4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsمعارف القرآن

Ayah 4:127

وَ یَسْتَفْتُوْنَكَ فِی النِّسَآءِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یُفْتِیْكُمْ فِیْهِنَّ١ۙ وَ مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ فِی الْكِتٰبِ فِیْ یَتٰمَى النِّسَآءِ الّٰتِیْ لَا تُؤْتُوْنَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَ تَرْغَبُوْنَ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الْوِلْدَانِ١ۙ وَ اَنْ تَقُوْمُوْا لِلْیَتٰمٰى بِالْقِسْطِ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِهٖ عَلِیْمًا Open ayah 4:127 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ لوگ تم سے (یتیم) عورتوں کے بارے میں فتوی طلب کرتے ہیں کہہ دو کہ خدا تم کو ان کے (ساتھ نکاح کرنے کے) معاملے میں اجازت دیتا ہے اور جو حکم اس کتاب میں پہلے دیا گیا ہے وہ ان یتم عورتوں کے بارے میں ہے جن کو تم ان کا حق تو دیتے نہیں اور خواہش رکھتے ہو کہ انکے ساتھ نکاح کرلو اور (نیز) بیچارے بےکس بچوں کے بارے میں اور یہ (بھی حکم دیتا ہے) کہ یتیموں کے بارے میں انصاف پر قائم رہو اور جو بھلائی تم کرو گے خدا اس کو جانتا ہے

رجوع بسوی احکام نساء ووالدان۔ قال تعالی، ویستفتونک فی النساء۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ بصیرا۔ آیت۔ ربط) حق جل شانہ نے اس سورت کو تقوی اور پرہیزگاری کے حکم سے شروع فرمایا اور عورتوں اور یتیموں کے حقوق کی ادائیگی کا حکم دیا اور مہر اور میراث کے بارے میں زمانہ جاہلیت سے رسم چلی آرہی تھی کہ عورتوں اور بچوں کو میراث نہیں دیتے تھے اس ظالمانہ رسم کو باطل کیا اور فرمایا کہ یہ اللہ کی حدود ہیں ان سے ہرگز تعدی نہ کرنا دور تک سلسلہ کلام اسی طرح چلا گیا کہ عورتوں اور یتیموں اور نکاح ومہر وغیرہ کے متعلق احکام بیان فرمائے اور پھر اللہ کی عبادت اور اہل قرابت اور فقراء اور مساکین کے ساتھ سلوک اور احسان کا حکم دیا یہاں تک کہ حقوق العباد کے متعلق تقوی کے احکام اور حدود الٰہیہ کا بیان ہوا۔ اس کے بعد اہل کتاب کو توحید اور تقوی اور دین حق کی دعوت دی اور دور تک یہی سلسلہ کلام چلا گی اور درمیان میں آخرت کے متعلق مختلف مضامین آتے رہے جس سے اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال کا نقشہ آنکھوں کے سامنے آجائے اور قرآن کریم کا یہ خاص طریقہ ہے کہ چند احکام بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال اور دار آخرت کی خوبی اور اعمال صالحہ کی ترغیب اور اعمال سیۂ سے ترہیب ذکر کرتے ہیں اور وعدہ اور وعید اور ثواب اور عقاب کو ملا کر بیان کرتے ہیں دین حق کی طرف دعوت کا یہ بہترین طریقہ ہے اسی ترتیب کے مطابق جب اس سورت کے شروع میں عورتوں اور یتیموں کے احکام بیان فرمائے جو فروع دین سے تھے اور بعد میں اہل کتاب کے متعلق جو مضامین بیان ہوئے وہ زیادہ تر اصول دین سے متعلق تھے اب پھر عورتوں اور یتیموں کے احکام کی طرف رجوع فرماتے ہیں جس سے مقصود یہ ہے کہ حقوق العباد میں کسی کو ضعیف اور کمزور (عورت اور یتیم) سمجھ کر کوتاہی کرنا سراسر تقوی کے منافی ہے اور حدود اللہ سے تعدی ہے قرآن کریم کا یہ طریقہ نہیں کہ ایک موضوع سے متعلق تمام احکام کو ایک سیاق میں جمع کردے یہ طریقہ مصنفین اور مولفین کا ہے قرآن کریم کا مقصد وحید ہدایت حق اور نصیحت اور موعظت اور تذکیر آخرت ہے اگر ایک مضمون کی تمام آیات کو ایک جگہ کردیا جائے تو یہ مقصد فوت ہوجائے یا یوں کہو کہ گزشتہ آیات میں شرک اور اعمال شرک کا ذکر تھا اب ان آیات میں رسوم شرکیہ کو بیان کرتے ہیں جو عورتوں کے متعلق ہیں اور قریب العہد بجاہلیت ہونے کی وجہ سے فی الجملہ بعض مسلمانوں میں بھی موجود تھیں۔ شان نزول۔ زمانہ جاہلیت سے عرب میں یہ دستور چلا آرہا تھا کہ عورتوں اور بچوں کو میراث نہیں دیتے تھے اور یہ کہتے تھے کہ میراث اس کا حق ہے جو قبیلہ اور خاندان کی طرف سے دشمنوں سے لڑے۔ اور اگر کوئی یتیم لڑکی اپنے باپ سے مال کی وارث ہوتی اور پھر وہ کسی کی ولایت اور پرورش میں ہوتی تو اگر وہ خوبصورت ہوتی تو اس کا ولی اور متولی خود اس سے نکاح کرلیتا مگر اس کا مہر پورا نہ دیتا اور اگر وہ لڑکی بدصورت ہوتی تو نہ خود نکاح کرتا اس سے اور نہ کسی اور سے کرنے دیتا تاکہ اس لڑکی کا مال دوسرے کے قبضہ میں نہ چلا جائے اس پر سورة نساء کی شروع کی آیتیں نازل ہوئیں جس میں عورتوں اور یتیموں کے حقوق اور ان کی میراث کے احکام مفصل بیان کردیے گئے۔ سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ جب قرآن کریم میں احکام میراث نازل ہوئے تو لوگوں پر یہ چیز طبعا شاق ہوئی اور یہ کہنے لگے کہ کیا لڑکا اور عورت بھی مرد کی طرح وارث ہوں گے اور اپنے خیال میں یہ سمجھے کہ لڑکا اور عورت قابل میراث نہیں اس لیے یہ گمان کیا شاید یہ حکم وقتی طور پر ہو اور بعد چندے یہ حکم منسوخ ہوجائے اور نسخ کی توقع اور انتظار میں رہے جب دیکھا کہ اس حکم کا کوئی ناسخ بھی نازل نہیں ہوتا تو پھر مشورہ یہ ہوا کہ ہم خود جا کر حضور پرنور ﷺ سے دریافت کرنا چاہیے چناچہ حاضر ہو کر دریافت کیا اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں، ویستفتونک فی النساء۔ آیت۔ اخرجہ ابن جریر وابن المنذر عن سعید بن جبیر۔ بخاری اور مسلم میں عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ جب لوگوں نے عوروتوں اور یتیموں کے حقوق میں کوتاہی کی تو اس پر سورة نساء کی شروع کی آیتیں نازل ہوئیں بعد چندے صحابہ نے پھر عورتوں کے متعلق کچھ مسائل دریافت کیے اس پر یہ آیت نازل ہوئی، غالبا صحابہ کرام کا دوبارہ سوال سے مقصد یہ ہوگا کہ شاید احکام سابقہ میں کوئی ترمیم وتنسیخ یا تخفیف ہوجائے اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی جس کا حاصل یہ ہے کہ اس باب میں جو حکم نازل ہوچکا ہے وہ قطعی ہے اور وہ اسی طرح قائم رہے گا اور اس میں کوئی تغیر وتبدل نہ ہوگا عورتوں کے نکاح اور ان کی میراث اور یتیم لڑکیوں کے ساتھ نکاح کا جو حکم پہلے بیان ہوچکا ہے وہ بدستور قائم ہے اسی پر عدل و انصاف اور ایمانداری کے ساتھ عمل کرو اور اللہ اور اس کی کتاب نے تم کو جو فتوی دیا ہے اس کی پابندی کرو غرض یہ کہ ان آیات میں عورتوں کے متعلق کچھ احکام بیان فرماتے ہیں میراث کی تخصیص نہیں اور بعض مفسرین نے جو میراث کا ذکر کیا ہے وہ بطور تخصیص نہیں بلکہ بطور تمثیل ہے اس لیے ان آیات میں میراث کے علاوہ اور بھی احکام بیان کیے ہیں۔ شیخ الاسلام ابوالسعود فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام نے نبی ﷺ سے عورتوں کے متلعق مختلف مسائل دریافت کیے جن امور کا حکم پہلے نازل ہوچکا تھا اس آیت میں ان کا حوالہ دے دیا گیا اور جو مسائل اور امور ایسے تھے جن کا حکم پہلے بیان نہ ہوا تھا ان کا حکم ان آیات میں بیان کردیا گیا ہے۔ چناچہ عورتوں پر ظلم کی حرمت کے بارے میں تو ابتداء سورت کی آیتوں کا حوالہ دیا گیا کہ وہاں یہ مسئلہ بیان ہوچکا ہے اور دوسرا مسئلہ عورتوں کے نشوز اور ایک بیوی کی طرف میلان کلی اور دوسری بیوی سے اعراض اور بوقت ضرورت اجازت طلاق کا مسئلہ تھا اس کا حکم ان آیات میں بیان کردیا گیا چناچہ فرماتے ہیں اور لوگ آپ سے عورتوں کے بارے میں فتوی پوچھتے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ کس قسم کا برتاؤ رکھیں اور بعض یہ امید رکھتے ہیں کہ عورتوں کے بارے میں جو احکام سابق میں نازل ہوچکے ہیں شاید ان میں کچھ تخفیف ہوجائے آپ کہہ دیجئے کہ اللہ تم کو ان کے بارے میں وہی فتوی اور حکم دیتا ہے جو پہلے دے چکا ہے اور وہ آیتیں بھی تم کو فتوی دیتی ہیں جو کتاب الٰہی میں تم پر ان یتیم عورتوں کے بارے میں پڑھی جاتی ہیں جن کو تم وہ حقوق نہیں دیتے جو میراث اور مہر وغیرہ کے بارے میں ان کے لیے مقرر کیے گئے ہیں اور اگر وہ عورتیں صاحب مال ہوں مگر صاحب جمال نہ ہوں تو چاہتے ہو کہ بغیر حقوق ادا کیے تھوڑے سے مہر پر ان سے نکاح کرلو تاکہ یہ مال کہیں اور نہ چلا جائے اور اس لیے کہ کسی اور سے نکاح نہیں کرنے دیتے ہو اس لیے یہ حکم ہے کہ اگر اس کا حق ادا نہ کرسکو تو نکاح میں نہ لاؤ اور کسی کو دے دو تاکہ تم اس کے حمایتی اور سرپرست رہو اور اگر ولی خود اس لڑکی کے حقوق ادا کرے تو اجازت ہے کہ ولی اس کو اپنے نکاح میں لادے کیونکہ جو خاطر اور مدارات تم کرسکتے ہو وہ غیر نہیں کرسکتا اور جو آیتیں ناتواں اور کمزور بچوں کے حقوق کی حفاظت کے بارے میں پڑھی جاتی ہیں وہ بھی تم کو فتوی دیتی ہیں اور حکم خداوندی سے تم کو آگاہ کرتی ہیں اور اس بارے میں تم کو حکم دیتی ہیں کہ یتیموں کے بارے میں عدل اور انصاف کا قائم رکھو اور اس کے علاوہ جو بھلائی اور نیکی کرو گے وہ سب اللہ کو معلوم ہے تم کو اس کی جزاخیر دیں گے مطلب یہ ہے کہ سورت کے شروع میں عورتوں اور یتیموں کے بارے میں جو آیتیں نازل ہوچکی ہیں وہ اب بھی حسب سابق واجب العمل ہیں جیسا کہ وان خفتم ان لاتقسطوا فی الیتامی، یتامی النساء کے بارے میں نازل ہوئی اور واتوالیتامی اموالھم بالقسط یتیموں کے اموال کی حفاظت کے بارے میں نازل ہوئی۔ اور بعد ازاں آیت لاتاکلوھا سرافا وبدارا۔ آیت۔ میں اور مزید تاکید فرمادی اور للرجال نصیب، الخ۔ میں سب کی میراث کو مجملا اور یوصیکم اللہ فی اولادکم، الخ۔ میں مرد اور عورت کی میراث کو مفصلا بیان فرمایا اور ولاتعضلوھن میں عورتوں پر نکاح کے بارے میں جو ظلم اور زیادتی کرتے تھے اس کی ممانعت فرمائی حاصل آیت کا یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ تم کو یتیم عورتوں اور بچوں کے حق میں وہی فتوی اور حکم دیتا ہے جو اس سورت کے شروع آیتوں میں تم کو سنادیا گیا اور اب پھر اجمالا تم کو سنایا جاتا ہے کہ جو احکام عورتوں اور یتیموں کے بارے میں پہلے نازل ہوچکے ہیں ان پر عمل کرو اور جو کوئی ان کے بارے میں تم سے کچھ دریافت کرے تو یہ کہہ دو کہ اس کا جواب اور حکم وہی ہے جو پہلے سورة نساء کے شروع میں بیان ہوچکا ہے جن سب کا خلاصہ اور اجمال یہ ہے، وان تقومو اللیتامی بالقسط۔ آیت۔ یعنی یتیموں کے بارے میں انصاف پر قائم رہو۔
Ayahs 4:128–134

