Ayahs 4:11–14(قانون میراث) یعنی تفصیل حصص میراث۔
ربط) اوپر کی آیتوں میں اجمالی طور پر استحقاق میراث کا بیان تھا کہ میت کے اقارب خواہ مرد ہوں یا عورت بالغ ہوں یا نابالغ سب وارث ہیں اور ترکہ میں سب کا حق ہے اب ان آیات میں حصوں کی تفصیل بیان فرماتے ہیں۔ زمانہ جاہلیت میں ارث کے تین سبب تھے (اول نسب) مگر نسب کی رو سے صرف ان مردوں کو حصہ ملتا تھا کہ جو قبیلہ کی طرف سے دشمنوں سے جنگ کی قابلیت رکھتے ہوں لڑکوں اور عورتوں اور ضعیفوں کو میراث کا مستحق نہیں سمجھا جاتا تھا۔ دوم) تبنی یعنی کسی کو اپنا متبنی بنالینا یعنی بیٹا بنا لینا مرنے کے بعد وہ متبنی اس کی میراث کا حق دار ہوتا تھا جیسا کہ ہندوؤں میں اس کارواج ہے (تیسرا) عہد وحلت، عہد کی صورت یہ تھی کہ ایک شخص دوسرے شخص سے یہ کہتا کہ میرا خون تیرا خون ہے میری جان تیری جان ہے میرے خون کارائگاں جانا تیرے خون کارائیگاں جانا ہے میں تیرا وارث اور تو میرا وارث میرے بدلے تو پکڑا جائے گا اور تیرے بدلے میں پکڑا جاؤں گا جب وہ دونوں شخص اس طرح کا باہم عہد کرلیتے تو وہ دونوں ایک دوسرے کے وارث ہوتے جو پہلے مرجاتا دوسرا اس کا وارث ہوتا۔ شروع اسلام میں توارث کے دو سبب تھے ایک ہجرت اور دوسرا مواخاۃ اسلامی بھائی چارہ یعنی جب کوئی صحابی ہجرت کرکے آتا تھا تو دوسرا مہاجر ہی اس کا وارث ہوتا اگرچہ وہ اس کا رشتہ دار نہ ہو اور غیر مہاجر مہاجر کا وارث نہیں ہوتا اگرچہ وہ اس کا قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو اور مواخاۃ کا مطلب یہ ہے کہ جب نبی ﷺ مکہ مکرمہ سے ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لائے تو آپ نے دو دو مسلمانوں کو ایک دوسرے کا بھائی بنا دیا تھا اور وہ دونوں ایک دوسرے کے وارث ہوتے تھے مگر بعد میں اسلام نے زمانہ جاہلیت اور شروع زمانہ اسلام کے طریق توارث کو منسوخ کردیا اور توریث کا دارومدار تین چیزوں پر رکھا۔ اول نسب۔ یعنی اولاد اور والدین۔ دوم۔ نکاح یعنی خاوند اور بیوی بوجہ نکاح کے ایک دوسرے کے وارث ہوتے ہیں۔ تیسرے۔ ولاء یعنی باندی غلام کی آزادی جس کی بنا پر آقا اپنے آزاد کردہ غلاموں اور باندیوں کا اور آزاد شدہ غلام اور باندی اپنے آزاد کرنے والے آقا کی میراث کے وارث ہیں۔
(حصہ اولاد) ۔
شان نزول۔ ابن ابی شیبہ، احمد، ابوداود، ترمذی، ابن ماجہ وغیرہم نے حضرت جابر سے روایت کیا ہے کہ سود بن ربیع کی بیوی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یارسول اللہ سعد بن ربیع کی دو لڑکیاں ہیں اور ان کا باپ حضور کے ہمراہ جنگ احد میں شہید ہوگیا اور ان کا جو مال تھا وہ کل ان کے چچا نے لے لیا ہے اور بیٹیوں کو کچھ نہیں دیا اور بغیر مال کے ان کا نکاح نہیں ہوسکتا آپ نے فرمایا کہ اللہ ان کے بارے میں فیصلہ فرمائے گا اس پر میراث کی یہ آیت یوصیکم اللہ نازل ہوئی اس کے نازل ہونے کے بعد آپ نے ان لڑکیوں کے چچا کے پاس آدمی بھیج کر کہلا بھیجا کہ سعد کے ترکہ میں سے اس کی لڑکیوں کو تہائی دے دو اور اس کی بیوی کو آٹھواں حصہ اور باقی تیرا ہے علماء فرماتے ہیں کہ یہ سب سے پہلا ترکہ ہے جو اسلام میں تقسیم کیا گیا چناچہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ تم کو وصیت کرتا ہے یعنی تاکیدی حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کی میراث کے بارے میں وہ یہ کہ مرد کا حصہ دوعورتوں کے حصہ کے برابر ہے پس اگر اولاد صرف لڑکیاں ہی لڑکیاں ہوں دو سے زائد تو ان لڑکیوں کو اس مال میں کا دو تہائی ملے گا جو مورث چھوڑ کر مرا ہے یعنی اگر میت کی اولاد ذکور نہ ہونری لڑکیاں ہی ہوں اور ہوں دو سے زیادہ تو اس صورت میں ان کا حق اس ترکہ میں سے کل مال کادوتہارئی ہے باقی ایک تہائی دوسرے وارثوں کا حق ہے۔
ّ (ف) ۔ جاننا چاہیے کہ اللہ نے اس آیت میں دو سے زائد لڑکیوں کا حصہ بیان فرمایا اور دو لڑکیوں کا حصہ صراحتہ بیان نہیں فرمایا اس کی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ آیت، للذکر مثل حظ الانثین۔ آیت۔ سے معلوم ہوچکا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کی برابر ہے یعنی دو تہائی ہے تو لامحالہ اس سے ثابت ہوگیا کہ دو لڑکیوں کا حصہ دو تہائی ہے نیز جب ایک لڑکے کی موجودگی میں لڑکی کا تہائی حصہ ہے تو دوسری لڑکی کی موجودگی میں بدرجہ اولی اس کا حصہ تہائی ہونا چاہیے کیونکہ لڑکا بہ نسبت لڑکی کے زیادہ استحقاق رکھتا ہے۔ نیز اس آیت میں شان نزول میں ہم بیان کرچکے ہیں کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد رسول اللہ نے سعد بن الربیع کی دو لڑکیوں کو اس کے ترکہ میں دو تہائی دینے کا حکم دیا۔
نیز اللہ نے اس آیت میں ایک لڑکی کا اور تین اور تین سے زائد لڑکیوں کا حکم بیان فرمایا اور دو لڑکیوں کا صراحتا کوئی حکم بیان نہیں فرمایا اور بہنوں کی میراث میں دو بہنوں کا دو تہائی حصہ بیان فرمایا، ان امرو ھلک لیس۔۔۔۔ الی۔۔۔ مماترک۔ آیت۔ پس جب دو بہنوں کا حصہ دو تہائی ہے تو دو لڑکیوں کا حصہ بدرجہ اولی دو تہائی ہونا چاہیے کہ کیونکہ لڑکیاں بہ نسبت بہنوں کے زیادہ قریب ہیں غرض یہ کہ دو لڑکیوں کو دو تہائی ملنا پہلی آیت سے معلوم ہوچکا تھا اب شبہ یہ تھا کہ اگر کسی کے تین لڑکیاں ہوں تو شاید ان تین لڑکیوں کو تین تہائی یعنی کل مال مل جائے تو اللہ نے اس آیت میں یہ بتلا دیا گیا کہ اگر لڑکیاں دو سے زیادہ ہوں تو ان کا حصہ دو تہائی سے نہ بڑے گا اور اگر میت کے ایک ہی لڑکی ہو تو اس کو کل مال میں سے نصف مال مل گا اور نصف باقی دوسرے وارثوں کا حق ہے۔
(نکتہ) ۔ مرد کا حصہ عورتوں کے حصہ سے دو چند اس لیے قرار دیا گیا کہ مرد بہ نسبت عورت کے مال کا زیادہ حاجت مند ہے گھر کا تمام خرچ اس کے ذمہ ہے حتی کہ بیوی کا خرچ بھی اس کے ذمہ ہے۔
(نکتہ 2) ۔ اللہ جل شانہ نے عنوان تعبیر یہ اختیار فرمایا، للذکر مثل حظ الانثیین۔ آیت۔ یعنی مرد کا حصہ دوعورتوں کی برابر ہے اور یہ نہیں فرمایا کہ دوعورتوں کا حصہ ایک مرد کے حصہ کے برابر ہے یا عورت کا حصہ مرد کے حصہ سے نصف ہے اس طرح بیان کے اختیار کرنے میں حکمت یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت کی رسم عدم توریث نسوان کا پوری طرح ابطال ہوجائے کیونکہ یہ طرز بیان اس طرف مشیر ہے کہ عورت کی میراث مقرر معلوم ہے اور مرد کی میراث اس سے دو چند ہے لہذا مرد اپنی میراث کو عورت کی میراث سے دو چند سمجھ کر اللہ کا شکر کرے کہ اس نے مجھ کو فضیلت دی اور یہ طمع نہ کرے کہ عورت کو بالکل میراث سے محروم کرے یہ اس کے لیے کافی ہے کہ اس کا حصہ عورت سے دو چند ہے۔
