Ayah 5:6حکم ہشتم۔ ونہم۔ ودہم۔
فرضیت وضوء، وفرضیت غسل، ومشروعیت تیمم۔
قال تعالیٰ یا ایھا الذین۔۔۔۔ الی۔۔۔ تشکرون۔
ربط) ابتداء سورت میں اجمالی طور پر عقود اور عہود کے ایفاء کا حکم دیا پھر اس کی تفصیل شروع فرمائی تو سب سے پہلے کھانے کی چیزوں کی اباحت اور حلت کو بیان فرمایا پھر حلال عورتوں کا ذکر کیا جن سے نکاح کی اجازت دی گئی اور چونکہ انسانی حاجتیں اور کھانے پینے کی ضرورتیں بہ نسبت نکاح کے زیادہ ہیں اس لیے ان کو مقدم فرمایا اور نکاح کو ان کے بعد بیان کیا ان عقود کا تعلق دنیا سے تھا اب ان عقود اور عہود کو بیان کرتے ہیں جو دین اور عبودیت سے متعلق ہیں اور چونکہ اکل حلال اور وطی حلال خداوند ذوالجلال کی عبادت میں بہت معین ہے اس لیے اس کو مقدم فرمایا اب ان سب کے بعد عہد عبودیت کے ایفاء کا مطالبہ فرماتے ہیں کہ اور اعلی ترین عبودیت نماز ہے جس کے لیے طہارت نہایت ضروری ہے اس لیے ان آیات میں وضو اور غسل اور تیمم کے حکم کی تفصیل فرمائی (تفسیر کبیرص 374 ج 3) ۔
فرضیت وضو۔
اے ایمان والو کا مقتضی یہ ہے کہ ظاہری اور باطنی طہارت اور پاکیزگی کو ملحوظ رکھو اور کفر اور معصیت کی نجاست اور گندگی سے اپنے آپ کو محفوظ رکھو اکل طیبات اور مخالطت محصنات سے جو تمہاری باطنی طہارت اور نزاہت میں خلل آیا ہے تو اس کو وضو یا غسل یا تیمم کی طہارت سے دور کرو کیونکہ موجبات وضومثلاپیشاب اور پایخانہ اور قے اور خون ان سب کا منشاء اکل طعام ہے اور موجبات غسل کا منشاء نکاح ہے اور اس لیے اکل طیبات اور نکاح محصنات کے بعد وضو اور غسل کے احکام کا بیان نہایت مناسب ہوا چناچہ فرماتے ہیں اے مسلمانواجب تم نماز کے لیے اٹھو تو دھولیا کرو اپنے مونہوں کو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک اور مسح کرلیا کرو اپنے سروں پر اور اپنے پاؤں دھو لیا کرو ٹخنوں تک یعنی پیروں کو ٹخنوں تک دھونا فرض ہے سر کی طرح کا مسح کافی نہیں نبی ﷺ نے جوا مت کو وضو کی تعلیم دی وہ یہی ہے کہ وضو میں پیروں کو دھویا کریں نہ یہ کہ ان پر مسح کیا کریں اور صحابہ کرام نے جو نبی ﷺ کے وضو کی روایت اور حکایت کی ہے سب میں غسل قدمین کی صراحت آئی ہے کسی ایک جگہ بی مسح قد میں کا ذکر نہیں آیا۔
محقق ابن امیرالحاج شرح تحریر الاصول ص 6 ج 3۔ میں تحریر فرماتے ہیں کہ تیس صحابہ سے زیادہ نے آپ کے وضو کو روایت کیا ہے اور اس پر متفق ہیں کہ آپ نے وضو میں پیروں کو دھویا ہے سفر اور حضر، سردی اور گرمی کسی حالت میں بھی آپ نے پیروں پر مسح نہیں فرمایا بعد ازاں محقق ابن امیر الحاج نے تیس سے زیادہ روایتوں کو مع تخریج روایت اور حوالہ کتاب ذکر فرمایا۔ غرض یہ کہ احادیث متواترہ سے یہ امر ثابت ہے کہ نبی اکرم ﷺ وضو میں پیروں کو دھوتے تھے اور عہد صحابہ سے لے کر اس وقت امت کا تعامل یہی چلا آرہا ہے کہ وضو میں پیروں کو دھویا جائے اور عہد صحابہ سے لے کر اس وقت تک پوری امت کا مسلسل عمل خود ایک مستقل دلیل ہے جس کے بعد کسی دلیل کی حاجت نہیں رہتی نیز کتب شیعہ میں بھی نبی سے پاؤں کا دھونا منقول ہے اور یہ روایتیں صحیح ہیں اور ثابت ہیں اور بالاتفاق فریقین کے نزدیک مسلمہ ہیں اور مسح کے بارے میں اختلاف ہے پس احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ متفق علیہ اور مسلمہ فریقین کو لے لیا جائے اور مختلف فیہ کو چھوڑ دیا جائے۔
تحقیق اختلاف قرات درلفظ وارجلم الی العکبین۔
جاننا چاہیے کہ لفظ وارجلکم الی العکبین میں دو قرائتیں ہیں ایک قرات نصب ہے یعنی بفتح لام اور دوسری قرات جر ہے یعنی وارجلکم بکسر الام پہلی قرات کی بنا پر وارجلکم کا عطف وایدیکم پر ہوگا اور ترجمہ یوں ہوگا کہ اور اپنے پیروں کو ٹخنوں تک دھویا کرو اس قرات سے وضو میں پیروں کے دھونے کی فرضیت ثابت ہوتی ہے اور جو اہل نست والجماعت کا مذہب ہے دوسری قرات میں یعنی بکسرالام کی بنا پروارجلکم کا عطف بظاہر لفظ روسکم پر ہوگا اور ترجمہ یوں ہوگا اپنے سروں پر اور اپنے پیروں پر مسح کیا کرو اس قرات میں وضو میں مسح رجلین کی فرضیت ثابت ہوتی ہے یہ شیعہ اور امامیہ فرقہ کا مذہب ہے کہ وضو میں بجائے غسل کے مسح رجلین فرض ہے اہل سنت والجماعت یہ کہتے ہیں کہ یہ دونوں قراءتیں متواتر ہیں اور بمنزلہ دو آیت کے ہیں اور کلام خداوندی میں تعارض ناممکن ہے یہ امر قطعا ناممکن ہے کہ وقت واحد میں دونوں مختلف اور متضاد چیزیں اللہ کے نزدیک مراد ہوں لہذا اللہ کے نزدیک غسل رجلین اور مسح رجلین میں سے ایک ہی معنی مراد ہوں گے رہایہ امر کہ اللہ کے نزدیک کون سے معنی مراد ہیں سو اس اجمال اور اشتباہ کے دور کرنے کے لیے احادیث نبویہ اور تعامل صحابہ وتابعین کی طرف رجوع کرنا ضروری ہے سو احادیث متواترہ میں صریحہ میں یہ امر ثابت ہے کہ نبی نے امت کو جو وضو کی تعلیم دی اس میں پیروں کے دھونے کا حکم دیا اور پھر یہ فرمایا ھذا وضو لایقبل اللہ الصلوۃ الا بہ۔ یعنی بغیر اس طرح وضو کے خدا تعالیٰ کے یہاں نماز قبول نہیں نیز مدت العمر کبھی بھی آپ نے مسح رجلین نہیں فرمایا نہ سفر میں اور نہ حضر میں۔ بلکہ جن لوگوں کو غسل رجلین میں کوتاہی کرتے دیکھا ان کو باآواز بلند یہ فرمایا ویل اللعاب من النار یعنی ان ایڑیوں کے لیے ہلاکت ہے اور عذاب نار ہے جن کو پانی نہیں پہنچا معلوم ہوا کہ وضو میں پیروں کا دھونا فرض ہے۔
اور عمر بن عبسہ کی ایک طویل حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے وضوء کی تلقین کرتے ہوئے یہ فرمایا۔ ترجمہ۔ پھر قدمین کو دھوئے جیسا کہ اللہ نے انکے دھونے کا قرآن میں حکم دیا ہے۔ اور امام بیہقی کی سنن کبری ص 71 ج 1 میں حضرت علی کرم اللہ وجہ سے مروی ہے کہ انہوں نے یہ حکم دیا اپنے قدموں کو ٹخنوں تک دھوؤ جیسا کہ تم کو قرآن میں اس کا حکم دیا گیا ہے۔ معلوم ہوا کہ قرآن نے جو حکم دیا ہے وہ غسل رجلین کا حکم دیا ہے نہ مسح قدمین کا۔ اور عبدالرحمن بن ابی لیلی سے منقول ہے وہ یہ فرماتے ہیں کہ غسل قدمین پر تمام صحابہ کا اجماع ہے (فتح الباری ص 232 ج 1۔ باب غسل الرجلین) ۔ پس نبی کریم کے قول اور فعل دونوں سے یہ امر بخوبی واضح ہوگیا کہ آیت میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک غسل رجلین مامور بہ ہے جیسا کہ قرات نصب اس پر دلالت کرتی ہے اور اللہ کے نزدیک یہی معنی متعین ہیں اور مراد ہیں جس میں کوئی دوسرا احتمال نہیں لہذا اسیسی صورت میں قرات جر کی ایسی تفسیر کرنی لازم ہوگئی جو قرات نصب کے ہم معنی ہونا واضح ہوجائے اور دونوں قراتوں کے تعارض رفع کرنے کے لیے مختلف جوابات دیے ہیں جن کو ہم ہدیۃ ناظرین کرتے ہیں غور سے پڑھیں۔