وَ اِنِ امْرَاَةٌ خَافَتْ مِنْۢ بَعْلِهَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یُّصْلِحَا بَیْنَهُمَا صُلْحًا١ؕ وَ الصُّلْحُ خَیْرٌ١ؕ وَ اُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ١ؕ وَ اِنْ تُحْسِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 4:128 in the Quran reader

اور اگر کسی عورت کو اپنے خاوند کی طرف سے زیادتی یا بےرغبتی کا اندیشہ وہ تو میاں بیوی پر کچھ گناہ نہیں کہ آپس میں کسی قرارداد پر صلح کرلیں اور صلح خوب (چیز) ہے اور طبعیتیں تو بخل کی طرف مائل ہوتی ہے اور اگر تم نیکو کاری اور پرہیزگاری کرو گے تو خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے

وَ لَنْ تَسْتَطِیْعُوْۤا اَنْ تَعْدِلُوْا بَیْنَ النِّسَآءِ وَ لَوْ حَرَصْتُمْ فَلَا تَمِیْلُوْا كُلَّ الْمَیْلِ فَتَذَرُوْهَا كَالْمُعَلَّقَةِ١ؕ وَ اِنْ تُصْلِحُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:129 in the Quran reader

اور تم خواہ کتنا ہی چاہو عورتوں میں ہرگز برابری نہیں کرسکو گے تو ایسا بھی نہ کرنا کہ ایک ہی طرف ڈھل جاؤ اور دوسری کو (ایسی حالت میں) چھوڑ دو کہ گویا ادھر میں لٹک رہی ہے اور اگر آپس میں موافقت کرلو اور پرہیزگاری کرو تو خدا بخشنے والا مہربان ہے

وَ اِنْ یَّتَفَرَّقَا یُغْنِ اللّٰهُ كُلًّا مِّنْ سَعَتِهٖ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ وَاسِعًا حَكِیْمًا Open ayah 4:130 in the Quran reader

اور اگر میاں بیوی میں (موافقت نہ ہو سکے) اور ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں تو خدا ہر ایک کو اپنی دولت سے غنی کر دے گا اور خدا بڑی کشائش والا (اور) حکمت والا ہے

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ لَقَدْ وَصَّیْنَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ اِیَّاكُمْ اَنِ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَنِیًّا حَمِیْدًا Open ayah 4:131 in the Quran reader

اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے اور جن لوگوں کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی ان کو بھی اور (اے محمد ﷺ تم کو بھی ہم نے حکم تاکیدی کیا ہے کہ خدا سے ڈرتے رہو اور اگر کفر کرو گے تو (سمجھ رکھو کہ) جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے اور خدا بےپروا اور سزا وار حمد وثنا ہے

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 4:132 in the Quran reader

(اور پھر سن رکھو کہ) جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے اور خدا ہی کار ساز کافی ہے

اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ اَیُّهَا النَّاسُ وَ یَاْتِ بِاٰخَرِیْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى ذٰلِكَ قَدِیْرًا Open ayah 4:133 in the Quran reader

لوگو ! اگر وہ چاہے تو تم کو فنا کر دے اور (تمہاری جگہ) اور لوگوں کو پیدا کر دے اور خدا اس بات پر قادر ہے

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ ثَوَابَ الدُّنْیَا فَعِنْدَ اللّٰهِ ثَوَابُ الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا۠ Open ayah 4:134 in the Quran reader

جو شخص دنیا (میں عملوں) کی جزا کا طالب ہو تو خدا کے پاس دنیا اور آخرت (دونوں) کے لیے اجر (موجود) ہے اور خدا سنتا اور دیکھتا ہے

