4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 4:85–86

مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً یَّكُنْ لَّهٗ نَصِیْبٌ مِّنْهَا١ۚ وَ مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً سَیِّئَةً یَّكُنْ لَّهٗ كِفْلٌ مِّنْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقِیْتًا Open ayah 4:85 in the Quran reader

جو شخص نیک بات کی سفارش کرے تو اس کو اس (کے ثواب) میں حصہ ملے گا اور جو بری بات کی سفارش کرے تو اس کو اس کے (عذاب) میں سے حصہ ملے گا اور خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

وَ اِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْهَاۤ اَوْ رُدُّوْهَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَسِیْبًا Open ayah 4:86 in the Quran reader

اور جب تم کو کوئی دعا دے تو (جواب میں) تم اس سے بہتر (کلمے) سے (اسے) دعا دو یا انہیں لفظوں سے دعا دو ، بیشک خدا ہر چیز کا حساب لینے والا ہے

حکم بست ویکم ترغیب درشفاعت حسنہ وترہیب از شفاعت سیۂ ۔ قال تعالیٰ من یشفع۔۔ الی۔۔۔ مقیتا۔ ربط) گزشتہ آیات میں جہاد کی ترغیب تھی اب ان آیات میں سفارش کے متعلق ایک قانون بیان فرماتے ہیں کہ جو شخص عمدہ سفارش کرے مثلا شرکت جہاد کی ترغیب دے اس کو اس میں سے حصہ ملے گا یعنی اس کو بھی اسی قدر ثواب ملے گا جس قدر اس عمل کرنے والوں کو اور جو کوئی بری سفارش کرے مثلا لوگوں کو شرکت جہاد سے روکے اور ان کو جہاد میں جانے سے ڈرائے تو اس کو گناہ میں سے حصہ ملے گا۔ چناچہ فرماتے ہیں کہ جو شخص نیک کام کی سفارش کرے گا اس کو نیک کام کے ثواب سے حصہ ملے گا اور جو شخص بری سفارش کرے گا اس کو اس برے کام کے گناہ سے حصہ ملے گا مثلا کسی امیر سے سفارش کرکے کسی حاجت مند کو کچھ دلوا دے تو اس خیرات کے ثواب میں یہ بھی شریک ہوگا اور اگر کسی حاکم سے سفارش کرکے کسی چور اور بدکار کو چھڑا دیا و یہ بھی اس چوری اور بدکاری میں شریک اور حصہ دار ہوگا کیونکہ شفاعت کی حقیقت غیر کے لیے حصول خیر میں واسطہ بننے کے ہیں پس اگر وہ خیر حقیقت خیر ہے تو اس کو اجر ملے گا ورنہ گناہ ہوگا۔ گزشتہ آیت کے ساتھ اس آیت کا تعلق یہ ہے کہ منافقین ایک دوسرے کے لیے نبی ﷺ سے یہ سفارش کیا کرتے تھے کہ آپ انہیں جنگ سے پیچھے رہنے کی اجازت دیدیں اور مومنین کا طریقہ یہ تھا کہ وہ اگر کسی کے پاس سامان جنگ نہ دیکھتے تو دوسرے صاحب مقدرت مسلمانوں سے کہہ سن کر ان کو سامان جنگ دلوادیتے تاکہ جہاد میں شریک ہوسکیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور مطلب آیت کا یہ ہے کہ جو شخص اچھی یا بری سفارش کرے گا اس کی جزاوسزا اس کو بھگتنی پڑے گی اور رہے اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر، یعنی وہ اچھی سفارش پر ثواب اور بری سفارش پر عذاب دینے پر قادر ہے نہ کوئی اس کے ثواب کو روک سکتا ہے اور نہ کوئی اس کی سزا کو اور بعض علمائے نے مقیت کے معنی نگہبان کے کے کیے ہیں اس صورت میں یہ ترجمہ یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر نگہبان ہے یعنی اچھی اور بری سفارش اس کی نظروں سے پوشیدہ نہیں وہ ہر سفارش کرنے والے کے حال سے بخوبی واقف ہے۔
Ayah 4:87

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِیْثًا۠ Open ayah 4:87 in the Quran reader

خدا (وہ معبود برحق ہے کہ) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ قیامت کے دن تم سب کو ضرور جمع کرے گا اور خدا سے بڑھ کر بات کا سچا کون ہے ؟

تاکید وعید۔ قال تعالی، اللہ لاالہ الاھو۔۔۔ الی۔۔۔۔ حدیثا۔ آیت۔ ربط) گزشتہ آیت میں یعنی ان اللہ کان علی کل شیء حسیبا۔ آیت۔ میں وعید اور تہدید تھی اب اس آیت میں اس کی تاکید کے لیے اپنی توحید اور عظمت اور قیامت کا ذکر فرماتے ہیں اللہ کی یہ شان ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ضرور تم سب کو قیامت کے دن جمع کرے گا جس میں ذرہ برابر کسی قسم کا شک نہیں یعنی قیامت ضرور آئے گی اور حساب و کتاب اور جزاء اعمال کے لیے سب ایک جگہ ضرور جمع ہوں گے اور اللہ سے کون زیادہ بات میں سچا ہوسکتا ہے یعنی جب اس نے قیامت کی خبردی تو اس کو سچ جانو اور تعمیل احکام کا خاص اہتمام کرو اور یقین جانو کہ جس اس کے احکام کی تعمیل میں کوتاہی کرے گا قیامت کے دن اس کو سزا دے گا۔
Ayahs 4:88–91

فَمَا لَكُمْ فِی الْمُنٰفِقِیْنَ فِئَتَیْنِ وَ اللّٰهُ اَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوْا١ؕ اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَهْدُوْا مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِیْلًا Open ayah 4:88 in the Quran reader

تو کیا سبب ہے کہ تم منافقوں کے بارے میں دو گروہ ہو ہے ہو حالانکہ خدا نے ان کو ان کے کرتوتوں کے سبب اوندھا کردیا ہے ؟ کیا تم چاہتے ہو کہ جس شخص کو خدا نے گمراہ کردیا ہے اس کو راستے پر لے آؤ ؟ اور جس شخص کو خدا گمراہ کر دے تم اس کے لیے کبھی بھی راستہ نہ پاؤ گے

وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ كَمَا كَفَرُوْا فَتَكُوْنُوْنَ سَوَآءً فَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ اَوْلِیَآءَ حَتّٰى یُهَاجِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ١۪ وَ لَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۙ Open ayah 4:89 in the Quran reader

وہ تو یہی چاہتے ہیں کہ جس طرح وہ خود کافر ہیں (اسی طرح) تم بھی کافر ہو کر (سب) برابر ہوجاؤ تو جب تک وہ خدا کی راہ میں وطن نہ چھوڑ جائیں ان میں سے کسی کو دوست نہ بنانا اگر (ترک وطن) قبول نہ کریں تو ان کو پکڑ لو اور جہاں پاؤ قتل کردو اور ان میں سے کسی کو اپنا رفیق اور مددگار نہ بناؤ

اِلَّا الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ اِلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ اَوْ جَآءُوْكُمْ حَصِرَتْ صُدُوْرُهُمْ اَنْ یُّقَاتِلُوْكُمْ اَوْ یُقَاتِلُوْا قَوْمَهُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَسَلَّطَهُمْ عَلَیْكُمْ فَلَقٰتَلُوْكُمْ١ۚ فَاِنِ اعْتَزَلُوْكُمْ فَلَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ وَ اَلْقَوْا اِلَیْكُمُ السَّلَمَ١ۙ فَمَا جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ عَلَیْهِمْ سَبِیْلًا Open ayah 4:90 in the Quran reader

مگر جو لوگ ایسے لوگوں سے جا ملے ہوں جن میں اور تم میں (صلح کا) عہد ہو یا اس حال میں کہ ان کے دل تمہارے ساتھ یا اپنی قوم کے ساتھ لڑنے سے رک گئے ہوں تمہارے پاس آجائیں (تو احتراز ضرور نہیں) اور اگر خدا چاہتا تو ان کو تم پر غالب کردیتا تو وہ تم سے ضرور لڑتے پھر اگر وہ تم سے (جنگ کرنے سے) کنارہ کشی کریں اور لڑیں نہیں اور تمہاری طرف صلح (کا پیغام) بھیجیں تو خدا نے تمہارے لئے ان پر (زبردستی کرنے کی) کوئی سبیل مقرر نہیں کی