جواب اول۔
بلاشبہ قرات جر کی صورت میں بظاہر پیروں کا مسح کرنا ثابت ہوتا ہے لیکن آیت میں پیروں کے مسح سے غسل خفیف مراد ہے اس لیے کہ لفظ مسح کا اطلاق لغت میں غسل خفیف پر بھی آتا ہے جیسا کہ امام قرطبی نے ابوزید انصاری سے نقل کیا ہے کہ اہل عرب کو جب یہ کہنا ہوتا ہے کہ میں نے نماز کے لیے وضو کیا تو ایسے موقعہ پر تمسحت للصلاۃ بولتے ہیں یعنی میں نے نماز کے لیے وضو کی نیز جب یہ کہنا ہوتا ہے وضو کے لیے پانی لاؤ تو اس طرح بولتے ہیں ھات مااتمسح بہ للصلاۃ۔ یعنی وہ چیز لاؤ جس سے نماز کے لیے وجو کروں ابوھاتم کہتے ہیں کہ وضو کو مسح کے لفظ سے تعبیر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وضو کرنے والا محض پانی بہالینے سے خوش نہیں ہوتا جب تک اپنے اعضاء کو پونچھ نہ لے۔ غرض یہ کہ ان محاورات سے یہ ثابت ہوگیا کہ مسح کا اطلاق غسل خفیف پر بھی آتا ہے پس اب ہم کہتے ہیں کہ وامسحوا بروسکم میں سرکے مسح پر محض تر ہاتھ پھیرلینا مراد ہے اور مسح رجلین سے غسل خفیف مراد ہے اور دلیل اس کی یہ ہے کہ اللہ نے پیروں کے مسح میں الی الکعبین کی قید لگائی ہے اگر سر اور پیروں کا مسح ایک ہی قسم کا ہوتا تو یہ تحدید نہ لگائی جاتی جس طرح سر کو بلا تعین مقدار بیان کیا گیا اس طرح پیروں کو بھی کوئی حد اور مقدار نہ بیان کی جاتی ہاتھوں اور پیروں کی حد مقرر کرنے سے اور سر کی حد نہ مقرر کرنے سے صاف عیاں ہے کہ ہاتھوں اور پیروں کا حکم تو ایک ہے اور سرکاحکم ان سے مختلف ہے (تفسیر قرطبی ص 92 ج 6) ۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ منہاج السنۃ فرماتے ہیں کہ لغت عرب میں لفظ مسح بمنزلہ جنس عام کے ہے جس کے تحت دو نوعیں یعنی دو قسمیں مدرج ہیں ایک اسالہ یعنی بہانا اور دوسرے غیر اسالہ یعنی بغیر پانی بہائے تر ہاتھ پھیرلینا اصل لغت کے اعتبار سے لفظ مسح عرفی مسح اور غسل دونوں کو شامل ہے جیسے لفظ ذوی الارحام بمعنی ذوی القربات لغت کے لحاظ سے ذوی الفروض اور عصبات وغیرہ سب کو شامل ہے مگر چونکہ عرف میں ذوی الفروض اور عصبات کا قسیم اور مقابل ہے ورنہ اصل لغت کے لحاظ سے ذوی الفروض اور عصبات دونوں ذوی الارحام کی ایک قسم ہیں عرف میں چونکہ اقارب عصبات ایک خاص نام سے پکارے جانے لگے اس لیے لوگ یہ سمجھنے لگے کہ لفظ ذوی الارحام عصبات کا قسیم اور مقابل ہے یہ ایسا ہے جیسا کہ لفظ حیوان اصل لغت کے لحاظ سے انسان کو بھی شامل ہے مگر عرف میں غیر انسان کے لیے بولا جاتا ہے اس طرح لفظ مسح کو سمجھو کہ وہ اصل لغت کے اعتبار سے عرفی مسح اور غسل دھونے دونوں کو شامل ہے حق تعالیٰ نے اس آیت میں وامسحو ا کے تحت دو چیزوں کو ذکر کیا اور ایک روسکم یعنی سر کو جس میں مسح عرفی معنی مراد ہیں اور دوسرا وارجلکم اس میں مسح سے غسل اور اسالہ یعنی دھونے اور پانی بہانے کے معنی مراد ہیں شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے کلام کا خلاصہ ختم ہوا دیکھو منہاج السنۃ ص 151 ج 2) ۔
یہ بندہ ناچیز کہتا ہے کہ کلام عرب میں بسا اوقات ایک ذو معنین لفظ بولا جاتا ہے اور اس کے تحت بطریق عطف مختلف متعلقات اور معمولات کو ذکر کیا جاتا ہے لیکن معطوف علیہ میں اس لفظ سے ایک معنی مراد ہوتے ہیں اور اسی لفظ سے معطوف میں اس لفظ کے دوسرے معنی مراد ہوتے ہیں جیسے اللہ کا یہ قول ان اللہ وملئ کہ یصلون علی النبی۔ آیت۔ اس میں یصلون کی ضمیر اللہ کی طرف اور ملائکہ کی طرف راجع کی گئی ہے اور دونوں جگہ صلاۃ سے مختلف معنی مراد ہیں اللہ کی صلاۃ کے معنی نبی کریم پر رحمت خاص نازل کرنے کے ہیں اور فرشتوں کی صلوۃ کے معنی دعا کے ہیں اسی طرح، وامسحوا بروسکم وارجلکم میں سمجھو کہ مسح روس سے تر ہاتھ پھیرنا مراد ہے اور مسح ارجل سے اسالہ پانی بہانا اور غسل خفیف مراد ہے اور اصل لغت کے اعتبار سے لفظ مسح ایک معنی کلی کے لیے وضع ہوا ہے یعنی الافضاء الی المحل یعنی پانی کا کسی جگہ تک پہنچا دینا اور اس معنی کلی دونوں فردوں کو شامل ہیں مگر بروسکم میں معنی کلی ایک فرد مراد ہے یعنی عرفی اور وارجلکم میں دوسرا فرد مراد ہے خوب سمجھ لو۔
جواب دوم۔ قرات جر میں اگرچہ لفظ وارجلکم کا عطف لفظ روسکم پر ہے لیکن معنی اس کا عطف وجوہکم وایدیکم پر ہے اور ارجل اعضاء مغسولہ کے ساتھ وجوب غسل میں شریک ہے اور قرات جر میں جر یعنی لام کا کسرہ جور کی وجہ سے ہے یعنی بروسکم کے قرب اور مجاورت کی وجہ سے وارجلکم کو مجرور پڑھا گیا ورنہ فی الحقیقت اس کا عط وجوہکم اور ایدیکم پر اور چہرہ اور ہاتھوں کی طرح پیروں کا دھونا بھی فرض ہے اور قرآن عزیز اور کلام عرب میں جر جوار بکثرت آیا ہے۔
1۔ کما قال تعالیٰ یرسل علیکما شواظ من نار ونحاس۔ بالجر نحاس۔ آیت۔ کا جر نار کے جوار کی وجہ سے ہے ورنہ نحاس فی الحقیقت شواظ پر معطوف ہے اور معنی مرفوع ہے۔
2۔ وقال تعالی۔ بل ھو قرآن مجید فی لوح محفوظ۔ قرات میں جر میں لفظا مجرور ہے مگر معنی مرفوع ہے اس لے کہ قرآن کی صفت ہے جر محض مجاورت کی وجہ سے ہے۔
3۔ وقال تعالیٰ عذاب یوم محیط۔ محیط کا جر محض یوم کی مجاورت اور مقارنت کی وجہ سے ورنہ محیط فی الحقیقت صفت عذاب کی ہے۔
4۔ وقال تعالیٰ عذاب یوم بحر الیم کہ الیم اصل میں صفت عذاب کی ہے مگر یوم کے جواب کے وجہ سے مجرور ہوا۔
5۔ اور امری القیس کا قول ہے
کان ابانا فی افانین ودقہ کبیر اناس فی بجاد مزمل
اس شعر میں مزمل جر محض جوار کی وجہ سے ہے ورنہ مزمل دار اصل رجل کی صفت ہے اور معنی مرفوع ہے اگرچہ لفظ مجرور ہے۔
