3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 3:156–158

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ اِذَا ضَرَبُوْا فِی الْاَرْضِ اَوْ كَانُوْا غُزًّى لَّوْ كَانُوْا عِنْدَنَا مَا مَاتُوْا وَ مَا قُتِلُوْا١ۚ لِیَجْعَلَ اللّٰهُ ذٰلِكَ حَسْرَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 3:156 in the Quran reader

مومنو ! ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو کفر کرتے ہیں اور ان کے (مسلمان) بھائی (جب) خدا کی راہ میں سفر کریں (اور مرجائیں) یا جہاد کو نکلیں (اور مارے جائیں) تو ان کی نسبت کہتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے پاس رہتے تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے ان باتوں سے مقصود یہ ہے کہ خدا ان لوگوں کے دلوں میں افسوس پیدا کر دے اور زندگی اور موت تو خدا ہی دیتا ہے اور خدا تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے

وَ لَئِنْ قُتِلْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَوْ مُتُّمْ لَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَحْمَةٌ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 3:157 in the Quran reader

اور اگر تم خدا کے راستے میں مارے جاؤ یا مرجاؤ تو جو (مال و متاع) لوگ جمع کرتے ہیں اس سے خدا کی بخشش اور رحمت کہیں بہتر ہے

وَ لَئِنْ مُّتُّمْ اَوْ قُتِلْتُمْ لَاۡاِلَى اللّٰهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 3:158 in the Quran reader

اور اگر تم مرجاؤ یا مارے جاؤ خدا کے حضور میں ضرور اکٹھے کیے جاؤ گے

ممانعت از مشابہت کفار۔ قال تعالی۔ یا ایھا الذین آمنو لا تکونو۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ تحشرون۔ آیت۔ ربط) گزشتہ آیات میں منافقین کا یہ مقولہ نقل فرمایا تھا کہ لو کان لنا من الامرشئی ما قتلنا ھھنا۔ آیت۔ یہ مقولہ ان منافقین کا تھا جو جنگ احد میں شریک تھے جس کی تردید گزرچکی اب ان آیات میں اسی قسم کا ایک اور مقولہ منافقین کا ذکر کرتے ہیں وہ مقولہ یہ ہے کہ، لوکانو عندنا ماماتو۔ آیت۔ لیکن یہ مقولہ ان منافقین کا ہے کہ جو جنگ میں شریک نہ تھے چونکہ اس قوسم کے اقوال سے کمزور مسلمانوں کو ایسے اقوال اور احوال میں کافروں کی مشابہت اور موافقت سے منع فرماتے ہیں کہ مبادا ایسی باتوں کے سننے سے ایمان والوں کا قدم نہ پھسل جائے یا یوں کہو کہ پہلی آیت میں شیطان جنی کے بہکانے سے قدم کا ڈگمگا نا اور پھسلنا مذکور تھا اور اس آیت میں شیاطین الانس کے بہکانے کا ذکر ہے کیوں کہ شیاطین الانس یعنی کفار اور منافقین، شیاطین الجن کے اخوان اور بھائی ہی تو ہیں چناچہ فرماتے ہیں اے ایمان والو تم ان لوگوں کے مشابہ اور مانند نہ ہوجاؤ جو حقیقت میں کافر ہیں اگرچہ ظاہرا اپنے کو مسلمان کہتے ہیں یعنی منافق ہیں۔ اور حدیث میں ہے من تشبہ بقوم فھو منھم۔ جو شخص جس قوم کے مشابہ بنے وہ اللہ کے نزدیک اسی قوم میں شمار ہوگا اور تشبہ میں درجات ہیں کبھی تشبہ کامل ہوتا ہے اور کبھی ناقص جس درجہ کا تشبہ ہوگا اسی درجہ کی وعید اس پر مرتبہ ہوگی اور اپنے بھائیوں کے حق میں جب کہ وہ ملک میں بغرض تجارت وغیرہ سفر میں نکلتے ہیں اور اتفاق سے وہاں مرجاتے ہیں یا جہاد میں ہوتے ہیں اور وہاں شہید ہوجاتے ہیں تو ان کے م تعلق یہ کہتے ہیں کہ اگر یہ لوگ ہمارے پاس ٹھہر جاتے اور سفر اور جہاد میں نہ جاتے تو نہ مرتے اور نہ قتل ہوتے اور بھائیوں سے مراد یا تو نسبی بھائی ہیں کیونکہ جنگ احد میں جو لوگ شہید ہوئے وہ کسی نہ کسی کافر کے رشتہ دار اور برادری ہی کے لوگ تھے یا میل ملاپ بھائی ہیں یاس وجہ سے کہ منافقین ظاہر میں مسلمان بنے ہوئے تھے اس لیے مسلمانوں کو اپنا بھائی کہہ دیا یا ان کو باعتبار ہم جنس اور بھی آدم ہونے کے بھائی کہا۔ اللہ تعالیٰ کافروں کے اس قول کو بیان کرکے فرماتے ہیں کہ اس قسم کا قول ان کے لیے ذرہ برابر مفید نہیں بلکہ اس کا انجام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی اس سخن کو ان کے دلوں میں حسرت اور افسوس کا سبب بنائے گا یعنی ان باتوں کا نتیجہ سوائے حسرت کے کچھ نہ ہوگا قتل اخوان کا صدمہ اپنی جگہ پر رہے گا اور اس قسم کی باتوں سے حسرت اور افسوس کے تکلیف کا اور اضافہ ہوجاتا ہے مطلب یہ کہ اے مسلمانو تم ان منافقین کی باتوں پر کان نہ دھرنا اور اللہ ہی جلاتا اور مارتا ہے سفر اور جہاد کو موت میں اور وطن میں رہنے اور جہاد نہ جانے کو حیات میں کوئی دخل نہیں بسا اوقات وطن میں رہنے والا مرجاتا ہے اور مسافر اور مجاہد خطرات اور ہلاکت کے میدانوں سے صحیح سالم واپس آجاتا ہے گھر تو کیا موت کو تو آہنی قلعہ بھی نہیں روک سکتا اور اے مومنو اللہ تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے کہ کوئی لفظ تمہاری زبان سے کافروں کے مشابہ اور مانند تو نہیں نکلتا آگے اشارہ فرمایا کہ اللہ کی راہ میں مرجانے کو موجب حسرت نہ سمجھو بلکہ اس کو موجب فرح ومسرت سمجھو اور اے مسلمانو اگر تم اللہ کی راہ میں مارے گئے یا مرگئے تو بلاشبہ اللہ کی مغفرت اور رحمت کا صلہ ملتا ہے اور وہ تمام دنیا کے مال ومتاع سے کہیں بہت رہے جسے یہ لوگ جمع کرتے ہیں اس آیت سے اللہ کا مقصود مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دینا ہے اور یہ سمجھانا ہے کہ جہاد میں مارا جانا دنیا کی زندگی سے کہیں بہتر ہے اس لیے کہ زندگی کا فائدہ بجز اس کے کچھ نہیں کہ انسان زندہ رہ کر اپنی محنت ومشقت سے کچھ مال ومتاع جمع کرے اور چندہ روزہ زندگی میں اس سے فائدہ اٹھائے بخلاف راہ خدا میں مارے جانے اللہ کی مغفرت اور رحمت کا صلہ ملتا ہے وہ تمام دنیا کے مال ومتاع سے کہیں بہتر ہے اس لیے کہ دنیا کی تمام لذتوں اور منفعتوں میں مضرتوں کی آمیزش ہے دنیا کی کوئی چیز ایسی نہیں جس میں خالص نفع ہی ہو اور نقصان نہ ہو پھر یہ کہ یہ فانی اور چند روزہ ہیں اور اگر کچھ دیر پا بھی ہوں تو ان کا جمع کرنے والا دنیا میں مہمان ہے ممکن ہے جن چیزوں کو کمال محنت اور جانفشانی سے جمع کیا ان سے فائدہ نہ اٹھا سکے اور کل سے پہلے ہی مرجائے یا وہ مال ومنال اس کے پاس سے جاتا رہے لہذا دنیاوی مال ومتاع کے وفوت ہوجانے کو موجب حسرت نہ سمجھو بلکہ ترک جہاد کو موجب حسرت سمجھو اور اگر تم مرگئے یا مارے گئے خواہ خدا کی راہ میں یا کسی اور طریق سے تو ہر حالت میں تم اللہ ہی کی طرف اٹھائے جاؤ گے اور جب دونوں حالتوں میں اللہ ہی کی طرف جانا ہے و پھر اللہ کی راہ میں جان دینا بہتر ہے تاکہ اس کی مغفرت اور رحمت حاصل ہو۔ (ف) اوپر کی آیت میں اللہ کی راہ میں مارے جانے کا مرجانے کا حکم بیان فرمایا اب اس آیت میں عام موت اور عام قتل کا حکم بیان فرمایا کہ موت خواہ کسی طرح آئے بہرحال اللہ ہی کے پاس جانا ہے تو پھر اللہ کی راہ میں کیوں نہ مرو کہ وہ تمہیں اس کا ثواب دے اور تمہاری جان رائیگاں نہ جائے۔ حضرت خالدبن ولید نے اپنی ساری عمر جہاد میں گذاری اور شہادت کی تمنا میں رہے مگر شہید نہ ہوئے وفات کے وقت فرمایا کہ میرے بدن پر کوئی جگہ تیرتلوار کے زخم سے خالی نہیں مگر افسوس آج اونٹ کی طرح گھر میں بستر پر مررہا ہوں۔ فلانا من اعین الجنباء۔ خدا کرے بزدلوں کی آنکھیں کبھی ٹھنڈی نہ ہوں۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے۔ فنا فی اللہ کی تہ میں بقا کا راز مضمر ہے جو جینا ہے تو مرنے کے لیے تیار ہوجاؤ نکتہ۔ حضرت مولانا یعقوب صاحب نانوتوی صدر مدرس دارالعلوم دیوبند فرمایا کرتے تھے کہ خالد بن ولید، خواہ مخواہ شہادت کی تمنا میں پڑے ہوئے تھے ان کا شہید ہونا ناممکن تھا نبی ﷺ نے حضرت خالد کو سیف اللہ کا لقب دیا تھا یعنی اللہ کی تلوار اور ظاہر ہے کہ اللہ کی تلوار کو کون توڑ سکتا ہے۔
Ayahs 3:159–160

فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْ١ۚ وَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَا نْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ١۪ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَ شَاوِرْهُمْ فِی الْاَمْرِ١ۚ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِیْنَ Open ayah 3:159 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ خدا کی مہربانی سے تمہاری افتاد مزاج ان لوگوں کے لئے نرم واقع ہوئی ہے اور اگر تم بدخو اور سخت دل ہوتے ہیں تو یہ تمہارے پاس سے بھاگ کھڑے ہوتے تو ان کو معاف کردو اور ان کے لئے (خدا سے) مغفرت مانگو اور اپنے کاموں میں ان سے مشاورت لیا کرو اور جب (کسی کام کا) عزم مصمم کرلو تو خدا پر بھروسہ رکھو بیشک خدا بھروسا رکھنے والوں کو دوست رکھتا ہے

اِنْ یَّنْصُرْكُمُ اللّٰهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّخْذُلْكُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِیْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 3:160 in the Quran reader

اگر خدا تمہارا مددگار ہے تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو پھر کون ہے کہ تمہاری مدد کرے ؟ اور مومنوں کو چاہیے کہ خدا ہی پر بھروسا رکھیں

قال تعالی، فبما رحمۃ من اللہ۔۔۔۔۔ الی۔۔۔۔۔۔ المومنون۔ آیت۔ احد کے دن جو بعض مسلمانوں سے لغزش ہوئی تو اس سے نبی کا دل رنجیدہ ہوا تو اندیشہ تھا کہ آپ ان کو ملامت کرتے اور آئندہ ان سے مشورہ نہ لیا کرتے اللہ نے صحابہ کی سفارش فرمائی کہ آپ ان کا قصور معاف فرمادیں اور حسب دستور ان سے معاملات میں مشورہ کیا کریں ان کی ساتھ تلطف اور نرمی کا معاملہ فرمائیں چناچہ نبی پر نور نے جنگ احد سے واپسی کے بعد ان کے ساتھ نہایت نرمی کا معاملہ فرمایا اور لغزش پر کوئی ملامت نہیں کی اس بارے میں یہ آئندہ کی آیتیں نازل ہوئیں پس اس لغزش اور عدول حکمی کے باوجود اللہ کی رحمت سے آپ ان کے لیے نرم ہوگئے اور آپ نے ان کو کوئی ملامت نہیں کی اور اگر بالفرض والتقدیر خدانخواستہ آپ درشت خو اور سخت دل ہوتے تو یہ لوگ آپ کے پاس سے منتشر ہوجاتے اس لیے کہ سخت خو اور سخت دل کتنا ہی باکمال ہو لوگ اس کے پاس جمع نہیں ہوتے اس صورت میں یہ لوگ آپ کی ہدایت اور نصیحت سے محروم ہوجاتے اور تمہاری دعوت قبول نہ کرتے اور آپ کا اجر بھی متبعین کی قلت کی وجہ سے کم ہوجاتا پس آپ کے حکم کی تعمیل میں ان سے جو کوتاہی ہوئی اس میں آپ ان کے لیے دعاء مغفرت کیجئے کہ اللہ ان کی خطا اور کوتاہی کو معاف کرے اور حسب دستور آپ ان سے ان کاموں میں مشورہ لیتے رہیے جن کے بارے میں اللہ کی طرف سے کوئی قطعی حکم نازل نہیں ہوا تاکہ آپ کے اس تلطف اور عنایت کو دیکھ کر یہ شکستہ خاطر مطمئن ہوجائیں کہ حضور پر نور ہم سے راضی ہوگئے صرف معاف کردینے سے دل مطمئن نہیں ہوتاجب تک کہ معاملہ شفقت اور عنایت کا نہ کیا جائے پس مشورہ کے بعد جب کوئی بات طے ہوجائے اور آپ اس پر پختہ ارادہ فرمالیں تو اللہ پر بھروسہ کیجئے نہ کہ مشورہ پر اپنے مشورہ اور تدبیر پر اعتماد نہ کرنا بلکہ اللہ کی امداد اور تائید پر نظر رکھنا تحقیق اللہ تعالیٰ کو کل والوں کو محبوب رکھتا ہے اور عقل کے لحاظ سے اگرچہ صحابہ کا گروہ عقلاء کا گرو ہے اور بلاشبہ قابل مشورہ ہے مگر اعتماد اور بھروسہ اللہ پر چاہیے نہ کہ عقلاء پر اس لیے کہ اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا اور اگر وہی چھوڑ دے تو پھر وہ کون ہے جو اس کی مدد چھوڑنے کے بعد تمہاری مدد کرے اور اللہ ہی پر بھروسہ چاہیے ایمان والون کو عقلاء کے مشورہ اور تدبیر پر بھروسہ نہ کرنا چاہیے عقل اور عقلاء سب اس کے ہاتھ میں ہیں اسلام کی یہی تعلیم ہے کہ اسباب کو ترک نہ کریں بلکہ ان سے کام لیں مگر اسباب کو موثر حقیقی نہ سمجھیں موثر حقیقی قادر مطلق کو سمجھیں اور نظر اسی پر رکھیں اور اسباب کو واسطہ سے زیادہ کچھ نہ سمجھیں۔ فائدہ۔ یا ایھا الذین آمنو لاتکونواکالذین کفروا۔ آیت۔ میں اللہ مسلمانوں کو کافروں کے ساتھ تشبہ اور مشابہت سے منع فرماتا ہے کہ اخلاق و عادات اور لباس اور معاشرت میں ان کے مشابہ نہ بنیں اللہ نے اس آیت میں یہ نہیں فرمایا کہ تم کافر نہ بنو بلکہ یہ فرمایا کہ تم کافروں کے مشابہ نہ بنو کافر ہونا اور چیز ہے اور مشابہ ہونا اور چیز ہے اوباش بننا اور چیز ہے اور اوباشوں کے مشابہ اور ہم شکل ہونا اور چیز ہے۔ حدیث میں ہے کہ من تشبہ بقوم فھو منھم۔ راوہ ابوداؤد عن ابن عمر والطبرانی عن حذیفہ، جو شخص کسی قوم کے مشابہ بنتا ہے پس وہ شخص انہی میں سے شمار ہوگا جیسے پاکستان کا کوئی فوجی سپاہی، بھارت کے فوجی، سپاہی کی وردی پہن لے تو اگر مسلمان سپاہی اس کے گولی مار دے تو جرم نہ ہوگا یا کوئی افسر سرکاری دفتر سے پاکستانی جھنڈا اتار کر بھارت کا جھنڈا اس پر لہرا دے تو اسی وقت قابل معزول ہوگا اور اگر وہ افسر یہ تقریر کرنے لگے کہ میں نے صرف ایک کپڑے کا ٹکر اور لکڑی کا ایک ڈنڈا ہی بدل دیا ہے اس کا کیا مضائقہ ہے اس سے یہ کیسے ثابت ہوا کہ میں حکومت پاکستان کا مخالف ہوں تو کیا حکومت کے نزدیک اس افسر کی یہ تقریر دل پذیر ہوگی اور اس کو معزولی سے بچا سکے گی۔ اسی طرح سمجھو کہ احکم الحاکمین یہ حکم دیتا ہے کہ جن کو ہمنے اپنی کتاب میں مغضوب اور ملعون اور گمراہ قرار دیا ہے ان کے تشبہ سے پرہیز کرو حیرت ہے کہ مجازی اور فانی حکومت میں تو دشمنان حکومت کا تشبہ، بالاتفاق قبیح اور ممنوع ہے اور احکم الحاکمین کے دشمنوں سے تشبہ کا جب ذکر آئے تو اس کو تنگ نظری سمجھیں بلکہ دشمنان کے ساتھ تشبہ کی ممانعت اور قباحت کا مسئلہ کافروں کے نزدیک بھی مسلم ہے بھارت کے کسی سپاہی یا فوجی افسر کی یہ مجال نہیں کہ وہ مسلمانوں کا لباس اختیار کرے اور علی ہذا کسی یورپین حکومت کے وزیر یا افسر کی یہ مجال نہیں کہ وہ جبہ اور دستار پہن کر اجلاس کرسکے نہ معلوم ان مغرب زدہ ذہنیتوں کی غیرت کہاں چلی گئی خوب سمجھ لو کہ اپنے مذہبی اور قومی شعار اور امتیاز کو چھوڑ کر غیر قوم کے شعار اور امتیاز کو اختیار کرنا اول تو یہ غیرت کے خلاف ہے دوم یہ کہ غیروں کا تشبہ عملی طور اپنی کمتری اور دوسری قوم کی برتری کے اقرار اور اعتراف کے مرادف ہے دنیا کا طریق ہے کہ ادنی اعلی کے اتباع کو اپنے لیے عزت وفخر سمجھتا ہے اور پھر رفتہ رفتہ اپنے مذہبی اور قومی لباس کو اور اس لباس کے پہننے والوں کو ذلت اور حقارت کی نظروں سے دیکھنے لگتا ہے اور پھر رفتہ رفتہ مذہب اور اہل مذہب ہی سے متنفر اور بیزار ہوجاتا ہے یہ فرنگی کے ہمرنگی کے عشق کی آخری منزل ہے اس منزل پر پہنچ کر دین اور اہل دین سے تعلق ختم ہوجاتا ہے دعوی اسلام کا ہے اور دلدادہ ہیں مغربی تمدن اور معاشرہ کے۔ زاہد تسبیح میں زنار کا ڈورانہ ڈال یا برہمن کی طرف ہو یا مسلمانوں کی طرف۔ (ف 2) اللہ تعالیٰ نے حضرت ﷺ کو وہ عقل اور فراست عطا کی تھی جو تمام عالم کی عقل سے بالا اور اعلی تھی اور آپ کو کسی کے مشورہ کی حاجت نہ تھی اور پھر نزول وحی کی وجہ سے آپ بالکلیہ مشورہ سے مستغنی تھے پس وشاورھم فی الامر کے حکم سے مقصود امت کی تعلیم ہے کہ امت میں مشورہ کا طریقہ جاری ہو کہ جو دینی اور دنیوی امر ایسا پیش آئے جس کے بارے میں کوئی حکم خداوندی منصوص نہ ہو تو اس کے بارے میں ایسے لوگوں سے مشورہ کیا جائے جو کہ مشورہ کے اہل ہوں اور جن کی رائے اور عقل عقلاء کے نزدیک قابل وثوق اور اعتماد ہو۔ حدیث۔ حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ آیت مشورہ میں فاذا عزمت سے کیا مراد ہے تو آپ نے فرمایا اہل رائے سے مشورہ کرنا اور پھر ان کا اتباع کرنا مراد ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آیت میں مشورہ کا حکم مذکور ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر کسی وناکس سے مشورہ کرلیا کریں بلکہ مطلب یہ ہے کہ جس امر کا حکم شریعت میں منصوص نہ ہو یا تعارض اولہ کی وجہ سے اس میں کسی قسم کا اجمال اور خفاء پیدا ہوگیا ہو تو اہل الرای اور اصحاب الرای سے مشورہ کریں اور اس کا اتباع کریں۔ (ف 3) اصطلاح علماء میں اہل الرائے کا لفظ زیادہ تر امام ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ اور ان کے اصحاب کے لیے مستعمل ہوتا ہے عجب نہیں کہ اس تفسیر میں اسی اشارہ ہو۔ مشورہ کی حقیقت۔ لفظ مشورہ اور لفظ شوری عربی زبان میں شرت العسل شورا سے ماخوذ ہے جس کے معنی چھتہ میں سے شہد نکالنے کے ہیں گویا کہ مجلس شوری بمنزلہ شہد کے چھتہ کے ہے جس سے مقصود ایسی عمدہ رائے کا معلوم کرنا ہے جو عمدگی اور شیرینی میں بمنزلہ شہد کے ہو اور جس طرح شہد شفاء امراض کا کام دیتا ہے اور اسی طرح یہ عمدہ رائے بھی مشکلات اور مہلکات میں شفاء کا کام دے اور ندامت اور حسرت اور پریشانی اور پشیمانی سے عافیت دے حدیث میں ہے مشورہ ندامت سے محفوظ رہنے کا ایک قلعہ ہے اور ملامت سے امن ہے۔ مشورہ کے فوائد۔ مشورہ کا فائدہ یہ ہے کہ مسئلہ کے تمام پہلو روشن ہوجائیں گے اور اطراف و جوانب کی چھوٹی اور بڑی چیزیں نمودار ہوجائیں گی مجلس مشاورت میں کوئی ذی الرائے اور ہوشیار زیادہ ہوگا اور کوئی صاحب تدبیر اور تجربہ کار زیادہ ہوگا کوئی شخص کتنا ہی عاقل اور ہوشیار کیوں نہ ہو مگر میدان کارزار کا تجربہ کارنہ ہو تو جنگی امور میں تنہا اس کا مشورہ ناتمام ہوگا بہتر یہ ہوگا کہ عقل اور تجربہ دونوں ہی سے مشورہ کرکے جنگ شروع کی جائے کسی نے کیا خوب کہا ہے الرای کاللیل مسود جو انبہ واللیل لاینجلی الاباصباح رائے مثل شب ویجور کے ہے جس کے تمام اطراف سیاہ اور تاریک ہیں اور رات کا اندھیرا بغیرصبح کی روشنی کے زائل نہیں ہوسکتا۔ فاضمم مصابیح آراء الرجال الی مصباح رایک تزدادضوء مصباح پس لوگوں کے رایوں کے چراغوں کے روشنیوں کو اپنی رائے کے چراغ روشنی کے ساتھ ملا لے تاکہ تیرے چراغ کی روشنی بڑھ جائے۔ مطلب یہ ہے کہ ایک چراغ کی روشنی کم ہوتی ہے اور بہت سے چراغ مل کر روشنی خوب ہوجاتی ہے اور کوئی چیز تاریکی اور اشتباہ میں نہیں رہنے پاتی بہت سے چراغوں کی روشنی تیز بھی ہوگی اور دور تک بھی پہنچے گی مگر شرط یہ ہے کہ عقل کے چراغ کو اخلاص اور تقوی اور امانت اور دیانت کے تیل سے روشن کیا جائے لیکن اگر خدانخواستہ کسی چراغ میں خود غرضی اور حسد اور پارٹی بندی کے تل کا کوئی قطرہ بھی شامل ہوگا ی تو اس چراغ میں سے سوائے دھویں کے اور کیا نمودار ہوگا دھوئیں کے تاریکی کے علاوہ اس کی بدبو علیحدہ تکلیف دہ ہوگی کسی بلیغ کا قول ہے۔ عاقل کا فرض یہ ہے کہ اپنی رائے کے ساتھ اور عقلاء کی رائے کو بھی ملالے اور اپنی عقل کے ساتھ حکماء کی عقلوں کو جمع کرلے کیونکہ تنہا رائے بسا اوقات لغزش کھاتی ہے اور تنہا عقل بسا اوقات گمراہ ہوتی ہے اور حکمت کے بکھرے ہوئے موتیوں میں سے ایک موتی یہ ہے۔ مشورہ تیرے لیے راحت ہے اور دوسرے پر بوجھ ہے۔ کسی عاقل کا قول ہے جب تجھ کو معاملات میں کوئی اشکال اور دشواری پیش آئے اور عام جمہور تجھ سے منحرف ہوجائیں تو تجھ کو عقلاء کی رائے کی طرف رجوع کرنا چاہیے اور گھبرا کر علماء کے مشورہ کی پناہ لینی چاہیے لوگوں سے مشورہ اور امداد طلب کرنے میں حیاء اور عارنہ کرنی چاہیے عقلاء سے پوچھ کر کوئی کام کرلینا اور آئندہ کی ندامت سے سالم و محفوظ ہوجانا یہ بہتر ہے کہ خود رائی سے کام کرکے شرمندہ اور پشمان ہو۔ ایک شخص نے عضدالدولہ کی تعریف میں یہ لکھا کہ اس کے لیے ایک چہرہ ہے جس میں ہزار آنکھیں ہیں اور اس کے منہ ہے جس میں ہزار زبانیں ہیں اور اس کے ایک سینہ ہے جس میں ہزار دل ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ عضدالدولہ باوجود دانشمند اور زیرک ہونے کے تنہا اپنی رائے سے کوئی کام نہیں کرتا بلکہ ہزار عاقلوں کے مشورہ سے کام کرتا ہے گویا کہ ہزار دلوں اور ہزار آنکھوں زبانوں سے سوچتا اور دیکھتا ہے اور بولتا ہے کسی حکیم اور دانا کا قول ہے۔ ہر چیز محتاج عقل ہے اور عقل محتاج ہے تجربوں کی اسی وجہ سے کہا گیا ہے کہ زمانہ کے تجربے پوشیدہ چیزوں کے پردے اٹھا دیتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ عقل فطری کے ساتھ تجربہ کا شامل ہونا ضروری ہے اور اس لیے کہ تجربوں کی کوئی حد اور نہایت اور غایت نہیں عقل فقط ممکنات کا ادراک کرسکتی ہے واقعات کا احاطنہ نہیں کرسکتی اس لیے مشورہ جب مکمل ہوگا جبکہ عقل کے ساتھ تجربہ بھی ہو۔ اہلیت مشورہ یعنی کون لوگ مشورہ کے اہل ہیں جن سے مشورہ لیا جائے۔ قاضی ابوالحسن بصری ماروی ادب الدنیا والدین ص 207 میں فرماتے ہیں مشورہ کا اہل وہی شخص ہوسکتا ہے جس میں یہ پانچ خصلتیں اور پانچ صفتیں موجود ہوں۔ 1۔ عقل کامل کے ساتھ تجربہ بھی رکھتا ہو کثرت تجارت سے عقل اور فکر درست ہوجاتا ہے۔ حدیث میں ہے رشد اور ہدایت اگر مطلوب ہے تو عاقل کامل سے مشورہ کرو صواب کو پہنچو گے اور عاقل کی نافرمانی نہ کرنا کہ پچتاؤ گے۔ شیخ عبدالروؤف منادی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورت سے مشورہ نہ کرے اس لیے کہ حضور ﷺ کا حکم یہ ہے کہ مشورہ کامل العاقل سے کرو اور حدیث میں ہے کہ عورتیں ناقصات العقل والدین ہیں یعنی عورتوں کی عقل بھی ناقص اور دین بھی ناقص ہے اور حضرت عمر کا فرمان ہے۔ عورتوں کا خلاف کرو ان کے خلاف میں برکت ہے۔ عورتوں کے پاس زیادہ بیٹھنے والے شخص سے بھی مشورہ مت کرو۔ 2۔ دوسری خصلت میں جس کا مشیر میں ہونا ضروری ہے وہ یہ کہ مشیر دین دار اور متقی اور پرہیزگار ہو اس لیے کہ جو شخص دین دار اور پرہیزگار نہ ہو اس کے مشورہ کا کیا اعتبار۔ حدیث میں ہے جو کسی کام کا ارادہ کرے اور پھر وہ کسی بچے اور پکے مسلمان یعنی متقی اور پرہیزگار سے مشورہ کرے تو توفیق خداوندی اس کو بہترین امور کی طرف لے جائے گی۔ 3۔ تیسری خصلت جو مشیر میں ہونی چاہیے وہ یہ کہ مشورہ دینے والا محب ناصح ہو یعنی خیرخواہ اور ہمدرد ہو اور اس کا دل حسد اور کینہ اور بغض اور عداوت سے پاک ہو محبت اور ہمدردی اور خیرخواہی ہی صحیح مشورہ کا باعث بن سکتی ہیں بخلاف حاسد اور کینہ ور کے اس کا مشورہ تو سم قاتل ہوگا اسی بنا پر بعض حکماء کا قول ہے۔ مت مشورہ کرنا مگر ایسے ذی رائے اور محتاط سے جو حاسد نہ ہو اور ایسے عاقل اور دانش مند سے جو کینہ ورنہ ہو اور عورتوں کے مشورہ سے پرہیز کرنا کیونکہ ان کی رائے کا میلان فساد کی طرف ہوتا ہے اور ان کا عزم سستی اور کمزوری کی جانب ہوتا ہے۔ اور علی ہذا اگر مشیر متعدد ہوں (جیسا کہ آج کل کی اسمبلی) تو ان میں یہ ضروری ہوگا کہ اسمبلی کے افراد باہمی حسد اور تنافس سے خالی ہوں ورنہ اسمبلی، مجلس مشاورت نہ ہوگی بلکہ مجلس منازعت اور مخاصمت ہوگی لوگ تماشہ دیکھ کر واپس ہوجائیں گے۔ 4۔ چوتھی خصلت یہ ہے کہ مشورہ دینے والا کسی فکر اور پریشانی میں مبتلا نہ ہو اس لیے کہ جو شخص ہموم وغموم کا شکار ہو اور پریشانیوں میں مبتلا ہو اس کا قلب اور دماغ صحیح نہ ہوگا اس لیے وہ صحیح مشورہ نہیں دے سکتا۔ 5۔ پانچویں خصلت یہ ہے کہ جس امر میں مشورہ لیا جارہا ہے اس سے مشیر کی کوئی نفسانی خواہش اور غرض مضمر متعلق نہ ہو خود غرض کا کوئی مشورہ قابل اعتبار نہیں چوں غرض آمد ہنر پوشیدہ شد یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں ماں باپ کی شہادت اولاد کے حق میں اور زوجین کی شہادت ایک دوسرے کے حق میں اور غلام کی شہادت آقا کے حق میں معتبر نہیں مانی گئی کیونکہ اغراض اور منافع باہم مشترک ہیں یہ شہادت خود غرض کے شائبہ سے خالی نہیں اس لیے معتبر نہیں۔
Ayahs 3:161–164

وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّ١ؕ وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۚ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 3:161 in the Quran reader

اور کبھی نہیں ہوسکتا کہ پیغمبر (خدا) خیانت کریں اور خیانت کرنے والوں کو قیامت کے دن خیانت کی ہوئی چیز (خدا کے روبرو) لا حاضر کرنی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور بےانصافی نہیں کی جائے گی

اَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَ اللّٰهِ كَمَنْۢ بَآءَ بِسَخَطٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 3:162 in the Quran reader

بھلا جو شخص خدا کی خوشنودی کا تابع ہو وہ اس شخص کی طرح (مرتکب خیانت) ہوسکتا ہے ؟ جو خدا کی ناخوشی میں گرفتار ہو اور جس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ برا ٹھکانہ ہے

هُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:163 in the Quran reader

ان لوگوں کے خدا کے ہاں (مختلف اور متفاوت) درجے ہیں اور خدا ان کے سب اعمال کو دیکھ رہا ہے

لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۚ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 3:164 in the Quran reader

خدا نے مومنوں پر بڑا احسان کیا ہے کہ ان میں انہیں میں سے ایک پیغمبر بھیجے جو ان کو خدا کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے اور ان کو پاک کرتے اور (خدا کی) کتاب اور دانائی سکھاتے ہیں۔ اور پہلے تو یہ لوگ صریح گمراہی میں تھے

