Ayahs 5:73–76ابطال عقیدہ تثلیث۔
قال اللہ تعالی، لقد کفرالذین قالوا ان اللہ ثالث۔۔۔ الی۔۔۔ العلیم۔
گذشتہ آیات میں نصاری کے اس فرقہ کا رد تھا جو یہ کہتا تھا کہ اللہ یہی مسیح کی صورت میں آیا ہے یہ فرقہ ملکانیہ تھا اور یعقوبیہ تھا جیسا کہ پہلے گذرچکا ہے اب آئندہ آیات میں نصاری کے ان فرقوں کا رد ہے جو تثلیث کے قائل ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ خدا تین حصہ ہوگیا اور ایک اللہ رہا اور ایک مسیح اور ایک روح القدس اور بعض نصاری بجائے روح القدس کے حضرت مریم کو تثلیث میں شامل کرتے ہیں۔ اور مسیح کے ساتھ ان کی والدہ مریم کی عبادت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بتلایا کہ پہلے قول کی طرح یہ تثلیث کا قول بھی صریح کفر ہے چناچہ فرماتے ہیں البتہ جس طرح عقیدہ اتحاد اور حلول کفر ہے اسی طرح عقیدہ تثلیث بھی کفر ہے پس بلاشبہ وہ لوگ بھی کافر ہوئے جنہوں نے یہ کہا خدا تین معبودوں کا تیسرا معبود ہے یعنی خدا تین ہیں باپ بیٹا، روح القدس اور ہر ایک دوسرے کا عین ہے یہ قول نصاری کے دو فرقوں مرقوسیہ اور نسطوریہ کا تھا اور زمانہ حال کے اکثر نصاری کا یہی عقیدہ ہے اور بعض نصاری تثلیث کے تو قائل تھے مگر بجائے روح القدس کے حضرت مریم کو تثلیث میں داخل کرتے تھے ان کا عقیدہ یہ تھا کہ اللہ اور عیسیٰ بن مریم اور مریم تین معبود ہیں اور الوہیت ان تینوں کے درمیان مشترک ہے جیسا کہ اس سورت کے اخیر کے اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح سے یہ سوال، ا انت قلت للناس۔۔ الی۔۔ دون اللہ۔ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس آیت میں یعنی ان اللہ ثالث ثلاثہ۔ میں اصل مقصود ان قائلین تثلیث کا رد کرنا ہے جو اللہ کے سوا حضرت مسیح اور حضرت مریم کو خدا مانتے تھے جیسا کہ سدی سے منقول ہے کہ یہ آیت نصاری کے اس گروہ کے رد میں نازل ہوئی ہے جو خدا کے ساتھ مسیح اور ان کی والدہ مریم کو خدا ٹھہراتے تھے اور سیاق وسباق سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے اس لیے کہ آئندہ آیت وامہ صدیقہ۔ میں حضرت مریم کا خاص طور پر ذکر فرمایا اور پھر کانا یاکلون الطعام میں حضرت مسیح اور مریم دونوں کو ملا کر ان کی الوہیت کا ابطال فرمایا غرض یہ کہ تثلیث جس قسم کی بھی ہو بہرحال سراسر شرک ہے اس لیے اللہ نے تثلیث کو کفر قرار دیا اور فرمایا کہ بلاشبہ وہ لوگ کافر ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ خدا تین میں کا تیسرا ہے حالانکہ نہیں ہے کوئی معبود مگر ایک ہی ذات کیونکہ خدا وہ ہے کہ جو خود بخود ہو اور تمام کائنات کا مبداء ہو اور منتہا ہو اور مبداء کل اور منتہائے کل واحدنیت ہی کے ساتھ موصوف ہوسکتا ہے اس میں شرکت کی گنجائش نہیں اور حضرت عیسیٰ کی ہی شان نہیں تمام ملتوں اور شریعتوں کا اس پر اتفاق ہے کہ خداوند معبود وہ ہے کہ جو واجب الوجود ہو اور واہب الوجود ہو واجب الوجود کے معنی یہ ہیں کہ وہ اپنی ذات سے خود بخود موجود ہو اور واہب الوجود کے معنی یہ ہیں کہ وہ اپنے ماسوا کو وہ حدود اور قیود سے پاک اور منزہ ہو اور یہ مضمون قرآن کریم کی بیشمار آیتوں سے ثابت ہے اور یہ امر ظاہر ہے کہ کوئی انسان اور بشر اور کوئی حیوان اور جانور اور کوئی شجر اور حجر کوئی شئی بھی مبداء کل نہیں بن سکتی اس لیے کہ ہر چیز ایک خاص اور معین حد رکھتی ہے کہ اس سے باہر قدم نہیں رکھ سکتی ہر ایک متناہی اور محدود ہے اور مقید بقیود ہے پس ثابت ہوا کہ ان میں سے کوئی چیز خدا نہیں ہوسکتی لہذا جب عیسیٰ بھی خدا اور معبود نہیں ہوسکتے اس لیے وہ حادث تھے اور محدود اور متناہی وجود اور تشخص رکھتے تھے اور مبداء کل نہ تھے اور اگر یہ دونوں گروہ اپنے اپنے اقوال کفریہ سے باز نہ آئے اور عقیدہ حلول و اتحاد اور عقیدہ تثلیث سے تائب ہو کر توحید کے قائل نہ ہوئے تو خوب سمجھ لو کہ جو لوگ ان میں سے اپنے کفر پر قائم ہیں یعنی عقیدہ حلول و اتحاد یا عقیدہ تثلیث پر قائم ہیں ان کو ضرور دردناک عذاب پہنچے گا انصاری اپنے اس کفروشرک سے اللہ کے سامنے توبہ نہیں کرتے اور اس سے معافی نہیں مانگتے یعنی ان کو چاہیے کہ اپنے اقوال کفریہ سے توبہ کریں اور اس سے اپنے گناہ بخشوائیں اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے وہ توبہ سے بڑے بڑے گناہ کو معاف کردیتا ہے۔
دلائل ابطال الوہیت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) ۔
اب یہاں سے ان کے عقیدہ فاسدہ کے ابطال پر دلائل شروع ہوتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں اور کچھ نہیں وہ مسیح جن کا حدوث ساری دنیا کو معلوم ہے وہ مریم کے بیٹے ہیں ایک عورت کے پیٹ سے وجود میں آئے ہیں مگر وہ خدا کے رسول ہیں صرف رسالت کے ساتھ موصوف ہیں معاذ اللہ ربوبیت اور الوہیت کے ساتھ موصوف نہیں جو ذات عدم کے بعد ایک عورت کے پیٹ سے وجود میں آئے وہ خدا کیسے ہوسکتی ہے ان سے پہلے اور بھی پیغمبر گذر چکے ہیں جن کو اللہ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرح معجزات قاہرہ اور نشانات باہرہ عطا کیے اور نصاری بھی ان کو خدا اور خدا کا بیٹا نہیں کہتے جس طرح کے خوارق اور معجزات حضرت مسیح سے ظاہر ہوئے اسی طرح کے معجزات دوسرے حضرات انبیاء کرام سے ظہور میں آئے معجزات کا ظاہر ہونا الوہیت کی دلیل نہیں بلکہ نبوت اور رسالت کی دلیل ہے اگر بغیر باپ کے پیدا ہونا الوہیت کی دلیل ہے تو حضرت آدم اور ملائکہ کرام اس شان میں حضرت مسیح سے بہت بڑھے ہوئے ہیں اور اگر مردوں کو زندہ کرنا خدائی کی دلیل ہے تو حضرت الیاس اور حضرت الیسع کا مردوں کو زندہ کرنا کتاب السلاطین باب میں مذکور ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عصا کا اژدھا بن جانا اور مذبوحہ گائے کے گوشت کا ٹکڑا لگا دینے سے مقتول کا زندہ ہوجانا اور زندہ ہو کر اپنے قاتل کا نام بتادینا علماء اہل کتاب کے نزدیک بھی مسلم ہے مگر یہ لوگ حضرت موسیٰ کو خدا نہیں کہتے اور اگر آسمان پر اٹھایا جانا دلیل الوہیت ہے تو حضرت ایلیاء کا آسمان پر اٹھایا جانا دوسری کتاب السلاطین باب دوم میں مذکور ہے اور فرشتے تو دن رات آسمان پر آتے جاتے ہیں تو کیا وہ خدا ہوگئے اور حضرت عیسیٰ کی والدہ ماجدہ صدیقہ تھیں بڑی ولی اور صاحب کرامات تھیں خدا نہ تھیں، وصدقت بکلمات ربھا وکتبہ وکانت من القانتین۔ آیت۔ مطلب یہ کہ حضرت عیسیٰ خدا کے رسول تھے اور صاحب معجزات تھے اور ان کی والدہ ولیہ اور صاحب کرامات تھیں مگر خدا ان میں سے کوئی بھی نہ تھا اور نہ یہ وہ اس لیے کہ دونوں ماں بیٹے کھانا کھایا کرتے تھے مطلب یہ ہے کہ حوائج بشری میں وہ سب انسانوں کی طرح تھے جس طرح سب لوگوں کو بھوک اور پیاس لگتی ہے اور پیشاب اور پاخانہ کی ضرورت لاحق ہوتی ہے اسی طرح وہ بھی کھانا کھاکرزندہ رہتے تھے اور ان کو بھی بھوک پیاس لگتی تھی اور پیشاب وغیرہ کی ضرورت لاحق ہوتی تھی بس وہ دونوں کیونکر خدا ہوسکتے ہیں خدا تعالیٰ ان باتوں سے منزہ ہے مطلب یہ کہ جو بشری حاجتوں میں گھرا ہو ہو وہ خدا کیسے ہوسکتا ہے خدا تعالیٰ نے ان کے قول کے بطلان پر یہ دلیل قائم فرمائی جو نہایت عجیب دلیل ہے وہ یہ کہ وہ دونون یعنی مسیح اور ان کی والدہ کھانے اور پہننے کے محتاج تھے اور خدائی اور احتیاج کا جمع ہونا دن اور رات کے جمع ہوجانے سے زیادہ محال ہے اللہ وہ ہے جو کسی کا محتاج نہ ہو اور سب اس کے محتاج ہوں اور ظاہر ہے کہ جو شخص غذا کا محتاج ہوگا وہ غذا کے وجود اور اس کے سامان کا پہلے محتاج ہوگا ایک دانہ حاصل کرنے کے لیے بغیر زمین اور آسمان اور چاند اور سورج اور ہوا اور پانی اور گرمی اور سردی حتی کہ بغیر کھاد اس کو کوئی چارہ نہیں خلاصہ یہ کہ جو غذا کا محتاج ہوگا وہ زمین سے لے کر آسمان تک تمام چیزوں کا محتاج ہوگا پس معاذ اللہ خدا بھی کھانے کا محتاج ہو تو ایک خرابی تو یہ لازم آئے گی کہ خدا بھی اپنے وجود میں دوسروں کا محتاج ہو حالانکہ سنا سب سے یہی تھا کہ خدا کسی کا محتاج نہیں ہوتا اور سب اللہ کے محتاج ہوتے ہیں مگر یہاں ماجرا برعکس نکلا کہ خدا ہی دوسروں کو محتاج اور دست نگر ہوا اور دوسری خرابی یہ لازم آئے گی کہ پھر خدا اور بندہ میں کیا فرق رہا بندہ کی طرح خدا بھی محتاج نکلا خدا کے لیے تو یہ چاہیے تھا کہ وہ سب سے بےنیاز ہو کر اس لیے کہ جتنی حکومت بڑھتی ہے اسی قدر بےنیازی میں اضافہ ہوجاتا ہے پس کیا اس احکم الحاکمین کے لیے ہر طرح سے استغناء اور بےنیازی ضروری نہ ہوگی تیسری خرابی یہ ہے کہ بشر غذا کا اس لیے محتاج ہوتا ہے کہ اس کا وجود بغیر غذا کے تھم نہیں سکتا اور بغیر غذا کے زندہ اور موجود اور باقی نہیں رہ سکتا جس کا حاصل یہ ہوا کہ بشر کا وجود اصلی اور خانہ زاد نہیں ورنہ اپنا وجود تھامنے میں دوسروں کا دست نگر نہ ہوتا پس اگر خدا بھی غذا اور سامان کا محتاج ہو تو یہ مطلب ہوگا کہ معاذ اللہ خدا سے اپنا وجود آپ تھم نہیں سکتا اور اپنے وجود اور حیات اور بقاء میں سامان غذا کا محتاج ہے پس جو ذات تمام انسانوں کی طرح اپنے وجود اور بقاء میں غذآ اور سامان غذا کا محتاج ہے پس جو ذات تمام انسانوں کی طرح اپنے وجود اور بقاء میں غذا اور سامان سے مستغنی نہ ہو بھوک اور پیاس اور پیشاب کی ضرورت اس کو لاحق ہوتی ہو وہ ذات خدا کیونکر بن سکتی ہے۔ یہ ایسی قوی اور واضح اور روشن دلیل ہے جس پر نہ کوئی حکیم اور فلسفی کسی قسم کا نقض وارد کرسکتا ہے اور نہ کسی جاہل کو اس کے سمجھنے میں دشواری ہوسکتی ہے یعنی کھانا پینا الوہیت کے منافی ہے اگرچہ نہ کھانا الوہیت کی دلیل نہیں ورنہ سارے فرشتے خدا بن جائیں معاذ اللہ دیکھیے تو سہی کہ ہم کس طرح ان کیلیے مسیح کی اثبات بشریت کے ایسے دلائل اور براہین بیان کرتے ہیں جو آفتاب سے زیادہ روشن ہیں مگر بایں ہمہ وہ قبول حق سے روگرداں ہیں اور ان کو خدا ہی کہے جاتے ہیں۔
دلیل دیگر برابطال الوہیت مسیح مع توبیخ۔
اے نبی آپ ان سے کہہ دیجئے کہ کیا تم مسیح اور ان کی والدہ کی پرستش کرتے ہو جن کا درجہ تمہارے نزدیک بھی خدا سے کم تر اور فروتر ہے اور خدا کے برابر نہیں حضرت عیسیٰ نصاری کے نزدیک خدا کے بیٹے تھے باپ کے ہم مرتبہ نہ تھے اور ظاہر ہے کہ جو کم تر ہوگا اور کسی سے مرتبہ میں کم ہوگا وہ خدا نہیں ہوسکتا اس لیے کہ عقلا خدا کے لیے ضروری ہے کہ خدا سب سے اعلی اور برتر ہو جو کسی سے بھی کم تر ہو وہ خدا نہیں ہوسکتا علاوہ ازیں تم ایسی ذات کی پرستش کرتے ہو جو تمہارے کسی ضرر اور کسی نفع کا مالک نہیں معلوم ہوا کہ خدا وہی ہوسکتا ہے جو کہ تمام کے نفع اور ضرر کا مالک ہو۔ نصاری بتلائیں کہ جس وقت مسیح نے صلیب پر چلا کا جان دی اس جان دینے کے وقت بھی مسیح مجسم خدا تھا یا نہی اور اس وقت ان میں اور خدا میں عینیت تھی یاغیریت تھی اور صلیب پر جس نے جان دی وہ خدا تھا یا بندہ تھا علماء نصاری ہی اس عقدہ کو حل کریں۔
علماء فرنگ کا ایک عذر لنگ۔ اور تحمیق وتجہیل سے بچنے کے لیے ایک عجیب و غریب تاویل۔
نصاری جب اس نامعقول عقیدہ تثلیث کی تفہیم سے اور مسلمانوں کے دلائل عقلیہ اور نقلیہ کے جواب سے عاجز ہوجاتے ہیں تو یہ عذر کرتے ہیں کہ یہ تثلیث فی التوحید خدا کا ایک بھید ہے ہم نہیں سمجھ سکتے یہ سب دھوکہ اور فریب ہے اور اپنی بےعقلی اور حماقت کی پردہ پوشی ہے عقیدہ تثلث سراسر خلاف عقل ہے فوق العقل اور ماوراء عقل نہیں فوق العقل اس چیز کو کہتے ہیں کہ جس کے ادراک سے عقل قاصرہ اور درماندہ ہو اور وہ چیز ادراک اور مشاہدہ سے بالا اور برتر ہو اور خلاف عقل وہ چیز ہے کہ عقل دلیل اور برہان کی بناء پر اس کی نفی کرتی ہو اور اس کو مردود اور باطل اور محال قرار دیتی ہو مثلا عقل حکم کرتی ہے کہ ایک شی میں وجود اور لاوجود کا اجتماع اور ارتقاع محال ہے اور اسی طرح ایک شئی میں وحدت اور کثرت کا اجتماع اور ارتقاع زوجیت اور فردیت کا اجتماع اور ارتفاع ناممکن اور محال ہے اور اسی طرح عقل حکم کرتی ہے کہ ایک محل میں ضدین کا اجتماع محال ہے مثلا نور اور ظلمت کا اور حمرت اور صفرت کا اور حرارت وبرودت کا اور بینائی اور نابینائی کا اور حرکت سکون کا ایک مادہ واحد شخصیہ میں ایک جہت اور ایک حیثیت سے اجتماع محال ہے ہر عاقل کی عقل اس کے محال اور ناممکن ہونے کا حکم کرتی ہے اور جو شخص ان چیزوں کو ممکن سمجھے وہ عقل سے کو را اور بےبہر ہے یہ چیزیں خلاف عقل ہیں فوق العقل اور وراء العقل نہیں اسی طرح توحید اور تثلیث کا اجتماع اور اتحاد سراسر خلاف عقل ہے وراء عقل نہیں عقل دلائل اور براہیم سے خالق اور مخلوق اور عابد اور معبود کے اتحاد کو باطل اور مردود قرار دیتی یہ نہیں کہ عقل اس کے ادراک سے قاصر ہے دیکھوازالہ اوہام ص 240، تا۔ س 244۔ بلکہ تمام اہل اسلام اور اہل کتاب کا اس پر اتفاق ہے اگر کلام الٰہی میں کوئی ایسی شی پائی جائے کہ ادلہ عقلیہ اور نقلیہ کے خلاف ہو تو اس میں تاویل واجب ہے اور ظاہری معنی پر اس کو محمول کرنا جائز نہیں۔ حافظ ابن تیمیہ فرماتے ہیں، فان الانبیاء علیھم السلام یخبرون الناس بما تقصر عقولھم عن معرفتہ لابمایعرفون انہ ممتنع فیخبرونھم بمجا وارت العقول لابمحالات العقول دیکھو الجواب الصیح ص 377 ج 1۔ مطلب یہ کہ حضرات انبیاء امورغیبیہ اور عالم غیب کی چیزوں کی خبر دیتے ہیں جو ادراک اور احساس سے بالاتر ہیں مگر ان میں کوئی شی محال اور ناممکن نہیں حضرات انبیاء کرام نے ملائکہ اور جنت اور جہنم کی خبر دی ان میں سے کوئی چیز بھی عقلا محال نہیں البتہ فی الحال ہمارے ادراک اور مشاہدہ سے بالا اور برتر ہیں یہ چیزیں معلوم الوجود اور مجہول الکیفیت ہیں ایسی چیزوں کو انبیاء کرام کے اعتماد پر تسلیم کرنے کا نام ایمان بالغیب ہے معاذ اللہ کسی نبی نے محال اور ناممکن شئی پر ایمان لانے کی دعوت نہیں دی اور جن امور غیبیہ پر انبیاء کرام نے ایمان لانے کا حکم دیا ہے وہ دنیاوی زندگی میں غیب ہیں قیامت کے دن جب ان سے پردہ اٹھا دیا جائے گا تو سب کچھ آنکھوں سے نظر آجائے گا۔
اطلاع) ۔ عقیدہ تثلیث کا مفصل ابطال سورة نساء کی اس آیت ولاتقولوا ثلاثہ۔ آیت۔ کی تفسیر میں گذرچکا ہے اور اس ناچیز نے اس موضوع پر احسن الحدیث فی ابطال التثلیث کے نام سے ایک مسقتل رسالہ بھی لکھ دیا ہے طالبان حق اس کی مراجعت کریں۔ وما علینا الاالبلاغ۔
Ayahs 5:77–82تنبیہ اہل کتاب برسبب گمراہی ایشان، وممانعت از اتباع گمراہان پیشینان۔
قال اللہ تعالی، قال یا اھل الکتاب لاتغلوا فی دینکم۔۔۔ الی۔۔۔ یستکبرون۔
ربط) ۔ اوپر کی آیتوں میں نصاری کے عقائد باطلہ اورا ن کی طمراہی کا بیان تھا اب ان آیات میں اہل کتاب کی گمراہی اور تباہی کا سبب بیان کرتے ہیں اور گمراہوں کی پیروی سے منع فرماتے ہیں اہل کتاب کی گمراہی کا سبب یہ ہوا کہ ان لوگوں نے دین میں غلو کیا اور افراط اور تفریط سے کام لیا نصاری نے حضرت عیسیٰ کے حق میں یہ غلو کیا کہ ان کو خدا ٹھہرایا یہ افراط ہوا اور یہود نے ان کو ایسا گھٹایا کہ ان کی نبوت کو بھی نہ مانا اور انکو ساحر اور کذاب بتلایا اور ان کی والدہ ماجدہ مریم صدیقہ پر زنا کی تہمت لگائی یہ تفریط ہوئی اور ہر بدعت وضلالت کا سبب یہی غلو فی الدین یعنی افراط وتفریط ہے چناچہ فرماتے ہیں آپ ان سے کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب تم اپنے دین میں ناحق حد سے تجاوز نہ کرو یعنی دین کے بارے میں افراط اور تفریط دونوں ہی مذموم ہیں یہود کا غلو عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں یہ تھا کہ وہ ان کی ماں پر زنا کی تہمت لگاتے تھے اور ان کو مولود ناجائز بتلاتے تھے اور نصاری کا یہ غلو تھا کہ وہ ان کو خدا اور خدا کا بیٹا سمجھتے تھے اور اللہ نے فرمایا اے اہل کتاب تم اپنے دین کے بارے میں ناحق غلو کو راہ نہ دو جو اصل بات ہے اس پر قائم رہو اصل بات یہ ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے مقرب اور برگزیدہ بندے اور رسول ہیں اور ان کی پیدائش خدا کی قدرت یعنی کلمہ کن سے ہوئی وہ نہ خدا ہیں اور نہ خدا کے بیٹے جیسا کہ نصاری کا خیال ہے اور نہ کذاب اور مفتری جیسا کہ یہود کا خیال ہے اور اے اہل کتاب تم ان لوگوں کو خواہشوں اور بلالیل خیالات کی پیروی نہ کرو جو تم سے پہلے خود بھی گمراہ ہوئے اور اپنے سوا اور بہتوں کو بھی گمراہ کیا اور یہ باطل عقیدے لوگوں میں پھیلا گئے تم ان کی راہ پر نہ چلنا اور یہ لوگ سیدھی راہ سے بہک چکے ہیں اور غلو اور افراط اور تفریط کی وجہ سے حد لعنت کو پہنچ چکے ہیں چناچہ جن لوگوں نے بنی اسرائیل میں سے کفر کی راہ اختیار کی ان پر اللہ کی طرف سے داود اور عیسیٰ بن مریم کی زبان پر لعنت کی گئی جن لوگوں پر داود (علیہ السلام) کی زبانی لعنت ہوئی وہ اصحاب سبت نے جب سبت (ہفتہ) کے دن مچھلیوں کا شکار کیا جس کی ان کو ممانعت تھی تو داود (علیہ السلام) نے ان کے لیے بددعا کی بار خدایا ان پر لعنت فرما اور ان کو بندر بنادے چناچہ آپ کی بددعا سے وہ سب آدمی بندر بن گئے اور اصحاب مائدہ نے جب اس خوان سے جو ان کی درخواست اور طلب پر آسمان سے اترتا تھا کھایا اور اس سے ذخیرہ جمع کیا اور پھر بھی ایمان نہ لائے تو عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کے لیے بددعا کی اور کہا اے میرے پیروردگار ان پر لعنت کر ان کو سور بنادے چناچہ وہ سب سور بنادیے گئے اور یہ لعنت اس لیے ہوئی کہ اللہ کی نافرمانی اور حد سے تجاوز کرتے تھے حضرت داود اور حضرت عیسیٰ کی لعنت اس درجہ تباہ کن اور مہلک ثابت ہوئی کہ اعلانیہ طور پر بندر اور سور کی شکل میں مسخ کردیے گئے تاکہ دیکھ کر لوگ عبرت پکڑیں کہ انبیاء کرام کی معصیت اور لعنت کا کیا نتیجہ ہوتا ہے باقی رہا مسخ معنوی وہ ایک امر خفی ہے جو ظاہری طور پر عبرت کا سبب نہیں بن سکتا نیز مسخ باطنی اور معنوی کسی خاص زمانہ کے ساتھ مخصوص نہیں اس زمانہ میں بھی جو لوگ حدود شریعت سے نکل چک ہیں اور معصیت پر دلیر اور بےباک ہوچکے ہیں دل اور باطن ان کا بھی مسخ ہوچکا ہے اللہ ہم کو اپنی پناہ میں رکھے آمین۔ وہ آپس میں ایک دوسرے کو اس برے کام سے منع کرتے تھے جس برے کام کو وہ خود کرتے تھے یعنی وہ اپنے سابق عصیان اور اعتداء پر قائم اور مستمر تھے بلاشبہ وہ کام بہت برا تھا جو وہ کرتے تھے یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو چھوڑ دینا یہ بہت ہی برا کام ہے جو شخص باوجود قدرت کے برائی سے روک ٹوک نہیں کرتا گویا کہ درپردہ اس برائی پر راضی ہے اور ایک معنی کر اس میں شریک ہے۔
