Ayahs 4:60–70مذمت منافقین برانحراف از فیصلہ شریعت۔
قال تعالیٰ الم تر الی الذین یزعمون۔۔۔ الی۔۔۔ علیما۔ آیت۔
ربط) یہ آیت بھی اہل کتاب سے متعلق ہے ان میں کے کچھ لوگ منافقانہ طور پر مسلمان بن گئے تھے اور فصل خصومات میں رعایت اور رشوت کے عادی ہوگئے تھے ان لوگوں کے دل میں کفر والحاد تھا محض زبان سے توحید و رسالت کا اقرار کرلیا تھا جب کوئی مقدمہ پیش آتا تو اپنا معاملہ یہودیوں کے عالموں اور سرداروں کے پاس لے جانا پسند کرتے کہ وہ ان کی رعایت کریں گے اور رسول اللہ کے پاس فیصلہ کے لیے جانے سے گریز کرتے اس لیے کہ آپ جو فیصلہ کریں گے وہ غایت درجہ عادلانہ ہوگا اس میں ذرہ برابر کسی کی رعایت نہ ہوگی چناچہ مدینہ منورہ میں ایک مرتبہ ایک منافق بشرنامی کا ایک یہودی سے جھگڑا ہوگیا یہودی نے اس خیال سے کہ وہ حق پر تھا یہ چاہا کہ اس مقدمہ کا فیصلہ نبی سے کر ایاجائے کہ آپ بلا کسی رعایت کے حق فیصلہ کریں گے منافق نے چاہا کہ کعب بن اشرف یہودی سے فیصلہ کر ایاجائے یہودی نے کعب بن اشرف کے پاس جانے سے انکار کردیا اور سوائے نبی ﷺ کے اور کسی کے فیصلے پر راضی نہ ہوا آخر یہ طے ہوا کہ نبی ﷺ سے فیصلہ کرایا جائے آپ نے یہودی کے حق میں فیصلہ کردیا اور یہودی ہی حق پر تھا وہ منافق اس پر راضی نہ ہوا جب وہ دونوں آپ کے پاس سے باہر آئے تو منافق یہودی کو چمٹ دیا اور کہا کہ حضرت عمر کے پاس چلو وہ ٹھیک فیصلہ کریں گے منافق کو غالبا یہ گمان ہوا کہ عمر ؓ کافروں کے حق میں بہت سخت ہیں اور میں کلمہ گو ہوں اس لیے حضرت عمر بمقابلہ یہودی میری رعایت کریں گے یہودی اس پر راضی ہوگیا اور سمجھا کہ گو عمر ؓ کافروں کے حق میں سخت ہیں مگر حق پرست ہیں دونوں حضرت عمر ؓ کے پاس پہنچے اور ان سے فیصلہ چاہا یہودی نے سارا ماجرا ان سے کہا یہ سن کر وہ گھر میں تشریف لے گئے اور فرمایا کہ ٹھہرو میں ابھی آتا ہوں اور آکر تمہارا فیصلہ کرتا ہوں یہ کہہ کر حضرت عمر ؓ اندر چلے گئے اور تلوار لے کر آئے اور آتے ہی اس منافق کو قتل کردیا اور فرمایا کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ پر راضی نہ ہو اس کا فیصلہ عمر ؓ اس طرح کیا کرتا ہے منافق کے رشتہ دار نبی صلی اللہ علیہ کی خدمت میں آئے اور قتل کا دعوی کیا اور قسمیں کھانے لگے کہ عمر کے پاس صرف اس لیے گئے تھے کہ شاید عمر ؓ صلح کرادیں یہ وجہ نہ تھی کہ ہم نبی ﷺ کے فیصلہ پر راضی نہ تھے اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں جن میں اصل حقیقت ظاہر کردی گئیں امام قرطبی فرماتے ہیں کہ اسی واقعہ میں یہ آیتیں نازل ہوئیں اور نبی کریم نے حضرت عمر کو فرمایا انت الفارق تو فاروق ہے اور جبرایل نے یہ کہا، تحقیق عمر نے حق اور باطل کے درمیان فرق کردیا اس لیے ان کا نام فاروق رکھا گیا۔ اور اسی بارے میں یہ تمام آیتیں نازل ہوئیں۔ (تفسیر قرطبی ص 264 ج 5) ۔
اور بطور تعجب ارشاد فرماتے ہیں کہ اے نبی کریم کیا آپ نے ان لوگوں کی طرف نظر نہیں کی جو زبان سے یہ دعوی کرتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اس کتاب پر جو آپ کی طرف اتاری گئی اورا یمان لائے اس کتاب پر جو آپ سے پہلے نازل کی گئی باوجود اس دعوائے ایمان کے چاہتے یہ ہیں کہ فیصلہ اور تصفیہ کے لیے ایک سرکش کی طرف جائیں یعنی سرداران کفر اور کاہنوں کے پاس اپنا مقدمہ لے جانا چاہتے ہیں تاکہ رشوت یا رو رعایت سے مطلب برآری ہوسکے حالانکہ ان کو تمام کتب الہیہ میں یہ حکم دیا گیا کہ وہ طاغوت کے پاس اپنے اس مقصد میں کامیاب ہوگیا کہ ہدایت سے ان کو بہت دور لے جاکرڈال دیا دلیل اس کی یہ ہے کہ جب ان سے یہ کہا جاتا ہے کہ آؤ اس حکم کی طرف جو اللہ نے نازل کیا ہے اور رسول کی طرف آؤ تو آپ دیکھیں گے منافقین کو کہ وہ آپ کی طرف رجوع کرنے سے اعراض کرتے ہیں کنارہ کشی اور انحراف کے طور پر اور حکم خداوندی اور حکم رسول کی طرف رجوع سے اعراض یہی دلیل ہے اس امر کی شیطان نے ان کو بہکا کر ہدایت سے دور لے جا کر ڈالا ہے اور بہرحال اس وقت تو آپ کی طرف رجوع کرنے سے اعرض کرتے ہیں اور کسی حیلہ سے اپنی جان بچالیتے ہیں پس اس وقت کیا کریں گے جب ان کو گزشتہ بداعمالیوں کی سزا میں کوئی مصیبت پہنچے گی اور اپنی بداعمالیوں کا نتیجہ سامنے آئے گا مصیبت سے مراد حضرت عمر کا اس منافق کو قتل کرنا یا نفاق کا کھل جانا اور خباثت باطنی کا پردہ چاک ہوجانا اور لوگوں میں ذلیل ہونا اور باز پرس ہونا ہے یعنی اس وقت فکر ہوتی ہے کہ طاغوت کے پاس مقدمہ لے جانے کی کیا تاویل کریں تو پھر چارناچار خدا کی قسمیں کھاتے ہوئے آپ کے پاس آتے ہیں کہ آپ کے غیر کے پاس مقدمہ لے جانے سے ہمارا مقصود سوائے بھلائی اور باہمی میل وملاپ کے اور کچھ نہ تھا یعنی جو آپ کے پاس سے عمر کے پاس گئے تھے اس سے ہمارا مقصود صرف یہ تھا کہ شاید وہ فریقین میں باہم صلح اور ملاپ کرادیں کیونکہ آپ جو فیصلہ کریں گے تو وہ عین حق اور عین عدل ہوگا اور اس میں ذرہ برابر بھی کسی کی رعایت نہ ہوگی اور باہمی فیصلہ میں کچھ نہ کچھ رعایت ہوجاتی ہے یارسول اللہ آپ ہم کو اپنا مخلص اور نیاز مند سمجھئے دوسری جگہ مقدمہ لے جانے سے ہماری غرض اور نیت بری نہ تھی ہم کو اس مصیبت یعنی ذلت سے بچائے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان کو شرم نہیں آتی کہ کیسی ذلت اور ندامت کے ساتھ اس کے پاس عذر لے کر حاضر ہوئے جس سے ان کو نفرت تھی یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ خوب جانتا ہے ان کے دلوں میں کیا نفاق اور جھوٹ اور باطل کا میلان بھرا ہوا ہے لاکھ زبانی باتیں بنائیں اللہ تعالیٰ کو ان کی دلی باتوں کا خوب علم ہے لاکھ اپنے نفاق کو چھپائیں مگر اللہ سے کہاں چھپ سکتا ہے پس اے نبی کریم ﷺ جب آپ اللہ کے بتلانے سے ان کے نفاق سے آگاہ ہوگئے تو مصلحت یہ ہے کہ آپ ان سے تغافل برتئیے اور ان کی سزا اور مواخذہ سے اعراض فرمائیں اور فی الحال علم خداوندی پر اکتفاء کیجئے ان کے ساتھ ظاہری معاملہ اسلام کا سارکھیے اور دل کا حال اللہ پر چھوڑ دیجئے اور ان کو نصیحت کیجئے یعنی نفاق اور کذب کے برے انجام سے ان کو ڈرائیے کہ اگر تم نے یہ نفاق نہ چھوڑا تو صریح کفر کے احکام تم پر جاری ہوں گے اور ان سے ایسی بات کہیے جو ان کے دلوں میں خوب اچھی طرح پہنچ جائے یعنی ان کے دلوں میں اتر جائے اور اثر کرجائے مطلب یہ ہے کہ آپ ان کی ان باتوں کو دیکھ کر مایوس نہ ہوں وعظ ونصیحت برابر ان کو کرتے رہیں شاید ان میں سے کوئی راہ راست پر آجائے۔
