Ayahs 3:83–91خلاصۂ حقیقت اسلام وعدم قبول غیر دین اسلام
قال تعالیٰ افغیر دین اللہ یبغون۔۔ الی۔۔ وما لھم من نصرین
توحید اور رسالت کے بعد دین اسلام کی حقیقت کا خلاصہ بیان فرماتے ہیں کہ اسلام اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری کا نام ہے اور یہی تمام انبیاء کا دین ہے اور اسلام ہی تمام کائنات کا دین ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ اسی دین کی دعوت دینے کے لیے مبعوث ہوئے ہیں جس کی طرف تمام انبیاء دعوت دیتے چلے آئے آخرت کی نجات کا دارومدار یہی دین اسلام ہے اس کے سوا اللہ کے یہاں کوئی دین قبول نہیں کیا جائے گا۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ کیا یہ لوگ آنے والے رسول پر ایمان لانے اور اس کی نصرت کا پختہ عہد اور پیمان کرنے کے بعد بھی اللہ کے دین کو چھوڑ کر کسی اور دین کو ڈھونڈتے ہیں اور اپنے عہد و پیمان کا پاس نہیں کرتے کہ جس دین کی وہ رسول دعوت دے رہا ہے اس کو قبول کریں حالانکہ زمین و آسمان کے کل باشندے حق تعالیٰ ہی کے سامنے سرتسلیم ونیاز خم کیے ہوئے ہیں کوئی خوشی سے اور کوئی ناخوشی سے یعنی زبردستی سے اور قیامت کے دن سب اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔
اشارہ اس طرف ہے کہ آیت میں ہمزہ استفہام انکار اور توبیخ کے لیے ہے اور معطوف علیہ مقدر ہے تقدیر عبارت اس طرح ہے ایتولون بعد میثاق الایمان والنصرۃ فغیر دین اللہ یبغون یا تقدیر اس طرح ہے۔ ایفسقون فغیر دین اللہ یبغون۔
: احکام کی دو قسمیں ہیں ایک تشریعی جیسے نماز و روزہ جن میں بندے کے اختیار کو دخل ہے اور دوسرے تکوینی جیسے جلانا اور مارنا اور بیمار کرنا۔ احکام تکوینیہ کے تو سب مسخر ہیں کوئی اس کے خلاف کر ہی نہیں سکتا۔ کرھاً سے یہی تسخیری اطاعت مراد ہے اور طوعاً سے احکام تشریعیہ کی اختیاری اطاعت مراد ہے اور خوشی سے اطاعت کرنے والے فرشتے ہیں اور جن اور انس میں ایماندار لوگ ہیں کہہ دیجئے اے محمد ﷺ جس دین کی میں تم کو دعوت دے رہا ہوں وہی تمام انبیاء کا دین ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ہم ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور اس چیز پر جو اتاری گئی ہم پر یعنی قرآن پر اور اس چیز پر جو اتاری گئی ابراہیم پر اور اسمعیل پر اور اسحاق پر اور یعقوب پر اور اس کی اولاد پر جن کو خدا نے نبی بنایا اور جن پر خدا کی کتابیں اور صحیفے نازل ہوئے اور اس پر بھی موسیٰ اور عیسیٰ (علیہما السلام) کو دی گئی اور اس چیز پر بھی جو تمام پیغمبروں کو ان کے پروردگار کی طرف سے ملی اور ہم انبیاء میں تفریق نہیں کرتے جیسا کہ یہود اور نصاری کا حال ہے کہ کسی تصدیق کریں اور کسی کی تکذیب سب خدا کے برگزیدہ اور فرستادہ تھے اور سب دین حق پر تھے۔ دین سب کا ایک تھا اور ان کی شریعتوں کے قوانین اور احکام میں جو اختلاف تھا وہ وقتی طور اسی زمانہ اور اس ملک اور اس کے باشندوں کے لحاظ سے تھا اور ہم سب اسی ایک خدا کے خالص فرمانبردار ہیں خالص خدا کی بندگی یہ دین اسلام کا خلاصہ ہے اور جو شخص اسلام کے سوا یعنی اللہ کی خالص بندگی کے سوا کوئی اور دین طلب کرے تو وہ دوسرا دین اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اس لیے کہ یہ دین وہ دین نہیں جس کا اللہ نے حکم دیا ہو اور اس کو پسند کیا ہو اور وہ آخرت میں خسارہ والوں میں سے ہوگا یعنی اس کی نجات نہ ہوگی اللہ کے حکم کے سامنے گردن ڈال دینے کا نام اسلام ہے اور یہی تمام انبیاء کرام کا دین اور مذہب ہے اس کے علاوہ کوئی دین قابل قبول نہیں۔
بیان حکم مرتدین۔ اب تک ان لوگوں کا بیان تھا جنہوں نے اسلام میں داخل ہونے سے اعراض کیا اب آئندہ آیت میں ان لوگوں کا بیان ہے جو اسلام قبول کرنے کے بعد اسلام سے پھرگئے ایسے لوگوں کو شریعت کی اصطلاح میں مرتد کہتے ہیں پھر یہ مرتدین دو قسم کے ہیں ایک وہ ہیں جو اپنے کفر اور ارتداد پر قائم رہے اور ایک قسم وہ ہے جو تاب ہو کر پھر صدق دل سے اسلام میں واپس آگئے آئندہ آیات میں دونوں کا بیان آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو کیسے ہدایت اور توفیق اور عنایت سے نوازے جو دل سے ایمان لانے کے بعد کافر ہوئے اور زبان سے اس شہادت اور اس اقرار کے بعد کہ یہ رسول اللہ کے برحق پیغمبر ہیں اور بعد اس بات کے کہ ان کے پاس آپ کی نبوت اور اسلام کی حقانیت کی واضح دلیلیں اور روشن نشان پہنچ چکے ہیں اسلام سے پھرگئے اور اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت اور توفیق نہیں دیتا کہ اقرار کرنے کے بعد پھرجائیں۔ ایسے لوگوں کو توبہ کی بھی توفیق نہیں ہوتی ظالم سے وہ لوگ مراد ہیں جو ہٹ دھرم اور ضدی ہیں ایسے لوگوں کو ہدایت نہیں ہوتی ایسے لوگوں کی سزا یہ ہے کہ ان پر لعنت ہے اللہ کی اور تمام فرشتوں کی وہ دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو اپنی رحمت سے دور رکھتے اور ان پر تمام لوگوں کی لعنت ہے مومنین تو صراحۃ کفار پر لعنت بھیجتے ہیں اور کفار بھی حق بات نہ ماننے والے پر لعنت کرتے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ اس لعنت کا مصداق وہ خود ہیں ہمیشہ رہیں گے اس لعنت میں اور عذاب لعنت میں داخل ہونے کے بعد نہ تو عذاب میں ان سے کوئی تخفیف کی جائے گی اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی مگر جن لوگوں نے اس کفر اور ارتداد کے بعد توبہ کرلی اور اپنے ایمان کی اور اعمال اور نفس کی اصلاح کرلی اور خرابی کے بعد اس کو درست کرلیا تو البتہ اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی توبہ کو قبول فرما کر ان کے جرم سے درگذر کرے گا ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ انصار میں ایک شخص تھا اسلام لانے کے بعد مرتد ہوگیا پھر نادم ہو کر اپنی قوم سے استدعاء کی کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کسی کو بھیج کر دریا فت کرو کہ میری توبہ بھی قبول ہوسکتی ہے اس پر یہ آیت کیف یہدی اللہ قوما کفروا بعد ایمانھم تا غفور رحیم نازل ہوئی۔ چناچہ اس کی قوم نے اس کو بلوایا اور وہ پھر اسلام لایا۔ (نسائی وابن حبان وحاکم)
تحقیق جن لوگوں نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا اور پھر کفر میں بڑھتے گئے اور ترقی کرتے رہے کہ مسلمانوں کے ستانے اور حق کے مٹانے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا جان بوجھ کر اسلام کی دشمنی پر تلے رہے ایسے لوگوں کی توبہ ہرگز قبول نہ کی جائے گی اس لیے کہ سمجھ بوجھ کر حق کی دشمنی کرنے والوں کو اول تو توبہ ہی نصیب نہ ہوگی جو قبول ہو اور اگر مرنے کے وقت یا اور کسی وقت کسی مصلحت سے ظاہری طور پر رسمی الفاظ توبہ کے محض زبان سے کہہ بھی دے مگر دل حق کی عداوت سے صاف نہ ہوا تو ایسی توبہ کہاں قابل قبول ہوسکتی ہے اور ایسے ہی لوگ کامل اور پورے گمراہ ہیں جن کے دل حق کی عداوت سے لبریز ہیں اور اگر کسی وقت زبان سے کوئی لفظ توبہ کا نکلتا ہے تو وہ کسی مصلحت کی بناء پر ہوتا ہے جیسے آج کل کی سیاسی توبہ، یہی کمال گمراہی ہے کہ اس گمراہی کے مقابلہ میں گویا کوئی گمراہی نہیں کیونکہ یہ لوگ ایسے گمراہ ہیں جن کی گمراہی سے نکلنے کی کوئی امید نہیں جیسے وہ بیمار جس کے اچھے ہونے کی امید ہو وہ اس بیمار کے مقابلہ میں کیا بیمار ہے جس کے شفاء پانے کی امید ہی نہ ہو تحقیق جن لوگوں نے کفر کیا اور بدون توبہ کے کفر کی حالت میں مرگئے تو ہرگز قبول نہ کیا جائے گا ایسے کسی شخص سے روئے زمین کے برابر سونا اگرچہ وہ سونے کی اتنی مقدار کو عذاب کے فدیہ اور معاوضہ میں لا کر پیش بھی کردے اور یہ کہے کہ مجھ کو عذاب سے چھوڑو تب بھی نہیں قبول کیا جائے گا اور بدون پیش کیے تو پوچھتا ہی کون ہے یعنی اگر بالفرض والتقدیر کافر کے پاس روئے زمین کے برابر سونا موجود بھی ہو اور بطور فدیہ کے عذاب سے رہائی کے لیے پیش بھی کرنا چاہے تب بھی قبول نہیں چہ جائیکہ خالی ہاتھ ہو اور ایک ذرہ کا بھی مالک نہ ہو تو ایسے کو کون پوچھتا ہے ایسے لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہوگا اور کوئی ان کا مدد کرنے والا نہ ہوگا جو ان کو عذاب خداوندی سے بچا سکے۔
ف۔ کافروں کی تین قسمیں ہیں ایک وہ جو کفر سے صحیح توبہ کریں اور اعمال صالحہ اختیار کریں۔ ایسے لوگوں کی توبہ قبول ہے اور الا الذین تابوا من بعد ذلک واصلحوا فان اللہ غفور رحیم۔ میں ایسے ہی لوگوں کا ذکر ہے دوسرے وہ جو کفر سے توبہ تو کرتے ہیں مگر ان کی توبہ صحیح نہیں ہوتی بلکہ ان کی توبہ فاسد ہوتی ہے مثلاً یہ کہ دل سے توبہ نہ کریں محض زبان سے کسی مصلحت سے الفاظ تو بہ کے کہہ دیں یا وقت نکلنے کے بعد توبہ کریں جیسے فرعون نے بالکل ڈوبتے وقت توبہ کی اسی طرح یہ لوگ جو ایسے وقت توبہ کریں جب موت بالکل سامنے آگئی تو ایسے لوگوں کی توبہ مقبول نہیں اس لیے کہ توبہ کی شرط مفقود ہے۔ دل میں ایمان نہیں۔ دل حق کی عداوت اور باطل کی محبت سے لبریز ہے محض زبان سے یا کسی مصلحت سے توبہ کی جارہی ہے یا توبہ کا وقت نکل چکا ہے اور وقت نکلنے کے بعد مجبور ہو کر توبہ کر رہے ہیں۔ اس آیت یعنی لن تقبل توبتھم واولئک ہم الضالون میں ایسے ہی لوگوں کا ذکر ہے اور تیسرے وہ کہ جو تمام عمر کفر پر قائم رہے اور دن بدن کفر میں ترقی کرتے رہے اور بالآخربغیر توبہ کے مرگئے اس آخری آیت یعنی فلن یقبل من احدھم ملء الارض ذھباً الخ میں یہی لوگ مراد ہیں پہلی آیت میں پہلی قسم کے کافروں کا حکم بیان ہوا اور دوسری آیت میں دوسری قسم کے کافروں کا اور اس آخری آیت میں تیسری قسم کے کافروں کا کہ ایسے لوگ اگر بالفرض والتقدیر قیامت کے دن روئے زمین کے برابر سونا بھی عذاب کے فدیہ میں دینا چاہیں تو وہ قبول نہ ہوگا اس لیے کہ آخرت میں ایمان اور اعمال صالحہ قبول ہوں گے مال وزر کی اس دن کوئی حقیقت نہیں۔
الحمدللہ کہ آج بروز شنبہ 11 شوال 1378 ھ بوقت چاشت شہر لاہور میں تیسرے پارہ کی تفسیر سے فراغت ہوئی۔
فللہ الحمد والمنۃ اللہم وفقنا لاتمام التفسیر وت قبلہ منا وتب عینا فانک انت السمیع العلیم وانک انت التواب الرحیم۔ آمین
Ayah 3:92ترغیب انفاق مال درراہ خداوند ذوالجلال
قال تعالیٰ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ الی فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيْمٌ
[ ربط ] گزشتہ آیت میں یہ بتلایا کہ اگر قیامت کے دن کفار اپنی رہائی کے لیے روئے زمین کے برابر بھی سوناخرچ کریں تو ذرا برابر مفید نہ ہوگا اب اس آیت میں مسلمانوں کو خدا کی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب دیتے ہیں کہ اے مسلمانوں تم خدا کی راہ میں کتنی ہی معمولی چیز کیوں نہ خرچ کرو وہ تمہارے لیے نافع اور مفید ہوگی مگر اتنا خیال رکھنا کہ جو چیز تمہارے نزدیک زیادہ محبوب اور مرغوب ہو اگر اس کو خدا کی راہ میں خرچ کرو گے تو تم ابرار اور اخیار میں سے ہوجاؤ گے اور اگر کوئی معمولی چیز بھی خدا کی راہ میں دو گے تو اجر اور ثواب تو اس کا بھی ضرور ملے گا لیکن درجہ ان ابرار کا حاصل نہ ہوگا جن کے متعلق حق تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے۔ آیت۔ ان الابرار۔۔۔۔۔۔ اس لیے کہ ابرابر کا درجہ محبوب چیز کے خرچ کرنے سے حاصل ہوتا ہے نیز بخل کی عادت کے زائل ہونے کا طریقہ یہی ہے کہ محبوب اور پسندیدہ چیز خدا کی راہ میں خرچ کی جائے معمولی چیز کے خرچ کرنے سے نفس سے بخل کا ازالہ نہیں ہوتا اس لیے مماتحبون کی قید لگائی۔
چناچہ فرماتے ہیں اے مسلمانو۔ تم خیر کثیر اور احسان عام کے مرتبہ اور مقام کو ہرگز نہیں پہنچ سکتے یہاں تک کہ تم خدا کی راہ میں ان چیزوں میں سے خرچ کرو جن کو تم محبوب رکھتے ہو محبوب حقیقی تک پہنچنے کا ذریعہ یہ ہے کہ کچھ تو محبوب مجازی کو محبوب حقیقی کی راہ میں خرچ کرو اور باقی خدا کی راہ میں جو کچھ بھی خرچ کرو گے اگرچہ وہ چیز تم کو محبوب نہ ہو سو اللہ تعالیٰ اس کو جاننے والے ہیں تمہاری نیت اور عمل کے مطابق اس کا اجر عطا فرمائیں گے خواہ وہ قلیل ہو یا کثیر محبوب ہو یا غیر محبوب اجر سے کوئی صدقہ اور نفقہ خالی نہیں چناچہ جب یہ آیت نازل ہوءی تو ابوطلحہ انصاری آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یارسول اللہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ آیت۔ لن تنالوالبر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور مجھے تمام جائیداد میں سب سے زیادہ یہ باغ، برحاء۔ محبوب ہے اور مرغوب ہے اور آپ گواہ رہیں کہ یہ اللہ کے لیے صدقہ ہے میں اللہ سے اس کی بر اور ذخیرہ کا امیدوار ہوں یارسول اللہ اس مال کو جہاں چاہیں خرچ کریں حضور ﷺ نے سن کر فرمایا واہ واہ یہ تو بڑے نفع والا مال ہے جو تو نے کہا وہ میں نے سن لیا میرے نزدیک مناسب یہ ہے کہ اس کو تو اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کردے ابوطلحہ نے عرض کیا یارسول اللہ میں ایسا ہی کروں گا پھر ابوطلحہ نے اسے اپنے رشتہ داروں اور چچا کی اولاد میں تقسیم کردیا۔ (بخاری ومسلم)
فائدہ۔ غیر محبوب کے خرچ کرنے پر اجروثواب ملتا ہے بشرطیکہ وہ قابل نفرت نہ ہو جیسا کہ ارشاد ہے۔ آیت۔ ولاتیموالخبیث۔ یعنی قصد کرکے خراب اور ردی چیز خیرات مت کرو ہاں اگر کسی نے سامال خیرات کردیا اور اس میں کچھ ردی بھی تھا یا سارا ہی ردی تھا تو کوئی حرج نہیں کیونکہ وہ قصد کرکے رہی ہی نہیں دے رہا ہے بلکہ جو اس کے موجود ہے وہی دے رہا ہے ممانعت اس کی ہے کہ ایک شخص کے پاس عمدہ مال بھی ہے اور خراب بھی مگر وہ شخص صدقہ کے لیے خراب اور ردی مال کا انتخاب کرتا ہے۔
نکتہ۔ شاید یہود ونصاری کے ذکر میں یہ آیت اس لیے نازل کی کہ ان کو اپنی ریاست بہت محبوب تھی اس وجہ سے وہ نبی کے تابع نہ ہوتے تھے تو جب تک وہ اللہ کی راہ میں اپنی محبوب ریاست کو نہ چھوڑیں گے ایمان کی دولت حاصل نہ کرسکیں گے۔
Ayahs 3:93–95قال تعالی۔ کل الطعام الی مشرکین
دور سے سلسلہ کلام اہل کتاب کے متعلق چلا آ رہا ہے افتراء کا ذکر درمیان میں استطرادا اور تبعا ہوگیا تھا اب پھر اہل کتاب کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں یا یوں کہو کہ شروع سورت سے لے کر یہاں تک کہ توحید الہی اور آنحضرت کی نبوت و رسالت کے بارے میں زیادہ تر نصاری سے محاجہ اور مباحثہ اور مباہلہ کا ذکر ہوا اب یہاں سے حق تعالیٰ یہود کے دو شبہوں کا جواب دیتے ہیں جو وہ دین اسلام پر کرتے تھے۔
پہلا شبہ۔ یہ تھا کہ اے محمد آپ اپنے آپ کو دین ابراہیمی اور انبیاء سابقین کے طریقہ پر بتلاتے ہیں تو پھر آپ ان چیزوں کو کیسے حلال بتلالتے ہیں جو حضرت ابراہیم اور تمام انبیاء پر حرام تھیں۔ مثلا اونٹ کا گوشت اور اس کادودھ ان پر حرام تھا اور آپ اس کو حلال بتاتے ہو اور اگر آپ یہ کہیں خہ یہ چیزیں جو ان کے دین میں حرام تھیں اب ان کی حرمت میری شریعت میں منسوخ ہوگءی تو پھر آپ کا یہ دعوی غلط ہے کہ آپ ان کی تصدیق کرنے والے ہیں اور آپ کا دین ان کے دین کے موافق ہے۔
حق تعالیٰ ان کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں کہ اے یہود تمہارا یہ قول کہ اونٹ کا گوشت اور اس کادودھ حضرت ابراہیم اور تمام انبیاء کرام پر حرام تھا بالکل غلط ہے بلکہ حضرت ابراہیم سے لے کر توریت کے نازل ہونے تک یہ تمام چیزیں بنی اسرائیل کے لیے حلال تھیں البتہ یعقوب (علیہ السلام) نے توریت کے نازل ہونے سے پہلے اونٹ کا گوشت کسی وجہ سے اپنے اوپر حرام کرلیا تھا وہ یہ کہ یعقوب (علیہ السلام) کو عرق النساء کی بیماری تھی اس وقت اللہ سے نذر مانی کہ اگر صحت پاؤں تو جو چیز مجھے مرغوب ہے اس کو چھوڑ دوں گا اور ان کو اونٹ کا گوشت اور دودھ نہایت محبوب تھا سو اس نذر کی وجہ سے اس کو چھوڑ دیا تھا جیسا کہ ہماری شریعت میں یہی ہے کہ نذر سے حلال چیز حرام ہوجاتی ہے مگر اس کا کفارہ دینا پڑتا ہے کما قال تعالی۔ یا ایھا النبی لم۔ آیت۔ اللہ نے یہود کے جواب میں فرمایا کہ یعقوب (علیہ السلام) کا اپنے اوپر یہ حرام کرنا توریت سے پہلے تھا اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ یہ چیزیں حضرت ابراہیم کے وقت سے حرام تھیں تو اپنی مسلم کتاب توریت میں یہ مضمون دکھلاؤ تاکہ تمہاری صداقت ظاہر ہو اور اگر یہ مضمون تمہاری کتاب میں نہ نکلے تو سمجھ لو کہ کاذب اور مفتری ہو۔ کل الطعام کان حلا۔۔۔ سے وماکان من المشرکین۔ آیت۔ تک اسی شبہ کے جواب میں نازل ہوئیں جیسا کہ آئندہ تفسیر سے ظاہر ہوگا۔
