5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 5:94–100

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَیَبْلُوَنَّكُمُ اللّٰهُ بِشَیْءٍ مِّنَ الصَّیْدِ تَنَالُهٗۤ اَیْدِیْكُمْ وَ رِمَاحُكُمْ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّخَافُهٗ بِالْغَیْبِ١ۚ فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 5:94 in the Quran reader

مومنو ! کسی قدر شکار سے جن کو تم ہاتھوں اور نیزوں سے پکڑ سکو خدا تمہاری آزمائش کرے گا (یعنی حالت احرام میں شکار کی ممانعت سے) تاکہ معلوم کرے کہ اس سے غائبانہ کون ڈرتا ہے تو جو اس کے بعد زیادتی کرے اس کے لئے دکھ دینے والا عذاب (تیار) ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْتُلُوا الصَّیْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ١ؕ وَ مَنْ قَتَلَهٗ مِنْكُمْ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ یَحْكُمُ بِهٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ هَدْیًۢا بٰلِغَ الْكَعْبَةِ اَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسٰكِیْنَ اَوْ عَدْلُ ذٰلِكَ صِیَامًا لِّیَذُوْقَ وَ بَالَ اَمْرِهٖ١ؕ عَفَا اللّٰهُ عَمَّا سَلَفَ١ؕ وَ مَنْ عَادَ فَیَنْتَقِمُ اللّٰهُ مِنْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ Open ayah 5:95 in the Quran reader

مومنو ! جب تم احرام کی حالت میں ہو تو شکار نہ مارنا اور جو تم میں سے جان بوجھ کر اسے مارے تو (یا تو اس کا) بدلا (دے اور وہ یہ ہے کہ) اس طرح کا چارپایہ جسے تم میں سے دو معتبر شخص مقرر کردیں قربانی (کردے اور یہ قربانی) کعبے پہنچائی جائے یا کفارہ (دے اور وہ) مسکینوں کو کھانا کھلانا (ہے) یا اس کے برابر روزے رکھے تاکہ اپنے کام کی سزا (کامزہ) چکھے (اور) جو پہلے ہوچکا وہ خدا نے معاف کردیا اور جو پھر (ایسا کام) کرے گا تو خدا اس سے انتقام لے گا۔ اور خدا غالب اور انتقام لینے والا ہے۔

اُحِلَّ لَكُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَ طَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِلسَّیَّارَةِ١ۚ وَ حُرِّمَ عَلَیْكُمْ صَیْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 5:96 in the Quran reader

تمہارے لئے دریا (کی چیزوں) کا شکار اور ان کو کھانا حلال کردیا گیا ہے (یعنی) تمہارے اور مسافروں کے فائدے کے لئے اور جنگل (کی چیزوں) کا شکار جب تک تم احرام کی حالت میں ہو تم پر حرام ہے۔ اور خدا سے جس کے پاس تم (سب) جمع کئے جاؤ گے ڈرتے رہو۔

جَعَلَ اللّٰهُ الْكَعْبَةَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ قِیٰمًا لِّلنَّاسِ وَ الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَ الْهَدْیَ وَ الْقَلَآئِدَ١ؕ ذٰلِكَ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 5:97 in the Quran reader

خدا نے عزت کے گھر (یعنی) کعبے کے لوگوں کے لئے موجب امن مقرر فرمایا ہے۔ اور عزت کے مہینوں کو اور قربانی کو اور ان جانوروں کو جن کے گلے میں پٹے بندھے ہوں۔ یہ اس لئے کہ تم جان لو کہ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے خدا سب کو جانتا ہے اور یہ کہ خدا کو ہر چیز کا علم ہے۔

اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ وَ اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌؕ Open ayah 5:98 in the Quran reader

جان رکھو کہ خدا سخت عذاب دینے والا ہے۔ اور یہ کہ (خدا بخشنے والا مہربان بھی ہے۔

مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 5:99 in the Quran reader

پیغمبر کے ذمے تو صرف (پیغام خدا کا) پہنچا دینا ہے۔ اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ مخفی کرتے ہو خدا کو سب معلوم ہے۔

قُلْ لَّا یَسْتَوِی الْخَبِیْثُ وَ الطَّیِّبُ وَ لَوْ اَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِیْثِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 5:100 in the Quran reader

کہہ دو کہ ناپاک چیزیں اور پاک چیزیں برابر نہیں ہوتیں گو ناپاک چیزوں کی کثرت تمہیں خوش ہی لگے۔ تو عقل والو خدا سے ڈرتے رہو تاکہ رستگاری حاصل کرو

