Ayahs 4:1–2تمہید احکام سورة دربارہ اداء حقوق قرابت حکم تقوی و اطاعت ربانی وتذکیر اتحاد انسانی۔
قال تعالیٰ یا ایھا الناس۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ رقیبا۔
اللہ جل شانہ نے اس سورت کا تقوی اور پرہیزگاری کے حکم سے آغاز فرمایا جو آئندہ احکام قرابت کی تمہید ہے اور تقوی کے حکم کے ساتھ اپنی خاص شان خالقیت کو ذکر فرمایا کہ تم سب ایک آدم کی اولاد ہو لہذا تم پر حق قرابت کا لحاظ اور پاس داری ضروری اور لازمی ہے۔
بنی آدم اعضاء یکدیگر ند کہ در آفرینش زیک جو ہر اند
چو عضوے بدرد آور روز گار دگر عضوھارا نماند قرار
نیز تم پر اس پروردگار کی اطاعت اور فرمانبرداری اور تقوی اور پرہیزگاری نہایت ضروری ہے کہ جس نے تم کو اپنی قدرت کاملہ سے پیدا کیا چونکہ اس سورت میں نکاح اور میراث اور احکام قرابت کا ذکر ہے اس لیے اللہ نے ابتداء سورت میں مخاطبین کو یہ یاد دلایا کہ تم ایک ذات سے پیدا ہوئے ہو تاکہ دلوں میں یہ بات راسخ ہوجائے کہ ہم سب لوگ ایک ہی شخص کی اولاد ہیں تو بےاختیار برادرانہ محبت دلوں میں جوش کرے گی اور ہر شخص یہ سمجھے گا کہ جب ہم سب ایک شخص کی نسل ہیں تو ہم میں ایک کا ایک پر حق ہے چناچہ فرماتے ہیں اے لوگو ڈرتے رہو اپنے اس پروردگار سے جس نے تم کو ایک ذات سے پیدا کیا نفس واحدہ سے باتفاق مفسرین حضرت آدم مراد ہیں اور بعدازاں اسی نفس واحدہ سے اس کا جوڑا یعنی اس کی زوجہ حواء کو پیدا کیا زوجہا سے حضرت حواء مراد ہیں جمہور مفسرین کا قول ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) جب بیدار ہو کر ان کو دیکھا تو بہت خوش ہوئے یہی مضمون بعض حدیثوں میں بھی آیا ہے اور توریت سفر تکوین کی فصل ثانی میں بھی اس کی تصریح ہے اور پھر ان دونوں سے دنیا میں بہت سے مرد اور عورتیں پھیلائیں یعنی پھر ان دونوں سے تمام بنی آدم کی نسل چلی حکماء حال اور دہریہ اور ہنود کے بعضے فرقے اس کے منکر ہیں وہ کہتے ہیں کہ نوع انسانی قدیم ہے ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی یہ مذہب عقلا اور نقلا سراسر باطل ہے اور مکرر تم کو تاکید کی جاتی ہے کہ اس خدا سے ڈروجس کے واسطہ سے تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو تمام قوموں میں یہ دستور رہا ہے کہ جب کسی سے کام پڑتا ہے تو اسے اللہ کا واسطہ دیتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ خدا کے لیے یا اللہ کے لیے میرا یہ کام کردو یا یوں کہتے ہیں کہ خدا سے ڈرو اور مجھ پر زیادتی نہ کرو پہلی آیت میں حکم تقوی کی یہ علت بیان کی تھی کہ وہ تمہارا رب ہے اور اس آیت میں حکم تقوی کی یہ علت بیان کی جس ذات کا تم واسطہ دے کر لوگوں سے حاجتوں کو مانگتے ہو تم کو چاہیے کہ عام طور پر تمام امور میں اس ذات پاک کے تقوی اور پرہیزگاری کو خاص طور پر ملحوظ رکھو اور خاص طور پر قرابتوں سے ڈرو یعنی رشتوں کے قطع کرنے اور ان کے حقوق ضائع کرنے سے ڈرو تحقیق اللہ تم پر نگہبان ہے دیکھتا ہے کہ تم قطع رحمی کرتے ہو یاصلہ رحمی۔
فوائد۔ جمہور قراء نے والارحام کو فتح میم کے ساتھ منصوب پڑھا ہے اس بنا پر اس کا عطف لفظ اللہ پر ہوگا جو واتقواللہ میں واقع ہے اور ترجمہ اس طرح ہوگا کہ اللہ سے ڈرو اور قرابتوں سے ڈرو یعنی ان کے قطع کرنے سے ڈرو اور اس کے حقوق کو ادا کرتے رہو۔ گزشتہ تفسیر اسی قرات پر مبنی ہے اور بعض قراء نے والارحام کو بکسرالمیم مجرور پڑھا ہے اس صورت میں وارلارحام کا عط بہ کی ضمیر مجرور پر ہوگا اور معنی یہ ہوں گے کہ اللہ سے ڈرو جس کے واسطہ سے تم سوال کرتے اور رحموں اور قرابتوں کے واسطہ سے بھی سوال کرتے ہو اہل عرب کی عادت تھی کہ وہ جب اپنے کسی رشتہ دار کے پاس کوئی حاجت لے کر جاتے تو یوں سوال کرتے اسالک باللہ وبالرحم۔ میں تجھ سے اللہ کا اور رحم یعنی قرابت کا واسطہ دے کر یہ سوال کرتا ہوں یا یوں کہتے کہ میں تجھے اللہ کی قرابت کی قسم دیتا ہوں کہ تو میری یہ حاجت پوری کردے اسی دستور کے مطابق اللہ فرماتے ہیں کہ جب تم اللہ تعالیٰ کی عظمت اور حقوق رحم و قرابت کو جانتے ہو اور اس کا واسطہ دے کر لوگوں سے سوال کرتے ہو اور تو پھر خود اس پر عمل کیوں نہیں کرتے اللہ سے ڈرو اور اعزاء اوراقربا کے حقوق کو موافق شریعت کے ادا کیا کرو۔
Ayahs 4:3–4حکم دوم دربارہ نکاح یتامی۔
قال تعالی۔ وان خفتم۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ تعولوا۔
