Ayah 5:1قال تعالی، یا ایھا الذین آمنوا وفو بالعقود۔
اے ایمان والو ایمان کا مقتضی یہ ہے کہ پورا کرو ان عہدوں کو جو تم نے التزام احکام کے بارے میں اللہ سے باندھے ہیں خواہ وہ براہ راست اللہ سے متعلق ہوں یا بندوں سے متعلق ہوں یا دنیا سے متعلق ہوں یا آخرت سے متعلق ہوں اس لیے کہ ایمان درحقیقت ایک معاہدہ التزام ہے کہ میں دل وجان سے اللہ اور اس کے رسول کی تمام احکام کو صحیح او صادق سمجھ کر ان کو واجب الالتزام او لازم العمل تسلیم کرتا ہوں اور عہد کرتا ہوں کہ دل وجان سے ان احکام کی تعمیل کروں گا پس یہ عہد التزام ایمان کی حقیقت ہے جس میں تمام احکام آگئے اور یہ ایمان درحقیقت عہد الست کی تجدید ہے جس میں حق ربوبیت ادا کرنے کا عہد لیا گیا تھا اسی طرح ایمان جملہ حقوق ادا کرنے کا ایک مضبوط عہد اور اقرار ہے اس لیے حکم یہ دیتے ہیں کہ اے ایمان والو تم نے ایمان لاکر التزام احکام کا اجمالی طور پر جو عہد اور پیمان کیا ہے اس کو پورا کرو پھر اس حکم اجمالی کے بعد خاص خاص عہدوں اور خاص خاص حکموں کے پورا کرنے کی تاکید فرماتے ہیں عقود جمع عقد کی ہے جس کے معنی گرہ لگانے کے ہیں ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ ملا کر خوب باندہ دیا جائے اس جگہ عقود سے تکالیف شرعیہ ور احکام دینیہ مراد ہیں جن میں اللہ نے بندوں کو باندھ دیا ہے اور بندہ ان میں جکڑا ہوا ہے بندہ پر ان کی پابندی اور التزام ضروری ہے پس یہ معلوم ہوگیا کہ ایمان درحقیقت التزام اطاعت کا اجمالی معاہدہ ہے جسے آج کل کی اصطلاح میں حلف وفاداری کہتے ہیں یہ اجمالی معاہدہ تو ایک امر بسیط ہے لیکن تمام احکام شرعیہ اس معاہدہ کی دفعات ہیں اسی وجہ سے امام اعظم ابوحنیفہ فرمات ہیں کہ ایمان میں کمی زیادتی نہیں اس لیے کہ ایمان درحقیقت التزام طاعت خداوندی کے معاہدہ کا نام ہے جو ایک مربسیط ہے اس میں فی حد ذاتہ تجزی اور تبعض اور کمی اور زیادتی جاری نہیں ہوتی جیسے عقد نکاح حقوق زوجیت کے التزام کا ایک اجمالی معاہد ہے اور وہ ایک امربسیط ہے جس میں کمی اور زیادتی نہیں ایجاب و قبول سے پورا ہوجاتا ہے اور نان فقہ اور سکنی وغیرہ تمام امور عقد نکاح کے اجزاء ترکیبہ نہیں بلکہ اس کے دفعات اور لوازم ہیں اسی طرح اعمال صالحہ عقد ایمان کے لوازم اور اس کی دفعات ہیں جن کی بجاآواری لازم اور ضروری ہے معاہدہ ایمان کے اجزاء ترکیبیہ نہیں حضرت شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں یعنی جب آدمی مسلمان ہوا تو سب حکم اللہ کے قبول کرنے ٹھہراچکا اب آگے حکم فرمات ہیں کہ ان کو قبول کرو یعنی حسب عہد ان احکام کو بجالاؤ جن کے التزام کا تم نے عہد کیا ہے خلاف عہد کوئی کام نہ کرو بےوفائی اور عہد شکنی بہت بری چیز ہے۔
تفصیل بعد از جمال یعنی عقود وعہود کی تفصیل۔ عقد اول۔ تحلیل بہیمۃ الانعام۔
قال تعالی، احلت لکم بھیمۃ الانعام۔۔۔ الی۔۔۔ مایرید۔
ربط) ۔ گذشتہ آیت میں یا ایھا الذین آمنوا وفو ا بالعقود میں اجمالی طور پر وفاء عقود کا حکم تھا اب اس اجمال کی تفصیل شروع ہوتی ہے سب سے پہلے عقد حلت و حرمت کو بیان فرمایا کہ حلال و حرام کے بارے میں اللہ نے تم سے عہد لیا ہے اس کو پورا کرو سورة نساء کے اخیر میں گذرچکا ہے یہود پر ظلم اور بدعہدی کی سزا میں بعض حلال اور طیب چیزیں حرام کردی گئیں کما قال تعالی، فبظلم من الذین۔۔۔ الی۔۔ لھم۔ جن کی تفصیل سورة انعام میں ہے اب اس آیت میں امت محمدیہ کو ایفاء عہد کی ہدایت کی جاتی ہے کہ جو چیزیں ہم نے تم پر اپنی رحمت سے حلال کردی ہیں صرف ان کو استعمال کرو اور جو چیزیں تم پر حرام کردی ہیں ان سے پرہیز کرو اور اشارہ اس طرف بھی ہے کہ اے مسلمانوں تم نصاری کی طرح حلال و حرام کی تقسیم کو ختم نہ کردینا بہائم اور حیوانات کے نزدیک حلال و حرام کی کوئی تقسیم نہیں جہاں چاہا منہ مارا اور کھالیا یہی حال آج کل متمدن قوموں کا ہے یہ مذہب انسانوں کا نہیں بلکہ یہ مذہب حیوانوں کا ہے چناچہ فرماتے ہیں حلال کردیے گئے تمہارے لیے تمام چوپائے مویشی مگر وہ جانور جن کی حرمت آئندہ تمہارے سامنے بیان کیے گئے تمہارے تمام چوپائے مویشی مگر وہ جانور جن کی حرمت آئندہ تمہارے سامنے بیان کی جائے گی وہ تمہارے لیے حلال نہیں یعنی وہ جانور جن کا آئندہ آیت حرمت علیکم المیتۃ الخ۔ آیت۔ میں ذکر ہے وہ باوجود بہمۃ الانعام میں داخل ہونے کے حلت کے حکم سے مستثنی ہیں باقی ان کے علاوہ سب جانروں کا کھانا اور شکار کرنا تمہارے لیے ہر حال میں حلال ہے مگر حالت احرام میں تم شکار کو حلال نہ سمجھو لہذا بحالت احرام اور حدود حرم کے اندر کسی جانور کا شکار نہ کرو بیشک اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے کسی کی مجال نہیں کہ اس احکم الحاکمین سے یہ دریافت کرسکے یہ حکم کیوں دیا نیز اللہ حاکم مطلق ہونے کے علاوہ حکیم مطلق بھی ہیں اسی نے اپنی حکمت بالغہ سے ہر جانور میں ایک خاص صفت اور خاص کیفیت اور خاص استعداد رکھی ہے جس جانوروں کو بندوں کے لیے مفید جانا اس کو اپنی رحمت سے حلال کردیا اور جس کو مضر جانا اس کو حرام کردیا پس اس نے اپنے علم و حکمت سے جو حکم دیا اس کا اتباع کرو۔
Ayah 5:2حکم دوم شعائر دین اسلام
قال تعالی، یا ایھا الذین آمنو۔۔۔۔ الی۔۔۔ العقاب۔
ربط) گزشتہ آیت میں احلال بہیمۃ الانعام کے لیے غیر محلی الصید کی قید ذکر فرمائی کہ جو کہ احرا اور حرم اور محترم کی تعظیم میں مخل تھی اس لیے اب آئندہ آیت میں شعائر دین کی بےحرمتی کی ممانعت فرماتے ہیں ہیں جو معنی شعائر دین کے احترام کا حکم ہے چناچہ فرماتے ہیں اے ایمان والو ایمان کا مقتضی یہ ہے کہ اللہ کے دین کے احترام اور ادب کو پوری طرح ملحوظ رکھو لہذا تم اللہ کی نشانیوں کی بےحرمتی نہ کرو یعنی جن چیزوں کو اللہ نے اپنے دین کی نشانی قرار دیا ہے جیسے کعبۃ اللہ اور صفا اور مروہ اور حجر اسود اور عرفات اور منی مزدلفہ اور قربانی کے جانور وغیرہ ان کی بےحرمتی نہ کرو۔
