5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsمعارف القرآن

Ayah 5:19

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ عَلٰى فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآءَنَا مِنْۢ بَشِیْرٍ وَّ لَا نَذِیْرٍ١٘ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَشِیْرٌ وَّ نَذِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 5:19 in the Quran reader

اے اہل کتاب (پیغمبروں کے آنے کا سلسلہ جو ایک عرصہ تک منقطع رہاتو) اب تمہارے پاس ہمارے پیغمبر آگئے ہیں جو تم سے (ہمارے احکام) بیان کرتے ہیں تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمارے پاس کوئی خوشخبری یا ڈر سنانے والا نہیں آیا۔ سو (اب) تمہارے پاس خوشخبری اور ڈر سنانیوالے آگئے ہیں اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔

اظہار نعمت واتمام حجت بہ بعثت محمد یہ ﷺ ۔ قال تعالیٰ یا اھل الکتاب۔۔۔ الی۔۔۔ قدیر۔ ربط) اوپر کی آیتوں میں یہود ونصاری کو خطاب تھا اب اس آیت میں بھی انہی کو خطاب اور تنبیہ ہے اور مقصود اظہار نعمت اور اتمام حجت ہے کہ حضرت عیسیٰ کے بعد شریعت محرف ہوچکی تھی اور روئے زمین سے ہدایت گم ہوچکی تھی لہذا ضرورت تھی کہ اللہ ایسے پیغمبر کو بھیجیں جو لوگوں پر راہ حق کو ظاہر کردے اور لوگوں پر اللہ کی حجت پوری ہوجائے علاوہ ازیں تم بھی افسوس کیا کرتے تھے کہ ہم رسولوں کے وقت میں نہ ہوئے کہ ان کی تربیت پاتے اب مدت کے بعد تم کو رسول کی صحبت میسر آئی غنیمت جانو اور اللہ قادر ہے کہ اگر تم اس رسول کی دعوت کو قبل نہ کرو گے تو اللہ دوسری مخلوق کھڑی کردے گا جو تم سے بہتر ہوگی جیسے حضرت موسیٰ کے ساتھ لوگوں نے جہاد کرنا قبول نہ کیا اللہ نے ان کو محروم کردیا اوروں کے ہاتھ سے ملک شام فتح کرادیا لہذا تم اس نبی کی صحبت کو غنیمت جانو۔ چناچہ فرماتے ہیں اے اہل کتاب بیشک آگیا تمہارے پاس ہمارا وہ رسول جس کے تم منتظر تھے جو احکام شریعت کو تمہارے لیے بیان کرتا ہے ایسے وقت میں آیا کہ مدت سے پیغمبروں کی آمد کا سلسلہ منقطع تھا حضرت عیسیٰ کے آسمان پر اٹھائے جانے کے تخمینا چھ سو برس کے بعد ہم نے نبی بھیجا اتنی مدت میں آسمانی کتابوں میں تحریف ہوگئی دین عیسوی ابھی قوت پکڑنے نہ پایا تھا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) آسمان پر اٹھالیے گئے اور اصل انجیل بھی محفوظ نہ رہی اور بنی اسرائیل کی شریعت بالکل مسخ ہوگئی اس لیے اللہ نے اصلاح عالم کے لیے محمد رسول اللہ کو نبی بنا کر بھیجا تاکہ تم سنبھل جاؤ اور قیامت کے دن تم کو یہ کہنے کا موقعہ نہ رہے کہ ہمارے پاس کوئی بشیر اور نذیر نہیں آیا سو آچکا تمہارے پاس ایک عظیم الشان بشیر ونذیر جس کی شریعت قیامت تک محفوظ رہے گی اور اللہ نے اس کی کتاب کو حفاظت کا خود ذمہ لیا ہے لہذا اب تم کو اس عذر کی کوئی گنجائش نہیں ریہ کہ ہم خدا کی کس طرح اطاعت کرتے کہ پہلی شریعتوں میں تحریف وتبدیلی ہوچکی تھی اور حق و باطل مخلوط ہوچکا تھا اور نیا رسول ہمارے پاس کوئی آیا نہیں پس محمد رسول اللہ کی بعثت سے تمہاری یہ حجت ختم ہوگئی اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے اور اسکو اختیار ہے کہ چاہے مسلسل نبی بھیجئے یا ایک عرصہ تک سلسلہ منقطع رہنے کے بعد رسول بھیجنے یا یہ مطلب ہے کہ اگر تم نے اس پیغمبر کی دعوت اور ہدایت کو قبول نہ کیا تو اللہ کوئی دوسری قوم کھڑی کردے جو اس نبی کی دعوت کو قبول کرے خدا کا کام کچھ تم پر موقوف نہیں۔ فائدہ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور نبی ﷺ کے درمیان جو زمانہ ہے وہ زمانہ فترت کہلاتا ہے جو تقریبا چھ سو برس کا زمانہ ہے جیسا کہ حضرت سلمان فارسی سے صحیح بخاری میں مروی ہے اس درمیان میں کوئی نبی مبعوث نہیں ہوا جیسا کہ صحیح بخاری کی حدیث میں ہے انا اولی الناس بعیس بن مریم لیس بینی وبینہ نبی۔ اور سورة یسین کی اس آیت اذ ارسلنا الیھم الثنین فکذبوھما فعززنا بثالث۔ آیت۔ میں جن تین رسولوں کا ذکر ہے وہ حضرت عیسیٰ کے قاصد اور مبلغ تھے اور حواریین میں سے تھے جن کو آپ نے اہل قریہ کی تبلیغ اور دعوت کے لیے بھیجا تھا اور وہ خدا کے رسول اور پیغمبر نہ تھے بلکہ حضرت عیسیٰ کے فرسادہ اور حواری تھے اور بعض لوگوں نے جو ایک ضعیف روایت کی بناء پر خالد بن سنان عربی کو نبی بتایا ہے صحیح یہ ہے کہ وہ عیسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے گذرے ہیں اور تواریخ میں جو آیا ہے کہ خالد بن سنان کی بیٹی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگی سو اس سے صلبی بیٹی مراد نہیں بلکہ بنت بالواسطہ مراد ہے کیون کی احادیث صحیحہ اور صریحہ سے یہ امر صراحۃ ثابت ہے کہ نبی کریم (علیہ الصلوۃ والسلام) اور حضرت عیسیٰ کے درمیان کوئی نبی نہیں (روح المعانی ص 93 ج 6) ۔
Ayahs 5:20–26

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْكُمْ اَنْۢبِیَآءَ وَ جَعَلَكُمْ مُّلُوْكًا١ۖۗ وَّ اٰتٰىكُمْ مَّا لَمْ یُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 5:20 in the Quran reader

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ بھائیو تم پر خدا نے جو احسان کئے ہیں ان کو یاد کرو کہ اس نے تم میں پیغمبر پیدا کئے اور تمہیں بادشاہ بنایا۔ اور تم کو اتنا کچھ عنایت کیا کہ اہل عالم میں سے کسی کو نہیں دیا۔

یٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِیْ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَرْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 5:21 in the Quran reader

تو بھائیو ! تم ارض مقدس (یعنی ملک شام) جسے خدا نے تمہارے لئے لکھ رکھا ہے چل داخل ہو اور (دیکھنا مقابلے کے وقت) پیٹھ نہ پھیر دینا ورنہ نقصان میں پڑجاؤ گے۔

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِنَّ فِیْهَا قَوْمًا جَبَّارِیْنَ١ۖۗ وَ اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَا حَتّٰى یَخْرُجُوْا مِنْهَا١ۚ فَاِنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَا فَاِنَّا دٰخِلُوْنَ Open ayah 5:22 in the Quran reader

وہ کہنے لگے موسیٰ وہاں تو بڑے زبردست لوگ (رہتے) ہیں اور جب تک وہ اس سر زمین سے نکل نہ جائیں تم وہاں جا نہیں سکتے ہاں اگر وہ وہاں سے نکل جائیں تو ہم جا داخل ہونگے۔

قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمَا ادْخُلُوْا عَلَیْهِمُ الْبَابَ١ۚ فَاِذَا دَخَلْتُمُوْهُ فَاِنَّكُمْ غٰلِبُوْنَ١ۚ۬ وَ عَلَى اللّٰهِ فَتَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:23 in the Quran reader

جو لوگ (خدا سے) ڈرتے تھے ان میں سے دو شخص جن پر خدا کی عنایت تھی کہنے لگے کہ ان لوگوں پر دروازے کے راستے سے حملہ کردو۔ جب تم دروازے میں داخل ہوگئے تو فتح تمہاری ہے۔ اور خدا ہی پر بھروسا رکھو بشرطیکہ صاحب ایمان ہو۔

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِیْهَا فَاذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ Open ayah 5:24 in the Quran reader

وہ بولے کہ موسیٰ جب تک وہ لوگ وہاں ہیں ہم کبھی وہاں نہیں جاسکتے (اگر لڑنا ہی ضرور ہے) تو تم اور تمہارا خدا جاؤ اور لڑو اور ہم یہیں بیٹھے رہیں گے۔