بیان بعض احکام متعلقہ بہ معاشرہ زوجین۔ قال تعالی، وان امرۃ خافت من بعلھا نشوزا۔۔۔ الی۔۔۔ حکیما۔ آیت۔ اوپر آیتوں میں ان احکام کا حوالہ تھا جو سورة نساء کے شروع میں گزر چکے اب یہاں سے عورتوں کے متعلق دوسرے نئے احکام بیان فرماتے ہیں جو میاں اور بیوی کے باہمی معاشرت سے متعلق ہیں چناچہ فرماتے ہیں اور اگر کوئی عورت اپنے خاوند کی بدمزاجی یا بےالتفاتی اور بےاعتنائی سے ڈرے مثلا عورت بدشکل ہو یابڑھیا ہوگئی ہو اور اس کو قرائن سے یہ معلوم ہوجائے کہ اس کا شوہر اس کو طلاق دینا چاہتا ہے اور یا دوسری بیوی کرنا چاہتا ہے تو ایسی صورت میں میاں بیوی پر گناہ نہیں کہ آپس میں صلح کرلیں مثلا یہ کہ عورت اپنا نفقہ اور باری معاف کردے یا کم کردے اور مرد اس کو اپنے نکاح میں رہنے دے اور طلاق اور مفارقت اور باہمی منازعت سے صلح ہی بہتر ہے عورت کو اس بات پر ضد نہ کرنی چاہیے کہ وہ اپنا پورا حق ہی لے گی اور مرد کو اس بات پر نہ اڑنا چاہے کہ وہ اس کو جدا ہی کرکے رہے گا اور طبعتیں حرص اور بخل پر حاضر کردی گئی ہیں یعنی حرض اور بخل انسان کی سرشت میں رکھا ہوا ہے مرد اور عورت کوئی بھی اپنا حق اور نفع میں کمی نہیں کرنا چاہتا ہر ایک کے لیے اپنے حریص اور بخیل ہے مگر آدمی کو چاہے کہ اپنی حرص اور بخل کو دبائے اور دوسرے کے ساتھ سلوک کے اور اے مردو اگر تم عورتوں کے ساتھ سلوک اور احسان کرو اور ان کی حق تلفی سے بچو تو بیشک جو کچھ بھی تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے تمہیں اس کی جزا دے گا اور ہم تم کو بتلائے دیتے ہیں کہ تم متعدد بیبیوں کے درمیان پوری برابر ہرگز نہیں کرسکتے گو تم کتنا ہی چاہو یعنی جس شخص کی کئی بیبیاں ہوں تو یہ اس کے قدرت اور اختیار سے باہر ہے کہ محبت اور میلان قلبی میں سب کو برابر رکھے کیونکہ جب صورت اور سیرت میں سب برابر نہیں تو سب کے ساتھ محبت کیونکر ہوسکتی ہے جب متعدد عورتوں میں پوری برابری نہیں کرسکتے تو ایسا بھی نہ کرو کہ بالکل اور ہمہ تن ایک ہی کی طرف جھک جاؤ اور دوسری بی بی کو معلق چھوڑدو نہ بیوہ ہی ہے اور نہ خاوند ہی والی نہ نکاح کرسکتی ہیا ورنہ شوہر سے فائدہ اٹھاسکتی ہے مطلب یہ ہے کہ اگر محبت اور میلان قلبی میں مساوات نہیں کرسکتے تو یہ بھی نہ کرو کہ تقسیم نوبت اور نفقہ میں بھی ایک ہی طرف کو جھک جاؤ یہ تو تمہاری قدرت میں ہے کہ تقسیم نوبت اور نفقہ وغیرہ میں سب کے ساتھ یکساں سلوک رکھو نبی ﷺ کو باوجودیکہ عائشہ صدیقہ بنت صدیق تھیں مگر پھر بھی تمام ازواج کے حقوق برابر ادا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ میں اختیار کے موافق ہر ایک کا حق برابر ادا کرتا ہوں مگر جو امر میرے اختیار میں نہیں یعنی قلبی محبت اس میں تو مجھ کو معذور اور اگر تم اصلاح کرلو یعنی گذشتہ میں جو بےانصافی کرچکے ہو اس کی تلافی کرلو اور آئندہ کے لیے عورت کے حق میں ناانصافی سے بچتے رہو تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے تمہاری گذشتہ کوتاہیوں اور خطاؤں کو معاف کردے گا اور اگر صلح اور موافقت کی کوئی صورت نہ ہوسکے اور میاں بیوی طلاق یا خلع کے ذریعہ ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں تو اللہ ہر ایک کو کفایت کرے گا اپنی وسعت سے یعنی خدا ہر ایک کا کارساز ہے مرد کو دوسری عورت مل جائے گی اور عورت کو دوسرا شوہر مل جائے گا اور روزی میں ایک دوسرے کا محتاج نہ رہے گا اور ہے اللہ وسعت والا اور حکمت والا اس کی توانگری اور رحمت بہت وسیع ہے اور اس کے تمام احکام حکمت پر مبنی ہے اور اللہ ہی کے لیے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اس کی ملک ہے جس کو جتنا چاہے دے یہ اس کے واسع ہونے کی دلیل ہے اس سے بڑھ کر اور کیا وسعت ہوسکتی ہے کہ وہ آسمانوں اور زمین کی کل چیزوں کا مالک ہے۔ وصیت ونصیحت۔ اب آگے بطور تتمہ ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ احکام عدل و انصاف کچھ تمہارے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ پہلی امتوں کو بھی ان احکام پر عمل کرنے کی تاکید کی تھی چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے تاکیدی حکم دیا ان لوگوں کو جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی یعنی یہود ونصاری اور تمام اہل کتاب کو تاکیدی حکم دیا ہے اور خاص تم کو بھی اس کی تاکید ہے کہ اللہ سے ڈرو یعنی تقوی اور پرہیزگاری اور خدا ترسی کا حکم شریعت قدیمہ ہے تمام امتوں کو اللہ نے اس کا حکم دیا ہے۔ سب آسمانی کتابوں میں اس کی تاکید اکید ہے اور گر تم منکر ہوجاؤ یعنی اللہ کی وصیت کو نہ مانوتوتم کو خوب معلوم ہے کہ اللہ ہی کی ملک ہے جو کچھ آسمانوں میں ۃ ے اور جو کچھ زمین میں ہے تمہارے کفر سے اس کا کیا بگڑتا ہے اور ہے اللہ تعالیٰ تو انگر اور بےپروا اس کو تمہارے تقوی اور اطاعت کی ذرہ برابر بھی احتیاج نہیں اور وہ ہر حال میں قابل تعریف ہے اس کی شان و شوکت تمہاری اطاعت پر موقوف نہیں کسی کی نافرمانی سے اس کی شان میں کوئی فرق نہیں آتا کہ اس کی حمدوثناء کرے یا نہ کرے وہ ہر حال میں حمید ہے اور اللہ ہی کی ملک ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ ہی کافی کارساز ہے اس لیے کہ وہ قادر ومختار مطلق ہے اور لہذا اس کے سوا کسی اور پر بھروسہ نہ چاہیے اے لوگو اگر وہ چاہے تو تم سب کو ناپید کردے اور تمہاری جگہ دوسروں کو لابسائے اس کو تمہاری پروا کیا ہے اور ہے اللہ اس پر قادر یعنی وہ تمہارے ناپید کرنے اور تمہاری جگہ دوسرے لوگوں کو آباد کرنے پر پوری قدرت رکھتا ہے لیکن یہ اس کی مہربانی ہے کہ اس نے تم کو ہلاک نہیں کیا تو تم ایسے حلیم وکریم کی اطاعت کیوں نہیں کرتے اس سے سرکشی کرکے اس کا کیا بگاڑو گے اپنا ہی نقصان کرو گے۔ فائدہ۔ اللہ جل شانہ نے اس مقام پر تین دفعہ فرمایا للہ ما فی السماوات وما فی الارض پہلی دفعہ میں وکان اللہ واسعا یعنی اللہ کی وسعت جو دو کرم اور کشائس کی دلیل بیان کرنا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں کسی چیز کی کمی نہیں اور دوسری بار اپنی بےنیازی اور بےپروائی کی دلیل بیان کرنا منقصود ہے کہ اللہ کو کسی کی اطاعت اور تقوی سے کوئی نفع نہیں اور سارے عالم کے کفر اور فسق وفجور سے اس کا کوئی نقصان نہیں اور تیسری بار فرمایا اپنی کارسازی کی دلیل بیان کرنا مقصود ہے کہ اگر تم تقوی اور پرہیزگاری اختیار کرو اللہ تمہارا کارساز ہے اس لیے کہ وہ زمین آسمان کی سب چیزوں کا مالک ہے اور ایک ہی دلیل سے متعدد دعوؤں کو ثابت کرنا اور ہر دعوے کے بعد اسی دلیل کو لانا اہل ذوق کے نزدیک قند مکر رہے۔ ربط) آگے ارشاد فرماتے ہیں کہ سب مل کر اللہ کے دین پر قائم رہو اللہ تم کو دین اور دنیا دونوں ہی دے گا فقط دنیاوی فوائد کو مطمع نظر نہ بناؤ چناچہ فرماتے ہیں جو شخص اپنے اعمال کے صلہ میں صرف دنیا کا انعام چاہتا ہے تو یہ اس کی نادانی ہے اسے معلوم نہیں کہ اللہ کے یہاں دنیا اور آخرت دونوں کا انعام ہے تو جب اعلی اور ادنی سب اس کی قدرت میں ہیں تو اعلی کو چھوڑ کر ادنی اور خسیس یعنی دنیا کو مانگنا تو کیا یہ کمال ابلہی نہیں، اتستبدلون الذی ھو ادنی بالذی ھو خیر۔ آیت۔ اللہ تعالیٰ سے دنیا اور آخرت دونوں کی نعمتیں مانگو اس کے یہاں کسی چیز کی کمی نہیں اور اگر تم اللہ کے سچے محب اور مخلص ہو تو صرف اخروی ثمرات کو پیش نظر رکھو اور ہے اللہ سننے والا دیکھنے والا وہ بندوں کی دعائیں سنتا ہے کہ کون دنیا کی درخواست کرتا ہے اور کون آخرت کی اور وہ تمہاری نیتوں کو دیکھتا ہے کہ دل میں کیا چھپا ہوا ہے۔
Ayah 4:135

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُهَدَآءَ لِلّٰهِ وَ لَوْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَوِ الْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ١ۚ اِنْ یَّكُنْ غَنِیًّا اَوْ فَقِیْرًا فَاللّٰهُ اَوْلٰى بِهِمَا١۫ فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوٰۤى اَنْ تَعْدِلُوْا١ۚ وَ اِنْ تَلْوٗۤا اَوْ تُعْرِضُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 4:135 in the Quran reader

اے ایمان والو ! انصاف پر قائم رہو اور خدا کے لئے سچی گواہی دو خواہ (اسمیں) تمہارا یا تمہارے ماں باپ اور رشتہ داروں کا نقصان ہی ہو اگر کوئی امیر ہے یا فقیر تو خدا ان کا خیر خواہ ہے تو تم خواہش نفس کے پیچھے چل کر عدل کو نہ چھوڑ دینا اگر تم پیچ دار شہادت دو گے یا (شہادت سے) بچنا چاہو گے تو (جان رکھو) خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے

حکم بست ونہم اقامت عدل واداء شہادت حق۔ قال تعالی، یا ایھا الذین آمنو کو نو اقوامین۔۔۔ الی۔۔۔ خبیرا۔ ربط) اتبداء سورت میں اللہ نے عورتوں اور یتیموں کے حقوق کے بارے میں عدل اور انصاف کا حکم دیا پھر انا انزلنا الیک الکتاب بالحق لتحکم بین الناس بما اراک اللہ کی تفسیر میں طعمہ بن ابیرق منافق کا قصہ مذکور ہوا جو جھوٹی شہادت اور اہل خیانت کی حمایت سے متعلق تھا پھر ویستفوتک فی النساء کے ذیل میں وان تقوموا للیتامی بالقسط میں قیام عدل و انصاف کا حکم ہوا اب ان احکام مختلفہ کے بعد آیات ذیل میں حکام کو تو یہ حکم دیا جتا ہے کہ تم مقدمات کا فیصلہ انتہائی عدل و انصاف کے ساتھ کرو فیصلہ میں ذرہ برابر کسی کی رعایت نہ کرو اور گواہوں کو یہ حکم دیا جاتا ہے کہ تم حق اور صدق کے ساتھ شہادت دو اور بلا رعایت سچی گواہی دو حتی کہ ماں باپ عزیزو اقارب کی بھی رعایت نہ کرو اور یہی دو چیزیں یعنی عدل وانصآف اور شہادت حق، دنیا اور آخرت کی صلاح اور فلاح کا اصل اصول ہیں اور تمام احکام سابقہ مع شئی زائد انہی دوچیزوں میں مندرج ہیں گویا کہ قیام عدل واداء شہادت حق کا حکم احکام سابقہ کا تتمہ اور تکملہ ہے گذشتہ آیات میں عدل خاص کا ذکر تھا جو خاص عورتوں اور یتیموں سے متعلق تھا اب ان آیات میں عدل عام اور تام کا حکم دیتے ہیں جو تمام حقوق کو حاوی ہے اور شامل ہے اور ان آیت میں اہل کتاب کو تنبیہ ہے کہ توریت وانجیل میں نبی آخرالزمان کی بشارت مذکور ہے تم اس کی شہادت کیوں نہیں دیتے اس کو چھپاتے کیوں ہو۔ قرآن کریم میں یہودیوں کی جابجا جو مذمت بیان کی گئی ہے اس میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اکالون للسحت یہود نے کتاب الٰہی میں تحریف کی اور امراء اور حکام کی خاطر احکام الٰہی کو بدلا اور شوت لے کر فیصلے کیے اس لیے یہود پر ذلت اور مسکنت کی مہر لگا دی گئی اس وقت کے نام نہاد مسلمان حاکم جو رشوت لے کر فیصلے کررہے ہیں وہ یہود کے نقش قدم پر جارہے ہیں اسلام ان پر نفرین بھیجتا ہے چناچہ فرماتے ہیں اے ایمان والو تمہارے ایمان کا مقتضی یہ ہے کہ ہوجاؤ تم تمام معاملات میں انصاف کے قائم رکھنے والے اور محض اللہ کی خوشنودی کے لیے سچی گواہی دینے والے اگرچہ اس گواہی کا نقصان اور ضرر تمہاری ہی جانوں پر پڑے یا تمہارے والدین پر یا رشتہ داروں پر یعنی گواہی میں اپنا اور اپنے والدین کا بھی خیال نہ کرو جو حق ہو وہ کہو چاہے اس میں کسی کا نفع ہو یا نقصان ہو حق کو کسی حال میں نہ چھپاؤ اگر وہ شخص جس پر تم گواہی دیتے ہو مالدار یا محتاج ہے تو اللہ ان پر تم سے زیادہ مہربان ہے یعنی گواہی میں نہ مال دار کا پاس کرو اور نہ محتاج کا جو سچ ہو وہی کہہ دو اللہ کو ان کے ساتھ تم سے زیادہ ہمدردی ہے پس گواہی میں نفسانی خواہش کی پیروی نہ کرنا کہ عدل و انصاف سے عدول کرجاؤ اور اگر تم گواہی میں پیچ دار بات کہو گے یعنی گول مول بات کہو گے صاف کھول کر حق کو بیان نہ کرو گے یا گواہی دینے سے اعراض اور کنارہ کشی کرو گے تو خوب سمجھ لو کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے باخبر ہے وہ تمہیں اس گول مول اور پیچ داری گواہی کی اور حق کے اظہار سے اعراض کی ضرور سزا دے گا۔
Ayahs 4:136–137

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِیْ نَزَّلَ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:136 in the Quran reader

مومنو ! خدا پر اور اس کے رسول پر اور جو کتاب اس نے اپنے پیغمبر (آخر الزماں ﷺ پر نازل کی ہے اور جو کتابیں اس سے پہلے نازل کی تھیں سب پر ایمان لاؤ اور جو شخص خدا اور اسکے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے پیغمبروں اور روز قیامت سے انکار کرے وہ راستے سے بھٹک کر دور جا پڑا

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّمْ یَكُنِ اللّٰهُ لِیَغْفِرَ لَهُمْ وَ لَا لِیَهْدِیَهُمْ سَبِیْلًاؕ Open ayah 4:137 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے پھر کافر ہوگئے پھر ایمان لائے پھر کافر ہوگئے پھر کفر میں بڑھتے گئے ان کو خدا نہ تو بخشے گا اور نہ سیدھا راستہ دکھائے گا

بیان ارکان خمسہ ایمان وترغیب در ایمانے کہ نزد شرع صحیح ومعتبر باشد وذکر ذمائم منافقین۔ قال تعالی، یا ایھا الذین آمنو۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ سبیلا۔ ربط) یہاں تک زیادہ تر احکام فرعیہ کا بیان ہوا اور قریب ہی میں اولین اور آخرین کو تقوی کی وصیت اور کفر سے بچنے کی تاکید اور ثواب آخرت کی ترغیب بیان فرمائی اور گذشتہ آیات میں عدل و انصاف اور شہادت حق وصدق کی تاکید اکید فرمائی اور ظاہر ہے کہ تقوی اور طہارت اور عدالت وشہادت حق اور آخرت کی فکر ورغبت کا تمام تردار و مدار ایمان باللہ والیوم الآخر پر ہے اس لیے کہ اب آئندہ آیات میں ایمان کے ارکان خمسہ کو بیان فرماتے ہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ شریعت میں کون سا ایمان صحیح اور معتبر ہے اور کون سا دعائے ایمان غیر معتبر ہے پس جو شخص الہ پر اور اسکے تمام رسولوں پر اور تمام فرشتوں پر اور اس کی تمام نازل کردہ کتابوں پر اور یوم آخرت پر اخلاص کے ساتھ ایمان لائے وہ ایمان تو شریعت میں معتبر ہے اور جو شخص محض ظاہری طور پر ایمان لائے اور دل میں متردد ہو یا اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کرتا ہو کہ اللہ کو مانتا ہو مگر پیغمبروں کو نہ مانتا ہو اور پیغمبروں کے اقول وافعال کو حجت نہ سمجھتا ہو تو ایسا شخص پکا کافر اور منافق ہے پھر اس سلسلہ میں منافقین کے ذمائم کو بیان فرمایا اور ان کے ساتھ مجالست اور موالات کی ممانعت فرمائی اور ضمن میں اہل کتاب کا بھی رد فرمایا جو دعوی ایمان کا رکھتے ہیں اور جس نبی آخر الزمان کی بشارتیں توریت میں مذکور ہیں اور اس پر ایمان نہی لاتے اور نہ اس کی شہادت دیتے ہیں اور سچی شہاد تکو چھپا کر لوگوں کے سامنے جھوٹی گواہی دی تھی اسی طرح اہل کتاب بھی اپنی قوم کی رعایت سے نبی ﷺ کی بشارتوں کو چھپاتے ہیں اور آپ کے بارے میں جھوٹی گواہی دیتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں اے مسلمانوں ایمان لاؤ خدا تعالیٰ پر اور اس کی کتاب اور اس کے رسول پر جو عدالت اور راستی کے قائم کرنے کے لیے مبعوث ہوئے ہیں اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول پر نازل کی یعنی قرآن مجید پر جو عدل اور احسان اور انصاف اور امانت ودیانت کے قائم کرنے کے لیے اتارا گیا ہے اور ان تمام کتابوں پر جو اللہ نے انبیاء سابقین پر قرآن سے پہلے اتاری ہیں بغیر ان باتوں کا یقین کیے ہوئے خدا کے یہاں آدمی مسلمان نہیں ہوسکتا اس آیت میں اللہ نے تین چیزوں پر ایمان لانے کا ذکر فرمایا، اللہ تعالیٰ پر یعنی اس کی ذات وٖصفا پر، اور اس کے رسول پر جو حق تعالیٰ کے نائب اور سفیر اور برگذیدہ ہیں، اور قرآن پر اور ان تمام کتابوں پر جو اللہ نے پہلے پیغمبروں پر نازل کی ہیں اور ملائکہ (فرشتے اور روز قیامت پر ایمان لانے کا ذکر اس آیت میں نہیں فرمایا اس لیے کہ انبیاء کرام اور کتب الٰہیہ پر ایمان لانا ملائکہ ا اور یوم جزاء پر ایمان لانے کو مستلزم ہے گویا یہ تین امور تمام عقائد اسلامیہ کا اجمال اور خلاصہ ہیں مطلب یہ کہ جو شخص اسلام میں داخل ہو اس کے لیے تفصیلی طور پر ان چیزوں کی تصدیق ضروری ہے بغیران سب چیزوں کے مانے مسلمان نہیں ہوسکتا۔ اس آیت میں اجمالا صرف تین چیزوں پر ایمان لانے کا ذکر فرمایا اب آئندہ آیت میں ملائکہ اور یوم آخرت یعنی روز جزاء کا بھی ذکر فرماتے ہیں جو اسی اجمال کی تفصیل ہے اور جو شخص اللہ کا اور اسکے فرشتوں کا اور اس کی کتابوں کا اور اس کے پیغمبروں کا اور روز آخرت کا منکر ہو وہ بیشک دور کی گمراہی میں جاپڑا اور یعنی جو شخص ایسا کرے وہ حدردرجہ کا گمراہ ہے جس سے بڑھ کر کوئی گمراہی نہیں اللہ کا انکار تو کھلی گمراہی ہے اور اللہ کی کتابیں اور اللہ کے فرشتے اور اس کے پیغمبر ہی رشد ہدایت کا ذریعہ ہیں اس لیے ان کا انکار بھی سخت گمراہی ہے۔ بلکہ انبیاء کرام کا انکار درحققیت کلام خداوندی اور احکام خداوندی کا انکار ہے اور روز آخرت کے انکار کا مطلب یہ ہے کہ جزء وسزا اور ثواب عقاب اور جنت جہنم سب غلط ہے ایسے شخص کی زندگانی انسانی زندگانی نہیں بلکہ حیوانی زندگی ہے جہاں چاہا منہ مارا اور کھایا اور جس مادہ سے چاہا جفتی کرلی حیوانی زندگی میں حلال و حرام کی تقسیم نہیں ہوتی اور نہ حیوان کو نکاح کی ضرورت ہے آج کل مغربی تہذیب کا یہی حال ہے۔ ذم مرتدین۔ ربط) گذشتہ آیت میں اہل کفر کی مذمت مذکور ہوئی اب اس آیت میں مرتدین کے ایک خاص فرقہ کا بیان کرتے ہیں یا یوں کہو کہ گزشتہ آیت میں فقد ضل ضلابعیدا فرمایا تھا اب اس آیت میں اصحاب ضلال بعید کا ذکر فرمات ہیں کہ جو محض ظاہری طور پر اسلام کا کلمہ پڑھتے تھے اور کفر ونفاق ان کے دلوں پر اس درجہ چھایا ہوا تھا کہ ان کے دلوں سے ایمان کی استعداد ختم ہوچکی تھی بیشک جو لوگ پہلے تو مسلمان ہوئے پھر کافر اور مرتد ہوگئے پھر دوبارہ مسلمان ہوئے او اس دوسری بار کے اسلام پر بھی قائم نہ رہے بلکہ پھر کافر ہوگئے پھر کفر میں بڑھتے چلے گئے یہاں تک کہ کفر کی حالت میں ہی ان کی موت آگئی تو اللہ ان لوگوں کو ہرگز نہیں بخشیں گے اور نہ ان کو راہ ہدایت دکھائیں گے یہ آیت منافقین کے خاص گروہ کے بارے میں اتری ہے جو کبھی مسلمان ہوتے اور کبھی کافر جب مسلمانوں کے پاس آئے تو مسلمان بن گئے اور کافروں کے پاس گئے تو کافر بن گئے ایسے لوگ جو دین کو کھیل اور تماشہ بنالیتے ہیں عادۃ ان کا دل مسخ ہوجاتا ہے پھر ان کو ایمان کی توفیق نہیں ہوتی کہ اس پر مغفت مرتب ہوسکے آیت کا یہ مطلب نہیں کہ اگر یہ لوگ اخلاص کے ساتھ اور صحیح طور پر ایمان لے آتے تو ان کا ایمان اور ان کی توبہ قبول نہ ہوتی ہزارہا بار کفر کے بعد بھی اگر صدق دل سے صحیح توبہ کرے تو وہ قبول ہے بلکہ آیت سے وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے دین کو کھیل وتماشہ بنالیا ہے ایسے لوگ اللہ کی مغفرت اور ہدایت سے محروم کردیے گئے۔
Ayahs 4:138–139

