4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 4:148–152

لَا یُحِبُّ اللّٰهُ الْجَهْرَ بِالسُّوْٓءِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنْ ظُلِمَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ سَمِیْعًا عَلِیْمًا Open ayah 4:148 in the Quran reader

خدا اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ کوئی کسی کو علانیہ برا کہے مگر وہ جو مظلوم ہو۔ اور خدا سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔

اِنْ تُبْدُوْا خَیْرًا اَوْ تُخْفُوْهُ اَوْ تَعْفُوْا عَنْ سُوْٓءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِیْرًا Open ayah 4:149 in the Quran reader

اگر تم لوگ بھلائی کھلم کھلا کرو گے یا چھپا کر۔ یا برائی سے درگزر کرو گے تو خدا بھی معاف کرنیولا اور صاحب قدرت ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّفَرِّقُوْا بَیْنَ اللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّ نَكْفُرُ بِبَعْضٍ١ۙ وَّ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًۙا Open ayah 4:150 in the Quran reader

جو لوگ خدا سے اور اس کے پیغمبروں سے کفر کرتے ہیں اور خدا اور اس کے پیغمبروں میں فرق کرنا چاہتے ہیں اور کہتے ہے کہ تم بعض کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے اور ایمان اور کفر کے بیچ میں ایک راہ نکالنی چاہتے ہیں

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّا١ۚ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 4:151 in the Quran reader

وہ بلا اشتباہ کافر ہے اور کافروں کے لئے ہم نے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ لَمْ یُفَرِّقُوْا بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ اُولٰٓئِكَ سَوْفَ یُؤْتِیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:152 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے اور ان میں سے کسی میں فرق نہ کیا (یعنی سب کو مانا) ایسے لوگوں کو وہ عنقریب ان (کی نیکیوں) کے صلے میں عطا فرمائے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