ف) ۔ شعائر دین ان امور کو کہتے ہیں جو اسلام کی خاص علامت ہوں اور ان سے اسلام کی خاص شان و شوکت ظاہر ہوتی ہو جیسے اذان اور حج اور عمرہ اور قربانی اور نہ ماہ حرام کی بےحرمتی کرو یعنی جن چار مہینوں کی لڑائی حرام ہے ان میں لڑائی کرکے ان کی بےحرمتی نہ کرو ابتداء میں چار مہینوں میں یعنی محرم کی لڑائی حرام ہے اور ان میں لڑائی کرکے ان کی بےحرمتی نہ کرو ابتداء میں چار مہینوں یعنی محرم اور رجب اور ذیقعدہ اور ذی الحجہ میں قتل و قتال کی ممانعت تھی بعد میں یہ ممانعت باقی نہیں رہی جس کا بیان انشاء اللہ سورة توبہ میں آئے گا اور نہ قربانیوں کی بےحرمتی کرو یعنی جو جانور بغرض قربانی خانہ کعبہ بھیجے جاتے ہیں ان پر لوٹ ڈال کر ان کی بےحرمتی نہ کرو اور نہ ان جانوروں کی بےحرمتی کرو جن کے گلے میں پٹے پڑے ہوں ایسے جانوروں سے تعرض کرنا بہت ہی برا ہے اس لیے کہ جب ان کے ساتھ قربانی کی شناخت موجود ہے تو پھر یہ عذر بھی نہیں رہا کیا جاسکتا کہ ہم کو خبر نہ تھی یہ قربانی کے جانور ہیں اور نہ ان لوگوں کی بےحرمتی کرو جو خانہ کعبہ کی زیارت کے قصد سے جارہے ہوں اور جو اپنے پروردگار کے فضل اور خوشنودی کے طلب گار ہوں خانہ کعبہ کا ادب یہ ہے کہ جو اس کی زیارت کو جارہا ہے اس سے تعرض نہ کرو اس لیے کہ جب خانہ کعبہ کے ادب اور احترام میں قربانی کے جانور سے تعرض جائز نہیں تو انسان سے تعرض کرنا کیسے روا ہوگا مطلب یہ ہے کہ مشرکین جس کام میں اللہ کی تعظیم کریں اس کام میں کافروں کی مزاحمت نہ کرو البتہ بت وغیرہ کی تعظیم میں ان کی مزاحمت اور ہانت کرو مشرکین عرب اپنے آپ کو ملت ابراہیم کا پیروکار کہتے تھے اور اسی بناء پر وہ حج اور عمرہ کی نیت سے سفر کرتے اور اپنے گمان میں وہ اللہ کی خوشنودی کا قصد کرتے ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ جو لوگ خانہ کعبہ کی زیارت کے قصد سے آتے ہیں ان سے تعرض نہ کرو یہ حکم اس وقت تھا کہ جب مشرکین کو خانہ کعبہ کی زیارت کی اجازت تھی اور جب انما المشرکون نجس۔ آیت۔ یہ آیت نازل ہوئی تو مشرکین کو خانہ کعبہ میں آنے کی ممانعت کردی گئی اور اس ممانعت کی عام منادی کردی گئی اور اے مسلمانو حالت احرام میں تم پر شکار حرام ہے لیکن جب تم احرام سے باہر ہوجاؤ تو تم کو اجازت ہے کہ تم شکار کرو حج اور عمرہ کے احرام کے احترام میں شکار کی ممانعت تھی اور جب احترام ختم ہوگیا تو حرمت بھی ختم ہوگئی اور اے مسلمانوں تم کو خانہ کعبہ اور مسجد حرام کا احترام دوستی اور دشمنی ہر حالت میں ملحوظ رہنا چاہیے یہاں تک کہ کسی قوم کی دشمنی اور عداوت اس بناء پر کہ انہوں نے تم کو حدیبیہ کے سال مسجد حرام کی زیارت سے روکا تھا یہ دشمنی تم کو اس پر آمادہ نہ کرے کہ تم حدود ادب سے تجاوز کرجاؤ اور جوش عداوت میں احرام اور حدود حرم کے ادب اور احترام کی حدود باہر ہوجاؤ اور نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور تعدی یعنی ظلم وستم میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو بلکہ اس کے برعکس نیکی اور پرہیزگاری کی ترغیب دو پہلی آیت میں دشمنی کا دستور العمل تھا کہ دشمنی تم کو بےانصافی پر آمادہ نہ کرے اور اس آیت میں دوستی کا دستور العمل تھا کہ دشمنی تم کو بےانصاری پر آمادہ نہ کرے اور اس آیت میں دوستی کا دستورالعمل ہے کہ دوستی میں کسی کی بےجا حمایت نہ کرو جیسے آج کل پارٹیوں میں ہوتا ہے بلکہ بر اور تقوی میں ایک دوسرے کی مدد کرو اور اللہ کے عذاب سے ڈرتے رہو بیشک اللہ اپنے نافرمانوں کو سخت عذاب دینے والا ہے لہذا تم کو چاہے کہ نیکی اور پرہیزگاری میں ایک دوسرے کی مدد کرو تاکہ تم اللہ کے فضل اور رضوان سے حصہ ملے اور سخت عذاب سے محفوظ رہے بر یعنی نیکی سے لوگ خوش ہوتے ہیں اور تقوی سے اللہ خوش ہوتا ہے جس نے دونوں باتوں کو اپنے اندر جمع کرلیا اس نے سعادت مکمل کرلی بر نیکی فعل خیرات کا نام ہے اور تقوی اور پرہیزگاری ترک منکرات کا نام ہے جس میں یہ دونوں خصلتیں جمع ہوجائیں اور اس کی خوش نصیبی کا کیا پوچھنا۔
Ayah 5:3حکم سوم تفصیل محرمات۔
قال تعالی، حرمت علیکم المیتتہ۔۔۔ الی۔۔۔ فسق۔
ربط) شروع سورت میں الا مایتلی علیکم سے جن چیزوں کی تحریم کی طرف اجمالی اشارہ تھا اب اس آیت میں ان محرمات کو تفصیل کے ساتھ بیان فرماتے ہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ وہ بہیمنہ الانعام جن کو اللہ نے تمہارے لیے حلال کیا ہے وہ بعض احوال میں حرام ہوجاتے ہیں اور اس حالت میں ان کا استعمال ممنوع ہے لہذا تم کو چاہیے کہ ان محرمات سے بچو تاکہ اللہ تعالیٰ کے شدید عذاب سے محفوظ رہو جیسا کہ گذشتہ آیت میں حکم دیا تھا واتقواللہ ان اللہ شدید العقاب۔ اور حرام سے بچنے کا نام تقوی اور پرہیزگاری ہے اب آئندہ آیت میں ان محرمات کی تفصیل فرماتے ہیں جن کا اوپر کی آیت الا مایتلی علیکم میں اجمالا ذکر فرمایا تھا چناچہ فرماتے ہیں کہ اے مسلمانو وہ چیزیں جو کہ حلال چیزوں سے مستثنی کی گئیں اور تم پر حرام کی گئیں وہ گیارہ چیزیں ہیں۔
(اول) ۔ مردار جانور یعنی جو بلاذبح اور بلاشکار کے اپنی طبعی موت مرجائے وہ تم پر حرام کیا گیا ہے اس لیے کہ جب وہ جانور ذبح نہیں کیا گیا تو اس کا خون اندر ہی منجمد ہوگیا جس کا کھانا تمہارے لیے غایت درجہ مضر صحت ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر مردار جانوروں کا کھانا حرام کردیا۔ (دوسری) جو تم پر حرام کی گئی وہ خون ہے جو بہتا ہوا ہو جیسا کہ دوسری جگہ پر ارشاد ہے او دما مسفوحا مشرکین عرب خون جما کر کسی توے اور کڑھائی میں تل کر کھایا کرتے تھے اس آیت میں اس کو حرام کردیا گیا البتہ وہ خون جو گوشت پر لگا رہ جائے وہ اس سے مستثنی ہے اور علی ہذا کلیجی اور تلی بھی مستثنی ہے خون کا کھانا چونکہ ہایت مضر صحت ہے اس لیے اللہ نے اس کا کھانا حرام فرمایا اور (تیسری) چیز سور کا گوشت حرام کیا گیا جس میں اس کی چربی اور اس کی کھال بھی شامل ہے غذا کا اثر اخلاق پر پڑتا ہے اور سور میں بہت سی صفات ذمیمہ پائی جاتی ہیں وہ حدردجہ کا حریص اور پرلے درجہ کا بےغیرت ہے بےغیرتی اس کے خمیر میں داخل ہے جو قومیں سور کا گوشت کھاتی ہیں وہ بےغیرت ہیں عیاں راچہ بیاں اس لیے شریعت نے سور کے گوشت کو حرام کیا تاکہ مسلمان بےغیرتی سے محفوظ رہیں قرآن کریم میں اگرچہ سور کے گوشت کی حرمت کا ذکر آیا ہے لیکن تمام امت محمدیہ پر اس کا اجما ہے کہ سور نجس العین ہے اور اس کے کسی جز سے انتفاع درست نہیں خدا تعالیٰ نے کھانے کی تخصیص اس لیے کی ہے جانور سے بڑا مقصود کھانا ہی ہوتا ہے۔ اور (چوتھی) چیز جو بقصد تقرب غیر اللہ کے نامز کردیا گیا ہو وہ بھی تم پر حرام کیا گیا بقصد تقرب وتعظیم جانور کو غیر اللہ کے لیے نامز کرنا یہ شرک ہے اس نیت شرکیہ کی وجہ سے وہ جانور نجس ہوجاتا ہے اور اس کا کھانا حرام ہوجاتا ہے اگرچہ ذبح کے وقت اس پر اللہ کا نام لیاجائے اس لیے کہ حرمت کا مدار اس نیت شرکیہ پر ہے جب تک اس نیت سے توبہ نہ کرے گا حلال نہ ہوگا جس طرح کلب اور خنزیر اور بہائم محرمہ ذبح کے وقت خدا کا نام لینے سے حلال نہیں ہوجاتے اسی طرح مااھل بہ لغیر اللہ ذبح کے وقت اللہ کا نام لینے سے حلال نہی ہوگا جب تک اس نیت شرکیہ سے توبہ نہ کرے اور حدیث میں ہے انماالاعمال باالنیات اس بارے میں مفصل کلام سورة بقرہ میں گزرچکا ہے وہاں دیکھ لیا جائے۔ خلاصہ کلام یہ کہ جو جانور غیر خدا کی تعظیم کے لیے ذبح کیا جائے وہ مردار ہے۔ (پانچویں) چیز وہ جانور جو گلا گھٹ کر مرجائے وہ بھی تم پر حرام کیا گیا اس لیے کہ ایسا جانور درحقیقت مردار ہے۔ اور (چھٹی) چیز وہ جانور جو چوٹ کھا کر مرا ہو وہ بھی تم پر حرام کیا گیا یعنی لکڑی کی چوٹ سے مرگیا وہ بھی حرام کیا گیا۔ (اور ساتویں) چیز وہ جانور جو اوپر سے نیچے گر کر مرا ہو خواہ وہ خود گر مرا ہو یا کسی نے گرایا ہو وہ بھی حرام ہے ( اور آٹھویں) چیز وہ جانور کہ جو دوسرے جانور کے سینگ مارنے سے مرا ہو وہ بھی تم پر حرام کیا گیا وہ بھی مردار ہے۔ (اور نویں چیز) وہ جانور جس کو درندے نے پھاڑ کھایا ہو اس کا بقیہ تم پر حرام ہے لیکن منحتفہ اور موقوذہ اور متردیہ اور مااکل السبع میں جن جانوروں کا ذکر ہے ان میں سے اگر تم کسی جانور کو جان نکلنے سے پہلے قاعدہ شرعیہ کے مطابق ذبح کرڈالو تو وہ اس حرمت کے حکم سے مستثنی اور خارج ہے یعنی ان جانوروں میں اگر تم کسی کو جیتا ہوا پاؤ اور مرنے سے پہلے اس کو ذبح کرلو تو وہ حرام نہیں ہے۔
(ف) ۔ منحنفہ اور موقوذہ اور متردیہ اور مااکل السبع اگرچہ یہ سب چیزیں میتہ میں داخل تھیں لیکن ان کو علیحدہ ذکر کیا عام اطلاق میں میتہ اسی جانور کہتے ہیں کہ جس کی موت کا کوئی ظاہری سبب نہ ہو اور منحنقہ وغیرہ میں موت کا ظاہری سبب موجود ہے اس لیے ان کو علیحدہ ذکر کیا یہ سب مردار کے حکم میں ہیں (اور دسویں) چیز جو تم پر حرام کی گئی وہ جانور ہے کہ ذبح کیا جائے کسی تھان پر یعنی کسی معبود کے باطل نشان پر وہ بھی حرام ہے تھان سے مراد وہ مقامات ہیں جن کو لوگ متبرک سمجھ کر خدا کے سوا دوسروں کی نذرونیاز چڑھاتے تھے۔ امام راغب فرماتے ہیں کہ نصب ان پتھروں کو کہتے ہیں جن کو مشرکین عرب غیر اللہ کی عبادت کے لیے نصبت کرتے تھے اور جانوروں کو لے جا کر وہاں ذبح کرتے تھے کماقال تعالی، الی نصب یوفضون (مفردات ص 513) ۔ نصب اور صنم میں فرق یہ ہے کہ نصب اس غیر مصور پتھر کو کہتے ہیں جو کسی دیوتا یا دیوی کے نام پر کھڑا کیا جائے اور صنم وہ مصور پتھر ہے جس پر کسی دیوتا یا دیوی کی تصویر یعن یصورت بنی ہوئی ہوخانہ کعبہ کے گرد تین سو ساٹھ پتھر کھڑے کیے ہوئے تھے جن کو مشرکین اپنے دیوتاؤں کا تھان سمجھ کر بتوں کے لیے ان کے پاس آکر قربانیاں کیا کرتے تھے اور کچھ خون بھی ان پر چھڑک دیا کرتے تھے اور ان پتھروں کے بدلتے بھی رہتے تھے ایک پتھر کے بجائے دوسرا اچھا پتھر رکھ دیتے تھے پس اللہ نے اس کو بھی نجس اور حرام کردیا اور ان قربانیوں کے کھانے کی ممانعت کی جو ان تھانوں پر کی جائیں کیونکہ یہ صورت بھی فی الحقیقت نذر بغیر اللہ کی ایک خاص سورت ہے گوذبح کے وقت زبان سے بسم اللہ اللہ اکبر کہہ دیا جائے اس لیے کہ اصل مقصود اور اصل نیت اس ذبح سے غیر اللہ کی تعظیم اور تقرب ہے جو شرک ہے اس لیے اللہ نے اس کو حرام قرار دیا کیونکہ حرمت کا اصل دارومدار نیت شرکیہ پر ہے جس کا ظہور کبھی قول سے ہوتا ہے اور کبھی فعل سے یعنی ایسے مقامات پر ذبح کرنے سے جو بتوں کے نام پر بنے ہوئے ہیں اللہ نے ایسا ذبیحہ کھانا حرام قرار دیا تفسیر قرطبی ص 57 ج 6) ۔
(نکتہ) ۔ گذشتہ آیت میں ہدی کے ادب اور حترام کا ذکر تھا جو جانور تقرب الی اللہ کی غرض سے خانہ کعبہ پہنچ جاتے ہیں ان سے تعرض نہ کرو اب اس آیت میں اس کے بالمقابل اس جانور کا ذکر فرمایا جو خدا کے سوا کسی دوسرے کے نام پر ذبح کیا جائے یا خانہ خدا کے سوا کسی دوسرے مکان کی تعظیم کے لیے ذبح کیا جائے تو وہ حرام اور مردار ہے (ماخوذ از موضح القرآن) ۔ اس تقریر سے مااھل لغیر اللہ بہ اور ماذبح علی النصب کا فرق واضح ہوگیا، فللہ الحمد۔ اور (گیارھویں) چیز جو تم پر حرام کی گئی وہ یہ ہے کہ پانسوں سے تم قسمت معلوم کرو از لام زلم کی جمع ہے جس کے معنی تیر کے ہیں ازلام ان تیروں کو کہتے ہیں کہ جو بتوں کے مجاوروں کے پاس ہوا کرتے تھے مشرکین عرب کا یہ دستور تھا کہ جب کوئی ضرورت پیش آتی اور کسی مہتم بالشان کام کا ارادہ کرتے تو قسمت انجام معلوم کرنے کے لیے ان مجاوروں کے پاس جا کر سوال کرتے کہ مثلا میں نکاح کروں یا نہ کروں اور اس سفر میں جاؤں یا نہ جاؤں تو وہ مجاور اپنا تھیلا نکالتا جس میں تین تیر ہوتے ایک پر لکھا ہوا تھا امرنی ربی، حکم دیا مجھے میرے رب نے) دوسرے تیر پر لکھا تھا نہانی ربی (منع کیا مجھ کو میرے رب نے) اور تیسرا تیر خالی تھا یہ تینوں تیر مجاور کے پاس ایک تھیلے میں رکھے رہتے تھے جب کسی کو کسی کام میں کوئی تردد اور تذبذب لاحق ہوتا تو مجاور کے پاس جاتے اور وہ تھیلہ میں ہاتھ ڈال کر کسی تیر کو نکالتا اگر امرنی ربی والا تیر نکل آیا تو وہ کام کرتے اور اگر نہانی ربی والا تیر نکل آیا تو ایک سال کے لیے اس کام سے رک جاتے اور اگر خالی تیر نکلتا تو پھر یہی عمل کیا جاتا یہاں تک کہ کرو یا نہ کرو والا تیر نکلتا چونکہ یہ بتوں سے ایک قسم کا مشورہ اور استعانت تھی جس کی بناء پر خالص جہالت اور وہم پرستی اور افتراء علی اللہ پر تھی اس لیے اللہ نے قرآن کریم میں جا بجا اس رسم کی حرمت کو شدت کے ساتھ ذکر فرمایا اور اس مقام پر میتہ اور خنزیر جیسی گندی چیزوں کے ساتھ ملا کر اس کی حرمت کو بیان فرمایا اور یہ بتلادیا کہ یہ ایک مشرکانہ اور جاہلانہ رسم ہے اس طریقہ سے قسمت اور انجام کسی طرح معلوم نہیں ہوسکتا شریعت نے بجائے اس رسم قبیح کے استخارہ کا حکم دیا کہ جب کسی امر میں تردد ہو تو استخارہ کرو یہ تمام باتیں جو تم پر حرام کی گئیں سب فسق وفجور یعنی گناہ اور بدکاری ہیں یا یوں کہوں کہ ذالکم کا اشارہ فقط اخیر یعنی استقسام بالازلام کی طرف ہے اور مطلب یہ کہ تیروں سے قستم اور انجام کا معلوم کرنا سراسر فسق اور ضلالت اور شرک اور جہالت ہے مومن کا کام یہ ہے کہ جب اس کو کسی کام میں تردد ہو تو خداوند ذوالجلال کی طرف رجوع کرے اور استخارہ کرے جیسا کہ احادیث میں اس کا طریقہ وارد ہوا ہے۔
حکم چہارم۔ تاکید تمسک بشرائع اسلام مع بشارت اکمال دین واتمام انعام۔
قال تعالی، الیوم یئیس الذین کفرو۔۔۔۔ الی۔۔۔۔۔ دینا۔