سَتَجِدُوْنَ اٰخَرِیْنَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّاْمَنُوْكُمْ وَ یَاْمَنُوْا قَوْمَهُمْ١ؕ كُلَّمَا رُدُّوْۤا اِلَى الْفِتْنَةِ اُرْكِسُوْا فِیْهَا١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَعْتَزِلُوْكُمْ وَ یُلْقُوْۤا اِلَیْكُمُ السَّلَمَ وَ یَكُفُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ١ؕ وَ اُولٰٓئِكُمْ جَعَلْنَا لَكُمْ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:91 in the Quran reader

تم کچھ اور لوگ ایسے بھی پاؤ گے جو یہ چاہتے ہی کہ تم سے بھی امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی امین میں رہیں لیکن جب فتنہ انگیزی کو بلائے جائیں تو اس میں اوندھے منہ گرپڑیں تو ایسے لوگ اگر تم سے (لڑنے سے) کنارہ کشی نہ کریں اور نہ تمہاری طرف (پیغام) صلح بھیجیں اور نہ اپنے ہاتھوں کو روکیں تو ان کو پکڑ لو اور جہاں پاؤ قتل کردو ان لوگوں کے مقابلے میں ہم نے تمہارے لئے سند صریح مقرر کردی ہے

حکم بست وسوم متعلق بہ معاملہ منافقین۔ قال تعالی، فمالکم فی المنافقین۔۔۔۔ الی۔۔۔ مبینا۔ آیت۔ ربط) گزشتہ آیات میں منافقین کے احوال کا ذکر تھا اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ مسلمانوں کو منافقین کے ساتھ کیا معاملہ رکھنا چاہیے حاصل حکم یہ ہے کہ منافقین کے ساتھ مسلمانوں جیسا معاملہ اس وقت تک کیا جائے گا کہ جب تک ان کا نفاق چھپا رہے اور جب ان کا کفر اور نفاق واضح اور ظاہر ہوجائے تو پھر ان کی ساتھ وہی معاملہ کیا جائے جو کفار کے ساتھ کیا جاتا ہے جب دلائل کفر کے واضح ہوجائیں تو پھر تردد کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ رکوع کی تفسیر سمجھنا چند روایات کے نقل پر موقوف ہے اس لیے ہم ان روایات کو نقل کرتے ہیں۔ پہلی روایت۔ مشرکین عرب میں سے کچھ لوگ مدینہ آئے اور یہ ظاہر کیا کہ ہم مسلمان اور مہاجر ہو کر آئے ہیں کچھ دنوں مدینہ میں مقیم رہے پھر مدینہ کی آب وہوا کے موافق نہ آنے کا عذر کرکے نبی ﷺ سے یہ اجازت مانگی کہ یارسول اللہ اگر آپ اجازت دیں تو ہم جنگل میں جا کر رہیں یہاں کی آب وہوا ہم کو موافق نہیں آپ نے ان کو اجازت دے دی یہ بہانہ کرکے جب مدینہ سے باہر نکل گئے تو منزل بمنزل کوچ کرتے اور کھسکتے رہے یہ ان تک کہ مشرکین مکہ سے جاملے اور گھر پہنچ کر نبی کو ایک جھوٹ موٹ کا خط لکھا کہ آپ ہماری طرف سے کچھ خیال نہ کریں ہم آپ ہی کے دی پر ہی اور ہم مدینہ کی آب وہوا کی ناموافقت کی وجہ سے اپنے وطن مکہ چلے آئے ہیں یہ حال سن کر مسلمان ان کے ایمان اور کفر میں اختلاف کرنے لگے بعض نے کہا یہ منافق ہیں ہم ان کو قتل کریں گے اگر وہ ہماری طرح مسلمان ہوتے تو مصائب پر صبر کرتے اور ہجرت کو ترک کرکے واپس نہ ہوتے اور بعض نے کہا ایسا نہیں وہ مسلمان ہیں ہم کو ان سے بدگمانی نہ کرنی چاہیے جب تک ہم پر ان کا پورا حال نہ کھل جائے اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی اور ان کا کفر اور نفاق ظاہر کردیا اور ارشاد فرمایا کہ اے مسلمانو ان منافقوں کے بارے میں دو گروہ کیوں ہوگئے یہ لوگ تو ایسے پکے کافر ہیں کہ تم کو بھی کافر اور گمراہ بنانے کی فکر میں ہیں (تفسیر قرطبی ص 306 ج 5، تفسیر کبیرص 289 ج 3، وروح المعانی ص 97 ج 5) ۔ دوسری روایت۔ نبی ﷺ نے مکہ مکرمہ تشریف لے جانے سے قبل ہلال بن عویمر اسلمی سے یہ عہد کیا تھا کہ وہ نہ آپ کو مدددے گا اور نہ آپ کے مقابلہ میں کسی کو مدد دے گا اور جو شخص ہلال کے پاس چلا جائے اور اس کی پناہ پکڑے تو اس کو ہماری طرف سے ایسی ہی پناہ ہوگی جیسے خود ہلال کو خواہ وہ شخص اس کی اپنی قوم کا ہو یا نہ ہو یا کسی غیر قوم کا اس پر یہ آیتیں، ولاتتخذوا منھم ولیا ولانصیرا الاالذین یصلون الی قوم بینکم وبینھم میثاق۔۔۔ الی۔۔۔ علیھم سبیلا۔ آیت۔ نازل ہوئیں۔ (تفسیر قرطبی ص 309 ج 5، و تفسیر کبیرص 291 ج 3) ۔ تیسری روایت۔ عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ آیت، ستجدون آخرین، الخ۔ اسد اور غطفان کے بارے میں نازل ہوئی یہ لوگ جب مدینہ آتے تو اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے تاکہ ان کو مسلمانوں سے کسی قسم کا مضرت نہ پہنچے اور جب اپنی قوم میں جاتے تو کفر کا اظہار کرتے اور ان جیسی کہتے تاکہ ان سے بھی امن رہے اور جب ان کی قوم کا کوئی آدمی پوچھتا کہ تم کس چیز پر ایمان لائے ہو تو کہتے ہم بندر اور بچھوپر ایمان لائے، ستجدوں آخرین میں اس فرقہ کا حکم بیان کیا گیا ہے۔ (تفسیر قرطبی ص 311 ج 5) ۔ خلاصہ کلام یہ کہ اس رکوع کی آیتیں ان تین گروہوں کے بارے میں نازل ہوئیں جن کا ذکر ان روایات میں گذرا اب ان آیات کی تفسیر دیکھیے۔ پہلے فرقہ کابیان۔ پس اے مسلمانوجب تم نے ان منافقین کے کفر اور ارتداد اور ان کی باطنی خباثت کو ظاہر طور پر دیکھ لیا تو تمہیں کیا ہوا کہ ان منافقین کے بارے میں تم دو گروہ ہوگئے ایک فریق ان کو مسلمان بتاتا ہے اور دوسرا کافر حالانکہ ان سے ایسی باتیں ظہور میں آچکی ہیں جو ان کے کفر اور نفاق کی صریح دلیل ہیں لہذا تم کو ان کے کفر میں شک نہ کرنا چاہیے۔ (ف) ان لوگوں کو گزشتہ حالت کے اعتبار سے منافقین کہا گیا ہے ورنہ جب کفر واضح ہو اور ظاہر ہو تو اب کافر کہلائیں گے اور ان کے ساتھ منافقین کا سامعاملہ نہیں کیا جائے گا بلکہ کھلے کافروں کے احکان ان پر جاری ہوں گے (روح المعانی ص 97 ج 5) ۔ غرض یہ کہ جب ان منافقین کا پردہ چاک ہوچکا ہے و تم ان کے بارے میں کیوں اختلاف کرتے ہو حالانکہ اللہ نے ان کو ان کے اعمال قبیحہ کی بدولت علانیہ کفر کی طرف لوٹا دیا ہے اسلام کی راہ راست چھوڑ کر الٹے کفر میں جا پڑے اور کافروں سے جاملے کیا تم یہ چاہتے ہو کہ جس کو خدا نے گمراہ کیا تم اس کو راہ راست پرلے آؤ اور جس کو خدا گمراہ کرے تو اے مخاطب تو اس کو ہدایت پر لانے کی کوئی سبیل نہ پائے گا یہ بدنصیب کہاں راہ راست پر آسکتے ہیں ان کا حال تو یہ ہے کہ یہ ازلی گمراہ تو یہ چاہتے ہیں کہ تم بھی انہی جیسے کافر ہوجاؤ اور پھر تم اور وہ گمراہی میں سب برابر اور یکساں ہوجاؤ بھلا ایسے لوگوں کے کفر میں خیوں شک اور اختلاف کرتے ہو اب آگے ان منافقین کے بارے میں حکم دیتے ہیں پس جب ان منافقین کی یہ حالت ہے تو تم ان منافقین میں سے کسی کو دوست نہ بناؤ یعنی ان کے ساتھ مسلمانوں جیسے دوستانہ تعلقات نہ رکھو تاوقتیکہ یہ لوگ خدا کی راہ میں ہجرت نہ کریں یعنی تاوقتیکہ خدا کی راہ میں گھر بار اور خویش و اقارب کو چھوڑ کر مومن مخلص نہ بن جائیں اس وقت تک ان کو اپنا دوست نہ بناؤ ابتداء اسلام میں تکمیل ایمان کے لیے ہجرت بھی فرض تھی بغیر ہجرت کے ایمان معتبر نہ تھا پس اگر وہ اسلام اور ہجرت سے منہ موڑیں اور اپنے کفر پر قائم رہیں تو تم ان کو پکڑ و یعنی قید کرو اور اسیر بناؤ اور ان کو قتل کرو جہاں کہیں بھی پاؤ ان کا قتل حل اور حرم دونوں جگہ مباح ہے اور ان میں سے کسی کو نہ اپنا دوست بناؤ اور نہ مددگار کیونکہ سب تمہارے دشمن ہیں یہ تمہارے دوست اور مددگار کیوں بننے لگے مطلب یہ ہے کہ ان سے کوئی تعلق نہ رکھو اور نہ ان سے کوئی مدد مانگو۔ دوسرے فرقہ کابیان۔ مگر ان میں کے جو کافر ان لوگوں سے جا ملیں جن کے ساتھ تمہارا کوئی معاہد ہے یہ استثناء قید اور قتل کے حکم سے ہے اور مطلب یہ ہے کہ ان منافقین کو جہاں پاؤ گرفتار کرو اور قتل کرو لیکن جو منافق ان لوگوں کی پناہ میں چلے جائیں جن کے ساتھ تمہارا صلح کا عہد ہے تو ان کو قتل نہ کرنا کیونکہ جب تمہارے ہم عہدوں کی پناہ میں آگئے تو حکما ان کے ساتھ بھی تمہارا عہد ہوگا حلیف کا حلیف بھی ایک درجہ میں حلیف ہوتا ہے ان کو قتل کرنا اور ایک قسم کی عہد شکنی ہوگی یا وہ منافق تمہارے پاس ایسی حالت میں آئیں کہ ان کے سینے تمہارے ساتھ لڑنے سے اور اپنی قوم کے ساتھ بھی لڑنے سے تنگ ہوں یعنی جو کافر اور منافق ایسے ہوں کہ نہ تو اپنی قوم کے ساتھ ہو کر تم سے لڑیں اور نہ تمہارے ساتھ ہو کر اپنی قوم سے لڑیں بلکہ حقیقۃ غیرجانبدار رہیں تو ان لوگوں کو بھی تم قتل نہ کرنا کیونکہ جب ان سے تمہیں نقصان کا اندیشہ نہیں تو پھر ان کے قتل کی ضرورت نہیں خلاصہ کلام یہ کہ جو تم سے بالواسطہ یا بلاواسطہ صلح کا خواستگار ہو تو وہ حکم اخذ اور قتل سے مستثنی ہے کیونکہ باوجود قوت اور قدرت کے ان کا یکسو اور غیر جانبدرار رہنا انکے امن پسندی کی دلیل ہے اور اگر اللہ چاہتا تو انہیں تم پر ضرور مسلط کردیتا پھر وہ ضرور ہی تم سے لڑتے یعنی یہ اللہ کا احسان ہے کہ باوجود قوت اور قدرت کے ان کا دل تمہارے ساتھ لڑنے سے تنگ کردیا اور تمہاری ہیبت ان کے دل میں ڈال دی ورنہ وہ تم سے ضرور لڑتے پس خدا کی اس نعمت کا شکر کرو کہ اس نے تم کو اس پریشانی سے بچالیا اور لہذا تم ان سے تعرض نہ کرو پس اگر وہ تم سے کنارہ کش رہیں اور تمہارے ساتھ نہ لڑیں اور تمہاری طرف صلح کا پیغام ڈالیں تو اللہ نے تمہارے لیے ان پر دست درازی کی کوئی راہ نہیں رکھی یعنی اس صورت میں ان سے لڑنے کی خدا نے اجازت نہیں دی۔ تیسرے فرقہ کابیان۔ عنقریب تم ان کے علاوہ کچھ ایسے چالاک اور عیار لوگوں کو پاؤگے جو یہ چاہتے ہیں کہ تم سے ابھی امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی امن میں رہیں یہ قبیلہ اسد اور غطفان کا حال بیان فرمایا کہ جب مدینہ آتے ہیں تو اسلام ظاہر کرتے ہیں اور جب اپنی قوم کے پاس جاتے ہیں تو ان کی سی کہتے ہیں تاکہ ہر طرف سے امن میں رہیں مگر ان منافقوں کا حال یہ ہے کہ جب کبھی بھی فساد اور فتنہ کی طرف بلائے جاتے ہیں تو اس میں اوندھے ہو کر گرتے ہیں یعنی جب کبھی ان کو اسلام کے مقابلہ اور مسلمانوں سے لڑنے کے لیے بلایا جاتا ہے تو افتاں وخیزاں یعنی نہایت خوشی کے ساتھ تم سے لڑنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں غرض یہ کہ بڑے مفسد اور چالاک ہیں پس اگر یہ لوگ تم سے یکسو اور کنارہ کش نہ ہوں اور اپنی شرارت سے باز نہ آئیں اور تمہاری طرف سے صلح کا پیغام نہ ڈالیں اور تمہاری لڑائی سے اپنے ہاتھوں کو نہ روکیں تو تم ان کو پکرو اور جہاں کہیں بھی ان کو پاؤ قتل کرو اور یہی لوگ ہیں کہ ہم نے تم کو ان کے قتل کرنے کی صریح حجت اور واضح سند دی ہے یعنی ان کی عہد شکنی نے تمہارے لیے ان کے قتل کو جائز کردیا ہے جب ان کی عداوت اور خباثت اور عہد شکنی اور غداری اور مکاری واضح ہوگئی تو اللہ نے تم کو ان کے پکڑنے اور قتل کرنے کی اجازت دے دی ایسے لوگوں سے درگذر مت کرو تمہارے ہاتھ تو صریح حجت آگئی کہ انہوں نے اپنا عہد خود توڑ ڈالا۔
Ayah 4:92

وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ اَنْ یَّقْتُلَ مُؤْمِنًا اِلَّا خَطَئًا١ۚ وَ مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَئًا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَّ دِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّصَّدَّقُوْا١ؕ فَاِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ١ؕ وَ اِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ فَدِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖ وَ تَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ١٘ تَوْبَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:92 in the Quran reader

اور کسی مومن کو شایان نہیں کہ مومن کو مار ڈالے مگر بھول کر اور جو بھول کر بھی مومن کو مار ڈالے تو (ایک تو) ایک مسلمان غلام آزاد کریں اور (دوسرے) مقتول کے وارثوں کو خون بہادے ہاں اگر وہ معاف کریں (تو ان کو اختیار ہے) اگر مقتول تمہارے دشمنوں کی جماعت میں سے ہو اور وہ خود مومن ہو تو صرف ایک مسلمان غلام آزاد کرنا چاہے اور اگر مقتول ایسے لوگوں میں سے ہو جن میں اور تم میں صلح کا عہد ہو تو وارثان مقتول کو خون بہا دینا اور ایک مسلمان غلام آزاد کرنا چاہے اور جس کو یہ میسر نہ ہو وہ متواتر دو مہینے متواتر روزے رکھے یہ (کفارہ) خدا کی طرف سے (قبول) توبہ (کے لیے) ہے اور خدا (سب کچھ) جانتا (اور) بڑی حکمت والا ہے