حصہ والدین۔
اور میت کے ماں باپ کے لیے ترکہ میں سے ہر ایک کو چھٹا حصہ ہے اگر میت کے کچھ اولاد ہے خواہ مذکر ہو یا مونث پس اگر میت کے کچھ اولاد نہ ہو اور صرف ماں باپ ہی اس کے وارث ہیں تو اس صورت میں پورے مال میں سے اس کی ماں کا تہائی حصہ ہے اور باقی دو تہائی باپ کا پس اگر میت کے ایک سے زیادہ بھائی بہن ہوں تو پھر اس کی ماں کے لیے چھٹا حصہ ہے جاننا چاہے کہ ماں باپ کی میراث میں اللہ نے تین صورتیں بیان فرمائیں پہلی صورت یہ ہے کہ اگر ماں باپ کے ساتھ میت کی اولاد بیٹا یا بیٹی ہو تو اس صورت میں میت کے ماں باپ کو ترکہ میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ملے گا دوسری صورت یہ ہے کہ میت کی اولاد کچھ نہ ہو بھائی بہن بھی نہ ہوں اور صرف ماں باپ ہوں تو اس صورت میں ماں کو ایک ثلث ملے گا اور باقی دو ثلث باپ کو ملیں گے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ ماں باپ کے ساتھ اولاد نہ ہو مگر میت کے ایک سے زیادہ بہن بھائی ہوں خواہ حقیقی ہوں یا علاتی یا اخیافی تو اس صورت میں ماں کو ترکہ کا چھٹا حصہ ملے گا اور باقی سب اس کے باپ کو ملے گا بھائی بہن کو کچھ نہیں ملے گا۔ وارثوں کے جس قدر حصے اب تک بیان کیے گئے یہ سب حصے بعد اداء وصیت کہ جو میت نے کی ہے اور بعدا دائے قرض وارثوں کو دیے جائیں گے یعنی میت کے مال میں سے اول بمقدار وصیت اور بقمدار قرض روپیہ نکال کر پھر ورثہ پر تقسیم ہوگا اور باجماع امت ترکہ میں جو پہلا حق متعلق ہوتا ہے وہ میت کے تجہیز وتکفین اور تدفین ہے اس لیے میت کے مال میں سب سے پہلے اس کے کفن اور دفن میں لگایاجائے گا اور پھر میت کے قرض میں اور پھر اس کی وصیت میں دیا جائے گا اور پھر جو باقی رہے گا وہ وارثوں پر تقسیم کیا جائے گا۔
(نکتہ) ۔ ماں باپ کا حق اگرچہ اولاد سے کہیں زیادہ ہے مگر اللہ نے میت کے ترکہ میں سے ماں باپ کا حصہ، اولاد کے حصہ سے کم رکھا ہے کیونکہ جب آدمی صاحب اولاد ہوکرمرتا ہے تو عادۃ اس عمر میں اس کے والدین بوڑھے ہوجاتے ہیں اور ان کی عمر کا تھوڑا حصہ باقی رہ جاتا ہے ان کو زیادہ مال کی ضرورت نہیں ہوتی بخلاف اولاد کے کہ وہ کم عمر ہونے کی وجہ سے زیادہ حاجت مند ہوتے ہیں نیز ماں باپ کے پاس اپنا اندوختہ اور اپنے والدین کا کچھ ترکہ بھی ہوتا ہے اور میت کی اولاد کا سرمایہ سردست صرف یہی باپ کی کمائی ہوتی ہے اس لیے شریعت نے بہ نسبت ماں باپ کے اولاد کا حصہ زائد رکھا تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے تم نہیں جانتے کہ باعتبار نفع رسانی کے ان میں سے کون سا تم سے زیادہ قریب ہے۔ یعنی تم نہیں جانتے کہ تمہارے اصول و فروع میں سے دنیا وآخرت میں تمہارے لیے کون زیادہ نفع رساں اور فائدہ مند ہے اور جب تمہیں یہ خبر نہیں تو تقسیم میراث میں تم اپنی عقل اور رائے کو دخل نہ دو خدا کے حکم کے مطابق چلو اللہ کی طرف سے جو حصہ مقرر ہے اس کی پیروی کرو بیشک اللہ تعالیٰ تمہاری مصلحتوں کو جاننے والا ہے اور بڑی حکمت والا ہے اس نے جو میراث کے حصے مقرر فرمادیے حصوں کی پابندی کرو اور اپنی رائے سے اس میں دخل نہ دو اللہ تعالیٰ علیم و حکیم ہے اس نے اپنی حکمت سے جو حصے مقرر کردیے اسی میں حکمت اور مصلحت ہے۔
حصہ زوجین۔
اب آئندہ آیت میں زوجین کی میراث کا بیان فرماتے ہیں اور زوجہ اور زوج کی ہر ایک کی میراث کی دو دو صورتیں بیان کیں۔
1۔ میت اگر زوجہ ہو اور اس کے کوئی اولاد نہ ہو تو اس صورت میں زوج یعنی شوہر کو نصف مال ملے گا۔ 2۔ اور اگر اولاد ہو تو چوتھائی حصہ اور علی ہذا اگر میت زوج ہو اور زوجہ اس کی وارث ہو تو اس کے بھی دو حال ہیں۔ 1۔ زوج کے کوئی اولاد نہ ہو تو زوجہ کو چوتھائی حصہ ملے گا۔ 2۔ اور اگر اولاد ہو تو آٹھواں حصہ۔ چناچہ فرماتے ہیں اور تمہارے لیے یعنی شوہروں کے لیے اس مال میں کا نصف حصہ ہے جو تمہاری بیبیاں چھوڑ جائیں اگر ان کے کوئی اولاد نہ ہو نہ مذکر نہ مونث نہ واحد نہ کثیر اور اگر ان بیبیوں کے کچھ اولاد ہو خواہ تم سے ہو یا پہلے شوہر سے تو اس صورت میں تم کو ان کے ترکہ سے چوتھائی ملے گا اور دونوں صورتوں میں تم کو یہ حصہ بعد وصیت کے جو کرگئی ہیں یا قرض کی ادائیگی کے بعد جو انہوں نے چھوڑا ہے ملے گا اور بیبیوں کو چوتھائی مال ملے گا اس ترکہ میں سے جو تم چھوڑ جاؤ اگر تمہارے کوئی اولاد نہ ہو پس اگر تمہارے کوئی اولاد ہو اس عورت سے یا کسی دوسری عورت سے تو بیبیوں کو تمہارے ترکہ میں آٹھواں حصہ ملے گا بعد وصیت کے جو تم کرجاؤ یا قرض کے بعد جو تم چھوڑ جاؤ تو اس وصیت اور قرض کے ادا کرنے کے بعد جو مال بچے گا تو اس سے بیوی کو آٹھواں حصہ ملے گا خواہ بیوی ایک ہو یا چار۔
فائدہ) عورت چونکہ مہر بھی پاتی ہے اور شوہر کے مرنے کے بعد دوسرے شخص سے نکاح بھی کرسکتی ہے اس لیے اس کا حصہ ہر حال میں شوہر کے حصہ سے نصف رہا۔
حصہ برادر وخواہر اخیافی۔
اب اس کے بعد ایسے شخص کا حال بیان فرماتے ہیں کہ جس کے وارثوں میں نہ باپ دادا ہو اور نہ اولاد ہو صرف اس کے اخیافی بھائی بہن ہوں تو اگر ایک ہو تو ہر ایک کو چھٹا حصہ ہے اور اگر ایک سے زیادہ ہوں تو ایک تہائی میں سب شریک اور برابر کے حصہ دار ہوں گے۔ چناچہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی مرد یا عورت جس کی میراث دوسروں کو ملے گی کلالہ ہو یعنی باپ دادا اور بیٹا نہ رکھتا ہو اور اس کے ایک اخیافی بھائی یا ایک اخیافی بہن ہو تو اس کلالہ کے مال میں سے ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا اور اگر یہ اخیافی بھائی بہن ایک سے زیادہ ہوں تو وہ سب ایک تہائی حصہ میں برابر کے شریک ہوں گے اور یہ تقسیم بعد اس وصیت کے نافذ کرنے کے ہوگی جو ہوچکی ہے یا ادائے قرض کے بعد بشرطیکہ وہ وصیت کرنے والا کسی کو ضرر یا نقصان پہنچانے والا نہ ہو یہ جو کچھ کہا گیا یہ سب اللہ کی جانب سے وصیت یعنی تاکیدی حکم ہے اور اللہ خوب جانتا ہے ضرر دینے والے کو اور نہ دینے والے کو بڑا بردبار ہے سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا۔
فائدہ) ۔ جاننا چاہیے کہ بھائی اور بہن تین طرح کے ہوتے ہیں۔