فائدہ۔ پہلی آیت میں محبوب چیز کے خرچ کرنے کا ذکر تھا اور اس آیت میں یعقوب (علیہ السلام) کا ایک محبوب چیز کو چھوڑ نے کا ذکر ہے اس طرح دونوں آیتوں میں نہایت لطیف مناسبت ہوگئ۔
دوسرا شبہ۔ یہود کا دوسرا شبہ یہ تھا کہ تمام انبیاء کرام بیت المقدس کی تعظیم کرتے تھے اور بیت المقدس ہی ان کا قبلہ تھا اور تمام انبیاء اسی مقدس سرزمین میں مبعوث ہوئے اور حضرت ابراہیم کا اصلی وطن عراق تھا جسے حضرت ابراہیم نے چھوڑ کر شام کی طرف ہجرت فرماءی اور وہیں رہے اور وہیں وفات پائی مگر اے مسلمانوں تم نے بیت المقدس کو چھوڑ کر خانہ کعبہ کو قبلہ بنالیا جو سرزمین شام سے بہت دور ہے پھر تمہارا یہ دعوی کیسے صحیح ہے کہ تم کو ابراہیم (علیہ السلام) اور ملت ابراہیمی سے زیادہ قرب اور مناسبت حاصل ہے حق تعالیٰ نے۔ آیت۔ ان اول بیت وضع للناس۔ ان آیات میں ان کے اس شبہ کا جواب دیا کہ خانہ کعبہ ہی اول عبادت خانہ ہے جو بیت المقدس سے صدہا سال قبل ابراہیم کے ہاتھ سے تعمیر ہوا جس میں مقام ابراہیم کی موجودگی اس بات کی دلیل ہے کہ ابراہیم کے قدم یہاں آئے ہیں کیونکہ یہ امر تاریخ عرب کے مسلمات میں سے ہے کہ یہ وہی پتھر ہے جس پر ابراہیم (علیہ السلام) نے کھڑے ہو کر خانہ کعبہ تعمیر کرایا تھا اور خدا کی قدرت سے اس پتھر میں ابراہیم کے قدم کے نشان پڑگئے تھے اور وہ پتھر اب تک برابر محفوظ چلا آرہا ہے۔
کل الطعام کان الی وماکان من المشرکین۔ آیت۔
ان آیات میں یہود کے پہلے شبہ کا جواب اراشاد فرماتے ہیں کہ اے یہود تمہارا یہ قول ہے کہ اونٹ کا گوشت اور اس کا دودھ حضرت ابراہیم اور تمام انبیاء پر حرام تھا بلکہ کھانے کی سب چیزیں توریت کے نازل ہونے سے پہلے ہی بنی اسرائیل کے لیے حلال تھیں جن کی حلت حضرت ابراہیم کے وقت سے برابر چلی آرہی تھی مگر وہ چیز یعنی اونٹ کا گوشت جس کو ایک خاص وجہ سے یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے اوپر بطور نذر حرام کرلیا تھا اور پھر ان کی اولاد نے بھی ان کی پیروی کی اس کو چھوڑ دیا تھا جس کا سبب یہ تھا کہ یعقوب کو عرق النساء کا درد تھا اس وقت اللہ سے نذر کی اگر اللہ نے اس مرض سے شفاء عطا فرمائی تو جو چیز مجھ کو زیادہ محبوب اور مرغوب ہے اس کو چھوڑ دوں گا اور ان کو سب سے زیادہ محبوب اونٹ کا گوشت اور دودھ تھا اس لیے اس کو چھوڑ دیا ورنہ اللہ کی طرف سے ان پر یہ چیزحرام نہ تھی لہذا یہود کا یہ دعوی کہ یہ چیزیں حضرت ابراہیم کے وقت سے حرام چلی آرہی ہیں کیسے صحیح ہوسکتا ہے۔
فائدہ۔ آیت مذکورہ میں۔ آیت۔ من قبل انزل التورۃ۔ (یعنی تورات نزول سے قبل) کی قید کا فائدہ یہ ہے کہ نزول توریت سے پہلے یہ سب چیزیں حلال تھیں البتہ توریت نازل ہونے کے بعد بہت سی حلال چیزیں یہود پر ان کے ظلم اور شرارت کی وجہ سے توریت میں حرام کردی گئیں جن کی کچھ تفصیل سورة انعام میں ہے۔ وعلی الذین سے ببغیھم۔ آیت۔ تک۔ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ فبظلم من الذین ھادو سے احلت لھم۔ آیت۔ تک۔ آپ ان یہود سے کہہ دیجیے اگر تم کو اس کا دعوی ہے کہ یہ چیزیں حضرت ابراہیم کے وقت سے برابر حرام چلی آرہی ہیں تو توریت کو لے کر آؤ اور یہ مضمون توریت میں دکھاؤ اور سب کے سامنے اس کو پڑھ کر سناؤ اگر تم اس دعوی میں سچے ہو کہ یہ چیزیں حضرت ابراہیم کے وقت سے حرام تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو حکم دیا کہ ان کی کتاب کے ساتھ مباحثہ کریں یہود یہ دلیل قاطع اور برہان ساطع سن کر حیران رہ گیا اور توریت نہ لاسکے اس طرح نبی کریم کی صداقت پر ایک حجت قائم ہوگئی اور یہود کا کا ذت اور مفتری ہونا ثابت ہوگیا۔ پس جو شخص اللہ پر جھوٹ باندھے اور یہ کہنے لگے کہ یہ چیزیں اللہ نے حضرت نوح اور حضرت ابراہیم پر حرام کی تھیں اس کے بعد یعنی توریت کی حجت لازم ہوجانے کے بعد تو یہ لوگ بڑے ہی ظالم اور بےانصاف ہیں کہ حق کی بات ظاہر ہوجانے کے بعد بھی ہٹ دھرمی کرتے ہیں اور حق کو تسلیم نہیں کرتے اور اللہ کے نبی پر جھوٹے الزام لگاتے ہیں آپ کہہ دیجیے کہ اللہ نے سچ فرمایا اور مجھے سچی خبر دی کہ نزول توریت سے پہلے سب چیزیں بنی اسرائیل پر حلال تھیں پس اے یہود جب تم پر محمد ﷺ کی صداقت ظاہر ہوگئی تو مسلمانوں کی طرح تم بھی ملت ابراہیمی کی پیروی کرو۔
اور ابراہیم کے دین پر آجاؤ جس کی طرف میں تمہیں بلاتا ہوں اور وہ ابراہیم ایک طرف کا ہورہا تھا سب کو چھوڑ کر خدا کی طرف مائل ہوگیا تھا جس نے دنیا میں خالص توحید اور خدا کی فرمانبرداری کی اشاعت کی اور ابراہیم مشرکوں میں سے نہ تھا اس جملہ میں یہود اور نصاری پر الزام ہے کہ تم دین ابراہیمی پر ہونے کے مدعی ہو اور پھر شرک کرتے ہو۔
فائدہ۔ ملت مثل دین کے اس طریقہ کو کہتے ہیں کہ جس کو اللہ نے انبیاء کی زبانی اپنے بندوں کے لیے مشروع فرمائے تاکہ قرب اور رضا کے مدارج اور صلاح اور فلاح دارین کو حاصل کریں اور ملت اور دین میں فرق یہ ہے کہ ملت کی نسبت نبی کی طرف ہوتی ہے کہ یہ فلاں نبی کی ملت ہے اور دین کی نسبت اللہ کی طرف ہوتی ہے کہ یہ اللہ کا دین ہے اور یہ کہنا جائز نہیں کہ یہ اللہ کی ملت ہے نیز کا اطلاق مجموعہ احکام شرعیہ پر ہوتا ہے ایک ایک حکم پر ملت کا اطلاق نہیں ہوتا مثلا تنہا نماز اور زکوٰۃ کو ملت نہیں کہتے۔
