5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 5:57–64

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَكُمْ هُزُوًا وَّ لَعِبًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ الْكُفَّارَ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:57 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جن لوگوں کو تم سے پہلے کتابیں دی گئی تھی ان کو اور کافروں کو جنہوں نے تمہارے دین کو ہنسی اور کھیل بنا رکھا ہے دوست نہ بناؤ اور مومن ہو تو خدا سے ڈرتے رہو۔

وَ اِذَا نَادَیْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ اتَّخَذُوْهَا هُزُوًا وَّ لَعِبًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 5:58 in the Quran reader

اور جب تم لوگ نماز کے لئے اذان دیتے ہو تو یہ اسے بھی ہنسی اور کھیل بناتے ہیں۔ یہ اس لئے کہ سمجھ نہیں رکھتے۔

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ هَلْ تَنْقِمُوْنَ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ١ۙ وَ اَنَّ اَكْثَرَكُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 5:59 in the Quran reader

کہو کہ اے اہل کتاب ! تم ہم میں برائی ہی کیا دیکھتے ہو سوا اس کے کہ تم خدا پر اور جو (کتاب) ہم پر نازل ہوئی اس پر اور جو (کتابیں) پہلے نازل ہوئیں ان پر ایمان لائے ہیں اور تم میں اکثر بدکردار ہیں۔

قُلْ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ مَثُوْبَةً عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ مَنْ لَّعَنَهُ اللّٰهُ وَ غَضِبَ عَلَیْهِ وَ جَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَ الْخَنَازِیْرَ وَ عَبَدَ الطَّاغُوْتَ١ؕ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ Open ayah 5:60 in the Quran reader

کہو کہ میں تمہیں بتاؤں کہ خدا کے ہاں اس سے بھی بدتر جزا پانیوالے کون ہیں ؟ وہ لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی اور جن پر وہ غضبناک ہوا اور (جن کو) ان میں سے بندر اور سُؤر بنادیا اور جنہوں نے شیطان کی پرستش کی ایسے لوگوں کا برا ٹھکانا ہے۔ اور وہ سیدھے راستے سے بہت دور ہیں۔

وَ اِذَا جَآءُوْكُمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ قَدْ دَّخَلُوْا بِالْكُفْرِ وَ هُمْ قَدْ خَرَجُوْا بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا كَانُوْا یَكْتُمُوْنَ Open ayah 5:61 in the Quran reader

اور جب یہ لوگ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان آئے حالانکہ کفر لے کر آتے ہیں اور اسی کو لیکر جاتے ہیں۔ اور جن باتوں کو یہ مخفی رکھتے ہیں خدا انکو خوب جانتا ہے

وَ تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یُسَارِعُوْنَ فِی الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:62 in the Quran reader

اور تم دیکھو گے کہ ان میں اکثر گناہ اور زیادتی اور حرام کھانے میں جلدی کر رہے ہیں۔ بیشک یہ جو کچھ کرتے ہیں برا کرتے ہیں۔

لَوْ لَا یَنْهٰىهُمُ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 5:63 in the Quran reader

بھلا ان کے مشائخ اور علماء انہیں گناہ کی باتوں اور حرام کھانے سے منع کیوں نہیں کرتے ؟ بلا شبہ وہ بھی برا کرتے ہیں۔

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ یَدُ اللّٰهِ مَغْلُوْلَةٌ١ؕ غُلَّتْ اَیْدِیْهِمْ وَ لُعِنُوْا بِمَا قَالُوْا١ۘ بَلْ یَدٰهُ مَبْسُوْطَتٰنِ١ۙ یُنْفِقُ كَیْفَ یَشَآءُ١ؕ وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًا١ؕ وَ اَلْقَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ؕ كُلَّمَاۤ اَوْقَدُوْا نَارًا لِّلْحَرْبِ اَطْفَاَهَا اللّٰهُ١ۙ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 5:64 in the Quran reader

اور یہود کہتے ہیں کہ خدا کا ہاتھ (گردن سے) بندھا ہوا ہے۔ (یعنی اللہ بخیل ہے) انہیں کے ہاتھ باندھے جائیں اور ایسا کہنے کے سبب ان پر لعنت ہو۔ (بلکہ اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہیں) وہ جتنا چاہتا ہے خرچ کرتا ہے اے محمد یہ کتاب جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوئی ہے اس سے ان میں سے اکثر کی شرارت اور انکار اور بڑھے گا اور ہم نے انکے باہم عداوت اور بغض قیامت تک کیلئے ڈال دیا ہے۔ یہ جب لڑائی کے لئے آگ جلاتے ہیں تو خدا اس کو بجھا دیتا ہے اور یہ ملک میں فساد کے لیے دوڑتے پھرتے ہیں اور خدا فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔

اعادہ حکم سابق بعنوان دیگر۔ قال اللہ تعالی، یا ایھا الذین آمنوا لاتتخذو۔۔۔ الی۔۔۔ لایحب المفسدین۔ ربط) ۔ اس آیت میں دوسرے عنوان سے حکم سابق کا اعادہ ہے اور کفار کی محبت اور دوستی سے ممانعت کی جاتی ہے مگر عنوان دوسرا ہے جس میں ان کی شرارتوں اور قباحتوں کو بیان کرتے مثلا شعائر اسلام اذان وغیرہ کا مذاق اڑاتے ہیں اور مسلمانوں کو طرح طرح کی ایذائیں پہنچاتے ہیں اخیر رکوع تک ان کے قبائح اور فضائح کو بیان کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ ایسے لوگوں سے ہرگز دوستی نہ کرو تاکید کے لیے حکم سابق کا اعادہ فرمایا اور قدرے ان کی شرارتوں اور قباحتوں کو بیان کیا اور یہ بتلایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی اور جن پر خدا کا غضب نازل ہو اور کچھ لوگ ان میں کے سور اور بندروں کی شکل میں مسخ کیے گئے اور یہ ایسے برے لوگ ہیں کہ کسی طرح لائق دوستی نہیں گذشتہ آیات میں خاص یہود اور نصاری سے موالات کی ممانعت تھی اور اس آیت میں عام کفار سے موالات کی ممانعت ہے جس میں یہود اور نصاری کے علاوہ مشرکین اور منافقین بھی داخل ہیں گویا کہ یہ حکم سابق کا تتمہ ہے چناچہ فرماتے ہیں اے ایمان والو ایمان کا مقتضی یہ ہے کہ دین کی عزت و حرمت کو پورا پورا ملحوظ رکھو اور اس کی پوری حفاظت کرو اور دشمنان دین کی جو دین کے ساتھ استہزاء اور تمسخر کرتے ہیں خوب سمجھ لو کہ ان کی موالات اور دوستی کے ساتھ دین محفوظ نہیں رہ سکتا اس لیے حکم دیا جاتا ہے کہ اے ایمان والو جن لوگوں نے تمہارے دین کو ہنسی اور کھیل بنا رکھا ہے یعنی جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی یہود اور نصاری ان کو اور دوسرے کافروں کو دوست نہ بناؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو اگر تم ایمان دار ہو اس لیے کہ اندیشہ ہے کہ ان کی دوستی سے تمہاری اصلی دولت اور سعادت ابدیہ کا سرمایہ یعنی ایمان واسلام نہ ضائع ہوجائے اور جب تم لوگوں کو اذان کے ذریعہ نماز جیسی افضل العبادات اور اکمل القربات کی طرف پکارتے ہو تو وہ اس عبادت کو جس میں نماز اور اذان کی حقیقت نہیں سمجھتے اور بےعقل آدمی لائق محبت نہیں اگر ان کو ذرا عقل ہوتی تو سمجھتے کہ خالق کی عبادت اور بندگی اور اس کی تعظیم تکبیر اور اس کی توحید کا اظہار واعلان جس کی تمام کتب سماویہ اور انبیاء سابقین کی شریعتیں مصدق ہیں کس طرح قابل استہزاء اور تمسخر نہیں جب مسلمان اذان دیتے اور نماز پڑھتے تو یہود اور نصاری اور مشرکین اس کی ہنسی اڑاتے اور یہود کہتے کہ یہ لوگ کھڑے ہوتے ہیں خدا کرے کبھی کھڑے نہ ہوسکیں اور نماز پڑھنے لگے ہیں خدا کرے نہ پڑھ سکیں پھر اس پر قہقہہ لگاتے اور جب مسلمان رکوع اور سجدہ جاتے تو ہنستے اور ایک دوسرے کو اشارہ کرتے اور مدینہ میں ایک نصرانی تھا جب وہ موذن سے اشہد ان محمد رسول اللہ سنتا تو یہ کہتا کہ اللہ جھوٹے کو آگ میں جلائے ایک رات اس کی خادمہ آگ لارہی تھی اور وہ نصرانی اور اس کے گھر والے پڑے سور ہے تھے اتفاق سے اس کے ہاتھ میں سے اس آگ میں کا ایک شرارہ اڑ کر کہیں جاپڑا جس سے وہ گھر اور وہ نصرانی اور اس کے سب گھروالے جل کر خاکستر ہوگئے اس کی دعا کے مطابق خدا نے جھوٹے کو جلادیا۔ اور خدا تعالیٰ نے یہ دکھلا دیا کہ صادق امین کو جھوٹا بتلانے والا دوزخ میں جانے سے پہلے ہی کس طرح آگ میں جلایاجاسکتا ہے مطلب یہ کہ خداوند ذوالجلال کی بندگی اور اس بندگی کی طرف دعوت اور علان جو دنیوی اور اخروی خیر پر مشتمل ہے اور ہر دین میں اس کا بہتر ہونا مسلم ہے اس کا مذاق اڑانا ان کی بےعقلی کی دلیل ہے۔ آپ ان لوگوں سے جو نماز اور اذان جیسی بہترین عبادت اور دعوت خیر وصلاح و فلاح کی ہنسی اور کھیل بناتے ہیں یہ کہہ دیجئے اے اہل کتاب تم ہم میں سوائے اس کے کیا عجیب پاتے ہو کہ ہم ایک اللہ پر ایمان لے آئے ہیں اور اس کتاب پر جو ہماری طرف نازل کی گئی اور ان کتابوں پر بھی جو اس سے پہلے نازل ہوئیں یعنی ہم تمہاری طرح انبیاء میں تفریق نہیں کرتے اور یہی کہ تم میں کے اکثر بدکار ہیں اور اطاعت خداوندی سے خارج ہیں یعنی تم جو ہمارے دین پر ہنستے ہو اور تو اس میں کیا عجیب پاتے ہو اور ہمارے دین کا خلاصہ تو یہ ہے کہ ہم اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور اس قرآن پر ایمان رکھتے ہیں جو تمام شریعتوں کالب لباب ہے اور تمام حکمتوں کا عطر ہے اور ان تمام کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں جو ہم سے پہلے نازل ہوئیں کیا یہ کوئی عب کی بات ہے جو تم اس پر ہنستے ہو، وان اکثرکم فاسقون۔ کا مطلب یہ ہے کہ تم ہم میں سوائے اس کے اور کیا عب پاتے ہو کہ تم طریق مستقیم سے ہٹ گئے ہو توحید کے بجائے تثلیث کے قائل ہوگئے ہو اور حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا بنالیا اور اللہ کی کتابوں میں تم نے تحریف کر ڈالی اور ان معایب کو کمالات سمجھ لیا اور اس لیے اچھی باتیں تم کو بری معلوم ہوتی ہیں ورنہ واقع میں ہم میں اور ہمارے دین میں کوئی عیب نہیں ہے چونکہ تم بدکار ہو اور ہم تمہاری بدکاری سے علیحدہ ہیں اس لیے ہم تمہاری آنکھوں میں کھٹکتے ہیں تمہیں اپنے عیبوں پر نظر نہیں اور ہمارے کمالات اور محاسن تم کو عیوب نظر آتے ہیں اہل تثلیث اور اہل تجسیم کو اہل توحید اور اہل تنزیہ پر طنع وتشنیع کرنے کا کہاں سے حق حاصل ہوا۔ خلاصہ کلام یہ کہ وان اکثرکم فاسقون کا مطلب یہ ہے کہ تم نے معاملہ برعکس کیا ہوا ہے تمہیں اپنافسق اور طریق مستقیم سے انحراف تو معیوب نہیں معلوم ہوتا اور مسلمانوں کا طریق مستقیم پر چلنا اور خدا کی بندگی کرنا اور اس کی عظمت اور کبریائی اور توحید کی اذان اور اعلان تم کو معیوب نظر آتی ہے کیا یہ کمال ابلہی اور انتہائی دیدی دلیری نہیں۔ اب اس کے بعد اللہ تعالیٰ یہود ونصاری کے معایب اور ان کے مضحکہ انگیز اقوال وافعال وحرکات کو بیان کرتے ہیں اور فرماتے ہیں اے نبی آپ ان لوگوں سے جو مسلمانوں کو برا کہتے ہیں اور ان کے دین کے ساتھ استہزاء کرتے ہیں یہ کہہ دیجئے آؤ میں تم کو ایسی قوم کا پتہ بتاتا ہوں جو خدا کے نزدیک باعتبار جزا اور سزا کے اس سے زیادہ برے ہیں یعنی تم اس دین اسلام اور مسلمانوں کو برا سمھتے ہو آؤ میں تم کو اس سے بھی برا بتاؤں جن کو اللہ کے یہاں بدلہ برا ملے گا وہ لوگ جن پر اللہ نے لعنت کی اور ان پر غضب نازل کیا اور ان میں سے بعض کو بندر اور بعض کو سور بنادیا اور جنہوں نے شیطان اور معبود باطل کی پرستش کی مثلا جن لوگوں نے گوسالہ کو معبود بنایا یعنی واقعی برے وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اور ان پر اپنا غضب نازل کیا اور ان کی نافرمانیوں کی بناء پر ان کو بندر اور سور کی شکل میں مسخ کیا اور جنہوں نے گوسالہ پرستی اور یابت پرستی کی یہی لوگ باعتبار مقام اور مکان یعنی مرتبہ اور ٹھکانہ کے بدترین خلائق ہیں اور سب سے زیادہ سیدھے راستہ سے بہکے ہوئے ہیں بلحاظ مکان بمعنی مرتبہ بھی سب سے برے ہیں اور مکان بمعنی جگہ بھی سب سے برے ہیں اور اس لیے کہ ان کا مکان دوزخ ہے جو سب سے برا مکان ہے لہذا تمہارے طعن اور استہزاء کی مستحق ایسی قوم ہوسکتی ہے جس کا یہ حال بیان کیا گیا اور وہ قوم خود تم ہی ہو نہ کہ مسلمان یہود میں سے جن لوگوں نے باوجود صریح ممانعت کے ہفتہ کے دن مچھلیوں کا شکار کیا اور وہ بندر اور سور بنادیے گئے تھے جس کی تفصیل انشاء اللہ سورة اعراف میں آئے گی اور اے مسلمانوا ان استہزاء کرنے والوں میں سے بعض لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب تمہارے پاس آتے ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے حالانکہ وہ کفر ہی کو لے کر تمہاری مجلس میں داخل ہوئے تھے اور اسی کفر کے ساتھ تمہاری مجلس سے نکل کر واپس چلے گئے اور یہ لوگ ایک لمحہ کے لیے بھی ایمان میں داخل نہیں ہوئے تھے ان کا آمنا کہنا بالکل جھوٹ ہے اور اللہ خوب جانتا ہے جو دلوں میں کفر اور نفاق چھپائے ہوئے ہیں اور یہ آیت منافقین یہود کے بارے میں نازل ہوئی جو رسول اللہ کے پاس آکر جھوٹ موٹ کہہ دیتے تھے کہ ہم آپ پر ایمان لاتے ہیں اور آپ کے دین پر راضی ہیں اور دل میں ان کے کفر بھرا ہوتا تھا اور اے نبی آپ ان یہودیوں میں سے بہت سے لوگوں کو گناہ اور ظلم و زیادتی اور حرام خوری یعنی رشوت میں دوڑتا ہوا دیکھیں گے کہ دو ڑدوڑ کر ان چیزوں کی طرف جاتے ہیں اور بصد شوق اور رغبت گناہوں کی طرف جھپٹتے ہیں اور حرام مال پر گرے پڑتے ہیں البتہ بہت ہی برے کام ہیں جو وہ کرتے ہیں یہ حال تو ان کے عوام کا تھا اب آگے ان کے خواص کا حال بیان کرتے ہیں کیوں نہیں منع کرتے ان کو خدا پرست یعنی درویش اور عالم گناہ کی بات کہنے سے اور حرام کھانے سے کیا ہی برا ہے وہ کام جو یہ خدا پرست اور عالم کرتے ہیں یعنی علماء اور فقراء کا فرض ہے کہ وہ لوگوں کو برے کاموں سے روکیں مگر وہ لوگ خاموش ہیں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نہیں کرتے یہ بہت برا کام ہے حضرت علی کرم اللہ سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اگلے لوگ جو برباد ہوئے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے برے کام اختیار کیے اور ان کے علماء نے انہیں منع نہ کیا حضرات اہل علم تفصیل کے لیے امام غزالی کی احیاء العلوم باب الامر بالمعروف والنہی عن المنکر دیکھیں۔ بارگاہ خداوندی میں یہود کی گستاخی کا ذکر اور اس کا رد۔ اب آگے یہ بتلاتے ہیں کہ یہود کی جسارت مخلوق سے گذر کر خالق کی حد تک پہنچ چکی ہے اور بارگاہ ربوبیت میں گستاخی کرنے سے بھی ان کو باک نہیں رہا خداوندذوالجلال کی شان میں ایسے واہی تباہی الفاظ بک دیتے ہیں کہ جنہیں سن کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں کبھی کہتے ان اللہ فقیر ونحن اغنیاء۔ آیت۔ کبھی یہ الفاط منہ سے نکالتے ہیں یداللہ مغلولۃ خدا کا ہاتھ بندھ گیا یعنی معاذ اللہ خدا بخل کرنے لگا ابن عباس فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے یہود کو ہر طرح کی فارغ البالی اور عیش و عشرت عطا کر رکھی تھی جب انہوں نے نبی ﷺ کی نافرمانی کی اور آپ کو جھٹلایا تو اللہ نے ان کی روزی تنگ کردی اس وقت فنحاص بن عاز وراء نے کہا کہ اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے اور اس پر یہ ایت نازل ہوئی اور یہود یہ کہتے ہیں کہ اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے یعنی اللہ بخل کرنے لگا ہے گویا کہ اس کا ہاتھ گردن سے بندھا ہوا ہے معاذاللہ۔ خدا تو اس سے پاک اور منزہ ہے انہیں کے ہاتھ باندھ دیے گئے ہیں یعنی وہ خیر محروم کردیے گئے ہیں اللہ تو جو اد اور کریم مطلق ہے اس کے خزائن غیر محدود اور اس کا جود اور کرم لامتناہی ہے وہاں کسی چیز کی کمی نہیں ان کے تمرد اور طغیان کی پاداش میں اللہ نے ان کی جبلت میں ایسا جبن اور بخل ڈال دیا ہے جس سے ان کے ہاتھ بالکل بند ہوگئے ہیں اور اس گستاخانہ قول کی بناء پر یہ لوگ خدا کی رحمت سے دور پھینک دیے گئے ذلت اور مسکنت کی مہر لگادی گئی اور ان کا یہ قول کہ اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے بالکل غلط ہے بلکہ اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں یعنی وہ غایت درجہ کریم ہے دونوں ہاتھوں سے دیتا ہے اور چونکہ وہ حکیم بھی ہے وہ جس طرح چاہتا ہے وہ خرچ کرتا ہے اس کا جود وکرم حکمت اور مصلحت کے ساتھ ہے وہ جس کو چاہتا ہے فراخی دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے تنگی دیتا ہے کماقال تعالی، ولوبسط اللہ الرزق۔۔ الی۔۔۔ مایشاء۔ آیت۔ پس یہود کو جو تنگی پیش آئی ہے معاذ اللہ اس کی علت بخل یا فیضان جود کی کمی نہیں بلکہ یہود بےبہبود کی معاندانہ تکذیب اور جحود کا وبال ہے جو ان کو چکھایا جارہا ہے وہ قابض اور باسط ہے کسی کو زیادہ ور کسی کو کم دیتا ہے یہ اس کی حکمت اور مشیت ہے یبسط الرزق لمن یشاء ویقدر۔ اگر قبض ہے تو اس کی حکمت قاہرہ اور باہر سے ہے اور اگر بسط ہے تو اس کی رحمت وافرہ سے ہے الغرض حق جل شانہ کا یہ قول بل یداہ مبسوطتان اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں اور اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ غایت درجہ کریم ہے دونوں ہاتھوں سے دیتا ہے اس کے جو دو کرم کی کوئی حد اور نہایت نہیں شاہ عبدالقادر دہلوی نے اپنے فواہد میں یہ لکھا ہے کہ دوہاتھوں سے مہر اور قہر کا ہاتھ مراد ہے یعنی آج کل خدا کے مہر کا ہاتھ امت محمدیہ پر کھلا ہوا ہے اور قہر کا ہاتھ بنی اسرائیل پر کھلا ہوا ہے جیسا کہ اگلی آیتوں میں اس کی طرف اشارہ ہے۔ فائدہ جلیلہ) ۔ اس قسم کی آیتیں جن میں اللہ کے منہ اور ہاتھ کا ذک رآتا ہے معاذ اللہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ خدا تعالیٰ بھی مخلوق کی طرح کوئی جسم ہے اور جسمانی اعضاء رکھتا ہے اس لیے کہ اللہ جسمانیت اور لوازم جسمانیہ سے پاک اور منزہ ہے سلف صالحین اور علماء محققین کا مسلک یہ ہے کہ جس طرح خدا کی ذات اور وجود اور حیات اور علم اور سمع اور بصر وغیرہ تمام صفات بےچون چگون ہیں اس کی ذات وصفات کی کوئی نظیر اور مثال اور کیفیت اس کے سوا کچھ نہیں بیان کی جاسکتی۔ اے برتر از خیال و قیاس وگمان ودہم۔۔۔ وزہر گفتہ اندوشنیدیم وخواند ایم۔۔ دفتر تمام گشت وبپایاں رسید عمر۔۔ ماہمچناں در اول وصف تو ماندہ ایم۔ اس قسم کی آیات معلوم المعنی اور مجہول الکیف ہیں یعنی یہ تو ہم جانتے ہیں کہ ید کے معی ہاتھ اور وجہ کے معنی منہ ہیں مگر یہ معلوم نہیں خہ اللہ کا ہاتھ اور منہ کس طرح کا ہے معاذ اللہ اگر اس کا ہاتھ ہمارے ہاتھ جیسا ہو تو جسمیت اور تشبیہ لازم آئے گا لہذا یہ عقیدہ رکھنا چاہیے کہ جس طرح اللہ کی ذات اور اس کی حیات اور سمع وبصر اس کی شان اقدس کے لائق اور ہمارے ادراک اور بیان سے دراء الوراء ہے اسی طرح اس کی صفت ید اور صفت وجہ بھی دیگر صفات کی طرح بےمثل اور بےچون وچرا ہے اور اس سے وہی معنی مراد ہیں جو اس کی شان اقدس کے لائق ہوں ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں کہ اللہ کے لیے وجہ اور ید سمع اور بصر وساق اور قدم ثابت ہیں جیسے اس کی ذات والا صفات کے شایان شان ہیں اور اس کی حقیقت اور کیفیت کے درپے نہیں اور باایں ہمہ وہ کسی بات میں مخلوقات کے مشابہ نہیں لیس کمثلہ شئی وھو السمیع البصیر۔ اور مسارعت فی الاثم اور اکل سحت کی وجہ سے ان کی فطرت اس درجہ فاسد اور خراب ہوچکی ہے کہ البتہ وہ قرآن جو تیرے پروردگار کی طرف سے لوگوں کی شفاء اور ہدایت کے لیے تیری طرف اتارا گیا ہے وہ انمیں سے بہتروں کی نافرمانی اور سرکشی میں ترقی کا سبب بن جاتا ہے یعنی قرآن کریم تو شفاء اور ہدایت اور غذائے روح ہے مگر ان معاندین کی فطرت اس درجہ فاسد ہوچکی ہے کہ کلام الٰہی سن کر ان کو شفاء نہیں ہوتی بلکہ ان کی گمراہی اور سرکشی میں اور زیادتی ہوجاتی ہے اگر غذائے صالح کسی فاسد المعدہ کے معدہ میں پہنچ کر اس کے مرض کو زیادہ کردے تو اس میں غذائے صالح کا قصور نہیں مریض کے مزاج کی خرابی ہے یہی حال ان لوگوں کا ہے جب قرآن کی کوئی آیت نازل ہوتی ہے تو وہ اس کا انکار کردیتے ہیں جس سے ان کے سابق کفر میں ایک اور جدید کفر کا اضافہ ہوجتا ہے جیسا کہ دوسری جگہ، وننزل من القرآن ماھو شفاء۔۔۔۔ الی۔۔۔ خسارا۔ آیت۔ اور ہم نے اہل کتاب کے حسد اور بغض اور عناد کی سزا میں ان میں باہم قیامت تک ظاہر میں عداوت اور باطن میں بغض ڈال دیا ہے یعنی ہم نے یہود اور نصاری کے درمیان اور یہود کے مختلف فرقوں کے درمیان اور نصاری کے مختلف فرقوں کے درمیان عداوت اور دشمنی ڈال دی ہے جو قیام تتک ان میں رہے گی چناچہ وہ جب کبھی نبی اکرم کے مقابلہ کے لیے لڑائی کی آگ سلگاتی ہیں تو اللہ بجھا دیتا ہے یعنی نبی ﷺ کے مقابلہ میں ان کو کامیابی نہیں ملتی اور اللہ یہودیوں کی تدبیروں کو چلنے نہیں دیتا۔ شاہ عبدالقادر صاحب فرماتے ہیں اللہ نے ان میں اتفاق نہیں رکھا جب آگ سلگاتے ہیں لڑائی کی یعنی فتنہ انگیزی کرتے ہیں کہ آپس میں سب کو ملا کر مسلمانوں سے لڑیں سو اللہ بجھا دیتا ہے آپس میں پھوٹ جاتے ہیں اور جب وہ لڑائی میں ناکام ہوجاتے ہیں تو اور طرح سے وہ زمین میں فساد پھیلاتے ہیں یعنی محمد رسول اللہ کے خلاف طرح طرح کی سازشیں اور اسلام کے مٹانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ور اللہ تعالیٰ مفسدوں کو پسند نہیں کرتا اور ان کی فتنہ پردازی پر ان کو سزا ضرور دے گا پوری سزا تو آخرت میں ملے گی البتہ بطور تنبیہ کے دنیا میں رزق کی تنگی میں مبتلا کیا جاسکتا ہے۔ فائدہ) ۔ جاننا چاہیے کہ اس مضمون کے بیان کرنے سے اس جگہ مقصود نبی ﷺ کو دشمنوں کی طرف سے اطمینان دلانا ہے کہ یہ دشمن لوگ کسی صورت میں بھی آپ کے مقابلہ میں کامیاب نہیں ہوسکیں گے پس اگر یہ حکم نبی ﷺ کے ساتھ مخصوص ہے تو کوئی اشکال ہی نہیں اگر یہ حکم عام ہے اور آپ کے ساتھ مخصوص نہیں تو پھر مطلب یہ ہوگا کہ جب تک مسلمان دین اسلام پر قائم رہیں گے اور اس کے رنگ میں رنگے رہیں گے اس وقت تک نصرت الٰہی کے مستحق رہیں گے اور جب ان کے دشمن ان کے خلاف آتش جنگ بھڑکائیں گے تو اللہ اس کو بجھا دے گا لیکن اگر خدانخواستہ خود مسلمان ہی دین سے کنارہ کش ہوجائیں اور مغضوب علیہم اور ضالین کے رنگ میں رنگے جائیں اور صرف نام کے مسلمان رہ جائیں تو ایسے ناموں کے مسلمانوں سے خدا کا وعدہ نہیں۔ وانتم الاعلون ان کنتم مومنین۔ آیت۔
Ayahs 5:65–66

وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَاَدْخَلْنٰهُمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 5:65 in the Quran reader

اور اگر اہل کتاب ایمان لاتے اور پرہیزگاری کرتے تو ہم ان سے انکے گناہ محو کریتے اور انکو نعمت کے باغوں میں داخل کرتے۔

وَ لَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ١ؕ مِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ١ؕ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ سَآءَ مَا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 5:66 in the Quran reader

اور اگر وہ تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں) ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر نازل ہوئیں ان کو قائم رکھتے تو (ان پر رزق مینہ کی طرح برستا کہ) اپنے اوپر سے اور پاؤں کے نیچے سے کھاتے۔ ان میں کچھ لوگ میانہ رو ہیں۔ اور بہت سے ایسے ہیں جن کو اعمال برے ہیں۔

ترغیب اہل کتاب بایمان برنبی آخرالزمان وذکر برکات ایمان۔ قال اللہ تعالی، ولوان اھل الکتاب آمنوا۔۔۔ الی۔۔۔ مایعملون۔ اور ہاں اگر یہ اہل کتاب جو دین اسلام کی باتوں پر اپنی بےعقلی سے تمسخر کرتے ہیں خاتم النبین پر ایمان لے آتے اور اللہ سے ڈرتے اور اپنی شرارتوں اور حرام خوری سے باز آجاتے جو ان کے حق میں تنگی رزق کا سبب بنی ہیں تو البتہ ہم ان کے پہلے گناہوں کو نیست ونابود کردیتے کیونکہ اسلام لانے سے اس سے پیشتر گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور البتہ ہم ان کو نعمت کے باغوں میں داخل کرتے اور ان کی تنگی دور ہوجاتی اور اگر یہ لوگ توریت اور انجیل کو قائم کرتے یعنی بغیر تحریف وتبدل کے اس کی ہدایات پر عمل کرتے اور محمد رسول اللہ کی بشارت اور نعمت کو نہ چھپاتے اور کتب سابقہ میں جو نبی آخرالزمان پر ایمان لانے کا عہد لیا گیا ہے اس کو پروا کرتے اور اس کتاب کو بھی قائم کرتے جو ان کے پروردگار کی طرف سے ان کی طرف نازل کی گئی یعنی قرآن مجید پر عمل کرتے جو محمد رسول اللہ کے توسط سے بنی اسرائیل اور اہل کتاب کی ہدایت کے لیے نازل ہوا ہے یہ اس لیے فرمایا کہ اہل کتاب یہ خیال نہ کریں کہ قرآن صرف بنی اسماعیل کے لیے نازل ہوا ہے اور بنی اسرائیل اس کے مکلف نہیں اور مخاطب نہیں قرآن تمام عالم کی ہدایت کے لیے نازل ہوا ہے جن میں اہل کتاب بھی داخل ہیں اور بعض مفسرین یہ کہتے ہیں کہ وماانزل الیھم من ربھم سے قرآن مجدی مراد نہیں بلکہ توریت اور انجیل کے علاوہ دیگر کتب سابقہ مراد ہیں جیسے زبور اور کتاب اشعیاء وغیرہ ان سب میں نبی ﷺ کی بشارت اور ظہور کی پیشن گوئی مذکور ہے اور مطلب یہ ہے کہ اگر یہ اہل کتاب توریت اور نجیل اور کتب سابقہ کی ہدایت پر عمل کرتے اور جس نبی آخرالزمان کی انبیاء سابقین نے بشارت دی ہے اس پر ایمان لے آتے تو یہ اہل کتاب اس ایمان اور اتباع حق کی برکت سے بلاشبہ اپنے اوپر سے بھی روزی کھاتے اور اپنے پیروں کے نیچے سے بھی روزی کھاتے یعنی آسمان سے پانی برستا اور زمین سے پیداوار ہوتی مطلب یہ ہے ہ کہ اگر یہ اہل کتاب محمد رسول اللہ پر ایمان لاتے اور آپکی تکذیب نہ کرتے تو جس قحط میں یہ مبتلا ہیں اس میں مبتلا نہ ہوتے آسمان سے خوب بارشیں ہوتیں اور زمین سے خوب پیداوار ہوتی اور نہایت خوش حالی میں ہوتے چونکہ انہوں نے محمد رسول اللہ کی تکذیب کی جن کی بشارت اور پیشن گوئی کتب قدیمہ میں تھی اور ان کو خوب معلوم تھی اس لیے اللہ نے ان کو سختی میں مبتلا کیا اور ان کی یہ تنگی ان کی خیانتوں اور قباحتوں کی نحوست ہے خداوند کریم کے فیض عام میں کوئی کمی نہیں اللہ کی طرف بخل کی نسبت گستاخی اور دیدہ دلیری ہے مگر بایں ہمہ سب اہل کتاب برابر نہیں ان میں سے ایک گروہ جس نے دعوت حق کو قبول کیا اور اسلام میں داخل ہوا راہ راست پر چلنے والا ہے جیسے یہود میں عبداللہ بن سلام اور ان کے ہمراہی اور نصاری میں نجاشی اور اس کے پیرو یہ گروہ اعتدال پر ہے جیسا کہ دوسری جگہ آیا ہے وممن خلقنا امۃ یھدن بالحق وبہ یعدلون۔ لیکن ایسے لوگ قلیل ہیں اور اکثر ان میں وہ ہیں جو برے کام کرتے ہیں جیسے کعب بن اشرف اور تمام روسا یہود اور جو لوگ افراط اور تفریط کے ٹھیک درمیان میں ہیں اور اعتدال کی راہ پر ہیں وہ بہت قلیل ہیں۔
Ayah 5:67

یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 5:67 in the Quran reader

اے پیغمبر ! جو ارشادات خدا کی طرف سے تم پر نازل ہوئے ہیں سب لوگوں کو پہنچ دو ۔ اور اگر ایسا نہ کیا تو تم خدا کے پیغام پہنچانے میں قاصر رہے۔ (یعنی پیغمبری کا فرض ادانہ کیا) اور خدا تم کو لوگوں سے بچائے رکھے گا۔ بیشک خدا منکروں کو ہدایت نہیں دیتا۔

ازالہ خوف و دہشت ووعدہ حفاظت دربارہ تبلیغ دعوت۔ قال تعالی، یا ایھا الرسول بلغ ماانزل الیک من ربک۔۔۔۔ الی۔۔۔ الکافرین۔ ربط) ۔ یہود اور نصاری کی خرابیاں بیان کرنے کے بعد آپ ﷺ کو حکم دیتے ہیں کہ ایسانہ ہو کہ آپ تبلیغ دین میں سعی بلیغ نہ کریں اور کسی دشمن کے خوف اور اندیشہ سے یا لوگوں کی دل شکنی کے خیال سے ہمارے کسی حکم یا کسی آیت کو ان کے سامنے نہ پڑھیں اللہ تعالیٰ آپ کانگہبان ہے اور آپ کی حفاظت کا ذمہ دار ہے آپ تو بےخوف وخطر دین خداوندی کی تبلیغ کریں حق جل شانہ نے جب موسیٰ کو حکم دیا کہ فرعون کو تبلیغ کریں تو طبعی طور پر ان کو خوف دامن گیرہوا، اننا نخاف ایفرط۔۔ الی۔۔ یطغی۔ تو اللہ نے صاف طور پر فرمادیا، لاتخافا۔۔۔ الی۔۔ واری۔ آیت۔ اور موسیٰ کو اطمینان دلایا اور اسی طرح اس آیت میں نبی اکرم ﷺ کو تبلیغ کا حکم دیتے ہیں اور حفاظت کا اطمینان دلاتے ہیں تاکہ طبعی خوف کی وجہ سے تبلیغ میں خلل نہ آئے چناچہ فرماتے ہیں اے میرے برگزیدہ رسول جو کچھ تجھ پر تیرے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اس کو تم لوگوں تک پہنچا دو اور اگر بفض محال آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اس کا پیغام کچھ نہیں پہنچایا یعنی اگر بفرض محال آپ سے کسی ایک حکم کے پہنچ جانے میں بھی کوتاہی ہوئی تو یہ سمجھاجائے گا کہ آپ نے فریضہ رسالت کا حق ادا نہیں کیا اللہ کے سب حکموں کو پہنچانا ضروری ہے اس واسطے کہ بعض حکموں کو پہنچانا تبلیغ کو ضائع کرنا ہے اس لے آپ بےخوف وخطر اللہ کے تمام حکموں کو پہنچائیے اور بےکھٹکے انہیں بیان کریں چناچہ آپ نے تبلیغ احکام میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا اور وفات سے دوڈھائی مہینے پہلے حجۃ الوداع کے موقع پر ہزارہا عاشقان اسلام کے سامنے علی روس الاشہادیہ اعلان فرمایا اللھم ہل بلغت، اے اللہ تو گواہ رہ میں تیری امانت پہنچا چکا اور یہود اور مشرکین کی طرف سے اندیشہ نہ کیجئے وہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اس لیے کہ اللہ تم کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا یعنی کوئی شخص آپ کو قتل نہیں کرسکے گا بیشک اللہ راہ نہیں دیتا کافر لوگوں کو یعنی خدا کی یہ قدرت نہیں دے گا کہ وہ تجھ کو ہلاک کرسکیں۔ یا تیرے اوپر غالب آسکیں واضح ہو کہ نبی ﷺ کو کفار سے جو جسمانی تکلیفیں پہنچیں ہیں وہ اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے پہنچی ہیں اس آیت کے نازل ہونے کے بعد کوئی شخص آپ کو تکلیف نہیں پہنچا سکا جامع ترمذی میں حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے اصحاب رات کو آپ کی پاسبانی اور نگہبانی کیا کرتے تھے جب آیت واللہ یصمک من الناس۔ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے قبہ سے اپنا سرنکال کر ان سے فرمایا کہ اب تم میرے پاس سے چلے جاؤ اللہ میرا نگہبان ہے۔ مگر شیعہ کہتے ہیں کہ اس آیت میں تبلیغ سے احکام دین کی تبلیغ مراد نہیں بلکہ حضرت علی کی خلافت بلافصل کی تبلیغ مراد ہے اور اس بارے میں ایک روایت بھی گھڑی ہے وہ یہ ہے کہ رسول خدا جب آخری حج سے واپس ہوئے غدیر خم میں ٹھہرے تو یہ آیت نازل ہوئی اور آپ کو حکم ہوا کہ علی کی خلافت کا اعلان کردیجئے چناچہ آپ نے سب صحابہ کو جمع کیا اور حضرت علی کی خلافت کا اعلان بایں الفاظ کیا، من کنت مولاہ فعلی مولا۔ اور اصل آیت اس طرح تھی یا ایھالرسول بلغ ماانزل الیک من ربک ان علیا مولی المومنین۔ یہ سب گپ ہے یہ آیت غدیر خم کے موقعہ سے پہلے نازل ہوچکی تھی۔ حافظ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں ترمذی وغیرہ سے روایت کیا ہے کہ صحابہ کرام کے وقت آپ کی پاسبانی کیا کرتے تھے ا سوقت یہ آیت نازل ہوئی آپ اسی وقت بالاخانہ سے باہر تشریف لائے اور صحابہ سے فرمایا کہ کہ تم لوگ واپس چلے جاؤ اللہ نے مجھ سے حفاظت کا وعدہ فرمالیا ہے اب کسی کی پاسبانی کی ضرورت نہیں اور حاکم نے مستدرک میں اس روایت کو صحیح الاسناد قرار دیا ہے معلوم ہوا کہ یہ آیت غدیر خم سے برسوں پہلے بوقت شب مدینہ میں نازل ہوئی۔ ذکر آیت اولی الامر) ۔ شیعہ کہتے ہیں کہ حضرت علی کی خلافت بلافصل اور عصمت ایمہ کے بارے میں آیت نازل، انما ولیکم اللہ، کے بعد آیت اولی الامر کا نمبر ہے یعنی اس آیت کا یا ایھا الذین آمنو اطیعوا اللہ واطیعوالرسول۔۔۔ الی۔۔۔ والرسول۔ علماء اہل سنت کے نزدیک اولی الامر سے علماء اور فقہاء اور حکام اسلام مراد ہیں شیعہ کہتے ہیں کہ اولی الامر سے حضرت علی اور حسنین مراد ہیں اور بعض شیعہ کہتے ہیں کہ اولی الامر سے بارہ امام مراد ہیں یہ سب تحریف ہے اور علاوہ تحریف کے خود مذہب شیعہ کے بھی خلاف ہے کیونکہ آیت میں درصورت شبہ مخالفت شریعت اولی الامر سے نزاع کی اجازت ہے جو عصمت کے منافی ہے اور مذہب شیعہ میں ائمہ معصوم ہیں ان سے کسی حال میں نزاع جائز نہیں آنکھ بند کرکے ان کی اطاعت فرض ہے۔
Ayahs 5:68–69

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰى شَیْءٍ حَتّٰى تُقِیْمُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًا١ۚ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 5:68 in the Quran reader

کہو کہ اے اہل کتاب ! جب تک تم تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں) تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوئی ان کو قائم نہ رکھو گے کچھ بھی راہ پر نہیں ہوسکتے اور (یہ قرآن) جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے اس سے ان میں سے اکثر کی سرکشی اور کفر اور بڑھے گا۔ تو تم قوم کفار پر افسوس نہ کرو۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبِئُوْنَ وَ النَّصٰرٰى مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 5:69 in the Quran reader

جو لوگ خدا پر اور روز آخرت پر ایمان لائیں گے اور عمل نیک کریں گے خواہ وہ مسلمان ہوں یا یہودی یا ستارہ پرست یا عیسائی ان کو (قیامت کے دن) نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہونگے۔