حکم ہشدہم متعلق بہ شکار درحالت احرام۔ قال اللہ تعالی، یا ایھالذین آمنو لیبلونکم۔۔۔ الی۔۔۔ لعلکم تفلحون۔ ربط) ۔ پچھلے رکوع میں تحریم طیبات اور اعتداء سے ممانعت فرما کر بعض چیزوں یعنی شراب اور جوئے سے اجتناب کا حکم دیا اور اب اس رکوع میں ان بعض چیزوں کے ارتکاب سے منع فرماتے ہیں جن کی حرمت دائمی نہیں بلکہ بعض احوال کے ساتھ مخصوص ہے جیسے شکار کہ وہ صرف حالت احرام اور حدود حرم کے اندر حرام ہے اس لیے ارشاد فرمایا کہ احرام میں اور حرم کے اندر شکار کو حلال نہ سمجھو اور اس کا ارتکاب نہ کرو شکار کی حرمت سے احرام کا احترام اور حرم محترم اور بیت اللہ کی تعظیم و تکریم مقصود ہے نیز شروع سورت میں بھی احرام کی حالت میں شکار کی ممانعت مذکور تھی، غیر محلی الصید وانتم حرم۔ مگر اجمالا تھی قدرے اس کی تفصیل فرماتے ہیں اور اے ایمان والو ایمان کا مقتضی یہ ہے کہ احرام اور حرم کے ادب اور احترام کو ملحوظ رکھو چونکہ تم ایمان کے مدعی ہو اس لیے البتہ حق تعالیٰ تم کو گاہ بگاہ کسی شکار کی چیز سے تمہارے ایمان کی آزمائش کرے گا کہ شکار حالت احرام میں تمہارے سامنے آجائے گا جس تک تمہارے ہاتھ اور تمہارے نیزے بسہولت پہنچ سکیں گے اور تم بسہولت شکار پر قادر ہوجاؤ گے یہ آزمائش کا وقت ہوگا تاکہ اللہ معلوم کرسکے کہ کون اس سے بن دیکھے ڈرتا ہے خدا کے ڈر سے اس کے حکم کی تعمیل کرتا ہے اور کون اصحاب سبت کی طرح جن کو شنبہ کے دن مچھلی کی شکار کی ممانعت کردی گئی تھی مکاری اور حیلہ بازی سے اللہ کے حکم کی مخالفت کرتا ہے اور حد سے تجاوز کرتا ہے پس جو اس ممانعت کے بعد قانون سے تجاوز کرے گا یعنی شکار کرے گا تو اس کے لیے دردناک عذاب ہوگا اب اس تنبیہ کے بعد وہ قانون بتلاتے ہیں اے ایمان والو تمہارے ایمان کا مقتضی یہ ہے کہ حالت احرام میں ہو تو شکار نہ کرو اور جو شخص تم میں سے حالت احرام میں قصدا اس شکار کو مار ڈالے تو جیسا جانور اس نے قتل کیا ہے اسی کے مثل اور مانند اس پر اس کا تاوان لازم ہے امام شافعی کے نزدیک مماثلت سے خلقی مماثلت مراد ہے بس شتر مرغ کے قتل میں اونٹ واجب ہے اور گورخر کے قتل میں گائے اور ہرن کے قتل میں بکری اور خرگوش کے قتل میں بکری کانوزائیدہ بچہ وعلی ہذا لقیاس اور جن جانوروں میں مویشی یا چوپایوں کے ساتھ خلقی مماثلت مفقود ہو ان میں قیمت کے لحاظ سے مماثلت قائم کی جائے۔ اور امام اعظم ابوحنیفہ کا مذہب یہ ہے کہ آیت میں مماثلت سے مماثلت بالخلقت مراد نہیں بلکہ مماثلت بالقیمت مراد ہے پس جس قیمت کا جانور محرم نے قتل کیا اسی قیمت کامویشی اس پر واجب ہے اس مماثلت کا حکم تم میں کے دو معتبر شخص لگائیں یعنی مماثلت کی تشخیص میں ایسے دو شخصوں کا قول معتبر ہے جو مسلمان دین دار اور صاحب بصیرت اور تجربہ کار ہوں وہ جو حکم لگادیں معتبر ہے پھر اس اندازہ اور تخمینہ کے بعد کہ فلاں جانور اس شکار کے مانند ہے شکار کرنے والے کو اختیار ہے کہ یا تو اس شکار کے بدلے میں اس قدر قیمت کا جانور لے کر مثلا بکری گائے اونٹ قربانی کرے کہ جو خانہ کعبہ پہنچنے والی ہو یعنی اس جانور کو حدود حرم میں پہنچا یا جائے اور وہاں ذبح کرکے وہاں کے مسکینوں پر اس کا تصدق کیا جائے اور خود اس میں سے نہ کھائے یا اس پر کفارہ واجب ہے کہ اس کی قیمت کے برابرغلہ لے کر مسکینوں کو کھلادینا ہے فی محتاج صدقہ الفطر کی مقدار تقسیم کردے یعنی اگر ھدی خانہ کعبہ نہ پہنچ سکے تو اس کی قیمت کا اناج لے کر مسکینوں پر تقسیم کرے یا اس غلہ کے برابر روزے ہیں یعنی اگر یہ بھی نہ ہوسکے تو جس قدر مسکینوں کو اس کی قیمت کا اناج پہنچتا ان کی شمار کے مطابقروزے رکھے علماء کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ آیا اس آیت میں کلمہ اوتخیر کے لیے ہے یاترتیب کے لیے امام ابوحنیفہ اور امام مالک اور امام شافعی کے نزدیک تخییر کے لیے ہے اور امام احمد اور امام زفر کہتے ہیں کہ ترتیب کے لیے ہے تخییر کا مطلب یہ ہے کہ قاتل صید کو اختیار ہے کہ ان تین باتوں میں سے جو چاہے اختیار کرے اور ترتیب کا مطلب یہ ہے کہ اول ہدی واجب ہے اور اگر ہدی دستیاب نہ ہوسکے تو اس مقتول جانور کی قیمت کے بمقدار مسکینوں کو کھانا دینا ہے اور اگر بوجہ افلاس کے کھانا بھی نہ دے سکے تو ہرمسکین کے عوض روزہ رکھے اور یہ جزا اس لیے واجب کی گئی تاکہ وہ اپنے کیے ہوئے وبال کا مزہ چکھے یعنی یہ اس سے پہلے ہوچکی یعنی نزول حکم سے پہلے یا اسلام لانے سے پہلے زمانہ جاہلیت میں کسی نے یہ حرکت کی تھی تو اس پر کوئی مواخذہ نہیں اور جو شخص پھر ایسی حرکت کرے گا یعنی اس ممانعت کے بعد پھر حالت احرام میں شکار کرے گا تو اللہ اس سے آخرت میں بدلہ لے گا اور اللہ غالب ہے بدلہ لینے والا، لہذا تم کو چاہیے کہ عزیز منتقم کی ناراضگی سے بچو۔ تتمہ حکم سابق حلال کردیا گیا تمہارے لیے حالت احرام میں دریا کا شکار اور دریا کا طعام دریا کے شکار سے مچھلی مراد ہے وہ تمہارے لیے حلال ہے اور دریا کے طعام سے وہ مچھلی مراد ہے جو پانی سے جدا ہو کر مرگئی جو تم نے پکڑی تھی وہ بھی حلال ہے اور یہ حلال کیا جانا تمہارے فائدے کے لیے اور مسافروں کے فائدے کے لیے ہے اگر یہ حلال نہ کیا جاتا تو تم کو اور جو لوگ سفر کرتے ہیں ان کو سخت تکلیف اٹھانی پڑتی۔ ف) ۔ تمام علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ دریا سے ہر ایک پانی مراد ہے خواہ وہ سمندر یاندی نالہ یاجھیل یاتالاب ہو اور حرام کردیا گیا تم پر خشکی اور جنگل کا شکار کرنا جب تک تم احرام کی حالت میں رہو اس سورت میں اللہ نے محرم کے لیے جنگل شکار کی حرمت تین جگہ بیان کی اول شروع سورت میں فرمایا، غیر محلی الصید وانتم حرم۔ پھر اس کے بعد اس رکوع کے اول میں فرمایا، لاتقتلوا الصید وانتم حرم، اور اب تیسری بار فرمایا وحرم علیکم صید البر مادمتم حرما۔ آیت۔ اس تکرار سے مقصود صرف تاکید ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو جس کی طرف تم سب جمع کیے جاؤ گے جس چیز سے اس نے منع کردیا اس کو نہ کرو اور بحالت احرام شکار اس لیے حرام کیا گیا کہ محرم کا مقصد خانہ کعبہ کی زیارت ہے اور اللہ نے خانہ کعبہ کو محترم گھر لوگوں کے قائم اور باقی رہنے کا ذریعہ بنایا ہے دنیا کی آبادی اسی وقت تک ہے جب تک یہ خانہ کعبہ باقی ہے جس وقت اللہ کا ارادہ یہ ہوگا کہ کارخانہ عالم کو ختم کردیا جائے تو اس بیت حرام کو اٹھایا جائے گا جیسا کہ بنانے کے وقت سب سے پہلے یہی مکان بنایا گیا تھا ان اول بیت وضع للناس للذی ببکۃ۔ آیت۔ اسی طرح جب دنیا کا کارخانہ ختم کیا جائے گا تو سب سے پہلے خانہ کعبہ کو اٹھایا جائے گا جب تک خانہ کعبہ باقی ہے اس وقت تک دنیا بھی باقی ہے غرض یہ کہ خانہ کعبہ ایک محترم مکان ہے جس کا ادب اور احترام فرض ہے اس لیے حدود حرم میں اور حالت احرام میں شکار ممنوع قرار دیا گیا اور ماہ حرام کو اور قربانی کو اور قربانی کے جانوروں کے گلے کے ہاروں کو بھی اللہ نے لوگوں کے قیام امن کا ذریعہ بنایا ہے کہ عرب کے لوگ اشہر حرم یعنی ماہ ذیقعدہ، اور ذی الحجہ اور محرم، اور رجب میں قتل و قتال سے رک جاتے ہیں اور قربانی کے جانوروں سے کوئی تعرض نہیں کرتے کہ یہ اللہ کی نیاز ہیں جو حرم میں ذبح ہوں گے یہ یعنی کعبہ اور ماہ حرام اور ہدی اور قلائد کو تمہارے لیے موجب امن قرار دینا اس لیے ہے کہ تم سمجھ جاؤ کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور یہ کہ اللہ ہر شی کو جانتا ہے اور وہ تمہاری دینی اور دنیوی مصالح اور ضروریات سے واقف ہے اس لیے اس نے ان چیزوں کو واجب الاحترام قرار دیا تاکہ تمہار لیے قیام امن کا ذریعہ اور جان ومال کی حفاظت کا سبب بنیں خوب جان لو کہ اللہ نافرمانوں کو سخت سزا دینے والا ہے اور تحقیق اللہ اہل اطاعت کو بخشنے والا مہربان ہے ہمارے رسول کے ذمہ سوائے اللہ کا پیغام پہنچا دینے کے اور کچھ نہیں یعنی جب رسول نے تم کو اللہ کا پیغام پہنچایا دیا تو اب تمہارا کوئی عذر باقی نہیں رہا اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرو گے تو سزا پاؤ گے اور اللہ خوب جانتا ہے کہ جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو یعنی وہ تمہارے ظاہر و باطن سے خبردار ہے اے نبی آپ کہہ دیجئے کہ ناپاک اور پاک اور گندہ اور پاکیزہ برابر نہیں یعنی حلال و حرام اور اطاعت اور معصیت اور سعادت اور شقاوت اور مسلم اور کافر برابر نہیں اگرچہ اے دیکھنے والے تجھ کو ناپاک اور گندہ کی بہتایت بھلی معلوم ہو یعنی اگرچہ تجھ کو حرام مال کی زیادتی پسند ہو مگر وہ حلال کی برکت نہیں پہنچ سکتا گلاب کا ایک قطرہ پیشاب کے ایک مٹ کہ سے کہیں بہتر ہے پس اے عقل مندو اللہ سے ڈرو اور اسکی نافرمانی سے بچو تاکہ تم فلاح پاؤ معلوم ہوا کہ عاق اور دانا وہ ہے جو اللہ سے ڈرے۔
Ayahs 5:101–102

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْئَلُوْا عَنْ اَشْیَآءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَسْئَلُوْا عَنْهَا حِیْنَ یُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَكُمْ١ؕ عَفَا اللّٰهُ عَنْهَا١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ Open ayah 5:101 in the Quran reader

مومنو ایسی چیزوں کے بارے میں مت سوال کرو کہ اگر (ان کی حقیقتں) تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں بری لگیں۔ اور اگر قرآن نازل ہونے کے زمانے میں ایسی باتیں پوچھو گے تو تم پر ظاہر کردی جائیں گی۔ (اب تو) خدا نے ایسی باتوں (کے پوچھنے) سے درگزر فرمایا ہے اور خدا بخشنے والا بردبار ہے۔

قَدْ سَاَلَهَا قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ ثُمَّ اَصْبَحُوْا بِهَا كٰفِرِیْنَ Open ayah 5:102 in the Quran reader

اسی طرح کی باتیں تم سے پہلے لوگوں نے بھی پوچھی تھیں (مگر جب بتائی گئیں تو) پھر ان سے منکر ہوگئے۔