Ayahs 3:96–97قال تعالیٰ ان اول بیت وضع للناس ببکۃ۔۔۔۔ تا۔۔۔ عن العالمین
اب آیات میں یہود کے دوسرے شبہ کا جواب ذکر فرماتے ہیں کہ بیت المقدس خانہ کعبہ سے افضل ہے اور وہی تمام انبیاء کا قبلہ ہے تو اے مسلمانوں تمہارے نبی نے بیت المقدس کو چھوڑ کر خانہ کعبہ کو کیوں اپنا قبلہ بنایا حق جل شانہ نے ان آیات میں یہ بتلایا کہ خانہ کعبہ بیت المقدس سے افضل اور اشرف ہے لہذا اسی کو قبلہ بنانا بہتر ہے چناچہ فرماتے ہیں تحقیق پہلا گھر جو من جانب اللہ لوگوں کی عبادت کے لیے قبلہ مقرر کیا گیا وہ وہی مکان اور گھر ہے جو شہر مکہ میں ہے جس کو خانہ کعبہ بیت اللہ کہتے ہیں بڑی خیرو برکت ولاجس میں ایک نماز ادا کرنے سے ایک لاکھ نمازوں کا ثواب ملتا ہے اور جہان کے لوگوں کے لیے ہدایت اور رہنما ہے کیونکہ سارے جہان کا قبلہ ہے اسی کی طر منہ کرکے سب نماز ادا کرتے ہیں اور خدا کی محبت میں اسی کا طواف کرتے ہیں اسی طرح یہ خانہ خدا خانہ ہدایت ہے جس سے قبلہ عبادت کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور بہشت کی راہ بھی یہیں سے نظر آتی ہے خود اس گھر میں اس کی فضیلت اور اول معبد ہونے کی اور قبلہ ابراہیمی ہونے کی روش نشانیاں اور کھلی علامتیں موجود ہیں از انجملہ مقام ابراہیم ہے جو ایک محترم پتھر ہے جس پر حضرت ابراہیم کھڑے ہو کر خانہ کعبہ کی تعمیر فرماتے تھے جس میں اللہ کی قدرت سے حضرت ابراہیم کے قدم مبارک کے نشان پڑگئے تھے جو لوگوں کے ہاتھوں سے چھونے کے باعث محو ہوگئے اور یہ بات تمام اہل عرب میں نقل متواتر کے ساتھ مشہور ومسلم ہے اور حضرت ابراہیم ان تمام انبیاء کرام کے جد اکبر ہیں جن کے آثار روئے زمین پر پائے جاتے ہیں ان سے پہلے جتنے نبی گزرے ان میں سے کسی کی نشانی زمین پر باقی نہیں پس حضرت ابراہیم کے ان نشان کا باقی رہنا اور دیگر انبیاء کے آثار کا باقی نہ رہنا اور پھر اس پتھر کا باوجود کثیر التعداد دشمنوں کے ہزاروں برس سے محفوظ چلا آنا یہ اس امر کی کھلی نشانی ہے کہ یہاں ابراہیم کے قدم آئے ہیں اور یہی وہ پہلا گھر اور اول معبد ہے کہ جو طوفان نوح کے بعد حضرت ابراہیم کے ہاتھوں تعمیرہوا اور حضرت اسماعیل ان کے شریک کار اور معین و مددگار رہے غرض یہ کہ منجملہ آیات بینات کے مقام ابراہیم ایک نشانی ہے حق جل شانہ نے آیات بینات میں سے صرف دو نشانیوں کو ذکر کیا اور ایک یہ نشانی وہ جو آئندہ آیت میں ذکر کو باقی کو پوشیدہ رکھا اور اشارہ اس طرف ہے کہ آیات بینات بہت ہیں جو شمار میں نہیں آسکتیں ان میں سے صرف دو دین کا ذکر کیا اور من جملہ ان نشانیوں کے ایک نشانی یہ ہے کہ جو شخص اس مکان کی حدود میں بھی داخل ہوگیا اس کو امن ملا دنیا میں قتل اور غارت گری سے مامون ہوگیا اور قیامت کے دن عذاب سے مامون ہوگیا یہ بھی خانہ کعبہ کی فضیلت کی کھلی نشانی ہے عرب زمانہ جاہلیت میں ایک دوسرے کو قتل کردیتے اور لوٹ لیتے مگر جو حرم میں آجاتا اس سے کوئی تعرض نہ کرتے خانہ کعبہ کے موجب امن ہونے پر دو اعتراض کیے گئے ہیں ایک یہ کہ خود جناب رسول اللہ نے مکہ مکرمہ کو تلوار سے فتح کیا دوم یہ کہ بہت سے حکام اور عمال نے مکہ میں ظالمانہ کاروائیاں کیں حتی کہ بعض نے خانہ کعبہ پر منجیق بھی لگادیا اور اس کی بےحرمتی بھی کی اور بہت سے بدوؤں نے حاجیوں کو طرح طرح سے اذیت پہنچائی۔ پہلے اعتراض کا جواب یہ ہے کہ یہ اعتراض سرے سے ہی غلط ہے نبی ﷺ نے ایک لمحہ کے لیے خانہ کعبہ کی حرمت کو نہیں توڑا آپ نے اس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ مکہ میں ہی منادی کرادی کہ جو شخص ابوسفیان کے گھر میں داخل ہوجائے اس کو امن ہے اور جو شخص اپنے گھر کا دروازہ بند کرلے اس کو بھی امن ہے حدیث میں ہے کہ جب ابوسفیان نے نبی کی خدمت میں حاضر ہو کر لشکر انصار کے علمبردار سعد بن عبادہ کا یہ قول نقل کیا کہ آج کا دن لڑائی کا دن ہے اور آج کعبہ کی حرمت توڑی جائے گی تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ سعد نے غلط کہا آج کا دن وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ خانہ کعبہ کی حرمت کو قائم کرے گا اور آج کا دن وہ دن ہے جس میں خانہ کعبہ پر نیا غلاف چڑھایا جائے گا اور بعض علماء نے اس اعتراض کا یہ جواب دیا ہے کہ اللہ نے خاعنہ کعبہ کو شرک اور بت پرستی سے پاک کرنیکے لیے ایک ساعت کے لیے آپ ﷺ کے حلال کردیا تھا آپ سے پہلے اور آپ کے بعد کسی اور کے لیے حلال نہیں اور کفر وشرک کی نجاست سے پاک کردینے کے لیے حلال کردینا غایت درجہ مستحسن ہے۔
دوسرے اعتراض کا جواب۔
