4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsمعارف القرآن

Ayah 4:159

وَ اِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكُوْنُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًاۚ Open ayah 4:159 in the Quran reader

اور کوئی اہل کتاب نہیں ہوگا مگر انکی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئے گا اور وہ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوں کے۔

نزول عیسیٰ (علیہ السلام) ، یعنی ان کے نزول جسمانی اور آمدثانی کی خبر بہجت اثر۔ قال تعالی، وان من اھل الکتاب الالیومنن۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ شھیدا۔ یہاں تک اللہ تعالیٰ نے یہود کے قبائح اور فضائح کو بیان کیا اور یہ بتلایا کہ یہود حضرت مسیح کے ساتھ جس ذلت و خواری کا ارادہ رکھتے تھے اس میں وہ سراسر ناکام رہے بجائے ذلت و خواری کے اللہ نے ان کو بےمثال عزت و رفعت عطا فرمائی کہ ان کو صحیح سالم زندہ آسمان پر اٹھا لیا اب آئندہ آیات میں حضرت عیسیٰ کی ایک اور بڑی عزت کی خبر دیتے ہیں جو ان کو قیامت کے قریب حاصل ہوگی یعنی ان کے نزول جسمانی اور آمد ثانی کی خبردیتے ہیں وہ یہ کہ حضرت عیسیٰ اخیر زمانہ میں قیامت کے قریب خاص شان کے ساتھ آسمان سے نازل ہوں گے اور اس وقت اہل کتاب میں سے کوئی شخص ایسا باقی نہ رہے گا جو حضرت عیسیٰ پر حضرت عیسیٰ کے مرنے سے پہلے ایمان نہ لے آئے یعنی حضرت عیسیٰ ابھی آسمان میں زندہ موجود ہیں اور قیامت کے قریب جب یہود مسیح دجال ظاہر ہوگا اس وقت عیسیٰ بن مریم آسمان سے اتریں گے اور اترنے کے بعد مسیح دجال کو قتل کریں گے اس وقت یہود ونصاری حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت پر ایمان لے آئیں گے اور سب پر صحیح حقیقت واضح ہوجائے گی کہ عیسیٰ (علیہ السلام) خدا اور خدا کے بیٹے نہیں بلکہ اللہ کے برگزیدہ بندہ اور رسول برحق ہیں اور زندہ ہیں مرے نہیں اور یہود جو یہ سمجھتے تھے کہ ہم نے ان کو مار ڈالا وہ بالکل غلط تھا وہ تو خدا کے پاس زندہ تھے یہ دیکھ کر یہود تو اپنی دشمنی اور عداوت سے تائب ہوجائیں گے اور نصاری عقیدہ ابنیت سے تائب ہوجائیں گے اور سب اہل کتاب اس بات پر ایمان لے آئیں گے کہ قرآن و حدیث نے جو حضرت عیسیٰ کے زندہ آسمان پر اٹھائے جانے کی اور قیامت کے قریب آسمان سے زندہ نازل ہونے کی خبر دی تھی وہ بالکل حق اور صدق تھی۔ (ف) ۔ اس آیت میں قبل موتہ کا لفظ اس امر کی قطعی دلیل ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) ابھی فوت نہیں ہوئے بلکہ زندہ ہیں جیسا کہ حسن بصری سے مرسلا روایت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تحقیق عیسیٰ (علیہ السلام) ابھی تک مرے نہیں اور وہ قیامت کے قریب تمہاری طرف واپس آنے والے ہیں۔ نازل ہونے کے بعد جب سب اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے تب اس کے بعد ان کی وفات ہوگی حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں یہ آیت یعنی وان من اھل الکتاب، باعتبار مضمون کے دوسری آیت، وانہ لعلم للساعۃ کے مشابہ ہے یعنی جس طرح وانہ لعلم للساعۃ میں نزول عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف اشارہ ہے (تفسیر ابن کثیر ص 583 ج 1) ۔ اور قیامت کے دن عیسیٰ ان پر گواہ ہوں گے یعنی قیامت کے دن حضرت عیسیٰ یہود ونصاری دونوں کے برخلاف گواہی دیں گے یہود کی نسبت یہ کہیں گے کہ انہوں نے میری تکذیب کی اور نصاری کے نسبت یہ کہیں گے انہوں نے میرے حکم کے خلاف مجھے خدا اور خدا کا بیٹا بنایا اور شرک میں مبتلا ہوئے حالانکہ میں نے ان سے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ میں خدا کا بندہ اور رسول ہوں صرف خدا کی عبادت کرو اور بحق رسالت میری اطاعت کرو یہی سیدہا راستہ ہے مگر انہوں نے میری نصیحت نہیں سنی اور اے خداوند عالم میں ان سے بری ہوں۔ ان تعذبھم فانھم عبادک۔۔۔ الی۔۔۔ حکیم۔ (اقوال مفسرین) ۔ اس آیت میں وان من اھل الکتاب الا لیومنن بہ۔ الخ۔ کی تفسیر میں صحابہ وتابعین اور علماء مفسرین کے دو قول ہیں ایک قول تو یہ ہے کہ لیومنن کی ضمیر تو کتابی کی طرف راجع ہے اور بہ اور قبل موتہ کی دونوں ضمیریں عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف راجع ہیں اس صورت میں آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ زمانہ آئندہ میں جب عیسیٰ (علیہ السلام) آسمان سے نازل ہوں گے اس وقت اہل کتاب میں سے کوئی شخص ایسا نہ رہے گا جو حضرت عیسیٰ پر حضرت عیسیٰ کے مرنے سے پہلے ایمان نہ لے آئے پس اس ایت میں اہل کتاب سے اس زمانہ کے اہل کتاب مراد ہوں گے جو حضرت عیسیٰ کے نزول من السماء کے وقت موجود ہوں گے۔ اور عبداللہ بن عباس سے باسناد صحیح یہی منقول ہے کہ بہ اور قبل موتہ کی ضمیریں حضرت عیسیٰ کی طرف راجع ہیں چناچہ حافظ عسقلانی شرح بخاری میں فرماتے ہیں، اور ابن عباس نے اسی کا جزم اور یقین کیا ہے جیسا کہ ابن جریر نے ابن عباس باسناد صحیح اس کو روایت کیا ہے اور حسن بصری سے مروی ہے کہ قبل موتہ سے قبل موت عیسیٰ مراد ہے حسن بصری فرماتے ہیں خدا کی قسم عیسیٰ (علیہ السلام) ابھی زندہ ہیں جب آسمان سے نازل ہوں گے اس وقت سب اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے اور یہی تفسیر اکثر اہل علم سے منقول ہے اور اس کو امام ابن جریر نے راجح قرار دیا ہے۔ امام ابن جریر ص 14 ج 6 میں فرماتے ہیں کہ قتادہ اور ابومالک سے بھی یہی منقول ہے کہ قبل موتہ کی ضمیر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے نیز صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی ایک حدیث سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ بہ اور قبل موتہ کی ضمیریں عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف راجع ہیں۔ ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے بیشک عنقریب تم میں عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے درآنحالیکہ وہ فیصلہ کرنے والے اور انصاف کرنے والے ہوں گے صلیب کو توڑ دیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور لڑائی کو ختم کردیں گے اور مال کو پانی کی طرح بہا دیں گے یہاں تک کہ کوئی مال کا قبول کرنے والا نہ ہوگا اور اس وقت ایک سجدہ دنیا ومافیھا سے بہتر ہوگا پھر اس حدیث کو بیان کرکے ابوہریرہ یہ کہتے ہیں کہ اگر قرآن سے اس حدیث کے مضمون کی تصدیق چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھ لو، وان من اھل الکتاب۔ الخ۔ حافظ عسقلانی اس حدیث کی شرح فرماتے ہیں کہ روایت حدیث کے بعد ابوہریرہ کا اس آیت کو حدیث کی تصدیق کے لیے پڑھنا اس امر کی دلیل ہے کہ آیت میں بہ اور موتہ کی دونوں ضمیریں عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف راجع ہیں یعنی ہر شخص زمانہ آئندہ میں حضرت عیسیٰ کی موت سے پہلے حضرت عیسیٰ پر ضرور ایمان لے آئے گا۔ (قول ثانی) ۔ آیت کی تفسیر میں دوسرا قول یہ ہے کہ بہ کی ضمیر تو عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے لیکن قبل موتہ کی ضمیر کتابی کی طرف راجع ہے اور ابی بن کعب کی قرات وان من اھل الکتاب الا لیومنن بہ قبل موتھم۔ اس معنی کی موید ہے اس لیے کہ اس قرات میں بجائے قبل موتہ کے قبل موتھم بصیغہ جمع آیا ہے جو صراحۃ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ قبل موتھم کی ضمیر اہل کتاب کی طرف راجع ہے لہذا اسی طرف دوسری قرات میں بھی قبل موتہ کی ضمیر کتابی کی طرف راجع ہونی چاہیے تاکہ دونوں قراتیں متفق ہوجائیں حافظ عقلانی نے فتح الباری میں فرمایا کہ علماء کی ایک جماعت ابی بن کعب کی قرات کی بناء پر اس دوسرے قول کو ترجیح دی ہے کہ موتہ کی ضمیر کتابی کی طرف راجع کی جائے۔ انتہی۔ اس قول کی بناء پر آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ اہل کتاب میں سے کوئی شخص ایسا نہیں جو اپنے مرنے سے پہلے حضرت عیسیٰ کی نبوت و رسالت اور ان کی عبدیت پر ایمان نہ لے آتا ہو یعنی جب وہ قریب المرگ ہوتا ہے اور علامات موت اس پر ظاہر ہوتی ہیں تو اس وقت اس پر حقیقت حال منکشف ہوجاتی ہے اور اس وقت حضرت عیسیٰ پر صحیح ایمان لے آتا ہے کہ بیشک وہ خدا کے برگزیدہ بندے اور رسول برحق تھے معاذ اللہ نہ وہ مفتری اور کذاب تھے اور نہ خدا اور خدا کا بیٹا تھا مگر اس وقت کا ایمان بےسود اور بےفائدہ ہے، کما قال تعالیٰ ولیست التوبۃ للذین۔۔۔۔ الی۔۔۔ تبت الان۔ آیت۔ یہودی کے پاس جب ملائکہ الموت آتے ہیں تو اس کے مہن او سرین پر درے مارتے ہیں کہ اے عدو اللہ تیرے پاس عیسیٰ روح اللہ آئے اور تو نے ان کی تکذیب کی اور ان کے قتل کے درپے ہو اس وقت یہودی ایمان لے آتا ہے کہ بیشک عیسیٰ بن مریم خدا کے رسول برحق تھے اور نصرانی کو ملائکہ الموت یہ کہتے ہیں کہ اے عدو اللہ تیرے پاس اللہ کے بندے اور رسول عیسیٰ بن مریم آئے تو تو نے ان کو خدا کا بیٹا بنادیا اور اس وقت وہ ایمان لے آتا ہے کہ بیشک عیسیٰ بن مریم خدا کے بندہ اور رسول برحق تھے اور خدا نے تھے۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ جب یہودی نصرانی اپنی حیات سے بالکل ناامید ہوجاتا ہے اور اس کی جان نکلنے لگتی ہے تو وہ اس وقت حضرت عیسیٰ کے عبداللہ اور رسول ہونے پر ایمان لے آتا ہے خواہ آگ میں جل کر مرے یا پہاڑ سے گر کر یا اور کسی طرح سے غرض جان کندنی کے وقت ہر ایک کتابی حضرت عیسیٰ پر ایمان لے آتا ہے اور مقصود اس خبر دینے سے یہود اور نصاری کو شرم دلانا ہے کہ اے یہود ونصاری جب تم مرو گے تو مرتے وقت چار وناچار حضرت عیسیٰ پر قرآن کی تعلیم کے مطابق ایمان لانا ہی پڑے گا تو بہتریہی ہے کہ پہلے ہی ایمان لے آؤ تاکہ تمہیں اس ایمان سے فائدہ ہو ورنہ مرتے وقت کا ایمان بےکار ہے۔ اس قول کی بناء پر آیت میں اہل کتاب سے ہر زمانہ کے تمام اہل کتاب مراد ہوں گے بخلاف پہلے قول کے کہ اس کے مطابق آیت میں اہل کتاب سے وہی اہل کتاب مراد ہوں گے جو حضرت عیسیٰ کے نزول کے زمانہ میں موجود ہوں گے۔ ترجیح ارحج وتصحیح اصح) ۔ جمہور سلف اور خلف کے نزدیک آیت کی تفسیر میں پہلا ہی قول راجح ہے اور اصح ہے اور احادیث نزول عیسیٰ جو حد تواتر کو پہنچتی ہیں وہ اسی کی موید ہیں اور اسی قول کو امام ابن جریر اور حافظ ابن کثیر نے راجح اور مختار قرار دیا ہے اور دوسرا قول ضعیف ہے اس لیے کہ اس کا دارمدار ابی بن کعب کی قرات شاذہ پر ہے جو کسی صحیح یا حسن سند سے ثابت نہیں بلکہ اس کی سند کے راوی ضعیف اور مجروح ہیں۔ واللہ اعلم۔ تطبیق وتوفیق) ۔ جاننا چاہیے کہ دو قراتیں دو مستقل آیتوں کا حکم رکھتی ہیں ابی ابن کعب کی قرات سے ہر کتابی کا اپنے مرنے سے پہلے حضرت عیسیٰ کی عبدیت اور رسالت پر ایمان لانا معلوم ہوتا ہے اور قرات متواترہ میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ زمانہ آئندہ میں تمام اہل کتاب حضرت عیسیٰ کی موت سے پہلے حضرت عیسیٰ پر ضرور ایمان لے آئیں گے ان دونوں قراتوں میں کوئی تعارض نہیں دونوں حق ہیں ہرا یک قرات بمنزلہ مستقل آیت کے ہے قرات متواترہ میں حضرت عیسیٰ کی حیات اور نزول کا ذکر ہے اور اہل کتاب کے اس ایمان کا ذکر ہے جو وہ نزول کے بعد حضرت عیسیٰ پر ان کی موت سے پہلے صحیح ایمان لائیں گے اور ابی بن کعب کی قرات شاذ میں حضرت مسیح کی نہ حیات کا ذکر ہے اور نہ نزول کا اور نہ موت اور کا نہ وفات کا ذکر ہے صرف اہل کتاب کے اس ایمان کا ذکر ہے جو کہ اہل کتاب اپنی روح سے نکلتے وقت لاتے ہیں غرض یہ کہ ہر قرات میں ایک جداواقعہ کا ذکر ہے جیسا کہ الم غلبت الروم۔ میں دو قرآتیں ایک قرات غلبت بصیغہ ماضی معروف اور ایک قرات بصیغہ مجہول اور ہر قرات میں علیحدہ علیحدہ واقعہ کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ کتب تفسیر میں مذکور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جن حضرات صحابہ وتابعین سے یہ قرات شاذہ منقول ہے وہ سب کے سب بالاتفاق حضرت مسیح کے بحسدہ العنصری زندہ آسمان پر اٹھائے جانے اور قیامت کے قریب آسمان سے نازل ہونے کے بھی قائل ہیں چناچہ تفسیر در منثور میں ام المومنین ام سلمہ ؓ اور محمد بن الحنفیہ سے مروی ہے کہ جو لوگ حضرت مسیح کے نزول سے پہلے مریں گے اور وہ لوگ اپنی موت سے پہلے حضرت مسیح پر ایمان لاتے رہیں گے اور جو اہل کتاب حضرت مسیح کے زمانہ نزول کو پائیں گے وہ تمام کے تمام عیسیٰ پر حضرت عیسیٰ کی موت سے پہلے ضرور ایمان لے آئیں گے لہذا ابی بن کعب کی قرات نزول عیسیٰ سے پہلے مرنے والے اہل کتاب کے حق میں ہے اور قرات متواترہ ان اہل کتاب کے حق میں ہے جو نزول کے بعد حضرت عیسیٰ کی موت سے پہلے حضرت مسیح پر ایمان لائیں گے دونوں میں کوئی تعارض نہیں۔ در منثور ص 241 ج 2) اور عقیدۃ الاسلام ص 209 طبع جدید) ۔ پھر یہ کہ جو اہل کتاب اپنے مرنے سے پہلے ایمان لاتے ہیں وہ بھی ایمان لاتے ہیں کہ عیسیٰ ابھی فوت نہیں ہوئے بلکہ زندہ صحیح وسالم آسمان پر اٹھا لیے گئے ہیں جیسا کہ روایت ذیل سے معلوم ہوتا ہے۔ امام عبداللہ بن حمید اور امام ابن منذر نے شہر بن حوشب سے روایت کیا ہے کہ محمد بن حنفیہ (حضرت علی کے صاحبزادے) آیت وان من اھل الکتاب کی اس طرح تفسیر فرماتے ہیں کہ نہیں ہے کوئی شخص اہل کتاب میں سے مگر آتے ہیں فرشتے اس کی موت کے وقت اور خوب مارتے ہیں اس کے چہرے پر اور سرین پر اور کہتے ہیں کہ اے اللہ کے دشمن بیشک عیسیٰ اللہ کی خاص روح ہیں اور اس کا کلمہ ہیں تو نے اللہ پر جھوٹ بولا اور یہ گمان کیا کہ عیسیٰ خود خدا ہیں خوب سمجھ لے تحقیق بلاشبہ عیسیٰ ابھی نہیں مرے بلکہ زندہ ہیں اور تحقیق وہ آسمان کی طرف اٹھائے گئے اور وہ قیامت سے پہلے آسمان سے نازل ہوں گے پس اس وقت کوئی یہودی اور نصرانی ایسا نہ رہے گا جو حضرت مسیح پر ایمان نہ لے آئے۔ امام ابن جریر اور ابن کثیر فرماتے ہیں کہ جب موت انسان کے سر پر آتی ہے تو حق اور باطل کا فرق واضح ہوجاتا ہے جب تک دین حق اور دین باطل کا امتیاز نہ ہوجائے اس وقت تک روح نہیں نکلتی اسی طرح کتابی پر مرنے سے پہلے حضرت عیسیٰ کے بارے میں اس پر حق واضح ہوجاتا ہے کہ وہ خدا کے بندہ اور رسول برحق تھے معاذ اللہ خدا اور خدا کے بیٹے نہیں تھے جیسا کہ نصاری کہتے ہیں کہ اور نہ وہ مقتول ومصلوب ہوئے جیسا کہ یہود کہتے ہیں بلکہ وہ زندہ آسمان پر اٹھائے اور قیامت کے قریب آسمان سے نازل ہوں گے۔
Ayahs 4:160–162

فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ طَیِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَهُمْ وَ بِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَثِیْرًاۙ Open ayah 4:160 in the Quran reader

تو ہم نے یہودیوں کے ظلموں کے سبب (بہت سی) پاکیزہ چیزیں جو ان کو حلال تھیں ان کو حرام کردیں اور اس سبب سے بھی کہ وہ اکثر خدا کے راستے سے (لوگوں کو) روکتے تھے۔

وَّ اَخْذِهِمُ الرِّبٰوا وَ قَدْ نُهُوْا عَنْهُ وَ اَكْلِهِمْ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 4:161 in the Quran reader

اور اس سبب سے بھی کہ باوجود منع کئے جانے کے سود لیتے تھے اور اس سبب سے بھی کہ لوگوں کا مال ناحق کھاتے تھے اور ان میں سے جو کافر ہیں ان کے لئے ہم نے درد دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

لٰكِنِ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ مِنْهُمْ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَ الْمُقِیْمِیْنَ الصَّلٰوةَ وَ الْمُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ سَنُؤْتِیْهِمْ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 4:162 in the Quran reader

مگر جو لوگ ان میں سے علم میں پکے ہیں اور جو مومن ہیں وہ اس (کتاب) پر جو تم پر نازل ہوئی اور جو (کتابیں) تم سے پہلے نازل ہوئیں (سب پر) ایمان رکھتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور خدا اور روز آخرت کو مانتے ہیں۔ ان کو ہم عنقریب اجر عظیم دیں گے۔

