4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 4:101–104

وَ اِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوةِ١ۖۗ اِنْ خِفْتُمْ اَنْ یَّفْتِنَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ اِنَّ الْكٰفِرِیْنَ كَانُوْا لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِیْنًا Open ayah 4:101 in the Quran reader

اور جب تم سفر کو جاؤ تو تم پر کچھ گناہ نہیں کہ نماز کو کم کر کے پڑھو بشرطیکہ تم کو خوف ہو کہ کافر لوگ تم کو ایذا دیں گے بیشک کافر تمہارے کھلے دشمن ہیں

وَ اِذَا كُنْتَ فِیْهِمْ فَاَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلٰوةَ فَلْتَقُمْ طَآئِفَةٌ مِّنْهُمْ مَّعَكَ وَ لْیَاْخُذُوْۤا اَسْلِحَتَهُمْ١۫ فَاِذَا سَجَدُوْا فَلْیَكُوْنُوْا مِنْ وَّرَآئِكُمْ١۪ وَ لْتَاْتِ طَآئِفَةٌ اُخْرٰى لَمْ یُصَلُّوْا فَلْیُصَلُّوْا مَعَكَ وَ لْیَاْخُذُوْا حِذْرَهُمْ وَ اَسْلِحَتَهُمْ١ۚ وَدَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ تَغْفُلُوْنَ عَنْ اَسْلِحَتِكُمْ وَ اَمْتِعَتِكُمْ فَیَمِیْلُوْنَ عَلَیْكُمْ مَّیْلَةً وَّاحِدَةً١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِنْ كَانَ بِكُمْ اَذًى مِّنْ مَّطَرٍ اَوْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَنْ تَضَعُوْۤا اَسْلِحَتَكُمْ١ۚ وَ خُذُوْا حِذْرَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 4:102 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ﷺ جب تم ان (مجاہدین کے لشکر) میں ہو اور ان کو نماز پڑھانے لگو تو چاہیے کہ ان کی ایک جماعت تمہارے ساتھ مسلح ہو کر کھڑی رہے جب وہ سجدہ کر چکیں تو پرے ہوجائیں پھر دوسری جماعت جس نے نماز نہیں پڑھی (ان کی جگہ) آئے اور ہوشیار اور مسلح ہو کر تمہارے ساتھ نماز ادا کرے کافر اس گھات میں ہیں کہ تم ذرا اپنے ہتھیاروں اور سامانوں سے غافل ہوجاؤ تو تم پر یکبارگی حملہ کردیں اگر تم بارش کے سبب تکلیف میں ہو یا بیمار ہو تو تم پر کچھ گناہ نہیں کہ ہتھیار اتار رکھو مگر ہوشیار ضرور رہنا خدا نے کافروں کے لیے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے

فَاِذَا قَضَیْتُمُ الصَّلٰوةَ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِكُمْ١ۚ فَاِذَا اطْمَاْنَنْتُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ١ۚ اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا Open ayah 4:103 in the Quran reader

پھر جب تم نماز تمام کر چکو تو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے (ہر حالت میں) خدا کو یاد کرو پھر جب خوف جاتا رہے تو (اس طرح سے) نماز پڑھو (جس طرح امن کی حالت میں پڑھتے ہو) بیشک نماز کا مومنوں پر اوقات (مقررہ) میں ادا کرنا فرض ہے

وَ لَا تَهِنُوْا فِی ابْتِغَآءِ الْقَوْمِ١ؕ اِنْ تَكُوْنُوْا تَاْلَمُوْنَ فَاِنَّهُمْ یَاْلَمُوْنَ كَمَا تَاْلَمُوْنَ١ۚ وَ تَرْجُوْنَ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا یَرْجُوْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا۠ Open ayah 4:104 in the Quran reader

اور کفار کے پیچھا کرنے میں سستی نہ کرنا اگر تم بےآرام ہوتے ہو تو جس طرح تم بےآرام ہوتے ہو تو اسی طرح وہ بھی بےآرام ہوتے ہیں اور تم خدا سے ایسی ایسی امیدیں رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھ سکتے اور خدا سب کچھ جانتا (اور) بڑے حکمت والا ہے