6۔ اور عرب میں بہ مثل مشہور ہے ججز ضب خرب۔ خرب کا جر محض ضب کے جوار اور قرب کی بنا پر ہے ورنہ خرب دراصل خرب دراصل حجر کی صفت ہے۔ خلاصہ کلام یہ کہ جر جوار محاورہ عرب میں شائع اور ذائع ہے اور تمام ائمہ عربیت اور ماہرین نحو کلام فصیح میں اس کے استعمال کے قائل ہیں سوائے زجاج کے جر جوار کا کوئی منکر نہیں (روح المعانی ص 68۔ ج 6) اور شواہد مذکورہ کے ہوتے ہوئے کسی کا انکار قابل اعتبار نہیں خوب سمجھ لو۔
جواب سوم۔
ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ظاہر میں وارجلکم کا عطف روس پر ہے لیکن باایں ہمہ حکم دونوں کا مختلف ہے اس لیے کہ کلام عرب ہیں بکثرت ایسا ہوتا ہے کہ ایک شی کا دوسری شی پر عطف ہوتا ہے مگر حکم میں دونوں مختلف ہوتے ہیں اور یہ صورت وہاں ہوتی ہے کہ جہاں دو فعل متقرب فی المعنی جمع ہوجائیں اور ہر ایک کا متعلق اور معمول علیحدہ ہو تو ایسے موقعہ پر بغرض ایجاز واختصار ایسا کرتے ہیں کہ ایک فعل کو تو حذف کردیتے ہیں مگر اس کے معمول اور مفعول کا فعل مذکور کے معمول پر عطف کردیتے ہیں کہ بظاہر معطوف، معطوف علیہ کے ساتھ حکم میں شریک ہوتا ہے لیکن معنی مختلف ہوتا ہے ایک شاعر کہتا ہے،
یالیت بعلک قد غدا متقلدا سیفا ورمحا۔
اے کاش تیرا شوہر صبح کے وقت ایسے حال میں روانہ ہوتا کہ گلے میں تلوار اور نیزہ کا قلادہ ڈالے ہوئے ہوتا۔ اس شعر میں ورمحا کا عطف باظہر سیفا پر ہے جو متقلدا کا مفعول ہے لیکن حقیقت میں رمحا متقلدا کا مفعول نہیں اس لیے کہ نیزہ گلے میں ڈالنے کی چیز نہیں بلکہ تقدیم کلام اس طر ہے۔ متقلدا سیفا وحاملا یعنی تلوار گلے میں ڈالتے ہوئے اور نیزہ ہاتھ میں اٹھائے ہوئے مگر چونکہ حاملا اور متقلد دونوں متقارب المعنی تھے اسلیے بغرض ایجاز حاملا کو حذف کردیا گیا اور حاملا کے مفعول یعنی رمحا کا عط متقلد کے مفعول یعنی سیفا پر کردیا گیا کہ اہل سخن قرینہ مقام اور سیاق کلام سے مراد کو سمجھ جائیں گے ایک دوسرا شاعر کہتا ہے
لما ھططت الرحل عنہا واردا علفتھا تبنا وماء باردا۔
جب میں نے اونٹنی کا کجاوا اتارا تو اس اونٹنی کو بھس کہلایا اور ٹھنڈا پانی
اس شعر میں بظاہر اگرچہ وماء باردا کا عطف تبنا پر ہورہا ہے لیکن علفت کے حکم میں اس کے ساتھ شریک نہیں اس لیے کہ ٹھنڈا پانی بھس کے حکم میں نہیں پانی پلایا جاتا ہے بھس کی طرح کھلایا نہیں جاتا بلکہ تقدیر کلام اس طرح سے ہے علفتاھا بتنا وسقی تھا ماء باردا۔ میں نے اس اونٹنی کو بھس کھلایا اور ٹھنڈا پانی پلایا لیکن چونکہ سقیت اور علفت دونوں متقارب فی المعنی تھے اس لیے سقیت کو حذف کرکے اس کے مفعول ماء باردا کا عطف علفت کے مفعول تبنا پر کردیا گیا کہ اہل فہم قرینہ مقام سے مراد سمجھ لیں گے پس وماء باردا اگرچہ لفظ پر معطوف ہونے کی وجہ سے بظاہر شریک حکم ہے مگر معنی اس سے مختلف اور جدا ہے۔
اور شاعر کہتا ہے فعلا فروع الایہقان واطفلت بالجلہتین ظباء ہاو نعامہا
اس شعر میں ونعامہا کا ظباء ہا پر عطف کیا گیا ہے اور بظاہر دونوں واطفلت کے حکم میں شریک ہیں لیکن معنی مختلف ہیں اس لیے کہ شتر مرغ بچے نہیں دیتا بلکہ بیضے دیتا ہے اور تقدیر کلام اس طرح ہے واطفلت ظباء ہا وبا ضت نعامہا۔ اسی طرح آیت میں تقدیر کلام یوں ہے، وامسحوا بروسکم واغسلوا ارجلکم غسلا خفیفا۔ یعنی اپنے سروں پر مسح کرو اور اپنے پیروں کو نرمی اور اعتدال کے ساتھ دھوؤ پیروں پر پانی بہانے میں مبالغہ اور اسراف نہ کرو چونکہ غسل خفیف اور مسح دونوں متقارب المعنی تھے اس لیے واغسلوا غسلا خفیفا کو حذف کرکے اس کے مفعول یعنی ارجلکم کا عطف بروسکم پر کردیا گیا یہ تیسرا جواب تمام تر امام قرطبی کی تشریح ہے (تفسیر قرطبی ص 95 ج 6 روح المعانی ص 69 ج 6) ۔
جواب چہارم۔
امام شافعی فرماتے ہیں کہ دونوں قراتوں میں کوئی تعارض نہیں ہر قرات میں ایک جداگانہ حالت کا حکم بیان کیا گیا ہے قرات جر جس سے مسح قدمین معلوم ہوتا ہے یہ حکم اس حالت میں ہے کہ جب قدمن پر خفین ہوں یعنی جس حالت میں موزے پہنے ہوں تو مسح رجلین کرے اور اگر پیروں میں موزے نہ ہوں تو ایسی حالت میں غسل قدمین فرض ہے مطلب یہ ہے کہ یہ دو قراتیں دو مختلف حالتوں پر محمول ہیں اس لیے کہ قلا یہ ناممکن ہے کہ وق واحد اور حالت واحدہ میں عضو واحد کا غسل بھی فرض ہو اور مسح بھی فرض ہو معلوم ہوا کہ ان دو قراتوں میں دو مختلف حالتوں کا حکم بیان کیا گیا۔ (فتح الباری ص 344 ج 1) ۔
بحرالعلوم شرح مسلم الثبوت میں لکھتے ہیں کہ فخرالاسلام بزدوی نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے اور یہ توجیہ نہایت لطیف ہے اور فرماتے ہیں کہ قرات جر میں الی الکعبین کا لفظ مسح کی غایت نہیں اس لیے کہ مسح تو ظاہر خفین پر کافی ہے کعبین تک مسح کرنا بالاجماع ضروری نہیں بلکہ یہ تخفف کی غایت ہے کہ جو سیاق کلام سے مفہوم ہوا ہے اور مطلب یہ ہوا کہ پیروں پر مسح کرلیا کرو درآنحالیکہ تم ٹخنوں تک موزے پہنے ہوئے ہو اور اگر موزہ ٹخنوں سے نیچے ہو تو پھر موزوں پر مسح درست نہ ہوگا (فواتح الرحموت مسلم الثبوت ص 196 ج 2۔ طبع مصر) ۔
جواب پنجم۔
امام طحاوی اور ابن حزم کہتے ہیں کہ ابتداء میں مسح قدمین جائز تھا بعد میں یہ حکم منسوخ ہوگیا اور غسل قدمین فرض ہوگیا۔ (فتح الباری ص 232 ج 1) ۔
(قراءت) ۔ جاننا چاہیے کہ وارجلکم میں ایک تیسری قرات رفع کی بھی آئی ہے یعنی وارجلکم برفع الام پڑھا گیا ہے یہ قرات بظاہر کسی فریق کے لیے دلیل نہیں بن سکتی اس لیے کہ اس قرات میں وارجلکم کی خبر محذوف ہوگی کوئی تقدیر کلام اس طرح بتلائے گا وارجلکم مغسولۃ اور کوئی تقدیر کلام اس طرح بتائے گا وارجلکم ممسوحۃ لیکن اس قرات میں بظاہر خبر کو اس لیے حذف کردیا گیا کہ ارجل کا حکم شریعت میں معلوم اور معروف ہے نبی ﷺ اور تمام صحابہ کا عمل یہی رہا کہ پیروں کو دھوتے تھے۔ (روح المعانی ص 70 ج 6) ۔
ایک شبہ۔
دار قطنی وغیرہ کی بعض روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ نے وضو میں مسح رجلین فرمایا۔