1۔ سگے۔ جن کے ماں اور باپ دونوں ایک ہوں ان کو عینی اور بنوالاعیان کہتے ہیں۔ 2۔ سوتیلے جو صرف باپ میں شریک ہو یعنی باپ تو ایک ہو اور ماں دو ہوں ان کو علاتی کہتے ہیں۔ 3۔ وہ سوتیلے کہ جن کی ماں تو ایک ہوں اور باپ دو ہوں ان کو اخیافی کہتے ہیں۔ اس آیت میں اس آخری قسم کا ذکر ہے جیسا کہ ابی بن کعب اور سعد بن ابی وقاص کی قرات میں ولہ اخ اواخت۔ آیت۔ کے بعد من الام لفظ آیا ہے جس سے آیت کی تفسیر ہوگئی کہ اس جگہ کون سا بھای اور بہن مراد ہے اور اسی پر سب کا اجماع ہے اور عینی اور علاتی بھائی بہنوں کی میراث کا حکم اس سورت کے آخر میں آئے گا۔
(نکتہ) ۔ اخیافی بھائی بہن کو میت کی طرف جو نسبت ہے وہ صرف ماح کے واسطہ سے اور ماں کا حصہ تہائی سے زیادہ نہیں لہذا وہ صرف اپنی ماں کا حصہ پانے کے مستحق ہیں اور اسی وجہ سے ذکور اور اناث میں کوئی فرق نہیں کیا گیا سب کا حصہ برابر رہا کیونکہ نسبت مذکور میں سب مساوی ہیں۔
تاکید اطاعت وتہدید برمعصیت۔
یہ تمام احکام اللہ کی مقرر کردہ حدیث ہیں لوگوں کو چاہیے کہ ان حدود کے اندر رہیں اور ان سے باہر قدم نہ نکالیں اور جس طرح انسان کسی مکان کی حدود سے باہر نکل کر خطرہ میں پڑجاتا ہے اسی طرح احکام الٰہی کی حدود سے باہر نکلنے میں جان اور ایمان کا خطرہ ہے اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کے حکم پر چلے گا اللہ اس کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ایسے اشخاص، ہمیشہ ہمیشہ انہی باغوں میں رہیں گے اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے کیونکہ جنگ ہمیشگی کا گھر ہے اور اس کا آرام خالص ہے جس میں کسی قسم کے دکھ درد کا شائبہ بھی نہیں اور دنیا کی بڑی سے بڑی کامیابی آخرت کی کامیابی کے مقابلہ میں ہیچ ہے اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی حدوں سے آگے بڑھے سو اس کو اللہ تعالیٰ آگ میں داخل کرے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لیے ذلیل اور رسوا کرنے والا عذاب ہے یعنی ہمیشہ کے لیے مصیبت اور ذلت میں گرفتار رہے گا۔
مسئلہ میراث انبیاء کرام علیہم الف الف صلوۃ والف الف سلام۔
بابت آیت، یوصیکم اللہ فی اولادکم۔ آیت۔ شیعہ کہتے ہیں کہ ابوبکر صدیق ؓ نے حضرت فاطمہ کو پیغمبر علیہ الصلوۃ کے ترکہ میں سے جو ان کو اپنے والد محترم کی طرف سے پہنچتا تھا کوئی حصہ نہیں دیا اور عذر یہ کیا کہ میں نے رسول اللہ سے خود سنا ہے کہ یہ فرماتے تھے کہ ہم گروہ انبیاء نہ کسی کے وارث ہوتے اور نہ ہمارا کوئی وارث ہوتا ہے حالانکہ یہ حدیث صریح نص قرآنی، یوصیکم اللہ فی اولادکم۔ کے خلاف ہے۔ اور یہ آیت عام ہے اس میں نبی اور غیر نبی کی کوئی تخصیص نہیں لہذا یہ کہنا کہ رسول اللہ کا کوئی وارث نہیں اس آیت کی تکذیب کرنا ہے نیز دوسری نصوص کے بھی خلاف ہے یعنی وورث سلیمان داؤد۔ آیت۔ اور آیت وھب لی من لدنک۔۔ الی۔۔۔ یعقوب۔ آیت۔ معلوم ہوا کہ انبیاء کرام کے بھی وارث ہوتے ہیں۔
(جواب) 1۔ آیت یوصیکم اللہ فی اولادکم، آیت۔ عام مخصوص البعض ہے جس سے بحکم حدیث نبوی لانرث ولانورث انبیاء کرام مخصوص ہیں اور چونکہ یہ حدیث صدیق اکبر ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے بلاواسطہ سنی اس لیے علم قطعی اور یقینی کو مفید ہے اور جو چیز نبی اکرم ﷺ سے بلاواسطہ سنی اس پر عمل کرنا قطعا فرض ہے خواہ کسی اور سے اس حدیث کو سنے یا نہ سنے اور اسی پر شیعہ اور سنی تمام اہل اصول کا اجماع ہے اور متواتر اور غیر متواتر حدیث کی تقسیم ان لوگوں کے اعتبار سے ہے جنہوں نے اللہ کے نبی کو نہیں دیکھا اور دوسروں کے واسطہ سے حدیث سنی اور جس شخص نے خود اللہ کے نبی کو دیکھا اور بلا واسطہ ان سے حدیث سنی و یہ حدیث کے اس کے حق میں متواتر سے بھی بالا اور برتر ہے بلکہ مشاہدہ عینی سے بھی زیادہ قطعی اور یقینی ہے چونکہ ابوبکر صدیق ؓ نے اس حدیث کو بلاواسطہ رسول اللہ سے سنا تھا اس لیے انہیں دوسروں سے تحقیق وتفتیش کی حاجت نہ تھی۔ نیز اس حدیث کے راوی صرف ابوبکر ہی نہیں بلکہ اس حدیث کو حضرت حذیفہ اور حضرت زبیر، حضرت ابودرداء، اور حضرت ابوہریرہ، حضرت عبدالرحمن بن عوف اور حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت عباس اور حضرت عثمان اور حضرت علی ؓ نے بھی روایت کیا ہے غرض یہ کہ حدیث تمام صحابہ میں معروف ومشہور تھی اور درجہ تواترکو پہنچی ہوئی تھی اور حدیث متواتر سے قرآن کی تخصیص بالاجماع جائز ہے۔ اور آیت میراث میں حدیث نبوی سے تخصیص ایسی ہے جیسے انما الصدقات للفقراء والمساکین۔ آیت۔ کے عموم سے انبیاء کرام اور ان کے موالی مخصوص ہیں کہ انبیاء کرام اور ان کے موالی کو باوجود فقر وفاقہ کے زکوٰۃ اور صدقات کالینا حرام ہے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ آل محمد کے لیے زکوٰۃ اور صدقہ کا مال حلال نہیں۔ نبی ﷺ کی شان فقیری اور درویشی ضرب المثل ہے مگر حضور پرنور بلاشبہ وریب آیت صدقات کے عموم سے مخصوص اور مستثنی ہیں اور آیت صدقات کے عموم کی تخصیص انہی احادیث سے ثابت ہے جن میں زکوٰۃ وصدقات کا آل رسول پر حرام ہونا مروی ہوا ہے اسی طرح سمجھیے کہ جن احادیث میں یہ آیا ہے کہ انبیاء کرام کے ترگہ میں وراثت جاری نہیں ہوتی وہ تمام احادیث آیت میراث کی مخصص ہوں گی دیکھو ہدیۃ الشیعہ ص 310 مصفنہ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی۔
2۔ نیز آیت یوصیکم اللہ کا سیاق وسباق اس پر دلالت کرتا ہے کہ یہ حکم امتیوں ہی کے لیے ہے جیسا کہ گزشتہ آیات میں چار عورتوں کی تحدید اور مہر اور عدل بین النساء کا واجب ہونا یہ سب امتوں کا حکم ہے نبی اکرم ﷺ پر ان میں سے کوئی شے واجب نہیں آیت، فانکحوا ماطاب لکم من النساء مثنی وثلاث ورباع۔ آیت۔ اگرچہ عام ہے مگر بحکم آیت احزاب یا ایھا النبی۔۔ الی۔۔ اجورھن۔ آیت۔ نبی اکرم ﷺ اس چادر کی تحدید سے مستثنی ہیں سورة احزاب کی یہ آیت صراحۃ اس پر دلالت کرتی ہے کہ نبی ﷺ کے لیے چار عورتوں سے زیادہ بھی نکاح جائز ہے اور اتوالنساء صدقاتھن نحلہ۔ آیت۔ بظاہر اگرچہ عام ہے علی العموم سب سپر مہر کے واجب ہونے کی دلالت کرتی ہے لیکن رسول اللہ ﷺ اس حکم سے مخصوص اور مستثنی ہیں جیسا کہ سورة احزاب کی یہ آیت وامراۃ مومنۃ ان وھبت نفسھا للنبی آیت۔ اسی پر دلالت کرتی ہے کہ نبی صلی اللہ پر کسی قسم کا مہرواجب نہیں۔ اور آیت نساء بظاہر اگرچہ اس پر دلالت کرتی ہے کہ سب عدل بین النساء واجب ہے مگر حسب ارشاد خداوندی، ترجی من تشاء۔۔۔ الی۔۔ من تشاء۔ آیت۔ نبی اکرم ﷺ اس حکم سے مستثنی ہیں۔ اسی طرح اگر حکم میراث سے بھی انبیاء کرام مستثنی ہوں تو کیا تعجب ہے مال و جائیداد میں میراث کا جاری ہونا امتیوں کا حکم ہے انبیاء کرام اس حکم سے مستثی ہیں۔
