3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 3:98–99

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ۖۗ وَ اللّٰهُ شَهِیْدٌ عَلٰى مَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:98 in the Quran reader

کہو کہ اے اہل کتاب تم خدا کی آیتوں سے کیوں کفر کرتے ہو ؟ اور خدا تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ تَبْغُوْنَهَا عِوَجًا وَّ اَنْتُمْ شُهَدَآءُ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:99 in the Quran reader

کہو کہ اے اہل کتاب ! تم مومنوں کو خدا کے راستے سے کیوں روکتے ہو ؟ اور باوجودیکہ تم اس سے واقف ہو اس میں کجی نکالتے ہو اور خدا تمہارے کاموں سے بیخبر نہیں

ملامت اہل کتاب بر کفر واغواء۔ قال تعالیٰ قل یا اھل الکتاب لم تکفرون تا تعملون۔ ربط۔ گزشتہ آیات میں یہود کے شبہات کا جواب دے کر یہ ثابت کردیا کہ نبی کریم ﷺ دین ابراہیمی پر ہیں اور خانہ کعبہ ہی اول معبد اور بناء ابراہیمی ہے اب ان آیات میں اہل کتاب کو ملامت کی جاتی ہے کہ حق واضح ہوجانے کے بعد تمہارا عجب حال ہے کہ خود بھی قبول حق سے محروم اور دوسروں کو بھی راہ حق سے ہٹانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہو اسلام میں جھوٹے اور فرضی شکوک نکال نکال کر لوگوں کو یہ باور کرانا چاہتے ہو کہ اسلام سیدھا راستہ نہیں بلکہ ٹیڑھا ہے اللہ تمہاری ان سازشوں سے غافل نہیں چناچہ فرماتے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب کیوں منکر ہوتے ہو اللہ کی نشانیوں کے جن سے خانہ کعبہ کا قبلہ ابرہیمی ہونا اور نبی ﷺ کا ملت ابراہیمی پر ہونا خوب واضح اور روشن ہے اور تم کو یقین ہے کہ دین محمدی بلکل سچ ہے اور کعبہ قبلہ ابراہیمی ہے اور اس کا حج فرض ہے پھر اس علم اور یقین کے بعد تم کیوں انکار کرتے ہو اور اللہ گواہ ہے اس چیز پر جو تم کررہے ہو لہذا حق کا چھپانا تم کو مفید نہ ہوگا اور آپ ان سے یہ بھی کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب تم کیوں کوشش کرتے ہو اللہ کی راہ یعنی دین اسلام سے روکنے اور ہٹانے کی اس شخص کو جو ایمان لانے کا ارادہ کرچکا ہے تم اس راستہ میں کجی ڈھونڈتے ہو یعنی اس سیدھے راستے میں فرضی شبہ نکال کر یہ بتانا چاہتے ہو کہ یہ راستہ کج ہے مطلب یہ ہے کہ دین حق میں جھوٹ موٹ کے عیب نکالتے رہتے ہو تاکہ مسلمانوں کے دلوں میں شکوک پیدا ہوجائیں اور یہ سمجھنے لگیں کہ یہ راستہ سیدھا نہیں حالانکہ تم خود گواہ ہو کہ دین اسلام اللہ کی سیدھی راہ ہے پس اس میں عیب کہاں سے آیا اور جو کام تم کرتے ہو یعنی لوگوں کو خدا کی راہ سے روکنا اللہ اس سے غافل نہیں وہ ضرور تمہیں اس کی سزا دے گا پہلی آیت میں ان کا عمل کفر تھا جو ظاہر تھا اس لیے پہلی آیت کو واللہ شھید علی ماتفعلون۔ آیت۔ پر ختم فرمایا اور دوسری آیت میں ان کا عمل مسلمانوں کو حیلہ اور مکر کے ذریعہ اسلام سے روکنا تھا جو مخفی اور پوشیدہ تھا اس لیے دوسری آیت میں وما اللہ بغافل عما تعملون۔ آیت۔ پر ختم فرمایا ہر آیت میں وہی الفاظ استعمال فرمائے جو ان کے عمل کے مناسب تھے۔
Ayahs 3:100–101

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تُطِیْعُوْا فَرِیْقًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ یَرُدُّوْكُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 3:100 in the Quran reader

مومنو ! اگر تم اہل کتاب کے کسی فریق کا کہا مان لو گے تو وہ تمہیں ایمان لانے کے بعد کافر بنادیں گے

وَ كَیْفَ تَكْفُرُوْنَ وَ اَنْتُمْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ اٰیٰتُ اللّٰهِ وَ فِیْكُمْ رَسُوْلُهٗ١ؕ وَ مَنْ یَّعْتَصِمْ بِاللّٰهِ فَقَدْ هُدِیَ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۠ Open ayah 3:101 in the Quran reader

اور تم کیونکر کفر کرو گے جبکہ تم کو خدا کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی ہیں اور تم میں اس کے پیغمبر موجود ہیں اور جس نے خدا (کی ہدایت کی رسی) کو مضبوط پکڑ لیا وہ سیدھے راستے لگ گیا

مسلمانوں کو اہل کتاب کے دھوکہ میں نہ آنے کی نصیحت۔ قال تعالیٰ یا ایھا الذین۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ مستقیم۔ ربط۔ گزشتہ آیات میں یہ بیان تھا کہ اہل کتاب طرح طرح کے حیلوں اور مکاریوں سے مسلمانوں کو بہکانے اور گمراہ کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں اب ان آیات میں مسلمانوں کو اس امر کی تفہیم اور فہمائش کی جاتی ہے کہ اہل کتاب کے دھوکہ میں نہ آئیں اور ان کی بات نہ مانیں ورنہ تمہیں رفتہ رفتہ اسلام سے پھیر کر کافر بنادیں گے۔ شان نزول ان آیتوں کا شان نزول یہ ہے کہ شماس بن قیس یہودی جس کو مسلمانوں سے غایت درجہ حسد تھا ایک دن اس کا انصار کی ایک مجلس پر گزر ہوا جس میں انصار کے دونوں قبیلوں اوس اور خزرج کے لوگ شیروشکر ہوئے بیٹھے تھے اور آپس میں محبت اور انس کے ساتھ باتیں کررہے تھے حالانکہ اسلام سے پہلے ان دونوں قبیلوں میں غایت درجہ عداوت تھی اور ان دونوں قبیلوں میں جنگ عظیم ہوتی تھیں اسلام کی برکت سے وہ عداوت جاتی رہی تھی اور اب کوئی اس کا اثر باقی نہ رہا تھا اس یہودی کو مسلمانوں کا محبت اور اتفاق کے ساتھ ایک جگہ بیٹھنا سخت ناگوار ہوا آخر اس نے ان کے پاس بیٹھ کر وہ لڑائیاں یاد دلائیں جو زمانہ جاہلیت میں ان دونوں قبیلوں میں ہوئی تھیں اور ان لڑائیوں کے متعلق شعراء نے جو شعر پڑھے تھے وہ بھی انہیں کچھ پڑھ کر سنائے اس سے ان دونوں قبیلوں کو ایسا جوش آیا کہ تلواریں سونت کر کھڑے ہوئے یہ خبر نبی ﷺ کو پہنچی آپ اسی وقت مع ان مہاجرین وانصار کے جو اس وقت آپ کی خدمت میں موجود تھے ان کی مجلس میں تشریف لائے اور یہ فرمایا کہ کیا تم لوگ پھر جاہلیت کی باتوں کی طرف جاتے ہو حالانکہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں اور اللہ نے تم کو اسلام سے عزت عطا فرمائی اور تمہارے دلوں میں الفت عطا فرمائی آپ کے اس ارشاد کے بعد سب اپنی حرکت پر نادم ہوئے اور فوراہتھیار ڈال دیے اور ایک دوسرے سے گلے ملے اس پر اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اے مسلمانوں تم اہل کتاب کا کہنا نہ مانو اگر تم بعض اہل کتاب کی بات مانو گے تو یہ تم کو ایمان کے کافر بنا کر چھوڑیں گے کیونکہ حسد رکھتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں خہ جیسے خود کافر ہیں ایسے ہی تم بھی کافر ہوجاؤ اور تم کیسے کفر کرو گے حالانکہ تم پر اللہ کی آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں اور تم میں خدا کے پیغمبر موجود ہیں کہ جو تم کو وعظ ونصیحت کرتے رہتے ہیں اور تمہارے شبہوں کو زائل کرتے رہتے ہیں جس کے بعد یہ غلط فہمی کی کوئی گنجائش نہیں اور جو مظبوط پکڑے اللہ کو یعنی اللہ کی کتاب کو اور اس کے رسول کی تلقین اور ہدایت کو اور اس پر عمل کرے پس تحقیق رہنمائی کی گئی اس کی سیدھی راہ کی طرف کہ اب اس کو شبہات سیدھے راستہ سے نہ ہٹا سکیں گے۔ فائدہ۔ آیت کیف تکفرون۔ میں کفر سے عام معنی مراد ہیں جو کفر اعتقادی اور کفر عملی دونوں کو شامل ہے اس لیے کہ مسلمانوں کی نااتفاقی اور باہمی قتال وجدال عملی کفر ہے کیونکہ نااتفاقی مسلمان کو کفر کے قریب پہنچا دیتی ہے اور قاعدہ عقلیہ ہے القریب من الشئی یاخذ حکمہ۔ کہ جو جس سے قریب ہو اسی کا حکم لے لیتا ہے قرآن کریم محارات کے مطابق نازل ہوا اور محاورہ میں جو شخص جس قوم کے افعال کرتا ہے اس پر اسی قوم کا اطلاق کرتے ہیں جیسے کمینہ حرکت کرنے والے کو کہتے ہیں کہ تو چمار ہے۔ اور کبھی کہتے ہیں کہ تو گدھا ہے یعنی تیری حرکت چمار اور گدھے جیسے ہے۔ تنفیر (یعنی نفرت) دلانے کے لیے یہ عنوان اختیار کیا گیا ہے یہ مطلب نہیں کہ یہ شخص حقیقت میں چمار یا گدھا ہوگیا بلکہ مراد یہ ہوتی ہے کہ عملا چمار اور گدھا ہوگیا اسی طرح یہاں مراد یہ ہے کہ قتال وجدال کرنے والاعملا کافر ہے گواعتقاد مومن ہے پس جیسا کہ چمار اور حمار کی دو قسمیں ہیں ایک حقیقی چمار جس کی ذات ہی چمار ہو ایک عملی چمار جو چماروں جیسے کام کرے۔ اسی طرح کافر کی بھی دو قسمیں ہیں ایک حقیقی کافر جو اعتقادی طور پر کفر کرے دوسرے عملی کافر جو کافروں جیسا عمل کرتا ہو یہ تقسیم محاورات کے بلکل موافق ہے کوئی دقیق بات نہیں مگر معتزلہ اور خوارج نے اس محاورہ کو نہیں سمجھا اور کفر کو حقیقی معنوں پر محمول کرکے حکم لگادیا کہ گناہ کبیرہ کا ارتکاب حقیقت کفر ہے یا گناہ کبیرہ کے ارتکاب سے حقیقتا ایمان سے خارج ہوجاتا ہے۔
Ayahs 3:102–117