تتمہ ذمائم یہود۔ قال اللہ تعالی، فبظلم من الذین۔۔۔ الی۔۔۔ عظیما۔ گزشتہ آیات میں یہود کی نافرمانیوں اور سرکشیوں کو بیان فرمایا اور اب ان آیات میں بھی ان کی چند نافرمانیوں اور سرکشیوں کا ذکر کرتے ہیں مثلا سود کھانا اور رشوت لینا اور خدا کی راہ سے روکنا اور لوگوں کا مال ناحق اپنے تصرف میں لانا اور ان شرارتوں کے علاوہ ان بعض عقوبتوں اور سزاؤں کا بھی ذکر کرتے ہیں کہ جو دنیا میں ان پر نازل ہوئیں من جملہ ان سزاؤں میں سے ایک سزایہ تھی کہ بہت سی حلال چیزیں ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان پر حرام کردی گئیں جیسا کہ سورة انعام کی آیت میں اس کی تفصیل ہے، وعلی الذین ھادوا۔۔۔ الی۔۔۔ لصادقون۔ آیت۔ یعنی ان پر حلال چیزوں کے حرام ہونے کی علت وہی ان کی سرکشی اور ظلم اور زیادتی اور سود خوری اور رشوت ستانی وغیرہ وغیرہ ہے رہا یہ امر کہ یہ چیزیں کس زمانہ میں اور کسی نبی کے عہد میں یہود پر حرام ہوئیں سو کتب تفسیر میں اس کی تصریح نہیں غالبا یہ چیزیں حضرت موسیٰ کے بعد مختلف زمانوں میں حرام ہوئیں جیسے جیسے یہود کی شرارت بڑھتی گئی حرام ہوتی گئیں۔ واللہ اعلم پس خلاصہ کلام یہ کہ یہودیوں کے عظیم ظلم اور زیادتی کی وجہ سے جس کی کچھ تفصیل پہلے بیان کی جاچکی ہے اور کچھ آئندہ آتی ہے ہم نے ان پر وہ پاکیزہ چیزیں حرام کردیں جو پہلے ان کے لیے حلال کی گئی تھیں یعنی جب یہود کے ظلم و زیادتی اور عناد اور سرکشی کی کوئی حد نہ رہی تو اللہ نے ان کو یہ سزا دی کہ جو چیزیں پاک اور حلال تھیں وہ ان پر حرام کردیں تاکہ رزق کا دائرہ تنگ ہوجائے اور ان کی سرکشی ٹوٹے اور بسبب ان کے روکنے کے خدا کی راہ سے بہتوں کو یعنی ہم نے ان پر پاک چیزوں کو ان کے ظلم کے سبب سے حرام کیا اور نیز اس لیے بھی حرام کیا کہ وہ بہتوں کو خدا کی راہ سے روکتے تھے اور بسبب ان کے سود لینے کے حالانکہ ان کو اس کی ممانعت کی گئی تھی اور بسبب اس کے کہ وہ لوگوں کا مال ناحق کھالیتے تھے اور ان وجوہ کی بناء پر ہم نے حلال چیزیں ان پر حرام کردیں یہ تو دنیا کی سزا تھی اور آخرت میں ہم نے ان کے لیے جو انمیں سے کافر ہیں دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے پس عام حالت تو اہل کتاب کی یہی ہے جو بیان کی گئی لیکن ان میں سے جو علم میں پختہ اور مضبوط ہیں جیسے عبداللہ بن سلام اور ان کے رفقاء جن کی ان بشارتوں پر نظر ہے جو انبیاء سابقین نے نبی آخر الزمان کے ظہور کی دی ہیں سو یہ لوگ اور دیگر مسلمان ایمان لاتے ہیں اس کتاب پر جو آپ کی طرف اتاری گئی اور اس کتاب پر بھی جو آپ سے پہلے اتاری گئی اور خاص کر وہ لوگ جو نماز کو قائم رکھتے ہیں اور وہ قابل صد آفرین ہیں اور وہ لوگ جو زکوٰۃ دیتے ہیں وہ بھی اس پر ایمان لاتے ہیں اور جو آپ پر اترا ہے اور آپ سے پہلے نبیوں پر جو اترا ہے اور وہ لوگ جو ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور پچھلے دن پر یعنی اللہ کی واحدانیت پر قیامت کی تصدیق کرنے والے ہیں اور امبداء اور معاد کو امانتے ہیں یہ بھی اس چیز پر جو آپ پر اور پچھلے پیغمبروں پر اتری ہے ایمان لاتے ہیں ایسے لوگوں کو ہم ضرور اجر عظیم دیں گے جو ان کے وہم گمان سے کہیں بالا ہوگا۔ (ف 1) والمقمین الصلاۃ پر یہ شبہ ہوتا ہے کہ قواعد نحویہ کے مطابق والمقیمون ہونا چاہیے تھا کیونکہ معطوف علیہ مرفوع ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جب چند مرفوعات کا بطور عطف ذکر ہوتا ہے اور ان میں سے ایک چیز سب سے اشرف ہوتی ہے تو اہل عرب اس کو اپنے کلام میں بطور مداح یا بطور اختصاص منصوب لاتے ہیں جو امدح یا اخص ہوتا ہے اسی قاعدہ کے مطابق اس جگہ والمقین منصوب لایا گیا اور مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں میں اوصاف مذکورہ پائے جاتے ہیں اگرچہ وہ اوصاف سب کے سب نہایت عمدہ ہیں مگر نماز ان میں سے خصوصیت سے قابل ذکر ہے اور اس وجہ سے شاہ عبدالقادر نے والمقیمین الصلاۃ کا ترجمہ اس طرح فرمایا اور آفرین نماز قائم رکھنے والوں کو، اور شاہ ولی اللہ نے اس طرح ترجمہ فرمایا ومدح می کنم برپا داردندگان نماز را، باپ اور بیٹے کے ترجموں میں اشارہ ہے اس طرف کہ والمقیمین الصلاۃ منصوب علی المدح والا اختصاص ہے۔ 2) ۔ واخذھم الربو وقدنھوا عنہ سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت موسویہ میں بھی سود حرام تھا۔ لطائف ومعارف اللہ جل شانہ نے ان آیات میں یہود کے قبائح اور فضائح کو بیان کیا اور خاص طور پر ان کے اس قول کی تردید کی اور تکذیب کی کہ ہم نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردیا کہ ان کا یہ قول بالکل غلط ہے وہ نہ مقتول ہوئے اور نہ مصلوب ہوئے بلکہ اس کے برعکس اللہ نے حضرت عیسیٰ کو بےمثال عزت و رفعت عطا کی کہ ان کو آسمان پر اٹھا لیا کما قال تعالیٰ وما قتلوہ، یقیناً بل رفعہ اللہ الیہ۔ اور اس کے علاوہ حق تعالیٰ نے ان آیات میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ایک دوسری پیش آنے والی عظیم الشان عزت و شوکت کی خبر دی کہ وہ قیامت کے قریب آسمان سے نازل ہوں گے اور اس وقت ان کی شان و شوکت وجاہ جلال کو دیکھ کر اہل کتاب میں سے ہر شخص حضرت عیسیٰ پر ان کی موت سے پہلے ضرور ایمان لے آئے گا پھر قیامت کے دن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر گواہی دیں گے اب ہم اس اجمال کے بعد مضامین مذکورہ بالا کی قدرے تفصیل اور تشریح کرنا چاہتے ہیں تاکہ ناظرین کرام کے لیے موجب ہدایت وطمانینت ہو۔ اس سلسلہ میں مناسب بلکہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلے دلائل وبراہین سے اس امر کو واضح کردیا جائے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) قطعا مقتول اور مصلوب نہیں ہوئے بلکہ زندہ آسمان پر اٹھائے گئے جیسا کہ اللہ نے خبر دی ہے وماقتلوہ وماصلبوہ اور وما قتلوہ یقیناً بل رفعہ اللہ الیہ۔ اور اللہ نے جو خبر دی ہے وہی حق اور صدق ہے ومن اصدق من اللہ قیلا۔ آیت۔
Ayahs 4:163–169

اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖ١ۚ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ Open ayah 4:163 in the Quran reader

(اے محمد) ہم نے تمہاری طرف اسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح نوح اور ان سے پچھلے پیغمبروں کیطرف بھیجی تھی۔ اور ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اولاد یعقوب اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کو بھی وحی بھیجی تھی اور داؤد کو ہم نے زبور بھی عنایت کی تھی۔

وَ رُسُلًا قَدْ قَصَصْنٰهُمْ عَلَیْكَ مِنْ قَبْلُ وَ رُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَیْكَ١ؕ وَ كَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِیْمًاۚ Open ayah 4:164 in the Quran reader

اور بہت سے پیغمبر ہے جن کے حالات ہم تم سے پیشتر بیان کرچکے ہیں اور بہت سے پیغمبر ہیں جن کے حالات تم سے بیان نہیں کئے۔ اور موسیٰ سے تو خدا نے باتیں بھی کیں۔

رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰهِ حُجَّةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:165 in the Quran reader

(سب) پیغمبروں کو (خدا نے) خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے (بنا کر بھیجا تھا) تاکہ پیغمبروں کے آنے کے بعد لوگوں کو خدا پر الزام کا موقع نہ رہے۔ اور خدا غالب حکمت والا ہے۔

لٰكِنِ اللّٰهُ یَشْهَدُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اِلَیْكَ اَنْزَلَهٗ بِعِلْمِهٖ١ۚ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَشْهَدُوْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًاؕ Open ayah 4:166 in the Quran reader

