Ayah 3:14بیان حقارت لذات دنیویہ۔
قال تعالی، زین للناس حب الشھوات۔۔۔ الی۔۔۔ حسن الماب۔
ربط) ۔ گزشتہ آیات میں کافروں کا حال بیان فرمایا کہ وہ مال دولت کے نشہ میں چور ہیں اس لیے حق کو قبول نہیں کرتے اب ان آیات میں دنیوی لذات کا ہیچ اور فانی ہونا بیان کرتے ہیں کہ یہ تمام عیش و عشرت کے سامان محض چند روزہ ہیں اور عالم جاودانی کے مقابلہ میں بمنزلہ خواب کے ہیں پھر اس کے بعد آئندہ آیات میں حق تعالیٰ نے آخرت کی عظیم الشان اور جلیل القدر نعمتوں کو ذکر فرمایا جو آخرت میں اہل ایمان اور اہل تقوی کو عنایت ہوں گی۔ ان تمام آیات میں وفد نجران کی طرف اشارہ ہے کہ مال وجاہ کی محبت نے حق کے اتباع سے باز رکھا کہ اور نصاری کا سب سے بڑا عالم، ابوحارثہ، باوجود اعتراف اور اقرار کے اسی مال و دولت کی بدولت، ایمان وہدایت کی لازوال دولت سے محروم رہا۔ اور پھر لطف یہ ہے کہ ان آیات میں لذات کے اصول اور شہوات کے انواع اوراقسام کو بیان فرمایا کہ جن پر تمام دنیا کے تمع اور فوائد کا دارومدار ہے چناچہ فرماتے ہیں آراستہ اور خوشنما کردی گئی ہے عام طور پر لوگوں کے لیے محبت، خواہشوں اور نفس کی آرزوں کی لوگ شہوات اور نفسانی خواہشات پر اتنے فریفتہ ہوئے کہ ان کا عیب اور نقصان بھی نظروں سے پوشیدہ ہوگیا ان شہوات کی ظاہری زیب وزینت تو نظر آتی ہے اور باطنی قبح ان کا نظر نہیں آتا اسی وجہ سے کبھی ان سے کنارہ کشی کا خیال بھی دل میں نہیں آتا بیشک شہوات کی محبت آدمی کو باندھا بنادیتی ہے، البتہ جو اولی الابصار ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے دل کی بینائی عطا کی ہے وہ شہوات اور خواہشات کے پیچھے اندھے نہیں بن جاتے نفس کے مقابلہ میں عقل کا اتباع کرتے ہیں اور اپنی ابصار کو نابینا ہونے سے محفوظ رکھتے ہیں اور دنیا کے سازوسامان پر مفتون اور فریفتہ نہیں ہوجاتے بلکہ ان سے عبرت پکڑتے ہیں گزشتہ آیت یعنی ان فی ذالک لعبرۃ لاولی الابصار، میں ایسے ہی لوگوں کا ذکر تھا اب اس کے بعد ان شہوات اور خواہشات کے انواع اوراقسام کو ذکر فرماتے ہیں جن کی دھن میں ساری دنیا سرگردان اور حیراں ہے یعنی ان شہوات اور خواہشات میں کہ جن میں آدمی پھنس کر خدا سے غافل ہوجاتا ہے ان میں سے سب سے اول عورتیں ہیں کہ دنیاوی لذتوں اور شہوتوں کا منتہی ہیں متاع دنیا میں سے کسی چیز کی محبت عورتوں کی محبت کو نہیں پہنچتی اسی وجہ سے حدیث میں ہے ماترکت بعدی فتنہ اضر علی الرجال من النسا، حضور ﷺ نے فرمایا میرے بعد مردوں کے لیے عورتوں سے بڑھ کر کوئی فتنہ نہیں جو مردوں کے لیے ضرررساں ہو۔ اور دوسرے درجہ میں بیٹوں کی محبت اور تیسرے درجہ میں سونے اور چاندی کے جمع کیے ہوئے خزانوں کی محبت ہے کہ جو تمام خواہشوں اور لذتوں کے حاصل کرنے کا ذریعہ اور وسیلہ ہیں اور چوتھے درجہ میں خوبصورت اور فربہ گھوڑوں کی محبت ہے جو سفر اور سیروتفریح کا ذریعہ ہیں اور ظاہری شان و شوکت اور عزت ووجاہت اور فخرومباہات کا سبب ہیں اور پانچویں درجہ میں چوپاؤں اور مویشی کی محبت ہے یعنی اونٹ اور گائے اور بیل اور بھیر اور بکری کا محبت ہے جو انسان کا ذریعہ معاش ہیں گوشت اور دودھ کی غذا نہیں سے مہیا ہوتی ہے اور اون اور کھال اور چمڑا بھی انہیں چوپاؤں سے حاصل ہوتا ہے جس سے کمبل اور جوتے وغیرہ بنتے ہیں چھٹے درجہ میں کھیتی کی محبت ہے جس پر انسان کی حیات کا دارومدار ہے زراعت اگرچہ ضرورت کے لحاظ سے سب سے اول ہے لیکن شہوت اور لذت کے لحاظ سے سب سے آخر ہے اس لیے اس کو سب سے آخر میں ذکر فرمایا شہوات کی یہ انواع ستہ جو بیان ہوئی بس یہی چند روزہ دنیاوی زندگانی کا کل سامان ہے جس کا تمتع اور انتفاع عنقریب ختم ہوجائے گا اور اللہ کے نزدیک نہایت عمدہ ٹھکانہ ہے جس کی لذت اور نفاست کی کوئی حد نہیں اور اس کی بقاء اور دوام کی کوئی انتہا نہیں عاقل کا کام یہ ہے کہ اپنی تمام تر ہمت اور توجہ اس متاع آخرت کے حصول میں لگادے اور چند روزہ متاع کے پیچھے لگ کر حقیقی اور دائمی متاع سے غافل نہ ہوجائے۔
لطائف ومعارف۔
(1) ۔ شہوات۔ شہوت کی جمع ہے جس کے معنی خواہش اور رغبت کے ہیں لیکن اس جگہ شہوات سے مراد خواہش اور رغبت کی چیزیں ہیں محض خواہش اور رغبت مراد نہیں اس لیے کہ محبوب اور مزین حقیقۃ وہ مرغوبات اور مشتیہات ہیں خود شہوت اور رغبت محبوب اور مزین نہیں لیکن اللہ جل شناہ نے توبیخ اور ملامت میں مبالگہ کرنے کے لیے قابل شہوت اور قابل رغبت چیزوں کو شہوات سے تعبیر فرمایا کہ تم ان اشیاء کی محبت میں اس درجہ مستغرق ہوگئے ہو کہ ان شہوات اور خواہشات کی محبت ہی تمہاری نظروں میں محبوب اور مزین بن گئی ہے اور بجائے اشیاء مرغوبہ کے ان کی رغبت ہی تمہاری مرغوب خاطر ہوگئی اور قابل اشتہاء چیزوں کی شہوت کی محبت ہی تمہاری محبوب اور مطلوب بن گئی یہ عشق کا آخری درجہ ہے کہ محبوب کی محبت خود مستقل محبوب بن جائے اسی طرح قابل شہوت چیزون کو شہوت کا محبوب بن جانا یہ اس امر کی دلیل ہے کہ یہ شخص لذات اور شہوات کے عشق میں آخری درجہ پر پہنچ چکا ہے اور اس کی نظیر قرآن کریم میں یہ ہے کہ احببت حب الخیر اور حدیث میں یہ ہے، اللھم انی اسالک حب وحب من یحبک وحب عمل یقرب الی حبک۔ نیز خواہش اور رغبت کی چیزوں کو شہوات سے تعبیر کرنے میں یہ نکتہ ہے کہ ان اشیاء سے نفرت دلانا مقصود ہے اس لیے شہوات کا مفہوم ہی خست اور ذلت پر دلالت کرتا ہے اور شہوتوں کا اتباع بہائم کا کام ہے۔
(2) ۔ خیل مسومہ۔ کے معنی علماء کے مختلف اقوال ہیں بعض کہتے ہیں کہ خیل مسومہ سے وہ گھوڑے مراد ہیں جن پر نمبر یا نشان لگا ہوا ہو مجاہد کہتے ہیں کہ مسومہ کے معنی موٹے تاز خوبصورت گھوڑے کے ہیں سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ مسومہ سے چرنے والے گھوڑے مراد ہیں یعنی جو گھوڑے چراگاہ میں چرنے کے لیے چھوڑ دیے جائیں اسی لیے امام ابوحنیفہ کا قول ہے کہ علاوہ سواری کے جو گھوڑے چراگاہ میں چرتے ہوں ان پر زکوٰۃ ہے جیسے انعام (چرنے والے) مویشی میں زکوٰۃ ہے اسی طرح خیل سائمہ چرنے والے گھوڑوں میں بھی زکوٰۃ ہے تفصیل کے لیے بخاری شریف اور ہدایہ کی شروح کو دیکھاجائے۔