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِهٖ وَ لَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 3:102 in the Quran reader

مومنو ! خدا سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور مرنا تو مسلمان ہی مرنا

وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا١۪ وَ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ كُنْتُمْ اَعْدَآءً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهٖۤ اِخْوَانًا١ۚ وَ كُنْتُمْ عَلٰى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَكُمْ مِّنْهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ Open ayah 3:103 in the Quran reader

اور سب مل کر خدا (کی ہدایت کی) رسی کو مضبوط پکڑے رہنا اور متفرق نہ ہونا اور خدا کی اس مہربانی کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی اور تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہوگئے اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے تک پہنچ چکے تھے تو خدا نے تم کو اس سے بچا لیا اس طرح خدا تم کو اپنی آیتیں کھول کھول کر سناتا ہے تاکہ تم ہدایت پاؤ

وَ لْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ یَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَیْرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 3:104 in the Quran reader

اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائے اور اچھے کام کرنے کا حکم دے اور برے کاموں سے منع کرے یہی لوگ ہیں جو نجات پانے والے ہیں

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ تَفَرَّقُوْا وَ اخْتَلَفُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْبَیِّنٰتُ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ Open ayah 3:105 in the Quran reader

اور ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جو متفرق ہوگئے اور احکام بین کے آنے کے بعد ایک دوسرے سے (خلاف و) اختلاف کرنے لگے یہ وہ لوگ ہیں جن کو (قیامت کے دن) بڑا عذاب ہوگا

یَّوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْهٌ وَّ تَسْوَدُّ وُجُوْهٌ١ۚ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْهُهُمْ١۫ اَكَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 3:106 in the Quran reader

جس دن بہت سے منہ سفید ہوں گے اور بہت سے سیاہ تو جن لوگوں کے منہ سیاہ ہوں گے (ان سے خدا فرمائے گا) کیا تم ایمان لا کر کافر ہوگئے تھے ؟ سو (اب) اس کفر کے بدلے عذاب (کے مزے) چکھو

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ ابْیَضَّتْ وُجُوْهُهُمْ فَفِیْ رَحْمَةِ اللّٰهِ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 3:107 in the Quran reader

اور جن لوگوں کے منہ سفید ہونگے وہ خدا کی رحمت (کے باغوں) میں ہوں گے اور ان میں ہمیشہ رہیں گے

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 3:108 in the Quran reader

یہ خدا کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو صحت کے ساتھ پڑھ کر سناتے ہیں اور خدا اہل عالم پر ظلم نہیں کرنا چاہتا

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 3:109 in the Quran reader

اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے اور سب کاموں کا رجوع (اور انجام) خدا ہی کی طرف ہے

كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ١ؕ وَ لَوْ اٰمَنَ اَهْلُ الْكِتٰبِ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ اَكْثَرُهُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 3:110 in the Quran reader

(مومنو ! ) جتنی امتیں (یعنی قومیں) لوگوں میں پیدا ہوئیں تم ان سب سے بہتر ہو کہ نیک کام کرنے کو کہتے ہو اور برے کاموں سے منع کرتے ہو اور خدا پر ایمان رکھتے ہو اور اگر اہل کتاب بھی ایمان لے آتے تو ان کے لیے بہت اچھا ہوتا ان میں ایمان لانے والے بھی ہیں (لیکن تھوڑے) اور اکثر نافرمان ہیں

لَنْ یَّضُرُّوْكُمْ اِلَّاۤ اَذًى١ؕ وَ اِنْ یُّقَاتِلُوْكُمْ یُوَلُّوْكُمُ الْاَدْبَارَ١۫ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 3:111 in the Quran reader

اور یہ تمہیں خفیف سی تکلیف کے سوا کچھ نقصان نہیں پہنچا سکیں گے اور اگر تم سے لڑیں گے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے پھر ان کو مدد بھی (کہیں سے) نہیں ملے گی

ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الذِّلَّةُ اَیْنَ مَا ثُقِفُوْۤا اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ حَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ وَ بَآءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الْمَسْكَنَةُ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَۗ Open ayah 3:112 in the Quran reader

یہ جہاں نظر آئیں گے ذلت کو دیکھو گے کہ ان سے چمٹ رہی ہے بجز اس کے کہ یہ خدا اور (مسلمان) لوگوں کی پناہ میں آجائیں اور یہ لوگ خدا کے غضب میں گرفتار ہیں اور ناداری ان سے لپٹ رہی ہے یہ اس لئے کہ خدا کی آیتوں سے انکار کرتے تھے اور (اسکے) پیغمبروں کو ناحق قتل کردیتے تھے یہ اس لیے کہ یہ نافرمانی کیے جاتے اور حد سے بڑھے جاتے تھے

لَیْسُوْا سَوَآءً١ؕ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اُمَّةٌ قَآئِمَةٌ یَّتْلُوْنَ اٰیٰتِ اللّٰهِ اٰنَآءَ الَّیْلِ وَ هُمْ یَسْجُدُوْنَ Open ayah 3:113 in the Quran reader

یہ بھی سب ایک جیسے نہیں ہیں ان اہل کتاب میں کچھ لوگ (حکم خدا پر) قائم بھی ہیں جو رات کے وقت خدا کی آیتیں پڑھتے اور (اسکے آگے) سجدے کرتے ہیں

یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 3:114 in the Quran reader

(اور) خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے اور اچھے کام کرنے کو کہتے اور بری باتوں سے منع کرتے اور نیکیوں پر لپکتے ہیں اور یہی لوگ نیکوکار ہیں

وَ مَا یَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلَنْ یُّكْفَرُوْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالْمُتَّقِیْنَ Open ayah 3:115 in the Quran reader

اور یہ جس طرح کی نیکی کریں گے اس کی ناقدری نہیں کی جائے گی اور خدا پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 3:116 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہیں ان کے مال اور اولاد خدا کے عذاب کو ہرگز نہیں ٹال سکیں گے اور یہ لوگ اہل دوزخ ہیں کہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے

مَثَلُ مَا یُنْفِقُوْنَ فِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَثَلِ رِیْحٍ فِیْهَا صِرٌّ اَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَاَهْلَكَتْهُ١ؕ وَ مَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَ لٰكِنْ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 3:117 in the Quran reader

یہ جو مال دنیا کی زندگی میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال ہوا کی سی ہے جس میں سخت سردی ہو اور وہ ایسے لوگوں کی کھیتی پر جو اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے چلے اور اسے تباہ کردے اور خدا نے ان پر کچھ ظلم نہیں کیا بلکہ یہ خود اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں

قال تعالی۔ یا ایھا الذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ ترجع الامور۔ آیت۔ ربط) گزشتہ آیات میں اللہ نے باہمی قتال وشقاق کو تکفرون یعنی کفر سے تعبیر فرمایا اب آئندہ آیت میں تقوی اور اعتصام بحبل اللہ یعنی اتفاق اور اتحاد اور اسلامی مواخات کا حکم دیتے ہیں اور اتفاق اور اتحاد کا ایک دستور العمل بتلاتے ہیں وہ یہ کہ اول تقوی اور اسلام پر مداومت اور استقامت کا حکم دیا اور پھر اعتصام بحبل اللہ کا حکم فرمایا کہ سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑو پھر یہ ارشاد فرمایا، واذکر نعمتہ اللہ علیکم۔ الخ۔ آیت۔ جس میں حکم دیا کہ اتفاق اور اتحاد کی نعمت کو یاد کرو، اور اس نعمت کو اور اس کی برکات کو یاد کرکے موازنہ کرو کہ پہلے تمہاری کیا حالت تھی اور اب کیا حالت ہے اور باہمی شقاق اور قتال میں کیا کیا مصیبتیں اور ذلتیں اٹھائیں اور اسلام کی بدولت جو تم کو اتفاق کی نعمت ملی اس میں تم کیا کیا راحتیں اور عزتیں ملیں چناچہ فرماتے ہیں اے ایمان والو ڈرتے رہو اللہ سے جیسے چاہیے اس سے ڈرنا جتنا تم سے ممکن ہو اس میں کوتاہی نہ کرو اور دشمنوں کے ورغلانے سے حسد اور فخر میں مت پڑو اور حاسدوں کے یاد دلانے سے گزشتہ عداوتوں کا خیال کرکے اسلامی اخوت اور مودت اور ایمانی محبت والفت کو مکدر نہ کرو اور سوائے اسلام کے اور کسی حالت پر ہرگز جان نہ دینا یعنی مرتے دم تک اسلام پر قائم رہنا۔ اور اسلام دین اور دنیا کی نعمتوں کا سرچشمہ ہے اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑے رہو، یعنی قرآن کریم اوردین اسلام اور شریعت کو مضبوطی کے ساتھ پکڑے رہو جس طرح رسی کو پکڑ لینا اوپر سے گرنے سے بچاتا ہے اور نیچے سے اوپر تک پہنچنے کا ذریعہ بن جاتا ہے اسی طرح قرآن کریم اوردین اسلام کو مضبوط پکڑنا بندہ کو خدا تک پہنچاتا ہے اور آگ میں گرنے سے بچاتا ہے اور خدا کی رسی اس قدر مضبوط ہے کہ ٹوٹ تو نہیں سکتی لاانفصام لہا۔ البتہ غفلت کی بنا پر ہاتھ سے چھوٹ سکتی ہے غرضیہ کہ سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑو اور متفرق اور پراگندہ مت ہوؤ یعنی خدا کی رسی پکڑنے والوں سے کبھی جدا اور علیحدہ نہ ہونا بلکہ ہمیشہ ان کے ساتھ رہنا تاکہ تم بھی ان کے ساتھ مل کر خدا تک پہنچ جاؤ جو شخص خدا کی رسی کو چھوڑ دے گا وہ اوپر سینیچے گرے گا اور خدا کی رسی پکڑنے والے اوپر پہنچ جائیں گے اور چھوڑنے والے ہلاکت اور ذلت اور حسرت کے گڑھے میں ہوگا اور یاد کرو تم اللہ کے اس انعام اور اھسان کو جو تم پر مبذول ہوا کہ جب تم اسلام سے پہلے ایک دوسرے کے دشمن تھے اور باہم برسرپیکار تھے پھر خدا نے تم کو اسلام کی توفیق دے کر تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی پس ہوگئے تم اللہ کے فضل سے بھائی بھائی اور برسوں کی عداوت مبدل بالفت ہوگئی یہ تو دنیوی نعمت ہوئی اب آئندہ آیت میں اخروی نعمت کا ذکر فرماتے ہیں اور تم جہنم کے گڑھے کے کنارے پر کھڑے تھے کہ جہنم میں جانے کے لیے صرف مرنے کی دیر تھی کہ اللہ نے تم کو محمد ﷺ کی ذریعہ بچا لیا یہ دینی اور اخروی نعمت ہوئی کہ تم شرک اور بت پرستی اور گندے عقائد اور اعمال کی وجہ سے دوزخ کے کنارے پر آلگے تھے اس میں گرنے کے لیے صرف مرنے کی دیر تھی اگر تم اس وقت مرجاتے تو سوائے دوزخ کے کوئی ٹھکانہ نہ تھا ایسے وقت اللہ نے تمہاری مدد کی کہ تمہیں اسلام کی توفیق دے کر دوزخ کے گڑھے سے بچالیا پس تم اللہ کی نعمتوں کو یاد کرکے ان کی قدر کرو اور شکر کرو اور شکر وہی ہے کہ حبل اللہ کو مضبوط پکڑے رہو اور یہود کے اغواء سے اسلام کو نہ چھوڑو جس کی برکت سے تم کو یہ نعمتیں ملی ہیں اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنی نشانیاں بیان کرتا ہے تاکہ تم سیدھے راستہ پر چلتے رہو اور گمراہی کے گڑھے میں نہ گرو۔ اور جس طرح تم خدا کی رحمت سے گمراہی کے گڑھے سے نکل گئے ہو اسی طرح تم میں سے ایک جماعت ہونی چاہیے کہ کہ جو اپنے بھائیوں کو آگ کے گڑھے سے نکالنے کی کوشش کرے جس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ دوسروں کو نیکی کی طرف بلائیں اور اچھے کاموں کی ہدایت کریں اور برے کاموں سے منع کریں اور ایسے ہی لوگ جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے ہیں مراد کو پہنچنے والے ہیں اور جو ایسا نہ کرے وہ سراسر نقصان اور خسارہ میں ہیں معروف وہ ہے جس کو شریعت اور کتاب سنت پہچانتی ہو اور منکر وہ ہے جس کو شریعت کا علم نہ ہو کہ یہ کیا بلا ہے۔ فائدہ۔ گزشتہ آیتوں میں اللہ نے اہل کتاب کے دو عیب بیان فرمائے، یا اھل الکتاب لم تکفرون۔ آیت۔ اے اہل کتاب تم خو کیوں کفر کرتے ہو، دوم یہ کہ تم دوسروں کو کافر بنانے کی کوششیں کیوں کرتے ہو، کما قال تعالی، یا اھل الکتاب لم تصدوں عن اللہ۔ الخ۔ آیت۔ اہل کتاب کے ان دونوں عیبوں کے بیان کرنے کے بعد اس کے بالمقابل حق تعالیٰ نے مسلمانوں کو دو باتوں کا حکم دیتے ہیں اول یہ کہ تم خود تقوی اور اسلام پر قائم رہو دوم یہ کہ دوسروں کو خیر اور نیکی کی دعوت دو اور لوگوں کو راہ راست پر لانے کی کوشش کرو اور ان لوگوں کے مشابہ اور مانند نہ بنو جو حق سے جدا ہوگئے اور اللہ کی رسی کو چھوڑ کر بہتر فرقے بن گئے اور اختلاف کرنے لگے بعد اس کے کہ ان کے پاس اللہ کی طرف سے صریح اور واضح احکام آچکے تھے یعنی خدا کی صریح آیتیں اور واضح ہدایت آجانے کے بعد اپنی نفسانی خواہشوں سے دین میں اختلاف ڈالا اور مختلف فرقے بن گئے جاننا چاہیے کہ تفرق اور اختلاف وہ ممنوع اور منہی عنہ ہے جو شریعت کے ایسے سریح احکام میں جن میں کسی قسم کا اشتباہ نہ ہو ان میں اختلاف کرنے لگو اور اس اختلاف کا منشا محض نفسانیت ہو ایسا اختلاف بلاشبہ ممنوع ہے البتہ جو امور اجتہادی ہوں اور شریعت میں ان کا حکم اختلاف کرنا ممنوع اور منہی عنہ نہیں بلکہ عین رحمت ہے صحابہ کرام اور پھر تابعین اور ائمہ مجتہدین کا کوئی اختلاف شریعت کے کسی صریح اور واضح احکام میں نہیں بلکہ وہ اجتہادی مسائل میں ہے جو ان میں سے صوات کو پہنچا اس کے لیے دو اجر ہیں اور جس سے کوئی اجتہادی خطا ہوئی اس کے لیے ایک اجر ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ نے اختلاف صحابہ وتابعین پر مستقل کتاب لکھی ہے اس کو دیکھ لیاجائے اور ایسے لوگوں کے لیے جو آیات بینات اور احکام واضحات کے آجانے کے بعد تفریق اور اختلاف کریں بڑا عذاب ہے اس لیے کہ آیات بینات کے بعد اختلاف کی گنجائش باقی نہیں رہتی صریح اور واضح حکم پر اتفاق واجب اور لازم ہے جو آیات محکمات ہیں یعنی واضح الدلالت ہیں اور ان کی مراد واضح ہے ان میں تاویل نہیں چلتی اس روز یعنی قیامت کے دن بعضے چہرے سفید اور روشن ہوں گے جنہوں نے دنیا میں نور حق کی اتباع اور دلائل اور براہین کی روشنی میں چلے ہوں گے اور بعضے چہرے سیاہ ہوں گے جنہوں نے دنیا میں باطل ظلمتوں اور نفسانی خواہشوں کا اتباع کیا ہوگا ہر ایک کو اس کے حال کے مناسب جزاء ملے گی پس جن لوگوں کے چہرے سیاہ ہوں گے ان سے بطور ملامت یہ کہا جائے گا کہ کیا تم لوگوں نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا یعنی آیات محکمات اور آیات بینات میں طرح طرح کی تا ویلیں کیں اور دین میں تفرقہ برپا کیا بدعت چونکہ مظلم اور تاریک ہے اور اس کا رنگ سیاہ ہے اس لیے اس ظلمت کے اتباع کرنے والے چہرے سیاہ ہوں گے بدعت کی باطنی ظلمت اور سیاہی آنکھوں سے دکھلا دی جائے گی۔ ایک شبہ اور اس کا ازالہ۔ شبہ یہ ہے کہ ایمانکے بعد کفر کرنے کا کیا مطلب ہے حالانکہ ان میں بعضے اصلی کافر بھی ہیں جو ایمان لانے کے بعد کافر نہیں ہوئے۔ جواب۔ علماء تفسیر نے اس شبہ کے مختلف جواب ذکر فرمائے ہیں بعض مفسرین یہ فرماتے ہیں کہ یہ آیات منافقین کے بارے میں نازل ہوئی اور معنی یہ ہیں کہ منہ سے کلمہ اسلام کا پڑھتے ہیں اور عقیدہ اسلام کے خلاف رکھتے ہیں اور بعض یہ کہتے ہیں کہ دعوی تو ایمان کا ہے اور عمل اس کے خلاف ہے دعوی تو اتباع سنت کا ہے مگر مبتلا بدعتوں میں ہیں اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ ایمان سے وہ ایمان مراد ہے جو عہد الست کے وقت لوگوں سے ربوبیت کا اقرار لیا گیا بعد میں بعض اس پر قائم ہیں اور بعض منحرف ہوگئے لہذا جو شخص بھی دنیا میں کفر کرتا ہے وہ اس ایمان کے بعد ہی کرتا ہے اور عکرمہ اور زجاج یہ کہتے ہیں کہ یہ آیت اہل کتاب کے بارے میں ہے کہ قبل از بعثت نبی ﷺ کی نبوت و رسالت کا اقرار کرتے تھے مگر بعثت کے بعد آپ کی رسالت کے منکر ہوگئے اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ یہ آیت مرتدین کے حق میں ہے کہ ایمان لانے کے بعد کافر ہوئے اور حق یہ کہ یہ آیت عام ہے اور علی حسب المراتب سب کو کفر کرنے والوں کو شامل ہے قیامت کی دن تمام کافروں کے چہرے سیاہ ہوں گے کسی خاص کافر کی تخصیص نہیں۔ کمال قال تعالی۔ وجوہ یومئذ علیھا غبرہ۔۔ تا مسودۃ۔ آیت۔ اس آیت میں معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن ان تمام لوگوں کے چہرے سیاہ ہوں گے جنہوں نے اللہ پر جھوٹ بولا ہے سو جاننا چاہیے کہ سب کافر اللہ پر جھوٹ بولنے والے ہیں کوئی کافر ایسا نہیں جو اللہ پر جھوٹ نہ بولتا ہو اس لیے کہ ہر کافر اپنے دین باطل کو دین الہی جانتا ہے اور جو شخص سرے سے ہی اللہ کے وجود کا منکر ہے وہ بھی اللہ پر جھوٹ بولتا ہے کہ اس کے بارے میں ایک غلط اور جھوٹا اعتقاد رکھتا ہے۔ اورا گر آیت میں کفر سے عام معنی مراد لیے جائیں کہ کفر اعتقادی ہو یاعملی تو پھر اس آیت کے عموم میں اہل بدعت اور اہل ہوی مثل خوارج اور روافض وغیرہ بھی داخل ہوجائیں گے جیسا کہ امام رازی نے اس آیت کی تفسیر میں ایک قول یہ نقل کیا ہے کہ، کفرتم بعد ایمانکم۔ آیت۔ سے اس امت کے اہل بدعت اور اہل اہواء مردا ہیں۔ تفسیر کبیر ص 23 جلد 3) اور رافضی اور خارجی سب اس کے عموم میں داخل ہیں اور جو راہ سنت کو چھوڑ کر راہ بدعت پر ہوئے پس چکھو تم عذاب کو بسبب اس کے کہ تم کفر میں اعتقادا یا عملا مبتلا ہو اور وہ لوگ جن کے چہرے قیامت کے سفید ہوں گے یعنی اہل سنت والجماعت جنہوں نے اللہ کی رسی کو اس طرح مضبوطی کے ساتھ پکڑا جس طرح اللہ کے نبی نے بتلایا اور جس طرح صحابہ کرام کی جماعت نے اس رسی کو پکڑا تھا کیونکہ یہی راہ نومبین اور مشعل ہدایت ہے اس لیے کہ اس کے پیروں کے چہرے قیامت کے دن سفید اور روشن ہوں گے ایسے لوگ اللہ کی رحمت میں ہوں گے اور ہمیشہ اس میں رہیں گے رحمت یعنی جنت میں داخل ہونا یہ بھی نعمت ہے اور اس رحمت میں خلود اور دوام یہ دوسری نعمت ہے اس لیے دونوں نعمتوں کو الگ الگ ذکر کیا ابن اعباس سے منقول ہے کہ قیامت کے دن جن کے چہرے روشن اور سفید ہوں گیوہ اہل سنت سے والجماعت کے چہرے ہوں گے۔ حافظ ابن کثیر، یوم تبیض وجوہ۔ آیت۔ کی تفسیر میں فرماتے ہیں، یوم القیامۃ حین تبیض وجوہ اہل السنۃ والجماعۃ وتسود وجوہ اھل البدعۃ والفرقۃ قالہ ابن عباس ؓ عنھما۔ (تفسیر ابن کثیر۔ ص 390۔ ج 1) ۔ جس درجہ شریعت کے متبع ہوں گے اسی درجہ کا چہرہ پر نور ہوگا یہ اللہ کی نشانیاں ہیں یعنی قرا ان اور اسلام اور آپ کی نبوت کی حقانیت کی دلائل ہیں جن کو ہم آپ کے سامنے پڑھ کر سناتے ہیں حق کے ساتھ یعنی ان کا مضمون بالکل حق ہے جس میں کسی قسم کا شبہ نہیں اور اب جو ان دلائل کو نہ مانے اور آپ کی نبوت کا قائل نہ ہو تو یہ اس کے فہم کا قصور ہے اور اللہ جہان والوں پر ظلم کرنا نہیں چاہتا یعنی ہم نے کافروں اور حق سے تفرق اور اختلاف کرنے والوں کے لیے جو عذاب تیار کیا ہے وہ ظلم نہیں بلکہ وہ ان کے اعمال قبیحہ کی سزا ہے ہم تو ان پر رحمت ہی کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ ہماری رحمت میں داخل نہیں ہونا چاہتے اور اللہ ہی کی ملک ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمینوں میں ہے یہ اللہ نے اپنے ظلم کے ارادہ نہ کرنے کی وجہ بیان فرمائی ہے مطلب یہ ہے کہ ظلم تو غیر کی ملک میں تصرف کرنے کا نام ہے اور عالم وجود میں کوئی شے ایسی نہیں جو اس کی مخلوق اور مملوک نہ ہو پھر اللہ ظلم کا ارادہ کیسے کرسکتا، ہاں تمام چیزوں کا اس کی ملک ہونا اس امر کو مقتضی ہے کہ وہ اپنی مملوک چیز میں جو چاہے تصرف کرے وہ ظلم نہیں بلکہ عین عدل ہے اور بالآخر تمام امور اللہ ہی کی طرف رجوع ہوں گے یعنی مخلوق کی ابتداء بھی اسی سے ہوئی کہ ہر چیز اس کی پیدا کی ہوئی ہے اور اسی کی ملک ہے اور اسی پر سب کی انتہاء ہے کہ سب اس کی طرف لوٹائے جائیں گے اور بمقتضائے حکم تو رحمت ہر کام کی جزاء اور اجر اس کے مناسب دے گا معاذ اللہ۔ اللہ تعالیٰ ظالم نہیں، حکیم مطلق ہے اس کا کوئی کام ظلم نہیں بلکہ عین حکمت اور عین عدل اور عین رحمت ہے۔ لطائف ومعارف۔ اسلام سے مقصود یہ ہے کہ اللہ کی خوشنودی حاصل ہوجائے اور اس کی ناراضی اور عذاب سے نجات مل جائے مگر آج کل کے عقل مند اسلام کی طرف محض قومیت کے خیال سے توجہ کرتے ہیں غرض صرف اس قدر ہے کہ ہماری ایک قوم بن جائے اور ہماے اندر اس سیایک اتفاق کی شان پیدا ہوجائے دین مقصود نہیں جس کی دلیل یہ ہے کہ ان میں دینی اور مذہبی رنگ نہیں ورجہ اگر یہ جذبہ مذہب کے لحاظ سے ہو تو مذہبی اور دینی رنگ بھی ان میں ضرور پیدا ہوتا۔ کذا فی تسہیل المواعظ ص 5 ج 2) ۔ 2۔ جاننا چاہیے کہ واعتصموا بحبل اللہ۔ آیت۔ میں جس اتفاق کا حکم دیا گیا ہے اس سے حق پر متفق ہونا مراد ہے اور لا تفرقوا میں جس تفریق کی ممانعت کی گئی ہے اس سے تفرق عن الحق مراد ہے یعنی حق سے جدا مت ہونا چوروں اور اوباشوں میں بھی اتفاق ہوتا ہے مگر وہ مطلوب نہیں۔ حضرت انبیاء کرام اللہ کی طرف سے حقلے کر آئے باطل پرست ان کی جان کے دشمن ہوگئے اور ہر جگہ دو دو مذہب اور دو دو فریق بن گئے کیا کوئی متنفس یہ کہہ سکتا ہے کہ معاذ اللہ حضرات انبیاء کرام نے نااتفاقی پھیلائی حضرت انبیاء تو اتفاق ہی کی دعوت دینے کے لیے تشریف لائے مگر مقصود یہ تھا کہ باطل کو چھوڑ کر حق کے ساتھ متفق ہوجائیں مگر لوگوں نے معاملہ برعکس کیا ہر حکومت اتفاق کو فرض اور لازم سمجھتی ہے لیکن اس کی مراد یہ ہوتی ہے کہ قانون حکومت کے ساتھ اتفاق کرو قانون کے خلاف نہ کرو عدالتوں کا قیام اسی لیے ہے کہ اہل حق کا حق دلایاجائے اور ظالموں کو سزا دی جائے تفرقہ کا مجرم وہ شخص ہے جو قانون حکومت کے خلاف کرے اور جو شخص قانون حکومت کے مطابق چل رہا ہو اس کو نااتفاقی کا مرتکب نہیں کہا جاسکتا۔ عدالت میں اگر کوئی شخص یہ دعوی کرے کہ فلاں شخص نے میرے مال یا ابرو پر یہ زیادتی کی ہے تو جج کو یہ حق نہیں کہ ظالم اور مظلوم دونوں کو یہ کہہ کر عدالت سے باہر نکال دے کہ تم دونوں ملک میں تفرقہ پھیلاتے ہو یا دونوں کی زبان بندی کا حکم دے دے عدالت اگر ایسا حکم دیدے تو یہ عدل نہ ہوگا خیر سے اگر عدالت کا جج کوئی مصلح قوم اور لیڈر بھی ہو تو بحثییت جج ہونے کے یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں تمہارا دعوی نہیں سنتا جاؤ اختلاف نہ کرو متفق ہو کر رہو تم لوگ میرا دماغ پریشان کرنے آئے ہو اس لیے میں تمہارا مقدمہ نہیں سنتا۔ اسی طرح علماء کو سمجھو کہ وہ وکلاء کی طرح قانون شریعت کی صحیح تشریح کرتے ہیں اور ملحدین اور بےدین قانون شریعت میں ایسی تاویلیں کرتے ہیں جس سے قانون شریعت ان کی خواہشوں اور غرضوں کے مطابق بن جائے علماء دین جب ان ملحدین کے رد اور جواب کیلیے کھڑے ہوتے ہیں تو بہت سے بےعقل یہ کہتے ہیں کہ علماء تفرقہ اور نااتفاقی پھیلاتے ہیں یہ نہیں دیکھتی کہ جو شخص قانون حکومت کے ایسے عجیب و غریب معنی بیان کرے جواب تک وزراء اور حکام اور وکلاء نے نہ سمجھے ہوں ایسا شخص حکومت کی نظر میں چالاک اور عیار ہے اور مجرم ہے اور جو شخص قانون کا وہ مطلب بیان کرے جس معنی کی بناء پر عدالتوں کے ججوں نے فیصلے کیے ہیں وہ شخص نااتفاقی اور تفرقہ کا مجرم نہیں بلکہ وہ حق کے ساتھ متفق ہے۔ 3۔ آیت میں جو تفرق اور اختلاف کی مذمت اور ممانعت ہے اس سے وہ اختلاف مراد ہے جو دین کے صریح اور واضح احکام میں محض نفسانیت کی بناء پر ہو اور اگر غیر منصوص اور ظنی مسائل میں محض تحقیق حق یعنی حق کی تلاش کرنے لیے ہو تو ایسا اختلاف مسلمانوں کے لیے رحمت ہے حدیث میں ہے کہ بنی اسرائیل میں بہتر فرقے ہوئے اور میری امت میں تہتر فرقے ہوں گے جو سوائے ایک فرقہ کے سب کے سب جہنمی ہوں گے صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ وہ کون سافرقہ ہوگا جو دوزخ سے محفوظ ہوگا۔ آپ نے فرمایا ما انا علیہ و اصحابی۔ وہ فرقہ ناجیہ وہ فرقہ ہے جو میرے اور میرے صحابہ کے طریقہ پر ہوگا۔ اہل سنت والجماعت اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ فرقہ نبی کریم کی سنت اور طریقہ پر ہے اور جماعت صحابہ کے طریقہ پر بھی ہے۔ جس طرح نبی کا راستہ اور طریقہ الہ کے راستہ اور طریقہ سے جدا نہیں اس طرح صحابہ کا راستہ بھی نبی کے راستے اور طریقے سے جدا نہیں۔ صراط مستقیم وہ راستہ ہے جو اللہ نے قائم کیا اور اللہ کی ہدایت کے مطابق نبیوں اور صدیقین اور شہداء اور صالحین اس پر چلے۔ 4۔ فرقہ ناجیہ کے علاوہ مخالف فرقوں کی بڑی قسمیں یہ ہیں۔ خارج۔ روافض۔ قدریہ۔ جہیمیہ۔ مرحبہ۔ جبریہ پھر ان میں سے ہر ایک فرقہ کی شاخیں ہیں جو سب مل کر بہتر ہوتی ہیں اور یہ تمام فرقے اور ان کی شاخیں سب فرق باطلہ میں داخل ہیں امام قرطبی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں۔ قال ابوالفرج الجوزی فان قیل ھذہ الفرق معروفۃ (فالجواب) انا نعرف الافتراق و اصول الفرق وان کل طائفۃ من الفرق انقسمت الی فرق وان لم نحط باسماء تلک الفرق ومذاھبا فقد ظہر لنا من اصول الفرق، الحروریۃ القدریہ والجہمیۃ والمرحبۃ والرافضۃ والجبریہ وقال بعض اہل العلم اصل الفرق الضالۃ ھذہ الفرق الست وقد انقسمت کل فرقۃ منھا اثنی عشرۃ فرقۃ فصارت اثنتین وسبعین فرقۃ۔ (تفسیر قرطبی ص 160 ج 4) اس کے بعد امام قرطبی نے تمام بہتر فرقوں کی تفصیل فرمائی حضرات اہل علم تفسیر قرطبی کی مراجعت فرمائیں مسلمانوں میں فرض ہے کہ ایک جماعت قائم رہے جہاد کرنے کو اور دین کی باتوں کا تقید رکھنے کو تاکہ دین کے خلاف کوئی نہ کرے اور جو اس کام پر قائم رہے وہی کامیاب ہیں اور یہ طریقہ کہ کوئی کسی سے تعرض نہ کرے، موسیٰ بدین خود عیسیٰ بدین خود یہ راہ مسلمانی کی نہیں (منہ (رح) تعالی) کسی جمہوری اور متمدن حکومت میں یہ آزادی نہیں کہ لوگ قانون حکومت کے پابند اور مقید نہ رہیں اور جس کو جو چاہے وہ کرلیا کرے اسی طرح اللہ کے قانون میں یہ آزادی نہیں کہ جس حکم پر چاہے عمل کرو اور چاہے نہ کرو عجیب بات ہے کہ مجازی حکومت کے احکام کی پابندی تو لازم ہو اور بندہ پر اپنے خدا کے احکام کی پابندی اور ان کی تبلیغ ضروری نہ ہو۔
Ayahs 3:118–120

