Ayahs 3:172–175قصہ غزوہ حمراء الاسد۔
قال تعالیٰ الذین استجابوا۔۔۔۔ الی۔۔۔ مومنین۔
ربط) گزشتہ آیات میں غزوہ احد کا قصہ بیان ہوا اب ان آیات میں غزوہ احد ہی کے متعلق ایک دوسرے سے غزوے کا ذکر فرماتے ہیں جو غزوہ حمراء الاسد کے نام سے مشہور ہے اور غزوہ احد سے متصل واقع ہے یا یوں کہو کہ گزشہ آیات میں شہداء احد کا ذکر تھا اب ان آیات میں شہداء احد کے ان اخوان مخلصین کا ذکر فرماتے ہیں جو، الذین لم یلحقوا بھم من خلفھم۔ آیت۔ کا مصداق ہیں یا یوں کہو کہ گزشتہ آیات میں اللہ کی نعمت اور اس کے فضل کی بشارت کا ذکر تھا اور اس آیت میں بھی غزوہ حمراء الاسد کے مجاہدین کے لیے انقلاب بنعمۃ من اللہ وفضل لم یمسسھم سوء۔ آیت۔ کی بشارت کا ذکر ہے اور اہل ایمان کی مدح فرماتے ہیں کہ وہ کسی کی دھمکی میں نہیں آتے بلکہ ان کو اللہ کی ذات پر پورا بھروسہ ہے وہ ڈرپوک اور بزدل نہیں۔ اس آیت کے شان نزول کے متعلق علماء کے دو قول ہیں۔
پہلا قول۔
یہ ہے کہ یہ آیت غزوہ حمراء الاسد کے متعلق نازل ہوئی جس کی مختصر کیفیت یہ ہے کہ جب ابوسفیان اور اس کا لشکر احد سے مکہ کو واپس ہوا تو راستہ میں خیال آیا کہ ہم نے بڑی غلطی کی کہ ایسی بڑی کامیابی کے بعد مسلمانوں کو زندہ چھوڑ کر کیوں چلے آئے ہم کو چاہیے کہ ہم مدینہ واپس چلیں اور جا کر مسلمانوں کی جڑہی اکھاڑ کر پھینک دیں جب یہ خبر نبی ﷺ کو پہنچی تو یہ اعلان فرمایا کہ صرف وہ لوگ جو احد میں میرے ساتھ شریک تھے وہ دشمن کے تعاقب کے لیے تیار ہوجائیں حاضرین احد کے علاوہ اور کسی کو میں اپنے ساتھ لے جانا نہیں چاہتا مسلمان مجاہدین باوجودیکہ تازہ زخم کھائے ہوئے تھے اور زخموں کی مرہم پٹی کا ارادہ کررہے تھے آپ کا اعلان سنتے ہی زخموں کو بھول گئے اور آپ کے ساتھ ہوئے حضور پرنور ﷺ اپنے اصحاب کی ایک جماعت کے ساتھ جن کی تعداد ستر تھی روانہ ہوئے اور مقام حمراء الاسد پہنچے جو مدینہ سے آٹھ میل کے فاصلہ پر ہے ابوسفیان کو جب یہ خبر ملی کہ مسلمان اس کے تعاقب میں چلے آرہے ہیں تو اس پر من جانب اللہ ایسا رعب اور ایسی دہشت طاری ہوئی کہ مسلمانوں پر دوبارہ حملہ کا ارادہ فسخ کیا اور مکہ کی طرف بھاگا اس سفر میں حضور ﷺ کے ہمراہ، حضرت ابوبکر وعمر، عثمان وعلی وطلحہ وزبیر وسعد وعبدالرحمن بن عوف اور عبداللہ بن مسعود، حذیفہ بن یمان اوبوعبیدہ جراح ؓ اجمعین وغیرہ وغیرہ شامل تھے۔
دوسرا قول۔
اس آیت کے شان نزول کے متعلق یہ روایت ہے کہ یہ آیت غزوہ بدرصغری کے بارے میں نازل ہوئی جس کی مختصر کیفیت یہ ہے کہ جنگ احد سے فارغ ہو کر جب ابوسفیا نے مکی کی واپسی کا ارادہ کیا تو یہ کہا اے محمد ﷺ اگر آپ چاہیں تو ہماری اور تمہاری آئندہ سال موسم بدر میں پھر لڑائی ہو ابوسفیان کا مقصد یہ تھا کہ مقام بدر میں ہمارے بڑے بڑے سردار مارے گئے تھے اب ابوسفیان یہ چاہتا تھا کہ سال آئندہ پھر اسی سال مقام بدر پر دوبارہ جنگ ہو اور ہم احد کی طرح وہاں بھی مسلمانوں کے بڑے بڑے سرداروں کو ماریں تاکہ بدر کا بدلہ ہوجائے۔ نبی ﷺ نے منظور فرمایا اور جب سال پورا ہوگیا تو ابوسفیان دو ہزار کفار قریش کے ساتھ مکہ سے جنگ کے ارادہ سے نکلا پچاس گھوڑے ہمراہ تھے۔
ادھر نبی ﷺ نے صحابہ کو ساتھ چلنے کا حکم دیا صحابہ سنتے ہی رفاقت کے لیے تیار ہوگئے اور مقام بدر پر پہنچ گئے تو ابوسفیان مکہ سے نکل کر ابھی مقام مرالظہران تک پہنچا تھا کہ یکایک دل میں مسلمانوں کا خوف پیدا ہوگیا چاہتا یہ تھا کہ حضور پر نور سے وعدہ پر نہ آئیں تو الزام آپ پر رہے اور میں لڑائی سے بچ جاؤں اس لیے اس کو مناسب یہ معلوم ہوا کہ میں لشکر کو لے کر مکہ واپس جاؤں اتفاق سے اسے نعیم بن مسعود اشجعی مل گیا جو مکہ سے عمرہ کرکے واپس آرہا تھا ابوسفیا نے کہا میں محمد اور اس کے اصحاب سے یہ وعدہ کر آیا تھا کہ کہ بدر کے میلے کے ایام میں سال آئندہ ہماری اور تمہاری جنگ ہوگی لیکن یہ سال خشک سالی کا ہے ایسے وقت میں لڑنا مناسب نہیں اب مجھے یہی بہتر معلوم ہوتا ہے کہ میں مکہ میں واپس چلا جاؤں اور لیکن میں اس بات کو بھی ناپسند کرتا ہوں کہ محمد تو وعدے پر پہنچیں اور میں نہ پہنچوں اس سے مسلمانوں کو اور زیادہ جرات ہوگی تو بہتر یہ ہے کہ اے نعیم تم مدینہ جا کر مسلمانوں پر یہ خبر مشہور کرو کہ قریش مکہ نے تمہارے مقابلہ کے لیے ایک لشکر عظیم تیار کیا ہے جس کا تم مقابلہ نہیں کرسکو گے لہذا تمہارا لڑائی کے لیے نکلنا بہتر نہیں ہے تاکہ مسلمان اس قسم کی خبروں سے خوف زدہ ہوں اور ان کی ہمتیں ٹوٹ جائیں اور ڈر کے مارے جنگ کے لیے نہ نکلیں اور ابوسفیان نے نعیم بن مسعود سے یہ کہا کہ اس کام کی اجرت میں تم کو دس اونٹ دوں گا جسے آج کل کی اصطلاح میں پروپیگنڈا کہتے ہیں جس کی حقیقت سوائے اس کے کچھ نہیں کہ جھوٹ کو سچائی کے پیرائے میں اس طرح پیش کرو کہ سننے والے کو اس کے جھوٹ ہونے کا شبہ بھی نہ ہو۔ لعنۃ اللہ علی الکاذبین۔ آیت۔ یہ پروپیگنڈا یورپ کے ائمہ تہذیب و تمدن کی عجیب و غریب ایجاد ہے مگر اسلام جیسا پاک مذہب اپنے پیروں کو ایک لمحہ کے لیے بھی اس کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ اپنے دشمنوں پر جھوٹ بولیں یا ان پر جھوٹی تہمت لگائیں قرآن کریم پروپیگنڈا کرنے والے کو شیطان بتلاتا ہے جیسا کہ آئندہ آیت میں، انما ذالکم الشیطان یخوف اولیاء۔ آیت۔