(3) ۔ ذہب ذھاب سے مشتق ہے جس کے معنی زوال اور فناء کے ہیں اور فضہ اور انفاض سے مشتق ہے جس کے معنی تفرق اور جدا ہونے کے ہیں ان دونوں لفظوں کا اشتقاق ہی ان کے فناء اور زوال کی خبر دیتا ہے اس لیے آیت کو ذالک متاع الحیوۃ الدنیا پر ختم فرمایا یعنی یہ ساری چیزیں محض چند روزہ نفع کی ہیں اور کسی نے کیا خوب کہا ہے ،
النار آخر دینار نطقت بہ والھم آخر ھذا الدرھم الجاری
والمرء بینھا ان کان ذا ورع معذب القلب بین الھم والنار۔
Ayahs 3:15–17بیان نفاست نعمائے اخرویہ ومستحقین آنہا۔
قال تعالی، قل اء نبئکم بغیر من ذالکم۔۔۔۔ الی۔۔۔ بالاسحار۔
ربط) ۔ گزشتہ آیات میں لذات دنیویہ کی حقارت اور خساست کو بیان فرمایا اب ان آیات میں اخروی نعمتوں کی نفاست کو بیان فرماتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بیان فرماتے ہیں کہ ان نفیس اور لازوال نعمتوں کے اہل اور مستحق کون لوگ ہیں، نیز گزشتہ آیت میں یہ بتلایا تھا کہ دنیا کے سامان سے فقط دنیا کی چند روزہ زندگی میں نفع اٹھایا جاسکتا ہے اب آئندہ آیت میں یہ بتلاتے ہیں کہ مستقل اور پائیدار فائدہ اور دائمی فلاح کے حاصل کرنے کا کیا طریقہ ہے چناچہ فرماتے ہیں کہ اے نبی کریم ﷺ آپ ان لوگوں سے جو شہوات اور لذات کی محبت میں گرفتار ہیں یہ کہہ دیجئے کہ آؤ میں تم کو اس چیز کی خبردوں جو اس متاع دنیا اور اس کی تمام شہوات اور لذات کی محبت اور پیروی سے بچاکر چلتے ہیں اہل صفہ اور ان کے نقش قدم پر چلنے والے حضرات صوفیہ ایسے لوگوں کے لیے ان کے پروردگار کے نزدیک عجیب عجیب قسم کے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں یہ لوگ ان باغات میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے داخل ہونے کے بعد کبھی بھی ان سے نہیں نکلیں گے اور ان کے لیے ایسی بیبیاں ہوں گی اور جو ظاہر اور باطن اور صورت و سیرت ہر اعتبار سے صاف اور ستھری ہوں گی اور ظاہری اور باطنی گندگی سے بالکل پاک ہوں گی اور ان سب نعمتوں سے بڑھ کر ان کو یہ نعمت ملے گی کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان کو رضامندی اور خوشنودی کا پروانہ عطا ہوگا اور جنت ہی فی الحقیقت اسی وجہ سے مطلوب ہے وہ رضا خداوندی کا محل ہے اور اللہ اپنے بندوں کو دیکھنے والا ہے خاص بندوں پر خاص نظر عنایت ہے۔
نکتہ) ۔ اس آیت میں جنات (یعنی باغات) کا ذکر ان تمام شہوات اور خواہشات کے مقابلہ میں ہے جن کا ذکر پہلی آیت میں ہوچکا ہے جنت کے متعلق ارشاد خداوندی ہے، وفیھا ماتشتھیہ الانفس وتلذالاعین۔ یعنی جنت میں نفس کی تمام خواہش پوری ہوں گی اس آیت میں من النساء کے مقابلہ میں ازواج مطہرات کو ذکر فرمایا جو حسن و جمال میں آفتاب اور ماہتاب سے بھی بڑھ کر ہوں گی اور حیض ونفاس وغیرہ کی آلائشوں سے بالکل پاک وصاف ہوں گی اور جنت میں بنین یعنی بیٹے اور سب رشتہ دار بھی جمع ہوں گے کماقال تعالی، الحقنا بھم ذریتھم واماالتناھم من عملھم من شئی۔ رہے قناطیر مقنطرہ سو جنت کے مکانات سونے اور چاندی کی اینٹوں سے بنے ہوں گے اور وہاں ایک اینٹ سونے کی ہوگی اور ایک چاندی کی ہوگی اور گارہ مشک کا ہوگا اور جنت کے برتن اور اس کا سامان بھی سونے اور چاندی کا ہوگا اور موتیوں کے خیمے ہوں گے اور سواری کے لیے حقیقت برق رفتار گھوڑے ہوں گے اور لید اور پیشاب سے پاک ہوں گے اور جنت میں انعام اور حرث بھی ہوں گے غرض یہ کہ اس آیت میں جنت کا ذکر ان تمام شہوات اور متاع الحیوۃ الدنیا کے مقابلہ میں ہے جن کا ذکر پہلی آیت میں ہوچکا ہے۔
خلاصہ کلام) ۔ یہ کہ اہل ایمان کو آخرت میں یہ چیزیں ملیں گی۔ 1۔ اپنے مالک خداوند کریم کا قرب نصیب ہوگا۔ 2۔ رہنے کے لیے باغات ہوں گے۔ 3۔ ہر دم ان کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ 4۔ ایسی بیویاں ملیں گی جو ظاہری اور باطنی آلائشوں سے پاک ہوں گی۔ 5۔ سب سے اعلی اور عمدہ یہ نعمت ہوگی کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہمیشہ ان سے راضی ہوجائے گا بھلاکہاں یہ نعمتیں اور لذتیں اور کہاں وہ دنیوی آلائشیں۔
صفات متقین۔
اور جن عبادمتقین کے لیے اللہ تعالیٰ نے سابق الذکر نعمتوں کا وعدہ فرمایا ہے وہ ایسے لوگ ہیں کہ جو خاص طور پر یہ دعا ضرور مانگتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم دل وجان سے ایمان لاچکے ہیں ہمارے پاس اگر ایمان کے سوا کوئی بھی عمل صالح نہ ہو تو تیری بارگاہ میں تنہا ایمان یہ مغفرت کا سبب بن سکتا ہے پس تو اپنی رحمت سے فقط ایمان ہی کو کافی قرار دے کر ہماری تمام گناہوں کو بخش دے اور دوزخ کے عذاب سے ہم کو بچالے اور یہ متقی لوگ بڑے ہی صبر کرنے والے ہیں خدا کی راہ میں شدائد اور مصائب کا تحمل کرنے والے ہیں اور شہوات اور خواہشات سے مغلوب ہونے والے نہیں اور سچے اور راست باز ہیں اپنے اقوال اور افعال اور احوال اور نیتوں اور ارادوں سب میں سچے ہیں اور خشوع اور خضوع پر قائم رہنے والے ہیں اور خشوع اور خضوع ہی تمام عبادتوں کی روح ہے یا یہ معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبودیت پر بالدوام قائم ہیں۔
1) ۔ قنوت کے معنی خشوع اور خضوع کے بھی آتے ہیں اور اطاعت پر قائم و دوام رہنے کے آتے ہیں آیت میں دونوں معنی بن سکتے ہیں اور خدا کی دی ہوئی دولت کو خدا کے حکم کے مطابق خدا کی راہ میں خرچ کرنے والے ہیں اور پچھلی رات میں اٹھ کر استغفار کرنیوالے ہیں یعنی باوجود اس اطاعت شعاری اور فرمانبرداری کے اپنی تقصیرات اور کوتاہیوں سے سحر میں دعا مانگتی ہیں کہ اے اللہ اپنے فضل سے ہم کو معاف فرما۔
2) ۔ اخیر شب کی تخصیص اس لیے فرمائی کہ اخیر شب کی نیند نفس کے لیے غایت درجہ لذیذ ہے ایسے وقت میں اٹھ کر دعامانگنا شہوات نفس کا پورا مقابلہ کرنا ہے جو کمال ایمان کی دلیل ہے نیز یہ وقت دعا کی قبولیت کا بھی ہے اور خدا ے ذوالجلال کی بےچون وچگون اور بےمثال نزول اجلال کا وقت ہے یہ وقت دعا کے لیے غنیمت کبری ہے۔
Ayah 3:18رجوع بسوئے مضمون توحید۔