جواب۔ یہ ہے کہ مسح رجلین کی روایت قطعا شاذ اور منکر ہے قطعا صحیح نہیں اور احادیث متواترہ کے صریح خلاف ہے نیز حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے منقول ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی نے سب کے سامنے وضو کیا اور سر اور پیروں کا مسح کیا اور پھر یہ فرمایا تحقیق کچھ لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ اس طرح وضو درست نہیں تحقیق میں کو اس طح وضو کرتے دیکھا ہے لیکن یہ وضو اس شخص کی ہے جو پہلے سے محدث (بےوضو) نہ ہو یعنی جو وضوء ازالہ حدث کے لیے نہ ہو بلکہ تبرک کے لیے وضو علی الوضوء ہو یا تبرید کے لیے وضو کیا جائے تو پھر بجائے غسل رجلین کے مسح رجلین کافی ہوسکتا ہے۔
فرضیت غسل۔
وان کنتم جنبا فاطہروا۔ آیت۔ اوپر فرضیت وضو کا بیان تھا اب فرضیت غسل کو بیان کرتے ہیں اور اگر تم جنابت یعنی ناپاکی کی حالت میں ہو تو سارے بدن کو خوب اچھی طرح سے دھوؤ یعنی اس طرح غسل کرو کہ جہاں جہاں تک پانی پہنچانا ناممکن ہو وہاں پانی پہنچاؤ اسی وجہ سے امام اعظم فرماتے ہیں کہ غسل میں مضمضہ اور استنشقاق یعنی کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا فرض ہے اور وضو میں سنت ہے اس لیے کہ وضو میں فقط غسل وجہ کا حکم دیا گیا ہے اور غسل میں فاطہرا مبالغہ کا صیغہ لایا گیا ہے معلوم ہوا کہ وضو میں صرف ظاہری چہرہ کا دھولینا کافی ہے کیونکہ وجہ مواجہت سے ماخوذ ہے بخلاف غسل کے کہ وہاں سارے بدن کا دھونا فرض ہے کیونکہ فاطہرا مبالغہ کا صیغہ ہے یعنی جس کے دھونے میں اتنا مبالغہ کرو کہ ایک بال بھی نہ رہے اور جنابت کے معنی ناپاکی کے ہیں جس کی دو صورتیں ایک یہ کہ منی خارج ہوجائے خواہ بیداری میں یا سوتے میں اور دوم مرد عورت کی مبارشرت اور مجامعت خواہ اس میں انزال ہوا ہو یا نہ ان دونوں صورتوں میں آدمی شرعا ناپاک ہوجاتا ہے اور اس پر غسل واجب ہوجاتا ہے۔
نکتہ۔ جنابت کی حالت میں چونکہ آدمی سر سے لے کر پیر تک غرق لذت اور محوغفلت ہوجاتا ہے اس لیے ازالہ جنابت کے لیے تمام بدن کا دھونا فرض ہوابخلاف وضو کے اس میں صرف اعضاء اربعہ کی طہارت کا حکم ہوا کیونکہ پیشاب اور پاخانہ میں جنابت جیسی لذت اور غفلت نہیں۔
مشروعیت تیمم۔ وضو اور غسل کی فرضیت کے بعد اب تیمم کا حکم بیان فرماتے ہیں کہ جو وضو اور غسل کا قائم مقام ہے اور اگر تم بیمار ہو اور پانی کا استعمال تمہارے لیے مضر ہو اور پانی تم کو میسر نہ ہو اور اس بیماری میں اور مسافری میں تم کو وضو یا غسل کی ضرورت ہو یا تم میں سے کوئی جائے ضرور پیشاب یا پاخانہ سے فارغ ہو کر آئے اور اس لیے اس کو وضو کی ضررت ہو یا تم نے عورتوں سے صحبت کی ہو اور اس لیے تم کو نہانے کی ضرورت ہو پھر تم اس ضرورت کے پورا کرنے کے لیے پانی نہ پاؤ تو تم تمام حالتوں میں پاک زمین کا قصد کرو اس طرح کہ اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارو پھر اپنے چہروں اور ہاتھوں پر اس سے مسح کرلو یہ تیمم ہے جس کو اللہ نے اپنی رحمت سے پانی نہ ملنے کی صورت میں وضو اور غسل کا قائم مقام بنا دیا غور تو کرو کہ اللہ نے تمہارے لیے کیسی آسانی کردی اللہ نہیں چاہتا کہ تم پر کچھ تنگی کرے اگر ہر حال میں تم کو وضو اور غسل کا حکم ہوتا تو تم تنگی میں پڑجاتے لیکن یہ چاہتا ہے کہ تم کو خوب پاک کردے اگر پانی نہ ملے تو پاک مٹی کے ذریعہ طہارت حاصل کرلو اور تاکہ تم اپنی نعمت پوری کرے کہ سفر اور حضر تندرستی اور بیماری کسی حالت میں عبادت سے کوئی رکاوٹ باقی نہ رہے تیمم کا حکم نازل کرکے اللہ نے تم پر نعمت پوری کردی پچھلی امتوں میں تیمم کا حکم نہ تھا تاکہ تم ہمارے ان انعامات کا شکر کرو ہم نے تمہاری ظاہری اور باطنی طہارت کے لیے وضو اور غسل اور تیمم کا حکم دیا اس وجہ سے حضرت بلال وضو کے بعد دو رکعت وضو کے شکر میں پڑھتے تھے ایسی نماز کو تحیۃ الوضو کہتے ہیں کہ لہذا عجب نہیں کہ حکم وضو کے اخیر میں لفظ لعلکم تشکرون سے تحیۃ الوضو کی طرف اشارہ ہو۔ واللہ اعلم۔
نکتہ۔ آیت تیمم کی تفسیر سورة نساء میں مفصل گزر چکی ہے یہاں اس کا اعادہ اس غرص سے کیا گیا تاکہ طہارت کے مسائل علی الاتصال بیان میں آجائیں۔
Ayah 5:7ستذکیر انعام وعہد خدا واند نام۔
قال تعالیٰ واذکرو نعمۃ اللہ علیکم۔۔ الی۔۔ بذات الصدور۔ آیت۔
ربط) گزشتہ آیات میں اللہ نے اپنے احکام بیان کیے اب اس آیت میں اپنی نعمتوں اور عہدوں کو یاد دلاتے ہیں کہ اپنے عہدوں کو پورا کرو اور اپنے منعم اور مھسن کی ناسپاسی سے بچو اور ازل میں جو اللہ کی اطاعت کا عہد کرچکے ہو اور جس امانت کا بوجھ تم کو اٹھا چکے ہو اب اس کے ایفاء اور اداء کا وقت آگیا ہے چناچہ فرماتے ہیں اور یاد کرو اللہ کے احسان اور انعام کو جو تم پر ہو اور یاد کرو خدا کے اس عہد اور پیمان کو جو اس نے تم سے پختہ کیا ہے جب کہ تم نے اسی عہد کو قبول کیا کہ ہم نے حکم خداوندی کو سنا اور دل وجان سے اس کو مانا اور احسان کا مقتضی بھی شکرگزاری ہے اور عہد اور میثاق کا مقتضی بھی وفاداری ہے۔ پس تم کو چاہیے کہ اس کی شکرگزاری اور فرمانبرداری میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو کہ وہ اپنی نعمتوں کو سلب بھی کرسکتا ہے اور ناشکری اور بد عہدی کی سزا میں بہت سخت پکڑ سکتا ہے تحقیق اللہ تعالیٰ سینوں کو پوشیدہ باتوں کو خوب جاننے والا ہے اخلاص اور نفاق اس پر مخفی نہیں۔
(فائدہ) ۔ آیت میں عہد سے یا تو عہد الست مراد ہے یا عہد امانت مراد ہے جس کا ذکر انا عرضنا الامانۃ علی السماوات میں ہے یا عہد بیعت مراد ہے کہ جب صحابہ کرام نے نبی کے دست مبارک پر بیعت کی اور اس بات کا اقرار کیا کہ ہم اپنی استطاعت کے موافق ہر حال میں آپ کی اطاعت کریں گے خواہ ہماری طبیعت کے موافق ہو یا مخالف۔ (تفسیر قرطبی ص 108، تفسیر کبیر 390 ج 3) ۔
Ayahs 5:8–10حکم یازدھم۔ وجوب عدل و انصاف واداء شہادت حق۔
قال تعالیٰ یا ایھا الذین آمنو کو نو قوامین۔۔۔ الی۔۔۔ الجحیم۔ آیت۔
ربط) گزشتہ آیات میں عبادات اور ان احکام کا ذکر تھا جو مکلف کی ذات کے ساتھ مخصوص تھے اب ان ایات میں عدل و انصاف وشہادت حق کا حکم بیان کرتے ہیں جو دوسروں سے متعلق ہے نظام عالم کا دارومدار عدل و انصاف اور شہادت پر ہے اس لیے کہ عدل اور انصاف اور سچی شہادت سے تمام مظالم اور مفاسد کا دروازہ بند ہوجاتا ہے چناچہ فرماتے ہیں اے ایمان والو تمہارے ایمان کا مقتضی استقامت علی الحق ہے لہذا ہوجاؤ تم کھڑے ہونے والے اللہ کے لیے یعنی حقوق اللہ کی ادائیگی کے لیے مستعد اور تیار کھڑے رہو اور جب حقوق العباد کے ادا کرنے کا وقت آئے تو انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے ہوجاؤ خواہ دوست ہو یا دشمن اور کسی گروہ کی دشمنی تم کو ترک عدل پر آمادہ نہ کرے دوست اور دشمن کے ساتھ برابر انصاف کیا کرو یہی طریقہ تقوی اور پرہیزگاری کے نہایت قریب ہے تقوی اور پرہیزگاری کا تقاضا یہ ہے کہ دوست اور دشمن سب کے ساتھ یکساں عدل اور انصاف کرو نہ کسی کی رعایت کرو نہ کسی کی حق تلفی اور اللہ کی نافرمانی سے ڈرتے رہو بیشک اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے خبردار ہے تمہارا انصاف اور بےانصافی اس پر مخفی نہیں اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں سے کہ جو ایمان لائے اور نیک کام کیے ان سے یہ وعدہ کیا کہ ان کے لیے مغفرت ہے اور بڑا ثواب ہے اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلا دیا وہی دوزخی ہیں خدا کے ساتھ کفر اور شرک اور اسکی آیتوں کی تکذیب ایسا ظلم عظیم ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی ظلم اور بےانصافی نہیں اس لیے کہ کافروں کو ہمیشہ کے لیے دوزخ میں رکھنا یہ اللہ کا عدل اور انصاف ہے اور اس کی حکمت ہے۔
Ayah 5:11تذکیربعض انعامات خاصہ دنیویہ۔
قال تعالیٰ یا ایھا الذین آمنو۔۔۔ الی۔۔۔ المومنون۔
ربط) گزشتہ آیات میں اللہ نے اپنے عام احسانات کو یاد دلایا اب اس آیت میں ایک خاص دنیوی انعام کو یاد دلاتے ہیں تاکہ نعمت کو یاد کرکے دل میں منعم کی محبت اور اطاعت کا داعیہ پیدا ہو حضرت جابر سے مروی ہے کہ غزوہ ذات الرقاع میں نبی کریم ﷺ ایک منزل میں اترے اور لوگ متفرق ہوگئے اور درختوں کے سایوں میں جا کر آرام کرنے لگے نبی ﷺ نے اپنی تلوار ایک درخت میں لٹکا دی اور لیٹ گئے اتنے میں اعرابی آیا اور تلوار اتار کر میان سے اس کو کھینچا اور آپ کی طرف متوجہ ہو کر یہ کہنے لگا کہ من یمنعک منی اب آپ کو مجھ سے کون بچائے گا آپ نے فرمایا اللہ عزوجل تین بار اس نے یہی کہا اور آپ نے یہی جواب دیا اتنے میں جبرائیل امین اترے اور اس کافر کے سینہ پر ایک مکا مارا جس سے وہ تلوار اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی نبی نے وہ تلوار اٹھا لی اور اس سے پوچھا کہ تو تبا کہ اب تجھے کون بچائے گا اس نے کہا کوئی نہیں آپ نے کہا جا اپنا راستہ لے اس طرح اس کو چھوڑ دیا اور اسے کوئی سزا نہیں دی اس حال کو دیکھ کر وہ اعرابی مسلمان ہوگیا اور اس کی وجہ سے اور لوگوں کو بھی ہدایت ہوئی آپ نے صحابہ کو بلا کر یہ سارا ماجرا بتلایا اور اس پر یہ آیت نازل ہوئی (تفسیر ابن کثیرص 21۔ ج 2۔ و تفسیر قرطبی) ۔
اس کے علاوہ اور بھی اس قسم کے متعدد واقعات پیش آئے کہ کفار نے نبی ﷺ اور مسلمانوں کو صدمہ پہنچانے کی کوشش کی مگر اللہ نے دشمنوں سے حفاظت فرمائی چناچہ فرماتے ہیں اے ایمان والو ایمان کا مقتضی یہ ہے کہ اللہ کے انعامات سے غافل نہ ہو خاص کر اس انعام کو یاد کرو کہ کافروں کی ایک جماعت نے یہ قصد کیا کہ تم پر دست درازی کریں اور غفلت کی حالت میں تم کو مار ڈالیں یا لوٹ لیں پس اللہ نے غیب سے تمہاری حفاظت فرمائی اور دشمنوں کے ہاتھ تمہاری طرف بڑھنے سے روک دئیے اور بسا اوقات تم صلاۃ الخوف میں مشغول تھے اس حالت میں اللہ تعالیٰ نے تمہاری حفاظت فرمائی لہذا تم کو چاہیے کہ اس کے احسان کو یاد کرکے اس کے شکر کو بجالاؤ اور اپنے منعم حقیقی خداوند ذوالجلال کی نافرمانی سے ڈرتے رہو اور ایمان والوں کو چاہیے کہ اللہ پر بھروسہ کریں دشمنوں سے بچانے والا خدا نے اس نے اب بچایا ہے آئندہ بھی اسی طرح تم کو دشمنوں کے شر سے بچاتا رہے گا لہذا ایمان کا مقتضی یہ ہے کہ بھروسہ اور اعتماد خداوند جہاں پر کرو نہ کہ اپنے سازوسامان پر۔
ترجمہ۔ اور لے چکا ہے اللہ عہد بنی اسرائیل کا اور اٹھائے ہم نے ان میں بارہ سردار اور کہا اللہ نے میں تمہارے ساتھ ہوں تم اگر کھڑی رکھو گے نماز اور دیتے رہو گے زکوٰۃ اور یقین لاؤ گے میرے رسولوں پر اور ان کو مدد کروگے اور قرض دو گے اللہ کو اچھی طرح کا قرض تو میں اتاروں گا تم سے برائیاں تمہاری اور داخل کروں گا باغوں میں کہ بہتی نیچے ان کے نہریں پھر جو کوئی منکر ہوا تم سے اس کے بعد وہ بیشک بھولاسیدھی راہ۔ 12
ترجمہ۔ سو ان کے عہد توڑنے پر ہم نے ان کو لعنت کی اور کردیے ان کے دل سیاہ بدلتے ہیں کلام کو اپنے ٹھکانے سے اور بھول گئے ایک فائدہ لینا اس نصیحت سے جو ان کو کی تھی پھر ہم نے لگا دی آپس میں دشمنی اور کینہ قیامت کے دن تک اور آخر بتا دے گا ان کو اللہ جو کچھ کرتے ہیں۔
Ayahs 5:12–14ذکر عہود امم سابقہ و بدعہدی اور شان ونتیجہ آن۔
قال تعالی۔ ولقد اخذ اللہ میثاق بنی اسرائیل۔۔۔ الی۔۔۔ یصنعون۔ آیت۔