حکم بست وچہارم بہ قتل خطا۔ قال تعالی، ومان کان لمومن ان یقتل۔۔۔ الی۔۔۔ حکیما۔ ربط) گزشتہ آیات میں کافروں اور منافقوں کے قتل کی اجازت دی تھی اب ان آیات میں مومنین کے قتل کی ممانعت فرماتے ہیں اور چونکہ بعض اوقات لڑائی میں ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو غلطی اور خطاء سے کافر سمجھ کر مار ڈالتا ہے اس لیے ان آیات میں کچھ احکام قتل خطاء کے متعلق بیان فرماتے ہیں اور اسی ذیل میں دارالکفر سے دارالاسلام کی طرف ہجرت کی ضرورت اور سفر اور خوف کی نماز کی کیفیت کو بھی بیان فرماتے ہیں۔ شان نزول۔ اس آیت کے شان نزول میں مفسرین نے تین روایتیں نقل کی ہیں جو حسب ذیل ہیں۔ پہلی روایت۔ یہ آیت عیاش بن ربیعہ مخزومی کے بارے میں نازل ہوئی جو ابوجہل کا اخیافی بھائی تھا جس کا سبب یہ ہوا کہ ہجرت سے پیشتر جب نبی مکہ میں تھے عیاش آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر مشرف باسلام ہوا۔ مگر گھروالوں کے ڈر سے اپنے اسلام کو ظاہر نہیں کیا اور جب آپ ﷺ ہجرت فرما کر مکہ سے مدینہ آگئے تو عیاش بن ابی ربیعہ بھی مدینہ آگیا اور اپنے بھائیوں کے ڈر کے مارے کسی قلع ہمیں چھپ کر رہنے لگا عیاش کی ماں کو جب اس کی خبر ملی تو اس کو سخت قلق ہوا اور عیاش کے غم میں کھانا پینا چھوڑ دیا اور اپنے دونوں بیٹوں حارث اور ابوجہل کو جو عیاش کے اخیافی بھائی تھے عیاش کو واپس لانے کے لیے روانہ کیا اور ماں نے یہ قسم کھائی کہ جب تک تم عیاش کو میرے پاس واپس نہ لاؤ گے میں چھت کے نیچے نہیں بیٹھوں گی اور نہ دانہ پانی کا مزہ چکھوں گی ماں کا یہ کلام سن کر دونوں بھائی عیاش کی تلاش میں روانہ ہوئے اور حارث بن زید بن امنیہ کنانی بھی انکے ساتھ ہو لیے بالاآخر پتہ لگا کر یہ تینوں مدینے پہنچے اور عیاش سے جا کر ملے عیاش قلعہ میں روپوش تھا ان تینوں نے باہر سے کہا کہ تو قلعہ سے نیچے اتر آ جب سے تو اپنی ماں سے جدا ہوا ہے اس وقت سے تیری ماں چھت کے نیچے بیٹھی ہے اور نہ اس نے دانہ پانی کا مزہ چکھا اور اس نے یہ قسم کھائی ہے کہ جب تک تو اس کے پاس لوٹ کر نہیں جائے گا اس وقت تک دانہ پانی اس پر حرام ہے اور ہم خدا کو درمیاں میں ڈال کر تجھ سے عہد کرتے ہیں کہ تجھ کو کسی ایسی بات پر مجبور نہیں کریں گے جو تیرے دین کے خلاف ہو عیاش نے جب ماں کی بےقراری اور بےچینی کا حال سنا تو دل بھر آیا اور قلعہ سے اتر کر ان کے پاس آگیا اور ان کے ساتھ ہولیا مدینہ سے باہرنکلنے کے بعد انہوں نے عیاش کو ایک تسمہ میں باندھ دیا اور تینوں میں سے ہر ایک نے عیاش کو سو کوڑے لگائے اور اس طرح اس کو اس کی ماں کے پاس لے گئے ماں نے دیک کر یہ کہا کہ میں تجھے اس وقت تک نہ کھولوں گی جب تک اس کا انکار نہ کرے جس پر تو ایمان لایا ہے اور ہاتھ پاؤں باندھ کر دھوپ میں چھوڑ دیا اور عرصہ تک اس کو تکلیف دیتے رہے بالاخر عیاش نے مجبور ہو کر بادل نخواستہ جبر وقہرا جو انہوں نے کہلایا کہہ دیا۔ اس پر حارث بن زید نے جو نبی کریم کے شدید ترین دشمنوں میں سے تھا اس کو چھیڑا اور کہا اے عیاش جس دین پر تو تھا اگر وہ راہ ہدایت تھا تو نے ہدایت کو کیوں چھوڑا اور اگر وہ گمراہی تھا تو اتنے دنوں گمراہی پر رہا اس پر عیاش کو سخت طیش آیا اور یہ قسم کھائی کہ اگر بخدا تو مجھے کہیں تنہائی میں مل گیا تو میں تجھے ضرور قتل کروں گا بعد چندے عیاش نے دوبارہ اسلام قبول کیا اور ہجرت کرکے مدینہ چلا گیا اور اس کے بعد اللہ نے حارث بن زید کو بھی اسلام کی توفیق بخشی اور وہ بھی مسلمان ہو کر مدینہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں ہجرت کرکے حاضر ہوا اتفاق سے اس دین عیاش مدینہ میں موجود نہ تھا اس کو حارث کے مسلمان ہونے کی خبر نہ ہوئی ایک دن عیاش قبا کو جارہا تھا اتفاقا اس کو حارث مل گیا عیاش نے اس کو قتل کردیا اور اپنی قسم کو پورا کیا جب لوگوں کو اس کا علم ہوا تو عیاش کو ملامت کی کہ تو نے یہ کیا کیا حارث تو مسلمان تھا عیاش نے یہ سنتے ہی حضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یارسول اللہ آپ کو میر اور حارث کا قصہ معلوم ہے لیکن جب میں نے اس کو قتل کیا تو مجھے اس کے مسلمان ہونے کی خبر نہ تھی اور اپنی اس غلطی اور لاعلمی پر ندامت ظاہر کی اس پر یہ آیت نازل ہوئی (تفسیر در منثور ص 192 ج 2) وہکذا تفسیر القرطبی مختصر ص 313 ج 5، و تفسیر ابن کثیر ص 534 ج 1) ۔ دوسری روایت۔ یہ ہے کہ یہ آیت حدیفہ بن یمان کے والد کے بارے میں نازل ہوئی جو جنگ احد میں مسلمانوں کی غلطی سے مارے گئے مسلمانوں نے غلطی سے انکو کافر سمجھ کر ان پر تلواریں چلائیں حذیفہ نے دور سے دیکھ کر یہ کہا بھی کہ یہ میرے باپ ہیں مگر ہنگامہ میں کوئی نہ سمجھا یہاں تک کہ وہ قتل ہوگئے جب وہ قتل ہوگئے تب معلوم ہوا کہ یمان مسلمان تھے حذیفہ نے ان کو تسلی دی اور کہا کہ اللہ تمہاری غلطی اور خطا معاف کرے مسلمانوں کو جب اپنی اس غلطی کا علم ہوا تو بہت سخت ملول ہوئے اور اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ تیسری روایت۔ یہ ہے کہ یہ آیت حضرت ابوالدرداء کے بارے میں نازل ہوئی جس کا سبب یہ ہوا کہ ابوالدرداء کسی لشکر میں تھے اتفاقا اپنے لشکر سے جدا ہو کر کسی ضرورت سے پہاڑ کی ایک گھاٹی میں گئے وہاں ایک شخص کو دیکھا جو اپنی بکریاں چرارہا تھا ابوالدرداء نے اس پر تلوار چلائی اس نے کہا لاالہ الا اللہ ابوالدرداء نے یہ سمجھا کہ محض اپنی جان بچانے کے لیے یہ کہہ رہا ہے اس لیے اس کو قتل کردیا نبی صلی اللہ سے آکر اس کو ذکر کیا تو آپ نے فرمایا کہ تو نے اس کا دل چیز کر کیوں نہ دیکھا تب ابوالدرداء کو اور بھی ندامت ہوئی اس پر یہ آیت نازل ہوئی (تفسیر درمنثور ص 193 ج 2، تفسیر ابن کثیر ص 534 ج 1) ۔ غرض یہ کہ آیت کا جو بھی شان نزول ہو سب کا ماحصل یہ ہے کہ کسی مومن کو کسی مومن کا قتل کرنا ہرگز ہرگز درست نہیں مگر بھول چوک سے اگر کوئی مسلمان کسی مسلمان کو کافر سمجھ کر یا کسی اور غلطی کی بناء پر قتل کرڈالے تو وہ معذور ہے لیکن دیت اور کفارہ واجب ہے چناچہ فرماتے ہیں اور کسی مسلمان کی یہ شان نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو قتل کرے مگر غلطی اور بھول چوک سے اگر ایسا ہوجائے و اور بات ہے اب آگے قتل خطا کے کچھ احکام بیان کرتے ہیں۔ حکم اول۔ اور جو شخص کسی مسلمان کو بلاقصد غلطی سے قتل کردے تو اس غلطی کا کفارہ یہ ہے کہ ایک تو اس پر ایک مسلمان بردہ یعنی مسلمان غلام یا لونڈی کا آزاد کرنا واجب ہے اور دوسرے اس قتل کرنے والے پر دیت (خون بہا) بھی واجب ہے جو مقتول کے گھر والوں کے حوالہ اور سپرد کی جائے یعنی مقتول کے وارثوں کو بقدر حصص میراث دیت ان کے حوالہ کی جائے اور اگر کوئی وارث نہ ہو تو بیت المال قائم مقام وارثوں کے ہے مگر یہ کہ اولیاء مقتول دیت اور خون بہا کو معاف کردیں تو معاف ہے پھر اس کا مطالبہ نہیں خواہ وہ کل دیت معاف کردیں یا بعض اتنی ہی معاف ہوجائے گی۔ حکم دوم۔ پھر اگر وہ مقتول خطاء اس گروہ سے ہو جو تمہارے دشمن ہیں یعنی دارالحرب کا باشندہ ہو اور وہ مقتول شخص خود بذاتہ مومن ہے جو خود مسلمان تھا مگر دارالحرب میں رہتا تھا اور کسی وجہ سے ہجرت کرکے دارالاسلام میں نہیں آیا تھا کسی مسلمان نے اس کو اپنا دشمن سمجھ کر مار ڈالا تو قاتل پر صرف کفارہ واجب ہے یعنی صرف ایک مسلمان بردہ کا آزاد کرنا اس پر واجب ہے دیت واجب نہیں اس لیے کہ حربی کا کوئی حق نہیں جو اس کی دیت واجب ہو البتہ یحق اسلام اس کے قتل کا کفارہ دینا ہوگا۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ قیاس کا مقتضی بھی یہی ہے کہ صورت مذکورہ میں فقط کفارہ واجب ہو اور دیت واجب نہ ہو اس لیے کہ اگر دارالحرب میں رہنے والے مسلمان کے قتل میں دیت واجب کی جاتی تو جو لوگ دارالحرب میں غزوہ کرنے جاتے تو اس بات پر مجبور ہوتے کہ غزوہ کرنے سے پہلے امر کی تحقیق کریں کہ کون مسلمان ہے اور کون کافر اور مشرک ہے اور یہ امر نہایت دشوار ہے مجاہدین کو سخت تنگی اور ضیق میں ڈالنے والا ہے لہذا اللہ نے دارالحرب میں رہنے والے مسلمان کے قتل میں دیت واجب نہیں کی تاکہ لوگ احتیاط کے خیال سے جہاد اور غزوہ سے پرہیز نہ کرنے لگیں البتہ بحق اسلام اس پر کفارہ واجب کردیا یہ کفارہ اللہ تعالیٰ کا حق ہے کہ تم نے اس کے ایک مسلمان بندہ کو مار ڈالا۔ (تفسیر کبیرص 298 ج 3) ۔ حکم سوم۔ اور اگر وہ مسلمان مقتول جو غلطی سے مارا گیا اس گروہ سے ہو جن کے اور تمہارے درمیان کسی قسم کا کوئی عہد اور پیمان ہو تو قاتل پر ایک تو دیت خون بہا واجب ہوگا جو اس مقتول کے وارثوں کو پہنچائی جائے اگر اس مسلمان مقتول کے مسلمان وارث موجود ہوں تو دیت ان کو پہنچادی جائے اور اگر اس مقتول کے اقارب مسلمان نہ ہوں تو پھر یہ دیت ان کو نہ دی جائے اگرچہ وہ معاہدہ ہی کیوں نہ ہو اور علاوہ دیت کے ایک مسلمان بردہ کا آزاد کرنا بھی واجب ہے مطلب یہ ہے کہ اس صورت میں دیت اور کفارہ دنوں واجب ہیں پس جس شخص کو آزاد کرنے کے لیے بردہ غلام یا لونڈی میسر نہ آئے تو اس پر بجائے اس آزاد کرنے کے متواتر لگاتار دو مہینہ کے روزے واجب ہیں جمہور کے نزدیک روزے صرف بردہ کا بدل میں دیت مفلس اور مالدار ہر ایک پر واجب ہے لیکن مسروق کے نزدیک کفارہ اور دیت دونوں کا بدل ہیں یہ حکم اللہ کی طرف سے خطا کرنے والے کی توبہ کے لیے مشروع اور مقرر ہوا ہے اور اللہ جاننے والا ہے اور حکمت والا ہے کہ وہ خطاء اور غلطی کی مقدار اور کمیت اور اسکی حقیقت اور کیفیت کو خوب جانتا ہے اور اس نے جو دیت اور کفارہ کا حکم دیا ہے اس میں بڑی حکمت ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کا دو قول ہیں ایک قول تو یہ ہے کہ وان کان من قوم بینکم وبینھم میثاق۔ آیت۔ میں ضمیرکان مقتول مومن کی طرف راجع ہے اور مطلب یہ ہے کہ اگر وہ مقتول خطاء مومن ہو مگر اس قوم سے ہو کر تمہارے اور ان کے درمیان عہد ہو تم پر اس کی دیت اور کفارہ دونوں واجب ہیں۔ حسن بصری اور جابر بن زید اور ابراہیم نخعی وغیرہم کا یہی قول ہے اور دلیل اس کی یہ ہے کہ ابتدا سے سلسلہ کلام قتل مومن کے بارے میں آرہا ہے لہذا ضمیر مومن ہی کی طرف راجع ہوگی نیز ایک قرات میں اسی طرح آیا ہے وان کان من قوم بینکم وبینھم میثاق وھو مومن۔ امام قرطبی فرماتے ہیں کہ حسن بصری کی قرات میں اسی طرح آیا ہے اور ابوحیان فرماتے ہیں کہ حسن بصری کی قرات میں اس طرح آنا وان کان من قوم بینکم وبینھم میثاق وھو مومن۔ اور اس کو مالک نے اختیار کیا ہے (البحر المحیط ص 325 ج 3) ۔ اور امام فخر الدین رازی اور شیخ الاسلام ابوالسعود اور علامہ آلوسی وغیرہم نے اسی قول کو اختیار کیا ہے اور اس ناچیز نے بھی اسی قول کو اختیار کیا ہے اور مطلب یہ ہوا کہ آیت میں قتل مومن خطا کی تین صورتیں مذکور ہوئیں اول یہ کہ جس مسلمان کو غلطی سے مارا گیا اس کے وارث مسلمان ہیں تو اس صورت میں دیت اور کفارہ دونوں واجب ہوں گی دوم یہ کہ اس مسلمان مقتول کے وارث ایسے کافر ہیں جن سے تمہارا کوئی عہد اور پیمان ہے تو اس صورت میں بھی دیت اور کفارہ دونوں واجب ہوں گے سوم یہ کہ اس مسلمان مقتول کے وارث ایسے کافر ہیں جن سے تمہاری دشمنی ہے تو اس صورت میں صرف کفارہ واجب ہوگا اور دیت دینا لازم نہ ہوگا۔ دوسرا قول۔ یہ ہے کہ وان کان من قوم بینکم وبینھم میثاق کی ضمیر ایسے مقتول کافر کی طرف راجع ہے کہ جو ذمی یا معاہد ہو یہ قول ابن عباس اور شعبی اور نخعی اور امام شافعی کا ہے اور اس کو امام ابن جریر طبری نے اختیار کیا ہے کیونکہ گزشتہ آیت کی طرح اس آیت میں وھو مومن کی قید مذکور نہیں۔ امام ابوبکر جصاص رازی نے احکام القرآن میں اسی قول کو اختیار کیا ہے اور یہ لکھا ہے کہ فقہاء کا مذہب بھی یہی ہے کہ کافر ذمی اور معاہد کی دیت مسلمان کی دیت کے برابر ہے اور صدیق اکبر اور فاروق اعظم اور عثمان غنی کا بھی یہی عمل رہا کہ کافر ذمی کی دیت مسلمان کی دیت کے برابر دینے کا حکم دیتے تھے (احکام القرآن للجصاص ص 339 ج 2) ۔ حضرت تھانوی (رح) تعالیٰ نے بیان القرآن میں اسی قول کو اختیار کیا ہے۔
Ayah 4:93

وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِیْهَا وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ لَعَنَهٗ وَ اَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِیْمًا Open ayah 4:93 in the Quran reader

اور جو شخص مسلمان کو قصدا مار ڈالے گا تو اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ (جلتا) رہے گا اور خدا اس پر غضبناک ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور ایسے شخص کے لیے اس نے بڑا (سخت) عذاب تیار کر رکھا ہے

تتمہ حکم سابق۔ تہدید شدید ووعید اکید برقتل عمد مومن را۔ قال تعالیٰ ومن یقتل مومنا متعمدا۔۔۔ الی۔۔۔ عظیما۔ آیت۔ ربط) گزشتہ آیات میں قتل خطا کے احکام مذکور ہوئے اب اس آیت میں کسی مومن کو عمدا قتل کرنے کی وعید مذکور ہے چناچہ فرماتے ہیں اور جو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرڈالے تو دنیاوی حکم تو اس کا قصاص ہے جیسا کہ سورة بقرہ میں گذرا اور حکم اخروی اس کا یہ ہے اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس پر اللہ کا غضب نازل ہوگا اور اللہ اس پر لعنت کرے گا یعنی اس کو اپنی خاص رحمت سے دور کردے گا اور اس نے اس کے لیے بڑا عذاب تیار کیا ہے جو دوسرے کبائر کے عذاب سے بہت بڑھ کر ہے اور اس آیت میں جو حکم مذکور ہے وہ اس شخص کے لیے ہے جو شخص جان بوجھ کر بلاوجہ کسی مومن کو مار ڈالے اور پھر بغیر توبہ کے مرجائے تو وہ طویل مدت تک دوزخ میں رہے گا اس لیے کہ توبہ سے تو ہر گناہ معاف ہوجاتا ہے حتی کہ کفر اور شرک بھی معاف ہوجاتا ہے کل قرآن کا طرز بیان ایسا ہی ہوا ہے کہ جہاں کہی بھی کسی گناہ کی سزابیان کی گئی ہے اس کے ساتھ عدم توبہ شرط ہے خواہ وہ شرط لفظوں میں مذکور ہو یا نہ ہو اللہ کا ارشاد ہے ان اللہ لایغفر ان یشرک بہ تحقیق اللہ شرک کو نہیں بخشتا ظاہر ہے کہ شرک اس حالت میں نہیں بخشا جائے گا جب کہ مشرک بغیر توبہ کے مرجائے اس لیے کہ توبہ سے شرک کا بخشا جانا قطعی اور یقینی ہے ہر جگہ اس شرط کے ذکر کرنے کی اس لیے ضرورت نہیں خہ توبہ سے ہر گناہ بخشا جانا اسلام کے اصول مسلمہ میں ہے اور اللہ نے قرآن کریم میں جابجا اس کی تصریح فرمادی کہ توبہ سے ہر گناہ معاف ہوجاتا ہے کماقال تعالی، وانی لغفار لمن تاب وامن وعمل صالحا۔ یعنی میں بلاشبہ اس کو معاف کرنے والا ہوں جس نے توبہ کرلی اور ایمان لے آیا اور آئندہ کو نیک کام کیے یہ حکم تو عمومی ہے جس میں کفر اور شرک اور تمام اعمال قبیحہ سب اس میں داخل ہیں اور سورة فرقان میں تو اسی قتل کے بارے میں فرماتے ہیں، ومن یفعل ذالک یلق۔۔۔۔ الی۔۔۔ رحیما۔ آیت۔ نیز اس آیت میں خلو د سے طویل مدت تک دوزخ میں رہنا مراد ہے کافروں کی طرح غیر محدود اور ابدی طور پر رہنا مراد نہیں اس لیے کہ احادیث متواترہ سے یہ امر ثابت ہے کہ جس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا وہ دوزخ میں ہمیشہ نہ رہے گا اور اسی پر تمام سلف اور خلف کا اجماع اور سب اس کے قائل ہیں کہ آیت میں خلود سے زیادہ مدت تک رہنا مراد ہے قائل کے خلود اور کافر کے خلود میں فرق ہے کافر کا خلود ابدی ہے اس وجہ سے قرآن کریم میں کافروں کے خلود کے ساتھ ابدا کا لفظ آیا ہے اور قاتل کا خلود غیر ابدی ہے۔ اور ابن عباس سے مروی ہے کہ سورة فرقان میں قتل نفس پر توبہ کا ذکر ہے وہ اس شخص کے حق میں ۃ ے جس نے حالت شرک میں کسی کو قتل کیا اور بعد میں توبہ کی تو اس کی توبہ قبول ہے اور یہ آیت یعنی، ومن یقتل مومنا۔۔۔ الی۔۔۔ عذابا عظیما۔ آیت۔ اس شخص کے حق میں ہے جو مومن ہو پھر وہ دوسرے مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی توبہ قبول نہیں اور ابن عباس سے یہ بھی منقول ہے کہ یہ آیت اپنے ظاہر پر محمول ہے اور اس میں کوئی تاویل بھی نہیں اور نہ یہ آیت منسوخ ہے بلکہ آیات مغفرت کے لیے ناسخ ہے۔ محققین کی رائے یہ ہے کہ ابن عباس کا یہ قول تغلیظ اور تشدید پر محمول ہے تاکہ لوگ اس وعید کو سن کر قتل مومن پر جرات نہ کریں ورنہ آیت ان اللہ لایغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذالک لمن یشاء۔ آیت۔ اور احادیث اس بارے میں صریح ہیں کہ کفر اور شرک سے کم درجہ سے جو گناہ ہیں وہ اللہ کی مشیت میں ہیں چاہے اللہ ان کو معاف کرے اور چاہے ان کو عذاب دے گزشتہ امتوں میں سے ایک شخص کا سو آدمیوں کا قتل کرنا اور پھر اس سے توبہ کرنا اور پھر اس کی توبہ کا مقبول ہونا بخاری اور مسلم میں مذکور ہے۔
Ayahs 4:94–96

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَتَبَیَّنُوْا وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰۤى اِلَیْكُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا١ۚ تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١٘ فَعِنْدَ اللّٰهِ مَغَانِمُ كَثِیْرَةٌ١ؕ كَذٰلِكَ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَتَبَیَّنُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 4:94 in the Quran reader

مومنو ! جب تم خدا کی راہ میں باہر نکلا کرو تو تحقیق سے کام لیا کرو اور جو شخص تم سے سلام علیک کرے اس سے یہ نہ کہو کہ تم مومن نہیں ہو اور اس سے تمہاری غرض یہ ہو کہ دنیا کی زندگی کا فائدہ حاصل کرو سو خدا کے پاس بہت سی غنیمتیں ہیں تم بھی تو پہلے ایسے ہی تھے پھر خدا نے تم پر احسان کیا تو (آئندہ) تحقیق کرلیا کرو اور جو عمل تم کرتے ہو خدا کو سب کی خبر ہے

لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَ الْمُجٰهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ دَرَجَةً١ؕ وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى١ؕ وَ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:95 in the Quran reader

جو مسلمان (گھروں میں) بیٹھ رہتے اور لڑنے سے جی چراتے ہیں اور کوئی عذر نہیں رکھتے اور وہ جو خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے لڑتے ہیں وہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے مال اور جان سے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر اللہ نے درجے میں فضیلت بخشی ہے اور (گو) نیک وعدہ سب سے ہے لیکن اجر عظیم کے لحاظ سے خدا نے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر کہیں فضیلت بخشی ہے

دَرَجٰتٍ مِّنْهُ وَ مَغْفِرَةً وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:96 in the Quran reader

(یعنی) خدا کی طرف سے درجات میں اور بخشش میں اور رحمت میں اور خدا بڑا بخشنے والا (اور) مہربان ہے

