Ayahs 4:47–48اہل کتاب کو نصیحت اور ایمان کی دعوت۔
قال تعالی، یا ایھا الذین اوتوالکتاب۔۔۔ الی۔۔۔۔ عظیما۔ آیت۔
ربط۔ گزشتہ آیات میں اللہ نے اہل کتاب کی باطنی خباثتوں اور ظاہری شرارتوں کو بیان فرمایا اب بمقتضائے رحمت عامہ اور شفقت تامہ ان کو اسلام اور ایمان کی دعوت دیتے ہیں اور بطور نصیحت تحریف اور تکبر اور تمسخر کے برے انجام سے ڈراتے ہیں کہ قبل اس کے کہ ہم تمہارے چہروں کو مٹائیں اور اصحاب سبت کی طرح تم پر لعنت کریں تم کو چاہیے کہ ایمان لے آو تاکہ اس ذلت اور رسوائی سے محفوظ ہوجاؤ اور بطور الزام اور اتمام حجت یہ فرمایا کہ یہ قرآن کتب سابقہ کی تصدیق کرتی ہے اس پر ایمان لاناکتب سابقہ پر ایمان لانا ہے اور اس کی تکذیب کتب سابقہ کی تکذیب ہے چناچہ فرماتے ہیں اے اہل کتاب جن کو کتاب توریت دی گئی حسد اور عناد کو چھوڑو اور اس قرآن پر ایمان لاؤ جو ہم نے اتارا ہے اور حد اعجاز کو پہنچا ہوا ہے اور حالانکہ وہ اس کتاب توریت کی تصدیق کرنے والا ہے جو تمہارے پاس ہے قرآن کی تصدیق توریت کی تصدیق ہے ایک روز رسول اللہ نے اثناء گفتگو میں عبداللہ بن صوریا اور کعب بن اسد اور دیگر علماء یہود سے یہ فرمایا۔
اے گروہ یہود خدا سے ڈرو اور اسلام قبول کرو قسم ہے اللہ کی تحقیق تم خوب جانتے ہو کہ میں تمہارے پاس جو دین لے کر آیا ہوں وہ بالکل حق ہے۔
انہوں نے جواب دیا کہ ہم نہیں جانتے اور دیدہ دانستہ حق کا انکار کیا اور کفر پر اصرار کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (تفسیر قرطبی ص 244 ج 5) ۔ مطلب یہ ہے کہ محمد رسول اللہ کی دعوت اور بشارت کی توریت سے تصدیق ہوتی ہے پھر تم کو ان پر ایمان لانے میں کیا عذر ہے تم کو چاہیے کہ توریت میں تحریف نہ کرو اور اس سے قبل ایمان لے آؤ کہ تمہارے چہروں کی صورت اور ہیبت کو مٹا کر پشتوں کی طرف پھیر دین یعنی تمہارے چہروں کی ناک اور کان اور آنکھ سب کو مٹا کر گدیوں کی طرح سطح واحد بنادیں اور تمہارے چہرے تمہاری گدیوں کے ہم شکل ہوجائیں مطلب یہ ہے کہ چہروں پر آنکھوں اور ناک اور بھوؤں کا کچھ نشان باقی نہ رہے اور اس طرح چہرے گدیوں کے ہم شکل ہوجائیں اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ان کی صورتوں کے نشانات اور اثرات کے سامنے سے ہٹا کر گڈیوں کی طرف لگا دیں اور ان کی گدیوں کو منہ کی طرف پھیر دیں مقصود اس سے ان کی اہانت اور تذلیل ہوگی یہ ان کی تحریف کی اور کتاب الہی میں تغیر وتبدل کی سزا ہوگی یا اس سے بڑھ کر ان کے ساتھ معاملہ کریں وہ یہ کہ ہم ان پر لعنت کریں جیسا کہ ہم نے ہفتہ کی بےحرمتی کرنے والوں پر لعنت کی تھی یعنی جس طرح ہم نے ان یہودیوں کے اسلام کو اپنی رحمت سے دور کردیا تھا اسی طرح ان کو بھی اپنی رحمت سے دور کردیں مفصل قصہ انشاء اللہ سورة اعراف میں آئے گا یہ تشبیہ صرف لعنت میں ہے کیفیت لعنت میں نہیں ہے مطلب صرف اس قدر ہے کہ جس طرح وہ ملعون ہوئے تھے یہ بھی ملعون ہوجائیں یہ مطلب نہیں خہ جس طرح وہ بندر ہوئے اور سور ہوئے تھے یہ بھی بندر اور سور بن جائیں کیونکہ نبی ﷺ کی دعا کی برکت سے یہ امت مسخ کے عذاب سے محفوظ کردی گئی ہے اور اس کو بعید نہ سمجھو اللہ کا حکم اور اللہ کا کام تو ہو کر ہی رہتا ہے اور اللہ پر یہود کے چہروں کو مٹانا اور ان پر لعنت کرنا دشوار نہیں پس تم کو چاہیے کہ چہروں کو مٹا کر گدیوں پر لگائے جانے سے پہلے اور لعنت سے پہلے محمد رسول اللہ پر ایمان لے آؤ اور اللہ کے حکم اور ارادہ کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔
جاننا چاہیے کہ آیت کا مطلب یہ نہیں کہ نہ ایمان لانے کی صورت میں ان امور کا وقوع ضروری ہے بلکہ یہ بتلایا کہ اگر تم ایمان نہ لائے تو ممکن ہے پہلی امتوں کی طرح تم کو بھی یہ سزائیں اور ذلتیں دیکھنا پڑیں کیونکہ اس قسم کی سزاوں کا وقع ہونا محال نہیں اللہ تعالیٰ جب چاہے کرسکتا ہے لہذ تم کو ڈرنا چاہیے اور اس سے پہلے ہی تم کو ایمان لے آنا چاہے چناچہ فرماتے ہیں بہت سے اہل کتاب جن کے دل خوف خدا تھا وہ اس آیت کو سنتے ہی مشرف بااسلام ہوگئے عبداللہ بن سلام وغیرہ تو نبی کے زمانہ میں ہی مسلمان ہوچکے تھے کعب، احبار فاروق اعظم کے زمانہ میں اسی آیت کو سن کر اسلام لائے کعب احبار کہیں جارہے تھے کہ راستہ میں ایک شخص کو یہ آیت پڑھتے سنا سنتے ہی دل پر اس قدر خوف ہوا کہ چہرے پر ہاتھ پھیر کر دیکھا کہ میری صورت تو مسخ نہیں ہوئی اور اسی جگہ اور اسی وقت اسلام لے آئے۔ تفسیر قرطبی ص 244 ج 5)
عدم مغفرت شرک وکفر۔
گزشتہ آیت میں ایمان نہ لانے پر وعید اور تہدید تھی اب آئندہ آیت میں یہ بتلاتے ہیں کہ یہود اور نصاری یہ خیال نہ کریں کہ کفر اور شرک بھی دوسرے گناہوں کی طرح ایک گناہ ہے جس کی معافی اور مغفرت ہوسکتی ہے جیسا کہ یہود کا زعم تھا کہ سیغفرلنا کہ ہم جو گناہ کریں گے وہ معاف ہوجائے گا بلکہ کفر اور شرک کے متعلق قانون خداوندی یہ ہے کہ بیشک اللہ تعالیٰ بلاتوبہ کے نہیں بخشتا کفر اور شرک کے جرم کو اس کے ساتھ کسی کو شریک گردانا جائے جیسا کہ تم لوگ عزیر اور عیسیٰ کو اللہ اور اس کا بیٹا کہہ کر خدا کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہو اور کفر اور شرک سے کم تر اور نیچے درجے کے گناہوں کو خواہ وہ صغیرہ ہوں یا کبیرہ بلاتوبہ کے بھی معاف کردیتا ہے مگر سب کے لیے نہیں بلکہ جس کے لیے وہ معاف کرنا چاہے اسکے لیے معاف کردیتا ہے بلا توبہ کی قید اس لیے لگائی کہ توبہ سے تو سو سال کا کفر اور شرک بھی ایک منٹ میں معاف ہوجاتا ہے مقصود بلا توبہ کے مغفرت کا مسئلہ بتلانا ہے کہ کفر اور شرک بلا توبہ کے قابل مغفرت نہیں ان کی سزا دائمی عذاب ہے البتہ کفر اور شرک کے نیچے درجے کے جو گناہ ہیں صغیرہ ہوں یا کبیرہ وہ سب بلا توبہ کے قابل مغفرت ہیں اللہ تعالیٰ جس کی چاہیے مغفرت کردے اور جس وکچا ہے وہ عذاب دے اشارہ اس طرف ہے کہ یہود اور نصاری شرک میں مبتلا ہیں وہ مغفرت کی توقع نہ رکھیں اور جو شخص اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرائے اس نے بڑا ہی طوفان باندھا جو قطعا قابل مغفرت نہیں اللہ پر افتراء ایسا جرم عظیم ہے کہ وہ کسی طرح قابل معافی نہیں اسلیے کہ اس سے بڑھ کر اور کیا گناہ ہوسکتا ہے کہ مخلوق کو خالق کے برابر ٹھہرائے۔