یہ ہے کہ خانہ کعبہ میں داخل ہونے والے شخص کے امن والا ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ کسی شخص کو ایذا پر قدرت نہیں رہتی بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس گھر کی تعظیم لوگوں کے اعتقاد اور دلوں میں اس درجہ راسخ ہے کہ کوئی شخص بھی اس میں ظلم اور تعدی کو ردا نہیں سمجھتا پس جو ظالم اور بدو اس میں کوئی کاروائی کرتے ہیں وہ اس کو جائز نہیں سمجھتے بلکہ اور گناہوں کی طرح اس کو گناہ سمجھتے ہیں اور اس گھر کی فضیلت نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ لوگوں پر اللہ کے لیے اس گھر کا حج فرض ہے تمام لوگ برابر خانہ کعبہ کا ہی حج کرتے چلے آئے بیت المقدس کا حج کبھی فرض نہیں ہوا مگر خانہ کعبہ کا حج ہر ششخص پر فرض نہیں بلکہ صرف اس شخص پر فرض ہے جو اس گھر کی راہ پاسکے یعنی زاد اور رحلہ پر اس کو قدرت ہو مطلب یہ ہے کہ استطاعت سبیل سے مراد خانہ کعبہ تک پہنچنے پر قدرت پانا ہے جس میں سواری اور سفر خرچ اور تندرستی اور راستہ کا امن سب کچھ آگیا اور اس گھر کے حج کا فرض ہونا یہ بھی اس گھر کی بزرگی اور شرافت کی کھلی نشانی ہے اور اس امر کی صریح دلیل ہے کہ اس گھر کی حضرت ابراہیم سے خاص خصوصیت حاصل ہے کہ ان کے وقت سے لے کر اس وقت تک مشرق ومغرب اور شمال جنوب کے لوگ برابر حج کرتے چلے آئے اور برابر اس کو سنت ابراہمی سمجھ کر ادا کرتے رہے اور جو شکص منکر ہوا کہ خانہ کعبہ اول معبد نہیں رہا یا اس کا حج فرض نہیں تو اللہ کو اس کی کوئی پرواہ نہیں اس لیے کہ اللہ تعالیٰ تو تمام جہان کے لوگوں سے بےنیاز ہے تمام عالم بھی اگر اس کے حکم کا انکار کرے تو اس کا کوئی نقصان نہیں خانہ کعبہ خداوند ذوالجلال کے نور اور جمال کی تجلی کا گھر ہے محبین اور عاشقین کا یہ فرض ہے کہ اس نور السموات والارض اور جمیل مطلق اور محبوب برحق کے گھر پر عمر بھی میں کم از کم ایک مرتبہ ضرور حاضری دے اور اس کے درودیوار کادوارنہ وار چکر لگائیں اور اس کے آستانہ کو بوسہ دیں جو شخص خدا کی محبت کا دعوی کرے اور اس کے گھر کی حاضری کو فرض نہ سمجھے تو سمجھ لو کہ وہ جھوٹا عاشق ہے اور محبوب حقیقی کو کیا پروا ہے کہ ایسا شخص یہودی ہو کرمرے یا نصرانی ہو کر مرے یہود اور نصاری ہر ایک کو دعوی تو یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ہمارے امام اور پیشوا ہیں مگر جس گھر کو انہوں نے اللہ کے حکم حج اور زیارت کے لیے تعمیر کیا گیا اور لوگوں کو اس کی زیارت اور حج کے لیے آواز دی اس کا حج نہیں کرتے۔
خلاصہ کلام۔ یہ کہ خانہ کعبہ بیت المقدس سے افضل ہے جس کی متعدد وجوہ ہیں۔ جو حسب ذیل ہیں۔
اول فضیلت۔
یہ کہ خانہ کعبہ سب سے پہلا گھر ہے جو لوگوں کی عبادت کے لیے مقرر ہوا اور حضرت آدم (علیہ السلام) نے اس کی تعمیر کی اور ان کی اولاد میں جس قدر بھی نبی ہوئے وہ سب کے سب اسی کی طرف رخ کرکے عبادت کرتے چلے آئے اور حضرت شیث اور حضرت ادریس اور حضرت نوح کا قبلہ عبادت اس کے سوا اور کوئی جگہ نہ تھی اس لیے کہ عبادت اور عبودیت حضرت انبیاء کرام کے لیے لازم ہے اور عبادت کے لیے قبلہ کا ہوناضروری ہے معلوم ہوا کہ تمام انبیاء کا قبلہ یہی خانہ کعبہ رہا۔ وقال تعالی۔ اولئک الذین انعم اللہ تا وب کیا۔ آیت۔ اس آیت میں صاف ظاہر ہے کہ تمام انبیاء کرام سجدہ کرتے تھے اور ظاہر ہے کہ سجدہ کے لیے قبلہ کا ہونا ضروری ہے سو ان حضرات کا قبلہ وہی خانہ کعبہ تھا جو ہمارے معظم اور محترم باپ سیدنا آدم (علیہ السلام) نے بحکم اللہ تعالیٰ بنایا تھا اور مکہ مکرمہ کا نام ام القری ہونا یہ بھی اس کی دلیل ہے کہ یہ شہر تمام بستیوں اور آبادیوں کی اصل اور جڑ یعنی مبداء ہے اور اسی وجہ سے کہا گیا کہ وسط ارض میں ہے اور تمام روئئے زمین کا مرکزی نقطہ ہے۔
دوسری فضیلت۔
خانہ کعبہ کی دوسری فضیلت یہ ہے کہ وہ مبارک ہے یعنی خیرات وبرکات کا منبع اور سرچشمہ ہے آسمانی اور معنوی انوار وبرکات کے علاوہ زمینی برکات کا بھی مخزن ہے کما قال تعالی۔ یحییٰ الیہ ثمرات کل شئی رزقا من لدنا۔ آیت۔ زمین جس کے متعلق اللہ کا ارشاد ہے۔ وبارک فیھا وقدر فیھا اقواتھا۔ آیت۔ ان تمام اقوات وثمرات اور ارزاق وبرکات کا مرکزی نقطہ بھی خانہ کعبہ کی زمین ہے جس کو اللہ نے سب سے پہلے پیدا کیا اور باقی زمین یہیں سے بچھائی گئی اور ایک نیکی کا ثواب کم ازکم ایک لاکھ گنا ملتا ہے اور جو نماز خانہ کعبہ کے سامنے باجماعت پڑھی جائے اس کا ثواب ستائیس لاکھ ملتا ہے کیونکہ جماعت کا اجرا انفرادی نماز سے ستائیس گنا ہے۔
تیسری فضیلت۔
خانہ کعبہ کی تیسری فضیلت یہ ہے کہ ھدی للعالمین۔ یعنی تمام جہانوں کا قبلہ ہے اسی سمت پر سب نماز ادا کرتے ہیں خانہ کعبہ بمنزلمہ مرکزی نقطہ کے ہے اور روئے زمین پر نمازیوں کی صفوت بمنزلہ دائر کے ہیں جو اس مرکز کو احاطہ آسمان اور زمین کے فرشتے بھی ہوتے ہیں جن کے انوار وبرکات میں تعاکس اور توارد بھی ہوتا ہے اور خانہ کے ذاتی انوار برکات ان کے علاوہ ہیں جب روئے زمین کی نمام مسجدیں اور تمام صفوف سمت کعبہ کی طرف متوجہ ہوکرنمازیں ادا کریں گے تو اس محاذات اور مسامست کی وجہ سے خانہ کعبہ کے انوار و تجلیات روئے زمین کی مسجدوں اور نماز کی صفوں کو بجلی کی رو کی طرح یکدم منور اور روشن کریں گے۔
چوتھی فضیلت۔
یہ ہے کہ فیہ ایات یعنی خود اس گھر میں اس کی حرمت اور عظمت کی روشن نشانیاں موجود ہیں جس نے اس کی بےحرمتی کا ارادہ کیا وہ ہلاک ہوا جیسے اصحاب فیل اور جس نے اس جگہ جا کر بیماری وغیرہ کے لیے دعا مانگی اس کی دعا قبول ہوئی اور حجاج نے جو مکہ پر چڑھائی کی سو اس کا مقصد حضرت عبداللہ بن زبیر کو گرفتار کرنا تھا خانہ کعبہ کی بےحرمتی اور اہانت مقصود نہ تھی۔
پانچویں فضیلت۔
یہ ہے کہ اس میں مقام ابراہیم ہے مقام ابراہیم وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی تھی اس پتھر میں حضرت ابراہیم کے قدم مبارک کے نشان تھے اللہ نے اسے حضرت ابراہیم کے لیے نرم کردیا تھا۔