نعیم، انعام کالالچ پا کر مدینہ پہنچا دیکھا کہ مسلمان، ابوسفیان کے وعدہ پر جانے کی تیاری کررہے ہیں نعیم نے کہا کہ مکہ کے لوگوں نے تمہارے مقابلہ کے لیے بڑی جمعیت تیار کی ہے تم کو لڑنا بہتر نہیں نعیم نے کہا دیکھو احد کے سال قریش تمہارے گھر پر چڑھ کر آئے اور تمہیں قتل کیا اور کوئی گھر قتل اور زخم سے خالی نہ رہا اور اس پر بھی اگر تم اپنے گھر سے نکل کر ان سے لڑنے جاتے ہو تو میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تم میں سے ایک شخص بھی جان بچا کر مدینہ واپس نہ آئے گا یہ سن کر مسلمانوں کے دلوں میں بجائے خوف کے جوش ایمانی بڑھ گیا اور کہنے لگے، حسبنا اللہ ونعم الوکیل۔ آیت۔ اللہ ہمیں کافی ہے اور بہترین کارساز ہے اور خدا جس کا کارساز ہو تو بڑی سے بڑی جمعیت بھی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی اور نبی ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا قسم ہے اس خدا کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میں ضرور ان کے مقابلہ کے لیے نکلوں گا خواہ مجھ کو تنہاہی جاناپڑے پھر آپ بدر کی طرف روانہ ہوئے اور ستر صحابہ آپ کے ہمراہ ہوئے جو حسبنا اللہ ونعم الوکیل۔ کہتے ہیں جاتے تھے آپ بدر پر پہنچے اور وہاں آپ نے ابوسفیان کا آٹھ روز تک انتظار فرمایا لیکن ابوسفیان نہ آیا اور لڑائی کچھ نہیں ہوئی اور ان دونوں بدر کا میلہ لگا ہوا تھا مسلمانوں نے اس میں خریدوفروخت کی اور خوب نفع کمایا اور خوب نفع کما کرخیریت کے ساتھ مدینہ واپس آئے اس واقعہ کو غزوہ بدر صغری کہتے ہیں اور احد سے پہلے جو بدر میں لڑائی ہوئی تھی اس کو غزوہ بدر کبری کہتے ہیں۔
اکثر مفسرین کی رائے یہ ہے کہ یہ آیت پہلے قول کے مطابق غزوہ حمراء الاسد کے بارے میں نازل ہوئی اور سی کو ابن جریر اور ابن کثیر نے راجح قرار دیا اور صحیح بخاری کی روایت کا سیاق بھی اسی کو مقتضی ہے کہ ان آیات کا نزول غزوہ حمراء الاسد کے بارے میں ہوا جو غزوہ احد سے متصلا واقع ہوا۔ اور اس آیت کا سیاق بھی اسی کو مقتضی ہے کیونکہ الہ جل شانہ نے الذین استجابوا للہ۔۔ الی۔۔ القرح۔ آیت۔ میں ان حضرات کا یہ وصفبیان کیا ہے کہ یہ لوگ باوجود زخموں کی تکلیف پہنچنے کے رسول کی فرمانبرداری میں جہاد کے لیے نکل کھڑے ہوئے جو ظاہرا اس پر دلالت کرتا ہے کہ یہ واقعہ غزوہ احد کے متصل اور فورا بعد میں پیش آیا کہ غزوہ احد کے زخموں کی تکلیف ابھی باقی تھی مگر پھر بھی جہاد کے لیے نکل کھڑے ہوئے سو یہ حالت غزوہ حمراء الاسد میں پیش آئی جو غزوہ احد کے متصل واقع ہوا اور غزوہ بدر صغری تو احد کے سال بھر بعد پیش آیا جس وقت مسلمان تندرست ہوچکے تھے اس پر من بعد مااصابھم القرح کا صادق آنا محتاج تاویل ہوگا۔
اس لیے امام فخرالدین رازی نے یہ اختیار فرمایا کہ الذین استجابو۔۔۔ الی۔۔۔۔۔ اجرعظیم۔ یہاں تک کہ آیت غزوہ حمراء الاسد کے بارے میں نازل ہوئی اور آیت الذین قال لھم الناس۔۔ الی۔۔۔ الوکیل۔ آیت۔ الی قولہ تعالیٰ وخافون ان کنتم مومنین۔ یہاں تک کہ تمام آیتیں غزوہ بدرصغری کے بارے میں نازل ہوئیں غرض یہ کہ اللہ نے دونوں آیتوں میں ان مسلمان کی مدح فرمائی جو ان دونوں غزوں میں شریک ہوئے پہلی آیت میں غزوہ حمراء الاسد کا ذکر ہے اور دوسری آیت یعنی قال لھم الناس الی آخرہ میں غزوہ بدرصغری کا ذکر ہے اور ان دونوں غزوں کے درمیان ایک سال کا فاصلہ ہے اور اس ناچیز کے نزدیک بھی یہی قول ظاہر آیت کے مطابق ہے کہ پہلی آیت یعنی الذین استجابوا، غزوہ حمراء الاسد کے بارے میں نازل ہوئی اور دوسری آیت یعنی الذین قال لھم الناس۔ غزوہ بدر صغری کے بارے میں نازل ہوئی اس تفصیل کے سمجھ لینے کے بعد اب آیات کی تفسیر سنیے، اللہ نے شانہ ارشاد فرماتے ہیں کہ جن لوگوں نے احد میں زخم کھانے کے بعد بھی اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانا حضور پرنور کے بلانے پر جہاد کے لیے نکل کھڑے ہوئے اور زخمون کی تکلیف کی پرواہ نہ کی تو بلا شبہ ان لوگوں کے لیے جو ان میں سے نیکو کار اور پرہیزگار ہیں اجر عظیم ہے اس آیت میں یہ اشکال ہے کہ جن لوگوں نے احد میں زخم کھانے کے بعد حمراء الاسد میں جانے کے لیے اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانا تھا وہ سب ہی نیکو کار اور متقی اور پرہیزگار تھے پھر اللہ کے اس فرمانے کے کیا معنی کہ جو ان میں سے نیکوکار اور متقی ہیں ان کے لیے اجر عظیم ہے۔
جواب۔ صاحب کشاف فرماتے ہیں کہ اس جگہ من تبین کے لیے ہے تبعیض کے لیے نہیں اور نیکوکاری اور تقوی کی صفت مدح اور تعلیل کے لیے ہے نہ کہ تقلید کے لیے مقصود ان کی مدح سرائی اور تنویہ شان ہے ورنہ وہ سب ایسے ہی تھے اور مطلب آیت کا یہ یہ ہے کہ جن لوگوں نے احد میں زخم کھانے کے بعد اللہ اور رسول کا حکم مانا چونکہ یہ سب لوگ نیکوکار اور پرہیزگار ہیں اس لیے ان کے لیے اجرعظیم ہے یعنی یہ لوگ اجرعظیم کے اس لیے مستحق ہوئے کہ یہ لوگ صفت احسان اور تقوی کے ساتھ موصوف ہیں۔ یا یوں کہو کہ منہم کی ضمیر عام مومنین کی طرف راجع ہے جیسا کہ گزشتہ آیت وان اللہ لایضیع اجر المومنین۔ میں عام مومنین کا ذکر ہے جن میں ضعیف الایمان بھی داخل ہیں پس غزوہ حمراء الاسد میں جو چند مسلمان باوجود تازہ زخم کھائے ہوئے ہونے کے آپ کے ہمراہ کافروں کے تعاقب میں نکل کھڑے ہوئے وہ عام مومنین میں کے بعض مخصوص افراد تھے اور اعلی درجہ کے نیکوکار اور پرہیزگار تھے اس تفسیر پر من تبعیضیہ بھی بےتکلف ہوسکتا ہے۔ اور یہی محسین اور متقین ایسے مخلص ہیں کہ جب ان سے قبیلہ عبدالقیس کے لوگوں نے آکر یہ کہا کہ تحقیق مکہ کے لوگوں نے تمہارے مقابلہ کے لیے لڑائی کا بڑا سامان جمع کیا ہے پس تم ان سے ڈرتے رہنا اور اندیشہ اور خطرہ کو پیش نظر رکھنا بےدھڑک ان کے مقابلہ کے لیے نہ نکل کھڑے ہونا پس یہ بات ان کے ایمان اور زیادتی کا سبب بن گئی یعنی مشرکین کے خوف دلانے سے مسلمان سست نہ پڑے اور نہ ان کی بات کی طرف التفات کیا بلکہ جوش ایمانی میں اور اضافہ ہوگیا اور سمجھے کہ خدا کی راہ میں جس قدر بھی جانبازی اور سرفروشی دکھلائیں گے اسی قدر مدارج قرب سے بہر ور ہوں گے اور جوش میں آکر یہ بولے کہ بس کافی ہے ہم کو اللہ اور بہترین کارساز ہے جو اپنے آپ کو خدا کے حوالے سے اور سپرد کردے دشمن اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔
گزشتہ آیات میں غزوہ احمرالاسد سے متعلق تھیں جو غزوہ احد کے متصل واقع ہوا تھا اور یہ آیتیں غزوہ بدر صغری کے متعلق ہیں جو کہ غزوہ احد کے ایک سال بعد واقع ہوا پس یہ لوگ اللہ کے خاص نعمت اور اس کے خاص فضل کو لے کر اپنے گھر واپس ہوئے اور اس سفر میں ان کو کسی قسم کی تکلیف نہیں پہنچی نعمت سے سلامتی اور عافیت مراد ہے اور فضل سے وہ نفع مراد ہے جو اللہ کے ان برگزیدہ بندوں نے بدر میں آٹھ روز تک بذریعہ تجارت حاصل کیا اور لم یمسسھم سوء سے یہ مراد ہے کہ اس سفر میں نہ کوئی آدمی قتل ہوا اور نہ کسی کو کوئی زخم آیا اور ان سب سے بڑھ کر یہ ہے کہ ان لوگوں نے اللہ کی رضامندی اور خوشنودی کی پیروی کی یعنی سب سے بڑی چیز جو ان کو اس سفر میں ملی وہ یہ ہے کہ اللہ ان سے راضی ہوا جو فلاح دارین کی کنجی ہے اور اللہ بڑا فضل والا ہے اس کا فضل وانعام وہم و گمان سے بڑھ کر ہوتا ہے جز این نیست کہ یہ خبر دینے والا کہ اہل مکہ نے تمہارے مقابلہ کے لیے بڑا سامان جمع کیا ہے شیطان ہے تم کو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے پس اے مسلمانوں تم ان سے نہ ڈرنا یہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور صرف مجھ سے ڈرو اگر تم ایمان رکھتے ہو اور ضرور رکھتے ہو جیسا کہ تمہاری جاں نثاری اس کی شاہد ہے تو پھر تم کیوں فکر مند ہوتے ہو۔
ہر کہ ترسید از حق وتقوی گزید ترسد از دے جن وانس وہر کہ دید
خلاصہ کلام یہ کہ اللہ نے ان آیات میں ان مومنین مخلصین کی مدح فرمائی کہ جو غزوہ حمراء الاسد اور غزوہ بدر صغری میں رسول اللہ کے ایک اشارہ پر نکل کھڑے ہوئے پہلی آیت، یعنی الذین استجابوا، الخ۔ غزوہ حمراء الاسد کے بارے میں نازل ہوئی اور جو غزوہ احد سے متصلا واقع ہوا اور دوسری آیت یعنی الذین قالھم الناس، الخ۔ یہ آیت غزوہ بدر صغری اور نعیم بن مسعود اشجعی کے قصہ کے بارے میں نازل ہوئی۔
لطائف ومعارف۔
آیت مذکورہ بالا فزادھم ایمانا سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان میں زیادتی اور کمی ہوسکتی ہے اور امام ربانی مجدد الف ثانی فرماتے ہیں کہ ایمان کے کم وزیادہ ہونے میں علماء کا اختلاف ہے امام اعظم کوفی (رح) تعالیٰ فرماتے ہیں خہ الایمان لایزید ولاینقص ایمان نہ زیادہ ہوتا ہے اور نہ کم اور امام شافعی فرماتے ہیں کہ یزید وینقص یعنی ایمان زیادہ اور کم ہوتا ہے اس میں شک نہیں کہ ایمان جس کے معنی تصدیق قلبی اور یقین دلی کے ہیں اس میں زیادت اور نقصان کی گنجائش نہیں اس یے کہ جس چیز میں زیادتی کمی کا احتمال ہو وہ دائر ظن میں داخل ہے نہ دائرہ یقین میں ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ اعمال صالحہ کا بجالانا اس یقین کو منور اور روشن کردیتا ہے اور برے اعمال کا ارتکاب اس یقین کو مکدر اور تاریک اور سیاہ کردیتا ہے پس اعمال کی کمی اور زیادتی سے ایمان کی نورانیت اور روشنی میں کمی اور زیادتی ہوتی ہے نہ کہ نفس ایمان اور نفس یقین میں لہذا بعض لوگوں نے یقین کی نورانیت اور انجلاء کی کمی اور زیادتی پر نظر کرکے نفس یقین کو زائد اور ناقص کہہ دیا اور جن حضرات کی نظر دقیق اور عمیق تھی انہوں نے جب یہ دیکھا کہ یہ زیادتی اور کمی صفات یقین کی طرف راجع ہے نہ کہ نفس یقین کی طرف اس بنا پر انہوں نے یقین کو غیر زائد اور غیر ناقص کہہ دیا جیسے حضرات انبیاء کرام کہ نفس نبوت میں سب برابر ہیں جیسا کہ لانفرق بین احد من رسلہ۔ آیت۔ اس کی طرف مشیر ہے کہ مگر مراتب اور درجات عالیہ میں متفاوت ہیں کمال قال تعالیٰ تلک الرسل فضلنا۔۔۔ الی۔۔ درجات۔ آیت۔ اور جیسے تمام انسان کہ نفس انسانیت میں تو سب برابر اور حقیقت وذات میں متحد ہیں مگر کمالات انسانیت میں متفاضل ہیں اور بعض بعض سے افضل ہیں پس جس طرح یہ تفاضل اور تفاوت صفات اور کمالات کے اعتبار سے ہے نفس ذات کے اعتبار سے نہیں نفس حقیقت اور نفس ذات کے اعتبار سے نفس نبوت اور نفس انسانیت میں کوئی کمی اور زیادتی نہیں۔
اسی طرح حقیقت ایمان کو سمجھو کہ تمام مومنین میں نفس ایمان برابر مشترک ہے اور اسی قدر مشترک کی وجہ سے تمام مومنین اخوت ایمانیہ کی سلک میں منسلک ہیں کما قال تعالیٰ انما المومنون اخوۃ۔ آیت۔ اور اس قدر مشترک میں کوئی کمی اور زیادتی نہیں البتہ اعمال صالحہ کی کمی اور زیادتی کی وجہ سے ایمان کی صفت نورانیت اور انجلاء وصفاء اور روشنی میں کمی اور زیادتی ہوتی ہے۔ جس طرح دو آئینے جو باہم برابر ہوں لیکن انجلاء اور نورانیت میں تفاوت رکھتے ہوں تو ایک شخص اس کو آئینہ کو جو دوسرے آئینہ سے زیادہ روشن ہے دیکھ کر یہ کہے کہ یہ آئینہ دوسرے آئینہ سے زائد ہے اور دوسرا شخص یہ کہے کہ دونوں آئنہ برابر ہیں اور ان میں کسی قسم کی زیادتی اور نقصان نہیں فرق صرف نورانیت اور انجلاء کا ہے جو آئینہ کی صفات ہیں پس دورے شخص کی نظر سائب اور ثاقب ہے اور حقیقت تک نافذ ہے اور شخص اول کی نظر کوتاہ ہے صفت سے بڑھ کر ذات تک نہیں پہنچی اور صفت اور ذات میں فرق نہیں کرتی، یرفع اللہ الذین آمنو منکم والذین اوتوالعلم درجات۔