قال تعالیٰ وماکان لنبی ان یغل۔۔۔۔۔ الی۔۔ وان کانوا من قبل لفی ضلل مبین۔ آیت۔ اس آیت میں اللہ نے یہ بیان فرمایا کہ نبی کی یہ شان نہیں کہ وہ ذرہ برابر بھی خیانت کرے منصب نبوت کے ساتھ خیانت جمع نہیں ہوسکتی لہذا لوگوں کو چاہیے کہ نبی کی عظمت و حرمت اور عصمت وامانت کو مستحضر رکھیں اور کوئی لفظ زبان سے ایسا نہ نکالیں جو منصب نبوت کے خلاف ہو اس آیت کے شان نزول میں مختلف روایتیں آئی ہیں۔ 1۔ ابوداؤد اور ترمذی وغیرہ میں ابن عباس سے مروی ہے کہ بدر کے دن غنیمت میں سے ایک سرخ چادر گم ہوگئی اس پر کسی شخص نے کہا شاید رسول اللہ نے لے لی ہوگی یہ کہنے والا کوئی منافق تھا جیسا کہ بعض روایات میں خود ابن عباس سے منقول ہے (تفسیر ابن کثیر) اس کی تردید میں یہ آیت نازل ہوئی کہ نبی سے کسی قسم کی خیانت کا صدور ناممکن اور محال ہے کیونکہ نبوت کا دارو مدار صدق اور امانت پر ہے۔ 2۔ بعض روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیات غزوہ احد کے متعلق نازل ہوئیں کلبی اور مقاتل کا قول ہے کہ احد کے دن جن تیرا ندازوں کو گھاٹی پر متعین کیا تھا وہ اپنی متعینہ جگہ کو چھوڑ کر نیچے اتر آئے اور ان میں سے کسی کو اندیشہ یہ ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ رسول اللہ فوج میں یہ حکم صادر فرمائیں کہ کفار سے جوشی جس کے ہے وہ اسی کی ہے اور مال غنیمت کو آپ تقسیم نہ فرمائیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ نبی کے لیے یہ لائق نہیں کہ وہ تقسیم غنیمت میں خیانت کرے کہ بعض کو دے اور بعض کو نہ دے۔ پس اس روایت کی بنا پر بعض مستحقین کو مال غنیمت کے حصہ سے محروم کرنے کو مبالغۃ غلول اور خیانت سے تعبیر کیا گیا ہے کہ مال غنیمت کو مستحقین پر برابر نہ تقسیم کرنا یہ بھی ایک قسم کی خیانت ہے جس سے اللہ کا نبی پاک اور منزہ ہوتا ہے۔ بعض علماء نے پہلی روایت کے مقابلہ میں اس روایت کو ترجیح دی ہے کہ ماقبل اور مابعد کی تمام آیتیں واقعہ احد ہی کے متعلق ہیں لہذا سیاق کلام کا مقتضی یہ ہے کہ یہ آیت بھی واقعہ احد ہی کے متعلق ہونی چاہیے۔ بہر حال آیت غزوہ احد سے متعلق ہو یا غزوہ بدر سے مقصود ایک بےعنوانی پر تنبیہ کرنا ہے گزشتہ آیات میں جنگ احد کی ایک کوتاہی کو بیان فرمایا اب اس آیت میں جنگ بدر کی ایک کوتاہی کو یاد دلا، اور یہ بتلایا کہ منصب نبوت کے ساتھ خیانت جمع نہیں ہوسکتی نبی خدا کا امین ہوتا ہے اور اللہ کا محترم بندہ ہوتا ہے اور ہر حال میں اس کی مرضی کے تابع ہوتا ہے شاہ ولی اللہ قدس سرہ لکھتے ہیں۔ مترجم کہتا ہے کہ چونکہ مال غنیمت میں تصرف اور اس کا انتظام نبی ﷺ کے سپرد تھا اس لیے من جانب اللہ یہ آیت نازل ہوئی تاکہ کوئی شخص آپ کی نسبت خیانت کا شبہ اور گمان بھی نہ کرسکے۔ نیز چونکہ سلسلہ کلام جہاد سے متعلق ہے اس لیے درمیان میں مال غنیمت کے متعلق ایک حکم بیان فرمادیا چناچہ فرماتے ہیں اور کسی نبی کی یہ شان نہیں کہ وہ کوئی چیز چھپائے یا کسی قسم کی کوئی ادنی سے ادنی خیانت کرے۔ منصب نبوت کے ساتھ خیانت جمع نہیں ہوسکتی اور جس کوا للہ تعالیٰ نے بلند مرتبہ بنایا ہو اس ذلت اور فضیحت کے کام کا صدور اور ظہور ناممکن ہے کیونکہ جو شخص خیانت کرے گا وہ قیامت کے دن اس خیانت کو اپنے سر پر اٹھا کر لائے گا تاکہ میدان حشر میں ذلیل اور رسوا ہو اور اللہ کا نبی ہر قسم کی ذلت اور فضیحت سے پاک اور منزہ ہوتا ہے احادیث میں یہ مضمون بکثرت آیا ہے کہ جس نے جو چیز چھپائی ہوگی وہ قیامت کے دن میدان حشر میں اس حالت میں حاضر ہوگا کہ وہ چیز اس کی گردن پر سوار ہوگی کسی کی گردن پر اونٹ سوار ہوگا اور کسی کی گردن پر گھوڑا وغیرہ ذلک۔ ابن ابی حاتم نے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے ابوہریرہ ؓ پر اس حدیث کے متعلق یہ اشکال پیش کیا کہ جس شخص نے سو یا دو سواونٹوں کی خیانت کی وہ اتنے اونٹ اپنی گردن پر کیسے اٹھائے گا ابوہریرہ نے جواب دیا کہ جس شخص کی ایک ڈاڑھ جبل احد کے برابر ہوگی وہ اتنے سارے اونٹوں کو بھی اٹھا سکے گا حضرت ابوہریرہ کا یہ جواب محض سائل کی تشفی اور اطمینان کے لیے تھا ورنہ اللہ کی قدرت کے لیے بدنے کے بڑے ہونے کی بھی ضرورت نہیں، اس زمانہ میں چھوٹے سے جر ثقیل کے آلہ سے بڑے بڑے بحری جہاز اوپر اٹھا لیے جاتے ہیں یہ تو ایک ضعید البنیان انسان کی قدرت کا حال ہے تو قادر مطلق اور توانائے برحق کی قدرت و طاقت کا کیا پوچھنا۔ پھر خائن کی اس ذلت وفضیحت پر معاملہ ختم نہ ہوجائے گا بلکہ اس کو خیانت کی پوری پوری سزا ملے گی اس لیے کہ قیامت کے دن ہر نفس کو اس چیز کی جو اس نے کیا ہے پوری پوری جزا دی جائے گی خاص کر حقوق العباد میں اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا مطلب یہ ہے کہ اول لوگوں کی بداعمالیوں اور خیانتوں کو ظاہر کریں گے اور اس کے بعد ان کو ان کے اعمال کی جزا دی جائے گی غرض یہ کہ خائنین قیامت کے دن اللہ کے مغضوب اور معتوب ہوں گے اور ذلیل و خوار ہوں گے اور حضرات انبیاء کرام اللہ کے من کل الوجوہ پسندیدہ اور برگزیدہ بندے ہیں اور مصطفین الاخیار اور مرتضین الابرابر کے مصداق ہیں اور جن کا ظہر و باطن ہر حال میں اللہ کی مرضی کے تابع ہے وہ قیامت کے دن سربلند ہوں گے اور ہر قسم کی ندامت و پیشمانی سے بالکلیہ مامون اور محفوظ ہوں گے جیسا کہ آگے ارشاد ہے کیا پس ایسا شخص جو اللہ کی خوشنودی اور رضامندی کا تابع اور پیروہوچکا ہو ایسا شخص معاذ اللہ کیا کسی قسم کی خیانت کرکے اس شخص کے مانند اور برابر ہوسکتا ہے جس نے خیانت کرکے اللہ کے غصہ کو کمایا اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہو اور کیسا ہی بری جگہ ہے جو ان لوگوں کے لیے بنائی گئی ہے جو اللہ کے مغضوب ہیں نہ ان لوگوں کے لیے جو رضا حق کے تابع ہوں لوگوں کے درجات اور مراتب مختلف ہیں کوئی ادنی اور کوئی اعلی کوئی اعلی علیین میں اور کقعر سجین میں اور اللہ تعالیٰ لوگوں کے اعمال کو دیکھنے والے ہیں عمل کے مطابق جزاء اور سزا ملے گی۔ آگے ارشاد فرماتے ہیں کہ نبی سے خیانت کا صدور اور ظہور اس وجہ سے بھی ناممکن ہے کہ خیانت تو ایک بلا اور مصیبت ہے اور نبی کا وجود اللہ تعالیٰ کی منت عظمی اور نعمت کبری ہے اس لیے اللہ آئندہ آیت میں اپنے احسان کو جتاتے ہیں اور رسول اللہ کے اوصاف بیان کرتے ہیں تاکہ لوگ اس نعمت کی قدر کریں اور آپ کی عظمت و حرمت کا پورا پورا لحاظ رکھیں اور دل میں ایسی چیز کا وسوسہ بھی نہ آنے دیں جو حضور پرنور کی شان رفیع کے شایان شان نہ ہو۔ تحقیق اللہ تعالیٰ نے بلا شبہ ایمان والوں پر بڑا احسان فرمایا کہ ان میں انہی کی جنس سے ایک عظیم الشان رسول بھیجا جو انہیں اللہ کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے جن کے انوار وبرکات سے دل کی ظلمات دور ہوتی ہیں اور پھر وہ رسول اپنے فیض صحبت اور باطنی توجہ سے ان کو کفر اور شرک کی نجاست اور نفسانی آلائشوں سے پاک اور صاف کرتا ہے اور دلوں کو مانجھ کر صیقل بنا دیتا ہے اور ان کو کتاب الہی کی تعلیم دیتا ہے یعنی قرآن کریم کے غوامض اور مشکلات کو حل کرتا ہے اور صحابہ کرام کو آیت کے متعلق اگر کوئی شبہ پیش آئے تو اس کا ازالہ فرمادیتے ہیں، جیسا کہ الذین آمنو اولم یلبسوا ایمانھم بظلم۔ آیت۔ کے متعلق صحابہ کو جب شبہ پیش آیا وتو اس کا ازالہ فرمادیا کہ آیت میں ظلم سے مطلق معصیت مراد نہیں بلکہ شرک مراد ہے اور یہ آیت تلاوت فرمائی، ان الشرک لظلم عظیم۔ آیت۔ اور اس قسم کے لیے بیشمار نظائر احادیث نبویہ میں موجود ہیں اور حکمت اور دانائی کی باتوں کی ان کو تعلیم دیتا ہے اور اس تعلیم کا عجب حال ہے کہ جس سے عرب کے جاہل اور لٹھ ایسے حکیم اور دانا بنے کہ سارے عالم کے معلم بن گئے اور جن کی حکمت اور دانائی نے حکماء یونان اور فلاسفہ عالم کو نیچا دکھادیا اور تحقیق یہ لوگ جو آپ کی تعلیم وتربیت سے حکیم اور دانابنے آپ کی کفش برداری سے پہلے صریح گمراہی میں مبتلا تھے پس کیا جس رسول کی تعلیم وتربیت نے جاہلون کو حکیم بنادیا ہو اور گندوں کو نفسانی آلائشوں سے پاک اور صاف کردیا ہو کیا اس سے کسی قسم کی خیانت کا صدور ممکن ہے کسی نے کیا خوب کہا ہے، درفشانی نے تری قطروں کو دریا کردیا دل کو روشن کردیا آنکھوں کو بینا کردیا خود نہ تھے جو راہ پر اوروں کے ہاوی ہوگئے کیا نظر تھی جس نے مردوں کو مسیحا کردیا (ف) اس آیت کے اکثر الفاظ پارہ اول کے اخیر میں پارہ دوم کے اول میں گذر چکے ہیں وہاں ان کی تفسیر دیکھ لی جائے خلاصہ کلام یہ کہ نادانوں میں ایسا دانا پیدا کرنا جو ان کو دانائی سکھائے اور ان پڑھوں کو کتاب پڑھنا سکھائے اور ظاہری اور باطنی ناپاکی ان سے دور کرے اور گمراہوں کو ہدایت کرے یہ اللہ تعالیٰ کا بہت ہی بڑا احسان ہے کہ اس نے اس امت کے لیے ایسے نبی کو مبعوث فرمایا۔ آفتاب آمد دلیل آفتاب گر دلیلے باید ازوے رومتاب
Ayahs 3:165–168