ابطال باطل۔ قال تعالی، یا اھل الکتاب لستم۔۔۔ الی۔۔۔ یحزنون۔ ربط) ۔ تبلیغ کارکن اول اول احقاق حق ہے اور رکن ثانی ابطال باطل ہے گذشتہ آیات میں اجمالا احقاق حق تھا اب اس کے بعد آیت اجمالا ابطال باطل کا بیان ہے پھر آئندہ آیات میں نصاری کے عقیدہ فاسدہ کا تفصیلا ابطال ہے اور مقصود اہل کتاب کو اسلام میں داخل ہونے کی ترغیب ہے کہ باطل کو چھوڑ کر حق کا اتباع کریں آپ ان یہود ونصاری سے یہ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب تم جو اپنے آپ کو دین کے بارے میں راہ حق اور ہدایت پر سمجھتے ہو خوب جان لوتم کسی راہ پر نہیں ہو چونکہ تم حق سے منحرف ہوچکے ہو اس لیے تم بمنزلہ بےراہ کے ہو تمہارا مذہب بالکل ہیچ ہے جس طریقہ پر تم ہو اس کے متعلق یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ کوئی چیز ہے لہذا یہی کہا جائے گا کہ تم کسی چیز پر بھی نہیں جب تک تم توریت اور انجیل کو قائم نہ کرو اور اس کتاب کو قائم نہ کرو جو بواسطہ محمد رسول اللہ تمہاری طرف تمہارے پروردگار کی طرف نازل کی گئی ہے یعنی قرآن کریم مطلب یہ ہے کہ جب تک تم توریت اور انجیل اور صحف انبیاء کے مطابق عمل نہ کرو گے اور ان کی ہدایت کے مطابق نبی آخرالزمان پر ایمان نہ لاؤ گے اور اس کتاب کا اتباع نہ کرو گے جو نبی آخرالزمان پر نازل ہوئی تو حقیقت میں تمہارا ایمان کچھ بھی نہیں نہ توریت وانجیل پر ہے اور نہ موسیٰ اور عیسیٰ ہی پر جیسا کہ رجم اور قصاص کے بارے میں گذرچکا اور ان لوگوں کو راہ راست پر آنا بہت دشوار ہے حسد اور عناد کی وجہ سے ان کی فطرت اس درجہ خراب ہوچکی ہے البتہ وہ کلام الٰہی جو تیرے پروردگار کی طرف سے تیری جانب اتارا گیا ہے وہ ان میں سے بہتوں کی سرکشی اور کفر کو پہلے سے اور زیادہ کردیتا ہے پس آپ ان معاندین اور منکرین کے ایمان نہ لانے پر کچھ افسوس نہ کیجئے کیونکہ ان کے کفر کا ضرر انہی پر ہے آپ ان کے کفر وعناد سے تنگ دل ہوکرفرائض کوئی کمی نہ کیجئے۔ قانون نجات۔ چونکہ یہود اور نصاری کو یہ خیال تھا کہ ہم لوگوں کے سوا اور کوئی نجات نہ پائے گا اس لیے اللہ ان کے اس خیال باطل کو رد فرماتے ہیں اور نجات اخروی کا ایک عام قانون جو اہل کتاب اور تمام اقوام عالم کو حاوی اور شامل ہے وہ بتلاتے ہیں وہ قانون نجات یہ ہے کہ جو شخص صحیح طور پر اللہ پر اور قیامت پر ایمان لائے اور نیک کام کرے نجات اخروی اس کو نصیب ہوجائے گی اور یہ قانون نہایت معقول اور منصفانہ ہے دنیا میں نجات کا یہی طریقہ ہے کہ حکومت کو مانو اور حلف وفاداری اٹھاؤ اور قانون کے مطابق عمل کرو اور اس معقول قانون سے نصاری کا کفارہ مزعومہ خود بخود باطل ہوجائے گا بجائے مجرم کے بادشاہ کے اکلوتے بیٹے کو صلیب پر چڑھا دینے سے نجات کا عقیدہ رکھنا ایک احمقانہ اور مجنونانہ خیال ہے چناچہ فرماتے ہیں تحقیق نجات اخروی کا قانون ہمارے یہاں یہ ہے کہ جو لوگ ظاہری طور پر مسلمان کہلاتے ہیں اور ایمان کے مدعی ہیں جیسے منافقین اور جو یہودی ہیں اور جو لوگ صابی ہیں یعنی ستارہ پرست ہیں اور جو لوگ نصرانی ہیں یا اور کوئی مذہب رکھتا ہو ان میں سے کسی کے ایمان کا اعتبار نہیں صرف وہ لوگ دعوائے ایمان میں صادق ہیں جو قواعد شریعت کے مطابق اللہ پر اور روز آخرت پر ایمان لے آئیں اور نیک عمل کرین پس ایسے لوگوں کے ایمان کا اعتبار ہے ایسے ہی لوگوں کو اخروی نجات نصیب ہوگی اور آخرت میں ان پر کسی قسم کا خوف نہ ہوگا اور نہ غم ہوگا مطلب یہ ہے کہ نجات اخروی اور حقیقی فلاح اور دائمی کامیابی کا معار ایمان اور عمل صالح ہے پس جو قوم اپنے مقرب الٰہی یا کامیاب ہونے کا دعوی کرے اس کو اس کسوٹی پر کس کر دیکھا جائے گا لہذا جب تک کوئی خداوند قدوس کے وجود باجود اور اس کی وحدانیت اور اس کے صفات کمال اور اس کے احکام اور قوانین اور اس کے سفراء ونائبین یعنی انبیاء ومرسلین پر اور روز جزاء پر ایمان نہ لائے اور اس کے حکم کے مطابق نیک کام نہ کرے اس وقت تک نعیم مقیم اور رضاء خداوندی اور فلاح ابدی سے ہم کنار ہونا ناممکن اور محال ہے اور یہ تمام چیزیں ایمان باللہ کے تحت داخل ہیں فرض کرو کہ ایک روشن خیال بادشاہ کو تو مانتا ہے مگر حکومت کے وزراء اور سفراء کی تکذیب اور توہین کرتا ہے تو کیا یہ حکومت کی تکذیب اور توہین نہیں اسی طرح سمجھ لو کہ جو شخص کسی نبی برحق کی تکذیب اور توہین کرتا ہے تو وہ درحقیقت خداوند احکم الحاکمین کی تکذیب وتوہین کرتا ہے جس نے اس نبی کو اپنا خلیفہ اور سفیر اور نائب مقرر کرکے بھیجا ہے کماقال تعالی، فانھم لایکذبونک۔۔۔ الی۔۔ یجحدون۔ آیت۔ سورة انعام رکوع 4۔ یا فرض کرو کہ کوئی شخص سابق اور قدیم دستور اور آئین کو تو مانتا ہے اور اس کو قابل عمل سمجھتا ہے مگر حکومت کی طرف سے جو فی الوقت قانون اور دستور جاری کیا گیا اس کو نہیں مانتا اور نہ اسے قابل عمل سمجھتا ہے تو ایسا شخص بلاشبہ حکومت کی نظر میں باغی اور مجرم ہے اور اسی طرح منسوخ شریعت پر ایمان لانا اور اسی کو قابل عمل سمجھنا اخروی نجات کے لیے کافی نہیں حکم ناسخ کے بعد حکم منسوخ پر عمل کرنا صریح جہالت اور حماقت ہے خصوصا جب کہ توریت اور انجیل میں نبی آخرالزمان کی بشارت اور اس پر ایمان لانے کی تاکید اکید مذکور ہے تو یہ کہنا کہ توریت وانجیل پر قائم ہیں بالکل غلط ہے اس لیے کہ توریت اور انجیل پر ایمان لانے میں نبی آخرالزمان پر بھی ایمان لانا داخل ہے۔ اور اس آیت کی پوری تفسیر سورة بقرہ میں گذرچ کی ہے وہاں دیکھ لی جائے۔ فائدہ) ۔ صائبین کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے بعض کہتے ہیں یہ ستاہ پرستوں کا گروہ ہے اور بعض کہتے ہیں کہ صائبین سے بےدین لوگ مراد ہیں اور محققین کا قول یہ ہے کہ صائبین ایک فرقہ ہے جو روحانیت کا قائل ہے اور کواکب اور نجوم کی ارواح کو مدیر عالم مانتا ہے اور انبیاء کرام اور نبوت کا بالکل منکر ہے صائبین کے مقابلہ میں حنفاء کی جماعت ہے اور حضرت ابراہیم حنیف تھے ان کی بعثت کے وقت نمرود کی قوم صابی العقیدہ تھی جن کا ابراہیم (علیہ السلام) نے رد فرمایا۔
Ayahs 5:70–71

لَقَدْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمْ رُسُلًا١ؕ كُلَّمَا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُهُمْ١ۙ فَرِیْقًا كَذَّبُوْا وَ فَرِیْقًا یَّقْتُلُوْنَۗ Open ayah 5:70 in the Quran reader

ہم نے بنی اسرائیل سے عہد بھی لیا اور ان کی طرف پیغمبر بھی بھیجے (لیکن) جب کوئی پیغمبر ان کے پاس ایسی باتیں لیکر آتا جن کو ان کے دل نہیں چاہتے تھے تو وہ (انبیاء کی) ایک جماعت کو تو جھٹلادیتے اور ایک جماعت کو قتل کردیتے تھے۔

وَ حَسِبُوْۤا اَلَّا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ فَعَمُوْا وَ صَمُّوْا ثُمَّ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ ثُمَّ عَمُوْا وَ صَمُّوْا كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:71 in the Quran reader

اور یہ خیال کرتے تھے کہ (اس سے ان پر) کوئی آفت نہیں آنے کی تو وہ اندھے اور بہرے ہوگئے۔ پھر خدا نے ان پر مہربانی فرمائی (لیکن) پھر ان میں سے بہت سے اندھے اور بہرے ہوگئے۔ اور خدا ان کے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے۔

رجوع بسوئے ذکر یہود۔ قال اللہ تعالی، لقد اخذنا میثاق بنی اسرائیل۔۔۔ الی۔۔ یعملون۔ اوپر سے اہل کتاب کے قبائح کا ذکر چلا آرہا تھا اب پھر اس کی طرف رجوع فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق عہد لیا ہم نے اولاد یعقوب سے کہ توحید پر قائم رہنا اور اگر نبی آخرالزمان کا زمانہ پاؤ تو ان پر ایمان لانا اور ان کی مدد کرنا اور اس عہد کے یاد دلانے کے لیے ہم نے ان کی طرف بہت سے پیغمبر بھیجے لیکن عناد اور سرکشی سے ان کا یہ حال ہوا کہ جب کبھی کوئی رسول ان کے پاس کوئی ایسا حکم لے کر آیا جس کو ان کا نفس امارہ پسند نہیں کرتا تھا تو ان لوگوں نے ان میں سے کچھ پیغمبروں کی تو تکذیب کی اور کچھ پیغمبروں کو قتل کرنے لگے اور یہ گمان کربیٹھے کہ ہمیں اس پر کوئی سزا نہ ملے گی اور اللہ کے حلم سے یہ گمان کرلیا کہ پیغمبروں کے قتل کرنے یاجھٹلانے پر ہم کو کوئی سزا نہ ملے گی اور نہ کوئی بلا اور مصیبت ہم پر آئے گی اور خدا تعالیٰ کے عذاب سے نڈر اور اپنے جرائم کے انجام سے بےفکر ہوکربیٹھ گئے پس شدت جہالت اور قساوت قلبی کی وجہ سے حق کے دیکھنے اور سننے سے اندھے اور بہرے ہوگئے اور جو ناکردنی کام تھے وہ کیے کسی نبی کو قتل کیا اور کسی کو قید کیا اللہ نے ان پر بخت نصر کو مسلط کیا جس نے ان کو خوب ذلیل اور رسوا کیا پھر ایک مدت دراز کے بعد جب یہ لوگ اپنی شرارتوں سے باز آئے اور تائب ہوئے تو اللہ نے ان پر توجہ فرمائی اور ان کی توبہ قبول کی اور شاہان فارس میں سے کسی عظیم بادشاہ کو ان کی دست گیری اور رست گاری کے لیے کھڑا کیا جس نے ان کو بخت نصری کی ذلت اور خواری اور قید اور گرفتاری سے چھڑا کر بابل سے بیت المقدس کی طرف واپس کیا پھر کچھ زمانہ بعد وہی شرارتیں سوجھیں اور پرانی قساوت قلبی عود کر آئی پھر حسب سابق ان میں سے بہت سے اندھے اور بہرے ہوگئے کہ حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ کو قتل کیا اور حضرت عیسیٰ کے قتل کا ارادہ کیا مگر اس ارادہ میں اللہ کی قدرت سے وہ ناکام رہے اور اب نبی آخرالزمان کے قتل کی فکر میں ہیں یہ لوگ اگرچہ خدا کے قہر اور غضب سے اندھے ہوگئے ہیں لیکن اللہ ان کے اعمال کو برابر دیکھرہا ہے چناچہ امت محمدیہ کے ہاتھوں سے ان کو سزا دلوارہا ہے۔ فائدہ) ۔ قفال مروزی فرماتے ہیں کہ اس آیت میں جس دو مرتبہ فتنہ اور ابتلاء کا ذکر ہے وہ ایک نہایت اجمالی اشارہ ہے جس کی تفصیل سورة اسراء کی اس آیت وقضینا الی بنی اسرائیل۔۔۔ الی۔۔ کبیرا۔ میں مذکور ہے۔ (تفسیر کبیر ص 447 ج 3) ۔
Ayah 5:72

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ١ؕ وَ قَالَ الْمَسِیْحُ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبَّكُمْ١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ الْجَنَّةَ وَ مَاْوٰىهُ النَّارُ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 5:72 in the Quran reader

وہ لوگ بےشبہ کافر ہیں جو کہتے ہیں کہ مریم کے بیٹے (عیسٰی) مسیح خدا ہیں۔ حالانکہ مسیح (یہود سے) یہ کہا کرے تھے کہ اے بنی اسرائیل خدا کی عبادت کرو جو میر ابھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی (اور جان رکھو کہ) جو شخص خدا کے ساتھ شرک کریگا خدا اس پر بہشت کو حرام کردے گا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔

رجوع بذکر نصاری وابطال عقیدہ الوہیت عیسیٰ علیہ السلام۔ قال اللہ تعالی، لقد کفرالذین قالوا ان اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ من انصار۔ ربط) ۔ یہاں تک زیادہ تر یہود کی قباحتوں اور شرارتوں کا بیان تھا انبیاء کا قتل وغیرہ انہیں سے سرزد ہوا تھا اب نصاری کے عقائد فاسدہ کا بطلان ظاہر فرماتے ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ ان کے ایمان بااللہ کا کیا حال ہے اور یہ ظاہر ہوجائے کہ ان کا دین ہیچ ہے اور وہ کسی چیز پر نہیں جیسا کہ یا اھل الکتاب لستم علی شئی۔ میں بتلایا گیا اس جگہ نصاری کے دو فرقوں کے عقائد بطلان بیان فرماتے ہیں نزول قرآن کے وقت نصاری میں ایک فرقہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہی کو خدا کہتا تھا ان کا اعتقاد یہ تھا کہ اللہ دنیا کے گناہ معاف کرنے کے لیے حضرت مریم کے پیٹ سے مجسم ہو کر بشکل مسیح دنیا میں ظاہر ہوا ان کا قول یہ تھا کہ اللہ یہی مسیح کی صورت میں آیا جیسا کہ ہندوں کا اپنے اوتاروں کی نسبت بھی اعتقاد ہے کہ ایشر یعنی خدا تعالیٰ شیر اور انسانوں کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے چونکہ یہ اعتقاد بالکل لغو تھا اس لیے کہ اللہ نے اس قول کے ابطال کے دلائل بیان نہیں فرمائے بلکہ صرف حضرت مسیح کے قول کے نقل پر اکتفاء کیا کماقال تعالیٰ وقال المسیح یا بنی اسرائیل اعبدواللہ ربی وربکم۔ آیت۔ کہ وہ توحید کے داعی تھے اور شرک سے منع کرتے تھے اور ڈراتے تھے اور نصاری کا یہ عقیدہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی صریح تعلیم اور صریح ہدایت اور نصیحت کے خلاف ہے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا یہ قول جو قرآن میں ذکر کیا گیا انا جیل مروجہ میں موجود ہے اور نصاری کادوسرافرقہ تثلیث کا قائل تھا اور یہ کہتا تھا کہ اللہ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور روح القدس ان تینوں میں خدائی دائر ہے یعنی ان میں ہر ایک خدا ہے اور تینوں کا مجموعہ ایک خدا ہے گویا کہ اللہ نصاری کے نزدیک بارگاہ الوہیت کا ایک فرد اور ایک ممبر ہے اس گروہ کا یہ عقیدہ تھا کہ خدائی تین حصوں میں منقسم ہوگئی ایک اللہ رہا ایک روح القدس ایک مسیح یہ دونوں عقیدہ صریح کفر ہیں۔ عیسائیوں میں ایک تیسرا گروہ بھی تھا جو تثلیث کا تو قائل تھا مگر بجائے روح القدس حضرت مریم کو خدا ماننا تھا یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھان کی والد مریم کی بھی عبادت کرتا تھا اور ان سے اپنی حاجات طلب کرتا تھا اللہ نے فرمایا کہ یہ سب کفر ہے پہلا قول بھی کفر اور دوسرا قول بھی کفر ہے اللہ جل شانہ نے ان آیات میں نصاری کے دونوں فرقے کے عقائد کا ابطال فرمایا جو اتحاد کے قائل تھے اور جو تثلیث کے قائل تھے اور پہلے دلیل الزامی پیش کی کہ تمہارا یہ قول حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قول اور ہدایت کے صریح خلاف ہے اور اس کے بعد ماالمسیحابن مریم الارسول۔ سے دلیل تحقیقی بیان فرمائی اور اس عقیدہ فاسدہ کے ابطال پر عقلی اور نقلی دلائل بیان فرمائے چناچہ فرماتے ہیں بیشک کافر ہوئے وہ لوگ جنہوں نے یہ کہا کہ خدا بعینہ یہی مسیح ہے جو مریم کا بیٹا ہے اور مجسم ہو کر بشک مسیح دنیا میں آیا ہے یہ عقیدہ فرقہ یعقوبیہ اور ملکانیہ کا تھا جو نصاری کے دو فرقے تھے اور اس کے ساتھ متحدہو گیا ہے حالانکہ یہ بات بالکل مہمل اور سراسر خلاف عقل ہے اور اسلیے کہ قدیم اور ازلی کا حادث کے ساتھ اتحاد اور امتزاج عقلا محال ہے بداہت عقل سے یہ امر ثابت ہے کہ دو مختلف حقیقتوں کا آپس میں متحد ہوجانا قطعا ناممکن ہے جس طرح حرکت اور سکون اور نور اور ظلمت اور وجود اور عدم کا اتحاد عقلا ناممکن ہے اسی طرح بلکہ اس سے بڑھ کر کر واجب اور ممکن اور حادث اور قدیم کا اتحاد اور امتزاج ناممکن اور محال ہے اور اگر بالفرض والتقدیر حادث اور قدیم کا اتحاد ممکن ہے تو پھر محال اور وجب کا اور ممکن اور ممتنع کا اتحاد بھی عقلا ممکن ہونا چاہیے جس کا سوائے مجنون اور دیوانہ کے کوئی قائل نہیں ہوسکتا معلوم ہوا کہ حقیقت خداوندی اور حقیقت انسانی کامل کر ایک ہوجانا محال ہے اور اگر عقلاء نصرانیت یہ دعوی کریں کہ یہ محال نہیں بلکہ ممکن ہے تو پھر نصاری یہ بتلائیں کہ اللہ تعالیٰ کا جسم فرعون اور جسم نمرود کے ساتھ اور رامچندر اور کرشن کے ساتھ متحد ہوجانا کس دلیل سے محال ہے نصاری کے نزدیک جب ایک جسم بشری میں اللہ کا حلول اور نزول جائز ہے تو نمرود اور فرعون اور کرشن اور رامچندر کے جسم میں اللہ کا حلول اور نزول کس دلیل سے محال ہے نصاری اس کا جواب دیں گے اور اگر بالفرض نصاری کے نزدیک مریم کے بیٹے کا خدا ہونا ممکن ہے تو کو سلیا کے بیٹے یعنی رامنچندر کا اور نو کی کے بیٹے یعنی کہنیا کا خدا ہونا کیوں ناممکن ہے اور بشن اور مہادیو اور برہما جن کو ہندو لوگ اسی طرح خدا مانتے ہیں جس طرح نصاری حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا مانتے ہیں نصاری بتلائیں کہ یہ کیوں خدا نہیں ہوسکتے۔ حق جل شانہ نے اس فرقہ کی جو اللہ اور مسیح بن مریم کو ایک بتاتے تھے تکذیب اور یہ فرمایا کہ ان کا یہ قول کہ خدا تعالیٰ بعینہ مسیح بن مریم ہے صریح کفر ہے اور فرمایا کہ تعجب ہے کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عین مسیح بن مریم ہے حالانکہ مسیح بن مریم نے خود بتاکید اکید یہ کہا تھا کہ اے بنی اسرائیل تم اللہ کی عبادت کرو جو مریا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے جس میں صراحۃ اپنے بندہ اور مربوب ہونے کا اقرار اور اعتراف ہے تم ان کو خدا کیسے کہتے ہو پہلا کلمہ جو گہوارہ میں ان کی زبان سے نکلا وہ یہ تھا انی عبداللہ۔ تحقیق بلاشبہ میں اللہ کا بندہ ہوں اللہ نے مجھ کو کتاب اور حکمت دی اور مجھ کو نبی بنایا اور حضرت مسیح نے یہ کہا کہ ان اللہ ربی وربکم۔۔۔ الی۔۔ مستقیم۔ جیسا کہ آل عمران میں گذرا۔ آیت۔ چناچہ انجیل مرقس باب 12 درس 28، 29، میں ہے کہ جب مسیح سے یہ پوچھا گیا کہ سب حکموں میں سب سے اول کون سا ہے تو یسوع نے جواب دیا کہ اول یہ کہ اے اسرائیل سن خداوند ہمارا خدا ایک ہی خداوند ہے اور تو خداوند اپنے سے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساعی عقل اور اپنی ساری طاقت سے محبت رکھ۔ حضرت مسیح کا یہ قول اللہ نے نصاری پر بطور حجت پیش کیا ہے اور مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ دراصل مسیح بن مریم کے معتقد نہیں کیونکہ مسیح تو لوگوں کو خدا کی عبادت کی طرف بلایا کرتے تھے اور خود بھی عبادت اور بندگی کیا کرتے تھے اور اس سے دعا مانگا کرتے تھے اور تمام انجیلوں سے یہ ثابت ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) خدائے واحد کے عبادت گزار بندے تھے عابد تھے معبود نہ تھے ساجد تھے مسجود نہ تھے حادث اور مولود تھے قدیم اور غیر مخلوق نہ تھے مصیبت کے وقت خدا کو پکارتے تھے اللہ نے تھے معاذ اللہ کیا خدا بھی کسی سے فریاد کرسکتا ہے اور مصیبت کے وقت اس کو پکارتا ہے اور حضرت مسیح فقط خدائے وحدہ لاشریک لہ کی عبادت کی طرف دعوت دینے پر اکتفاء نہ کرتے تھے بلکہ شرک کرنے والوں کو خدا کے بےپناہ عذاب سے ڈراتے تھے اور یہ کہتے تھے کہ تحقیق جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک گردانے سو اس پر اللہ نے جنت کو حرام کردیا ہے وہ کبھی جنت میں داخل نہیں ہوسکے گا مطلب ہی کہ مشرک کی کبھی بخشش نہ ہوگی ان اللہ لایغفر۔۔۔۔ الی۔۔ لمن یشاء، وقال تعالیٰ ونادی اصحاب النار اصحاب الجنہ۔۔۔ الی۔۔۔ کافرین۔ آیت۔ اور آخرت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مشرک کاٹھکانہ آگ ہے اور ایسے ظالموں کا جو خدا تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک گردانیں کوئی یارومددگار نہیں جو ان کی مدد کرے اور ان سے عذاب کو دور کرے۔ فائدہ) ۔ آیت انہ من یشرک باللہ۔۔۔ الی۔۔ علیہ الجنۃ۔ الخ۔ آیت۔ میں دو احتمال ہیں ایک تو یہ کلام حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے کلام کا تتمہ ہے اور مثل یا بنی اسرائیل اعبداللہ ربی وربکم۔ آیت۔ کے یہ بھی حضرت عیسیٰ ہی کا قول ہے ظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس کو ابن کثیر نے اختیار کیا اور اس کے مطابق ہم نے تفسیر کی اور دوسرا احتمال یہ ہے کہ ان من یشرک باللہ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا کلام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو پہلے کلام کی تصدیق کے لیے لایا گیا ہے۔