Ayahs 3:1–5اثبات توحید وبیان محکم درابطال الوہیت عیسیٰ بن مریم ومناظرہ نبی کریم ﷺ بانصارائے نجران۔
قال اللہ تعالی، الم اللہ لاالہ الاھوالحی۔۔۔ الی۔۔۔ الحکیم۔
محمد بن اسحاق وغیرہ سے منقول ہے کہ سورة آل عمران کے شروع کی تراسی آیتیں نصارائے نجران کے بارے میں نازل ہوئیں نجران علاقہ یمن میں ایک شہر کا نام ہے جو اس زمانہ میں عیسائیوں کا علمی مرکز تھا نبی کی نبوت و رسالت کی خبر جب اطراف اور اکناف میں پہنچی تو یہ خبر سن کر نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد، مناظرہ اور مباحثہ کے لیے نبی کی خدمت میں حاضر ہوا مدینہ منورہ میں اس وفد میں ساتھ سوار تھے جن میں سے چودہ آدمی خاص طور پر بڑے شریف اور معزز تھے اور ان چودہ آدمیوں میں تین شخص ایسے تھے جو ان کا مرجع الامر تھے یعنی سب کاموری اور ملجا تھے تمام کام انہیں دین کے مشورہ سے ہوتے تھے این ان کا امیر اور سردار تھا جس کا نام عبدالمسیح تھا جو بڑا زیرک اور ہوشیار اور ذی الرائے تھا اور دوسرا اس کا وزیر ومشیر جس کا نام ایہم تھا اور تیسرا ان میں کا سب سے بڑاعالم اور پادری تھا جس کو وہ حبر اور سقف کہتے تھے اس کا نام ابوحارثہ بن علقمہ تھا شاہان روم اس پادری کے اس کے علم وفضل کی وجہ سے بڑی توقیر وتعظیم کرتے تھے اور عیسائی بادشاہوں اور امیروں کی طرف سے اسکو بڑی جاگیریں ملی ہوئی تھیں یہ لوگ حضرت مسیح کی الوہیت اور ابنیت کے قائل تھے ان کو خدا اور خدا کا بیٹا کہتے تھے اور جب مدینہ منورہ میں حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی سے حضرت عیسیٰ کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی گفتگو کرنیوالے یہی تین آدمی تھے۔ عبدالمسیح، ایہم، ابوحارثہ۔ ان لوگوں نے حضرت عیسیٰ کی الوہیت کے استدلال میں یہ کہا کہ، 1۔ عیسیٰ (علیہ السلام) مردوں کو زندہ کرتے تھے۔ 2۔ عیسیٰ (علیہ السلام) بیماروں کو اچھا کرتے تھے۔ 3۔ عیسیٰ (علیہ السلام) غیب کی باتیں بتاتے تھے۔ 4۔ عیسیٰ (علیہ السلام) مٹی کی مورتیں بناتے اور پھر ان میں پھونک مارتے اور زندہ ہو کر وہ پرند بن جاتے۔ اور ان تمام چیزوں کا قرآن کریم نے اقرار کیا ہے لہذا ثابت ہوا کہ وہ خدا تھے اور حضرت عیسیٰ کے ابن اللہ ہونے پر اس طرح استدلال کیا کہ۔ وہ بلا باپ کے پیدا ہوئے معلوم ہوا کہ وہ خدا کے بیٹے تھے، نیز حضرت عیسیٰ نے گہوارہ میں کلام کیا ان سے پیشتر کسی نے گہوارہ میں کلام نہیں کیا یہ بھی خدا کے بیٹا ہونے کی دلیل ہے۔ اور مسئلہ تثلیث یعنی حضرت عیسیٰ کے ثالث ثلاثہ ہونے پر یہ استدلال کیا کہ اللہ تعالیٰ جابجا یہ فرماتے ہیں کہ فعلنا وامرنا وخلقنا وقضینا ہم نے یہ کام کیا کہ ہم نے یہ حکم دیا ہم نے یہ پیدا کیا ہم نے یہ مقدر کیا یہ تمام صیغے جمع کے ہیں اور جمع کا اول درجہتی ہے پس اگر اللہ تعالیٰ ایک ہوتا تو صیغہ جمع کا استعمال نہ ہوتا بلکہ بجائے صیغہ جمع کے مفرد کا صیغہ استعمال ہوتا اور یوں کہا جاتا فعلت وامرت وخلقت وقضیت میں نے کیا میں نے حکم دیا میں نے پیدا کیا میں نے مقدر کیا یہ اس مایہ ناز وفد کے استدلالات تھے جس کو اپنے علم پر فخر اور ناز تھا جن کی حقیقت اہل عقل اور اہل فہم کی نظر میں اوہام اور خیالات سے زیادہ نہیں اب آپ نبی ﷺ کے جوابات اور ارشادات کو سنیے۔
(1) ۔ آنحضرت ﷺ نے وفد سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ کیا تم کو معلوم نہیں کہ بیٹا باپ کے مشابہ ہوتا ہے وفد نے کہا کہ کیوں نہیں ؟ اور یہ سب کے نزدیک مسلم ہے اللہ تعالیٰ بےمثل اور بےچون وچگون ہے کوئی شے اس کے مشابہ نہیں۔ (2) بعدازاں آپ نے وفد سے کہا کہ کیا تم کو معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے کبھی بھی اس کو موت نہیں آسکتی اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو ضرورت موت اور فناآنے والی ہے یعنی قیامت سے پہلے وفد نے اقرار کیا کہ بیشک یہ صحیح ہے ایک نہ ایک وقت ان پر موت اور فنا ضرور آئے گی اور ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ پر موت اور فنا کا طاری ہونا ناممکن اور محال ہے۔
تنبیہ۔
نصاری کے نزدیک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) مصلوب ومقتول ہو کر مرچکے ہیں لیکن حضور پرنور ﷺ نے ان کے الزامات کے لیے یہ نہیں کہا کہ تمہارے عیقدہ کے مطابق عیسیٰ (علیہ السلام) کو موت آچکی ہے اس لیے کہ یہ امر خلاف واقعہ ہے عیسیٰ (علیہ السلام) نہ مقتول ہوئے اور نہ مصلوب ہوئے بلکہ زندہ آسمان پر اٹھائے گئے اور قیامت کے قریب آسمان سے نازل ہوں گے اور چند روز کے بعد وفات پائیں گے جیسا کہ آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ سے واضح ہے اس لیے نبی کریم ﷺ کی زبان مبارک سے وہ کلمہ نکلا جو واقع کے موافق تھا خلاف واقع چیز کا نبی برحق کی زبان سے نکلنا مناسب نہیں اگرچہ اس چیز کا ذکر محض بطور الزام ہو اور عجب نہیں کہ نصاری نے اس کا اقرار اس لیے کیا ہو کہ وہ اتنی بات کو غنیمت سمجھے اور یہ خیال کیا ہو کہ ہمارے عقیدہ کے مطابق ہم پر الزام اور حجت اور بھی پوری ہوجائے گی نیز نصاری میں مختلف فرقے ہیں ایک فرقہ کا عقیدہ یہی ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) زندہ آسمان پر اٹھائے گئے اور قیامت کے قریب آسمان سے نازل ہونے کے بعد وفات پائیں گے پس ممکن ہے کہ اس وفد کے لوگ اسی عقیدہ کے ہوں جو اسلام کے مطابق ہے۔ (3) پھر آپ نے فرمایا کیا تم کو معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کے وجود کو تھامنے والے اور اس کے محافظ اور نگہبان اور رزق رساں ہیں انہوں نے کہا بیشک آپ نے فرمایا کہ بتلاؤ کیا عیسیٰ (علیہ السلام) بھی ان میں سے کسی چیز کے مالک اور قادر ہیں یعنی کیا عیسیٰ (علیہ السلام) نے بھی مخلوقات کو وجود عطا کیا ہے اور اپنی قدرت سے ان کے لیے سامان بقاپیدا کیا ہے انہوں نے کہا عیسیٰ (علیہ السلام) تو ان چیزوں پر قادر نہیں پھر آپ نے فرمایا کہ کیا تم کو معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ پر زمین اور آسمان کی کوئی چیزمخفی نہیں انہوں نے کہا بیشک آپ نے فرمایا کہ کیا عیسیٰ (علیہ السلام) کو ان میں سے بجز اس چیز کے جس کا اللہ نے ان کو علم دیا تھا کوئی اور شے بھی جانتے تھے انہوں نے کہا نہیں۔ (5) پھر آپ نے فرمایا کہ پروردگار عالم نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی مریم کے رحم میں اپنی مرضی کے موافق صورت بنائی (6) کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نہ کھاتا ہے اور نہ پیتا ہے اور نہ پاخانہ اور پیشاب کرتا ہے انہوں نے کہا بےشک۔ (7) پھر آپ نے فرمایا کہ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ اسی طرح حاملہ ہوئیں جس طرح ایک عورت اپنے بچہ کو پیٹ میں رکھتی ہے اور پھر اس کو جنتی ہے اسی طرح عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور بچوں کی طرح ان کو غذا دی گئی اور پھر بڑے ہوئے اور وہ کھاتے تھے اور پیتے تھے اور پیشاب اور پاخانہ بھی کرتے تھے انہوں نے کہا بیشک ایسے ہی تھے۔ (8) ۔ آپ نے فرمایا کہ جب تم کو ان سب باتوں کا اقرار ہے تو بتاؤ کہ ایسا ہو کہ عیسیٰ خدا کیسے ہوئے جیساتمہارا گمان ہے پس آپ کے اس ارشاد سے ان لوگوں نے حق کو خوب پہچان لیا مگر جان بوجھ کر انکار کیا اس پر اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں، الم اللہ لاالہ الاھوالحی القیوم۔ الخ۔
الم۔ اس کے معنی اللہ ہی کو معلوم ہیں اللہ وہ ذات ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں الوہیت اور خدائی اسی کے لیے مخصوص ہے اس لیے کہ وہ بذاتہ زندہ ہے اور اس کی حیات ازلی اور ابدی ہے موت اور فنا کا اس کی ذات اور صفات میں کہیں امکان نہیں، اور وہی تمام کائنات کے وجود اور حیات کو تھامنے والا اور قائم رکھنے والا ہے۔
پناہ بلندی و پستی توئی، ہمہ نیستند آنچہ ہستی توئی،
قرار ہمہ ہست برنیستی، توئی آنکہ یک برقرار ایستی۔
اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی حیات نہ ذاتی ہے اور نہ ازلی اور ابدی اللہ تعالیٰ کے زندہ کرنے سے وہ زندہ ہوئے ان کی حیات اور ان کی زندگی بلاشبہ حادث اور فانی ہے اور جس کا وجود اور جس کی حیات حادث اور فانی ہو وہ خدا نہیں ہوسکتا اور علی ہذا عیسیٰ (علیہ السلام) نے نہ تو مخلوقات کو کوئی وجود اور حیات عطا کی اور نہ ان کے لیے کوئی سامان حیات پیدا کیا اور نہ وہ کائنات کے وجود کے تھامنے اور قائم رکھنے پر قادر ہیں لہذا خدا کیسے ہوسکتے ہیں۔ نیز اللہ تعالیٰ احکم الحاکمین ہیں جس نے بندوں کی ہدایت کے لیے آپ پر ایک کتاب اتاری جو حق اور سچائی کو اپنے ساتھ لیے ہوئے ہے جو اس کی صفت کلام کا آئینہ ہے اور اس کے احکام اور قوانین کا ایک مجموعہ ہے جس کی شان یہ ہے کہ وہ گزشتہ آسمانی کتابوں کی تصدیق و توثیق کرنے والی ہے اور اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اس قرآن سے پہلے توریت اور انجیل کو لوگوں کی ہدایت کے لیے اتارا اور اللہ کی طرف سے پیغمبروں پر کتابوں کا اترنا یہ اس امر کی واضح دلیل ہے کہ اللہ رب العالمین احکم الحاکمین ہے اور انبیاء مرسلین خدا نہیں بلکہ خدا کے برگزیدہ بندے ہیں جو احکام خداوندی کے پہنچانے کے لیے مبعوث ہوئے ہیں اگر خدا ہوتے تو ان پر اللہ کی وحی اور اس کی کتاب نازل نہ ہوتی وحی کا نزول بندہ پر ہوتا ہے خدا پر وحی نازل نہیں ہوتی۔ نیز کتب الٰہیہ اور صحف سماویہ سب کی سب توحید پر متفق ہیں کماقال تعالی، وماارسلناک من قبلک من رسول الانوحی۔۔۔ الی۔۔ انا فاعبدون۔ لہذا تثلیث اور ابنیت کا عقیدہ تمام کتب الٰہیہ کے خلاف ہے۔ اور اتارے اللہ نے معجزات تاکہ حق اور باطل کا خوب فرق ظاہر ہوجائے اور دشمنان حق اس کے مقابلہ سے عاجز ہو کر اللہ تعالیٰ کی قدرت اور انبیاء کرام کی نبوت و رسالت کا یقین کریں معجزات اور خوارق عادات ایک طرف خدواند یکتا کی وحدانیت اور قدرت کی دلیل ہیں اور ایک طرف انبیاء کرام کی نبوت و رسالت کی برھان ہیں۔ لہذا تحقیقی جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کا انکار کیا اور خوارق عادات کو دیکھ کر خدا تعالیٰ کی وحدانیت اور انبیاء کرام کی نبوت کے قائل نہ ہوئے یعنی ان کو خدا کا برگزیدہ اور پسندیدہ بندہ اور فرستادہ خداوندی نہ مانا ان کے لیے نہایت سخت عذاب ہے۔ اور اللہ تعالیٰ عزت والا اور زبردست اور صاحب انتقام ہے جو شخص اس کے مقابلہ کے لیے سراٹھاتا ہے اس کو خوب سمجھ لینا چاہیے کہ وہ اس عزیز مقتدر کے پنجہ قدرت سے نکل نہیں سکتا اور نہ اس عزیز منتقم کے انتقام سے بچ کر بھاگ سکتا ہے اس جملہ میں بھی حضرت عیسیٰ کے ابطال الوہیت کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے وہ یہ کہ نصاری کے نزدیک حضرت مسیح صلیب پر لٹکائے گئے اور ایلی ایلی کہتے جان دے دی اور اپنے آپ کو دشمنوں کے پنجہ ظلم سے نہ چھڑاسکے اور نہ ان سے کوئی انتقام لے سکے پس ایک عاجز اور مظلوم اور مغلوب کو جس پر اس کے دشمن غالب آگئے ہوں خدا کہنا یاخداوندقادر مطلق کا بیٹاکہنا کیا کھلی ہوئی نادانی نہیں عقلاء اور عالم کے نزدیک خدائی اور ذلت کا جمع ہونا ناممکن اور محال ہے خدا کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ عزیز مقتدر ہو البتہ نصار کے نزدیک خدا کا دشمنوں کے ہاتھ سے ذلیل ہونا ممکن ہے تحقیق اللہ تعالیٰ پر زمین اور آسمان کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں گزشتہ آیت میں اللہ کی اقتدار کامل اور اختیار کامل کو بیان فرمایا اب اس آیت میں اس کے علم کامل کو بیان فرماتے ہیں یعنی جس طرح اس کی قدرت ازلیہ تمام ممکنات کو محیط ہے اسی طرح اس کا علم بھی محیط ہے کوئی چھوٹی اور بڑی چیز اس کے علم سے غائب اور پوشیدہ نہیں اور ظاہر ہے کہ عیسیٰ علیہ لسلام کو ایسا علم محیط حاصل نہ تھا صرف اسی قدر جانتے تھے جتنا اللہ تعالیٰ نے ان کو بتلا دیا تھا اور نصاری نجران نے خود اس کا اقرار کیا اور موجودہ اناجیل سے بھی یہی ثابت ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) عالم الغیب نہ تھے بہت سی چیزیں ان پر مخفی رہتی تھی اللہ کی وحی اور روح القدس کے رہنمائی سے معلوم ہوتی تھیں۔ وہی خدا رحموں میں تمہاری صورتیں اور نقشے جس طرح چاہتا ہے بناتا ہے کسی کو مرد اور کسی کو عورت کسی کو خوبصورت اور کسی کو بدصورت پس کیا جس کی صورت اور نقشہ رحم مادر میں بنا ہو اور بطن مادر کی تاریکیوں سے نکل کر وہ اس دار فانی میں آیا ہو اور عام بچوں کی طرح کھاتا اور پیتا اور پاخانہ اور پیشاب کرتا ہو معاذ اللہ وہ کس طرح خدائے قدوس اور خدا کا بیٹا ہوسکتا ہے خدا وہ ہے کہ جو اپنے اردہ اور مشیت سے رحم مادر میں صورتیں اور نقشے بنائے اور جو نقشہ اور صورت رحم مادر میں بنا ہے وہ خدا نہیں ہوسکتا کیونکہ جو صورت بنتی ہے وہ مخلوق ہے اور خالق کی محتاج ہے اور خدا محتاج نہیں ہوتا اس لیے کہ ان صفات میں کوئی اس کا شریک اور سہیم نہیں لہذا وہی سزا اور ربوبیت اور شایان عبودیت ہے۔