اَوَ لَمَّاۤ اَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَیْهَا١ۙ قُلْتُمْ اَنّٰى هٰذَا١ؕ قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:165 in the Quran reader

(بھلا یہ) کیا (بات ہے کہ) جب (احد کے دن کفار کے ہاتھ سے) تم پر مصیبت واقع ہوئی حالانکہ (جنگ بدر میں) اس سے دو چند مصیبت تمہارے ہاتھ سے ان پر پڑچکی ہے تو تم چلا اٹھے کہ (ہائے) آفت (ہم پر) کہاں سے آپڑی کہہ دو کہ یہ تمہاری ہی شامت اعمال ہے (کہ تم نے پیغمبر کے حکم کے خلاف کیا) خدا ہر چیز پر قادر ہے

وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیَعْلَمَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 3:166 in the Quran reader

اور جو مصیبت تم پر دونوں جماعتوں کے مقابلے کے دن واقع ہوئی سو خدا کے حکم سے واقع ہوئی اور (اس سے) یہ مقصود تھا کہ خدا مومنوں کو اچھی طرح معلوم کرلے

وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ نَافَقُوْا١ۖۚ وَ قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَوِ ادْفَعُوْا١ؕ قَالُوْا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّا اتَّبَعْنٰكُمْ١ؕ هُمْ لِلْكُفْرِ یَوْمَئِذٍ اَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلْاِیْمَانِ١ۚ یَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یَكْتُمُوْنَۚ Open ayah 3:167 in the Quran reader

اور منافقوں کو بھی معلوم کرلے اور جب ان سے کہا گیا کہ آؤ خدا کے راستے میں جنگ کرو یا (کافروں کے) حملوں کو روکو تو کہنے لگے کہ اگر ہم کو لڑائی کی خبر ہوتی تو ہم ضرور تمہارے ساتھ رہتے یہ اس دن ایمان کی نسبت کفر سے زیادہ قریب تھے منہ سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہیں اور جو کچھ یہ چھپاتے ہیں خدا اس سے خوب واقف ہے

اَلَّذِیْنَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ وَ قَعَدُوْا لَوْ اَطَاعُوْنَا مَا قُتِلُوْا١ؕ قُلْ فَادْرَءُوْا عَنْ اَنْفُسِكُمُ الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 3:168 in the Quran reader

یہ خود تو (جنگ سے بچ کر) بیٹھ رہے تھے مگر (جنہوں نے راہ خدا میں جانیں قربان کردیں) اپنے (ان) بھائیوں کے بارے میں بھی کہتے ہیں کہ اگر ہمارا کہا مانتے تو قتل نہ ہوتے کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو اپنے اوپر سے موت کو ٹال دینا