اس تحقیق سے مخالفین کا وہ اعتراض جو ایمان کے کم وبیش نہ ہونے پر کیا کرتے تھے انشاء اللہ زائل ہوجائے گا اور عام مومومنوں کا ایمان تمام وجوہ میں حضرات انبیاء کرام کے ایمان کی طرح نہ ہوگا کیونکہ انبیاء کرام کا ایمان آفتاب اور ماہتاب کی طرح روشن ہوگا اور کامل طور پر منجلی اور نورانی ہوگا اور عام مومنوں کا ایمان کامل طور پرنورانی نہ ہوگا بلکہ اپنے اندر بہت سی ظلمتیں اور کدورتیں لیے ہوئے ہوگا عوام مومنین کا ایمان، حضرات انبیاء کے ایمان کے گرد کو بھی نہیں پہنچتا گویا کہ عامہ مومنین نفس انسانیت میں انبیاء کرام کے ساتھ شریک ہیں مگر کمالات اور درجات عالیہ میں کوئی نسبت نہیں، چہ نسبت خاک رابا عالم پاک اسی طرح ایمان کی شرکت سمجھو، حضرات انبیاء کا ایمان کمال اطاعت خداوندی کے اقتران کی وجہ سے ذرہ علیا کو پہنچا ہوا ہے اور مومنین کا ایمان ایک ذرہ بےمقدار ہے اور اسی طرح حضرت ابوبکر کا ایمان جو وزن میں امت کے ایمان سے زیادہ ہے اس کو بھی انجلاء اور نورانیت کے اعتبار سے سمجھنا چاہیے نفس انسانیت میں زیادتی اور نقصان کا کوئی دخل نہیں اور نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ انسانیت زیادتی اور نقصان کے قابل ہے تمام افراد انسانی حقیقت اور ذات کے اعتبار سے متحد اور برابر ہیں اور باقی تفاضل یعنی ایک کا دوسرے سے افضل ہونا وہ صفات کاملہ اور کمالات فاضلہ کے اعتبار سے ہے واللہ اعلم وعلمہ اتم واحکم۔ دیکھو مکتوب 266 از دفتر اول مکتوبات امام ربانی۔ ومکتوب 67 از دفتر دوم اوردیکھو حجۃ اللہ البالغہ۔
Ayahs 3:176–177دشمنان اسلام کی سرگرمیوں کی بابت نبی کریم ﷺ کو تسلی
قال تعالی، ولایحزنک الذین۔۔۔۔ الی۔۔۔ الیم۔ آیت۔
ربط) گزشتہ آیات میں اسلام کے مقابلہ میں کافروں کی سازش کا ذکر تھا اب ان آیات میں نبی کریم کو تسلی دیتے ہوئے کہ آپ کافروں کی حرکات سے غمگین اور فکر مند نہ ہوں یہ لوگ اللہ اور اس کے رسول کا اور اس کے دین کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اپن اہی نقصان کرتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں کہ اے محمد ﷺ نہ غم میں ڈالیں آپ کو یہ لوگ جو کفر کی حمایت اور اعانت میں دوڑتے پھرتے ہیں اور آپ سے لڑنے کے لیے لشکر فراہم کرتے پھرتے ہیں اسلام کے مٹانے کے درپے ہیں آپ ان کی پرواہ نہ کیجئے اور نہ ان کی کاروائیوں سے غمگین ہوجیے تحقیق یہ لوگ اللہ کے دین کو کوئی نقصان اور گزند نہیں پہنچا سکیں گے بلکہ اللہ کا ارادہ یہ ہے کہ ان دشمنان اسلام کو نقصان پہنچے بایں طور کہ انہیں آخرت میں فائدہ اور نفع سے کوئی حصہ نہ دے پس جن کے لیے قضاوقدر میں محرومی اور ناکامی مقدر ہوچکی ہے ان سے اندیشہ کی ضرورت نہیں اور صرف یہی نہ ہوگا کہ آخرت میں منافع سے بالکلیہ محروم ہوں گے بلکہ حرمانکے ساتھان لوگوں کے لیے سخت عذاب بھی ہوگا تحقیق جن لوگوں نے ایمان کے بدلے کفر کو مول لے لیا یعنی جنہوں نے ایمان کو چھوڑ کر کفر کو اختیار کیا اور اپنے نفع اور نقصان کو بھی نہ سمجھا ایسے نادان اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور ایسے لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے یہ لوگ کفر کرکے اپنے ہی پیروں پر کلہاڑی مار رہے ہیں یہ لوگ خدا کا کیا بگاڑ سکتے ہیں لہذا آپ ان کی حرکات سے غمگین اور فکرمند نہ ہوں۔
Ayahs 3:178–180دشمنان اسلام کے چند مزعومات اور خیالات اور ان کے جوابات۔
قال تعالیٰ ولایحسبن۔۔ الی۔۔۔۔ خبیر۔ آیت۔
ربط) گذشتہ آیات میں کافروں کے لیے عذاب عظیم اور عذاب الیم کا ذکر فرمایا اب ان آیات میں کافروں کے چند شبہات اور اوھام کا جواب ارشاد فرمایا کہ کافروں کو اپنی عیش و عشرت پر ناز تھا اور ان کا گمان یہ تھا کہ ہماری یہ خوشحالی اس امر کی دلیل ہے کہ ہم اللہ کے مقبول بندے ہیں اور اللہ ان کے جواب میں فرماتے ہیں اور کافر لوگ یہ گمان نہ کریں کہ ہمارا ان کو ڈھیل دینا اور کفر پر فی الحال نہ پکڑنا کچھ ان کے لیے بھلا ہے خوب سمجھ لیں کہ جزایں نیست ہم ان کو اس لیے مہلت دے رہے ہیں کہ گناہوں میں خوب ترقی اور زیادتی کرتے چلے جائیں اور خوب جی بھر کر دل کے ارمان نکال لیں اور ناؤ پوری بھر کر ایک ہی دفعہ ڈؤب جائے اور ان کے لیے ذلیل اور خوار کرنے والا عذاب تیار ہے جس کے بعد دنیا کی ساری عزتیں خاک میں مل جائیں گے جیسے کوئی شخص حکومت سے باغی ہوجائے اور باوجود بار بار نصیحت اور تفہم کے وہ مقابلہ سے باز نہ آئے تو حکومت اس کو مہلت اور ڈھیل دیتی ہے تاکہ دل کو بادشاہ کا مقابلہ کرے اور جو کہہ سکتا ہے اور کرسکتا ہے وہ کر گزرے تاکہ یکبارگی اس کو پکڑا جائے اور کوئی صورت اس کی برائت اور رہائی کی نہ رہے اور جب اس کے جرم اور سرکشی کا پیمانہ لبریز ہوجائے تو اس کو تختہ دار پر لٹکایاجائے اور یہ نادان اس مہلت اور ڈھیل کا یہ مطلب سمجھتا ہے کہ حکومت میری اس بغاوت سے راضی ہے اس طرح بارگاہ خداوندی سے فرعون اور ہامان جیسے کافروں اور مجرموں کو مہلت ملنا اس لیے ہے کہ فرد جرم پوری طرح ان پر عائد ہوجائے اور ایسی سخت پکڑ ہو کہ کوئی مفسر باقی نہ رہے۔
ایک اور خیال باطل کا ابطال