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَةً مِّنْ دُوْنِكُمْ لَا یَاْلُوْنَكُمْ خَبَالًا١ؕ وَدُّوْا مَا عَنِتُّمْ١ۚ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَآءُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ١ۖۚ وَ مَا تُخْفِیْ صُدُوْرُهُمْ اَكْبَرُ١ؕ قَدْ بَیَّنَّا لَكُمُ الْاٰیٰتِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 3:118 in the Quran reader

مومنو ! کسی غیر (مذہب کے آدمی) کو اپنا رازدار نہ بنانا یہ لوگ تمہاری خرابی (اور فتنہ انگیزی کرنے میں) کسی طرح کوتاہی نہیں کرتے اور چاہتے ہیں کہ (جس طرح ہو) تمہیں تکلیف پہنچے ان کی زبانوں سے تو دشمنی ظاہر ہو ہی چکی ہے اور جو (کینے) ان کے سینوں میں مخفی ہیں وہ کہیں زیادہ ہیں اگر تم عقل رکھتے ہو تو ہم نے تم کو اپنی آیتیں کھول کھول کر سنادی ہیں

هٰۤاَنْتُمْ اُولَآءِ تُحِبُّوْنَهُمْ وَ لَا یُحِبُّوْنَكُمْ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِالْكِتٰبِ كُلِّهٖ١ۚ وَ اِذَا لَقُوْكُمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۗۚ وَ اِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَیْكُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَیْظِ١ؕ قُلْ مُوْتُوْا بِغَیْظِكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 3:119 in the Quran reader

دیکھو تم ایسے (صاف دل) لوگ ہو کہ ان لوگوں سے دوستی رکھتے ہو حالانکہ وہ تم سے دوستی نہیں رکھتے اور تم سب کتابوں پر ایمان رکھتے ہو (اور وہ تمہاری کتاب کو نہیں مانتے) اور جب تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے اور جب الگ ہوتے ہیں تو تم پر غصے کے سبب انگلیاں کاٹ کھاتے ہیں (ان سے) کہہ دو کہ (بدبختو ! ) غصے میں مرجاؤ خدا تمہارے دلوں کی باتوں سے خوب واقف ہے

اِنْ تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ١٘ وَ اِنْ تُصِبْكُمْ سَیِّئَةٌ یَّفْرَحُوْا بِهَا١ؕ وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا لَا یَضُرُّكُمْ كَیْدُهُمْ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ۠ Open ayah 3:120 in the Quran reader

اگر تمہیں آسودگی حاصل ہو تو ان کو بری لگتی ہے اور اگر رنج پہنچے تو خوش ہوتے ہیں اور اگر تم تکلیفوں کی برداشت اور (ان سے) کنارہ کشی کرتے رہو گے تو ان کا فریب تمہیں کچھ نقصان نہ پہنچا سکے گا جو کچھ کرتے ہیں خدا اس پر احاطہ کئے ہوئے ہے