ربط) ۔ حلال و حرام کی تفصیل کے بعد اب اس آیت میں بشارت دیتے ہیں کہ تمہارا دین مکمل ہوگیا کوئی خیر اور بھلائی ایسی باقی نہ رہی جو بتلادی گئی ہو اور کوئی شر اور برائی ایسی نہ رہی جس سے منع نہ کردیا گیا اور اس کے ساتھ اللہ نے تم کو اتنی قوت اور عزت عطا کی کہ کافر ناامید ہوچکے ہیں اور دین اسلام کے مٹانے کا تصور اور خیال خام ان کے دلوں سے نکل چکا ہے لہذا اے مسلمانوں تم بےخوف و خطرہ ہو کر دین اسلام کے فرائض اور احکام کو بجالاؤ اور کافروں کی نفرت اور وحشت کو خاطر میں نہ لاؤ دین کا غلبہ مکمل ہوچکا ہے اب کسی میں یہ طاقت نہیں کہ حلال و حرام کے بارے میں کوئی مزاحمت کرسکے اور جاہلیت کی طرح مخالفین اسلام کے جو روستم کی وجہ سے مسلمان آزادی کے ساتھ شرائع اسلام اور حلال و حرام پر عمل نہیں کرتے اب اللہ نے اسلام کے ضعف کو قوت سے اور اس کے خوف کو امن سے اور اس کے فقر کو غنی سے بدل دیا ہے اب تم آزادی کے ساتھ بےخوف وخطر شرائع اسلام کو بجالاؤ اور جس چیز کو اللہ نے حلال کیا ہے اس کو استعمال کرو اور جیسے حرام کیا ہے اس سے بچو چناچہ فرماتے ہیں آج کے دن یعنی اب کفار تمہارے دین سے ناامید ہوگئے یعنی اس کے مٹانے یا اس پر غالب آجانے سے ایوس ہوگئے اب تک تو یہ سمجھتے تھے کہ اسلام چند روز کا مہمان ہے اور جو لوگ مسلمان ہوئے وہ عنقریب دین اسلام چھوڑ کر پھر انہیں میں جا ملیں گے لیکن اب وہ بالکل ناامید ہوگئے اور سمجھ گئے کہ یہ شمع بجھنے والی نہیں اور یہ پروانے اسے چھوڑنے والے نہیں پس جب یہ بات ہے کہ کفار تمہارے دین کے مٹانے اور اس پر غالب آنے سے ناامید ہوچکے ہیں تو تم اس دین پر عمل کرنے میں ان سے بالکل نہ ڈرو وہ تمہارا کچھ نہیں کرسکتے اور مجھ سے ڈرو یعنی ان کی خوشامد میں شریعت کے خلاف کرکے اپنے کو تباہ نہ کرو اس دین کو کوئی نہیں مٹا سکتا اس سے معلوم ہوا کہ تقیہ ایک فعل مہمل ہے اور بزدلانہ حرکت ہے۔ (تفسیر کبیر ص 368 ج 3) ۔ اب میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو مکمل کردیا تمام حلال و حرام فرض اور واجب چیزیں مکارم اخلاق اور عقائد اور اصول قواعد سب بیان کردیے اور اپنی نعمت کو تم پر پورا کردیا کہ تم کو دین کامل دیا اور اب تم کسی دین اور کسی شریعت کے محتاج نہیں رہے اور کافروں پر تمہیں غلبہ بخشا مطلب یہ ہے کہ یہ نعمت دو اعتبار سے تم پر تمام ہوئی ایک قوت و شوکت کے اعتبار سے کہ اس دین کو تمام دینوں پر غلبہ عطا کیا، ھوالذی ارسل رسولہ بالھدی۔۔۔۔ الی۔۔۔ کلہ۔ کا وعدہ پورا کیا اور دوسرے قواعد اور احکام و حلال، حرام کی تفصیل اور مبداء اور معاش اور معاد کی تفصیل کے اعتبار سے اتنا کامل کردیا کہ اب قیامت تک جتنے واقعات پیش آئیں گے ان سب کے احکام اسی دین حق یعنی کتاب وسنت کی روشنی میں معلوم کیے جاسکیں گے یا یوں کہو کہ اتمام نعمت سے یہ مراد ہے کہ لذائذ اور طیبات کو تمہارے لیے حلال کردی اور خباثت اور ارجاس کو تم پر حرام کردیا اس طرح تم پر اپنی نعمت پوری کی یا یوں کہو کہ حج فرض کرکے ارکان دین کو مکمل کردیا۔
(ف) ۔ چونکہ حدیث اور اجماع قیاس کی حجیت خود قرآن کریم سے ثابت ہے اس لیے جو حکم ثابت ہو حدیث اور اجماع اور قیاس سے وہ بھی دین کا جز ہوگا جس نے حدیث نبوی یا اجماع امت یا قیاس فقہاء کو دین سے خارج اور اس کا مقابلہ اور قسیم سمجھا وہ بےدین اور بےعقل ہے اور قرآن کریم اور حدیث شریف اور اجماع علماء اور قیاس فقہاء سب دین کے اجزاء اوراقسام ہیں نیز قیاس مظہر حکم ہے مثبت حکم نہیں یعنی جو حکم کتاب وسنت میں پوشیدہ ہے اور مخفی تھا قیاس اسے ظاہر کردیتا ہے جیسا کہ لعلمہ الذین یستنبطونہ کی تفسیر میں گذر چکا ہے قیاس کے معین خودرائی اور جدید حکم کے نہیں۔ رہا اجماع سوہ وہ بھی کسی آیت یا حدیث ہی کے مختلف فیہ مضمون پر ہوتا ہے چیز (دین) ایک ہے الوان (رنگتیں مختلف ہیں) ۔
عبار اتنا شتی وحسنک واحد، وکل الی ذاک الجمال یشیر
بہر رنگے کہ خواہی جامہ می پوش، من از رفتار پایت می شناسم۔
اور پسند کیا میں نے تمہارے لیے دین اسلام کو یعنی اب یہی دین خدا کے نزدیک مرضی اور پسندیدہ اور تمام دینوں سے بہتر ہے اور برتر ہے اور اب قیامت تک یہی دین رہے گا اور کبھی منسوخ نہ ہوگا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) آسمان سے نازل ہونے کے بعد اسی دین اور شریعت کا اتباع کریں گے لہذا اب دین کامل اور پسندیدہ خداوندی کے بعد جو شخص سوائے دین اسلام کے کوئی اور دین اختیار کرے گا تو وہ خدا کے یہاں ہرگز قابل قبول نہ ہوگا کما قال تعالی، ومن یبتغ غیرالاسلام دینا۔۔۔ الی۔۔۔ الخاسرین۔ آیت۔
فوائد لطائف۔
(1) ۔ حدیث شریف میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو وہ دن حجۃ الوداع کا تھا یعنی نویں تاریخ ذی الحجہ کو میدان عرفات میں جمعہ کے دن عصر کے وقت یہ آیت نازل ہوئی وہ وقت تقریبا کا بھی آخر تھا اور ہفتہ کا بھی آخری دن تھا اور دن بھی قریب الختم تھا اسلیے کہ عصر کے بعد غروب کا وقت آجاتا ہے۔ اسی طرح حضور پرنور کی عمر شریف بھی آخری زمانہ تھا اس کے تین ماہ بعد ربیع الاول میں حضور کا وصال ہوگیا ہماری اس تقریر سے یہ معلوم ہوگیا کہ آخر سے حقیقی آخر مراد نہیں بلکہ قریب آخر مراد ہے چناچہ اس کے بعد فمن اضظر فی مخمصۃ۔۔ الی۔۔ رحیم۔ یہ آیت نازل ہوئی لہذا اب یہ اشکار وارد نہ ہوگا کہ جب دین کامل ہوچکا تو پھر یہ حکم مضطر کیسے نازل لیے کہ مراد آخر سے قریب آخر ہے اس پر خدشہ وارد نہیں ہوتا نیز الیوم سے خاص آج کا دن مراد نہیں بلکہ الیوم سے زمانہ حاضر مراد ہے جو ماقبل اور مابعد سے متصل ہے لہذا اب شبہ نہ رہا جب ا آج دین مکمکل ہوگیا تو اس کے بعد کوئی حکم نازل نہ ہونا چاہیے اور آیات احکام میں یہ آخری آیت اور آخری حکم ہونا چاہیے بحمدہ تعالیٰ اس شبہ کے دو جواب ہوگئے۔
(2) ۔ دین کے کامل کردینے کے معنی یہ ہیں کہ حدود اور فرائض اور حلال و حرام کے احکام اور مبداء اور معاد دنیا اور آخرت اور زندگی کے ہر شعبہ کے متعلق ایسے اصول اور قواعد بتلادیے گئے کہ قیامت تک آنے والے واقعت اور جزئیات کے احکام انہی کلیات سے صراحتہ یا اشارۃ معلوم ہوسکیں۔ اور قیامت تک اس میں زیادتی اور ترمیم کی ضرورت نہ ہوگی نبوت و رسالت آپ پر ختم ہوتی اور یہ آخری کتاب ہے اس کے بعد کوئی کتاب آسمان سے نازل نہ ہوگی۔
