Ayahs 5:41–43تسلیہ رسول کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم وذکر خیانت یہود درحکم زنا درتورات مذکور بود۔
قال تعالی، یا ایھا الرسول لایحزنک۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ بالمومنین۔
شان نزول۔
ان آیات میں اخیر رکوع تک یہود کی ایک خاص خیانت کا ذکر ہے قصہ یہ ہوا کہ ایک مرتبہ خیبر کے ایک معزز گھرانہ کے ایک یہودی مرد اور ایک یہودی عورت نے زنا کیا توریت میں زنا کی سزا سنگسار کرنا تھی لیکن جب یہودی اس سزا کو معزز گھرانوں پر جاری نہ کرسکے تو توریت میں تحریف کرکے اپنی طرف سے یہ سزابنائی کہ زانی اور زانیہ کا منہ کالا کرکے ان کو گدھے پر سوار کرکے شہر میں پھراتے اور سو تازیانے لگاتے خبیر میں جب یہ واقعہ پیش آیا تو ان لوگوں نے یہ مشورہ کیا کہ یہ مقدمہ محمد ﷺ کے پاس لے چلو دیکھو کہ وہ حکم دیتے ہیں اور شاید ان کی شرعیت میں کوئی نرمی ہو اس لیے کہ ان کی شریعت تورات کے طرح سخت نہیں اور یہ جانتے تھے کہ حضور پرنور امی ہیں آپ کو تورات کی خبر نہیں جو ہمارا معمول اور دستورسنیں گے اسی کے مطابق فیصلہ کردیں گے اور جن لوگوں کے ساتھ مجرموں کو آپ کے پاس بھیجا ان کو سمجھادیا کہ اگر حضور پرنوردرے لگانے کا حکم دیں تو قبول کرلینا ورنہ پھر اس پر عمل نہ کرنا چناچہ جب یہ لوگ مقدمہ لے کر آپ کے پاس آئے تو اللہ نے بذریعہ وحی آپ کو خبر دی کہ توریت میں زانی کا حکم رجم ہے تو آپ نے پوچھا کہ توریت میں زنا کی کیا سزا ہے انہوں نے کہا یہی سزا ہے منہ کالا کرکے شہر میں تشہیر کرنا اور تازیانے لگانا آپ یہ سن کر خاموش ہوگئے اور مسجد سے اٹھ کر سیدھے یہودیوں کے مدرسہ بیت المدارس میں تشریف لے گئے اور یہودیوں سے دریافت کیا کہ تم میں سب سے بڑا عالم کون ہے لوگوں نے کہا ابن صوریا آپ نے اس سیدریافت کیا کہ بتلاؤ توریت میں شادی شدہ زانی کی کیا سزا ہے اس نے اور دیگر علماء نے کہا کہ اس کی سزا یہ ہے کہ منہ کالا کرکے اور گدھے پر سوار کرکے شہر میں گھمایا جائے اور تازیانے مارے جائیں تو آپ نے فرمایا تم غلط کہتے ہو توریت کو لاؤ اور اس کو میرے سامنے پڑھو چناچہ توریت منگوائی گئی آخر وہ آیت جس میں رجم (یعنی سنگسار کرنے کا حکم تھا) وہ آیت نکلی اور پڑھ کر سنائی گئی ان میں سیایک شخص نے اپنا ہاتھ آیت رجم پر رکھ دیا اور ماقبل اور مابعد پڑھ کر دنایا عبداللہ بن سلام نے کہا اے عدو اللہ اپنا ہاتھ اٹھا اس نے اپنا ہاتھ اٹھایا اس کے نیچے سے آیت رجم کی نکلی تب سب نے اقرار کیا کہ محمد سچے ہیں اور مجبورا انہیں عمل کرنا پڑ اس پر نبی نے ارشاد فرمایا کہ میں توریت کے مطابق رجم کا حکم دیتا ہوں آپ کے اس حکم کے بعد دونوں کو سنگسار کردیا گیا ان آیات میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے یہ تمام تفصیل تفسیر قرطبی ص 176 ج 6 اور تفسیر بن کثیر ص 58 ج 2 میں مذکور ہے۔
ربط) گزشتہ آیت میں مال کی چوری کا ذکر تھا اور ان آیات میں ایک حکم شرعی کی چوری اور خیانت کا ذکر ہے اور مقصود یہ ہے کہ احکام خداوندی کے اجراء اور تنفیذ میں امیر اور غریب کا فرق جائز نہیں اور میروں کی رعایت سے حکم خداوندی میں تحریف موجب لعنت ہے اور آیت کا آغاز نبی کریم ﷺ کے تسلی سے فرمایا کیونکہ احکام شریعت کی مخالفت عموما اور حدود اور تعزیرات کی مخالفت خصوصا اہل نفاق اور اہل غرض کاشیوہ ہے نبی کو ان لوگوں کی ناشائستہ حرکات سے رنج اور ملال ہوتا تھا اس لیے اللہ جل شانہ نبی ﷺ کی تسلی اور تسکین کے لیے ارشاد فرماتے ہیں اے ہمارے رسول آپ کو وہ لوگ غم میں نہ ڈالیں جو کفر کے نشر و اشاعت میں جدوجہد اور سعی کرتے پھرتے ہیں یعنی آپ ان کے کفریات سے رنجیدہ اور مغموم نہ ہوں یہ لوگ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اللہ آپ کا حافظ وناصر ہے اور یہ کفر میں سعی کرنے والے خواہ منافقین میں سے ہوں جو زبان سے کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں اور ان کی دل مسلمان نہیں اور خواہ وہ یہود میں سے ہوں اور یہ دونوں گروہ جھوٹ سننے کے عادی ہیں اور اپنے سرداروں اور رئیسوں سے جھوٹی باتیں سنتے ہیں اور اس کو قبول کرتے ہیں وہ آپ کے حق اور صدق کو کس طرح قبول کریں گے اور اگر کسی وقت آپ کی مجلس میں حاضر ہوتے تو آپ کی سچی باتیں سننے کے لیے حاضر نہیں ہوتے بلکہ آپ کی باتیں دوسرے لوگوں کے لیے سنتے جو آپ کے پاس نہیں آئے یعنی یہ لوگ جاسوس ہیں جو باتیں آپ سے سنتے ہیں ان کی خبر اپنی قوم کو جا کردیتے ہیں اور حق کی عداوت میں توریت کے کلمات اور الفاظ میں تغیر اور تبدل کر ڈالتے ہیں بعد اس کے کہ وہ کلمات اپنے موقع اور محل میں ثابت اور قائم تھے وہاں سے ان کو ہٹا دیتے ہیں یعنی توریت کے کلمات اور الفاظ میں تحریف کرتے ہیں اور مزید برآن یہ کہ جس کسی کو آپ کی خدمت میں بھیجتے ہیں تو اس سے یہ کہہ دیتے ہیں کہ اگر تم کو محمد ﷺ کی طرف سے یہ حکم محرف دیا جائے جو ہم نے تمہارے لیے تجویز کیا ہے تو اسے قبول کرلینا اور اگر تم کو آپ کی بارگاہ سے یہ حکم محرف نہ دیا جائے تو اس سے احتراز کرنا یعنی اگر کوڑے لگانے کا حکم ملے تو قبول کرنا ورنہ نہیں گویا کہ خدا کی شریعت کو اپنی ہوائے نفسانی کے تابع رکھنا چاہتے ہیں اور یہ ایک عظیم فتنہ ہے کہ خود تو شریعت کا تابع نہ بنے بلکہ شریعت کو اپنی خواہشوں کے تابع رکھنا چاہے اور شریعت کے حروف اور الفاظ میں اپنی خواہش کے مطابق تحریف کرڈالے ایسے شخص کی راہ ہدایت پر آنے کی کوئی امید نہیں کی جاسکتی اس کی مثال ایسے مرض کی طرح سمجھو کہ جو طبیب کی تجویز کردہ دوا تو استعمال نہ کرے اور برابر مہلک اور مضر چیزوں کا استعمال کرتا رہے اور طبیبوں اور ڈاکٹروں کا مذاق اڑائے تو اہل عقل کی نزدیک اس کا یہ عمل خود کشی کے مرادف سمجھاجائے گا اور اسی طرح یہود کی ہواپرستی اور ہٹ دھرمی کو