حکم سنی ام۔ جو از شکایت ظالم برائے مظلوم وفضیلت عفو۔ قال تعالیٰ لایحب اللہ الجھر بالسوء۔۔۔ الی۔۔۔ قدیرا۔ ربط) گزشتہ آیات میں منافقین کے جبلی کج طبعی اور آیات خداوندی میں ان کی طعنہ زنی اور عیب جوئی اور مسلمانوں پر ان کے مظالم بیان کیے گئے اب ان آیات میں یہ نصیحت فرماتے ہیں کہ اللہ بڑا حلیم وکریم اور ستا رالعیوب ہے کسی کا عیب ظاہر کرنا اور کسی کی برائی کرنا اور کسی کا پردہ فاش کرنا پسند نہیں کرتا اسی طرح ہم کو بھی حلم اور پردہ پوشی سے کام لینا چاہیے ہاں مگر جس کسی پر ظلم ہوا ہو سو وہ مظلوم اگر ظالم کی برائی یا زیادتی کا افشا کرے تو کچھ مضائقہ نہیں لیکن اگر معاف کردے تو وہ اور بہتر ہے اس لیے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کی عادت باوجود قدرت کے خطاکاروں سے معاف کرنے اور درگذر کرنے کی ہے مگر اللہ نے منافقین کے معایب اس لیے بیان فرمائے کہ یہ بڑے ہی ظالم ہیں ان کا کید اور مکر عظیم ہے اور ان کا ضرر شدید ہے اللہ کے رسول کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں اور ہر وقت مسلمانوں کی ایذاء رسانی کے درپے رہتے ہیں اس لیے اللہ نے مسلمانوں کو منافقین کے شر اور فتنہ سے آگاہ کرنے کے لیے ان کے معایب اور مثالیب بیان کیے پس اللہ جل شانہ نے ان ظالموں کے پوشیدہ عیوب اور برائیوں کو علی الاعلان بیان کیا تاکہ مسلمان ان کے شر اور ان کے ظلم وستم سے محفوظ رہیں اور ان جیسے اخلاق و اعمال سے بھی اجتناب اور پرہیز کریں اور کمال قال تعالی، ولایکونو اکالذین اوتوالکتاب من۔۔۔ الی۔۔۔۔ فاسقون۔ آیت۔ لہذا مسلمانوں کے لیے جائز ہے کہ ان ظالموں کے مظالم اور معایب کو بیان کریں جیسا کہ ایک حدیث میں ہے کہ فاسق اور بدکار کے عیوب کو ظاہر کرو تاکہ لوگ اس سے احتیاط اور پرہیز کریں مطلب یہ ہوا کہ جس ظالم کا ضرر شدیدہو اور اس کا کید اور مکر عظیم ہو تو اس کے فضائح اور قبائح کے اعلان اور اظہار میں کوئی حرج نہیں خلاصہ کلام یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان ظالم منافقوں کی برائیاں اس لیے بیان فرمائیں تاکہ لوگ ان کی شرارتوں سے آگاہ اور باخبر ہوجائیں اور ان کے شر اور ضرر سے محفوظ ہوجائیں اور اپنے آپ کو ان جیسے اخلاق اور اعمال سے بچائیں اور ان ظالموں نے مسلمانوں پر حد سے زیادہ ظلم وستم کیا ہے اور ظلم کی کوئی حد باقی نہیں رہی چھوڑی لہذا مسلمانوں کے لیے جائز ہے کہ ان ظالموں کے مظالم اور معایب کو ظاہر کریں حاصل یہ ہے کہ ہم کو ظالم کے ظلم کی پردہ دری اور شکایت کا جو ازبیان کرنا مقصود تھا اس لیے ہم نے ان منافقوں کی برائیاں بیان کیں۔ (تفسیر کبیر ص 495 اور تفسیر البحر المحیط ص 282 ج 3) ۔ یا یوں کہو کہ اللہ تعالیٰ نے گذشتہ آیات میں منافقین کے عیوب بیان کیے مگر نام کسی کا نام لیا اس لیے کہ اللہ کو یہ ناپسند ہے کہ کسی کا نام لے کر اس کا عیب بیان کیا جائے ہاں اگر مظلوم اپنے ظالم کے نام لے کر اس کا عیب بیان کرے اور اس کی شکایت کرے تو یہ جائز ہے ظالم کی شکایت داخل غیبت نہیں سمجھی جائے گی کیونکہ بغیر ظالم کا نام لیے ہوئے مظلوم چارہ جوئی نہیں کرسکتا اور اس کے علاوہ اور بھی بعض صورتیں ہیں جن میں غیبت روا ہے تفصیل کے لیے احیاء العلوم وشرح احیاء العلوم للزبیدی ص 553 ج 7 کو دیکھیں۔ اور یہ حکم شاید یہاں اس لیے بیان فرمایا کہ مسلمان کو چاہیے کہ کسی منافق کا نام مشہور نہ کرے اور علی الاعلان اس کو بدنام نہ کرے اور اصل مقصود نصیحت ہے نہ کہ فضیحت اس لیے اللہ نے مبہم طریقہ سے منافقین کا حال بیان فرمایا اور کسی کا نام نہیں لیا شاید منافق اس مبہم نصیحت سے سمجھ جائے اور ہدایت پاجائے اور منافق اس پر دہ پوشی کو دیکھ کر مخلص صادق بن جائے ہدایت اور اصلاح کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ بغیر کسی کا نام لیے اجمالی طور پر معایب اور اعمال قبیحہ اور ان کے مفاسد اور ان کی خرابیوں کو بیان کیا جائے تاکہ لوگ آگاہ ہوجائیں اور نام کسی کانہ لیاجائے اور شاید اس پردہ پوشی کو دیکھ کر وہ مجرم اور بدکار اپنے دل میں شرمندہ ہوا اور ہدایت پر آجائے اور ممکن ہے کہ بدنام کرنے سے اس کا دل اور سخت ہوجائے اور پہلے سے زیادہ بےباک ہوجائے نبی ﷺ کا یہی طریقہ تھا کہ کسی کا نام لے کر نہیں فرماتے تھے۔ یا یوں کہو کہ گذشتہ آیات میں منافقوں کی بری عادتوں کا ذکر فرمایا اور حدیث میں ہے کہ منافق کی ایک عادت یہ ہے کہ وہ لڑائی اور جھگڑے کے وقت منہ سے گالی نکالتا ہے اس لیے اس آیت میں مسلمانوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ زبان سے بری بات نہ نکالیں مگر مظلوم کے لیے جائز ہے کہ وہ ظالم کی بقدر ظلم کے واجبی شکایت زبان سے نکال سکتا ہے اور اگر مظلوم معاف کردے تو اللہ اس کے گناہوں کو معاف کردے گا یا یوں کہو کہ گذشتہ آیت الاالذین تابوا۔ الخ۔ میں یہ بیان تھا کہ بدکار اور گناہ گار توبہ کے بعد مومنین کاملین کے زمرہ میں داخل ہوجاتا ہے اب اس آیت میں یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ توبہ کے بعد گذشتہ نفاق اور مکرو فریب اور دیگر عیوب کا ذکر کرکے طعن وتشنیع کرنا اور اس کو برا بھلا کہنا روا نہیں ہاں مظلوم کو بقدر ظلم وستم اور اپنے ظالم کو برا کہنا جائز ہے حدیث میں ہے ان لصاحب الحق مقالا رواہ احمد۔ صاحب حق کو کہنے اور بولنے کی گنجائش ہے۔ تفسیر کبیر ص 495 ج 3) ۔ یا یوں کہو کہ گذشتہ آیت میں یہ فرمایا تھا مایفعل اللہ بعذابکم ان شکرتم۔ یعنی اللہ تعالیٰ کسی کو بلاوجہ عذاب دینا پسند نہیں کرتے اب اس آیت میں یہ فرماتے ہیں کہ اللہ کو یہ بھی پسند نہیں کہ کسی کو برابھلا کہا جائے مگر مظلوم کو اجازت ہے کہ وہ بقدر ظلم کے زبان سے کچھ کہہ دے لیکن وہ بھی اگر معاف کردے تو بہت اچھا ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ عفو قدیر ہے باوجود قدرت کے معاف کرتا ہے۔ یا یوں کہو کہ گزشتہ آیت وکان اللہ شاکرا علیما۔ میں اس طرف اشارہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے شکر کے اعلان اور اظہار کو پسند کرتے ہیں اب اس آیت میں اس کی ضد کو بیان فرماتے ہیں کہ حق تعالیٰ برائی کے اعلان اور اظہار کو ناپسند کرتے ہیں دیکھو حاشیہ الشہاب خفا جی علی تفسیر البیضاوی ص 193 ج 3، وروح المعانی ص 3 ج 6) ۔ یا یوں کہو کہ اگر اللہ تعالیٰ اپنے شکر گزار بندوں کو عذاب نہیں دیتا اللہ تعالیٰ تو ان لوگوں کو عذاب دیتا ہے کہ جو بجائے شکر کے اس کی شکایت کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ تو مخلوق کی شکایت کو بھی پسند نہیں کرتے اس لیے کہ اللہ نہیں پسند کرتا بری بات کے افشاء اور اظہار کو یعنی اللہ کو یہ پسند نہیں کہ کسی کی برائی کو ظاہر کیا جائے مگر مظلوم کو اپنے ظلم وستم کے اظہار اور بیان کی اجازت ہے کہ بغیر اس کے اس کو چارہ نہیں لہذا اگر مظلوم اپنے ظالم کی شکایت کرے تو وہ گناہ نہیں جاننا چاہیے کہ جہرے سے آواز بلند کرنا مراد نہیں بلکہ مطلق اظہار مراد ہے اگرچہ آواز بلند نہ ہو اور ہے اللہ سننے والا جاننے والا وہ مظلوم کی دعا کو سنتا ہے اور اس کو معلوم ہے کہ ظالم نے کتنا ظلم کیا ہے اور وہ کتنی سزا کا مستحق ہے اگرچہ مظلوم اپنی زبان سے کچھ نہ کہے اور اس کو یہ بھی معلوم ہے کہ مظلوم کی شکایت ظالم کے ظلم کی مقدار کے مطابق ہے یا اس سے زیادہ ہے پھر آگے یہ ارشاد فرماتے ہیں کہ اگرچہ مظلوم کو شکایت کی اجازت ہے مگر برائی کرنے والے کے ساتھ احسان یا عفو کا معاملہ خدا کے یہاں اس سے کہیں زیادہ محبوب ہے اگر تم برائی کرنے والے کے ساتھ کوئی بھلائی کرو خواہ اس بھلائی کو ظاہر کرو یاچھپاؤ تو یہ بہت بلند مقام ہے کما قال تعالیٰ ادفع بالتی۔۔۔ الی۔۔۔ ولی حمیم۔ آیت۔ یا برائی سے درگذر کرو یعنی معاف کردو تو یہ اہل ہمت کا مقام ہے اور تخلق باخلاق الٰہیہ ہے اس لیے کہ بیشک اللہ بڑا معاف کرنے والا قدرت والا ہے قدرت کے بعد عفو اللہ کی خاص صفت ہے تمہیں چاہیے کہ اللہ کی صفت اور عادت کا اتباع کرو درعفولذیتست کہ درانتقام نیست۔ اور ایک اثر میں ہے کہ حاملان عرش اللہ کی تسبیح کرتے ہیں بعض ان میں سے یہ کہتے ہیں، سبحانک علی علمک علمک اور بعض یہ کہتے ہیں سبحانک علی عفوک بعد قدرتک۔ فائدہ) ۔ اللہ جل شانہ نے اس آیت میں تین مرتبے بیان فرمائے ہیں اول یہ کہ انتقام جائز ہے کماقال تعالیٰ والذین اذا اصابھم البغی۔۔۔ الی۔۔۔ من سبیل، یہ ضعفاء کی شان ہے دوم عفو یعنی معاف کردینا یہ اہل ہمت کی شان ہے سوم برائی کرنے والے کے ساتھ سلوک اور احسان یہ اہل عزم اور کاملین کا مقام ہے۔
Ayahs 4:153–156

یَسْئَلُكَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَنْ تُنَزِّلَ عَلَیْهِمْ كِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ فَقَدْ سَاَلُوْا مُوْسٰۤى اَكْبَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَقَالُوْۤا اَرِنَا اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ١ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ فَعَفَوْنَا عَنْ ذٰلِكَ١ۚ وَ اٰتَیْنَا مُوْسٰى سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:153 in the Quran reader

(اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں کہ تم ان پر ایک (لکھی ہوئی) کتاب آسمان سے اتار لاؤ۔ تو یہ موسیٰ سے اس سے بھی بڑی بڑی درخواستیں کرچکے ہیں (ان سے) کہتے تھے ہمیں خدا ظاہر (آنکھوں سے) دکھا دو ۔ سو ان کے گناہ کی وجہ سے انکو بجلی نے آپکڑا۔ پھر کھلی نشانیاں آئے پیچھے بچھڑے کو (معبود) بنا بیٹھے تو اس سے بھی ہم نے درگزر کی۔ اور موسیٰ کو صریح غلبہ دیا۔

وَ رَفَعْنَا فَوْقَهُمُ الطُّوْرَ بِمِیْثَاقِهِمْ وَ قُلْنَا لَهُمُ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّ قُلْنَا لَهُمْ لَا تَعْدُوْا فِی السَّبْتِ وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا Open ayah 4:154 in the Quran reader

اور ان سے عہد لینے کو ہم نے ان پر کوہ طور اٹھا کھڑا کیا۔ اور انہیں حکم دیا کہ (شہر کے) دروازے میں (داخل ہونا تو) سجدہ کرتے ہوئے داخل ہونا۔ اور یہ بھی حکم دیا کہ ہفتے کے دن (مچھلیاں پکڑنے) میں تجاوز (یعنی حکم کے خلاف) نہ کرنا۔ غرض ہم نے ان سے مضبوط عہد لیا۔

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ وَ كُفْرِهِمْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ قَتْلِهِمُ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ وَّ قَوْلِهِمْ قُلُوْبُنَا غُلْفٌ١ؕ بَلْ طَبَعَ اللّٰهُ عَلَیْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا۪ Open ayah 4:155 in the Quran reader

(لیکن انہوں نے عہد کو توڑ ڈالا) تو ان کے عہد توڑ دینے اور خدا کی آیتوں سے کفر کرنے اور انبیاء کو ناحق مار ڈالنے اور یہ کہنے کے سبب کہ ہمارے دلوں پر پردے (پڑے ہوئے) ہیں (خدا نے ان کو مردود کردیا اور ان کے دلوں پر پردے نہیں ہیں) بلکہ ان کے کفر کے سبب خدا نے ان پر مہر کردی ہے تو یہ کم ہی ایمان لاتے ہیں۔

وَّ بِكُفْرِهِمْ وَ قَوْلِهِمْ عَلٰى مَرْیَمَ بُهْتَانًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:156 in the Quran reader