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ اِلَّا نَفْسِیْ وَ اَخِیْ فَافْرُقْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 5:25 in the Quran reader

موسیٰ نے (خدا سے) التجا کی کہ پروردگار میں اپنے اور اپنے بھائی کے سوا کسی اور پر اختیار نہیں رکھتا تو ہم میں اور ان نافرمان لوگوں میں جدائی کردے۔

قَالَ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَیْهِمْ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً١ۚ یَتِیْهُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 5:26 in the Quran reader

خدا نے فرمایا کہ وہ ملک ان پر چالیس برس تک کیلئے حرام کردیا گیا ہے (کہ وہاں جانے نہ پائیں گے اور جنگل کی) زمین میں سرگرداں پھرتے ہیں گے تو ان نافرمان لوگوں کے حلال پر افسوس نہ کرو۔

قصہ بدعہدی وبزدلی بنی اسرائیل در بارہ جہاد۔ قال تعالی، واذ قال موسیٰ لقومہ۔۔۔۔ الی۔۔۔ الفاسقین۔ آیت۔ ربط) گذشتہ آیات میں بنی اسرائیل کی عہد شکنیوں کا بیان تھا اب ان ایات میں ان کی ایک عہد شکنی اور بزدلی اور اس کے انجام کا بیان ہے کہ اللہ کا کلیم تمہارے درمیان موجود تھا اس نے تم کو جہاد کی دعوت دی اور فتح کی بشارت بھی سنا دی کہ اللہ سے یہ زمین تمہارے لیے لکھ دی ہے یعنی رجسٹری کردی ہے مگر تم جہاد سے جان چرا گئے اور کلیم اللہ سے مجادلہ کرنے لگے حالت تو تمہاری یہ ہے کہ اور دعوی یہ ہے کہ ہم ابناء اللہ اور احباء اللہ ہیں اس قصہ میں ان کے دعوائے نحن ابناء اللہ واحباءہ کی تکذیب اور تردید ہے اور فلم یعذبکم بذنوبکم کی تصدیق اور تائید ہے اور اشارہ اس طرف ہے کہ محض انتساب بلا اطاعت خداوندی موجب مقبولیت و محبوبیت نہیں حضرت شاہ عبدالقادر فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم اپنا وطن چھوڑ کر نکلے اللہ کی راہ میں اور ملک شام میں آکر ٹھہرے مہوت تک ان کے اولاد نہ ہوئی تب اللہ نے انکو بشارت دی کہ تیری اولاد کو بہت پھیلاؤں گا اور زمین شام ان کو دوں گا اور نور نبوت اور دین اور کتاب اور سلطنت ان میں رکھوں گا پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے وقت میں وہ وعدہ پورا کیا بنی اسرائیل کو فرعون کی بیگار سے خلاص کیا اور اس کو غرق کیا اور ان سے فرمایا کہ تم عمالقہ سے جہاد کرکے ان سے ملک شام چھین لو پھر ہمیشہ وہ ملک شام تمہارا ہے حضرت موسیٰ نے بارہ شخص بارہ قبائل بنی اسرائیل پر سردار مقرر کیے تھے ان کو بھیجا کہ اس ملک کی خبر لاویں وہ خبر لائے تو ملک شام کی بہت خوبیاں بیان کیں اور وہاں جو عمالقہ مسلط تھے ان کی قوت اور طاقت بھی بیان کی حضرت موسیٰ نے یہ کہا تھا کہ تم قوم کے سامنے ملک کی خوبی تو بیان کرنا مگر دشمن کی قوت کا ذکر نہ کرنا ان بارہ میں سے دو شخص تو اس حکم پر قائم رہے اور دس نے خلاف کیا قوم نے عمالقہ کی قوت اور طاقت کو سناتو نامردی کرنے لگے اور چاہا کہ پھر الٹے مصر واپس چلے جائیں اس تقصیر کی وجہ سے چالیس سال فتح وشام میں دیر لگی کہ اتنی مدت جنگلوں میں بھٹکتے اور حیران پھرتے رہے جب اس قرن کے لوگ مرچکے مگر وہ دو شخص کہ وہی حضرت موسیٰ کے بعد خلیفہ ہوئے اور ملک شام ان کے ہاتھ پر فتح ہوا اہل کتاب کو یہ قصہ سنایا گیا کہ اگر تم پیغمبر آخرالزمان کی رفاقت نہ کرو گے تو یہ نعمت اوروں کے نصیب ہوگی اور آگے چل کر اسی پر قصہ سنایا ہابیل وقابیل کا کہ حسد مت کرو حسد والا مردود ہے (کذا فی موضح القرآن بایضاح یسیر) ۔ چناچہ فرماتے ہیں کہ اور یاد کرو اسوقت کو کہ جب موسیٰ نے اپنی قوم بنی اسرائیل سے کہا کہ اے میری قوم یاد کرو تم اللہ کے انعام اور احسان کو جو تم پر ہوا ہے جب کہ پیدا کیے تم میں اللہ نے بادشاہ یعنی تم کو بادشاہت دی اور حشم وخدم والا کردیا نبوت سے بڑھ کر کوئی دینی نعمت نہیں اور بادشاہت سے بڑھ کر کوئی دنیوی نعمت نہیں موسیٰ (علیہ السلام) سے بیشتر بنی اسرائیل فرعون کی غلامی میں تھے موسیٰ کے زمانہ میں فرعون کی غلامی سے نجات ملی اور خدا نے ان کے تمام ملک اور املاک کا تم کو مالک بنادیا اور علاوہ ازیں تم کو وہ کچھ دیا کہ جو جہان والوں میں سے کسی کو نہیں دیا یعنی تمہارے لیے سمندر کو پھاڑا اور تمہارے سامنے دشمنوں کو غرق کیا اور تم پر من وسلوی اتارا اور تم پر بادل کا سایہ کیا اور تمہارے لیے پانی جاری کیا یہ اللہ کے تم پر ایسے احسان ہیں جو خدا نے تمہارے سوا کسی پر نہیں کیے لہذا اس کا مقتضی یہ ہے کہ تم اس کی نعمتوں کا شکر کرو یعنی اس کی اطاعت سے ذرہ برابر انحراف نہ کرنا تاکہ تم پر اور مزید نعمتیں مبذول ہوں اے قوم اس پاک زمین میں داخل ہوجاؤ جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے یعنی ملک شام میں جا کر جہاد کرو جہاں کی زمین پاک اور مبارک ہے شام کی زمین کو پاک اور مبارک اس لیے کہا کہ سرزمین شام صدیوں سے انبیاء ومرسلین کامولد اور مسکن رہی ہے لیکن حضرت موسیٰ سے کچھ عرصہ پہلے عمالقہ اس پر مسلط ہوگئے تھے اللہ نے بنی اسرائیل کو اس قوم سے جہاد کا حکم دیا اور فتح کی بشارت دیدی اور فتح وظفر کا وعدہ فرمایا اور بزدلی سے منع فرمایا اور یہ حکم دیا کہ اپنی پشت کی سمت پر نہ لوٹنا ورنہ پھر تم خسارہ میں جا پڑو گے یعنی جہاد میں منہ نہ موڑنا اور نہ دشمن کے مقابلہ میں ہٹنا اگر اگر ایسا کرو گے تو علاوہ اس کے کہ تم خدا کے نافرمان اور کافر نعمت ٹھہراؤ گے الٹے خسارہ میں پڑجاؤ گے اس لیے کہ جو ملک خدا نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے وہ فی الحال تمہارے ہاتھ نہ آئے گا انہوں نے کہا اے موسیٰ وہاں تو بڑے زبردست لوگ رہتے ہیں یعنی ہم میں ان سے لڑنے کی طاقت نہیں جبار کھجور کے لمبے درخت کو کہتے ہیں چونکہ عمالقہ بڑے طوی القامت تھے اور قوم عاد سے تھے اس لیے ان کو قوم جبارین کہا اور ہم تو ہرگز اس سرزمین میں داخل نہ ہوں گے یہاں تک کہ وہ خود اس سے باہر نکل جائیں یعنی اگر اللہ تعالیٰ نے وہ زمین ہمارے لیے لکھ دی ہے تو ان کے دل میں ایسا رعب ڈال دے کہ وہ بلامقابلہ خود ہی اس زمین سے نکل جائیں پھر وہ اگر وہاں سے نکل جائیں تو بیشک ہم داخل ہوجائیں گے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان بارہ شخصوں میں سے ان دو شخصوں نے جو اللہ ترس بندو وں میں سے تھے اور جن پر اللہ نے خاص انعام کیا تھا بنی اسرائیل کو نصیحت کی اور یہ کہا کہ ہمت نہ ہارو ہمت کرکے اس شہر کے دوازہ تک تو پہنچ جاؤ پھر جب تم ان پر گھس جاؤ گے تو بلاشبہ تم ہی غالب رہو گے اور خدا پر بھروسہ کرو اگر تم کچھ یقین رکھتے ہو جب اللہ نیتم سے فتح ونصرت کا وعدہ فرمالیا ہے تو تم کو اس کے وعدہ پر یقین رکھنا چاہیے یہ دو شخص یوشع اور کالب تھے اور ان بارہ سرداروں میں سے یہی دو شخص اپنے عہد پر قائم رہے تھے باقی سب نے عہد شکنی کی ان دونوں نے بنی اسرائیل کو نصیحت کی بنی اسرائیل نے ان کو تو کوئی جواب نہ دیا لیکن موسیٰ کی طرف مخاطب ہو کر یہ بولے اے موسیٰ ہم تو ساری عمر بھی اس سرزمین میں ہرگز نہ قدم رکھیں گے جب تک وہ جبارین وہاں موجود رہیں گے سو تو اور تیرا پروردگار مل کر وہاں چلے جاؤ اور تم دونوں ان سے لڑ لو تحقیق ہم تو یہیں بیٹھے ہیں یہ ان بزدل متکبرین کاموسی کے ساتھ استہزاء اور تمسخر تھا ان بزدلوں کا مطلب یہ تھا کہ اگر خدا کو ہماری مدد کرنی ہے تو ویسے ہی کردے ہمیں پریشانی اور جہاد کی مشقت میں ڈالنے کی کیا ضرورت ہے موسیٰ نے ان کے اس بےہودہ جواب سے دل گیرہو کر یہ دعامانگی اے میرے اللہ میرا سوائے اپنی جان کے اور اپنے بھائی کے کسی پر زور اور اختیار نہیں کہ ان کو تیری فرمانبرداری پر مجبور کرسکوں اس لیے فرمایا کہ حضرت یوشع اور کالب سے اگرچہ کوئی نافرمانی ظہور میں نہیں آئی لیکن وہ حضرت موسیٰ اور ہارون کی طرح معصوم نہ تھے جن کے متعلق قطعی اور یقنی طور پر وثوق اور اعتماد کا اظہار فرماتے غیرمعصوم سے گناہ کا صدور ممکن ہے مگر چونکہ حضرت یوشع اور کالب متقی اور پرہیزگار تھے۔ اس لیے تبعا وہ اس میں شامل ہوگئے پس ہمارے اور بدکار لوگوں کے درمیان جدائی دال دے جدائی کے دو معنی ہیں ایک حسی اور ظاہری طور پر الگ ہوجانا اور دوسرے یہ کہ معنی ایک دوسرے سے جدا ہوجانا سو ظاہری اور حسی طور پر تو حضرت موسیٰ اور ہارون بنی اسرائیل سے جدا نہ ہوئے لیکن معنی جدائی ہوگئی کہ وہ سب عذاب الہی میں گرفتار ہوئے اور چالیس سال تک اسی وادی میں ٹکریں مارتے رہے اور حضرت موسیٰ اور ہارون اسی پیغمبرانہ شان سے نہایت سکون اور اطمینان کے ساتھ ان کے ساتھ رہتے رہے جیسے ملائکہ العذاب دوزخیوں کے ساتھ رہتے ہیں مگر ملائکہ العذاب کو عذاب سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا ظاہرا ان کے ساتھ ہیں مگر معنی ان سے جدا ہیں وادی تیہ لوگوں کے لیے عذاب تھی مگر موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون کا ان کے ساتھ ہونا یہ ان پر اللہ کی رحمت تھی۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا قبول فرمائی اور کہا تحقیق وہ زمین چالیس سال تک ان پر حرام کی گئی چالیس سال تک اس زمین میں داخل نہ ہوں گے اور نہ اس کے مالک ہوں گے چالیس سال تک وہ اس زمین میں بھٹکتے رہیں گے یعنی ہر روز چلتے رہیں گے مگر اس جنگل سے باہر نہ ہونے پائیں گے پس اے موسیٰ تم ان بدکاروں کے ھال پر کچھ افسوس اور غم نہ کرنا یہ اسی کے مستحق ہیں غرض یہ کہ موسیٰ کی دعا قبول ہوئی اور یہ لوگ چالیس سال تک ٹکریں مارتے رہے اور نکلنا نصیب نہ ہوا حتی کہ اسی جنگل میں حضرت موسیٰ اور ہارون نے وفات پائی اور ان کے بعد یوشع نبی ہوئے اللہ نے ان کو اس ملک پر قبضہ دیا چالیس برس گزرنے کے بعد یوشع نبی بنائے اور ان کو جبارین سے لڑنے کا حکم ہوا پس جو لوگ بچے تھے ان کو لے کر چلے اور جبارین سے لڑے اور یہ جمعہ کا دن تھا اور سورج ان کے واسطے ایک ساعت کے لیے ٹھہرایا گیا یہاں تک کہ وہ لڑائی سے فارغ ہوئے اور بیت المقدس میں داخل ہوئے۔ سورج مامور بامر الہی ہے اور مسخر اور مقہور بحکم خدا وندی ہے اس کے حکم سے تھوڑی دیر کے لیے اس کے ایک نبی کے لیے ٹھہر گیا جس طرح ابرو ہوا چلنا اور ٹھہرنا اللہ کے حکم سے ہے اسی طرح سورج کا چلنا اور ٹھہر جانا بھی اللہ کے حکم سے ہے سب اس کے حکم کے سامنے مقہور اور مجبور ہیں۔ نکتہ۔ صحابہ کرام نے بنی اسرائیل کی طرح جہاد میں بزدلی نہیں دکھلائی بلکہ جان ومال نبی پر قربان کیا اور دائیں اور بائیں اور آگے اور پیچھے ہر طرف آپ کے ساتھ جہاد کیا جس کا ثمرہ یہ ملا کہ اللہ نے صحابہ سے روئے زمین کی خلافت اور حکومت کا وعدہ کیا، کماقال تعالی، وعداللہ الذین آمنو منکم۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ خوفھم امنا۔ آیت۔ اور چند ہی روز میں مصر وشام اور عراق سب فتح ہوگئے اور قیصر و کسری کا خاتمہ ہوگیا اور مشرق ومغرب کا خراج مدینہ منورہ کے خزانہ میں خلافت عثمانی کے زمانہ میں پہنچ گیا۔
Ayahs 5:27–31