ذکر یہود حاضرین۔
اوپر کی آیت میں یہود کے اسلاف کا ذکر تھا اب حضور پرنور کے زمانہ کے یہود کا ذکر فرماتے ہیں اے نبی آپ ان یہود میں سے بہت سوں کو دیکھیں گے کہ آپ کی عداوت میں اس درجہ غلو کرچکے ہیں آپ کی دشمنی میں کافروں سے یعنی بت پرستوں سے دوستی کرتے ہیں اور آپ کے مقابلہ میں اہل مکہ کی مدد کرتے ہیں حالانکہ خوب جانتے ہیں کہ آپ حق پر ہیں اور وہ باطل پر ہیں بیشک برا ہے وہ کام جو انہوں نے مرنے سے پہلے آخرت کا عذاب بھگتنے کے لیے آگے بھیجد یا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ ان پر ناراض ہو اور ہمیشہ عذاب میں رہیں گے یعنی ان کے اعمال خدا کے غضب اور دائمی عذاب کا باعث بنے اور اگر یہ لوگ ایمان لاتے خدا وحدہ لاشریک لہ پر اور ایمان لاتے اس نبی پر جس کی بشارت توریت اور انجیل میں لکھی ہوئی پاتے ہیں اور ایمان لاتے اس کتاب پر جو اس نبی آخرالزمان پر اتاری گئی تو ان بت پرست کافروں کو دوست نہ بناتے اور خدا پرستوں کے مقابلہ میں بت پرستوں کو ترجیح نہ دیتے لیکن اکثر ان میں سے بدکار ہیں اور حد سے تجاوز کرچکے ہیں اور اسلام اور مسلمانوں کی دشمنی میں غرق ہیں اے نبی البتہ آپ مسلمانوں کو دشمنی میں سب لوگوں سے زیادہ سخت یہود کو پاؤ گے اور ان کو کہ جو مشرک ہیں اور غیر مسلم قوموں میں سے مسلمانوں کے ساتھ دوستی رکھنے کے لحاظ سے سب سے زیادہ قریب ان لوگوں کو پائیں گے جو یہ کہتے ہیں کہ ہم نصرانی ہیں مطلب یہ کہ دوست تو یہ بھی نہیں مگر یہود اور مشرکین کے لحاظ سے غنیمت ہیں کہ دوستی کا دم تو بھرتے ہیں یہ دوستی میں ان کا قریب ہونا اس سبب سے ہے کہ ان میں کچھ لوگ عالم ہی اور کچھ لوگ درویش یعنی گوشتہ نشین اور تارک الدنیا ہیں اور اس کے سبب سے کہ یہ تکبر نہیں کرتے اور اس علم اور درویشی اور تواضع کا یہ اثر ہوا کہ مسلمانوں سے دوستی رکھنے کے لحاظ سے قریب ہوگئے یہ آیت نصاری کے ایک خاص گروہ یعنی نجاشی اور اس کے اصحاب کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے قرآن سن کر اسلام قبول کرلیا اور جب انہوں نے قرآن سنا تو ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے جس کا بیان آئندہ آیت میں آئے گا۔
فائدہ) ۔ اللہ جل شانہ نے اس آیت میں نصاری کے قرب مودت کا سبب بیان فرمایا کہ علم اور درویشی اور تواضع کی وجہ سے نصاری میں قبول حق کی استعداد یہود اور مشرکین سے زیادہ موجود ہے اور انکی طبیعت اوروں سے نرم ہے اس لیے ایسے نصاری جن میں یہ اوصاف پائے جاتے ہو بہ نسبت یہود اور مشرکین کے مسلمانوں کی عداوت کم اور ان سے دوستی میں قریب ہیں آیت میں جو اوصاف بیان کیے گئے ہیں وہ عہد نبوی کے عیسائیوں اور یہودیوں کے بیان کیے گئے اس کے بعد جب کبھی اور جہاں کہیں جس مقدار میں یہ اوصاف موجود ہوں گے اسی نسبت سے اسلام اور مسلمانوں کی محبت اور عداوت میں قریب اور بعید ہوں گے نبی ﷺ کے زمانہ میں جو نصاری تھے ان میں قبول حق اور سلامت روی کا مادہ اور قوموں سے زیادہ تھا چناچہ قیصر روم اور مقوقس شاہ مصر اور نجاشی شاہ حبشہ نے جو معاملہ آپ کے پیغام رسالت اور آپ کے صحابہ کے ساتھ کیا وہ اس کا شاہد عدل ہے بہ نسبت یہود کے نصاری نے زیادہ اسلام قبول کیا۔
خلاصہ کلا یہ کہ آیت میں نصاری کی جو مدح کی گئی وہ علی الاطلاق نہیں بلکہ وہ بمقابلہ یہود اور مشرکین ہے کہ ان سے غنیمت ہیں اور یہ مطلب نہیں کہ نصاری تمہارے محب اور خیرخواہ ہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ بہ نسبت یہود اور ہنود کے غنیمت ہیں اور پھر نصاری سے وہ نصاری مراد ہیں جو فی الحقیقت نصرانی ہوں اور کسی درجہ میں اوصاف مذکورہ کے ساتھ موصوف ہوں اور عابد وازاہد اور گوشہ نشین ہوں اور مغرور اور متکبر نہ ہوں اور نرم دل ہوں اور سنگ دل نہ ہوں اور وہ نصاری مراد نہیں جو محض نام کے نصرانی ہیں اور درپردہ وہ دھری اور لامذہب ہیں جیسے آج کل کے مغربی اقوام جو اسلام اور مسلمانوں کے شدید ترین دشمن ہیں جن کو اللہ سے اور حضرت مسیح سے ذرہ برابر بھی واسطہ نہیں ان کا مطمح نظر اور اصلی مقصود دنیاوی اقتدار ہے اور مکروفریب اور عیاری اور چالاکی ان کا شعار ہے آج کل کے نصاری ان صفات کے ساتھ موصوف نہیں جن کا ذکر آیت میں ہے لہذا موجودہ زمانہ کے نصاری کا وہ حکم نہ ہوگا جو ان نصاری کا ہے جن میں قسیس اور رہبان ہوں یعنی جن نصاری میں خدا ترس اور راہب (اتارک الدنیا) ہوں۔ حدیث میں آیا ہے دنیا کی محبت تمام برائیوں کی جڑ ہے۔
الحمدللہ قد تم تفسیر الجزء السادس من القرآن الکریم وللہ الحمد والمنۃ۔
Ayahs 5:83–86حکایت حال اسلام طائفہ نصرانیان گوشہ نشینان۔ وبیان کیفیت وجد ایشان بوقت سماع قرآن۔
قال اللہ تعالی، واذاسمعوا ماانزل۔۔۔ الی۔۔۔ الجحیم۔
ربط) ۔ اس آیت میں بھی نصاری کی ایک خاص جماعت کا ذکر ہے جو قرآن کریم کو سن کو وجد اور طرب میں آگئے اور قرآن کریم کی لذت سے اس درجہ محفوظ ہوئے کہ آنکھوں سے بےاختیار آنسو رواں ہوگئے اور روتے ہوئے ڈاڑھیاں تر ہوگئیں اور زبان پر یہ کلمات جاری ہوگئے ربنا امنا فاکتبنا مع الشاہدین۔ آیت۔ اور غیر اختیاری طور پر کسی پسندیدہ حالت اور کیفیت کے طاری ہوجانے ہی کا نام وجد ہے۔
شان نزول۔