خلاصہ کلام۔
یہ کہ خداوند قدوس ایک ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی سب پر غالب ہے اور بڑی حکمت والا ہے جس کی قدرت اور حکمت کی کوئی انتہاء نہیں اس نے کسی حکمت اور مصلحت سے حضرت مسیح کو بدون باپ کے اور حضرت حواء کو بدون ماں کے اور حضرت آدم کو بدون باپ اور ماں کے پیدا کیا جس مخلوق کو جس طرح چاہا پیدا فرمایا اس کی حکمتوں کا کون احاطہ کرسکتا ہے۔ کس نکشود ونکشاید بحکمت ایں معمارا۔
فوائد ولطائف۔
1۔ امام رازی فرماتے ہیں کہ اس سورت کا آغاز نہایت عجیب و غریب ہے جو اثبات توحید اور اثبات رسالت دونوں پر مشتمل ہے۔ اثبات توحید تو اس اعتبار سے ہیں کہ صفات خداوندی کے بیان پر مشتمل ہے خدا کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ حی اور قیوم اور عالم الغیب اور عزیز منتقم ہو اور رحم مادر میں اولاد کی تصویر بنانے پر قادر ہو اور عیسیٰ (علیہ السلام) میں یہ صفات موجودنہ تھیں لہذا ثابت ہوگیا کہ وہ خدا نہ تھے (جیسا کہ تفصیل پہلے گذرچ کی ہے) ۔ اور اثبات رسالت کی دلیل یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کا نبی اور رول ہونا اور توریت اور انجیل کا ان پر نازل ہونا تم کو بھی تسلیم ہے اب بتلاؤ کہ توریت اور انجیل کے کتاب الٰہی ہونے کی کیا دلیل ہے جو دلیل ان کے لیے ہے قرآن کے لیے اس سے ہزار درجہ بڑھ کر دلائل موجود ہیں اور جس دلیل سے تم حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو نبی مانتے ہو اسی طرح کی دلیل سے محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت اور و رسالت بھی ثابت ہوسکتی ہے۔ یہ ناچیز کہتا ہے کہ اثبات توحید اور اثبات رسالت کے علاوہ اثبات قیامت کی طرف بھی اشارہ ہے ھوالذی یصورکم فی الارحام کیف یشاء۔ اثبات قیامت کی دلیل ہے کہ جو خدا اپنی قدرت کاملہ سے پہلی مرتبہ زندہ کرنے پر قادر ہے وہ دوسری مرتبہ بھی زندہ کرنے پر قادر ہے اس طرح اس سورت کے مطلع میں اسلام کے اصول ثلاثہ توحید اور رسالت اور قیامت کے اثبات کے دلائل کی طرف اجمالی اشارہ ہوگیا۔
Ayah 3:63۔ ھوالذی یصورکم فی الارحام کیف یشاء۔ میں اس طرف اشارہ ہے کہ انسانوں کی صورتوں اور شکلوں کا مختلف ہونا مادہ اور طبیعت کا اقتضاء نہیں اور نہ محض اتفاق سے ہے بلکہ یہ اختلاف حق تعالیٰ کے ارادہ اور مشیت کے تابع ہے بلکہ یہ تمام قادر علیم اور عزیز حکیم کی کاری گری ہے۔
3۔ انزل الفرقان۔ میں فرقان کے معنی میں اختلاف ہے بعض نے فرقان سے معجزات مراد لیے ہیں اور بعضوں نے زبور مراد لی ہے اور بعض نے قرآن کریم مراد لیا ہے امام رازی کے نزدیک مختاریہ ہے کہ اس آیت میں فرقان سے معجزات مراد لیے جائیں جیسا کہ ہم نے تفسیر میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔
Ayahs 3:7–9تقسیم آیات بسوئے محکمات ومتشابہات مع تقسیم سامعین بسوئے زائغین فہم وراسخین علم۔
قال اللہ تعالی، ھوالذی انزل علیک الکتاب۔۔۔ الی۔۔۔ المیعاد۔
جب دلائل واضحہ سے توحید کا اثبات اور تثلیث اور ابنیت کا رد اور ابطال ہوگیا تو نصاری نے عاجز ہو کر بطور معارضہ یہ کہا کہ آپ بھی حضرت مسیح کو روح اللہ اور کلمۃ اللہ مانتے ہیں پس یہی الفاظ ہمارے مدعا کے اثبات کے لیے کافی ہیں۔ حق جل شانہ نے ان آیات میں ان کے اس شبہ کا جواب ایک عام ضابطہ اور قاعدہ کے شکل میں دیا جس کے سمجھ لینے کے بعد صدہا اور ہزارہا شبہات اور اشکالات اور نزاعات اور مناقشات کا خاتمہ ہوجاتا ہے وہ یہ کہ قرآن کریم بلکہ تمام کتب الٰہیہ میں آیات خداوندی کید وقسمیں ہیں ایک محکمات کہ جن کی مراد واضح اور متعین ہو اور بدنیت ان کے مفہوم اور معانی میں الٹ پھیر کر کے اور ان آیات کے ظاہری الفاظ کو اپنی غرض پر نہ ڈھال سکتا ہو یہ آیتیں ام الکتاب اور اصل کتاب کہلاتی ہیں جو کتاب الٰہی اور شریعت اور تمام تعلیمات کی جڑ ہوتی ہیں انہی پر دین اور شریعت کا دارومدار ہوتا ہے جیسے آیات توحید وتنزیہ وغیرہ۔ دوسری قسم کی آیات وہ ہیں جن میں ایک گونہ خفا اور ابہام ہوتا ہے اور مراد پوری واضح اور متعین نہیں ہوتی دوسرے معنی کا بھی ان میں احتمال ہوتا ہے ان آیات کا حکم یہ ہے کہ ان کو پہلی قسم کی طرف راجع کرکے دیکھنا چاہیے جو معنی محکمات کے مطابق ہوں ان کو لیاجائے اور جو معنی آیات محکمات کے خلاف ہوں ان کو نہ لیا جائے۔ بعض آیات کو اللہ جل شانہ نے قصدا مجمل اور متشابہ نازل فرمایا تاکہ بندوں کا امتحان کریں کہ کون، صریح اور واضح المراد یعنی آیات محکمات کا اتباع کرتا ہے اور کون کج رو اور ان مجملات اور متشابہات کو اپنی غرض پر ڈھالتا ہے اور محکمات اور آیات واضحات سے پہلوتہی کرتا ہے اور ایک حکمت آیات متشابہات کے نازل کرنے میں یہ ہے کہ جب باوجود جدوجہد کے متکلم کی مراد متعین نہ کرسکیں تو اپنے قصور علم کا اقرار کریں اور بزبان حال جو ہمہ دانی کے دعوے دار بنے ہوئے تھے اس سے توبہ کریں اور جس طرح قصورعلم اور قصور فہم کی وجہ سے اور دیگر بیشمار حقائق پر دسترس نہیں اسی طرح آیات متشابہات کو بھی ان کی فہرست میں شامل کرلیں مگر ایسی تاویلات سے پرہیزکریں کہ جو آیات بینات اور محکمات اور اسلام کے اصول مسلمہ کے خلاف ہوں پس جن آیات اور عبارات سے نصارائے نجران نے استدلال کیا ہے مثلا روح اللہ اور کلمۃ اللہ کے الفاظ سے وہ سب کے سب اقسام متشابہات سے ہیں اور جن آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کا بندہ اور بشر ہوناصاف اور واضح طور پر بیان کردیا وہ آیات محکمات ہیں مثلا قرآن کریم نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق تصریح کردی، ان ھو الاعبد انعمنا علیہ۔ یا مثلا ان مثل عیسیٰ عنداللہ کمثل آدم خلقہ من تراب۔ یا مثلا فرمایا ذالک عیسیٰ ابن مریم قول الحق الذی فیہ یمترون۔ یامثلا جن بیشمار آیات میں اللہ نے یہ امر واضح طور پر بیان فرمایا کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں اور نہ اس کے کوئی بیٹا ہے ماکان للہ ان یتخذ من والد، لم یلد ولم یولد۔ لیس کمثلہ شئی۔ پس آیات محکمات میں صاف طور پر غیر اللہ کی الوہیت اور ابنیت کا رد کیا گیا ہے ان سے تو آنکھیں بند کرلینا اور کلمتہ القاھا الی مریم وروح منہ۔ جیسی آیات متشابہات کو لے دوڑا اور ان کی ایسی تاویل کرنا جو صریح بینات اور آیات محکمات کے منافی ہوں یہ کج روی اور گمراہ لوگوں کا طریق ہے جو لوگوں کو فتنہ میں مبتلا کرنے اور سیدھے راستے سے ہٹانے کے لیے ایسا کیا کرتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں کہ عزیز و حکیم وہی ذات ہے کہ جس نے اپنی حکمت بالغہ سے آپ پر ایک جامع اور کامل کتاب اتاری جس کی کچھ آیتیں محکم ہیں یعنی ظاہر المراد اور واضح المعنی ہیں جن کے معنی اور مفہوم میں کسی قسم کا اشتباء اور التباس نہیں جو شخص ان کو سنے اور زبان سے اور اصطلاحات شریعت سے واقف ہو اس پر ان کا مفہوم مشتبہ نہیں رہتا یہی آیتیں کتاب الٰہی کی اصل اور جڑ ہیں انہی پر ساری تعلیم کا دارومدار ہے اور یہی آیتیں قرآن کا مغز ہیں۔ اور کچھ آیتیں اس کی متشابہ ہیں جن کی مراد میں کچھ خفا اور اشتباہ ہے سامع کو باوجود زبان دان ہونے کے اور باوجود غوروتامل کے اور باوجود اصول شریعت سے واقف ہونے کے ان کی پوری پوری مراد واضح نہیں ہوتی اللہ تعالیٰ عزیز اور حکیم ہے بندوں کو جتنا بتلانا چاہتے ہیں اتنی مقدار واضح فرمادیتے ہیں اور جس قدر نہیں بتلانا چاہتے اتنی مقدار اس میں خفا اور ابہام رکھدیتے ہیں اور اس عزیز حکیم کا حکم یہ ہے کہ جس چیز کو ہم نے ظاہر اور واضح کردیا اس کا اتباع کرو اور کتاب الٰہی کی جو چیز تم پر مخفی اور مشتبہ رہے اس پر بےچون وچرا ایمان لاؤ اور اس قسم کی آیات کی تفسیر میں اس کا پورا پورا لحاظ رکھو کہ ان آیات کے کوئی معنی ایسے ہرگز ہرگز نہ بیان کیے جائیں جو آیات محکمات اور شریعت کے اصول مسلمہ کے خلاف ہوں متشابہات کو محکمات کی طرف راجع کرو۔ امام ابومنصور ماتریدی فرماتے ہیں کہ آیت محکم کی مراد عقل سے معلوم ہوتی ہے اور آیت متشابہ میں بدون نقل اور روایت کی مدد کے دخل دینا ممکن نہیں۔ پس جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے طبعی طور پر کسی کفر اور بدعت کی طرف مائل ہیں نام کے مسلمان ہیں دل میں اپنے خیالات اور مزعومات چھپائے ہوئے ہیں سو یہ لوگ کتاب الٰہی میں سے صرف آیات متشابہات کی پیروی کرتے ہیں تاکہ حق اور باطل کو مشتبہ بناسکیں اتباع متشابہات سے کبھی تو ان لوگوں کی غرض یہ ہوتی ہے کہ لوگوں کو الحاد اور بدعت کے فتنہ میں مبتلا کریں اور لوگوں کے دلوں میں دین کی طرف سے شکوک اور شبہات ڈالیں اور اس طرح مغالطہ دے کر لوگوں کو گمراہی میں پھنسائیں اور کبھی غرض یہ ہوتی ہے کہ ان آیات متشابہات کی کوئی ایسی تاویل تلاش کی جائے جو ان کی خواہش اور غرض کے مطابق ہو اور کھینچ تان کرکے آیت کا ایسا مطلب بیان کیا جائے جو ان کی رائے اور ہوائے نفسانی کے موافق ہو اور کھینچ تان کر کے آیت کا ایسا مطلب بیان کیا جائے جو ان کی رائے اور ہوائے نفسانی کے موافق ہو ی سے لوگ اپنی مطلب برآری کے لیے آیات محکمات اور احادیث واضحات کی طرف نظر نہیں کرتے اور ہوائے نفسانی کی وجہ سے آیات متشابہات کا پیچھا کرتے ہیں تاکہ ان کے خفاء اور ابہام کی وجہ سے ان میں کھینچ تان کر اپنا مطلب نکال سکیں اور عوام کو دھوکہ دے سکیں حالانکہ ان متشابہات کی صحیح حقیقت اور یقینی مراد سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کو معلوم نہیں اس نے اپنے لطف وکرم سے جس قدر حصہ پر آگاہ کرنا چاہا کردیا اور جتنا حصہ اپنی حکمت سے مخفی رکھنا چاہا وہ مخفی اور مشتبہ رکھا اور جو لوگ علم میں پختہ اور ثابت قدم ہیں جب وہ آیات متشابہات کو دیکھتے ہیں کہ ان میں متعدد معانی کا احتمال ہے تو اپنی نفسانی خواہش اور طبعی میلان کا ذرہ برابر بھی لحاظ نہیں کرتے بلکہ متشابہات کو محکمات کے ساتھ ملاکر معنی بیان کرتے ہیں جتنا سمجھ میں آگیا اس کو سمجھ گے اور جو نہ سمجھ میں آیا اس کو اللہ پر چھوڑ دیا اور اللہ علم ہی بہتر جاننے والا ہے ہم کو تو ایمان سے مطلب ہے اور یہ کہتے ہیں کہ ہم ان متشابہات پر اللہ کی مراد کے مطابق ایمان لائے سب کچھ یعنی محکم اور متشابہ اور ناسخ اور منسوخ جس کی مراد ہم کو معلوم ہے اور جس کی مراد ہم کو معلوم نہیں یہ سب ہمارے پروردگار کی طرف سے محکم اور متشابہ سب سے ہماری تربیت مقصود ہے محکمات کو اس لیے نازل فرمایا کہ اس کے مطابق اعتقاد رکھیں اور عمل کریں اور متشابہات کو اس لیے اتارا اپنی قصور استعداد اور قصور علم کا اعتراف کریں اور ایسے موقع پر آیات اور محکمات کا اتباع کریں نفسانی خواہشوں کی پیروی نہ کریں اور نہیں نصیحت قبول کرتے مگر وہی لوگ جن کی عقل سلیم اور خالص ہے نفسانی خواہشوں کے زنگ سے پاک اور صاف ہے جس بات کا مطلب ان کی سمجھ میں نہیں آتا اسکومتکلم علیم و حکیم کے حوالہ کرتے ہیں اور لاادری اور لااعلم کہہ کر نصف علم حاصل کرلیتے ہیں اور باوجود اس کے وہ خائف رہتے ہیں اور ڈرتے ہیں کہ مبادا کسی پوشیدہ نفسانی خواہش کے فتنہ میں مبتلا نہ ہوجائیں اس لیے یہ دعا کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار بعد اس کے کہ تو نے کتاب نازل فرما کر ہم کو ہدایت دی اور اس کتاب کے محکم اور متشابہ پر ایمان لانے کی توفیق عطا کی اب اس لطف و عنایت اور اس توفیق اور ہدایت کے بعد ہمارے دلوں کو حق اور ہدایت سے کج اور منحرف مت فرما ہمیں اپنے دلوں پر اطمینان نہیں دلوں کا ہدایت پانا اور حق کو قبول کرنا سب آپ کی توفیق سے ہے اور دے ڈال ہم کو اپنے پاس سے ہم کو خاص الخاص رحمت اور مہربانی یعنی توفیق اور فہم صحیح بیشک تو ہی سب کچھ عطا کرنے والا ہے اور دے ڈالنے والا ہے جس طرح ظاہری نعمتیں تیری بارگاہ سے ملتی ہیں اسی طرح علم صحیح اور فہم صحیح اور تاویل صحیح کی نعمت بھی تیری ہی بارگاہ سے ملتی ہے اور یہ سب تیری رحمت اور مہربانی ہے تجھ پر کوئی شے واجب نہیں اور اے پروردگار چند علوم اور معارف اور متفرق تاویلات کا کسی کے سینہ میں جمع کردینا تیرے لیے کوئی دشوار نہیں اس لیے کہ تحقیق تو تمام لوگوں کو اکناف عام سے اس دن کے لیے جمع کرنے والا ہے جس میں کسی قسم کا کوئی شک اور شبہ ہی نہیں پس اگر آپ اپنی رحمت سے ہم نابکاروں کے سینہ میں صحیح علوم اور صحیح تاویلات کو جمع فرمادیں تو بعید از رحمت نہیں ہم اگر اس کے اہل اور لائق نہیں مگر آپ کا اہل انابت اور اہل مجاہدہ سے یہ وعدہ ہے کہ جو ہماری طرف رجوع کرتا ہے اس کو اپنی خاص ہدایت اور توفیق سے سرفراز کرتے ہیں کماقال تعالی، والذین جاھدو فینا لنھدینھم سبلنا، ویھدی الیہ من ینیب۔ تحقیق اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں یا یہ معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ تو نے وعدہ فرمایا ہے کہ قیامت کے دن سب کو جمع کرکے نزاعی مسائل کادوٹوک فیصلہ فرمائے گا جس میں زائغین اور راسخین فی العلم کے اختلاف کا فیصلہ بھی داخل ہے اس لیے ہمیں ڈر ہے کہ ہم زائغین اور مجرمین کا راستہ نہ اختیار کرلیں کیونکہ ہمیں اپنے دلوں پر اطمینان نہیں اس لیے آپ ہی سے استقامت اور کجی سے محفوظ رہنے کی درخواست کرتے ہیں باوجود راسخین فی العلم ہونے کے اپنے علم پر مغرور نہ ہونا یہ بھی ان کے راسخ فی العلم ہونے کی ایک علامت ہے۔
لطائف ومعارف۔
1۔ محکم اور متشابہ کی تفسیر میں سلف سے مختلف تعبرات منقول ہیں سب کا خلاصہ اور لب لباب یہ ہے کہ محکمات وہ آیتیں ہیں کہ جن کے معنی ظاہر ہوں اور ان کی مراد معلوم اور متعین ہو خواہ نفس لغت کے اعتبار سے ان کے معنی ظاہر ہوں یا شریعت کے بیان کردینے سے ان کی مراد متعین ہو یعنی ان کی مراد یا تو اس لیے متعین ہے کہ لغت اور ترکیب اور سیاق اور سباق کے اعتبار سے نظم قرآنی میں کوئی ابہام اور اجمال نہیں اور یا شریعت کے اعتبار سے اس کی مراد متعین ہے مثلا لفظ صلوۃ اور لفظ زکوٰۃ اگرچہ لغت کے اعتبار سے دعا اور پاکیزگی کے معنی میں ہیں جس کی متعدد صورتیں ہوسکتی ہیں لیکن شریعت کے بیان اور نصوص قطعیہ اور اسلام کے اصول مسلمہ اور اجماع امت سے یہ قطعا متعین ہوچکا ہے کہ صلوۃ اور زکوٰۃ سے متکلم کی مراد مخصوص طریقہ پر بدنی اور مالی عبادت بجالانا ہے شریعت کے بیان سے ان آیات کی مراد اس قدرصاف اور واضح ہے کہ کوئی بدنیت سے بدنیت بھی ان کے مفہوم اور معنی میں الٹ پھیر نہیں کرسکتا ایسی آیات کو محکمات کہتے ہیں۔ اور متشابہات ان آیات کو کہتے ہیں کہ جن کی مراد اور معنی کے معلوم اور متعین کرنے میں کسی قسم کا اشتباہ اور التباس واقع ہوجائے اور چونکہ اشتباہ اور تشابہ کی ایک امر اضافی ہے جس کے درجات اور مراتب ہیں اس لیے متشابہ کی دو قسمیں ہیں ایک متشابہ تو وہ ہے جس کی مراد معلوم ہونے کی نہ تو امید ہی باقی رہی اور نہ اس کی مراد معلوم ہونے کا کوئی ذریعہ اور امکان ہو جیسے مقطعات قرآنیہ الم، المر، طسم وغیرہ وغیرہ نہ لغت سے ان کے معنی معلوم ہوسکتے ہیں اور نہ شریعت نے ان کے معنی بیان کیے ہیں اور دوسری قسم متشابہ کی یہ ہے کہ آیت میں اجمال اور ابہام یا اشتراک لفظی کی وجہ سے اس کی مراد میں اشتباہ پیش آگیا ہومتشابہ کے یہ اصطلاحی معنی مجمل اور موول کو بھی شالمل ہیں پس اگر آیت میں متشابہات سے پہلے معنی مراد لیے جائیں تو اس معنی کو متشابہ کی مراد سوائے اللہ کے کسی کو معلوم نہیں اور اگر متشابہات کے دوسرے معنی مراد لیے جائیں تو اس معنی کر متشابہات کے معنی اور تاویل راسخین فی العلم کو بھی بقدر اپنے علم اور فہم کے معلوم ہوجاتے ہیں اگرچہ اصل کنہ اور حقیقت اور پوری کیفیت اللہ ہی کو معلوم ہوتی ہے لیکن راسخین فی العلم جب محکمات کی طرف رجوع کرتے ہیں اور خداداد علم اور فہم سے ان میں غوروفکر کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے جتنی تاویل اور معنی ان پر واضح کرنا چاہتے ہیں اتنی تاویل اور معنی ان پر واضح فرمادیتے ہیں اور متشابہ کی قسم اول کو اصطلاح میں متشابہ حقیقی کہتے ہیں اور متشابہ کی قسم ثانی کو متشابہ اضافی کہتے ہیں۔
2۔ سلف صالحین سے آیات متشابہات کی تاویل میں دو قول منقول ہیں ایک قول تو یہ ہے کہ متشابہات کی تاویل سوائے اللہ کے کسی کو معلوم نہیں جیسا کہ ابی بن کعب اور عائشہ صدیقہ سے مروی ہے اور اکثر سلف سے یہی منقول ہے اور ابن عباس سے بھی ایک روایت ہے کہ متشابہات کی تاویل سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ متشابہات کی تاویل راسخین فی العلم بھی جانتے ہیں جیسا کہ ابن عباس اور مجاہد اور ربیع بن انس وغیرہم سے منقول ہے اور ان دونوں قولوں میں کوئی تعارض نہیں جن سلف کا یہ قول ہے کہ متشابہات کی تاویل سوائے اللہ کے کسی کو معلوم نہیں ان کی مراد متشابہ کی قسم اول ہے جیسے مقطعات قرآنیہ اور جن سلف سے یہ منقول ہے کہ متشابہات کی تاویل راسخین فی العلم بھی جانتے ہیں ان کی مراد متشابہ کی قسم ثانی ہے جو مجمل اور موول اور محتمل سب کو شامل ہے۔
3۔ ومایعلم تاویلہ الا اللہ والراسخون فی العلم۔ الخ۔ میں قراء اور مفسرین کا اختلاف ہے۔ بعض کا قول ہے کہ الا اللہ پر وقف ضروری ہے اور لازم ہے اور والراسخون فی العلم جملہ مستانفہ یعنی کلام جدید ہے ماقبل پر عطف نہیں اور آیت کا مطلب یہ ہے کہ متشابہات کی تاویل سوائے اللہ کے کس کو معلوم نہیں اور اسخین فی العم متشابہات کی تاویل اور حقیقت کو محض اللہ پر چھوڑتے ہیں اور جو کچھ اللہ کی مراد ہے اس پر ایمان لاتے ہیں ان کا مسلک محض تفویض و تسلیم ہے۔ اور بعض کا قول یہ ہے کہ الا اللہ پر وقف جائز ہے ضروری اور لازم نہیں یعنی یہ بھی جائز ہے کہ الا اللہ پر وقف کیا جائے اور والراسخون فی العلم کو کلام جدید قرار دیا جائے اور یہ بھی جائز ہے کہ الا اللہ پر وقف نہ کیا جائے بلکہ والراسخون کا لفظ اللہ پر عط کیا جائے اس صورت میں آیت کے یہ معنی ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ کے بعد راسخین فی العلم بھی متشابہات کی تاویل اور معنی کو جانتے ہیں سلف صالحین کی ایک کثیر جماعت کا یہی مسلک ہے ابن عباس فرمایا کرتے تھے میں راسخین فی العلم سے ہوں اور میں متشابہ کی تاویل کو جانتا ہوں، غرض یہ کہ وقف اور عطف کے بارے میں سلف کے یہ دو قول ہیں اور سلف کا یہ اختلاف اور نزاع حقیقی نہیں بلکہ لفظی اور صوری ہے جن لوگوں نے متشابہ کے پہلے معنی مراد لیے ہیں ان کے نزدیک الا اللہ پر وقف ضروری اور لازم ہے اس لیے کہ مقطعات قرآنیہ جیسے متشابہات کی تاویل سوائے اللہ کے کسی کو معلوم نہیں اور جن لوگوں نے متشابہ کے دوسرے معنی مراد لیے جو مجمل اور محتمل اور مؤول کو بھی شامل ہیں ان کے نزدیک والراسخون کا عطف لفظ اللہ پر جائز ہے اس لیے کہ ایسے متشابہات کی تاویل اور معنی غوروخوض کرنے اور محکمات کی طرف رجوع کرنے سے راسخین فی العلم کو بھی بقدر ان کے علم اور فہم ان پر منکشف ہوجاتے ہیں اگرچہ اصل حقیقت اور اصل کنہ اللہ ہی کو معلوم ہوتی ہے مگر بقدر علم راسخین فی العلم بھی اس کی تاویل کو جانتے اور سمجھتے ہیں اور متشابہ کے دوسرے معنی لے کر یہ بھی جائز ہے کہ الا اللہ پر وقف کیا جائے اس صورت میں آیت کے یہ معنی ہوں گے کہ متشابہات کی اصل تاویل اور صحیح کنہ اور پوری حقیقت سوائے اللہ کے کسی کو معلوم نہیں۔ خلاصہ کلام یہ کہ اگر متشابہات کے اول معنی مراد لیے جائیں تو الا اللہ پر وقف ضروری اور لازم ہوگا اور اگر آیت میں متشابہات کے دوسرے معنی مراد لیے جائیں تو آیت میں وقف اور عطف دونوں جائز ہیں جس نے وقف کو ضروری قرار دیا اس نے متشابہ کے پہلے معنی مراد لیے ہیں اور آیت میں وقت اور عطف کی جو قرآتیں آئی ہیں وہ دونوں حق اور صحیح ہیں جس قرات میں غیر اللہ سے متشابہ کی تاویل کی نفی کی گئی ہے وہاں متشابہ کے اول معنی مراد ہیں اور جس قرات میں غیر اللہ یعنی راسخین کے لیے متشابہات کی تاویل کے علم کو ثابت کیا گیا ہے وہاں متشابہ کے دوسرے معنی مراد ہیں خوب سمجھ لو اور جس نے عطف جائز قرار دیا اس نے متشابہ کے دوسرے معنی مراد لیے اس لیے عرض کیا گیا کہ یہ اختلاف اور نزاع حقیقی نہیں بلکہ لفظی اور صوری ہے۔
4۔ لفظ تاویل متقدمین کی اصطلاح میں تفسیر کے معنی میں مستعمل ہوتا ہے تفسیر ابن جریر میں جابجاتاویل کا لفظ تفسیر کے معنی میں مستعمل ہوتا ہے اور متاخرین کی اصطلاح میں کسی قرینہ دلیل کی بناء پر ظاہر سے غیر ظاہر کی طرف پھیرنے کا نام تاویل ہے اور بلا کسی دلیل اور قرآن کریم میں جہاں کہیں یہ لفظ مستعمل ہوا ہے وہاں تاویل سے مخفی حقیقت اور مصداق اور مآل اور انجام اور نتیجہ اور حکمت اور کلام کی غرض اور غایت کے معنی مراد لیے گئے ہیں لفظ تاویل اصل میں اول سے مشتق ہے جس کے معنی اصل کی طرف رجوع کرنے کے ہیں مثلا ھل ینظرون الاتاویلہ یوم یاتی تاویلہ۔ سے یوم آخرت مراد ہے جس دن وعدہ اور وعید کا مصداق ظاہر ہوگا اور جزاء اور سزا کی حقیقت واضح ہوگی۔ اور بل کذبوا بمالم یحیطوا بعلمہ ولما یاتھم تاویلہ۔ میں تاویل سے خبر خداوندی کے مصداق کا ظہور مراد ہے یا عاقبت اور انجام کے معنی مراد ہیں ہر خبر کا ایل کفظی مفہوم اور مدلول ہوتا ہے اور ایک اس کا خارجی اور واقعی مصداق ہوتا ہے جو وقوع کے بعد ظاہر ہوتا ہے کماقال تعالی، لکل نبا مستقر وسوف تعلمون۔ قرآن کریم نے خبر کے اس خارجی اور وقوعی مصداق کو تاویل سے تعبیر کیا ہے بسا اوقات خبرکالفظی مدلول اور مفہوم ظاہر ہوتا ہے اور اس کا خارجی مصداق کو اللہ کے سپرد کردیتے ہیں اور ھذا تاویل رویای میں تاویل سے تعبیر مراد ہے جو خواب کا مال اور انجام اور خارجی مصداق ہے اور وزنوبالقسطاس المستقیم ذالک خیر واحسن تاویلا۔ میں تاویل سے مآل اور انجام کا مراد ہونا بالکل ظاہر ہے، اور ذالک تاویل مالم تسطع علیہ صبرا میں تاویل سے مصداق اور خارجی حقیقت اور حکمت کے معنی مراد ہیں حدیث میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ابن عباس کے حق میں یہ دعا فرمائی، اے اللہ اس کو دین کی سمجھ دے اور تاویل کا علم عطا فرما۔ ظاہر ہے کہ یہاں تاویل سے مخفی حقیقت اور پوشیدہ حکمت کا منکشف کرنا اور مآل اور انجام کا ظاہر کرنا مراد ہے۔
عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ رکوع اور سجود میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے، سبحانک اللہم ربنا وبحمدک اللہم اغفرلی، گویا کہ آپ اس دعا کے ذریعہ سے فسبح بحمد ربک واستغفرہ کی تاویل ظاہر فرماتے یعنی اس آیت کا عملی مصداق بیان فرماتے ہیں کہ آیت قرآنی میں تسبیح وتحمید اور استغفار کی تاویل یہ ہے کہ رکوع میں اس طرح تسبیح اور استغفار پڑھی جائے۔ معلوم ہوا کہ حدیث میں تاویل سے کلام کا ظاہر سے پھیرنا مراد نہیں بلکہ اس کے خارجی مصداق کا تعین مراد ہے۔
5۔ اس سورت میں آیات قرآنی کی دو قسمیں بیان کی گئیں ایک محکم اور ایک متشابہ، اور سورت ھود کے شروع میں یعنی کتب احکمت آیاتہ میں قرآن کریم کی تمام آیات کو محکم بتلایا گیا اور سورة زمر کی اس آیت، اللہ نزل احسن الحدیث کتابا متشابھا، میں سارے قرآن کو متشابہ بتایا گیا۔ سو ان آیات میں محکم اور متشابہ کے دوسرے معنی مراد ہیں محکم کے معنی لغت میں مضبوط اور مستحکم کے ہیں چونکہ قرآن کریم نظمی اور معنی کے اعتبار سے نہایت مستحکم اور سراسر حق اور سراپا حکمت سے کہیں جائے انگشت نہیں اس لیے سارے قرآن کو محکم کیا گیا اور متشابہ کے معنی لغت میں مشابہ اور ملتے جلتے کے ہیں اختلاف اور تناقض سے پاک ہونے میں ایک دوسرے کے متشابہ ہیں کماقال تعالیٰ ولوکان من عندغیر اللہ لوجدوا۔۔۔ الی۔۔۔ کثیرا۔ اس لیے تمام قرآن کو کتابا متشابھا فرمایا پس جس جگہ قرآن کی بعض آیتوں کو محکم اور بعض کو متشابہ کہا گیا وہاں محکم اور متشابہ کے اور معنی مراد ہیں اور جہاں سارے قرآن کو محکم یا متشابہ کہا گیا وہاں اور معنی مراد ہیں پس جب ہر جگہ معنی جداجدا ہوئے تو آیات میں کوئی تعارض اور تناقض نہ رہا۔