چھٹی فضیلت۔
یہ ہے کہ جو شخص خانہ کعبہ کے حدود یعنی حرم میں داخل ہوا تو دنیا میں قتل سے اور آخرت میں عذاب سے مامون رہا۔
ساتویں فضیلت۔
یہ ہے کہ اس گھر کا حج کرنا فرض ہے یہ بھی اس گھر کی شرافت و بزرگی پر دلالت کرتا ہے تمام انبیاء سابقین اسی کا حج کرتے چلے آئے ہیں اور نہایت ذوق شوق کے ساتھ تلبیہ پکارتے ہوئے اس کی زیارت کے لیے حاضر ہوتے رہے بیت المقدس کا حج کبھی فرض نہیں ہوا۔
لطائف ومعارف
ان اول بیت۔ آیت۔ میں علماء کا اختلاف ہے کہ اول سے کیا مراد ہے آیا باعبار زمانہ کے اولیت مراد ہے یا باعتبار شرف اور فضیلت اور رتبہ کے اولیت مراد ہے۔
صحابہ اور تابعین کی ایک جماعت سے یہ منقول ہے کہ اللہ نے زمین میں سب سے پہلے خانہ کعبہ کی جگہ کو پیدا کیا اور باقی تمام زمین اس کے نیچے سے بچھائی گئی یعنی باعتبار زمانہ کے اولیت مراد ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اولیت باعتبار شرف اور فضیلت کے ہے زمانہ کے لحاظ سے نہیں یعنی برکت اور ہدایت کے یہ پہلا گھر ہے جیسا کہ لفظ مبارکا وھدی للعالمین۔ اس پر دلالت کرتا ہے یعنی برکت اور ہدایت کے لحاظ سے سب سے اول اور سب سے افضل اور سب سے مقدم خانہ کعبہ ہے تحقیق یہ کہ مقصود اصلی تو خانہ کعبہ کی افضیلت بیان کرنا ہے کہ خانہ کعبہ بیت المقدس سے افضل ہے اور ظاہر ہے کہ یہ مقصد جب حاصل ہوگا کہ جب اولیت سے شرف اور فضیلت کے اعتبار سے اولیت مراد ہو محض زمانہ کے اعتبار سے اولیت شرف اور فضیلت کا مدار نہیں بن سکتی۔ البتہ زمانہ کی اولیت شرف اور فضیلت کی اولیت کے لیے موئید ضرور ہوسکتی ہے اس لیے کہ اولیت رتبہ کے منافی اور مباین نہیں خانہ کعبہ کی جگہ باعتبار زمانہ کے بھی اول ہے اور باعتبار شرف اور فضیلت کے بھی اول ہے لہذا ثابت ہوگیا کہ خانہ کعبہ بیت المقدس سے باعتبار زمانہ کے اول ہے اور باعتبار فضیلت کے بھی اول ہے۔
اسرار قبلہ۔
حضرت مولانا قاسم صاحب نانوتوی۔ بانی دارالعلوم دیوبند قدس سرہ نے خاص اس موضوع پر قبلہ نما کے نام سے ایک مستقل تحریر لکھی ہے جو علم لدنی کے حقائق ومعارف کا گنجینہ اور اسرار ولطائف کا ایک خزینہ ہے ہم اس مقام نہایت اختصار کے ساتھ اس کا خلاصہ مع اضافہ شواہد ہدیہ ناظرین کرتے ہیں اصل مضمون حضرت مولانا قاسم (رح) کا ہے اور شواہد کا اضافہ اس ناچیز کی طرف سے ہے۔ وماتوفیقی الاباللہ علیہ توکلت والیہ انیب۔ آیت۔
حق جل شانہ نے انسان کو پانی عبادت کے لیے پیدا کیا اور عبادت کی حقیقت یہ ہے کہ بندہ اپنے معبود کے سامنے اپنے عجز ونیاز کا اظہار کرے اور آداب عبودیت بجا لائے اس لیے ضروری ہے کہ عابد اور معبود میں آمنا سامنا ہو اور آمنا سامانا ہونے کے لیے بظاہر مکان اور جہت درکار ہے اورا للہ تعالیٰ جہت اور مکان سے پاک اور منزہ ہے کیونکہ وہ تو خود جہت اور مکان اور زمان کا خالق ہے اور انسان جسم اور روح سے مرکب ہے سو عبادت روحانی کے لیے تو کسی جہت اور مکان کی ضرورت نہیں اس لیے کہ روح مکانی نہیں روح خداوندی کی بےچونی اور بیچگوئی کا نمونہ ہے جیسا کہ حدیث میں ہے خلق اللہ آدم علی صورتہ اس لیے روح کی عبادت کے لیے قلبی اور معنوی توجہ کافی ہے کسی قبلہ اور جہت کی ضرورت نہیں۔
البتہ عبادت جسمانی بدون تقابل جہت متصور نہیں اور انسان چونکہ مقید فی الجہت ہے اس لیے اس کو یہ حکم دینا کہ جہت سے علیحدہ ہو کر عبادت کیا کرو تو یہ تکلیف مالایطاق ہے اور فقط روحانی عبادت کافی نہیں بلکہ روح اور جسم دونوں ہی مکلف ہیں روحانی عبادت کی طرح جسمانی عبادت بھی فرض ہے اور لازم ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ روح تو عبادت کی مخاطب ہو اور جسم معطل رہے اور یہ بھی مناسب نہیں کہ ہر شخص جس طرف چاہے سجدہ کرلیا کرے اور ہر ایک اپنا جدا قبلہ بنائے اس لے اللہ نے ایک جہت مقرر فرمادی تاکہ ایک سمت متعین ہوجائے اور ملت کے انتظام میں فرق نہ آئے کیونکہ جو جہت اللہ کی طرف سے مقرر ہوگی اس میں کسی کو ردوبدل کی گنجائش نہ ہوگی باقی رہا یہ امر کہ اس خاص سمت کی تعین کی وجہ کیا ہے سو وہ اللہ ہی کو معلوم ہے اور اگر یہ اجازت ہوتی کہ جس طرف کو جی چاہے وہ سجدہ کرلیا کرے تو اس میں انتظام اور اتفاق کی کوئی صورت نہ تھی۔ اور ظاہر ہے کہ اتفاق ایک نہایت محمود اور پسندیدہ چیز ہے۔ حق جل شانہ کی ذات چونکہ بےچون وچگون ہے اس لے وہ کسی حد میں محدود اور مقید نہیں البتہ اس کی کوئی تجلی اور کوئی پرتو کسی محدود اور مقید پر پڑ سکتا ہے جیسے آفتاب کا عکس پر تو آئینہ پر پڑتا ہے ہر شخص جانتا ہے کہ آئینہ فقط ایک مظہر اور نماش گاہ ہے محل قید نہیں آئینہ کا آفتاب کو اپنے آغوش میں لے لینا قطعا محال ہے البتہ فقط آئینہ میں جلوہ گر ہوسکتا ہے جیسے آسمان کی پتلی جلوہ گھر ہوتا ہے مگر انعکاس کی ایک شرط تو یہ ہے کہ آئینہ صاو شفاف ہو دوسری شرط یہ ہے کہ آفتاب کے مقابل ہو بغیر تقابل کے انعکاس ممکن نہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کی کی ذات بےچون وچگون کو سمجھو کہ وہ حدود اور قیود سے پاک اور منزہ ہے مگر کسی جہت اور مکان اور کسی محدود شی میں اس کی تلی ممکن ہے۔