آگے ارشادفرماتے ہیں اور نہیں بھیجا ہم نے کوئی پیغمبر مگر اس لیے کہ بحکم خداوندی اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کی جائے اور دل وجان سے اس کے حکم کو مانا جائے محض زبان سے رسالت کا اقرار کافی نہیں یہ ان منافقین پر زجر وتوبیح ہے جو رسول اللہ کے فیصلہ سے ناخوش تھے اور مطلب یہ ہے کہ اے نبی کریم آپ اللہ کے رسول ہیں اور ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے وہ اسی لیے بھیجا ہے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے لہذا دل وجان سے آپ کی اطاعت ان پر فرض ہے پس جو آپ کا حکم نہیں مانتا وہ درحقیقت اللہ کا حکم نہیں مانتا تو باذن اللہ کے یہ معنی ہوئے کہ نبی کریم ﷺ کی بےچون چرا اطاعت اللہ کے حکم سے فرض ہے اور بعض علماء نے باذن اللہ کے معنی بتوفیق اللہ کے لیے ہیں اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے رسولوں کو اس لیے بھیجا کہ ان کی اطاعت کی جائے مگر ان کی اطاعت وہی شخص کرے گا جس کو اللہ توفیق دے گا آگے پھر انہیں منافقین کے حق میں ارشاد ہے اور اگر یہ لوگ اپنی جانوں پر ظلم وستم یعنی گناہ کرنے کے بعد آپ کے پاس حاضر ہوجاتے ہیں پھر اللہ سے معافی مانگتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ بھی ان کے لیے معافی چاہتے ہیں تو ضرور پاتے اللہ تعالیٰ کو توبہ قبول کرنے والا مہربان یعنی قبول توبہ کے بعد اللہ کی مہربانی بھی ہوتی معافی کے بعد انعام بھی ملتا مطلب یہ کہ اگر یہ منافق گناہ کرنے کے بعد بھی متنبہ ہوجاتے اور اس وقت آپ کے پاس چلے آتے جب کہ انہوں نے طاغوت کے پاس اپنا مقدمہ لے جاکر اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا اور اس طرح آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی غیرحاضری کا تدارک اور کفارہ کرتے اور پھر اپنے نفاق سے توبہ اور استغفار کرتے اور رسول اللہ بھی ان کے لیے دعا مغفرت کرتے تو امید تھی کہ اللہ ضرور ان کی توبہ قبول کرلیتا اور ان پر مہربان ہوجاتا مگر انہوں نے تو یہ غضب کیا کہ اول تو رسول اللہ کے حکم اور فیصلہ سے اعراض کیا جو بعینہ اللہ کے حکم اور فیصلہ سے اعراض کے مرادف پھر جب اس کا وبال ان پر پڑا اور ذلیل و خوار ہوئے تو جب بھی متنبہ تائب نہ ہوئے بلکہ جھوٹی قسمیں کھانے اور تاویلیں گھڑنے لگے پھر ایسوں کی مغفرت کیسے ہو عذر گناہ بدتر از گناہ۔
اس آیت میں واستغفرلہم الرسول یعنی رسول ان کے لیے معافی مانگتا اس سے مقصود رسول اللہ کی تعظیم کا اظہار ہے کہ جس شخص کو اللہ نے منصب نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا ہے اور اس کو اپنے اور اپنی مخلوق کے درمیان سفری اور ترجمان ٹھہرایا اگر اس کی خدمت میں حاضر ہوتے اور اس سے دعا مغفرت کی درخواست کرتے تو اللہ تعالیٰ اس کی سفارش ضرورقبول کرتا ہر گناہ خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو اس کے لیے ذاتی توبہ اور استغفار کافی ہے اس کے ساتھ کسی اور چیز کی ضرورت نہیں لیکن اس آیت میں منافقین کہ معافی کے لیے رسول اللہ کے استغفار کو بھی شرط قرار دیا یا وجہ اس کی یہ ہے کہ جو منافقین رسول اللہ کے فیصلہ پر راضی نہ ہوہئے اور طاغوت کے فیصلہ کو رسول اللہ کے فیصلہ پر ترجیح دی تو ان لوگوں نے رسول اللہ کے دل کو صدمہ اور ایذا پہنچائی لہذا بغیر رسول اللہ کو راضی کیے انکی توبہ قبول نہیں ہوسکتی۔
شرائط ایمان۔
اب آئندہ آیات میں مضمون سابق کی تائید کے لیے فرماتے ہیں کہ ایمان کی شرط ہے یہ کہ ہر معاملہ میں اپنا فیصلہ رسول اللہ ﷺ سے چاہیے اور جو فیصلہ وہ فرمادیں اس کو حق جان کر دل وجان سے اس کو مان لے اور دل سے اس پر راضی ہو اور دل میں اس سے کوئی تنگی اور ناگواری نہ پائے جب تک دل وجان سے رسول اللہ کے فیصلوں پر راضی نہ ہو اس وقت تک ایمان صحیح نہیں محض ظاہری اطاعت ایمان کے لیے کافی نہیں بلکہ بلا شبہ نفاق ہے حدیث میں ہے کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے تم میں سے کوئی مومن نہیں ہوسکا جب تک اس کی نفسانی خواہش میرے حکم کے تابع نہ ہوجائے یعنی میرا حکم آگے آگے ہو اور اس کی نفسانی خواہش میرے حکم کے پیچھے دوڑ رہی ہو۔
چناچہ فرماتے ہیں پس یہ لوگ جو آپ کے فیصلہ سے اعراض کرتے ہیں اگرچہ زبان سے دعوے کریں کہ ہم مومن ہیں لیکن حقیقت میں یہ لوگ مومن نہیں دعوائے ایمان اور تحاکم الی الطاغوت جمع نہیں ہوسکتے قسم ہے تیرے رب کی یہ لوگ جو زبانی ایمان کا دعوی کرتے پھرتے ہیں حقیقی مومن نہیں ہوسکتے جب تک باہمی جھگڑوں میں آپ کو حکم اور منصف نہ جانیں اور پھر آپ کے فیصلہ اور تصفیہ سے اپنے دلوں میں کوئی تنگی اور ناگواری یعنی شک اور تردد کا کوئی ادنی شائبہ بھی نہ پائیں اور طیب خاطر اور شرح صدر اور طمانینت قلب سے آپ کے فیصلہ کو دل وجان سے تسلیم کریں کماحقہ تسلیم کرنا یعنی پورے طور سے تسلیم کریں۔ مطلب یہ ہے کہ جب تک آپ کے حکم کو اپنی رائے پر مقدم نہ سمجھیں گے مسلمان نہ ہوں گے پیغمبر خدا کے سامنے بےچون چرا سر تسلیم خم کردینے ہی کا نام اسلام ہے۔ زباں تازہ کردن باقرار تو، نیگیختن علت از کارتو۔ اللہ جل شانہ جب اہل کتاب کی شرارتوں کو بیان کرچکے اور ناقابل عفو شرارتوں کے معاف کرنے کا طریقہ بھی بتلادیا تو اب اپنی رحمت کاملہ کا اظہار فرماتے ہیں کہ دیکھو دن اسلام میں اللہ نے کیسی آسانی رکھی ہے کوئی حکم اس کا سخت نہیں دیکھو اگلے زمانہ میں جب کوئی گناہ کرتا تھا تو اس کی توبہ قبول ہونے کے لیے یہ شرط تھی کہ وہ اپنے آپ کو قتل کرے جیسا کہ سورة بقرہ میں گوسالہ پرستوں کے بارے میں گذرا فتوبوا الی بارئکم فاقتلوا انفسکم اور ہم نے تمہاری توبہ قبول ہونے کے لیے کوئی سخت شرط نہیں لگائی صرف رسول خدا سے معافی کا خواستگار ہونا اور پیغمبر خدا کی سفارش کرنا مقرر کیا ہے مگر افسوس تم اس پر بھی اطاعت اور انابت کے لیے تیار نہیں۔ چانچہ فرماتے ہیں کہ اور اگر ہم ان منافقین پر یہ حکم کرتے کہ اپنے آپ کو قتل کر ڈالو یا اپنے گھروں سے نکل جاؤ ان میں سوائے چند آدمیوں کے اکثر اس کام کو نہ کرتے یعنی اگر ہم ان منافقین پر یہ باتیں فرض کردیتے تو بہت ہی تھوڑے لوگ جن کے دل میں ایمان کا داعیہ بہت ہی قوی ہوتا وہ اس حکم پر عمل کرتے لہذا ان کو ہمارا مشکور ہوناچا ہے کہ ہم نے ان کو کوئی سخت حکم نہیں دیا بلکہ ایسے آسان حکم دئیے جن پر نہایت آسانی سے عمل کرسکتے ہیں اگر ہم ان کو سخت حکم دیتے تو کسی ذلت اور رسوائی ہوتی مطلب یہ ہے کہ صادق الایمان وہ شخص ہے جو خدا کی راہ میں جان دینے اور وطن سے ہجرت کرنے میں دریغ نہ کرے جیسا کہ صحابہ کرام نے اللہ اور اس کے رسول کی محبت میں مال وجان دھن اور وطن سب قربان کردیا۔ اور اگر یہ لوگ وہ کام کرتے جس کی ان کی نصیحت کی جاتی ہے تو دین ودنیا کے اعتبار سے ان کے حق میں نہایت بہتر ہوتا اور انکے دین و ایمان کی زیادہ مضبوطی اور ثبات قدمی کا باعث ہوتا یعنی احکام خداوندی پر عمل کرنے سے ان کا دین اور ایمان مضبوط اور مستحکم ہوجاتا اور اسلام پر ثابت قدم ہوجاتے ایمان اور اسلام میں تردد اور تزلزل نہ رہتا اخلاص اور اتباع حق سے قلب میں قوت آتی ہے اور نفاق سے بزدلی اور کمزوری منافق کا دل ہمیشہ ڈانو ڈول رہتا ہے اور اس وقت ہم ان کو البتہ اپنے پاس سے اجرعظیم عطا کرتے اور البتہ چلاتے ہم ان کو سیدھی راہ پر یعنی ہم ان کو اس صراط مستقیم پر چلاتے جو انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صالحین کی راہ ہے جس تذبذب اور تردد کی راہ پر منافقین چل رہے ہیں وہ مغضوبین اور ضالین کی راہ ہے اللہ اس سے محفوظ رکھے آمین۔
وعدہ معیت اہل انعام براطاعت احکام۔
اوپر سے سلسلہ کلام اطاعت خدا اور رسول کی ترغیب وتاکید کے بارے میں چلا آرہا ہے اب اس آیت میں اطاعت پر ایک خاص بشارت اور مطعین کے لیے ایک خالص وعدہ کا ذکر فرماتے ہیں وہ یہ کہ جو لوگ ضروری احکام میں خدا و رسول کی اطاعت اور فرمانبرداری کریں جن کو مطعین کہتے ہیں یہ لوگ اگرچہ فضائل و کمالات میں مرتبہ کمال کو نہ پہنچے ہوں مگر بسبب اطاعت خدا اور رسول ان کو جنت میں کاملین یعنی نبی ن وصدیقین اور شہداء اور صالحین کی معیت اور مرافقت نصیب ہوگی باجود قصور رتبہ کے ان کو اہل انعام کی معیت اور مرافقت کا شرف حاصل ہوگا جیسا کہ حدیث میں ہے المرامع من احب جو شخص خدا کے برگزیدہ بندوں سے محبت رکھے گا وہ قیامت کے دن ان کے ساتھ ہوگا اور جو کفار وفجار سے محبت رکھے گا وہ قیامت کے دن ان کے ساتھ ہوگا۔ اس آیت کا شان نزول جیسا کہ حافظ ابن کثیر اور حافظ سیوطی نے متعدد اسانید کے ساتھ روایت کیا ہے یہ ہے کہ آپ کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان اور دیگر چند صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ آپ ہمیں ہماری جانوں اور اولاد سے زیادہ محبوب ہیں اور ہماری حالت یہ ہے کہ جب کبھی گھر میں آپ یاد آجاتے ہیں تو بےچین ہوجاتے ہیں اور جب تک آپ کو دیکھ نہیں لیتے تو صبر نہیں آتا خیر یہاں تو آپ کو دیکھ لیتے ہیں لیکن جب آخرت کا خیال آتا ہے تو دل بےچین ہوجاتا ہے کہ وہاں آپ کو کیسے دیکھ سکیں گے اس لیے کہ آپ تو اعلی علیین اور جنت کے اعلی درجوں میں ہوں گے وہاں حاضر ہو کر ہم آپ کو کیسے دیکھ سکیں گے اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی اور جو شخص اطاعت اور فرمانبرداری کرے اللہ کی اور رسول کی پس ایسے مطیع اور فرمانبردار لوگ قیامت کے دن ان برگزیدہ بندوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے اپنا خاص الخاص انعام فرمایا یعنی انبیاء کرام اور صدیقین شہداء اور صالحین کے ساتھ ہوں گے۔
ہمچو بلبل دوستی گل گزیں تاشوی باخبر من گل ہم نشیں
زاغ چوں مردار راشد ہم نفس یار اومر دار خواہد بودوبس
جاننا چاہیے کہ ساتھ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ سب ایک درجہ میں ہوں گے کیونکہ یہ تو محال ہے، ہم درجات عنداللہ۔ اللہ کے یہاں لوگوں کے درجہ مختلف ہیں ساتھ ہونے کے معنی یہ ہیں کہ نیچے کے درجہ والے اوپر کے درجے والوں سے ملتے رہیں گے درجات اور مراتب کا تفاوت زیارت اور ملاقات سے مانع نہ ہوگا جس طرح دنیا میں تفاوت درجات مانع ملاقات نہیں اسی طرح آخرت میں بھی مانع نہ ہوگا۔ اللہ جل شانہ نے اس آیت میں اہل انعام کی چار قسمیں ذکر فرمائیں، انبیاء کرام، صدیقین، شہداء، صالحین اور ان چاروں کے علاوہ ایک پانچویں قسم مطیعین کی ذکر فرمائی جو درجہ اور مرتبہ میں ان چار قسموں سے کمتر اور فروتر ہیں اس پانچویں قسم یعنی مطیعین کے لیے اللہ نے اس آیت میں یہ وعدہ فرمایا کہ مطیعین اگرچہ درجہ اور رتبہ میں اہل انعام سے کم تر ہیں مگر ہم ان مطیعین کو باوجود قصور رتبہ کے اہل انعام کی معیت اور مرافقت سے نوازیں گے اور یہ لوگ جنت میں ایک دوسرے کی زیارت سے مشرف ہوتے رہیں گے اللہ نے اس آیت شریفہ میں مراتب کمالات انسانی کو ترتیب وار ذکر کیا ہے۔
پہلا مرتبہ نبوت کا ہے۔
جو تمام مراتب انسانی میں سب سے اعلی مرتبہ ہے نبی وہ برگزیدہ شخص ہے جس کو اللہ نے اپنا پیغام دے کر بندوں کے پاس بھیجا ہو اور اس پر اللہ کی وحی نازل ہوتی ہو اب یہ مرتبہ نبی ﷺ پر ختم ہوگیا آپ کے بعد کسی کو نبوت نہیں ملے گی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) قیامت کے قریب آسمان سے نازل ہوں گے بیشک وہ نبی ہوں گے مگر ان کو نبوت حضور پرنور سے پہلے مل چکی ہے۔
دوسرا مرتبہ صدیقیت کا ہے۔