ازالہ حسرت ہزیمت از دوستاں جواب شبہ دشمناں قال تعالیٰ اولما اصابتکم مصیبۃ۔۔۔۔ الی صادقین۔ پہلے سے احد کا قصہ چلا آرہا ہے درمیان میں صحابہ کرام سے جو کوتاہی ہوئی اس پر تنبیہ فرمائی اب پھر قصہ احد کی طرف عود فرماتے ہیں جس سے مقصود مسلمانوں کی ایک حسرت کو زائل کرنا ہے اور منافقوں کے ایک شبہ کا جواب دینا ہے بعض مسلمانوں کو یہ خیال ہوا کہ دین اسلام دین حق ہے اور خدا کا رسول ہمارے ساتھ ہے اور ہم دین حق کی حمایت میں جہاد کررہے ہیں اور کفار کفر اور شرک کی حمایت میں لڑ رہے ہیں تو انہوں نے ہم پر کیسے فتح پائی۔ اور منافقوں نے یہ کہا کہ اگر آپ سچے ہیں تو احد میں شکست کیوں ہوئی چناچہ فرماتے ہیں کیا جس وقت احد میں تم کو ایسی مصیبت پہنچی جس بدر میں اس سے پہلے تم اپنے دشمنوں کو اس کا دوچند پہنچا چکے تو تم بطور تعجب نہ بطور اعتراض یہ کہنے لگے کہ یہ مصیبت کہاں سے آئی یعنی جنگ احد میں اگر تمہارے ستر آدمی شہید ہوگئے تو جنگ بدر میں ان کے ستر آدمی مارے گئے اور ستر تمہارے ہاتھ قید ہوئے اور قید بھی مقتول کے برابر ہی ہوتا ہے تو ایسی حالت میں اپنی نصف مصیبت کا شکوہ کرنا اور بددل ہونا مناسب نہیں آپ انکے جواب میں کہہ دیجئے کہ یہ ساری مصیبت تمہاری طرف سے آئی یعنی تم خود ہی اس مصیبت کا سبب بنے ہو قصور تمہارا ہے کہ خلاف حکم اپنی جگہ متعین کو چھوڑ کر درہ سے نیچے اترے یا قصور یہ ہے کہ تم نے بدر کے دن قیدیوں کو قتل کیوں نہ کیا اور ان سے مال لے کر ان کو کیوں چھوڑا نبی صلی اللہ نے اس وقت فرمایا دیا تھا کہ اگر تم کافروں کو فدیہ لے کر چھوڑتے ہو تو تم میں سے ستر آدمی آئندہ چل کر شہید ہوں گے لوگوں نے اس کو قبول کیا اور مال لے کر ان کو چھوڑا۔ لہذا اس وقت تم احد کی اس مصیبت کا کیوں شکوہ کرتے ہو یہ تمہاری قبول کردہ مصیبت ہے نیز یہ بھی احتمال ہے کہ احد کے دن ابتدائے جنگ میں مسلمانوں نے جتنے مشرکوں کو قتل کیا ہو ان کی تعداد احد کے مسلمان مقتولین سے دوچند ہو بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے جس کو جب چاہے غالب اور جب چاہے مغلوب کرے اور جو تکلیف تمہیں اس دن پہنچی یعنی احد کے دن جس دن دو فوجیں بھڑیں اور آپس میں لڑیں سو وہ تکلیف اللہ ہی کے حکم سے پہنچی جس میں بیشمار حکمتیں اور مصلحتیں ہیں اور من جملہ بیشمار مصلحوں کے ایک مصلحت یہ ہے کہ تاکہ اللہ تعالیٰ مومنین کو جان لے یعنی ان کے ایمان کو سب کے سامنے عیاں کردے کہ ایمان والے ایسے ہوتے ہیں اور تاکہ معلوم ہو ان لوگوں کو جو منافق ہوئے یعنی ان کا نفاق لوگوں کو معلوم ہوجائے اور لوگ اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرلیں کہ منافق ایسے ہوتے ہیں۔ (ف) منافق اس شخص کو کہتے ہیں کہ جو ظاہر میں مسلمان اور دل میں کافر ہو ابن انباری فرماتے ہیں کہ منافق نفق سے مشتق ہے جس کے معنی سرنگ کے ہیں جس طرح انسان دشمن سے سرنگ میں جا کر چھپ جاتا ہے اسی طرح منافق مسلمانوں کو قتل و غارت سے بچنے کے لیے اسلام کے پردہ میں چھپ جاتا ہے۔ ابوعبیدہ کا قول یہ ہے کہ منافق نافقاء سے مشتق ہے جنگلی چوہا اپنے بل کے دو دروازے رکھتا ہے ایک کا نام قاصعاء ہے اور دوسرے کا نام نافقاء ہے جب کوئی اسے پکڑنا چاہتا ہے و ایک دروزہ سے داخل ہوتا ہے اور دوسرے دروازہ سے نکل جاتا ہے اسی طرح منافق ایک طرس سے اسلام کے دروازہ میں داخل ہوتا ہے دیکھنے والا سمجھتا ہے کہ اسی دروزہ میں داخل ہوا ہے اور درپردہ کفر کے دروازہ سے نکل کر بھاگ جاتا ہے آگیا ن منافقین کے نفاق کا حال بیان کرتے ہیں اور جب ان منافقین سے کہا گیا اگر تم دعوائے اسلام میں سچے ہو تو آؤ اللہ کی راہ میں لڑو، اور اس کی راہ میں دین کے دشمنوں سے جانبازی اور سرفروشی دکھلاؤیا کم ازکم قوم یا وطن یا شہر سے دشمن کی مدافعت کرو یعنی اگر دین کی خاطر دین کے دشمنوں سے نہیں لڑتے تو آؤ قوم اور وطن اور اہل اعیال کے ہی خاطر دشمن کی مدافعت کرو کیونکہ اگر دشمن کامیاب ہوگا تو وہ پامال کرنے میں مومن اور کافر مخلص اور منافق کی کوئی تمیز نہ کرے گا سب کو ایک ہی گھاٹ اتارے گا مقصود اس سے اتمام حجت ہے کہ اگر اخدا کے لیے دین کے لیے نہیں لڑتے تو قوم اور وطن اور مال ومنال اور اہل و عیال ہی کے لیے دشمن کی مدافعت میں حصہ لو۔ ّف) معلوم ہوا کہ جہاد وہ ہے جو صرف اللہ اور اس کے دین کی حمایت اور حفاظت کے لیے ہو اور جو محض قوم اور وطن کے لیے ہو وہ جہاد نہیں منافق بولے کہ اگر ہم واقع میں اس کو لڑائی جانتے تو ضرور تمہارے ساتھ ہوتے لیکن یہ تو کوئی لڑائی نہیں ایک طرف تو تین ہزار کا لشکر جرار اور ایک طرف ایک ہزار بےسروسامان آدمی ہی یہ کوئی جنگ نہیں بلکہ مفت میں اپنی جانوں کو ہلاکت میں ڈالنا ہے اللہ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ اس دن بہ نسبت ایمان کے کفر کے زیادہ قریب تھے کیونکہ منافقین زبان سے دعوی اسلام کا کرتے تھے اور مسلمانوں کے ساتھ ملے جلے رہتے تھے لیکن آج کے دن اس جواب سے ان کے نفاق کی قلعی کھل گئی اس دن سے پہلے یہ لوگ اپنے کو مسلمان بتاتے تھے لیکن ظاہر میں ان سے کوئی ایسی علامت ظاہر نہیں ہوئی تھی جو ان کے کفر پر دلالت کرے آج کے دن ان کے اس جواب سے ان کا چھپایا ہوا کفر ظاہر ہوگیا یہ منافقین اپنے منہ سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں یعنی ان کا ظاہر و باطن یکساں نہیں زبان سے اسلام کا اظہار کرتے ہیں اور دل میں کافر ہیں اور اللہ خوب جانتا ہے جو دل میں چھپاتے ہیں یعنی ان کے اندرونی کفر اور نفاق سے خوب واقف ہے یہ منافق وہ لوگ ہیں جو خود جہاد سے بیٹھے رہے اورا پنی برادری کے بھائیوں کی نسبت یعنی ان انصار مدینہ کے حق میں جو جنگ احد میں شہید ہوئے یہ کہنے لگے اگر یہ لوگ ہمارا کہنا مانتے اور ہماری طرح گھروں میں رہتے تو نہ مارے جاتے جس طرھہم قتل سے محفوظ رہے اس طرح یہ بھی قتل سے محفوظ رہتے اے نبی کریم اپ ان کے جواب میں یہ کہہ دیجئے کہ تم اپنی ہی جانوں سے موت کو ہٹا دو اگر تم اپنے اس قول میں سچے ہو کہ پرہیز اور احتیاط سے انسان موت اور قتل سے بچ جاتا ہے موت ہو یا قتل ہو وقت مقدر سے کوئی چیز نہیں ٹلتی کتنے ہی پہرے ہو موت کو کوئی نہیں ٹال سکتا اب تم کو اختیار ہے کہ جی چاہے گھر میں بیٹھے بزدلوں کی موت مرجاؤ یا میدان جہاد میں اللہ کی راہ میں نابازی وسرفروشی کرتے ہوئے عزت کی موت مرو تاکہ دائمی حیات حاصل ہو جیسا کہ آئندہ میں ذکر آتا ہے۔
Ayahs 3:169–171

وَ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا١ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُوْنَۙ Open ayah 3:169 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھنا (وہ مرے ہوئے نہیں ہیں) بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہیں اور ان کو رزق مل رہا ہے

فَرِحِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ۙ وَ یَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْا بِهِمْ مِّنْ خَلْفِهِمْ١ۙ اَلَّا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۘ Open ayah 3:170 in the Quran reader

جو کچھ خدا نے ان کو اپنے فضل سے بخش رکھا ہے اس میں خوش ہیں اور جو لوگ ان سے پیچھے رہ گئے اور (شہید ہو کر) ان میں شامل نہیں ہو سکے ان کی نسبت خوشیاں منا رہے ہیں (قیامت کے دن) ان کو بھی نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے

یَسْتَبْشِرُوْنَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ٤ۚۛ۠ Open ayah 3:171 in the Quran reader

