3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 3:130–136

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوا الرِّبٰۤوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً١۪ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 3:130 in the Quran reader

اے ایمان والو ! دگنا چوگنا سود نہ کھاؤ اور خدا سے ڈرو تاکہ نجات حاصل کرو

وَ اتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْۤ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَۚ Open ayah 3:131 in the Quran reader

اور (دوزخ) کی آگ سے بچو جو کافروں کے لئے تیار کئی گئی ہے

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۚ Open ayah 3:132 in the Quran reader

اور خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحمت کی جائے

وَ سَارِعُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ١ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 3:133 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کی بخشش اور بہشت کی طرف لپکو جس کا عرض آسمان اور زمین کے برابر ہے اور جو (خدا سے) ڈرنے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے

الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ الْكٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَۚ Open ayah 3:134 in the Quran reader

جو آسودگی اور تنگی میں (اپنا مال خدا کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں اور غصے کو روکتے اور لوگوں کے قصور معاف کرتے ہیں اور خدا نیکو کاروں کو دوست رکھتا ہے

وَ الَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِهِمْ١۪ وَ مَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ١۪۫ وَ لَمْ یُصِرُّوْا عَلٰى مَا فَعَلُوْا وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:135 in the Quran reader

اور وہ کہ جب کوئی کھلا گناہ یا اپنے حق میں کوئی اور برائی کر بیٹھتے ہیں تو خدا کو یاد کرتے رہو اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں اور خدا کے سوا گناہ بخش بھی کون کرسکتا ہے ؟ اور جان بوجھ کر اپنے افعال پر اڑے نہیں رہتے

اُولٰٓئِكَ جَزَآؤُهُمْ مَّغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَؕ Open ayah 3:136 in the Quran reader

ایسے ہی لوگوں کا صلہ پروردگار کی طرف سے بخشش اور باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں (اور) وہ ان میں ہمیشہ بستے رہیں گے اور اچھے کام کرنے والوں کا بدلہ بہت اچھا ہے