حکم بست وہفتم متعلق بہ صلوۃ سفر وصلاۃ خوف۔ قال تعالیٰ واذا ضربتم فی الارض۔۔۔ الی۔۔۔ حکیما۔ آیت۔ ربط) گزشتہ آیات میں جہاد و ہجرت کا ذکر تھا اور غالب احوال میں جہاد و ہجرت کے لیے سفر کنا پڑتا ہے اور اب ان آیات میں حالت جہاد اور سفر میں نماز پڑھنے کی تعلیم وطریقہ بیان فرماتے ہیں اور سفر اور خوف کی وجہ سے نماز میں جو رعایتیں اور سہولتیں عطا کی ہیں ان کا ذکر کرتے ہیں۔ حکم صلاۃ سفر۔ اور جب تم سفر کرو زمین میں جس کی مقدار تین منزل ہو یا اڑتالیس میل ہو تو تم پر کوئی گناہ نہیں بلکہ ضروری ہے کہ تم رباعی، (چار رکعت والی نماز میں سے دو رکعت) کم کردو اگر تم کو یہ اندیشہ ہو کہ کافر تم کو ستائیں گے بیشک تمام کافر تمہارے کھلے دشمن ہیں ابتداء میں قصر کا حکم خوف کے ساتھ مشروط تھا بعد میں اللہ نے یہ شرط ساقط کردی جیسا کہ صحیح مسلم وغیرہ میں حضرت عمر سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺ سے قصر نماز میں خوف کی قید کی بابت دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ بغیر خوف کے بھی نماز میں قصر ہے اور یہ اللہ کی طرف سے صدقہ ہے اس کو قبول کرنا چاہیے نیز آں حضرت ﷺ اور ابوبکر وعمر اور صحابہ کرام نے سفر میں بحالت امن بھی قصر کیا ہے معلوم ہوا کہ قصر کی مشروعیت خوف پر موقوف نہیں اور داؤد ظاہری کا مذہب یہ ہے کہ سفر کی نماز میں قصر کرنا اس شرط سے جائز ہے کہ جب کافروں سے فتنہ کا خوف ہو اور جمہور سلف اور خلف کے نزدیک بدون شرط مذکور کے بھی قصر درست ہے اور آیت میں جو ان خفتم کی شرط ہے وہ قید احترازی نہیں بلکہ بیان واقع کے لیے ہے جس کا مفہوم معتبر نہیں۔ مسافت قصر۔ اہل ظاہر اس آیت کے ظاہری عموم سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ سفر کی کوئی مقدار یا حد معین نہیں ہر سفر میں قصر جائز ہے خواہ وہ تھوڑا ہو یا بہت ہو یہاں تک کہ تین میل کے سفر میں بھی قصر جائز ہے کیونکہ آیت میں سفر کی کوئی حد مقرر نہیں کی گئی لیکن تمام فقہاء کا اس پر اتفاق ہے کہ تھوڑے سے سفر میں قصر نہیں اور سب نے الگ الگ سفر کی حد بیان کی ہے فقہاء حنفیہ کے نزدیک قصر صرف اس سفر میں ہے جو تین دن کا ہو جیسا کہ حدیث میں ہے کہ مسافر کے لیے مسح علی الخفین تین دن تک کے لیے جائز ہے اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات اور عثمان غنی اور عبداللہ بن مسعود اور حذیفہ بن یمان کا بھی یہی مذہب ہے۔ اور امام مالک اور امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کے نزدیک چار برید کی مسافت کے سفر میں قصر ہے یعنی اگر اڑتالیس میل کا سفر ہو تو قصر جائز ورنہ نہیں جیسا کہ حدیث میں ہے کہ اے اہل مکہ چار برید (اڑتالیس میل) سے کم میں قصر نہ کرو رواہ البطرانی عن ابن عباس۔ قاضی ابوبکر بن عربی فرماتے ہیں کہ جو لوگ سفر کی مقدار یا حد معین نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ ہر سفر میں قصر جائز ہے وہ دین کے ساتھ کھیل اور تماشہ کرتے ہیں اور تین چار میل بلکہ دس میل جانا بھی عرف میں سفر نہیں کہلاتا یہ مذہب اس قابل نہیں کہ اس کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا جائے یا اس کو خیال اور خاطر میں لائے اور یا اس کا ذکر بھی کیا جائے (تفسیر قرطبی ص 354 ج 5) ۔ لطیفہ۔ ایک غیر مقلد صاحب اپنے کھیت پر جاتے تو نماز میں قصر کرتے کسی نے سوال کیا کہ بندہ خدا تم بدون مسافت قصر کے کیسے قصر کرتے ہو انہوں نے جواب دیا کہ قصر کے لیے کسی خاص مسافت کا ہونا شرط نہیں اس لیے کہ آیت میں ضربتم فی الارض آیا ہے جس کے معنی زمین میں چلنے کے ہیں اور یہ مفہوم کھیت پر جانے کی صورت میں بھی صادق آتا ہے ایک حنفی عالم نے اس کا خوب جواب دیا کہ پھر تم کو ہمیشہ ہی قصر کرنا چاہیے اس لیے کہ جب تم اپنے گھر سے مسجد جاتے ہو تو سیر فی الارض اس پر بھی صادق آجاتا ہے غیر مقلد صاحب کے پاس اس کا کوئی جواب نہ تھا۔ حکم صلاۃ الخوف۔ اور اے نبی کریم جب آپ مسلمانوں کی فوج میں موجود ہوں پھر ان کو نماز پڑھانے کے لیے کھڑے ہوں اور اندیشہ ہو کہ کافر نماز میں حملہ نہ کریں گے تو ایسی حالت میں یہ چاہیے کہ مسلمانوں کے دو گروہ ہوجائیں ان میں سے ایک گروہ آپ کے ساتھ نماز پڑھنے کھڑا ہوجائے اور دوسرا گروہ نگرانی کی خاطر دشمن کے مقابل کھڑ اہوجائے تاکہ دشمن کو دیکھتے رہیں اور جو لوگ آپ کے ساتھ نماز میں کھڑے ہیں وہ بھی نماز میں اپنے ہتھیار ساتھ لیے رہیں شاید کسی وقت ضرورت پڑجائے پھر جب یہ لوگ آپ کے ساتھ سجدہ کرچکیں یعنی ایک رکعت پوری آپ کے ساتھ پڑھ چکیں تو پیچھے ہٹ جائیں یعنی دشمن کے مقابلہ پر چلے جائیں اور دوسرا طائف گروہ آجائے جس نے ابھی تک نماز نہیں پڑھی یعنی پلا طائفہ جس نے آپ کے ساتھ ایک رکعت پڑھی ہے وہ تو دشمن کے مقابلہ میں چلا جائے اور دوسرا طائفہ جو اب تک دشمن کے مقابلہ میں تھا وہ آجائے پھر وہ آ کر آپ کے ساتھ باقی ماند نماز میں شریک ہوجائیں اور آپ کے ساتھ نماز پڑھیں اور اپنی احتیاط اور بچاؤ کو مضبوط پکڑے رہیں اور اپنے ہتھیار بھی لیے رہیں کافروں کی تمنا اور آرزو یہ ہے کہ کس طرح تم اپنے ہتھیاروں اور سامان حرب سے غافل ہو تو یکبارگی تم پر حملہ کردیں اور تم پر ٹوٹ پڑیں اور پس احتیاط اور ہوشیاری کا مقتضی یہ ہے کہ ہتھیار ساتھ لیے رہو اس آیت میں دونوں گروہوں کے ایک ایک رکعت پڑھنے کا ذکر فرمایا بقیہ نماز کا حکم بیان نہیں کیا کہ وہ کس طرح ادا کریں اس کا طریقہ احادیث میں یہ آیا ہے کہ دوسر اگر وہ امام کے سلام پھیر دینے کے بعد دشمن کے مقابلہ میں چلا جائے اور ہر گروہ بطور خود اپنی باقی نماز پوری کرلے اور یہ حکم اس وقت کے لیے ہے جب جماعت ممکن ہو اور اگر جماعت ممکن نہ ہو تو پھر ہر شخص تنہایاجس طرح ممکنہ و نماز پڑھ لے نیز یہ حکم جب ہے کہ جب سب ایک ہی امام کے پیچھے نماز پڑھنا چاہیں ورنہ دو جماعتیں کرلی جائیں ایک گروہ کو ایک امام نماز پڑھا دے اور دوسرے گروہ کو دوسرا امام جیسا کہ درمختار میں ہے اور عجب نہیں کہ واذا کنت فیھم سے اشارہ اسی طرف ہو کہ جب آپ جیسا امام ہو اور سب اس کے پیچھے نماز پڑھنا چاہیں تو پھر مسلمانوں کی فوج کے دو حصے کردیے جائیں اور امام ہر ایک حصہ کو ایک ایک رکعت نماز پڑھاوے اس طرح ہر گروہ کی آدھی آدھی نماز اس محبوب امام کے پیچھے ہوجائے اور باقی آدھی نماز دونوں گروہ جداجدا پڑھ لیں۔ واللہ اعلم۔ اور تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم کو بارش کی تکلیف ہو یا تم بیمار ہو اور ایسی حالت میں تم کو ہتھیار اٹھانا دشوار ہو تو ایسی حالت میں تم اپنے ہتھیار اتار کر رکھ دو تو کئی حرج نہیں اور پھر بھی اپنی احتیاط اور بچاؤ اور حفاظت کو خوب پکڑرہو یعنی اگر بارش اور بیماری کی وجہ سے تم کو ہتھیار اٹھانا دشوار ہو تو ایسی حالت میں ہتھیار اتا کر رکھ دینے میں کچھ مضائعہ نہیں ہاں اپنی احتیاط پھر بھی رکھو بیشک اللہ نے کافروں کے لیے رسوا کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے آخرت میں تو ان کو عذاب ہوجائے ہی گا مگر منشاء خداوندی یہ ہے کہ دنیا میں کافر تمہارے ہاتھوں ذلیل اور رسوا ہوں لہذا تم کو احتیاط بہت ضروری ہے پھر جب تم نماز خوف ختم کرچکو تو اللہ کی یاد میں لگ جاؤ کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے رہو یعنی اس کی تسبیح وتحمید اور تہلیل اور تکبیر میں لگ جاؤ کیونکہ اللہ کی یاد سے خوف جاتا رہتا ہے اور دل کو سکون اور اطمینان ہوتا ہے پھر جب تم مطمئن ہوجاؤ اور خوف اور سفر کی حالت ختم ہوجائے اور تم کو امن حاصل ہوجائے تو پھر معمول کے مطابق پوری نماز اطمینان کے ساتھ اور اصلی ہیبت کے ساتھ ادا کرو اس لیے کہ قصر اور نماز میں آمدورفت کی جو اجازت تھی وہ ایک عارض کی وجہ سے تھی اب وہ ختم ہوگئی ہے بیشک نماز مسلمانوں پر بقید اوقات وقت معین پر فرض کی گئی اس کو اپنے اوقات سے نکالنا اور اس کی ہیبت میں کسی قسم کا تغیر کرنا جائز نہیں جہاد جیسی عظیم عبادت کی وجہ سے عارضی طور پر نماز میں آمدورفت کی اجازت دے دی گئی اور جب یہ عارض ختم ہوا تو اجازت بھی ختم ہوئی اور اے مسلمانوں جب تمہیں یہ معلوم ہوگیا کہ جہاد ایسی عظیم عبادت ہے کہ اس کی وجہ سے نماز میں آمد ورفت کی اجازت دی گئی تو خوب سمجھ لو کہ کافروں کے تعاقب یعنی پیچھا کرنے میں سستی نہ کرنا جب ابوسفیان اور اس کے ہمراہی احد سے واپس ہوئے تو رسول اللہ نے ان کے تعاقب میں کچھ ا آدمی بھیجے ان آدمیوں نے زخموں کی ددر کی شکایت کی اس پر یہ آیت نازل ہوئی اگر تم زخموں کی تکلیف سے درمند ہو تو بیشک وہ بھی دردمند اور بےآرام ہیں جیسے تم دردمند اور بےآرام ہو پھر تم ان کے تعاقب میں سستی اور اپنے زخموں کی شکایت کیوں کرتے ہو جب وہ اپنے زخموں کی پرواہ نہیں کرتے اور برابر تم پر حملہ کیے جارہے ہیں تو تم کو کیا ہوا تم اللہ سے وہ امیدیں رکھتے جو وہ نہیں رکھتے اس لیے تمہاری تکلیف ان کی تکلیف سے کم ہے تم جزاء اعمال کے قائل ہو تم کو اللہ سے دنیا میں فتح ونصرت کی اور آخرت میں جنت کے درجات عالیہ کی وہ امید ہیں جو ان کو نہیں پھر تم ان کے مقابلہ میں کیوں سست ہو اور ہے اللہ جاننے والا اور حکمت والا تم کو جو حکم دیتا ہے اس کی نسبت وہ جانتا ہے کہ اس میں حکمت اور مصلحت ہے لہذا تم کو چاہیے کہ اس کے حکم کو مانو اور اپنی رائے کو اس میں دخل نہ دو ۔ مسائل۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ سفر میں قصر کرنا جائز ہے وجب نہیں کیونکہ اللہ کا یہ ارشاد لیس علیکم جناح ان تقصروا من الصلاۃ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم پر قصر کرنے میں کوئی گناہ نہیں تو معلوم ہوا کہ قصر کرنا واجب نہیں بلکہ جائز ہے اور اکثر اہل علم کے نزدیک قصر واجب ہے اور یہی قول حضرت عمر اور علی اور ابن عمر اور جابر اور ابن عباس کا ہے اور یہی حسن بصری اور خلیفہ عمر بن عبدالعزیز اور قتادہ اور دیگر علماء تابعین کا یہی قول ہے اور یہی امام ابوحنیفہ اور امام مالک کا مذہب ہے کیونکہ حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نماز اول دو دو رکعت فرض ہوئی پھر نماز سفر تو اسی طرح برقرار رہی اور نماز حضر میں زیادتی کردی گئی لہذا جب سفر کی اصل نماز دو رکعت ہوئی تو اس میں زیادتی جائز نہ ہوگی۔ اور لیس علیکم جناح ان تقصروا من الصلوۃ سے یہ استدلال کرنا کہ قصر کرنا رخصت ہے اس لیے کہ لاجناح کا استعمال رخصت کے لیے ہوتا ہے تو جواب یہ ہے کہ یہ کلیہ نہیں اللہ کا یہ ارشاد لاجناح علیہ ان یطوف بھما طواف صفا اور مروہ کے حق میں آیا ہے حالانکہ سعی بین الصفا والمروۃ واجب ہے اور امام شافعی کے نزدیک فرض ہے سوجاننا چاہیے کہ لاجناح کا لفظ رخصت اور اباحت کے لیے نہیں لایا گیا بلکہ ان لوگوں کا وہم دفع کرنے کے لیے لایا گیا کہ جو اس گناہ خیال کرتے تھے ان کا انقباض رفع کرنے کے لیے لفظ جناح لایا گیا ہے۔ 2۔ ان الصلوۃ کانت علی المومنین کتابا موقاتا۔ آیت۔ سے معلوم ہوتا ہے کہ نمازوں کے اوقات معین ہیں ان میں تقدیم وتاخیر کرنا جائز نہیں اور قرآن کریم میں ہے حافظوا علی الصلوات والصلوۃ الوسطی۔ آیت۔ نمازوں کی حفاظت کرو یعنی ان کو اپنے وقت پر ادا کرو اور جامع ترمذی میں ابن عباس سے مرفوعا روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے جمع بین الصلاتین کیا یعنی دو نمازوں کو وقت واحد میں پڑھا وہ گناہ کبیرہ کے دروازہ میں داخل ہوا اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں مگر صرف ایک راوی ایسا ہے جس کو بعض نے ضعیف کہا ہے اور بعض نے اس کو ثقہ بتایا اور اگر بالفرض کسی حدیث کے تمام راوی ضعیف ہوں اور حدیث آیت قرآنی اور شریعت کے اصول مقررہ اور خلفاء راشدین کی سنت مستمرہ کے موافق ہو تو وہ ضعیف حدیث بھی حجت ہے اور موطا امام محمد میں حضرت عمر سے باسنا دصحیح منقول ہے۔ یعنی حضرت عمر نے ممالک اسلامیہ کی اطراف و جوانب میں یہ فرمان روانہ کیا جس میں ان کو اس بات سے منع کیا کہ دو نمازوں کو جمع کریں اور ان کو خبردار کیا کہ دو نمازوں کو وقت واحد میں جمع کرنا بہت بڑا گناہ ہے من جملہ بڑے گناہوں کے۔ اور اسی پارہ پنجم کے شروع میں یہ آیت گزچ کی ہے، ان تجتنبوا۔۔۔ الی۔۔۔ کریما۔ آیت۔ اے مسلمانوں اگر تم بڑے گناہوں سے بچتے رہو گے تو ہم تمہارے چھوڑے گناہوں کا کفارہ کردیں گے اور تم کو جنت میں داخل کردیں گے اور ابن عباس کی حدیث میں اور حضرت عمر کے فرمان واجب الاذعان سے یہ معلوم ہوگیا کہ جمع بین الصلاتین گناہ کبیرہ ہے لہذا اس حدیث کو آیت کے ساتھ ملا کر یہ مطلب ہوگا کہ جو جمع بین الصلاتین سے اجتناب کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کا کفارہ فرمادی گے اور یہی امام ابوحنیفہ کا مذہب ہے کہ ان کے نزدیک سوائے عرفات اور مزدلفہ کے کسی جگہ بین الصلاتین جائز نہیں اور امام شافعی فرماتے ہیں کہ حالت سفر میں خاص شرائط کے ساتھ جمع بین الصلاتین جائز ہے کیونکہ بعض احادیث میں یہ آیا ہے کہ نبی نے بحالت سفر جمع بین الصلاتین فرمایا۔ جواب۔ فقہاء حنفیہ فرماتے ہیں کہ جن بعض احادیث میں جمع بین الصلاتین کا ذکر آیا ہے وہ مجمل ہیں اور جو روایتیں مفصل اور واضح آئی ہیں ان میں اس کی تصریح ہے کہ ظہر کی نماز کو اخیر میں پڑھا اور عصر کو اول وقت میں پڑھا پس ظاہرا ایسا معلوم ہوا کہ دونوں نمازیں ایک وقت میں پڑھی گئیں حالانکہ حقیقت میں دونوں نمازیں اپنے اپنے وقت کے اندر پڑھی گئیں خوب سمجھ لو زیادہ تفصیل کے لی شروح بخاری اور شروع ہدایہ کو دیکھو۔
Ayahs 4:105–115