لطائف ومعارف۔ 1۔ کتاب اور سنت اور اجماع امت سے یہ امر قطعا ثآبت ہے کہ کفر اور شرک یعنی کافر اور مشرک دونوں ہی قابل مغفرت نہیں مگر اس جگہ آیت میں شرک کا ذکر ہے کفر کا ذکر نہیں اور بعض کافر ایسے بھی ہیں جو مشرک نہیں بلکہ موحد ہیں مگر اسلام کے قائل نہیں اس شبہ کے چند جواب ہیں۔
جواب اول۔ ایک جواب یہ ہے کہ اس آیت میں صرف شرک کا ذکر ہے اور دوسری آیات میں صرف کفر کا ذکر ہے اور بعض آیات میں دونوں کا ذکر ہے اور یہ ضروری نہیں کہ ہر آیت میں معا دونوں کا ذکر ہو پس مجموعہ آیات سے کفر اور شرک دونوں ہی کا غیر مغفور اور ناقابل مغفرت ہونا ثابت ہوگیا اللہ کا ارشاد ہے ان الذین کفروا من اھل الکتاب والمشرکین۔۔۔ الی۔۔۔ البریہ۔ آیت۔ اس آیت میں کافرین اہل کتاب اور مشرکین دونوں ہی کے لی خلود فی النار کا ذکر فرمایا جس سے معلوم کہ مشرکین کی طرح کافر کی مغفرت بھی نہیں ہوسکتی۔ اور دوسری جگہ ارشاد ہے، فالذین کفروا قطعت۔۔۔ الی۔۔۔ فیھا۔ آیت اور ایک جگہ ارشاد ہے، ان الذین کفروا وصدوا۔۔۔ الی۔۔۔ لھم۔ آیت۔ ان آیات میں کافروں کے دائمی عذاب کا ہونا اور ان کی عدم مغفرت کا ذکر ہے۔ وقال تعالیٰ ان الذین کفروا وظلموا۔۔۔۔ الی۔۔۔ ابدا۔ آیت۔ اس آیت میں کافروں اور ظالموں یعنی مشرکوں دونوں ہی کے متعلق فرمادیا کہ ان کی مغفت نہیں ہوسکتی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دوزخ میں رہیں گے۔
دوسرا جواب۔ آیت میں شرک سے مطلق کفر مراد ہے جیسا کہ عبداللہ بن عباس سے منقول ہے (روح المعانی ص 46 ج 5) شیخ عبدالحق محدث دہلوی بھی ترجمہ مشکوۃ میں یہی فرماتے ہیں کہ شرک سے مطلق کفر مراد ہے خواہ وہ کسی قسم کا ہو اور علامہ خیالی حاشیہ شرح عقائد میں فرماتے ہیں، اللہ تعالیٰ کا یہ قول ان اللہ لایغفر ان یشرک بہ اس میں شرک سے مطلق کفر مراد ہے اور کفر کو شرک کے ساتھ اس لیے تعبیر کیا کہ کفار عرب مشرک ہی تھے۔
تیسرا جواب۔ کہ مشرک اس کو کہتے ہیں کہ اللہ کو تو مانتا ہو مگر اس کے ساتھ کسی کو شریک گردانتا ہو پس جب اس کی مغفت نہیں تو جو سرے ہی سے خدا کا کافر اور منکر ہو اس کی تو بدرجہ اول مغفرت نہیں ہوگی۔ 2۔ کفر اور شرک کے ناقبل مغفرت ہونے کی وجہ یہ ہے کہ کفر اور شرک اسلام کی نقیض ہے اور بغیر اسلام کے مغفرت اور نجات ممکن نہیں پس اگر کفر اور شرک بھی قابل مغفرت ہوجائیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اسلام کے بغیر بھی نجات اور مغفرت ممکن ہے۔ نیز تمام انبیاء کرام کفر وشرک کا دروازہ بند کرنے کے لیے مبعوژ ہوئے اور کفار ومشرکین سے جہا و قتال کیا پس اگر کفر اور شرک کی بھی مغفرت ممکن ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ایمان لاناضروری نہیں اور انبیاء کرام کی بعثت اور ایمان اور اسلام کی دعوت اور اہل کفر اور اہل شرک سیجہاد و قتال سب عبث تھا معاذاللہ کفر اور شرک کی مغفرت کا دروازہ اب بھی کھلا ہوا ہے نیز بیشمار آیات و احادیث سے یہ ثابت ہے کہ اللہ نے یہ حکم قطعی دیا ہے کہ کافروں اور مشرکوں کا عذاب دائمی ہوگا۔ کبھی عذاب سے رہا نہ ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کا حکم قطعی میں خوئی تغیر وتبدل نہیں ہوسکتا پس جب یہ معلوم ہوگیا کہ کافر کا عذاب دائمی ہے تو صاف طور پر معلوم ہوگیا کہ اس کی مغفرت بھی ممکن نہیں۔
امام ربانی مجددالف ثانی قدس اللہ سرہ فرماتے ہیں کہ کفر اور شرک کا عذاب دائمی اور ابدی ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا جیسا کہ نصوص قطعیہ اور موکدہ اس پر دلالت کرتی ہیں وجہ اس کی یہ ہے کہ کفر اور کافروں کے ساتھ اللہ کی عداوت ذاتیہ ثابت ہوچکی ہے تو ناچار رحمت ورافت جو صٖات جمال میں سے ہے اس سے آخرت میں کافروں کو کوئی حصہ نہیں ملے گا اور صفت رحمت اللہ کی عداوت ذاتی کو دور نہ کرے گی کیونکہ جو چیز ذات سے تعلق رکھتی ہے وہ بہ نسب اس چیز کے جو صٖت سے تعلق رکھتی ہے کہیں زیادہ اقوی اور ارفع ہوتی ہے پس مقتضائے ذات کو نہیں بدل سکتا اور یہ جو حدیث قدسی میں ہے کہ سبقت رحمتی علی غضبی۔ سو اس غضب سے غضب صفاتی سمجھنا چاہیے جو کہ گناہ گاروں کے ساتھ مخصوص ہے نہ کہ غضب ذاتی جو مشرکوں کے ساتھ مخصوص ہے اور اللہ شانہ کا یہ ارشاد ورحمتی وسعت کل شئی میری رحمت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے سو جاننا چاہیے کہ مومنوں اور کافروں کے حق میں رحمت کا وسیع ہونا صرف دنیا ہی میں مخصوص ہے اور آخرت میں تو کافروں کو رحمت کی بو بھی نہ پہنچے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے انہ لایائس من روح اللہ الاالقوم الکافرون اللہ کی رحمت سے سوائے کافروں کے کوئی ناامید نہ ہوگا۔
سوال۔ اگر یہ کہا جائے کہ جب کافروں کو دنیا میں خدا کی رحمت سے نصیب اور حصہ ہے تو پھر دنیا میں صفت رحمت نے اللہ کی ذاتی عداوت کو کیسے دور کردیا۔