سمجھو چناچہ فرماتے ہیں اور اصل حقیقت یہ ہے کہ جس شخص کو اللہ گمراہ کرنا چاہیں تو اس کو آپ ہدایت کا اللہ کی جانب سے کوئی اختیار نہیں یعنی آپ کو اختیار نہیں کہ ان لوگوں سے گمراہی کا فتنہ دفع کرسکیں گمراہی کا فتنہ صرف طہارت قلب سے دفع ہوسکتا ہے لیکن یہ وہ لوگ ہیں کہ خدا ہی نے ارادہ نہیں کیا کہ ان کی دلوں کو کفر اور گمراہی کی گندگی اور پلیدی سے پاک کرے ان کے لیے دنیا میں بڑی رسوائی ہے اور ان کے لیے آخرت میں بڑا عذاب ہے غرض یہ کہ اللہ نے نبی کریم کو بتلادیا کہ اللہ کا ارادہ ان لوگوں کے دلوں کو خباثتوں اور نجاستوں سے پاک کرنے کا نہیں لہذا آپ ان کے رنج وغم میں نہ پڑیں یہ لوگ حق اور صدق کو سننے والے نہیں بلکہ جھوٹ کو بڑے سننے والے ہیں بڑے حرام خور ہیں دیدہ دانستہ کتاب الٰہی میں تحریف کرتے ہیں اور رشوت لیکر حلال کو حرام اور حرام کو حلال کردیتے ہیں پس جن کی یہ حالت ہو اگر یہ لوگ آپ کے پاس اپنا کوئی مقدمہ لیکر آئیں اور آپ سے فیصلہ کرانا چاہیں تو آپ کو اختیار ہے کہ چاہے آپ ان کے مقدمہ کا فیصلہ کردیں یا ان سے تغافل برتیں اور ان کا معاملہ انہی کے علماء کے سپرد کردیں اور یہ کہہ دیں کہ تمہارا جو جی چاہے کرو ایسے جاہلوں اور خود غرضوں سے اعراض نہایت مناسب ہے ایسے لوگوں کا اگر فیصلہ بھی کردیا جائے تو یہ اس پر عمل نہ کریں گے اور اگر آپ کی یہی رائے قرار پائے کہ ان سے تغافل برتیں اور اعراض کریں تو یہ اندیشہ نہ کریں کہ یہ لوگ اپ کے دشمن ہوجائیں گے اور آپ کو ضرر پہنچائیں گے سو یہ لوگ ہرگز آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے اللہ آپ کا محافط اور نگہبان ہے اگر آپ کی یہی رائے قرار پائے کہ ان کے درمیان فیصلہ کردیا جائے تو آپ انصاف کے ساتھ ان کے درمیان فیصلہ کردیجئے یعنی قانون شریعت کے مطابق فیصلہ کردیجئے بیشک اللہ تعالیٰ عدل و انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اشارہ اس طرف ہے کہ مجرم کتنا ہی شریر اور بدمعاش کیوں نہ ہوں مگر تم پر یہ لازم ہے کہ فیصلہ میں عدل اور انصاف کو پوراپورا ملحوظ رکھو اور تعجب اور حیرت کا مقام ہے کہ یہ لوگ کس طرح اور کیونکر آپ کو حکم اور منصف قرار دیتے ہیں حالانکہ ان کے پاس توریت موجود ہے جس میں زنا کے متعلق اللہ کا حکم صراحت کے ساتھ موجود ہے جس پر وہ ایمان کے مدعی ہیں اور جس کو وہ خدا کی کتاب مانتے ہیں اور اس کے احکام سے کیوں انحراف کرتے ہو پھر دوسر اتعجب یہ ہے کہ آپ کو حکم اور منصف بنانے کے بعد آپ کے فیصلہ سے کیوں اعراض کرتے ہیں اور یہ لوگ ایسا معلوم ہوتا ہے توریت ہی پر ایمان نہیں رکھتے ایسے لوگوں سے کیا خیر کی توقع کی جاسکتی ہے حکم اور منصف بنانے کے بعد بھی فیصلہ کو نہ ماننا صریح ہٹ دھرمی اور نفس پرستی ہے۔
(ف 1) امام رازی فرماتے ہیں کہ اللہ جل شانہ نے قرآن کریم میں نبی ﷺ کو اکثر وبیشتر یا ایھا النبی کے لقب سے ذکر کیا ہے مگر یا ایھا الرسول کا خطاب دو جگہ آیا ہے ایک یہاں اور ایک آئندہ آیت یا ایھا الرسول بلغ ماانزل الیک من ربک اور چونکہ رسالت کا مرتبہ نبوت سے زیادہ ہے اس لیے یہ خطاب نہایت عظمت اور رفعت پر دلالت کرتا ہے۔
2) ۔ آیت مذکورہ سمعون للکذب سے معلوم ہوتا ہے کہ جھوٹ کا سننا بھی نہایت مذموم اور قبیح ہے جس طرح جھوٹ بولنا حرام ہے اسی طرح جھوٹ کا سننا بھی حرام ہے جس طرح زبان احکام شرعیہ کی مکلف ہے اسی طرح کان بھی احکام شرعیہ کا مکلف ہے قرآن کا سننا عبادت ہے اور گانا سننا معصیت ہے۔
3) ۔ آیت مذکورہ اکلون للسحت کے بارے میں نبی ﷺ اور حضرت عمر اور عبداللہ بن مسعود سے منقول ہے کہ آیت سحت سے رشوت مراد ہے اور بیشمار حدیثوں میں راشی اور مرتشی پر لعنت آئی ہے۔
4) ۔ حق جل شانہ کے اس قول فان جاوک فاحکم بینھم او اعرض عنھم سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ کو اہل کتاب کے مقدمات کے فیصلہ کرنے اور نہ کرنے کا اختیار تھا عبداللہ بن عباس اور مجاہد اور عکرمہ اور حسن بصری اور قتادہ اور سدی اور دیگر اکابر سلف سے منقول ہے کہ حضور پرنور کو یہ اختیار ابتداء میں تھا بعداسلام کا تسلط اور اقتدار کامل ہوگیا تو یہ حکم منسوخ ہوگیا۔ اور یہ آیت نازل ہوئی وان احکم بینھم بما انزل اللہ۔ الخ۔ آیت۔ یعنی ان کے نزاعات اور مقدمات کا فیصلہ قانون شریعت کے مطابق کرو اب اعراض اور کنارہ کشی کی ضرورت نہیں۔ یا یوں کہو کہ پہلی آیت میں ان لوگوں کے بارے میں ہے جو اسلامی حکومت کے ذمی نہیں بنے جیسے ابتداء میں بنی قریظہ اور بنی نضیر کا حال تھا کہ مسلمانوں سے ان کا کوئی عہد اور ذمہ نہ تھا ایسے لوگوں کے بارے میں امیر مملکت کو اختیار ہے کہ چاہے ان کا فیصلہ کرے یا معاملہ ان کے حوالے کے کیونکہ گزشتہ آیت فان جاؤک فاحکم بینھم او اعرض عنھم۔ آیت۔ بنی نضیر اور بنی قریظہ کے بارے میں نازل ہوئی اور اس وقت نبی کریم ﷺ کا ان لوگوں سے کوئی عہد اور زمہ نہ تھا کیونکہ اگر آپ کا ان سے کوئی عہد اور ذمہ ہوتا تو بنی نضیر کو جلاوطن اور بنی قریظہ کو قتل نہ کرتے حاصل کلام یہ کہ جائز ہے کہ یہ حکم اہل حرب کا ہو اور آئندہ آیت وان احکم بینھم بما انزل اللہ میں قانون شریعت کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم اہل ذمہ اور اہل عہد کے بارے میں ہو اس صورت میں نازخ ومنسوخ ماننے کی ضرورت نہ رہے گی تفصیل کے لیے احکام القرآن للجصاص ص 434 ج 2، وص 435 ج 2 کو دیکھیں۔