ترہیب وتحذیر از نار آخرت وترغیب براعمال جنت۔ قال اللہ تعالی۔ یا ایھا الذین امنو لا تاکلو۔۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ العالمین۔ (ربط) ظاہر میں ان آیات کا ماقبل سے کوئی تعلق معلوم ہوتا ہے اس لیے بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ یہ جداگانہ اور مستقل کلام ہے جس میں اللہ نے امرونہی اور ترغیب وترہیب کو جمع کیا ہے مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کو بیان فرمایا ہے اور بعض علماء نے ان آیات کا ماقبل کے ساتھ اتصال اور ربط بیان کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ گزشتہ آیات میں صبر اور تقوی کا حکم تھا اور کفار کے ساتھ دوستی اور خلط ملط اور ان کو راز دار بنانے کی ممانعت تھی اب ان آیات میں پھر صبر اور تقوی کو بیان کرتے ہیں کہ صبر اور تقوی کیا چیز ہے اور صابر اور متقی کون لوگ ہیں اور ان کے کیا اوصاف ہیں جن میں سے سب سیپہلی سود کی ممانعت فرمائی کہ اکل حلال تقوی کی جڑ اور بنیاد ہے نیز کفار سودی کاروبار کرتے ہیں اور جو نفع حاصل ہوتا اسے لڑائیوں میں خرچ کرتے ہیں چناچہ احد کی لڑائی میں جو مال خرچ کیا وہ وہی مال تھا جو اس قافلہ کی تجارت سے نفع حاصل ہوا جو بدر کے سال شام سے آیا تھا اب اللہ مسلمانوں کو سود سے ڈراتے ہیں کہ تم کفار کی طرح یہ خیال نہ کرنا کہ ہم بھی سودی کاروبار سے جنگوں میں مدد لیں خوب معلوم ہوا کہ جس طرح انفرادی ضرورت کی بنا پر قرض دے کر سود لینا حرام ہے اسی طرح اجتماعی تجارت میں بھی سودی کاروبار حرام ہے زمانہ جاہلیت میں دونوں طرح کا سود مروج تھا۔ لوگ انفرادی طور پر بھی تجارت کرتے تھے اور اجتماعی طور پر بھی پورا قبیلہ مل کر تجارتی کاروبار کرتا تھا اس زمانہ میں اس کا نام کمپنی اور بنک ہوگیا باقی حقیقت وہی ہے جو پہلے زمانہ میں تھی نام بدلنے سے حقیقت نہیں بدلتی قرآن کریم میں نازل ہوا جس نے ہر قسم کے سود کو حرام قرار دیا خواہ وہ انفرادی تجارت پر ہو یا اجتماعی یعنی کمپنی کی تجارت پر ہو جیسا کہ کتب تفاسیر میں انفرادی اور قبائلی ربا کے واقعات باالتفصیل مذکور ہیں قرآن نے مطلق سود کو حرام قرار دیا ہے خواہ وہ کسی صورت سے ہو کیونکہ رہا شریعت میں اس مالی زیادتی کا نام ہے جس کے عوض اور مقابلہ میں مال نہ ہو مثلا ایک شخص کسی کو سوروپیہ قرض دیتا ہے اور یہ شرط لگاتا ہے کہ اگر چھ ماہ کے بعد ادا کرو گے تو اس پر پانچ روپے زائد لوں گا اور اگر ایک سال کے بعد ادا کرو گے تو دس روپیہ لوں گا پس جب اس شخص نے سور روپیہ کے بدلہ میں ایک سو دس روپیہ دیا تو سورپیہ تو اصل رقم کے عوض اور مقابلہ میں ہوگئے اور یہ دس روپیہ کسی مال کے عوض اور مقابلہ میں نہیں یہ سود ہوا کیونکہ یہ زیادتی کسی مال کے عوض اور بدلہ میں نہی رہی چھ مہینہ یا سال کی مدت سو وہ کوئی مال نہیں جس کے عوض میں مال لیاجاسکے بنک کے سود میں یہی ہوتا ہے اس لیے جس طرح زمانہ جاہلیت اولی کا سود حرام تھا اسی طرح اس جاہلیت ثانیہ یعنی اس متمدن اور مہذب جاہلیت کا سود بھی قطعا حرام ہوگا لہذا کسی جدت پسند کا یہ کہنا کہ شخصی ضروریات کے لیے تو سودی کاروبارحرام ہے اور اجتماعی تجارت کے لیے حلال ہے یہ قرآن و حدیث میں تحریف ہے اور یہ کہنا کہ زمانہ جاہلیت میں صرف انفرادی ضرورتوں کے لیے سود ہوتا تھا اور اجتماعی تجارت پر سود کارواج نہ تھا اول تو یہ غلط ہے اس لیے کہ آیت کے شان نزول سے معلوم ہوچکا کہ زمانہ جاہلیت میں دونوں قسم کے سود رائج تھے اور اگر بالفرض یہ تسلیم کرلیا بھی جائے کہ اس زمانہ میں اجتعمای تجارت پر سود رائج نہ تھا تو اس خاص صورت کا اس زمانہ میں موجود نہہونا ہمارے لیے مضر نہیں شریعت نے مطلق ربا کو حرام قرار دیا ہے جس معاملہ پر ربا کی تعریف صادق آئے گی وہ حرام ہوگا چوری اور زنا کو شریعت نے حرام قرار دیا اگر وہ گزشتہ زمانہ کے طرح غیر مہذب ہو یا موجودہ تہذیب اور تمدن کے طریقہ پر کسی بڑے ہوٹل میں ہو ہر حال میں حرام ہے حلت اور حرمت کا مدار اصل حقیقت پر ہے نہ کہ کسی خاص صورت پر۔ (ربط دیگر) ۔ گزشتہ آیات میں، اذ ھمت طائفتان منکم ان تفشلا۔ آیت۔ میں قبیلہ بنوحارثہ اور بنی سلمہ کی بزدلی کا ذکر ہے کہ جہاد کے موقع پر نامردی دکھائی اب اس آیت میں سود کی ممانعت بیان فرماتے ہیں اشارہ اس طرف ہے کہ سود کھانے یعنی حرام مال کھانے سے نامردی اور بزدلی پیدا ہوتی ہے۔ جاہلیت میں سود کا دستور ایسا تھا جس طرح ہندوستان کے بنیے اور لالہ لوگ لیتے ہیں کہ جب قرض دار مدت معینہ پر روپیہ ادا نہ کرسکا تو قرض خواہ سود کو اصل میں شامل کرکے قرض کی مدت بڑھا دیتا اور چند روز کے لیے اس کو مہلت دے دیتا پھر اگلی قسط پر سود اور بڑھ جاتا اور قرض دار وقت پر بوجہ مجبوری نہ ادا کرسکتا تو پھر سود خوار سود کو اصل میں جمع کرکے اس پر سود لگاتا اور اسی طرح بڑھاتا رہتا یہاں تک کہ سو روپیہ قرض کے بدلہ میں ایک ہزار کی جائداد کا مالک بن جاتا اس لیے ارشاد فرمایا اے ایمان والو مت کھاؤ سود دو نے پر دونا تو برتو کہ اصل سے کئی گنا زیادہ ہوجائے مطلب یہ ہے کہ اصل قرض سے ایک پائی بھی زائد لینا جرم ہے اور صریح ظلم ہے اور کھلا ہوا بخل ہے کہ خدا کے لیے ذرہ برابر بلامعاوضہ کسی کی ہمدردی بھی گوارا نہیں۔ اور اصل قرض سے کئی گنا زائد لے لینا اس کی قباحت اور شناعت کی تو کوئی حد نہیں اضعافا مضاعفہ سود تو قساوت قلبی اور بےرحمی کی آخری منزل ہے۔ آیات قرآنیہ اور بیشمار احادیث نبویہ سے مطلق ربا کی کلیتا ممانعت اور حرمت ثابت ہے اور اس آیت میں جو اضعافا مضاعفہ کا لفظ آیا ہے وہ قید احتراز ہی نہیں بلکہ توبیخ اور سرزنش کے لیے جو اس زمانہ میں رائج تھی جیسے کوئی نیک دل اور دین دار حاکم کسی موقعہ پر اپنے عملہ کے ان لوگوں سے جو رشوت خوار ہوں یہ کہے کہ صاحبو زیادہ حرام نہ کھاؤ اور حد سے نہ بڑھو تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ تھوڑا حرام کھانا تو جائز ہے اور زیادہ حرام کھانا ناجائز ہے۔ ایسے الفاظ مزید تقبیح اور تشنیع کے لیے بولے جاتے ہیں جیسے، فلا تجعلو اللہ اندادا۔ آیت۔ فرمایا یعنی خدا کے لیے متعدد شریک نہ ٹھہراؤ اس کا یہ مطلب نہیں کہ خدا کے لیے ایک دو شریک ٹھہرانا جائز ہے اور تین چار ناجائز ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ خدائے برتر کا تو ایک بھی شریک نہیں مگر تم ایسے ظالم ہو کہ تم نے خدا کے لیے بہت سے شریک ٹھہرا رکھے ہیں کماقال تعالی۔ وتجعلون لہ اندا، ومن الناس من یتخذ من دون اللہ اندادا۔ وجعلوللہ شرکاء، ویوم ینادیھم این شرکائی۔ آیت۔ ان سب آیات کا یہی مطلب ہے کہ نزول قرآن کے وقت سود خواروں کی یہی عادت تھی کہ اضعافا مضاعفہ سود لیتے اس لیے ان کی عادت کی بنا پر اس آیت میں ان کی توبیخ اور سرزنش کے لیے اضعافا مضاعفہ کا لفظ بڑھا دیا گیا ورنہ احل اللہ البیع وحرم الربو۔ آیت۔ جیسی آیات سے بصراحت مطلق ربا کی حرمت ثابت ہے اگر کسی جھوٹے کو کوئی شخص یہ کہے کہ میاں پیٹ بھر کر جھوٹ نہ بولوتو اس کا مطلب نہیں کہ جھوٹ بقدر ذائقہ تو جائز ہے اور پیٹ بھر کرنا جائز ہے بلکہ جھوٹ کی قباحت اور شناعت کے واضح کرنے کے لیے ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ قرآن کریم میں ہے لاتشتروا بایاتی ثمنا قلیلا۔ آیت۔ میری آیتوں کے بدلہ میں تھوڑی قیمت نہ لو سو اس کا یہ مطلب نہیں کہ آیات قرآنیہ میں تحریف کرکے زیادہ قیمت لینا تو جائز ہے اور کم قیمت لینا حرام اور ناجائز ہے آیات الیہ کے مقبالہ میں ہفت اقلیم کی دولت بھی ہیش ہے پس جس طرح اس آیت میں ثمن قلیل کی قید عار دلانے کے لیے اسی طرح آیت ربوا میں اضعافا مضاعفہ کی قید عار دلانے کے لیے خوب سمجھ لو خلاصہ کلام یہ کہ اضعافا مضاعفہ کی قید احترازی نہیں بلکہ اس زمانہ کے رسم و رواج کے مطابق جو ظالم اور بےرحم اضعافا مضاعفہ سود لیتے تھے ان کی توبیخ اور سرزنش کے لیے اور ان کو عار دلا کے لیے بڑھائی گئی ورنہ اگر یہ قید احترازی لی جائے تو مطلب آیت کا یہ ہوجائے گا کہ جب تک سود اصل رقم سے کم ازکم سہ چند ہوجائے اس وقت تو حلال ہے یعنی جب تک سو کا سو دو سو ننانوے تک رہے اس وقت تک تو وہ سود حلال ہے اور جب سود پوراتین سو ہوجائے تب حرام ہوگا غرض یہ کہ از روئے قرآن و حدیث ربا مطلقا اور کلیہ حرام ہے اور اضعافا یاغیراضعافا ہو قلیل ہو یا کثیر اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم کامیاب ہو اور کامیابی سود نہ لیتے میں ہے اور ڈرو اس آگ سے جو خاص کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے سود خوار جہنم کے اس طبقہ میں رکھے جائیں گے جو خاص کافروں کے لیے تیار کیا گیا ہے اور فرمانبرداری کرو خدا کی اور پیغمبر جو تم کو سود خوری سے منع کرتے ہیں تاکہ تم پر رحم کیا جائے یعنی اگر تم اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے مطابق حاجت مندوں کو بلاسود قرض دو گے تو اللہ تم پر رحم کرے گا دنیا میں بھی اور آخر تمہیں بھی اور اے ایمان والو اس آگ سے تو بھاگو جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے اور اپنے پروردگار کے سامان مغفرت کی طرف دوڑو اور بہشت کی طرف دوڑو جس کا عرض یعنی پھیلاؤ آسمان اور زمین ہے یعنی اعمال صالحہ اور اخلاق حسنہ کی طرف دوڑو جن سے حسب وعدہ خداوندی جنت ملتی ہے تیار کی گئی ہے یہ جنت متقی اور پرہیزگاروں کے لیے اللہ نے اعدت للمتقین بصیغہ ماضی فرمایا یعنی جنت متقیوں کے لیے تیار ہوچکی ہے اور یہ نہیں فرمایا کہ تعد للمتقین کہ جنت آئندہ زمانہ میں متقیوں کے لیے تیار کی جائیگی تاکہ معلوم ہوجائے کہ جنت تیار ہوچکی ہے انسان کی فطرت میں ہے کہ رغبت اور میلان موجود شی کی طرف ہوتا ہے معدوم کی طرف نہیں ہوتا اس لیے ماضی کا صیغہ استعمال فرمایا تاکہ جنت کی طرف کشش ہو اور تقوی اور پرہیزگاری کو دل چاہے۔ اب آئندہ آیت میں متقین کی دو قسمیں بیان فرماتے ہیں کہ ایک محسنین اور دوسرے تائبین۔ قسم اول۔ اعلی درجہ کے متقی وہ لوگ ہیں کہ جو آسائش اور سختی خوشی اور تکلیف میں خدا کی راہ میں خرچ کرتے رہتے ہیں یعنی بڑے سخی اور کریم ہیں اور غصہ پی جانے والے یعنی صابر اور حلیم اور بردبار ہیں اور لوگوں کی تقصیر کو معاف کرنے والے بلکہ مزیدبرآں اور نیکی سے پیش آنے والے اور اللہ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے کہ جنہوں نے اپنی قوت شہویہ اور قوت غضبیہ کو قوت روحانیہ اور عقلیہ کے تابع کردیا ہے۔ قسم دوم۔ اور دوسرے درجہ کے متقی وہ لوگ ہیں کہ جب کبھی وہ کوئی براکام کربیٹھتے ہیں یا اپنی جانوں پر کوئی ظلم کر گزرتے ہیں تو فورا اللہ کی عظمت و جلال کو یاد کرتے ہیں اور اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی اور بخشش چاہتے ہیں کیونکہ ان کو خوب معلوم ہے کہ کون ہے جو اللہ کے سوا گناہوں کو معاف کرسکے اور جو گناہ ان سے صادر ہوجاتا ہے جان بوجھ کر اس پر اصرار نہیں کرتے بلکہ نادم اور شرمسار رہتے ہیں ایسے لوگوں کی جزا بخشش اور معافی ہے ان کے پروردگار کی جانب سے اور باغات ہیں کہ جن کے نیچے سے نہریں جاریں ہیں اور یہ لوگ ان میں ابدالا آباد تک رہیں گے اور نیک کام کرنے والوں کا کیا ہی اچھا اجر اور ثواب ہے یہ اجر اور بدلہ تائبین کا ہے قسم وال کے متقی یعنی محسنین کو مقاممحبوبیت حاصل ہے اس لیے محسین کے لیے کسی اجر اور ثواب کا ذکر نہیں فرمایا بلکہ فقط واللہ یحب المحسنین۔ آیت۔ پر آیت کو ختم کردیا مقام محبوبیت کے بعد اجروثواب کا کیا ذکر۔ حکایت۔ بیان کیا جاتا ہے کہ کسی بادشاہ کے غلام سے کوئی نازیبا حرکت صادر ہوئی جس پر بادشاہ کو غصہ آگیا اور غلام کو سزا دینے کا ارادہ کیا تو غلام نے عرض کیا کہ اے امیر المومنین اللہ متقین کی صفات میں فرماتا ہے، والکاظمین الغیظ۔ یعنی غصہ کو پی جانے والے، بادشاہ نے کہا کظمت غیظی۔ میں اپنے غصہ کو پی گیا۔ پھر غلام نے کہا اے امیر المومنین پھر اللہ یہ فرماتا ہے والعافین عن الناس۔ یعنی لوگوں کی خطائیں معاف کرنے والے بادشاہ نے کہا عفوت عنک میں نے تیرا قصور معاف کیا بعد ازاں غلام نے عرض کیا اے امیر المومنین اللہ اس کے بعد فرمایا ہے واللہ یحب المحسنین۔ یعنی اللہ احسان کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے بادشاہ نے کہا احسنت الیک فاعتقک۔ میں نے تیرے ساتھ احسان کیا اور تجھے آزاد کیا جاتو اللہ کے لیے آزاد ہے۔ فائدہ۔ 1 علماء نے لکھا ہے کہ صغیرہ پر اصرار کرنے صغیرہ کبیرہ ہوجاتا ہے رفتہ رفتہ طبیعت گناہ سے مانوس ہوجاتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بڑے بڑے گناہوں پر دلیر ہوجاتا ہے۔ اللھم احفظنا من ذالک۔ آمین۔ فائدہ 2 بمقتضائے بشریت اگر 70 مرتبہ بھی گناہ سرزد ہوجائے مگر سرزد ہوجانے کے بعد اس سے بیزار اور شرمسار ہوجائے اور الہ سے استغفار کرے تو اللہ اس کو معاف کردے گا اور اصرار یہ ہے کہ بےکھٹکے گناہ کرتا رہے اور خدا کی نافرمانی پر ایسا بےباک ہوجائے کہ معصیت سے اس کو ندامت حجالت بھی نہ ہو تو یہ حالت خطرناک ہے جس طرح اپنی عبادت اور زاہد تقوی پر غزہ اور ناز تباہی کا سامان ہے اسی طرح گناہوں پر بےباکی اور دلیری بھی تباہی کا سامان ہے۔
Ayahs 3:137–145

قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ سُنَنٌ١ۙ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 3:137 in the Quran reader

تم لوگوں سے پہلے بھی بہت سے واقعات گزر چکے ہیں تو تم زمین میں سیر کر کے دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہو

هٰذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 3:138 in the Quran reader

یہ (قرآن) لوگوں کے لیے بیان صریح اور اہل تقوی کے لئے ہدایت اور نصیحت ہے

وَ لَا تَهِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:139 in the Quran reader

اور (دیکھو) بےدل نہ ہونا اور نہ کسی طرح غم کرنا اگر تم مومن (صادق) ہو تو تم ہی غالب رہو گے