قال تعالی۔ ابتداء سورت میں نصارائے نجران سے خطاب تھا جس میں توحید کا اثبات اور الوہیت مسیح کا ابطال تھا درمیان میں اور مناسبت مضامین کا ذکر فرمایا اب پھر اصل مضمون توحید کی طرف رجوع فرماتے ہیں کہ جو اصل ایمان ہے کیونکہ توحید کی شہادت ایمان کی اصل الاصول ہے اور توحید ہی پر اللہ تعالیٰ کی رضامندی اور خوشنودی کا دارومدار ہے گواہی دی اللہ تعالیٰ نے اس کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں چناچہ اللہ تعالیٰ اپنی کتابوں اور صحیفوں میں برابر اس مضمون کی گواہی دیتا رہا اور صحیفہ کائنات کا ایک ایک ورق اس کی توحید کی شہادت دے رہا ہے وفی کل شئی لہ شاھد۔۔۔ یدل علی انہ واحد، ہر گیا ہے کہ از زمین روید۔۔۔ وحدہ لاشریک لہ گوید۔
اور فرشتوں نے بھی اس کی گواہی دی فرشتوں کی کوئی تسبیح اور تحمید اللہ کی توحید کے ذکر سے خالی نہیں اور علم والوں نے بھی ہر زمانہ میں توحید کی گواہی دی علماء ہمیشہ دلائل عقلیہ اور نقلیہ سے توحید کو ثابت کرتے رہے اور شرک کو باطل کرتے رہے یہاں تک کہ توحید کا مسئلہ اس درجہ واضح ہوگیا کہ مشرکین بھی اپنے کو مشرک کہنے سے عار کرنے لگے اور وہ معبود بھی اس شان کا ہے کہ ہر تد بیر کو انصاف اور اعتدال کے ساتھ قائم رکھنے والا ہے اور اس کی کوئی تدبیر عدل و انصاف سے باہر نہیں ہوسکتی کیونکہ وہ مالک مطلق ہے اپنی ملک میں جو چاہے تصرف کرے ظلم وہ ہے جو دوسرے کی ملک میں تصرف ہو اللہ تعالیٰ کی ہر تدبیر کا عین عدل اور عین حکمت ہونا یہ بھی اس کی توحید کی ایک مستقل دلیل ہے چناچہ فرماتے ہیں اللہ کے سوا کوئی لائق بندگی نہیں اس لیے کہ الہ یعنی معبود کے لیے عزت اور حکمت کا ہوناضروری ہے اور وہی عزت والا اور حکمت والا ہے اس کی عزت اور غلبہ کا یہ عالم ہے کہ کوئی اس کے عدل اور تدبیر کو توڑ نہیں سکتا اور حکمت کا یہ عالم ہے کہ اس کی کوئی شے مقتضائے حکمت کے خلاف نہیں۔
نکتہ) ۔ عجب نہیں کہ لفظ قائما بالقسط میں عیسائیوں کے مسئلہ کفارہ کے ابطال کی طرف اشارہ ہو کہ یہ کون ساعدل اور انصاف ہے کہ ساری دنیا کے جرائم تنہا ایک شخص پر لاددیے جائیں اور پھر اس ایک شخص کو بےقصور پھانسی پر لٹکا دیا جائے تاکہ وہ معصوم شخص سارے گناہ گاروں کے لیے کفارہ بن جائے خدائے عادل قدوس اس قسم کی گستاخیوں سے پاک اور منزہ ہے۔ سبحانہ وتعالی عمایصفون۔ آیت۔
Ayahs 3:19–20بیاں حقانیت اسلام و جواب مجادلہ مخالفین اسلام۔
قال تعالی، ان الدین عنداللہ۔۔۔ الی۔۔۔ بالعباد۔
ربط) ۔ گزشتہ آیت میں توحید کی شہادت کو ذکر فرمایا جو اسلام کی جڑ اور بنیاد ہے اب اس آیت میں یہ بیان فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول اور پسندیدہ دین صرف دین اسلام ہے چناچہ فرماتے ہیں تحقیق وہ دین کہ جو اللہ کے نزدیک مقبول اور پسندیدہ ہے وہ صرف اسلام ہے نہ کہ یہودیت اور نصرانیت، اس لیے کہ اسلام کے معنی اپنے آپ کو ایک خدا کے حوالہ اور سپرد کردینے کے ہیں اور مسلم اور مسلمان اس بندہ کو کہتے ہیں کہ جس نے ہمہ تن اپنے آپ کو خدائے واحد کے سپرد کردیا ہو اور اس کے احکام کے سامنے گردن ڈال دی ہو اور بالفاظ دیگر اسلام نام اطاعت اور فرمانبرداری کا ہے اور مسلم اس بندہ کا نام ہے کہ جو خدائے واحد کا فرمانبردار اور اطاعت شعار ہو شروع سے لے کر اخیر تک تمام انبیاء کرام کا یہی دین رہا ہے کہ ایک خدا کی اطاعت اور فرمانبرداری کی جائے پس جو لوگ حضرت مسیح کو خدا یا خدا کا بیٹا مانتے ہیں اور مسیح اور مریم کی تصویروں کو پوجتے ہیں یا جو بیوقوف درختوں اور پتھروں اور چاند اور سورج اور ستاروں کو پوجتے ہیں ان کو اسلام سے کوئی واسطہ نہیں توحید اور اخلاص و اطاعت کے لحاظ سے تمام انبیاء اور تمام ادیان سماویہ متفق رہے کماقال تعالی، وماارسلناک من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لاالہ الاانافاعبدون۔ غرض یہ کہ اسلام اور توحید ایک واضح اور مسلم حقیقت تھی اس میں ذرہ برابر اختلاف کی گنجائش نہ تھی مگر شہوات اور لذات کی محبت نے خود غرضوں اور شہوت پرستوں کو اختلاف پر آمادہ کیا کوئی حضرت مسیح کی الوہیت کا قائل ہوا اور کوئی ان کی ابنیت اور فرزندیت کا قائل ہوا اور کوئی حلول کا قائل ہوا کہ معاذ اللہ خداوندقدوس حضرت مسیح میں حلول کر آیا ہے اور کوئی اتحاد کا قائل ہوا کہ خدتعالی اور مسیح بن مریم ایک ہیں اور اہل کتاب نے اس بارے میں لاعلمی کا بناء پر اختلاف نہیں کیا مگر صحیح علم آنے کے بعد جان بوجھ کر اختلاف کیا اہل کتاب کو اس بات کا خوب علم تھا کہ اللہ کے نزدیک اسلام ہی پسندیدہ دین ہے کیونکہ توریت اور انجیل میں اللہ تعالیٰ نے اس کو بیان فرمایا ہے اور یہ ان کا اختلاف اشتباہ اور خفاء کی بناء پر نہ تھا بلکہ محض باہمی حسد اور آپس کی ضد سے تھا ابن جریر نے محمد بن جعفر سے نقل کیا ہے کہ یہ آیت نجران کے عیسائیوں کے بارے میں نازل ہوئی ان کو یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے اس کو کسی نے نہیں جنا اور عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بندہ اور رسول ہیں عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں جو اختلاف ہوا وہ یہودیوں کی عداوت کی بناء پر ہوا یہودیوں نے حضرت عیسیٰ کی نبوت سے انکار کیا اور حضرت مریم پر تہمت لگائی اس لیے نصاری ضد میں ہیں حضرت عیسیٰ کی ابنیت کے قائل ہوگئے کہ معاذ اللہ یہ خدا کے بیٹے ہیں اور بعض علماء کا قول یہ ہے کہ اس آیت میں اختلاف سے اسلام اور آں حضرت ﷺ کی نبوت میں اختلاف مراد ہے اور جو شخص الہ کی آیتوں کا انکار یا اللہ کے حکموں سے انحراف کرے اور اسلام اور توحید کو نہ مانے تو خوب سمجھ لو کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب لینے والا ہے ان لوگوں سے اختلاف پر محاسبہ کرے گا اور سزا دے گا پس جب کہ دلائل اور براہین سے اسلام کی حقانیت واضح ہوگئی اس کے بعد بھی اگر اہل کتاب آپ سے کٹ حجتی اور مخاصمہ کریں اور اس صریح اور واضح امر میں آپ سے جھگڑا کریں تو آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میں نے اور میرے متبعین نے تو اپنا چہرہ خالص اللہ کے سامنے جھکا دیا ہے اور اسلام اور توحید کی راہ اختیار کرلی ہے یعنی میں نے اور میرے متبعین نے تو انبیاء کرام کا دین اختیار کرلیا ہے پس اگر تم تمام انبیاء کرام کی تعلیم کے برخلاف کسی کو خدا اور خدا کا بیٹا بناتے ہو تو بناؤ میں اور میرے متبعین اس سے بری ہیں اور آپ ان لوگوں سے کہہ دیجئے کہ جن کو کتاب دی گئی یعنی یہود اور نصاری سے اور ان پڑھوں سے یعنی مشرکین عرب سے بھی جن کے پاس کوئی آسمانی کتاب نہیں ان سب سے یہ کہہ دیجئے کہ کیا تم بھی ہماری طرح اسلام میں داخل ہوتے ہو یا نہیں پس اگر یہ لوگ تمہاری طرح اسلام لے آئیں تو وہ تمہاری طرح ہدایت یافتہ ہوجائیں گے اور اگر تمہاری طرح اسلام لانے سے منہ موڑیں اور الوہیت اور ابنیت مسیح کے عقیدہ پر اڑے رہیں تو آپ کا کوئی نقصان نہیں آپ کے ذمہ فقط حق کا پہنچادینا ہے اور دلائل اور براہین سے واضح کردینا ہے سو وہ آپ کرچکے اور اللہ کی نگاہ میں ہیں تمام بندے ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق جزا دے گا۔