جس طرح اہل کفر پر عذاب نہ آنے سے یہ شبہ ہوتا تھا کہ یہ لوگ اگر اللہ کے نزدیک مردود ہیں تو ضرور ان پر کوئی عذاب آتا اور اوپر کی آیت میں اس کا جواب دیا گیا کہ کافروں پر عذاب نہ آنا مقبولیت کی دلیل نہیں من جانب اللہ یہ امہال اور استدراج ہے جیسا کہ بسا اوقات شدید مجرموں کی ڈھیل دی جاتی ہے۔ اسی طرح بعض مرتبہ مومنین مخلصین پر مصائب وشدائد کے آنے جیسا کہ احد میں پیش آیا تو یہ وسوسہ ہوسکتا ہے کہ اگر یہ لوگ اللہ کے مقبول اور محبوب بندے ہوتے تو ان پر یہ مصائب اور حواداث نہ ہوتے تو آئندہ آیت میں اللہ نے اہل ایمان پر مصائب اور شدائد کے آنے کی حکمتیں اور مصلحتین بیان فرما ہیں تایہ کہ وسوسہ دور ہوجائے فرماتے ہیں کہ اللہ یہ نہیں چاہتے کہ مومنوں کو اسی حالت میں چھوڑ رکھے کہ جس حالت میں تم اب ہو کہ ظاہر میں مخلصین اور منافقین میں کوئی امتیاز نہیں سب ملے جلے ہیں یہاں تک کہ ناپاک منافق اور مومن مخلص سے جدا اور ممتاز کردے اور اس امتیاز کا طریقہ یہ ہے کہ وہ ایسے شدائد ومصائب نازل کرتا ہے جن سے کھرے اور کھوٹے اور پاک اور ناپاک کا کھلے طور پر فرق ظاہر ہوجاتا ہے مطلب یہ ہے کہ یہ بات حکمت کے خلاف ہے کہ مومن اور منافق ملے جلے رہیں اور کسی کو یہ معلوم نہ ہو کہ کون مومن مخلص ہے اور کون منافق پس جس طرح اللہ نے غزوہ احد اور غزہ حمراء الاسد اور غزوہ بدر صغری میں مخلصین اور منافقین کا امتحان کرکے ایک کو دوسرے سے ممتاز کردیا اسی طرح وہ آئندہ بھی کرے گا۔ اور رہا یہ سوال ہے کہ حق تعالیٰ ان کو نام بنام کیوں نہیں ظاہر کردیتے اور لوگوں کو یہ کیوں نہیں بتلا دیتے کہ فلاں منافق ہے اور فلاں مومن ہے اس طریقہ سے مخلص اور منافق کا امتیاز بالکل سہل ہوجائے گا تو اس کا جواب یہ ہے کہ خدا ایسا نہیں کہ تم غیب کی خبریں دے دے اور تم کو یہ بتلا دے کہ فلاں شخص منافق ہیں اور فلاں فلاں مومن ہیں غیب پر مطلع کردے یہ امر خلاف سنت الہیہ ہے کہ عوام الناس کو غیب کی باتوں پر مطلع کرے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کو منتخب کرتا ہے اور بذریعہ وحی ان کو بعض امورغیبیہ سے مطلع کرتا ہے اور تم پیغمبر نہیں کہ بذریعہ وحی تم کو امور غیبیہ کی اطلاع دی جائے بذریعہ وحی امور غیبیہ پر مطلع کرنا یہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص ہے عوام الناس کو بذریعہ وحی امور غیب پر مطلع نہیں کیا جاسکتا عوام الناس کی اطلاع کا ذریعہ یہ ہے کہ اللہ ایسے واقعات نازل فرماتا ہے جس سے مخلص اور منافق کا امتیاز ظاہر ہوجاتا ہے بصراحت یہ ظاہر کردینا کہ فلاں شخص مومن ہے اور فلاں شخص منافق ہے سوائے انبیاء کرام کے کسی اور کو یہ علم اور اطلاع نہیں دی جاتی پس ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے پیغمبروں پر اخلاص کے ساتھ اور بےچون وچرا ان کی باتوں کو مانو تاکہ رسوا نہ ہو اور اگر تم اخلاص کے ساتھ ایمان لے آؤ اور پیغمبر خدا پر نکتہ چینی اور اس کی نافرمانی سے بالکلیہ پرہیز کرو تو تم کو بجائے عذاب عظیم اور عذاب الیم کے اجر عظیم ملے یہ کرلیا تو سب کچھ کما لیا ورنہ کچھ نہیں۔
(ف)
اس آیت کی نظیر سورة جن کی یہ آیت فلایظہر علی غیبہ احدا۔ الا من ارتضی من رسول۔ اور مطلب یہ ہے کہ ہر کس وناکس اس کا اہل نہیں خہ اس کو بذریعہ وحی کسی امر غیبی پر مطلع کیا جائے صرف خدا کے برگزیدہ اور پسندیدہ بندہ یعنی رسول کو بذریعہ وحی کسی امر غیبی پر مطلع کیا جاسکتا ہے کما قال تعالیٰ تلک من انباء الغیب۔۔۔۔۔۔۔ الی۔۔۔ للمتقین۔ آیت۔ باقی ایسا علم غیب جو کلی اور تمام کائنات اور ممکنات کو محیظ ہو سو وہ اللہ کے سوا اور کسی کے لیے ممکن بھی نہیں جیسے قدرت کاملہ اللہ کے ساتھ مخصوص ہے ایسا ہی علم محیط بھی اللہ ہی کے ساتھ مخصوص ہے نبی ﷺ کو واقعہ افک میں وحی کا انتظار کرنا پڑا جب آیات برات نازل ہوئیں تب آپ کو حقیقت حال کا علم ہوا حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو حضرت یوسف کے چاہ کنعان میں ہونے کی خبر نہ ہوئی اور مصر سے پر اہین یوسفی کی خوشبو سونگھ لی بہت سے واقعات ایسے پیش آئے کہ نبی ﷺ کو ان کا علم نہیں تھا نزول وحی سے ان کا علم ہوا۔
مذمت بخل۔
سلسلہ کلام چونکہ جہاد کے بارے میں تھا جس سے منافقین جان چراتے تھے اسی طرح جہاد میں مالی امداد سے بھی جان چراتے تھے اور خدا کی راہ میں خرچ کرنے سے بخل کرتے تھے اس لیے آئندہ آیت میں بخل کی مذمت بیان فرماتے ہیں اور ہرگز گمان نہ کریں وہ لوگ جو اس چیز میں بخل کرتے ہیں کہ جو اللہ نے انکو اپنے فضل سے عطا کی ہے کہ یہ بخل ان کے لیے بہتر ہوگا بلکہ یہ ان کے لیے بہت ہی برا ہے کہ خدا کی عطا کی ہوئی چیز میں سے کچھ تھوڑی سی چیز بھی اللہ کے نام پر دنیا ان کو گراں گزرتا ہے قیامت کے دن ان کے گلے میں اس طوق ڈالا جائے گا مال کا جس پر انہوں نے بخل کیا تھا جیسا کہ حدیث میں ۃ ے کہ جو شخص زکوٰۃ نہ دے گا اس کا مال اژدھا بن کر گلے میں پڑے گا اور اس کے کلے چیرے گا اور اللہ ہی کے لیے ہے میراث آسمانوں کی اور زمین کی یعنی تم سب فانی ہو بقا صرف اسی کے لیے ہے تم سب مرجاؤ گے اور مال اور ملکیت سب یہیں چھوڑ جاؤ گے چاہے تم اس کی زکوٰۃ دو یا نہ دو سب مال اسی کا ہو کررہے گا بہتر ہے کہ تم اپنے ہاتھ سے کچھ دے جاؤ تاکہ تمہیں ثواب مل جائے اپنی ملکیت کے غرہ میں نہ رہو تم بھی فانی اور تمہاری ملکیت بھی فانی اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے خبردار ہے وہ تمہارے بخل سے بھی باخبر ہے اس کی سزا سے تم بچ نہیں سکتے یہ مال جس کی زکوٰۃ دینے میں تم بخیل بن گئے ہو قیامت کے دن یہی مال و دولت ایک ایسے کالے اور زہریلے سانپ کی صورت میں ظاہر ہوگا کہ زہر کی شدت اور حدت کی وجہ سے اس کے سر پر بال نہ ہوں گے وہ تمہارے دونوں کلے پکڑ کرک ہے گا کہ میں تیرا مال ہوں اور میں تیرا خزانہ ہوں یعنی وہی مال جس پر تو فخر اور ناز کرتا تھا اور پھر اس کو ڈسے گا۔
گنج را ازدل بروں کن مال خود بفگن زچشم
مال تو مارست درمعنی وگنجت اژدھا۔
Ayahs 3:181–187قال اللہ تعالیٰ لقد سمع اللہ۔۔۔۔۔ الی۔۔ مایشترون۔ آیت۔