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَا تَكُنْ لِّلْخَآئِنِیْنَ خَصِیْمًاۙ Open ayah 4:105 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ ہم نے تم پر سچی کتاب نازل کی ہے تاکہ خدا کی ہدایات کے مطابق لوگوں کے مقدمات کا فیصلہ کرو اور (دیکھو) دغا بازوں کی حمایت میں کبھی بحث نہ کرنا۔

وَّ اسْتَغْفِرِ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۚ Open ayah 4:106 in the Quran reader

اور خدا سے بخشش مانگنا بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے

وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ Open ayah 4:107 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنے ہم جنسوں کی خیانت کرتے ہیں ان کی طرف سے بحث نہ کرنا کیونکہ خدا خائن اور مرتکب جرائم کو دوست نہیں رکھتا

یَّسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاسِ وَ لَا یَسْتَخْفُوْنَ مِنَ اللّٰهِ وَ هُوَ مَعَهُمْ اِذْ یُبَیِّتُوْنَ مَا لَا یَرْضٰى مِنَ الْقَوْلِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطًا Open ayah 4:108 in the Quran reader

یہ لوگوں سے تو چھپتے ہیں اور خدا سے نہیں چھپتے حالانکہ جب وہ راتوں کو ایسی باتوں کو مشورے کیا کرتے ہیں جن کو وہ پسند نہیں کرتا تو ان کے ساتھ ہوا کرتا ہے اور خدا ان کے (تما م) کاموں پر احاطہ کئے ہوئے ہے

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ جٰدَلْتُمْ عَنْهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١۫ فَمَنْ یُّجَادِلُ اللّٰهَ عَنْهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَمْ مَّنْ یَّكُوْنُ عَلَیْهِمْ وَكِیْلًا Open ayah 4:109 in the Quran reader

بھلا تم لوگ دنیا کی زندگی میں تو ان کی طرف سے بحث کرلیتے ہو قیامت کو ان کی طرف سے خدا کیساتھ کون جھگڑے گا ؟ اور کون انکا وکیل بنے گا ؟

وَ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءًا اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ یَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:110 in the Quran reader

اور جو شخص کوئی برا کام کر بیٹھے یا اپنے حق میں ظلم کرلے پھر خدا سے بخشش مانگے تو خدا کو بخشنے والا (اور) مہربان پائے گا

وَ مَنْ یَّكْسِبْ اِثْمًا فَاِنَّمَا یَكْسِبُهٗ عَلٰى نَفْسِهٖ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:111 in the Quran reader

اور جو گناہ کرتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے اور خدا جاننے والا ہے (اور) حکمت والا ہے

وَ مَنْ یَّكْسِبْ خَطِیْٓئَةً اَوْ اِثْمًا ثُمَّ یَرْمِ بِهٖ بَرِیْٓئًا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:112 in the Quran reader

اور جو شخص کوئی قصور یا گناہ تو خود کرے لیکن اس سے کسی بےگناہ کو متہم کر دے تو اس بہتان اور صریح گناہ کو بوجھ اپنے سر پر رکھا

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ وَ رَحْمَتُهٗ لَهَمَّتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْهُمْ اَنْ یُّضِلُّوْكَ١ؕ وَ مَا یُضِلُّوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَضُرُّوْنَكَ مِنْ شَیْءٍ١ؕ وَ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ١ؕ وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا Open ayah 4:113 in the Quran reader

اور اگر تم پر خدا کا فضل اور مہربانی نہ ہوتی تو ان میں سے ایک جماعت تم کو بہکانے کا قصد کرچکی تھی۔ اور یہ اپنے سوا (کسی کو) بہکانے نہیں سکتے اور نہ تمہارا کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور خدا نے تم پر کتاب اور دانائی نازل فرمائی ہے اور تمہیں وہ باتیں سکھائی ہیں جو تم جانتے نہیں تھے اور تم پر خدا کو بڑا فضل ہے

لَا خَیْرَ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنْ نَّجْوٰىهُمْ اِلَّا مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَةٍ اَوْ مَعْرُوْفٍ اَوْ اِصْلَاحٍۭ بَیْنَ النَّاسِ١ؕ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ فَسَوْفَ نُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:114 in the Quran reader