جواب۔ کافروں کو دنیا میں جو رحمت سے حصہ ملا ہے وہ فقط ظاہر اور صورت کے اعتبار سے ہے اور در حقیقت ان کے حق میں وہ استدراج اور مکر ہے جیسا کہ آیت کریمہ، ایحسبون انما نمدھم بہ من مال۔۔۔ الی۔۔ متین۔ انہی معنی پر شاہد ہیں فافھم ذالک واستقم (مکتوب از دفتر اول) ۔ 3۔ یہ آیت اس امر کی صریح دلیل ہے کہ اگر گناہ کبیرہ کا مرتکب بغیر توبہ کے مرجائے تو وہ اللہ کی مشیت میں ہے یہ وہ اگر چاہے اس کو عذاب دوزخ میں مبتلا کرے پس یہ آیت معتزلہ اور قدریہ پر حجت قاطعہ ہے جو یہ کہتے ہیں کہ گناہ کبیرہ کا مرتکب کبھی نہیں بخشاجائے گا اور یہ کہتے ہیں کہ گناہوں کی معافی وعدہ بشرط توبہ ہے مگر معتزلہ کا یہ قول بالکل غلط بلکہ ایک مضحکہ خیز امر ہے اس لیے کہ اللہ نے اس آیت میں یہ وعدہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ شرک تو بخشے گا نہیں اور شرک سے کم درجے کے جتنے گناہ ہیں ان کو اگر چاہے گا تو بخش دے گا اور ظاہر ہے کہ توبہ کے ساتھ یہ وعدہ صحیح نہیں ہوسکتا اس لیے کہ توبہ سے تو بالاتفاق شرک بھی معاف ہوجاتا ہے اور کبیرہ کا تو توبہ سے معاف ہونا اور بھی یقینی ہے لہذا اس کی نسبت یہ کہنا کیسے صحیح ہوگا کہ اگر خدا چاہے گا بخش دے گا غرض یہ کہ یہ آیت اس امر پر نص قاطع ہے کہ کبیرہ گناہ کا مرتکب ہمیشہ دوزخ میں نہیں رہے گا اور بیشمار احادیث اوراقوال صحابہ سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ غرض یہ کہ اہل سنت کے نزدیک گناہ کبیرہ بلا توبہ کے اللہ کی رحمت سے معاف ہوسکتا ہے اور پھر نبی ﷺ کی شفاعت سے لاتعدود ولاتحصی کبائر معاف ہوں گے۔ 4۔ مادون ذالک کا بہتر ترجمہ یہ ہے کہ جو گناہ شرک سے کمتر اور نیچے کے درجہ میں ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے زید دون عمروزید وعمر سے کم تر اور فروتر ہے دون کے معنی کم تر اور فروتر کے ہیں ہر گناہ مشرک سے کمتر ہے اور ہر کفر شرک کے یا تو برابر ہے یا اس سے بالا اور برتر ہے۔ 5۔ اس آیت کی تفیسر میں معتزلہ کو سخت مشکل پیش آئی ہے کیونکہ معتزلہ کے نزدیک گناہ کبیرہ بھی شرک کی طرح بلا توبہ معاف نہیں ہوسکتا اور علامہ زمخشری نے بڑی دور دراز تاویلیں کی ہیں مگر بنتی اور چلتی نہیں۔
Ayahs 4:49–50یہود کے دعوائے تقدس کی تردید۔
قال تعالی، الم تر الی الذین۔۔۔ الی۔۔۔ اثما مبینا۔ آیت۔
ربط) گزشتہ آیات میں یہ بتلاتے ہیں یہود کا حال بیان کیا کہ وہ کفر اور شرک کی نجاستوں میں ملوث اور آلودہ ہیں اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ یہود باوجود ان خرابیوں کے اپنے آپ کو پاک اور مقدس کہتے ہیں کہ کبھی یہ کہتے ہیں، نحن ابناء اللہ واحباہ۔ یعنی ہم اللہ کے بیٹے اور اس کو چہیتے ہیں اور کبھی یہ کہتے ہیں کہ لن یدخل الجنۃ۔۔۔ الی۔۔ ھودا۔ یعنی جنت میں سوائے یہود کے کوئی اور داخل نہ ہوگا اور کبھی یہ کہتے ہیں، لن تمسناالنار الاایاما معدودہ یعنی سوائے چند روز کے دوزخ کی آگ ہم کو چھوئے گی نہیں ہمارے باپ دادا نبی تھے ان کی سفارش سے ہم رہا ہوجائیں اور کبھی یہ کہتے ہیں کہ ہم تو معصوم بچوں کی طرح بےگناہ ہیں ان کے اس فخر ومبابات کی تردید میں یہ آیت نازل ہوئی چناچہ فرماتے ہیں کیا آپ نے ان لوگوں کی طرف نظر نہیں کی جو باوجود گوسالہ پرستی کے اور باوجود حضرت عزیر کو ابن اللہ کہنے کے اپنے آپ کو کفر اور شرک سے پاک اور مقدس بتلاتے ہیں حالانکہ کفر اور شرک کی نجاست میں ملوث ہیں خود بخود پاکی اور تقدس کے دعوے سے کچھ نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ ہی جس کو چاہتا ہے پاک کرتا ہے جس کو اللہ نے ایمان اور تقوی اور عمل صالح کی دولت سے نوازا وہ پاک ہوا جزاوسزا اعمال کے مطابق ہوگی اور قیامت کے دن تاگے کے برابر بھی ان پر ظلم نہ ہوگا دیکھئے تو سہی کس طرح اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں کہ باوجود کفر اور شرک کے اپنے کو پاک بتلاتے ہیں اور باوجود مغضوب اور معتوب ہونے کے اپنے کو محبوب خداوندی کہتے ہیں اور باوجود بدکار ہونے کے اپنے کو معصوم کہتے ہیں اور یہی بات یعنی دیدہ و دانستہ خدا پر جھوٹ بولنا صریح گناہ اور صریح جرم ہونے کے لیے کافی ہے بالفرض اگر کوئی گناہ بھی نہ ہو تو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنا کھلا گناہ ہونے کے لیے کافی ہے۔
فائدہ۔ معلوم ہوا کہ اپنے کو پاک باز کہنا اور تقدس کا دعوی کرنا صریح گناہ ہے۔
اگر مروی از مردیے خود مگوی نہ ہر شہسوارے بدر برد گوئے
گنہ گار اندیشہ ناک از خدا بسے بہتر از عابد خود نما
اگر مشک خالص نداری مگو وگرہست خود فاش گردد ببوی۔
Ayahs 4:51–52مذمت یہود برعداوت اسلام وحسد برمسلمین
قال تعالی، الم تر الی الذین اوتوا نصیبا۔۔۔ الی۔۔ نصیرا۔ آیت۔
ربط) اوپر کی آیت میں یہود کی شرارت اور خباثت کا بیان تھا اب اس آیت میں یہود کی ایک اور قباحت اور خباثت کا بیان ہے وہ یہ کہ یہود کو اسلام سے اس درجہ عداوت ہے کہ مشرکین کو موحدین پر ترجیح دیتے ہیں یہودیوں کو جب نبی سے عداوت بڑھی تو یہود خیبر کے علماء اور روسا کا ایک وفد جو ستر آدمیوں پر مشتمل تھا اس غرض سے مکہ آیا کہ قریش کے ساتھ آپ سے مقابلہ اور مقاتلہ کرنے کے لیے عہد کرلے اور قریش نے وفد یہود کی بہت خاطر تواضع کی اور قریش نے یہ اطمینان دلایا کہ ہم تاحد امکان تمہارے ساتھ ہو کر محمد کے ساتھ لڑنے میں دریغ نہ کریں گے مگر ہم تو ان پڑھ ہیں ہم کو کچھ علم نہیں اور تم علم والے لوگ ہو یہ بتلاؤ کہ ہمارا دین بہتر ہے یا پیروان محمد کا کعب بن اشرف نے کہا کہ تم مجھے اپنا دین بتلاؤ کہ وہ کیا ہے ابوسفیا نے کہا ہم حاجیوں کی خدمت کرتے ہیں اور مہمانوں کی ضیافت کرتے ہیں اور قیدیوں کو چھڑاتے ہیں اور خانہ خدا کو آباد رکھتے ہیں اور اس کا طواف کرتے ہیں