طب کامل وہ ہے جس سے ہر مرض کا علاج معلوم ہوسکے اسی طرح دین کامل وہ ہے جو اصول اور قواعد کلیہ کا جامع ہو اور تمام جزئیات کا حکم اس سے معلوم ہوسکتے خلاصہ کلام یہ کہ اکمال دین کے معنی یہ ہیں کہ اس میں تمام حلال و حرام اور فرائض اور واجبات اور اصول وقواعد بیان کردیے گئے اب تمہیں دینی یا دنیوی ہدایت کے لیے کسی اور دین کی ضرورت نہیں اور نہ کسی اور نبی کی حاجت رہی، یہی دین تمہاری دینی اور دنیوی اور تدبیر منزلی اور تدبیر ملکی اور سیاسیت داخلیہ اور خارجیہ کی مشکلات میں ہدایت اور رہنمائی کے لیے کافی اور شافی ہے جیسا کہ کتب فقہ میں، کتاب وسنت کی روشنی میں ان امور کی تفصیل موجود ہے۔
اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ اکمال دین کے معنی یہ ہیں کہ اللہ نے دین اسلام کو تمام ادیان پر غلبہ عطا کیا مگر راجح قول وہی ہے جو ہم نے پہلے بیان کیا۔
3۔ اور اتممت علیکم نعمتی۔ آیت۔ کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے تم کو دین کامل دے کر تم پرا اپنی نعمت پوری کردی کہ تم کو ایسا کامل اور غایت درجہ معتدل قانون اور دستور عطا کیا کہ جو تمام شریعتوں کا خلاصہ اور لب لباب ہے اور جو باتیں ادیان سماویہ میں ناتمام تھیں اس دین کامل میں ان کی تکمیل اور تیمم کردی گئی اب قیامت تک اس میں کسی اضافہ اور ترمیم کی گنجائش نہیں البتہ اس کے احکام کی توضیح اور تلویح اور تفصیل اور تشریح ہوتی رہے گی جس طرح حدیث کی تفسیر ہے اسی طرح فقہ حدیث کی شرح ہے اور وہ قانون ایسا واضح اور صاف ہے کہ کوئی ملحد اس میں تحریف اور تبدیل کی امید قائم نہیں کرسکتا اور ظاہری قوت و شوکت کے اعتبار سے اس کی جڑیں اتنی مضبوط کردی ہیں کہ کفار اس کے مٹانے سے مایوس ہوچکے ہیں فتح مکہ سے تمام جزیرہ العرب اسلام کے زیرنگین آگیا اور کفر کی یہ مجال نہیں رہی کہ وہ اسلام کے مقابلہ میں سراٹھا سکے مطلب یہ ہوا کہ دین کامل دے کر دین اور دنیا دونوں اعتبار سے تم پر اللہ کی نعمت پوری ہوئی۔
4۔ حضرات انبیاء سابقین کو جو شریعتیں عطاء کی گئی وہ ناقص نہ تھیں بلکہ اپنے اپنے وقت اور اس خاص زمان اور اس خاص مکان اور اس خاص قوم کے ساتھ مخصوص نہیں شریعت اسلامیہ کا کمال کمال مطلق بھی ہے اور دائم اور مستمر بھی ہے قیامت تک اس کا کوئی حکم منسوخ نہ ہوگا کذا فی السراج المنیر۔ للشربینی ص 292 ج 2۔
یا یوں کہو کہ ہر شریعت فی حدذاتہ کامل تھی مگر اللہ اپنے علم اور ارادہ سے جس حد تک پہنچانا چاہتے تھے اس کے اعتبار سے سابق شریعتیں کم تھیں مثلا اللہ نے کسی کو ساٹھ برس کی عمر عطا کی اور کسی کو سو سال سو ساٹھ سال کی عمر فی حد ذاتہ ناقص نہیں مگر اس عمر کے لحاظ سے ناقص ہے جو اللہ نے دوسرے کو عطا کی ابتداء میں ظہر اور عصر اور عشاء کی دو دو رکعتیں تھیں بعد میں چار چار رکعتیں کردی گئی لہذا یہ تو کہا جاسکتا ہے کہ چار رکعتیں دو رکعتوں سے زیادہ کامل ہیں اور دو رکعتیں اس سے کم ہیں لیکن یہ کمی کسی عیب یا خلل یا قصور کی بناء پر نہیں بلکہ اللہ کے اضافہ اور تکمیل کے اعتبار سے ناقص ہیں اللہ نے جس مرتبہ کمال تک پہنچانے کا ارادہ فرمایا تھا اس کے اعتبار سے ناقص ہیں اور جو جو احکام شرعیہ بتدریج حد کمال کو پہنچے ان کو بھی اسی طرح سمجھو۔ تفسرقرطبی۔ ص 62 ج 6)
5۔ جس طرح حکومت کے دستور اور آئین کا مکمل ہونا موجب صد مسرت ہے اسی طرح اللہ کی طرف سے بندوں کو دستو کامل یعنی دین کامل اور شریعت کاملہ کا عطا ہونا ایک نعمت عظمی اور بشارت کبری ہے اللہ، احکم الحاکمین ہے اور دین اسلام اس کے قوانین اور احکام کا نام ہے چناچہ کسی یہودی نے حضرت عمر سے کہا اگر یہ آیت ہم پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید بنالیتے حضرت عمر نے فرمایا کہ جس دن یہ آیت نازل ہوئی اس دن بحمدللہ مسلمانوں کی دوعیدیں جمع ہوگئی تھیں یہ دنوں دن بحمد اللہ ہمارے لیے عید ہیں ایک یوم عرفہ اور ایک یوم جمعہ۔ یعنی ہمیں اپنی طرف سے کسی اور عید کی ضرورت نہیں بس ہمیں وہی عید کافی ہے جو من جانب اللہ ہے۔
6۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ دین اسلام ایک عظیم نعمت ہے اور نعمت کا شکر عقلا وشرعا واجب ہے اس لیے امت میں اسلام جیسی نعمت کے شکر کے لیے یہ کلمہ مشہور ہے الحمدللہ علی نعمۃ الاسلام۔ (تفسیر کبیرص 369 ج 3) اور اللہ کا وعدہ ہے لئن شکرتم لازیدنکم۔ آیت۔ جو اسلام کی نعمت کا شکر کرے گا الہ اس کے اسلام اوردین میں زیادتی اور خیر و برکت عطا فرمائے گا۔
7۔ ورضیت لکم الاسلام دینا۔ آیت۔ یعنی اللہ کے نزدیک یہی دین پسندیدہ اور مقبول ہے اور اس ی پر نجات کا دارومدار ہے جن لوگوں کا یہ خیال ہے کہ بغیراسلام قبول کیے اپنے مذہب پر عمل کرنے سے نجات ہوسکتی ہے جیسا کہ اس زمانہ کے بعض آزاد منشوں کا یہ خیال ہے کہ گاندھی بھی بغیر اسلام میں داخل ہوئے اخروی عذاب سے نجات پاسکتا ہے سو یہ ایساصریح کفر ہے کہ جس میں تاویل کی بھی گنجائش نہیں۔
کیا اسلام مانع ترقی ہے۔
اسلام حقیقی ترقی کا ہرگز ہرگز مانع نہیں بلکہ حقیقی ترقی کا حکم دیتا ہے اس سے بڑھ کر کیا ترقی ہوسکتی ہے صحابہ کرم نے چند ہی روز میں قیصر و کسری کی سلطنت پر قبضہ کرلیا اور وئے زمین پر اپنی سیادت اور اقتدار کو قائم کردیا اور شریعت اسلامیہ کا دستور اور قانون دنیا میں رائج کردیا اور جس سرزمین پر قدم رکھا بغیر کسی کالج اور یونیورسٹی کے وہاں کی زبان عربی بن گئی اور وہاں کا تمدن سلامی تمدن بن گیا اور آج سے دوسوسال پیشتر تک تمام سلاطین اسلام کا یہی حال رہا اور اللہ نے ان کو وہ عزت دی جو اب خواب و خیال میں بھی نہیں آسکتی البتہ اسلام اس خیالی ترقی کا مانع اور مخالف ہے جس کی حقیقت سوائے حرص اور طول امل کے کچھ نہیں شیخ چلی کی سی پلاؤ پکالینے کا نام ترقی نیہں۔
عالم کی اصل ترقی کا دارومدار چار چیزیں ہیں زراعت اور تجارت اور صنعت وحرفت اور ملازمت جس کو اصلاح شریعت میں اجارہ کہتے ہیں شریعت کی بیشمار نصوص سے ان تمام امور کی تاکید اور ترغیب ثابت ہوتی ہے اور اللہ نے ان امور کے متعلق احکام صادر کیے ہیں جو چیزیں حقیقتا مفید اور نافع تھیں ان کو جائز قرار دیا اور جو چیزیں مضر تھیں ان کو ناجائز قرار دیا گیا اگرچہ کوئی خود غرض بعض چیزوں کو اپنیلیے مفید اور نافع سمجھتا ہے ہر حکومت نے اپنے قانون میں رشوت اور چوری ڈاکہ زنی کو جرم اور ممنوع قرار دیا حالانکہ چوری اور ڈاکہ زنی شخصی منافع سے خالی نہیں چوری سے اور رشوت سے مال میں بڑی ترقی ہوتی ہے مگر کوئی شخص بھی حکومت اور قانون پر یہ اعتراض نہیں کرتا کہ یہ قانون ہماری ترقی میں حارج اور مزاحم ہے لہذا اس کو منسوغ کیا جائے اسی طرح شریعت نے سود اور قمار اور رشوت کو حرام قرار دیا جو مضرت میں چوری اور ڈاکہ سے کہیں بڑھ کر ہیں لیکن افسوس کہ شریعت کے احکام کو مانع ترقی سمجھتے ہیں اور قوانین حکومت کو مانع ترقی نہیں سمجھتے معترضین یہ بتلائیں کہ شریعت کے کون سے احکام ایسے ہیں جو حقیقتا دنیاوی ترقی میں حارج اور مزاحم ہیں بتلائیں تو سہی کیا شراب اور زنا اور بےپردگی کی اجاست سے ملک کو مادی ترقی حاصل ہوجائے گی شریعت پروپیگنڈے کو ممنوع قرار دیتی ہے حیرت کا مقام ہے کہ جھوٹ سے تو ملک کو ترقی ہوئی اور سچائی سے ملک کو تنزلی ہوئی ہماری سمجھ میں نہی آتا کہ ان نجاست خوروں (جھوٹا پروپیگنڈا) کرنے والوں کو صدق اور سچائی کی حلاوت اور لذت کس طرح سمجھائی جائے بلکہ حق یہ بات کہ شریعت نے جس چیز سے منع کیا وہی چیز تنزل کا سبب ہے اور جس چیز کا حکم دیا ہے وہی ترقی کا ذریعہ ہے۔