اِنْ یَّمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهٗ١ؕ وَ تِلْكَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُهَا بَیْنَ النَّاسِ١ۚ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَآءَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 3:140 in the Quran reader

اگر تمہیں زخم (شکست) لگا ہے تو ان لوگوں کو بھی ایسا زخم لگ چکا ہے اور یہ دن ہیں کہ ہم ان کو لوگوں میں بدلتے رہتے ہیں اور اس سے یہ بھی مقصود تھا کہ خدا ایمان والوں کو متمیز کر دے اور تم میں سے گواہ بنائے اور خدا بےانصافوں کو پسند نہیں کرتا

وَ لِیُمَحِّصَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَمْحَقَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:141 in the Quran reader

اور یہ بھی مقصود تھا خدا ایمان والوں کو خالص (مومن) بنادے اور کافروں کو نابود کر دے

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ یَعْلَمَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 3:142 in the Quran reader

کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ (بےآزمائش) بہشت میں جا داخل ہو گے حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو تو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں اور (یہ بھی مقصود ہے) کہ وہ ثابت قدم رہنے والوں کو معلوم کرے

وَ لَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَلْقَوْهُ١۪ فَقَدْ رَاَیْتُمُوْهُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ۠ Open ayah 3:143 in the Quran reader

اور تم موت (شہادت) کے آنے سے پہلے اس کی تمنا کیا کرتے تھے سو تم نے اس کو آنکھوں سے دیکھ لیا

وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ١ؕ اَفَاۡئِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰى عَقِبَیْهِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ وَ سَیَجْزِی اللّٰهُ الشّٰكِرِیْن Open ayah 3:144 in the Quran reader

اور محمد ﷺ تو صرف (خدا کے) پیغمبر ہیں ان سے پہلے بھی بہت پیغمبر ہو گزرے ہیں بھلا اگر یہ مرجائیں یا مارے جائیں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے ؟ (یعنی مرتد ہوجاؤ گے) اور جو الٹے پاؤں پھرجائے گا تو خدا کا کچھ نقصان نہیں کرسکے گا اور خدا ‌شکر گزاروں کو (بڑا) ثواب دے گا۔

وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ كِتٰبًا مُّؤَجَّلًا١ؕ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ۚ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الْاٰخِرَةِ نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ؕ وَ سَنَجْزِی الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 3:145 in the Quran reader

اور کسی شخص میں طاقت نہیں کہ خدا کے حکم کے بغیر مرجائے (اس نے موت) کا وقت مقرر کر کے لکھ رکھا ہے اور جو شخص دنیا میں (اپنے اعمال) کا بدلہ چاہے اس کو ہم یہیں بدلہ دیں گے اور جو آخرت میں طالب ثواب ہو اس کو وہاں اجر عطا کریں گے اور ہم شکر گزاروں کو عنقریب بہت (اچھا) صلہ دیں گے