(ف 5) ۔ یہ آیت بالاجماع یہود کے بارے میں نازل ہوئی جو زنا کے مرتکب ہوئے چونکہ توریت میں حکم رجم کا تھا اس لیے اس سے بچنے کے لے آپ کے پاس اپنا مقدمہ لائے کہ شاید آپ کی بارگاہ سے کوئی نرم اور آسان فیصلہ ہوجائے اور ہم سنگساری سے بچ جائیں آپ نے توریت منگوائی اور آخر وہ آیت جس میں رجم کا حکم تھا اس میں نکلی آپ نے اس کے مطابق ان دونوں مجرموں کو سنگسار کرایا اس سلسلہ کلام میں اللہ جل شانہ نے یہ لفظ ارشاد فرمایا وعندھم التورات فیھا حکم اللہ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ توریت میں جو رجم کا حکم مذکور ہے اللہ کے نزدیک بھی زانی محصن کا وہی حکم ہے اور اللہ کے نزدیک رجم کا حکم منسوخ نہیں ہوا وہ اب بھی باقی ہے اگر رجم کا حکم اللہ کے نزدیک منسوخ ہوچکا تھا تو آیت قرآنیہ میں اس کو حکم اللہ سے تعبیر نہ فرماتے۔ (احکام القرآن للجصاص ص 438 ج 2) ۔
Ayahs 5:44–45ذکر خیانت یہود دربارہ حکم قصاص۔
قال تعالی، اناانزلنا التورۃ۔۔۔ الی۔۔۔ فاو لئک ھم الظالمون۔
ربط) گذشتہ آیات میں حکم زنا میں یہود کی خیانت کا ذکر تھا اب ان آیات میں یہودیوں کی حکم قصاص میں خیانت کا ذکر ہے اور مطلب یہ ہے کہ توریت اللہ کی اتاری ہوئی کتاب تھی جو سراپا نور اور ہدایت تھی اور تمام انبیاء اور علماء اس کے مطابق فیصلے کیا کرتے تھے اسی توریت میں قصاص کا بھی حکم دیا گیا تھا مگر یہود نے جس طرح حکم رجم کو بدل ڈالا اسی طرح قصاص کے حکم میں بھی تحریف کر ڈالی مدینہ منورہ میں یہود کے دو گروہ تھے بنی قریظہ اور بنی نضیر چونکہ بنی نضیر غالب تھے اس لیے کہ انہوں نے اپنے آپ کو بنی قریظہ پر فضیلت دے رکھی تھی کہ اگر بنی نضیر کا کوئی آدمی بنی قریظہ کے کسی آدمی کو قتل کردیتا تو پھر قصاص کا حکم نہ دیتے صرف آدھی دیت دلواکرچھوڑ دیتے اور اگر بنی قریظہ کا کوئی آدمی بنی نضیر کے کسی آدمی کو قتل کردیتا تو پھر قصاص کا حکم نہ دیتے صرف آدھی دیت دلوا کر چھوڑ دیتے اور اگر بنی قریظہ کا کوئی آدمی بنی نضیر کے کسی آدمی کو قتل کردیتا تو اس سے قصاص دلواتے لہذا یہ ارشاد ہوا کہ یہ تفریق توریت میں کہیں نہیں یہ تو سراسر حکم خداوندی کے خلاف ہے جس طرح ہم نے توریت میں بلاتفریق زانی کے رجم کا حکم دیا ہے اسی طرح ہم نے توریت میں بلاتفریق قصاص کا بھی حکم دیا ہے اور جو شخص حکم خداوندی کے خلاف فیصلہ کرے وہ ظالموں میں شمار ہوگا چناچہ فرماتے ہیں بیشک اتاری ہم نے توریت جس میں ہدایت اور نور ہے یعنی رھروان منزل آخرت کے لیے ہدایت کا اور شکوک اور شبہات کی ظلمتوں اور تاریکیوں میں روشنی کا کام دیتی ہے مطلب یہ کہ اے نبی یہ لوگ جو اپنا مقدمہ آپ کے پاس لاتے ہیں یہ ان کی بدنیتی اور شرارت ہے توریت میں زنا کے متعلق صریح ہدایت اور روشن حکم موجود ہے اور شادی شدہ زانی کے سنگسار کرنے کا حکم اس میں صراحۃ مذکور ہے یہ لوگ اس کے احکام سے آزادی حاصل کرنا چاہتے ہیں اور جب یہ لوگ خود اپنی کتاب کے قبول کرنے سے گریز کرتے ہیں تو آپ کے فیصلے کو کب مان سکتے ہیں علاوہ ازیں انبیاء بنی اسرائیل جو خدا کے حکم بردار تھے اسی توریت سے یہودیوں کا فیصلہ کیا کرتے تھے یعنی موسیٰ کے بعد جتنے نبی آئے ان سب کا عمل توریت کے مطابق تھا اور توریت ہی کے مطابق وہ یہودیوں کا فیصلہ کیا کرتے تھی اور اسی طرح بنی اسرائیل کے درویش اور خدا پرست اور ان کے علماء اور فقہاء اس کے مطابق فیصلہ کیا کرتے تھے ربانین سے اللہ والے لوگ مراد ہیں جو سب کو چھوڑ کر ایک رب کے ہوگئے وہ ربانی ہیں جیسے اولیاء اور صوفیا کرام اور احبار سے علماء مراد ہیں جو احکام الٰہی سے واقف ہیں اور ان پر عمل پیرا ہیں جس کتاب اللہ کے وہ محافظ اور نگہبان ٹھہرائے گئے تھے کہ اس میں کسی قسم کا تغیر اور تبدل اور تحریف نہیں کریں گے اور اس کے مطابق عمل کریں گے اور وہ اس کتاب پر گواہ تھے کہ یہ کتاب من جانب اللہ ہے مطلب یہ ہے کہ اے یہود توریت وہ کتاب ہے جس کو ہمیشہ سے تمہارے پیشوا مانتے چلے آئے ہیں اور اس پر عمل کرتے رہے تم کیسے ناحلف ہو کہ تم نے ان کے طریقہ کو چھوڑ دیا وہ تو توریت کی حفاظت کرتے تھے اور تم اس میں تحریف کرتے ہو وہ تو اس کے حکموں پر چلتے تھے اور تم اس کے حکموں سے بھاگتے ہو اب یہود سے خطاب فرماتے ہیں پس تم لوگوں سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو خدا کے حکم میں بزدل نہ بنو بےخوف وخطر توریت کے احکام کو لوگوں کے سامنے بیان کرو اور میری آیتوں اور حکموں کے عوض اور بدلہ میں دنیا کا حقیر معاوضہ لینا چھوڑ دو یعنی رشوت لے کر احکام خداوندی میں تحریف نہ کرو اور جو شخص اللہ کے اتارے ہوئے حکم کے مطابق فیصلہ نہ کرے بلکہ حکم محرف کے مطابق حکم دے تو ایسے ہی لوگ کافر ہوتے ہیں جو حکم الٰہی سے منحرف ہوئے اور ہم نے ان یہود پر اس کتاب توریت میں لکھ دیا کہ جان بدلے جان کے یعنی جان کے بدلہ میں جان لی جائے اور آنکھ کے بدلہ میں آنکھ اور ناک کے بدلہ میں ناک پھوڑی جائے اور کان کے بدلہ میں کان کاٹا جائے اور دانت کے بدلہ میں دانت اکھیڑا جائے اور اسی طرح دوسرے زخموں میں بھی قصاص ہے اور ادلا بدلا ہے پھر جو شخص یہ قصاص معاف کردے تو وہ اس کے لیے گناہوں کا کفارہ ہے یعنی معاف کرنے سے گناہ دور ہوتے ہیں اور درجے بلند ہوتے ہیں اور جو شخص اللہ کے اتارے ہوئے حکم کے مطابق حکم نہ کرے تو ایسے ہی لوگ ظالم ہیں کہ خدا کے حکم کی جگہ اپنا تراشیدہ ہوا حکم جاری کردیا ایک ظلم تو یہ کہ غلط حکم دیا اور دوسرا ظلم یہ کہ قصدا حکم الٰہی کو چھوڑ کر اپنی جانوں پر ظلم کیا اور جان بوجھ کر مخالفت کرکے اپنی جانوں کو عذاب میں ڈالا۔
لطائف ومعارف۔
(1) توریت کی حفاظت کا اللہ نے یہود کو ذمہ دار بنایا اس لیے بمااستحفظوا من کتاب اللہ فرمایا اور قرآن کریم کی حفاظت کا اللہ نے خود ذمہ لیا تو یہ فرمایا انا نحن نزلناالذکر وانا لہ لحافظون۔ آیت۔ اسلیے قرآن کریم آج تک بالکلیہ اور پوری طرح محفوظ ہے یہود نے ہواپرستی کے ہاتھوں اپنی آسمانی کتاب کو ضائع کردیا اور امت محمدیہ نے اپنے سینوں میں اس کتاب کو محفوظ رکھا بحمداللہ آج تک ان کی کتاب بعینہ اسی طرح محفوظ ہے جس طرح نازل ہوئی تھی اس میں ایک حرف کی بھی کمی اور زیادتی نہیں ہوسکی۔