ممانعت از سوالات غیرضروریہ۔ قال اللہ تعالی، یا ایھا الذین آمنو لاتسئلوا۔۔۔۔ الی۔۔۔ کافرین۔ ربط) ۔ پچھلے دو رکوع میں احکام منزلہ میں غلو اور تساہل سے منع فرمایا اب ان آیات میں غیرضروریہ اور لایعنی سوالات کی ممانعت فرماتے ہیں اور مطلب یہ ہے کہ تبلیغ دین رسول کا فریضہ ہے شریعت کے نازل کرنے سے مقصود ہی بیان احکام ہے پس جن امور کا شریعت نے صراحت کے ساتھ کوئی حکم بیان نہیں کیا ان کے متعلق فضول اور دوراز کار سوالت مت کرو جس طرح شریعت کا بیان موجب ہدایت وبصیرت ہے اسی طرح شریعت کا سکوت بھی ذریعہ رحمت و سہولت ہے معاذ اللہ اللہ کا سکوت، سہو اور نسیان کی بناء پر نہیں بلکہ کمال حکمت پر مبنی ہے جس چیز کو اس نے حلال یا حرام کیا وہ حلال یا حرام ہوگئی اور جس چیز سے سکوت کیا اس میں گنجائش رہی اور مجتہدین کو اس میں اجتہاد کا موقعہ ملا اور لوگوں کے لیے اس فعل اور ترک میں ایک گونہ سہولت نکلی لہذا اگر تم نے زمانہ نزول وحی میں اس قسم کے لایعنی سوالات کیے تو بہت ممکن ہے کہ بذریعہ وحی کوئی ایسا حکم نازل ہوجائے کہ جس سے تمہاری سہولت اور اباحت ختم ہوجائے اور تم مشقت میں پڑجاؤ اور اجتہاد کی گنجائش باقی نہ رہے لہذا زمانہ نزول وحی میں اس قسم کے فضول سوالات سے غایت درجہ احتیاط ضروری ہے البتہ زمانہ رسالت گذر جانے کے بعد کتاب وسنت کی روشنی میں دینی مسائل کی چھان بین کی ممانعت نہیں کیونکہ اب اگر کوئی جدید حکم دیا جائے گا تو وہ کتاب وسنت سے قیاسی واستنباطی ہوگا جس سے وحی منزل کی طرح قطعی طور کوئی حلال چیز حرام یا حرام چیز حلال نہیں ہوسکتی اگلی امتیں اسی کثرت سے سوال کی بدولت بہت سختیوں اور مصیبتوں میں گرفتارہوچ کی ہیں بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ سے گائے کی تشریح میں لایعنی سوالات کیے اور سختی میں مبتلا کردیے گئے جس کا بیان سورة بقرہ میں گذر چکا ہے۔ چناچہ شاہ عبدالقادر اس آیت کے فائدہ میں لکھتے ہیں کہ یعنی آپ سے نہ پوچھو کہ یہ چیز روا ہے یا نہیں یہ کام کریں یا نہ کریں بلکہ جو فرمایا اس پر عمل کرو نہ فرمایا اس کو معاف جانو اس میں دین آسان رہے اور جوہر بات کا جواب آوے تو دین تنگ ہوجائے پھر عمل نہ کرسکو جیسے اگلے نہ کرسکے پھر آئندہ آیت میں کفر کی رسمیں بتائیں کہ پوچھنے کی حاجت نہیں جو اللہ نے نہ فرمایا وہ بےاصل ہے اور اسی طرح بےفائدہ باتیں پوچھی کسی نے پوچھا میرا باپ کون تھا یا میری عورت گھر میں کس طرح ہے اگر پیغمبر جواب دے شاید براجواب آوے اور پشیمان ہو۔ (موضح القرآن ) ۔ اے ایمان والو ایمان کا مقتضی یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے ادب کو ملحوظ رکھو اور اس کے احکام میں پیش قدمی نہ کرو یعنی ایسی فضول اور لایعنی باتیں کے متعلق سوال نہ کرو کہ شاید اگر وہ تم پر ظاہر کردی جائیں تو تم کو بری معلوم ہوں گی اس لیے کہ اول تو لایعنی اور فضول سوال کرنا جرات اور جسارت اور گستاخی ہے اور سراسر خلاف ادب ہے جو حکم آجائے اس پر عمل کرو جو نہ آئے اس پر خاموش رہو علاوہ ازیں ممکن ہے کہ تمہارے سوال کے بعد رسول ایسی بات بیان کرے جو تمہارے لیے باعث ناگواری اور موجب شرمساری ہو یا سبب گرانی ہو کہ تمہارے سوال کی وجہ سے وہ چیز تم پر فرض ہوجائے اور پھر تم کو اس پر عمل کرنا دشوار ہو پس تمہارا پوچھنا فضول ہے اللہ کا رسول خود بیان کرے گا اور اگر تم ان باتوں کے متعلق اس وقت سوال کرو گے جب کہ قرآن نازل ہورہا ہے تو وہ باتیں تم پر ظاہر کردی جائیں گی یعنی جب تک رسول اللہ تم میں موجود ہیں اور وحی کا سلسلہ جاری ہے اس وقت تک اگر تم کوئی بات پوچھو گے تو اس کا جواب تم کو ضرور دیا جائے گا پس ایسی بات نہ پوچھو کہ جس کا جواب تم کو ناگوار ہو ان سوالات سے پہلے جو سوالات تم کرچکے ہوا کو اللہ نے معاف کیا آئندہ نہ کرنا اور اللہ بخشنے والا بردبار ہے مواخذہ میں جلدی نہیں کرتا ایسی ہی باتیں تم سے پہلے لوگوں نے پوچھیں اور پھر ان سے منکر ہوگئے جیسے قوم صالح نے صالح (علیہ السلام) سے سوال کیا کہ پتھر سے ناقہ نکالو جب اللہ نے ان کا سوال پورا کردیا تو وہ اس معجزے کے منکر ہوگئے اور اونٹنی کو انہوں نے ذبح کر ڈالا اور بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) سے بہت سے سوال کیے اور جب بتائے گئے تو حجتیں نکالنی شروع کیں اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے مائدہ کا سوال کیا اور پھر اس کی ناشکری کی اور انجام کو بھگتا۔
Ayahs 5:103–104

مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنْۢ بَحِیْرَةٍ وَّ لَا سَآئِبَةٍ وَّ لَا وَصِیْلَةٍ وَّ لَا حَامٍ١ۙ وَّ لٰكِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ وَ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 5:103 in the Quran reader

خدا نے نہ تو بحیرہ کچھ چیز بنایا اور نہ سائبہ اور نہ وصیلہ اور نہ حام بلکہ کافر خدا پر جھوٹ افتراء کرتے ہیں۔ اور یہ اکثر عقل نہیں رکھتے۔

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ قَالُوْا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 5:104 in the Quran reader

اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے جو (کتاب) خدا نے نازل فرمائی ہے اس کی اور رسول اللہ ﷺ کی طرف رجوع کرو تو کہتے ہیں جس طریق ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے وہی ہمیں کافی ہے۔ بھلا ان کے باپ دادا نہ تو کچھ جانتے ہوں اور نہ سیدھے راستے پر ہوں (تب بھی ؟ )

حکم نوز دہم ابطال بعض رسوم شرکیہ واقوال کفریہ۔ قال اللہ تعالی، ماجعل اللہ من بحیرۃ۔۔۔ الی۔۔۔ یھتدون۔ ربط) ۔ شروع پارہ میں نذر اور قسم کے ذریعہ حلال اور طیب کو اپنے اوپر حرام کرنے کی ممانعت فرمائی اور گزشتہ رکوع میں لایعنی سوالات کی ممانعت فرمائی کہ مبادا لوگوں کے سوال کی وجہ سے کوئی چیز حرام نہ کردی جائے ان آیات میں رسول جاہلیت کا ابطال فرماتے ہیں اور اہل جاہلیت کی گمراہی کو بیان کرتے ہیں کہ ان جاہلوں مشرکوں نے بغیر حکم خداوندی اپنی طرف سے بہت سی چیزیں اپنے اوپر حرام کرلیں اور پھر ان کی دلیری دیکھو کہ ان کو اللہ کی طرف منسوب کردیا یہ محض افتراء ہے اور ان بےعقلوں کی جہالت اس درجہ تک پہنچ چکی ہے کہ جب ان سے یہ کہا جاتا ہے کہ اللہ کے احکام پر چلو تو جواب میں یہ کہتے ہیں کہ ہم تو اپنے باپ دادا کے طریقہ پر چلیں گے چناچہ فرماتے ہیں اللہ نے نہ تو بحیرہ مشروع کیا نہ سائبہ اور نہ وصیلہ اور نہ حام لیکن کافر لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں کہ یہ رسول اللہ کی مقرر کردہ ہیں اور اللہ ان سے خوش ہوتا ہے اور ان میں کے اکثر بےعقل ہیں بحیرہ اور سائبہ اور وصلیہ اور حام یہ سب زمانہ جاہلیت کی رسوم ہیں مشرکین عرب میں یہ دستور تھا کہ اگر اونٹنی پانچ بچے جنتی اور اس کا پانچواں بچہ نر ہوتا تو اس کے کان چیز کر اس کو بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے نہ اس سے سواری لیتے اور نہ اس کو ذبح کرتے اور نہ اس پر بوجھ لادتے اور نہ اس کو کسی پانی اور چراگاہ سے روکتے وہ جہاں چاہے چرتا پھرے اور اس اونٹنی کو وہ لوگ بحیرہ کہتے تھے اور اگر کوئی سفر میں جاتا یا بیمار ہوتا تو یہ کہتا کہ اگر میں اپنے سفر سے واپس آیا یا میں نے اپنی اس بیماری سے شفاپائی تو میری یہ اونٹنی سائبہ ہے یعنی آزاد ہے جہاں چاہے پھرے اب یہ اونٹنی سواری اور باردبرداری کی مشقت سے آزاد ہے تو وہ اونٹنی سائبہ آزاد ہوجاتی اور اس کا حکم وہی ہوتا جو بحیرہ کا حکم تھا، اس زمانہ کا سائبہ ایسا ہے جیسا کہ اس زمانہ میں ۃ ندو لوگ سانڈ چھوڑ دیتے ہیں اور وصیلہ وہ بکری ہے جو مادہ جننے کے بعد پھر دوبارہ مادہ جنے اور درمیان میں نر بچہ پیدا نہ ہو اس کو بھی بتوں کے نام چھوڑ دیتے تھے اور بعض علماء کا قول یہ ہے کہ وصیلہ اس بکری کو کہتے ہیں جو اپنی ماں کے ساتویں بطن سے اپنے بھائی کے ساتھ پیدا ہو تو ایسی بکری کو ذبح نہ کرتے تھے اور حام اس شترنر کو کہتے ہیں جس کی جفتی سے دس بچے پیدا ہوچکے ہوں ایسے اونٹ کو بھی اہل عرب سواری وغیرہ کی خدمت سے آزد کردیتے تھے اور بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے تھے گویا کہ اس نے اپنی پشت کی حمایت اور حفاظت کرلی اس لیے اس کو حام یعنی حامی کہتے تھے یہ بد رسمیں مشرکین عرب میں مدتوں سے چلی آتی تھیں اور انکی نسبت ان کا یہ اعتقاد تھا کہ اللہ تعالیٰ ان رسموں کو مشروع کیا ہے اللہ نے فرمایا کہ یہ سب جھوٹ اور افتراء ہے اللہ نے ان رسموں کو ہرگرز مشروع نہیں کیا ان کے بڑوں نے اللہ پر بہتان باندھا اور عوام کالانعام نے اسے قبول کرلیا۔ الغرض ان آیات میں اس بات کی تنبیہ کردی گئی کہ جس طرح فضول اور لایعنی سوالات کرکے احکام شرعیہ میں تنگی اور سختی کا سبب بننا جرم ہے اس سے کہیں بڑھ کر یہ جرم ہے کہ اپنی رائے سے حلال و حرام تجویز کرے اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جہالت کو چھوڑ دو اور اس کی طرف آؤ جو اللہ نے اتارا ہے اور رسول کی طرف آؤ اور اس کی اطاعت کرو تو جواب میں یہ کہتے کہ ہم کو وہی دین کافی ہے جس پر ہم نے اپنے بڑوں اور بزرگوں کو پایا ہے یعنی ہم اپنے بزرگوں کو چھوڑ کر ان کے آباء و اجداد نہ کچھ علم رکھتے ہوں اور نہ ہدایت پر ہوں مطلب یہ کہ تقلید اور پیروی ایسے شخص کی کرنی چاہیے جو علم اور ہدایت پر ہو اور تمہارے آباء و اجداد تو جاہل اور گمراہ تھے انہیں حق اور باطل کی تمیزہ تھی ان کے پیچھے کیوں چلتے ہو۔
Ayah 5:105

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْكُمْ اَنْفُسَكُمْ١ۚ لَا یَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَیْتُمْ١ؕ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:105 in the Quran reader

اے ایمان والوں ! اپنی جانوں کی حفاظت کرو۔ جب تم ہدایت پر ہو تو کوئی گمراہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ تم سب کو خدا کی طرف لوٹ جانا ہے اس وقت وہ تم کو تمہارے سب کاموں سے جو (دنیا) (میں) کئے تھے آگاہ کریگا اور ان کا بدلہ دے گا