نبوت کے بعد دوسرا مرتبہ صدیقیت کا ہے نبی کے بعد سب سے افضل صدیق ہوتا ہے صدیق وہ ہے کہ جس کی رگ روپے میں ظاہر اور باطن میں صدق ایسا سرایت کرگیا ہو کہ کذب کے جز لایتجزی کی بھی اس میں گنجائش نہ رہی ہو اور پیغمبر خدا جو حق اور صدق لے کر آیا ہے سنتے ہی اس کی بلادلیل اور بلا تردد وتامل صدق دل سے اس طرح تصدیق کرے کہ گویا کہ یہ اس کے دل کی آواز ہے اور جب نبی اس کو دعوت دے تو فوار وہ اپنے نور قلب سے اس کی نبوت کو پہچان لے اور اس کی تصدیق کرے جس طرح کہ ابوبکر اس امت مرحومہ کے صدیق اکبر تھے کہ بلاتردد وتامل نبی کریم ﷺ کی نبوت و رسالت کی تصدیق کی، چشم احمد برابوبکر سے زدہ، ازی کے تصدیق صدیق آمدہ۔ بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ آیت میں صدیقین سے مراد وہ لوگ ہیں کہ جو دین کے تمام امور کی تصدیق کریں اور ان کو دین میں ذرہ برابر بھی شک نہ ہو جیسا کہ اللہ جل شانہ کا یہ ارشاد ہے والذین آمنو باللہ ورسلہ اولئک ھم الصدیقون۔ آیت۔ یعنی جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے وہی صدیق ہیں اور اس امت میں اس وصف میں حضرت ابوبکر سب کے پیشوا اور مقتداء ہیں سب سے پہلے رسول اللہ پر ایمان لائے اور ہر موقعہ پر نبی اکرم ﷺ کے ساتھ رہے کوئی مشہد اور غزوہ ایسا نہیں جس میں ابوبکر آپ کے ساتھ نہ ہوں یار غار جس طرح غار میں آپ کے ساتھ تھے اسی طرح وفات کے بعد آپ کے پہلو میں مدفون ہیں۔
تیسرا درجہ شہادت کا ہے۔
صدیقیت کے بعد درجہ شہادت کا ہے جیسا کہ حضرت عمر اور حضرت عثمان اور حضرت علی ؓ اجمین کو حاصل ہوا اور شہید وہ ہے جو پیغمبر کے حکم پر اپنی جان قربان کرے۔
چوتھا درجہ صلاحیت کا ہے۔
صالحین وہ لوگ ہیں کہ جو اپنے اعتقادات اور اعمال میں صحیح طریق پر ہوں یعنی ان کے اعتقادات اور اعمال میں کسی قسم کا خلل اور فساد نہ ہو لغت میں صلاح نقیض فساد کی ہے صالح اور نیک بخت وہ لوگ ہیں جن کی طبیعت نیکی ہی پر پیدا ہوئی اور اپنے نفس اور بدن کی اصلاح اور صفائی کرچکے ہیں (ماخوذ از موضح القرآن) ۔
خلاصہ کلام۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت اور فرمانبرداری میں آگے ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو قیامت کے دن اہل انعام کے ساتھ گنے گا اور باوجود قصور رتب کے ان کو کاملین ہی کی شمار اور ذیل میں لے لیا جائے گا ان حضرات کی رفاقت اور معیت بھی بری دولت اور فضیلت کی بات ہے اور یہ فضیلت ان کو محض اللہ کے فضل وکرم سے ملی ہے ورنہ ان کی اطاعت اس کے لیے کافی نہ تھی اور ہر وان آخرت کے لیے یہ گروہ بہترین رفیق طریق ہیں اور ان حضرات کی معیت اور رفاقت یہ محض اللہ کا فضل ہے کہ عمل تو تمہارا اس درجہ کا نہ تھا مگر اللہ نے محض اپنے فضل اور مہربانی سے تم پر یہ انعام کیا کہ کاملین کی معیت اور رفاقت سے سرفراز کیا ورنہ قاعدہ کا اقتضاء یہ تھا کہ ہر عمل کا اجر اسی کے درجہ کے مطابق دیا جائے اور اللہ تعالیٰ کافی جاننے والا ہے اور اس کو خوب معلوم ہے کہ یہ اطاعت کس درجہ کی ہے اور استحقاق سے زیادہ کسی کو کچھ دے دینا یہ فضل ہے۔
Ayahs 4:71–84حکم بستم وجوب جہاد برائے احیاء دین وتخلیص ضعفاء ومظلومین۔
قال تعالی، یا ایھا الذین آمنوا۔۔۔ الی۔۔ تنکیلا۔
ربط) گذشتہ آیات میں اہل کتاب اور منافقین اور اعداء دین کی شرارتوں کا ذکر تھا اب ان آیات میں مسلمانوں کو ان سے جہاد کا حکم دیتے ہیں جو احیاء دین اور اعلاء کلمۃ اللہ کا ذریعہ ہے بدسرشتوں کے قلع قمع کا بہترین طریقہ ہے جو مسلمان کافروں کے پنجہ ظلم میں بےطرح گرفتار ہیں ان کی خلاصی اور رہائی کی سبیل ہے اور جہاد فی سبیل اللہ اطاعت خدا اور رسول کا جس کا ماقبل ذکر تھا اعلی اور اکمال فرر ہے جس سے اندرونی اخلاص اور نفاق ظاہر ہوجاتا ہے کیونکہ جہاد کا حکم منافقین پر بہت شاق اور گراں گذرتا ہے اسی وجہ سے یہاں سے لے کر چھ رکوع تک اسی مضمون کے متعلقات کا بیان چلا گیا ہے اور اس ضمن میں اللہ نے منافقین کی ایک عجیب کیفیت بیان فرمائی وہ یہ کہ جب کسی غزوہ میں مسلمانوں کو شکست ہوتی ہے تو یہ منافقین بہت خوش ہوتے ہیں اور اپنے شریک جنگ نہ ہونے کو انعام الٰہی سمجھتے ہیں اور جب مسلمانوں کو فتح ہوتی ہے تو بہت پچتاتے ہیں اور حسرت سے یہ کہتے ہیں کہ کاش ہم بھی شریک جنت ہوتے تو ہم کو بھی مال غنیمت میں سے حصہ ملتا چناچہ فرماتے ہیں اے ایمان والو ایمان کا مقتضی یہ ہے کہ خدا کا بول بالا کرنے کے لیے دشمنان خدا سے جہاد و قتال کرو اور خدا اور رسول کی بہترین اطاعت یہ ہے کہ اس کی راہ میں جانبازی وسرفروشی دکھلاؤ مگر اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو تم اپنی احتیاط اور بچاؤ کو پوری طرح ملحوظ رکھو پس ہتھیاروں اور سامان جنگ اور تدبیر عقل سے اور تیر وتلوار سے درست ہو کر اور دشمن کے مقابلہ کے لیے نکلو جیسا موقع اور مصلحت ہو ویسا کرو اور تحقیق تم سے بعض ایسے بھی ہیں مراد اس سے منافقین ہیں جو تمہارے ساتھ جہاد میں نکلنے سے دیر کرتا ہے یعنی جہاد میں تمہارے ساتھ شریک نہیں ہوتے پھر اگر جہاد اور لڑائی میں تم کو کوئی مصیبت پہنچ جاتی ہے جیسے شکست وغیرہ تو یہ منافق خوش ہو کر یہ کہتا ہے تحقیق اللہ نے مجھ پر بڑا ہی فضل کیا کہ میں ان لوگوں کے ساتھ لڑائی میں حاضر نہ ہوا اور اگر تمہیں اللہ کا فضل پہنچے اور لڑائی میں تم فتح یاب ہوجاؤ اور کچھ مال غنیمت تم کو مل جائے تو یہ منافق نہایت حسرت کے ساتھ اس طرح کہتا ہے کہ گویا تمہارے اور اس کے درمیان کبھی کوئی دوستانہ تعلق ہی نہ تھا مالی اور دنیوی نفع کے فوت ہونے پر اس طرح کہتا ہے کہ اے کاش میں ان کے ساتھ ہوتا تو بڑی مراد پاتا یعنی ان منافقین کا مطمع نظر فقط دنیاوی نفع ہے مالی فائدہ کو وہ اپنی بڑی کامیابی سمجھتے ہیں خدا کی فرمانبرداری سے ان کو کوئی سروکار نہیں مطلب یہ ہے کہ اگر خدا کے فضل سے مسلمانوں کو فتح ہوگئی اور بہت سامال غنیمت ہاتھ آگیا تو یہ منافق پچھتاتے ہیں اور دشمنوں کی طرح غلبہ حسد سے کف افسوس ملتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ افسوس اگر میں بھی جہاد میں مسلمانوں کے ساتھ ہوتا تو مجھ کو بھی بڑی کامیابی نصیب ہوتی یعنی مال غنیمت میں سے حصہ ملتا پس مسلمانوں کو چاہیے کہ ان دنیا طلب لوگوں کی طرح دنیاوی نفع پر نظر نہ رکھیں اور یہ منافقین اگر دنیوی منافع کو تکتے رہتے ہیں تو تکتے رہیں مگر جو لوگ دنیاوی زندگی کو فروخت کرکے اس کے بدلے آخرت لے رہیے ہیں اور دنیائے فانی پر لات مارچکے ہیں ان کو چاہیے کہ خدا کی راہ میں دشمنان خدا سے محض خدا کے لیے جہاد و قتال کریں اور دنیاوی زندگی اور اس کے مال و دولت پر نظرنہ رکھیں اور جو خدا کی راہ میں جنگ کرے پھر مارا جائے یا دشمن پر غالب آوے تو ہر حالت میں ہم اس کو ضرور اجر عظیم