(2) اہل کتاب کے پاس جو آج کل توریت کا نسخہ ہے یہ وہ نسخہ نہیں جو من جانب اللہ حضرت موسیٰ کو عطا ہوا تھا بلکہ یہ مجموعہ حضرت موسیٰ کے بہت زمانہ کی تصنیف ہے جو حق اور باطل سے مرکب ہے جس کا مخالف کو بھی انکار نہیں موجودہ توریت اگرچہ محرف ہے مگر اس میں بعض باتیں اصلی بھی موجود ہیں جن کو یہود چھپاتے تھے مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلیم بذریعہ وحی کے بتلا دیتے تھے کہ اس محرف توریت میں اب بھی بعض فلاں بات موجود ہے من جملہ ان کے یہ حکم رجم بھی تھا جس کا یہود انکار کرتے تھے اللہ نے بذریعہ وحی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلیم کو مطلع کیا کہ توریت میں رجم کا حکم موجود ہے آپ نے توریت منگا کر ان کو قائل کردیا اور علی ہذا ایک حکم قصاص کا تھا کہ وہ شریف اور کم ذات کا فرق کرتے تھے آپ کو بذریعہ وحی بتلادیا گیا کہ توریت میں شریف اور غیر شریف کا کوئی فرق نہیں۔ حضرت مولانا رحمت اللہ صاحب کیرانوی اپنی کتاب اظہار کے ص 142 ج 1 میں فرماتے ہیں، ان التورات الاصلی وکذا الانجیل الاصلی فقد اقبل بعثہ سیدنا محمد ﷺ والموجود ان الان بمنزلہ کتابین من السیر مجموعین من الروایات الصحیہ والکاذبۃ۔ بعدازاں احادیث اوراقوال علماء اور یہودی اور نصاری کے اعتراف سے یہ ثابت کیا کہ توریت اور انجیل میں لفظی اور معنوی ہر قسم کی تحریف ہوئی ہے۔ لہذا بعض علماء سے جو یہ منقول ہے کہ توریت وانجیل میں معنوی تحریف ہوئی وہ صحیح نہیں یہ قول صریح آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ اور اجماع امت کے خلاف ہے بلکہ علماء یہود ونصاری کے اعتراف واقرار کے بھی خلاف ہے اور مدعی سست اور گواہ چست کا مصداق ہے۔
(3) ۔ آیت ومن لم یحکم بماانزل اللہ فاو لئیک ھم الکافرون۔ آیت۔ سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص حکم منصوص کے خلاف حکم دے یا فیصلہ کرے وہ کافر ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہے اور یہی مذہب خوارج کا ہے علماء اہل سنت یہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص حکم خداوندی کو حقیر یا غلط یا خلاف مصلحت یا خلاف تہذیب سمجھ کر انکار کردے اور قانون شریعت میں تغیر وتبدل کرکے اپنی طرف سے نیا حکم تجویز کردے جیسا کہ یہود نے حکم رجم کے مقابلہ میں اپنی رائے سے ایک نیا حکم تیار کرلیا تھا تو ایسا شخص بلاشبہ کافر ہے اور اگر دل میں حکم خداوندی کی تصدیق اور اس کی عظمت اور اس کی حقانیت کا اعتراف موجود ہے اور محض غلبہ نفس یا کسی دنیاوی مجبوری اور معذوری کی بناء پر بادل نخواستہ حکم خدا کے خلاف فیصلہ کردے تو وہ کافر نہ ہوگا بلکہ فقط گناہ گار ہوگا جس شخص اعتقادی طور پر ماانزل اللہ کو حق جان کر اور حق مان کر پھر عملا فیصلہ اس کے خلاف کرے تو ایسے شخص کو اصطلاح شریعت میں عملی کافر کہا جاسکتا ہے نہ اعتقادی کافر یعنی اس کی عملی حالت کافروں جیسی ہے اگرچہ اعتقاد مسلمانوں جیسا ہے اس وجہ سے عبداللہ بن عباس سے منقول ہے کہ آیت فاولئک ہم الکافرون میں کفر سے وہ کفر مراد ہے جو اس کو ملت اسلام سے خارج کردے اور یہ ایسا کافر نہیں جیسے کوئی اللہ اور ملائکہ اور کتب اور رسل کا کافر ہو بلکہ کفر دون کفر اور ظلم دون ظلم اور فسق دون فسق ہے ولیس بالکفر الذی تذھبون الیہ یعنی کفر اور ظلم اور فسق کے درجات ہیں بعض کفر اعتقادی ہے اور بعض عملی ہر ایک کا حکم جدا ہے۔ تفسیر قرطبی ص 190 ج 6، و تفسیر ابن کثیر ص 61 ج 2) ۔ اور مزید تفصیل اگر درکار ہو تو حافظ ابن تیمیہ کی کتاب الایمان دیکھیں جس میں کفر دون کفر کی تفصیل ہے۔
(4) ۔ قصاص کا یہ حکم شریعت موسوی میں تھا اور علماء اصول اور فقہاء نے یہ تصریح کی ہے کہ اگر شریعت سابقہ کا کوئی حکم قرآن اور حدیث میں بلاکسی انکار یا بلا ترمیم وتنسیح نقل کیا جائے تو وہ ہمارے لیے حجت اور شریعت ہے اور فقہاء نے اس آیت کو استدلال میں پیش کیا ہے۔
(5) ۔ رہا یہ امر کہ اس واقعہ میں پہلی بار فاو لئک ھم الکافرون اور دوسری بار فاو لئک ھم الظالمون کیوں کہا گیا اس کی حکمت تیسری آیت فاولئک ھم الفاسقون کی تفسیر میں ذکر کریں گے۔
Ayahs 5:46–47قال اللہ تعالیٰ وقفینا۔۔۔۔ الی۔۔۔ ھم الفاسقون۔
ربط) یہود کی شرارتوں اور خیانتوں کے بعد نصاری کے انحراف اور کفروی کو بیان کرتے ہیں اولا یہ کہ انجیل کی مدح فرمائی تاکہ اس سے انحراف کی قباحت خوب واضح ہوجائے اور مقصود یہ ہے کہ جس طرح یہود اپنی آسمانی کتاب سے منحرف ہیں اسی طرح نصاری بھی اپنی آسمانی کتاب انجیل سے منحرف ہیں تو ریت کی مدح کے بعد انجیل کی مدح اس لیے بھی فرمائی کہ یہود کو تنبیہ ہوجائے کہ حضرت موسیٰ کی طرح حضرت عیسیٰ بھی خدا کے رسول برحق تھے موسیٰ کی طرح ان پر بھی ایمان لانا فرض ہے چناچہ فرماتے ہیں اور ان پیغمبروں کے پیچھے جن کا ذکر یحکم بھا النبیون میں ہوچکا ہے انہی کے نقش قدم پر ہم نے عیسیٰ بن مریم کو بھیجا درآنحالیکہ وہ اپنی زبان سے توریت کی تصدیق کرتے تھے جو ان سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی تھی یعنی جو نبی اللہ کے فرمانبردار اور حکم بردار تھے اور توریت کے بمطابق فتوی دیتے تھے ان کے بعد ان ہی کے نقش قدم پر عیسیٰ آئے جو مریم کے بیٹے ہیں خدا نہیں اور انہوں نے توریت کے حق اور من جانب اللہ ہونے کی تصدیق کی اور ہم نے ان کو انجیل دی جس میں توریت کی طرح ہدایت اور نور ہے اور وہ انجیل اپنے سے پہلے نازل شدہ کتاب توریت کی بھی تصدیق کرتی تھی یعنی حضرت عیسیٰ خود اپنی زبان سے تورات کی تصدیق فرماتے تھے اور جو کتاب انجیل ان کو دی گئی تھی وہ بھی توریت کی تصدیق کرتی تھی اور انجیل بھی توریت کی طرح ہدایت اور نور تھی احکام اور شرائع کے اعتبار سے دونوں میں بہت ہی قلیل فرق تھا جیسا کہ ولاحل لکم بعض الذی حرم علیکم میں اشارہ کیا گیا ہے اور یہ قلیل فرق توریت کی تصدیق کے منافی نہیں جیسا کہ ہم آج قرآن کو مانتے ہیں اور باوجود اس کے تمام کتب سماویہ کے من عنداللہ ہونے کی تصدیق کرتے ہیں پہلی آیت میں حضرت عیسیٰ کا مصدق توریت ہونابیان کیا اور دوسری آیت میں یہ بتلایا کہ انجیل بھی توریت کی مصدق تھی اور وہ انجیل اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے سراپا ہدایت اور نصیحت تھی جس میں آنے والے ہادی برحق کی بشارت تھی کہ وہ فارقلیط آکر حق کی راہیں بتلائے گا اور وعظ ونصیحت سے تم کو محارم اور ماثم سے بچائے گا اللہ نے اس آیت میں انجیل کی پانچ صفتیں بیان کیں اول یہ کہ فیہ ھدی۔ اس میں ہدایت ہے یعنی عقائد اور اعمال کی گمراہی سے بچاتی ہے اور توحید اور تنزیہ کی رہنمائی کرتی ہے کہ بت پرستی اور تثلیث جیسے شرک میں مبتلانہ ہوجائیں دوم یہ کہ فیہ نور۔ اس انجیل میں نور اور روشنی ہے جس سے طالب حق کو صحیح راستہ نظر آجاتا ہے اور شکوک اور شبہات کی ظلمتیں اس سے دور ہوجاتی ہیں سوم یہ کہ انجیل اپنے سے پہلی کتاب توریت کی تصدیق کرتی ہے کہ وہ کتاب منزل من اللہ تھی، چہارم اور پنجم یہ کہ انجیل خدا سے ڈرنے والوں کے لی سراپا ہدیات اور نصیحت تھی پہلی آیت میں عام ہدایت کا بیان تھا اور اس آیت میں خاص ہدایت کا ذکر ہے جو متقی اور پرہیزگاروں کے لیے ہے مطلب یہ ہے کہ توریت میں بھی ہدایت تھی اور توریت کی طرح انجیل میں بھی ہدایت ہے مگر اس عام ہدایت کے علاوہ ایک ایسے خاص بادی (فارقلیط) کی بشارت پر مشتمل ہے کہ جس کی ہدایت تمام ہدایتوں سے اتم اور اکمل اور اس کا دین تمام دینوں سے افضل ہوگا اور انجیل میں اس آنے والے آخری ہادی کے اتباع کی خاص طور پر نصیحت تھی اس لیے آئندہ آیت میں اشارہ ہے اور انجیل والوں کو چاہیے کہ اس کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے انجیل میں نازل کیا ہے پہلی آیت میں یہودیوں کو نصیحت تھی اور اب اس آیت میں نصاری کو نصیحت ہے کہ اے نصاری تم یہود کی طرح انجیل سے انحراف نہ کرو تم انجیل پر چلو اور جس نبی امی محمد ﷺ کی بشارت اس میں مذکور ہے اس پر حضرت مسیح کی ہدایت اور نصیحت کے مطابق ایمان لاؤ اور جس کے متعلق حضرت مسیح تم کو یہ ہدایت کر گئے ہیں کہ جب وہ روح حق آئے گی تو تمہیں سچائی کی راہیں بتائے گی اور اس کی تکذیب کرکے خدا کے غضب اور لعنت کو مول نہ لو اور جو اللہ کے اتارے ہوئے کے مطابق فیصلہ نہ کرے تو وہی لوگ بدکار ہیں ناسخ کے بعد منسوخ کی پیروی بدکاری اور گمراہی ہے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ کے زمانہ میں توریت اور انجیل کا اتباع ہدی تھا اور خاتم النبین کی بعثت کے بعد قرآن کو چھوڑ کر توریت اور انجیل کا اتباع ہوائے نفس ہے۔
(نکتہ) جو شخص حکم خداوندی کے مطابق فیصلہ نہ کرے اس کو پہلی آیت میں کافر اور دوسری آیت میں اس کو ظالم اور تیسری آیت میں اس کو فاسق کہا گیا ہے اور وجہ اس کی یہ ہے کہ احوال مختلف ہیں بعض حالات میں حکم خدا کے خلاف فیصلہ کرنا کفر ہے اور بعض حالات میں ظلم ہے۔
پہلی آیت میں زانی محصن کے رجم کا مقدمہ تھا جس میں ان لوگوں نے قصدا اور عنادا حکم رجم سے انکار کیا اور اس کے بجائے اپنی طرف سے تازیانہ کا حکم تجویز کیا اس لیے پہلی آیت میں کافرون فرمایا اور دوسری آیت میں قصاص کا مسئلہ تھا یہ لوگ رجم کی طرح قصاص کے حکم شرعی ہونے سے صراحتہ منکر نہ تھے بلکہ عملی طور پر محض اپنی برتری قائم کرنے کے لیے امیر و غریب کا فرق کرتے تھے اور عدل اور انصاف نہیں کرتے تھے اس لیے دوسری آیت میں ظالمون کا لفظ فرمایا کہ یہ ظلم صریح ہے کہ ضعیف کا قوی سے قصاص نہ لیاجائے اور ضعیف سے دیت زیادہ لائی جائے یہ صریح ظلم ہے اور تیسری آیت میں حضرت مسیح کی بشارت اور ہدایت کے مطابق فارقلیط اور رح حق پر ایمان لانے کا مسئلہ تھا جس کی حضرت مسیح نے تاکید اکید کی تھی باوجود اس کے بہت سے نصاری نے دیدہ دانستہ دنیاوی اغراض کی بناء پر روح حق پر ایمان لانے گریز کیا تو یہ صریح فسق اور بدکاری اور تمرد اور سرکشی تھی اس لیے اس آیت میں فاسقون فرمایا۔
ذکر قرآن مجید۔
Ayahs 5:48–50قال اللہ تعالی، وانزلنا الیک الکتاب بالحق۔۔۔ الی۔۔۔ لقوم یوقنون۔
ربط) توریت اور انجیل کے ذکر کے بعد اللہ تعالیٰ قرآن مجید کا ذکر فرماتے ہیں کہ یہ اللہ کی آخری کتاب ہے کتب سابقہ کی مصدق ہے جس میں تمام انبیاء سابقین کی صداقتیں اور حکمتیں موجود ہیں اور یہ قرآن کتب سابقہ مہیمن (حاکم) ہے تحریف اور تبدیل سے پاک اور منزہ ہے اس کا جو فیصلہ ہے وہ اٹل ہے اللہ نے اپنی حکمت سے ہر نبی کو ایک خاص شریعت عطا کی اور یہ شریعت محمدیہ آخری شریعت ہے اور تمام اختلافات کا فیصلہ کرنے والی ہے اور تمام کتب سابقہ کے مضامین اصلیہ کی محافظ اور مصدق ہے اور جس کی ہدایت حفاظت کا خدا تعالیٰ نے خود ذمہ لیا ہے۔ سلسلہ کلام نہایت عجیب ہے اللہ نے اولا توریت کی مدح فرمائی اور بنی اسرائیل کے لیے اس کا موجب ہدایت ہونا بیان کیا کما قال تعالی، انا انزلنا التورت فیھا ھدی ونور۔ مگر یہود بےبہبود نے اس نور ہدایت سے اعرض اور انحراف کیا اسکے بعد انجیل کی مدح فرمائی اور نصارائے حیاری کا اس سے انحراف بیان کیا اور یہ بتلایا کہ یہود کی طرح نصاری بھی انجیل کی ہدایت اور نور سے مستفید اور مستنیز نہ ہوئے اب سب سے اخیر میں اللہ نے قرآن کو مشعل ہدایت بنا کر آسمان سے نازل کیا یہ آخر کتاب ہے آخری نبی پر نازل ہوئی یہود اور نصاری کو چاہیے کہ موقعہ کو غنیمت سمجھیں اور صحابہ کرام کی طرح اس نور ہدایت کی روشنی میں چلیں اور یہ وہی کتاب ہے جس کے نزول کی انبیاء سابقین نے خبر دی تھی کما قال تعالی، ان الذین اوتوالعلم من۔۔۔ الی۔۔۔ لمفعولا۔ آیت۔ اس آیت کی تفسیر سورة اسراء میں آئے گی۔
شان نزول۔