حکم بستم متعلق بحفاظت دین خود۔ قال اللہ تعالی، یا ایھا الذین آمنو علیکم انفسکم۔۔ الی۔۔۔ تعملون۔ ربط) ۔ گذشتہ آیات میں کفار اور مشرکین کی جہالتوں کو بیان فرمایا اب اس آیت میں مسلمانوں کو ہدایت فرماتے ہیں کہ تم ان معاندین کی فکر میں نہ پڑو تم اپنی ہدایت کی کفر کرو تم ان کی اصلاح کی جو کوشش کرسکتے ہو وہ کرچکے اب اگر یہ لوگ تمہارا کہنا نہیں مانتے اور تمہاری نصیحتوں کو نہیں سنتے اور اپنے عناد اور ضد اور جہالتوں اور ضلالتوں سے باز نہیں آتے تو تمہارا کچھ نقصان نہیں اس آیت کا یہ مطلب نہیں کہ کسی کو برا کام کرتے دیکھا جائے تو اس کو منع نہ کیا جائے کہ ہمیں اس کی برائی کیا نقصان کرے گی بلکہ مطلب یہ کہ تم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرو اس کے بعد بھی اگر کوئی ضد اور عناد اور ہٹ دھرمی سے اپنی گمراہی پر جما رہے تو پھر اس کی گمراہی تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گی کیونہ تم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرچکے ہو پس اے ایمان والو اگر وہ لوگ تمہارے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو نہیں سنتے تو تم اپنے نفسوں کو سنبھالو اور اپنے دین کی فکر کرو اور انکی فکر چھوڑ دو جو شخص باوجود تمہاری نصیحت کے اور تفہیم کے گمراہ ہوگا وہ تمہیں کوئی ضرر نہیں پہنچا سکے گا بشرطیکہ تم خود راہ ہدایت پر ہو یعنی جب تم خود ہدایت پر ہوگئے اور دوسرے لوگوں کو سمجھاتے رہے اور وہ تمہارے سمجھانے سے ہدایت پر نہ آئے تو تمہارے ذمہ کوئی الزام نہیں یا یہ معنی ہیں کہ جب تم ہدایت پر ہو تو گو کافر تمہارے کیسے دشمن ہی ہوں وہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے تم سب کا خیر ٹھکانہ اللہ ہی کی طرف ہے سو وہ تم کو ان تمام باتوں سے آگاہ کردے گا جو تم کرتے تھے یعنی تمہارے نیک وبد اعمال کی جزا دے گا۔
Ayahs 5:106–108

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا شَهَادَةُ بَیْنِكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِیْنَ الْوَصِیَّةِ اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَیْرِكُمْ اِنْ اَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَاَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةُ الْمَوْتِ١ؕ تَحْبِسُوْنَهُمَا مِنْۢ بَعْدِ الصَّلٰوةِ فَیُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ اِنِ ارْتَبْتُمْ لَا نَشْتَرِیْ بِهٖ ثَمَنًا وَّ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ۙ وَ لَا نَكْتُمُ شَهَادَةَ١ۙ اللّٰهِ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الْاٰثِمِیْنَ Open ayah 5:106 in the Quran reader

مومنو جب تم میں سے کسی کی موت آموجود ہو تو شہادت (کا نصاب) یہ ہے کہ وصیت کے وقت (تم مسلمانوں میں) سے دو مرد عادل (یعنی صاحب اعتبار) گواہ ہوں یا اگر مسلمان نہ ملیں اور جب تم سفر کر رہے ہو اور اس وقت تم پر موت کی مصیبت واقع ہو تو کسی دوسرے مذہب کے دو شخصوں کو گواہ کرلو اگر تم کو ان گواہوں کی نسبت کچھ شک ہو تو ان کو عصر کی نماز کے بعد کھڑا کرو اور دونوں خدا کی قسمیں کھائیں کہ ہم شہادت کا کچھ بھی عوض نہ لیں گے گوہ ہمارا رشتہ دار ہی ہو اور نہ ہم اللہ کی شہادت کو چھپائیں گے اور اگر ایسا کرینگے تو گناہ گار ہونگے

فَاِنْ عُثِرَ عَلٰۤى اَنَّهُمَا اسْتَحَقَّاۤ اِثْمًا فَاٰخَرٰنِ یَقُوْمٰنِ مَقَامَهُمَا مِنَ الَّذِیْنَ اسْتَحَقَّ عَلَیْهِمُ الْاَوْلَیٰنِ فَیُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ لَشَهَادَتُنَاۤ اَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا وَ مَا اعْتَدَیْنَاۤ١ۖ٘ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 5:107 in the Quran reader

پھر اگر معلوم ہوجائے کہ ان دونوں نے جھوٹ بول کر گناہ حاصل کیا ہے تو جن لوگوں کا انہوں نے حق مارنا چاہا تھا ان میں ان کی جگہ دو گواہ کھڑے ہوں جو میت سے قرابت قریبہ رکھتے ہوں پھر وہ خدا کی قسم کھائیں کہ ہماری شہادت ان کی شہادت سے بہت سچی ہے۔ اور ہم نے کوئی زیادتی نہیں کی ایسا کیا ہو تو ہم بےانصاف ہیں۔

ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یَّاْتُوْا بِالشَّهَادَةِ عَلٰى وَجْهِهَاۤ اَوْ یَخَافُوْۤا اَنْ تُرَدَّ اَیْمَانٌۢ بَعْدَ اَیْمَانِهِمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اسْمَعُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 5:108 in the Quran reader

اس طریق سے بہت قریب ہے کہ یہ لوگ صحیح صحیح گواہی دیں یا اس بات سے خوف کریں کہ ہماری قسمیں اب کی قسموں کے بعد رد کردی جائیں گی اور خدا سے ڈرو اور اس کی حکموں کو گوش وہوش سے سنو اور خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا

حکم بست ویکم متعلق بہ وصیت وشہادت۔ قال اللہ تعالی، یا ایھا الذین آمنو شھادۃ بینکم۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ لایھدی القوم الفاسقین۔ ربط) ۔ گذشتہ آیت میں حفاظت دین کا حکم تھا اس آیت میں حفاظت مال کا طریقہ تعلیم فرماتے ہیں کہ مرتے وقت کسی کو وصی اور گواہ بنالینا چاہیے کہ پہلی آیت میں دینی مصلحت کے متعلق حکم تھا اور اس آیت میں دنیوی مصلحت کے متعلق حکم ہے۔ یا یوں کہو کہ گذشتہ آیت میں یہ بیان تھا کہ مرنے کے بعد اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور مال کا حساب دینا پڑے گا اب اس آیت میں ارشاد فرماتے ہیں کہ مرنے سے پہلے تم کو وصیت کردینی چاہیے اور اس پر کسی کو گواہ بنالینا چاہیے تاکہ حق ضائع نہ ہو لہذا اس کے متعلق ہدایت فرماتے ہیں۔ شان نزول۔ ان آیتوں کا شان نزول ایک واقعہ ہے جو نبی ﷺ کے زمانہ میں پیش آیا وہ واقعہ یہ ہے کہ تمیم بن اوس داری اور عدی بن بداء جو اس وقت دنوں نصرانی تھے بغرض تجارت مدینہ سے شام گئے اور ان کے ساتھ بدیل مولی عمر وبن العاص بھی تھے جو مسلمان تھے بدیل وہاں جا کر بیمار ہوگئے اس لیے انہوں نے اسی بیماری میں اپنے کل مال کی جو ان کے پاس تھا ایک فہرست لکھی اور اس کو اپنے اسباب میں رکھ دیا اور اپنے دونوں نصرانی ساتھوں سے اس کا ذکر نہ کیا جب ان کا مرض سخت ہوگیا اور مرنے لگے تو انہوں نے اپنا مال تمیم اور عدی کے سپر کردیا اور یہ وصیت کی کہ جب تم مدینہ واپس جاؤ تو میرا یہ کل سامان میرے وارثوں کو پہنچا دینا پھر بدیل مرگئے اور وہ دونوں نصرانی اپنے کام سے فارغ ہو کر مدینہ واپس آئے اس مال میں ایک چاندی کا پیالہ بھی تھا جس پر سونے کا جھول چڑھا ہوا تاھ اور اس میں تین سو مثقال چاندی تھی ان نصرانیوں نے وہ پیالہ مال سے غائب کرلیا اور باقی کل مال بدیل کے وارثوں کو لاکر دے دیا وارثوں نے جب اس مال کی دیکھ بھال کی تو اس میں سے ان کو ایک فہرست برآمد ہوئی جس میں ہر چیز کی تفصیل تھی جب اس فہرست کے مطابق انہوں مال کی جانچ پڑتال کی تو اس میں ان کو چاندی کا ایک پیالہ نہ ملا وہ لوگ تمیم اور عدی کے پاس گئے اور ان سے پوچھا کہ کیا بدیل نے بیماری کی حالت میں اپنا مال فروخت کردیا تھا انہوں نے کہا نہیں وارثوں نے کہا کہ ہم کو اس سامان میں ایک فہرست ملی ہے جس میں سے اس کے کل مال اور اسباب کی تفصیل ہے اس فہرست کے مطابق ہم کو ایک چاندی کا پیالہ نہیں ملا جس پر سونے کا جھول تھا اور اس میں تین سو مثقال چاندی تھی انہوں نے کہا ہم کو کچھ معلوم نہیں جو چیز اس نے ہمارے سپرد کی تھی وہ ہم نے تمہارے سپرد کردی، وارثوں نے یہ معاملہ اور یہ مقدمہ نبی کے سامنے پیش کیا مگر وہ دونوں اپنے انکار پر قائم رہے اور چونکہ مدعین یعنی اولیاء میت کے پاس خیانت کے کوئی گواہ نہ تھے اس لیے تمیم اور عدی سے قسمیں لی گئیں کہ ہم نے اس مال میں کوئی خیانت نہیں کی کیونکہ وہ دونوں نصرانی اس مقدمہ علیہ میں مدعی علیہ تھے اس لیے ان سے قسمیں لی گئیں وہ جھوٹی قسمیں کھا گئے اور قصہ ختم ہوگیا کچھ دنوں کے بعد کہیں سے وہ پیالہ پکڑا گیا جس کے پاس پیالہ ملا اس سے دریافت کیا گیا کہ تیرے پاس یہ پیالہ کہاں سے آیا تو اس نے کہا یہ پیالہ میں نے تمم اور عدی سے خریدا ہے اب دوبارہ یہ مقدمہ نبی کی خدمت میں پیش ہوا اس وقت یہ دونوں نصرانی خریداری کے مدعی بن گئے اور یہ کہنے لگے کہ ہم نے یہ پیالہ اس کے مالک سے یعنی اس میت سے خرید لیا تھا لیکن چونکہ ان کے پاس خریداری کے گواہ نہ تھے اور ورثہ خریداری کے منکر تھے اس لیے اب آپ نے ان کے بجائے وارثوں سے قسمیں لیں وارثوں میں سے دو شخصوں نے جو میت کے قریب تر تھے قسم کھائی کہ پیالہ میت کی ملکیت تھا ایک ہزار درہم وہ رقم وارثوں کو دلائی گئی اور قسم ختم ہوا اور اس بارے میں اللہ نے یہ آیتیں نازل کیں اے مسلمانوں تمہارے درمیان گواہی کا نصاب جب کہ تم میں کسی کو موت آپہنچے یعنی وصیت کا وقت آپہنچے تو ایسی حالت میں کہ جب مال ورثہ کے سپرد کرنے کی ضرورت ہو تو گواہی کا نصاب ایسے دو شخص ہیں جو ثقہ ہیں اور تم میں س ہوں یعنی مسلمان ہوں مطلب یہ ہے کہ جو شخص مرتے وقت اپنے ورثہ کے متعلق غیروں کو وصیت کرنا چاہے اور اپنا مال ومتاع ان کے حوالہ کرنا چاہے تو اس کو چاہیے کہ مسلمانوں میں سے دو معتبر شخصوں کو وصیت کرے تاکہ وہ اس کی وصیت کو پورا کریں اور اس کے مال میں خیانت نہ کریں یا اگر مسلمان نہ ملیں تو تمہارے غیروں یعنی کفار میں سے دو شخص گواہ بنالیے جائیں اگر تم سفر کی حالت میں پھر پھر تم اس غربت میں موت کی مصیبت آپہنچے اس مسافرت کی حالت میں تمہارے رفیق سفر سب کافر ہیں مسلمان کوئی نہیں تو انہی میں دو شخصوں کو اپنا وصی بنالوایسی حالت میں کہ جب مسلمان نہ ہو تو غیر مسلم کو وصی کو بنانا جائز ہے پھر ان غیر مسلم اوصیاء کا حکم یہ ہے کہ اے وارثوا اگر تم کسی وجہ سے ان کی امانت اور صداقت کے بارے میں شک اور تردد میں پڑجاؤ اور تمہیں ان اوصیاء کے متعلق خیانت کا گمان ہو تو ان دونوں غیرمسلموں کو عصر کی نماز کے بعد روک لو پھر وہ دونوں مجمع عام میں قسمیں کھائیں اور قسم کے ساتھ یہ کہیں کہ ہم اس قسم کے عوض میں کسی کا مال نہیں چاہتے اگرچہ وہ شخص جس کے نفع کے لیے ہم گواہی دے رہے ہیں ہمارا قریبی رشتہ دار کیوں نہ ہو یعنی ہم جھوٹی گواہی اپنے رشتہ داروں کے لیے بھی نہیں دیتے غیر کے لیے تو کیا دیں گے اور ہم اللہ کی فرض کی ہوئی گواہی کو نہیں چھپاتے اگر ہم ایسا کریں گے تو بیشک ہم گناہ گاروں میں سے ہوں گے پھر اگر بعد میں کسی طریقہ سے یہ اطلاع ملے کہ وہ دونوں شاہد یعنی وصی گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں یعنی انہوں نے میت کے مال میں خیانت کی ہے اور جھوٹی قسمیں کھائی ہیں تو ان دو اور شخص ان کی جگہ قسم کھانے کے لیے کھڑے ہوجائیں ان لوگوں میں سے جن کا ان دونوں نے حق دبایا ہے یعنی میت کے ورثہ میں سے دو شخص کھڑے ہوں جو میت کے سب سے زیادہ قریبی ہوں پھر وہ اللہ کی قسم کھا کر یہ کہیں کہ بیشک ہماری شہادت ان کی شہادت سے زیادہ معتبر ہے اور ہم نے اپنی اس قسم میں کوئی قسم کی زیادتی نہیں کی اگر ہم نے ایسا کیا ہو بیشک ہم ظالموں سے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی تو بدیل کے دو وارث کھڑے ہوئے اور عصر کے بعد انہوں نے یہ قسم کھائی کہ یہ دونوں شخص جھوٹے ہیں اور ہماری شہادت ان کی شہادت سے زیادہ معتبر ہے تب اس پیالہ کی قیمت ان نصرانیوں سے لے کر ان کو دلائی گئی جب اس واقعہ کے بعد تمیم دری اسلام لے آئے تو کہا کرتے تھے کہ بیشک اللہ اور اس کا رسول سچا ہے میں نے پیالہ لیا تھا اب میں اپنے اس گناہ سے توبہ کرتا ہوں اور اللہ سے معافی مانگتا ہوں شہادت کا یہ طریقہ پر شہادت دیا کریں یا وہ اس بات سے ڈریں کہ ان کی قسموں کے بعد وارثوں پر قسمیں لوٹائی جائیں گی یعنی انہیں یہ اندیشہ ہوگا کہ اگر ہم نے جھوٹی قسم کھائی تو ہمارے بعد ورثہ سے قسم لی جائے گی اور ورثہ قسم کھاکر ہماری قسم کو بےاعتبار بنادیں گے اس اندیشہ اور خیال سے وہ جھوٹی قسم پر جرات نہ کریں گے اور اے لوگو قسم کھانے میں اللہ سے ڈرتے رہو اور اللہ کا حکم سنو اور جو اللہ کا حکم نہ سنے وہ فاسق ہے اور اللہ فاسقوں کو توفیق نہیں دیتا یعنی جو لوگ امانت میں خیانت کرتے ہیں اور جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں وہ اللہ کی تو فقی سے محروم ہوجاتے ہیں اللہ ان کو ہدایت نہیں دیتا بلکہ ان کو انکی گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے تاکہ قیامت کو اس کی سزا پائیں۔
Ayahs 5:109–110

یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اُجِبْتُمْ١ؕ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ Open ayah 5:109 in the Quran reader

(وہ دن یاد رکھنے کے لائق ہے) جس دن خدا پیغمبروں کو جمع کرے گا اور ان سے پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب ملا تھا ؟ وہ عرض کریں گے کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں۔ تو ہی غیب کی باتوں سے واقف ہے۔

اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِیْ عَلَیْكَ وَ عَلٰى وَ الِدَتِكَ١ۘ اِذْ اَیَّدْتُّكَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١۫ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا١ۚ وَ اِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ١ۚ وَ اِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّیْنِ كَهَیْئَةِ الطَّیْرِ بِاِذْنِیْ فَتَنْفُخُ فِیْهَا فَتَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِیْ وَ تُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ بِاِذْنِیْ١ۚ وَ اِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتٰى بِاِذْنِیْ١ۚ وَ اِذْ كَفَفْتُ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَنْكَ اِذْ جِئْتَهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 5:110 in the Quran reader

جب خدا عیسیٰ سے فرمائے گا اے عیسیٰ بن مریم ! میرے ان احسانوں کو یاد کروں جو میں نے تم پر اور تمہاری والدہ پر کئے۔ جب میں روح القدس (جبرائیل) سے تمہاری مدد کی۔ تم جھولے میں اور جوان ہو کر (ایک ہی طریق پر) لوگوں سے گفتگو کرتے تھے اور جب میں نے تم کو کتاب اور دانائی اور تورات اور انجیل سکھائی۔ اور جب تم میرے حکم سے مٹی کا جانور بنا کر اس میں پھونک مار دیتے تھے تو وہ میرے حکم سے اڑنے لگتا تھا۔ اور مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو میرے حکم سے چنگا کردیتے تھے اور مردے کو (زندہ کرکے قبر سے) نکال کھڑا کرتے تھے۔ اور جب میں نے بنی اسرائیل (کے ہاتھوں) کو تم سے روک دیا۔ جب انکے پاس کھلے ہوئے نشان لیکر آئے تو جو ان میں سے کافر تھے کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادو ہے۔