6۔ آیت کو راسخین فی العلم سے شروع فرمایا اور الااولوالباب پر ختم فرمایا معلوم ہوا کہ راسخین فی العلم وہ لوگ ہیں جن کی عقل نفسانی خواہشوں سے کج اور خراب نہ ہوگئی ہو جب تک عقل سے نفسانی خواہشوں کا زنگ دور نہ ہو وہ اللہ کے نزدیک راسخین فی العلم میں سے نہیں۔ ابن ابی حاتم نے اپنی سند سے بیان کیا کہ عبیداللہ بن یزید ( کو جنہوں نے صحابہ کرام کو پایا اور انس بن مالک اور ابوامامہ اور ابوالدرداء) دیکھا وہ راوی ہیں کہ نبی کریم ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ راسخین فی العلم جن کا آیت میں ذکر ہے وہ کون لوگ ہیں آپ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص اپنی قسم اور نذر میں پورا ہو اور زبان کا سچا ہو اور دل اس کا جادہ محبت وفا پر قائم اور مستقیم ہو اور اس کا شکم اور اس کی شرمگاہ حرام اور مشتبہ سے عفیف ور پاک ہو پس ایسا شخص راسخین فی العلم میں سے ہے، یعنی علم میں پختہ اور ثابت قدم وہی شخص ہے جس کا حال اور قال یہ ہو جو بیان کیا گیا اور ظاہر ہے کہ یہ حال اور یہ قال انہیں لوگوں کا ہوسکتا ہے جن کے دل نفسانی خواہشوں کے زنگ سے صیقل ہوچکے ہوں اور انوار و تجلیات کے عکس قبول کرنے کے لیے صاف و شفاف آئینہ بن چکے ہوں اور راسخین فی العم کے مقابل زائغین کا گروہ ہے جو نفسانی خواہشوں کی وجہ سے کج اور خراب ہوچکے ہیں حق بات ان کے دل میں نہیں اترتی۔ ملحد اور زندیق رافضی اور خارجی اور تمام بدعتی فرقے اس میں داخل ہیں جس طرح تمام اہل حق راسخین فی العلم میں داخل ہیں جس کا صحیح مصداق اہل سنت والجماعت ہیں جو کتاب وسنت کے محکمات کو مضبوط پکڑتے ہیں اور متشابہات کو محکمات کے ساتھ ملاکرآیات کے معنی بیان کرتے ہیں اپنی نفسانی خواہشوں کا اتباع نہیں کرتے بلکہ صحابہ وتابعین کے نقش قدم پر چلتے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا اور خوشنودی کا اعلان فرمایا جس شخص کا علم اور فہم خلفاء راشدین اور صحابہ اور تابعین کے اجماع سے ٹکراتا ہو تو سمجھ لو کہ ایساشخص زائغین میں سے ہے اس سے بچتے رہو۔
Ayahs 3:10–13مال واولاد کے نشہ میں حق سے استغنا پر وعید اور تہدید۔
قال تعالی، ان الذین کفروا لن تغنی عنھم۔۔۔ الی۔۔۔ الابصار۔
ربط) ۔ یہ آیتیں بھی نصارائے نجران کے بارے میں نازل ہوئیں دلائل اور براہین سے حق ان پر واضح ہوچکا تھا مگر مال و دولت کے غرور اور نشہ نے ان کو قبول حق اور قبول ہدایت سے باز رکھا اس لیے ان ارباب غرور کی وعید اور تہدید کے لیے یہ آیتیں نازل ہوئیں کہ آخرت میں مال اور اولاد کچھ کام نہیں آئیں گے اور پھر یہ ارشاد فرمایا کہ اب ان کافروں سے یہ کہہ دیں کہ یہ لوگ عنقریب دنیا میں مسلمانوں کے ہاتھ سے مغلوب ہوں گے اور قیامت کے دن جہنم میں ڈال دیے جائیں گے اور پھر واقعہ بدر کو ان کی عبرت کے لیے ذکر فرمایا محمد بن اسحاق کی سیرت میں ہے کہ نصارائے نجران کا وفد جب بغرض مناظرہ مدینہ منورہ روانہ ہوا تو راستہ میں یہ واقعہ پیش آیا کہ ان کا بڑا عالم ابوحارثہ بن علقمہ خچر پر سوار تھا یکایک خچر کو ٹھوکرلگی اور وہ عالم سواری سے گرا تو اس کے بھائی کرز بن علقمہ کی زبان سے نکلا تعس الابعد یعنی ہلاک ہو وہ شخص جس کے ہم پاس جارہے ہیں اس نے الابعد سے نبی ﷺ کو مراد لیا، العیاذ بااللہ۔ ابوحارثہ نے کہا بلکہ تو ہلاک ہو کیا تو ایسے شخص کی شان میں نازیبا الفاظ کہتا ہے جو رسولوں میں سے ہے تحقیق بلاشبہ آپ وہی نبی ہیں جن کی عیسیٰ بن مریم نے بشارت دی ہے اور جن کا تذکرہ توریت میں ہے اور خدا کی قسم یہ وہی نبی ہیں جن کے اخیرزمانہ میں ظہور کے ہم سب منتظر ہیں۔ اس پر ابوحارثہ کے بھائی کرز نے کہا، کہ جب تم کو ان کی نبوت اور رسالت کا اس درجہ علم اور یقین ہے تو پھر ایمان لانے سے کیا چیز مانع ہے۔ ابوحارثہ نے جواب دیا کہ ہم ایمان اس لیے نہیں لاتے کہ ان عیسائی بادشاہوں نے جو بیشمار اموال ہم کو دے رکھے ہیں اور ہمارا اعزاز واکرم کرتے ہیں اگر ہم آپ پر ایمان لائیں گے تو یہ سب ہم سے چھین لیں گے۔ یہ کلمہ کرز کے دل میں اتر گیا اور یہ کہا کہ خدا کی قسم جب تک مدینہ پہنچ کر ایمان نہ لے آؤں گا اس وقت تک آرام سے نہ بیٹھوں گا اور کرز اونٹنی پر سوار ہو کر مدینہ منورہ کے لیے روانہ ہوا اونٹنی کو تیز کیا اور بطور جزیہ پڑھتا جاتا تھا، الیک تغدو قلقا وضینھا، معترضا فی بطنھا جنینھا۔ آپ ہی کی طرف یہ اونٹنی چل رہی ہے دراں حالیکہ اس کا تنگ حرکت کررہا ہے اور اس کے پیٹ میں اس کا جنین حرکت کررہا ہے۔ اب اس اونٹنی کا (عینی اس کے سوار کا) دین، نصاری کے دین کے خلاف ہے۔ یہاں تک کہ کرز وفد سے پہلے مدینہ منورہ پہنچ گیا اور مشرف باسلام ہوا اور وفد بعد میں پہنچا (طبقات ابن سعد ص 108 ج 1، وروض الانف ص 45 ج 4، ترجمہ کرز بن علقمہ) ۔ اور مشرف باسلام ہونے کے بعد کرز نے حج بھی کیا۔
خلاصہ کلام۔
یہ کہ یہ آیتیں اسی وفد کے بارے میں نازل ہوئیں اور اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں انہی لوگوں کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ جس مال کے لالچ میں تم نے ایمان سے روگردانی کی ہے وہ قیامت کے دن کچھ کام نہیں آئیگا اور جن سلاطین اور امراء پر تم کو بھروسہ ہے وہ عنقریب مسلمانوں کے ہاتھوں سے مقہور اور مغلوب ہوں گے اور تمہارا تو ذکر ہی کیا چناچہ فرماتے ہیں تحقیق جن لوگوں نے کفر اور انکار کی راہ اختیار کی اللہ کے مقابلہ میں ان کے مال اور ان کی اولاد جس پر ان کو ناز اور فخر ہے ہرگز کچھ بھی کام نہ آئیں گے البتہ مسلمانوں کے مال اور اولاد آخرت میں کام آئیں گے اس لیے کہ مسلمانوں نے اپنے مال خدا کی راہ میں خرچ کیے اور اولاد کو اللہ کی عبادت اور دین کی تعلیم میں لگایا، اور ایسے کافر تو مع مال اور اولاد کے دوزخ کا ایندھن ہوں گے اور ان کا حال اور مآل تو فرعونیوں جیسا ہے کہ جس طرح دنیا میں فرعونیوں کو ان کے مال اور اولاد ان کو اللہ کے قہر سے نہ بچاسکے ان کی بھی ایسی گت بنے گی اور کچھ کام نہ آئے گا اور جس طرح ان سے پہلے لوگوں نے یعنی قوم عاد اور ثمود اور قوم لوط نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا پس اللہ نے ان کو ان کے جرائم کی بناء پر پکڑا اور ہلاک کیا ان کا سارا مال ومتاع اور اولاد دھری رہ گئی اگر تم نے حق کو قبول نہ کیا تو سمجھ لو کہ تمہارا بھی یہی انجام ہوگا اور اللہ تعالیٰ کا عذاب بہت سخت ہے جس کے مقابلہ میں مال اور اولاد کچھ کام نہیں دیتا اے نبی کریم آپ ان کافروں سے جو اپنے مال و دولت اور قوت اور کثرت پر نازاں ہیں یہ کہہ دیجئے کہ تم عنقریب اسی دار دنیا میں ہمارے دوستوں کے ہاتھ سے مغلوب اور مقہور ہوؤ گے اشارہ اس طرف ہے کہ بنوقریظہ اور بنونضیر جلا وطن کیے جائیں گے اور خیبر اور مکہ فتح ہوگا یہ ذلتیں تو ان منکرین کو دنیا میں پہنچیں گی اور آخرت کی بابت یہ فرمادیجئے کہ تم جہنم کی طرف جانوروں کی طرح ہانکے جاؤ گے اور دوزخ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے اللہ تعالیٰ اس سے محفوظ رکھے چونکہ کفار اپنے مال اور اولاد یعنی