اور ان آیات کے ضمن میں ایک قصہ کی طرف بھی اشارہ ہے جو ابن عباس سے مروی ہے وہ یہ کہ یہود میں باہم کچھ نزاع ہوگیا تو کعب بن اسید اور عبداللہ بن صوریا اور شاس بن قیس وغیرہم جو یہود کے بڑے مشہور علماء اور مقداء تھے مشورہ کرکے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور فصل خصومت کی درخواست کی اور یہ کہا کہ آپ کو خوب معلوم ہے کہ یہودیوں میں بڑے زبردست عالم اور ان کے سردار ہیں اور آپ کو ہماری عزت و شرافت معلوم ہے اور آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ عموما قوم یہود ہمارے اختیار اور اقتدار میں ہے ہم اپنا مقدمہ آپ کے پاس لے کر آئے ہیں اگر آپ اس مقدمہ میں ہمارے موافق فیصلہ کردیں تو ہم مسلمان ہوجائیں گے اگر ہم نے تیرا دین قبول کرلیا اور یہود بی ہماری تقلید کریں گے اور ہمارے اسلام لانے سے وہ بھی سب کے سب اسلام لے آئیں گے نبی ﷺ نیان کے رشوتی اسلام کو منظور نہ کیا اور ان کی خواہشات کی پیروی سے صاف انکار کردیا اور اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ (تفسیر قرطبی 213 ج 2، و تفسیر ابن کثیرص 67 ج 2) ۔ چناچہ فرماتے ہیں اور توریت اور انجیل کے بعد ہم نے آپ کی طرف یہ کامل اور برحق کتاب اتاری جس کے مقابلہ میں کوئی کتاب کتاب کہلانے کے لائق نہیں جو خود بھی حق اور صدق کیساتھ متلبس ہے اور اپنے سے پہلے کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے کہ جو کتابیں حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ پر من جانب اللہ نازل ہوئیں اور وہ اللہ کی برحق کتابیں تھیں یہ بھی قرآن کے حق ہونے کی دلیل ہے اس لیے کہ حق، حق کی تصدیق کرتا ہے باطل دین کبھی دین حق کی تصدیق نہیں کرتا اور یہ قرآن پہلی کتابوں کا محافظ اور نگہبان ہے کہ محرف کو غیر محرف سے ممتاز اور جدا کردیتا ہے یعنی ان کتابوں میں جو غلط باتیں شامل ہوگئی ہیں ان کو بتلا کر اصل حقیقت کو واضح کردیتا ہے گویا کہ یہ ان کا محافظ اور امین اور نگہبان ہے پس گذشتہ کتابوں میں جو ایسی بات ہے کہ قرآن کے موافق ہے تو وہ حق ہے اور جو اس کے مخالف ہے وہ باطل ہے پس جس طرح سابقین کا یہ طرز عمل رہا کہ ماانزل اللہ کے مطابق فیصلہ کرتے تھے اسی طرح آپ بھی ان کے درمیان اسی کتاب کے مطابق فیصلہ کیجئے کہ جو اللہ نے آپ پر حق کے ساتھ اتاری ہے اور تمام کتب سابقہ پر مہیمن ہے اور جو حق آپ کے پاس آچکا ہے اسے چھوڑ کر ان کی خواہشوں اور فرمائشوں کی پیروی نہ کیجئے یعنی جس طرح آپ نے اس وقت ان کی خواہش اور فرمائش سے صاف انکار کردیا اسی طرح آئندہ بھی آپ اسی حق پر قائم رہیں جس کی بناء پر آپ نے احبار یہود کی خواہش کو پورا کرنے سے صاف انکار کردیا آپ کی رائے نہایت صائب اور درست تھی آپ ہمیشہ اسی پر قائم رہے اس لیے کہ آپ کو جو دین حق دیا گیا ہے وہ کبھی منسوخ نہیں ہوگا ہم نے آپ کی بعثت سے پہلے تم میں سے ہر گروہ کے لیے ایک دستور اور راہ عمل مقرر کیا تھا جس پر چل کر وہ خدا تک پہنچ سکے اسی طرح اللہ نے آپ کے لیے یہ شریعت اور یہ شاہراہ مقرر کی ہے آپ اس شاہراہ پر چلیے اور اس شاہراہ کو چھوڑ ددوسرے راستوں پر چلنے کا خیال بھی نہ کیجئے۔
(ف) ۔ شرعہ کے معنی شریعت کے ہیں اور منہاج کے معنی طریقت کے ہیں شرعیت اصل میں پانی کے گھاٹ کو کہتے ہیں کہ اور پانی پر زندگی کا دارومدار ہے اور اصطلاح میں شریعت احکام خداوندی کے مجموعہ کو کہتے ہیں اور جو بمنزلہ آب حیات کے ہیں کہ ان کے پینے سے یہ یعنی ان پر عمل کرنے سے دائمی زندگی حاصل ہوتی ہے اور منہاج سے طریقہ عمل اور طریقہ اصلاح مراد ہے یعنی تزکیہ نفس اور اصلاحباطن کا طریقہ مراد ہے اور طریقت شریعت کے علاوہ کوئی چیز نہیں بلکہ اس کے ماتحت ہے کتاب وسنت میں احکام شرعیہ بھی ہیں اور تزکیہ نفس اور اصلاح باطن کے طریقے بھی ہیں اور سب خدا تک پہنچنے کے راستے ہیں کوئی کسی راہ سے اور کوئی کسی راہ سے جارہا ہے۔ اللہ جل شانہ باقتضاء حکمت ومصلحت ہر زمانہ اور ہر امت کے احوال اور استداد کے مناسب انبیاء کرام کو شریعتیں اور ہدایتیں عطا فرماتے رہے مگر اصول دین اور مقاصد کلیہ جن پر نجات ابدی کا مدار ہے اور جس کو اللہ نے ایک مقام پر لفظ دین سے تعبیر کیا ہے ان اقیمو الدین ولاتتفرقوا فیہ۔ آیت۔ وہ تمام انبیاء کرام کا ایک ہے حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا نحن معاشر الانبیاء اخوۃ علامات دیننا واحد یعنی ہم تمام پیغمبر بمنزلہ علاتی بھائیوں کے ہیں کہ جن کا باپ یعنی دین ایک اور مائیں یعنی شریعتیں مختلف ہیں انبیاء کرام کی شریعتیں مختلف رہیں کسی شریعت میں کوئی چیز حلال ہوئی اور کسی میں حرام کسی ملت کے احکام میں خفت اور سہولت رہی جیسا کہ شریعت عیسویہ میں اور کسی میں شدت اور صعوبت جیسا کہ شریعت موسویہ میں جس زبان اور مکان اور جس قوم کے لیے اللہ نے جو مصلحت جانا اس کے مطابق حکم دیا لکل جعلنا منکم شرعۃ ومنھاجا میں اسی طرف اشارہ ہے کہ شرائع سماویہ کا اختلاف مخاطبین کے قابلیت اور صلاحیت اور استعداد پر مبنی سے اس علیم و حکیم نیجیسا مناسب جانا ویسی شریعت نازل کی اب اس اخیر زمانہ میں اللہ نے ایک نہایت کامل اور متعدل شریعت نازل کی جو قیامت تک تمام عالم کی ہدایت کے لیے کافی اور شافی ہے جس طرح پہلی شریعتیں من جانب اللہ تھیں اور واجب الاطاعت تھیں اسی طرح یہ آخری شریعت بھی من جانب اللہ بصد ہزارہا شوق ورغبت اس کو قبول کرنا چاہیے ایک وفادار غلام کا فریضہ یہ ہے کہ آقا کے جدید اور آخری حکم کی سامنے گردن جھکادینے کے لیے تیار رہے جدید حکم کے ہوتے ہوئے سابق اور قدیم حکم پر عمل کرنا تمرد اور سرکشی کی دلیل ہے اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا کہ سب کے لیے ایک ہی شریعت ہوتی لیکن اللہ نے مختلف انبیاء پر مختلف شریعتوں کو اس لیے اتارا کہ تمہارا امتحان کرے اس چیز میں جو تم کو دی ہے یعنی اے اقوام عالم تم کو جو مختلف زمانوں میں مختلف شریعتیں دی گئی اس سے مقصود تمہاری آزمائش تھی کہ کون حکم خداوندی بجالاتا ہے اور کون قدیم رسم کی پابندی پر اصرار کرتا ہے اور کون جدید حکم یعنی ناسخ کو چھوڑ کر قدیم حکم یعنی منسوخ کی پیروی کرتا ہے مطلب یہ کہ ہر زمانہ میں شرائع مختلف کی تشریع سے امتحان اور آزمائش مقصود تھی کہ کون اس کے حکم مانتا ہے اور کون رسم و رواج یا منسوخ حکم کی پیروی کرتا ہے اور اس کو آزمائش اس لیے فرمایا کہ انسان جس طریقہ کا عادی ہوجاتا ہے اس کا چھوڑنا اس پر طبعا گراں ہوتا ہے اس لیے اللہ نے ہر امت کے لیے ایک شریعت مقرر کی تاکہ اس پر چلیں اور اگر ہر نفس کو اس کی خواہش پر چھوڑ دیا جاتا تو لوگ خدا کے بندے نہ رہتے بلکہ نفس کے بندے بن جاتے۔ پس ایلوگوں تم تعصب اور ہواپرستی کو چھوڑ کر اپنے مرنے سے پہلے ان بہترین عقائد اور اعمال اور مکارم اخلاق کی طرف دوڑو اور ان کی طلب میں سرگرم رہو جن کی طرف تم کو شریعت محمدیہ علی صاحبہا الف الف صلاۃ وتحیۃ، دعوت دیتی ہے یعنی تم کو چاہیے کہ اس آخری شریعت کا اتباع کرو جس کو نبی آخرالزمان لے کر آئے ہیں اور وہ شریعت کاملہ اور عادلہ تمام شریعتوں کی ناسخ ہو کر آئی ہے۔
یتیمے کہ ناکردہ قرآن درست، کتب خانہ چند ملت بشست۔ پیغام خدانخست آدم آورد، انجام بشارت ابن مریم آورد۔ باجملہ رسل نامہ بےخاتم بود، احمدب رمانامہ وخائم آورد۔ اب نجات اس آخری شریعت کے اتباع میں منحصر ہے جیسے حضرت عیسیٰ کی بعثت کے بعد نجات حضرت عیسیٰ کے اتباع میں منحصر تھی حضرت عیسیٰ کی بعث کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت کا اتباع نجات کے لیے کافی نہ تھا اسی طرح خاتم الانبیاء کی بعثت کے بعد نجات آپ کے اتباع میں منحصر ہے اور سی میں خیر ہے اور اس کے ذریعہ تم خدا تک پہنچ سکتے ہو پس اگر تم میدان سعادت میں گوئے سبقت لے جانا چاہتے ہو تو اس آخری شریعت کا اتباع کرو۔ گوئے توفیق وسعادت درمیان افگندہ اند، کس بہ میداں در نمی آید سواراں راچہ شد۔ لہذا تم بلاتردد اس خیر کی طرف دوڑو اور یہ نہ سمجھو کہ ہم ہمیشہ دنیا ہی میں رہیں گے ایک دن اللہ ہی کی طرف تم سب کو لوٹ کرجانا ہے جب وہاں پہنچو گے تو اللہ تم کو ان تمام باتوں سے آگاہ کردے گا جس میں یعنی دین اور شریعت کے بارے میں تم اختلاف کرتے تھے وہاں پہنچ کر حق اور باطل کی حقیت منکشف ہوجائیگی اور نتیجہ سامنے آجائے گا۔ اب اس کے بعد نبی ﷺ کو حکم دیتے ہیں کہ جو شریعت اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کی اب تک اس پر قائم رہے اور یہود اور نصاری کے مکروفریب سے ہوشیار رہے پس ان کے باہمی نزاع کا فیصلہ آپ اپنی اس شریعت کے مطابق کیجئے جو اللہ نے آپ پر نازل کی ہے اور ہم آپ کو مکرر حکم دیتے ہیں کہ آپ اہل کتاب کے درمیان اس کتاب کے مطابق فیصلہ فرمائیں جو اللہ نے آپ پر اتاری ہے اگرچہ وہ ان کے رسم و رواج کے خلاف ہو اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کیجئے اور ان سے احتیاط رکھیے کہ مبادا کسی وقت یہ لوگ اپنی چرب زبانی اور ظاہری ملمع کاری سے آپ کو خدا کے نازل کردہ حکم سے کچھ بچلا نہ دیں جیسا کہ بعض علماء یہود نے آپ کے بچلانے اور پھسلانے اور فریب دینے کی یہ تدبیر کی آپ کے پاس جاویں اور جا کر یہ کہیں کہ اے محمد ہماری قوم میں آپس میں کچھ نزاع ہوگیا ہے آپ کے پاس فیصلہ لائیں گے اگر ہمارے موافق فیصلہ کردیں گے تو ہم مسلمان ہوجائیں گے اور آپکی پیغمبری کو مان لیں گے اور ہمارے مسلمان ہونے سے یہود کی ایک عظیم جماعت ہماری متابعت میں اسلام قبول کرلے گی چونکہ نبی ﷺ ایمان اور ہدایت کے دلدادہ تھے کماقال تعالی، لعلک باخع نفسک ان لایکونوا مومنین۔ ومااکثرالناس ولوحرصت بمومنین۔ اس لیے یہود نے حضور پرنور کو پھلانے کے لیے یہ رشوت اسلام پیش کیا مگر آپ نے اسے ٹھکرا دیا اور ان کی خواہش پر چلنے سے انکار کردیا اس آیت میں آپ کی اسی استقامت کی تصویب اور تصدیق اور تائید ہے اور آئندہ بھی ایسی ہی شان عصمت پر ثابت قدم رہنے کی تاکید ہے پھر اگر یہ لوگ اپ کے فیصلہ سے اعراض کریں تو جان لیجئے کہ اللہ کا ارادہ یہ ہے کہ دنیا ہی میں ان کو ان کے بعض گناہوں کی تخصیص اس لیے کی کہ دنیا میں بعض ہی گناہوں کی سزا ملتی ہے کل گناہوں کی نہیں ملتی تمام گناہوں کی پوری سزا آخرت میں ملے گی اور بیشک بہت سے لوگ دین اور شریعت کی حدود سے باہر نہیں نکلنے والے یعنی اکثر یہودی فاسق اور بدکار ہیں وہ آپ کے فیصلہ پر راضی نہیں ہوسکتے اب کیا یہ لوگ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں کہ امیر کو فقیر پر برتری رہے دیت اور قصاص اور تاوان میں امیرو غریب میں فرق رکھا جائے شریعت کا فیصلہ عد ل اور انصاف پر مبنی ہے اور یہود کا یہ رسم و رواج اور گمراہی پر مبنی ہے اور اللہ کے فیصلہ سے کس کا فیصلہ اچھا ہے ان لوگوں کے لیے جو آخرت پر یقین رکھتے ہیں مطلب یہ کہ جو لوگ اللہ کے فیصلہ کو نہیں مانتے ان کو آخرت پر یقین نہیں اگر یقین ہوتا تو اللہ کے فیصلہ سے انحراف نہ کرتے کیونکہ اس کے فیصلہ سے اچھا کس کا فیصلہ ہوسکتا ہے خدا کے فیصلہ سے اعراض اور انحراف دلیل جہالت کی ہے۔
Ayahs 5:51–53حکم چہاردہم ممانعت از موالاۃ یہود ونصاری اوذم منافقین۔
قال اللہ تعالی، یا ایھا الذین آمنوا لاتتخذوا۔۔۔ الی۔۔۔ خاسرین۔