حکم بست وپنجم وجوب احتیاط در قتل مسلم۔ قال تعالی، یا ایھا الذین آمنو اذا ضربتم۔۔۔۔ الی۔۔۔ رحیما۔ آیت۔ ربط) یہ بھی حکم سابق کا تتمہ ہے کہ مسلمان کا قتل قطعا حرام ہے مجاہدین کو چاہیے کہ جہاد میں غایت درجہ احتیاط کریں اثناء سفر میں اگر کوئی شخص تم کو ملے اور تم کو مسلمانوں کے طریقہ سے سلام کرے یا زبان سے شہادت کا کلمہ پڑھے تو تم یہ گمان کرکے کہ اس کا یہ فعل محض جان بچانے کے لیے ہے اس کے قتل پر جرات نہ کرو جیسا کہ بعض غزوات میں بعض لوگوں سے یہ غلطی ہوئی کہ کسی چرواہے نے ان کو السلام علیکم کہا وہ سمجھے کہ یہ شخص محض جان بچانے کے لیے سلام کررہا ہے اس لیے اس کو قتل کردیا اور اس کی بکریاں لے کر نبی کی خدمت میں حاضر ہوگئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور انہیں سخت تنبیہ کی گئی کہ آئندہ ہرگز ہرگز نہ کرنا علامت اسلام کا اظہار کافی ہے چناچہ فرماتے ہیں اے ایمان والو ایمان کا مقتضی ہی ہے کہ جہاں ایمان کی جھلک نظر آوے تو اپنے ہاتھوں کو روک لو جب تم اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے سفر کرو تو خوب تحقیق کرلیا کرو اور جو تم کو سلام علیک کرے تو اس کو یہ نہ کہو تو دل سے مسلمان نہیں محض جان بچانے کے لیے تو سلام کررہا ہے تم دنیاوی زندگانی کا سامان چاہتے ہو حالانکہ تمہیں اس حقیر سامان کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ اللہ کے یہاں تمہارے لیے بہت سی غنیمتیں ہیں جن کے سامنے ان چند بکریوں کی کوئی حقیقت نہیں۔ پہلے تم بھی ایسے ہی تھے یعنی مکہ میں تمہاری یہی حالت تھی کہ تم اپنا ایمان چھپاتے تھے اور شروع اسلام میں سوائے لاالہ الا اللہ کے کچھ نہیں جانتے تھے جیسے یہ چرواہا چھپاتا تھا اور تمہارے سامنے ظاہر کیا تم پر اللہ نے احسان کیا کہ تمہارے اسلام کو قوی کیا اور کافروں پر تم کو غلبہ عطاء کیا اور تم علانیہ طور پر اسلام ظاہر کرنے لگے پس جس طرح اللہ نے ابتداء میں تمہارے ظاہری اسلام کو قبول کیا اور باطن کی تحقیق وتفتیش پر موقوف نہیں رکھا پس اسی طرح تم بھی احتیاط سے کام لو اور تحقیق کرلیا کرو جو شعار اسلام کو ظاہر کرے اس کو قتل نہ کرو تحقیق اللہ تمہارے کاموں سے پورا خبردار ہے تمہاری بےاحتیاطی اور جلدبازی اس سے پوشیدہ نہیں۔ فضائل مجاہدین۔ اب آئندہ آیات میں مجاہدین کے فضائل بیان کرتے ہیں کہ مبادا احتیاط میں غلو کی وجہ سے ایسانہ کرنا کہ جہاد میں جاناہی چھوڑ بیٹھو اور یہ خیال کرنے لگو کہ لاؤ گھر بیٹھے ہی عبادت کرلیا کریں گے سو ارشاد فرماتے ہیں کہ معذور لوگوں کے سوائے جو مسلمان جہاد سے گھر میں بیٹھے رہیں وہ رتبہ میں مسلمانوں کے برابر نہیں ہوسکتے جو خدا کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرتے ہیں غیر اولی الضرر سے وہ لوگ مراد ہیں جو کسی عذر کی وجہ سے جہاد کے شرکت سے معذور رہیں جیسے عبداللہ بن ام مکتوم بوجہ نابینا ہونے کے جہاد میں شریک نہیں ہوسکتے تھے اور جیسے حضرت عثمان غنی جنگ بدر کی شرکت سے معذور رہے نبی ﷺ کی صاحبزادی جو ان کے نکاح میں تھیں وہ شدید بیمار تھیں ان کی تیماداری کے لیے نبی اکرم ﷺ نے ان کو ٹھہرنے کا حکم دیا تھا اس وجہ سے غنائم بدر میں سے حضرت عثمان کو حصہ دیا گیا اور حضرت عثمان بدرین میں شمار کیے گئے۔ اور مطلب آیت کا یہ ہے کہ بغیر عذر جہاد میں شریک نہ ہونے والے مسلمان مرتبہ اور ثواب میں ان مسلمانوں کے برابر نہیں جو جہاد میں شریک ہوتے ہیں لیکن جو مسلمان کسی معذوری یا مجبوری کی بنا پر جہاد میں شریک نہیں ہوتے مثلا وہ اندھے یا لنگڑے یا بیمار ہیں یا کسی بیمار کے تیماردار ہیں مگر دل شوق جہاد سے لبریز ہے تو ایسے معذور بن حسن نیت کی بناء پر مجاہدین کے برابر ہوسکتے ہیں یعنی ان کو وہی ثواب ملے گا جو مجاہدین کو ملتا ہے بشرطیکہ جہاد میں نہ شریک ہونا صرف اسی معذوری اور لاچاری کی بناء پر ہو اللہ نے ان لوگوں کو جو اپنے مال اور جان سے جہاد کرتے ہیں ایسے بیٹھنے والوں پر جن کی نیت تو جہاد کی تھی مگر معذوری کی وجہ سے جہاد میں شرکت نہ کرسکے ایک درجہ فضیلت دی ہے اور وعدہ بھلائی کا اللہ نے ہر ایک سے کیا ہے یعنی وعدہ نیکی کا مجاہدین اور قاعدین دونوں سے ہے کیونکہ جہاد کی نیت سب کی تھی مگر مجاہدین کو قاعدین پر ایک درجہ فضیلت ہے اور قاعدین غیر معذورین پر مجاہدین کو کئی درجہ فضیلت حاصل ہے اور جمہور علماء نے پہلی آیت میں درجہ سے جنس کا مرتبہ مراد لیا ہے اور دوسری آیت کو اس کی تفصیل قرار دیا ہے (روح المعانی ص 110 ج 5 تفسیر مظہری ص 204 ج 2) ۔
Ayahs 4:97–99

اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَالُوْا فِیْمَ كُنْتُمْ١ؕ قَالُوْا كُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ قَالُوْۤا اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوْا فِیْهَا١ؕ فَاُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًاۙ Open ayah 4:97 in the Quran reader

جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں جب فرشتے ان کی جان قبض کرنے لگتے ہیں تو ان سے پوچھتے ہیں کہ تم کس حال میں تھے وہ کہتے ہیں کہ ہم ملک میں عاجز و ناتواں تھے فرشتے کہتے ہیں کیا خدا کا ملک فراخ نہیں تھا کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے ؟ ایسے لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے

اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَةً وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ سَبِیْلًاۙ Open ayah 4:98 in the Quran reader

ہاں جو مرد اور عورتیں اور بچے بےبس ہیں کہ نہ کوئی چارہ کرسکتے ہیں اور نہ راستہ جانتے ہیں

فَاُولٰٓئِكَ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّعْفُوَ عَنْهُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَفُوًّا غَفُوْرًا Open ayah 4:99 in the Quran reader