خاتمہ احکام سورت برتذکیر آخرت وذکر انعامات و احسانات۔ خداوند انام برعیسی (علیہ الصلوۃ والسلام) برائے اثبات عبدیت و اثبات ورسالت۔ قال اللہ تعالیٰ یوم یجمع اللہ الرسل۔۔۔ الی۔۔۔ سحرمبین۔ ربط) ۔ قرآن مجید میں اللہ کی یہ عادت ہے کہ شرائع اور احکام بیان کرنے کے بعد یا تو اپنی ذات وصفات یا انبیاء کرام کے احوال یا قیامت کے احوال بیان فرماتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلال اور آخرت کا تذکرہ اور استحضار امتثال احکام میں ممد اور معاون ہو اس لیے ختم سورت پر قیامت کا حال ذکر فرمایا کہ اس دین تمام انبیاء مجتمع ہوں گے اور ان کی قوموں اور امتوں کی زجر اور توبیخ کے لیے انہی کے سامنے علی روس الاشہاد سوال و جواب ہوں گے تاکہ امتیں سن لیں اور ڈرجائیں جیسا کہ قرآن مجید میں ہے واذا المودۃ سئلت بای ذنب قتلت۔ جو لڑکی زندہ گاڑی گئی تھی اس سے سوال ہوگا کہ کس گناہ پر ماری گئی تو سوال تو موودہ سے ہوگا مگر اس سوال سے مقصود وائد (یعنی گاڑنے والے) کی توبیخ اور سرزنش ہوگی اس طرح قیامت کے دن جو انبیاء کرام سے سوال ہوگا تو اس سے مقصود امتوں اور قوموں کی توبیخ اور سرزنش ہوگی اللہ جل شانہ نے ان آیات میں بالاجمال تمام انبیاء سے سوال کا ذکر فرمایا اور اس کے بعد خاص طور پر عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا جن کو عیسائیوں نے خدا ٹھہرا رکھا ہے کیونکہ اوپر سے سلسلہ کلام اہل کتاب کے غلو اور افراط اور تفریط کے متعلق چلا آرہا ہے اس لیے اللہ نے ان آیات میں عیسیٰ (علیہ السلام) پر اپنے انعامات اور احسانات کا ذکر فرمایا، اس تذکرہ سے اصلی مقصود تو نصاری کے عقائد کی تردید ہے جو انہیں خدا اور خدا کا بیٹا سمجھتے ہیں اس لیے کہ دوسری امتوں کا کفر انبیاء کرام کی ذات تک محدود تھا اور نصاری کا کفر حق نبوت سے تجاوز کرکے خدا تعالیٰ کی حد تک پہنچ چکا تھا اس لیے کہ خداوندقدوس کے لیے بیٹا تجویز کرنا بارگاہ خداوندی میں ایسی عظیم گستاخی ہے کہ جس سے آسمان و زمین کے پھٹ جانے کا اندیشہ ہے اس لیے ان آیات میں اصل مقصود تو نصاری کی تردید ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہود کی بھی تردید ہے کہ جو حضرت عیسیٰ کی نبوت و رسالت کے منکر ہیں اللہ نے ان آیات میں حضرت عیسیٰ پر اپنے انعامات و احسانات کا ذکر فرمایا جس سے ایک طرف تو ان کا بندہ اور محتاج خدا ہونا ثابت لیے کہ انعام و احسان اور تائید روح القدس اور حفاظت جبرائیلی اور نزول مائدہ کی ضرورت بندہ کو ہے نہ کہ اللہ تعالیٰ کو اور دوسری طرف ان کا برگزیدہ خدا ہونا ظاہر ہوگیا اس طرح سے یہود اور نصاری کے غلو اور افراط اور تفریط دونوں کی تردید ہوگئی اور اسکا تذکرہ اور حکایت سے مقصود یہ ہے کہ یہ سن کر نصاری اور یہود دونوں اپنے اپنے کفر اور عناد سے باز آجائیں چناچہ فرماتے ہیں یاد کرو اس ہولناک دن کو جس دن اللہ کافروں کے الزام کے لیے رسولوں کو جمع کرے گا پھر ان رسولوں سے پوچھے گا کہ تم کو تمہاری امتوں کی طرف سے کیا جواب دیا گیا تھا یعنی جب تم نے ان کو خدا کی طرف بلایا تو انہوں نے تمہاری دعوت کا کیا جواب دیا اسے قبول کیا یارد کیا اس سوال کرنے سے اللہ کا مقصود منکرین اور مکذبین کو توبیخ کرنا ہوگا پیغمبر جواب دیں گے ہمیں حقیقت حال کا علم نہیں تحقیق آپ ہی تمام غیبوں کو جاننے والے ہیں ظاہر و باطن سب تجھ ہی پر روشن ہے ہم تو صرف ظاہر ہی کو کچھ جان لیتے ہیں ہم تیرے سامنے کیا بیان کریں ہمارا علم تیرے علم کے سامنے کوئی چیز نہیں بلکہ بمنزلہ عدم علم کے ہے اور اسی دن جب تمام پیغمبرجمع ہوں گے عیسیٰ (علیہ السلام) کو بلا کر ان سے اللہ یہ فرمائیں گے اے عیسیٰ مریم کے بیٹے میرے اس انعام اور احسان کو یاد کر جو تجھ پر اور تیری ماں پر ہیں قیامت کے دن ان احسانات کے یاد دلانے سے یہودیوں اور عیسائیوں کی زجر اور توبیخ مقصود ہوگی یعنی ان انعامات اور احسانات کو یاد دلا کر ان پر یہ امر ظاہر کیا جائے گا کہ دنیا میں عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں دونوں گروہ غلطی پر تھے عیسیٰ خدا کے بندے ہیں اور خدا تعالیٰ ان کا محسن ہے ان میں کو کچھ خوبی تھی وہ خدا ہی کی دی ہوئی تھی پس نصاری کو یہ حق نہیں تھا کہ انہوں نے عیسیٰ کو خدا بنالیا اور عیسیٰ کے محسن کو بھول گئے اور یہودیوں کے لیے کب مناسب تھا کہ جس ذات پر اللہ کے ایسے عجیب و غریب انعامات و احسانات ہوتے ہوں اس کو مفتری اور کذاب سمجھیں اور اس آیت میں حضرت عیسیٰ کی مان پر احسانات کی تفصیل نہیں کہ اشارہ اور اجمال پر اکتفا کیا تفصیل اس کی سوہ آل عمران میں گذرچ کی ہے کہ وہ طاہر اور مطہرہ اور صدیقہ تھیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کو تمام جہانوں کی عورتوں پر فضیلت دی تھی اور اے عیسیٰ بن مریم اس وقت کو بھی یاد کرو جب میں نے تجھ کو روح القدس یعنی جبریل امنی سے قوت اور مدد دی تھی جو تیری تائید اور تقویت کے لیے ہر وقت تمہارے ساتھ رہتے تھے مطلب یہ ہے کہ خطیرہ القدس کے انوار وبرکات ہر وقت تمہارے محافظ اور نگہبان تھے اور افضل الملائکہ المقربین یعنی جبریل امین کے معیت کی وجہ سے نفس و شیطان کی یہ مجال نہ تھی کہ اپنی ظلمتوں سے آپ کی نورانیت کو پھیکا ہی کرسکے من جانب اللہ روح القدس کی یہ تائید اس کی دلیل تھی کہ آپ خدا کے برگزیدہ بندے ہیں معاذ اللہ خدا نہیں خدا کو کسی کی تائید اور تقویت کی کیا ضرورت ہے اور اللہ کے اس انعام کو بھی یاد کرو کہ آپ گہوارہ میں بھی اور بڑی عمر میں بھی لوگوں سے باتیں کرتے تھے یعنی زمانہ طفولیت اور زمانہ کہولت کے کلام میں باعتبار فصاحت وبلاغت اور باعتبار موعظت و حکمت کوئی فرق نہ تھا دونوں یکساں تھے زمانہ شیر خوارگی میں آپ نے یہ کلام کیا انی عبداللہ اتانی الکتاب وجعلنی۔۔۔۔ الی۔۔۔ حیا۔ آیت۔ اور اس شیر خوارگی میں جو پہلا کلمہ آپ کی زبان سے نکلا وہ یہ تھا انی عبداللہ تحقیق میں اللہ کا بندہ ہوں اور نبوت و رسالت ملنے کے بعد وحی اور الہام سے کلام فرمایا دونوں زمانوں اور دونوں جالتوں کا کلام ایک ہی شان اور ایک صفت کا تھا دونوں میں کوئی تفاوت نہ تھا حالانکہ ان دو حالتوں کا کلام غایت درجہ مختلف اور متفاوت ہوتا ہے یہ بھی من جانب اللہ ایک عظیم معجزہ تھا جو آپ کے حق میں اور آپ کی والدہ ماجدہ کے حق میں نعمت عظیمہ تھی جس سے ان کی طہارت اور نزاہت ثابت ہوئی اور الوہیت کی نفی ہوگئی اس لیے کہ خدا تعالیٰ کا پیش آنا الوہیت کی نفی ہوگئی اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ولادت اور تغیرات سے پاک اور منزہ ہے بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ حالت کہولت میں کلام کرنے سے مراد یہ ہے کہ آسمان سے نازل ہونے کے بعد بھی اس قسم کا کلام سراپا حکمت التیام فرمائیں گے لہذا لفظ وکہلا میں آپ کے نزول من السماء کی طرف اشارہ ہے جس کی تفصیل احادیث میں آئی ہے اس لیے کہ آپ زمانہ کہولیت سے پہلے آسمان پر اٹھائے گئے نزول کے بعد آپ کہولت کو پہنچیں گے اور حکمت وموعظت کی باتیں لوگوں کو بتلائیں گے۔ اور یاد کرو اس وقت کو جب کہ میں نے تم کو لکھنا اور دانائی اور توریت اور انجیل سکھائی کتاب سے کتاب اور فن تحریر مراد ہے اور حکمت سے کلام صواب مراد ہے اس سے معلوم ہوا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) لکھنا جانتے تھے مگر افسوس کہ نصاری کے پاس حضرت مسیح کے ہاتھ کی لکھی ہوئی کوئی انجیل موجود نہیں بخلاف ہمارے نبی اکرم محمد رسول اللہ کے کہ وہ امی تھے لکھنا نہیں جانتے تھے وماکنت تتلوا من قبلہ من کتاب ولا۔۔۔ الی۔۔ مبطلون۔ آیت۔ اس لیے آپ پر جب وحی نازل ہوتی تو کاتبین وحی کو بلا بلا کر املاء کرادیتے بحمدہ تعالیٰ مسلمانوں کے پاس وہ اصل قرآن محفوظ ہے جو کاتبین وحی اور خلفاء راشدین کے مبارک ہاتھوں نے لکھا اور یہ دنیا کے سارے قرآن اس کی نقل مطابق اصل ہیں اور یاد کرو اس وقت کو جب کہ تو میرے حکم سے مٹی سے پرندے کی شکل اور صورت بناتا تھا پھر تو اس مصنوعی صورت وشکل میں پھونک مارتا تھا پھر وہ تیری بنائی ہوئی صورت میرے حکم سے حقیقت میں پرندہ بن جاتی تھی یہ بھی حضرت عیسیٰ کا معجزہ تھا کہ آپ مٹی سے پرند کی صورت بناتے اور پھر اس میں پھونک مارتے تو وہ سچ مچ کا پرندہ بن جاتا اور اڑنے لگتا اور باذنی کی قید اس لیے لگائی کہ اس پرندہ میں جان ڈالنا اللہ کا کام تھا حضرت عیسیٰ کا کام نہیں تھا جیسے مریم کے گریبان میں پھونک مارنا جبرائیل کا کام تھا اور بچہ کو پیدا کرنا اللہ کا کام اور اس میں جان ڈالنا اللہ کا کام تھا اس وجہ سے ہر جگہ باذنی کی قید بڑھائی تاکہ ان معجزات کو دیکھ کر کسی کو ان کی خدائی کا شبہ نہو اس باذنی کے لفظ سے یہ بتلا دیا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے یہ تمام کام اپنی قدرت سے نہ تھے بلکہ خدا کی قدرت سے تھے حضرت عیسیٰ کا کام تو صرف مورت بنانا اور اس میں پھونک مارنا تھا باقی اس میں جان ڈالنا یہ اللہ کا کام تھا عجب نہیں کہ نفخ عیسوی سے باذن اللہ پرندہ بن جانے کا معجزہ۔ نفخ جبرائیلی کا کوئی نمونہ ہو۔ واللہ اعلم۔ اور یاد کرو اس وقت کو جب کہ تم مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو میرے حکم دے ہاتھ پھیر کر اچھا اور چنگا کردیتے تھے بیمار پر ہاتھ پھیرنا تمہارا کام تھا اور شفا اور تندرستی عطا کرنا اور چنگا کردینا یہ میرا کام تھا میں نے تمہاری برگزیدگی ثابت کرنے کے لیے تم کو یہ معجزہ عطا کیا تمہارے دست برکت میں میرا دست قدرت کارفرما تھا اور تمہارا ہاتھ میرے بےچون وچگوں کے ہاتھ کے لیے روپوش تھا اور یاد کرو اس وقت کو جب کہ تو میرے حکم سے مردوں کو زندہ کرکے قبر سے نکالتا تھا عیسیٰ (علیہ السلام) جب یہ چاہتے کہ کوئی مردہ زندہ ہوجائے تو دو رکعت نماز پڑھتے اور خدا سے دعا مانگتے اس کے بعد وہ زندہ ہوجاتا اور اس حالت کو دیکھ کر ہر شخص یہ سمجھ لیتا کہ یہ مردہ دراصل اللہ کی قدرت اور پھر حضرت عیسیٰ کی دعا کی برکت سے زندہ ہوا ہے حضرت عیسیٰ نے دعا کی اور اللہ نے اپنے بندہ کی دعا قبول کی اور اپنی قدرت اور رحمت سے مردہ کو زندہ کردیا زندہ کرنے والے عیسیٰ (علیہ السلام) نہیں اللہ نے حضرت عیسیٰ کو یہ معجزات عطا اس لیے کیے کہ اطباء اور حکماء بھی ان بیماریوں کے علاج سے عاجز اور درماندہ تھے تاکہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ عیسیٰ اطباء کی طرح کوئی طبیب نہیں بلکہ اللہ کے برگزیدہ رسول ہیں جن کو اللہ نے ایسے معجزات، عطا کیے جن سے تمام اطباء عالم عاجز اور درماندہ ہیں یہاں تک منافع اور فوائد کا بیان تھا اب آئندہ آیت میں دفع مضرت کے انعام کو بیان کرتے ہیں اور یاد کرو اس وقت کو جب میں نے بنی اسرائیل یعنی یہودیوں کو تیرے پاس آنے سے روک دیا اور انہوں نے جو تیرے قتل اور صلب کا منصوبہ بنایا تھا اس کو میں نے یک لخت مل یا میٹ کردیا اور تجھ کو صحیح سالم زندہ آسمان پر اٹھا لیا اور وہ تجھے کوئی ضرر نہیں پہنچا سکے جب کہ تو ان کے پاس اپنی نبوت و رسالت کے روشن دلائل لے کر آیا تو ان میں کے جو کافر تھے وہ یہ بولے کہ نہیں ہیں یہ معجزات مگر کھلاجادو اپنی نادانی اور عناد سے معجزات کو جادو سمجھے معجزہ وہ ہے جس کا مثل لانے سے ساراعالم عاجز ہو اور جادو تو ایک فن ہے جو سیکھ لے اس کو آجاتا ہے۔ خلاصہ مضمون آیات مذکورہ بالا۔ ان آیات میں اللہ نے حضرت عیسیٰ پر اپنے انعامات کا ذکر فرمایا جس سے ایک طرف ان کا برگزیدہ ہونا ثابت ہوا جس سے یہود کا رد ہوا اور دوسری طرف ان کی عبدیت ثابت ہوئی اور ان کی الوہیت کی نفی ہوئی جس سے نصاری کی تردید ہوئی کیونکہ روح القدس کی تائید اور تقویت اور گہوارہ میں ان کی تربیت اور کتاب و حکمت کی تعلیم اور ہدایت اور بنی اسرائیل کے شر سے حفاظت، جسکا واذکففت بنی اسرائیل عنک۔ آیت) ۔ میں ذکر ہے یہ سب اس امر کے دلائل اور براہین ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) معاذ اللہ خدا نہ تھے اس لیے کہ خدا کسی کی تائید اور تقویت اور تعلیم اور تربیت اور کسی کی حفاظت کی کیا ضرورت ہے یہ سب امور عبدیت کے دلائل ہیں اور سلسلہ انعامات اور احسانات میں حضرت عیسیٰ کے معجزات ذکر کرنے سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ جو معجزات عطا کیے ان کو وہ ان پر اللہ کا انعام اور احسان تھے اور وہ معجزات ان کی نبوت و رسالت کے دلائل تھے نہ کہ الوہیت اور ابنیت کے دلائل تھے اس سے مقصود نصاری کی غلطی کو واضح کرنا ہے کہ وہ احیاء موتی اور ابراء اکمہ وبرص جیسے معجزات کو حضرت عیسیٰ کی الوہیت کی دلیل سمجھ بیٹھے اور ان کو خدا اور خدا کا بیٹا سمجھ بیٹھے حالانکہ یہ معجزات قاہرہ ان کی نبوت اور رسالت کی دلیل تھے نہ کہ الوہیت اور ابنیت کی دلیل تھے معاذ اللہ خدا کو کسی کے انعام و احسان اور کسی کی تائیدوحفاظت کی ضرورت نہیں اور قیامت کے دن ان انعامات کے ذکر کرنے سے تمام اہل کتاب کی توبیخ مقصود ہے جنہوں نے ان کی شان میں افراط اور تفریط کی اور آئندہ سوالات کی تمہید ہے جن کا آئندہ آیت، ءانت قلت للناس۔۔۔ الھین۔ میں ذکر آئے گا۔
Ayahs 5:111–115