ربط) ابتداء سورت یا ایھا الذین۔۔۔ الی۔۔ ومیثاقہ۔ میں اہل اسلام کے عہد اور میثاق کا ذکر تھا اب اللہ ان عہود کا ذکر کرتے ہیں کہ جو امم سابقہ سے لیے گئے تھے اور ایفاء عہد پر ان سے تکفیر سیئات اور ادخال جنات کا وعدہ کیا گیا تھا اور جن کی خلاف ورزی پر خدا کی جانب سے ان پر قہر آیا اور طرح طرح کی بلاؤں میں مبتلا کیے گئے۔ مقصود مسلمانوں کو ڈرانا ہے کہ تم بنی اسرائیل کی طرح بدعہدی نہ کرنا مبادا کہ ان کی طرح تم کو بھی روز بد دیکھنا پڑے اور اے مسلمانوں تم یہ نہ سمجھنا کہ عہد خاص تمہیں سے لیا گیا کہ جس کی پابندی کی تم کو تاکید کی جاتی ہے بلکہ تم سے پہلے انبیاء سابقین نے اپنی امتوں سے ایسا ہی عہد لیا تھا کہ تم کو چاہیے کہ اپنے عہد کو پورا کرو اور پچھلوں کی طرح عہد شکنی کرکے ذلت اور خواری میں نہ پڑو چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق اللہ نے گذشتہ زمانہ میں بنی اسرائیل سے ایک پختہ عہد لیا جس کا ذکر آئندہ آیت میں آتا ہے کہ اللہ نے بنی اسرائیل سے اپنی عبادت اور توریت پر قائم رہنے کا عہد لیا اور پھر ان کی نگرانی کے لییہم نے ان میں سے بارہ سردار مقرر کیے جن کا کام یہ تھا کہ وہ بنی اسرائیل کے احوال کی نگرانی کریں اور عہد خداوندی کے پورا کرنے کی ان کو تاکید کرتے رہیں چونکہ بنی اسرائیل کے کل بارہ قبیلے تھے اس لیے حضرت موسیٰ نے ہر قبیلہ سے ایک سردار منتخب کیا جو اپنی قوم کا ذمہ دار ہو اور قوم کو اعداء اللہ سے جہاد و قتال کے لیے آمادہ کرے اسی طرح نبی ﷺ نے جب لیلۃ العقبہ میں صحابہ سے بیعت لی تو ان میں سے بارہ نقیب مقرر کیے تین قبیلہ اوس کے اور نو قبیلہ خزرج کے یہ لوگ اپنی اپنی قوم کے عرفاء یعنی چودھری تھے اپنی قوم کی طرف سے آپ کے دست مبارک پر سمع وطاعت کی بیعت کی اور جابر بن سمرہ کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ میری امت میں بارہ خلیفہ ہوں گے مطلب یہ ہے کہ میری امت میں بارہ خلیفہ نیک اور صالح ہوں گے جو ٹھیک ٹھیک حق کو قائم کریں گے اور امت میں ٹھیک ٹھیک عدل و انصاف کریں گے اور ان کے دور حکومت میں اسلام کو عزت حاصل ہوگی لیکن یہ لازم نہیں کہ ان بارہ کا زمانہ مسلسل اور لگاتار ہو ان میں سے چار تو خلفاء راشدین ہوئے اور ایک عمر بن عبدالعزیز ہوئے اور انہی بارہ میں ایک امام مہدی ہوں گے جن کا ذکر حدیثوں میں آیا ہے اور توریت میں جہاں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی بشارت آئی ہے وہاں یہ بھی آیا ہے کہ ان کی پشت سے بارہ سردار ہوں گے ان سے یہی بارہ خلفاء مراد ہیں جن کا حدیث میں ذکر آیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے یہ کہا کہ تحقیق میں تمہارے ساتھ ہوں یعنی تمہارا ناصر اور مددگار ہوں بشرطیکہ تم میرے عہد پر قائم رہو اور وہ عہد یہ ہے کہ اگر تم نے نماز کو قائم رکھا اور زکوٰۃ دیتے رہے اور میرے سب رسولوں پر ایمان لے آئے اور ان کی مدد کرتے رہے اور علاوہ زکوٰۃ کے خدا تعالیٰ کا قرض حسنہ دیتے رہے یعنی محض خدا کی خوشنودی اور آخرت کے ثواب کے لیے جہاد وغیرہ میں خرچ کرتے رہے اور بلا کسی دنیاوی غرض کے فقراء و مساکین پر خیرات کرتے رہے یہ قرض حسن یعنی نیک قرض ہے سو اگر تم اس پر عہدہ پر قائم رہے تو میں اس کے صلہ میں ضرور تمہاری برائیاں دور کردوں گا اور ضرور تم کو ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہوں گی یعنی اگر تم اپنے عہد پر قائم رہے تو میری طرف سے تمہارا صلہ گناہوں کی معافی اور بہشت ہے پھر تم میں سے جو اس پختہ عہد اور پیمان کے بعد منحرف ہوگیا تو وہ بلاشبہ سیدھے راستے سے بہک گیا اور بدعہدی کرکے نجات کا راستہ گم کیا اور ہلاکت کے گڑھے میں جا گرا مگر بنی اسرائیل نے باوجود اس پختہ عہد اور پیمان کے عہد شکنی کی اور طرح طرح کی ذلتوں اور مصیبتوں میں متبلا ہوئے چناچہ فرماتے ہیں پس ہم نے ان کو عہد شکنی کی وجہ سے ان پر لعنت کی یعنی اپنی رحمت اور عنایت اور ہدایت سے ان کو دور پھینک دیا اور ان کے دلوں کو سخت کردیا کہ کوئی حق اور ہدایت ان کے دل میں نہیں اترتی اور کوئی نصیحت ان کو کارگر نہیں ہوتی اب اس کے بعد ان کی حالت یہ ہے کہ وہ کلام خداوندی یعنی توریت میں لفظی اور معنوی ہر قسم کی تحریف کرتے ہیں اور اس کے حروف اور الفاظ کو اپنے موقعہ اور محل سے ہٹا دیتے ہیں کبھی حروف اور الفاظ میں تحریف کرتے ہیں اور کبھی اس کے معنی میں اور کبھی تاویلات میں اور کبھی حذف کرتے ہیں اور کبھی کوئی لفظ زیادہ کرتے ہیں غرض یہ کہ کلام خدواندی میں جس قدر اور جس قسم کی تحریف ممکن تھی وہ سب کی جس کا اعتراف علماء یہود اور نصاری کو بھی ہے اور فراموش کردیا بڑا حصہ اس نصیحت کا جو ان کو توریت میں کی گئی تھی یعنی ان کو توریت میں بہت سی نصیحتیں کی گئی تھیں من جملہ ان کے ایک یہ کی گئی تھی کہ محمد ﷺ پر ایمان لانا اور ان کی لغت اور صفت کو نہ چھپانا لیکن انہوں نے اس نصیحت کو بھلا دیا توریت میں تحریف کی اور آپ کی صفات کو چھپایا اور آپ پر ایمان نہیں لائے اور اے نبی کریم آپ ہمیشہ ان کی ایک نہ ایک خیانت پر مطلع ہوتے رہیں گے یعنی آپ ان بنی اسرائیل کی شرارتیں اور عہد شکنیاں کہاں تک دیکھیں گے یہ تو ان کی موروثی چیز ہے یہ لوگ ہمیشہ ایسا ہی کرتے رہیں گے مگر ان کے معدد دے چند اس خیانت سے بری ہیں جیسے عبداللہ بن سلام اور ان کے رفقاء پس آپ ان خائنین کو معاف کیجئے اور ان سے درگذر کیجئے یعنی جب ان کی عادت ہی یہ ٹھہری تو آپ درگذر فرمائیں اور جب تک کھلم کھلا مقابلہ پر نہ آئیں اس وقت تک ان پر تلوار نہ اٹھائیے اگرچہ وہ درپردہ کتنی ہی خیانتیں کریں بیشک اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے یہاں تک کہ یہود کا حال بیان فرمایا اب آگے کچھ نصاری کا حال بیان کرتے ہیں اور جو لوگ اپنے آپ کو زبان سے نصاری کہتے ہیں کہ گویا کہ وہ درپردہ اس بات کے مدعی ہیں کہ ہم حضرت مسیح بن مریم اور انجیل کے ماننے والے ہیں اور ہم نے ان سے بھی انجیل میں فار قلیط پر ایمان لانے اور ان کی مدد کرنے کا عہد لیا تھا پس انہوں نے اس نصیحت کا ایک حصہ بھلادیا کہ جو ان کو کی گئی تھی یعنی وہ بھی محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان نہیں لائے اور اپنے عہد کو بھول گئے حتی کہ توحید سے بھی منحرف ہوگئے پس یہود کی طرح نصاری بھی اس عہد شکنی کی بناء پر مورد عتاب بنے اس لیے ہم نے ان کے درمیان دشمنی اور کینہ ڈال دیا جو قیامت تک ان میں رہے گا نصاری میں مختلف فرقے ہیں جو ایک دوسرے سے بغض اور عداوت رکھتے ہیں ایک گروہ وہ دوسرے گروہ کو کافر اور ملعون بتاتا ہے اور یہ تو دنیوی سزا ہوئی رہی آخرت سو عنقریب اللہ ان کو قیامت کے دن جتلا دیں گے کہ وہ دنیا میں کیا کرتے تھے بدعہدی کا انجام ان کے سامنے آجائے گا پس اے