بَشِّرِ الْمُنٰفِقِیْنَ بِاَنَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمَاۙ Open ayah 4:138 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ منافقوں (یعنی دوزخے لوگوں) کو بشارت سن دو کہ ان کے لئے دکھ دینے والا عذاب (تیار) ہے

اِ۟لَّذِیْنَ یَتَّخِذُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ اَیَبْتَغُوْنَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَاِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًاؕ Open ayah 4:139 in the Quran reader

جو مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بناتے ہیں کیا یہ ان کے ہاں عزت (حاصل) کرنا چاہتے ہیں ؟ تو عزت سب خدا ہی کی ہے

ذمائم منافقین۔ قال تعالی، بشر المنافقین بان لھم عذابا الیما۔۔۔ الی۔۔۔ جمیعا۔ ربط) پہلی آیتوں میں اہل کفر کا بیان تھا اب ان آیات میں منافقین کے ذمائم کو بیان فرماتے ہیں کہ یہ لوگ دنیا کے مقابلہ میں دین کی پروا نہیں خرتے کبھی کر سٹان بنتے ہیں اور کبھی مسلمان اور کفار ومشرکین کے جاہ وچشم کو دیکھ کر ان سے یارانہ جوڑتے ہیں کہ ہم کو عزت و شوکت حاصل ہوگی اور یہ لوگ مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست بناتے ہیں حالانکہ ان کو یہ معلوم ہے کہ جس جگہ احکام الٰہی کا مذاق اڑایا جاتا ہوں وہاں بیٹھنا بھی ناجائز ہے چہ جائیکہ ان سے دوستی کی جائے چناچہ فرمات ہیں منافقین کو خوش خبری سنادیجئے کہ ان کے لیے آخرت میں درد ناک عذاب ہے کیونکہ یہ منافقین باوجود دعوائے اسلام کے مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بناتے ہیں کیا وہ ان کے پاس عزت ڈھونڈتے ہیں یعنی یہ منافق جو مسلمانوں کو چھوڑ کریہودیوں سے دوستی کرتے ہیں تو کیا ان کا خیال یہ ہے کہ یہودیوں کے پاس بیٹھنے سے انکو دنیا میں عزت ملے گی یہ سب غلط ہے اور خیال خام ہے پس ان کو سمجھ لینا چاہیے کہ تحقیق بلاشبہ ساری عزت اللہ ہی کے لیے ہے اس کے سوا کون عزت دے سکتا ہے اسی عزیز مقتدر کی چوکھٹ پر سرذلت ٹیکنے ہی سے عزت ملتی ہے، تعز من تشاء وتذل من تشاء۔ آیت۔ جس کے پاس خود عزت نہیں وہ دوسروں کو کہاں سے عزت دے گا دنیا میں فرمانرروائے سلطنت اور ارکان دولت سے تعلق اور ان کی وفا داری اور اطاعت شعاری سے عزت حاصل ہوتی ہے اور بادشاہ اور وزراء کی نافرمانی اور عدول حکمی اور دشمنان سلطت اور باغیان حکومت سے دوستی اور آشنائی ذلیل و خوار بناتی ہے پس اسی طرح جو احکم الحاکمین کا اور اس کے وزراء اور سفراء یعنی انبیاء ومرسلین کا وفادار اور اطاعت شعار بنے گا بقدر وفاداری اور بقدر اطاعت شعاری اس کو بارگاہ خداوندی سے عز حاصل ہوگی اور جو اللہ اور اس کے رسول کا منکر اور باغی ہوگا وہ ذلیل و خوار ہوگا اور یہی ایمان اور کفر کی حقیقت ہے اللہ احکم الحاکمین اور اس کے وزراء اور سفراء یعنی انبیاء ومرسلین کے ساتھ حلف وفا داری کا نام ایمان ہے اور حلف وفاداری سے انکار کا نام کفر ہے نمرود اور فرعوں اگرچہ دنیاوی تخت وتاج کے مالک تھے مگر حقیقی عزت حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ کلیم اللہ کو حاصل تھی جو ہر اگر درخلاب افتدہماں نفیس است و غبار اگر برفلک رو دہماں خسیس۔ عزت کی تعریف۔ کسی کی محبت اور عظمت کی بناء پر محض اس کے حکم پر جان اور مال اور آبرو قربان کردینے کا نام عزت ہے یہ عزت سوائے انبیاء ومرسلین کے اور سوائے ان کے وارثوں کے کسی کو دنیا میں حاصل نہیں ہوئی ساری دنیا کو معلوم ہے کہ صحابہ کرام نے نبی ﷺ کی محبت اور عظمت کے جوش اور ولولہ میں بلاکسی مال ومنال اور بلا کسی دنیوی فائدہ اور غرض کے اپنے اہل و عیال اور خویش و اقارب سب کو چھوڑ دیا بلکہ آپ کی محبت میں اپنے بیٹوں اور بھتیجوں اور بھانجوں اور خویش اقارت کا مقابلہ کیا اور غزوات میں بےدریغ ان پر تلوار چلائی اور سوائے آپ کی خوشنودی کے کوئی دنیاوی فائدہ ان کی نظروں کے سامنے نہ تھا کیا کوئی فرمانروا اور شہنشاہ اس عزت کا کوئی نمونہ دکھلاسکتا ہے بخدائے ذوالجلال اگر اس بےمثال عزت کی زکوٰۃ (یعنی چالیسواں حصہ) نکالاجائے جو اللہ نے اپنے برگزیدہ بندوں کو عطا فرمائی اور پھر اس کا چالیسواں حصہ کل عالم کے بادشاہوں اور شہشاہوں پر تقسیم کردیا دیا جائے تو عزت ورعت کے دولت مند بن جائیں۔ دنیا میں بڑے بڑے صاحب جاہ جلال اور صاحب جو دو نوال بادشاہ گذرے اور اپنے وفاداروں کی جائز اور ناجائز خواہشیں پوری کیں اور طرح طرح کے ان کو انعام دیے مگر تاریخ عالم شاہد ہے کہ کسی زمانہ میں بھی کسی بادشاہ کا کوئی عاشق اور شیدائی نہیں ہوا بخلاف حضرات انبیاء کرام کے ہزاروں اور لاکھوں ان کے ایسے عاشق اور صادق اور شیدائی گزرے کہ مجنون کی محبت بھی ان کی محبت کے سامنے گرد ہے حالانکہ انبیاء کرام لوگوں کو لذات اور شہوات اور ناجائز امور سے روکتے اور منع کرتے تھے۔ حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ جب وضو فرماتے یا تھوکتے یا سنکتے تو آپ کا تھوک اور سنگ اور وضو کا دھو ون زمین پر نہیں گر تا تھا بلکہ صحابہ کرام اس کو اپنے ہاتھوں پر لے کر اس کو منہ پر مل لیتے تھے یہ تو محبت کا حال تھا اور عظمت کا حال یہ تھا کہ کسی کی مجال نہ تھی کہ بےمحابا آپ کی طرف نظر اٹھا کر دیکھ سکے پس جس ذات بابرکات کی محبت اور عظمت دلوں میں ایسی راسخ ہوجائے عزت اس کو حاصل ہے اور اصل عزت یہ ہے اور فوج اور پولیس کے چند ملازمین کا کسی امیر اور وزیر کے اردگرد کھڑے ہوجانے کا نام عزت نہیں بہت سے بہت اس کو عزت کی صورت اور نمائش کہا جاسکتا ہے عزت وہ ہے جو دل سے ہو جو لوگ انبیاء کے دشمن تھے دل سے وہ بھی ان کی عزت کرتے تھے اور ان کی بددعا سے ڈرتے تھے۔ نصیحت) ۔ بہت سے نادان یہ سمجھتے ہیں کہ مغربی تہذیب اور تمدن اور انگریزی لباس میں عزت ہے یہ نادانی ہے ان نادانوں کو یہ معلوم نہیں کہ عزت کس کو کہتے ہیں خوب سمجھ لو کہ اصل عزت اتباع شریعت میں ہے غیر قوموں کی نقل میں کوئی عزت نہیں غیروں کی نقل درپردہ غلامی کا اعتراف ہے۔ علامہ ابن خلدون نے اپنے مقدمہ تاریخ میں ایک فصل منعقد کی ہے کہ مغلوب وضع اور قطع اور لباس اور معاشرت میں غالب کا اتباع کرتا ہے اور یہ درپردہ اپنی کمتری اور دوسرے کی برتری کا اقرار ہے اور ادبار اور زوال کی علامت ہے انتہی کلامہ۔ اور آج کل مسلمانوں کی ذلت کا سبب یہی ہے کہ انہوں نے احکام شریعت کو پس پشت ڈال دیا بڑے بڑے وزراء اور ارکان دولت کے پاس انگریزی لباس موجود ہے مگر عزت مفقود ہے عزت وہ ہے کہ جس سے دلوں پر قبضہ ہو اور لوگ بلاغرض کے اس کے لیے جان ومال فدا کرنے کے لیے تیار ہوں جیسے اللہ اور اس کے رسول کے لیے جان ومال قربان کرتے ہیں محض کسی کو دیکھ کر کھڑے ہوجاناعزت نہیں اگر بھیڑیا آجائے تو سب کھڑے ہوجاتے ہیں سو یہ تعظیم اور عزت نہیں بلکہ اپنا بچاؤ ہے ظالموں کی عزت اسی قسم کی ہے اور ان کو دیکھ کر کھڑے ہوجاتے ہیں اور دل سے بددعا دیتے ہیں اور خلوتوں میں ان کو برا کہتے ہیں خلاصہ کلام یہ کہ جس طرح تمول اور دولت ملک مال کا نام ہے اسی طرح عزت ملک القلوب کا نام ہے یعنی لوگوں کے دل کسی پو شید اور فریفتہ ہوں اور یہ بات اللہ اور اسکے رسول اور اہل ایمان ہی کو حاصل ہے اسی وجہ سے ارشاد ہے وللہ العزہ ولرسولہ وللمومنین ولکن المنافقین لایعلمون۔ آیت۔
Ayahs 4:140–141