اور ہم حرم کے رہنے والے ہیں اور محمد نے اپنے بزرگوں کا دین چھوڑ دیا اور رشتوں کو توڑ ڈالا اور حرم سے جداہو گیا اور ہمارا دین قدیم ہے پہلے سے چلا آرہا ہے اور محمد صلی اللہ علیہ کا دین نیا ہے کعب نے کہا بخدا تم بہ نسبت محمد کے زیادہ ہدایت اور راہ راست پر ہو اور تمہارا دین اسکے دین سے بہتر ہے اور یہود نے قریش کی خاطر سے بتوں کو سجدہ کیا اور ان کی تعظیم کی اس پر لالہ نے یہ آیت نازل فرمائی کیا آپ نے ان لوگوں کی طرف نظر نہیں کی جن کو کتاب (تورات) کے علم سے ایک حصہ دیا گیا ہے باوجود کے اس کے وہ بتوں اور معبود باطل پر ایمان لاتے ہیں اور شیطان کو مانتے ہیں اور یہ امر کس قدر تعجب خیز ہے کہ وہ مسلمانوں کی عداوت میں کفار مکہ اور مشرکین کی نسبت یہ کہتے ہیں کہ یہ مشرکین مکہ مسلمانوں سے زیادہ راہ ہدایت پر ہیں جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ شرک توحید سے بہتر ہے حالانکہ جس کتاب (توریت) پر یہ ایمان رکھتے ہیں وہ توحید کی تعلیم بت پرستی کی مذمت سے بھری پڑی ہے یہی وہ لوگ جن پر اللہ نے لعنت کی ہے یعنی جن لوگوں نے مشرکین کو موحدین پر ترجیح دی اور طریقہ کفر وشرک کو طریقہ اسلام سے افضل بتلایا ان پر اللہ کی لعنت ہے اور جس پر اللہ کی لعنت ہو تو اے نبی آپ اس کا کوئی حامی و مددگار نہ پائیں گے جو اس کو دنیا اور آخرت کی ذلت اور رسوائی سے بچا سکے چناچہ یہود مسلمانوں کے ہاتھ سے ذلیل اور خوار ہوئے کوئی قید ہوا اور کوئی قتل اور قریش کی کوئی مدد ان کے کام نہ آئی اس آیت میں اسلام کے غلبہ اور یہود کے مغلوب ہونے کی بشارت ہے۔
ف) جبت بتوں کو کہتے ہیں کہ اور طاغوت شیاطین کو اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ طاغوت ہر سرکش کو کہتے ہیں کہ اس جگہ طاغوت سے کعب بن اشرف یہودی مراد ہے جو شیطان تھا صورت میں انسان کے اور بعض کا قول یہ ہے کہ ہر معبود باطل کو طاغوت کہتے ہیں۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 4:53–57مذمت یہود بربخل وحسد۔
قال تعالی، ام لھم نصیب۔۔۔۔ الی۔۔۔ ظلیلا۔ آیت۔
ربط) یہ آیت بھی یہود کے حق میں ہے گزشتہ آیات میں یہود کے معائب بیان ہوئے کہ وہ باجود کفر وشرک میں ملوث ہونے کے اپنے آپ کو پاک اور مقدس بتلاتے ہیں اور خدا تعالیٰ پر افتراء کرتے ہیں اور مشرکین کو موحدین پر ترجیح دیتے ہیں اور اب ان آیات میں یہود کے بخل اور حسد کو بیان فرماتے ہیں کہ یہ لوگ غایت درجہ بخیل اور حاسد ہیں محض حسد کی وجہ سے سیدنا محمد رسول اللہ پر ایمان نہیں لاتے کہ نبی آخر الزمان بنی اسماعیل میں سے کیوں ہوئے بنی اسرائیل میں سے کیوں نہ ہوئے نیز یہود کا یہ دعوی اور زعم تھا کہ اخیر زمانہ میں یہود کی سلطنت ہوگی اور یہ کہتے تھے کہ آخر حکومت اور بادشاہت ہمیں کو پہنچ کررہے گی برائے چندے اگر اوروں کو مل جائے تو مضایقہ نہیں۔ اللہ نے اس آیت میں ان کی تکذیب اور ان کے دعوے کو جھوٹا قرار دیا چناچہ فرماتے ہیں کہ کیا ان کے لیے ان کی آرزو کے مطابق سلطنت اور بادشاہی میں سے کوئی حصہ ہرگز نہیں یہ استفہام انکاری ہے مطلب یہ ہے کہ ان کے پاس سلطنت کا کوئی حصہ نہیں پھر ان کو نبی ﷺ کے اتباع سے کیوں عار آتی ہے ان لوگوں پر ظلم اور طغیان اور عصیان اور عدوان کی وجہ سے ذلت اور مسکنت کی مہر لگ چکی ہے پس اگر ان لوگوں کو سلطنت مل جائے تو یہ لگ اس درجہ بخیل ہیں کہ لوگوں کو تل برابر بھی کوئی چیز نہ دیں اور سلطنت کے منافع کو اپنے لیے مخصوص کرلیں اور جو لوگ اس درجہ بخیل ہوں کہ سلطنت ملنے کے بعد لوگوں کو ایک تل دینا بھی گوارا نہ کریں وہ سلطنت کے حق دار اور اہل نہیں یہ ان کے بخل کا بیان تھا اب آئندہ آیت میں ان کے حسد کو بیان کرتے ہیں کیا یہ یہود وعرب کے لوگوں یعنی بنی اسماعیل کی اس نعمت پر حسد کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے فضل سے دی ہے لوگوں سے نبی ﷺ اور آپ کے اصحاب مراد ہیں اور نعمت سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے منصب نبوت سے سرفراز فرمایا اور نبوت کے ساتھ حکومت اور بادشاہت بھی دی حسد اس پر ہے کہ نبوت اور بادشاہت تو حصہ بنی اسرائیل کا تھا دین ودنیا کی نعمت بنی اسماعیل کو کیسے مل گئی۔
اللہ تعالیٰ ان کے جواب میں فرماتے ہیں پس تحقیق دی ہے ہم نے اولاد ابراہیم کو کتاب اور حکمت اور ہم نے ان کو بڑی بھاری سلطنت اور بادشاہت بھی دی ہے جیسے حضرت یوسف اور داود اور حضرت سلیمان کو نبوت کے ساتھ بادشاہت بھی عطا کی جو حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے تھے اسی طرح سیدنا محمد رسول اللہ بھی تو حضرت ابراہیم کی اولاد سے ہیں پھر نبی کی نبوت اور ریاست پر کیوں حسد کرتے ہیں اللہ شانہ نے پہلے حضرت ابراہیم کے ایک خاندان بنی اسرئیل کو نبوت وبادزاہت سے سرفراز کیا اب دوسرے خاندان یعنی بنی اسماعیل کو نبوت وبادشاہت عطا کی تو حسد اور تعجب کی کیا بات ہے یہود بےبہود کا خیال یہ ہے کہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت بنی اسرائیل کے علاوہ اور کسی خاندان کو نہیں ملے گا پس ان حاسدین میں سے کوئی تو آپ پر ایمان لایا جیسے عبداللہ بن سلام اور ان کے رفقاء اور کوئی ایمان لانے سے باز رہا جیسے کعب بن اشرف وغیرہ اور ان کی سزا کے لیے دوزخ کی دھکتی ہوئی آگ کافی ہے اور بعض علماء نے بہ کی ضمیر انبیاء سابقین کی طرف راجع کی ہے اس صورت میں یہ مطلب ہوگا کہ اولاد ابراہیم میں سے جن نبیوں کو ہم کتاب دی ان پر بعض یہود تو ایمان لائے اور بعض نے ان کو بھی نہ مانا پس اے نبی اگر یہ لوگ آپ کی نبوت کو بھی نہ مانیں تو کوئی تعجب نہیں ان کی جروش پہلے