وَ اِذْ اَوْحَیْتُ اِلَى الْحَوَارِیّٖنَ اَنْ اٰمِنُوْا بِیْ وَ بِرَسُوْلِیْ١ۚ قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ اشْهَدْ بِاَنَّنَا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 5:111 in the Quran reader

اور جب میں نے حواریوں کی طرف حکم بھیجا کہ مجھ پر اور میرے پیغمبر پر ایمان لاؤ وہ کہنے لگے کہ (پروردگار) ہم ایمان لائے تو شاہد رہیو کہ ہم فرمانبردار ہیں

اِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ هَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّكَ اَنْ یُّنَزِّلَ عَلَیْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ١ؕ قَالَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:112 in the Quran reader

(وہ قصہ بھی یاد کرو) جب حواریوں نے کہا کہ اے عیسیٰ بن مریم ! کیا تمہارا پروردگار ایسا کرسکتا ہے کہ ہم پر آسمان سے (طعام کا) خوان نازل کرے ؟ انہوں نے کہا کہ اگر ایمان رکھتے ہو تو خدا سے ڈرو۔

قَالُوْا نُرِیْدُ اَنْ نَّاْكُلَ مِنْهَا وَ تَطْمَئِنَّ قُلُوْبُنَا وَ نَعْلَمَ اَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا وَ نَكُوْنَ عَلَیْهَا مِنَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 5:113 in the Quran reader

وہ بولے کہ ہماری خواہش ہے کہ تم اس میں سے کھائیں اور ہمارے دل تسلّی پائیں۔ اور ہم جان لیں کہ تم نے ہم سے (سچ کہا ہے اور ہم اس (خوان کے نزول) پر گواہ رہیں۔

قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوْنُ لَنَا عِیْدًا لِّاَوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا وَ اٰیَةً مِّنْكَ١ۚ وَ ارْزُقْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 5:114 in the Quran reader

تب عیسیٰ بن مریم نے دعا کی کہ اے ہمارے پروردگار ! ہم پر آسمان سے خوان نازل فرما کہ ہمارے لئے (وہ دن) عید قرار پائے یعنی ہمارے اگلوں اور پچھلوں (سب) کیلئے۔ اور وہ تیری طرف سے نشانی ہو اور ہمیں رزق دے تو بہتر رزق دینے والا ہے۔

قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مُنَزِّلُهَا عَلَیْكُمْ١ۚ فَمَنْ یَّكْفُرْ بَعْدُ مِنْكُمْ فَاِنِّیْۤ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُهٗۤ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 5:115 in the Quran reader

خدا نے فرمایا میں تم پر ضرور خوان نازل فرماؤں گا لیکن جو اس کے بعد تم میں سے کفر کرے گا اسے ایسا عذاب دوں گا کہ اہل عالم میں کسی کو ایسا عذاب نہ دوں گا۔