رجوع بسوئے قصہ احد وتسلیہ اہل اسلام بہ گونہ گوں۔ قال اللہ تعالی۔ قد خلت من قبلکم۔۔۔۔۔ الی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الشاکرین۔ آیت۔ ربط) گزشتہ آیات میں واقعہ احد کا بیان تھا اب پھر قصہ احد کی طرف رجوع فرماتے ہیں جس میں مسلمانوں کی ہزیمت کے اسباب کو بھی بیان فرمایا کہ صبر اور تقوی اور اطاعت رسول میں تقصیر کی وجہ سے فتح کے بعد تم کو یہ ہزیمت پیش آئی مگر ساتھ ہی ساتھ بار بار تسلی بھی دی گئی کہ تم مت گھبراؤ فی الحال اگرچہ کفار کو غلبہ ہوا مگر انجام کار تم ہی غالب رہو گے اور بار بار حضرات صحابہ کی اس لغزش کے عفو اور معافی کا اعلان فرمایا تاکہ حضرات صحابہ کے ٹوٹے ہوئے دل دوبارہ جڑجائیں اور محبین اور مخلصین کو جو بمقتضائے بشریت لغزش کی وجہ سے اضطراب اور بےچینی لاحق ہوئی ہے وہ مبدل بسکون و اطمینان ہوجائے اور قیامت کے دن ان محبین اور مخلصین صحابہ کے طاعنین (خوارج اور روافض) کی زبانوں پر مہر لگادی جائیکہ اللہ کے عفو اور اعلان رضاء کے بعد کسی کی مجال نہیں کہ اللہ اور اس کے عاشقوں کی لغزش کو زبان پر لاسکے جس کی راہ میں لغزش ہوئی تھی اس نے ولقد عفا عنکم۔ آیت۔ کا اعلان کردیا اب بھی اگر کوئی صحابہ کرام کو معاف نہیں کرتا تو صحابہ کرام کی بلا سے جو اللہ کی معافی کے بعد بھی معاف نہ کرے اللہ اسے معاف نہ کرے گا چناچہ ارشاد فرماتے ہیں تحقیق گذر چکے ہیں تم سیپہلے بہت سے واقعات یعنی تم سیپہلے بھی مسلمانوں اور کافروں کے درمیان لڑائیاں ہوئیں اور ان میں کبھی کبھی مسلمانوں کو تکلیفیں بھی آئیں لیکن انجام بغیر ہمیشہ انہیں کا ہوا پس زمین میں چل کر دیکھ لو کہ رسولوں کے جھلانے کا انجام کیسا ہوا ان کی تباہی اور بربادی کے آثار اب بھی موجود ہیں کما قال تعالی، فتلک بیوتھم۔۔۔۔ الخ۔ وانھما لبامام مبین۔ آیت۔ اور یہ مضمون مذکور عاملوگوں کے لیے بیان شافی اور اظہار حقیقت ہے اور خاص اللہ سے ڈرنے والے کیلیے ہدایت اور نصیحت ہے جو اللہ کی ہدایتوں اور نصیحتوں پر عمل کرتے ہیں اور اے مسلمانو تم اس وقت کی ہنگامی پسپائی سے ملول ومایوس ہو کر نہ ہمت ہارو اور نہ آئندہ جہاد میں سستی کرو اور جو شہید ہوگئی ہیں ان پر غمگین اور آزردہ خاطر نہ ہوا اس وقت اگرچہ کافروں نے غلبہ پا لیا ہے لیکن اخیرفتح تمہاری ہوگی اور بلاآخر باطل کے مقبلہ میں حق مظفر ومنصور اور غالب ہو کررہے گا اور تم ہی بلند اور غالب رہو گے اگر تم پورے مومن اور ٹھیک ٹھیک ایمان کے مقتضی پر چلتے رہو اور اطاعت رسول سے ذرہ برابر بھی انحراف نہ کرو اگر تم کو اس لڑائی میں یعنی معرکہ احد میں کوئی زخم لگا ہے تو جماعت کفار کو بھی معرکہ بدر میں ایسا ہی ایک زخم لگ چکا ہے۔ باوجود اس کے وہ تم سے لڑنے میں ضعیف اور سست نہیں پڑے تو تم کیوں سست رہے ہو تم سے تو اللہ کا وعدہ ہے اور ان سے کوئی وعدہ نہیں پھر تمکیوں حق کی حمات میں ہمت ہارتے ہو اور علاوہ ازین یہ دن لوگوں میں ہم باری باری سے پھیرتے رہتے ہیں یعنی حق تعالیٰ بمقتضائے حکمت، فتح وشکست کے دنوں کو لوگوں میں بدلتے رہتے ہیں کبھی اہل حق، اہل باطل پر فتح پاتے ہیں اور کبھی اس کے برعکس ہوتا ہے جس میں اس علیم و حکیم کی بیشمار حکمتیں اور مصلحتیں ہیں اور اس غزوہ احد میں مسلمانوں کو کافروں کے ہاتھ سے تکلیف پہنچانے میں بھی چند مصلحتیں ہیں ایک تو یہ کہ سچے ایمان والوں کو منافقین سے ممتاز اور الگ کردے اہل اخلاص اور اہل نفاق دونوں کا رنگ صاف صاف اور جدا جدا نظر ا آنے لگے اور پکے اور سچے مسلمانوں کا جھوٹوں اور کچوں سے امتیاز ہوجائے اگر ہمیشہ اہل ایمان اور اہل حق ہی کو غلبہ اور فتح ہوا کرے تو لوگ ایمان لانے پر مجبور ہوجائیں گے اور ایمان لانا اختیاری نہ رہے گا اور دوسری مصلحت یہ ہے کہ تم میں سے بعض کو شہید بنائے یعنی تم میں سے بعض کو درجہ شہادت کا عطا کرے اگر ہمیشہ غلبہ اہل ایمان کو ہو تو پھر شہادت کا رتبہ کہاں سے ملے اور اللہ ظالموں کو یعنی ناحق والوں کو دوست نہیں رکھتا پس اگر کسی وقت کافر تم پر غالب آگئے تو اس سے نہ سمجھنا کہ اللہ کو ان سے محبت ہے تم مطمئن رہو، ہر حال میں محب اور محبوب تم ہی ہو اور تیسری مصلحت یہ ہے کہ اہل ایمان کو نکھار دے یعنی گناہوں کا میل کچیل ان سے صاف کردے اس لیے کہ مصائب وآلام سے اخلاص اور اعملا کتزکیہ اور تجلیہ اور تصفیہ ہوجاتا ہے اور شہادت سے سوائے قرض کے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور چوتھی مصلحت یہ ہے کہ کافروں کو مٹائے یہ دو طرح سے ہوگا کہ ایک تو یہ کہ جب اہل حق اور اللہ کے دوستوں پر ظلم اور تعدی ہوگا تو قہر خداوندی جوش میں آئے گا اور شدت کے ساتھ اپنے دوستوں کا اپنے دشمنوں سے انتقام لے گا دوسرے یہ کہ کافر اپنی اس عارضی فتح پر مغرور اور مسرور ہو کر ان کی جرات بڑھے گی اور دل کھول کر اور پوری تیاری اور پورے لاؤ لشکر کے ساتھ دوبارہ مسلمانوں سے مقابلہ کیلیے آئیں گے اس وقت اللہ ان کو پوری شکست دیں گے جیسا کہ جنگ میں ایک فریق از خود اس لیے پسپا ہوتا ہے کہ پلٹ کر اور سنبھل کر اپنے دشمن پر اس طرح حملہ کروں کہ دشمن محاصرہ میں آجائے اور کسی طرح ہمارے چنگل سے نکل نہ سکے پس یہ پسپائی صورتا شکست ہوئی مگر حقیقت میں عین فتح ہوتی ہے۔ اور غنیم ظاہر میں اگرچہ فتح یاب ہورہا ہے لیکن درحقیقت موت کے منہ میں جارہا ہے اللہ اپنے پیغمبروں کے دشمنوں کو اس طور سے ہلاک کرتے ہیں۔ واللہ محیط بالکافرین۔ آیت۔ خلاصہ کلام یہ کہ اللہ نے ان آیات میں ان مسلمانوں کو جو جنگ احد میں شریک تھے سستی اور کم ہمتی کی ممانعت فرمائی اور وقتی طور پر جو شکست ہوئی تسلی کے لیے اس کی حکمتیں اور مصلحتیں بیان فرمائی اب آئندہ آیات میں اپنے محبین و مخلصین کی ایک شکایت ہے اور ایک ان کو نصیحت ہے شکایت تو یہ ہے کہ تم خود پہلے سے یہ تمنا کرتے تھے کہ کاش ہم کو بھی جنگ بدر کی طرح کوئی موقعہ ملے کہ ہم بھی اصحاب بدر کی طرح اللہ کی راہ میں مقتول اور شہید ہوں پس جب یہ موقعہ سامنے آیا پھر کیوں گھبرائے اور نصیحت یہ ہے کہ بغیر جہاد اور صبر کے سعادت اخروری نصیب نہیں ہوتی چناچہ فرماتے ہیں کہ کیا تم نے یہ خیال کرلیا کہ جنت میں داخل ہوجاؤ اور اس کے اعلی مقامات اور بلند درجات پر فائز ہوجاؤ گے حالانکہ ابھی تک اللہ نے ممتاز نہیں کیا ان لوگوں کو جو تم میں سے مجاہد ہیں اور نہ جدا کیا صابرین کو یعنی کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ محض مسلمان ہونے کی بنا پر بغیر جہاد کے اور بغیر تکلیف کے ہی جنت میں داخل ہوجاؤ گے خوب جان لو کہ جب تک اللہ تمہارا امتحان لے کرمجاہدین کو غیر مجاہدین سے اور صابرین کو غیر صابرین سے لوگوں کی نظر میں واضح طور پر جدا اور ممتاز نہ کردے اس وقت تک درجات عالیہ کی تمنا ایک خیال خیال ہے اور شدائد ومصائب کو دیکھ کر تمہارے پائے استقامت میں کیو تزلزل آیا حالانکہ تحقیق تم تو موت کے سامنے آنے سے پہلے ہی موت کی تمنا اور آرزو کرتے تھے تم ہی نے شوق شہادت میں جنگ احد کے وقت یہ مشورہ دیا تھا کہ مدینہ سے باہر نکل کر لڑنا چاہیے پس تم نے اپنی تمنا اور آرزو یعنی موت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا جب تمہاری تمنا تمہارے سامنے آگئی و پھر پیچھے کیوں ہٹتے ہو اور کیوں کمزوری دکھلاتے ہو۔ احد کی لڑائی میں کافروں کے ناگہانی حملہ کی وجہ سے بعض مسلمانوں کے قدم ہٹ گئے اور عین اس ہنگامہ میں کسی شیطان نے پکار کر کہا محمد ﷺ مقتول ہوگئے اس خبر وحشت اثر سے مسلمانوں کے ہوش اڑ گئے اور پاؤں اکھڑ گئے اور ہمتیں ٹوٹ گئیں اس وقت بعض کمزور مسلمانوں کی زبانوں یہ نکلا کاش عبداللہ بن ابی ہمارے لیے ابوسفیان سے امان حاصل کرے اور بعض منافقوں نے کہا اگر محمد نبی ہوتے تو قتل نہ ہوتے اب تم اپنے بھائیوں میں شامل ہوجاؤ اور اپنے پرانے دین کی طرف لوٹ جاؤ اس وقت حضرت انس بن مالک کے چچا حضرت انب النضر نے کہا اگر محمد قتل ہوگئے تو کیا ہوا رب محمد تو زندہ ہے اور اسے تو موت نہیں رسول اللہ کے بعد تم زندگیاں کو لے کر کیا کرو گے جس چیز پر آپ کافروں سے لڑے تم بھی اسی بات پر ان سے لڑو اور جس بات پر آپ نے جان دے دی تم بھی اسی پر جان دے دو ، یہ کہہ کر آگے بڑھے اور حملہ کیا یہاں تک کہ لڑتے لڑتے شہید ہوگئے ؓ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل کی اور نہیں ہیں محمد مگر ایک رسول یعنی پیغمبر خدا، خدا نہیں جن پر موت اور فنا کا آنا محال ہو تحقیق آپ سے پہلے بہت سے رسول گذر چکے پس اگر محمد ﷺ مرجائیں یا شہید ہوجائیں تو کیا تم اپنے الٹے پاؤں پھر جاؤ گے پیغمبر کے قتل کی خبر سن کر پائے اسقامت میں تزلزل آجانا تمہاری شان رفیع کے لحاظ سے نمومہ ارتداد ہے ابن الفارض (رح) فرماتے ہیں۔ ولوخطرت لی فی سواک ارادۃ علی خاطری یوما حکمت برد تے۔ اے میرے محبوب اگر میرے دل میں تیرے سوا کا کسی وقت کوئی خیال اور خطرہ بھی آجائے تو میں اسی وقت اپنے مرتد ہونے کا حکم لگاؤں گا۔ عاشق صادق کے دل میں محبوب کے سوا کا خطرہ آنا یہ ارتداد فی المحبت ہے اور جو شخص اپنے ایڑیوں کے بل اپنے گزشتہ دین کی طرف واپس ہوجائے گا تو اللہ کا کچھ بگاڑے گا بلکہ اپنا ہی کچھ بگاڑے گا اور اللہ ضرور انعام دیں گے شکرگزاروں کو شاکرین سے وہ لوگ مراد ہیں جو اسلام اور ایمان اور ہدایت کے نعمت کے شکرگزار ہیں۔ اور رسول کی زندگی میں اور رسول کی وفات کے بعد دین حق پر قائم ہیں اور خدا کے لیے اور دین کی حفاظت کے لیے کسی حال میں جہاد سے سستی نہیں کرتے کیونکہ ان کا عمل اور رسول کے لیے نہیں ۃ ے کہ اس کی وفات کے بعد وہ عمل جاتا رہے بلکہ خالص اللہ کے لیے ہے جس کو کبھی موت اور فنا نہیں۔ حضرت علی کرم اللہ وجہ سے منقول ہے کہ اس آیت میں شاکرین سے حضرت ابوبکر ؓ اور ان کے ساتھی مراد ہیں جو دین پر قائم اور ثابت رہے اور ابوبکر صدیق امیر الشاکرین تھے (روح المعانی ص 67 ج 4) اس آیت میں تمام صحابہ کرام کو محبانہ عتاب ہے کہ اصل معبود اور مقصود وہ حی لایموت ہے اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں جو واسطہ فی العبودیت ہیں واستہ کے اٹھ جانے سے پائے استقامت میں کیوں تزلزل آیا امیرالشاکرین یعنی صدیق اکبر نے جب خطبہ دیا تو سب کو تسلی ہوگئی اور وقتی طور پر جو اضطراب پیش آیا تھا وہ دور ہوگیا اور امیر الشاکرین نے جب فتنہ ارتداد میں راہ استقامت اختیار کی اور مرتدین سے جہاد قتال کیا تو اللہ نے ان کو اس کی جزا دی یعنی فتح دی۔ اب آگے فرماتے ہیں کہ موت ہر ایک کی مقدر ہے وقت سے پہلے کوئی مرہی نہیں سکتا لہذا اسباب موت کے جمع ہوجانے سے جہاد قتال میں خوئی کمزوری اور پستی نہ آنے پائے اور نہ کسی بڑے یاچھوٹے کی موت کی خبر سن کر مایوس اور بددل ہوکربیٹھ رہنا چاہیے چناچہ فرماتے ہیں کہ کسی شخص کے لیے یہ ممکن نہیں کہ بغیر حکم خداوندی مرجائے موت نوشتہ خداوندی ہے اور مقید بقید وقت ہے لہذا جہاد میں جی چرانے اور پرہیز کرنے سے کوئی فائدہ نہیں کوئی شخص اپنے مقررہ وقت سے پہلے نہیں مرسکتا اگرچہ وہ ساری عمر ہلاکت کے مقامات اور جنگ کے میدانوں میں گھسا رہے اور جو شخص دنیا کا نفع چاہے گا ہم اس کو دنیا میں سے کچھ دیں گے اور جو شخص آخرت کا نفع چاہے گا ہم اس کو آخرت کے منافع میں سے دیں گے اور شکرگزار اور احسان ماننے والوں کو ضرور باضرور انعام دیں گے شاکرین سے وہ لوگ مرا د ہیں جو اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہیں اور جہاد جو کہ ایک نعمت الہی ہے اس میں نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ ثابت قدم رہے اور دشمن کے مقابلہ سے نہیں ہٹے ایسے لوگوں کو خاص انعام ملے گا۔ یعنی دین بھی ملے گا اور دنیا بھی ملے گی ان کے دل میں سکون ہوگا اور دنیا ان کے قدموں میں ہوگی۔ ان آیات میں اشارہ اس طرف ہے کہ جہاد میں فقط دنیوی منفعت پر نظر نہ ہونی چاہیے یہ کام منافق کا ہے کہ جس کا مطمح نظر فقط دنیاوی نفع ہو اور مومن مخلص وہ ہے کہ جس کا مطح نظر خاص آخرت ہو اور اصلی مطح نظر تو آخرت ہو اور تبعا کچھ مال غنیمت بھی مطلوب ہو تو مضائقہ ہیں لیکن یہ مقام رخصت ہے مقام عزیمت نہیں عجب نہیں کہ اس آیت میں ان لوگوں پر تعریض ہو جو جناب رسول اللہ کے خلاف حکم مورچہ چھوڑ کر مال غنیمت جمع کرنے کے لیے پہاڑ سے نیچے اتر آئے تھے اور جو کوہ استقامت تھے وہ پہاڑ پر آپ کے حکم کے مطابق ثابت قدم رہے یہ حضرات اصحاب عزیمت تھے اور جو لوگ پہاڑ سے اتر کر مجاہدین کے ساتھ مال غنیمت کے جمع کرنے میں آکر شریک ہوئے وہ اصحاب رخصت تھے اور یہ نیچے اترنے والے اگرچہ عزیمت کے لحاظ سے کم تھے مگر سارے عالم سے بالا اور برتر تھے۔ آسمان نسبت بہ عرش آفرود لیک بس عالی است پیش خاک تود فوائد ولطائف۔ 1۔ احد کی لڑائی میں ایک کافر نے پکار کر یہ کہا کہ میں محمد ﷺ کو مار آیا اور آپ کے بہت زخم آئے تھے جس سے بہت خون بہہ آیا تھا ضعف کی وجہ سے ایک گڑھے میں گر گئے مسلمانوں نے آپ کو نہ دیکھا اس لیے ان کو آپ کی شہادت کا یقین ہوگیا محبین وعاشقین کے تو اس خبر سے ہوش اڑ گئے اور پاؤں اکھڑ گئے اور بعض منافقین یہ کہنے لگے کہ جب محمد ﷺ نعوذ باللہ قتل ہوگئے تو ہمیں اسلام چھوڑ کر اپنا قدیم مذہب کی طرف واپس ہوجانا چاہیے اور انس بن النضر ؓ نے یہ کہا اگر محمد مقتول ہوگئے تو رب محمد تو مقتول نہیں ہوا جس چیز پر آپ نے جان دی اسی پر ہم کو جان دے دینی چاہیے۔ اسی اثناء میں جب نبی کو ضعف سے کچھ افاقہ ہوا اور ہشیار ہوئے تو آپ نے آواز دی الی عباد اللہ، انارسول اللہ، میرے طرف آؤ اے اللہ کے بندو میں اللہ کا رسول ہوں کعب بن مالک نے مسلمانوں کو للکار کر کہا یا معشر المسلمین اے گروہ مسلمین تم کو بشارت ہو رسول اللہ یہاں موجود ہیں تمام صحابہ سمٹ کر آپ کے قریب جمع ہوگئے۔ 2۔ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی اور بتلا دیا کہ اللہ کا رسول زندہ رہے یا نہ رہے دین اللہ کا ہے اور اس پر قائم رہنا اور اشارہ اس طرف ہے کہ آئندہ نبی ﷺ کی وفات کے بعد کچھ لوگ مرتد ہوجائیں گے اور جو قائم رہیں گے ان کو بڑا ثواب ہوگا چناچہ اسی طرح ہوا کہ بہت سے لوگ حضرت کے بعد مرتد ہوئے اور حضرت صدیق اکبر نے انکو پھر مسلمان کیا اور بعضوں کو مار۔ 3۔ میدان احد میں نبی اکرم نے بہ نفس نفیس خود مجاہدین کی صفوں کو مرتب فرمایا صفیں درست کرنے کے بعد پہاڑ کا ایک درہ باقی تھا جہاں سے اندیشہ تھا کہ دشمن اسلام لشکر اسلام پر عقب سے حملہ آور ہوجائے اس جگہ پر آپ نے پچاس تیر اندازوں کا ایک دستہ مقرر فرمایا جن پر عبداللہ بن جبیر کو امیر مقرر فرمایا اور یہ ہدایت فرمائی کہ تم اپنے اس مرکز کو کسی حال میں نہ چھوڑنا، مسلمان خواہ غالب ہوں یا مغلوب حتی کہ اگر تم یہ دیکھو کہ جانور ہم کو اچک کرلے جارہے ہیں تو تم اپنی جگہ پر قائم رہنا یہاں تک کہ میں تمہارے پاس آدمی بھیجوں۔ اس ہدایت کے بعد جنگ شروع ہوگئی اور مجاہدین اسلام نے شجاعت کے جوہر دکھلائے اور اس بےجگری سے کافروں کا مقابلہ کیا کہ کافروں کو سوائے راستہ نظر نہ آیا اللہ نے جو فتح ونصرت کا وعدہ کیا تھا وہ پورا کردکھایا مشرکین شکست کھا کر بری طرح بھاگنے لگے مجاہدی نے مال غنیمت پر قبضہ کرنا شروع کردیا۔ پہاڑ سے جب ان پچاس تیر اندازوں نے یہ منظر دیکھا کہ کافر بھاگ چکے ہیں اور مسلمان مال غنیمت کے جمع کرنے میں مشغول ہیں تو سمجھے کہ فتح مکمل ہوگئی اب یہاں ٹھہرنا ضروری نہیں رہا عبداللہ بن جبیر نے کہا کہ کیا تم کو رسول اللہ کا ارشاد مبارک یاد نہیں رہا کہ رسول اللہ نے فرمایا تھا کہ تم کسی حال میں اپنی جگہ سے نہ ٹلنا انہوں نے کہا کہ رسول اللہ کا یہ مطلب نہ تھا نبی کا اس حکم سے جو منشا تھا وہ پورا ہوگیا اب یہاں ٹھہرنے کی ضرورت نہ تھی یہ خیال کرکے نیچے اتر آئے اور مال غنیمت جمع کرنے میں مسلمانوں کے ساتھ شریک ہوگئے حضرت عبداللہ بن جبیر اور ان کے چند رفقاء نے کہا کہ تم کو اختیار ہے ہم نبی اکرم کے ارشاد کے مطابق اپنی جگہ سے نہیں ہٹیں گے چناچہ عبداللہ بن جبیر اور ان کے گیارہ ساتھی درہ کی حفاظت پر باقی رہ گئے۔ مشرکین کے سواروں کا رسالہ اس وقت خالد بن ولید کے زیر کمان تھا (جو ابھی مشرف باسلام نہیں ہوئے تھے) انہوں نے دیکھا کہ درہ خالی ہے پلٹ کر درہ کی جانب سے حملہ کردیا دس بارہ تیر انداز ایک پورے رسالہ کے یلغار کی تاب نہ لاسکے تاہم عبداللہ بن جبیر اور ان کے رفقاء نے پورا مقابلہ کیا اور بالاآخر جام شہادت نوش فرمایا۔ مسلمان مجاہدین، اپنے عقب سے مطمئن تھے ناگہاں مشرکین کا پورا رسالہ ا اور ایک فوجی دستہ ان کے سروں پر جا پہنچا اور سامنے سے مشرکین کی فوج بھاگی جارہی تھی وہ یہ منظر دیکھ کر پلٹ پڑی، اب مسلمانوں کی جماعت دو طرف سے گھر گئی پیچھے سے سواروں کا دستہ آگیا اور آگے سے پیادوں کی فوج واپس آگئی اور خوب زور کے ساتھ مقابلہ ہوا جس میں بہت سے مسلمان شہید اور زخمی ہوئے اسی افراتفری میں عبداللہ بن قمیہ نے ایک بھاری پتھر نبی پر پھینکا جس سے حضور کے دندان مبارک شہید ہوئے اور چہرہ انور زخمی ہوگیا ابن قمیہ نے چاہا کہ آپ کو قتل کردے مگر مصعب بن عمیر جن کے ہاتھ میں اسلام کا جھنڈا تھا انہوں نے نبی پر نور کی حفاظت اور آپ کی طرف سے مدافعت میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا زخم کی شدت کی وجہ سے آپ ایک گڑھے میں گرگئے اور صحابہ کی نظروں سے پوشیدہ ہوگئے کسی شیطان نے یہ آواز لگا دی کہ محمد ﷺ قتل کردیے گئے الی آخر۔ اس واقعہ کو یاد رکھیں کیونکہ آئندہ آیات میں اس واقعہ کے اجزاء کی طرف بار بار اشارہ ہے ان آیات کا سمجھنا اس واقعہ کے جاننے پر موقوف ہے اس لیے اس واقعہ کا استحضار ضروری ہے۔
Ayahs 3:146–148