ف) ۔ جو شخص دلائل اور براہن کو نہ مانے اور صریح عناد پر اتر آئے تو ایسے شخص کے سامنے بحث کرنا فضول ہے اور ناحق اپنے وقت کا ضائع کرنا ہے اس لیے اتمام حجت کے لیے یہ بات کہہ کر کلام ختم کردینا مناسب ہے کہ ہم تو خالص اللہ کے فرنابردار بندے بن چکے ہیں اب تم اپنی جانو ہم کسی پر زبردستی نہیں کرتے۔
Ayahs 3:21–25ذکر بعض احوال شنیعہ یہود بےبہود۔
قال تعالی، ان لذین یکفرون بایت اللہ ویقتلون النبیبن۔۔۔ الی۔۔۔ لایظلمون۔
شروع سورت میں روئے سخن زیادہ تر نصاری کی طرف تھا اور گزشتہ آیات میں اہل کتاب کے عنوان سے یہود اور نصاری دونوں کو خطاب تھا اب ان آیات میں خاص یہود کے بعض افعال کی متعدد آیات میں یہود کا قاتل انبیاء ہونا بیان ہوا ہے اس لیے اس آیت سے خصوصیت کے ساتھ یہود کو خطاب شروع ہوتا ہے چناچہ فرماتے ہیں تحقیق جو لوگ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں اور انبیاء کو دیدہ و دانستہ جان بوجھ کر ناحق قتل کرتے ہیں یعنی خود بھی جانتے ہیں کہ ہمارا یہ فعل سراسر ناحق ہے مگر حق کی عداوت اور دنیا کی محبت میں اتنے اندھے بنے کہ جو برگزیدہ صفات حضرات حق اور ہدایت کو لے کر آتے تھے ان کو قتل کرنے لگے اور انبیاء کرام کے بعد ان کی امت کے علماء اور صلحاء کو بھی قتل کرتے ہیں جو ان کو عدل اور انصاف اور حکمت کی باتوں کا حکم دیتے ہیں جیسا کہ یہود آج کل یہود آپ کے قتل کے درپے ہیں اور آپ کے صحابہ کے قتل سے ان کو دریغ نہیں یہی ان کے اسلام کا طریقہ تھا جس پر یہ گامزن ہیں سو ایسے قسی القلب لوگوں کو آپ دردناک عذاب کی خوش خبری سنادیجئے یہی وہ گروہ ہے جس کے اعمال حسنہ دنیا اور آخرت میں ضائع اور بےکار گئے یعنی دونوں جہان کی کامیابی سے محروم ہوئے اور دنیا اور آخرت کی ذلتیں سرپڑیں اور کوئی ان کا مددگار نہیں کہ ان کے اعمال کو حبط ہونے سے بچائے اور دنیا اور آخرت کی کسی ذلت اور مصیبت کو ان سے دفع کرسکے۔
فوائد۔
(1) ۔ ابوعبیدہ بن الجراح ؓ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب کس کو ہوگا تو آپ نے فرمایا سب سے زیادہ سخت عذاب اس شخص کو ہوگا جس نے خدا کے کسی نبی کو قتل کیا یاس شخص کو قتل کیا جس نے اچھی بات کا حکم دیا اور بری بات سے روکا اور اس کے بعد نبی ﷺ نے یہ آیت پڑھی، ان الذین یکفرون سے ومالھم من ناصرین تک اور یہ ارشاد فرمایا اے ابوعبیدہ بنی اسرائیل نے شروع دن سے میں تینتالیس نبیوں کو ایک گھڑی میں قتل کیا اس پر بنی اسرائیل کے ایک سو ستر عابد وزاہد اور صوفی لوگ کھڑے ہوئے اور ان ناہنجاروں کو امر بالمروف اور نہی عن المنکر کیا بنی اسرائیل نے اخیر دن میں ان تمام نصیحت کرنے والوں کو بھی قتل کردیا (اخرجہ ابن جریر) ۔
(2) ۔ علماء، چونکہ انبیاء کے وارث ہیں اور ان کا مرتبہ انبیاء کے بعد ہے اس لیے علماء کے قتل کا جرم انبیاء کے قتل کے بعد دوسرے درجہ میں ہے۔
3) ۔ آیت میں انبیاء اور علماء کے قاتلین کی دو سزائیں ذکر کی گئیں ایک حبط اعمال دوسرے ومالہم من ناصرین انبیاء کرام چونکہ منبع ہدایت تھے اس لیے ان کے قتل پر حبط اعمال کی سزا ملی، اور علماء چونکہ انبیاء کرام کے اعوان اور انصار اور معین و مددگار تھے اس لیے علماء کے قتل کی سزا میں ومالھم من ناصرین، فرمایا یعنی ان کو خدا کی سزا سے کوئی بچانے والا اور مدد کرنے والا نہ ملے گا۔
استعجاب براعراض اہل کتاب۔
گزشتہ آیات میں اسلام کی حقانیت کو دلائل اور براہین سے واضح فرمایا اور اہل کتاب کو خاص طور پر اسلام میں داخل ہونے کی دعوت دی گئی مگر ان لوگوں نے اعراض کیا اب آئندہ آیات میں بیان فرماتے ہیں کہ اہل کتاب کا اسلام اعراض کرنا نہایت عجیب ہے کہ توریت اور انجیل کے عالم ہیں اور نبی کریم کی بشارت اور صفت جو توریت اور انجیل میں مذکور ہے اس سے واقف ہیں مگر پھر بھی اعراض کرتے ہیں۔
ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن بیت المدارس (یہودیوں کے مدرسہ میں) تشریف لے گئے اور وہاں جاکر ان کو اللہ کے دین کی دعوت دی، نعیم بن عمرو اور حارث بن زید نے کہا کہ آپ کا دین کیا ہے حضور پرنور ﷺ نے فرمایا کہ جو ابراہیم کا دین تھا انہوں نے جواب دیا کہ حضرت ابراہیم تو خود دین یہود پر تھے آپ نے فرمایا اچھا اگر یہ سچ ہے تو توریت لے آؤ اور اس میں دکھلا دو اور یہ مضمون کس جگہ لکھا ہے کہ ابراہیم دین یہود پر تھے ان دونوں شخصوں نے توریت لانے سے انکار کردیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی الم تر الی الذین اوتوانصیبا من الکتاب یدعون الی کتاب اللہ۔ یعنی اے نبی کریم کیا آپ نے ان لوگوں کی طرف نظر نہیں کی جن کی توریت کے علم کا ایک کافی حصہ دیا گیا جس سے حق اور باطل کا فرق ان پر واضح ہو سکے مگر تعجب ہے کہ ان لوگوں کو اسی اللہ کی کتاب (توریت) کی طرف بلایا جاتا ہے جس کے یہ حامل اور عالم ہیں اور اس پر ایمان کے مدعی ہیں تاکہ یہ توریت ان کے درمیان فیصلہ کردے کہ ابراہیم (علیہ السلام) یہودی تھے یا نہیں اور جو ان کے مقدمہ زناحضور پرنور کے سامنے پیش ہوا توریت اس کا بھی فیصلہ کردے کہ توریت میں رجم کا حکم مذکور ہے یا نہیں پس یہ لوگ اقرار کرتے ہیں کہ توریت اللہ کی کتاب ہے اور فصل خصومات کے لیے نازل ہوئی ہے مگر باوجود اس اقرار کے پھر بھی ان کا ایک فریق اس سے اعراض اور روگردانی کرتا ہے اور یہ لوگ اس وقتی اور عارضی اعراض پر اقتصار نہیں کرتے کہ اس وقت سے پہلے توریت کے احکام پر عمل کرتے رہے ہوں اور فقط اسی ایک موقعہ پر اعراض اور روگردانی کربیٹھے ہوں بلکہ یہ لوگ ہر حال میں اعراض کرنے والے ہیں یعنی اعراض ان کی لازمی صفت اور دائمی عادت ہے۔