ترجمہ۔ پھر جو کوئی ناچار ہوگیا بھوک میں، کچھ گناہ پر نہیں ڈھلتا تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ 3
تتمہ حکم سوم۔
قال تعالی۔ فمن اضطر۔۔ الی۔۔۔۔ رحیم۔ آیت۔
پہلی آیت میں جو میتہ وغیرہ کی حرمت کا ذکر تھا یہ آیت اسی حکم سابق کا تتمہ ہے چناچہ فرماتے ہیں پس جو شخص بھوک کی شدت میں مجبور اور لاچار ہوجاتے وہ اگر ان حرام چیزوں میں سے بقدر سد رمق کچھ کھالے تو اس پر کوئی مواخذہ نہیں بشرطیکہ وہ گناہ کی طرف جھکنے والا نہ ہو یعنی پیٹ بھر کر نہ کھائے اور مقدارحاجت سے تجاوز نہ کرلے تو یقیناً اللہ بڑابخشنے والا مہربان ہے اس نے اپنی رحمت سے مجبوری کی حالت کو حرمت سے مستثنی فرمادیا۔
ترجمہ۔ تجھ سے پوچھتے ہیں کہ ان کو کیا حلال ہے تو کہہ تم کو حلال ہیں ستھری چیزیں اور جو سدہاؤ شکاری جانور دوڑانے کو کہ ان کو سکھاتے ہو کچھ ایک جو (اللہ نے تم کو سکھایا ہے سو کھاؤ اس میں سے کہ رکھ چھوڑ دیں تمہارے واسطے اور اللہ کا نام لواس پر اور ڈرتے رہو اللہ سے اللہ شتاب لینے والا ہے حساب۔ 4
Ayah 5:4قال تعالی۔ یسئلونک ماذا احل لھم۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ سریع الحساب۔
ربط) دین کامل کا ایک علامت یہ ہے کہ اس میں حلال و حرام کی پوری تفصیل ہوگذشتہ آیت میں حرام چیزوں کی تفصیل تھی اب قدرتی طور پر یہ سوال پیدا ہوا کہ حلال کیا کیا چیزیں ہیں تو اب جواب ارشاد فرماتے ہیں کہ حلال دائرہ بہت وسیع ہے چند چیزوں کو چھوڑ کر جن میں دینی یا دنیوی روحانی یا جسمانی نقصان تھا ان کے علاوہ دنیا کی تمام پاکیزہ حلال ہیں اور چونکہ شکار کے متعلق بعض لوگوں نے خصوصیت سے سوال کیا تھا اس لیے کسی قدر تفصیل کے ساتھ اس کا جواب دیا گیا لوگ آپ سیدریافت کرتے ہیں کہ کیا چیز ان کے لیے حلال کی گئی عد بن حاتم اور زیدی بن مہلہل نے رسول مقبول سے پوچھا کہ یارسول اللہ ہم شکاری لوگ ہیں کتوں اور بازوں سے شکار کرتے ہیں تو ہم کو کس جانور کا شکار حلال ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ ان کے جواب میں کہہ دیجئے کہ تمہارے لیے تمام پاکیزہ اور ستھری چیزیں حلال کی گئی ہیں یعنی جن چیزوں کو اہل عرب پاکیزہ سمجھتے ہوں یعنی جن چیزوں کو طبائع سلیمہ لذیذ اور پاکیزہ سمجھتی ہو اور نیز اصول شریعت یعنی کتاب اور سنت اجماع اور قیاس سے ان کی حرمت ثابت نہ ہو مطلب یہ ہے کہ یہ سب پاکیزہ چیزیں حضرت ابراہیم کے وقت میں حلال تھیں جب توریت نازل ہوئی تو یہود کی سزا میں اکثر چیزیں ممنوع ہوگئیں اور انجیل میں حلال و حرام کا بیان نہ ہوا اب قرآن میں وہی دین ابراہیمی کے مطابق سب حلال ہوئیں اور فرمایا کہ اہل کتاب کا کھانا حلال ہے یعنی ان کاذبیحہ حلال ہے بشرطیکہ ان کاذبح کیا ہوا اس شرط کے مطابق ہو جو اوپر ذبح کی شرط رکھی گئی کہ ذبح کے وقت اللہ کا نام لیا گیا ہو اور غیر اللہ کی تعظیم مقصود نہ ہو اور حلال کیا گیا تمہارے لیے شنار ان جانوروں کا جن کو تم نے سدھایا ہے اور شکار پکڑنے کے طریقے ان کو سکھائے ہیں درنحالی کہ تم ان کو شکار کا وہ طریقہ سکھلاتے ہو جو اللہ نے تم کو سکھایا ہے جو ارح کے معنی شکار کرنے والے جانوروں کے ہیں جس میں کتا اور باز اور شکرا وغیرہ سب آگئے پس تم کو اس شکار کے کھانے کی جازت ہے جس کو شکاری جانور تمہارے لیے روکے رکھے یعنی خود اس میں سے نہ کھائیں پس جس شکار کو شکاری جانور پکڑ کر تمہارے لیے لے آئے اور خود اس میں سے نہ کھائے تو وہ شکار تمہارے لیے حلال ہے اگرچہ وہ شکار ان کے پکڑنے سے مرجائے اور ذبح کرنے کی نوبت نہ آئے کیونکہ تربیت یافتہ جانور کا اس کو قتل کردینا قائم مقام ذبح کرنیکے ہے۔ اور اس پر اللہ کا نام لو یعنی جب تم اس شکاری جانور کو شکار پر چھوڑو تو بسم اللہ پڑھ کر چھوڑو تاکہ اللہ کے نام کی برکت سے اس کا قتل کیا ہواحلال ہوجائے۔
اللہ نے ان آیات میں شکار کے حلال ہونے کی شرائط کی طرف اشارہ فرمایا ول یہ کہ وہ شکاری جانور تعلیم یافتہ یعنی سدھایا ہوا ہو کیونکہ جب اس نے آدمی کی خو سیکھی ہوگی تو گویا آدمی نے ذبح کیا اس لیے سدھانا او تعلیم دینا شرط ہوا اور جانور کے تعلیم یافتہ ہونے کی علامت یہ ہے کہ وہ مالک کے کہنے سے شکار پر حملہ کرے اور اس کے منع کرنے سے رک جائے جب یہ حالت کم از کم تین مرتبہ تجربہ میں آجائے تو وہ تعلیم یافتہ سمجھا جائیگا دوم یہ کہ شکار کو وہ خود کھائے نہ اپنے مالک کے کے لیے روک رکھے سوم یہ کہ کتے کو شکار پر چھوڑ تے وقت بسم اللہ پڑھی گئی ہو اور اللہ سے ڈرو یعنی ایسے شکار کو مت کھاؤ جس میں شرائط مذکورہ میں سے کوئی شرط مفقود ہو تحقیق اللہ جلدی حساب لینے والا ہے جو حرام کھائے گا اس سے مواخذہ ہوگا۔
ترجمہ۔ آج حلال ہوئیں تم کو سب چیزیں ستھری اور کتاب والوں کا کھانا تم کو حلال ہے، اور تمہارا کھانا ان کو حلال ہے اور قید والی عورتیں مسلمان اور قید والی عورتیں پہلے کتاب والوں کی جب دو ان کو مہر ان کے قید میں لانے کو نہ مستی نکلالنے کو اور نہ چھپی آشنائی کرنے کو اور جو منکر ہوا ایمان سے اس کی محنت ضائع ہوئی اور آخرت میں وہ ہارنے والوں میں ہے۔
Ayah 5:5حکم ششم متعلق بذبیحہ اہل کتاب
قال تعالی۔ الیوم احل لکم الطیبات۔۔۔ الی۔۔۔۔ من الخاسرین۔