اور خدا کے انعامات اور فضل سے خوش ہو رہے ہیں اور اس سے کہ خدا مومنوں کا اجر ضائع نہیں کرتا

بیان اعزاز واکرم شہداء احد، دربار گاہ خداوند احد۔ قال تعالیٰ ولا تحسبن الذین۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ اجرالمومنین۔ آیت۔ ربط) گزشتہ آیات میں منافقین کے اس قول کا جواب دیا تھا جو یہ کہتے تھے کہ لواطاعونا ماقتلوا اس کے جواب میں فادروا عن انفسکم الموت اراشاد فرمایا اب اس آیت میں ان کے ایک شبہ کا جواب دیتے ہیں کہ جن کو تم مقتول اور مردہ کہتے ہو اور یہ سمجھتے ہو کہ وہ دنیا سے ناکام اور محروم ہوگئے اور حیات اور لذات سے محروم ہوگئے کہ وہ مردہ نہیں بلکہ وہ زندہ ہیں اور ان کو بجائے اس حیات فانی کے ایک خاص قسم کی حیات جاودانی عطا کردی گئی ہے جو عیش وتنعیم میں اس دنیوی حیات سے کہیں بالا ہے اور برتر ہے چناچہ فرماتے ہیں اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے ان کو ہرگز ہرگز مردہ گمان نہ کر بلکہ وہ زندہ ہیں اور ان کی یہ حیات دنیوی حیات سے کہیں بہتر اور برتر ہے کیونکہ وہ اپنے پروردگار کے نزدیک ہیں جس خدا کے لیے جہاد میں انہوں نے جانیں دی ہیں اس کا قرب ان کو حاصل ہے اور ظاہر ہے کہ مقربین خداوندی کے حیات کے ساتھ اس دنیاوی حیات کو کیا نسبت پھر یہ کہ اللہ کے پاس سے ان کو زندوں کی طرح رزق اور روزی دی جاتی ہے اور ظاہر ہے کہ رزق ہی بقاء حیات کا ذریعہ ہے پس جب اس دنیائے فانی کا رزق آدمی کی حیات اور صحت اور قوت کا ایک سبب ہے تو اس عالم کا رزق کس درجہ حیات میں ممد اور معاون ہوگا رزق ملنا قیامت کے آنے پر موقوف نہیں ابھی سے انکو رزق ملنا شروع ہوجاتا ہے پھر یہ کہ یہ شہداء نہایت خوش ہیں اور ان نعمتوں پر جو ان کو اللہ نے محض اپنے فضل سے بلاواسطہ اور بلا محنت اور بلا مشقت اور بلا ان کے کسب واکتساب کے ان کو دی ہیں دنیا کے رزق میں اول تو محنت اور مشقت ہے اور آخر میں ملنے کے بعد یہ غم ہوتا ہے کہ شاید یہ رزق کہیں چھن نہ جائے اور شہداء کو اللہ کے پاس سے جو رزق ملتا ہے اول تو اس میں اسباب وسائل کا واسطہ نہیں ہوتا اور پھر یہ کہ اس میں کسی قسم کی محنت ومشقت نہیں اور پھر یہ اللہ کے فضل سے اس کے زوال کا اندیشہ نہیں، اتاھم اللہ من فضلہ کے یہ معنی ہیں خوب سمجھ لو اور یہ بےمثال فرحت ومسرت بھی ان کی بےمثال حیات کی دلیل ہے فرحت تو زندہ ہی کو ہوتی ہے شہداء ان نعمتوں کو دیکھ کر بےحد خوش ہوتے ہیں کہ اللہ نے جو وعدے شہیدوں سے کیے پیغمبروں کے زبانی کیے تھے آج اپنی آنکھوں سے ان کا مشاہدہ کیا یہ تو اس مسرت کا ذکر تھا جو ان کی ذات سے متعلق تھی اب آئندہ شہداء کی اس مسرت اور خوشی کو بیان کرتے ہیں جو ان کو اپنے پسماندوں کے متعلق ہوتی ہے چناچہ فرماتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں شہداء اپنے ان پسماندوں کے متعلق بھی جو کہ ابھی ان سے نہیں ملے اور دنیا میں ان کے پیچھے رہ گئے ہیں اور جہاد فی سبیل اللہ یا اور امور خیر میں ان کو دنیا میں مشغول چھوڑ آئے ہیں کہ اگر یہ لوگ بھی ہماری طرح خدا کی راہ میں مارے گئے اور شہید ہو کر یہ لوگ بھی ہم سے آملے تو ہماری طرح ان پر بھی نہ آئندہ کا کوئی خوف ہراس ہوگا اور نہ گزشتہ پر یہ غمگین ہوں گے یعنی شہادت کے بعد نہ تو آخرت کی عقوبت کا کوئی خوف ہوگا اور شہادت کی وجہ سے جو دنیا کی نعمتوں اور لذتوں سے ہزاراں ہزار درجہ بڑھ کر ہوں گے الغرض شہداء اللہ کی نعمت اور فضل کو دیکھ دیکھ کر غایت درجہ خوش ہوتے ہیں اور کیسے اور کیوں نہ خوش ہوں تحقیق جب کہ وہ یہ مشاہدہ کرلیں گے کہ اللہ تو عام اہل ایمان کے اجر کو بھی ضائع نہیں فرماتے۔ بلکہ وہم و گمان سے بڑھ کردیتے ہیں تو شہداء (جاں نثاروں) کے اجر کو کیسے ضائع فرمائیں گے جنہوں نے اس کی راہ میں اپنی جانیں قربان کردی ہیں غرض یہ کہ شہداء اپنی نعمتوں کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور دوسروں کے متعلق بھی یہ معلوم کرکے خوش ہوتے ہیں کہ اللہ نے اہل ایمان کا اجر ضائع نہیں فرماتا۔ سدی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ شہید کے پاس ایک رجسٹر لایا جاتا ہے جس میں ان لوگوں کے نام درج ہوتے ہیں جو اس کے مسلمان بھائیوں میں سے اس کے پاس آنے والے ہوتے ہیں پس وہ اس بشارت سے ایساخوش ہوتے ہیں جیسا کہ دنیا میں لوگ اپنے کسی غائب عزیز کی آمد کی بشارت سن کر خوش ہوتے ہیں۔ (تفسیر ابن کثیرص 428 ج 1) ۔ اور بعض علماء کہتے ہیں کہ الذین لم یلحقوا بھم۔ آیت۔ کا اشارہ تمام مومنین کی طرف ہے جو دنیا میں ان سے پیچھے رہ گئے اگرچہ وہ شہید نہیں ہوئے شہداء جب اس عالم میں پہنچ کر اللہ کے ثواب اور انعام کا مشاہدہ کرتے ہیں تو ان کو یقین کامل ہوجاتا ہے کہ دین اسلام حق ہے اور اس پر چلنے والوں کو اللہ ضرور ثواب اور اجر عطا فرمائے گا پس شہداء اللہ کے ان افضال اور الطاف پر بھی خوش ہوتے ہیں جو اللہ نے خود ان کو عطا کیے اور اپنے ان بھائیوں کے متعلق بھی ان کو خوشی ہوتی ہے جو دنیا میں ان کے پیچھے رہ گئے اگرچہ ان کو شہادت کی فضیلت حاصل نہیں ہوئی ان پر بھی کوئی خوف اور غم نہیں اس لیے کہ وہ ٹھیک راہ پر جارہے ہیں اور آخر کار وہ ضرور جنت میں پہنچیں گے۔ زجاج اور ابن فورک (رح) تعالیٰ علہیم نے یہی معنی اختیار کیے ہیں جیسا کہ امام قرطبی نے اپنی تفسیر میں ذکر کیا ہے۔ وقیل ان الاشارۃ بالاستبشار للذین لم یلحقوا بھم الی جمیع المومنین وان لم یقتلوا ولکنھم لما عاینوا ثواب اللہ وقع القین بان دین الاسلام ھوالحق الذی یثیب اللہ علیھم فھم فرحون لانفسھم بما آتاھم اللہ من فضلہ مستبشرون للمومنین بان لاخوف علیھم ولاھم یحزنون۔ ذھب الی ھذا المعنی الزجاج وابن فورک۔ (تفسیر قرطبی ص 275 ج 4) ۔ اطلاع۔ حیات شہداء کی تحقیق (پارہ سیقول) کے رکوع سوم میں گزرچکی ہے وہاں دیکھ لی جائے۔