ربط) گذشتہ آیات میں یہود اور نصاری کے قبائح کو بیان کیا اب ان آیات میں مسلمانوں کو حکم ہوتا ہے کہ تم ان سے محبت نہ کرنا جو ان سے محبت کرے گا وہ انہیں میں شمار ہوگا کیونکہ محبت اور صحبت کا برا اثر انسان کے دل پر پڑتا ہے محبت کا یہ اثر ہے کہ محبوب کی ہر چیز محب کی نظر میں محبوب ہوجاتی ہے جذام اور سرطان کی طرح کفر اور شرک ایک روحانی مرض ہے دلی میل جول سے اس کے جراثیم متعدی ہوتے ہیں خدا تعالیٰ کے باغیوں کی دلی محبت اور میل جول سے رفتہ رفتہ انہیں کا مذہب اختیار کرلیتا ہے فی الحال اگرچہ باعتبار باطن کے ان میں سے نہیں لیکن ان کی محبت اور صحبت سے اندیشہ ہے کہ آئندہ چل کرا نہیں میں سے نہ ہوجائے یعنی اسلام سے مرتد نہ ہوجائے جیسا کہ آئندہ آیت میں اسی فتنہ ارتداد کی خبر دی گئی ہے جس طرح کسی حکومت کی رعایا بن جانے کے بعد قانون حکمت پر نکتہ چینی اور تبصرہ کرنا حکومت سے ارتداد ہے اسی طرح اسلام میں داخل ہونے کے بعد قانون شریعت پر نکتہ چینی اور تبصرہ کرنا اسلام سے ارتداد ہے اور کافروں سے دلی تعلق ارتداد کی علامت ہے اور اس کا پیش خیمہ ہے اور اگر وہ اس کو چھپائیں اور اسلام کو ظاہر کریں تو وہ نفاق ہے جو شخص حکومت کے دشمنوں اور باغیوں سے میل جیل اور دوستانہ تعلقات رکھے تو حکومت کی نظر میں اس کی وفاداری مشکوک ہوجاتی ہے اور اسی طرح کافروں سے ودستانہ تعلقات سے اللہ کی نظر میں اسلام کی وفاداری مشکوک ہوجاتی ہے۔
شان نزول۔
یہ آیتیں رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کے بارے میں نازل ہوئیں یہود سے اس کا بہت دوستانہ تھا اور اس کا خیال تھا کہ شاید احد کی طرح مسلمان پھر مغلوب ہوں تو یہود سے ہماری دوستی کام آئے گی اور یہ کہا کہ انی رجل اخاف الدوائر یعنی میں ایسا مرد ہوشیار ہوں کہ مجھے حوادث دھر کا اندیشہ ہے اس لیے باقتضاء مصلحت میں یہود سے تعلق قطع نہیں کرسکتا عبداللہ بن ابی منافق کی طرح حضرت عبادہ بن صامت کے بھی یہود سے حلیفانہ تعلقات تھے مگر چونکہ وہ سچے مسلمان تھے اس لیے انہوں نے فور ا یہود سے قطع تعلق کرلیا اور عبداللہ بن ابی منافق کہنے لگا کہ میں ان کی دوستی نہیں چھوڑ سکتا میرا بڑا نقصان ہوگا حالانکہ عبادہ بن صامت سے بھی اسی قسم کی دوستی تھی مگر انہوں نے چھوڑ دی اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں اے ایمان والو، ایمان کا مقتضی یہ ہے کہ اللہ کے دشمنوں سے تعلق قطع کرو منافقوں کی طرح یہود اور نصاری کو اپنا دوست نہ بناؤ اور وہ کس طرح تمہارے دوست نہیں بن سکتے وہ تو باہم ایک دوسرے کے دوست ہیں یعنی اگرچہ ان میں باہم ختلاف ہے مگر تمہاری مخالفت اور عداوت میں وہ سب ایک ہیں کیونکہ وہ سب کفر ونفاق میں ایک دوسرے کے ہم جنس ہیں اور کندہم جنس باہم جنس پرواز۔ تم میں سے جو شخص ان کو دوست بنائے گا سوہ وہ بلاشبہ انہیں میں سے ہوگا یا یہ معنی ہیں کہ ان کے اختلاط سے متاثر ہوکررفتہ رفتہ انہیں میں سے ہوجائے گا یعنی مرتد ہو کر انہیں میں سے ہوجائے یا کم ازکم شعائر کفر اور رسوم شرکیہ سے نفور اور بیزار نہ رہے گا دل سے اگرچہ ان کا مذہب اختیار نہیں کیا مگر عملا اور ظاہرا انہیں میں سے شمار ہوگا اور فانہ منھم باعتبار اطلاق کے اعتقاد اور عمل دونوں کو شامل ہے تحقیق اللہ بےراہوں اور ستم گاروں کو ہدایت نہیں دیتا یعنی جو شخص دشمنان اسلام سے موالات اور دوستی کرکے اپنی جان پر ظلم وستم کرے اور اسلام کے مغلوب اور مقہور ہونے کا انتظار کرے ایسے بدبخت ظالم کی راہ ہدایت پر آنے کی کوئی توقع نہیں کی جاسکتی جو لوگ کافروں کی دوستی میں غرق ہیں وہ اس بات کو سمجھ ہیں نہیں سکتے پس اے دیکھنے والے تو اپنی آنکھ سے مشاہدہ کرلے گا کہ جن لوگوں کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے وہ دوڑ دوڑ کر کافروں میں گھستے جاتے ہیں اور اگر کوئی انہیں فہمائش کرتا ہے تو یہ کہتے ہیں کہ ہم کو ڈر ہے کہ زمانہ کا کوئی حادثہ ہم کو نہ آپہنچے ان کا مقصود یہ تھا کہ ہم کو یقین نہیں کہ محمد ﷺ اپنے مقاصد میں کامیاب ہوں گے اگر کوئی وقت ایسا آیا کہ دشمن ان پر غالب آگیا تو وہ ہم کو ان کا ساتھی سمجھ کر پیس ڈالے گا لہذاہم ان سے بگاڑنا نہیں چاہتے اللہ فرماتے ہیں کہ ان کا یہ گمان غلط ہے کہ عنقریب خداوندذوالجلال مسلمانوں کو ان پر غالب کرے گا اور یہ کم بخت منافق پچھتائے ہیں چناچہ فرماتے ہیں پس وہ وقت قریب ہے کہ اللہ مسلمانوں کی فتح اور غلبہ کو ظاہر فرمائے اور جن سے یہ دوستی کررہے ہیں وہ مقہور ومغلوب ہوں یا اس کے علاوہ اور کوئی امر پردہ غیب سے ظاہر فرمائے جیسے بنی نضیر کی جلاوطنی اور بنی قریظہ کی گردن زنی کا حکم اس وقت یہ منافقین ان باتوں پر جو اپنے دل میں چھپائے ہوئے ہیں پشیمان ہوں گے یعنی جب اللہ تعالیٰ محمد رسول اللہ کو ان کے دشمنوں پر فتح دے گا اور ان کے دشمنوں میں کسی کو جلاوطن کرے گا اور کسی کو قتل کرائے گا اور اس وقت منافقوں پر کھلے گا کہ ہمارا گمان غلط تھا کہ رسول خدا کو غلبہ نہ ہوگا اور جن کی شوکت پر بھرسہ کرتے تھے ان کی ساری شوکت خاک میں مل گئی اور جن کا سہارا ڈھونڈتے تھے وہ سہارا ختم ہوا اور اللہ کی پیشن گوئی پوری صادق ہوگئی کہ اسلام کا غلبہ ہوگیا اور دشمنوں کی تمام شوکت ختم ہوگئی اور اس وقت یہ لوگ اپنے گمان پر پشیمان ہوں گے اور جس وقت ان منافقین کا پردہ چاک ہوگا اور اس وقت اہل ایمان آپس میں تعجب سے یہ کہیں گے کہ کیا وہی لوگ ہیں جو تم سے یعنی تم مسلمانوں کے آگے اللہ کی پکی قسمیں کھاتے تھے کہ وہ بلاشبہ تمہارے ساتھ ہیں یعنی اس دن مسلمان بڑے تعجب سے آپس میں یہ کہیں گے کہ ویہ وہی لوگ ہیں کہ ہم سے بڑی پکی قسمیں کھایا کرتے تھے کہ ہم مسلمان ہیں آج ان کا جھوٹ اور نفاق ظاہر ہوگیا اور معلوم ہوگیا کہ جھوٹے تھے دعوے تو یہ تھا کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں اور ظاہر ہوا کہ اس کے خلاف الغرض ان کی ساری کاروائیاں غارت گئیں ان منافقوں کا ظاہری اسلام کچھ کام نہ آیا اور یہ ساری جدوجہد کہ دونوں سے بھلے بنے رہیں بیکار گئی کیونکہ کفار تو خود مغلوب ہوئے اور اس لیے ان کا ساتھ دنیا بیکار رہا اور مسلمانوں کے سامنے ان کی قلعی کھل گئی پس دونوں اطراف سے نقصان اور خسارہ بڑھ گیا نہ ادھر کے رہے اور نہ ادھر کے اور اسلام کے غلبہ اور فتح سے ان کی تمام امیدوں پر پانی پھر گیا۔