ربط) گذشتہ آیات میں شکار کا حکم بیان فرمایا اب اس آیت میں اہل کتاب یعنی یہود اور نصاری کے ذبیحہ کا حکم بیان فرماتے ہیں اور اس کے ساتھ اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کا حکم بھی بیان فرماتے ہیں کیونکہ حلت اور انتفاع دونوں میں مشترک ہے۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں اے اہل اسلام آج تم پر اللہ کا بڑا انعام ہوا کہ تمام پاکیزہ چیزیں تمہارے لیے حلال کردی گئیں حالانکہ یہود پر بہت سی پاکیزہ چیزیں ان کی سرکشی اور ظلم کی وجہ سے حرام کردی گئی تھیں وہ چیزیں ہمیشہ کے لیے تم پر حلال کردی گئیں اور کبھی ان کی حلت منسوخ نہ ہوگی اور یہ حکم اگرچہ پہلی آیت میں مذکور ہوچکا تھا لیکن بغرض تاکید اور آئندہ کی تمہید کے لیے پھر اس کو دھرایا اور حلال کیا گیا تمہارے لیے ذبیحہ اہل کتاب کا یہاں طعام سے ذبیحہ مراد ہے یعنی اہل کتاب کاذبح کیا ہوا جانور تمہارے لیے ذبیحہ اہل کتاب کا یہاں طعام سے مراد ہے یعنی اہل کتاب کاذبح کیا ہوا جانور تمہارے لیے حلال ہے طعام سے خشک چیزیں مراد نہیں اس لیے کہ اس میں اہل کتاب کا تخصیص نہیں خشک چیزیں ہر انسان کے ہاتھ کی جائز ہیں خواہ کسی مذہب اور ملت کا ہو۔
اور اہل کتاب کاذبح کیا ہوا جانور تین شرطوں کے ساتھ حلال ہے پہلی شرط یہ ہے کہ وہ ذبیحہ ان چیزوں میں سے نہ ہو جو مسلمانوں پر کتاب وسنت میں حرام کی گئیں ہیں جیسے لحم خنزیر وغیرہ دوسری شرط یہ ہے کہ ذبح کے وقت اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو غیر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ اس لیے کہ اہل کتاب کا اصل عقیدہ یہ ہے کہ غیر اللہ کے نام پر ذبح جائز نہیں اس اصل اعتقاد کی وجہ سے اللہ نے مسلمانوں کو اجازت دی کہ تمہارے لیے اہل کتاب کا ذبیحہ حلال ہے بشرطیکہ وہ ذبح کے وقت اللہ کا نام لیں اور غیرا للہ کی تعظیم مقصود نہ ہو اور سوائے اہل کتاب کے کسی اور دین اور مذہب والے کا ذبیحہ حلال نہیں اگرچہ وہ ذبح کے وقت اللہ ہی کا نام لے اس کا خدا کا نام لے کر ذبح کرنا بھی معتبر نہیں۔
حضرت علی اور عبداللہ بن عمر اور عائشہ صدیقہ ؓ ۔ اور دیگر صحابہ وتابعین کے نزدیک اہل کتاب کا وہ ذبیحہ حلال ہے جو اللہ کا نام لے کر ذبح کیا گیا وہ نہ وہ کہ جو مسیح اور عزیر کے نام سے ذبح کیا گیا ہو جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ ولا تاکلوا ممالم یذکراسم اللہ علیہ وانہ لفسق۔ آیت۔ (تفسیر قرطبی 76 ج 6)
وقال تعالیٰ وما اھل۔ آیت۔ لغیر اللہ بہ جو قرآن کریم میں متعدد جگہ مذکور ہے لہذا اہل کتاب کا وہ ذبیحہ جو حضرت مسیح اور عزیر کے نام پر ہو وہ تو مااھل لغیر اللہ میں داخل ہے اہل کتاب کا وہی ذبیحہ معتبر ہے جو ان کی اصلی اور صحیح شریعت حقہ کے مطابق ہو اور ان کا جو ذبیحہ شریعت محرفہ کے مطابق ہو اس کا اعتبار نہیں۔
اور امام ابوحنیفہ (رح) اور امام ابویوسف، اور امام محمد اور امام زفر (رح) تعالیٰ عنہم۔ کا مذہب یہی ہے کہ اہل کتاب کاذبیحہ جب حلال ہے کہ ذبح کے وقت اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اور اگر مسیح اور عزیر (علیہ السلام) کا نام لیا گیا ہو تو وہ حلال نہیں (احکام القرآن للجصاص ص 322 ج 2) ۔ اور بعض علماء نے مطلقا ذبیحہ اہل کتاب کو حلال قرار دیا ہے مگر صحیح اور راجح قول وہی ہے جو ہم نے ذکر کیا اور اسی میں احتیاط ہے غیر اللہ کے نام پر مسلمان کاذبیحہ بھی حلال نہیں چہ جائکہ غیرمسلم کا ذبیحہ غیر اللہ کے نام پر ہو وہ کیسے حلال ہوسکتا ہے۔ اور تیسری شرط یہ ہے کہ وہ اسلام سے مرتد ہو کر یہودی یا نصرانی نہ بنا ہو اس لیے کہ مرتد کاذبیحہ حلال نہیں شریعت میں مرتد کے احکام جداگانہ ہیں۔
اور تمہارا ذبیحہ ان کے لیے حلال ہے یعنی اگر تم اپنا ذبیحہ ان کو کھلاؤ یا ان کے ہاتھ فروخت کرو تم پر کوئی گناہ نہیں اس جملہ سے پہلے جملہ کی تاکید مقصود ہے کہ جس طرح تمہارا ذبیحہ اہل کتاب کے لیے حلال ہے اسی طرح اہل کتاب کا ذبیحہ تمہاے لیے حلال ہے امام رازی قدس اللہ سرہ فرماتے ہیں کہ اس جملہ سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ اباحت ذبیحہ طرفین سے ہے مگر اباحت نکاح (جس کا آئندہ آیت میں ذکر آتا ہے) وہ صرف ایک جانب کے ساتھ مخصوص ہے یعنی مسلمان مرد کتابی عورت سے نکاح کرسکتا ہے مگر نصرانی مرد، مسلمان عورت سے کسی حال میں نکاح نہیں کرسکتا (تفسیر کبیرص 372۔ ج 3)
حکم ہفتم متعلق بہ نکاح کتابیات
پہلی آیت میں یہ فرمایا کہ اہل کتاب کاذبیحہ حلال ہے اب ان کی عورتوں سے نکاح کی حلت کو بیان فرماتے ہیں اور ان دونوں آیتوں سے مقصود یہ ہے کہ اہل کتاب، عام کافروں سے دو حکموں میں مخصوص اور ممتاز ہیں ایک یہ کہ ان کاذبیحہ کرے اور چونکہ اہل کتاب کا اصل عقیدہ توحید ہے اور وہ اللہ ہی کا نام لے کر ذبح کرتے ہیں اس لیے آیت میں یہ قید لگائی گئی ورنہ یہ قید لازمی طور پر معتبر ہے جیسا کہ بیان ہوچکا دوم یہ کہ اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح درست ہے مشرکین اور مجوس کی عورتوں سے نکاح درست نہیں ان دو حکموں میں اہل کتاب عام کفار سے مخصوص ہیں غالباحضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کی نسبت کی رعایت سے اہل کتاب کو عام کافروں سے بعض احکام میں مخصوص اور ممتاز کردیا گیا اور یہ خصوصیت اور امتیاز فقط دنیا میں ہے آخرت میں ہر کا فرمردود اور مطرود ہے چناچہ حق جل شانہ کا حلت ذبیحہ اور اباحت نکاح کے بعد یہ فرمایا ومن یکفر بالایمان فقد حبط عملہ وھو فی الاآخرۃ من الخاسرین۔ آیت۔ اسی طرف اشارہ ہے کہ اہل کتاب کے ذبیحہ کے حلت اور ان کی عورتوں سے نکاح کی اجازت سے کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ جیسا دنیا میں اہل کتاب کو مشرکین اور مجوس پر ترجیح دی گئی شاید آخرت میں بھی ان کو ترجیح دی جائے تو اللہ نے ومن یکفر بالایمان سے بتلا دیا کہ آخرت کا معاملہ اور وہاں کا ثواب و عقاب فقط ایمان اور کفر پر دائر ہے آخرت میں سب کافر برابر ہیں (تفسیر ابن کثیر) چناچہ فرماتے ہیں اور حلال کی گئی تمہارے لیے پاکدامن مسلمان عورتیں اور اسی طرح حلال کی گئی پاکدامن عورتیں فقط اہل کتاب کی نہ مشرکین اور مجوس وغیرہ کی بشرطیکہ تم ان کا مہر ادار کرو اس طرح سے کہ تم ان کو ہمیشہ کے لیے قید نکاح میں لانے والے ہو میعادی نکاح درست نہیں نہ تو علانیہ طور پر مستی نکالنے والے اور شہورت رانی کرنے والے ہو اور نہ پوشیدہ طور پر آشنائی کرنے والے ہو مطلب یہ ہے کہ نکاح کی اجازت ہے مگر آشنائی اور یارانہ کی اجازت نہیں اے ایمان والو ایمان کا مقتضی تو یہ ہے کہ حلال و حرام کی بابت تم سے جو عہد لیے گئے ان کو پورا کرو اور جو ایمان کے عہدوں سے مکرجائے اور خدا کے حلال و حرام کو نہ مانے تو اس کے تمام اعمال آخرت میں غارت ہوئے اور وہ آخرت میں نقصان پانے والوں میں سے ہوگا اہل کتاب کے ذبیحہ کی حلت اور ان کی عورتوں سے نکاح کے بعد کافروں کے حبط اعمال کا مسئلہ ذکر کرنے سے اشارہ اس طرف ہے کہ اہل کتاب اگرچہ حلت ذبیحہ اور اباحت نکاح میں من وجہ دنیا میں مسلمانوں کے مشابہ قرار دے دیے گئے مگر قبول اعمال میں مسلمانوں کے مشابہ نہیں اہل کتاب کے اعمال آخرت میں حبط اور اکارت ہوں گے اور اہل ایمان کو اعمال صالحہ کا اضعافا مضاعفہ اجر ملے گا لہذا مسلمانوں کو چاہے کہ اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح میں انتہائی احتیاط کو ملحوظ رکھیں مسلمانوں کو کتابی عورتوں سے نکاح کی اس لیے اجازت دی گئی ہے کہ تم ان کو اپنی ماتحتی میں لے کر ان پر اسلام کی ضوء فشانی کرو کہ ان کے کفر کی ظلمت ختم ہوجائے اس لیے اجازت نہیں دی گئی کہ تم ان سے تعلق قائم کرنے کے بعد اپنی اسلام کی شمع کو تو بجھا دو اور ان کی طرح تم بھی کفر کی ظلمت اور تاریکی میں داخل ہوجاؤ۔