لیکن خدا نے جو (کتاب) تم پر نازل کی ہے اسکی نسبت خدا گواہی دیتا ہے کہ اس نے اپنے علم سے نازل کی ہے اور فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں اور گواہ تو خدا ہی کافی ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ قَدْ ضَلُّوْا ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:167 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) خدا کے راستے سے روکا وہ راستے سے بھٹک کر دور جا پڑے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ ظَلَمُوْا لَمْ یَكُنِ اللّٰهُ لِیَغْفِرَ لَهُمْ وَ لَا لِیَهْدِیَهُمْ طَرِیْقًاۙ Open ayah 4:168 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہوئے اور ظلم کرتے رہے خدا ان کو بخشنے والا نہیں اور نہ انہیں راستہ ہی دکھائے گا۔

اِلَّا طَرِیْقَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 4:169 in the Quran reader

ہاں دوزخ کا راستہ جس میں وہ ہمیشہ (جلتے) ہیں گے۔ اور یہ (بات) خدا کو آسان ہے۔

جواب از شبہ اہل کتاب۔ قال تعالی، انا اوحینا الیک۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ یسیرا۔ ربط) گزشتہ رکوع میں اہل کتاب کی شناعتوں اور قباحتوں کو بیان کیا تاکہ معلوم ہاجائے کہ اہل کتاب کا وہ سوال جو یسالک اھل الکتاب میں منقول ہوا وہ سراسر جہل اور عناد پر مبنی ہے جس کا اجمالی اور الزامی جواب تو فقد سالوا موسیٰ اکبر من ذالک کے ذریعہ دے دیا گیا اب اصل سوال کا تحقیقی اور تفصیلی جواب ارشاد فرماتے ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ اہل کتاب کا یہ کہنا اگر آپ سچے نبی ہیں تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح آپ پر بھی دفعۃ کوئی کتاب آسمان سے نازل کی جائے یہود کا یہ سوال سراسر جاہلانہ اور معاندانہ ہے اس لیے کہ اثبات نبوت کے لیے یہ سوال کہ توریت کی طرح آپ پر کوئی کتاب دفعۃ نازل کی جائے محض لغو اور مہمل ہے۔ نبی ﷺ سے پہلے بہت سی نبی گذرچکے ہیں جن کی نبوت اہل کتاب کے نزدیک مسلم ہے حالانکہ یہ حضرات کوئی آسمانی نوشتہ لے کر نہیں آئے تھے معلوم ہوا کہ نبوت کا ثبوت آسمانی نوشتہ کے نزول پر موقوف نہیں نبوت کی تصدیق کے لیے معجزہ کا صادر ہوجانا کافی ہے خواہ کوئی معجزہ ہو ثبوت مدعا کے لیے یہ کافی ہے کہ کسی دلیل سے مدعا ثابت ہوجائے خصم کو یہ اختیار نہیں کہ کسی خاص دلیل اور کسی خاص گواہ کا مطالبہ کرے اور نہ مستدل اور مدعی پر یہ ضروری ہے کہ خصم کی یہ خواہش پوری کرے خصوصا جب کہ اثبات دعوی کے لیے متعدد دلائل پیش ہوچکے ہوں پس جب نبی ﷺ کی نبوت صدہا دلائل نبوت سینکڑوں معجزوں سے ثابت ہوچکی تو بغیر اس کے کہ ان میں کوئی خرابی نکالی جائے ایک خاص معجزہ اور من مانی دلیل کی درخواست کرنا صاف دلالت کرتا ہے کہ صرف عناد اور جھگڑا مقصود ہے طلب حق مقصود نہیں چناچہ فرماتے ہیں اے نبی تحقیق ہم نے وحی بھیجی تیری طرف جیسے وحی بھیجی ہمنے نوح کی طرف اور ان پیغمبروں کی طرف جو نوح کے بعد ہوئے اور جس طرح ہم نے ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اولاد یعقوب میں جو نبی گذرے اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی طرف وحی بھیجی اور جس طرح ہم نے داود کو بتدریج زبور دی یعنی جیسے ہم نے حضرت نوح اور حضرت ابراہیم اور اسماعیل وغیرہم کو نبی بنایا ویساہی تم کو بھی نبی بنایا آپ کی نبوت اور ان کی نبوت میں کوئی فرق نہیں لوگوں کو ان حضرات کو نبوت کا علم مختلف معجزات سے ہوا موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح پوری لکھی ہوئی کتاب یکدم ان میں سے کسی پر نازل نہیں ہوئی تمام نبیوں میں سے صرف موسیٰ (علیہ السلام) ایک ایسے نبی گزرے ہیں جن کو ساری کتاب ایک دفعہ ملی تھی ان کے سوا جتنے پیغمبر ہیں ان پر حسب ضرورت وقتا فوقتا وحی نازل ہوتی رہی پس جس طرح وحی کا تھوڑا تھوڑا اترنا اور لکھی ہوئی کتاب کا یکدم نازل نہ ہونا ان حضرات کی نبوت میں خلل انداز نہیں تو محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت میں کسیے خلل انداز ہوسکتا ہے غرض یہ کہ محمد رسول اللہ کی طرف وحی بھیجنے میں اللہ نے وہی طریقہ اختیار کیا جو حضرت نوح اور حضرت ابرہیم اوردیگر انبیاء کرام کی طرف وحی نازل کرنے میں اختیار کیا اور حضرت داود (علیہ السلام) کو جو زبور عطا کی سو وہ بھی اس کیفیت سے اتری ہے جس کیفیت سے قرآن اترا ہے یعنی زبور بتدریج نازل ہوئی اور علماء اہل کتاب زبور کو منزل من اللہ مانتے ہیں چونکہ مقصود ان آیات سے یہود کے اس شبہ کا جواب دینا ہے کہ تصدیق نبوت کے لیے یکدم لکھی ہوئی کتاب کا نازل ہونا ضروری نہیں اس لیے کہ سلسلہ کلام میں موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر نہیں فرمایا اور کتنے ہی رسول جن کا حال اس سے پہلے ہم نے مکی سورتوں میں آپ سے بیان کرچکے ہیں اور کتنے ہی رسول ہیں جن کا حال ہم نے آپ سے بیان نہیں کیا ان سب کو اللہ نے پیغمبر بنایا اور حسب ضرورت تھوڑی تھوڑی وحی ان پر نازل کی مگر بلاواسطہ فرشتہ کے ان میں سے کسی سے بھی اللہ نے کلام کیا اور موسیٰ (علیہ السلام) سے اللہ نے بلاواسطہ فرشتہ کے کلام کیا یہ خاص ان کی خصوصیت تھی تو کیا اس سے یہ لازم آیا کہ سوائے موسیٰ (علیہ السلام) کے جن سے اللہ نے بلاواسطہ فرشتہ کے کلام نہیں کیا وہ نبی نہ ہوں اس طرح اگر کسی نبی کو موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح یکبارگی کتاب نہ ملے تو کیا اس کی نبوت میں کوئی خلل آجائے گا۔ تمام نبیوں پر وحی فرشتہ کے ذریعہ آئی ہے مگر موسیٰ (علیہ السلام) کو خدا تعالیٰ نے یہ خصوصیت عطا کی کہ خدا نے ان سے پس پردہ کلام کیا اور فرشتہ کا واسطہ درمیان میں نہ رکھایہ ان پر خدا تعالیٰ کی خاص عنایت تھی اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ جس میں یہ خصوصیت نہ پائی جائے وہ نبی ہی نہیں اسی طرح لکھی ہوئی کتاب کا یکدم نازل ہونا موسیٰ (علیہ السلام) کی خاص خصوصیت تھی نبوت کی شرط نہیں اللہ کی سنت ہے کہ ہر نبی کو کسی خاص فضیلت اور کسی خاص معجزہ سے سرفراز فرماتے ہیں کسی میں کوئی فضیلت رکھی اور کسی میں کوئی موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ نے اپنا کلام سنایا مگر اپنے دیدار سے محروم رکھا اور ہمارے نبی اکرم کو شب معراج میں اپنے کلام سے اپنے دیدار پرانور سے مشرف فرمایا (ھذا کلہ توضیح کلام الامام الرازی فی التفسیر الکبیر ص 354 ج 3 وہو نفیس ولطیف جدا) ۔ خلاصہ کلام یہ کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت اس پر موقوف نہیں کہ ان پر لکھی ہوئی کتاب یکدم نازل ہوئی تھی بلکہ اگر بالفرض ان پر کوئی نوشتہ خداوندی بھی نازل نہ ہوتا تو ان کا صاحب وحی اور صاحب کلام الٰہی اور صاحب معجزات ہونا یہ ان کے دعوائے نبوت کی تصدیق کے لیے کافی تھا نیز موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ فرماناتوریت کتاب الٰہی ہے یہ موسیٰ (علیہ السلام) کا ایک دعوی ہے اس کی تصدیق خود ان کی تصدیق نبوت پر موقوف ہے پس ثابت ہوگیا کہ یہود کا نبی ﷺ سے یہ کہنا کہ اگر آپ سچے نبی ہیں تو موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح لکھی کتاب یکدم آپ پر بھی نازل ہونی چاہیے بالکل مہمل اور لایعنی ہے اللہ فرماتے ہیں ہم نے بشارت دینے والے اور ڈرانے والے رسول اس لیے بھیجے تاکہ رسولوں کے آنے کے بعد لوگوں کو اللہ پر الزام رکھنے کی کوئی جگہ نہ رہے یعنی رسولوں کے بھیجنے سے ہماری محض یہ غرض ہے کہ لوگوں کو احکام خداوندی سے آگاہ کریں اور فرمانبرداروں کو انعام خداوندی کی خوش خبری سنائیں اور نافرمانوں کو عذاب سے ڈرائیں تاکہ قیامت کے دن لوگ خدا کے سامنے یہ عذر نہ کرسکیں کہ ہمیں آپ کے احکام اور مرضی نامرضی کا علم نہ تھا اگر ہمارے پاس آپ کے پیغمبر آتے تو ہم ضرور ان کا حکم مانتے کما قال تعالی، لولاارسلت الینا رسولا فنتبع ایاتک ونکون من المومنین۔ آیت۔ یہ آیت بھی یہود کے اسی سابق سوال کا دوسرا جواب ہے اور مطلب یہ ہے کہ انبیاء کرام کے بھیجنے سے مقصود فرمانبرداروں کو بشارت دینا اور نافرمانوں کو ڈرانا ہے خواہ ایک دم کتاب نازل کی جائے یا پارہ پارہ کرکے نازل کی جائے مقصود ہر حال میں حاصل ہے بلکہ تھوڑا تھوڑا نازل کرنے میں فائدہ زیادہ ہے اس لیے کہ انسان یکبارگی تمام احکام نازل ہونے سے گھبراتا ہے اور تھوڑے تھوڑے احکام پر عمل کرنا آسان ہوتا ہے پس یکدم کتاب نازل کرنے کی درخواست کرنا سراسر لغو اور بےجا ہے اور اللہ غالب اور حکمت والا ہے اسے یکدم کتاب کا نازل کرنا کوئی دشوار نہیں لیکن اس کی حکمت اس امر کو مقتضی ہوئی کہ یہودیوں کی اس معاندانہ اور مہمل درخواست کو پورانہ کیا جائے اور نہایت حکیمانہ طریق سے اس شبہ کا قلع قمع کردیا جائے۔ خلاصہ کلام۔ حضرت نوح اور حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق وغیرہم کی طرح محمد رسول اللہ بلاشبہ اللہ کے رسول ہیں یہود اپنے عناد اور ہٹ دھرمی سے آپ کی نبوت و رسالت کی شہادت نہ دیں لیکن واقع میں آپ اللہ کے سچے نبی ہیں اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ آپ کی نبوت و رسالت کی بذریعہ اس کتاب کے جو اس نے آپ کی طرف اتاری یعنی یہ قرآن آپ کی نبوت کی گواہی دیتا ہے اس لیے کہ اس کا اعجاز اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ نے اس قرآن کو اپنے خاص علم کے ساتھ اتارا ہے جو علوم اور معارف اس کتاب میں ودیعت رکھے ہیں کسی کتاب میں نہیں اس کے علوم اور معارف ادراک بشری سے کہیں بالا اور برتر ہیں یہی وجہ ہے کہ قرآن کے عجائب وغرائب کبھی ختم نہیں ہوسکتے اور یہ قرآن منبع ہدایت ہے جس قدر ہدایت لوگوں کی قرآن سے ہوئی اور وہ کسی کتاب سے نہیں ہوئی اور فرتے بھی آپ کی نبوت و رسالت کی گواہی دیتے ہیں جنگ بدر اور جنگ حنین اور دیگر مواضع میں بحکم خداوندی فرشتے آپ کی تائید کے لیے نازل ہوئے اور بالفرض کوئی بھی آپ کی نبوت کی شہادت نہ دے تو اللہ آپ کو نبوت و رسالت کا کافی گواہ ہے اللہ کی گواہی کے بعد کسی کی گواہی کی ضرورت نہیں مطلب یہ ہے کہ یہود باوجود شبہ رفع ہوجانے کے پھر بھی آپ کی نبوت کی شہادت نہ دیں تو پرواہ نہ کیجئے اللہ آپ کی نبوت کی شہادت دیتا ہے اور اللہ کی شہادت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو دلائل نبوت یعنی معجزات عطا کیے اور یہ کتاب مستطاب یعنی قرآن آپ پر اتارا جس کا اعجاز اور اس کی بےنظیر فصاحت وبلاغت اور اس کا اخبار غیبیہ پر مشتمل ہونا اس امر کی کافی دلیل ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور وہ آپ کے نبی ہونے کی شہادت دیتا ہے بیشک جن لوگوں نے شبہ دور ہوجانے کے بعد بھی آپ کی نبوت کا انکار کیا اور آپ کی بشارتوں اور صفتوں کو چھپالیا اور لوگوں کو خدا کی راہ سے روکا یقیناً وہ راہ راست سے بہت دور جاپڑے تحقیق جن لوگوں نے کفر کیا اور حق کو دبالیا اور حق قبول کرنے والوں کو ستایا تو نہیں ہے اللہ ایسا کہ ایسا کو معاف کردے ا اور نہ وہ ایسا ہے کہ ان کو کوئی راہ دکھاوے یا چلاوے مگر جہنم کی راہ نہیں سیدھا جہنم میں پہنچائے گا جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے کس وقت بھی کوئی راہ اس سے نکلنے کی نہ ہوگی یہود اس خیال خام میں نہ رہیں کہ چند روز کے بعد جہنم سے باہر آجائیں گے اور یہ امر اللہ پر بہت ہی آسان ہے یعنی اہل عناد کو ہمیشہ کے لیے دوزخ میں ڈال دینا اللہ پر آسان ہے اس امر کے لیے اسے کسی سامان اور اہتمام کی ضرورت نہیں۔
Ayah 4:170