ربط) گزشتہ آیت میں یتیموں کے مالی ضرر پہنچانے کے متعلق ہدایت تھی اب اس آیت میں یتیم لڑکیوں کے نکاح کے متعلق ہدایت ہے اس لیے کہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ یتیم لڑکیاں جس کی تربیت میں دی جاتی ہیں وہ لڑکی اس ولی کے مال میں بوجہ قرایت ایک دوسرے کے شریک ہوتے ہیں تو اب دو صورتیں پیش آتیں ہیں کبھی تو یہ ہوتا کہ ولی کو اس یتیمہ کا مال اور جمال دونوں مرغوب ہوتے اور اس مال اور جمال کے لالچ میں اس سے تھوڑے سے مہر پر نکاح کرلیتا چونکہ یتیم لڑکی کا کوئی سرپرست نہیں ہوتا جو اس کے حقوق کی حفاظت کرتا اور اس کے حقوق کے لیے جھگڑے اس لیے یہ ولی اس کے مہر میں بھی کمی کردیتا اور بوجہ اس کی کمزوری کے اس کے دیگر حقوق زوجیت بھی پورے طور پر ادانہ کرتا اور کبھی یہ ہوتا کہ اس یتیم لڑکی کی صرت تو مرغوب نہ ہوتی مگر ولی یہ خیال کرتا کہ اگر دوسرے سے نکاح کردوں گا تو لڑکی کا مال میرے قبضہ سے نکل جائے گا اور میرے مال میں دوسرا شریک ہوجائے گا اس مصلحت سے اس یتیمہ سے نکاح تو جوں توں کرلیتا مگر منکوحہ سے کچھ رغبت نہ رکھتا اس پر یہ آیت اتری اور اولیاء کو ارشاد ہوا اگر تم کو اس بات کا ذرہ اھتمال بھی ہو اور اگر یقین ہو تو بدرجہ اولی کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کرسکو گے اور ان کے مہر اور حسن معاشرت میں تم سے کوتاہی ہوگی تو ایسی حالت میں تم کو ان یتیم لڑکیوں سے نکاح کی اجازت نہیں بکہ ان کے علاوہ اور عورتوں سے نکاح کرلو جو تم کو مرغوب اور پسند ہوں ایک نہیں دو دو اور تین تین اور چار چار تک تم کو اجازت ہے مگر چار سے زیادہ کی اجازت نہیں یہ اجازت کی آخری حد ہے مطلب یہ ہے کہ اگر تم کو یہ ڈر ہو کہ یتیم لڑکیوں سے نکاح کرنے کی صورت میں ان کے ساتھ منصفانہ برتاؤ نہ کرسکو گے تو ان سے نکاح نہ کرو ان کے سو اور عورتوں سے نکاح کرلو جو تمہیں پسند ہوں عورتوں کی کمی نہیں اور اللہ کی طرف سے کوئی تنگی نہیں اور ایک سے لے کر چار تک تم کو اجازت ہے پس جب تم مجبور نہیں اور تمہاری ضرورت یتامی پر اٹکی ہوئی نہیں تو پھر بےضررت کیوں کسی کے حق تلفی کے مرتکب ہوتے ہو کسی اور سے نکاح کرلو پس اگر تم کو ڈر ہو کہ کئی عورتوں میں عدل و انصاف نہ کرسکو گے تو تمہیں سہولت ہے اس لیے کہ باندیوں کے حقوق آزاد عورتوں کے برابر نہیں یہ حکم اس بات کے اور زیادہ قریب ہے کہ تم بےانصافی نہ کرو اور کسی کی حق تلفی نہ کرو کیونکہ اگر ایک ہی بیوی ہوگی تو تم اسی کی طرف متوجہ رہو گے اور اس کے حقوق کی ادائیگی تم پر سہل ہوگی اور اگر صرف لونڈیاں اور باندیاں ہوں گی تو ان کے حقوق آزاد عورتوں کے برابر نہیں لہذا ان سے نباہ کچھ مشکل نہیں۔ تمام علماء اہل سنت والجماعت کا اس پر اتفاق اور اجماع ہے کہ مرد کو ایک وقت میں اپنے نکاح میں چار سے زیادہ عورتوں کو جمع کرنا درست نہیں زمانہ جاہلیت میں عورتوں کی کوئی تعداد مقرر نہ تھی ایک آدمی کے پاس دس دس اور آٹھ آٹھ عورتیں ہوا کرتی تھیں اس آیت میں اللہ نے اس کی حد مقرر کردی کہ چار عورتوں سے زیادہ نکاح درست نہیں اور ایسا ہی احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔
عبداللہ بن عباس اور جمہورعلماء کہتے ہیں کہ یہ آیت مقام امتنان اور احسان کے بارے میں ہے عورتوں سے نکاح کی اباحت اور اجازت اللہ کی منت کبری ہے پس اگر چار سے زیادہ جمع کرنا جائزہوتا تو اللہ اس کو ضرور ذکر فرماتے امام شافعی فرماتے ہیں کہ سنت نبوی نے اللہ کی مراد خوب واضح کردی کہ سوائے رسول اللہ کے کسی شخص کے لیے چار عورتوں سے زیادہ نکاح کرنا جائز نہیں۔ حافظ ابن کثیر امام شافعی کے اس قول کو نقل کرکے فرماتے ہیں کہ اسی پر تمام علماء کا اجماع ہے مگر شیعوں کے ایک گروہ سے یہ منقول ہے کہ چار سے نوتک بھی جمع کرنا درست ہے تفسیر ابن کثیر ص 459 ج 1۔ اور بعض شیعہ یہ کہتے ہیں کہ اباحت نکاح کے لیے کوئی حصر اور تعین نہیں اہل فہم ادنی تامل سے سمجھ سکتے ہیں کہ اگر عام اجازت مقصود ہوتی تو صرف ماطاب لکم من النساء کہہ دینا کافی تھا چار تک کی تحدید کی کوئی ضرورت نہ تھی۔
اہل سنت یہ کہتے ہیں کہ اس آیت میں یعنی فانکحوا میں تمام رجال عالم کو خطاب ہے اور ماطاب لکم من النساء میں تمام عالم کی عورتیں مراد ہیں اور مقصود کلام یہ ہے کہ اے رجال عالم یہ تمام عورتیں ہم نے تمہارے لیے پیدا کیں تم ان کو بطور نکاح وزوجیت آپس میں تقسیم کرلو مگر شرط اس اباحت اور نکاح کی یہ ہے کہ اس تقسیم میں مثنی اور ثلاث اور رباع کی قید کو ملحوظ رکھو کیونکہ مثنی وثلاث ورباع۔ ترکیب نحوی کے اعتبار سے ماطاب سے حال ہے اور حال عامل کی قید ہوتا ہے اور یہاں عامل فانکحوا ہے پس اباحت نکاح ان اقسام کے ساتھ مقید ہوگی چار کے اندر اندر اجازت ہوگی چار سے زائد ہونے کی صورت میں اجازت نہ رہے گی۔ جیسے کوئی امیر کسی جماعت سے یہ کہے کہ اقتسموا ہذہ البدرۃ درہمین دوہ میں وثلاثہ واربعۃ اربعۃ۔ یعنی اس تھیلی کے دراہم ودنانیر کو کو دو دو یا تین تین یا چار چار آپس میں تقسیم کرلو مطلب یہ ہوگا کہ تقسیم میں کسی شخص کو چار سے زیادہ لینے کی اجازت نہ ہوگی۔ اسی طرح اللہ نے اس آیت میں عالم کے تمام مردوں کو یہ اجازت دی ہے کہ تم عالم کی تمام عورتوں کو دو دو اور تین تین اور چار چار کرکے بطور نکاح آپس میں تقسیم کرلو اس تقسیم میں تم کو چار عورتیں تک لینے کی اجازت ہے اس سے زائد کی اجازت نہیں ہذا توضیح ما قالہ العلامہ الزمخشری فی الشاف وابوحیان فی البحر المحیط۔