3۔ نیز آیت یوصیکم اللہ باتفاق فریقین اور بہت سی تخصیص ہوئی ہیں چناچہ کافر وارث نہیں ہوتا غلام وارث نہیں ہوتا قاتل مورث وارث نہیں ہوتا اور ان تخصیصات پر دلالت کرنے والا کوئی لفظ آیت مذکورہ سے نہ متصل مذکور ہے نہ منفصل بجز اس کے کہ احادیث سے ان لوگوں کی تخصیص کی گئی تو پھر حدیث ماترکنا صدقتہ کا کیا قصور ہے کہ وہ آیت میراث کے لیے مخصص نہ ہوسکے۔ (شیعہ) ۔ حدیث سے قرآن کریم کی تخصیص کرنے کی وجہ سے ابوبکر پر معترض ہیں لیکن اپنے لیے س کو جائز سمجھتے ہیں خود ان کے نزدیک اخبار آحاد سے قرآن کریم کی تخصیص ثابت ہے ان کا مذہب ہے کہ زمین میں زوجہ کو میراث نہیں پہنچتی اور میت کے ترکہ میں سے قرآن اور تلوار انگشتری اور پہننے کے کپڑوں کا وارث صرف بیٹا ہے۔ نیز اگر آیت یوصیکم اللہ متروکہ رسول کو بھی شامل ہو تو اسی متروکہ کو تو شامل ہوگی کہ جو مملوکہ نبوی بھی ہو کیونکہ میراث تو اشیاء مملوکہ ہی میں جاری ہوتی ہے اور وقف کے مال میں میراث جاری نہیں ہوتی اور سب کو معلوم ہے کہ فدک منجملہ اموال فی وقف تھا مملوکہ نبوی نہ تھا کیونکہ آیت ما آفاء اللہ علی رسولہ۔ آیت۔ اس پر صاف دلالت کرتی ہے کہ اموال بنی نضیرہ وفد وغیرہ وغیرہ سب کے سب من جملہ فئی کے تھے اور سب وقف تھے اور حضور ﷺ کا پنی زندگی میں ان میں جو تصرف تھا وہ محض متولیانہ تھا نہ کہ مالکانہ کیونکہ ما آفاء اللہ سے صاف ظاہر ہے کہ مال فئی میں ذوی القربا اور یتامی اور مساکین اور فقراء مہاجرین اور انصار اور قیامت تک آنے والے مسلمان سب شریک اور حق دار ہیں جن کی تعداد معین نہیں اور نہ ہوسکتی ہے سو اموال فئی کے مملوک ہونے کی کوئی صورت نہیں اور کتب شیعہ سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ فدک منجملہ اموال فئی تھا۔ پس جب فدک مملوک ہی نہ ہوا تو وہ آیت یوصیکم اللہ کے عموم میں کیسے داخل ہوگا اور جس طرح مال غیر مملوک میں میراث جاری نہیں ہوسکتی اسی طرح اس میں ھبہ اور عطیہ بھی جاری نہیں ہوسکتا اور معلوم ہوا کہ اہل تشیع جو ھبہ فدک کی روایت نقل کرتے ہیں وہ قطعا غلط ہے اور بلاشبہ شیعوں کی ساختہ اور پرداختہ ہے۔
نیز جب حضرت علی ؓ خلیفہ ہوئے اور نبی ﷺ کا ترکہ ان کے قبضہ میں آیا تو انہوں نے اس میں سے نہ حضرت عباس ؓ کا حصہ دیا اور نہ حضرت عباس کے بعد ان کے بیٹوں اور نہ ازدواج مطہرات کو اگر آپ کے ترکہ میں میراث جاری ہوتی تو یہ سب حضرات کیوں حق میراث سے محروم رہے جس طرح جناب سیدہ آپ کے ترکہ کی حق دار تھیں اسی طرح یہ سب حضرات بھی اس کے حق دار تھے حضرات شیعہ اس کے جواب میں یہ کہتے ہیں کہ ائمہ غضب شدہ چیز کو واپس نہیں لیتے اور باغ فدک چونکہ غضب ہوچکا تھا اس لیے حضرت علی نے اس میں تصرف مناسب نہ سمجھا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ آپ کے نزدیک جیسا باغ فدک غصب ہوچکا تھا اسی آپ کے نزدیک خلافت بھی غصب ہوچکی تھی تو پھر اس کی کیا وجہ کہ جناب امیر نے ایک ادنی درجہ کی غصب شدہ چیز (باغ فدک) کو تو چھوڑ دیا اور خلافت جیسی کارآمد غصب شدہ چیز کو قبول کرلیا جس کے پیٹ میں لاکھوں باغ فدک سماجائیں اور پتہ بھی نہ چلے اور آیت وورث سلیمان داؤد اور آیت۔ ھب لی من لدنک ولیا یرثنی۔ اس قسم کی آیات میں علم وار حکمت اور منصب نبوت کی وراثت مراد ہے دنیاوی ولی عہدی اور مالی وراثت مراد نہیں دیکھو اجوبہ اربعین ص 65 ج 2۔ ) باتفاق اہل تاریخ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے انیس بیٹے تھے جو مالی وراثت میں سب برابر کے مستحق تھے پس اگر آیت مذکورہ میں مالی وراثت مراد ہوتی تو اللہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے سب بیٹوں اور وارثوں کے ذکر کو چھوڑ کر سلیمان (علیہ السلام) کی تخصیص نہ فرماتے اس لیے کہ مالی وراثت میں سب بیٹے برابر ہیں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی خصوصیت نہیں نیز مالی وراثت میں دنیا کہ تمام نیک وبد اپنے باپ کے مال کے وارث ہوتے ہیں اس میں کوئی فضیلت اور بزرگی نہیں جس کو اللہ نے حضرت سلیمان کے فضائل ومناقب میں بطور مدح ذکر فرمایا اللہ کو ایسی کیا ضرورت پیش آئی کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) جسیے جلیل القدر نبی کے فضائل ومناقب میں باپ کی مالی وراثت کا ذکر کیا جس میں دنیا کے تمام نیک وبد شریک ہیں غرض یہ کہ آیت مذکورہ میں وراثت سے مالی وراثت مراد لینے کی صورت میں نہ تو حضرت سلیمان کی تخصیص کا کوئی فائدہ معلوم ہوتا ہے اور نہ اس سے ان کا کچھ فضل و کمال ظاہر ہوتا ہے بخلاف وراثت علم ونبوت سو اس صورت میں حضرت سلیمان کا فضل و کمال بھی ظاہر ہوتا ہے اور ان کی تخصیص کی وجہ سے بھی ظاہر ہے کیونکہ علم ونبوت ایسی چیز نہیں کہ سب لوگ اس کے وارث ہوسکیں۔
اور علی ہذا آیت، ھب لی من لدنک۔۔۔ یعقوب۔ آیت۔ میں بھی وراثت مالی مراد نہیں بلکہ علم نبوت کی وراثت مراد ہے اس لیے کہ اگر اس آیت میں وراثت سے مال کی وراثت مراد ہو تو یہ کلام محض لغو اور مہمل ٹھہرتا کیونکہ اس صورت میں الفاظ ویرث من آل یعقوب۔ کی کوئی صحیح تاویل نہیں ہوسکتی اگر آل یعقوب سے مراد نفس یعقوب ہو تو لازم آئے گا کہ یعقوب کا مال زکریا (علیہ السلام) کے زمانہ تک بغیر تقسیم کے باقی رہا اور اس بات کو کوئی عاقل تسلیم نہیں کرسکتا کیونکہ حضرت زکریا کا زمانہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے زمانہ سے تقریبا دو ہزار سال برس پیچھے ہے اتنے عرصے تک ان کے مال کا بغیر تقسیم کے باقی رہنا قیاس میں نہیں آسکتا اور اگر آل یعقوب سے مراد حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی جملہ اولاد ہو تو لازم آئے گا کہ یحییٰ (علیہ السلام) تمام زندہ اور مردہ بنی اسرائیل کے وارث ہوں اور یہ بات پہلی بات سے بھی زیادہ غیر معقول ہے اور اگر آل یعقوب سے بعض اولادمراد ہو تو پھر یہ معلوم نہیں کہ وہ کون بعض مراد ہیں نیز حضرت زکریا جیسے پاک نفس کی نسبت جن کے دل میں دنیا کے مال ومتاع کی ایک مچھر کے برابر بھی وقعت نہ تھی وہ اللہ سے صرف اس لیے بیٹا مانگیں کہ ان کے بعد وہ ان کے مال ومتاع کا وارث ہوسکے اور مبادا ان کے چچا زاد بھائی ان کے مال کے وارث نہ ہوجائیں اس بات کو کوئی عاقل ایک منٹ کے لیے بھی تسلیم نہیں کرسکتا کہ اللہ کا نبی مال وراثت کی وجہ سے اس درجہ رنجیدہ اور غمگین ہو۔
Ayahs 4:15–18قال تعالیٰ والتی۔۔۔ الی۔۔ رحیما۔ آیت۔