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ ابْنَیْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ١ۘ اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِهِمَا وَ لَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِ١ؕ قَالَ لَاَقْتُلَنَّكَ١ؕ قَالَ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 5:27 in the Quran reader

اور (اے محمد) ان کو آدم کے دو بیٹوں (ہابیل اور قابیل) کے حالات (جو بالکل) سچے ّ (ہیں) پڑھ کر سن دو کہ جب ان دونوں نے (خدا کی جناب میں) کچھ نیازیں چڑھائیں تو ایک کی نیاز تو قبول ہوگئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی (تب قابیل ہابیل سے) کہنے لگا کہ میں تجھے قتل کردونگا۔ اس نے کہا کہ خدا پرہیزگاروں ہی کی (نیاز) قبول فرمایا کرتا ہے۔

لَئِنْۢ بَسَطْتَّ اِلَیَّ یَدَكَ لِتَقْتُلَنِیْ مَاۤ اَنَا بِبَاسِطٍ یَّدِیَ اِلَیْكَ لِاَقْتُلَكَ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 5:28 in the Quran reader

اور اگر تو مجھے قتل کرنے کیلئے مجھ پر ہاتھ چلائے گا تو میں تجھ کو قتل کرنے کیلئے تجھ پر ہاتھ نہیں چلاؤں گا۔ مجھے تو خدائے رب العالمین سے ڈرلگتا ہے۔

اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ تَبُوْٓءَاۡ بِاِثْمِیْ وَ اِثْمِكَ فَتَكُوْنَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ١ۚ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَۚ Open ayah 5:29 in the Quran reader

میں چاہتا ہوں کہ تو میرے گناہ میں بھی ماخوذ ہو اور اپنے گناہ میں بھی پھر (زمرئہ) اہل دوزخ میں ہو۔ اور ظالموں کو یہی سزا ہے۔

فَطَوَّعَتْ لَهٗ نَفْسُهٗ قَتْلَ اَخِیْهِ فَقَتَلَهٗ فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 5:30 in the Quran reader

مگر اس کے نفس نے اس کو بھائی کے قتل ہی کی ترغیب دی تو اسے قتل کردیا اور خسارہ اٹھانے والوں میں ہوگیا۔

فَبَعَثَ اللّٰهُ غُرَابًا یَّبْحَثُ فِی الْاَرْضِ لِیُرِیَهٗ كَیْفَ یُوَارِیْ سَوْءَةَ اَخِیْهِ١ؕ قَالَ یٰوَیْلَتٰۤى اَعَجَزْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِثْلَ هٰذَا الْغُرَابِ فَاُوَارِیَ سَوْءَةَ اَخِیْ١ۚ فَاَصْبَحَ مِنَ النّٰدِمِیْنَ٤ۚۛۙ Open ayah 5:31 in the Quran reader