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ قٰتَلَ١ۙ مَعَهٗ رِبِّیُّوْنَ كَثِیْرٌ١ۚ فَمَا وَ هَنُوْا لِمَاۤ اَصَابَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ مَا ضَعُفُوْا وَ مَا اسْتَكَانُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 3:146 in the Quran reader

اور بہت سے نبی ہوئے ہیں جن کے ساتھ ہو کر اکثر اہل اللہ (خدا کے دشمنوں سے) لڑے ہیں تو جو مصیبتیں ان پر راہ خدا میں واقع ہوئیں ان کے سبب انہوں نے نہ تو ہمت ہاری اور نہ بزدلی کی نہ (کافروں سے) دبے اور خدا استقلال رکھنے والوں کو دوست رکھتا ہے

وَ مَا كَانَ قَوْلَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِیْۤ اَمْرِنَا وَ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:147 in the Quran reader

اور (اس حالت میں) ان کے منہ سے کوئی بات نکلتی تو یہی کہ اے پروردگار ہمارے گناہ اور زیادتیاں جو ہم اپنے کاموں میں کرتے رہے ہیں معاف فرما اور ہم کو ثابت قدم رکھ اور کافروں پر فتح عنایت فرما

فَاٰتٰىهُمُ اللّٰهُ ثَوَابَ الدُّنْیَا وَ حُسْنَ ثَوَابِ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 3:148 in the Quran reader

تو خدا نے انکو دنیا میں بھی بدلہ دیا اور آخرت میں بھی بہت اچھا بدلہ دے گا اور خدا نیکوکاروں کو دوست رکھتا ہے