ربط) گزشتہ آیات میں حدود اللہ سے تعدی کا قانون بیان فرمایا تھا اب اس قانون عام کے بعد اس کی بعض خاص صورتیں بیان فرماتے ہیں اور ان کی اصلاح کا طریقہ ارشاد فرماتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں کہ منجملہ تعدی حدود اللہ ایک زنا ہے اور اس کا حکم یہ ہے کہ تمہاری منکوحہ بیبیوں میں سے جو عورتیں بےحیائی جامرتکب ہوں یعنی زنا کریں تو تم ان سے اس فعل پر اپنی جنس میں کے یعنی عاقل بالغ آزاد مذکر چار آدمی گواہ لاؤ پس اگر وہ چار آدمی ان پر اپنی چشم دید گواہی دے دیں اور اپنا عینی مشاہدہ بیان کردیں و ان عورتوں کو گھروں میں محبوس اور بند رکھو کہ گھر سے باہر نہ نکلنے دو یہاں تک کہ موت ان کی عمر کو تمام کردے یا مقرر کردے اللہ ان کے لیے کوئی دوسری راہ، یہ حکم ابتداء اسلام میں تھا کہ جس عورت پر زنا کی شہادت گزر جائے اس کو گھر میں محبوس اور مقید رکھا جائے تاکہ وہ کسی سے میل جیل نہ کرسکے اس وقت تک زانیہ کے لیے کوئی حد مقرر نہیں ہوئی تھی بعد چندے سورة نور میں حکم نازل ہوا کہ جو کنوار یا کنواری ایسا فعل کرے تو اس کے سو درے مارے جائیں اور جو بیاہا اور بیاہی جس کو محصن اور محصنہ کہتے ہیں اور ایسا فعل کریں تو اس کو سنگسار کردیا جائے چناچہ نبی ﷺ نے فرمایا خذو اعنی خذور عنی قد جعل اللہ لھن سبیلا۔ (رواہ مسلم) یعنی لے لو مجھ سے یہ حکم یعنی جلد اور رجم کا اللہ نے عورتوں کی یہ راہ نکال دی ہے۔
(فائدہ) چار گواہ لانے کا حکم اس لیے دیا کہ معاملہ سنگین اور نازک ہے اور اس میں پردہ پوشی بھی ملحوظ ہے نیز زنا ایک مرد اور ایک عورت سے مل کر پایا جاتا ہے اور شہادت کے لیے کم ازکم دو گواہ چاہییں پس دو گواہ بلحاظ مرد کے اور دو گواہ بلحاظ عورت کی اس طرح چار گواہ ہوگئے اور جو دو شخص تم میں سے بےحیائی کا ارتکاب کریں خواہ ایک مرد اور ایک عورت ہو یعنی زنا کریں یا دونوں مرد ہوں یعنی لواطت کریں تو ان کو مناسب سزا دو آزار پہنچاؤ یعنی ان کو عار ڈلاو اور برا بھلا کہو اور جوتے لگاؤ ابتداء میں یہی حکم تھا کہ حاکم اور قاضی زجر اور عبرت کے لیے جو اور جتنی سزا مناسب سمجھے وہ دے دیں۔ اس کے بعد حسب وعدہ حد زنا کا حکم نازل ہوالیکن لواطت کے لیے کوئی جداحد نہیں بیان فرمائی اس لیے اس میں فقہاء کا اختلاف رہا کہ لواطت کی بھی وہی حد ہوتی ہے جو زنا کی ہے کیونکہ لواطت بھی زناہی کے معنی میں ہے یا لواطت کی سزا تلوار سے قتل کرنا یا سنگسار کرنا یا جلادینا ہے کیونکہ لواطت کا جرم زنا سے بڑھ کر ہے اس لیے احادیث میں فاعل ومفعول کے قتل کا حکم آیا ہے او لغت میں لواطت پر زنا کا اطلاق نہیں ہوتا اس وجہ سے لواطت کی سزا میں صحابہ کرام کا اختلاف ہے اگر لواطت بعینہ زنا ہوتی تو بالاتفاق لواطت میں حد زنا ہوتی۔
(فائدہ) ۔ آیت واللذان یاتیانھا منکم۔ آیت۔ جمہور علماء کے نزدیک زنا کے بارے میں ہے اور اواللذان بمعنی دو شخص سے مرد اور عورت مراد ہیں اور تثنیہ مذکر کا صیغہ بطریق تغلیف لائے جیسا کہ شمس وقمر کو بطریق تغلیب قمرین کہتے ہیں اور بعض علماء کے نزدیک یہ آیت لواطت اور زنا دونوں کے حکم کو شامل ہے اس لیے کہ فاحشہ جیسے زنا کو کہتے ہیں ایسے ہی لواطت کو کہتے ہیں جیسا کہ اللہ نے قوم لوط کے بارے میں فرمایا ہے، اتاتون الفاحشہ۔۔۔ الی۔۔ العالمین۔ آیت۔ پس اگر آئندہ کے لیے یہ دونوں بدکاری سے توبہ کرلیں اور اپنی حالت کو درست کرلیں تو تم ان سے اعراض کرو نہ ملامت کرو اور نہ درپے ایذاء ہو بیشک اللہ تعالیٰ بڑا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے اور توبہ کرنے والوں پر رحم فرماتا ہے۔
(فائدہ) ۔ اس قسم کے احکام اسلام کی خصوصیت ہیں کہ جن سے زنا کا دروازہ ہی بند ہوجاتا ہے اس وجہ سے اسلام نے حجاب کا حکم دیا تاکہ انسان کی نگاہ بھی پاک اور محفوظ رہے مہذب قومیں جن میں بےحجابی ہے ان کو دیکھ لو کہ کس طرح ان میں بےحیائی اور بدکاری کا دروازہ کھلا ہوا ہے ایسی تہذیبن تو قابل رجم (سنگساری) ہے جس سے بےحیائی کا دروازہ کھلے۔
ترجمہ۔ توبہ قبول کرنی اللہ کو ضرور سو ان کی جو عمل کرتے ہیں برا نادانی سے پھر توبہ کرتے ہیں شتاب سے تو ان کو اللہ معاف کرتا ہے اور اللہ سب جانتا ہے حکمت والا ہے۔ 17
ترجمہ۔ اور ان کی توبہ نہیں جو کرتے جاتے ہیں برے کام جب تک سامنے آئے ایسے کسی کو موت، کہنے لگا میں نے توبہ کی اب اور نہ ان کو جو مرتے ہیں کفر میں ان کے واسطے ہم نے تیار کی دکھ کی مار۔ 18
حکم نہم بیان شرائط قبول توبہ۔
قالی تعالی، انماالتوبۃ علی اللہ۔۔ الی۔۔۔ الیما۔ آیت۔ گزشتہ آیت میں یہ بیان فرمایا تھا کہ جو لوگ بدکاری کے مرتکب ہوں جب وہ توبہ کرکے اپنی اصلاح کرلیں تو ان کو کسی قسم کی ایذاء نہ دو اب اس آیت میں قبول توبہ کی شرط کو بیان فرماتے ہیں جزایں نیست کہ قبول توبہ کا وعدہ اللہ پر انہیں لوگوں کے لیے ہے جو برا کام کربیٹھے ہیں نادانی کے ساتھ پھر اس پر اصرار نہیں کرتے بلکہ جلدی ہی توبہ کرلیتے ہیں یعنی وقت کے اندر حضور موت سے پہلے ہی پس ایسے ہی لوگوں پر اللہ توجہ فرماتا ہے اور ان کی توبہ قبول کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ توجہ فرماتا ہے اور ان کی توبہ قبول کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑے جاننے والے اور حکمت والے ہیں خوب جانتے ہیں کہ کس نے اخلاص کے ساتھ حقیقۃ توبہ کی ہے اور حکمت والے ہیں کہ توبہ کے بعد سزا نہیں دیتے اور قبول توبہ کا وعدہ ان لوگوں کے لیے نہیں کہ جو متواتر گناہ کرتے ہیں یہاں تک کہ جب موت ان کے سامنے آگئی اور عالم آخرت کی چیزیں ان کو نظر آنے لگیں تو کہنے لگے کہ اب میں نے توبہ کی اور نہ ان لوگوں کے لیے وعدہ ہے کہ جو کافر مرتے ہیں یعنی تادم مرگ تو کفر سے توبہ کریں اور ایمان لائیں تو ان کی توبہ اور ایمان مقبول نہیں اس لیے کہ یہ توبہ اور ایمان اضطراری ہے اپنے ارادہ اور اختیار سے نہیں یا یہ مطلب ہے کہ جو لوگ کفر کی حالت میں مرجائیں اگر وہ آخرت میں اپنے کفر سے توبہ کریں گے تو ان کی وہ توبہ قبول نہ ہوگی کیونکہ آخرت دارالجزاء ہے دارالعمل نہیں ایسے ہی لوگوں کے لیے ہم نے دردناک عذاب تیار کیا ہے پہلی آیت مومن عاصی کے بارے میں ہے اور دوسری آیت کافر کے بارے میں ہے اور مطلب یہ ہے کہ جب موت سامنے آکھڑی ہوئی اور آنکھوں سے پردہ اٹھ گیا اور ملک الموت اور اس عالم کی چیزیں نظر آنے لگیں تو ایسے وقت میں گناہ گار مسلمان کی گناہوں سے توبہ اور کافر کی اپنے کفر سے توبہ مقبول نہیں اور اصل مقصود گناہ گار مسلمان کو تنبیہ کرنا ہے کہ اپنے گناہوں سے جلد توبہ کر کافر کی طرح موت کا انتظار نہ کر۔