تھی وہی اب بھی ہے ایسے ہٹ دھڑوں کی سزا کے لیے دوزخ کافی ہے یہ آیت یہود کے حق میں تھی اب آئندہ آیت میں عام مومنین اور عام کفار کی جزا وسزا کا بطور قاعدہ کلیہ ذکر ہے جس میں یہود بھی داخل ہیں تحقیق جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو نہیں مانا ہم ضرور ان کو آگ میں ڈالیں گے جب کبھی آگ سے ان کی کھالیں جل جایا کریں گی تو ہم فورا پہلی کھالوں کے سوا دوسری نئی کھالیں بدل دیا کریں گے تاکہ اچھی عذاب کا مزہ چکھیں اور ہر لحظہ اور ہر ساعت عذاب کا الم محسوس کرتے رہیں تازہ کھال کو جس قدر الم محسوس ہوتا ہے جلی ہوئی کھال کو اتنا محسوس نہیں ہوتا بیشک اللہ زبردست حکمت والا ہے اور وہ سب پر غالب ہے کوئی اس کو عذاب دینے سے روک نہیں سکتا اور حکمت والا ہے اس کا عذاب عین حکمت اور مصلحت ہے اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے اور ان کو ہم ایسے باغوں میں داخل کریں گے جن کے درختوں اور مکانوں کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے یعنی ان باغوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے اور کبھی وہاں سے نکالے نہ جائیں گے ان کے لیے ان باغوں میں پاک وصاف بیویاں ہوں گی اور ہم ان کو بڑے گنجان سایہ کی جگہ میں بھی داخل کریں گے یعنی جنت میں نہ گرمی ہوگی اور نہ سردی بلکہ ایسا آرام ملے گا جیسا کہ سایہ میں بیٹھ کر ملتا ہے ملک عرب چونکہ نہایت گرم ہے اس لیے وہاں کے لوگ سایہ کو غایت درجہ راحت جانتے تھے اس مقام پر لوگ یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ جب جنت میں سورج نہیں تو سایہ کیسا کمال قال تعالی، لایرون فیھا شمسا ولازمھریرا۔ آیت۔
جواب۔ یہ ہے کہ روشنی اور دھوپ کے لیے خاص آفتاب کا وجود ضروری نہیں اللہ تعالیٰ جس طرح چاہے نور اور تیز روشنی پیدا کردے اخروی نعمتوں کو دنیاوی نعمتوں پر قیاس نہ کرنا چاہیے جس طرح وہ آخرت میں دود اور شہد بلا اسباب ظاہرہ کے محض اپنی قدرت سے پیدا فرمائے گا اسی طرح وہ جنت میں روشنی اور سایہ بھی اپنی قدرت سے پیدا فرمادے گا۔
Ayahs 4:58–59حکم نوزدہم اداء امانت و اقامت عدل۔
قال تعالی، ان اللہ یامرکم۔۔۔ الی۔۔۔ تاویلا۔
ربط) دور سے یہود کے قبائح اور حدود اللہ سے ان کی تعدیوں کا بیان چلا آرہا ہے اب ان آیات میں ان کی ایک اور تعدی کو بیان فرماتے ہیں کہ من جملہ تعدی حدود اللہ کے ایک تعدی امانت میں خیانت اور فیصلہ میں بےانصافی ہے یہود کی یہ عادت تھی کہ امانت میں خیانت کے کرتے اور فصل خومات میں رشوت لے کر بےانصافی کرتے اس لیے ان آیات میں اللہ نے امانت داری اور عدل و انصاف اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور اولی الامر کی اطاعت کا حکم دیتے ہیں اس لیے دخول جنت اور ازواج مطہرہ اور ظل ظلیل کے مستحق اہل امانت اور اہل عدالت ہی ہوسکتے ہیں اور اعمال صالحہ میں امانت اور عدالت بہت بڑا عمل صالح ہے بلکہ تمام اخلاق اور اعمال اور معاملات دنییہ ودنیویہ اور حکومت و ریاست کی روح بھی صفت عدل وامانت ہے چناچہ فرماتے ہیں تحقیق اللہ تم کو حکم دیتا ہے کہ امانتوں کو امانت والوں کے حوالہ اور سپرد کرو خواہ وہ امانتیں دنیا سے متعلق ہوں یا دین سے اس آیت میں عثمان بن طلحہ کے قصہ کی طرف اشارہ ہے امام بغوی فرماتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن نبی نے خانہ کعبہ کے اندر داخل ہونا چاہا تو عثمان بن طلحہ جو خانہ کعبہ کے کلید براردر تھے ان سے نبی ﷺ نے خانہ کعبہ کی کنجی طلب کی عثمان نے کنجی دینے سے انکار کردیا اور کہا کہ اگر میں آپ کو خدا کا رسول جانتا تو میں کنجی دینے سے انکار نہ کرتا لیکن میرے علم میں آپ خدا کے رسول نہیں اس پر حضرت علی نے عثمان کا ہاتھ پکڑ کر مروڑ دیا اور کنجی ان سے چھین لی اور خانہ کعبہ کا دروازہ کھولا رسول اللہ خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوئے اور دو رکعت نماز پڑھی جب آپ باہر نکلے تو حضرت عباس نے آپ سے درخواست کی کہ یہ کنجی مجھ کو دے دی جائے تاکہ سقایت زمزم یعنی حاجیوں کو زمزم پلانے کی خدمت کے ساتھ خانہ کعبہ کی حجابت (کلید برداری) بھی مجھے مل جائے اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی رسول اللہ نے حضرت علی کو حکم دیا کہ کنجی عثمان بن طلحہ کے حوالہ کردو علی نے کنجی عثمان بن طلحہ کے حوالہ کردی اور کہا کہ تمہارے بارے میں اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی اور ان کو یہ آیت پڑھ کر سنائی عثمان بن طلحہ نے جب یہ آیت سنی تو فورا مسلمان ہوگئے اور کہا کہ اشھد ان الالہ الا اللہ وان محمد رسول اللہ۔
امام بغوی کی اس روایت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عثمان بن طلحہ فتح مکہ کے دن اس آیت کے نزول کے بعد مشرف باسلام ہوئے لیکن اکثر علماء کا قول یہ ہے کہ عثمان بن طلحہ صلح حدیبیہ کے زمانہ میں خالد بن ولید کے ساتھ مدینہ منورہ حاضر ہو کر آئے اور اسلام قبول کیا اور جب فتح مکہ کے دن نبی مکہ آئے اور عثمان سے خانہ کعبہ کی کنجی طلب کی تو عثمان نے بےتامل آپ کے حوالے کردی اور پھر خانہ کعبہ سے باہر آکر جب آپ وہ کنجی عثمان کو دینے لگے تو حضرت عباس ؓ بول اٹھے کہ یارسول اللہ یہ کنجی میرے حوالے کردی جائے اور اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور آپ نے عثمان کی امانت عثمان کے حوالے کردی اور یہ فرمایا کہ اللہ نے یہ کنجی تم کو واپس دلائی ہے اب یہ کنجی ہمیشہ تمہارے ہی پاس رہے گی اور جو شخص یہ کنجی تم سے چھینے گا وہ ظالم کہلائے گا مرتے دم تک یہ کنجی عثمان ہی کے پاس رہی مرتے وقت یہ کنجی اپنے بھائی شیبہ کو دی چناچہ اب تک خانہ کعبہ کی کنجی شیبہ کی اولاد میں ہے اور انشاء اللہ قیامت تک اسی کی اولاد میں رہے گی۔