ایک شبہ اور اس کا ازالہ۔
شبہ یہ ہے کہ جس طرح سورة فاطر کی آیت دربارہ، ملائکہ الی اجنحۃ مثنی وثلاث ورباع۔ آیت۔ میں مثنی ورباع کا ذکر تقید اور تحدید کے لیے نہیں اسی طرح ممکن ہے کہ آیت نکاح میں بھی مثنی وثلاث ورباع کا ذکر تحدید کے لیے نہ ہو۔
جواب۔ سورة فاطر کی آیت میں مثنی وثلاث ورباع۔ اجنحہ کی صفت ہے کہ فرشتے ایسے ایسے پیدا کیے گئے ہیں کہ اس آیت میں مثنی وثلاث ورباع کا ذکر محض بطور خبر آیا ہے کسی حکم کی قید نہیں جو ماعدا کی نفی پر دلالت کرے جیسا کہ تمام بلغاء کے نزدیک مسلم ہے کہ بعض اوصاف ذکر کرنے سے دوسرے اوصاف کے نفی پر استدلال کرنا غلط ہے بخلاف اس صورت کے کہ جب کوئی عدد معین کسی حکم کے تقید کے لیے ذکر کیا جائے تو وہ بلاشبہ تحدید پر دلا لت کرے گا اور یہ آیت عورتوں کے نکاح کے حکم کے بارے میں آئی ہے کہ تمہیں اس طرح کی اجازت ہے اور یہ اجازت چار چار تک ہے لہذا اس پر زیادتی جائز نہ ہوگی اور عورتوں سے نکاح کی اجازت اور اباحت کا حکم چار تک مقصود ہوگا۔
مسئلہ تعدد ازدواج۔
شریعت اسلامیہ غایت درجہ معتدل اور متوسط ہے افراط اور تفریط کے درمیان میں ہے نہ تو عیسائیوں کے راہبوں اور ہندوؤں کے جوگیوں اور گسایوں کی طرح ملنگ بننے کی اجازت دیتی ہے اور نہ صرف ایک عورت ہی پر قناعت کرنے کو لازم گردانتی ہے بلکہ حسب ضرورت ومصلحت ایک سے چار تک اجازت دیتی ہے۔ چناچہ پادری لوگ بھی نظر عمیق کے بعد اسی کا فتوی دیتے ہیں جیسا کہ کتاب مسمی بہ اصلاح سہو مطبوعہ امریکن مشن پریس 1871 ء میں لکھتے ہیں کہ تعدد ازددواج بنی اسرائیل میں تھا اور خدا نے اس کو منع نہیں کیا بلکہ برکت کا وعدہ کیا اور عارئین لوتھر نے فلپ کو دو جروں کی اجازت دی تھی منقول از تفسیر حقانی ص 166 ج 3۔ تاریخ عالم کے مسلمات میں سے ہے کہ اسلام سے پہلے تمام دنیا میں یہ رواج تھا کہ ایک شخص کئی کئی عورتوں کو اپنی زوجیت میں رکھتا تھا اور یہ دستور تمام دنیا میں رائج تھا حتی کہ حضرات انبیاء بھی اس دستور سے مستثنی نہ تھے۔ حضرت ابراہیم کی دوبیبیاں تھیں حضرت سارہ اور حضرت ہاجرہ حضرت اسحاق کے بھی متعدد بیویاں تھیں حضرت موسیٰ کے بھی کئی بیویاں تھیں اور سلیمان (علیہ السلام) کے بیسوں بیویاں تھیں اور حضرت داوؤد (علیہ السلام) کے سو بیویاں تھیں اور توریت وانجیل و دیگر صحف انبیاء میں حضرات انبیاء کی متعدد ازواج کا ذکر ہے اور کہیں اس کی ممانعت کا ادنی اشارہ بھی نہیں پایا جاتا صرف حضرت یحیٰی اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ایسے نبی گزرے ہیں کہ جنہوں نے بالکل شادی نہیں کی ان کے فعل کو اگر استدلال میں پیش کیا جائے تو ایک شادی بھی ممنوع ہوجائے گی احادیث میں ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) قیامت کے قریب آسمان سے نازل ہوں گے اور نزول کے بعد شادی فرمائیں گے اور ان کے اولاد بھی ہوگی۔ غرض یہ کہ علماء یہود اور علماء نصاری کو مذہبی حیثیت سے تعدد ازواج پر اعتراض کا کوئی حق نہیں صرف ایک ہی بیوی رکھنے کا حکم کسی مذہب اور ملت میں نہیں نہ ہندوں کے شاستروں میں نہ توریت میں اور نہ انجیل میں صرف یورپ کارواج ہے نہ معلوم کس بنا پر یہ رواج رائج ہوا اور جب سے یورپ میں یہ رواج چلا اس وقت مغربی قوموں میں زناکاری کی اس درجہ کثرت ہوئی کہ پچاس فیصد آبادی غیر ثابت النسب ہے اور جن قوموں نے تعدد ازدواج کو برا سمجھا ہے وہی قومیں اکثر زناکاری میں مبتلا ہیں۔ اسلام سے بیشتر دنیا کے ہر ملک اور ہر خطہ میں کثرت ازدواج کی رسم خوب زور شور سے رائج تھی اور بعض اوقات ایک ایک شخص سو عمر تک عورتوں سے شادیاں کرلیتا تھا اسلام آیا اور اس نے اصل تعداد کو جائز قرار دیا مگر اس کی ایک حد مقرر کردی اسلام نے تعدد ازدواج کو واجب اور لازم قرار نہیں دیا بلکہ بشرط عدل و انصاف اس کی اجازت دی کہ تم کو چار بیویوں کی حد تک نکاح کی اجازت ہے اور اس چار کی حد سے تجاوز کی اجازت نہیں اس لیے کہ نکاح سے مقصود عفت اور تحصین فرج ہے چار عورتوں میں جب ہر تین شب کے بعد ایک عورت کی طرف رجوع کرے گا تو اس کے حقوق زوجیت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا شریعت اسلامیہ نے غایت درجہ اعتدال اور توسط کو ملحوظ رکھا کہ نہ تو جاہلیت کی طرح غیر محدود کثرت ازدواج کی اجازت دی کہ جس سے شہوت رانی کا دروازہ کھل جائے اور نہ اتنی تنگی کی کہ ایک عورت سے زائد کی اجازت ہی نہ دی جائے بلکہ بین بین حالت کو برقرار رکھا کہ چار تک اجازت دی تاکہ نکاح کی غرض وغایت یعنی عفت اور حفاظت نظر اور تحصین فرج اور تناسل اور اولاد بسہولت حاصل ہوسکے اور زنا سے بالکلیہ محفوظ ہوجائے اس لیے کہ بعض قوی اور توانا اور تندرست اور فارغ البال اور خوش حال لوگوں کو ایک بیوی سے زیادہ کی ضرورت ہوتی ہے اور بوجہ قوت اور توانائی اور اوپر سے فارغ البال اور خوش حالی کی وجہ سے چار بیویوں کے بلاتکلف حقوق زوجیت ادا کرنے پر قادر ہوتے ہیں۔