دیں گے جس کے سامنے دنیاوی منافع کی کوئی حقیقت نہیں آگے ارشاد فرماتے ہیں اگر ہم بالفرض تم سے اجر عظیم کا وعدہ بھی نہ کرتے تب بھی تم پر دو وجہ سے کافروں سے لڑنا ضروری ہے ایک تو یہ کہ اللہ کا دین غالب اور بلند ہو اور دوسرے یہ کہ جو مظلوم مسلمان مکہ میں کافروں کے پنجہ میں گرفتار ہیں اور جو معصوم بچے ان کے ظلم وستم کا نشانہ بنے ہوتے ہیں ان کی نجات اور رہائی کی صورت نکلے چناچہ فرماتے ہیں اور تم کو کیا ہوا کہ تم خدا کی راہ میں جہاد و قتال نہ کرو اور اس کا بول بالا کرنے کے لیے اس کے دشمنوں سے نہ لڑو اور تم کو کیا ہوا کہ تم بےچارہ اور بےبس مردوں اور عورتوں اور بچوں کو چھڑانے کے لیے نہیں لڑتے جو کفار کی اذیتوں سے تنگ آکر یہ دعا مانگتے ہیں اے ہمارے پروردگار کسی طرح ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے بڑے ہی ظالم اور ستم گر ہیں جن کے ساتھ نباہ بہت ہی مشکل ہے اور اپنے پاس سے ہمارے لیے کوئی کارساز مقرر فرما جو ہمارے دین و ایمان کی حفاظت کرسکے اور ان ظالموں کے پنجہ سے ہم کو چھڑائے چناچہ اللہ نے ان کی دعا قبول فرمائی کہ نبی اکرم ﷺ کو ان کی حمایت کے لیے کھڑا کیا چناچہ آپ نے فتح مکہ کیا اور کافروں کے ہاتھ سے ان کو چھڑایا اور عتاب بن اسید ؓ کو ان پر حاکم مقرر کیا جو مظلوموں کی مدد کرتے تھے اور زبردست سے کمزور کا بدلہ لیتے تھے جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ بتقاضائے ایمان خدا کی راہ میں لرتے ہیں تاکہ اللہ کا دین سربلند ہو اور حق باطل پر غالب آجائے اور جو لوگ کافر ہیں وہ معبود باطل کی راہ میں لڑتے ہیں تاکہ دنیا میں طغیان اور سرکشی اور گمراہی کا خوب دور دورہ ہو اور نفس اور شیطان کے مقابلہ میں نیکی اور سچائی کا اثر بڑھنے نہ پائے پس اے خدا کے دوستوں تم شیطان کے دوستوں سے جنگ کرو اور ان کے کید اور مکی کی پروانہ کرو تحقیق شیطان کا داؤ اور فریب بہت کمزور ہے خدا کے دوستوں کے مقابلہ میں کارگر نہیں ہوسکتا تمہارا حامی اور مددگار اللہ ہے تمہارے مقابلہ میں ان کا لشکر نہیں ٹھہر سکتا لہذا تم خدا پر نظر کرکے خدا کی راہ میں جہاد و قتال کرو اور ہرگز ان سے نہ ڈرو ان کی سب تدبیریں غلط ہوجائیں گی تم غالب ہوگے اور وہ مغلوب۔
پادری لوگ مسئلہ جہاد پر یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ دین کے سلسلہ میں تو صرف وعظ وپند پر اکتفا کرنا چاہیے قتل و قتال کی کیا ضرورت ہے جیسا کہ حضرت مسیح نے کیا اس آیت میں اس اعتراض کے جواب کی طرف اشارہ ہے کہ شیطان کے دوست تو شیطان کی راہ میں باطل اور دنیاوی اور نفسانی اغراض کے لیے لڑتے ہیں ان پر تو تم اعتراض نہیں کرتے اور جو حق اور صداقت کی نصرت اور حمایت کے لیے خدا کی راہ میں لڑتے ہیں اس کو تم معیوب سمجھتے ہو۔
شکایات دوستاں برتمنائے التواء حکم جہاد۔
گذشتہ آیات میں جہاد و قتال کی ترغیب تھی اب ان آیات میں پھر جہاد پر جوش اور غیرت دلائی جاتی ہے اور اس بارے میں ایک خاص شکایت کی جاتی ہے وہ یہ کہ جب مسلمان مکہ مکرمہ میں کفار کی اذیتوں اور مظالم سے تنگ آگئے تو نبی ﷺ سے عرض کیا یارسول اللہ ہم ان لوگوں سے سخت تنگ آگئے ہیں آپ ہم کو اجازت دیں کہ ہم ان سے جہاد و قتال کریں آپ نے فرمایا ابھی تک جہاد کی اجازت نازل نہیں ہوئی لہذا فی الحال تم صبر کرو اور اپنے ہاتھوں کو روکے رکھو اور حسب دستور نماز پڑھتے رہو اور زکوٰۃ دیتے رہو ہجرت کے بعد جب جہاد کی اجازت ملی تو بعضے کچے مسلمان اور دل کے کمزور طبعی طور پر ڈرنے لگے اور موت کے خوف سے یہ کہنے لگے کہ کاش اگر اور تھوڑی مدت جہاد و قتال کا حکم نازل نہ ہوتا تو اچھا ہوتا اس پر اللہ نے شکایت فرمائی کہ جب جہاد کا حکم نازل ہوا تو تم ڈرنے لگے تم کو خوش ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری درخواست قبول کی اور تمہاری دلی تمنا اور آرزو پوری ہوئی یا تو پہلے یہ زور شور تھا یا اب یہ بےنم کی ہے اور آئندہ ان کو نصیحت فرماتا ہے کہ دنیا تو چند روزہ ہے اس کے آرام و تکلیف کا خیال نہ کرو موت اپنے وقت مقرر پر آئے گی وقت سے پہلے نہ آئے گی اس لیے اس کا خوف بےسود ہے یہ دنیا فانی یا تو خواب ہے یا سراب ہے۔ دنیا خوابیست زندگانی دروے، خوابست کہ درخواب بہ بینی آنرا۔ چناچہ فرماتے ہیں کہ کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو ابتداء میں یہ حکم ہوا تھا کہ ابھی اپنے ہاتھوں کو جہاد و قتال سے روکے رکھو اور حسب سابق نماز کو قائم رکھو اور زکوٰۃ دیتے رہو یہ حکم ہجرت سے پہلے تھا پس جب ہجرت کے بعد ان پر جہاد و قتال فرض کردیا گیا تو ناگہاں ایک گروہ ان میں سے اپنے مخالف لوگوں سے ایسا ڈرنے لگا جیسے خدا سے ڈرنا چاہیے بلکہ اس سے بھی زیادہ ڈرنے لگا اس گروہ سے یا تو منافقین کا گروہ مراد ہے یا ضعیف الایمان اور کمزور اور کچے مسلمان مراد ہیں اور یہ خوف ان کا طبعی تھا اعتقادی نہ تھا کہ معاذ اللہ دل سے حکم خداوندی کو ناپسند کرتے ہوں جیسے مومن موت کو حق سمجھتا ہے مگر طبعا موت اس کو گراں معلوم ہوتی ہے اس لیے بعض ضیعف الایمان طبعی کمزوری کی بناء پر برائے چندے التواء جہاد کی تمنا اور آرزو میں یہ کہنے لگے اے ہمارے پروردگار آپ نے ابھی سے ہم پر جہاد و قتال کو فرض کردیا کیوں نہ ڈھیل دی آپ نے ہم کو ایک قریبی وقت تک یعنی ذرا اور بےفکری سے جی لیتے ضعیف الایمان مسلمانوں کا یہ کہنا بطور اعتراض نہ تھا بلکہ طبعی کمزوری کی بناء پر تھا اور بطور حسرت اور تمنا تھا ان پر کوئی گناہ نہیں ہوا آگے اس کا جواب ارشا دفرماتے ہیں اے نبی کریم آپ کہہ دیجئے کہ دنیا کی بہر مندی بہت تھوڑی ہے دنیا کے فوائد فنا اور زائل ہونے والے ہیں ان سے دل لگانا نہیں چاہیے لہذا اس التواء کی تمنا بےسود ہے آخرت اب کے اور آخرت پرہیزگار کے لیے دنیا سے بدرجہا بہتر ہے اور نعماء آخرت کے حصول کا بہترین ذریعہ جہاد ہے اور آخرت میں تم پر تاگے کے برابر بھی ظلم نہ ہوگا خوب سمجھ لو کہ اگر جہاد نہ بھی کیا تو موت سے نہیں بچ سکتے جس جگرہ بھی تم ہوگے تو موت تم کو آپکڑے گی اگرچہ مضبوط محلوں میں ۃ و جہاں اگرچہ قاتل نہ پہنچ سکے لیکن موت کافرشتہ تو ضرور پہنچ جاتا ہے لہذا موت کے ڈر سے جہاد سے جان چرانا نادانی ہے اور اسلام میں کمزوری اور کچے ہونے کی دلیل ہے۔