ف) ۔ یتولی فریق منھم، میں تولی سے بالفعل اور وقتی طور پر اعراض کرنا مراد ہے اور وھم معرضون سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ اعراض ان کا دائمی اور لازمی وصف تھا اسلیے کہ جملہ اسمیہ ثبات اور دوام کے بیان کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اس لیے یتولی فریق منھم کے بعد معرضون، کا ذکر غایت درجہ بلیغ اور لذیذ ہوگا اور ان کے اس اعراض اور انحراف کی وجہ یہ ہے کہ ان کا اعتقاد یہ ہے کہ ہم کو آگ ہرگز نہ لگے گی مگر چند گنتی کے روز یعنی چالیس دن کی مقدار کہ جس میں ان کے بڑوں نے گوسالہ کی پرستش کی تھی فقط اتنی مقدار عذاب ہوگا اور پھر مغفرت ہوجائے گی اور عذاب سے نجات مل جائے گی اسی فاسد اعتقاد کی بناء پر یہ لوگ ایمان اور عمل کا اہتمام نہیں کرتے اگر خدا کے عذاب کو دائمی سمجھتے تو پھر اس کے مطابق اہتمام کرتے چند روزہ سمجھ کر پرواہ نہیں کرتے حضرات انبیاء کے انتساب پر اعتماد کیے ہوئے ہیں اور اپنی نجات کا اعتقاد کیے ہوئے ہیں اس لیے آخرت کی عقوبت کو سہل اور خیف سمجھتے ہیں اور ایمان اور عمل صالح کا اہتمام نہیں کرتے حالانکہ تمام انبیاء کرام اس بات کو بیان کرتے چلے آئے ہیں نجات کا دارومدار ایمان اور عمل صالح اور تقوی پر ہے بدون ایمان کے انتساب کچھ کام نہیں آئے گا اور یہی قرآن کریم کی تعلیم ہے اور دھوکہ میں ڈال رکھا ہے ان کو دین کے بارے میں ان اعتقادات اور خیالات نے جو یہ اپنی طرف سے بناتے رہتے ہیں کبھی یہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے چہیتے بیٹے ہیں اور اس کے نبیوں کی اولاد ہیں اور کبھی یہ کہتے ہیں کہ کہ اللہ تعالیٰ نے یعقوب (علیہ السلام) سے وعدہ کرلیا ہے اور کہ ان کی اولاد کو عذاب نہ دے گا مگر برائے نام اور نصاری نے کفارہ کا مسئلہ نکال رکھا ہے کہ سارے عالم کے گناہوں کا حساب ایک اکلوتے بیٹے کے صلیب پر چڑھ جانے سے بےباق ہوگیا پس یہ لوگ اپنی ان افتراء پر دازیوں پر آج دنیا میں اپنا دل خوش کرلیتے ہیں مگر یہ تو سوچیں کہ اس وقت ان کا کیا حال ہوگا کہ جب ہم سب کو حساب و کتاب کے لیے ایک دن جمع کریں گے جس کے بارے میں ذرہ برابر کوئی شک وشبہ نہیں اور وہ دن ایسا ہوگا کہ ہر نفس کو اس چیز کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا جو اس نے دنیا میں کمایا تھا اور ذرہ برابر ان پر کوئی ظلم نہ ہوگا کہ بلاجرم یا جرم سے زیادہ ان کو سزا دے دی جائے یا ان کی کوئی حق تلفی ہوجائے یعنی نیکیوں کا بدلہ نہ دیا جائے یا کم دیا جائے۔
Ayahs 3:26–27بشارت غلبہ مومنین براعداء بعنوان مناجات ودعا۔
قال تعالی، قل اللھم مالک الملک۔۔۔ الی۔۔۔ وترزق من تشاء بغیرحساب۔
ربط) ۔ کفار، دنیا اور سامان دنیا پر مغرور تھے اور نبی ﷺ کو اور آپ کے اصحاب اور احباب کو فقر وفاقہ کی وجہ سے بنظر حقارت دیکھتے تھے اس آیت میں اسی کے جواب کی طرف اشارہ ہے کہ سلطنت اور دولت کا عروج اور نزول اور عزت اور ذلت سب اللہ کے ہاتھ میں ہے اور مسلمانوں کو حکم ہوا کہ اس طرح دعا مانگو ہم تم کو بےمثال سلطنت عطا کریں گے جس کو یہ مذاق اڑانے والے بھی دیکھ کر حیران اور دنگ رہ جائیں گے گویا کہ یہ دعا ایک طرح کی پیشن گوئی تھی عنقریب دنیا کی کایا پلٹ ہونے والی ہے اور یہ بےسروسامان مسلمان قوم عزتوں اور سلطنتوں کی مالک بنے گی اور جو بادشاہت کررہے ہیں وہ اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے ذلت کے گڑھے میں گرائے جائیں گے اور یہ ماد ہی سلطنت کیا چیز ہے جس خداوندذوالجلال نے نبوت و رسالت کے منصب جلیل کو بنی اسرائیل سے بنی اسماعیل کی طرف منتقل کردیا تو اسے روم وعجم کی ظاہری سلطنت کا عرب کے خانہ بدوشوں کی طرف منتقل کردینا کیا مستبعد ہے۔
شان نزول۔
غزوہ احزاب میں نبی کریم ﷺ نے صحابہ کو خندقیں کھودنے کا حکم دیا ہر دس آدمیوں کو چالیس ہاتھ کھودنے کے لیے مقرر کیا صحابہ نے خندق کھودنا شروع کیا اس درمیان میں ایک بڑی چٹان نمودار ہوئی جس پر کدال کچھ کام نہ کرتا تھا جب نبی ﷺ کو خبر ہوئی تو آپ اس جگہ بہ نفس نفیس تشریف لائے اور سلمان ؓ سے کدال لے کر اس چٹان پر ایک ضرب لگائی جس سے وہ چٹان شق ہوئی اور اس سے ایک ایسی روشنی نمودار ہوئی جس سے تمام مدینہ روشن ہوگیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اندھیرے میں چراغ روشن ہوگیا ہے حضور پرنور ﷺ نے تکبیر پڑھی یعنی اللہ اکبر کہا اور صحابہ نے بھی آپ کے ساتھ اللہ اکبر کہا پھر حضور پرنور نے فرمایا کہ مجھے اس روشنی میں حیرہ کے محلات دکھلائے گئے پھر آپ نے دوسری ضرب لگائی اس سے بھی ایک روشنی نمودار ہوئی آپ نے فرمایا کہ مجھے اس روشنی میں روم کے سرخ محلات دکھائے گئے یہ کہہ کر آپ نے پھر تیسری بار کدال ماری جس سے پھر ویسی ہی روشنی نمودار ہوئی آپ نے فرمایا کہ مجھے اس روشنی میں صنعا (جوملک یمن کا دارالسلطنت ہے) کے محلات دکھلائے گئے اور مجھے جبرایل امین نے خبر دی ہے کہ عنقریب ان سب ممالک پر میری امت کا تسلط اور غلبہ ہوگا جب کافروں اور منافقوں نے یہ سنا تو کہنے لگے اے مسلمانوں تمہارا نبی بھی خوب ہے کیسی عجیب باتیں کرتا ہے یثرت سے اس کو مدائن اور حیرہ کی عمارتیں نظر آتی ہیں اور خوف کا حال یہ ہے کہ ایک معمولی دشمن کے ڈر سے تم سے خندقیں کھدوا رہے ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی اے محمد ﷺ آپ ان کفار ناہنجار کے تمسخر اور استہزاء کی طرف ذرہ برابر التفات نہ کریں یوں کہو یعنی اس طرح ہم سے دعا مانگو ہم آپ کے غلاموں اور خادموں کو سلطنت عطا کریں گے اس طرح دعا مانگو اے اللہ مالک بادشاہی اور سلطنت کے ہم کو بادشاہی اور عزت عطا فرماتا کہ کوئی کافر تیرے دین اور تیرے نام لیواؤں کو ذلیل نہ کرسکے اور شان و شوکت کے ساتھ تیرے دین کے احکام جاری ہوں ہم اگرچہ قلیل اور ظاہر میں ذلیل ہیں مگر آپ کو سب کچھ قدرت ہے اس لیے کہ آپ مالک مطلق اور قادر مطلق ہیں جس کو چاہیں بادشاہی اور سلطنت عطا فرمائیں اور جس کے چاہیں سلطنت چین لیں تمارے ہاتھ میں بھلائی