قصہ نزول مائدہ۔ قال اللہ تعالی۔ واذا اوحیت الی۔۔۔۔ الی۔۔۔ العالمین۔ ربط) ۔ ان آیات میں اللہ نے حضرت عیسیٰ پر اپنے ایک خاص انعام اور خاص معجزہ کا ذکر فرمایا تھا جس سے یہود اور نصاری دونوں ہی کو تنبیہ مقصود ہے یعنی مائدہ کے نازل ہونے کا قصہ ذکر فرماتے ہیں جس کی طرف یہ سورت منسوب ہے یعنی سورة مائدہ کہ اللہ نے اپنے برگزیدہ بندہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعا قبول کی اور اس پر آسمان سے مائدہ اتارا جو ان کی نبوت و رسالت کی آیت باہرہ اور حجت قاہرہ تھی اور اس بات کی بھی دلیل تھی کہ جس کے لیے یہ آسمانی رزق کا خوان اتارا جارہا ہے وہ خدا کا برگزیدہ بندہ ہے کہ من وسلوی کی طرح اس مائدہ سے خدا کا رزق کھائے اور اس کا شکر بجالائے معاذ اللہ وہ خدا نہیں ہے رزق کا محتاج بندہ ہوتا ہے نہ کہ خدا موسیٰ (علیہ السلام) کا قول ہے، رب انی لماانزلت الی من خیر فقیر۔ آیت۔ چناچہ فرماتے ہیں اور یاد کرو اس وقت کو جب یہودیوں نے حضرت عیسیٰ کے واضح معجزات کو دیکھ کر یہ کہہ دیا کہ یہ صریح جادو ہے تو اس وقت میں نے اپنے خاص الخاص لطف و عنایت سے حواریین کے دل میں یہ القاء کیا کہ تم ایمان لاؤ مجھ پر اور میرے رسول پر یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) پر انہوں نے جواب میں کہا کہ ہم ایمان لائے اور اے اللہ تو گواہ رہ کہ ہم تیرے حکم ماننے والے ہیں جو حکم دے گا اس کی تعمیل کریں گے یہ بھی اللہ کا انعام اور احسان تھا کہ حواریین کے دل میں یہ القاء اور الہام کیا کہ تم ہمارے نبی برحق پر ایمان لے آؤ چناچہ ایمان لے ائے اور خدا کو اپنے اسلام پر گواہ بنا لیا۔ اس کے بعد اب دوسرے انعام کا زکر ہے کہ حواریین کی درخواست کی بناء پر آسمان سے مائدہ نازل ہوا ایمان اور اسلام باطنی رزق اور اخروی نعمت ہے اور مائدہ ظاہری رزق دنیوی نعمت ہے چناچہ فرماتے ہیں یاد کرو اس وقت کو جب کہ حواریین نے عیسیٰ (علیہ السلام) سے یہ عرض کیا اے عیسیٰ بن مریم علیک السلام کیا یہ ہوسکتا ہے کہ تیرا پیروردگار ہم پر آسمان سے نعمتوں بھرا ہو ایک خوان اتارے اس کا یہ مطلب نہیں کہ حواریین کو حق تعالیٰ کی قدرت میں کسی قسم کا کوئی شک تھا بلکہ مطلب یہ تھا کہ اے مسیح بن مریم کیا خداوندعالم آپ کے طفیل میں آپ کے خادموں اور غلاموں کے لیے اپنے عام دستور و عادت کے خلاف آسمان سے الوان نعمت کا کوئی خوان اتار سکتا ہے ہم تاس قابل نہیں کہ ہمارے لیے آسمان سے خوان اتاراجائے ہاں یہ ممکن ہے کہ آپ جیسی برگزیدہ ذات بارگاہ خداوندی میں یہ سوال کرے اور قبول ہوجائے تو آپ کے طفیل ہماری یہ آرزو پوری ہوجائے اس کی مثال بعینہ ایسی ہے کہ جیسے کوئی شخص کسی بڑے شخص کو اپنے ساتھ بازار لے جانا چاہے اور یہ کہے کہ کیا آپ میرے ساتھ بازار چلنے کی تکلیف برداشت کرسکیں گے عیسیٰ نے ان کے جواب میں کہا اللہ سے ڈرو اگر تم میری نبوت و رسالت پر یقین رکھتے ہو یعنی تمہارا یہ سوال اول تو خلاف ادب ہے خلاف عادت امور کی فرمائش خلاف ادب ہے اس قسم کی فرمائشیں معاندی کا طریقہ ہیں اور علاوہ ازیں اس سوال سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ تمہیں میری نبوت و رسالت میں کوئی شک ہے جب ہی تو تم نے مجھ سے اس معجزہ اور خارق عادت امر کی فرمائش کی گویا کہ بزبان حال اس سوال سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ تم اپنے ایمان کو معجزات اور خوارق عادات کے مشاہدہ پر موقوف رکھنا چاہتے ہو یہ علامت شک اور تردد کی ہے نیز مجھ کو یہ ڈر ہے کہ وہ خوان تمہارے لیے فتنہ کا سامان نہ بن جائے لہذا تم اللہ سے ڈرو اور ایسی چیز کا سوال نہ کرو جو تمہارے لیے فتنہ کا سبب بنے اور میری نسبت شک میں پڑ کر اپنے ایمان کو متزلزل نہ کرو حواریین بولے ہم آپ پر پورا پورا ایمان رکھتے ہیں اور ہمیں ذرہ برابر شک نہیں لیکن ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس خوان میں سے کھائیں جو آسمان سے نازل ہو کیونکہ جو رزق آسمان سے نازل ہوگا وہ سراسر مبارک ہوگا اور اس کے کھانے سے ظاہری اور باطنی شفا اور صحت حاصل ہوگی، اور تیری عبادت اور اطاعت میں قوت کا ذریعہ بنے گا دنیا کے رزق سے بعض مرتبہ دل میں معصیت کا داعیہ پیدا ہوتا ہے مگر جو رزق آسمان سے نازل ہوگا وہ دل میں تیری اطاعت اور بندگی کا ایسا جوش اور ولولہ پیدا کرے گا کہ ہم کو عبادت اور بندگی میں ملائکہ کا ہم رنگ بنا دے گا اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس آسمانی خوان سے کھا کر ہمارے دل مطمئن ہوجائیں یعنی ہمارے دل طمانیت اور سکینت سے ایسے لبریز ہوجائیں کہ ہمارے ایمان میں شک اور تردد کا امکان ہی ختم ہوجائے اور شہودی اور حسی طور پر ہم یہ جان لیں کہ آپ نے نعماء جنت کے بارے میں ہم کو خبر دی ہیں اس میں آپ نے ہم سے سچ بولا کہ جنت اور اس کی نعمتیں حق ہیں اور یہ آسمانی خوان جنت کی نعمتوں کا ایک نمونہ ہے اگرچہ استدلالی اور برہانی طریقہ پر ہم کو آپ کی صداقت کا پہلے ہی سے علم حاصل ہے مگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس میں علم استدلالی کے ساتھ علم شہودی اور علم عیانی بھی مل جائے تاکہ کفر اور نفاق اور ارتداد کے خطرہ سے ہم نکل جائیں اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہم اس معجزہ پر گواہی دینے والوں میں سے ہوجائیں کہ ہم بنی اسرائیل کے سامنے گواہی دیں کہ ہم نے یہ معجزہ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے تاکہ جن لوگوں نے یہ معجزہ نہیں دیکھا ان کے سامنے گواہی دیں اور آپ کی نبوت و رسالت کو ثابت کرسکیں ہم کو تبلیغ اور دعوت کا اجر ملے اور ان کو ہدایت ملے عیسیٰ (علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ اس درخواست سے ان کی غرض صحیح ہے تو بولے اور یہ دعا کی بار خدایا اے ہمارے پروردگار ہماری ظاہری اور باطنی تربیت کے لیے آسمان سے ایک خوان اتار جو ہمارے اگلے اور پچھلوں کے لیے عید بنے یعنی جو لوگ اس وقت موجود ہیں اور جو لوگ بعد کے زمانہ میں آئیں گے سب کے لیے خوشی کا سامان ہو مطلب یہ ہے کہ تیرا یہ انعام سلف سے لے کر خلف تک جاری رہے اور تیری طرف سے ایک نشانی ہو کہ جنت کی نعمتوں میں شک اور شبہ نہ کرسکیں اس کانمونہ تم کو دنیا میں دکھلادیا اور اے اللہ ہم کو رزق عطا فرما اور اس پر شکر کی توفیق دے اور سب عطا کرنے والوں میں تو ہی سب سے بہتر عطا کرنے والا ہے دنیا میں جو شخص کسی کو کچھ دیتا ہے وہ اپنے نفع کے لیے دیتا ہے اور اسکے عوض کا طلب گار ہوتا ہے اور تیری عطا بلاعوض اور بلا نفع کے ہے۔ من نکردم خلق تاسودے کنم۔۔۔ بلکہ تابر بندگاں جو دے کنم۔ وارزقنا (ہم کو روزی دے) لفظ اگرچہ عام ہے مگر یہاں خاص روزی مراد ہے یعنی وہی خوان جس کا سوال تھا۔ نکتہ) ۔ حواریین نے جو نزول مائدہ کی درخواست کی اس کا آغاز ھل یستطیع ربک سے کیا جو کسی قدر خلاف ادب معلوم ہوتا ہے اور غرض وغایت یہ بیان کی نرید ان ناکل منھا۔ آیت۔ بخلاف عیسیٰ کے کہ انہوں نے دعا اور استدعا میں جن آداب عبودیت کو ملحوظ رکھا وہ ظاہر ہیں اللھم ربنا سے دعا کو شروع کیا اور ورزقنا وانت خیرالرازقین پر ختم کیا۔ اللہ نے کہا اے عیسیٰ میں نے تمہاری درخواست منظور کرلی اور تحقیق میں تمہاری درخواست کے مطابق وہ خوان آسمان سے تم پر ضرور اتاروں گا پھر تم سے جو کوئی اس کے بعد ناشکری کرے تو میں اس کو ایسا عذاب دوں گا جو جہان والوں میں سے کسی کو نہ دوں گا اس لیے کہ جب نعمت غیرمعمولی ہو اور نرالی ہو تو اس کی ناشکری پر عذاب بھی غیرمعمولی اور نرالا آئے گا۔ جمہور علماء وسلف وخلف کا قول یہ ہے کہ یہ مائدہ حسب وعدہ خداوندی آسمان سے اترا جیسا کہ اللہ نے فرمایا ہے انی منزلھا علیکم اور یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اس کی خبر ہے جو حق صدق ہے یہ ناممکن ہے کہ اللہ کا وعدہ پورا ہوا اور اس کی خبر واقع نہ ہو اور اس کا امام ابن جریر اور ابن کثیر اور امام قرطبی نے اور جمہور علماء تفسیر نے اختیار کیا ہے جیسا کہ ترمذی وغیرہ میں عمار بن یاسر سے مرفوعا اور موقوفا مروی ہے کہ وہ مائدہ آسمان سے اترا اور اس میں گوشت تھا اور روٹی تھی اور اس کے متعلق یہ حکم دیا گیا کہ اس میں خیانت نہ کریں اور چھپا نہ کر رکھیں اور دوسرے دن کے لیے ذخیرہ نہ کریں پس جن لوگوں نے اس حکم کی خلاف ورزی کی وہ بندر اور سور کی صورت اور شکل بنادیے گئے اور تین دن کے بعد وہ ہلاک ہوگئے (دیکھو تفسیر قرطبی ص 372، اور تفسیر ابن کثیر ص 116 ج 2) ۔ اور بعض علماء کا قول یہ ہے کہ یہ مائدہ نازل ہی نہیں ہوا یہ تہدید سن کر مانگنے والے ڈر گئے اور اپنی درخواست واپس لے لی اور مانگاہی نہیں اور اپنے اس سوال سے توبہ اور استغفار کی مگر یہ قول صحیح نہیں ظاہر قرآن کے بھی خلاف ہے اور اخبار اور آثار متواترہ کے بھی خلاف ہے سلف اور خلف سے یہی منقول ہے کہ یہ مائدہ آسمان سے نازل ہوا غرض یہ کہ اتنا امر قطعی اور یقینی ہے کہ آسمان سے خون اترتا تھا اور ایک مدت تک اترتا رہا باقی رہا یہ امر کہ اس خوان میں کیا کیا چیزیں تھیں اور کب تک اترتا رہا اس کی تفصیل میں اختلاف ہے واللہ سبحانہ وتعالی اعلم (دیکھو تفسیر درمنثور ص 346 ج 3) ۔ جس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ مائدہ کس شان سے نازل ہوا اور عیسیٰ (علیہ السلام) نے کس شان سے اس کا استقبال کیا، واللہ اعلم۔