(بلکہ) ایسے قوی اور تواناجن کے پاس لاکھوں کی دولت بھی موجود ہے اگر وہ اپنے خاندان کی چار غریب عورتوں سے اس لیے نکاح کریں کہ ان کی تنگ دستی مبدل، بفراخی ہوجائے اور غربت کے گھرانہ سے نکل کر ایک راحت اور دولت کے گھر میں داخل ہوں اور اللہ کی نمعت کا شکر کریں تو امید ہے کہ ایسا نکاح اسلامی نقطہ نظر سے بلاشتبہ عبادت اور عین عبادت ہوگا اور قومی نقطہ نظر سے اعلی ترین قومی ہمدردی ہوگی جس دولت مند اور زمیندار اور سرمایہ دار کے خزانہ سے ہر مہینہ دس ہزار مزدوروں کو تنخواہیں ملتی ہوں اور دس ہزار خاندان اس کی اعانت اور امداد سے پرورش پاتے ہوں تو اگر اس کے خاندان کی چار عورتیں بھی اس کی حرم سرائے میں داخل ہوجائیں اور عیش و عشرت کے ساتھ ان کی عزت وناموس بھی محفوظ ہوجائے تو عقلا وشرعا اس میں کوئی خرابی نظر نہیں آتی بلکہ اگر کوئی بادشاہ یا صدر مملکت یا وزیر سلطنت یا کوئی صاحب ثروت و دولت بذریعہ اخبار یہ اعلان کرے کہ میں چار عورتوں سے نکاح کرنا چاہتا ہوں اور ہر عورت کو ایک ایک لاکھ مہردوں گا اور ایک ایک بنگلہ کا ہر ایک کو مالک بنادوں گا جو عورت مجھ سے نکاح چاہے وہ میرے پاس درخواست بھیج دے۔
(تو سب سے پہلے) ۔ انہی بیگمات کی درخواستیں پہنچیں گی جو آج تعدد ازدواج کے مسئلہ پر شور برپا کررہی ہیں یہی بیگمات سب سے پہلے اپنے آپ کو اور اپنی بیٹیوں اور بھتیجیوں اور بھانجیوں کو لے کر امراء اور وزارء کے بنگلوں پر خود حاضر ہوجائیں گی اور اگر کوئی امیر اور وزیر ان کے قبول کرنے میں کچھ تامل کرے گا تو یہی بےگمات دل آویز طریقہ سے ان کو تعدد ازدواج کے فوائد اور منافع سمجھائیں گی۔
2۔ نیز بسا اوقات ایک عورت امراض کی وجہ سے یا حمل اور تولد النسل کی تکلیف میں مبتلا ہونے کی وجہ سے اس قابل نہیں رہتی کہ مرد اس سے منتفع ہوسکے تو ایسی صورت میں مرد کے زنا سے محفوظ رہنے کی عقلا اس سے بہتر کوئی صورت نہیں کہ اس کو دوسرے نکاح کی اجازت دی جائے۔
حکایت۔ ایک بزرگ کی بیوی نابینا ہوگئی تو انہوں نے دوسرا نکاح کیا تاکہ یہ دوسری بیوی پہلی بیوی نابینا کی خدمت کرسکے اہل عقل فتوی دیں کہ اگر کسی کی پہلی بیوی معذور ہوجائے اور دوسرا نکاح اس لیے کرے تاکہ دوسری بیوی پہلی بیوی کی خدمت کرسکے اور اس کے بچوں کی تربیت کرسکے کیا یہ دوسرا نکاح عین عبادت اور عین مروت اور عین انسانیت نہ ہوگا۔
3۔ نیز بسا اوقات عورت امراض کی وجہ سے یا عقیم (بانجھ) ہونے کی وجہ سے توالدالنسل کے قابل نہیں رہتی اور مرد کو بقاء نسل کی طرف فطری رغبت ہے ایسی صورت میں عورت کو بےوجہ طلاق دے کر علیحدہ کرنا یا اس پر کوئی الزام لگا کر طلا دے دینا جیسا کہ دن رات یورپ میں ہوتا رہتا ہے یہ صورت بہتر ہے یا یہ صورت بہتر ہے کہ اس کی زوجیت اور اس کے حقوق کو محفوظ رکھ کر دوسرے نکاح کی اجازت دے دیں بتلاؤ کون سی صورت بہتر ہے اگر کسی قوم کو اپنی تعداد بڑھانی منظور ہو یا عام طور پر بنی نوع کی افزائش نسل مدنظر ہو تو سب سے بہتر یہی تدبیر ہوسکتی ہے کہ ایک مرد کئی شادیاں کرے تاکہ بہت سی اولاد پیدا ہو۔
4۔ نیز عورتوں کی تعداد قدرتا اور عادۃ مردوں سے زیادہ ہے مرد بہ نسبت عورتوں کے پیدا کم ہوتے ہیں اور مرتے زیادہ ہیں لاکھوں مرد لڑائیوں میں مارے جاتے ہیں اور ہزاروں مرد جہازوں میں ڈوب جاتے ہیں اور ہزاروں کانوں میں دب کر اور تعمیرات میں بلندیوں سے گر کر مرجاتے ہیں اور عورتیں پیدا زیادہ ہوتی ہیں اور مرتی کم ہیں پس اگر ایک مرد کو کئی شادیوں کی اجازت نہ دی جائے تو یہ فاضل عورتیں بالکل معطل اور بےکار رہیں کون ان کی معاش کا کفیل اور ذمہ دار بنے اور کس طرح عورتیں اپنے کو زنا سے محفوظ رکھیں پس تعدد ازدواج کا حکم بےبس کس عورتوں کا سہارا ہے اور ان کی عصمت اور ناموس کی حفاظت کا واحد ذریعہ ہے اور ان کی جان اور آبرو کانگہبان اور پاسبان ہے عورتوں پر اسلام کے اس احسان کا شکر واجب ہے کہ تم کو تکلیف سے بچایا اور راحت پہنچائی اور ٹھکانا دیا اور لوگوں کی تہمت اور بدگمانی سے تم کو محفوظ کردیا دنیا میں جب کبھی عظیم الشان لڑائیاں پیش آتی ہیں تو مرد ہی زیادہ مارے جاتے ہیں اور قوم میں بےکس عورتوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے تو اس وقت ہمدرداں قوم کی نگاہیں اس اسلامی اصول کی طرف اٹھ جاتی ہیں ابھی تیس سال قبل کی بات ہے کہ جنگ عظیم کے بعد جرمنی اور دوسرے یورپی ممالک جن کے مذہب میں تعداد ازددواج جائز نہیں عورتوں کی بےکسی کو دیکھ کر اندر ہی اندر تعداد ازدواج کے جواز کا فتوی تیار کررہے تھے۔ جو لوگ تعدد ازدواج کو برا سمجھتے ہیں ہم ان سے یہ سوال کرتے ہیں کہ جب ملک میں عورتیں لاکھوں کی تعداد میں مردوں سے زیادہ ہوں تو ان کی فطری اور طبعی جذبات اور ان کی معاشی ضروریات کی تکمیل کے لیے آپ کے پاس کیا حل ہے اور آپ نے ان بےکس عورتوں کی مصیبت دور کرنے کے لیے کیا قانون بنایا ہے افسوس اور صد افسوس کہ اہل مغرب اسلام کے اس جائز تعدد پر عیش پسندی کا الزام لگائیں اور غیر محدود ناجائز تعلقات اور بلا نکاح کے لاتعداد آشنائی کو تہذیب اور تمدن سمجھیں زنا جو کہ تمام انبیاء اور مرسلین کی شریعتوں میں حرام اور تمام حکماء کی حکمتوں میں قبیح رہا مغرب کے مدعیان تہذیب کو اس کا قبح نظر نہیں آتا اور تعدد ازدواج کہ جو تمام انبیاء ومرسلین اور حکماء اور عقلاء کے نزدیک جائز اور مستحسن رہا وہ ان کو قبیح نظر آتا ہے ان مہذب قوموں کے نزدیک تعدد ازدواج تو جرم ہے اور زنا اور بدکاری جرم نہیں۔