ان لوگوں کی بہت سی مشورتیں اچھی نہیں ہاں (اس شخص کی مشورت اچھی ہوسکتی ہے) جو خیرات یا نیک بات یا لوگوں میں صلح کرنے کو کہے اور جو ایسے کام خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کرے گا تو ہم اس کو بڑا ثواب دیں گے

وَ مَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَ یَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَ نُصْلِهٖ جَهَنَّمَ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًا۠ Open ayah 4:115 in the Quran reader

اور جو شخص سیدھا راستہ معلوم ہونے کے بعد پیغمبر ﷺ کی مخالفت کرے اور مومنوں کے راستے کے سوا اور راستے پر چلے تو جدھر وہ چلتا ہے ہم اسے ادھر ہی چلنے دیں گے اور (قیامت کے دن) جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بری جگہ ہے

حکم بست وہشتم ممانعت از حمایت اہل خیانت۔ قال تعالی۔ انا انزلنا الیک الکتاب بالحق۔۔۔ الی۔۔۔ مصیرا۔ ربط) گزشتہ آیات میں کفار اور منافقین کے معاملات کا ذکر تھا اب آیات میں منافقین کے ایک شرانگیز قصہ کا بیان ہے یہ بتلانا مقصود ہے کہ کافروں پر ظلم کرنا اور بےگناہ پر تہمت اور الزام لگانا جائز نہیں اور خیانت کرنے والے کی حمایت جائز نہیں اگرچہ وہ کلمہ گو ہو مقدمہ کا فیصلہ عدل و انصاف سے ہونا چاہیے۔ شان نزول۔ نبی ﷺ کے زمانہ میں ایک منافق طعمہ بن ابیرق نامی نے ایک انصاری کے گھر میں نقب لگائی اور آٹے کا تھیلا جس میں زرہ وہتھیار رکھے ہوئے تھے چرا کرلے گیا اتفاق سے اس تھیلہ میں ایک سوراخ تھا چور کے گھر تک راستہ میں آٹا گر تا گیا جس سے لوگوں کو پتہ چل گیا کہ طعمہ بن ابیرق کی یہ کارسازی ہے طعمہ کو جب ڈر ہوا کہ پکڑا جاؤں گا تو اس نے یہ تدبیر کی رات ہی کو وہ مال لے جا کر زید بن سمین یہودی کے پاس رکھ دیا جو اس کا ہمسایہ تھا صبح کو جب تحقیق وتفتیش شروع ہوئی تو آٹے کے سراغ سے طعمہ کو جا پکڑا مگر تلاشی کے بعد اس کے گھر میں سے کچھ نہ نکلا اور چور نے قسم کھائی کہ بخدا مجھے اس کا کچھ علم نہیں لوگوں نے چھوڑ دیا اور یہودی کے گھر کی تلاشی لی جہاں سے وہ زرہ برآمدہوئی جب اس یہودی سے پوچھا گیا تو اس نے کہا میں چور نہیں میرے پاس تو طعمہ بن ابیرق امانت رکھ گیا ہے طعمہ نے اس سے صاف انکار کردی اور اپنے عزیزوں سے خفیہ مشورہ کرکے اپنی قوم کے لوگوں کو لے کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مال فلاں شخص کے گھر سے برآمد ہوا ہے وہ لوگ مجھ پر چوری کی تہمت لگاتے ہیں آپ سب کے سامنے میری صفائی اور برات کردیں اور یہودی کو چور ٹھہرائیں مگر نفس الامر میں یہودی اپنے قول میں سچا تھا اور طعمہ اپنے قول میں جھوٹا تھا اور واقع میں وہی چور تھا قتادہ بن النعمان وغیرہ جو طعمہ کو چور بتلا رہے تھے نبی نے ان سے یہ فرمایا کہ تم بغیر کسی ثبوت اور کسی شہادت کے کسی پر کیسے چوری کی تہمت لگاتے ہو اس پر اللہ نے پورے دو رکوع نازل فرمائے جن میں طعمہ کی خیانت اور یہودی کی برات کی طرف اشارہ فرمایا اور اشارہ فرمایا کہ خیانت کرنے والوں کی حمات کا تصور بھی نہ کیجئے اور اللہ سے اس بےجاحمایت کے تصور کی بھی معافی مانگئے ظاہر حال اور لاعلمی کی بناء پر آپ نے جو فرمایا اگرچہ وہ فی حد ذاتہ گناہ نہ ہو مگر آپ کی شان علی کے لیے مناسب نہیں کہ لسان نبوت سے کوئی ایسا کلمہ نکل جائے جو نفس الامر کے خلاف ہو اگرچہ اس کلمہ کا صدور لاعلمی کی بناء پر ہو چناچہ فرماتے ہیں اے نبی تحقیق یہ مقدس کتاب ہم نے آپ کی طرف حق اور راستی کے ساتھ اتاری ہے تاکہ آپ لوگوں کے درمیان خواہ مسلمان ہو یا کافر اس چیز کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ آپ کو سمجھائے یا دکھلائے یاصراحتہ یا اشارہ آپ کو بتلائے یا سمجھائے امام قرطبی فرماتے ہیں کہ بما اراک اللہ سے دل کی آنکھ سے دکھلانا مراد ہے کیونکہ حکم اور فیصلہ سر کی آنکھ سے نہیں دیکھا جاسکتا۔ لغت میں سر کی آنکھ سے دیکھنے کو رویت کہتے ہیں اور دل کی آنکھ سے دیکھنے کو رای کہتے ہیں اور امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب کو اہل الرای اس لیے کہتے ہیں کہ وہ کتاب وسنت میں دل کی آنکھ سے دیکھ کر حکم دیتے ہیں علماء اصول نے لفظ بما اراک اللہ سے استدلال کیا ہے کہ کبھی نبی ﷺ بھی رائے اور اجتہاد سے حک دیتے اور اگر کسی وقت حضور پرنور کی رائے اور اجتہاد میں کسی قسم کی کوئی خطا واقع ہوجاتی تو فورا بذریعہ وحی صریح اس پر مطلع کردیا جاتا اور اللہ کی طرف سے اسبارہ میں کوئی وحی نہیں نازل ہو تو مدت انتطار گذرجانے کے بعد نبی کا اجتہاد اور اس کی رائے بمنزلہ وحی جلی اور نص صریح کے ہوجاتا جاننا چاہیے کہ نبی کا اجتہاد اور اس کی رائے وحی باطنی ہے اور قطعی ہے اور مجتہدین کی رائے اور ان کا اجتہاد ظنی ہے اور اے ہمارے نبی آپ خیانت کرنے والوں کے حمایتی نہ بننا اور لاعلمی کی اور بیخبر ی کی حالت میں اصل واقعہ نہ معلوم ہونے کی وجہ سے محض ظاہر حال کی بنا پر جو کلمہ آپ کی زبان سے نکل گیا ہے اس کی اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیے طعمہ جیسے خائن کی برات کا تصور بھی گناہ ہے اور قابل استغفار ہے بظاہر حکم استغفار کا حضور پر نو رکو ہے مگ ردراصل خائنین کو سنانا مقصود ہے بیشک اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے یا یہ مطلب ہے کہ جن لوگوں نے حسن ظن کی بناء پر طعمہ اور بنی ابیرق کو سچا سمجھ لیا تھا ان کے لیے استغفار کیجئے اس میں ان مومنین مخلصین کے لیے تنبیہ ہوگئی جو بوجہ حسن ظن یا اسلامی تعلق کی بناء پر طعمہ کی برات اور یہودی کے چور بنانے میں ساعی ہوئے اور آئندہ بھی اے نبی ایسے لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑنا جو دوسروں کی خیانت کرکے درحقیقت اپنی جانوں سے خیانت اور دغاکر رہے ہیں بیشک اللہ دغاباز اور گناہ گار کو پسند نہیں کرتا گناہ چوری تو خود کریں اور چلا کی سے دوسروں کے سر لگادیں یہ دغا باز لوگ اپنی خیانتوں کو لوگوں سے چھپانا چاہتے ہیں اور لیکن اللہ سے پوشیدہ نہیں رہ سکتے اور اللہ سے کیسے چھپاسکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ تو اس وقوت بھی ان کے ساتھ ہے جب وہ رات کو ان باتوں کے مشورے کرتے ہیں جن کو اللہ پسند نہیں کرتا۔ یعنی جب طعمہ کی قوم کے لوگ یہ مشورہ کرتے ہیں کہ ہم اپنی جھوٹی قسم اور شہادت سے طعمہ کی برات اور یہودی کی چوری ثابت کردیں گے اور اس وقت بھی اللہ ان کے ساتھ تھا اور ان کے حال کو دیکھ رہا تاھ اور ہے اللہ تمہارے کاموں کا احاطہ کیے جانے والاس پر تمہاری کوئی بات پوشیدہ نہیں رہ سکتی تمہارا ظاہر و باطن سب اس کے احاطہ میں ہے خبردار اے طعمہ کے حامیو اور طرف دار و تم ہی ایسے نادان لوگ ہو کہ تم ان خائنین کی طرف سے دنیاوی زندگی میں تو جھگڑے اور خیانت کے الزام سے ان کو بری کرلیا سو یہ تو بتاؤ کہ قیامت کے دن کون ان کی طرف سے جھگڑے گا یا کون انکا وکیل بنے گا اور جو شخص ان خائنین کی حماتی اور وکالت سے توبہ کرلے اللہ اس کو بخش دے گا اس لیے کہ اللہ کا یہ قانون ہے کہ جو شخص ایسا براکام کرے جس سے دوسروں کو تکلیف پہنچے جسیے چوری وغیرہ اور کسی پر تہمت لگانا یا صرف اپنی جان پر ظلم کرے یعنی یا ایسا کام کرے جس کا ضرر اس کی ذات تک محدود رہے پھر اس کے بعد اللہ سے معافی چاہے تو اللہ کو بخشنے والا مہربان پائے گا اور اشارہ اس طرف ہے کہ طعمہ اور اس کی قوم کو توبہ کرلینی چاہیے اگر وہ توبہ کرلیں گے تو اللہ ان کی توبہ کو قبول فرمائے گ اور جو شخص گناہ کرتا ہے وہ اپنے ہی برے کے لیے کرتا ہے کیونکہ اس کا وبال اسی پر پڑے گا اور اللہ بڑا دانا اور حکمت والا ہے اور جو شخص نادانستہ کوئی خطا کر گذرے یا دیدہ دانستہ کسی گناہ کا ارتکاب کربیٹھے پھر بجائے شرمندہ اور تائب ہونے کے اس گناہ کو کسی بےگناہ پر لے جا کر پھینک دے یعنی اپنا گناہ کسی دوسرے کے سر لگادے تو بیشک اس شخص نے بڑے بہتان اور کھلے گناہ کو اپنے سر پر اٹھایا اس آیت میں خطا سے گناہ صغیرہ اور اثما سے گناہ کبیرہ مراد ہے اور اے ن بی اگر آپ پر اللہ کا خاص فضل اور خاص رحمت نہ ہوتی تو ان منافقین میں ایک گروہ یہ ارادہ کرچکا تھا کہ اپنی چرب لسانی سے آپ کو غلطی میں ڈال دیں یعن طعمہ کی قوم آپ سے خلاف حق فیصلہ کرانا چاہتی تھی مگر اللہ نے آپ پر اپنا فضل کیا کہ بذریعہ وحی کے اصل واقعہ سے آپ کو مطلع کردیا اور آپ کی عصمت کو قائم رکھا اور چونکہ اللہ کا خاص فضل آپ کا شامل حال ہے اس لیے یہ لوگ سوائے اپنے نفسوں کے اور کسی کو گمراہ نہیں کرسکتے اور آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے کیونکہ اللہ آپ کا حافظ وناصر ہے اور کسی کا آپ کو نقصان پہنچانا ناممکن اور محال ہے اس لیے کہ اللہ نے اپنے فضل و رحمت سے آپ پر کتاب کو نازل کیا اور حکمت کی باتیں اتاریں اور آپ کو وہ باتیں سکھائیں جو آپ نہیں جان سکتے تھے یعنی بہت سی غیب کی خبروں پر آپ کو مطلع کیا جن کا آپ کو پہلے سے کچھ علم نہ تھا اور یہ اس وجہ سے ہے کہ تجھ پر اللہ کا بڑا ہی فضل ہے اور ظاہر ہے کہ جس پر اللہ کا فضل ہو اس کو کون ضرر اور نقصان پہنچا سکتا ہے اے نبی ان لوگوں کی اکثر سرگوشیوں اور مشوروں میں کوئی خیر اور بھلائی نہیں مگر اس سرگوشی اور مشورہ میں نیکی اور بھلائی ہے جس میں خوئی صدقہ اور خیرات کا یا نیک بات کا یا لوگوں میں صلح کرانے کا حکم دے یہ آیت اگرچہ خاص طعمہ کی قوم کی سرگوشیوں کے بارے میں نازل ہوئی مگر حکم عام ہے اور مطلب یہ ہے کہ سوائے ان تین قسم کی باتوں کے جو مذکورہوئیں کسی اور بات میں سرگوشی نہیں کرنی چاہے اور جو شخص یہ کام محض اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کرے گا ہم اس کو بڑا ثواب دیں گے یعنی جو شخص خیرات یا نیکی کی بات یا صلح کرائے گا تو ہم اس کو بڑا ثواب ضرور دیں گے مگر شرط یہ ہے کہ کام اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کرے شہرت اور نمود کے لیے نہ کرے اور جو شخص رسول اللہ کی مخالفت کرے بعد اس کے کہ راہ ہدایت اس پر کھل چکی ہے اور جو شخص مسلمانوں کی راہ کو چھوڑ کر کسی اور راہ کی پیروی کرے یعنی مسلمانوں کے مسلم اور متفق علیہ طریقہ کو چھوڑ کر جو شخص نیا طریقہ اختیار کرے گا تو ہم ایسے شخص کے منہ کو اسی طرف پھیر دیں گے جس طرف وہ متوجہ ہوا یعنی اس کو اس کے حال میں چھوڑ دیں گے اور کبھی اس کو ہدایت نصیب نہ ہوگی اور اخیر میں اس کو جہنم میں جھونک دیں گے اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے یہ آیت اس امر کی دلیل ہے کہ اجماع امت حجت ہے اور مسلمانوں پر اس کی پیروی واجب ہے امام شافعی نے اس آیت سے اجماع کی حجیت پر استدلال کیا ہے اس لیے کہ سبیل المومنین سے وہ عقیدہ اور عمل مراد ہے جس پر تمام صحابہ وتابعین کا اتفاق ہو۔ حجیت اجماع امت۔ پہلے گذر چکا ہے کہ اصول شریعت چار ہیں کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ اور اجماع امت اور قیاس اجماع کے معنی لغت میں اتفاق رائے کے ہیں اور اصطلاح شریعت میں ایک زمانہ میں مجتہدین اور علماء ربانین اور راسخین فی العلم کا کسی دینی امر پر اتفاق رائے کرلینے کا نام اجماع ہے اور جس طرح قرآن و حدیث حجت میں اسی طرح اجماع بھی حجت ہے اور اجماع کی حجیت کتاب وسنت اور اجماع امت اور قیاس عقلی سے ثابت ہے من جملہ ان آیات قرآنیہ کے جن سے علماء نے اجماع حجت ہونے پر استدلال کیا یہ آیت یعنی ویتبع غیر سبیل المومنین۔ آیت۔ جس مطلب یہ ہے کہ جو شخص رسول اللہ کی مخالفت کرے یا مسلمانوں کی راہ کو چھوڑ کر کوئی اور راہ اختیار کرے تو اس کا انجام جہنم ہے معلوم ہوا کہ جس راہ کو مسلمانوں نے اختیار کیا ہوا اور اسی کا ترجمہ اجماع ہے اور اس کی مخالفت ایسی ہی موجب عذاب ہے جیسے رسول اللہ کی مخالفت موجب عذاب ہے پس جس طرح رسول کا حکم حجت اور واجب التسلیم ہے اسی طرح اجماع بھی حجت اور واجب التسلیم ہوگا اور حدیث میں ہے لا تجتمع امتی علی الضلالۃ یعنی میری امت گمراہی پر اجماع نہیں کرسکتی معلوم ہوا کہ جو حکم اجماع سے ثابت ہوگا وہ سراسر ہدایت ہی ہوگا حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں بعض علماء نے اس حدیث کو متواتر المعنی کہا ہے یعنی اس مضمون کی حدیثیں اس کثرت سے آئی ہیں کہ سب مل کر یہ مضمون حد تواتر کو پہنچ جاتا ہے اور امام شافعی نے بہت غوروفکر کے بعد اس آیت سے اجماع کی حجیت پر استدلال کیا ہے اور وہ بہترین اور نہایت قوی استنباط ہے۔ اور حدیث میں ہے ید اللہ علی الجماعۃ فمن شذ شذ فی النار اخرجہ الترمذی۔ یعنی جو شخص جماعت سے علیحدہ ہوا وہ علیحدہ جہنم میں جائے گا۔ (ترمذی) ۔ اور خلفاء راشدین خصوصا صدیق اکبر اور فاروق اعظم کا طریقہ رہا کہ جب کسی مسئلہ میں اشکال پیدا ہوجاتا تو جو صحابہ کرام اہل الرای اور اہل فقہ تھے ان کو جمع کرکے مشورہ کرتے اور جس پر وہ متفق ہوجاتے اس کے مطابق حکم صادر کرتے اور قیاس عقلی اور فطری کا تقاضا یہی ہے کہ اجماع کو حجت ماناجائے خصوصا اس زمانہ میں تو کثرت رائے ایک مسلم اصول بن گیا ہے کہ اگر سو میں سے اننچاس ایک طرف ہوں اور اکیاون ایک طرف ہوں تو اکیاون والی رائے کو اختیار کیا جاتا ہے اور اننچاس والی رائے کو محض ایک رائے کی کمی کی وجہ سے چھوڑ دیا جاتا ہے اور کسی بات پر سو کے سو کو اتفاق ہوا اور ایک رائے بھی اس کے خلاف نہ ہو تو وہ بات نہایت صحیح اور پختہ سمجھی جاتا ہے۔ اور اسی کا ترجمہ اجماع ہے پھر اجماع میں اور کثرت رائے میں فرق یہ ہے کہ آج کل اسمبلیوں میں محض کثرت آراء اور اتفاق آراء سے فیصلہ ہوجاتا ہے اور اجماع شرعی میں یہ شرط ہے کہ رائے دینے والے علماء اور صلحاء اور اتقیاء ہوں ہر کس وناکس کی رائے کا اعتبار نہیں دنیا کا مسلمہ اصول ہے کہ علاج کے متعلق اطباء کا متفقہ فیصلہ اور تعمیر کے متعلق انجیئروں کا متفقہ فیصلہ حجت اور سند ہے تو علماء شریعت کا کسی امر پر اتفاق کیسے حجت نہ ہوگا۔
Ayahs 4:116–126