منافقین کے ایک خیال خام کی تردید۔
آئندہ آیات میں منافقین کے ایک خیال خام کا دفعیہ فرماتے ہیں جو بعض منافقین کو ہوتا تھا وہ یہ کہ جب کبھی جہاد میں کوئی فتح ونصرت ہوتی اور مال غنیمت ہاتھ آتا تو یہ کہتے کہ یہ اللہ کی طرف سے اتفاقا بات بن گئی ہے رسول اللہ کی تدبیر کے قائل نہ ہوتے اور جب کبھی شکست ہوتی اور کچھ نقصان پہنچتا تو اس کو نبی صلی اللہ کی طرف منسوب کرتے اور یہ کہتے کہ یہ مصیبت آپ کی اور آپ کے اصحاب کی نحوست سے ہم کو پہنچی ہے آئندہ آیت میں منافقین کی اسی بےہودہ بات کا جواب دیتے ہیں اور اگر پہنچتی ہے ان منافقین کو کوئی نعمت اور رحت یعنی خوشحالی اور کامرانی تو یہ کہتے کہ یہ منجانب اللہ اتفاقا ہوگئی ہے اس میں نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں کی تدبیر کی کوئی دخل نہیں جیسے محاورہ میں کہہ دیا کرتے ہیں کہ یہ بات تو من جانب اللہ ہے یعنی تمہاری تدبیر کا نتیجہ نہیں اور اگر ان منافقین کو کوئی برائی اور تکلیف پہنچ جائے تو یہ کہتے کہ اے محمد یہ مصیبت اور بلا آپ کے پاس سے آئی ہے یعنی یہ آپ کی نحوست ہے نبی ﷺ ہجرت فرما کر جب مدینہ منوری رونق افروز ہوئے تو ان ایام میں مدینہ میں غلہ اور پھلوں کی افراط تھی اور ہر چیز کا نرخ ارزاں تھا پھ جب منافقوں نے اپنے نفاق اور یہودیوں نے اپنی عناد کا اظہار کیا تو اللہ نے ان کے رزق میں کسی قدر تنگی پیدا کردی اور کم ہوئی پیدوار اور نرخ چڑھ گیا اس پر یہودیوں اور منافقوں نے کہا جب سے یہ شخص ہمارے شہر میں آیا ہے اسی وقت سے ہمارے پھلوں اور کھیتوں میں نقصان ہونے لگا اس آیت میں انہی منافقوں کا بیان ہے پس حسنہ (بھلائی) سے مراد پیدوار کی کثرت اور نرخ کی ارزانی ہے اور سیۂ (برائی) سے مراد قحط اور مہنگائی ہے اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ بھلائی سے مراد فتح اور غنیمت ہے اور برائی سے مراد قتل اور ہزیمت ہے بہرحال جو ابھی مراد ہو حسنہ اور سیۂ کا لفظ سب کو شامل ہے۔ اور اس روایت کی بناء پر مطلب یہ ہے کہ اگر لڑائی میں مسلمانوں کو فتح ہوتی ہے اور غنیمت ان کے ہاتھ آتی ہے جیسے بدر میں تو منافق یہ کہتے ہیں کہ یہ فتح اور غنیمت اللہ کیطرف سے اتفاقا پیش آگئی ہے اور مسلمان جو اس فتح کو اپنی تائید غیبی اور نبی اکرم ﷺ کی دلیل نبوت اور برہان صداقت سمجھتے ہیں یہ سب غلط ہے یہ فتح محض ایک اتفاقی امر ہے اور اگر مسلمانوں کی شکست ہوتی ہے جیسے احد میں تو کہتے ہیں کہ یہ بات محمد ﷺ کی طرف سے ہے یعنی آپ کی بےتدبیری کا نتیجہ ہے آپ ان کے جواب میں یہ کہہ دیجئے کہ یہ سب اللہ کی طرف سے ہے میرا ان میں کوئی دخل نہیں اور جو امور باعث آرام ہیں وہ اللہ کا انعام ہیں اور جو باعث تکلیف ہیں وہ اس کی طرف سے ابتلاء اور آزمائش ہیں پس کیا حال ہے ان منافقین کا کہ ایک بات کے سمجھنے کے پاس نہیں جاتے یعنی ان کو اتنی سمجھ نہیں کہ بھلائی اور برائی سب اللہ کی طرف سے ہے انسان کا اس میں کوئی دخل نہیں۔
خلاصہ کلام یہ کہ اگر ان منافقین کو عقل ہوتی تو سمجھ لیتے کہ ہر راحت اور مصیبت کا خالق اور موجد اللہ ہی ہے ارزانی اور گرانی اور فتح اور شکست سب اللہ ہی کی قضاقدر سے ہے اس میں کسی دوسرے کو دخل نہیں اور پیغمبر کی تدبیر بھی اللہ کی قضا وقدر ہے اور اللہ تعالیٰ ہی کے الہام سے ہے لہذا نبی پر تمہارا الزام رکھنا غلط فہمی ہے اور بگڑے کو بگڑا نہ سمجھو یہ اللہ کی حکمت ہے اللہ تعالیٰ تم کو تمہاری تقصیروں پر متنبہ کرتا ہے اور تم کو سدھارتا اور سنوارتا اور آزماتا ہے یہ منافقین کے الزام کا اجمالی جواب ہوا آئندہ آیت میں اس کی تفصیل ہے اے انسان تجھ کو نعمت اور راحت اور بھلائی کی قسم سے جو چیز پہنچے تو وہ اللہ کی طرف سے ہے اور برائی کی قسم سے جو چیز تجھ کو پہنچے تو وہ تیرے نفس کی طرف سے ہے مطلب یہ ہے کہ انسان کو جو نعمت اور راحت پہنچتی ہے وہ محض اللہ کا فضل اور احسان ہے اور جو تکلیف اسے پہنچتی ہے وہ اس کے اعمال کی شامت سے پہنچتی ہے۔ اس سے اوپر کی آیت میں اللہ نے یہ فرمایا تھا کہ بھلائی ہو برائی سب اللہ کی طرف سے ہے اور اس آیت میں یہ فرمایا کہ بھلائی تو اللہ کی طرف سے ہے اور برائی بندے کی طرف سے ہے بظاہر ان دونوں باتوں میں تعارض معلوم ہوتا ہے مگر درحقیقت تعارض نہیں دوسری آیت پہلی آیت کی تفصیل ہے۔
خلاصہ جواب یہ ہے کہ عالم اسباب سے قطع نظر کرکے فاعل حقیقی اور مسبب الاسباب کی طرف خیال کرو تو ہر بھلائی اور برائی کا خالق اور موجد صرف وہی ہے اس اعتبار سے تمہارا بھلائی اور برائی میں تفرقہ کرنا یہ بھلائی تو اللہ کی طرف سے ہے اور یہ برائی رسول کی طرف سے ہے سراسر حماقت ہے، فمالھوالاء القوم لایکادون یفقہون حدیثا۔ آیت۔ یعنی یہ لوگ ایسے نادان ہیں خہ اپنی حماقت کو بھی نہیں سمجھتے اور اگر عالم اسباب پر نظر کرتے ہو تو خوب سمجھ لو کہ عالم اسباب میں تم کو جو خیر اور بھلائی پہنچتی ہے وہ محض اللہ کا فضل اور احسان اس میں تمہارے کسی عمل کو دخل نہیں تم جو عمل صالح کرنے بھی ہو تو وہ بھی اللہ ہی کا فضل اور احسان ہے اس کی توفیق سے اور اس کی دی ہوئی قدرت سے اور اس کے دیے ہوئے اعضاء اور جوارح سے کرتے ہو تمہارا وجود بھی اسی کا فضل اور احسان ہے اور اگر تم کو کوئی برائی اور تکلیف پہنچے تو سمجھ لو کہ وہ تمہارے اعمال بد کا نتیجہ ہے، کما قال تعالی، ومااصابکم من مصیبۃ۔۔۔ الی۔۔ کثیرا۔ لہذا ادب کا مقتضی یہ ہے کہ براء کو اپنی طرف اور بھلائی کو اللہ کی طرف منسوب کرو اور فتح اور کامرانی کو اللہ کا فضل جانو اور قحط اور گرانی اور شکست اور ناکامی کو اپنے اعمال کی شامت جانور پیغمبر خدا پر کوئی الزام نہ رکھو اور یقین رکھو کہ بھلائی اور برائی کا خالق اور موجد صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے مگر تمہارا عمل اس کا سبب ہے اور پیغمبر خدا اس برائی کے نہ خالق اور موجد ہیں اور نہ سبب ہیں لہذا پیش آمدہ برائی کو معاذ اللہ نبی ﷺ کی نحوست بتلانا کمال حماقت ہے۔