تحذیر مومنین از اختصاص وارتباط بادشمنان دین۔ قال تعالی۔ یا ایھا الذین۔۔۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ محیط۔ آیت۔ ربط) گزشتہ آیات میں مسلمانوں کے صفات اور کافروں کے زمائم اور قبائح کا ذکر تھا اب ان آیات میں مسلمانوں کو ہدایت ہے کہ کافروں کے ساتھ خلاملا نہ رکھو اور نہ ان کوا پنا راز دار بناؤ کافر تمہارے دین اور دنیا دونوں کے دشمن ہیں۔ یا یوں کہو کہ جب گزشتہ آیات میں یہ بیان کیا کہ کفر اور ظلم کی سرد ہوا نے ظالموں کے اعمال کی کھیتیوں کو تباہ برباد کیا تو اب آئندہ آیت میں اہل ایمان کو نصیحت فرماتے ہیں خہ تم انظالموں سے خلط ملط نہ رکھنا مبادا ان کے کفر اور ظلم کی سرد ہوا کا اثر تمہارے اعمال کی کھیتیوں کو کوئی نقصان نہ پہنچا دے چناچہ فرماتے ہیں اے ایمان والو ایمان کا مقتضی یہ ہے کہ اپنے غیروں کو اپنا راداد اور بھیدی نہ بناؤ یعنی غیرمسلموں کو اپنا ہمدم اور رفیق اور راز دار نہ بناؤ اور اس ممانعت کی متعد وجوہ ہیں اول تو یہ کہ یہ لوگ فتنہ انگیزی اور تمہارے تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے اور ہر وقت اسی کی کوشش میں لگے رہتے ہیں خہ مسلمانوں میں باہمی کوئی خرابی اور فساد پیدا ہو، دوم یہ کہ ہر وقت اس کی تمنا کرتے ہیں خہ تم کسی تکلیف اور ضرر میں مبتلا ہوجاؤ ہر وقت تمہاری مصیبت کے خواہش مند رہتے ہیں یہ خواہش کبھی ان کے دل سے زائل نہیں ہوتی سوم یہ کہ ان کے دل تمہاری عداوت سے لبریز ہیں کہ بعض مرتبہ ولی بغض اور اندرونی عداوت بلااختیار ان کے منہ سے ظاہر ہوجاتی ہے بغض اور عداوت اس درجہ پہنچا ہوا ہے کہ اس کو ضبط نہیں کرسکتے اور نہ وہ ان کے چھپانے سے چھپ سکتا ہے اندر سے اچھل کر اور ابل کر منہ پر آگیا ہے اور کھل گیا ہے چہارم یہ کہ وہ بغض اور عداوت ہے جو ان کے سینوں نے اپنے اندر چھپا رکھا ہے وہ اس سے کہیں زیادہ ہے کہ جو عداوت ان سے ظاہر ہوجاتی ہے تمہیں معلوم نہیں کہ ان کے سینوں کے اندر عداوت کتنی چھپی ہوئی ہے تحقیق ہم نے تمہارے لیے صاف صاف نشانیاں بیان اگر تم کو عقل ہے تو سمجھ جاؤ کہ یہ تمہارے خیرخواہ نہیں بلکہ سخت دشمن ہیں ہرگز اس قابل نہیں کہ ان کو اپنا بطانہ یعنی دوست اور رازد دار بناؤ۔ پنجم یہ کہ تم ایسے نادان اور غفلت شعار کیوں ہو کہ تم ان کو دوست رکھتے ہو اور وہ تمہیں دوست نہیں رکھتے پس اگر وہ تم سے بغض اور عداوت ہی نہ رکھتے تو فقط ان کا تم سے محبت نہ رکھنا یہ کافی تھا کہ ان کو بطانہ (راز دار) نہ بنایاجائے اس لیے کہ جس کو تم سے محبت نہ ہو اور نہ وہ تمہارا خیرخواہ تو اس کو اپنا راز داربنانا نادانی ہے اور چھٹی وجہ یہ ہے کہ تم اللہ کی سب کتابوں پر ایمان رکھتے ہو اور ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ تمہاری کتاب پر باوجود حقانیت ظاہر ہوجانے کے تمہاری ضد میں اس پر ایمان نہیں لاتے ان کو چاہیے تھا کہ وہ تم سے محبت رکھتے تم اللہ کی تمام کتابوں پر ایمان رکھتے ہو اور ان کی کتاب کا انکار نہیں خرتے مگر معاملہ برعکس ہوگیا کہ وہ تم سے بغض اور عداوت رکھتے ہیں پس ایسے لوگوں کو کیا اپنا دوست اور راز دار بناتے ہو ضدی اور پیچی آدمی کو راز دار بنانا سخت غلطی ہے اور ساتویں وجہ یہ ہے کہ ان کا برتاؤ اور معاملہ تم سے منافقانہ ہے مخلصانہ نہیں اس لیے کہ یہ لوگ جب تم سے ملتے ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں اور جب اکیلے ہوتے ہیں تو غیظ وغضب سے تم پر انگلیاں کاٹتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جب اپنے مجمع میں اکیلے ہوتے ہیں اور کوئی مسلمان وہاں نہیں ہوتا تو مسلمانوں کے جوش عداوت میں غصہ ہو کر دانتوں سے انگلیاں کاٹتے ہیں مسلمانوں کی دن دونی رات چوگنی قوت و شوکت اور باہمی اتحاد اور الفت ان سے برداشت نہیں ہوتی اس لیے اپنے مجمع میں اس دلی عداوت کا اظہار کرتے ہیں اے نبی آپ ان سے کہہ دیجئے کہ ت اپنے اس غصے میں گلا گھونٹ کر اسی طرح جلتے اور مرتے رہو اور یوں ہی عمر بسر کرتے رہو یہ غصہ مرتے دم تک تمہارے ساتھ رہے گا اور اس غیظ سے تم اسلام اور مسلمانوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اللہ نے اپنے دوستوں پر نعمتیں پوری کرے گا تمہا اغصہ اور حسد بیکار ہے۔ بمیر اے از حسد پیوستہ غمگین کہ جز مرگت نخواہد داد تسکین تحقیق اللہ سینوں کی باتوں کو خوب جانتا ہے اور دشمنوں کے دلوں کی پوشیدہ باتیں اپنے دوستوں کو بتلا دیتا ہے اور آٹھویں وجہ یہ ہے کہ ان کی عداوت اور ھسد کا یہ حال ہے کہ اے مسلمانوں اگر تم کو ذرا سی بھلائی چھو بھی جائے تو انہیں بہت ہی بری لگتی ہے سمجھ لو کہ ان کا حسد اس درجہ پہنچا ہوا ہے اور نویں وجہ یہ ہے کہ اگر تمہیں کوئی برائی یا تکلیف پہنچے تو اس سے وہ خوش ہوتے ہیں یہ ان کی شماتت کا حال ہے اور دسویں وجہ یہ ہے کہ وہ اندرونی طور پر تمہارے خلاف سازشوں میں سرگرم ہیں جس کا علاج یہ ہے کہ اگر تم صبر اور تقوی پر قائم رہو یعنی ان کی ایذاؤں پر صبر کرو اور ان کی موالات اور بطانہ بنانے سے پرہیز کرو تو تم کو ان کا فریب کچھ نقصان نہ دے گا اللہ نے ان کے اعمال کا احاطہ کیا ہوا ہے ان کے مکر کا ضرر اور اثر تم پر کچھ نہیں پڑے گا اور اگر کسی جگہ کافروں سے تم کو کوئی ضرر پہنچے تو سمجھ لو کہ یہ صبر اور تقوی کی کمی کی وجہ سے پہنچا ہے اللہ سے معاملہ درست رکھو تو پھر کافروں نے جو راستہ میں کانٹے بچھائے ہیں وہ سب کے سب خود بخود صاف ہوجائیں گے خلاصہ کلام یہ کہ جس قوم کی عداوت کا یہ حال ہو اس سے کیا خیرخواہی کی توقع ہوسکتی ہے کہ جو اس سے دوستی کی جائے اور اس کو اپنا راز دار بنایا جائے۔ فائدہ۔ فقہاء کرام نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ مسلمان ھاکم کے لیے یہ جائز نہیں کہ اہل ذمہ میں سے کسی کافر کو اپنا منشی اور پیشہ کار بنائے اس لیے کہ وہ کافر مسلمانوں کا خیرخواہ نہ ہوگا اور اسلامی حکومت کے راز اور امور مملکت سے اپنی ہم قوم حکومت کو مطلع کرے گا بلکہ جن مسلمانوں وزیروں اور امیروں نے کسی غیر مسلم عورت سے نکاح کرلیایا اس کو اپنے گھر میں رکھ لیا تو پھر اسلامی حکومت کے راز غیر مسلموں پر ظاہر ہوئے اور اسلامی حکومت کو شدید نقصان پہنچا اور ان غیرمسلم عورتوں نے مسلمان شوہر سے زائد اپنے ہم مذہب کافروں کی مصلحت کا لحاظ رکھا جیسا کہ تجربہ اور تاریخ اس کی شاہد ہے اور فاروق اعظم کا بھی یہی مسلک تھا کہ وہ غیر مسلم منشی اور پیش کار بنانے کو ناپسند فرماتے تھے اور اسی آیت سے استدلال فرماتے تھے۔ تنبیہ۔ شریعت اسلامی کا یہ حک کہ غیر مسلم کو اپنا دوست اور راز دار بنایاجائے اور امور مملک میں اس کو دخیل نہ بنایا جائے عین حق اور عین حقیقت ہے یہ امر بالکل بدیہی ہے کہ غیر مذہب والا اپنے مذہب اور اپنے اہل مذہب ہی کی خیرخواہی کرتا ہے اور دوسرے اہل مذہب کی خیرخواہی نہیں کرتا تمام مغربی ممالک کو دیکھ لیجئے کہ وہ کبھی بھی کسی مسلمان کو وزارت اور سفارت کا منصب سپر نہیں کرتے مگر افسو کہ آج کل کے نام نہاد مسلمان جب اس قسم کا حکم سنتے ہیں تو اس کو تعصب اور تنگ نظری سمجھتے ہیں حالانکہ اگر ان کو اپنے حقیقی بھائی کی خیرخواہی پر اطمینان نہ ہو تو اس کو بھی اپنا بطانہ بنانا گوارا نہیں کرتے مگر جب اللہ یہ فرماتا ہے کہ اے مسلمانوں جو شخص اسلام کا اور مسلمانوں کا خیرخواہ نہ ہو بلکہ ان کا دشمن اور حاسد ہو اس کو اسلامی حکومت میں کوئی عہدہ اور منصب نہ دو تو یہی لوگ اللہ کے اس قانون پر نکتہ چینی کرنے لگتے ہیں۔ تمام دنیا کی حکومتوں کا یہ مسلم قانون ہے کہ حکومت میں حکومت کے باغی کا کوئی عہدہ اور منصب نہیں دیا جاسکتا باغی کو عہدہ دینا سیاسیات ملکیہ میں بالاجماع حرام ہے پس اگر اسلام یہ کہتا کہ اسلامی حکومت میں ایسے شخص کو کہ جو اسلام سے باغی ہو یعنی کافر ہو اس کو کوئی عہدہ اور منصب نہ دو تو اس پر کیوں ناک منہ چڑھاتے ہو اپنے باغی کے لیے عہدہ دینا تو ناجائز اور حرام ہو اور اللہ کے باغی اور سرکشی کے لیے عہدہ دینا جائز ہو جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا باغی تو مجرم ہے اور اللہ کا باغی بےقصور ہے تو اس کا مطلب یہ نکلا کہ معاذ اللہ آپ کی شان اللہ سے بڑھ کر ہے اگر کوئی شخص آپ کی فانی اور مجازی حکومت سے انحراف کرے تو وہ قتل اور حبس دوام کا مستحق بنے اور احکم الحاکمین سے اگر کوئی بغاوت کرے تو اس کو وزیر بنانے میں کوئی مضائقہ نہیں یہ وسعت قلب نہیں بلکہ بےغیرتی ہے۔
Ayahs 3:121–122

وَ اِذْ غَدَوْتَ مِنْ اَهْلِكَ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِیْنَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 3:121 in the Quran reader

اور (اس وقت کو یاد کرو) جب تم صبح کو اپنے گھر سے روانہ ہو کر ایمان والوں کو لڑائی کے لیے مورچوں پر (موقع بہ موقع) متعین کرنے لگے اور خدا سب کچھ سنتا اور جانتا ہے

اِذْ هَمَّتْ طَّآئِفَتٰنِ مِنْكُمْ اَنْ تَفْشَلَا١ۙ وَ اللّٰهُ وَلِیُّهُمَا١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 3:122 in the Quran reader

اس وقت تم میں سے دو جماعتوں نے جی چھوڑ دینا چاہا مگر خدا ان کا مددگار تھا اور مومنوں کو خدا ہی پر بھروسا رکھنا چاہئے