فوائد ولطائف۔
1۔ بجھالۃ کے ظاہری معنی ناواقفیت اور نادانی کے ہیں جس کے ظاہری مطلب یہ ہے کہ جو گناہ نادانی سے سرزد ہوجائے وہ توبہ معاف ہوجائے گا ورنہ نہیں مگر یہ مطلب یہاں مقصود نہیں اس لیے کہ تمام صحابہ کرام کا اس پر اتفاق ہے کہ انسان سے جو گناہ بھی صادر ہو وہ جہالت اور نادانی ہی ہے خواہ عمدا ہو یا سہوا ہر معصیت جہالت میں داخل ہے اور اصطلاح شرع میں ہر گناہ گار کو جاہل اور نادان کہتے ہیں اور فراء کہتے ہیں کہ بجھالۃ سے یہ مراد ہے کہ ان لوگوں کو معصیت کی کنہ اور حقیقت اور اس کی عقوبت کا علم نہ تھا اور زجاج کہتے ہیں کہ جہالت سے یہ مراد ہے کہ لذت فانیہ باقیہ پر ترجیح دی جائے۔
2۔ من قریب کا ظاہری معنی تو یہ ہے کہ گناہ کے بعد فورا توبہ کرے تو معاف ہوگا ورنہ نہیں سوجاننا چاہیے کہ یہ ظاہری مطلب مراد نہیں بلکہ حق تعالیٰ نے اپنی رحمت واسعہ سے بڑی وسعت عنایت فرمائی ہے کہ انسان کی موت تک جس قدر بھی زمانہ ہے وہ سب قریب ہی میں شمار ہوگا کیونکہ جو چیز آنے والی ہے وہ قریب ہی ہے احادیث میں آیا ہے کہ جب تک غرغرہ کی حالت نہ پیدا ہو اس وقت تک توبہ قبول ہوتی ہے اور جب نزع روح شروع ہوجائے اور فرشتے وغیرہ دکھائی دینے لگیں اس وقت توبہ قبول نہیں ۃ وتی اس لیے کہ اس وقت ایمان بالغیب نہیں رہا۔ اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ من قریب کے معنی یہ ہیں کہ دل میں گناہ کی محبت رچ جانے سے پہلے توبہ کرلے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ بجھالۃ اور من قریب کی قید جمہور کے نزدیک قید واقعی ہے احترازی نہیں مگر شیخ الہند کی رائے یہ ہے کہ بہتر یہ ہے کہ قید جہالت اور لفظ قریب دونوں کو اپنی ظاہری معنی پر رکھا جائے اور انما التوبۃ علی اللہ۔ آیت۔ میں بھی لفظ علی اللہ کو ظاہر پر رکھا جائے اور مطلب آیت کا یہ ہو کہ قبول توبہ کا وعدہ اور ذمہ ان لوگوں کے لیے مخصوص ہے کہ جو محض ناواقفیت اور نادانی سے کوئی صغیرہ یا کبیرہ کربیٹھتے ہیں مگر جب اپنی خرابی پر مطلع ہوتے ہیں تو جب ہی نادم ہو کر توبہ کرلیتے ہیں ایسے لوگوں سے تو اللہ کا وعدہ ہے کہ ان کی توبہ قبول ضرور فرمائے گا اور جو لوگ دیدہ و دانستہ گناہ کرنے کی جرات کرتے ہیں یا متنبہ ہونے کے بعد بھی توبہ میں تاخیر کرتے ہیں تو اگرچہ اللہ ایسے لوگوں کی توبہ بھی اپنے فضل و احسان سے قبول کرلیتا ہے مگر ذمہ داری اور وعدہ نہیں جیسا کہ پہلے قسم کے لوگوں سے تھی خوب سمجھ لو کہ یہ مطلب نہایت لطیف ہے اے اللہ تو اپنی رحمت سے معصیت سے ہماری حفاظت فرما اور توبہ کی توفیق عطا فرما۔ آمین۔
Ayah 4:19حکم دہم ممانعت ظلم برنسواں
قال تعالیٰ یا ایھا الذین۔۔۔ الی۔۔ کثیرا۔ آیت۔
ربط) اس آیت میں بھی من جملہ تعدی حدود اللہ کی ایک خاص صورت کو بیان فرمایا کہ عورتوں کا زبردستی مالک بن جانا یہ بھی حدود اللہ سے تجاوز کرنا ہے زمانہ جاہلیت میں یہ رسم تھی کہ جب کوئی شخص بیوی چھوڑ کر مرجاتا تو اس کا سوتیلابیٹا جو دوسری بیوی سے ہوتا یا کوئی اور وارث آکر اس بیوہ عورت پر کوئی چادر یا کپڑاڈال دیتا اور یہ کہتا کہ جس طرح میں میت کے مال کا وارث ہوں اسی طرح اس کی بیوہ کا بھی وارث ہوں اس کے بعد اگر وہ چاہتا تو بغیر مہر کے خود اس سے نکاح کرلیتا یا کسی اور سے نکاح کردیتا مگر اس کا مہر خود لے لیتا یا نہ خود نکاح اور نہ کسی سے اس کو نکاح کرنے دیتا تاکہ وہ جب مالدار بیوہ مرجائے تو اس کے تمام مال پر قبضہ کرلے اللہ تعالیٰ نے ان تمام ناشائستہ افعال سے منع فرمایا اور ارشاد فرمایا اے ایمان والو تمہارے لیے یہ حلال نہیں کہ تم زبردستی عورتوں کی جان ومال کے وارث بن جاؤ مطلب یہ ہے کہ تمہارے لیے یہ حلال نہیں کہ تم عورت کامیت کا ترکہ سمجھ کر اس کے وارث بن جاؤ اور زبردستی اس سے نکاح کرلو یا کسی دوسرے سے نکاح کرادو اور اس کا مہر خود کھا جاؤ یا ان کو نکاح سے روکے رکھو تاکہ جب وہ مرجائیں تو ان کے مال کے وارث ہوجاؤ اس آیت میں یہاں تک تو خطاب اولیاء میت یعنی وارثوں کو تھا اب آئندہ آیت میں شوہروں کی تعدی کے متعلق حکم ارشاد فرماتے ہیں اور عورتوں کو محض اس لیے تنگ نہ کرو کہ جو کچھ تم ان کو دے چکے ہو اس میں کا کچھ حصہ ان سے واپس لے لو یعنی تم کو اس کی اجازت نہیں کہ عورتوں کو اپنے نکاح میں رکھ کر ان کو ایسا تنگ کرو کہ وہ خلع کرنے پر مجبور ہوجائیں اور غرض صرف اس قدر ہو کہ جو مال تم اس کو مہر میں دے چکے ہو وہ خلع کے بہانہ سے پھر واپس لے لو مگر اس صورت میں کہ جب عورتیں کھلی بےحیائی کا ارتکاب کریں مثلا زنا کریں یا بدزبانی کریں یا نافرمانی کریں تو ایسی صورت میں تم کو حق پہنچتا ہے کہ ان کو خلع پر اور مہر کی واپسی پر مجبور کرو جیسا کہ سورة بقرہ میں گزرا ہے، لایحل لکم۔۔۔ الی۔۔ حدود اللہ۔ آیت۔ یعنی زنا اور بدزبانی اور صریح نافرمانی کی صورت میں عورت کو مجبور کرکے مہر واپس لے لینے میں کوئی مضائقہ نہیں جیسے آج کل کی بعض آزاد عورتیں کہ جہاں چاہیں پھرتی ہیں ان کو خلع پر مجبور کرنا فقط جائز ہی نہیں بلکہ امید ہے کہ عنداللہ واجب ہی ہوگا۔ جب عورت کی آزادی سے نسب ہی مشتبہ ہوگیا تو نکاح سے کیا فائدہ ہوا اس کے بعد آئندہ آیت میں شوہروں کو حسن معاشرت کا حکم دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اور عورتوں کے ساتھ خوبی کے ساتھ گذران کرو یعنی حسن اخلاق کے ساتھ پیش آؤ اور نان ونفقہ کی خبرگیری رکھو اور اگر کئی بیویاں ہو تو عدل و انصاف کو ملحوظ رکھو پس اگر کسی وجہ سے تم ان کو ناپسند کرو تو صبر اور تحمل سے کام لو شاید عورتوں کی کوئی چیز تم کو ناپسند ہو اور اللہ اس میں بہت سی خیر اور خوبی پیدا کردے یعنی اگر تم کو کسی وجہ سے اپنی بیویاں ناپسند ہوں تب بھی ان کے ساتھ حسن اخلاق اور خوبی اور نرمی کے ساتھ معاملہ کرنا چاہیے شاید ان سے کوئی اولاد صالح پیدا ہوجائے جو دنیا اور آخرت میں تمہارے کام آئے تو اس وجہ سے تمہاری کراہت ونفرت مبدل بہ محبت ہوجائے گی یا مثلا اگر بیوی کچھ بدصورت ہے مگر سیرت اور عادات کے لحاظ سے اچھی ہے تو اس کی ظاہری صورت پر نظر نہ کرو بلکہ اس کی سیرت پر نظر کرکے حسن سلوک کے ساتھ پیش آؤ غرض یہ کہ اس آیت میں اس امر کی ہدایت کی گئی ہے کہ اگر کسی وجہ سے بیوی ناپسند ہو تو اپنی طبیعت پر جبر کرکے صبر اور تحمل سے کام لو اگر ان میں کوئی چیز ناپسند ہو تو شاید کچھ خوبی بھی ہو اوراقل درجہ یہ ہے کہ صبر کا جر تو کہیں ضائع نہیں ہوسکتا۔