اور ان کے کفر کے سبب اور مریم پر بہتان عظیم باندھنے کے سبب۔

بیان دیگر ذمائم اہل کتاب۔ قال تعالی، یسئلک اھل الکتاب۔۔۔ الی۔۔۔۔ حکیما۔ آیت۔ ربط) گذشتہ آیت میں اہل کتاب کی عظیم شناعت یعنی تفریق فی الایمان کو بیان کیا اب یہاں سے اہل کتاب کی دوسری قباحتوں اور شناعتوں کو اور ان پر جو عقوبتیں اور مصیبتیں نازل ہوئیں ان کو قدرے تفصیل کے ساتھ بیان فرماتے ہیں اے نبی اہل کتاب یعنی یہود آپ سے یہ درخواست کرتے ہیں کہ آپ ان پر ایک کتاب آسمان سے اتار لادیں جس کو آسمان سے اترتے ہوئے ہم بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں جیسا کہ کعب بن اشرف اور فنحاص بن عازوراء وغیرہ یہود علماء نے نبی ﷺ سے کہا تھا کہ اگر آپ واقعی نبی ہیں تو ایک ہی دفعہ ایک لکھی ہوئی کتاب پوری آسمان سے ہم پر اتاد دو اور ایک روایت میں ہے یہ کہا کہ ہم آپ کے ہاتھ پر جب بیعت کریں گے کہ جب فلاں فلاں اور شخص کے نام اللہ کی طرف سے یہ تحریر آجائے کہ آپ اللہ کے رسول اور نبی آخرالزمان ہیں اور یہ قرآن کلام اللہ ہے حالانکہ یہ لوگ نبی ﷺ دلائل نبوت اور اعجاز قرآنی کا مشاہد کرچکے ہیں اور ان کی یہ درخواست تحقیق حق کے لیے نہیں بلکہ ضد اور عناد پر مبنی ہے بالفرض اگر ان کی یہ درخواست پوری کردی جائے تو کل کو اور اسی قسم کی درخواست کریں گے اس لیے اللہ فرماتے ہیں کہ اے ہمارے نبی پس آپ ان کے اس قسم کے معاندانہ اور متکبرانہ سوالات سے تعجب نہ کیجئے اس لیے کہ تحقیق ان کے اسلام موسیٰ (علیہ السلام) سے اس سے بڑھ کر درخواست کرچکے ہیں چناچہ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ کہا تھا کہ ہمیں اللہ کو کھلم کھلا دکھلادو یعنی ضد اور ہٹ دھرمی ان کی قدیمی اور موروثی عادت ہے ان کے آباء و اجداد موسیٰ (علیہ السلام) سے اس سے بڑھ کر درخواست کرچکے ہیں کیونکہ کتاب الٰہی کا دنیا میں آسمان سے نازل ہونا فی حد ذاتہ ممکن ہے مگر دنیا میں بلاکسی حجاب اور پردہ کے علانیہ اور آشکارا طور پر دیدار خداوندی ناممکن اور محال ہے پس اس گستاخی کی وجہ سے بجلی نے ان کو آپکڑا اور آنا فانا سب کو ہلاک کرڈالا لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے اللہ نے ان کو دوبارہ زندہ کیا مقصود اس آیت سے نبی ﷺ کو تسلی دینا ہے کہ آپ ان کے سوال کی پرواہ نہ کیجئے ضد اور عناد ان کی سرشت میں رکھا ہوا ہے کسی طور پر بھی حق کی طرف آنا نہیں چاہتے اگر ہم آج ان کی یہ درخواست پوری بھی کردیں تو اور کوئی حیلہ نکال کھڑا کریں گے جیسا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات میں ہمیشہ شبہ نکالتے رہے اور اس سے ان کے شبہ مذکورہ کا جواب اس طرح ہوا کہ یہ سب تمہارے حیلے بہانے ہیں اگر ایک مرتبہ کتاب کامل جانا سچ ہونے کی دلیل سمجھتے ہیں تو موسیٰ (علیہ السلام) سے جن کو ایک ہی مرتبہ توریت مل گئی تھی یہ سوال کیوں کیا تھا کہ ہم کو اللہ پاک کا دیدار کرادو تب یقین کریں گے ان کو تو کتاب ایک ہی دفعہ ملی تھی یقین کے واسطے کیوں کافی نہ ہوئی پھر اس گستاخانہ درخواست سے بڑھ کر ایک اور حرکت کرچکے ہیں وہ یہ کہ انہوں نے بچھڑے کو معبود بنایا لیا بعد اس کے کہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی توحید اور موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کے واضح اور قطعی دلائل آچکے تھے اور پھر جب انہوں نے توبہ کی تو ہم نے ان کا قصور معاف کردیا اور عبادت عجل یعنی گوسالہ پرستی کو دیدار خداوندی کی درخواست سے بڑھ کر اس لیے فرمایا کہ رویت خداوندی تو فقط دنیا ہی میں محال ہے اور آخرت میں ممکن ہے مگر غیر اللہ کا معبود ہونا تو ہر زمان اور ہر مکان میں قطعا ناممکن اور محال ہے مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں نے معجزات اور دلائل واضحات کے دیکھنے کے بعد بھی ایک احمق حیوان یعنی بچھڑے کو اپنا معبود بنالیا اور ان سے ہدایات اور یمان کی کیا توقع کی جاسکتی ہے جب کسی کو احمق اور کو دن بتلانا ہوتا ہے تو یہ کہتے ہیں کہ یہ حیوان ہے اور یہ تو بیل اور بچھڑا حماقت میں