یہ آیت نجاشی شاہ حبشہ اور اسکے اصحاب کے بارے میں نازل ہوئی جب حضرت جعفر نے سورة مریم پڑھ کر سنائی تو جو علماء اور زھاد وہاں بیٹھے ہوئے تھے سب رونے لگے اور نجاشی بھی برابر روتا رہا اور مسلمانوں سے پوچھا کہ تمہارے پیغمبر عیسیٰ (علیہ السلام) کی نسبت کیا کہتے ہیں صحابہ نے جواب دیا کہ وہ انہیں خدا کا بندہ اور اس کا رسول کہتے ہیں اور ان کی والدہ ماجدہ مریم کو صدیقہ اور ولیہ اور تارک الدنیا کہتے ہیں کہ ان سے بغیر باپ کے جبرائیل امین کی پھونک مارنے سے عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے نجاشی نے زمین سے ایک تنکا اٹھا کر کہا خدا کی قسم عیسیٰ تمہارے پیغمبر کے قول سے تنکا برابر بھی زائد نہیں تمہارے نبی نے عیسیٰ کے متعلق جو کچھ کہا وہ بالکل حق ہے قرآن کریم سن کر نجاشی شاہ حبشہ اور اس کے رفقاء نے اسلام قبول کیا اور اس بات کی شہادت دی کہ یہ وہی پیغمبر ہیں جن کی عیسیٰ بن مریم نے بشارت دی ہے اسی جماعت کے بارے میں یہ آیتیں نازل ہوئیں چناچہ فرماتے ہیں اور اسی قسیت اور رہبانیت اور عدم تکبر کی وجہ سے بعض کا یہ حال ہے کہ ان میں سے بعض جیسے نجاشی شاہ حبشہ اور اس کے رفقاء جب اس کلام کو سنتے ہیں کہ جو بارگاہ خداوندی سے اس پیغمبر آخرالزمان پر اتارا گیا ہے تو اے دیکھنے والے ان کی آنکھوں میں دیکھے گا تو کہ آنسووں سے ابل رہی ہیں بسبب اس کے کہ انہوں نے کچھ حق کو پہچان لیا یعنی ان کے رونے کا سبب یہ تھا کہ ان پر اس کا کلام الٰہی ہونا منکشف ہوا اور اس کلام سے متکلم قدیم کی عظمت اور جلال کا کچھ جلوہ نظر آیا اور جان لیا کہ یہ وہی کلام ہے جس کے اخیر زمانہ میں نازل کرنے اللہ نے نبیوں کی معرفت وعدہ کیا ہے روایات میں ہے کہ حضرت جعفر سورة مریم کی قرات سے فارغ ہوئے تو نجاشی نے زمین سے ایک تنکا اٹھایا اور درباریوں سے یہ کہا کہ بخدا تمہارے صاحب یعنی مسیح بن مریم اس مضمون سے جو قرآن میں حضرت مسیح کی بابت کہا گیا ہے ایک تنکے کے مقدار بھی زائد نہیں، غرض یہ کہ یہ لوگ حق کو پہچان گئے اور سمجھ گئے کہ یہ قرآن کریم انجیل سے کہیں زائد افضل اور اکمل ہے اس لیے یہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم اس نبی آخرالزمان پر اور اس کی کتاب پر دل وجان سے ایمان لے آئے ہیں پس ہم کو حق کے شاہدوں کے ساتھ لکھ لے یعنی ہم کو امت محمدیہ کے زمرہ میں لکھ لے جو دنیا میں حق کی شہادت دیتی ہے اور قیامت کے دن اور امتوں پر گواہی دے گی اور ایک روایت میں ہے کہ حبشہ کے بعض لوگوں نے نجاشی اور اس کے ساتھ ایمان لانے والوں پر طعن کیا کہ تم بغیر دیکھے کیسے ایمان لے آئے تو انہوں نے جواب میں کہا کہ ہم کو کیا ہوا کہ ہم اللہ پر اور اس کے دین حق پر ایمان نہ لائیں جو ہمارے پاس آیا ہے اور ہم یہ توقع رکھتے ہیں کہ ہمارا پروردگار ہم کو نیک بختوں کے زمرہ میں داخل فرمائے گا مطلب یہ ہے کہ جس کو نیک بختوں کے زمرہ میں داخل ہونے کی طمع ہو وہ دین حق کو قبول کرے حق قبول کرنے والوں کو ملامت کرنا یہ نیک بختی نہیں پس اللہ نے ان کو اس مخلصانہ قول کے عوض میں جو انہوں نے صدق دل سے کہا تھا ایسے باغات عطا کیے جن کے درختوں کے نیچے سے نہریں جاری ہیں وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے اور یہی صلہ ہے مخلصین کا اور انکے برعکس جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی اہل دوزخ ہیں ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے بغیر دین حق کے قبول کے محض قسیسیت اور رہبانیت عذاب اخروی سے نہیں بچا سکتی۔
Ayahs 5:87–88حکم پانزدہم ممانعت از رہبانیت۔
قال تعالی، یا ایھا الذین آمنوا۔۔۔ الی۔۔ مومنون۔
شروع سورت میں ایفاء عہود کی تاکید کے بعد احکام فرعیہ اور حلال و حرام کو بیان فرمایا پھر خاص خاص مناسبتوں سے یہود ونصاری کے عقائد اور اعمال کے ذکر کا سلسلہ شروع ہوگیا اب پھر اصل موضوع کی طرف عود فرماتے ہیں اور چونکہ قریبی آیتوں میں نصاری کی تعریف میں یہ فرمایا کہ ان میں کچھ رہبان بھی ہیں اور رہبانیت لذات دنیاوی کے ترک کا نام ہے خواہ وہ حلال ہوں یا حرام اس لیے اس احتمال سے کہ مبادا مسلمان۔ رہبانیت کو اچھی چیز نہ سمجھنے لگیں اس آیت میں اللہ کی حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام سمجھنے کی ممانعت فرماتے ہیں اور یہ حکم دیتے ہیں کہ جو چیزیں خدا نے حلال کی ہیں ان کو کھاؤ ور دل میں خوف رکھو اہل کتاب کی طرح دین میں غلومت کرو نصاری کی رہبانیت بھی دین میں غلو اور افراط کی ایک خاص صورت ہے دور تک اسی طرح احکام کا سلسلہ چلا گیا چناچہ فرماتے ہیں اے ایمان والو تم قسم اور عہد کے ذریعہ اپنے اوپر ان پاکیزہ چیزوں کو حرام مت کرو جو اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہیں نصاری کی طرح رہبانیت اختیار کرنا اور حلال اور پاکیزہ چیزوں کو ترک کردینا عنداللہ کوئی اچھی چیز نہیں یہ دین میں غلو اور افراط ہے جو اللہ کے نزدیک ناپسندیدہ ہے اور حدود شریعت سے آگے نہ بڑھو کہ یہود کی طرح دنیاوی لذات اور شہوات اور حرام خوری میں منہمک ہوجاؤ، شہوات ولذات میں انہماک یہ بھی غلو ہے اور تفریط ہے تحقیق اللہ حد سے گذرنے والوں کو پسند نہیں کرتا اللہ کے نزدیک اعتدال اور توسط پسند یدہ ہے اور اللہ نے تم کو جو حلال اور پاکیزہ چیزیں عطا کی ہیں جن میں حرمت کا شبہ نہیں ان میں سے کھاؤ اور اعتدال کے ساتھ ان کو استعمال کرو نہ حلال سے حرام کی طرف دوڑو اور نہ حلال میں اتنے منہمکم ہوجا ؤ کہ اللہ سے غافل ہوجاؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو جس پر تم ایمان رکھتے ہو اس کے حکم اور رضاء کے خلاف کوئی کام مت کرو۔