5۔ عورتیں۔ مرد سے عقل میں بھی نصف ہیں اور دین میں بھی نصف ہیں جس کا حاصل یہ نکلا کہ ایک عورت ایک مرد کاربع یعنی چوتھائی ہے اور ظاہر ہے کہ چار ربع مل کر ایک بنتے ہیں معلوم ہوا کہ چار عورتیں ایک مرد کے برابر ہیں اس لیے شریعت نے ایک مرد کو چار عورتوں سے نکاح کی اجازت دی۔
ایک عورت کے لیے متعدد خاوند ہونے کی ممانعت کی وجہ۔
1۔ اگر ایک عورت چند مردوں میں مشترک ہو تو بوجہ استحقاق نکاح ہر ایک وقضا حاجت کا استحقاق ہوگا اور اس میں غالب اندیشہ فساد اور عناد کا ہے شاید ایک ہی وقت میں سب کو ضرورت ہو اور عجب نہیں کہ نوبت قتل تک پہنچے۔ ہندوؤں کے بعض فرقوں کے مذہب میں یہ جائز ہے کہ پانچ بھائی مل کر ایک عورت رکھ لیں بےغیرتوں کا مذہب بےغیرتی ہی کی باتیں بتلاتا ہے اسلام جیسا باغیرت مذہب ہرگز ہرگز اس کی اجازت نہیں دیتا کہ عورت کبھی کسی سے ہم آغوش اور ہم کنار ہو اور کبھی کسی سے۔
2۔ مرد فطرتا حاکم ہے اور عورت محکوم ہے اس لیے کہ طلاق کا اختیار مرد کو ہے جب تک مرد عورتوں کو آزاد نہ کرے تو عورت دوسرے مرد سے نکاح کرسکتی ہے جیسے باندی اور غلام باختیار خود قید سے نہیں نکل سکتے اسی طرح عورت باختیار خود قید نکاح سے نہیں نکل سکتی باندی اور غلاموں میں اگر اعتاق ہے تو عورتوں میں طلاق غرض یہ کہ جب مرد حاکم ہوا تو عقلا یہ تو جائز ہے کہ ایک حاکم کے ماتحت متعدد محکوم ہوں اور متعدد اشخاص کا ایک حاکم کے ماتحت رہنا نہ موجب ذلت و حقارت ہے نہ موجب صعوبت۔ بخلاف اس کے کہ ایک شخص متعدد حاکموں کے ماتحت ہو تو ایسی صورت میں کہ جب محکوم ایک ہو اور حاکم تعدد ہوں تو محکوم کے لیے عجب مصیبت کا سامنا کہ کس کس کی اطاعت کرے اور ذلت بھی ہے جتنے حاکم زیادہ ہوں گے اسی قدر محکوم میں ذلت بھی زیادہ ہوگی۔ اس لیے شریعت اسلامیہ نے ایک عورت کو دو یا چار خاوندوں سے نکاح کی اجازت نہیں دی اس لیے کہ اس صورت میں عورت کے حق میں تحقیر وتذلیل بھی بہت ہے اور مصیبت بھی نہایت سخت ہے۔ نیز متعدد شوہروں کی خدمت بجالانا اور سب کو خوش رکھنا ناقابل برداشت ہے اس لیے شریعت نے ایک عورت کو دو یا چار مردوں سے نکاح کی اجازت نہیں دی تاکہ عورت اس تذلیل وتحقیر اور ناقابل برداشت مشقت سے محفوظ رہے۔
3۔ نیز اگر ایک عورت کے متعدد شوہر ہوں تو متعدد شوہروں کے تعلق سے جو اولاد پیدا ہوگی وہ ان میں سے کس کی اولاد ہوگی اور ان کی تربیت کس طرح ہوگی اور ان کی وراثت کس طرح تقسیم ہوگی نیز وہ اولاد چاروں شوہروں کی مشترکہ ہوگی یا منقسمہ او تقسیم کس طرح ہوگی اگر ایک ہی فرزند ہوا تو چار باپوں میں کس طرح تقسیم ہوگا اور اگر متعدد اولاد ہوئی اور نوبت تقسیم کی آئی تو بوجہ اختلاف ذکورت وانوثت اور بوجہ تفاوت شکل و صورت اور بوجہ اختلاف قوت وصحت اور بوجہ تفاوت فہم و فراست موزانہ تو ممکن نہیں اس لیے کہ اس تفاوت کی وجہ سے تقسیم اولاد کا مسئلہ غایت درجہ پیچیدہ ہوگا اور نہ معلوم باہمی نزاع سے کیا کیا صورتیں اور فتنے رونما ہوں۔
حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی (رح) تعالیٰ کا کلام معرفت الیتام۔
حق جل شانہ کا ارشاد ہے، نساء کم حرث لکم۔ آیت۔ یعنی تمہاری عورتیں تمہارے کھیت ہیں اس سے صاف روش ہے کہ نکاح سے مقصود اولاد ہے کیونکہ کھیت سے مطلوب پیدوار ہوتی ہے اور ظاہر ہے کہ اس کھیت کی پیدوار یہی اولاد ہے گہیوں چنا وغیرہ نہیں اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ شیعوں کے نزدیک جو سارے جہان کے خلاف اپنی بی بی سے اغلام درست ہے کہ وہ کلام اللہ کے بھی مخالف ہے مگر اغلام سے تولد اولاد متصور نہیں مگر ہاں شاید شیعوں میں یہ کرامت ہو کہ نطفہ ادھر سے ادھر چلا جاتا ہو باقی رہا جملہ، فاتوا حرثکم انی شئتم۔ آیت۔ جس کا یہ مطلب ہے کہ اپنی زمین میں بیچ ڈالنے کے لیے شرق کی طرف سے جاؤ یا غرب کی طرف سے بہر حال تم کو اختیار ہے او اس سے ہر کوئی یہی سمجھتا ہے کہ مقصود اصلی بونا ہے وہ دونوں طرف سے جانے میں برابر حاصل ہے اور پیدوار دونوں میں ایک طرح سے ہوگی ایسے ہی اس جملہ سے ہر عاقل یہی سمجھے گا کہ اپنی بییبوں سے الٹے سیدھے جس طرح چاہو صحبت کرو تولد اولاد میں دونوں صورتیں برابر ہیں یہ نہیں کہ سیدھی صحبت کیجئے تو بچا اچھا ہوا اور الٹی کیجئے تو احول (بھینگا) پیدا ہو جیسا کہ یہودی کہا کرتے تھے چناچہ اسی وہم فاسد کے ازالہ اور دفع کے لیے یہ ارشاد ہوا فاتواحرثکم انی شئتم۔ آیت۔ مگر علماء شیعہ کی خوش فہمی دیکھئے کہ بات کیا تھی اور کیا مطلب سمجھ گئے مگر وہ بھی کیا کریں اگر متعہ اور اغلام نہ ہوتا تو خواص تو متنفر تھے ہی عوام کالانعام بھی اس مذہب کو پسند نہ کرتے۔