مسلمانو تم کو ان سے سبق لینا چاہیے اور ان کے انجام بد کو اپنے لیے درس عبرت سمجھنا چاہیے اس میں شبہ نہیں کہ آج مسلمانوں میں بھی تشت اور تفرق اور مذہبی تصادم نظر آتا ہے لیکن بحمدہ تعالیٰ ہم میں وحی الہی اور قانون خداوندی یعنی کتاب وسنت بلاکم وکاست محفوظ ہے اس لیے مسلمانوں کا اختلاف قابل التفات نہیں اس لیے کہ مسلمانوں کی سوادا عظم یعنی اہل سنت والجماعت اسی حق اور صداقت پر قائم ہے جس کو من جانب اللہ نبی برحق لے کر آئے اور صحابہ کرام نے اس امانت کو بحفاظت امت تک پہنچا دیا وحی الہی کی مشعل مسلمانوں میں محفوظ ہے بخلاف یہود اور نصاری کے کہ ان کے پاس وحی الٰہی کی کوئی مشعل موجود نہیں اصل توریت اور انجیل ان کے پاس محفوظ نہیں حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ جو حق اور ہدایت ان کو دے کر گئے تھے وہ گم کربیٹھے ہیں محض محرف بائبل سے وابستہ ہیں فقط مذہب کے نام پر ایک دوسرے سے برسرپیکار ہیں مغربی اقوام مذہبی حیثیت سے غایت درجہ متشتت ہیں البتہ اگر دنیاوی اور سیاسی مصالح کی بناء پر مسلمانوں کے مقابلہ میں یا اور کسی قوم کے مقابلہ میں متفق ہوجائیں تو وہ دوسری بات ہے مغربی قوم کی ہمت ہمہ تن دنیا پر مقصود ہے یہ لوگ درحقیقت دھریہ اور لامذہب ہیں اگرچہ برائے نام اپنے آپ کو نصرانی کہتے ہیں۔
Ayahs 5:15–16خطاب نصیحت ماب بسوئے جمیع اہل کتاب برائے تصدیق رسالت محمد علی صاحبہا الف الف صلوۃ والف الف تحیہ۔
قال تعالی، یا اھل الکتاب۔۔۔۔ الی۔۔۔ مستقیم۔
ربط) گذشتہ آیات میں یہود اور نصاری کے نقض عہد کا الگ الگ ذکر تھا اب اس آیت میں یہود اور نصاری دونوں کو جمع کرکے تمام اہل کتاب سے خطاب موعظت اور نصیحت فرماتے ہیں اور نبی ﷺ پر ایمان لانے کی ترغیب دیتے ہیں کہ اے علماء یہود اور نصاری دیکھو یہ ہمارے پیغمبر محمد رسول اللہ تمہارے پاس آگئے جن کا تمہیں انتظار تھا اور جن کی توریت اور انجیل میں بشارت دی گئی تھی اور جن کی اطاعت کا تم سے عہد لیا گیا اب وہ آگئے اور ان کی نبوت و رسالت کے براہین اور دلائل ان کے ساتھ ہیں منجملہ ان کے یہ ہے کہ وہ نبی امی توریت اور انجیل کے مخفی علوم کو تمہارے سامنے چھپاتے تھے اور نبی کریم نے بذریعہ وحی اس کو ظاہر فرمایا نیز اس نبی امی کے ساتھ ایک نور ہدایت یعنی قرآن ہے جو حق کا راستہ بتلاتا ہے نیز وہ نبی امی اپنے فیض صحبت سے تم کو ظلمتوں اور تاریکیوں سے نکال کر نور حق کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ سب باتیں اس امر کی واضح دلیل ہیں کہ یہ سب کچھ تعلیم ربانی اور تائید یزدانی کا کرشمہ ہے اس لیے کہ یہ تو ناممکن اور محال ہے کہ بنی امی ان کی کتابیں دیکھ کر یہ باتیں معلوم کرلیں سوائے وحی ربانی کے علم کا کوئی ذریعہ نہیں لہذا تم ان پر ایمان لاؤ تاکہ اندھیرے سے نکل کر روشنی کی طرف آجاؤ چناچہ فرماتے ہیں اے اہل کتاب جہالت کو چھوڑو اور ہدایت اور علم کی طرف دوڑو تحقیق آپہنچا تمہارے پاس ہمارا رسول جن کے علم کی یہ شان ہے کہ وہ تمہارے سامنے توریت اور انجیل کی بہت سی پوشیدہ چیزوں کو کھول کر بیان کرتا ہے جن کو تم چھپاتے تھے یعنی وہ نبی امی ہت سے امور میں تم پر ظاہر کردیتا ہے کہ تمہاری کتاب میں یوں یوں لکھا ہوا ہے اور اس کے حلم اور بردباری کا یہ حال ہے کہ بہت سی باتوں سے وہ نبی درگذر کرتا ہے اور باوجود علم کے ان کے اظہار چشم پوشی کرتا ہے مقصود صرف ان پر اس بات کا ظاہر کرنا ہے کہ جن باتوں کو چھپاتے ہو وہ بذریعہ وحی کے مجھے معلوم ہیں اگر میں اللہ کا نبی نہ ہوتا تو مجھ کو کیا خبر تھی کہ تمہاری کتابوں میں کیا لکھا ہوا ہے میں تو امی ہوں کتاب پڑھا ہوا نہیں لہذا تم کو چاہیے کہ اپنی فضیحت سے ڈرو اور مجھ پر ایمان لاؤ میرا یہ علم اور یہ حلم میرا معجزہ ہے میں تمہیں رسوا کرنا نہیں چاہتا صرف تنبیہ کرتا تب بھی تم پر اس کی دعوت کا قبول کرنا واجب تھا اس لیے کہ تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نورآیا ہے مراد محمد رسول اللہ ہیں اور ایک روشن کتاب آئی ہے قتادہ اور زجاج سے منقول ہے کہ نور سے نبی ﷺ کی ذات بابرکات مراد ہے روح المعانی ص 27 ج 6 و تفسیر قرطبی ص 118) ۔
اور کتاب مبین سے مراد قرآن مجید ہے مطلب یہ ہے کہ آپ کی ذات بابرکات خود آپ کی نبوت و رسالت کی ایک دلیل ہے، آفتاب آمد دلیل آفتاب، گرد لیلی باید ازوے رومتاب۔ اس لیے اللہ نے آپ کو نور ہدایت اور سراج منیر بنا کر بھیجا ہے اور اس کے علاوہ یہ کتاب مبین آپ کی نبوت کی دلیل ہے اس لیے کہ اللہ اس کتاب میں سے ان لوگوں کو جو رضا خداوندی کے طلب گار اور پیروکار ہوں سلامتی کی راہیں دکھلاتا ہے کہ قیامت کے غم اور خوف سے محفوظ ہوجائیں یعنی وہ کتاب مبین ایسے صحیح عقائد اور صحیح اعمال کی ہدایت کرتی ہے جس سے دنیا اور آخرت کی سلامتی حاصل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ ان کو کفر اور معصیت کی تاریکیوں سے نکال کر دین اسلام کی روشنی میں لاتا ہے اپنے حکم سے یعنی اس کی توفیق اور فضل سے ہدایت ملتی ہے بغیر اس کے حکم اور ارادہ کے کچھ نہیں ہوسکتا اور چلاتا ہے ان کو سیدھی راہ کی طرف پس اے اہل کتاب تم اس کتاب مبین کو قبول کرو اور اپنی جہالت کے ظلمت سے نکل کر اس شمع ہدایت کی روشنی میں آجاؤ۔
Ayah 5:17ابطال عقیدہ الوہیت عیسیٰ علیہ السلام۔
قال تعالی، لقد کفرالذین۔۔۔ الی۔۔۔ قدیر۔ آیت۔