قوت اور کثرت اور ثروت پر نازاں تھے اور یہ کہتے تھے کہ نحن اکثر اموالا واولادا ومانحن بمعذبین اور یہ خیال کرتے تھے کہ دنیا کی طرح آخرت میں بھی مال اور اولاد کام آئیں گے کماقال تعالیٰ حکایت عنہم، افرء یت الذی کفر بایتنا وقال لاوتین مالاو ولدا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو ان آیات میں متنبہ فرمایا کہ مال و دولت صرف آخرت ہی میں بےسود نہ ہوگی بلکہ بسا اوقات وہ دنیا میں بھی سود مند اور کارآمد نہیں ہوتی اللہ تعالیٰ جس کو غلبہ دینا چاہتے ہیں اس کے مقابلہ میں ساری قوت اور ثروت اور کثرت دھری رہ جاتی ہے چناچہ اللہ تعالیٰ نے جو پیش گوئی فرمائی تھی چند روز کے بعد وہ حرف بحرف پوری ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے ہاتھ سے بنوقریظہ اور بنونضیر کو مقہور اور مغلوب کیا اور خیبر اور مکہ انہی فقراء مسلمین کی ہاتھوں پر فتح ہوا جن کو یہ حقیر سمجھتے تھے۔
ذکر استشہاد برائے دفع استبعاد۔
حق جل شانہ نے جب گزشتہ آیت (قل للذین کفروا ستغلبون، الخ) میں مسلمانوں کے غلبہ کی خبر دی تو منافقین نے اس کو مستبعد سمجھا تو اللہ نے ان کے استبعاد دفع کرنے کے لیے بطور استشہاد واقعہ بدر کو مذکور فرمایا چناچہ فرماتے ہیں کہ تحقیق تمہارے لیے دو جماعتوں کے بارے میں ایک عبرت اور عجیب نمونہ قدرت ہے کہ جو باہم ایک دوسرے سے لڑیں اس معرکہ اور لڑائی میں ایک جماعت تو وہ تھی کہ جو خدا کی راہ میں لڑتی تھی یعنی مسلمانوں کی جماعت تھی جن کی تعداد تین سوتیرہ تھی اور بےسروسامان تھی اور دوسری جماعت کافروں کی تھی جن کی تعداد نوسو پچاس تھی جو جنگی سازوسامان سے لیس تھی ور جس کو اپنی قوت اور شوکت اور کثرت اور ثروت پر ناز تھا بدر کے میدان میں دونوں جماعتوں کا مقابلہ ہوا عین مقابلہ اور مقاتلہ کے وقت یہ کافر کھلی آنکھوں سے مسلمانوں کو اپنے سے دوچند دیکھتے تھے یعنی مسلماں کافروں کو دوچند (تقریبا دوہزار) دکھائی دیتے تھے جس سے کافروں کے دل مرعوب اور خوف زدہ ہوگئے اور یہ اس طرح کا دیکھنا صریح اور کھلی آنکھوں سے تھا کوئی خواب و خیال نہ تھا اور اللہ تعالیٰ کو اختیار ہے کہ قلیل کو کثیر اور کثیر کو قلیل کردکھلائے حق تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ سے احول کو ایک کے دو دکھلاتا ہے یہ کوئی کذب اور دروغ نہیں بلکہ اس کی قدرت کا کرشمہ ہے جس طرح خوردوبین اور دوربین سے چھوٹی چیزبڑی نظر آنے لگتی ہے تو یہ جھوٹ نہیں بلکہ کاری گری اور صنعت کا کمال ہے چناچہ بہت سے لوگ جو بعد میں مشرفب اسلام ہوئے انہوں نے یہ بیان کیا کہ مسلمان ہم کو تعداد میں بہت نظر آئے اسیطرح سمجھو کہ اگر اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے اپنے دشمنوں کو وقتی طور پر دو درجہ کا بھینگا بنادے کہ بجائے کہ ایک ایک کے تین نظرآنے لگے تو یہ کوئی کذب اور دروغ نہیں بلکہ اس کی قدرت کا ایک کرشمہ ہے۔
فائدہ) ۔
لڑائی شروع ہونے سے پہلے مسلمان کافروں کی نظر میں تھوڑے دکھائی دیتے تھے جیسا کہ سورة انفال میں ہے ویقللکم فی اعینہم، یعنی اے مسلمانوا۔ اللہ تعالیٰ تم کو کافروں کی نظر میں تھوڑا کر کے دکھلاتا تھا لیکن جب اس کے بعد گھمسان کی لڑائی شروع ہوئی تو کافر، مسلمانوں کو خود اپنے سے بھی دو چند دیکھنے لگے پس اس آیت میں عین جنگ کے وقت کا ذکر ہے اور سورة انفال میں جنگ چھیڑنے سے پہلے کا ذکر تھا لہذا دونوں آیتوں میں کوئی تعارض اور نتاقض نہیں رہا اور اللہ تعالیٰ اپنی امداد سے جس کو چاہتے ہیں قوت دیتے ہیں اور فتح اور غلبہ کا اصل مدار تائید خداوندی پر ہے تائید خداوندی کے مقابلہ میں کوئی طاقت اور قوت غالب نہیں آسکتی جیسا کہ تم نے بدر کے معرکے میں اس کا مشاہدہ کرلیا تحقیق اس بدر کے واقعہ میں آنکھ والوں کے لیے بڑی عبرت اور نصیحت ہے کہ کس طرح ایک کمزور اور بےسروسامان گروہ ایک پوری قوت اور شوکت والے گروہ پر غالب آگیا وجہ اس کی یہ تھی کہ تائید خداوندی اور امداد غیبی مسلمانوں کے ساتھ تھی اور خدا کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا اس لیے تم کو چاہیے کہ تم اپنے مال و دولت کے غرور سے تائب ہو کر اس جماعت میں داخل ہوجاؤ کہ جن کے ساتھ تائید خداوندی ہے۔
فائدہ۔
آیت یرونھم مثلیھم کی تفسیر میں مفسرین کے اقوال مختلف ہیں پہلاقول یہ ہے کہ یرون کے ضمیر فاعل فءۃ کافرۃ کی طرف راجع ہے جو قریب ہے اور ھم کی ضمیر مفعول مسلمانوں کی طرف راجع ہے اور مثلیھم کی ضمیر مجرور کافروں کی طرف راجع ہے یعنی کافروں کا گروہ مسلمانوں کو اپنے دوچند دیکھتا تھا تفسیر میں ہم نے اسی قول کو اختیار کیا ہے دوسراقول یہ ہے کہ یرون لیکن مثلیھم کی ضمیر مجرور بجائے کافروں کے مسلمان کی طرف راجع ہو اور معنی یہ ہوں کہ کافر مسلمانوں کو مسلمانوں کے اعتبار سے دوچند دیکھتے تھے یعنی مسلمان کافروں کی نظر میں بجائے تین سوتیرہ کے چھ سو چھبیس دکھائی دیتے تھے مقصود یہ تھا کہ کافر جب مسلمانوں کی ایک عظیم تعداد دیکھیں گے تو مرعوب ہوجائیں گے، تیسرا قول یہ ہے کہ یرون کی ضمیر فاعل مسلمانوں کی طرف راجع ہو اور ھم کی ضمیر مفعول کافرون کی طرف راجع ہوا اور مثلیھم کی ضمیر مجرور مسلمانوں کی طرف راجع ہو اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ مسلمان کافروں کو اپنے سے دوچند دیکھتے تھے یعنی کافر مسلمانوں کی نظر میں چھ سو چھبیس دکھائی دیے کفار اگرچہ فی الواقع مسلمانوں سے سہ چند تھے مگر مسلمان ان کو اپنے سے صرف دوچند دیکھتے اور سمجھتے تھے کیونکہ بہادر اور جری طبیعتیں اپنے سے دوچند سے مقابلہ کرنے کو معمولی بات سمجھتے ہیں لیکن دوچند سے زیادہ کا مقابلہ باعث تشویش اور پریشانی ہوتا ہے چوتھا قول اور یہ درحقیقت قول نہیں بلکہ محض احتمال ہے وہ یہ کہ یرون کی ضمیر فاعل مسلمانوں کی طرف راجع ہو اور ھم اور مثلیھم کی دونوں ضمیریں کافروں کی طرف راجع ہوں اور معنی یہ ہوں کہ مسلمان، کافروں کو کافروں سے دوچند دیکھتے تھے یعنی کافر مسلمانوں کو تقریبا دوہزار دکھائی دیتے تھے اور اس قول کا کوئی قائل نہیں محض احتمال عقلی ہے جو غیر معقول بھی ہے کہ اس لیے کہ جب مسلمان کافروں کو دوہزار کی تعداد میں دیکھیں گے تو طبعی طور پر مرعوب ہوجائیں گے تفصیل کے لیے تفسیر کبیر کی مراجعت کریں۔