علاوہ بریں ولد صالح کا باقیات صالحات میں سے ہونا بھی اولاد کے مقصود ہونے پر شاید ہے کیونکہ اگر شہوت رانی ہی مقصود اور اولاد مقصود نہ ہوتی تو ان کے حساب سے اولاد کا ہونا اور نہ ہونا برابر ہوتا اگر صالح ہوتی تو کیا اور فاسق ہوئی تو کیا اور علی ہذا القیاس سقی ماء غیر یعنی عورت حاملہ من الغیر سے جماع حرام نہ ہوتا چناچہ ظاہر ہے بہرحال مقصود اصلی نکاھ سے اولاد ہے شہوت رانی مقصود اصلی نہیں جیسے اکل غذاء سے بدل مایتحلل مقصود ہے اور بھوک مثل چپراسی سرکاری اس بیگار کے لیے متقاضی ہے ایسے ہی عورتوں سے اولاد مطلوب ہے اور شہوت جماع تقاضا جماع کے لیے ساتھ لگا دی گئی مگر جب اولاد مقصود ٹھہری چناچہ آیت مسطور اس پر شاہد ہے اور نیز عقل سلیم اس پر گواہ تو پھر ایک عورت کا زمانہ واحدہ میں دو یا زیادہ مردوں سے نکاح کی اجازت قرین عقل نہ ہوگی اس لیے کہ زمین کی پیدوار تو سب ایک سی ہوتی ہے اور اس کے سب دانے باہم متشابہ ہوتے ہیں خورش میں سب یکساں کسی کو کسی پر کچھ فوقیت نہیں اس لیے شرکت میں کوئی خرابی پیش نہیں آتی علی السویہ تقسیم ہوسکتی ہے پر اولاد میں اگر اشتراک تجویز کیا جائے تو ایک نزاع عظیم برپا ہوجائے اس یے کہ اول تو یہی کچھ ضرور نہیں کہ ایک سے زیادہ بچہ پیدا ہو اور دو تین پیدا بھی ہوئے تو کچھ ضرور نہیں کہ سب لڑکے ہی ہوں یا سب لڑکیاں ہی ہوں اور پھر سب ایک ہی نمبر کے عاقل وفاضل ہوں بلکہ عادت اللہ یوں ہی جاری ہے کہ جیسے پانچوں انگلیاں یکساں نہیں ہوتیں ایسی ہی تمام اولاد یکساں نہیں ہوتی تو پھر تقسیم اولاد کی کیا صورت ہوگی۔ خاص کر جب کہ بچہ ایک ہو اور عورت کے خاوند متعدد ہوں یا خاوند کا عدد تو زوج ہو اور اولاد کا عدد طاق ہو تو اور بھی دشواری ہوگی ہاں اگر اولاد کاٹنے پھاٹنے کے قابل ہوتی تو مثل غلہ مشترک پاجامہ مشترک کاٹ پھاٹ کر برابر کرلیتے اور نزاع دفع کرلیتے بامثل غلام عورت کا ہر وقت ایک حال رہتا اور یہ تفاوت احوال اور اختلاف کیفیا مزاجی نہ ہوتا تو ہفتہ وار یا ماہوار یا سال وار ایک خاوند کے پاس رہا کرتی مگر اول تو ہر دم اور ہر حال میں رحم زن نطفہ کو قبول نہیں کرتا دوسرے یہ کہ اختلاف احوال زن بسا اوقات اختلاف زکورت وانوثت اور عقلی اور بےعقلی کا سبب بن جاتا ہے چناچہ جو لوگ دقائق طبیہ اور حقائق موجبات اختلاف امزجہ اولاد سے واقف ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ وقت جماع جو کیفیت والدین اور خصوصا والدہ پر غالب ہوتی ہے وہی کیفیت اولاد کے حق میں خلق اور طبیعت بن جاتی ہے والدین کی کیفیت مزاجی کو اولاد کے اخلاق اور عقل میں داخل تام ہے الغرض بوجہ تفاوت احوال معلومہ یہ ممکن نہیں کہ غلام کی طرح عورت نوبت بنوبت ہر خاوند کے پاس رہا کرے کیونکہ خدمت غلام کوئی امر معین نہیں جو اس کی مقدار تعین نوبت میں ملحوظ رہے اس لیے وہاں وہ زمانہ جس میں خدمت معتد بہ تمام شرکاء کے نزدیک ادا کرسکے معین ہوسکے گا اور عورت میں خدمت فراش یعنی جماع کی مقدار نوبت کی تعین نہایت دشوار ہے علاوہ ازیں مرد میں ہر لحظہ حاجت الی الجماع کا احتمال ہے اور یہ حاجت بدون عورت کے رفع ہونا محال ہے بخلاف غلام کے اگر غلام موجود نہ ہو تو وہ اپنا کاروبار اپنے ہاتھ سے بھی انجام دے سکتا ہے اور جماع میں یہ متصور نہیں تو ان وجوہ سے زوجہ میں شرکت خلاف مصلحت ہوئی ملخص ازاجوبہ اربعین از ص 18 ج 2 تا ص 22 ج 2) ۔ الغرض شریعت نے ان فتنوں کا دروازہ بند کرنے کے لیے ایک عورت کے لیے متعدد مردوں سے نکاح کو ممنوع اور حرام قرار دیا۔
Ayahs 4:5–6دوبارہ تفویض اموال بسوئے مبذرین ومسرفین وحفظ واموال یتامی۔
قال تعالیٰ ولا توتوا السفہاء۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ حسیبا۔ آیت۔
ربط) گزشتہ اوپر کی آیتوں میں اللہ نے یہ حکم دیا تھا کہ یتیموں کے مال جو تمہارے تصرف میں ہیں وہ ان کے حوالے کردو اب اس آیت میں یہ بتلاتے ہیں کہ وہ اموال ان کو کب سپرد کیے جائیں یعنی وجب وہ عاقل وبالغ ہوجائیں اور اپنے مال کی حفاظت کرسکیں اور بیوقوف اور فضول خرچ نہ ہوں چناچہ فرماتے ہیں اور مت دو بیوقوفوں اور بےعقلوں کو اپنے اموال جن کو اللہ نے تمہارے گزران اور قیام معیشت کا ذریعہ بنایا ہے اور تمہاری دینی اور دنیوی مصلحتوں اور ضرورتوں کا بقاء مال پر رکھا ہے گزران معاش اور حج اور جہاد وغیرہ سب مال پر موقوف ہیں اس لیے اس قابل قدر نعمت کو ان بیوقوفوں اور فضول خرچوں کے حوالہ نہ کرو بلکہ اس کو اپنی حفاظت میں رکھو اس حکم سے خدا تعالیٰ کا مقصود یہ ہے کہ یتیموں اور ضعیفوں اور عاجزوں کے مال محفوظ رہیں۔