قریب ہے کہ خدا ایسوں کو معاف کر دے اور خدا معاف کرنے والا (اور) بخشنے والا ہے

حکم بست وششم وجوب ہجرت۔ قال تعالیٰ ان الذین تو فھم الملائکۃ۔۔۔ الی۔۔۔۔ غفورا۔ آیت۔ ربط) گزشتہ آیات میں جہاد کی ترغیب اور بےعذر جہاد ترک کرنے والوں کا بیان تھا اب اس آیت میں ہجرت کی ترغیب دیتے ہیں اس لیے یہ ہجرت جہاد کا مقدمہ ہے اور بےعذر ہجرت ترک کرنے والوں کا حال بیان فرماتے ہیں کہ مرنے کے بعد ان پر کیا گزری ہے اس لیے کہ ایمان کے بعد پہلے ہجرت کا حکم ہوا اور پھر ہجرت کے بعد جہاد کا حکم ہوا پس گویا کہ جو لوگ باوجود قدرت کے ہجرت نہیں کرتے گویا کہ وہ لوگ عمدا تارک جہاد ہیں اس لیے ان آیات میں ہجرت کا بیان ہے کہ ہجرت سعادت دارین کا سبب ہے اور ترک ہجرت محرومی کا سبب ہے اس لیے کافروں میں رہ کر نہ تو احکام اسلام کو کھل کر بجالاسکتا ہے اور نہ دین کی تبلیغ کرسکتا ہے اور نہ اسلام اور نہ مسلمانوں کی کوئی مدد کرسکتا ہے اس لیے ابتداء اسلام میں ہجرت فرض تھی فتح مکہ کے بعد ہجرت کی فرضیت منسوخ ہوگئی۔ شان نزول۔ کچھ لوگ ایسے تھے جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے تھے مگر مکہ میں مشرکوں کے ساتھ رہے اور مشرکین کے ڈر کے مارے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت بھی نہیں کی اور بدر کی لڑائی میں مشرکین مکہ کی فوج میں شامل ہو کر مسلمانوں سے لڑنے آئے اور مارے گئے ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی (تفسیر قرطبی 345 ج 5۔ ) ۔ تحقیق جن لوگوں کی فرشتوں نے اس حال میں جانیں نکالیں کہ وہ لوگ دارالحرب میں پڑے پڑے اپنے دین کو برباد کرکے اپنی جانوں پر ظلم کررہے تھے یعنی اسلام لانے کے بعد باوجود قدرت کے ہجرت نہ کی اور اپنی خیالی کمزوری اور وہمی مجبوری کی بناء پر کافروں ہی میں پڑے رہے اور ان کا ساتھ دیتے رہے اور مشرکوں کی فوج میں شامل ہوکر مسلمانوں سے لڑنے کے لیے جاتے رہے حتی کہ اسی حالت میں وہ مرگئے تو اس وقت موت کے فرشتوں نے ان سے بطور توبیخ اور سرزنش یہ پوچھا کہ تم کس حال میں تھے یعنی مسلمانوں کے ساتھ تھے یا کافروں کے ساتھ ان ظالموں نے یہ جواب دیا کہ دل سے تو ہم مسلمان تھے مگر سرزمین مکہ میں ہم نہایت کمزور اور بےبس تھے اس لیے ہم احکام اسلام کو علانیہ طور پر بجا نہیں لائیں اور ظاہر میں کافروں میں رہتے تھے اور ان کا ساتھ دیتے تھے فرشتوں نے کہا کہ کیا للہ کی زمین کشادہ اور فراخ نہیں تھی کہ تم ہجرت کرکے اس میں چلے جاتے اس طرح تم کفار کے نرغہ سے نکل جاتے اور وہاں جا کر اطمینان سے اللہ کی عبادت کرتے حاصل یہ کہ تمہارا یہ عذر کہ ہم بےبس تھے غلط ہے تم بےبس نہ تھے ہجرت پر تو قادر تھے اس سے وہ لاجواب ہوجائیں گے اور جرم ان کا ثابت ہوجائے گا اور سو ایسے لوگوں کاٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے مگر جو مرد اور عورتیں اور بچے ایسے بےچارہ اور بےبس ہیں کہ وہ کسی حیلہ سے بھی ہجرت پر دسترس نہیں رکھتے مثلا کفار کی قید میں ہیں یا نابینا اور معذور ہیں یا ان کے پاس سفر خرچ نہیں اور نہ وہ راستہ سے واقف ہیں سو ایسے لوگوں کے متعلق امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے قصور کو معاف کردیں گے اور اللہ بڑا معاف کرنے والا اور بخشنے والا مہربان ہے خدا کے دشمنوں میں پڑا رہنا کوئی معمولی جرم نہ تھا مگر بےبسی اور معذوری کی بناء پر اللہ سے معافی کی توقع ہے شریعت اس کی اجازت نہیں دیتی کہ مسلمان کافروں کی سرزمین میں ذلیل و خوار ہو کر پڑا رہے اور احکام اسلام کو آزادی کے ساتھ بجا نہ لاسکے اور آزادی کے ساتھ دین کا علم حاصل نہ کرسکے کافر حکومت جو جبری تعلیم نافذ کردے اس کے حاصل کرنے پر مجبور ہو ایسی حالت میں ہجرت فرض ہے۔
Ayah 4:100

وَ مَنْ یُّهَاجِرْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یَجِدْ فِی الْاَرْضِ مُرٰغَمًا كَثِیْرًا وَّسَعَةً١ؕ وَ مَنْ یَّخْرُجْ مِنْۢ بَیْتِهٖ مُهَاجِرًا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ یُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَ قَعَ اَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:100 in the Quran reader

اور جو شخص خدا کی راہ میں گھر بار چھوڑ جائے اوہ زمین میں بہت سی جگہ اور کشائش پائے گا اور جو شخص خدا اور رسول کی طرف ہجرت کر کے گھر سے نکل جائے پھر اس کو موت آپکڑے تو اس کا ثواب خدا کے ذمے ہوچکا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

ترغیب ہجرت۔ قال تعالی، ومن یھاجر فی سبیل اللہ۔۔۔۔ الی۔۔۔ رحیما۔ آیت۔ ربط) گزشتہ آیت میں ترک ہجرت پر وعید تھی اب اس آیت میں ہجرت کی ترغیب ہے اور اس پر سعادت دارین کا وعدہ ہے چناچہ فرماتے ہیں اور جو شخص اللہ کی راہ میں دارالکفر اور دارالحرب سے ہجرت کرجائے تو وہ وطن کے مقابلہ میں اللہ کی زمین میں علی رغم الاعداء بہت جگہ اور وسعت رزق پائے گا اور جو شخص اپنے گھر سے اللہ اور اس کے رسول کی طرف نکلے اور پھر مقام ہجرت تک پہنچنے سے پہلے ہی راستہ میں اس کو موت آجائے تو تحقیق اس کا ثواب اللہ کے ذمہ ثابت ہوگیا یعنی گو اس کی ہجرت پوری نہیں ہوئی لیکن چونکہ اس کی نیت ہجرت کرنے کی تھی اس لیے ہجرت کا ثواب اس کو پورا ملے گا اور یہی حال ہے تمام اعمال کا جس عمل کو انسان خدا کے لیے شروع کرے اور اختتام سے پہلے مرجائے تو اس کو پورے عمل کا ثواب ملے گا اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا مہربان ہے یعنی اس ہجرت سے پہلے جو کافروں اور مشرکوں میں ٹھہرا رہا اللہ اس کی گزشتہ خطا کو معاف کردے گا کیونکہ وہ غفور رحیم ہے۔ اللہ جل شانہ نے ان آیات میں مسلمانوں کو ہجرت کی رغبت دلائی ہے کہ وطن مالوف چھوڑنے سے یہ خیال نہ کریں کہ پردیس میں تکلیف ہوگی نہیں بلکہ انہیں وطن سے زیادہ آرام ملے گا کشادہ جگہ اور فراخ روزی ملے گی اور نہ یہ خیال کریں کہ شاید منزل مقصود پر پہنچنے سے پہلے ہی راستہ میں انتقال ہوجائے اس لیے کہ ہجرت کا ثواب پوراہی ملے گا سعید بن جبیر سے مروی ہے کہ جب اوپر یعنی ان الذین تو فھم۔۔۔ الخ۔ نازل ہوئیں نبی ﷺ نے مکہ کے مسلمانوں کے پاس بھیج دیں جنہوں نے ہجرت نہیں کی تھی تو جندب بن ضمرہ جو ایک بوڑھا اور بیمار شخص تھا اس نے جب یہ آیتیں سنیں تو کہا کہ میں ان لوگوں میں سے نہیں جن کو اللہ نے ہجرت کے حکم سے مستثنی کیا ہے کیونکہ میں ہجرت پر حیلہ پاتا ہوں اور میرے پاس اس قدر مال موجود ہے جس کے سہارے میں مدینہ پہنچ سکوں اور قسم کھائی کہ میں بخدا اب رات مکہ میں نہیں گزاروں گا ان کے بیٹے ان کو ایک تخت پر لٹکا کر چلے جب مقام تنعیم میں پہنچے تو موت نے آپکڑا نزع کے وقت انہوں نے اپنا بایاں ہاتھ اپنے داہنے ہاتھ پر رکھ کر کہا کہ اے پروردگار یہ ہاتھ تیرے لیے ہے اور یہ ہاتھ تیرے رسول کے لیے تجھ سے ان باتوں پر بیعت کرتا ہوں جن باتوں پر تیرے رسول بیعت لیتے ہیں اور انتقال کرگیا جب اس کی خبر صحابہ کو پہنچی تو کہنے لگے کہ اگر مدینہ پہنچ کر موت آتی تو کیا اچھا ہوتا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