خلاصہ کلام۔
یہ کہ اس آیت میں اشارہ اس طرف معلوم ہوتا ہے کہ اے مسلمانو تم کو جو کتابیات سے نکاح کی اجازت دی گئی ہے وہ اس لیے دی گئی ہے کہ تم اس کو اپنی قوت ایمانی سے اسلام کی طرف کھینچ لو نہ اس لیے کہ تم ان پر مفتون ہو کر اپنی بھی متاع ایمانی کو کھو بیٹھو اور خسرالدنیا ولآخرہ کا مصداق بن جاؤ اسی فتہ کے سدباب کے لیے حل ذبیحہ اور اباحت کے مضمون کو ومن یکفر۔۔ الی۔۔ الخاسرین۔ آیت۔ پر ختم فرمایا۔
فائدہ جلیلہ۔
بعض علماء کا قول ہے کہ ومن یکفر میں کفر بالایمان کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص نفس ایمان باللہ اور ایمان بالرسول کو ضروری نہ سمجھے جیسا کہ آج کل بعضے تعلیم یافتہ لوگوں کا خیال ہے کہ اللہ کے تمام احکام کو ماننا ضروری نہیں صرف وہ احکام کہ جو ان کی عقل کے مطابق ہوں ان کو مان لیا جائے اور جو باتیں ان کے نزدیک خلاف عقل ہوں ان کے ماننے کی ضرورت نہیں یہ کفر ہے۔
مسائل واحکام
1۔ اہل کتاب سے وہ لوگ مراد ہیں جو مذہبا اہل کتاب ہوں نہ کہ وہ صرف قومیت کے لحاظ سے یہودی یا نصرانی ہوں خواہ عقیدہ دہریہ میں ہوں اس زمانے کے نصاری عموما برائے نام نصاری ہیں ان میں بکثرت ایسے ہیں جو نہ خدا کے قائل ہیں اور نہ مذہب کے قائل اور نہ آسمانی کتاب کے قائل ایسے لوگوں پر اہل کتاب کا اطلاق نہیں ہوسکتا لہذا ان کے ذبیحہ اور ان کی عورتوں سے نکاح کا حکم اہل کتاب کا سانہ ہوگا۔
2۔ ان آیات میں ذبیحہ کی حلت اور نکاح کی اباحت سے صرف یہ بتلانا مقصود ہے کہ یہ چیزیں فی حد ذاتہ جائز ہیں معاذ اللہ ترغیب دینا مقصود نہیں کہ تم خواہ مخواہ مسلمان عورتوں کو اور اپنے خاندان کی لڑکیوں کو چھوڑ کر کتابیات سے نکاح کیا کرو بلکہ تنگی دفع کرنے کے لیے یہ حکم دیا گیا ہے کہ اگر کسی وقت ضرورت اور مصلحت داعی ہو تو اہل کتاب کی عورتوں سے فی حد ذاتہ نکاح جائز ہے بشرطیکہ خارجی اثرات اور حالات سے کسی مضرت اور مفسدہ کا اندیشہ نہ ہو اور خدانخواستہ یہ اندیشہ ہو کہ ان کے جال میں پھنس کر اپنے دین اور دنیا کو تباہ کرے گا تو ان حالات میں کتابیات سے نکاح کی حلت مبدل بہ حرمت ہوجائے گی جو چیز شرعا حلال ہو مگر اس حلال سے منتفع ہونے میں حرام کا ارتکاب کرنا پڑے تو وہ حلال بھی حرام ہوجاتا ہے بلکہ موجود زمانے کے یہود اور نصاری کے ساتھ بےضرورت اختلاط اور ان کے ساتھ بیٹھ کر طیبات کا کھانا بھی خالی از فتنہ نہیں مناکحت تو بڑی چیز ہے ان کے ساتھ تو محض مواکلت اور مشاربت کا یہ اثر ہے کہ انسان کفر سے مانوس اور اسلام سے بیزار اور اہل اسلام سے متنفر ہوجاتا ہے اعوذ باللہ من الکفر والفقر۔ آمین۔
3۔ اسلام نے تمام مشرکین اور مشرکات کے ساتھ نکاح کو حرام قرار دیا ہے مگر اہل کتاب کی عورتوں کے ساتھ نکاح کو حلال قرار دیا اس لیے کہ اہل کتاب اقرب الی الاسلام کے ساتھ اختلاف صرف سیدنا ومولانا محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت و رسالت میں ہے پس جب مسلمان مرد اور ایک کتابیہ عورت سے نکاح کرے گا تو عقلی اور نقلی دلائل سے اور اسلام کی قوی حجتوں سے کتابیہ عورت کو اسلام کی طرف بسہولت کھینچ سکتا ہے بخلاف مشرک اور مشرکہ کے کہ وہاں شرک اور بت پرستی کی وجہ سے ان کو اسلام سے غایت درجہ بعد اور منافرت ہے اہل شرک نہ توحید کے قائل اور نہ نبوت کے اور نہ قیامت کے اہل شرک کسی دین کے قائل نہیں اور نہ کسی خیر وشر اور نہ کسی حلال و حرام اور نہ کسی جائز وناجائز کی تقسیم کے قائل ہیں اس لیے ایسے شدید اختلاف کے ہوتے ہوئے مشرک اور مشرکہ کے ساتھ نکاح اور زوجیت کا مقصد حاصل نہ ہوگا یعنی باہمی اتحاد اور اعتماد اور ایک دوسرے کی ہمدردی اور غم خواری میسر نہ ہوگی بلکہ ایسی معیت وبال جان ہوجائے گی اور عیش کو منغص اور مکدر بنادے گی اور معاشرہ زوجیت قائم نہیں رہ سکے گا اس لیے کہ جب زن وشوہر کے اعتقادات اور خیالات میں اختلاف شدید ہوتا ہے تو پھر اس سے اور طرح طرح کے اختلافات نکل کھڑے ہوتے ہیں اور اتحاد اور یکجہتی کی کوئی صورت نہیں رہتی جو نکاح کا مقصد ہے اور اگر باوجود اختلاف خیال و اعتقاد ظاہرا اتحاد نظر آئے تو وہ درحقیقت نفاق اور ظاہر داری ہے غرض یہ کہ کتاب وسنت نے مشرکین اور اہل کتاب میں فرق کیا ہے کہ مشرکین اور مشرکات کے ساتھ تو نکاح کو بالکلیہ ممنوع قرار دیا اور اہل کتاب کے بارے میں یہ حکم کہ مسلمان مرد کو تو کتابیہ عورت سے اس شرط کے ساتھ نکاح کی اجازت ہے کہ وہ مسلمان مرد اسلام کی قوی اور روشن حجتوں کے ذریعہ کتابیہ کو اور اس کے خاندان کے لوگوں کو سلام کی طرف کھینچ سکے اور اگر یہ اندیشہ ہو کہ کتابیہ سے نکاح کرکے بعد یہی خود اس کے حسن و جمال یا مال ومنال کی وجہ سے اس کے ہاتھ بک جائے گا اور اپنی متاع ایمانی کو نصرانیت پر قربان کردے گا تو پھر کتابیہ کے ساتھ نکاح جائز نہ ہوگا قرآن اور حدیث میں مومنات صالحات اور دین دار عورتوں سے نکاح کرنے کی ترغیب اور فاسقات اور فاجرات سے نکاح کی ممانعت آئی ہے اگرچہ وہ مسلمان ہوں س لیے کہ بددین عورت کے ساتھ نکاح کرنے سے اس کے بھی خراب ہونے کا اندیشہ ہے تو نصرانیہ یہودیہ میں تو یہ اندیشہ اور قوی ہوجاتا ہے اور چونکہ عورت طبعا اور عقلا اور فطرۃ کمزور ہوتی ہے اور شوہر کے تابع ہوتی ہے اس لیے اس میں یہ طاقت نہیں کہ مرد کو اپنے تابع بناسکے اس لیے شریعت اسلامیہ نے مسلمان عورت کو کتابی مرد کے ساتھ نکاح کرنے کو ممنوع قرار دیا اور اخیر آیت میں، من یکفر بالایمان فقد حبط عملہ۔ آیت۔ میں یہ بتلا دیا کہ گو دنیا میں اہل کتاب کے ساتھ یہ رعایت کردی گئی کہ مسلمانوں کے لیے ان کاذبیحہ اور ان کی عورت سے نکاح جائز کردیا گیا لیکن آخرت میں اہل کتاب اور دیگر کفار کے مابین کوئی فرق نہیں آخرت میں سب کافروں کا ایک ہی حکم ہے سب کے اعمال اکارت ہیں اور نقصان اٹھانے والے ہیں۔