مفسرین کا اختلاف ہے کہ اس آیت میں سفہاء سے کون لوگ مراد ہیں بعض کہتے ہیں کہ اس سے یتیم اور عورتیں مراد ہیں اور اموالکم سے یتیموں کے اموال مراد ہیں چونکہ یہ اموال اولیاء کے تصرف میں ہیں اس لیے مخاطبین کی طرف مضاف کیے گئے گویا کہ وہ ایک طرح پر تمہارے ہی مال ہیں اشارہ اس طرف ہے کہ یتیموں کے مالوں کو اپنا مال سمجھ اور عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن مسعود وغیرہ کی رائے یہ ہے کہ سفہاء سے مخاطبین کے بچے اور عورتیں مراد ہیں اور مطلب آیت کا یہ ہے کہ مال حق تعالیٰ کی نعمت ہے جو تمہارا ذریعہ معاش ہے ایسا مت کرو کہ اپنا مال بیوی اور بچوں کو دے کر خالی ہاتھ ہوجاؤ اور پھر ان کے دست نگر ہوجاؤ جس کی بیوی اور بچے بدسلیقہ ہوں تو ان کے ہاتھ میں خرچ نہ دینے کے لیے یہ آیت اتری ہے اور بعض کی رائے یہ ہے کہ تخصیص کسی کی نہیں سفہاء سے ہر وہ بیوقوف مراد ہے جس کو اپنے مال کی حفاظت کا سلیقہ نہ ہو اور جو شخص بےوقوفی سے مال کو ضائع اور برباد کردے وہی سفیہ ہے خواہ وہ یتیم ہو اور خواہ اپنی بیوی اور بچے ہوں اور ان کو انہی مالوں میں سے کھلاؤ اور پہناؤ اور ان کی تسلی کے لیے ان سے معقول اور نیک بات کہہ دو کہ تم گھبراؤ نہیں یہ مال تمہارا ہی ہے چونکہ فی الحال تم ناسمجھ ہو اس لیے تمہارے ہاتھ میں نہیں دیا جب سمجھدار ہوجاؤ گے تو تمہاری امانت تمہارے حوالہ کردی جائے گی اور مال سپرد کرنے سے پہلے ان یتیموں کی ہوشیاری کا امتحان کرو کہ وقتا فوقتا تھوڑا تھوڑا مال ان کو دیا کرو اور ان کے ذریعہ کچھ خرید وفروخت کیا کرو تاکہ ان کی ہوشیاری اور سلیقہ کا اندازہ ہوجائے یہاں تک کہ جب وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں پس اگر تم ان میں ایک گونہ ہوشیاری اور حسن تدبیر کو دیکھو کہ اب ان کو اتنا سلیقہ آگیا ہے کہ اپنے مال کی حفاظت کرسکیں تو پھر ان کے اموال ان کے عاقل وبالغ ہوتے ہی بلاتاخیر ان کے حوالہ کردو رشد اور صلاحیت کے بعد تاخیر نہ کرو۔
مسئلہ۔ اللہ کے اس ارشاد ولا توتوالسفہاء سے بظاہر یہ مفہوم ہوتا ہے کہ بیوقوفوں کو جب تک ان کی بےوقوفی، زائل ہو اور رشد کو پہنچیں تو ان کا مال ان کے حوالے نہ کیا جائے اگرچہ وہ سو برس کے بوڑھے ہوجائیں۔ امام شافعی اور جمہور علماء کی یہی رائے ہے مگر امام اعظم ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ کی رائے یہ ہے کہ پچیس سال تک کا اتنظار کرو اس درمیان اگر اس کو سمجھ آجائے تو مال اس کے حوالہ کردو ورنہ جب پچیس سال کی عمر ہوجائے تو ہر حال میں اس کا مال اس کے حوالے کردو پوری سمجھ آئے یا نہ آئے ورجہ کیا سری عمر ہی نابالغ رہے گا اور کیا بوڑھا ہو کر بھی پیر نابالغ ہی کہلائے گا۔ حضرت عمر سے منقول ہے کہ مرد کی عقل پچیس سال میں اپنی انتہاء کو پہنچ جاتی ہے لہذآ جب کمال عقل اور تمام رشد کا زمانہ گزر گیا تو اب آئندہ کے لیے کوئی امید باقی نہیں رہی لہذا جب اس کو محروم نہ رکھنا چاہیے آیت قرآنی میں رشدا تنکیر کے ساتھ آیا ہے معلوم ہوا کہ مال حوالہ کرنے کے لیے ایک نوع کارشد کافی ہے یعنی اتنا رشد آجائے کہ سفاہت اور زمانہ طفولیت کا اثر یعنی لاابالیت نہ رہے تو پھر ان کا مال ان کے حوالہ کردیا جائے تفویض مال کے لیے کمال رشد اور تمام فراست ضروری نہیں پچیس سال کی عمر میں مرد دادا بن سکتا ہے کیونکہ ادنی مدت بلوغ کی مرد کے حق میں بارہ سال ہے اور عورت کے حق میں ادنی مدت حمل کی چھ ماہ ہے پس اگر کوئی لڑکا بارہ سال کی عمر میں بالغ ہوجائے اور اسی وقت اس کا نکاح کردیا جائے اور چھ ماہ کے بعد اس کے بھی ایک لڑکا پیدا ہوجائے تو اس وقت پہلے باپ کی عمر پچیس سال کی ہوگی جو اس لڑکے کا دادا ہوگا اب اگر دادا ہونے کے بعد بھی عقل نہ آئے تو آخر کہاں تک رشد کا انتظار کریں بہتر یہی ہے کہ اس کا مال اس کے حوالے کردیں۔
حکم پنجم۔ اور مت کھاؤ یتیموں کا مال فضول خرچی سے اور اس خوف سے کہ وہ یتیم جب بڑے ہوجائیں گے تو ان کا مال ان کے حوالہ کرنا پڑے گا اور وہ خود اپنے اموال پر قابض اور متصرف ہوجائیں گے اور ہمارا اختیار جاتا رہے گا لہذا جلدی کرکے ان کے بڑے ہوے سے پہلے ہی جتنا کھا سکو وہ کھالو اللہ نے اس اسراف اور مبادرت کی ممانعت کردی کہ ایسا ہرگز نہ کرو اور بلکہ تم کو یہ چاہیے کہ جو یتیم کا ولی وار سرپرست توانگر ہو یعنی اس کے پاس بقدر کفایت موجود ہو اور یتیم کے مال کی اسے حاجت نہ ہو تو اس کو چاہیے کہ یتیم کا مال لینے سے بالکل احتراز کرے اور جو حاجت مند اور ضرورت مند ہو تو اس کو اجازت ہے کہ دستور کے مطابق کھالیوے یعنی یتیم کا پرورش کرنے والا اگر حاجت مند ہو تو یتیم کے مال سے صرف اس قدر لے لے جس قدر اس کی خدمت کا عرف میں حق ہے دستور کے مطابق جس قدر اس کام کی اجرت ہوتی ہے صرف اسی قدر لے لے اور اگر مستغنی ہے تو کچھ نہ لے پھر جب ان کے بالغ ہونے کے بعد ان کے اموال ان کے حوالہ کردو تو مال سپرد کرتے وقت ان پر گواہ کرلیا کرو تاکہ تم حسن اسلوب کے ساتھ بری لذمہ ہوجاؤ اور آئندہ کے لیے تہمت اور بدگمانی اور نزاع اور اختلاف سے بچ جاؤ اور اللہ کافی ہے حساب لینے والا یعنی اگر ولی نے یا گواہوں نے کسی قسم کی خیانت کی ہے تو اللہ ان کے ظاہر و باطن سے خبردار ہے وہ ان سے حساب لے گا۔