عدل کا حکم۔
اور اللہ تعالیٰ تم کو یہ حکم دیتے ہیں خہ جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف سے فیصلہ کرو یعنی فیصلہ میں کسی کی رعایت نہ کرو اور نہ کسی پر ظلم کرو مدعی اور مدعی علیہ دونوں کو اپنے پاس بٹھا کر دونوں کی طرف متوجہ ہو اور دونوں کی بات سن کر جو حق معلوم ہو اس کے مطابق فیصلہ کرو اور اپنے اور پرائے کا امتیاز نہ کرو بیشک اللہ تعالیٰ تم کو بہت ہی عمدہ نصیحت کرتا ہے یعنی امانت کا ادا کرنا اور عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا بلاشبہ امانت اور عدالت نہایت ہی عمدہ خصلت ہے جس پر دین ودنیا کی صلاح اور فلاح موقوف ہے آخرت کا معاملہ تو بہت بڑا ہے دنیائے فانی کی حکومت میں بدون امانت اور عدالت نہیں چلتی بیشک اللہ تعالیٰ تمہارے اقول وافعال کو جو فیصلہ کے عقت سرزد ہوتے ہیں سننے والا دیکھنے ولا ہے تمہاری امانت اور خیانت اللہ سے مخفی نہیں پس تم کو چاہیے کہ اللہ اور اس کی رسول کے حکم پر چلو اور اختلاف کے وقت اللہ اور اس کے رسول یعنی کتاب وسنت کی طرف رجوع کرو چناچہ فرماتے ہیں کہ اے ایمان والو اطاعت اور فرمانبرداری کرو اللہ کی جو قانون عدل اور امانت کا واضع ہے اور فرمانبرداری کرو پیغمبر خدا کی جو قانون خداوندی کی ترجمان ہے اور فرمانبرداری کرو اپنے فرماں رواؤں کی بشرطیکہ وہ تم میں سے ہوں یعنی مسلمانوں سے ہوں اللہ اور اس کی رسول پر ایمان رکھتے ہوں اور ان حکام کا مقصود حکومت سے یہ ہو کر احکام شریعت کے ساتھ فیصلہ کریں تو ایسے حکام کی اطاعت واجب ہے اور اگر تم میں اور حکام میں کسی وقت کسی شے میں باہم نزاع اور اختلاف ہوجائے کہ یہ حکم اور یہ فیصلہ اللہ اور اسکے رسول کو موافق ہے یا مخالف تو اس کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف راجع کرو یعنی جس بات میں اختلاف ہوجائے تو اس کو کتاب اللہ اور سنت رسول کی طرف لوٹاؤ اگر تم اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو یعنی اگر تم اس پر ایمان رکھتے ہو کہ قانون خداوندی کی اطاعت واجب ہے اور اس پر ایمان رکھتے ہو کہ قیامت کے دن قانون شریعت پر عمل کرنے والوں اور نہ کرنے والوں کو جزاء وسزا ضرور ملے گی تو نزاع کے وقت کتاب وسنت کی طرف رجوع کرو یہ یعنی کتاب وسنت کی طرف رجوع کرنا ہی تمہارے لیے غایت درجہ نافع اور بہتر ہے اور اگر بالفرض والتقدیر اس وقت تم کو حکم شرعی نافع اور مفید نہ معلوم ہو خوب سمجھ لو کہ وہ باعتبار انجام کے تمہارے لیے بہتر ہے یعنی اس کی عاقبت محمود ہے فیصلہ میں خدا کی طرف رجوع کرنے کا انجام بہتر ہے اور اپنی خواہش اور غرض کی طرف رجوع کرنے کا انجام برا ہے۔
لطائف ومعارف۔
1) امانت کی حقیقت یہ ہے کہ جس کسی کا جو حق تم پر واجب ہو اس کو طیب خاطر کے ساتھ ادا کرو۔
2) آیت کا نزول اگرچہ خاص واقعہ مفتاح میں ہوا ہے لیکن بالاجماع یہ آیت مال ودیعت کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ لفظ امانات میں جملہ اقسام کی امانتیں داخل ہیں کیونکہ الامانات پر جو الف لام داخل کیا گیا ہے وہ استغراق کے لیے ہے اور مطلب یہ ہے کہ جملہ اقسام کی امانتوں کی رعایت واجب ہے کسی امانت میں بھی خیانت روا نہیں۔
3) جاننا چاہیے کہ انسان کے معاملات کی کل تین قسمیں ہیں یا تو انسان کا معاملہ خدا تعالیٰ کے ساتھ ہے اور یا لوگوں کے ساتھ اور یا اپنے نفس کے ساتھ ہے تینوں قسموں میں امانت کی رعایت ہر انسان پر فرض ہے۔
1) خدا تعالیٰ کے ساتھ امانت کی رعایت یہ ہے کہ جن باتوں کا خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے ان کو بجالائے اور جن باتوں سے منع کیا ہے ان سے رکار ہے احکام خداوندی کی بجا آوری میں خیانت نہ کرے۔
2) اور لوگوں کے ساتھ امانت کی رعایت یہ ہے کہ ان کی ودیعتیں اور ان کے قرض ادا کرے مانپ تول کی کمی نہ کرے اور بادشاہوں کی امانت یہ ہے کہ رعایا کے حقوق ادا کریں عہدہ اور منصب کسی نااہل کو نہ دیں نااہل کو عہدہ اور منصب دینا رعایا کے ساتھ خیانت ہے اور علماء کی امانت یہ ہے کہ احکام خداوندی بلاکم وکاست شریعت کے مطابق لوگوں تک پہنچادیں۔
3) اور اپنے نفس کے ساتھ امانت کی رعایت یہ ہے کہ اپنے اعضاء وجوارح سے وہ کام نہ لے جو دنیا اور آخرت میں اس کے لیے مضر ہوں مثلا زبان کو کلمات کفر اور بدعت اور کذب وغیبت سے محفوظ رکھے اور آنکھ کی امانت یہ ہے کہ اس کو حرام کی طرف دیکھنے سے محفوظ رکھے اور کان کی امانت یہ ہے کہ جھوٹ اور غیبت اور گانے بجانے کے سننے سے محفوظ رکھے اور شرمگاہ کی امانت یہ ہے کہ اس کو حرام سے بچائے۔ قرآن کریم میں جابجا امانت ادا کرنے کی تاکید آئی ہے اور حدیث میں ہے کہ جس میں امانت نہیں اس میں ایمان نہیں اور جس کو اپنے عہد کا پاس اس میں دین نہیں۔