شان نزول) ۔ ان آیات کا شان نزول یہ ہے کہ ایک دن جناب رسول اللہ ﷺ نے عثمان بن مظعون کے گھر میں لوگوں کو نصیحت کی اور قیامت کے کچھ احوال بیان کیے لوگ آپ کے اس وعظ سے نہایت متاثر ہوئے اور رونے لگے اس کے بعد اکابر صحابہ میں سے دس آدمی، یعنی ابوبکر، حضرت علی، عبداللہ بن مسعود، اور عبداللہ بن عمر اور ابوذر غفاری اور سالم مولی ابی حذیفہ، اور مقداد بن اسود اور سلمان فارسی، معقل بن مقرن، یہ سب عثمان بن مظعون، ؓ اجمعین کے گھر میں داخل ہوئے اور سب نے اس پر اتفاق کیا کہ دن بھر روزہ اور رات بھر نماز ادا کریں گے اور فرش پر سوجائیں گے اور گوشت اور چربی نہیں کھائیں گے اور نہ عورتوں اور خوشبو کے قریب جائیں گے اور ٹاٹ پہنا کریں گے اور دنیا کو بالکل ترک کردیں گے اور اپنی شرمگاہوں کو کاٹ ڈالیں گے اور راہب بن جائیں گے اور ان باتوں پر قسمیں کھائیں گے اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں اور نبی نے ان لوگوں کو بلا کر یہ فرمایا کہ مجھ کو یہ حکم نہیں دیا گیا میں یہودیت اور نصرانیت دے کر نہیں بھیجا گیا میں تو ملت حنیفہ سمحہ یعنی ملت ابراہیمیہ دے کر بھیجا گیا ہوں جہاں نہایت سہل اور آسان ہے تحقیق تم پر تمہارے نفس کا بھی حق ہے خدا کی قسم میں تم سب سے زیادہ خدا سے ڈرنے والا ہوں لیکن روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں اور رات کو عبادت بھی کرتا ہوں اور اپنی عورتوں کے پاس بھی جاتا ہوں اور نکاح بھی کرتا ہوں جو میری سنت سے روگردانی کرے وہ میری امت سے نہیں (تفسیر قرطبی ص 260 ج 6، تفسیر ابن کثیر۔ ص 87 ج 2) ۔
فائدہ۔ کسی حلال چیز کو اس نیت سے ترک کردینا کہ اس ترک سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوگا یہ رہبانیت ہے جس کو اسلام نے بدعت اور ممنوع قرار دیا ہے اور اگر کسی حلال چیز کو بعض اوقات کسی جسمانی یا نفسانی علاج کی خاطر ترک کردیا جائے تو یہ مباح ہے داخل بدعت نہیں جیسے کسی طبیب جسمانی یاروحانی کے کہنے سے بغرض علاج اگر گوشت وغیرہ سے پرہیز کرلیاجائے تو یہ جائز ہے۔
Ayah 5:89حکم شانزدہم، متعلق بہ قسم۔
قال اللہ تعالی، لایواخذکم اللہ باللغوفی۔۔۔ الی۔۔۔ تشکرون۔
ربط) ۔ اوپر کی آیت میں چونکہ تحریم طیبات کا ذکر تھا اور تحریم کی ایک قسم یمین ہے اس لیے بہت سے لوگ کھانے پینے میں قسم کھالیت ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہی چیز اب ہم پر حرام ہوگئی لہذا اس مناسبت سے اس مقام پر قسم اور کفارہ کے احکام بیان فرماتے ہیں اور ابن عباس سے مروی ہے کہ یہ آیت انہی لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جن کا پہلی آیت میں ذکر ہوچکا ہے ان لوگوں نے قسم کھائی تھی کہ ہم دنیا کو بالکل ترک کردیں گے اور عورتوں کے قریب نہ جائیں گے گذشتہ آیت کے نازل ہونے کے بعد ان قسم کھانے والوں نے نبی ﷺ سے دریافت کیا یارسول اللہ ہم تو ترک لذائذ پر قسم کھاچکے ہیں اب ہم اپن قسموں کا کیا کریں گے اس پر اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ (تفسیر قرطبی ص 264 ج 6، وروح المعانی ص 9 ج 6۔ ) ۔ اللہ تعالیٰ تمہاری فضول اور بےقاعدہ قسموں پر تو مواخذہ نہ کرے گا جن کا حکم سورة بقرہ میں گذر چکا ہے لیکن ان قسموں پر مواخذہ کرے گا جن کو تم نے مضبوط باندھا ہے اور پکا کرلیا ہے پکی قسم سے یہ مراد ہے کہ کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی پختہ طور پر قسم کھائے تو ایسی قسم کا کفرہ اگر آدمی اس کو پورانہ کرے دس محتاجوں کو کھانا دے دینا ہے اوسط درجہ کا جیسا تم اپنے گھروالوں کو کھلاتے ہو یا ان دس مسکینوں کو متوسط درجہ کا کپڑا پہنا دینا ہے یا کسی گردن کو قید غلامی سے چھرا دینا ہے یعنی ایک غلام یا لونڈی آزاد کردینا ہے ان تینوں میں سے جس کو چاہے اختیار کرے پھر جس شخص کو ان تین میں سے کسی ایک پر بھی مقدور نہ ہو یعنی جو شخص بوجہ افلاس دس مسکینوں کو کھاناکپڑا دینے اور غلام آزاد کرنے پر قادر نہ ہو تو اس کی قسم کا کفارہ تین دن کے روزے ہیں جو متواتر رکھنے ہوں گے جیسا کہ ابن مسعود کی قرات میں، فصیام ثلاثۃ ایام متتابعات۔ آیت۔ کا لفظ آیا ہے اور جو قرات متواتر نہ ہو تو کم ازکم خبر واحد یا تفسیر صحابی ضرور سمجھی جائے گی جو مرفوع کے حکم میں ہوگی یہ جو اوپر مذکور ہوا ہے تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب قسم کھابیٹھو پھر اس کو توڑ ڈالو اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو یعنی اگر تم نے کسی جائز امر پر قسم کھائی ہے تو اس کو پورا کرو اور اگر کسی وجہ سے اس کو پورا نہ کرسکو یاس کے توڑنے میں خوئی خوبی اور مصلحت دیکھو تو اس کا کفارہ دو تاکہ تمہارے دلون میں اللہ کے نام کی عظمت محفوظ رہے اور یوں اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اپنے احکام بیان کرتا ہے تاکہ تم شکر کرو اللہ کی نعمتوں کو موقع اور محال میں صرف کرو مثلا زبان کو اللہ کے ذکر اور اس کے احترام اور تعظیم میں صرف کرو جھوٹی قسمیں کھا کر اللہ کے نام کی بےحرمتی نہ کرو اور خدا کا نام لے کر حلال کو اپنے اوپر حرام نہ کرو۔
Ayahs 5:90–93حکم ہفدہم تحریم خمروقمار۔
قال اللہ تعالی، یا ایھا الذین آمنوا انماالخمر۔۔۔۔ الی۔۔۔ المحسنین۔
ربط) ۔ اوپر کی آیتوں میں حلال کو حرام سمجھنے کی ممانعت تھی اب اس آیت میں یہ بیان فرماتے ہیں کہ جیسے حلال کی حرام سمجھنا گناہ ہے ایسے ہی حرام کو حلال سمجھنا بھی گناہ اور حرام ہے جیسے شراب اور جوا وغیرہ وغیرہ، اہل عرب شراب اور جوے کو حلال اور طیب سمجھتے تھے اللہ نے یہ بتلا دیا کہ یہ چیزیں حلال اور طیب نہیں بلکہ خبیث اور جس میں ان سے اجتناب ضروری ہے اور انکا استعمال حرام ہے چناچہ فرماتے ہیں اے ایمان والو ایمان کا مقتضی یہ ہے کہ جس چیز کو اللہ نے حرام کردیا اس کے قریب نہ جاؤ جزایں نیست کہ شراب اور جو ابتوں کے تھان انصاب ان پتھروں کو کہتے ہیں جن کو مشرک لوگ کسی دیوی یا دیوتا کے نام پر کھڑا کردیتے تھے اور ان کو پوجتے تھے اور وہاں قربانیاں کیا کرتے تھے انصاب اور اصنام میں یہ فرق ہے کہ انصاب بےمورت والے پتھر ہوتے تھے اور اصنام موت والے یعنی انصاب ان گھڑت پتھروں کو کو ہتے ہیں جن کو زمانہ جاہلیت میں پوجتے تھے اور اصنام تراشی ہوتی مورتوں کو کہتے ہیں اور فال کے تیر جاہلیت میں دو قسم کے ازلام تھے ایک قسم کے ساتھ عرب جوا کھیلا کرتے تھے اور دوسری قسم سے فال لیا کرتے تھے یہ سب چیزیں گندی اور پلید اور قابل نفرت ہیں، شیطانی کام ہیں پس تم ان ناپاک اور شیطانی کاموں سے بچتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ ناپاک اور شیطانی کاموں سے بچنے ہی سے فلاح ہوسکتی ہے شراب انسان کی عقل جیسی بےمثال نعمت کو ضائع کرتی ہے اور عقل ہی وہ چیز