قصہ احد۔ قال اللہ تعالی۔ واذ غدوت من اھلک۔۔۔ الی۔۔۔ المومنون۔ آیت۔ ربط) گزشتہ آیات میں یہ ارشاد فرمایا تھا وان تصبرو وتتقوا لایضرکم کیدھم شیئا۔ آیت۔ کہ اگر تم صبر کرو اور تقوی پر قائم رہو تو دشمنوں کا مکر تم کو ضرر نہ پہنچائے گا اب آئندہ میں قصہ احد کو یاد دلاتے ہیں کہ اس میں تم نے صبر اور تقوی سے کام نہ کیا اس لیے تم کو شکست ہوئی بخلاف بدر کے کہ اس میں تم نے صبر اور تقوی سے کام نہ لیا اس لیے تم کو شکست ہوئی بخلاف بدر کے کہ اس میں تم نے صبر اور تقوی کو اکتیار کیا اس لیے باوجود بےسروسامانی کے تم کو فتح ہوئی یا یوں کہو کہ گزشتہ آیات میں کافروں اور منافقوں کو راز دار بنانے کی ممانعت تھی اب ان آیات میں جنگ احد کے واقعہ کو ذکر کرکے کافروں اور منافقوں کو راز دار بنانے کے مضر نتیجہ سے آگاہ فرماتے ہیں اس لیے کہ اس لڑائی کے مشورہ میں عبداللہ بن ابی سلول بھی شامل تھا جس کے ہمراہ تین سو آدی تھے اولا آپ کے ہمراہ نکلا اور پھر بعد میں اپنی جمعیت کو لے کر راستہ سے یہ کہہ کر واپس ہوگیا کہ یہ لڑائی نہیں بلکہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے اگر ہم اس کو واقعی جنگ سمجھتے تو آپ کے ساتھ شرکت کرتے ان کو دیکھا داکھی انصار کے قبیلہ خزرج کے بنوسلمہ اور قبیلہ اوس میں کے بنی حارثہ نے بھی بھاگنے کا ارادہ کیا مگر اللہ نے ان کے دل مضبوط کردیے اور وہ میدان جنگ میں قائم رہے ان کے بارے میں یہ آیتیں نازل ہوئیں چناچہ فرماتے ہیں اور یاد کرو اسوقت کو کہ جب آپ جہاد و قتال کے لیے اپنے اہل خانہ یعنی عائشہ صدیقہ کے حجرہ سے برآمد ہوئے اور زرہ پہن کر باہر تشریف لائے اور مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو لڑائی کے تھکانوں پر بٹھلا دیں چناچہ آپ اسی ارادہ سے مسلمانوں کی جمعیت کو لے کر روانہ ہوئے راستہ میں رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی، تقریبا تین سو آدمیوں کی جمیعت ساتھ لے کر راستہ سے یہ کہتا ہوا واپس ہوگیا کہ جب میرا مشورہ نہ مانا اور دوسروں کی رائے پر عمل کیا تو ہمیں لڑنے کی کیا ضرورت ہے خواہ مخواہ اپنے کو کیوں ہلاکت میں ڈالیں اور یہ اس کی ایک چالاکی تھی کہ سن کر اور مسلمان بھی متزلزل ہوجائیں اور اللہ سن رہے تھے اس کے قول کو اور خوب جانتے تھے اس کے کید اور مکر کو جس سے قریب تھا کہ بعض اہل ایمان بھی ہلاکت میں پڑجائیں جس وقت کہ تم میں کی یعنی مسلمانوں کی دو جماعتوں نے یعنی بنو سلمہ اور بنو حارچہ نے یہ قصد کیا کہ ہمت ہاردیں اور ان کے دل میں یہ خطرہ گزرا کہ عبداللہ بن ابی کی طرح وہ بھی راستہ سے واپس ہوجائیں مگر اللہ نے انکو اس جین اور نامردی سے محفوظ رکھا اور اللہ نے ان کا کارساز اور مددگار تھا اسی کی عنایت اور کارسازی نے بنوسلمہ اور بنوحارثہ کو اس قصد سے محفوظ رکھا اور اللہ ہی پر تمام اہل ایمان کو بھروسہ کرنا چاہیے نہ تو اپنی قوت پر اعتماد کرو اور نہ دشمن کی قوت اور کثرت سے خوف زدہ ہوجاؤ۔ غزوہ بدر تم دیکھ چکے ہو کہ قریش کی قوت اور کثرت تین سو متوکلین کے مقابلہ میں کچھ بھی کارآمد نہ ہوئی۔ فائدہ جلیلہ۔ آیت مذکورہ، واذ غدوت من اھلک۔ آیت۔ میں اہل سے باجماع مفسرین ومحدثین وعلماء سیرت حضرت عائشہ کے حجرہ سے نکلنا مراد ہے جس سے حضرت عائشہ کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے وہ یہ کہ حضرت عائشہ طاہرہ اور مطہرہ اور سرتاپا عمل صالح تھیں اس لیے کہ خداوند کریم نے حضرت عائشہ کو نبی اکرم کا اہل فرمایا اور اللہ کے رسول کا اہل وہی ہوسکتا ہے جو سرتاپا عمل صالح ہو اور نوح (علیہ السلام) کے بیٹے کو نوح (علیہ السلام) کیا ہل سے اسی لیے خارج کیا گیا کہ اس کے اعمال صالح نہ تھے۔ کمال قال تعالی۔ انہ لیس من اھلک انہ عمل غیر صالح۔ آیت۔
Ayahs 3:123–127

وَ لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّ اَنْتُمْ اَذِلَّةٌ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 3:123 in the Quran reader

اور خدا نے جنگ بدر میں بھی تمہاری مدد کی تھی اور اس وقت بھی تم بےسروسامان تھے پس خدا سے ڈرو (اور ان احسانوں کو یاد کرو) تاکہ شکر کرو

اِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ اَلَنْ یَّكْفِیَكُمْ اَنْ یُّمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلٰثَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُنْزَلِیْنَؕ Open ayah 3:124 in the Quran reader

جب تم مومنوں سے یہ کہہ (کر ان کے دل بڑھا) رہے تھے کہ کیا یہ کافی نہیں کہ پروردگار تین ہزار فرشتے نازل کر کے تمہیں مدد دے

بَلٰۤى١ۙ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا وَ یَاْتُوْكُمْ مِّنْ فَوْرِهِمْ هٰذَا یُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُسَوِّمِیْنَ Open ayah 3:125 in the Quran reader

ہاں اگر تم دل کو مضبوط رکھو اور (خدا سے) ڈرتے رہو اور کافر تم پر جوش کے ساتھ دفعۃً حملہ کردیں تو پروردگار پانچ ہزار فرشتے جن پر نشان ہوں گے تمہاری مدد کو بھیجے گا

وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى لَكُمْ وَ لِتَطْمَئِنَّ قُلُوْبُكُمْ بِهٖ١ؕ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 3:126 in the Quran reader

اور اس مدد کو تو خدا نے تمہارے لئے (ذریعہ) بشارت بنایا یعنی اس لئے کہ تمہارے دلوں کو اس سے تسلی حاصل ہو ورنہ مدد تو خدا ہی کی ہے جو غالب (اور) حکمت والا ہے

لِیَقْطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْ یَكْبِتَهُمْ فَیَنْقَلِبُوْا خَآئِبِیْنَ Open ayah 3:127 in the Quran reader

(یہ خدا نے) اس لیے (کیا) کہ کافروں کی ایک جماعت کو ہلاک یا انہیں ذلیل و مغلوب کر دے کہ (جیسے آئے تھے ویسے ہی) ناکام واپس جائیں