وَ قَدْ نَزَّلَ عَلَیْكُمْ فِی الْكِتٰبِ اَنْ اِذَا سَمِعْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ یُكْفَرُ بِهَا وَ یُسْتَهْزَاُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوْا مَعَهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖۤ١ۖ٘ اِنَّكُمْ اِذًا مِّثْلُهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ جَامِعُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْكٰفِرِیْنَ فِیْ جَهَنَّمَ جَمِیْعَاۙ Open ayah 4:140 in the Quran reader

اور خدا نے تم (مومنوں) پر اپنی کتاب میں (یہ حکم) نازل فرمایا ہے کہ جب تم (کہیں) سنو کہ خدا کی آیتوں سے انکار ہو رہا ہے اور ان کی ہنسی اڑائی جاتی ہے تو جب تک وہ لوگ اور باتیں (نہ) کرنے لگیں ان کے پاس مت بیٹھو ورنہ تم بھی انہیں جیسے ہوجاؤ گے کچھ شک نہیں کہ خدا منافقوں اور کافروں (سب کو) دوزخ میں اکٹھا کرنے والا ہے

اِ۟لَّذِیْنَ یَتَرَبَّصُوْنَ بِكُمْ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللّٰهِ قَالُوْۤا اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ١ۖ٘ وَ اِنْ كَانَ لِلْكٰفِرِیْنَ نَصِیْبٌ١ۙ قَالُوْۤا اَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَیْكُمْ وَ نَمْنَعْكُمْ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ فَاللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ لَنْ یَّجْعَلَ اللّٰهُ لِلْكٰفِرِیْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 4:141 in the Quran reader

جو تم کو دیکھتے رہتے ہیں اگر خدا کی طرف سے تم کو فتح ملے تو کہتے ہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ اور اگر کافروں کو فتح نصیب ہو تو (ان سے) کہتے ہیں کیا ہم تم پر غالب نہیں تھے ؟ اور تم کو مسلمانوں کے ہاتھ سے بچایا نہیں ؟ تو خدا تم میں قیامت کے دن فیصلہ کر دے گا اور خدا کافروں کو مومنوں پر ہرگز غلبہ نہیں دے گا