ضرب المثل ہے پس جس قوم نے ایک احمق حیوان کو اپنا معبود بنایا حماقت کا اندازہ لگا لو کہ احمق معبود کے بندے کیسے ہوں گے باقی مفصل قصہ سورة بقرہ میں گذرچکا ہے وہاں دیکھ لیاجائے اور فعفونا عن ذالک سے مقصود یہ ہے کہ اگر یہ لوگ اب بھی اپنے ناشائستہ سوال اور شرارتوں سے توبہ کرلیں تو ہم ان کا بھی قصور معاف کردیں گے اور دیا ہم نے موسیٰ کو کھلا غلبہ یعنی ہم نے موسیٰ کو ایسے معجزات عطا کیے جن کو دیکھ کر فرعون جیسا متکبر بھی ڈر گیا گویا کہ یہ آیت نبی کو بشارت ہے کہ آپ ان لوگوں کی سرکشی سے شکستہ دل نہ ہوں موسیٰ کی طرح آپ کو بھی اللہ ان سرکشوں پر غلبہ عنایت کرے گا اور آپ کے دشمن ہلاک ہوں گے اور جب یہود نے احکام تورات کے قبول کرنے انکار کردیا تو ہم نے ان کے سروں پر کور طور کو اٹھا کر معلق کھڑا کردیا ان سے پختہ عہد اور میثاق لینے کے لیے جب بنی اسرائیل نے توریت کے قبول کرنے سے انکار کردی اور کہا کہ اس کے احکام سخت ہیں ہم سے ان تمام احکام پر عمل نہیں ہوسکے گا تو اللہ نے کوہ طور کو اکھاڑ کر ان کے سروں پر معلق کھڑا کردیا اور فرمایا کہ قبول کرتے ہو تو کردو ورنہ ابھی تم پر پہاڑ گرا دیا جائے گا اور سب کچلے جاؤ گے تب مجبور ہو کر اس کو قبول کیا اور کہا کہ بہت اچھا اپ کا حکم ہم کو منظور ہے ہماری توبہ ہم کبھی خدا کے حکم کے خلاف نہیں کریں گے کماقال تعالی، واذ نتقنا الجبل فوقھم کانہ ظلۃ۔۔۔ الی۔۔۔ آتینکم۔ آیت۔ مفصل قصہ سورة اعراف میں مذکور ہے اور ہم نے ان کے غرور اور سرکشی کو توڑنے کے لیے یہ حکم دیا کہ شہر ایلیاء کے دروازہ میں خشوع اور خضوع اور نیاز مندی کے ساتھ سرجھکائے ہوئے داخل ہونا مگر ان سرکشوں نے اس حکم کو بھی نہ مانا اور بجائے سرجھکائے نے کے سرین کے بل گھسٹتے ہوئے شہر میں داخل ہوئے اللہ نے ان پر طاعون کو مسلط کیا جس میں قریب ستر ہزار کے مرگئے اور ہم نے ان کو یہ حکم بھی دیا کہ ہفتہ کے دن تعدی اور زیادتی نہ کرنا یعنی ہفت کے دن مچھلیوں کا شکار نہ کرنا کہ وہ تم پر حرام ہے اور خدا کے اس حکم سے تجاوز نہ کرنا اور ہم نے ان سے پختہ عہد لے لیا مگر ان بدعہدوں نے حیلہ اور بہانہ سے اللہ کے صریح حکم اور پختہ عہد کو توڑا جس کا مفصل قصہ سورة اعراف میں مذکور ہے، واسالھم عن القریۃ التی کانت حاضرۃ البحر۔ آیت۔ یہاں تک قدرے یہود کی شرارتوں اور سرکشیوں کو بیان کیا اب آگے یہود کامورد غضب اور محل لعنت اور مستحق ذلت ومسکنت ہونا بیان کرتے ہیں پس ہم نے ان باتوں کی وجہ سے جن کو ہم ذکر کرتے ہیں یہود پر لعنت کی اور ان کو اپنی رحمت سے دور کردیا ان کے اپنے پختہ عہد و پیمان کے توڑنے کی وجہ سے ان پر لعنت کی اور اللہ کی آیتوں کے نہ ماننے کی وجہ سے بھی اور خدا کے پیغمبروں کو دیدہ دانستہ ناحق اور بےوجہ محض عناد اور سرکشی کی بناء پر قتل کرنے کی وجہ سے اور اس قسم کے متکبرانہ اور مغرور انہ کلمات کی وجہ سے مثلا اس کہنے کی وجہ سے کہ ہمارے دل غلاف اور پردوں میں ہیں یعنی جس طرح باہر کی چیز کا اثر پردہ کے اندر نہیں پہنچونتا اسی طرح اے محمد ﷺ آپ کی باتوں کا اثر ہمارے دلوں تک نہیں پہنچتا ان کا مقصودیہ ہوتا کہ آپ جو بات بھی کہتے ہیں وہ ہمارے دل کو نہیں لگتی جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے وقالو قلوبنا فی اکنۃ مما تدعونا الیہ۔ آیت۔ یا یہ مطلب کہ ہمارے دل علم و حکمت کے غلاف ومخزن ہیں یعنی ان میں شریعت موسویہ کا علم بھرا ہوا ہے ہمیں کسی دوسری شریعت کے علم کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعای فرماتے ہیں یہ سب غلط ہے کوئی بات نہیں نہ دل ان کے پردہ میں ہیں اور نہ ان کے دل علم کا مخزن ہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ اللہ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر کردی ہے کہ باہر سے کوئی ہدایت اور نصیحت اندر نہیں پہنچتی اور دلوں کے اندر جو کفر اور گمراہی سربمہر ہوچکی ہے وہ اندر سے باہر نہیں نکلتی ان کے دل علم کا مخزن نہیں بلکہ کفر اور گمراہی کا مخزن ہیں سو وہ ایمان نہیں لاتے مگر بہت