Ayahs 4:20–21تتمہ مضمون سابق۔
اوپر کی آیت میں اللہ نے یہ فرمایا کہ تمہاری بیویاں فحاچی کی مرتکب ہوں تو ان کو ضرر پہنچا کر خلع پر مجبور کرنا اور اس طرح ان سے دیا ہوا مہر واپس لے لینا روا ہے اب اس آیت میں یہ فرمایا کہ اگر عورتیں بےقصور ہیں اور بدکار اور نافرمان نہ ہوں اور تم ان کو محض اپنی رغبت سے چھوڑنا چاہو تو پھر ان کو ستا کرا اور تنگ کرکے اپنا دیا ہو امہر ان سے واپس لینا تمہارے لیے روا نہیں خواہ وہ دیا ہوا مہر کتنا ہی کثیر کیوں نہ ہو کیونکہ جب وہ بےقصور ہیں تو انکو ایذا پہنچانا حرام ہے زمانہ جاہلیت کا ایک دستور یہ بھی تھا کہ جب کوئی شخص اپنی عورت سے ناخوش ہوتا اور اسے چھوڑ کر دوسری عورت سے نکاح کرنا چاہتا تو پہلی عورت پر جھوٹ موٹ کی تہمت لگا دیتا اور مختلف طریقوں سے اس کو ستاتا تاکہ مجبور ہو کر مہر واپس کردے تاکہ یہ مہر جدید نکاح میں کام آئے اور اس کی ممانعت میں یہ آیت نازل ہوئی اور اگر تم محض اپنی رغبت سے ایک بیوی کی جگہ دوسری یعنی جو بیوی تمہارے نکاح میں ۃ ے اور اس کا کوئی قصور نہیں تو اس کو محض اپنی طبعی رغبت کی بناء پر طلاق دیکر دوسری بیوی کرنا چاہو اور ان میں سے اس بیوی کو مال کا ایک خزانہ بھی دے چکے ہو تو تم اس دیے ہوئے مال میں سے کوئی چیز واپس نہ لو کیا تم اس دیے ہوئے مال کو تہمت لگا کر اور صریح گناہ کے ذریعہ واپس لینا چاہتے ہو یعنی اگر تم بلاوجہ اور بےقصور پہلی بیوی سے مہر واپس لے لو گے تو یہ ناحق اور کھلا گناہ ہوگا اور بھلا تم اس دیے ہوئے مہر کو کیسے اور کس طرح لیتے ہو حالانکہ ایک دوسرے سے خلوت اور تنہائی مل چکا ہے اور تمتع اور تلذذ سے کوئی مانع باقی نہیں رہا تو مہر تم پر واجب ہوچکا اب کس استحقاق سے تم اس کو ان سے واپس لیتے ہو اسی بناء پر امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کا مذہب ہے کہ جب میاں بیوی ایک جگہ خلوت میں جمع ہوجائیں اور کوئی امر شرعی جماع سے مانع نہ رہا تو عورت کا پورا مہر مرد کے ذمہ واجب ہوجاتا ہے خواہ جماع متحقق ہوا ہو یا نہ ہوا ہو کیونکہ افضاء کے معنی فضاء یعنی خالی جگہ میں جانے کے ہیں معلوم ہوا کہ محض افضاء یعنی خلوت ہوجانے سے پورا مہر واجب ہوجاتا ہے اور یہی جمہور صحابہ وتابعین کا مذہب ہے اور بعض فقہاء کے نزدیک ہم بستری یعنی جماع کے بعد پورا مہر واجب ہوتا ہے اور اگر جماع سے پہلے طلاق دے دے تو اس کے ذمہ آدھا مہر واجب ہوگا تفصیل کے لیے ابوبکر رازی کی احکام القرآن کو دیکھئے۔
اور علاوہ ازیں وہ عورتیں تم سے مضبوط اور پختہ عہد لے چکی ہیں عہد سے مراد ایجاب اور قبول ہے یعنی جب تم نے گواہوں کے سامنے ایجاب و قبول کیا اور مہر اور تمام حقوق اور لوازم نکاح کا التزام کرلیا جو بروئے نکاح تم پر عائد ہوتے ہیں پس اس عہد اور میثاق کے بعد مہر کا واپس لینا سخت بےمروتی اور عہد شکنی ہے اس آیت میں مہر واپس لینے کی حرمت کی دو علتیں بیان فرمائیں۔ اول یہ کہ تم ایک دوسرے سے تنہائی اور خلوت میں مل چکے ہو اور جب مرد عورت تک پہنچ گیا اور جماع سے کوئی ممانعت باقی نہ ہو تو اس پر پورا مہر لازم ہوگیا۔ دوسری علت یہ ہے کہ عورتیں ایجاب و قبول کے ذریعہ تم سے پختہ عہد لے چکی اور تمہاری ملک میں آگئی ہیں بغیر تمہارے چھوڑے دوسرے سے نکاح نہیں کرسکتیں پس اس پختہ عہد کے بعد ان سے مہر کو واپس لینا اس عہد کے خلاف ہے۔
Ayahs 4:22–23حکم یاز دہم تفصیل محرمات۔
قال اللہ تعالی۔۔ ولاتنکحوا۔۔۔ الی۔۔۔ رحیما۔ آیت۔
ربط۔ زمانہ جاہلیت میں نکاح کے معاملات میں سخت افراط وتفریط ہوتی تھی اور حدود اللہ سے تعدی میں گرفتار بھی تھے بعض لوگ اپنے باپ کی منکوحہ یعنی سوتیلی ماں سے بھی نکاح کرلیتے اور بعض اپنے بیٹوں کی بیویوں سے نکاح کرلیتے اور بعض دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرتے اس لیے حق تعالیٰ نے ان آیات میں ان عورتوں کا ذکر فرمایا جن سے نکاح حرام ہے اور اس سلسلہ میں سب سے پہلے باپ کی منکوحہ سے نکاح کی حرمت اور ممانعت کو بیان فرمایا اور مت نکاح میں لاؤ ان عورتوں کو جن کو تمہارے آباؤ و اجداد نکاح میں لا چکے ہیں لیکن جو ہوچکا سو ہوچکا اس پر کوئی مواخذہ نہیں کیونکہ جو چیز نہی اور ممانعت سے پہلے کی جاچکی ہے اس پر عذاب نہیں ہاں اگر آئندہ ایسا نکاح کرو گے یا ایسے نکاح پر قائم رہو گے اس پر سخت مواخذہ ہوگا کیونکہ باپ کی منکوحہ سے نکاح کرنا سخت بےحیائی ہے باپ کی منکوحہ سے نکاح کرنا اپنی ماں سے نکاح کرنے کے مشابہ ہے اور بڑا ہی مبغوض کام ہے اہل مروت کی نظر میں یہ کام نہایت ہی معیوب اور غایت درجہ قبیح اور قابل نفرت ہے اس وجہ سے اہل عرب اس لڑکے کو جو کہ باپ کی منکوحہ کے بطن سے پیدا ہوتا تھا مقتی کہتے تھے مقت کے معنی لغت میں سخت بغض کے ہیں اور نہایت ہی برا طریقہ ہے کہ باپ کی حرمت اور آبرو کو ملحوظ نہ رکھا کہ اس کی منکوحہ کو اپنے نکاح میں لے آیا۔ براء بن عازب سے مروی ہے کہ میرا ماموں میرے پاس سے گزرا اور اس کے پاس ایک جھنڈا تھا میں نے کہا کہ آپ کہاں جارہے ہو تو یہ جواب دیا کہ رسول اللہ نے مجھے ایک آدمی کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی منکوحہ سے نکاح کرلیا ہے کہ اس کا سر اتار کر لاؤں (رواہ احمد وابوداود، والترمذی وغیرہم۔ ) ۔
فائدہ) ۔ باپ کی منکوحہ سے نکاح کی حرمت میں تین لفظ فرمائے ایک فاحشہ اور دوسرا مقت اور تیسرا ساء سبیلا، فاحشہ سے قبیح عقلی مراد ہے یعنی باپ کی منکوحہ سے نکاح کرنا عقلا قبیح ہے اور مقتا سے قبیح شرعی مراد ہے یعنی شرعا اور عنداللہ قبیح ہے موجب غضب خداوندی ہے اور ساء سبیلا سے قبیح عرفی مراد ہے یعنی برا طریقہ اور بری عادت ہے مطلب یہ ہوا کہ اس نکاح میں قبیح کی تمام مراتب جمع ہیں لہذا غایت درجہ قبیح ہوا اور ایسا شخص مستحق قتل ہوا۔ پھر جب باپ کی منکوحہ سے نکاح کی حرمت بیان ہوچکی تو اب ان عورتوں کی تفصیل فرماتے ہیں جن سے نکاح حرام اور باطل ہے اور ان کی کئی قسمیں ہیں۔
قسم اول محرمات نسبیہ۔