جس جگہ احکام خداوندی کیساتھ تمسخر (مذاق) کیا جاتا ہو وہاں بیٹھنے کی ممانعت۔ قال تعالی، وقد نزل علیکم فی الکتاب۔۔۔۔ الی۔۔۔ سبیلا۔ ربط) اوپر کی آیتوں میں کافروں سے دوستی کی ممانعت تھی اب ان آیات میں ان لوگوں کی مجالست سے منع فرماتے ہیں کہ ایسے لوگوں کے پاس بیٹھنا بھی ممنوع ہے جو احکام خداوندی کے ساتھ تمسخر کرتے ہوں کسی کے ساتھ تمسخر کرنا یہ اس کی انتہائی تحقیر اور تذلیل ہے جس طرح احکام حکومت کے ساتھ تمسخر عدالت اور حکومت کی توہین ہے اور ایسے لوگوں کے ساتھ نشت و برخواست اور دوستانہ تعلقات قانونا جرم ہے اسی طرح احکام شریعت کے ساتھ تمسخر قانون خداوندی کی توہین وتذلیل ہے اور ایسے لوگوں کے پاس بیٹھنا بھی شرعا ممنوع ہے چہ جائیکہ ان کے ساتھ دوستی کی جائے چناچہ فرمات ہیں اور اے مسلمانوں جس کتاب پر تم ایمان رکھتے ہو اس کتاب میں اللہ نے یہ حکم نازل کیا ہے کہ جب تم اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہوئے یا ان کا تمسخر اور مذاق ہوتے ہوئے سنو تو اس حالت میں ان کو کفر کرنے والے مسخروں کے ساتھ نہ بیٹھو یہاں تک کہ وہ اس کفر اور مسخرہ پن کو چھوڑ کر کسی اور بات میں نہ لگ جائیں کیونکہ اس حالت میں اگر تم ان کے پاس بیٹھے تو تم بھی انہی جیسے ہوجاؤ گے اس لیے کہ جب تم احکام خداوندی کا تمسخر کرنے والوں کے ساتھ بیٹھنا اس بات کی علامت ہے کہ تم بھی اس کفر اور استہزاء پر راضی ہو مشرکین مکہ اپنی مجلسوں میں بیٹھ کر قرآن کا مشغلہ بناتے اور اس کی آیتوں کا مذاق اڑاتے اور اگر کوئی مسلمان کسی ضرورت سے ان کی مجلس میں جاتا تو اس قرآن کریم کے نسبت نامناسب الفاظ سننے پڑتے اس پر اللہ نے سورة انعام میں یہ حکم نازل کیا، واذا رایت الذین یخوضون فی آیتنا۔۔۔ الی۔۔۔ حدیث غیرہ۔ آیت۔ اور جب نبی ﷺ ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے تو احبار یہود نے بھی وہی طریقہ اختیار کیا اور مشرکین مکہ کی تقلید کی منافق ان کی مجلسوں میں جاتے اور مضحکہ میں ان کے ساتھ شریک ہوتے اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ جو شخص آیات خداوندی کے ساتھ ہنسی کرنے والوں کے پاس بیٹھے گا وہ بھی کفر اور استہزاء میں ان کا شریک ہوگا۔ فائد) ۔ بےدینون کا قدیم دستور ہے کہ وہ انبیاء کرام اور ان کی باتوں کا مذاق اڑایا کرتے ہیں جو شخص باوجود دعائے اسلام کے احکام شریعت اور نبی ﷺ کی حدیثوں کا مذاق اڑائے وہ شخص بلاشبہ منافق ہے اور پہلے زمانہ کے منافقوں سے بڑھ کر ہے اس لیے کہ یہ مہذب اور متمدن بےدین احکام خداوندی کا مذاق اڑانے میں پہلے منافقوں سے آگے ہے بیشک اللہ تعالیٰ منافقوں اور کافروں کو دوزخ میں ایک جگہ جمع کرے گا جس طرح وہ دنیا میں اکٹھے ہو کر اللہ کی آیتوں کا مذاق کرتے تھے اسی طرح وہ عذاب میں بھی اکٹھے رہیں گے آگے اللہ تعالیٰ منافقین کا ایک اور حال بیان کرتے ہیں جس سے ان کی دو رنگی ظاہر کرنا مقصود ہے کہ جدھر غلبہ دیکھا اسی طرف ہوگئے اور وہ حال یہ ہے کہ یہ منافق لوگ تمہارے متعلق انتظار کی راہ دیکھتے رہتے ہیں کہ دشمنوں کے مقابلہ میں تم غالب ہوتے ہو یا مغلوب تاکہ جس فریق کا غلبہ دیکھیں اس کی رفاقت اور دوستی کا دم بھرنے لگے پس اگر اللہ کی طرف سے تم فتح نصیب ہوجائے تو تم سے یہ کہتے ہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ہم کو بھی مال غنیمت میں سے حصہ دو اورا گر وقتی طور پر کسی وقت کافروں کو غلبہ سے کوئی حصہ مل جائے یعنی اتفاق سے کافروں کو فتح اور غلبہ حاصل ہوجائے تو کافروں سے یہ کہتے ہیں خہ کیا ہم تم پر غالب نہ تھے اور کیا ہم نے تم کو مسلمانوں کی مار سے نہیں بچایا یعنی اگر کسی وقت کافر مسلمانوں پر غلبہ پاتے تو یہ منافق کافروں سے حصہ مانگتے ہیں اور ان پر یہ احسان رکھتے ہیں کہ مسلمان تو تم پر غالب آہی گئے تھے مگر ہم نے ان کا ساتھ نہ دیا اور ایسی تدبیر کیں کہ مسلمان تم پر غالب نہ آئیں ان کی مدد میں ہم نے کوتاہی کی اور تمہاری طرف سے انہیں ایسا خوف دلایا جس سے وہ سست پڑگئے اس طرح ہم نے تم کو ان کی مار سے بچایا اگر ہم تمہارے بچانے کی کوشش نہ کرتے تو مسلمان تم کو کبھی زندہ نہ چھوڑتے غرض یہ کہ منافق درہم و دینار کے بندے ہیں ہر طرف ہاتھ مارتے ہیں پس اے منافقو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمہارے اور مسلمانوں کے درمیان فیصلہ کرے گا اس وقت تم پر اسلام کی خوبی اور نفاق کی برائی کھل جائے گی اور دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کافروں کو مسلمانوں پر غالب ہونے کی کوئی راہ ہرگز نہیں دے گا کہ اسلام اور مسلمانوں کا خاتمہ ہوجائے اور اسلام اور مسلماوں کا نام ونشان نہ رہے شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں یعنی نہ شود کہ اسلام رامستاصل گردانند واللہ اعلم۔ یا یہ مطلب ہے کہ مسلمان جب تک اسلام پر قائم رہیں اس وقت تک کوئی ان پر غلبہ نہی پاسکتا کمال قال تعالیٰ وانتم الاعلون ان کنتم مومنین۔ آیت۔ اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ یہ آیت دنیا کے متعلق نہیں تاکہ یہ شبہ ہو کہ دنیا میں بعض دفعہ کفار کو مسلمانوں پر غلبہ ہوجاتا ہے بلکہ یہ آیت قیامت کے متعلق ہے جیسا کہ اس آیت کے پہلے جملہ فاللہ یحکم بینکم یوم القیامۃ۔ میں اس کی تصریح ہے پس معنی یہ ہوئے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مسلمانوں اور کافروں میں فیصلہ فرمائیں گے اور وہ فیصلہ مسلمانوں کے موافق ہوگا کہ وہ حق پر تھے اور کافر باطل پر تھے وہ فیصلہ کا دن ہے وہاں حق کو اور اہل حق ہی کو غلبہ ہوگا۔ پس مطلب یہ ہوا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمہارا فیصلہ فرمائیں گے اور اس فیصلہ میں کافروں کو مسلمانوں کے مقابلہ میں غلبہ کی کوئی راہ نہ دیں گے مگر علماء محققین اس طرف گئے ہیں کہ پہلی آیت فاللہ یحکم بینکم میں آخرت کے متعلق حکم مذکور ہے اور دوسری آیت ولن یجعل اللہ للکافرین علی المومنی سبیلا۔ آیت۔ میں دنیا کے متعلق حکم مذکور ہے کہ دنیا میں کافروں کو یہ قدرت نہ ہوگی کہ مسلماوں کا قلع قمع کردیں اور صفحہ ہستی سے ان کا نام ونشان مٹا دیں کماقال تعالی، الیوم یئیس الذین کفروا من دینکم فلا تحشون۔ آیت۔ شیخ جلال الدین سیوطی نے تفسیر جلالین میں اسی قول کو اختیار فرمایا اور اسی کو شاہ ولی اللہ نے اختیار کیا جیسا کہ ہم نقل کرچکے ہیں اور اس ناچیز کے نزدیک بھی یہی قول راجح ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 4:142–143

اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ هُوَ خَادِعُهُمْ١ۚ وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى١ۙ یُرَآءُوْنَ النَّاسَ وَ لَا یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِیْلًا٘ۙ Open ayah 4:142 in the Quran reader

منافق (ان چالوں سے اپنے نزدیک) خدا کو دھوکا دیتے ہیں (یہ اس کو کیا دھوکا دیں گے) وہ انہیں کو دھوکے میں ڈالنے والا ہے اور جب یہ نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو سست اور کاہل ہو کر (صرف) لوگوں کے دکھانے کو اور خدا کی یاد ہی نہیں کرتے مگر بہت کم

مُّذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِكَ١ۖۗ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ وَ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِیْلًا Open ayah 4:143 in the Quran reader

بیچ میں پڑے لٹک رہے ہیں نہ ان کی طرف ہوتے ہیں اور نہ ان کی طرف اور جس کو خدا بھٹکائے تو تم اس کے لئے کبھی بھی راستہ نہ پاؤ گے

تتمہ ذمائم منافقین۔ قال تعالی، ان المنافقین۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ سبیلا۔ اب ان آیات میں منافقوں کی ایک ظاہری علامت بیان فرماتے ہیں کہ تاکہ مسلمان اپنے آپ کو اس سے بچائیں اور اس وصف سے اجتناب کا خاص خیال رکھیں جو نفاق کی علامت ہے اور جن میں یہ علامت پائی جاتی ہو اس کو مومن جان کردھو کہ نہ کھائیں چناچہ فرماتے ہیں کہ بیشک یہ منافق لوگ دعوائے ایمان اور ظاہری اطاعت سے خدا کو دھوکہ اور فریب دیتے ہیں اور اس لیے کہ دعائے ایمان اور نماز وغیرہ سے ان کا مقصود لوگوں کو دکھلانا اور دنیوی فوائد حاصل کرنا ہے اللہ کی خوشنودی مقصود نہیں اور ان بےعقلوں کو معلوم نہیں کہ اللہ ہی ان کے ساتھ فریب کررہا ہے اور اللہ کو خوب معلوم ہے کہ یہ کافر اور منافق ہیں اور اس کے دین کے دشمن ہیں مگر معاملہ دوستوں کا سا ہو رہا ہے دنیا کی عیش و راحت میں کوئی کمی نہیں تاکہ دل کھول کر گناہ کرلیں اور جب پیمانہ لبریز ہوجائے تو پکڑ کر دائمی جیل خانہ (دوزخ) میں ڈال دیا جاتا ہے اللہ تعالیٰ کے فریب دینے کے یہ معنی ہیں کہ ظاہر میں اعزاز واکرم ہے اور درپردہ تذلیل وتحقیر مقدر ہوچکی ہے جس طرح وہ دوستی کے پردہ میں دشمنی اسلام کررہے ہیں اسی طرح اللہ کی طرف سے دوستی کے پردہ میں ان سے دشمنی کی جارہی ہے اور یہ منافق جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو کاہلی اور بےدلی کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں اور ان کا مقصود نماز ہے ہی نہیں بلکہ محض لوگوں کو دکھلانے کے لیے نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں اور آخرت کا ثواب ان کو مقصود نہیں اور نہ وہ نماز کو واجب سمجھتے ہیں اور ان کی غرض یہ ہوتی ہے کہ مسلمان ہم کو نمازی سمجھیں قتادہ کہتے ہیں کہ اگر لوگوں کا ڈر نہ ہوتا تو منافق کبھی کوئی نماز نہ پڑھتے اور نہیں ذکر کرتے اللہ کا مگر بہت کم یعنی لوگوں کے سامنے نماز پڑھ لیتے ہیں مگر اس میں نہ تسبیح وتہلیل ہوتی ہے اور نہ خشوع و خضوع صرف اٹھنا اور بیٹھنا ہوتا ہے اور جب تنہا ہوتے ہیں تو بالکل ہی نہیں پڑھتے۔ یا یہ مطلب ہے کہ نماز کے علاوہ دن رات میں بجز دنیاوی باتوں کے ان کے منہ سے اللہ کا نام نہیں نکلتا مگر بہت ہی کم بخلاف مسلمان کے کہ وہ دنیا میں مشغول رہتے ہوئے بھی کبھی انشاء اللہ کہتا ہے اور کبھی لاحول ولاقوۃ الاباللہ اور کبھی الحمدللہ اور کبھی سبحان اللہ موقعہ بموقعہ کی اس کی زبان سے اللہ کا نام نکلتا ہے اور ا آگے منافقین کا ایک اور حال بیان وہ یہ کہ یہ لوگ کفر اور اسلام کے درمیان متردد ہیں نہ پورے ان کی طرف ہیں اور نہ ان کی طرف نہ مومنین ہی کے ساتھ ہیں اور نہ کھلے کافروں ہی کے ساتھ ہیں اور جس کو خدا گمراہ کردے اس کے لیے کوئی ہدایت کوئی سبیل ہرگز نہ پاؤ گے اور جو شخص تذبذب اور تردد کی وادی تیہ میں داخل ہوجاتا ہے وہ اس طرح بہکتا پھرتا ہے کبھی ادھر کبھی ادھر۔ بدر دیقین پر دہائے خیال نماند سراپردہ الاجلال۔
Ayahs 4:144–146