تذکیر بقصہ بدر۔ برائے اظہار تاثیر توکل وتقوی وصبر۔ قال اللہ تعالیٰ ولقد نصرکم اللہ ببدر۔۔۔۔۔۔ الی۔۔۔۔۔ خائبین۔ اب قصہ احد کے بعد کچھ قصہ بدر کا ذکر کرتے ہیں اس غزوہ میں جو بےمثال فتح ونصرت ظہور میں آئی وہ ظاہر اسباب میں توکل اور تقوی اور صبر کی برکت تھی چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق مدد کی تمہاری اللہ نے جنگ بدر میں حالانکہ تم اس وقت بےسروسامان تھے اور دشمنوں کی نظروں میں ذلیل اور خوار تھے اور ظاہر اسباب میں دشمنوں کے مقابلہ میں تمہارا ٹھہرنا اور ان پر فتحیاب ہوناناممکن تھا مگر چونکہ اس بےسروسامانی میں تمہاری نظر اللہ پر تھی اس لیے اللہ نے تم کو عزت و رفعت دی۔ ہر کجا پستی اسب آب آنجارود ہر کجا دردے دو ا آنجارود پس تم اللہ سے ڈرو اور اس کی قوت اور قدرت پر نظر رکھو اپنی قلت اور دشمن کی کثرت کو دیکھ کر مت گھبراؤ ہم نے اپنی خاص امداد کی نعمت سے تم کو قوی کردیا تاکہ تم اللہ کی اس تقویت اور نصرت اور اعانت کی نعمت کا شکر کرو کہ دم کے دم میں ضعیف کو قوی اور قوی کو ضعیف بنادیا یاد کرو اسوقت کو جب آپ یعنی اے نبی کریم اہل ایمان کی تقویت قلوب کے لیے یہ کہہ رہے تھے کہ کیا یہ کفایت نہیں کرے گا کہ تمہارا پروردگار تین ہزار فرشتوں سے تمہاری امداد کرے گا جو آسمان سے خاص تمہاری امداد کے لیے اتارے جائیں ہاں کیوں نہیں یہ مقدار ضروری کافی ہوگی پھر مزید تقویت کے لیے اور مزید امدا کا وعدہ فرمایا بشرطیکہ صبر اور تقوی پر قائم رہیں چناچہ فرماتے ہیں کہ اگر تم صبر اور پرہیزگاری پر قائم رہو اور تمہارے دشمن ایک دم تم پر آپہنچیں تو ایسی حالت میں اللہ تمہاری ایسے پانچ ہزار فرشتوں سے امداد کرے گا جو خاص نشان اور خاص علامت لگائے ہوئے ہوں گے جس سے معلوم ہوگا کہ یہ اللہ کی خاص فوج ہے جو خاص بندوں کی امداد کے لیے بھیجی گئی ہے لہذا تم دشمنوں کی ناگہانی فوج کو دیکھ کر ہرگز نہ گھبرانا ہماری خاص فوج تمہاری امدا کے لیے تیار ہے اور نہیں بنایا اللہ نے اس امداد کو مگر تمہاری خوش خبری کے لیے اور اس لیے کہ تمہارے دلوں کی تسکین ہو کہ دشمن کی قوت اور کثرت کو دیکھ کر گھبرا نہ جائیں ورنہ اس کی حاجت نہ تھی اس لیے کہ فتح اور نصرت حقیقت میں صرف اللہ کی جانب سے ہے جو غالب اور حکمت والا ہے وہ اگر چاہیں تو بلااسباب اور بلافرشتوں کے بھی فتح ونصرت عطا فرماسکتے ہیں اللہ نے ایسا اس لیے فرمایا کہ کافروں کی ایک جماعت کو ہلاک کرے چناچہ 70 کافر جنگ بدر میں مارے گئے یا کافروں کی ایک جماعت کو ذلیل و خوار کرے پس وہ ناکام اور نامراد ہو کر اپنے شہروں کی طرف واپس جائیں چناچہ ستر کافر قید ہوئے اور باقی خائب و خاسر ہو کر اپنی اپنی جگہ واپس ہوئے۔ فائدہ۔ کلمہ او یکبتھم۔ میں تقسیم کے لیے ہے تردید کے لیے نہیں مطلب یہ ہے کہ اللہ نے اپنے فضل سے تمہاری مدد فرمائی تاکہ کافروں کا ایک گروہ ہلاک اور جہنم رسید ہو اور باقی ماندہ گروہ ذلیل و خوار اور ناکام اور نامراد واپس ہو۔ فائدہ۔ جنگ بدر میں اللہ نے تین وعدے فرمائے اول ایک ہزار فرشتوں کا وعدہ فرمایا جس کا ذکر سورة انفال میں ہے۔ اذ تستغیثون ربکم فاستجاب لکم انی ممدکم بالف من الملئکۃ مردفین۔ آیت۔ چونکہ بدر میں کفار کی تعداد ایک ہزار تھی اس لیے اس کے مناسب ایک ہزار فرشتوں کا وعدہ فرمایا پھر مسلمانوں کی پریشانی دور کرنے کے لیے تعداد تگنی کردی گئی یعنی چونکہ کفار کی تعداد مسلمانوں سے تگنی تھی اس لیے تین ہزار فرشتوں کی امداد کا وعدہ فرمایا یہ دوسرا وعدہ ہوا بعدا زاں جب مسلمانوں کو یہ خبر پہنچی کہ کرزبن جابر مشرکین کی امداد لے کر ایک بڑی بھاری فوج لے کر آرہا ہے تو مسلمانوں میں ایک جدید اضطراب پیدا ہوگیا اس وقت اللہ نے مسلمانوں کی تسکین اور تقویت قلوب کے لیے یہ وعدہ فرمایا کہ اگر کافر تم پر ٹوٹ پڑیں تو ہم پانچ ہزار فرشتے تمہاری مدد کو بھیج دیں گے بشرطیکہ تم صبر اور تقوی پر قائم رہو اس لیے علماء کا اس تیسرے وعدے کے بارے میں اختلاف ہے کہ یہ پانچ ہزار کا وعدہ واقع ہوا یا نہیں، شعبی کہتے ہیں کہ یہ وعدہ واقع نہیں ہوا اس لیے کہ یہ وعدہ ایک شرط کے ساتھ مشروط تھا وہ یہ کہ یاتوکم من فورھم کہ کافر تم پر ٹوٹ پڑیں اور چونکہ کرز بن جابر کا گروہ نہیں آیا اس لیے وہ شرط نہیں پائی گئی اس لیے وہ مشروط وعدہ شرط کے نہ پائے جانے کی وجہ سے واقع ہیں ہوا اور بعض علماء کا قول ہے کہ پانچ ہزار فرشتے نازل ہوئے، یاتوکم من فورھم سے مقصود، تعلیق اور شرط نہ تھی بلکہ محض تاکید اور مبالغہ مقصود تھا۔
Ayahs 3:128–129

لَیْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْهِمْ اَوْ یُعَذِّبَهُمْ فَاِنَّهُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 3:128 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ اس کام میں تمہارا کچھ اختیار نہیں (اب دو صورتیں ہیں) یا خدا ان کے حال پر مہربانی کر کے یا انہیں عذاب دے کہ یہ ظالم لوگ ہیں

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 3:129 in the Quran reader

اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے وہ جسے چاہے بخش دے اور جسے چاہے عذاب کرے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

رجوع بقصہ احد۔ قال اللہ تعالی۔ لیس لک من الامرشئی۔۔ الی۔۔ واللہ غفور رحیم۔ غزوہ احدم میں جب آپ کا دندان مبارک شہید ہوا تو آپ نے فرمایا کہ وہ لوگ کیسے فلاح پاسکتے ہیں جنہوں نے اپنے پیغمبر کے چہر کو زخمی کیا ہو اس وقت یہ آیت نازل ہوئی بخاری کی روایت میں ہے کہ آپ نے چند کفار کے لیے جنہوں نے مسلمانوں کو شہید کیا تھا نام بنام صبح کی نماز میں بدعا کی تھی اور لعنت شروع فرمائی اس پر آیت نازل ہوئی (اے محمد ﷺ آپ کو اس کام میں کچھ اختیار نہیں لعنت اور رحمت اور ہدایت اور ضلالت سب اسی کے اختیار میں ہے وہ جو چاہے کرے یا تو وہ ان پر توجہ فرمائے کہ ان کو توبہ کی توفیق دے اور جو لوگ آج آپ کے اور آپ کے دین کے دشمن ہیں وہ کل کو خدا کی قدرت اور مشیت سے آپ کے عاشق جانثار اور دین اسلام کے محافظ اور پاسبان بن جائیں یا ان کو اللہ نے عذاب دے دنیا میں یا آخرت میں کہ دنیا میں قتل ہوں اور کفر پر جمے رہیں اور کفر ہی مریں اور دوزخ کا ایندھن بنیں کیونکہ تحقیق یہ لوگ بڑے ظالم ہیں ایسی ہی سزا کے مستحق ہیں لہذا آپ ان پر دعا نہ کریں چونکہ اللہ کو معلوم تھا کہ ان میں کے اکثر افراد آئندہ چل کر مشرف باسلام ہوں گے اس لیے یہ آیت نازل ہوئی آپ نے ان پر بددعا کرنی چھوڑ دی اور اللہ ہی ملک ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور مالک کو اختیار ہے کہ جس کو چاہے معاف کرے اور جس کو چاہے عذاب دے کوئی شے اس پر واجب نہیں اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا اور بڑا مہربان ہے اس کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے لہذا تم بددعا میں عجلت نہ کرو چناچہ اللہ کی رحمت اور مغفرت غالب آئی اور آپ کے دشمنوں کو اسلام کی ہدایت ہوئی نبی پر حق جل شانہ کی محبت اور کفر وشرک کی عداوت کا غلبہ تھا اس لیے کہ آپ دشمنانان خدا پر لعنت فرماتے مگر پردہ قضاء وقدر میں کیا مستور ہے اس کا آپ کو علم نہ تھا اس لیے حکم نازل ہوا کہ آپ ان پر لعنت نہ فرمائیں عنقریب یہ لوگ دین کے خدمت گار اور جان نثار بنیں گے۔ فائدہ۔ اس آیت کے شان نزول میں مختلف روایتیں ہیں ایک روایت میں ۃ ے کہ احد کی لڑائی میں جن لوگوں نے آپ کو زخمی کیا آپ نے ان کے حق میں بددعا کی اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ایک روایت میں ہے کہ جب قبیلہ رحل اور ذکوان نے ستر صحابہ کو شہید کرڈالا جس کو واقعہ بیر معونہ کہتے ہیں جب آپ نے ان قبائل پر بددعا کی تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور امام احمد اور امام بخاری کی روایت میں ہے کہ آپ صبح کی نماز میں قومہ کے بعد دوسری رکعت میں یہ دعا کرتے اے اللہ لعنت کر، صفوان بن امیہ پر اور لعنت کر سہیل بن عمرو پر اور لعنت کر حارث بن ہشام پر اور چند قریش کے سرداروں کے نام لے کر بددعا فرماتے اس پر یہ آیت نازل ہوئی حافظ عسقلانی فتح الباری میں فرماتے ہیں کہ یہ واقعات احد ہی کے سال میں پیش آئے اور بیر معونہ کا واقعہ احد کے چارماہ بعد صفر 4 ہجری میں پیش آیا اس لیے یہ کہنا صحیح ہے کہ اس آیت کا نزول ان تمام واقعات میں ہوا۔ فائدہ نمبر 2۔ اللہ کے دو انتظام ہیں ایک تشریعی اور ایک تکوینی تشریعی انتظام کا تعلق انبیاء کرام سے ہے اور تکوینی انتظام کا تعلق ملائکہ سے ہے یعنی قضاء قدر کے حکم کے مطابق انتظام ہوتا ہے اور خضر کے انتظام کا تعلق بھی امور تکوینیہ سے ہے اور موسیٰ نے جو خضر (علیہ السلام) پر اعتراض فرمایا وہ اسباب شرعیہ کی بناء پر تھا، اسی طرح نبی اکرم کا خاص خاص دشمنان اسلام پر نام بنام، بددعا کرنا اسباب شرعیہ کی بنا پر تھا کہ یہ دشمنان اسلام اسی قابل ہیں کہ ان پر بددعا کی جائے مگر چونکہ قضاء وقدر میں یہ طے چکا تھا کہ ان لوگوں میں سے اکثر مشرف باسلام ہوں گے اس لیے حق تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرما کر نبی ﷺ کو ان لوگوں کے حق میں بددعا کرنے سے منع فرمایا یہ تکوینی انتظام تھا۔