ربط) ابتداء سورت کا بڑا حصہ اہل کتاب (یہود ونصاری) سے متعلق تھا اور درمیان میں خاص خاص مناسبات کے بنا پر غزوہ احد کی تفصیلات کا بیان ہوا اب اخیر سورت میں پھر اہل کتاب کی کچھ شنائع اور قبائح کو بیان فرماتے ہیں کہ چونکہ اہل کتاب میں یہود کا معاملہ سخت تھا اور یہ گروہ مسلمانون کا شدید ترین دشمن تھا اور منافقین بھی اکثر انہی میں کے تھے اس لیے یہود کی گستاخیوں کو خاص طور پر ذکر کرتے ہیں۔
شان نزول۔
ابن عباس سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی من ذالذی یقرض اللہ۔ الی۔۔۔ کثیرہ۔ آیت۔ تو یہود یہ کہنے لگے کہ اے محمد آپ کا پروردگار فقیر ہوگیا ہے جو اپنے بندوں سے قرض مانگتا ہے تو اس کے جواب میں یہ آیت یعنی لقد سمع اللہ الخ نازل ہوئی محمد بن اسحاق کی روایت میں ہے کہ ایک روز ابوبکر صدیق ؓ یہود کے مدرسہ میں گئے وہاں فنحاص بن عازوراء جو یہودیوں کا بڑا عالم تھا درس دے رہا تھا اور اسکے پاس یہودیوں کا ہجوم تھا حضرت ابوبکر نے فخاص سے کہا اے فخاص اللہ سے ڈرو اور اسلام قبول کر خدا کی قسم تجھ کوا اس امر کا علم یقینی اور قطعی ہے کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ کی طرف سے حق کو لے کر آئے ہیں اور تم ان کے اوصاف کو توریت میں اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہو پس تجھ کو چاہیے کہ نبی صلی اللہ پر ایمان لائے اور خدا کو قرض حسن دے یعنی اس کی راہ میں صدقہ اور خیرات کرے اللہ تعالیٰ تمہیں جنت میں داخل کرے گا اور دو چند ثواب دے گا فخاص بولا اے ابوبکر تمہارا یہ گمان ہے کہ ہمارا پروردگار ہم سے قرض مانگتا ہے حالانکہ قرض تو فقیر غنی سے لیا کرتا ہے اگر خدا فقیر نہ ہوتا تو قرض نہ مانگتا۔ پس اگر تیرا یہ قول صحیح ہے تو بلاشبہ اللہ فقیر ہے اور ہم مال دار ہیں اس پر حضرت ابوبکر کو غصہ آگیا اور زور سے ایک طمانچہ اس کے منہ پر رسید کیا اور کہا کہ دشمن خدا اگر ہمارے اور تیرے درمیان عہد نہ ہوتا تو بخدا میں تیری گردن ماردیتا فخاص نے نبی ﷺ کے پاس جا کر ابوبکر کی شکایت کی اور کہا اے محمد آپ کے رفیق نے میرے ساتھ یہ بری حرکت کی نبی نے ابوبکر سے کہا تم نے یہ حرکت کیوں کی ابوبکر نے عرض کیا یارسول اللہ اس دشمن خدا نے بڑی سخت بات کہی اس نے کہا اللہ فقیر ہے اور ہم مال دار ہیں اس پر مجھے غصہ آیا
اور میں نے اس کے منہ پر طمانچہ مارا فخاص نے کہا میں نے یہ قول نہیں کہا تھا اپنے کہے پر مکر گیا اس پر اللہ نے ابوبکر صدیق کی تصدیق اور فخاص کذیب کی تکذیب اور تردید کے لیے یہ آیت نازل فرمائی کہ واقعی اس کذاب نے یہ ہر زہ سرائی کی تھی چناچہ فرماتے ہیں کہ البتہ تحقی سن لیا اللہ نے قول ان گستاخوں کا جہوں نے یہ کہا کہ اللہ فقیر ہے اور ہم مال دار ہیں اور دولت مند ہیں گزشتہ آیت میں اللہ نے یہود کے بخل کو بیان فرمایا تھا کہ یہ ایسے بخیل کہ اللہ کی راہ میں ایک پیسہ بھی خرچ کرنے کا حکم سنتے ہیں تو مذاق اڑاتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ خدا فقیر ہے اور ہم مال دار ہیں جب ہی تو ہم سے قرض مانگتا ہے مگر یہ کوڑ مغز اور بیوقوف یہ نہیں سمجھتے کہ تمام دنیا کے اغنیاء اور دولت مندوں کی غناء اور دولت اس غنی مطلق کی غنا اور عطا کا ایک پر تو ہے مالک مطلق وہی ہے دولت مندوں کے پاس جو کچھ بھی وہ چندرو عاریت اور امانت ہے مالک حقیقی اپنی انتہائی رحمت و شفقت سے اپنے بندوں سے یہ فرماتاہیہ کہ تم ہمارے دئے ہوئے مال میں سے کچھ مال ہماری راہ میں قرض دے دو ہم تم کو اس کا دس گنا معاوضہ دیں گے کیا کوئی نادان یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ حقیتا قرض مانگتا ہے۔
قرض کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ جو مال تم سے لیا جارہا ہے تم کو اس کا معاوضہ دیا جائے گا بلامعاوضہ تم سے کچھ نہیں لیا جارہا احتیاج اور ضرورت، قرض کے مفہوم میں داخل نہیں ان نادان فقیروں نے قرض کے لفظ سے یہ سمجھ لیا کہ معاذ اللہ اللہ محتاج ہے اور یہ نہ سمجھا کہ یہ سب مال اسی کی مملوک ہے کمال ترحم سے لفظ قرض کا اس لیے استعمال فرمایا ہے ہ تمہارے نفسوں کو اطمینان ہوجائے کہ اس کا اضعافا مضاعفہ معاوضہ ملے گا تم سے مفت نہیں لیا جارہا پھر یہ کہ اللہ تعالیٰ جب کبھی بندوں کو خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے اس میں بندوں ہی کے دنیوی اور اخروی فوائد اور منافع مضمر ہوتے ہیں خرچ کرو یا نہ کرو خدا کا کوئی نفع نہیں۔
خلاصہ کلام یہ کہ تم اور تمہاری ہر چیز اس کی مملوک ہے اور تمہارے پاس چند روزہ عاریت ہے حقیقی معنی کے اعتبار سے بارگاہ خداوندی میں قرض ناممکن ہے تم اپنے مال و دولت کے تو کیا مالک ہوتے تم تو اپنے وجود کے بھی مالک نہیں تم تو اپنی صحت اور تندرستی اور حرکت و سکون کے بھی مالک نہیں۔ اس مالک حقیقی نے جب تمک و اپنے عطا کردہ دولت میں سے تمہارے ہی فائدے کے لیے کچھ خرچ کرنے کا حکم دیا تو کمال ترحم سے اس کو قرض سے تعبیر فرمایا تاکہ اس بات کی رجسٹری ہوجائے کہ بارگاہ خداوندی سے اس کا اضعافا مضاعفہ معاوضہ ملے گا جیسے قرض کی ادائیگی عقلا ضروری ہوتی ہے اسی طرح اس غنی مطلق نے جو چیز قرض کے نام سے لی ہے ضرور بالضرور اس کا معاوضہ ملے گا تاکہ بخیل طبیعتیں گھبرائیں نہیں ان بدباطن بخیلوں نے جب اللہ کا حکم سنا تو بجائے احسان ماننے کے ہنسی اور مذاق اڑانے لگے اس پر اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری یہ گستاخانہ باتیں سن لی ہیں اس پر جو کاروائی ہوگی اس کے منتظر رہو ہم ابھی اس بات کو لکھ رکھیں گے جو انہوں نے کہی ہے یعنی ان کے جرائم کے رجسٹر میں اس ناپاک اور ملعون قول کو بھی درج کرائے دیتے ہیں اور جیسا کہ ان کے اور ان کی قوم کے دوسرے ملعون قول کو بھی درج کروائے اسی طرح انہوں نے جو نبیوں کے ناحق خون کیے ہیں ان کو بھی لکھ لیں گے اور قیامت کے دن ان سے کہیں گے جلتی آگ کے عذاب کا مزہ چکھو اشارہ اس طرف ہے کہ تمہارا یہ گستاخانہ جملہ، قتل انبیاء کے ہم پلہ ہے ان کا یہ گستاخانہ قول قتل انبیاء کے جرم سے کم نہیں۔