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الرَّسُوْلُ بِالْحَقِّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَاٰمِنُوْا خَیْرًا لَّكُمْ١ؕ وَ اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:170 in the Quran reader

لوگو ! خدا کے پیغمبر تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے حق بات لے کر آئے ہیں تو (ان پر) ایمان لاؤ۔ (یہی) تمہارے حق میں بہتر ہے اور اگر کفر کرو گے تو (جان رکھو کہ) جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ اور خدا سب کچھ جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔

خطاب عام برائے قبول دعوت حق۔ قال تعالی، یا ایھا الناس قد جاء کم الرسول۔۔۔ الی۔۔۔ حکیما۔ ربط) نبوت محمدیہ کے متعلق یہود کے تمام شکوک اور شبہات کا کافی اور شافی جواب دینے کے بعد تمام بنی آدم کو حق کی دعوت دیتے ہیں کہ دین محمدی میں داخل ہوجاؤ محمد رسول اللہ کے رسول برحق ہیں اللہ کی طرف سے حق کو لے کر آئیں ہیں اس کو قبول کرو اسی میں تمہاری بھلائی اور بہتری ہے اور اگر نہیں قبول کرتے تو اللہ کو اس کی پرواہ نہیں وہ آسمان و زمین کا مالک ہے تمام فرشتے اور شجر وحجر سب اس کی تسبیح وتحمید کرتے ہیں اسے تمہاری تسبیح اور تحمید کی کوئی حاجت نہیں چناچہ فرماتے ہیں اے لوگو تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے اللہ کے سچے رسول محمد رسول اللہ دین حق لے کر آچکے ہیں جس سے مقصود تمہاری تربیت ہے اور حق تو جس طرح بھی پہنچے اس کے قبول میں تامل نہ کرنا چاہیے تھوڑا تھوڑا اور چاہے یکدم اور پھر مزید برآں یہ کہ وہ رسول برحق، حق اور صداقت کو لے کر خود تمہارے پاس پہنچ گیا چاہے تو یہ تھا کہ تم خود حق کی تلاش میں نکلتے لیکن ستم بالائے ستم یہ ہے کہ پیغمبر خدا تو حق لے کر تمہارے پاس پہنچ گیا اور تم ہو کہ اس میں خدشے نکال رہے ہو کہ یہ دین حق تھوڑا تھوڑا ہو کر کیوں نازل ہورہا ہے یکدم کتابی شکل میں کیوں نازل نہیں ہوجاتا پس عقل اور دانائی کا مقتضی یہ ہے کہ اس حق اور اس رسول برحق پر تم فورا ایمان لے آؤ ایمان لانا ہی تمہارے لیے بہتر ہوگا اور اگر آپ کی نبوت و رسالت کو نہیں مانو گے تو اللہ کو تمہارے ایمان کی کوئی حاجت نہیں تحقیق اللہ ہی کی ملک ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے ایمان لانے میں تمہارا ہی نفع ہے اس کا کوئی فائدہ نہیں اور ہے اللہ جاننے والا حکمت والا اسے تمہارے ایمان اور کفر کی سب خبر ہے اور اس کا کوئی حکم حکمت سے خالی نہیں۔