قال تعالیٰ وکاین من نبی۔۔۔۔۔۔ الی۔۔۔۔۔ المحسنین۔ آیت۔ ربط) گزشہ آیات میں مسلمانوں کی کمزوری پر شکایت اور ملامت کا ذکر تھا اب ان آیات میں یہ ذکر کرتے ہیں خہ پہلے زمانہ میں بھی انبیاء سابقین کے ساتھ ہو کر بہت سے اللہ والوں نے کافروں سے جہاد و قتال کیا اور امت کے سامنے ان کے نبی شہید ہوئے لیکن وہ لوگ ثابت قدم رہے اور خوف زدہ ور سست نہیں ہوئے تم کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے اور تم تو خیرالامم ہو تم کو تو ان سے بڑھ کر صبر اور استقامت کا ثبوت دینا چاہیے چناچہ فرماتے ہیں اور کتنے ہی نبی گزرے ہیں کہ جن کے ساتھ ہو کر خدا پرستوں اور اللہ والوں نے کافروں کے ساتھ جہاد کیا مگر ان تکلیفوں کی وجہ سے جو ان کو خدا کی راہ میں پہنچیں ان سے گھبرا کر نہ تو انہوں نے ہمت ہاری اور نہ جہاد و قتال میں سست پڑے اور نہ دشمن کے سامنے جھکے اور نہ اس سے دبے اور نہ اس کے سامنے کوئی عاجزی ظاہر کی جیسے جنگ احد میں بعض منافقین کہنے لگے کہ کاش کوئی ہمارے لیے ابوسفیان سے امان حاص کرلے اور اللہ تعالیٰ شدائد اور مصائب میں صبر کرنے والوں اور ثابت قدم رہنے والوں کو محبوب رکھتا ہے پس جس طرح ان لوگوں نے تکلیفوں کی وجہ سے ہمت نہیں ہاری اور باوجود نبی کے شہید ہوجانے کے اپنے دین کو نہیں چھوڑا جیسے نبی کی زندگی میں دین حق کی اشاعت میں کوشش کرتے رہے ویسے ہی ان کی شہادت کے بعد بھی کرتے رہے اس لیے وہ اللہ کے محبوب بنے پس تمہیں ان کے حال سے عبرت پکڑنی چاہیے اور ان اللہ والے مجاہدین کے صبر و استقامت کا یہ عالم تھا کہ ایسی مصیبت کے وقت قدم تو کیا لڑکھڑاتے زبان میں بھی لغزش نہیں آئی اور ایسے نازل وقت میں بجائے مخلوق کی طرف جھکنے اپنے خالق اور مالک کی طرف جھکے اور اس نازک وقت میں کچھ نہیں بولے مگر یہی کہا کہ اے ہمارے پروردگار ہماری تمام تقصیرات کو اور اس کام میں ہماری تمام زیادتیوں کو معاف فرما اور دشمنوں کے مقابلہ میں ہم کو ثابت قدر رکھ ہمارا صبر اور ہماری ثبات قدمی آپ کی تائد اور اعانت پر موقوف ہے بندہ عاجز اپنے حول وقوت سے جادہ صبر و استقامت پر قائم نہیں رہ سکتا ولاحول ولا قوۃ الاباللہ۔ پس اے پروردگار تو اپنی رحمت و عنایت سے ہم کو ثابت قدم رکھ خدانخواستہ ایسا نہ ہو کہ تکالیف ومصائب کی وجہ سے قدم لڑکھڑا جائیں اور کافر قوم کے مقابلہ میں ہماری مدد فرما اور ہمیں فتح دے پس اللہ نے ان کو دنیا کی بھی جزا دی یعنی دشمن کے مقابلہ میں ہماری مدد کی اور ان کو فتح دی اور ملک کی سرداری اور عزت عطا کی اور آخرت کا بھی ان کو اچھا بدلہ دیا اللہ ان سے خوش ہوا اور انہیں اس کا قرب نصیب ہو اور جنت کی وہ نعمتیں جو نہ کسی کی آنکھ نے دیکھی اور نہ کسی کان نے سنی اور نہ کسی بشر کے دل میں ان کا خطرہ گزرا اور آخرت کے ثواب کو اچھا اس لیے فرمایا کہ آخرت کا ثواب میں کسی شر اور ضرور کی آمیزش نہیں پھر یہ کہ آخرت کا ثواب باقی ہے اور دنیا کا فانی عاقل کا کام یہ ہے کہ باقی کو فانی پر ترجیح دے اور اللہ نیکوکاروں یعنی مخلصوں کو محبوب رکھتا ہے اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ مصائب وشدائد میں تو بہ و استغفار میں لگ جائے بسا اوقات مصیبت کے آنے میں گناہوں کو کچھ دخل ہوتا ہے۔ غم چو آمد زود استغفار کن غم بامر خالق آمد کارکن
Ayahs 3:149–155

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تُطِیْعُوا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَرُدُّوْكُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 3:149 in the Quran reader

مومنو ! اگر تم کافروں کا کہا مان لو گے تو وہ تم کو الٹے پاؤں پھیر (کر مرتد کر) دیں گے پھر تم بڑے خسارے میں پڑجاؤ گے

بَلِ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ النّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:150 in the Quran reader

(یہ تمہارے مددگار نہیں) بلکہ خدا تمہارا مددگار ہے اور سب سے بہتر مددگار ہے

سَنُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَاۤ اَشْرَكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ بِئْسَ مَثْوَى الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 3:151 in the Quran reader

ہم عنقریب کافروں کے دلوں میں تمہارا رعب بٹھا دیں گے کیونکہ یہ خدا کے ساتھ شرک کرتے ہیں جس کی اس نے کوئی بھی دلیل نازل نہیں کی ان کا ٹھکانہ ددزخ ہے وہ ظالموں کا بہت برا ٹھکانہ ہے

وَ لَقَدْ صَدَقَكُمُ اللّٰهُ وَعْدَهٗۤ اِذْ تَحُسُّوْنَهُمْ بِاِذْنِهٖ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا فَشِلْتُمْ وَ تَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ عَصَیْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَرٰىكُمْ مَّا تُحِبُّوْنَ١ؕ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الدُّنْیَا وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الْاٰخِرَةَ١ۚ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِیَبْتَلِیَكُمْ١ۚ وَ لَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:152 in the Quran reader

اور خدا نے اپنا وعدہ سچا کردیا (یعنی) اس وقت جب کہ تم کافروں کو اس کے حکم سے قتل کر رہے تھے یہاں تک کہ جو تم چاہتے تھے خدا نے تم کو دکھا دیا اس کے بعد تم نے ہمت ہار دی اور حکم (پیغمبر) میں جھگڑا کرنے لگے اور اس کی نافرمانی کی بعض تو تم میں سے دنیا کے خواستگار تھے اور بعض آخرت کے طالب اس وقت خدا نے تم کو ان (کے مقابلے) سے پھیر (کر بھگا) دیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے اور اس نے تمہارا قصور معاف کردیا اور خدا مومنوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے۔

اِذْ تُصْعِدُوْنَ وَ لَا تَلْوٗنَ عَلٰۤى اَحَدٍ وَّ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ فِیْۤ اُخْرٰىكُمْ فَاَثَابَكُمْ غَمًّۢا بِغَمٍّ لِّكَیْلَا تَحْزَنُوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا مَاۤ اَصَابَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:153 in the Quran reader

(وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے) جب تم لوگ دور بھاگے جاتے تھے اور کسی کو پیچھے پھر کر نہیں دیکھتے تھے اور رسول اللہ تم کو تمہارے پیچھے کھڑے بلا رہے تھے تو خدا نے تم کو غم پر غم پہنچایا تاکہ جو چیز تمہارے ہاتھ سے جاتی رہی یا جو مصبیت تم پر واقع ہوئی ہے اس سے تم اندوہناک نہ ہو اور خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے

ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَةً نُّعَاسًا یَّغْشٰى طَآئِفَةً مِّنْكُمْ١ۙ وَ طَآئِفَةٌ قَدْ اَهَمَّتْهُمْ اَنْفُسُهُمْ یَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ غَیْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِیَّةِ١ؕ یَقُوْلُوْنَ هَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ قُلْ اِنَّ الْاَمْرَ كُلَّهٗ لِلّٰهِ١ؕ یُخْفُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ مَّا لَا یُبْدُوْنَ لَكَ١ؕ یَقُوْلُوْنَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ مَّا قُتِلْنَا هٰهُنَا١ؕ قُلْ لَّوْ كُنْتُمْ فِیْ بُیُوْتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِیْنَ كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقَتْلُ اِلٰى مَضَاجِعِهِمْ١ۚ وَ لِیَبْتَلِیَ اللّٰهُ مَا فِیْ صُدُوْرِكُمْ وَ لِیُمَحِّصَ مَا فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 3:154 in the Quran reader

پھر خدا نے غم ورنج کے بعد تم پر تسلی نازل فرمائی (یعنی) نیند کہ تم میں سے ایک جماعت پر طاری ہوگئی اور کچھ لوگ جن کو جان کے لالے پڑ رہے تھے خدا کے بارے میں ناحق (ایام) کفر کے سے گمان کرتے تھے اور کہتے تھے بھلا ہمارے اختیار کی کچھ بات ہے ؟ تم کہہ دو کہ بیشک سب باتیں خدا ہی کے اختیار میں ہیں یہ لوگ (بہت سی باتیں) دلوں میں مخفی رکھتے ہیں جو تم پر ظاہر نہیں کرتے تھے کہتے تھے کہ ہمارے بس کی بات ہوتی تو ہم یہاں قتل ہی نہ کیے جاتے کہہ دو کہ اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن کی تقدیر میں مارا جانا لکھا تھا وہ اپنی اپنی قتل گاہوں کی طرف ضرور نکل آتے اس سے غرض یہ تھی کہ خدا تمہارے سینوں کی باتوں کو آزمائے اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اس کو خالص اور صاف کر دے اور خدا دلوں کی باتوں سے خوب واقف ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ١ۙ اِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّیْطٰنُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوْا١ۚ وَ لَقَدْ عَفَا اللّٰهُ عَنْهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۠ Open ayah 3:155 in the Quran reader

جو لوگ تم میں سے (احد کے دن) جبکہ (مومنوں اور کافروں کی) دو جماعتیں ایک دوسرے سے گتھ گئیں (جنگ سے) بھاگ گئے تو ان کے بعض افعال کے سبب شیطان نے ان کو پھسلا دیا مگر خدا نے ان کا قصور معاف کردیا بیشک خدا بخشنے والا (اور) بردبار ہے