مسئلہ۔ یتیم کو گواہوں کے سامنے مال سپرد کرنا مالکیہ اور شافعیہ کے نزدیک واجب ہے اور حنفیہ کے نزدیک مستحب ہے یعنی گواہ کرنا اولی اور افضل ہے واجب نہیں۔
Ayah 4:7حکم ششم دربارہ حقوق ورثہ درترکہ
قال تعالیٰ للرجال نصیب مماترک الولدان۔۔۔ الی۔۔۔۔ مفروضا۔
گزشتہ آیت میں یتیموں کے ناحق مال کھانے کا حکم تھا اب اس آیت میں وارثوں کی حق تلفی کا ذکر ہے جاہلیت کے زمانہ میں یہ رسم تھی کہ بیٹیوں کو اگرچہ وہ بالغ ہوں اور نابالغ بچوں کو میت کے مال سے حصہ نہیں دیا جاتا تھا صرف مردوں کو جو بڑے ہوں اور دشمنوں سے مقابلہ اور مقاتلہ کرسکتے ہوں ان کو میراث میں سے حصہ ملتا تھا اس پر یہ آیت اتری مردوں کے لیے بھی حصہ ہے اس میں سے کہ جو ماں باپ اور رشتہ دارچھوڑ مرے ہیں خواہ وہ مال تھوڑا ہو یا بہت ہو یہ حصہ اللہ کا مقرر کردہ ہے جس کا حق داروں کو دینا واجب ہے اس میں اس میں کمی اور زیادتی جائز نہیں یہ اللہ کا مقرر کردہ حصہ ہے یہ نہیں کہ تم جس قدر چاہو دے دو اس آیت کے نازل کرنے سے زمانہ جاہلیت کی رسم کو توڑنا مقصود ہے کہ وہ لوگ عورتوں اور اولاد صنعاء کو مستحق میراث نہیں سجھتے تھے ان کا عقیدہ یہ تھا کہ میراث کے مستحق صرف مرد ہیں اور مرد بھی وہ جو دشمن کا مقابلہ کرسکیں۔ اللہ نے اس آیت کو نازل فرما کر یہ بتلا دیا کہ مال متروکہ میں مردوں اور عورتوں دونوں کا حصہ ہے مردوں کی کچھ تخصیص نہیں لیکن جو اللہ نے اس آیت میں حصہ کی مقدار نہیں بیان فرمائی یہاں صرف استحقاق حصہ میراث کو بیان فرمایا وارثوں کے حصوں کی تفصیل آئندہ رکوع میں آتی ہے جس میں اولاد اور والدین اور بیوی اور شوہر سب کا حصہ مقرر فرمادیا بلکہ یہ آیت آئندہ آیت یوصیکم اللہ کی تمہید ہے اولا اجمالا استحقاق میراث کا بیان فرمایا اور ثانیا حصص میراث کی تفصیل فرمائی۔
Ayahs 4:8–9حکم ہفتم مراعاۃ غیر مستحقین میراث بوقت تقسیم ترکہ۔
قال تعالیٰ واذا حضرالقسمۃ۔۔۔۔ الی۔۔۔ سدیدا۔
ربط) گزشتہ آیت میں حق داران میراث اور مستحقین ترکہ کا بیان تھا اب اس آیت میں غیر مستحقین میراث کے ساتھ ایک قسم کے سلوک اور احسان کا حکم ہے اور جب تقسیم میراث کے وقت ایسے غریب رشتہ دار بھی حاضر ہوجائیں جن کا میراث میں کوئی حق نہیں اور یتیم اور فقیر بھی اس وقت اس پر امید جمع ہوجائیں کہ شاید اس موقع پر اہل خیر ہمیں کچھ خیرات دے دیں تو تم ان کو تبرعا بالغوں کے حصہ میں سے کچھ دے دیا کرو اگر ورثہ یتیم اور نابالغ ہوں تو ان غرباء اور مساکین سے معقول اور نرم بات کہہ کر ان کو رخصت کردو یعنی نرمی سے یہ عذر کردو کہ یہ مال یتیموں کا ہے ہم اس کے مالک نہیں اس لیے ہم مجبورا اور معذور ہیں مطلب یہ ہے کہ سختی سے جواب نہ دیں بلکہ نرمی سے عذر کرو۔
مسئلہ۔ جمہور علماء کے نزدیک یہ حکم استحبابی ہے اور مقصود اس حکم سے حسن ادب کی تعلیم ہے کہ یہ مال میراث جو تقسیم ہو رہا ہے ایک خدائی عطیہ ہے جو اللہ نے محض اپنی مہربانی سے وارثوں کو بلا محنت اور بلا مشقت عطا کیا ہے لہذا مناسب یہ ہے کہ ایسے موقع پر بطور شفقت ومرحمت اپنے غریب رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں کو بھی بطور تبرع اور خیرات کچھ دے دیں تاکہ ان کی دل شکنی نہ ہو اور بعض علماء کے نزدیک یہ حکم وجوبی ہے جو ابتداء میں واجب تھا بعد میں منسوخ ہوگیا۔ اب آئندہ آیت میں اسی رعایت اور شفقت کی تاکید اور تقویت کے لیے ارشاد فرماتے ہیں اور چاہیے کہ اللہ سے ڈریں اور وہ لوگ کہ اگر وہ اپنے پیچھے ناتواں اولاد چھوڑ جائیں تو ان بچوں کے ضائع ہونے کا ان کو خوف اور خطرہ ہو پس ان کو چاہیے کہ اللہ سے ڈریں یعنی یتیموں اور مسکینوں کی دل آزاری سے بچیں اور زبان سے کہیں سیدھی بات کہ جس سے ان کی تسلی ہوجائے مطلب یہ ہے کہ دوسرے یتیم کے ساتھ وہ معاملہ کرو جو اپنے بعد اپنی اولاد کے لیے پسند کرتے ہو۔
Ayah 4:10تتمہ حکم سابق۔
تحقیق جو لوگ ناحق یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں جزایں نیست وہ یہ مال کھا کر اپنے پیٹوں میں آگ بھر رہے ہیں اور البتہ ضرور داخل ہوں گے دھکتی ہوئی آگ میں یعنی اللہ تعالیٰ ان کو یتیموں کا ناحق مال کھانے کی سزا میں آگ کھلائے گا اور یہ شخص قیامت کے دن قبر سے اس طرح اٹھے گا کہ اس کے منہ اور کانوں اور آنکھوں سے آگ کے شعلے نکلتے ہوں گے جو شخص بھی اس کو دیکھے گا وہ اس علامت سے پہچان لے گا کہ یہ ناحق یتیم کا مال کھانے والا ہے۔