یعنی جو عورتیں نسب میں شریک ہونے کی وجہ سے حرام ہیں وہ یہ ہیں حرام کی گئی تم پر تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں یعنی تمہاری تمام اصول اور فروع عورتیں تم پر حرام ہیں خواہ وہ اصول و فروع بواسطہ ہوں یا بلاواسطہ اور حرام کی گئیں تم پر تمہاری بہنیں خواہ وہ عینی ہوں یا علاتی یا اخیافی اور حرام کی گئیں تم پر تمہاری پھوپھیاں یعنی باپ دادا کی بہنیں خواہ کتنے ہی درجہ اوپر کی ہوں اور خواہ وہ باپ دادا کی عینی یا علاتی یا اخیافی بہنیں ہوں اور نانا کی بہن بھی پھوپھی کی حکم میں ہے اور حرام کی گئیں تم پر تمہاری خالائیں یعنی تمہاری ماں کی بہنیں خواہ وہ عینی ہوں یا علاتی یا اخیافی اور حرام کی گئیں تم پر تمہارے بھائی کی بیٹیاں یعنی بھتیجیاں اور حرام کی گئیں تم پر تمہاری بہن کی بیٹیاں یعنی تمہاری بھانجیاں یعنی جو عورتیں بھائی یا بہن کی نسل سے ہوں اور ان کا نسب بھائی یا بہن کی طرف منتہی ہوتا ہو وہ سب تم پر حرام ہیں یہ سات قسمیں محرمات نسبیہ کی ہیں جو آدمی پر اس کے نسب میں شریک ہونے کی وجہ سے حرام ہیں اور ان کی حرمت تابیدی ہے یعنی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ان سے نکاح حرام ہے۔
قسم دوم محرمات رضاعیہ۔
اور حرام کی گئیں تم پر وہ رضاعی مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا اور ایسے ہی تمہاری رضاعی بہنیں بھی تم پر حرام کی گئیں ہیں اس آیت میں اللہ نے صرف رضاعی ماؤں اور رضاعی بہنوں ہی کی حرمت کا ذکر کیا حالانکہ رضاعی نانیاں اور رضاعی پھوپھیاں اور خالائیں اور بھانجیاں اور بھتیجیاں بھی حرام ہیں مگر اللہ نے صرف رضاعی ماں اور رضاعی بہن کی حرمت کے بیان پر اکتفا فرمایا تاکہ اس طرف اشارہ ہو کہ رضاعت بمنزلہ نسب کے ہے اور جو ساتوں رشتے نسب سے حرام ہیں وہ رضاعت سے بھی حرام ہیں یعنی رضاعی بیٹی اور پھوپھی اور خالہ اور بھتیجی اور بھانجی بھی حرام ہے اور نبی اکرم ﷺ نے اس کی صراحت فرمادی کہ، یحرم من الرضاع ما یحرم من النسب۔
ف) اور دودھ پینا وہی معتبر ہے جو زمانہ شیرخوارگی میں پیا ہو۔
قسم سوم محرمات صہریہ۔
یعنی جن عورتوں سے علاقہ نکاح کی وجہ سے نکاح حرام ہے اب ان کا ذکر فرماتے ہیں اور اس کی دو قسمیں ہیں اول وہ کہ ان سے ہمیشہ کے لیے نکاح حرام ہے اور وہ زوجہ کی ماں یعنی ساس اور اس زوجہ کی بیٹی جو دوسرے شوہر سے ہو مگر شرط یہ ہے کہ تم نے اس زوجہ سے صحبت بھی کی ہو اگر صحبت سے پہلے ہی کسی عورت کو طلاق دے دو تو اس مطلقہ کی بیٹی سے نکاح ہوسکتا ہے یہ شرط بیوی کی بیٹی کے لیے ہو مگر بیوی کی ماں یعنی ساس کے لیے یہ شرط نہیں جس عورت سے نکاح کرلے خواہ اس سے ابھی صحبت نہ کی ہو صرف نکاح کرنے سے اس عورت کی ماں یعنی ساس ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس پر حرام ہوجاتی ہے اور تمہارے صلبی بیٹوں کی عورتیں ان سے بھی تمہارا نکاح کبھی درست نہیں ہوسکتا اور دوسری قسم وہ ہے کہ ان سے ہمیشہ کے لیے نکاح حرام نہیں بلکہ جب تک عورت تمہارے نکاح میں رہے اس وقت تک اس عورت کی قرابت والی عورت سے نکاح درست نہیں جیسے بیوی کی بہن کی زوجہ کی موجودگی میں تو اس سے نکاح نہیں ہوسکتا البتہ زوجہ کی موت کے بعد یا اس کو طلاق دے دینے کے بعد اس کی بہن سے نکاح ہوسکتا ہے چناچہ فرماتے ہیں اور حرام کردی گئیں تم پر تمہاری بیویوں کی مائیں یعنی ساس اور حرام کی گئیں تم پر تمہاری بیویوں کی بیٹیاں جو تمہاری پرورش میں ہوں لیکن یہ حکم مطلقا نہیں بلکہ اس میں یہ قید ہے کہ وہ لڑکیاں ان بیویوں سے ہوں کہ جن تم نے صحبت کی ہو یعنی کسی عورت کے ساتھ صرف نکاح کرلینے سے اس کی لڑکی جو پہلے شوہر سے ہو اس دوسرے شوہر پر حرام نہیں ہوجاتی بلکہ نکاح کے بعد اس عورت سے صحبت بھی کرلے تب اس پر بیوی کی لڑکی حرام ہوجاتی ہے پس اگر تم نے ان عورتوں سے صحبت نہیں کی صرف ابھی نکاح ہی ہوا ہے اور صحبت کی نوبت نہیں آئی تو ایسی عورتوں کی بیٹیوں سے نکاح کرنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں۔
(ف 1) ۔ مرد کی بیوی کی لڑکی جو دوسرے خاوند سے ہو اس کو ربیبہ کہتے ہیں جس کی جمع ربائب ہے اور ربائب کی صفت میں جو فی حجورکم کا لفظ آیا ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ جو تمہاری پرورش میں ہیں اور جن کو تم اپنی گود میں پالتے ہو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر وہ ربیبہ یعنی عورت کے پہلے خاوند کی بیٹی تمہاری پرورش میں ہو تب تو اس سے تمہارا نکاح حرام ہے اور اگر تمہاری پرورش میں نہ ہوں تو نکاح حرام نہیں بلکہ ربیبہ سے ہر حال میں نکاح حرام ہے خواہ تمہاری پرورش میں ہوں یا نہ ہو اور فی حجورکم کی قید واقعی ہے اکثر وبیشتر ربیبہ دوسرے شوہر کی پرورش میں رہتی ہے اور اس صفت کے بڑھانے میں اشارہ ہے کہ وہ ربیبہ جو تمہاری گود میں پل رہی ہے وہ بمنزلہ تمہاری بیٹی کے ہے اس سے نکاح کرنا گویا بیٹی سے نکاح کرنا ہے ربیبہ سے نکاح کی حرمت ظاہر کرنے کے لیے فی حجورکم کی یہ قید بڑھائی گئی اور حرام کی گئیں ہیں تم پر تمہارے صلبی بیٹوں کی عورتیں یعنی تمہارے حقیقیی بیٹوں کی عورتیں تم پر حرام ہیں بشرطیکہ وہ بیٹے تمہارے صلب سے ہوں یعنی متبنی اور منہ بولے اور لے پالک نہ ہوں کیونکہ لے پالک بیٹے کے حکم میں نہیں اپنے لے پالک متبنی کی بیوی سے طلاق کے بعد نکاح جائز ہے اور حرام کیا گیا تم پر دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرنا یعنی دو سگی یارضاعی بہنوں کو ایک ساتھ نکاح میں رکھنا حرام ہے اگر ایک عورت نکاح میں ہو تو اس کی موجودگی میں اس کی بہن سے نکاح کرنا حرام ہے ہاں اگر وہ مرجائے یا اس کو طلاق دے دیں تو اس حالت میں اس کی بہن یعنی اپنی سالی کے ساتھ نکاح میں مضائقہ نہیں اور اسی طرح ان دوعورتوں کا نکاح میں جمع کرنا جائز نہیں جن میں اگر کسی ایک کو مرد فرض کیا جائے تو دوسری سے اس کا نکاح ناجائز ہو مثلا ایک پھوپھی ہو اور ایک بھتیجی یا ایک خالہ ہو اورا یک بھانجی مگر جو اس حکم سے پہلے گزر چکا یعنی ممانعت سے پہلے جو تم اس قسم کے نکاح کرچکے ہو اس پر ہم تم سے مواخذہ نہیں کریں گے مگر آئندہ ہرگز ہرگز ایسے نکاح نہ کرو اور جو پہلے سے دو بہنیں تمہارے نکاح میں موجود ہوں تو ان میں سے دوسری کو جدا کردو بیشک اللہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے کہ ممانعت سے پہلے جو کرچکے ہو اس پر مواخذہ نہیں کرتا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، وماکان اللہ لیضل۔۔۔ الی۔۔ یتقون۔ آیت۔ اور اللہ تعالیٰ کسی قوم کو گمراہ نہیں کرتے جب تک ان کو کھول کر نہ بتلا نہ دیں کہ فلاں سے چیز سے بچنا ضروری ہے اور اللہ کا ارشاد ہے، وماکنا معذبین۔۔ الی۔۔ رسولا۔ آیت۔ اور جب تک ہم رسول نہ بھیج دیں اس وقت تک ہم عذاب نہیں دیتے۔