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:116 in the Quran reader

خدا اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اسکے سوا (اور گناہ) جس کو چاہے گا بخش دیگا اور جس نے خدا کے ساتھ شریک بنایا وہ راستے سے دور جا پڑا

اِنْ یَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اِنٰثًا١ۚ وَ اِنْ یَّدْعُوْنَ اِلَّا شَیْطٰنًا مَّرِیْدًاۙ Open ayah 4:117 in the Quran reader

یہ جو خدا کے سوا پرستش کرتے ہیں تو عورتوں ہی کی اور پکارتے ہیں تو شیطان سرکش ہی کو

لَّعَنَهُ اللّٰهُ١ۘ وَ قَالَ لَاَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًاۙ Open ayah 4:118 in the Quran reader

جس پر خدا کی لعنت کی ہے (جو خدا سے) کہنے لگا میں تیرے بندوں سے (غیر خدا کی نذر دلوا کر مال کا) ایک مقرر حصہ لے لیا کروں گا

وَّ لَاُضِلَّنَّهُمْ وَ لَاُمَنِّیَنَّهُمْ وَ لَاٰمُرَنَّهُمْ فَلَیُبَتِّكُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ وَ لَاٰمُرَنَّهُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّخِذِ الشَّیْطٰنَ وَلِیًّا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِیْنًاؕ Open ayah 4:119 in the Quran reader

اور ان کو گمراہ کرتا اور امید دلاتا رہوں گا اور یہ سکھاتا رہوں گا کہ جانوروں کے کان چیرتے رہیں اور (یہ بھی) کہتا رہوں گا کہ وہ خدا کی بنائی ہوئی صورتوں کو بدلتے رہیں اور جس شخص نے خدا کو چھوڑ کر شیطان کو دوست بنایا وہ صریح نقصان میں پڑگیا

یَعِدُهُمْ وَ یُمَنِّیْهِمْ١ؕ وَ مَا یَعِدُهُمُ الشَّیْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 4:120 in the Quran reader

وہ ان کو وعدے دیتا ہے اور امیدیں دلاتا ہے اور جو کچھ شیطان انہیں وعدے دیتا ہے وہ دھوکا ہی دھوکا ہے

اُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١٘ وَ لَا یَجِدُوْنَ عَنْهَا مَحِیْصًا Open ayah 4:121 in the Quran reader

ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ وہاں سے مخلصی نہیں پاسکیں گے

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ قِیْلًا Open ayah 4:122 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کو ہم بہشتوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ابدالآباد ان میں رہیں گے یہ خدا کا سچا وعدہ ہے اور خدا سے زیادہ بات کو سچا کون ہوسکتا ہے ؟

لَیْسَ بِاَمَانِیِّكُمْ وَ لَاۤ اَمَانِیِّ اَهْلِ الْكِتٰبِ١ؕ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءًا یُّجْزَ بِهٖ١ۙ وَ لَا یَجِدْ لَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 4:123 in the Quran reader

(نجات) نہ تو تمہاری آرزؤوں پر ہے اور نہ اہل کتاب کی آرزؤوں پر جو شخص برے عمل کرے گا اسے اسی طرح کا بدلہ دیا جائے گا اور وہ خدا کے سوا نہ کسی کو حمایتی پائے گا اور نہ مدد گار

وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ مِنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ نَقِیْرًا Open ayah 4:124 in the Quran reader

اور جو نیک کام کرے گا مرد ہو یا عورت اور وہ صاحب ایمان بھی ہوگا تو ایسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے اور ان کی تل برابر بھی حق تلفی نہ کی جائے گی

وَ مَنْ اَحْسَنُ دِیْنًا مِّمَّنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ وَّ اتَّبَعَ مِلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ اتَّخَذَ اللّٰهُ اِبْرٰهِیْمَ خَلِیْلًا Open ayah 4:125 in the Quran reader

اور اس شخص سے کس کا دینا اچھا ہوسکتا ہے جش نے حکم خدا کو قبول کیا اور وہ نیکو کار بھی ہے اور ابراہیم کے دین کا پیرو ہے جو یکسو (مسلمان) تھے ؟ اور خدا نے ابراہیم کو اپنا دوست بنایا تھا

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ مُّحِیْطًا۠ Open ayah 4:126 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب خدا ہی کا ہے اور خدا پر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے۔