بلاشبہ ہے آپ ہر چیز پر قادر ہیں اور عزت کو ذلت سے اور ذلت کو عزت سے بدلنا ایسا ہی آپ کی قدرت میں ہے جیسا کہ نور کو ظلمت سے اور ظلمت کو نور سے بدلنا آپ کی قدرت میں ہے اس لیے کہ آپ کو یہ قدرت ہے کہ رات کے ایک حصہ کو دن میں داخل کردیتے ہیں جس سے دن بڑ اہوجاتا ہے اور کسی فصل میں دن کے کسی حصہ کو رات میں داخل کردیتے ہیں جس سے رات بڑی ہوجاتی ہے مثلا کسی موسم میں رات چودہ گھنٹے کی ہوتی ہے اور دن دس گھٹنے کا پھر چندماہ بعد رات کے چار گھنٹہ کاٹ کردن میں داخل کردیے جاتے ہیں جس سے دن چودہ گھنٹے کا ہوجاتا ہے اور رات دس گھنٹہ کی ہوجاتی ہے اور تو ہی نکالتا ہے جاندار کو بےجان سے اور تو ہی نکالتا ہے بےجان کو جاندار سے جیسے بیضہ سے چوزہ اور چوزہ سے بچہ اور عالم سے جاہل اور جاہل سے عالم اور مومن سے کافر اور کافر سے مومن اور تو ہی روزی دیتا ہے جس کو چاہے بیشمار یہ آپ کی قدرت کاملہ اور جودوکرم کے چند نمونے ہیں اس لیے ہم درخواست کرتے ہیں کہ ہمارے قلوب کو ایمان اور تقوی کے نور سے منور فرما اور ہم کو حکومت وسلطنت عطا فرما تاکہ تیرے اتارے ہوئے دستور اور قانون کو شاہانہ شان و شوکت کے ساتھ دنیا میں جاری کرسکیں۔
فوائد۔
1۔ طبرانی کی معجم صغیر میں ہے کہ ایک جمعہ کو نبی کریم ﷺ نے معاذ بن جبل کو نماز میں نہ دیکھا تو خود ان کے گھر تشریف لے گئے اور فرمایا اے معاذ کیا بات ہے آج میں نے تم کو نہیں دیکھا عرض کیا یارسول اللہ ایک یہودی کا میرے ذمہ ایک اوقیہ (چالیس درہم) قرض تھا میں آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے گھر سے نکلاراستہ میں اور اس یہودی نے مجھ کو روک لیا آپ نے ارشاد فرمایا کہ اے معاذ کیا میں تمہیں ایسی دعا نہ بتاؤں کہ اگر تمہارے ذمہ پہاڑ کے برابر بھی قرض ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو ادا کردے وہ دعایہ ہے، اللھم مالک الملک۔۔۔ الی۔۔۔ قدیر۔ آیت۔ تولج اللیل فی النھار۔۔۔۔ الی۔۔۔ بغیرحساب۔ آیت۔
2۔ بزرگوں نے لکھا ہے کہ اس آیت کی خاصیت یہ ہے کہ جو اس پر مداوت کرے اللہ تعالیٰ کو قرض سے سبکدوش فرماتا ہے۔
3۔ بعض بزرگوں نے یہ تخصیص بھی کی ہے ہر نماز کے بعد سات سات بار پڑھے اور بزرگوں نے اس عمل کو مجرب لکھا ہے۔
4۔ معجم طبرانی میں عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اسم اعظم جس کے ذریعہ سے دعا قبول ہوتی ہے وہ آل عمران کی اس آیت میں ہے، اللھم مالک الملک۔۔۔ الی۔۔۔ قدیر۔ (تفسیر ابن کثیر ص 271 ج 2) ۔
Ayahs 3:28–30ممانعت دوستان از دوستی دشمنان۔
قال تعالی، لایتخذالمومنون الکافرین اولیاء۔۔۔۔ الی۔۔۔ بالعباد۔
ربط) ۔ گزشتہ آیت میں یہ بتلایا گیا کہ عزت اور ذلت سب اللہ کے ہاتھ میں ہے اب اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں یعنی اہل اسلام کو حکم دیتا ہے کہ تم مسلمانوں کو چھوڑ کر دشمنان خدا کی موالات اور دوستی کی طرف کوئی قدم نہ اٹھانا اور کافروں کی ظاہری اور وقتی شان و شوکت کو دیکھ کر یہ گمان نہ کرنا کہ شاید ان سے دوستانہ تعلقات رکھنے سے کوئی دنیوی عزت وجاہت مل جائے گی، حاشا وکلا۔ ایبتغون عندھم العزۃ فان العزۃ للہ جمیعا۔ کافروں کے پاس جو عزت نظر آتی ہے وہ حقیقی عزت اللہ کے پاس سے ملتی ہے البتہ اگر کسی وقت بحالت مجبوری دشمنوں کے شر اور فساد سے بچنے کے لیے ظاہری طور پر ان کی موافقت کرلو تو اس کی ممانعت نہیں تدبیر اور انتظام کے درجہ میں کافروں سے اس قسم کی ظاہرداری بشرط ضرورت اور بقدر حاجت موالات کے حکم سے متثنی ہے اس لیے کہ یہ موالات کی حقیقت نہیں بلکہ محض صورت ہے۔
شان نزول۔
حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ حجاج بن عمرو اور ابن ابی الحقق اور قیس بن زید اس قسم کے چند یہودی چند انصار سے کچھ خلا ملا رکھتے تھے تاکہ موقعہ پاکر ان کو دین اسلام سے برگشتہ کردیں اکثر مسلمانوں کو ان کی اس بدنیتی کا حال معلوم نہ تھا مگر جو صاحب نظر تھے وہ پہچان گئے کہ یہود کا کیا مقصد ہے چناچہ رفاعہ بن منذر، اور عبداللہ بن جبیر اور سعد بن خیثمہ نے ان مسلمانوں سے کہا کہ تم یہود کی اس جماعت سے بچتے رہنا کہیں تم کو دین سے برگشتہ نہ کردیں ان انصاریوں نے ان کی اس بات کو نہ مانا اس پر یہ آیت نازل ہوئی مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ کافروں کو دوست نہ بنائیں مسلمان کو چھوڑ کر یعنی سوائے مسلمانوں کے کسی کو ظاہرا اور باطنا دوست نہ بنائیں اس لیے کہ ایمان نور ہدایت ہے اور کفر ظلمت وضلالت ہے اور نور اور ظلمت اور ہدایت اور ضلالت اور حق اور باطل میں دوستی ممکن نہیں اجتماع ضدین عقلا ونقلا محال ہے اور جو کوئی یہ کام کرے یعنی کافروں کو دوست بنائے تو ایسے شخص کو اللہ سے کوئی سروکار نہیں کیونکہ کافر اللہ کے دشمن ہیں اور دشمن کادوست بھی دشمن ہی ہوتا ہے اور مومن اللہ کے دوست ہیں پس مومن رہتے ہوئے کافر کے ساتھ دوستی رکھنا ممکن نہیں مگر ایک صورت میں محض تدبیر اور انتظام کے درجہ میں کافروں سے ظاہری دوستی کی اجازت ہے وہ یہ کہ تم کافروں کے شر سے بچنا چاہو کسی خاص بچاؤ کے ذریعہ سے یعنی محض ان کے شر اور ضرر سے بچنے کے لیے حفاظتی تدبیر کے درجہ میں ان سے فقط بقدر ضرورت محض ظاہری تعلق پیدا کرنا جائز ہے باقی ولی تعلق اور قلبی محبت کسی حال میں بھی جائز نہیں اور یہ بھی جائز نہیں کہ اس سلسلہ میں کسی معصیت کا مرتکب ہونا پڑے یا مسلمانوں کی جاسوسی کرنی پڑے اور مسلمانوں کے راز اور خبریں کافروں کو دینے لگے فقط اپنی حفاظت اور بچاؤ کے لیے تعلق رکھنے کی اجازت ہے باقی کافروں سے ایسا تعلق جو مسلمانوں کے لیے یا مسلمانوں کی حکومت کے لیے مضر ہو یہ کسی طرح اور کسی حالت میں جائز نہیں اور اللہ تعالیٰ تم کو اپنی ذات سے ڈرانا ہے یعنی اپنے ذاتی جلال اور قہر سے ڈراتا ہے کہ جو کافروں سے دوستی کرنے پر مرتبہ ہوگا اور اشارہ اس طرف ہے کہ کافروں کی دوستی پر کدائے قہار کا جو قہر مرتب ہوتا ہے وہ قہر ذاتی ہے قہر فعلی نہیں اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کرجانا ہے جس سے بچنے کی کوئی صورت نہیں اے محمد صلی اللہ آپ ان لوگوں سے کہہ دیجئے کہ تم کافروں کی محبت خواہ اپنے سینوں