ترہیب مومنین از قبول مشورہ کفار ومنافقین۔ قال تعالی۔ یا ایھا الذین۔۔۔۔ الی۔۔۔۔۔۔ حلیم۔ ربط۔ گزشتہ آیات میں خدا پرستوں اور اللہ والوں کی راہ اور طریق پر چلنے کی ترغیب تھی اب ان آیات میں اعداء اللہ بد باطنوں کے کہا ماننے سے منع فرماتے ہیں تاکہ مسلمان ہوشیار رہیں اور ان کے دھوکہ میں نہ آئیں چناچہ فرماتے ہیں اے مسلمانو۔ اگر تم کافروں کا کہا مانو گے اور ان کے مشورہ پر عمل کرو گے تو یہ تم کو الٹے پاؤں کفر کی طرف پھیر دیں گے تو پھر تم دنیا اور آخرت کے خسارہ اور نقصان میں جا پڑو گے اگر تم کافروں کی پناہ میں آگئے اور ان کی حکومت قبول کرلی جیسا کہ بعض منافقین تم کو مشورہ دیتے ہیں خوب سمجھ لو کہ اس میں دنیا اور آخرت کا خسارہ ہے اور دونوں جہان کی ذلت ہے ان کو ہرگز اپنا دوست اور معین مددگار نہ سمجھو بلکہ اللہ تمہارا کارساز اور مددگار ہے جیسا کہ حدیث میں ہے جب ابوسفیان احد سے واپس ہونے لگا اور ھبل بت کی جے پکاری اور یہ کہا کہ لنا العزی ولاعزی لکم تو نبی نے صحابہ کو حکم دیا کہ یہ جواب دو اللہ مولانا ولامولی لکم اور اللہ ہی سب سے بہتر مدد کرنے والا ہے پس اے مسلمانو تم اللہ کی مدد پر بھروسہ کرو ابوسفیان اور عبداللہ بن ابی کی مدد کا خیال بھی دل میں نہ لاؤیہ تو تمہارا امتحان تھا اب دیکھو کہ ہم کافروں کے دل میں تمہارا رعب اور تمہاری ہیبت ڈالتے ہیں جس سے تمہیں معلوم ہوجائے کہ وہ خیرالناصرین کس طرح بغیر قتال کے مدد کرنے پر قادر ہے چناچہ فرماتے ہیں کہ تم گھبراؤ نہیں اب ہم عنقریب کافروں کے دلوں میں رعب اور دہشت تمہاری ڈال دیں گے کہ ان کا ظاہری کروفر کچھ کام نہ آئے گا اور باوجود تمہارے کمزور اور زخمی ہونے کے پلٹ کر تم پر حملہ کرنے کی جرات نہ کرسکیں گے چناچہ ایسا ہی ہوا کہ جب ابوسفیان اور مشرکین احد سے مکہ کی طرف واپس ہوئے تو راستہ میں خیال آیا کہ جب ہم نے مسلمانوں کو شکست دے دی تھی تو بلا کام تمام کیے ہم کیوں واپس ہوئے اب چل کر ان مسلمانوں کا کام تمام کردیتے ہیں جب یہ ارادہ پختہ کرچکے تو یکایک اللہ نیان کے دلوں میں ایسا رعب ڈالا کہ دوبارہ حملہ کی ہمت نہ ہوئی آگے فرماتے ہیں کہ کافروں کی مرعوبیت کی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے اللہ کے ساتھ ایسی چیزوں کو شریک کیا جن کی شرکت پر کوئی دلیل اور حجت نہیں اور جو شخص اپنے دین پر بغیر دلیل کے اعتقاد رکھتا ہو اس کو کبھی سکون و اطمینان نہیں نصیب ہوسکتا اور وہ ہمیشہ خلجان اور اضطراب میں رہتا ہے اور وہمیات کا اتباع کرتا ہے اور ظاہر ہے کہ وہمیات کی اتباع سے قلب میں قوت نہیں آتی وہمیات کا اتباع کرنے والا ہر وقت وہمی خطرات سے ڈرتا ہے شاہ عبدالقادر فرماتے ہیں کہ وہ چور ہیں اللہ کے اور چور کے دل میں ڈر ہوتا ہے اس واسطے اللہ ان کے دل میں ہیبت ڈالے گا۔ یہ تو مشرکین کی دنیا کا حال تھا اور آخرت میں ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور ظالموں کاٹھکانہ بہت ہی برا ہے۔ فائدہ۔ جاننا چاہیے کہ یہ حکم غزوہ احد کے ساتھ مخصوص نہیں مسلمان اگر حقیقی معنی میں مسلمان ہوں تو کافر ضرور ان سے مرعوب ہوں گے کافروں کا مرعوب ہونا ایمان اور اس کے آثار پر موقوف ہے لہذا آج کل جو مسلمانوں کی دہشت کافروں کے دل میں نہیں دیکھی جاسکتی اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں لفظ اسلام کا موجود ہے اور معنی اسلام اور ایمان کے مفقود ہیں خاص کر مغرب زدہ ذہن اسلامی عقائد اور اعمال سے بالکل بےبہرہ ہے اور ان کا ظاہر و باطن مغربیت کے رنگ میں رنگین ہے، یورپ ان کو اپنا عاشق متملق سمجھتا ہے اور ظاہر ہے کہ معشوق عاشق سے کیوں ڈرے گا۔ ایک شبہ اور اس کا جواب۔ اب آگے شبہ کا جواب دیتے ہیں کہ جب اس خیر الناصرین نے احد میں امداد اور اعانت کا وعدہ فرمایا تھا تو پھر یہ ہزیمت اور شکست کیسے ہوئی اس کے جواب میں اللہ نے آئندہ آیت نازل فرمائی چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق اللہ نے تم کو اپنا وعدہ سچ کردکھایا جبکہ تم کافروں کو ابتدائی حملہ میں اس کے حکم سے گھانس کی طرح کاٹ رہے تھے یعنی الہ نے تم سے فتح ونصرت کا وعدہ کیا تھا وہ پورا کردیا ابتداء جنگ میں تم نے کافروں کو کھیت کی طرح کاٹ کے رکھ دیا یہاں تک کہ جب تم نے بزدلی کی اور پیغمبر خدا نے جو تم کو حکم دیا تھا کہ اس مرکز پر جمے رہنا اس میں تم نے اختلاف کیا بعض نے کہا ہم کو یہیں جما رہنا چاہیے اور اکثر نے کہا کہ اب یہاں ٹھہرنے کی ضرورت نہیں فتح مکمل ہوگئی اور کافر پشت پھیر کر بھاگ رہے ہیں اس لیے ہم کو چل کر مال غنیمت جمع کرنا چاہیے اور حکم رسول کی تم نے نافرمانی کی بعداس کے کہ اللہ نے تم کو تمہاری محبوب چیز آنکھوں سے دکھلائی یعنی فتح ونصرت تم میں سے کوئی دنیا کا مال ومنال یعنی غنیمت کو چاہتا تھا اگرچہ وہ دنیا حلال ہی کیوں نہ ہو اور کوئی تم میں سے آخرت کا طلب گار تھا پس اکثر لوگ پہاڑ سے اترآئے اور مال غنیمت جمع کرنے میں مشغول ہوگئے مشرکین نے اسی درہ کے راستے سے فورا مسلمانوں پر حملہ کردیا پھر اللہ نے تم کو ان کافروں سے پھیر دیا اور تم کو فتح کے بعد شکست دی تاکہ تمہارا امتحان کرے کہ ان شدائد اور مصائب میں کون اسلام پر قائم رہتا ہے اور کون اس کا ساتھ چھوڑتا ہے۔ (ف) عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ ہمیں اس آیت (منکم من یرید الدنیا) آیت۔ کے نازل ہونے سے یہ وہم و گمان بھی نہ تھا کہ ہم میں کوئی آدمی دنیا کا طالب بھی ہے اور البتہ تحقیق اللہ نے تمہاری لزش کو بالکل معاف کردیا اور اللہ نے ایمان اور اخلاص والوں پر بڑا فضل کیا اور اللہ نے جب کی غلطی کو معاف کردیا تو کسی خارجی اور رافضی کو ان کی اس لغزش پر کسی قسم کی طعن وتشنیع جائز نہیں یاد کرو اس وقت کو جب تم خوف اور دہشت کی وجہ سے دور بھاگے جارہے تھے اور پیچھے مڑ کر بھی کسی کو نہیں دیکھتے تھے اور رسول اللہ تم کو پس پشت پکار رہے تھے الی عباد اللہ، الی عباد اللہ۔ میری طرف آؤ اے اللہ کے بندو میری طر آؤ اے اللہ کے بندو پس اللہ نے اس کی پاداش میں تم کو غم پر غم دیا یعنی کئی طرح کے غموں میں مبتلا کیا ایک غم دشمن کے غالب آنے کا ایک غم اپنے مارجانے اور زخمی ہونے کا اور ایک غم نبی اکرم ﷺ کے سرمبارک کے زخمی ہونے اور دندان مبارک شہید ہونے کا اور ایک غم رسول اللہ کے قتل کی جھوٹی خبر کے مشہور ہوجانے کا اور ایک غم فتح کے بعد شکست ہوجانے کا اور ایک غم منافقین کی شماتت کا اور اس پر غم پر غم دینے کی حکمت اور مصلحت یہ تھی کہ آئندہ کے لیے تم میں پختگی پیدا ہوجائے اور یہ بات دلوں میں بیٹھ جائے کہ رسول اللہ کے حکم سے کسی حال میں عدول نہ چاہیے حتی کہ تم کندن بن جاؤ اور صبر کے اس درجہ عادی ہوجا کہ آئندہ (حاشیہ۔ بعض علماء کا قول ہے کہ لیکیلا میں لازائدہ ہے اور معنی یہ ہیں کہ ہم نے تم کو غم پر غم دیا تاکہ اس منفعت کے فوت کا تم کو رنج ہو جو تمہارے ہاتھ سے جاتی رہی اور اسی طرح اس تکلیف کا تم کو رنج ہو جو تم کو پہنچی کیونکہ یہ تمہاری نافرمانی کی سزا ہے جس سے مقصود محض تمہاری تنبیہ وتادیب ہے۔ واللہ اعلم) ۔ کو غم نہ کیا کرو ان چیزوں پر جو تمہارے ہاتھ سے جاتی رہیں اور نہ غم کیا کرو ان تکلیفوں پر جو تم کو پہنچیں یعنی تمہارے دلوں سے دنیا کی محبت ایسی اٹھ جائے کہ نہ اقبال پر خوش ہوا کرو اور نہ ادبار پر غم کیا کرو دنیاوی منافع اور مضرتوں کا وجود اور عدم تمہاری نظروں میں یکساں ہوجائے ہر حال میں مشیت الہی پر راضی رہا کرو اور ایلام دوست بہ از انعام دوست کو پیش نظر رکھا کرو اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے باخبر ہے اس کو خوب معلوم ہے کہ تمہاری کیا نیت تھی، اس وقت کی شکست سے گھبراؤ مت۔ انجام تمہارا فتح ونصرت پر ہوگا اور پھر اللہ نے اس غم کے بعد تمہارا غم دور کردیا یعنی تم پر ایک امن نازل کیا یعنی ایک اونگھ اتاری جو تم میں سے ایک گروہ کو گھیر رہی تھی یہ مومنین کا مخلص گروہ تھا جن پر ایک دم اللہ نے غنودگی طاری کردی لوگ کھڑے کھڑے اونگھنے لگے یہاں تک کہ بعض صحابہ کی یہ حالت ہوئی کہ تلوار اٹھاتے تھے اور گر جاتی تھی اس نیند سے مسلمانوں کے دلوں سے کفار کا رعب نکل گیا۔ یہ غنودگی من جانب اللہ ایک نوع کی سکینت تھی جو اللہ کے محض فضل اور رحمت سے اس ہنگامہ میں مومنی مخلصین کے قلوب پر نازل ہوئی یہ کیفیت عین اس وقت پیش آئی جب کہ مسلمانوں کی لاشیں خاک وخون میں تڑپ رہی تھیں اور حضور پر نور کے قتل کی خبر سے رہے سہ ہوش حواس بھی جاتے رہے تھے اس وقت یہ نیند بیداری کا پیام تھا اور اس امر کی بشارت تھی کہ اضطراب اور پریشانی دور ہوئی اور سکون و اطمینان کا وقت آگیا اب مطمئن ہوکرراہ خدا میں جہاد کرو قاعدہ ہے کہ انسان کو نیند اسی وقت آتی ہے کہ جب اس کو پورا امن اور اطمینان ہو خوف وہراس کے وقت نیند نہیں آتی پس دشمن کے مقابلہ پر میدان جنگ میں نیند کا آنا مسلمانوں کے حق میں ایک نعمت الہی تھی جس میں ان کی فتح کار از مضمر تھا۔ کیونکہ ان کو اس اونگھ سے چند فائدے پہنچے ایک تو یہ کہ دشمن کا خواف وہراس اس دل سے دور ہوا دوم یہ کہ رفقاء کے مقتول ومجروح ہونے کا جو قلق اور صدمہ تھا وہ ہلکا ہوا سوم یہ کہ جنگ کا جو تعب اور تکان تھا وہ سب یک لخت دور ہوگیا اور ازسر تو تازہ دم ہوگئے اور دشمن کے مقابلہ میں دلیر ہوگئے یہ حال تو مومنین مخلصین کا تھا اور بعضوں یعنی منافقوں کو اپنی جانیں بچانے کی فکر اور اسی غم میں لگے ہوئے تھے وہ اطمینان اور امن کی نیند سے بالکل محروم تھے انہیں تو یہ فکر تھی کہ یہاں سے کس طرح جان بچا کر نکلیں اللہ نے مسلمانوں پر تو اونگھ نازل کر کے ان کے دلوں سے دشمنوں کا خوف نکال دیا منافقین پر نیند نہ طاری کی اس لیے کہ ان پر دشمنوں کا خوف متول رہا اور خوف کی وجہ سے منافقوں کو اپنی جانوں کی فکر پڑگئی اللہ کے ساتھ جاہلانہ اور احمقانہ ناحق بدگمانی کرنے لگے کہ اللہ نے رسول اللہ اور مسلمانوں سے جو فتح ونصرت کے وعدے کیے تھے وہ کہاں گئے ظاہری حالت سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کا قصہ ختم ہوا جیسا کہ دوسری آیت میں ہے بل ظننم۔۔۔ الی ابدا۔ آیت۔ منافقین کو اللہ کے وعدوں پر وثوق نہ تھا صرف غنیمت کے لالچ سے جنگ میں شریک ہوگئے تھے کہتے یہ تھے کہ آیا ہمارا بھی اس کام میں کچھ اختیار ہے بظاہر تو مطلب یہ تھا کہ تقدیر کے سامنے تدبیر نہیں چلتی۔ سو اللہ نے اس کی واقعیت بیان کرکے ارشاد فرمایا آپ ان کے جواب میں کہہ دیجئے کہ بیشک سب اختیار اللہ کے ہاتھ میں ہے یہ جواب تو منافقین کے الفاظ کے ظاہری معنی کے اعتبار سے تھا اب آئندہ آیت میں یہ بیان فرماتے ہیں کہ اس قول سے منافقین کی دل میں کیا نیت تھی اور ان کا دلی مطلب کیا تھا اس قول سے انکاری مطلب یہ تھا کہ اگر ہماری رائے پر چلتے اور مدینہ سے باہر جا کر نہ لڑے تو ہم مقتول نہ ہوتے آئندہ آیت میں اس قول سے ان کی نیت اور دلی مطلب مع جواب کے مذکور ہے چناچہ فرماتے ہیں چھپاتے ہیں یہ منافقین اپنے دلوں میں وہ باتیں جو صراحتا ظاہر نہیں کرتے ظاہر میں تو یوں کہتے ہیں کہ اگر اس کام میں ہمارا کچھ اختیار ہوتا تو ہم اس جگہ پر نہ مارے جاتے یہ کلام ظاہر کے لحاظ سے ٹھیک ہے کہ تقدیر کے سامنے تدبیر نہیں چلتی مگر مدلی مطلب ان کا یہ تھا کہ اگر ہمارے مشورہ پر عمل کرتے اور مدینہ سے باہر نکل کر نہ لڑتے اور ہماری کچھ شنوائی ہوتی تو ہم کیوں مارے جاتے تو اے نبی آپ ان کے دلی مطلب کے جواب میں کہہ دیجئے کہ اے مدعیان تدبیر واختیار اگر تم اپنے گھروں میں بھی مامون ومطمئن بیٹھے ہوئے ہوتے تو جن کی تقدیر میں قتل کھا ہوا تھا وہ خود بخود اپنے قتل گاہوں کی طرف نکل پڑتے ان کا گمان یہ ہے کہ اگر مدینہ میں اپنے گھرون میں بیٹھے رہتے اور میدان احد میں نہ نکلتے تو نہ مارے جاتے سو یہ گمان غلط ہے قضاء وقدر بند کو ٹھریوں سے نکال کر قتل کے لیے میدان میں لاکر کھڑا کردیتی ہے۔ لہذا منافقین کا مسلمانوں کو یہ الزام دینا کہ انہوں نے ہم کو لا کر مروایا ہے غلط ہے موت تو کسی حال میں ٹلتی نہیں البتہ بہترین موت وہ ہے کہ جو خدا کی راہ میں آئے اور بڑا ہی خوش نصیب ہے کہ جو بہادروں کی موت مرے اور خدا کی راہ میں شہید ہوجائے۔ خلاصہ کلام یہ کہ اللہ نے غزوہ احد میں مسلمانوں کے ساتھ جو معاملہ فرمایا اس میں بیشمار حکمتیں اور مصلحتیں ہیں من جملہ ان کے یہ ہے کہ اللہ کی قضا وقدر ظاہر ہو اور جس کے لیے شہادت کی مبارک موت مقدر ہے اس کو شہادت کی کرامت وعزت حاصل ہو اور تاکہ تمہارے سینوں میں جو چیز پوشیدہ ہے اس کا امتحان لے کر ان میں کسی درجہ کا ایمان واخلاص ہے مصیبت کے وقت اخلاص اور نفاق ظاہر ہوجاتا ہے اور تاکہ اس شکست سے تمہارے دلوں میں جو کچھ کھوٹ ہے اس کو نکھار دے جیسے آگ سونے کے میل کچیل کو دور کردیتی ہے اللہ کے آزمانے کے معنی یہ ہیں کہ جو بات اس کے علم ازلی میں ہے وہ سب پر ظاہر ہوجائے اور نکھار نے کے معنی یہ ہیں کہ احد کے مصائب سیان کو یہ علم ہوجائی کہ رسول اللہ کی نافرمانی کا کچھ کھوٹ ہے وہ بالکل جاتار ہے اور نظر بالکلیہ اسباب ظاہری سے اٹھ جائے اور دل توجہ الی غیر اللہ منزہ ہوجائے اور اس طرح خالص کندن بن جائیں اور اللہ خوب جانتا ہے جو سینوں میں چھپا ہوا ہے مطلب یہ کہ اسے کسی آزمائش کی حاجت نہیں مگر آزمانے میں اس کی حکمتیں اور مصلحتیں ہیں جن کانہ اظہار ضروری ہے اور نہ جاننا ضروری ہے۔ شاہ عبدالقادر فرماتے ہیں اس شکست میں جن کو شہید ہونا تھا ہوچکے اور جن کو ہٹنا تھا ہٹ گئے اور جو میدان میں باقی رہ گئے ان پر اونگھ آئی اس کے بعد رعب اور دہشت دفع ہوگیا اور اتنی دیر میں حضرت ﷺ پر غشی رہی پھر جب ہوشیار ہوئے سب نے حضرت کے پاس جمع ہو کر پھر لڑائی قائم کی اور سست ایمان والے کہنے لگے کچھ بھی کام ہمارے ہاتھ ہے ظاہر یہ معنی اس شکست کے بعد کچھ بھی ہمارا کام بنا رہے گا یا بالکل بگڑ چکا یا یہ معنی کہ اللہ نے چاہا سو کیا ہمارا کیا اختیار اور نیت میں یہ معنی تھے کہ ہماری مشویت پر عمل نہ کیا جو اتنے لوگ مرے اللہ نے دونوں معنوں کا جواب فرمادیا اور بتایا کہ اللہ کو اس میں حکمت منظور تھی تاکہ صادق اور منافق معلوم ہوجائیں۔ (موضح القرآن) ۔ تحقیق تم میں سے جن لوگوں نے پشت پھیری جس دن کہ مسلمانوں اور کافروں کی دو جماعتیں باہم مقابل ہوئیں یعنی احد کے روز سو جزاین نیست کہ ان کا یہ بھاگنا کفر و ارتداد کی بناء پر نہ تھا بلکہ ان کی ایک لغزش تھی کہ شیطان نے بعض اعمال کی نحوست اور شامت کی وجہ سے ان کا قدم پھسلا دیا مسلمانوں کا قدم تو ٹھیک ہی راہ پر جارہا تھا مگر اس درمیان مورچہ کو چھوڑ کر غنیمت پر دوڑے تو اس معصیت کی نحوست سے شیطان کو موقع مل گیا اس لیے کہ شیطان کا داؤ اس وقت چلتا ہے جب انسان کوئی گناہ کر بیٹھتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ ان کا بھاگنا بمقتضائے بشریت لغزش قدم تھی معاذ اللہ دیدہ و دانستہ کوئی نافرمانی نہ ہوئی تھی شیطان ایسے محبین مخلصین کی تاک میں رہتا ہے کبھی کچھ داؤ چل بھی جاتا ہے اور تحقیق اللہ نے اپنے ان محبین کی اس لغزش کو بالکل معاف کردیا تحقیق اللہ بڑے بخشنے والے اور بردبار ہیں کہ نہ دنیا میں کوئی سزا ہے اور نہ آخرت میں کوئی مواخذہ ہے اور نہ باز پرس ہے تمام عالم کو اللہ نے سنا دیا کہ اللہ نے ان کی خطا بالکلیہ معاف کردی اب کسی کی یہ مجال نہیں کہ ان پر طعن یا ملامت کرے اللہ کی معافی کے بعد جو ان پر طعن کرے گا وہ مجرم اور قصور وار ٹھہرے گا۔