اللہ جل شانہ منافقین کے الزام دور کرنے کے بعد نبی کریم سے خطاب کرکے فرماتے ہیں اور اے نبی ﷺ آپ کا سبب نحوست ہونا تو قطعا ناممکن اور محال ہے تاکہ آپ لوگوں کو ہر خیر کی طرف دعوت دیں اور ہر شر سے ڈرائیں آپ کی ذات بابرکات تو ہر خیر اور رحمت کا منبع اور سرچشمہ ہے وہ نحوست کا سبب کیسے بن سکتی ہے نحوست کا منبع خود ان کا نفس امارہ ہے اور یہود اور منافقین جس برائی کا مشاہدہ کررہے ہیں وہ ان کے اعمال کی شامت ہے اے نبی کریم آپ ان کے بےہودہ الزام کی پروا نہ کیجئے اور غمگین اور رنجیدہ نہ ہوجائے اپنا کاررسالت کیے جائے اور اگر یہ لوگ آپ کی رسالت کا انکار کریں تو اللہ تعالیٰ آپ کی رسالت کا انکار کریں تو اللہ تعالیٰ آپ کی رسالت کا کافی گواہ ہے اللہ نے آپ کو جو معجزات عطا کیے ہیں وہ سب من جانب اللہ آپ کی نبوت و رسالت کے گواہ ہیں اور ظاہر ہے کہ رسالت اور نحوست کا اجتماع عقلا ناممکن ہے نحوست جب آتی ہے تو بارگاہ رسالت کی مخالفت سے آتی ہے اور اس لیے کہ جس کسی نے رسول کی اطاعت کی تو تحقیق اس نے بلاشبہ اللہ کی اطاعت کی اور اللہ کی اطاعت موجب خیروبرکت اور باعث رحمت ہے نہ کہ باعث شوم ونحوست اور جو آپ کی اطاعت سے اعراض کرے تو اس کو اختیار ہے کہ خیرو برکت سے روگردانی کرکے نحوست میں داخل ہوجائے ہم نے آپ کو ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا کہ آپ جبرا وقہرا ان کو نحوست سے بچالیں یا نکال لیں آپ بےفکری رہیں ان کے بارے میں آپ سے کوئی باز پرس نہ ہوگی آپ کا کام پیغام پہنچا دینا ہے۔
فرستادہ خاص پروردگار رسانندہ حجت استوار
گرانما یہ ترتاج آزاد گا ں گرامی تراز آدمی زاد گاں
بیان حقیقت حال منافقین۔
اور منافقین کی حالت یہ ہے کہ بظاہر نبی کریم ﷺ کی اطاعت کا دم بھرتے ہیں اور آپ کے سامنے یہ کہتے ہیں کہ ہمارا شیوہ تو آپ کی فرمانبرداری ہے زبان سے تو اظہار فرمانبرداری کرتے ہیں پھر جب آپ کی مجلس سے اٹھ کر باہر جاتے ہیں تو ان میں کے کچھ لوگ یعنی ان کے سردار رات کے وقت آپ کے فرمودہ اور حکم کے برخلاف مشورے کرتے ہیں اور ان کو یہ معلوم نہیں کہ یہ جو کچھ کررہے ہیں اللہ ان کو ان کے نامہائے اعمال میں لکھتا ہے اور پھر بذریعہ وحی کے اپنے نبی کو ان کے پوشیدہ مشوروں سے مطلع کرتا ہے اور منافقین یہ سمجھتے ہیں کہہ ہمارے پوشیدہ مشوروں کی کسی کو کیا خبر ہوسکتی ہے پس اے نبی کریم ہم نے آپ پر ان کا نفاق ظاہر کردیا ہے لہذا آپ ان سے تغافل برتیے نہ ان کو سزا دیں نہ ان کی فکر میں پڑیں اور اللہ پر بھروسہ رکھیے اور اللہ پورا کارساز ہے اللہ آپ کو ان کے شر سے محفوظ رکھے گا یہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔
اثبات رسالت محمدیہ باعجاز قرآن۔
اوپر کی آیتوں میں اللہ نے منافقین کی انواع و اقسام کی دو رنگیاں اور دغابازیاں بیاں کیں جن کا اصل منشاء اور سبب یہ تھا کہ وہ نبی ﷺ کو دعوائے رسالت میں سچا نہیں سمجھتے تھے اور قرآن کریم کو کلام الہی نہیں جانتے تھے اس لیے اس آیت میں ان کو یہ حکم دیا کہ تم قرآن میں غوروفکر کیا تو تم پر روز روشن کی طرح یہ امر واضح ہوجائے گا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور نبی ﷺ خدا تعالیٰ کے رسول برحق ہیں چناچہ فرماتے ہیں کیا یہ منافقین قرآن میں غوروفکر نہ کریں گے تاکہ اس کے اسرار بلاغت اور دلائل اعجاز کو دیکھ کر اس کا کلام الہی ہونا ان پر واضح ہوجائے اور یہ سمجھ جائیں کہ جس پر یہ کلام الہی نازل ہوا ہے وہ بلاشبہ اللہ کا رسول ہے۔ اس لیے کہ اس قرآن کی فصاحت وبلاغت ایسی بےنظیر ہے جو طاقت بشری سے باہر ہے اور اس کے تمام احکام عین حکمت اور عین صواب ہیں اور جابجا قرآن میں غیب کی خبریں ہیں جن کا علم سوائے اللہ کے کسی کو نہیں ہوسکتا گزشتہ کی اس میں خبریں ہیں اور آئندہ کی اس میں پیش گوئیاں ہیں اور یہ سب کو معلوم ہے کہ نبی پر نور امی ہیں پڑھنے لکھے نہیں جو کسی سے پڑھ کر یا کسی کتاب کو دیکھ کر یہ علوم ومعارف بیان کرتے ہوں جس سے بخوبی ثابت ہوا کہ بلاشبہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور آپ اپنے دعوائے رسالت میں سچے ہیں اور گر یہ قرآن غیر اللہ کی طرف سے ہوتا یعنی اگر خدا کا کلام نہ ہوتا بلکہ معاذ اللہ نبی کا بنایا ہوا ہوتا یا کسی اور بشر کا کلام ہوا جیسا کہ مخالفین اسلام کہتے ہیں کہ تو ضرور پاتے اس میں بہت سخت اختلافات اور تناقض اور تفاوت کوئی خبر اس کی صحیح ہوتی اور کوئی غلط کوئی جملہ اس کا فصیح ہوتا اور کوئی رکیک مگر اس میں کسی قسم کا اختلاف اور تناقض نہیں فصاحت وبلاغت میں اول سے آخر تک یکساں ہے اس کے ایک بیان سے دوسرے بیان کی تصدیق ہوتی ہے اس کی پیش گوئیاں تمام صحیح اور واقع کے مطابق ہیں باہمی تناقض اور اختلاف کا نام ونشان نہیں اور ظاہر ہے کہ غیب کا علم سوائے اللہ کے کسی کو نہیں ان باتوں سے ہر شخص بخوبی یہ سمجھ سکتا ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے کیونکہ بشر کا کلام ایک اسلوب اور ایک حال پر کبھی بھی نہیں رہ سکتا بشر پر مختلف احوال پیش آتے ہیں ہر حال تمہیں اسی حالت کے مطابق کلام کرتا ہے دوسری حالت کا دھیان نہیں رہتا نیز آدمی جب کلام طویل کرتا ہے تو وہ یکساں نہیں ہوتا بلکہ کوئی جملہ فصیح ہوتا ہے اور کوئی غیر فصیح اور قرآن عظیم اتنی بڑی کتاب ہے کہ اس کان جملہ اختلافات سے پاک ہونا اس امر کی قطعی دلیل ہے کہ ہی اللہ کا کلام ہے خلاصہ مطلب یہ کہ کیا یہ منافقین قرآن میں غور نہیں کرتے کہ اس کے عدم اختلاف اور عدم تناقض سے رسول اللہ کا صدق معلوم کرلیں اور کم ازکم اسی میں غور کرلیں کہ قرآن کریم تمہارے باطنی نفاق اور اندرونی عقائد اور خیالات کی صحیح خبر دے رہا ہے جو اس امر کی دلیل قطعی ہے کہ یہ وحی اللہ کی ہے سوائے اللہ کے کون کسی کے دل کا حال بتا سکتا ہے اگر یہ قرآن خدا کی طرف سے نہ ہوتا تو منافقین کے نفاق اور اسرار باطنی کے متعلق جو خبریں دی جاتی ہیں تو منافقین ان میں ضرور اختلاف کرتے منافقین کے متعلق قرآن کی کوئی خبر سچی نکلتی اور کوئی جھوٹی، اور اگر منافقین کو قرآن میں کوئی اختلاف نظر آتا تو ضرور اس کو شائع کرتے اس لیے کہ ان کی عادت یہ تھی کہ جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر آتی ہے تو اسی