(ف)
جاننا چاہیے کہ اوپر جو قول مذکور ہوا وہ نبی ﷺ کے زمانہ کے نبی ﷺ کے زمانہ کے یہودی پانے بزرگوں کے اس فعل کو اچھا سمجھتے تھے اس لیے قتل انبیاء کو ان کی طرف منسوب کیا گیا کسی فعل سے راضی ہونا اس فعل کے کرنے کے برابر ہے۔ امام شعبی سے مروی ہے کسی شخص نے ان کے سامنے حضرت عثمان کا ذکر کیا اور ان کے قتل پر خوشنودی ظاہر کی تو امام شعبی نے کہا تو بھی عثمان کے قتل کے گناہ میں شریک ہوگیا بعدازاں امام شعبی نے یہ آیت پڑھی، قل قد جاء کم رسل من قبلی۔۔۔۔ الی۔۔ قتلتموھم۔ یہ عذاب تمہارے ان اعمال کی سزا اور بدلہ ہے کہ جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجے یعنی جلانے والا عذاب تمہارے افعال کی سزا ہے کہ تم نے اللہ کو فقیر کہا اور انبیاء کو قتل کیا اور اس لیے ہے کہ جلانے والا عذاب تمہارا افعال کی سزا ہے کہ تم نے اللہ کو فقیر کہا اور انبیاء کو قتل کیا اور اس لیے ہے کہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں بلکہ عادل ہے اور عدل کا مقتضی مجرمین کو سزا دینا ہے تم نے جو کمایا اور تمہارے ہاتھوں نے جو سمیٹا وہ تمہارے سامنے آگیا اللہ نے تم پر ذرہ برابر ظلم نہیں کیا یہ سزا اور بلا تمہارے ہی اعمال کی صورت ہے کوئی نئی چیز نہیں یہ عذاب الیم۔ معاذ اللہ ظلم عظیم نہیں بلکہ عدل عظیم ہے اور تمہارے جرم عظیم اور ظلم عظیم کی سزا ہے۔
نکتہ۔
ظلام مبالغہ کا صیغہ ہے اور لیس بظلام للعبید میں مبالغہ کی نفی مراد نہیں بلکہ مبالغہ فی النفی مراد ہے جیسا کہ بخاری کی روایت میں بار بار آتا ہے، حدثنی البراء وھوغیر کذوب کذوب مبالغہ کا صیغہ ہے اور غیر کذوب سے مبالغہ کی نفی مراد نہیں بلکہ مبالغہ فی النفی مراد ہے ہماری اس عبارت کا مطلب کسی اسیے عالم سے حل کرلیں جو مطول اور مختصر معانی پڑھا چکا ہو اور بعض علمائے نے یہ کہا ہے کہ ظلام صیغہ نسبت ہے بمعنی ذی ظلم جیسے صباغ اور دباغ اور عطار اور معنی یہ ہیں کہ اللہ کو ظلم سے کوئی نسبت نہیں یا یہ کہ مقصود کلام تعریض ہے کہ اللہ تو ظلام نہیں البتہ بندوں میں بڑے ظلام ہیں یعنی بڑے بڑے ظالم ہیں اور اشارہ یہود کی طرف ہے کہ یہ بڑے ظالم ہیں۔
یہود کا ایک اور افتراء اور اس کی تردید۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ سے پہلے بعض انبیاء بنی اسرائیل کو یہ معجزہ عطا فرمایا تھا کہ قربانی یا کوئی چیز اللہ کے نام کی نیاز کی تو آسمان سے ایک آگ آتی اور اس کو کھا جاتی تو یہ اس قوربانی اور نیاز کے قبول ہونے کی علامت ہوتی اور اگر اس کے جلانے کے لیے آسمان سے آگ نہ آتی تو معلوم ہوتا کہ خدا کے یہاں وہ قربانی اور نیاز قبول نہیں ہوئی اب یہود نے ایک بہانہ پکڑا اور یہ کہا اللہ نے ہم کو توریت میں یہ حکم دیا ہے کہ جس نبی سے یہ معجزہ نہ دیکھو اس پر ایمان نہ لانا یہ معجزہ صرف بعض پیغمبروں کو ملا تھا ہر پیغمبر کو اللہ نے اس زمانہ کے مناسب معجزات عطا کیے یہ ضروری اور لازم نہیں کہ ہر نبی ایک ہی معجزہ دکھلا دے چناچہ فرماتے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ الہ نے ہم سے یہ عہد لیا ہے کہ ہم کسی رسول پر ایمان نہ لائیں جب تک وہ ہمارے پاس ایسی قربانی نہ لائے جسے غیب سے آکر آگ کھا جاوے یہ یہود کا مطلب تھا کہ حضور پرنور یہ معجزہ ظاہر نہیں فرمائیں گے اس لیے ہم اس پر ایمان نہیں لائیں گے آپ ان کے جواب میں کہہ دیجئے کہ مجھ سے پہلے کتنے ہی رسول تمہارے پاس اپنی نبوت و رسالت کے دلائل اور براہین اور صاف اور روشن معجزات لے کر آئے اور وہ معجزہ بھی لاچکے ہیں جو تم مانگتے ہو پھر تم نے ان کو کیوں مار ڈالا اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو کہ اللہ نے ہم کو توریت میں ایسا حکم دیا ہے مطلب یہ ہے کہ تم جھوٹے ہو خدا نے کہیں ایسا حکم نہیں دیا اثبات نبوت کے لیے مطلق معجزہ کا ظہور ضروری ہے اس خاص معجزہ کا ظاہر ہونا ضروری نہیں اور اگر تم اس دعوے میں سچے ہو کہ اسی خاص معجزہ کے دکھلانے پر ایمان لانا موقوف ہے تو یہ بتلاؤ کہ جن نبیوں نے اپنی صداقت کے کھلے کھلے نشان دکھلائے اور یہ قربانی کا معجزہ بھی دکھلایا تو تم ان پر کیوں ایمان نہیں لائے بلکہ ان کو قتل کیا معلوم ہوا کہ یہ سب تمہاری حیلہ ساری اور ہٹ دھرمی ہے۔
نبی کریم ﷺ کی تسلی
چونکہ کفار کی تکذیب اور اس قسم کی معاندانہ باتوں سے نبی ﷺ کو رنج ہوتا تھا اس لیے آئندہ آیت میں آپ کی تسلی فرماتے ہیں کہ پس اگر یہ معاند اور کج بحث لوگ آپ کو جھٹلائیں اور آپ کی نبوت کو نہ مانیں تو اس سے رنجیدہ اور دل گیر نہ ہوں کیونکہ آپ سے پہلے کتنے ہی رسول جھٹلائے جاچکے ہیں جو اپنی صداقت کے کھلے کھلے ثبوت اور آسمانی صحیفے اور روشن کتاب لے کر آئے تھے انبیاء صادقین کی تکذیب ان کی قدیم عادت ہے آپ کو کوئی نئی بات پیش نہیں آئی۔
فائدہ۔
بینات سے انبیاء کرام کی صداقت کے روشن دلائل اور کھلے ثبوت مراد ہیں اور زبر لفظ زبور کی جمع ہے جو زبر سے مشتق ہے جس کے معنی لغت میں جھڑکنے اور ڈانٹنے کے ہیں اور اصطلاح شرع میں زبور اس کتاب کو کہتے ہیں جو مضامین حکمت اور نصیحت وموعظت پر مشتمل ہو ایسی کتابوں کو زبور اس لیے کہتے ہیں کہ اور یہاں والزبر سے وہ آسمانی صحیفے مراد ہیں جو مضامین وموعظت پر مشتمل ہوں اور کتاب منیر (یعنی روشن کتاب) سے توریت اور انجیل مراد ہے اگرچہ لفظ زبر ان کو بھی شامل تھا مگر ان کی فضیلت اور شرافت ظاہر کرنے کے لیے ان کو علیحدہ بیان فرمایا۔
