وہ خبر تمہارے سامنے آئے گی اس وقت تمہیں اس خبر کی سچائی معلوم ہوجائے گی اور خود جان لوگے جس عذاب سے تم کو قرآن میں ڈرایا گیا تھا وہ کہ ان تک حق اور صدق تھا۔ اور اے نبی جب تو ان لوگوں کو دیکھے جو ہماری آیتوں میں بکواس کرتے ہیں یعنی ان کے ساتھ استہزاء کرتے ہیں اور ان میں عیب نکالتے ہی تو آپ ایسے لوگوں سے کنارہ کش ہوجائیے یہاں تک کہ وہ اس طعن و استہزاء کو چھوڑ کر دوسری بات میں لگ جائیں مشرکین عرب اپنی مجالس میں بیٹھ کر قرآن کا استہزاء کیا کرتے تھے اللہ نے فرمایا کہ ایسے وقت میں ان سے کنارہ کرو اور ا کے پاس نہ بیٹھا کرو تاکہ تم ان کے زمرہ میں داخل ہو کر ان کی طرح مستحق عذاب نہ بن جاؤ کماقال تعالی، وقد نزل علیکم فی الکتاب۔۔۔۔ الی۔۔۔ اذامثلھم۔ اس آیت میں خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے مگر مراد سب مسلمان ہیں کیونکہ سب مسلمان نبی کے تابع ہیں اور اگر شیطان تجھ کو بھلا دے یعنی اس مجلس میں بیٹھنے کی ممانعت تجھے یاد نہ رہے اور بھولے سے ان کی مجلس میں بیٹھ جائے تو یاد آنے کے بعد ان ظالم لوگوں کے پاس نہ بیٹھیے یعنی اگر بھولے سے بیٹھ گیا تو یاد آنے کے بعد فورا اٹھ کھڑا ہو اور جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں اور آیات اللہ پر طعن اور استہزاء اور نکتہ چینی کو برا جانتے ہیں اور ایسی مجالس میں شریک سے حتی الوسع بچتے ہیں تو ایسے لوگوں پر ان مشرکین کے طعن اور استہزاء کے حساب میں سے کوئی مواخذہ اور داروگیر نہیں ٰیعنی مسلمانوں سے ان کے اعمال قبیحہ کا کوئی مواخذہ نہیں وہ جانیں اور ان کا کام لیکن مسلمانوں کے ذمہ بشرط قدرت اور بقدرضرورت نصیحت کرنا اور ان کو سمجھانافرض ہے شاید وہ تمہاری نصیحت کرنے سے ان باتوں سے باز آجائیں اور عجب نہیں کہ تمہارا ان کی مجلس سے اٹھ کھڑا ہونا اور ان کے اس فعل قبیح پر اپنی ناگواری کا اظہار کس وقت ان کی ہدایت کا سبب بن جائے اور وہ اس ناشائستہ حرکت پر نادم ہو کر تائب ہوجائیں۔ ان آیات میں اللہ نے مسلمانوں کو کافروں کی خاص اس مجلس سے کنارہ کشی کا حکم دیا جہاں آیات اللہ پر طعن اور استہزاء کیا جاتا ہو اب آئندہ آیت میں ایسے لوگوں کی عالم مجالست اور مصاحبت میں مجلس استہزاء اور تکذیب کی تخصیص نہیں بلکہ غیرت ایمانی کا تقاضایہ ہے کہ ایسے لوگوں کو چھوڑ دو جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنالیا اور دنیا کی زندگی نے ان کو دھوکہ میں ڈال دیا اور دنیا کے نشہ میں مست ہو کر یہ سمجھ بیٹھے کہ جو کچھ ہے وہ یہی دنیا ہے ایسے لوگوں کو چھوڑو اور ان سے قطع تعلق کردو جسے اپنے انجام اور مرنے کے بعد کی فکر نہ ہو وہ بےعقلی ہے اور اس قرآن کے ذریعہ ان کو آخرت کا بھولا ہوا سبق یاد دلائیے تاکہ کوئی نفس اپنی بداعمالی کی وجہ سے گرفتار مصیبت نہ ہوجائے یعنی نصیحت سے فائدہ یہ ہے کہ شاید یہ لوگ اپنے برے اعمال کو ترک کردیں اور دوزخ میں جانے سے بچ جائیں اس لیے کہ قیامت کے دن اس نفس کے لیے سوائے اللہ کے کوئی مددگار نہیں اور نہ کوئی سفارشی ہے اور اگر کوئی نفس اس دن اپنی خلاصی کے لیے ہر قسم کا بدلہ بھی دیوے تو وہ اس سے قبول نہ کیا جائے گا غرض یہ کہ کسی صورت میں پیچھا نہیں چھوٹے گا کیونکہ یہی لوگ جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنا رکھا ہے گرفتار عذاب ہوئے ہیں اپنے برے اعمال کی بناء پر ان کے پینے کو سخت کھولتا ہوا پانی ہے اور دردناک عذاب ہے اس لیے کہ وہ کفر کرتے تھے اور آخرت کے اور اس کے عذاب کے منکر تھے۔