وقت اس کو شائع اور مشہور کردیتے ہیں منافقوں کی عادت یہ تھی کہ جب مسلمانوں کی فتح یا شکست کی خبر ان کو کہیں سے ملتی تو بلا تحقیق اس کو شائع اور مشہور کردیتے ہیں جس سے مسلمانوں کو نقصان پہنچتا ہے کیونکہ بعض خبریں تو جھوٹی ہوتی ہیں اور بعض کا ظاہر کرنا خلاف مصلحت ہوتا ہے اسی طرح اگر ان منافقین کو قرآن میں کوئی اختلاف اور تناقض نظر آتا تو اس کو بھی ضرور شائع اور مشہور کر ڈالتے اور ان کے نفاق کے متعلق قرآن میں جو خبریں دی جاری ہیں ان میں سے اگر کوئی خبر غلط نکلتی تو آسمان و زمین ایک کردیتے اور مطلب آیت کا یہ ہے کہ اگر ان منافقین کے پاس مسلمانوں کی فتح اور غنیمت یا قتل اور ہزیمت کی کوئی خبر آتی تو خواہ مخواہ جھوٹی ہو یا سچی اور اس کے ظاہر کرنے میں مصلحت ہو یا نہ ہو یہ لوگ اس کو مشہور کردیتے اور اگر بجائے خود مشہور کرنے کہ یہ لوگ اس خبر کو رسول اللہ کی طرف اور صحابہ میں جو لوگ ذی الرائے اور ذی اختیار ہیں ان تک پہنچاتے یعنی یہ لوگ اگر خبر سننے کے بعد اس خبر کو رسول اللہ اور اکابر صحابہ تک پہنچادیتے اور از خود اس کو شائع نہ کرتے تو اہل اسلام میں سے جو لوگ بات کی تہ اور گہرائی کو پہنچنے والے ہیں تو وہ بیشک پہچان لیتے کہ یہ خبر مشہور کرنے کے قابل ہے یا نہیں ہر شخص بات کی تہ اور گہرائی کو نہیں پہنچتا لہذا ایسے اشخاص کو چاہیے کہ وہ مسنبطین اور مجتہدین کی طرف رجوع کریں اور ان سے بغیر دریافت کیے دین کی کوئی خبر اور بات زبان سے نہ نکالیں اسنتباط کے لغوی معنی زمین کھود کر اس کی تہ میں سے پانی نکالنے کے لیں اور اصطلاھ شریعت میں نصوص شریعت کی تہ میں جو حقائق اور معارف مستور ہیں ان کو خدادا دفہم و فراست سے کھود کر نکالنے کا نام استنباط اور اجتہاد ہے شریعت کے بہت سے احکام آیات اور احادیث کے ظاہر سے مفہوم نہیں ہوتے لیکن وہ بلاشبہ نصوص شریعت اور کتاب وسنت کی گہرائیوں میں مستور اور پوشیدہ ہوتے ہیں یہ ناممکن ہے کہ شریعت نے کوئی امر چھوڑ دیا ہو اور اس کے متعلق کوئی حکم نہ دیا ہو فقہاء کرام جن کے ساتھ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے خاص خیر کا ارادہ فرمایا وہ اپنے دقیق اور عمیق نظر اور فکر کے ذریعے سے زمین شریعت کو کھود کر اس کی تہ اور گہرائیوں میں سے ان پوشیدہ احکام کو نکال کر لاتے ہیں جو زمین شریعت کی ظاہری سطح پر نمایاں نہ تھے شریعت کی تہ گہرائی میں سے کسی پوشیدہ حکم کے نکال لینے کا نام استنباط اور اجتہاد اور قیاس ہے۔
اسی بناء پر حضرات فقہاء لکھتے ہیں کہ قیاس مظہر حکم ہے نہ کہ مثبت حکم یعنی قیاس سے کوئی حکم شرعی ثابت نہیں ہوتا بلکہ جو حکم قرآن و حدیث میں پہلے موجود تھا مگر مخفی تھا قیاس نے اس کو اب ظاہر کردیا حکم درحقیقت کتاب وسنت ہی کا ہے قیاس خدا اور رسول کے پوشیدہ حکم کا مظہر اور محض ظاہر کرنے والا ہے قیاس مثبت حکم نہیں یعنی قیاس اپنی طرف سے کوئی حکم نہیں دیتا عرف عام میں چونکہ قیاس کے معنی خیال اور گمان اور وہم کے ہیں اس لیے بہت سے نادانوں نے یہ گمان کرلیا کہ قیاس شرعی کی حقیقت بھی یہی ہے اور اصطلاح شریعت میں قیاس شرعی کی حقیقت یہ ہے کہ غیر منصوص الحکم کو منصوص الحکم کے مشابہ اور مماثل دیکھ کر بوجہ مماثلت اور مشابہت کے منصوص الحکم کے حکم کو غیر منصوص کے لیے ثابت کرنا اس کا نام قیاس ہے یعنی جس چیز کا حکم کتاب وسنت اور اجماع امت میں منصوص اور مصرح نہیں اس میں یہ غوروفکر کرنا کہ جس چیز کا حکم شریعت میں موجود ہے یہ غیر منصوص کس کے ساتھ زیادہ مشابہ اور مماثل ہے مشابہت کی بناء پر غیرمنصوص کے لیے اس حکم کے ثابت کرنے کا نام قیاس شرعی ہے جیسے ہائی کو رٹ کا کوئی فاضل جج جس مقدمہ کا حکم صراحتۃ قانون میں موجود نہ ہوں وہاں نظائر کو پیش نظر رکھ کر فیصلہ صادر کرتا ہے یہ بھی تو ایک قسم کا قیاس ہی ہوا عدالتوں میں ہزارہا مقدمات کا فیصلہ نظاہر ہی پر ہوتا ہے نظیر کے موافق حکم دینا یہی قیاس ہے معلوم ہوا کہ ہر قانون میں قیاس موجود ہے بلا قیاس کے عدالتوں کا فیصلہ ناممکن ہے امام بخاری نے بھی قیاس کی یہی حقیت قرار دی ہے۔
چناچہ فرماتے ہیں، باب من شبہ اصلا معلوما باصل مبین قدبین اللہ حکمھا یفھم السائل۔ جس سے اشارہ اس طرف ہے کہ قیاس کی حقیقت تشبیہ اور تمثیل ہے اور اسبارہ میں امام بخاری نے متعدد تراجم قائم فرماتے ہیں سب کا حاصل یہ ہے کہ قیاس اور رائے کی دو قسمیں ہیں ایک محمود اور ایک مذموم وہ ہے جس کی کتاب وسنت اور اجماع میں کوئی اصل موجود نہ ہو اور محمود وہ ہے جو کتاب وسنت اور اجماع امت سے ماخوذ ہو حضرات اہل علم فتح الباری جلد سیزدھم باب الاعتصام کی مراجعت فرمائیں اور اگر تم پر خدا کا یہ خاص فضل اور یہ خاص مہربانی نہ ہوگی یعنی اگر بالفرض تمہاری ہدایت کے لیے حق تعالیٰ یہ قرآن نازل نہ فرماتے اور نبی اکرم ﷺ کو تمہاری تعلیم اور تزکیہ کے لیے مبعوث نہ فرماتے جس نے تم پر حق اور باطل کا فرق واضح کیا تو البتہ تم شیطان کے پیرو ہوجاتے اور کفر وشرک میں مبتلا ہوجاتے مگر بہت کم ایسے ہوتے جو خداداد نور فہم و فراست سے توحید کو اختیار کرتے اور شرک سے محفوظ ہوتے جیسے زید بن عمرو بن نفیل اور ورقہ بن نوفل وغیرہم کو جو خدادا نور فہم سے زمانہ جاہلیت میں کفروشرک سے محفوظ رہے اتباع شیطان سے اس قسم کی محفوظیت اور معصومیت سے بہت ہی کم افراد کو نوازا جاتا ہے لہذا تباع شیطان سے بچنے کا طریقہ یہ ہے بغیر مستنبطین کی اجازت کے کوئی خبر شائع نہ کریں بغیر اہل الرائے کے صلاح اور حکم کسی خبر کو شائع کرنا شیطان کی پیروی ہے۔
پس اے نبی کریم ﷺ اگر یہ منافقین اور ضعیف الایمان مسلمان تمہارا ساتھ چھوڑ دیں تو پروا نہ کیجئے آپ تن تنہا خدا کی راہ میں جہاد و قتال کیجئے آپ صرف اپنی ذات کے ذمہ دار ہیں غیروں کی ذمہ داری آپ پر نہیں اور آپ تو صرف مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دیجئے ماننا نہ ماننا ان کا کام ہے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ کافروں کی جنگ کو روک دے گا اور اللہ تعالیٰ سخت ہیبت والا اور سخت عذاب دینے والا ہے اس کے مقابلہ میں کوئی نہیں جیت سکتا نہ کوئی اس کے عذاب سے چھڑا سکتا ہے۔