شرک اور اہل شرک کی مذمت اور رسوم جاہلیت کا ابطال۔ قال تعالی، ان اللہ لایغفر ان یشرک بہ۔۔۔۔ الی۔۔۔ محیطا۔ یہ آخری آیت ومن یشاقق الرسول من بعد ماتبین لہ الھدی۔ آیت۔ بھی طعمہ کے بارے میں نازل ہوئی جب اس نے دیکھا کہ اللہ نے اس کا پردہ فاش کردیا تو مرتد ہو کر چلا گیا ایک شخص کی دیوار میں نقب لگایا اتفاقا دیوار اس پر گر پڑی اور وہ مرگیا اب اس کے بعد اللہ شرک کی بابت ارشاد فرماتے ہیں کہ شرک تو بغیر توبہ کے کسی حال میں نہیں بخشا جاتا اور البتہ شرک اور کفر کے علاوہ اور گناہ بغیر توبہ کے بھی بخشے جاتے ہیں پس اگر طعمہ مرتد نہ ہوتا اور مشرکین کے ساتھ جاکرنہ ملتا تو ممکن تھا کہ چوری وغیرہ کا گناہ بغیر توبہ ہی کے اگر اللہ چاہتا تو معاف کردیتا لیکن وہ بدنصیب کافر اور مرتد ہوجانے کی وجہ سے اور پھر کفر وشرک پر مرجانے کی وجہ سے بالکلیہ خدا تعالیٰ کی عفو اور مغفرت سے محروم ہوگیا چناچہ فرماتے ہیں تحقیق اللہ بلا توبہ نہیں بخشتا اس بات کو اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایاجائے چہ جائیکہ سرے ہی سے اللہ کا انکار کردیا جائے اور کفر اور شرک سے نیچے اور کم درجے کے گناہ کو بلاتوبہ کے بھی جس کے لیے چاہیں معاف کردیں اور جو شخص اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرائے وہ بلاشبہ گمراہ ہو کر ایسی گمراہی میں جاپڑا کہ جو ہدایت سے بہت ہی دور ہے اور ہدایت سے اتنا دور ہوگیا کہ قاب عفو ومغفرت نہ رہا بخلاف مسلمان کے کہ وہ کتناہی سخت گناہ گار کیوں نہ ہو اس کی گمراہی صرف اس کے اعمال تک ہے اور اس کا عقیدہ گمراہی اور خرابی سے محفوظ ہے۔ فائدہ) ۔ شروع سورت کی تمہید میں گزر چکا ہے کہ حدیث میں آیا ہے کہ اس سورت میں پانچ آیتیں مجھ کو دنیا ومافیھا سے زیادہ محبوب ہیں ان میں سے ایک آیت یہ ہے، یعنی ان اللہ لایغفر ان یشرک بہ۔ آیت۔ بظاہر وجہ یہ ہوگی کہ گناہ گاروں کے لیے سہارا ہے۔ نکتہ) ۔ یہ آیت اسی سورت میں پہلے بھی گذر چکی ہے مگر پہلی بار اہل کتاب کے سلسلہ میں گزری جو اہل علم تھے اور جان بوجھ کر خدا کے بیٹے اور شریک ٹھہراتے تھے اس لیے وہاں آیت کے ختم پر فقدافتری اثما عظیما۔ آیت۔ فرمایا کیوں کہ اہل کتاب جان بوجھ کر اللہ پر افتراء کرتے تھے اور اس جگہ اس آیت کو مشرکین عرب اور مرتدین کے سلسلہ میں ذکر فرمایا جو جاہل اور گمراہ تھے اس لیے یہاں آیت کے ختم پر فقد ضل ضلالا بعیدا۔ آیت۔ فرمایا کہ مشرکین عرب جہالت کی بناء پر گمراہی میں مبتلا ہیں باقی شرک اور کفر کی عدم مغفرت کی وجوہ باالتفصیل پہلی آیت کے ذیل میں گذر چکی ہیں۔ اب آئندہ آیات میں ان کی ضلال بعید کے وجوہ بیان فرماتے ہیں یہ مشرک خدا کو چھوڑ کر نہی پرستش کرتے مگر عورتوں کی یعنی بتوں کی جو ان کے خیال میں عورت ہیں اس لیے کہ اہل عرب اپنے بتوں کے نام مونث رکھتے تھے جیسے لات اور عزی اور منات۔ حسن بصری کہتے ہیں کہ ہر قبیلہ کے بت کو اس قبیلہ کا انثی کہا کرتی تھے اور عورتوں کی طرح ان کو زیورات پہنایا کرتے تھے اور وہ لوگ اپنے بتوں کو خدا کی لڑکیاں بھی کہا کرتے تھے اور انثی کا اطلاق اس سبب سے کرتے تھے کہ وہ بےجان ہیں اور بےجان چیز کے لیے زبان عرب میں مونث کا لفظ استعمال کیا ہے بہر حال مقصود کہ یہ لوگ گمراہی میں بہت دور جاپڑے ہیں کہ قادر توانا کو چھوڑ کر کمزور اور عاجزوں اور عورتوں کی پرستش کرتے ہیں کسی درجہ کے بےعقل اور ناسمجھ اور گمراہ ہیں اور درحقیقت نہیں پرستش کرتے مگر شیطان سرکش کی یعنی بتوں کو جو پوجتے ہیں تو صرف شیطان کے اغواء سے پوجتے ہیں تو گیا درحقیقت شیطان کو پوجتے ہیں جس پر اللہ نے لعنت کی ہے اور اس کو اپنی رحمت خاصہ سے دور پھینک دیا ہے اور ظاہر ہے کہ عورتوں کی اور ملعون اور مردود کی پرستش بلاشبہ ضلال بعید ہے شیطان کی پرستش تو حماقت معنویہ ہے اور عورتوں کی پرستش حماقت حسیہ ہے اس لیے کہ عورتیں باعتبار جسم کے مردوں سے زیادہ کمزور ہیں فوج میں بھرتی ہونے کے قابل نہیں اس طرح اور اسی نسبت سے عورتیں عقل میں بھی مردوں سے بہت کمزور ہیں کامل العقل جنس کا ناقص العقل جن کی پرستش کرنا کیا یہ حسی اور ظاہری حماقت اور ضلال بعید نہیں اور جس وقت شیطان سجدہ نہ کرنے کی وجہ سے بارگاہ خداوندی سے ملعون اور مردود ہوا تو اس وقت اس نے یہ کہا کہ میں تو غارت ہی ہوچکا مگر اولاد آدم کے غارت کرنے میں بھی کوئی کسر اٹھانہ رکھوں گا اور اسے پروردگار میں تیرے بندوں میں ایک معین حصہ جو تیرے علم ازلی میں مقرر اور معین ہے ضرور لے کر رہوں گا یعنی اے پروردگار تیرے کچھ بندے تجھے چھوڑ کر میری راہ پر ہولیں گے تو اسی طرح تیرے بندوں میں میرا حصہ بھی ضرور ہوگا اور عقائد میں ان کو طریق ہدایت سے ضرور گمراہ کروں گا اور بہکاوں گا اور اعمال زندگی میں ان کو طرح طرح کی امیدوں اور آرزوں میں ضرور مبتلا کروں گا تاکہ بےدھڑک ہو کر وہ تیری معصیت کریں حتی کہ جزاء وسزا اور آخرت کا ان کو خیال بھی نہ آئے اور میں انہیں ضرور اعمال کفریہ ورسوم شرکیہ کا حکم دوں گا کہ وہ میرے حکم سے بتوں کے نام پر جانوروں کے کان کاٹیں گے مشرکین عرب کا یہ دستور تھا کہ جب اونٹنی پانچ بچے جن لیتی اور پانچواں بچہ نر ہوتا تو اس کے کان چیر کو بتوں کے نام پر اس کو چھوڑ دیتے نہ اس کا دودھ پیتے اور نہ اس پر سوار ہوتے اور نہ اس کی اون سے منتفع ہوتے اور یہ سمجھتے کہ یہ فعل خدا کے تقرب کا ذریعہ ہے اس آیت میں اسی رسم کی طرف اشارہ ہے اور میں ان کو یہ حکم بھی ضرور دوں گا جس سے وہ اللہ کی بنائی ہوئی صورت کو بگاڑیں گے جیسے داڑھی منڈوانا اور بتوں کے نام کی سر پر چوٹی رکھنا اور عورتوں کا اپنی کھال کو گدوانا اور اپنے بالوں میں دوسرے بال وصل کرانا وغیرہ وغیرہ۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ مردوں کا سیاہ خضاب کرنا اور مردوں کا عورتوں کے مشابہ بننا اور عورتوں کا مردوں کا مشابہ اور ہم لباس بننا وہ بھی تغیر خلق اللہ میں داخل ہے خلاصہ مطلب یہ کہ شیطان تمہارا ازلی دشمن اور حاسد ہے اور وہ اپنی دشمنی کو صاف ظاہر بھی کرچکا ہے اور جب حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ نہ کرنے کی وجہ سے جنت سے نکالا گیا تھا تو اس وقت یہ کہہ کر آیا تھا کہ اے خدا میں تیرے بندوں کو ضرور گمراہ کروں گا اور تو اس واضح دشمنی اور عداوت کے بعد کیوں اس کی پیروی کرتے ہو اور اس کے بہکانے پر کیوں عمل کرتے اور کیا لوگوں کو یہ معلوم نہیں کہ جو خدا کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا دوست بنائے اور اس کے مشوروں پر چلے تو وہ صریح نقصان میں جا پڑا کہ جنت کو فروخت کرکے جہنم خرید لی شیطان ان سے وعدے کرتا ہے اور طرح طرح کی امیدیں ان کو دلاتا ہے شیطان کے پاس سوائے زبانی وعدوں اور خیالی آرزوں کے کیا رکھا ہے اور نہیں وعدہ کرتا شیطان ان سے مگر خالص دھوکے اور فریب کا یعنی شیطان لوگوں سے وعدے کرتا ہے کہ دنیا کی لذتیں ہمیشہ ان کو نصیب ہوتی رہیں گی اور حساب و کتاب سب ڈھکو سلہ ہے اور جو شخص حساب و کتاب اور قیامت کے انکار پر آمادہ نہیں ہوتا اسے یہ آرزو دلاتا ہے کہ ابھی زندگی بہت پڑی ہے جلدی کیا ہے اخیر وقت میں توبہ کرلینا جیسا کہ کسی شاعر نے کہا ہے، ناصحاتوبہ کی جلدی کیا ہے یہ بھی کرلیں گے جو فرصت ہوگی۔ اللہ فرماتے ہیں خوب سمجھ لو کہ شیطان کے وعدے سب جھوٹے ہیں اور ایسے لوگ جنہوں نے شیطان کو اپنا رفیق بنایا ہے ان سب کاٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ کبھی اس دوزخ سے مفر اور مخلصی نہ پائیں گے یعنی اس سے بھاگ کر کبھی رہائی نہ پاسکیں گے اور برخلاف ان کے جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے عنقریب ہم ان کو ایسے باغوں میں داخل کریں گے کہ ان کے درختوں کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی اور ان باغات میں ان کا داخل ہونا عارضی نہ ہوگا بلکہ وہ ہمیشہ رہیں گے اللہ نے ان سے اس پکا وعدہ کیا ہے اور اللہ سے بات میں کون زیادہ سچا ہوسکتا ہے اور جب تم ویہ معلوم ہوچکا تو تم کو چاہے کہ اللہ کے وعدوں پر بھروسہ کرکے عمل کرو شیطان کے جھوٹے وعدوں پر بھروسہ کرکے دھوکہ میں نہ آؤ اس لیے کہ آخرت کا ثواب اے مسلمانوں نہ تمہاری آرزوں پر ہے اور نہ اہل کتاب کی آرزؤں پر ہے خالی آرزوں اور تمناؤ پر کام نہیں چلتا۔ جب تک ایمان اور عمل صالح نہ ہو اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ ایک مرتبہ اہل کتاب اور اہل اسلام میں گفتگو ہوئی اور اہل کتاب نے کہا ہماری کتاب مقدم ہے اور ہمارے نبی تمہارے نبی سے مقدم ہیں اور مسلمانوں نے کہا ہمارے نبی خاتم الانبیاء ہیں اور ہماری کتب تمام کتابوں کی ناسخ ہے لہذا ہم تم سے بہتر ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ قرب خداوندی اور اخروی کامیابی محض تمناؤں سے حاصل نہیں ہوسکتی بلاایمان اور بلا عمل صالح عقبی کی راحت کی توقع رکھنا سراسر نادانی ہے قانون خداوندی یہ ہے کہ جو کام برا کرے گا سزاپائے گا اور آخرت کے دن وہ اللہ کے سوا کسی کو اپنے لیے نہ حمایتی اور مددگار پائے گا جو اس کو خدا کے عذاب سے بچا سکے اور جو شخص نیک عمل کرے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ مومن ہو یعنی مسلمان ہو پس یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور تل برابر بھی ظلم نہ کیے جائیں گے اور مومن کی قید اس لیے لگائی کہ بغیر ایمان اور اسلام کے کسی عمل صالح کا اعتبار نہیں مطلب یہ ہے عمل صالح کا اہتمام کرو محض تمنا اور نرمی آرزو کافی نہیں اب اہل کتاب کے اس خیال کی تردید فرماتے ہیں کہ ان کا دین مسلمانوں کے دین سے بہتر ہے چناچہ فرماتے ہیں اور اہل کتاب کا یہ خیال کہ ان کا دین مسلمانوں کے دین سے بہتر ہے محض غلط ہے کیونکہ باعتبار دین کے اس شخص سے کون اچھا ہوسکتا ہے جو اپنے چہرہ یعنی اپنی ذات کو خدا کے سپرد کردے یعنی سراپا خدا کا مطیع اور فرمانبردار بن گیا ہو درآنحالیکہ وہ مخلص ہو اور ملت ابراہیمی کا پیرو ہو جو کہ حنیف تھے یعنی ماسوی اللہ سے یکسو تھے یعنی دین اسلام سے بہتر اور کوئی دین نہیں کیونکہ مسلمانوں نے اپنے آپ کو خدا کے حوالہ اور سپرد کردیا ہے جو حکم وہ دیتا ہے وہی کرتے ہیں اور مخلص اور نیکوکاروں ہیں اور ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقہ پر ہیں جو اللہ کے خاص الخاص بندہ تھے اور جن کو اللہ نے اپنا جانی دوست بنایا تھا اور جو بڑے موحد تھے اور سب سے الگ ہو کر ایک طرف یعنی ایک خدا کی طرف ہو رہے تھے اور تمام حنفاء اور موحدین کے مقتداء اور پیشوا تھے اور انبیاء ومرسلین کے جد امجد تھے تو ان کی راہ سب راہوں سے زیادہ بہتر ہوگی اور دین اسلام ہی حضرت ابراہیم کا مذہب تھا تو جب مسلمانوں کی یہ کیفیت ہے تو پھر ان کے دین سے بڑھ کر کس کا دین متبع ہوں گے یعنی حنیف اور موحد ہوں گے اور کسی کو خدا کا شریک اور بیٹا نہ سمجھتے ہوں اور اس وجہ سے کہ ابراہیم سب کو چھوڑ کر ایک خدا کے ہوگئے تھے اللہ نے ابراہیم کو اپنا خالص دوست بنالیا تھا جن کے خلال قلب میں اللہ کی محبت اور عظمت ایسی سرایت کرچکی تھی کہ کسی غیر کی اس میں گنجائش باقی نہ رہی تھی اور پورے طور پر وہ اللہ کے مطیع اور فرمانبردار ہوچکے تھے پس مسلمان اسی ابراہیم خلیل اللہ کے طریقہ پر ہیں جو حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ سب پر مقدم ہیں حنیف اس شخص کو کہتے ہیں جو بصیرت کے ساتھ غیر اللہ کو چھوڑ کر بالکلیہ اللہ کی طرف متوجہ ہوجائے۔ اور خلیل اللہ وہ شخص ہے جو اللہ کی محبت میں اس درجہ فنا ہوچکا ہو کہ طبعی اور فطری طور پر اس کا ارادہ اور اختیار اور رغبت اللہ کے حکم کے تابع ہوجائے اور خلیل اللہ ہونا بارگاہ اللہ پر میں تقرب اعلی ترین مقام ہے اور یہ مقام ہمارے نبی اکرم ﷺ کو بھی حاصل تھا جیسا کہ صحیحین میں ابوسعید خدری سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مرض الوفات میں جو آخری خطبہ دیا تھا اس میں یہ فرمایا، اما بعد اے لوگو ! اگر میں کسی کو اہل زمین سے اپنا خلیل بناتا تو ابوبکر بن ابی قحافہ کو اپنا خلیل بناتا لیکن تمہارا صاحب خطا (یعنی ذات قدسی) خلیل اللہ ہے یعنی اللہ کا خلیل ہے۔ اور جندب بن عبداللہ البجلی اور عبداللہ بن عمرو بن العاص اور عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا، تحقیق اللہ نے مجھ کو اپنا خلیل بنایا ہے جس طرح ابراہیم کو اپنا خلیل بنایا تھا۔ اس مضمون کی روایتیں تفسیر ابن کثیر میں مذکور ہیں اور نبی ﷺ خلیل اللہ ہونے کے علاوہ حبیب اللہ بھی تھے جیسا کہ ترمذی کی ایک روایت میں ہے انا حبیب اللہ ولافخر، غرض یہ کہ ہمارے نبی ﷺ کو مقام خلت اور مقام محبت دونوں حاصل تھے بعض محققین کا قول ہے کہ محبت کا دائرہ خلت کے دائرہ سے زیادہ وسیع ہے تفصیل کے لیے روح المعانی ص 140 ج 5 کو دیکھیے۔ خلاصہ کلام یہ کہ حضرت ابراہیم کی فضیلت اور بزرگی اور ان کا ماتقدم زمانی اور رتبی تمام ملل اور امم میں مسلم ہے کہ وہ خلیل اور حنیف تھے یعنی فانی فی اللہ اور باقی بااللہ تھے اور دین اسلام اپنے اندر ملت ابراہیمی کو مع شئی زائد سموئے ہوئے ہے۔ دین اسلام ملت ابراہیمی کے علاوہ اور بہت سے علوم اور احکام پر مشتمل ہے اور توحید و تفرید اور انقیاد ظاہری وباطنی اور اخلاصی کامل اور فناء فی اللہ اور بقاء بااللہ کی تعلیم وتلقین کرتا ہے تو اس سے بڑھ کر اور کون سا دین ہوسکتا ہے اور یہودیت اور نصرانیت میں سوائے گمراہانہ عقیدہ ابنیت وکفارہ کے اور سوائے جاہلانہ آرزوں کے اور کیا رکھا ہے پس عیسائیوں کا یہ گمان کہ تمام گناہ حضرت مسیح اٹھا کرلے گئے اور اب ہم شریعت اور حلال اور حرام کی قید سے آزاد ہیں اور اسی طرح یہودیوں کا یہ گمان کہ ہم پیغمبروں کی اولاد ہیں اور ہم خدا کے دوست ہیں ہمیں دوزخ میں جانا نہیں پڑے گا اور اگر جائیں گے بھی تو تب تھوڑے دنوں کے لیے اور پھر ہمارے باپ دادا جو پیغمبر تھے وہ ہم کو چھڑا لائیں گے یہ سب یہود ونصاری کی آرزوئیں ہیں جن سے کچھ کام نہیں چلتا اطاعت کے بغیر نجات ممکن نہیں ان آیات سے فرقہ مرحبہ کا بھی رد ہوگیا جو یہ کہتے ہیں کہ فقط ایمان نجات کے لیے کافی ہے اور اعمال صالحہ ضروری نہیں حسن بصری فرمایا کرتے تھے کہ ایمان صرف آرزو کا نام نہیں تاوقتیکہ دل میں اعتقاد نہ ہو اور عمل اس کی تصدیق نہ کرے۔ پس ثابت ہوا کہ یہود ونصاری کا دعوی باطل ہے اور دین اسلام سے بہتر کوئی دین نہیں اور دین اسلام کے سوا کوئی دین مقبول نہیں اور مسلمانوں سے زیادہ کوئی گروہ حضرت ابراہیم سے قریب نہیں، کماقال تعالیٰ ان اولی الناس۔۔۔۔۔ المومنین۔ آیت۔ اور یہود اور نصاری اخلاص اور توحید اور اسلام اور احسان سے جو حضرت ابراہیم کا طریقہ یہ تھا کہ کوسوں دور ہیں پس ان کا یہ دعوی کہ ہم ملت ابراہیمی پر ہیں بالکل غلط ہے اور اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمان میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے یعنی جب وہ آسمان اور زمین کی سب چیزوں کا مالک ہے تو ابراہم کا بھی وہی مالک اور خدا ہے اور ابراہیم اس کے بندہ ہیں اس مالک مطلق نے اپنے اختیار سے ابراہیم کو اپنا خلیل اور مقرب بنایا مقام خلت سے ان کو شرف اور عزت حاصل ہوئی مگر دائرہ عبودیت اور مملوکیت سے باہر نہیں ہوئے اور ہے اللہ تعالیٰ ہر چیز کا اپنی قدرت اور علم و حکمت سے احاطہ کرنے والا کوئی شی اس کے احاطہ قدرت اور قہر سے باہر نہیں پس وہی ذات اس قابل ہے کہ خالص اس کی بندگی کی جائے اور کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ کیا جائے اور یہود اور نصاری اور مشرکین عرب سب شرک میں مبتلا ہیں اور اللہ تعالیٰ ان سب کے اعمال کو اپنے احاطہ میں لیے ہوئے ہے پس قیامت کے دن ضرور ان کے اعمال کی ان کو سزا دے گا۔