اب خدا نے ایک کوا بھیجا جو زمین کریدنے لگا تاکہ اسے دکھائے کہ اپنے بھائی کی لاش کو کیونکر چھپائے۔ کہنے لگا اے مجھ سے اتنا بھی نہ ہوسکا کہ اس کوّے کے برابر ہوتا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپا دیتا پھر وہ پیشمان ہوا۔

قصہ ہابیل وقابیل۔ قال تعالی، واتل علیھم نبا ابنی۔۔۔۔ الی۔۔۔ من النادمین۔ ربط) گزشتہ آیات میں اہل کتاب کے اس فخر اور دعوے (نحن ابناء اللہ) کا رد فرمایا اب آگے ہابیل وقابیل کا قصہ ذکر فرماتے ہیں کہ دونوں آدم (علیہ السلام) کے صلبی بیٹے تھے مگر جس نے اطاعت کی وہ مقبول ہوا اور جس نے نافرمانی کی وہ مردود ہوا اور آدم کا بیٹا ہونا کچھ کام نہ آیا معلوم ہوا کہ اہل کتاب کا یہ گھمنڈ کہ ہم پیغمبروں کی اولاد ہیں بالکل غلط ہے۔ نیز اس قصہ سے بنی اسرائیل کو نصیحت کرنا مقصود ہے کہ حسد کا انجام کیسا برا ہوتا ہے لہذا تم کو چاہیے کہ بنی امی فداہ نفسی وابی وامی۔ کے فضل و کمال پر حسد نہ کرو بلکہ اس پر نظر کرو کہ آپ ﷺ بالکل امی ہیں کسی تاریخ کی کتاب کو پڑھ بھی نہیں سکتے مگر تمہارے سامنے توریت اور انجیل کے مخفی علوم اور بنی اسرائیل کے گذشتہ واقعات کو اس طرح بیان کررہے ہیں کہ تمہارے علماء اور فضلاء کو مجال انکار کی نہیں آخر یہ تو سوچو کہ یہ باتیں آپ کو سوائے خدا کے کس نے بتائیں۔ خلاصہ قصہ کا یہ ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے حضرت حواء کے بطن سے ہر حمل میں ایک لڑکا اور ایک لڑکی پیدا ہوتے تھے اور حکم یہ تھا کہ ایک حمل کے لڑکے کو دوسرے حمل کی لڑکی سے بیاہ دیں جڑواں بہن سے بھائی کا نکاح حلال نہ تھا اور سب سے پہلے حمل میں قابیل اور اس کی بہن اقلیما پیدا ہوئے اور دوسرے حمل سے ہابیل اور اس کی بہن البوداء پیدا ہوئے اور قابیل کی بہن اقلیما بہت خوبصورت تھی اسی دستور کے مطابق حضرت آدم نے ہابیل کی بہن کا قابیل کے ساتھ اور قابیل کی بہن کا ہابیل کے ساتھ نکاح کرنا چاہا مگر قابیل راضی نہ ہوا اور کہنے لگا کہ میں اپنی بہن سے خود نکاح کروں گا حضرت آدم نے فرمایا وہ تیرے لیے حلال نہیں مگر اس کی سمجھ میں نہ آیا اور حضرت آدم نے حضت قطع کرنے کے لیے یہ فیصلہ فرمایا کہ تم دونوں اللہ کے نام کی نیاز اور قربانی کرو جس کی نیاز اللہ قبول فرمائے گا اسی کے ساتھ اقلیما کی شادی ہوگی سو دونوں نے قربانی کی ہابیل نے جو مویشی اور بکریوں والا تھا ایک عمدہ اور فربہ دنبہ قربانی کیا اور پہار پر لے جا کر رکھ دیا اور قابیل جو کھیتی والا تھا تھوڑا سا غلہ لاکررکھدیا اور اس زمانہ میں قبول اور عدم قبول کی نشانی یہ تھی کہ جو نیاز قبول ہوتی اس کو آسمان سے ایک آگ آکر جلاجاتی اور جو نہ مقبول ہوتی اس کے لیے آسمان سے آگ نہ آتی جب ہابیل اور قابیل نے اپنی اپنی نیاز قربان گاہ پر لاکر رکھ دی تو آسمان سے ایک آگ آئی تو ہابیل کی نماز کو جلاگئی اور قابیل کی نیاز کو ویسے ہی چھوڑ گئی غرض یہ کہ ہابیل کی نیاز قبول ہوئی اور قابیل کی نماز قبول نہ ہوئی تو قابیل کے دل میں حسد پیدا ہوا اور اپنے بھائی کے قتل کا ارادہ کرلیا یہاں تک کہ اس کو قتل کرڈالا لیکن یہ سمجھ میں نہ آیا کہ اس کی لاش کو کس طرح چھپاؤں کہ حضرت آدم کو اس کی خبر نہ ہو آخر اللہ نی ایک کوا بھیجا کہ اس نے ایک مردے کوے کے لیے زمین کریدی اور اس مردہ کوے کو اس میں دفن کردیا قابیل یہ دیکھ کر پشیمان ہوا کہ افسوس مجھ میں کوے کے برابر بھی عقل نہیں کہ زمین کھود کر اس کو گاڑ دیتا چناچہ فرماتے ہیں اے نبی کریم آپ ان کے سامنے آدم کے دو بیٹوں کا صحیح صحیح واقعہ پڑھ کر سنائیں جبکہ ان دونوں نے اللہ کے لیے کچھ نیاز کی پس ایک یعنی ہابیل کی طرف سے تو نیاز قبول ہوگئی اور دوسرے یعنی قابیل کی طرف سے قبول نہ ہوئی تو قابیل کو غصہ آیا اور یہ کہا کہ خدا کی قسم میں تجھے ضرور مار ڈالوں گا ہابیل نے کہا اس میں میرا قصور کیا ہے جزایں نیست اللہ تعالیٰ ادب والوں ہی کی نیاز قبول کرتا ہے۔ تو نے ادب اور تقوی کو چھوڑ دیا اس لیے تیری ناز قبول نہیں تو اس میں میرا کیا قصور ہے اگر تو نے میرے قتل کے ارادہ سے میری طرف ہاتھ بڑھایا تو میں وہ نہیں ہوں کہ اپنے دفعیہ کے لیے تیرے قتل کی طرف ہاتھ بڑھاؤں گا اگرچہ اپنی جان بچانے کے لیے دفعیہ جائز ہے لیکن بھائی کے مقابلہ میں صبر کرنا ہی افضل اور اکمل ہے کافر سے اگر مقابلہ ہو تو ہاتھ پیر توڑ کر بیٹھ جانا ہرگز جائز نہیں اور اگر مسلمان بھائی سے مقابلہ ہو تو مدافعت درجہ رخصت میں ہے اور صبر کرنا عزیمت اور موجب صد فضیلت ہے بیشک میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں یہ ہاتھ نہ پھیلانے کی علت بیان کی مطلب یہ ہے کہ قتل بہت بری چیز ہے اور اللہ کو سخت ناپسند ہے اگر میں نے اپنے حملہ دفع کرنے کے لیے اپنے آپ کو معذور سمجھ کر تجھ کو قتل کردیا تو پھر بھی مجھ کو اللہ سے ڈر ہے کہ کہیں مجھ سے مواخذہ نہ کریں گے کہ تم نے قتل میں عجلت سے کام لیا اور محض دھمکی پر کیوں قتل کرڈالا قابیل نے تو ابھی صرف دھمکی ہی تھی قتل کا ارتکاب تو نہیں کیا تھا اور عجب نہیں کہ ہابیل کو یہ بھی ڈر ہو کہ ابھی تک روئے زمین پر کوئی قتل واقع نہیں ہوا لہذا اس کی کوشش یہ تھی کہ باہمی قتل کی سنت میرے ہاتھ سے جاری نہیں دیتے تھے حالانکہ وہ قطعا مظلوم اور بےگناہ تھے لیکن ان کی تمنا یہ تھی کہ مسلمانوں میں باہمی کشت خون کی سنت کا آغاز میرے ہاتھ سے نہ ہو اور اس خوف سے اور ڈر کی وجہ سے عثمان ذی النورین نے صحابہ کو فتنہ پردازیوں کے مقابلہ کی اجازت نہ دی اور صبر اور شہادت کو ترجیح دی چناچہ ایوب سختیانی فرماتے ہیں کہ امت محمدیہ میں سب سے پہلا شخص جس نے اس آیت پر عمل کرکے دکھلایا حضرت عثمان بن عفان ؓ ہیں۔ (رواہ ابن ابی حاتم، تفسیر ابن کثیر) ۔ حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت عثمان کو پیش آنے والے فتنہ کی خبر دے دی تھی اور یہ وصیت فرمادی تھی کہ تو اس وقت آدم کے بیٹے کے مانند ہوجانا آپ نے یہ آیت تلاوت کی لئن بسطت الی یدک لتقتلنی ماانا بباسط۔ اور حضور پرنور نے حضرت عثمان کو یہ وصیت بھی کی تھی کہ اللہ تجھ کو ایک خلعت (خلافت) پہنائے گا تو لوگوں کے کہنے سے مت اتارنا اس لیے حضرت عثمان فتنہ اور نرغہ کے وقت خلافت سے دست بردار نہ ہوئے اور باغیوں سے قتال بھی نہ کیا اور صبر کے ساتھ اللہ کا کلام پڑھتے ہوئے جان دے سی اور صبر و تحمل میں ہابیل کانمونہ بنے۔ غرض یہ کہ ہابیل نے مدافعت سے بھی انکار کردیا اور یہ کہہ دیا کہ میں تجھ سے ڈر کر نہیں بلکہ خدا سے ڈر کر یہ چاہتا ہوں کہ بھائی کے خون میں اپنے ہاتھ نہ رنگوں اور یہ کہا کہ تحقیق میں یہ چاہتا ہوں کہ تو میر ابھی گناہ اور اپنا بھی گناہ اٹھائے پھر تو دوزخیوں میں سے ہوجائے گا مطلب یہ کہ اگر تو میرے قتل سے بازنہ آیا تو قیامت کے دن تیری گردن پر تیرے گناہ کا بھی بوجھ ہوگا اور میرے گناہوں کا بوجھ بھی تجھ پر ڈالا جائے گا اس لیے قیامت کے دن مقتول مظلوم کی برائیاں قاتل پر ڈال دی جائیں گی اور اسی طرح دونوں کا بوجھ تجھ ہی کو اٹھانا پڑے گا اس لیے کہ خدا کے یہاں قاتل کی سزا یہ مقرر ہے کہ اس کے ذمے اس کا گناہ بھی لکھا جائے اور اس کے مقتول کا بھی اور اس کی دوہری سزا دی جائے یہ مجاہد کا قول ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ میں یہ چاہتا ہوں کہ اپنے دوسرے گناہوں کے ساتھ میرے قتل اور خون ناحق کا گناہ بھی تو ہی سمیٹے عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن مسعود اور حسن اور قتادہ سے یہی تفسیر منقول ہے (تفسیر کبیر ص 403 ج 3) ۔ اور امام ابن جریر طبری اور حافظ ابن کثیر نے بھی اسی قول کو اختیار کیا ہے اور شیخ جلال الدین سیوطی نے جلالین میں اسی قول کو ترجیح دی ہے اور ظالموں کی یہی سزا ہے غرض یہ کہ ہابیل نے محبانہ اور برادرانہ اور مخلصانہ نصیحت میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا مگر قابیل پر بھائی کی حکمت وموعظت کا کوئی اثر نہ ہوا پس قابیل کے نفس نے اس کو اپنے بھائی ہابیل کے قتل کے لیے راضی کرلیا چناچہ اس نے ا سکوقتل کرڈالا پس نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا یعنی اس قتل سے اس کو دین اور دنیا دونوں کا خسارہ ہو اور دنیا کا خسارہ تو یہ ہوا کہ والدین ناراض ہوئے اور وہ بغیر بھائی کے رہ گیا اور دنیا میں قیامت تک بدنام ہوا اور آخرت کا یہ خسارہ ہوا کہ اس ظلم اور تعدی اور قطع رحمی کی وجہ سے اللہ اس سے ناراض ہوا اور قطع رحمی کا بانی ہونے کی وجہ سے سزا کا مستحق ہوا اور ایک خسارہ یہ ہوا جو حدیث میں آیا ہے کہ دنیا میں کوئی نفس ظلما نہیں قتل کیا جاتا مگر آدم کے پسر اول پر اس کے خون کا ایک حصہ ہوتا ہے کیونکہ سب سے پہلے ظلما قتل کا طریقہ اسی نے نکالا۔ چونکہ اس سے پہلے کوئی انسان مرانہ تھا اس لیے قتل کے بعد اس کی سمجھ میں آیا کہ لاش کو کیا کرے جس سے یہ راز پوشیدہ رہے پس اللہ نے ایک کورے کو بھیجا کہ جو زمین کرید رہا تھا کہ زمین کھود کر اس میں ایک مرے ہوئے کوے کو دھکیل کر اس پر مٹی ڈال رہا تھا تاکہ اللہ تعالیٰ اس کوے کے ذریعہ سے قابیل کو یہ دکھلاوے کہ وہ اپنے بھائی کی لاش کو کس طرح چھپائے اہل اخبار کا بیان ہے کہ جب قابیل نے ہابیل کو قتل کردیا تو عرصہ تک اس کے لاشہ کو پشت پر لادے پھرا کیونکہ یہ سب سے پہلی موت تھی جو روئے زمین پر واقع ہوئی اور اس وقت تک میت کے چھپانے کا کوئی طریقہ معلوم نہ ہوا آخر اللہ نے دو کوے بھیجے جو آپس میں لڑے اور ایک نے دوسرے کو قتل کیا پھر قاتل کوے نے اپنی چونچ اور پنجوں سے زمین کرید کر اس میں ایک گڑھا بنایا اور مقتول کوے کو اس میں ڈال کر مٹی سے چھپایا قابیل نے یہ تمام کیفیت دیکھی اور اس کوے سے دفن کا طریقہ سیکھا اور اپنی حالت پر سخت ندامت ہوئی شرمندہ ہو کر کہنے لگا ہائے میری شامت مجھ سے اتنا بھی نہ ہوسکا کہ میں اس کوے کی برابر بھی مجھے عقل نہ آئی۔ (ف) ۔ جاننا چاہیے کہ یہ ندامت اور پشیمانی توبہ کی ندامت نہ تھی جو ندامت خدا کے خوف سے ہو وہ تو بہ ہے اور جو ندامت اور پریشانی اور پشیمانی دینا کی ذلت کے ڈر سے ہو وہ ایک امر طبعی ہے وہ شرعی توبہ نہیں۔
Ayah 5:32

مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ١ؔۛۚ كَتَبْنَا عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَنَّهٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ مَنْ اَحْیَاهَا فَكَاَنَّمَاۤ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَیِّنٰتِ١٘ ثُمَّ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ فِی الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ Open ayah 5:32 in the Quran reader

اس (قتل) کی وجہ سے تم نے نبی اسرائیل پر یہ حکم نازل کیا کہ جو شخص کسی کو (ناحق) قتل کرے گا (یعنی) بغیر اس کے کہ جان کا بدلہ لیا جائے یا ملک میں خرابی پیدا کرنے کی سزا دی جائے اس نے گویا تمام لوگوں کو قتل کیا اور جو اس کی زندگانی کا موجب ہوا تو گویا لوگوں کی زندگانی کا موجب ہوا۔ اور لوگوں کے پاس ہمارے پیغمبر روشن دلیلیں لاچکے ہیں پھر اس کے بعد بھی ان میں بہت سے لوگ ملک میں حّد اعتدال سے نکل جاتے ہیں۔

تمہید مشروعیت حدود وتعزیرات بنا برظہور ایں چنیں جنایات۔ قال تعالی، من اجل ذالک کتبنا علی بنی اسرائیل۔۔۔ الی۔۔۔ لمسرفون۔ آیت۔ ربط) گذشتہ آیات میں ایک ناحق قتل کا واقعہ بیان فرمایا اب ارشاد فرماتے ہیں کہ اسی قسم کی خرابیوں کی وجہ سے اللہ نے حدود تعزیرات کو مشروع فرمایا تاکہ فساد کا انسداد ہوجائے چناچہ فرماتے ہیں اسی واقعہ کی وجہ سے یعنی انہی خرابیوں کی وجہ سے جو بےگناہ کے قتل میں پیش آتی ہیں کہ قائل کو دنیا میں ندامت اور فضیحت اور آخرت میں عقوبت ہم نے بنی اسرائیل پر خصوصا اور تمام بنی آدم پر عموما یہ حکم لکھ دیا کہ جو شخص کسی کو بلاعوض اور بلا بدلہ کے یا زمین میں بغیر فساد کے قتل کرڈالے فساد کی بہت سی صورتیں ہیں مثلا راہ زنی کرے یا نکاح کے بعد زنا کرے یا مرتد ہوجائے یا دوسروں کو مرتد ہونے کی ترغیب دے یا خدا اور رسول اور احکام شریعت کا مذاق اڑائے اور بغیر نفس سے مراد یہ ہے کہ بغیر قصاص لازم ہوئے کسی کو ناحق قتل کرڈالے تو گویا اس نے تمام آدمیوں کو قتل کیا کیونکہ اس نے قتل کا دروازہ کھول دیا اور بنی اسرائیل کی ہدایت کے لی یہ بھی لکھدیا کہ جو شخص ایک آدمی کی زندگانی کا سبب بنا یعنی کسی مظلوم کو ظالم کے پنجہ سے چھڑایا کسی زندہ نفس کے قتل سے باز رہا تو گویا اس نے تمام لوگوں کو زندہ کیا چونکہ قابیل کے ہابیل کو قتل کرنے کی وجہ سے لوگوں میں قتل کارواج ہوگیا اس لیے اس کو روک تھام کے لیے بنی اسرائیل کو توریت میں یہ حکم دیا کہ ایک شخص کے قتل کا گناہ اتنا بڑا ہے جتنا سب لوگوں کے قتل کرنے کا اور جس نے ایک جان کو زندہ کیا یعنی کسی ظالم قاتل کے ہاتھ سے اس کو بچایا تو اس کا ثواب اتنا ہے جتنا سارے جہان کے زندہ کرنے کا اس لیے جس نے ایک آدمی کو قتل کیا اس نے بدامنی اور خون ناحق کا دروازہ کھولا اور جس نے کسی کی جان بچائی اس نے عمل سے امن اور حیات کا دروازہ کھولا اور زندہ کرنے سے مراد اس کو ہلاکت سے بچانا ہے۔ بنی اسرائیل چونکہ قتل اور خون ریزی سے نہیں ڈرتے تھے اس لیے اللہ نے بنی اسرائیل کو یہ حکم یاد دلایا کہ توریت میں تو یہ حک لکھا ہوا ہے کہ اور تم قتل اور خون ریزی سے بالکل نہیں ڈرتے اللہ کے ہزار نبیوں کو پہلے قتل کرچکے ہو اور اب خدا کے رسول محمد ﷺ کے قتل کرنے کی فکر میں ہو اور البتہ تحقیق ہمارے پیغمبر ان کے پاس صاف صاف احکام لے کر آچکے ہیں پھر بھی تحقیق بہت سے لوگ زمین میں حد سے نکلے جارہے ہیں یعنی ظلم باوجودیکہ قتل کے احکام اس سختی سے انہیں سنائے گئے مگر ان کی شرارت میں ذرا بھی کمی نہ ہوئی وہی ظلم وتعدی ان کی بدستور رہی۔
Ayahs 5:33–34

اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ١ؕ ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ Open ayah 5:33 in the Quran reader

جو لوگ خدا اور اس کے رسول سے لڑائی کریں اور ملک میں فساد کو دوڑتے پھریں انکی یہی سزا ہے کہ قتل کردیے جائیں یا سولی چڑھا دیے جائیں یا ان کے ایک ایک طرف کے ہاتھ اور ایک ایک طرف کے پاؤں کاٹ دیے جائیں یا ملک سے نکال دیے جائیں یہ تو دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لئے بڑا (بھاری) عذاب (تیّار) ہے۔

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهِمْ١ۚ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 5:34 in the Quran reader

ہاں جن لوگوں نے اس سے پیشتر کہ تمہارے قابو آجائیں توبہ کرلی تو جان رکھو خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

حکم دوازدہم، حد قطع طریق۔ قال تعالی، انما جزو الذین یحاربون اللہ ورسولہ۔۔۔ الی۔۔۔ رحیم۔ آیت۔ ربط) گذشتہ آیت میں فساد فی الارض اور قتل ناحق کی شناعت بیان فرمائی چونکہ فساد کی ایک صورت قطع طریق یعنی رہزنی اور ڈکیتی بھی ہے اس لیے اب اس آیت میں سارق (چور) کی سزا کو بیان کرتے ہیں جو اسی حکم کے سابق کا تتمہ اور تکملہ ہے کیونکہ چوری بھی ایک قسم کا فساد ہے جزایں نیست کہ سزا ان لوگوں کی جو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں یعنی شریعت کا مقابلہ کرتے ہیں اور اس کے احکام کی علانیہ مخالفت کرتے ہیں اور زمین میں بارادہ فساد دوڑتے پھر تے ہیں یعنی قتل اور قطع طریق کرتے پھرتے ہیں ایسے لوگوں کی سزا یہی ہے کہ قتل کیے جائیں یا سولی دیے جائیں یا ان کے ہاتھ اور مخالف جانب کے پاؤں کاٹے جائیں یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پیر یا جلاوطن کردیے جائیں جمہور علماء کا قول ہے کہ یہ آیت رہزنوں اور ڈاکوؤں کے متعلق ہے خواہ مسلمان ہوں یا کافر اور الذین یحاربون میں محاربہ سے رہزنی مراد ہے اور بعض علماء کا قول یہ ہے کہ آیت مرتدین کے بارے میں نازل ہوئی اور آیت میں محاربہ سے ارتداد مراد ہے۔ اور ان یقتلوا وایصلبو۔۔۔ الی۔۔۔ الارض۔ آیت۔ میں جو لفظ او وارد ہوا ہے وہ صحابہ اور تابعین کی ایک جماعت کے نزدیک تخیر کے لیے ہے کہ امام کو اختیار ہے کہ ان چارسزاؤں میں سے بلحاظ نوعیت جرم جون سی سزا مناسب سمجھے دے اور جمہور علماء کے نزدیک او تنویع اور تقسیم کے لیے ہے یعنی مختلف حالات میں اختلاف احکام کے لیے ہے اور مطلب یہ ہے کہ یہ سزائیں جرائم پر منقسم ہیں جس نوع کے جرم کا ارتکاب کیا ہے اسی نوع کی سزا ہوگی مثلا اگر کسی نے صرف کسی کو قتل کیا ہے تو اس کی سزا صرف قتل ہوگی اور اگر قتل کے ساتھ مال بھی لوٹا ہے تو وہ قتل بھی کیا جائے گا اور سولی بھی دیا جائے گا یعنی قتل کرکے عبرت کے لیے سولی پر بھی لٹکا دیا جائے گا اور اگر صرف مال لوٹا ہے تو صرف ایک طرف کا ہاتھ اور دوسری طرف کا پیر کاٹ کر چھوڑ دیا جائے گا اور اگر صرف راہ روؤں کو دھمکایا ہے تو اس کو جلاوطن کردیا جائے گا جیسا کہ امام شافعی کے نزدیک ینفوا من الارض سے جلاوطنی مراد ہے اور امام اعظم کے نزدیک ینفوا من الارض سے قید اور حبس مراد ہے کیونکہ ان لوگوں کو اگر مسلمانوں کے کسی دوسرے شہر کی طرف بھیج دیا گیا تو وہاں کے مسلمانوں کو ایذاء پہنچائیں گے اور اگر کفار کے ملک بھیج دیا جائے تو مرتد ہونے کا اندیشہ ہے۔ یہ حدیں اور سزائیں ان کے لیے دنیا میں زلت اور رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب ہے مگر جو لوگ تمہارے پکڑنے اور گرفتار کرنے سے پہلے ہی اپنے گناہوں سے توبہ کرلیں تو خوب جان لو کہ اللہ اپنے حقوق کو معاف کرنے والا ہے اور مہربان ہے باقی حقوق عباد بغیر بندوں کے معاف کرنے کے ساقط نہیں ہوتے مطلب یہ ہے کہ اگر گرفتاری سے پہلے توبہ کرلیں تو حد جو کہ اللہ کا حق ہے وہ تو معاف ہوجائے گا اور حد ان سے ساقط ہوجائے گی البتہ حق العبد باقی رہے گا پس اگر مال لیا ہے تو اس کا ضمان دینا پڑے گا اور اگر کسی کی جان لی ہے توقصاص لازم ہوگا مگر اس ضمان اور قصاص معاف کرنے کا حق صاحب مال اور ولی مقتول کو حاصل ہوگا اور ولی مقتول اگر اس کو قتل کرے تو وہ قتل بطور قصاص کے ہوگا نہ کہ بطور حد خوب سمجھ لو۔ تنبیہ۔ اس حد کے سوا اور باقی حدود مثلا حد زنا اور حد خمر اور حدسرقہ اور حدقذف تو بہ سے ساقط نہیں ہوتے۔ (کذافی البنایہ) ۔ امام ابوبکر رازی اور امام فخرالدین رازی فرماتے ہیں کہ سلف اور خلف کا قول یہ ہے کہ یہ آیت قطاع الطریق یعنی رہزنوں کے بارے میں نازل ہوئی خواہ وہ فاسق وفاجر مسلمان ہوں یا کافر اور بعض علماء جیسے امام بخاری اس طرف گئے ہیں کیہ یہ آیت مرتدین کے بارے میں نازل ہوئی مگر یہ قول شاذ ہے اور پہلا قول ہی قول صحیح ہے اس لیے کہ قتل مرتد ہر حال میں واجب ہے محاربہ اور اظہار فساد پر موقوف نہیں دوم یہ کہ مرتد کا قتل ہی واجب ہے مرتد کا فقط ہاتھ کاٹ دینا یا اس کو جلاوطن کردینا کافی نہیں سوم یہ کہ آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ حد اس وقت ساقط ہوجاتی ہے جب کہ مجرم گرفتار ہونے سے پہلے توبہ کرلے اور اگر گرفتاری کے بعد توبہ کرے تو حد ساقط نہ ہوگی سو یہ حکم قاطع الطریق یعنی رہزن کا تو ہے مگر مرتد کا یہ حکم نہیں اس لیے کہ مرتد کی حد ہر حال میں توبہ سے ساقط ہوجاتی ہے مرتد چاہیگرفتاری سے قبل توبہ کرے یا بعد گرفتاری کے اس پر حد جاری نہ ہوگی، چہارم یہ کہ مرتد کا حکم قتل ہے نہ کہ صلب (سولی) پنجم یہ کہ آیت کے الفاظ عام ہیں جو ارتداد اور ہزنی اور ناحق قتل سب کو شامل ہیں غایت مافی الباب اگر یہ مان بھی لیاجائے کہ آیت مرتدین کے بارے میں نازل ہوئی تو اعتبار عموم الفاط کا ہوگا نہ کہ خصوص مورد کا (تفسیر کبیر ص 407 ج 3) ۔
Ayahs 5:35–37