ربط) گزشتہ آیت یعنی ویھدیھم الی صراط مستقیم میں سیدھے راستے کا ذکر فرمایا اور صراط مستقیم وہ متعدل راہ ہے جو افراط وتفریط کے ٹھیک درمیان میں ۃ و اب اس آیت میں نصاری کے عقیدہ الوہیت مسیح کا رد فرماتے ہیں کہ شرک اور تثلیث کی راہ صراط مستقیم سے بہت دور ہے چناچہ فرماتے ہیں بلاشبہ اور قطعا کافر ہوئے وہ لوگ جنہوں نے یہ کہا کہ اللہ وہی مسیح ہے جو مریم کا بیٹا ہے اس آیت میں فرقہ حلولیہ کا رد ہے جو یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی انسان کے جسم یا روح میں حلول کرسکتا ہے نصاری اگرچہ صراحۃ اس کے قائل نہیں لیکن اگر حقیقت کی طرف غور کیا جائے تو مطلب یہی نکلتا ہے اس لیے کہ نصاری کا قول یہ ہے کہ کلمہ کا اقنوم عیسیٰ کے ساتھ متحد ہوگیا ہے تو ہم سوال کرتے ہیں اقنوم کلمہ سے کیا مراد ہے ذات خداوندی مراد ہے یا صفت خداوندی مراد ہے اگر اقنوم سے ذات کے معنی مراد ہیں تو صراحۃ یہ مطلب ہوگا کہ ذات خداوندی نے عیسیٰ میں حلول کیا۔ تو بیشک عیسیٰ الہ (خدا) ہوگا ی اور اگر یہ کہیں کی اقنوم سے صفت کے معنی مراد ہیں تو ایک ذات کی صفت کا دوسری ذات کی طرف منتقل ہونا عقلا محال ہے اور اگر تھوڑی دیر کے لیے یہ تسلیم کرلیا جائے کہ اقنوم علم نے خدا کی ذات سے عیسیٰ کی ذات کی طرف انتقال کیا تو ذات الٰہی علم سے خالی ہوگئی اور عیسیٰ کا الہ اور خدا ہونا لازم آیا اس سے معلوم ہوا کہ سب نصاری اگرچہ صریح طور سے عیسیٰ کو عین خدا نہ کہیں لیکن ان کے مذہب کا حاصل اور مقتضی یہی ہے۔ (تفسیر کبیرص 395۔ ج 3) ۔ اور ظاہر اور حق یہی ہے کہ نصاری کے بعض فرقوں کا اب بھی یہی مذہب ہے نصاری میں اصل تین فرقے ہیں ایک فرقہ نسطوریہ جو حضرت عیسیٰ کو ابن اللہ کہتا ہے دوسرا ملکانیہ جو حضرت عیسیٰ کو تین خداؤں کا ایک خدا کہتا ہے تیسرا فرقہ یعقوبیہ جو حضرت عیسیٰ کو اللہ کے ساتھ متحد مانتا ہے اسی فرقہ کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ اب آئندہ آیت میں الوہیت مسیح کے اعتقاد کا ابطال فرماتے ہیں کہ آپ ان سے کہہ دیجئے ان کہ اگر خدا تعالیٰ مسیح بن مریم کو جن کو تم عین خدا کہتے ہو اور ان کے ساتھ ان کی ماں کو جس نے ان کو جنا ہے اور بلکہ روئے زمین کے تمام باشندوں کو بالکل نیست اور نابود کرنا چاہے تو کون ایسی قدرت والا ہے جو اللہ کو اس کے ارادہ سے روک سکے یا اس سے انتقام لے سکے عالم کی اجتماعی قوت اور ارادہ اس کے ارادہ کو نہ روک سکتی ہے اور نہ ایک لمحے کے لیے ملتوی کرسکتی ہے اللہ کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ واجب الوجود اور قادر مطلق ہو کہ اگر سارے عالم کو قطعا نیست اور نابود اور بالکلیہ فنا کرنے ارادہ کرلے تو کوئی اس کے ارادہ کو نہ روک سکے۔
اوست سلطاں ہر چہ خواہد آں کند عالمے رادردمے ویراں کند۔
اور جو ذات ہلاکت اور فناء کو اپنے سے دفع نہ کرسکے وہ بلاشبہ عاجز اور کمزور ہے وہ خدا نہیں ہوسکتی اور نصاری کے اعتقاد میں تو حضرت عیسیٰ کو سولی دی گئی اگر عیسیٰ (علیہ السلام) خدا ہوتے تو دشمن کے ہاتھ سے ہلاک نہ ہوتے وہ خدا ہی کیا ہوا جو اپنے سے موت کو دفع نہ کرسکا پس اے نصاری ذرا غور کرو کہ جو ذات (حضرت عیسی) تمہارے اعتقاد اور اقرار کے مطابق اپنے سے موت اور فنا کا پیالہ نہ ہٹا سکے وہ کیسے خدا ہوسکتی ہے اور پھر یہ بھی تو سوچو کہ اللہ ہی کے لیے بادشاہت آسمانوں کی اور زمین کی اور ان تمام چیزوں کی جو ان کے درمیان میں ہیں جن میں عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ ماجدہ بھی داخل ہیں جس طرح آسمان اور زمین کی تمام چیزیں اللہ کی ملک اور تصرف میں ہیں اسی طرح عیسیٰ خدا کی ملک اور تصرف میں ہیں وہ خدا کیسے ہوسکتے ہیں اور اگر کسی کو یہ شبہ ہو کہ عیسیٰ (علیہ السلام) بغیر باپ کے پیدا ہوئے ہیں تو خوب سمجھ لو کہ اس طرح پیدا ہونا یہ دلیل نہیں کہ وہ خدا ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ جس چیز کو جس طرح چاہتے ہیں پیدا کرتے ہیں جیسے کسی کو بےماں باپ دونوں کے پیدا کیا جیسے حضرت آدم (علیہ السلام) کو اس کی قدرت کے اعتبار سے تخلیق وتکوین کی تمام صورتیں برابر ہیں اسی نے اپنی حکمت بالغہ سے کسی کو کسی طرح پیدا کیا اور کسی کو کسی طرح پیدائش کا امتیاز، الوہیت کی نہیں بلکہ کمال قدرت دلیل الوہیت ہے جو حضرت عیسیٰ میں نہیں پائی جاتی۔
فائدہ۔ شاہ عبدا القادر فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی جگہ نبیوں کے حق میں ایسی بات فرماتے ہیں تاکہ ان کی امت ان کو بندگی کی حد سے زیادہ نہ چڑھاویں والا نبی اس لائق کا ہے کو ہیں۔ (موضح القرآن) ۔
Ayah 5:18ابطال دعوائے اہل کتاب دربارہ قرب واختصاص خداوندی۔
قال تعالی۔ وقالت الیھود۔۔۔ الی۔۔۔ المصیر۔
ربط) گذشتہ آیات میں یہود ونصاری کے بعض قبائح کا بیان تھا اب اس آیت میں یہ بیان فرماتے ہیں کہ باوجود کفر وشرک اور معصیت میں ملوث ہونے کے دعوی یہ ہے کہ ہم اللہ کے محبوب اور مقبول اور مقرب ہیں اور یہود اور نصاری کے ہر ایک فریق نے الگ الگ یہ کہا کہ ہم لوگ اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے علماء یہود سے کچھ گفتگو کی اور ان کو اللہ کی طرف بلایا اور ان کو خدا کے عذاب سے ڈرایا تو اہوں نے یہ کہا کہ اے محمد آپ ہم کو خدا کے عذاب سے کیا ڈراتے ہو ہم تو اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی (تفسیر ابن کثیر ص 35 ج 2۔ تفسیر قرطبی ج 6) ۔ اے نبی آپ ان کے جواب میں کہہ دیجئے کہ اگر تم واقع میں اللہ کے نرزند اور اس کے محبوب اور پیارے ہو تو اللہ تم کو تمہارے گناہوں کے بدلہ میں دنیا میں ذلت ناک اور رسوا کن عذاب کیوں دیتا ہے اگر تم خدا کے فرزند اور محبوب تھے تو اس نے تم کو قروہ اور خنازیر یعنی بندر اور سور کیوں بنایا اور طرح طرح سے تم کو ذلیل اور رسوا کیا باپ اپنے بیٹے کو اور حبیب اپنے حبیب کو عذاب نہیں دیتا پس دنیا میں اللہ نے تم کو آگ چھوئے گی معلوم ہوا کہ یہ سب تمہارے دعاوی باطلہ اور امانی عاطلہ ہیں تم خدا کے محبوب نہیں بلکہ تم من جملہ مخلوق کے بشر اور آدمی ہو تم میں اور لوگوں میں کوئی فرق نہیں جیسے وہ ویسے تم، تم جو دعوائے فرزندیت اور محبوبیت کرتے ہو وہ جھوٹ اور غلط ہے وہ جس کو چاہتا ہے بخشتا ہے اور جس کو چاہتا ہے عذاب دیتا ہے اور کوئی شخص بھی اللہ کے دائرہ مشیت اور ملکیت سے باہر نہیں نکل سکتا اس لیے کہ اللہ ہی کے لیے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے لہذا کوئی صورت اس کی تعذیب اور سزا سے بچنے کی نہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے اس کے سوا کوئی ٹھکانہ نہیں کہ جہاں کوئی پناہ لے سکے۔