4) دوسری آیت یعنی واذا حکمتم بین الناس ان تحکموا بالعدل میں حکام کو حکم دیا گیا کہ لوگوں کے اختلافات اور نزاعات کا فیصلہ عدل اور انصاف کے ساتھ کریں حق کے مطابق فیصلہ کریں ذرہ برابر کسی کی رعایت نہ کریں۔ دنیا کے اعتبار سے عدل کا فائدہ یہ ہے کہ حکومت کا بقاء اور استحکام عدل و انصاف پر موقوف ہے حکومت کفر کے ساتھ چل سکتی ہے مگر ظلم کے ساتھ نہیں چل سکتی جس حکومت سے عدل و انصاف رخصت ہوجاتا ہے تو اس کے ساتھ ملک کی برکتیں بھی رخصت ہوجاتی ہیں آسمان کی بارشیں کم ہوجاتی ہیں اور زمین کی پیداوار بھی گھٹ جاتی ہے مروتیں مضمل ہوجاتی ہیں ملک میں مکروفریب پھیل جاتا ہے اور سکون اور اطمینان گم ہوجاتا ہے اور جب مظلوم داد رسی اور فریاد سے محروم ہو کر آسمان کی طرف دیکھتا ہے تو قہر خداوندی جوش میں آتا ہے اور پھر بعد چندے وہ ہوتا ہے جو دنیا دیکھتی ہے اللہ پناہ میں رکھے اور آخرت کے اعتبار عدل کا فائدہ یہ ہے کہ عدل و انصاف قیامت کے دن حق تعالیٰ کے قرب ورضا اور اعزاز اکرام کا ذریعہ ہے۔ حدیث میں ہے کہ عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے والے حاکموں کو قیامت کے دن نور کے منبروں پر بٹھایا جائے گا اور حدیث میں ہے کہ تین شخصوں کی دعا رد نہیں ہوتی، عادل فرمانبردار، اور روزہ دار، اور مظلوم۔ اور حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سات شخصوں کو عرش کے سایہ میں جگہ دے گا منجملہ ان کے ایک عادل فرمانبردار ہے۔
5) اولوالامر کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے بعض کہتے ہیں کہ اولی الامر سے امراء اور حکام مراد ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ اولی الامر سے فقہاء اور علماء دین مراد ہیں اور حضرت ابن عباس جابر بن عبداللہ حسن بصری ضحاک، مجاہد کا یہی قول ہے۔ تفسیر درمنثور ص 176 ج 2) ۔
امام قرطبی فرماتے ہیں کہ امام مالک کے نزدیک بھی یہی قول مختار اور پسندیدہ ہے اور مجاہد کہتے ہیں کہ اولی الامر سے صحابہ کرام مراد ہیں اور عکرمہ کہتے ہیں کہ اس سے ابوبکر وعمر مراد ہیں تفسیر قرطبی ص 259 ج 5) ۔ اور شیعہ کہتے ہیں کہ اولی الامر سے ایمہ اثناء عشر مراد ہیں یعنی ائمہ معصومین مراد ہیں جن کا دنیا میں کہیں وجود نہیں نہ معلوم کہ حضرات شیعہ نے معدوم کی اطاعت کی کیا صورت نکالی۔ اور غوروفکر کے بعد یہ معلوم ہوتا ہے کہ اولی الامر کے معنی ارباب حکومت اور اہل اختیار کے ہیں جو امراء اور حکام اور علماء دین اور خلفاء راشدین سب پر صادق آتی ہیں کیونکہ شاہ عبدالقادر نے اولی الامر کا ترجمہ (اور جو اختیار والے ہیں تم میں) کیا ہے اور مولانا اشرف علی صاحب نے اولی الامر کا ترجمہ اس طرح کیا ہے اور جو لوگ تم میں اہل حکومت ہیں اور حکومت اور اختیار عام ہے خواہ دنیا کے اعتبار سے ہو یا دین کے اعتبار سے تدبیر ملکی اور حرب اور ضرب میں امراء و حکام کی اطاعت واجب ہے بشرطیکہ ان کے احکام شریعت کے مطابق ہوں اور اگر امیر اور حاکم معصیت کا حکم دے تو پھر امیر اور حاکم کی اطاعت جائز نہیں۔ اور دینی اعتبار سے علماء اور فقہاء اور حاکم اور ذی اختیار ہیں عوام پر علماء اور فقہاء کا اتباع واجب ہے اس لیے کہ علماء انبیاء کرام کے وارث ہیں اور حکام شریعت کے خازن وامین ہیں اور خزانہ علم نبوی کے حفیظ علیم ہیں۔
اور اللہ جل شانہ کا یہ ارشاد ولو ردوہ الی الرسول والی اولی الامر منھم لعلمہ الذین یستنبطونہ۔ آیت۔ بھی اسی پر دلالت کرتا ہے کہ اولی الامر سے علماء مجتہدین مراد ہیں اور جو اجتہاد او استنباط کی صلاحت رکھتے ہوں اور ان کی طرف رجوع کرنا واجب ہے جو احکام اور مسائل بصراحت کتاب وسنت میں نہ پائے جائیں وہاں عوام پر علماء مجتہدین ومستنبطین کی تقلید اور اتباع واجب ہے غرض یہ کہ جو کوئی مسلمانوں کی دینی یا دنیوی صلاح کا والی اور متولی ہو وہ اولی الامر کے تحت میں داخل ہے اور خلفاء راشدین چونکہ نبی کریم ﷺ کے قائم مقام تھے اس لیے وہ دونوں قسم کی اصلاح کے والی اور متولی تھے اور دین دنیا دونوں اعتبار سے حاکم اور فرمانروا اور ذی اختیار تھے اور سب سے زیادہ اولی الامر کے لقب کا استحقاق رکھتے تھے جو خلفاء راشدین کی سنت کے اتباع کو واجب نہ سمجھے وہ اہل سنت والجماعت میں سے نہیں۔
(6) اصول دین اور ادلہ شرعیہ) ۔ امام رازی قدس سرہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت شریفہ میں اصولی دین اور ادلہ شرعیہ کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ علماء اصول نے لکھا ہے کہ ادلہ شرعیہ چار ہیں کتاب اللہ سنت رسول اللہ اجماع امت اور قیاس فقہاء مجتہدین، اطیعواللہ میں کتاب اللہ کے اتباع کی طرف اشارہ ہے جو اصول دین میں اصل اول ہے اور اطیعوالرسول میں سنت رسول اللہ کے اتباع کی طرف اشارہ ہے جو دین کی اصل ثالث ہے کیونکہ حقیقت میں امراء اور اولی الامر سے وہی علماء ربانیین اور راسخین فی العلم مراد ہیں جو کتاب وسنت سے احکام خداوندی کا استنباط کرسکتے ہوں اور علماء اصول کی اصطلاح میں ایسے ہی لوگوں کو اہل حل وعقد کہا جاتا ہے اور ایسے ہی علماء مستنبطین کے قول واقرار سے اجماع منعقد ہوتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کے بعد قطعی اور جزمی طور پر جس کا اتباع واجب اور لازم ہے وہ اجماع علماء ہے علماء فردا فردا اگرچہ غیر معصوم ہیں لیکن علماء ربانین اور مستنبطین کا اجماع معصوم عن الخطاء ہے جیسا کہ حدیث میں ہے لاتجتمع امتی علی الضلالۃ اس لیے اولی الامر کے اجماع کی اطاعت اور اتباع رسول اللہ کی اطاعت کے ساتھ ملا کر ایک اطیعوا کے تحت میں ذکر فرمایا ہے اور فان تنازعتم فی شئی میں نزاع اور اختلاف سے اس شی میں نزاع اور اختلاف مراد ہے جس کا حکم کتاب وسنت واجماع میں منصوص اور مصرح نہ ہو کیونکہ جس کا حکم منصوص ہوگا وہ اطیعواللہ واطیعوالرسول والی الامر، میں داخل ہوگا پھر اس قضیہ شرطیہ یعنی فان تنازعتم لانے کی کیا ضرورت ہوگی۔ عالم میں جو واقعات پیش آتے ہیں وہ دو قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ جن کے احکام منصوص ہیں دوم وہ جو منصوص نہیں اول الذکر کے متعلق، اطیعوا اللہ واطیعوالرسول کا حکم دیا گیا اور دوسری قسم یعنی واقعہ کا حکم منصوص نہ ہو تو اس کے متعلق یہ حکم دیا گیا کہ فردوہ الی اللہ والرسول۔ یعنی جس واقعہ کا حکم منصوص نہ ہو تو اس غیر منصوص کا حکم معلوم کرنے کے لیے کتاب وسنت کی طرف رجوع کرو اور اس جیسے واقعات کا جو حکم کتاب وسنت میں ہے وہی اس غیر منصوص کے لیے ثابت کردو اور مشابہت اور مماثلت کی بناء پر غیرمنصوص کے لیے منصوص کا حکم ثابت کرنا اسی کا نام قیاس اور اجتہاد اور استنباط ہے جو دین کی اصل چہارم ہے کتاب وسنت احکام خداوندی کا خزینہ اور دفینہ ہے جو احکام کتاب ونست میں منصوص اور صراحۃ مذکور ہیں وہ بمنزلہ ایسے خزانہ کے ہیں جو گھر میں رکھا ہوا ہے ہر ایک بصیر اور بینا کو دکھائی دے سکتا ہے اور جو احکام غیر منصوص ہیں وہ بمنزلہ دفینہ کے ہیں جو کتاب وسنت کے عمق اور گہرائی میں مدفون اور مستور ہیں جن کا سوائے حاذق اور ماہر کے کسی کو پتہ نہیں چل سکتا پس جو علوم اور احکام کتاب وسنت کی تہ میں مدفون اور مخزون ہیں ان کو اپنی باطنی حذاقت اور اندرونی بصیرت سے باہر نکال لانے کا نام اجتہاد اور استنباط ہے جو شخص خود اسنتباط نہ کرسکے اس کو مستنبطین کا اتباع لازم ہے چوں تو یوسف نیستی یعقوب باش، اور اسی کا نام تقلید ہے جو لوگ اجتہاد اور استنباط کی صلاحیت نہ رکھتے ہوں اور ان پر راسختین فی العلم اور مستنبطین کا اتباع واجب ہے اور اپنی ناقص رائے اور ناتمام فہم کا اتباع ناجائز ہے۔ حضرت مولانا سید محمد انور شاہ قدس اللہ سرہ فرمایا کرتے تھے کہ اللہ نے دنیا میں دونعمتیں اتاریں ایک حفظ کی اور ایک فہم کی حفظ کی نعمت سے محدثین اور لغویین کو سرفراز فرمایا اور فہم و فراست کی نعمت سے فقہاء اور عارفین یعنی اولیاء اللہ کو سرفراز فرمایا انتہی کلامہ۔
پس جس طرح اللہ تعالیٰ شانہ نے ذخیرہ حدیث کی تدوین کے لیے بخاری اور مسلم اور ابوداود وترمذی کو خاص طور پر منتخب فرمایا اور امت محمدیہ کو ان حضرات کی تدوین کردہ کتابوں کی تلقی بالقبول کا الہام فرمایا اسی طرح تدوین فقہ اور استنباط مسائل کے لیے ائمہ کرام یعنی امام ابوحنیفہ اور امام مالک اور امام شافعی اور امام احمد کو منتخب فرمایا اور امت کے علماء وصلحاء عوام وخاص کے دلوں میں ان کی تقلید کا داعیہ پیدا فرمایا کہ ان حضرات کے فہم واستنباط پر بھروسہ اور اعتماد کرکے ان کے سمجھے ہوئے کے مطابق شریعت پر عمل کریں ایمہ مجتہیدین کی تقلید پر انکار کرنے والوں اور تقلید شخصی کو شرک و بدعت بتانے والوں پر تعجب ہے کہ صحت حدیث اور جرح وتعدیل میں بخاری اور امام مسلم اور صحاحہ ستہ کا اتباع اور تقلید تو مستحسن ہو اور مسائل اجتہادیہ میں ابوحنیفہ اور شافعی کا اتباع کو رانہ تقلید اور بدعت اور شرک کہلائے دنیا میں سینکڑوں محدث اور بیشمار حدیث کی کتابیں ہیں مگر ان میں سے جس طرح صحیین اور صحاح ستہ کو علماء نے منتخب کرلیا ہے اور بلادلیل ان کتابوں کی حدیث کو معتبر سمجھا جاتا ہے اور کوئی شرک اور بدعت نہیں بتلاتا اس طرح دنیا میں بہت سے مجتہد گزرے مگر من جانب اللہ امت محمدیہ کے محدیثین اور مفسرین اور الیاء کرام اور متکلمین انہی چار کی اتباع اور تقلید میں منحصر ہوگئے اور سب علماء کا اس پر اجماع ہوگیا کہ ان چار حضرات سے زیادہ کوئی عالم کتاب وسنت اور احکام شریعت کو سمجھنے والا نہیں۔ اگرچہ اب بھی اجتہاد ممکن ہے نبوت کی طرح اجتہاد کا دروازہ بند نہیں ہوا لیکن یہ امکان ایسا ہی ہے جیسا کہ یہ کہا جائے کہ بخاری اور مسلم جیسا حافظ حدیث ہونا بھی اب ممکن ہے حافظہ بخاری اور مسلم پر ختم نہیں ہوگیا بیشک امکان عقل اب بھی موجود ہے لیکن فقہاء جیسا اجتہاد اور استنباط اور بخاری ومسلم جیسا حافظہ من جانب اللہ دنیا سے اٹھا لیا گیا اور یہ امکان عادۃ مفقود ہوگیا۔ جو لوگ صحیحین اور سنن اربعہ کی احادیث کو بلال دلیل معتبر سمجھتے ہیں ان کے پاس بجز حسن ظن کے کوئی دلیل نہیں منکرین تقلید کو نہ اسانید کو علم ہے اور نہ رجال سند کے اسماء اور کنی اور موالید اور نہ وفیات اور انکی ثقاہت اور ضعف کی کچھ خبر ہے محض بخاری اور مسلم کی امت اور جلالت قدر پر بھروسہ اور اعتماد کرکے بلادلیل ان کی احادیث کو محض حسن ظن کے بناء پر صحیح تسلیم کرتے ہیں کیا یہ تقلید نہیں۔
اسی طرح مقلدین امام ابوحنیفہ اور امام شافعی کے تفقہ اور اجتہاد اور استنباط پر حسن ظن کی بنا پر اعتماد کرکے شریعت کا اتباع کرتے ہیں اور یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ امت محمدیہ کے علماء کا اجماع ہے کہ ابوحنیفہ اور مالک اور شافعی اور احمد تفقہ اور اجتہاد کے آسمان تھے اور ہم ذرہ بےمقدار ہیں اس لیے احتیاط اسی میں ہے کہ ہم ان مستنبطین کی طرف رجوع کریں اور جو شخص ان ائمہ ھدی کے تلقید شخصی سے منحرف ہے وہ اپنے ظلوم وجہول نفس کی تقلید شخصی میں گرفتار ہے۔
7) ان چار اصول یعنی کتاب وسنت اور اجماع اور قیاس مجتہدین کے ذکر کے بعد اللہ کا یہ ارشادفرمانا ان کنتم تو منون بااللہ والیوم الاخر اس امر کی دلیل ہے کہ جس طرح کتاب وسنت کا اتباع لوازم ایمان میں سے ہے اسی طرح اجماع امت اور قیاس مجتہد کا اتباع بھی مقتضیات ایمان میں سے ہے اور ذالک خیرواحسن تاویلا کا مصداق ہے کیونکہ ان کنتم تو منون کی قید جمع امور مذکور فی الا آیت سے متعلق ہے اور ذالک خیرواحسن تاویلا بھی سب سے متعلق ہے۔
8) تمام علماء امت کے نزدیک ادلہ شرعیہ چار ہیں، کتاب، سنت، اجماع، قیاس۔ اور امام بخاری نے صحیح بخاری کی کتاب الاعتصام میں اجماع اور قیاس کا دلیل شرعی ہونا کتاب وسنت سے ثابت کیا ہے مگر غیر مقلدین کے نزدیک ادلہ شرعیہ صرف دو ہیں ایک کتاب اور ایک سنت اجماع اور قیاس کی حجیت کے قائل نہیں حتی کہ اجماع صحابہ کے بھی قائل نہیں بیس رکعت تراویح اور تین طلاق کے تین ہونے کے قائل نہیں اور انام اپنا اہل حدیث رکھ لیا ہے۔