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ عَلَیْكُمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:144 in the Quran reader

اے اہل ایمان ! مومنوں کے سوا کافروں کو دوست نہ بناؤ کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے اوپر خدا کا صریح الزام لو۔

اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ١ۚ وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِیْرًاۙ Open ayah 4:145 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ منافق لوگ دوزخ کے سب سے نیچے کے درجے میں ہوں گے اور تم ان کو کسی کا مددگار نہ پاؤ گے

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ اعْتَصَمُوْا بِاللّٰهِ وَ اَخْلَصُوْا دِیْنَهُمْ لِلّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ وَ سَوْفَ یُؤْتِ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:146 in the Quran reader

ہاں جنہوں نے توبہ کی اور اپنی حالت کو درست کیا اور خدا (کی رسی) کو مضبوط پکڑا اور خاص خدا کے فرمان بردار ہوگئے تو ایسے لوگ مومنوں کے زمرے میں ہوں گے اور خدا عنقریب مومنوں کو بڑا ثواب دیگا

ممانعت از موالات کفار۔ قال تعالی، یا ایھا الذین آمنوا لاتتخذوالکافرین۔۔۔ الی۔۔۔ عظیما۔ حق جل شانہ جب منافقین کے اعمال قبیحہ کا بیان کرچکے تو اب مسلمانوں کو حکم دیتے ہیں کہ تم ان لوگوں سے دوستی نہ کرنا ورنہ جوان کی سزا ہے وہی سزا تمہاری ہوگی جیسا کہ حدیث میں ہے المر مع من احب۔ کیونکہ ان کی دوستی سے تمہارے دلوں سے اللہ کی محبت جاتی رہے گی آخرت کو بھول جاؤ گے اور ان کی طرح دنیا کی شیدائی اور فدائی بن جاؤ گے کیونکہ ایک دل دو طرف نہیں رہ سکتا ماجعل اللہ لرجل من قلبین فی جوفہ۔ آیت۔ اللہ اپنی پناہ میں رکھے اے ایمان والو ایمان کے مقابلہ میں کفر کو ترجیح نہ دو اور منافقوں کی طرح مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بناؤ مبادا کہ ان کی دوستی سے کفر کے جراثیم تم کو نہ لگ جائیں ایک دوست دوسرے دوت کی خصلتوں کو مقناطیس کی طرح اپنی طرف کھینچتا ہے کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اللہ کا صریح الزام اپنے اوپر قائم کرلو یعنی اگر تم کافروں اور منافقوں کو دوست بناؤ گے تو اللہ تعالیٰ کی حجت تم پر قائم ہوجائے گی کیونکہ اللہ نے تم کو ان کی دوستی کی ممانعت کی ہے اور قیامت کے دن تم پر اللہ یہ حجت قائم کریں گے کہ دعوے تو ایمان کا تھا مگر دوست رکھتے تھے میرے دشمنوں کو اور اجتماع ضدین باتفاق عقلاء محال ہے خوب سمجھ لو کہ کافروں اور منافقوں کی دوستی سے تم کو کوئی نفع نہ ہوگا اس لیے کہ بلاشبہ منافقین دوزخ کے سب سے نیچے کے طبقے میں ہوں گے جس کا عذاب تمام طبقوں سے بڑھا ہوا ہے دوزخ کے سات طبقے ہیں ایک کے نیچے ایک سب سے نیچے کے طبقہ میں سب سے زیادہ سخت عذاب ہے اور یہ طبقہ خاص منافقوں کے لیے ہے اس لیے کہ کھلے کافر صرف کھلے کافر تھے مسلمانوں کو فریب نہ دیتے تھے اور منافق کفر کے علاوہ جھوٹ بھی بولتے تھے اور مسلمانوں کو فریب بھی دیتے تھے۔ عبداللہ بن عمر فرمایا کرتے تھے کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب منافقین اور اصحاب مائدہ اور آل فرعون کو ہوگا اور قرآن کریم میں اس کی تصدیق موجود ہے، ان المنافقین فی الدرک الاسفل من النار۔ آیت۔ اور اصحاب مائدہ کے بارے میں ہے فانی اعذبہ عذابا لااعذبہ احدامن العالمین۔ اور آل فرعون کے بارے میں ہے ادخلوا آل فرعون اشد العذاب۔ (تفسیر قرطبی ص 425 ج 5۔ اور اے مخاطب تو ان منافقین کے لیے ہرگز کوئی مددگار نہ پائے گا جوان کو نیچے کے طبقہ سے نکال سکے مگر ہاں ان میں جو لوگ نفاق سے توبہ کرلیں اور اپنے عقائد اور اعمال کی اصلاح کرلیں اور اللہ کے دین کو مضبوط پکڑ لیں یعنی تذبذب اور تردد میں نہ رہیں بلکہ اللہ کی باتوں پر پورا یقین رکھیں اور اپنے دین کو خالص اللہ کے لیے کردیں یعنی دین سے مقصود محض اللہ کی رضا اور خوشنودی ہو ریا ونمود اور دنیاوی غرض کا اس میں شائبہ نہ ہو پس ایسے لوگ جنہوں نے نفاق سے سچی توبہ کرلی اور عقائد و اعمال کی اصلاح کرلی اور بلا کسی تردد اور تذبذب کے مضبوطی کے ساتھ دین کی رسی کو پکڑ لیا اور اخلاص اور صدق نیت کے ساتھ اللہ کے مطیع اور فرمانبردار بن گئے تو ایسے لوگ جہنم کے کسی طبقہ میں نہ ہوں گے بلکہ جنت میں ان مومنین کاملین کے ساتھ ہوں گے جو از اول تا آخر صدق اور اخلاص کے ساتھ ایمان پر قائم رہے اور ہمیشہ ہمیشہ ان کا ایمان نفاق اور ریاء کے شابہ سے محفوظ رہا۔ یا یہ معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نفاق سے توبہ کرنے والوں کو مومنی کی جمات میں شمار کرے گا اور عنقریب اللہ تعالیٰ ان مومنین اور صادقین اور مخلصین کو جواز اول تاآخر صدق اور اخلاص کے ساتھ ایمان اور اسلام پر قائم رہے ان کو آخرت میں اجر عظیم دے گا جو ان تائبین کے اجر اور ثواب سے بڑھ کر ہوگا یا یہ معنی ہیں کہ نفاق سے سچی توبہ کرنے والوں کو مومنین صادقین اور عباد مخلصین کے ساتھ اجر اور ثواب میں شریک کردیا جائے گا۔
Ayah 4:147

مَا یَفْعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمْ اِنْ شَكَرْتُمْ وَ اٰمَنْتُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ شَاكِرًا عَلِیْمًا Open ayah 4:147 in the Quran reader

اگر تم (خدا کے) شکر گزار رہو اور (اس پر) ایمان لے آؤ تو خدا کو تم کو عذاب دے کر کیا کرے گا اور خدا تو قدر شناس اور دانا ہے۔

خطاب بسوئے منافقین۔ قال تعالی، ما یفعل اللہ بعذابکم ان شکرتم۔۔۔ الی۔۔۔۔ علیما۔ اب آگے ان منافقین کو خطاب فرماتے ہیں کہ عذاب خداوندی کا دارومدار کفر اور فسوق اور عصیان پر ہے خواہ مخواہ اللہ تعالیٰ کسی کو عذاب نہیں دیتے کیا کرے گا اللہ تعالیٰ تم کو عذاب دے کر اگر تم واللہ کے شکر گزار ہوجا اور اللہ پر ایمان لے آو اور اللہ تعالیٰ بڑاہی قدردان اور دانا ہے تمہاری سب باتوں کو جانتا ہے اور تمہارے نیک کاموں کا قدردان ہے تو جو شخص اللہ کا شکر گزار اور فرمانبردار اور اطاعت شعار بندہ ہو تو وہ ایسے شخص کو ہرگز عذاب نہ دے گا وہ تو عذاب صرف انہی لوگوں کو دیتا ہے جو پرلے درجہ کے سرکش اور متمرد ہیں اور اس کا حکم نہیں مانتے اللہ کی یہ شان نہیں کہ وہ ناحق بلاوجہ کسی کو عذاب دے جو جاننے والا ہے اور قدردان ہو وہ بلاوجہ کسی کو عذاب نہیں دے سکتا اور اس سے زیادہ کیا قدردانی ہوگی کہ ایک نیکی کا ثواب دس گونہ سے لے کر سات سو گونہ اور اس سے بھی زیادہ عطا فرماتے ہیں۔ الحمدللہ آج بروز چہار شنبہ 26 شعبان المعظم 1382 ہجری بوقت سواتین بجے بین الظہر والعصر جامعہ اشرفیہ لاہور مسلم ٹاؤن پارہ پنجم کی تفسیر سے فراغت ہوئی۔ الحمدللہ الذی ھدانا لہذا وما کنا لنھتدی لولا ان ھدانا اللہ ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم وتب علینا انک انت التواب الرحیم آمین یا ارحم الراحمین۔