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ابْتَغُوْۤا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ وَ جَاهِدُوْا فِیْ سَبِیْلِهٖ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 5:35 in the Quran reader

اے ایمان والو ! خدا سے ڈرتے رہو۔ اور اس کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ تلاش کرتے رہو اور اس کے راستہ میں جہاد کرو تاکہ رستگاری پاؤ۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لِیَفْتَدُوْا بِهٖ مِنْ عَذَابِ یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 5:36 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہیں اگر انکے پاس روئے زمین (کے تمام خزانے اور اس) کا سب مال و متاع ہو اور اس کے ساتھ اسی قدر اور بھی ہوتا کہ قیامت کے روز عذاب سے (رستگاری حاصل کرنے) کا بدلہ دیں تو ان سے قبول نہیں کیا جائے گا اور انکو درد دینے والا عذاب ہوگا۔

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنْهَا١٘ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 5:37 in the Quran reader

(ہر چند) چاہیں گے کہ آگ سے نکل جائیں مگر اس سے نہیں نکل سکیں گے۔ اور ان کے لیے ہمیشہ کا عذاب ہے۔

خطاب باہل ایمان۔ قال تعالیٰ یا ایھا الذین آمنوا اتقواللہ۔۔۔۔ الی۔۔۔ مقیم۔ آیت۔ ربط) اب ان آیات میں اہل ایمان سے خطاب ہے کہ تم بنی اسرائیل کی طرح شرارت نہ کرنا تم کو چاہیے کہ خدا تعالیٰ کی نافرمانیوں سے بچو اور اعمال صالحہ کو تقرب الٰہی کا ذریعہ اور وسیلہ بناؤ بنی اسرائیل کی طرح بزدلی نہ دکھاؤ اور اس کے بعد آخرت میں کافروں کی جو بری حالت ہوگی وہ بیان کی تاکہ مسلمانوں کو عبرت ہو اور وہ ان جیسے افعال نہ اختیار کریں چناچہ فرماتے ہیں اے ایمان والو ایمان کا مقتضی یہ ہے کہ تم خدا سے ڈرتے رہو اور اس کی نافرمانی نہ کرو اس لیے کہ اللہ کی نافرمانی اللہ اور اس کے رسول سے محاربہ ہے اور زمین میں فساد ہے اور اللہ تک پہنچنے کا وسیلہ ڈھونڈو یعنی اللہ کے امر ونہی کو بجالاؤ تاکہ تمہیں خدا کے قرب حاصل ہو اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ تم خدا کی راہ میں ظاہری اور باطنی دشمنوں سیجہاد کرو اور حدیث میں ہے کہ اصل مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس سے جہاد کرے اور جہاد ظاہری وباطنی قرب خداوندی کا بہترین وسیلہ اور ذریعہ ہے امید ہے کہ تم فلاح پاؤ گے تقوی اور جہاد سے فلاح حاصل ہوتی ہے اور آخرت میں مال کام نہ دے گا تحقیق جن لوگوں نے کفر کیا اگر بالفرض والتقدیر ان کے پاس روئے زمین کا تمام مال ومتاع اور اس کے تمام خزینے اور دفینے موجود ہوں اور اس کے ساتھاتنا ہی اور بھی ہو تاکہ یہ سب دے کر اس کے عوض روز قیامت کے عذاب سے نجات حاصل کرسکیں تو وہ ان سے قبول نہ کیا جائے گا عینی اگر بالفرض کافر کے پاس دو دنیا کے برابر مال اور نقد اور جنس ہو وہ اس سب کو اپنے فدیہ میں دے کر عذاب سے چھوٹنا چاہے تو اس قدر فدیہ بھی قبول نہ کیا جائے گا اور اب دنیا میں تھوڑی سی بات بھی قبول ہے یعنی صرف لاالہ الا اللہ کہنے سے عذاب آخرت سے چھوٹ سکتا ہے مطلب یہ ہے کہ آخرت میں کافر کی نجات کی کوئی سبیل نہیں صحیحین میں حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس دوزخی سیجس کو سب سے کم عذاب ہوگا پوچھے گا کہ اگر تیرے پاس ساری دنیا ہو تو کیا تو اس کو اپنے فدیہ میں دے دے گا تو وہ کہے گا ہاں اللہ فرمائے گا کہ میں نے تو تجھ سے اس سے کہیں زیادہ آسان چیز طلب کی تھی کہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا میں تجھ کو دوزخ میں نہ کروں گا بلکہ جنت میں داخل کروں گا لیکن تو نے اس آسان کو بھی قبول نہ کیا یعنی لہذا آج تجھ سے یہ فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا اور ان کیلیے دردناک عذاب ہے اور یہ کفار ناہنجار اس روز فلاح کا تصور بھی نہیں کرسکتے ان کی انتہائی تمنا اور آرزو یہ ہوگی کہ دوزخ کی آگ سے باہر نکل جائیں مگر ان کی یہ تمنا بھی پوری نہ ہوسکے گی اور یہ لوگ کسی صورت بھی اس سے نکل نہ سکیں گے اور ان کیلیے ہمیشہ کا عذاب ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا عذاب مقیم سے دائم اور مستمر مراد ہے کہ جس سے نہ نکلنا ہوگا اور نہ چھوٹنا کما قال تعالی، کلما ارادو ان یخرجوا منھا اعیذو فیھا۔ آیت۔ عذاب مقیم کے اصل معنی یہ ہیں کہ وہ عذاب ٹھہرا ہوا ہوگا کہ نہ اپنی جگہ سے جنبش کرے اور نہ ہلے اور نہ ٹلے یعنی دائمی ہوگا۔ (ف 1) ۔ حسن بصری اور مجاہد اور قتادہ اور عطاء اور سدی اور ابن زید اور عبداللہ بن کثیر سے منقول ہے کہ آیت میں لفظ وسیلہ سے قرب کے معنی مراد ہیں اور مطلب یہ ہے کہ اعمال صالحہ کے ذریعہ اللہ کا قرب اور اتصال تلاش کرو (تفسیر قرطبی ص 159 ج 6) اور وہ جو حدیث میں ہے کہ وسیلہ جنت میں ایک اعلی ترین منزل ہے اس کو وسیلہ اسی بناء پر کہا گیا کہ وہ منزل مکانات جنت میں سے قریب تربعرش ہے اور ابن عباس سے بھی یہی منقول ہے کہ وسیلہ کے معنی تقرب کے ہیں اور مطلب یہ ہے تقوی اور اعمال صالحہ کو قرب خداوندی کا ذریعہ بناؤ غرض یہ کہ اس آیت کو مسئلہ توسل بالصالحین سی کوئی تعلق نہیں گو وہ مسئلہ دوسرے دلائل سے ثابت ہے (روح المعانی ص 111 ج 6) ۔ (ف 2) ۔ اس آیت سے صاف ثابت ہے کہ کافر کبھی عذاب سے نجات نہ پائیں گے اور اسی پر تمام اہل سنت والجماعت کا اجماع ہے۔ 3) اور وماھم بخارجین من النار یہ ترکیب مااناقلت کے باب سے جس کے معنی یہ ہیں کہ کافر تو عذاب دو زخ سے کبھی نہ نکلیں گے جس کا مطلب یہ ہوا کہ کافروں کے علاوہ اور گروہ ایسا ہے کہ وہ بعد چندے دوزخ سے نکل جائے وہ گروہ گنہ گاری مسلمانوں کا ہے جیسا کہ احادیث متواترہ اور اجماع امت سے ثابت ہے کہ عصاۃ موحدین بالاآخر نار سے نکالے جائیں گے۔
Ayahs 5:38–39

وَ السَّارِقُ وَ السَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْۤا اَیْدِیَهُمَا جَزَآءًۢ بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 5:38 in the Quran reader

جو چوری کرے مرد ہو یا عورت ان کے ہاتھ کاٹ ڈالو یہ ان کے فعلوں کی سزا اور خدا کی طرف سے عبرت ہے۔ اور خدا زبردست اور صاحب حکمت ہے۔