میں چھپاؤ یا اسے اپنے کسی قول یافعل سے ظاہر کرو تو خوب سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ اس کو خوب جانتا ہے اس لیے کہ اس کے سامنے ظاہر اور باطن سینہ اور زبان سب برابر ہیں اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمینوں میں ہے یعنی اس کا علم تمام کائنات کو محیط ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے علم کی طرح اس کی قدرت بھی محیط ہے لہذا تم کو چاہیے کہ اس علم وقدیر کے دوستوں سے دوستی کرو اور اس کے دشمنوں کی دوستی سے ظاہر و باطن میں احتیاط رکھو اور اس دن کے حساب و کتاب سے ڈرو کہ جس دن ہر نفس اپنے اعمال نیک وبد کو اپنی اصلی شکلوں میں حاضر کیا ہواپائے گا اس وقت جب کہ اعمال اپنی اصلی شکلوں میں نمودار ہوں گے اور اس وقت ان اعمال کا حسن وقبح نظروں کے سامنے آجائیگا اور اس وقت یہ تمنا کرے گا کہ کاش میرے اور میرے برے اعمال کے درمیان ایک طویل اور دوردراز مسافت حائل ہوتی اور اللہ تعالیٰ تم کو اپنے قہر اور جلال سے ڈرتا ہے اور اللہ تعالیٰ بندوں پر بڑا مہربان ہے کہ ان کو پہلے ہی بتلا دیا کہ دنیا میں کن سے دوستی جائز ہے اور کن سے دوستی ناجائز ہے۔
فوائد۔
1۔ کافروں سے موالات یعنی محبت کی تین صورتیں ہیں ایک یہ کہ ان کو دینی حیثیت سے محبوب رکھاجائے یہ قطعا کفر ہے دوسری صورت یہ ہے کہ دل سے ان کے مذہب اور دین کو برا سمجھے مگر معاملات دنیویہ میں ان سے خوش اسلوبی کے ساتھ پیش آئے یہ بالاجماع جائز بلکہ ایک درجہ میں مستحسن ہے تیسری صورت ان دونوں صورتوں کے بین بین ہے وہ یہ کہ دل سے تو ان کے مذہب کو برا سمجھے مگر کسی قرابت یا دوستی یا دنیوی غرض کی وجہ سے ان سے دوستانہ تعلقات رکھے اور ان کی اعانت اور امداد کرے یا کسی وقت مسلمانوں کی جاسوسی کرے یہ صورت کفر تو نہیں مگر سخت گناہ ہے حاطب بن ابی بلتعہ کے قصہ میں یہی صورت پیش آئی کہ انہوں نے اپنی قرابت کی وجہ سے کفار کی مدد کی اور ان کے ساتھ ایک قسم کا سلوک اور احسان کیا سورة ممتحنہ کا نزول اسی قسم کی موالات کی ممانعت کے لیے ہوا ہے۔ (تفسیر کبیر) ۔
2۔ کافروں کی سی وضع قطع اختیار کرنا یہ علامت ہے کہ اس شخص کو کافروں کی وضع پسند ہے اور اسلام کی وضع اس کو ناپسند ہے کہ اس لیے کہ تمام عقلاء کے نزدیک ظاہری وحرکات و سکنات۔ قلبی کیفیات کی ترجمان ہوتی ہیں۔
3۔ تقہ سے آیت میں کافروں اور دشمنوں کے شر سے بچنے کی تدبیر مراد ہے جیسا کہ بیان ہوچکا باقی رہا شیعوں کا تقیہ سو آیت قرآنیہ کو اس سے کوئی تعلق نہیں۔
Ayahs 3:31–32آغاز مضمون رسالت۔
وبیان آنکہ معیار محبت خداوندی اتباع رسول است۔
قال تعالی، قل ان کنتم تحبون اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ الکافرین۔
ربط) ۔ گزشتہ آیات میں یہود اور نصاری سے موالات کا حکم مذکور تھا اب ان آیات میں یہود اور نصاری کے اس قول کی طرف تعریض ہے کہ جو یہ کہا کرتے تھے کہ ہم اللہ کے دوست ہیں، نحن ابناء اللہ واحباء ہ۔ ان آیات میں حق جل شانہ نے ان کے جواب کی طرف اشارہ فرمایا کہ تم اللہ کی محبت اور دوستی کے دعوے دار ہو تو ہمارے نبی کا اتباع کرو اللہ تعالیٰ تم کو دوست رکھے گا یعنی اگر تم ہمارے نبی کا اتباع کرو گے تو اس کا صلہ یہ ملے گا کہ اللہ تعالیٰ تم کو محبین کے درجہ سے محبوبین کے درجہ تک پہنچا دے گا اور اس طرح تم محب سے محبوب بن جاؤ گے اور طالب سے مطلوب ہوجاؤ گے۔
2۔ یا یوں کہو کہ گزشتہ آیت میں دشمنان خدا سے موالات اور محبت کی ممانعت کا ذکر تھا اب اس آیت میں انبیاء ورسل کی محبت اور متابعت کا ذکر ہے اور ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت کا معیار یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دوستوں سے دوستی رکھے اور اس کے دشمنوں سے دشمنی، عزت حضرت انبیاء کرام کی اتباع ہے۔
عزیز یکہ از درگہش سربتافت
بہر در کہ شدید ہیچ عزت نیافت۔
3۔ یا یوں کہو کہ شروع سورت سے اب تک توحید کا بیان تھا اب یہاں سے نبوت و رسالت کا بیان شروع ہوتا ہے سب سے پہلے پیغمبر آخزالزمان کی اطاعت کا ذکر فرمایا اور پھر اس کے بعد والی آیتوں میں یعنی) ان اللہ اصطفی آدم۔۔۔ الی۔۔ العالمین۔ آیت۔ ) ۔ میں ان مقبول اور محبوب اور پسندیدہ اور برگزیدہ ہستیوں کا ذکر فرمایا کہ جن کی اطاعت اور متابعت اپنے اپنے زمانہ میں اللہ تعالیٰ کی محبت کا معیار رہی اور اب نبی آخرالزمان کی نبوت اور رسالت کا دور دورہ ہے جو بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے حبیب اور خلیل ہیں لہذا اب جو شخص اللہ کی محبت اور دوستی کا دعوی کرے تو اس کا معیار یہ ہے کہ وہ حبیب خدا محمد رسول اللہ کا بےچون وچرا تباع کرے ایسے شخص سے اللہ تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو اپنا محبوب بنالے گا اور تمام پچھلے گناہوں کو معاف کردے گا جس درجہ ہمارے نبی کا اتباع کرو گے اسی درجہ خدا کے محبوب بن جاؤ گے۔
4۔ یا یوں کہو کہ گزشتہ آیات میں خدا کے دشمنوں سے محبت کی ممانعت تھی اب اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے بزرگ ترین حبیب اور خلیل کی محبت اور متابعت کا حکم ہے۔
5۔ یا یوں کہو کہ گزشتہ آیت میں تخویف اور تہدید تھی تاکہ معصیت پر جری اور دلیر نہ ہوجائیں اور اس آیت میں تبشیر اور تسلی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید نہ ہوجائیں چناچہ فرماتے ہیں اے ہمارے نبی آپ لوگوں سے یہ کہہ دیجئے کہ اگر تم اپنے زعم میں اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ تم میری پیروی کرو یعنی میری راہ پر چلو کیونکہ محبت کا اقتضاء یہ ہے کہ محبوب کی مرضی اور خوشی کی تلاش ہو اور جن چیزوں سے محبوب کو نفرت ہو ان سے محب بھی نفرت کرے اور یہ بات آپ کے اتباع اور پیروی ہی سے ممکن ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ اور ناپسندیدہ باتوں کا پتہ عقل سے نہیں چلتا بلکہ انبیاء ورسل ہی کے ذریعہ سے اس کا علم حاصل ہوتا ہے اور حضرات انبیاء کرام ہی کے ذریعہ حق تعالیٰ شانہ کی ذات وصفات کی صحیح معرفت اور اس کے اوامر اور نواہی کا صحیح علم حاصل ہوتا ہے اور محب اپنے محبوب کی معرفت اور طریقہ اطاعت کے علم