ہے جو برے اور بھلے میں تمیز کرتی ہے اور انسان کو ناجائز خواہشوں سے روکتی ہے جب عقل ہی نہ رہے گی تو برے کاموں سے کیونکر بچے گا اور جوا مال کو ضائع اور برباد کردیتا ہے اور معبودان باطل کے تھانوں اور تیروں کی تعظیم اور ان کی پرستش انسان کی عزت کو برباد کردیتی ہے اور ایک ادنی اور حقیر چیز کے سانے سرجھکانے سے انسان ذلیل اور خوار ہوجاتا ہے اور تیروں سے فال کے کر کام کرنا یہ سراسر جہالت اور وہم پرستی ہے جو علم کو ضائع کردیتی ہے یہ سب برے کام شیطان کے اغوا سے کچھ لوگ ان کاموں کو اچھا سمجھتے ہیں شیطان تو بس یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوے سے تمہارے درمیان عداوت اور نفرت ڈالوا دے شراب سے باہم عداوت نفرت کے پیدا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ شرابی جب شراب پی کر مست ہوجاتا ہے اور ان کی عقل زائل ہوجاتی ہے تو بسا اوقات ان کی زبان سے ایک دوسرے کی نسبت بےہودہ الفاظ نکلتے ہیں جو باہمی نزاع کا سبب بنتے ہیں اور بسا اوقات ضرب اور قتل تک نوبت پہنچتی ہے اور اس طرح ان کے دلوں میں ایک دوسرے کی عداوت بیٹھ جاتی ہے۔ اور جوئے سے باہم عداوت یوں پیدا ہوتی ہے کہ بعض وقت آدمی جوئے میں اپنے کل مال سے ہار جاتا ہے اور وہ بالکل مفلس اور بےدست وپارہ جاتا ہے پھر جب وہ اپنا مال دوسرے کے پاس دیکھتا ہے تو اس کو اس کے ساتھ عداوت ہوجاتی ہے غرض یہ کہ شراب اور جوا عداوت اور نفرت کے قوی ترین اسباب میں سے ہیں یہ تو شراب اور جوئے کی دنیوی مضرت ہوئی اور اخروی مضرت یہ ہے کہ شیطان یہ چاہتا ہے کہ تم کو اللہ کی یاد سے نماز سے روک دے یعنی شیطان کا مقصود تم کو شراب اور جوئے میں پھنسا کر دیاد الٰہی اور نماز کا ہوش ہی نہ رہے اور اس کی دلیل مشاہدہ اور تجربہ سے ہے شطرنج کھیلنے والوں کو دیکھ لو نماز کا تو کیا کھانے پینے کا بھی ہوش نہیں رہتا پس جب تم پر شراب اور جوئے کی دنیوی اور اخروی مضرتیں واضح ہوگئی سوبتلاؤ کیا اب بھی ان گندی چیزوں سے باز آؤگے جو تمہاری دنیا اور آخرت کی خرابی کا ذریعہ ہیں یعنی اب عقل کا مقتضی یہ ہے کہ ان گندی اور ناپاک چیزوں سے باز آجاؤ جو تم کو مولائے برحق کو یاد سے روکتی ہیں عرب میں شراب غایت درجہ مرغوب تھی اس لیے اللہ نے اس کو تدریجا حرام فرمایا اول یہ آیت نازل ہوئی، یسئلونک عن الخمر والمیسر،۔۔ الی۔۔ للناس۔ آیت۔ جس میں صراحت کے ساتھ ممانعت نہ تھی اس لیے بعض نے شراب پی اور بعض نے اس کو ترک کردیا اس کے بعد دوسری آیت نازل ہوئی جو پہلی آیت سے زیادہ سخت تھی وہ آیت یہ تھی یا ایھا الذین آمنو لاتقربوالصلوۃ۔۔۔ الی۔۔ تقولون۔ آیت۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ نے بوقت صلوۃ شراب کا استعمال ترک کردیا حضرت عمر کو جب پہلی آیت سنائی گئی تو یہ کہا اللھم بین لنا فی الخمر بیانا شافیا۔ اے اللہ شراب کے بارے میں کوئی شافی اور واضح حکم نازل فرما پھر جب دوسری آیت نازل ہوئی اور عمر کے سامنے پڑھی گئی تو عمر نے پھر وہی کہا کہ، سب سے اخیر میں سورة مائدہ کی یہ آیت نازل ہوئی، یا ایھالذین آمنو۔۔۔ الی۔۔۔ والمیسر۔ آیت۔ نازل ہوئی اور نبی نے حضرت عمر کو پڑھ کر سنائی جب آپ اس لفظ یعنی فھل انتم منتہون۔ پر پہنچتے تو حضرت عمر نے کہا انتھینا انتھینا یعنی ہم باز آگئے ہم باز آئے اس آیت کے نازل ہونے کے بعد تمام صحابہ شراب سے باز آگئے اور یہ حکم سنتے ہی لوگوں نے شراب کے مٹکے توڑ دیے حتی کہ شراب مدینہ کی گلیوں اور نالیوں میں گندے پانی کی طرح بہنے لگی اور مدینہ منورہ اور تمام بلاد اسلام اس ام الخبائث سے یک لخت پاک ہوگئے۔
لطائف ومعارف۔
(1) ۔ شروع آیت میں اللہ نے چار چیزوں کا ذکر کیا اور اس آخری آیت میں صرف شراب اور جوئے کا ذکر کیا کیونکہ اصل مقصود انہی دوچیزوں کی حرمت بیان کرنا تھی باقی شروع آیت میں شراب اور جوئے کے ساتھ بت پرستی اور فال کے تیروں کا ذکر اس لیے کیا کہ مسلمانوں کے دلوں میں شراب اور جوئے کی برائی خوب راسخ ہوجائے کہ شراب خواری بمنزلہ بت پرستی کے ہے۔
(2) ۔ خمر ماخوذ ہے، خمر الشئی بمعنی سترہ وغطاہ۔ سے جس کے معنی ہیں اس نے اس کو ڈھانک لیا شراب بھی چونکہ عقل کو ڈھانک لیتی ہے اور اس پر پردہ ڈال دیتی ہے اس لیے عربی میں اس کو خمرکہتے ہیں۔ اور میسر قمار (جوئے) کو کہتے ہیں جو یسر بمعنی سہولت سے ماخوذ ہے چونکہ جوئے میں مال آسانی سے مل جاتا ہے اور محنت اور مشقت نہیں اٹھانی پڑتی اس لیے اس کو میسر کہتے ہیں ان دونوں چیزوں میں اگرچہ کچھ نہ کچھ فوائد اور منافع ہیں لیکن مفاسد اور مضرتیں بہت زیادہ ہیں اس لیے شریعت اسلامیہ نے ان دونوں چیزوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام قرار دیا اور دنیا کے لیے روحانی اور اخلاقی اور مادی اور جسمانی مضرتوں سے حفاظت کا سامان مکمل کردیا۔
(3) ۔ خمر کی سب سے بڑی مضرت یہ ہے کہ مے خوار کی عقل نشہ کی حالت میں بالکل جاتی رہتی ہے اور آہستہ آہستہ کم ہوتی جاتی ہے یہاں تک کہ چند روز بعد ہوش و حواس کی حالت میں بھی اس سے دیوانہ وار حرکتیں سرزد ہونے لگتیں ہیں۔ اس کی زبان اس کے اختیار اور قابو سے باہر ہوجاتی ہے اور اس کو اپنے اقوال وافعال کے عواقت اور انجام کا ہوش نہیں رہتا۔ دوسرے یہ کہ شراب بہیمی خواہشوں کو بڑھاتی ہے اور بسا اوقات اس حد تک پہنچ جاتی ہے کہ عصت وعفت کو جڑا (بنیاد) سے اکھاڑ کر پھینکتی ہے یا کم ازکم متزلزل کردیتی ہے اور زنا اور بدکاری اور بےحیائی پر آمادہ کرتی ہے۔ تیسرے یہ کہ آدمی عبادت اور ذکر الٰہی سے غاف ہوجاتا ہے بلکہ فرائض زندگی کی بھی کوئی قدروقیمت اس کی نگاہ میں نہیں رہتی۔ چوتھے یہ کہ شراب مال و دولت کی بربادی کا ذریعہ ہے شرابی کی دولت و ثروت سب شراب کی نذر ہوجاتی ہے اور بسا اوقات اس قدرت تنگ آجاتا ہے کہ زندگی سے تنگ آکر خودکشی کرلیتا ہے، پانچواں یہ کہ شراب خوری باہم دشمنی اور عداوت پیدا کرتی ہے اور باہمی تعلقات کو توڑ ڈالتی ہے چھٹے یہ کہ شرابی کا مزاج اعتدال سے منحرف ہوجاتا ہے اور صحت بدنی میں فرق آجاتا ہے اور اس کی تمام جسمانی قوتیں کمزور پڑجاتی ہیں اس لیے کہ شراب میں غذائیت نہیں ہے کہ وہ ہضم ہوسکے شراب چونکہ معدہ میں جا کر تحلیل نہیں ہوتی اس لیے دن بدن معدہ کو کمزور کرتی جاتی ہے اور قے کا مرض لگ جاتا ہے اور قلت غذا کی وجہ سے بدن میں اتنا خون نہیں پیدا ہوتا کہ جو تقویت بدن کا باعث بن سکے۔ اور جس قدر خون پیدا ہوتا ہے اس میں شراب کی سمت موجود ہوتی ہے جو بدن کروز بروز گھلاتی رہتیہ ہے اور دن بدن نظام عصبی میں فرق آجاتا ہے عضلات اور عروق بھی بگڑتے جاتے ہیں پھیپھڑا گلنے لگ جاتا ہے اور کھانسی اور سل شروع ہوجاتی ہے اکثر اطباء کا بیان ہے کہ اگرچہ سل کی بیماری بغیر شراب پینے کے بھی ہوجاتی ہے لیکن 95 فی صد مریض سل کے شرابی ہی ہوتے ہیں اور شاذ وناذ ہی بچتے ہیں۔ ساتویں یہ کہ شرابی قوی کے ضعیف ہوجانے کی وجہ سے اکثر کام سے جی چرانے لگتا ہے بغیر نشہ کے کام نہیں کرسکتا کام کرنے کے لیے بھی اسے شراب پینی پڑتی ہے یہاں تک کہ اس کے قوی بالکل جواب دے جاتے ہیں اسلیے قرآن پاک نے شراب کو نجس اور عمل شیطان اور حرام قرار دیا ہے اور اس کے پینے والے پر حد مقرر کی یورپ کی متمدن قوموں پر شراب خوری کے مفاسد خوب واضح ہوچکے ہیں اور شراب کی وجہ سے نظام تمدن کی خرابیاں ان کی نظروں کے سامنے ہیں اور اس کے معترف ہیں کہ یہ چیز حرام ہونے کے قابل ہے مگر قانونا اس کو جرم نہیں قرار دیا اسلامی تعلیم جہاں پہنچی اس نے شراب اور شراب خوری کا قلع قمع کردیا اور پورے ملک کو اس لعنت سے محفوظ کردیا۔
(4) ۔ اور اسی طرح میسر یعنی قمار کو سمجھو کہ وہ بھی حرام اور باطل ہے قمار لوگوں کے مال چھین لینے اور اچک لینے کا ایک خاص طریقہ ہے جو وہمی حرص اور طمع اور آرزو پر مبنی ہے جوئے میں مال چونکہ بےمشقت مل جاتا ہے اس لیے جواری عموما کاہل اور آرام طلب اور فکر معاش سے غافل ہوتے ہیں اور وہمی اور خیالی منصوبوں میں پڑجاتے ہیں ہار جیت کے چکر میں رہتے ہیں اور قرض لیتے رہتے ہیں اور جب قرض نہیں ملتا تو چوری اور چکاری اور لوٹ کھسوٹ پر کمر باندھ لیتے ہیں علاوہ ازیں قمار باہمی بغض وعناد پیدا کرتا ہے اس لیے کہ ہارنے والوں کو ہار کر غیظ وغضب آتا ہے اور کینہ اور انتقام پر آمادہ کرتا ہے اور چونکہ ہار جیت کسی خاص نہیں رہتی اس لیے جواری ایک دوسرے کے دشمن بن جاتے ہیں اور ذرا بھی ان کو دوسرے پر رحم نہیں آتا اور مال کے ساتھ ان کے جان کے بھی لاگو ہوجاتے ہیں اور خون ناحق کے مرتکب ہوجاتے ہیں پھر یہ کہ جس جواری کو بھی دیکھیے وہ کنگال ہی نظر آئے گا جو اریوں کاروپیہ ہر وقت گھومتا رہتا ہے اور جواری جوئے کے چکر میں ھنس کر ایسا اندھا ہوجاتے ہیں کہ اس جوئے کے سوا کچھ نظر نہیں آتا اور نہ وہ دین کا رہتا ہے اور نہ دنیا کا نہ طاعت و عبادت کا اور نہ زن و فرزند اور عزیز اور قرباء کا اس کی ساری دنیا قمار خانہ ہوتی ہے غرض یہ کہ شراب کی طرح جوا بھی دشمن عقل اور دشمن مال اور دشمن اخلاق ہے جو اریوں کو طرح طرح کے جرائم پر آمادہ کرتا ہے اور نظام تمدن کا مخرب ہے ان مفاسد کی بناء پر اللہ نے اپنی رحمت سے اس ناپاک اور پلید چیز کو اپنے بندوں پر حرام فرمادیا تاکہ فلاح کو پہنچیں۔
حکم بامتثال جمع احکام
گذشتہ آیت میں ایک خاص حکم کے امتثال کا حکم تھا اب اس آیت میں تمام احکام میں اطاعت کا حکم دیتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں اور اے ایمان والو تم تمام احکام میں اللہ اور رسول اللہ کی اطاعت کرتے رہو اور اللہ اور رسول کی نافرمانی سے ڈرتے رہو لہذا شراب اور جوئے سے بھی بچتے رہو پس اگر تم اطاعت سے اعراض کرو گے تو ہمارا ہمارے رسول کا کچھ نقصان نہ کرو گے اپنا ہی نقصان ہی کرو پس خوب جان لو کہ ہمارے رسول کے ذمہ صرف حکم کا واضح طور پر پہنچا دینا ہے نہ کہ تم کو مجبور کرنا سو وہ پہنچا چکے اس پر بھی نہ مانو تو تم جانو۔
عدم تاثیم براستعمال خمرومیسر قبل از تحریم۔
جب شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا تو صحابہ نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ یارسول اللہ ہمارے جو بھائی تحریم سے پہلے شراب پیتے ت ہے اور جوئے کا مال کھاتے رہے اور مرگئے ان کا کیا حال ہوگا اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ جن لوگوں نے تحریم سے پہلے شراب پی یا جوا کھیلا ان پر کوئی گناہ نہیں جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے ان پر کوئی گناہ نہیں اس چیز میں کہ جو وہ حرام ہونے سے پہلے کھاچکے ہیں یعنی حرام ہونے سے پہلے شراب اور جوئے کا مال کھاچکے ہیں اس پر کوئی گناہ اور مواخذہ نہیں بشرطیکہ وہ خدا سے ڈرتے رہے اور ان چیزوں کے استعمال سے بچتے رہے جو اس وقت حرام تھیں اور خدا پر ایمان لائے اور نیک عمل کیے یعنی اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ اللہ کو اختیار ہے کہ جس چیز کو جس وقت چاہے حلال کردے اور جس وقت چاہے حرام کردے پھر ان لوگوں نے مدارج تقوی اور ایمان میں ترقی کی اور ان چیزوں سے پرہیز کیا کہ جو بعد میں حرام کی گئیں ان کی حرمت پر ایمان لائے خدا کے بندے ہیں جو حکم آتا ہے اس پر عمل کرتے ہیں پھر تقوی اور ایمان میں اور ترقی کی اور غایت درجہ کے پرہیزگار اور نیکو کار بن گئے کہ شبہات سے بھی تورع اور احتیاط برتی یعنی مدارج تقوی اور ایمان میں ترقی کرتے کرتے مرتبہ احسان تک جاپہنچے جو مرد مومن کے لیے ترقی کا آخری مقام ہے جیسے کہ حدیث جبرائیل میں ہے، الاحسان ان تعبد اللہ کانک تراہ۔ اور مرتبہ احسان روحانی ترقیات کا آخری مقام اس لیے ہے کہ اللہ محسین کو اپنا محبوب بنالیتا ہے اور ظاہر ہے کہ محبوبیت خداوندی روحانی ترقی کا آخری مقام ہے۔
فائدہ۔ ایمان اور تقوی کے تکرار اور لفظ ثم کے باربار لانے سے اشارہ ہے کہ ایمان اور تقوی میں مراتب اور درجات ہیں آخری مرتبہ مقام احسان ہے جہاں بندہ پہنچ کر خدا تعالیٰ کا محبوب بن جاتا ہے۔ ہمینت بس کہ داند ماھرویم۔۔۔۔ کہ من نیز از خریداران اویم۔