تھوڑا یعنی صرف موسیٰ اور ان کی توریت پر ایمان رکھتے ہیں جو کفر کے مساوی ہے اس لیے کہ محمد ﷺ اور حضرت عیسیٰ کو نہ ماننا تمام انبیاء کی تکذیب کے مرادف ہے اور نیز ان کے کفر پر کفر کرنے کی وجہ سے اور نیز حضرت مریم پر ایک ایسا عظیم بہتان لگانے کی وجہ سے جس کو آدمی سن کر مبہوت ہوجائے اور تعجب اور حیرت میں پڑجائے اور ان پر لعنت کی یعنی لوگوں نے حضرت مریم پر زنا کی تہمت لگائی اور جو حضڑت عیسیٰ کی اہانت اور تکذیب کو مستلزم ہے اہانت کو تو اس لیے کہ کسی کی ماں کو زانیہ اور بدکار کہنے کے یہ معنی ہیں کہ معاذ اللہ یہ شخص والدالزنا ہے جو صریح اس کی توہین ہے اور العیاذ باللہ نبی کے حق میں ایسا تصور بھی بدترین کفر ہے اور تکذیب اسی طرح لازم آئی کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے حضرت مریم کی برات اور نزاہت ظاہر ہوچکی ہے اور اب اس کے بعد کسی پر تہمت لگانا برائت اور نزاہت کا صاف انکار کرنا ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے مقتول اور مصلوب ہونے کی تردید۔ اور نیز ان کے اس قول کی وجہ سے جو بطور فخر کہتے تھے کہ تحقیق ہم نے مار ڈالا مسیح کو یعنی مریم کے بیٹے کو جو رسول اللہ کہلاتا تھا اللہ کا ان پر لعنت کی اول تو ان کا کہنا دلیل ہے عداوت کی اور نبی اء کرام کی عداوت بلاشبہ کفر ہے اور پھر اس کفر پر فخر کرنا کفر بالائے کفر ہے پس ان تمام وجوہ مذکورہ کی بناء پر ہم نے یہود پر لعنتیں اور مصیبتیں نازل کیں اور ذلت اور مسکنت کی مہر ان پر لگائی۔ ف) ۔ یہود عیسیٰ (علیہ السلام) کو رسول اللہ نہیں مانتے تھے مگر اس مقام پر ان کا رسول اللہ کہنا بطور تمسخر تھا جیسا فرعون نے کہا تھا، ان رسولکم الذین ارسل الیکم لمجنون۔ اور جیسے کفار مکہ نبی ﷺ کو بطور تمسخر اس طرح خطاب کیا کرتے تھے یا ایھا الذی نزل علیہ الذکر انک لمجنون آیت۔ اس طرح یہود نہایت فخر سے طنزا کہا کرتے تھے کہ ہم نے عیسیٰ بن مریم کو جو خدا کے رسول ہونے کا دعوی کرتے تھے قتل کرڈالا اب آئندہ آیت میں ان کے دعوائے قتل وصلب کی تکذیب فرماتے ہیں اور یہود بےیہود کا یہ دعوی اور ان کا یہ قول کہ ہم نے عیسیٰ بن مریم کو قتل کرڈالا بالکل غلط ہے اس لیے کہ یہود نے نہ تو عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کیا اور نہ ان کو سولی پر چڑھایا لیکن ان کے لیے ایک دوسرا شخص حضرت عیسیٰ کے مشابہ اور ہم شکل بنا دیا گی اور اسی ہم شکل کو انہوں نے عیسیٰ سمجھ کر سولی پر چڑھا دیا مطلب یہ کہ بظاہر جو قتل اور صلب پیش آیا ہے اس کا عیسیٰ (علیہ السلام) سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس کا تعلق ایک دوسرے شخص سے ہے جو من جانب اللہ ان کے ہم شکل بنادیا گیا اور تحقیق جن لوگوں نے حضرت عیسیٰ کے بارے میں اختلاف کیا البتہ وہ لوگ حضرت عیسیٰ کی طرف سے شک اور شبہ میں پڑے ہوئے ہیں اور ان لوگوں کو حضرت عیسیٰ کے قتل کیے جانے اور سولی پر چڑھائے جانے کا یقین نہیں اس لیے علماء یہود ونصاری کے نزدیک یہ امر مسلم ہے کہ حضرت مسیح کی گرفتاری کے وقت حواری تو سب بھاگ گئے تھے اور یہودی جو گرفتار کرنے کے لیے گئے تھے وہ حضرت مسیح کو پہچانتے نہ تھے پس مسیح کی صحیح خبر نہ ان کو اور نہ ان کو سب شک میں یقین کسی کو بھی نہیں بلکہ جس وقت انہوں نے اپنی دانست میں عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کیا اسی وقت سے شک میں ہیں۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا عروج آسمانی ورفع جسمانی۔ اور خوب سمجھ لو کہ انہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل نہیں کیا بلکہ البتہ اور یقین طور اور قطعی بات یہ ہے کہ جس وقت وہ لوگ حضرت عیسیٰ کے قتل اور صلب کا ارادہ ہی کررہے تھے تو اس وقت اللہ نے ان کو زندہ صحیح سالم بذریعہ فرشتہ اپنی طرف اٹھا لیا یعنی آسمان پر اٹھا لیا تاکہ ان کے قتل اور صلب کا امکان ہی ختم ہوجائے یہود حضرت عیسیٰ کے قتل کے درپے تھے اللہ نے قتل کے مقابلہ میں رفع کو ذکر فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ قتل وصلب واقع نہیں ہوا بلکہ قتل اور صلب کے بدلہ میں رفع الی السماء واقع ہوا یہود کا دعوائے قتل یعنی انا قتلنا کہنے سے حضرت مسیح کی موت کو ثابت کرنا تھا اللہ نے بل رفعہ اللہ سے اس کے بالقابل ان کی حیات کو ثابت کیا پس معلوم ہوا کہ بل رفعہ اللہ رفع جسمانی مراد ہے اس لیے یہود حضرت مسیح کے جسم کے قتل اور صلب کے مدعی تھے اللہ نے اس کی تردید اور ابطال کے لیے بل رفعہ اللہ الیہ فرمایا یعنی تم غلط کہتے ہو کہ تم نے ان کو قتل کردیا یا صلیب پر چڑھا دیا بلکہ اللہ نے ان کے جسم کو صحیح سالم آسمان پر اٹھا لیا گیا گذشتہ آیت میں جس چیز کے قتل اور صلب کی نفی کی گئی تھی اس آیت یعنی بل رفعہ اللہ الیہ میں اسی چیز کارفع الی السماء یعنی اوپر اٹھایا جانا بیان فرمایا مزید تفصیل انشاء اللہ لطائف ومعارف میں آئے گی۔ نکتہ اول) ۔ اللہ جل شانہ نے اس آیت میں یہود کے ملعون ہونے کے اسباب بیان کیے ہیں جن میں ایک سبب یہ ذکر فرمایا وقتلھم الانبیاء بغیر حق۔ یعنی انبیاء کو قتل کرنے کی وجہ سے ملعون اور مغضوب ہوئے اور ایک سبب یہ بیان فرمایا کہ وقولھم انا قتلنا المسیح عیسیٰ ابن مریم۔ یعنی یہود کا حضرت عیسیٰ کے بارے میں صرف یہ کہنا کہ ہم نے ان کو قتل کرڈالا ان کی لعنت کا سبب بن گیا معلوم ہوا کہ ان سے سوائے اس قول کے ناشائستہ فعل سرزد نہیں ہو اور نہ اگر ان سے کوئی اور فعل سرزد ہوتا مثلا پکڑنا یاسر پر کانٹوں کا تاج رکھنا اور منہ پر تھوکنا اور منہ پر طمانچے مارنا تو اسباب لعنت میں ان ناشائستہ امور کو ضرور ذکر کیا جاتا اور صرف اس زبانی قول کے ذکر پر اکتفا نہ کیا جاتا ایسے موقعہ میں صرف دعوائے قتل کو تو نقل کرنا اور جو جرائم وذمائم اس سے ہزاردرجہ بڑھ کر ہوں ان سے سکونت کرنا سمجھ میں نہیں آتا یہود چونکہ قتل انبیاء کے دعوے میں صادق تھے اس لیے اللہ نے اس بارے میں ان کی کوئی تردید نہیں کی اور نہ اس معاملہ میں کسی شک اور اشتباہ کا ذکر فرمایا صرف حضرت عیسیٰ کے معاملہ میں ان کے دعوائے قتل کو وقولھم اناقتلنا المسیح۔ کے عنوان سے ذکر کیا اور پھر شد ومد سے ان کے قول کی تردید کی اور ان کے لیے شک اور اشتباہ کو بیان کیا۔ نکتہ دوم) ۔ نیز اس آیت میں حضرت مسیح کے دعوائے قتل کو ذکر کرکے بل رفعہ اللہ فرمای اور گذشتہ آیت میں انبیاء سابقین کے قتل کو بیان کرکے بل رفعھم اللہ الیہ نہیں فرمایا حالا کہ قتل کے بعد انبیاء کرام کی ارواح طیبہ بلاشبہ آسمان پر اٹھائی گئیں معلوم ہوا کہ صرف حضرت عیسیٰ جسم سمیت آسمان پر اٹھائے گئے۔ نکتہ سوم۔ ابتداء میں قتل اور صلب کو علیحدہ علیحدہ ذکر فرمایا اور فردا فردا ہر ایک کی نفی کی مگر چونکہ یہود کا اصل مقصود قتل تھا اس لیے اخیر کلام میں فقط قتل کی نفی کا اعادہ فرما کر رفع الی السماء کو ثابت کیا اور اس طرح فرمایا وما قتلوہ وماصلبوہ بل رفعہ اللہ علیہ (عقید الاسلام ص 186 وص 171) ۔ اور ان کے آسمان پر اٹھائے جانے کو مستبعد نہ سمجھو اس لیے کہ ہے اللہ غالب اور حکمت والا اس کی قدرت کے اعتبار سے آسمان اور زمین سب برابر ہیں اور اس کا کوئی فعل حکمت اور مصلحت سے خالی نہیں اس نے اپنی کسی حکمت کی بناء پر کسی شخص کو حضرت عیسیٰ کے ہم شکل بنا کر ان کی جگہ قتل کرادیا اور حضرت عیسیٰ کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا اور آسمان میں ان کو دشمنوں سے محفوظ کردیا رہا یہ امر کہ کیا خدا زمین پر حفاظت نہیں کرسکتا تھا حفاظت کے لیے رفع الی السماء کا طریقہ اختیار کیوں کیا اس میں کیا حکمت ہے سو اس کا علم سوائے اللہ کے کسی کو نہیں یہ سوال تو ہر طریقہ حفاظت میں جاری ہوسکتا ہے کیا کوئی یہ بتلا سکتا ہے کہ اللہ کو محمد رسول اللہ کو مکہ سے مدینہ اور ابراہیم کو عراق سے شام لے جانے کی کیا ضرورت تھی کیا اللہ اس پر قادر نہ تھا کہ ان کو اپنے وطن عزیز ہی میں رہنے دینا اور وہیں ان کی حفاظت فرمایا اسی طرح کے ہزاروں سوال ہوسکتے ہیں جس کا جواب حافظ شیرازی نے دیا ہے۔ حدیث از مطرب ومی گو وراز دھر کمتر جو، کہ کس نہ کشوردو نہ کشا ید بحکمت ایں معمارا۔