فَمَنْ تَابَ مِنْۢ بَعْدِ ظُلْمِهٖ وَ اَصْلَحَ فَاِنَّ اللّٰهَ یَتُوْبُ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:39 in the Quran reader

اور جو شخص گناہ کے بعد توبہ کرلے اور نیکوکار ہوجائے تو خدا اس کو معاف کردے گا کچھ شک نہیں کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

حکم سیزدھم، حد سرقہ۔ قال تعالیٰ والسارق والسارقۃ۔۔۔ الی۔۔۔ رحیم۔ آیت۔ ربط) گذشتہ آیت میں قطع الطریق کا بیان تھا جو سرقہ کبری کہلاتا ہے اب اس آیت میں سرقہ صغری چوری کی سزا کا بیان ہے ڈاکو کھلم کھلا لوٹتے ہیں اور چورچھپ کر کر چوری کرتے ہیں پہلی آیت میں ڈاکہ کا بیان کیا اب اس آیت میں چوری کا حکم بیان کرتے ہیں اور جو مرد چوری کرے اور سی طرح جو عورت چوری کرے تو کاٹ ڈالو ان کے داہنے ہاتھ گٹے پر سے بطور سزا کے اس کردار بد اور برے عمل کے عوض اور بدلہ میں خدا کی طرف سے عبرت اور تنبیہ کے لی یعنی یہ سزا جو چورکودی جارہی ہے وہ مال مسروق کا عوض اور بدلہ نہیں بلکہ اس کے فعل سرقہ کی سزا ہے تاکہ اس سے دوسروں چوروں کو تنبیہ اور عبرت ہوجائے بلاشبہ جہاں کہیں یہ سزا جاری ہوئی اور چوروں کا ایک مرتبہ ہاتھ کاٹا گیا توقطعا چوری کا دروزہ بندہوجاتا ہے اور جب سے یہ سزا موقوف ہوئی اور عدالتی کاروائی شروع ہوئی اس وقت سے چوری کا دروازہ خوب کھل گیا ہے اور اللہ بڑی عزت والا اور حکمت والا ہے کہ چوری کرنے والاکتنا ہی معزز کیوں نہ ہو وہ اس عزیز حکیم کی مقرر کردہ سزا سے نہیں نکل سکتا اس کی حکمت کا تقاضایہ ہے کہ امن عالم اور باشندگان ملک کیا اموال واملاک کی حفاظت کی خاطر وہ ہاتھ ہی کاٹ دیا جائے کہ جو اس جرم عظیم کا مرتکب ہوا الغرض یہ تو چور کی دنیوی سزا ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی رہا یہ امر کہ آخرت کی عقوبت ور سزا ٹل سکتی ہے یا نہیں سو اس کا حکم یہ ہے کہ جس نے اپنے اس ظلم وستم کے بعد توبہ کرلی اور اپنی حالت درست کرلی تو بیشک اللہ تعالیٰ اس کو توبہ قبول فرمالیتے بیشک اللہ بڑا بخشنے والا بڑا مہربان ہے بغیر توبہ کے آخرت کا گناہ معاف نہیں ہوتا اور سرقہ کی حد تو بہ کرنے سے بھی معاف نہیں ہوتی ورنہ چور چوری کرنے کے بعد توبہ کرلیا کریں گے اور سرقہ کی سزا سے رہا ہوجایاکریں گے توبہ سے اللہ کا حق معاف ہوجاتا ہے تو بہ سے بندوں کے حق معاف نہیں ہوتے محض توبہ کرنے سے چور سزا سے نہیں بچ سکتا۔ لطائف ومعارف۔ (1) ۔ کتاب وسنت نے چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا مقرر کی ہے جو غایت درجہ عادلانہ اور حکیمانہ سزا ہے اور اس عبرت ناک سز اکودیکھ کر چور اور قزاق عبرت پکڑیں گے اور تمام ملک کے اموال اور املاک ظالموں کی دستبرد سے محفوظ ہوجائیں گے آج کل کے مدعیان تہذیب اس قسم کی سزا کو وحشیانہ سزا کے نام سے موسوم کرتی ہیں لیکن ان کو یہ خیال نہیں آتا کہ کہ چوری بھی کوئی وحشیانہ حرکت ہی اگر کسی وحشیانہ حرت کے انسداد کے لیے وحشیانہ سزا تجویز کردی جائے تو کیا مضائعہ ہے چوری اگر تہذیب کے مطابق ہوتی تب تو یہ کہنا بجا ہوتا کہ چور کا ہاتھ کاٹنا خلاف تہذیب ہے گویا کہ یہ تعلیم یافتہ طبقہ ان چوروں کا وکیل بنا ہوا ہے جن کے نزدیک چوری تو خلافت تہذیب نہیں البتہ چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا یہ خلاف تہذیب ہے۔ حکایت۔ ابوالعلاء شاعر نے حد سرقہ پر اعتراض کیا کہ جب شریعت نے ایک ہاتھ کی دیت پانسو دینار رکھی ہے تو اتنا قیمتی ہاتھ جس کے کاٹ ڈالنے سے پانچ سو دینار واجب ہوں وہ دس پانچ درہم کی چوری میں کیسے کاٹا جاسکتا ہے۔ اور یہ شعر پڑھے، ید بخمس مئین عسجد ودیت مابالہا قطعت فی ربع دینار تحکم مالنا الاالسکوت لہ، وان نعوذ بمولانا من النار۔ قاضی عبدالوہاب مالکی (رح) تعالیٰ نے اس کے جواب میں کیا خوب فرمایا۔ لما کانت امینۃ کانت ثمینہ ولما خانت ھانت۔ جب تک وہ ہاتھ امین تھا تو بڑا قیمتی تھا اور جب اس نے خیانت کی تو ذلیل و خوار ہوگیا۔ (2) ۔ یہ سزا نبی ﷺ نے اپنی حیات میں دی جیسا کہ احادیث صحیح میں بکثرت وارد ہے اور آپ کے بعد خلفاء راشدین سے لے کر خلفاء بنی العباس تک اسی قانون پر عمل درآمد ہوتا رہا اور شاہان اسلام کے دور حکومت میں قضاۃ اور حکام یہ حد جاری کرتے رہے کتب تاریخ اس پر شاہد عدل ہیں جب سے مغربی تہذیب کا دور دورہ شروع ہوا اور یہ شرعی سزا موقوف ہوئی اس وقت سے چوری کا بازار گرم ہے بدمعاش لوگ جیل خانہ کو اپنا گھر سمجھتے ہیں اور اس زمانہ میں تو عدالت کی کوئی وقت نہیں رشوت اور سفارش سے بری ہوجاتے ہیں۔ 3) ۔ اس آیت میں اللہ نے صرف چور کے ہاتھ کاتنے کا حکم دیا ہے مگر اس کی تصریح نہیں فرمائی کہ کون ساہاتھ کاٹاجائے اور کس جگہ سے کاٹا جائے لیکن احادیث صحیحہ اور اجماع امت سے ثابت ہے کہ داہنا ہاتھ پہنچے سے کاٹا جائے۔ 4) ۔ رہایہ امر کہ کس قدر مال کی چوری پر ہاتھ کاٹا جائے سو اس بارے میں ائمہ مجتہدین کا اختلاف ہے امام شافعی کے نزدیک ربع دینار کی چوری پر قطع ید لازم ہے اور امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک دس درہم کی چوری پر اور امام مالک اور امام احمد کے نزدیک تین درہم کی چوری پر تفصیل کے لیے شروع ھدایہ اور شروخ بخاری کو دیکھیے۔ 5) ۔ شریعت نے چوری کی سزا میں ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا مگر زنا کی سزا میں زانی کی شرمگاہ قطع کرنے کا حکم نہیں دیا اس لیے کہ شرمگاہ کے قطع کرنے سے قطع نسل لازم آئے گا اس لیے یہ امر مشروع نہ ہوا۔
Ayah 5:40

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 5:40 in the Quran reader

کیا تم کو معلوم نہیں کہ آسمانوں اور زمین میں خدا ہی کی سلطنت ہے ؟ جس کو چاہے عذاب کرے اور جسے چاہے بخش دے۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔

اثبات ملکیت ومشیت وقدرت برائے باری تعالی۔ قال تعالی، الم تعلم ان اللہ۔۔۔۔ الی۔۔۔ قدیر۔ آیت۔ ربط) ۔ گذشتہ آیت میں مغفرت اور رحمت کا بیان تھا اب اس آیت میں اپنی مالکیت اور کمال قدرت کو بیان فرماتے ہیں اے مخاطب کیا تجھے یہ معلوم نہیں کہ اللہ ہی کے لیے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی وہ جس کو چاہے عذاب دے اور جس کو چاہے بخشے اور معاف کرے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے جو چاہے حکم دے اور جو چاہے سزا دے وہ مالک مطلق اور حاکم مطلق ہے کوئی اس کے حکم کو رد نہیں کرسکتا۔