وعید برائے مکذبین ووعد برائے مصدقین۔
اب آئندہ آیت میں مکذبین کے لیے وعید اور مصدقین کے لیے وعدہ اور بشارت کا ذکر فرماتے ہیں کہ ہر نفس تم میں سے موت کا مزہ چکھنے والا ہے اور جزایں نیست کہ تم کو پورا پورا بدلہ قیامت کے دن دیا جائے گا دنیا میں یا قبر میں اگر سزا ملتی ہے تو وہ اعمال کا پورا بدلہ نہیں وہ تو سزا کا محض ایک نمونہ ہے پس جو شخص دوزخ سے محفوظ کردیا گیا جو تمام مصیبتوں کا معدن اور منبع ہوا اور جنت میں داخل کردیا گیا جو تمام راحتوں اور نعمتوں اور لذتوں کا معدن اور مخزن ہے پس ایسا شخص ٹھیک مراد کو پہنچا اور کامیاب ہوا اور دنیاوی زندگی اگرچہ وہ کتنی ہی عیش و عشرت کو ساتھ لیے ہوئے وہ کچھ بھی نہیں مگر دھوکہ کا سامان ہے جس پر بیوقوف عاشق ہوگئے ہیں اگر یہ لوگ دنیا کی حقیقت جان لیں تو سمجھ جائیں کہ یہ ساری دنیاغرور یعنی فریب اور دھوکہ ہے کوئی بھی اس کو مول لینے پر تیار نہ ہو۔
دردیدہ اعتبار خوابیست بررھگذر اجل سرابیست
ایمن منشیں زگرم سردش مشغول مشوبہ سرخ وزردش
کافروں کی تکذیب اور ہر زہ درائیوں پر مسلمانوں کو صبر کی تعلیم
چونکہ کافروں کے معاندانہ عبرت اور ہر زہ درائیوں سے مسلمانوں کو ایذا پہنچی تھی اس لیے آئندہ آیت میں مسلمانوں کو صبر کی تلقین فرماتے ہیں مسلمانوں البتہ تم آزمائے جاؤ گے اپنے مالوں میں اور اپنی جانوں میں مطلب یہ ہے کہ جان ومال دونوں ہی سے آزمائش ہوگی خدا کی راہ میں تمہارے مال بھی طلب کیے جائیں گے اور جانیں بھی اور فقر و افلاس میں بھی مبتلا ہوگے اور خدا کی راہ میں کفار کے ہاتھ سے مقتول اور مجروح بھی ہوگے غرض یہ کہ اے مسلمانو تمہاری جانی اور مالی تکالیف کے ذریعہ تمہاری آزمائش ہوگی لہذا تم اس آزمائش کے لیے مستعد رہنا کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمت ہار دو اور البتہ تم ان لوگوں سے جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی ہے اور نیز مشرکین سے بہت دل آزار باتیں سنو گے اور اگر تم ایسے موقعہ پر صبر کرو اور تقوی پر قائم رہو تو بیشک یہ خصلت ہمت کے کاموں میں سے ہے صبر کے معنی ناگوار امر کو برداشت کرنے اور تقوی کے معنی نامناسب بات سے بچنے کے ہیں اور ظاہر ہے کہ اس عظیم خصلت کے لیے ہمت مردانہ چاہیے اور بعض مفسرین نے من عزم الامور کے یہ معنی بیان کیے ہیں کہ یہ جملہ ان کاموں کے ہے جو خدا کی طرف سے تم پر لازم کیے گئے ہیں۔
مذمت اہل کتاب برکتمان حق
گزشتہ آیات میں یہود کے قبائح کو بیان فرمایا اب آئندہ آیت میں ان کی ایک اور خصلت قبیحہ کو بیان کرتے ہیں اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے علماء اہل کتاب سے عہد لیا تھا کہ ہمارے احکام جو توریت اور انجیل میں مذکور ہیں اور نبی آخرالزمان کی جو صفتیں اور بشارتیں ان میں مسطور ہیں ان کو لوگوں سے ہرگز نہ چھپانا مگر ان لوگوں نے اللہ سے جو عہد لیا تھا اس کو پس پشت ڈال دیا اور اپنے امیروں سے رشوت لے کر پیغمبر آخرالزمان کی بشارتوں کو چھپا لیا اور یاد کرو اس وقت کو جب کہ اللہ نے ان لوگوں سے جن کو کتاب دی گئی یہ عہد لیا کہ تم اس کتاب کے تمام مضامین کو خود بخود لوگوں کے سامنے بیان کرنا اگرچہ کوئی تم سے دریافت بھی نہ کرے تم پر ان مضامین کا بیان اور اعلان واجب ہے تم اس کے مضامین کو لوگوں کے سامنے بیان کرنا اور پوشیدہ نہ رکھنا پس ان لوگوں نے اس عہد اور میثاق کو پس پشت پھینک دیا اور اس کے بدلہ میں بہت تھوڑا سا معاوضہ لے لیا یعنی دنیاوی لالچ میں نبی کی صفتوں وار بشارتوں کو چھپا لیا پس کیا ہی بری چیز ہے کہ جو وہ خرید رہے ہیں یعنی تھوڑے سے نذرانوں کے لالچ میں کتاب الہی کا مطلب الٹا سلٹا کرتے ہیں اور حق بات کو ظاہر نہیں کرتے بہت ہی برا سودا ہے۔
Ayahs 3:188–189مذمت خود پسندی ومدح خواہی۔
قال تعالیٰ لاتحسبن الذین۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ قدیر۔ آیت۔
نبی ﷺ جب علماء یہود سے کوئی بات دریافت کرتے تو وہ اصل بات کو تو چھپالیتے اور خلاف بات واقع بیان کرکے چلے جاتے پھر اپنے اس چھپانے پر دل میں خوش ہوتے کہ ہماری چالاکیوں کو کوئی پکڑا نہیں سکتا اور امید رکھتے کہ لوگ ہماری تعریف کریں گے اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی اے نبی آپان لوگوں کو جو اپنی اس چالاکی پر خوش ہوتے ہیں جو انہوں نے کی ہے اور چاہتے ہیں کہ ان کی تعریف کی جائے اس کام پر جو انہوں نے کیا یعنی جو بھلائی نہیں کی اس پر آفرین چاہتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں کہ دیکھو کس طرح حیلہ اور بہانہ سے اپنی جان بچائی پس آپ ان کی نسبت یہ گمان ہرگز نہ کرنا کہ وہ عذاب سے چھوٹ جائیں گے اور ان لوگوں کے لیے تو بڑا ہی دردناک عذاب ہے جو کہ ان کی ساری خوشی اور خود پسندی اور مدح خواہی کو اچھی طرح خاک میں ملا دے گا اگرچہ یہ آیت خاص یہود کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن اس کا حکم عام ہے جو شخص بھی اپنے برے افعال سے خوش ہوگا اور ناکردہ امور پر اپنی تعریف چاہے گا وہ اس وعید میں داخل ہوگا اور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہت آسمانوں کی اور زمین کی اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے پس ایسے قادر مطلق کے عذاب سے چھٹکارا پانے کی کوئی سبیل نہیں اور خصوصا جو گستاخ آسمان و زمین کے مالک کو فقیر کہتا ہو ایسے گستاخ کی تو عذاب سے کسی طرح رہائی ہو ہی نہیں سکتی اس لیے کہ جس کی سلطنت آسمان و زمین کو محیط ہو اس کا مجرم بھاگ کر آخر کہاں جائے گا۔