کا حریص اور مشتاق ہوتا ہے تاکہ اس کی محبت کا اہل اور اس کے تقرب کا مستحق ہوسکے پس اگر تم اللہ کی محبت کے مدعی ہو تو میری راہ پر چلو اور میرے پیچھے میرے نقش قدم پر چلو اللہ تعالیٰ تم کو اپنا محبوب اور مقرب بنالے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑابخشنے والا مہربان ہے اور ان سے یہ بھی کہہ دیجئے کہ محض محبت پر مغرور نہ ہوجاؤ بلکہ اس اللہ کی اطاعت کرو جس کی محبت کے تم مدعی ہو اور اس کے رسول کی بھی اطاعت کرو جو اللہ تعالیٰ کا محبوب ہے محبوب کا محبوب بھی محبوب اور واجب الاطاعت ہوتا ہے پس اگر یہ لوگ آپ کی اطاعت اور اتباع سے منہ موڑیں اور یہ گمان کریں کہ ہمیں رسول کی اتباع کی ضرورت نہیں تو خوب سمجھ لو کہ اللہ کے فرستادہ اور محبوب کی اطاعت اور اتباع سے اعراض کرنا کفر ہے اور تحقیق اللہ کافروں کو محبوب نہیں رکھتا یہود اور نصاری یہ کہتے تھے کہ نحن ابناء اللہ واحباۂ کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں اللہ تعالیٰ نے بتلا دیا کہ کافر خدا کا محبوب نہیں ہوسکتا خدا کا محبوب وہی شخص ہوسکتا ہے جو خدا کے نبی اور رسول ﷺ کی بےچون وچرا اطاعت کرے۔
نکتہ) ۔ ظاہر کلام کا مقتضی یہ تھا کہ لایحبھم فرماتے ہیں لیکن بجائے ضمیر کے اسم ظاہر لائے اور یہ فرمایا کہ، لایحب الکافرین تاکہ معلوم ہوجائے کہ نبی کی اتباع اور اطاعت سے اعراض کفر ہے۔
Ayahs 3:33–34ذکر اصطفا بعض برگزیدگان خداوند نام علیھم الصلوۃ والسلام
قال تعالی، ان اللہ اصطفی۔۔۔ الی۔۔۔ سمیع علیم۔
ربط) ۔ گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کے معیار کا بیان تھا اب اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے چند برگزیدہ بندوں کا ذکر فرماتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حقیقی محب اور محبوب تھے تاکہ ان کے حالات اور واقعات سن کر ان کے اتباع اور محبت کا شوق دل میں پیدا ہوا اور یہ سمجھ لیں کہ حق تعالیٰ سے تعلق اور محبت بدون ان حضرات کی اتباع اور پیروی کے ناممکن ہے اور ان چند محبین اور محبوبین خدا کا ذکر خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ کے ذکر مبارک کی تمہید ہے جیسا کہ آئندہ بیان ہوگا بہرحال مقصود اس تذکرہ سے یہ ہے کہ بارگاہ خداوندی میں وصول بدون حضرات انبیاء کرام کے ناممکن اور محال ہے انہی حضرات کے اتباع سے اللہ تعالیٰ کی محبت اور خوشنودی حاصل ہوسکتی ہے۔ سب سے پہلے جس نے دنیا کو خدا تعالیٰ کی محبت کی تعلیم دی اور اس کا طریقہ بتلایا وہ ہمارے محترم ترین باپ حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں جو اللہ کے خلیفہ ہیں اور علم اور معرفت میں فرشتوں سے بڑھ کر ہیں اور سب سے پہلے خدا کے نبی اور رسول مکلم ہیں۔
اور پھر حضرت نوح (علیہ السلام) اور پھر حضرات ابراہیم (علیہ السلام) اور پھر آل عمران اور پھر سب سے اخیر میں ہمارے نبی اکرم سرورعالم سیدنا ومولانا محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں کہ جن کی بےچون وچرا متابعت اور اطاعت محبت خداوندی کا معیار ہے چناچہ فرماتے ہیں تحقیق اللہ تعالیٰ نے آدم کو برگزیدہ اور پسندیدہ بنایا کہ اپنی خلافت کا تاج ان کے سر پر رکھا اور مسجود ملائکہ بنایا اور جس نے ان کو سجدہ کرنے سے انکار کیا اور ان کی ہمسری کا مدعی بنا اس کو ملعون اور مغضوب بناکر اپنی بارگاہ سے نکال باہر کیا اور ان کے ایک عرصہ دراز کے بعد خاصل طور پر نوح کو برگزیدہ بنایا کہ ان کی اتباع کرنے والوں کو نجات دی اور ان کی اطاعت اور اتباع سے اعراض کرنے والوں کو یک لخت غرق کیا اور ابراہیم (علیہ السلام) کو دونوں کے لیے برکت کا وعدہ فرمایا اور علی ہذا خاندان عمران میں سے بھی بعض کو برگزیدہ اور پسندیدہ بنایا مفسرین کا اس میں اختلاف ہے کہ وآل عمران علی العالمین میں عمران سے کون سے عمران مراد ہیں آیا عمران بن ماثان مراد ہیں جو حضرت مریم کے والد ہیں اور حضرت مسیح کے جد ہیں یا عمران بن یصہر بن قاہث بن لادی مراد ہیں جو حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کے والد ہیں اور آیت کے سیاق اور سباق سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آیت میں عمران بن ماثان، حضرت مریم کے والد مراد ہیں اس لیے کہ ان آیات کا نزول نصاری نجران کے بارے میں ہوا جو حضرت عیسیٰ بن مریم کے الوہیت کے قائل تھے بہرحال اس عمران سے اگر حضرت مریم کے والد مراد ہیں تو آل عمران سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) مراد ہوں گے غرض یہ کہ ان سب حضرات کو اللہ تعالیٰ نے برگزیدہ اور پسندیدہ بنایا اور تمام جہانوں میں سے ان کو اپنی نبوت و رسالت کے لیے منتخب فرمایا درآنحالیکہ یہ جماعت ایک نسل ہیں جو ایک دوسرے سے پیداہ وئے ہیں ایک طینت اور ایک خمیر ہیں جو اصطفاء اور اجتباء کے یکے بعد دیگرے وارث ہوئے اور اللہ تعالیٰ سب اقوال کے خوب سننے والے اور سب ظاہری اور باطنی احوال کے خوب جاننے والے ہیں کہ کون شخص اصطفاء اور برگزیدگی کے لائق ہے اللہ کا اصطفاء علم و حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔
فائدہ۔
اس آیت میں صراحۃ اسماعیل (علیہ السلام) کا ذکر نہیں وجہ یہ ہے کہ ان آیتوں کا نزول ان لوگوں کے مقابلہ میں ہوا ہے جو حضرت نوح اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آل عمران کی نبوت اور برگزیدگی کو مانتے تھے ان پر حجت پورا کرنے کے لیے ان حضرات کا ذکر کیا گیا جن کی محبت کے وہ دعوے دار تھے اس لیے اس الزام اور توبیخ میں ان افراد کا ذکر نہیں کیا گیا جن کی نبوت وبعثت کے وہ قائل نہ تھے نیز آیت میں کوئی کلمہ حصر کا نہیں کہ اصطفاء انہی حضرات میں منحصر ہے لہذا اگر اسماعیل کے اصطفاء کا اس آیت میں ذکر نہیں تو کوئی مضائقہ نہیں دوسری آیتوں میں ان کا اور دوسرے حضرات انبیاء کا ذکر مفصل آیا ہے جن کا اس آیت میں ذکر نہیں فرمایا۔
نکتہ) ۔ ان اللہ اصطفی کے لفظ میں اس طرف اشارہ ہے کہ آل ابراہیم اور آل عمران مثلا عیسیٰ (علیہ السلام) سے جو اخوارق اور معجزات ظہور میں آئے وہ ان کی برگزیدگی اور نبوت کی دلیل ہیں نادانی سے ان کو الوہیت کی دلیل نہ سمجھ جانا۔