کتاب وسنت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عرش اور پانی جل شانہ کی اول مخلوقات سے ہے کمال قال تعالی۔ وکان عرشہ علی الماء۔ آیت۔ اور اللہ جل شانہ کی سب سے بڑی تجلی عرش پر ہے اور الرحمن علی العرش استوی۔ آیت۔ میں اسی تجلی کی طرف اشارہ ہے عرش کے معنی تخت اور بلند مقام کے ہیں اور استواء کے معنی استقرار اور تمکن کے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ آیت میں ظاہری معنی قطعا مراد نہیں اس لیے کہ اللہ کوئی جسم نہیں جو تخت پر بیٹھے اور قرار پائے بلکہ استواء علی العرش سے اس کی شان احکم الحاکمین کو بیان کرنا ہے جیسا کہ تخت نشینی کا لفظ حکومت اور اقتدار کے لیے بطور کنایہ مستعمل ہوتا ہے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ کے احکم الحاکمین اور اس کے تسلط تام اور تدبیر عام کو استواء علی العرش کے لفظ سے تعبیر کیا گیا کہ اس کی احکم الحاکمین اور شہنشاہی ایسی راست اور ہموار ہے کہ اس میں کسی قسم کی مزاحمت اور کسی قسم کی گڑبڑ کا امکان اور واہمہ بھی نہیں خلاصہ یہ کہ عرش عظیم اس رب عظیم کی شان احکم الحاکمینی کا ایک تجلی گگاہ اور نمائش گاہ ہے معاذ اللہ خدائے بےچون چگون کی جائے قرار اور محل استقراء نہیں غرض یہ کہ عرش عظیم اللہ کی اول مخلوق ہے۔ عرش کے بعد اللہ نے سب سے پہلے زمین کو پیدا فرمایا اور اس کے اور اس کے آسمان کو پیدا کیا جیسا کہ سورة بقرہ میں ہے۔ ھوالذی خلق الکم ما فی الارض تا وھو بکل شئی علیم۔ آیت۔ اور اسی طرح سورة حم سجدہ میں مصرح ہے۔ ثم استوی سبع سموات وھو بکل شئی علیم۔ آیت۔ سورة بقرہ اور سورة حم سجدہ کی ان آیات سے صاف ظاہر ہے کہ پہلے زمین کو پیدا کیا اور پھر آسمان کو اور قیاس عقل بھی اسی کو مقتضی ہے کہ پہلے زمین پیدا ہو اور آسمان بعد میں اس لیے کہ اللہ نے زمین کو فرش اور آسمان کو سقف (چھت) فرمایا ہے اور ظاہر ہے تعمیر چھت کی جانب سے شروع نہیں ہوتی بلکہ فرش کی جانب سے ہوتی ہے اور زمین میں اللہ نے سب سے پہلے خانہ کعبہ کی جگہ کو پیدا فرمایا اور پھر باقی زمین اسی جگہ سے بچھائی گئی اور پھیلائی گئی کعبہ زمین کا ٹکڑا ارض کا مرکزی نقطہ ہے جو ٹھیک وسط ارض میں واقع ہے جیسا کہ ان اول بیت۔ آیت۔ اس پر دال ہے وکما یدل علیہ قولہ تعالیٰ وکذالک جعلنا کم امتہ۔ آیت۔ اور ایک روایت میں ہے کہ اول پانی تھا اور اس پانی پر عرش کبریائی تھا پھر اس پانی میں سے جہاں اس جگہ خانہ کعبہ ہے ایک بلبلا اٹھا اور جھاگ نمودار ہوئی اس سے زمین کی بنا شروع ہوئی۔
یہ روایت بھی خانہ کعبہ کی اولیت پر دال ہے اور اس پر بھی دلالت کرتی ہے کہ اس جگہ کا عرش اور عرش کے پانی سے خاص تعلق ہے۔
اور جس طرح خانہ کعبہ آبادی میں اول ہے اسی طرح ویرانی میں بھی اول ہے کہ قیامت کے وقت یہی ٹکڑا سب سے پہلے ویران ہوگا جیسا کہ یہ آیت جعل اللہ الکعبۃ البیت۔۔۔ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کیونکہ قیاما للناس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک یہ گھر قائم ہے جبھی تک بنی آدم کا بھی اس عالم میں قیام ہے اور جس دن یہ ویران ہوگا تو تمام کارخانہ، عالم بھی ویران ہوجائے گا کیونکہ بدلالت آیت خلق لکم ما فی الارض۔ آیت۔ یہ بات عیاں ہے کہ زمین و آسمان سب بنی آدم کے لیے ہیں جب بنی آدم نہ ہوں گے تو زمین و آسمان ہی کس کے لیے رہیں گے گھاس دانہ گھوڑوں تک رہتا ہے جب وہ نہیں رہتے تو اسے کون رکھتا ہے جب دارالخلافہ آباد کیا جاتا ہے تو اول مکانات شاہی کے لیے کوئی جگہ تجویز ہوتی ہے اور اس کی بناڈالی جاتی ہے اس کے بعد امراء اور وزراء اور رعایا کے مکانات بنتے ہیں اور جب دارالخلافہ بحکم شاہی کسی مصلحت سے ویران کیا جاتا ہے تو اول بادشاہ اپنے مکانات کو چھوڑتا ہے اور اس کی اتباع میں پھر خواص اور عوام اپنے اپنے مکانات چھوڑ کر اس کے پیچھے ہوتے ہیں معلوم ہوا کہ محل سرائے جس طرح تعمیر میں اول ہے اسی طرح تخریب میں بھی اول ہے۔
پس اسی طرح خانہ کعبہ کو بمنزللہ قصری شاہی یا خیمہ شاہی خیال فرمائیے اور کیوں نہ ہو وہ تجلی گاہ ربانی اور آئینہ جمال یزدانی ہے اس لیے اس کو بنانے میں اول رکھا اور ویرانی عالم کے وقت بھی اس کو اول رکھیں چناچہ آیت ان اول بیت۔ آیت۔ اس کی اولیت تعمیر پر دلالت کرتی ہے اور آیت جعل اللہ الکعبۃ آیت۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ گھر لوگوں کے قیام اور بقاء کا باعث ہے اور اس کی اولیت ویرانی پر دلالت کرتی ہے اس لیے حاصل اشارہ قرآنی یہ ہوا کہ جب تک یہ گھر قائم ہے لوگ بھی اس عالم میں قائم ہیں اور جس روز یہ گھر ویران ہوگا اور اس روز عالم کا خراب اور ویران سمجھو۔
خانہ کعبہ عرش کی محاذات میں ہے۔
روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ خانہ کعبہ عرش عظیم کی محاذات میں ہے۔
امام عبدالرزاق نے ابن جریج اور عطاء اور سعید بن المسیب وغیرہ سے روایت کیا ہے کہ اللہ نے حضرت آدم کی طرف وحی بھیجی کہ اے آدم جب تم زمین پر اترو تو میرے لیے ایک گھر بناؤ اور پھر اس کا طواف کرو جیسا کہ تم نے فرشتوں کو میرے عرش کا طواف کرتے دیکھا۔ اور ابن عباس سے مروی ہے کہ جب آدم (علیہ السلام) جنت سے زمین پر اترے تو اللہ نے ان سے یہ فرمایا اے آدم تم جاؤ اور اس کا طواف کرو اور اس کے سامنے میرا ذکر کرو جیسا کہ تم نے فرشتوں کو میرے عرش کا طواف کرتے دیکھا۔
پس جبکہ خانہ کعبہ عرش عظیم کی محاذات میں ہے تو عرش عظیم کے انوار اور تجلیات خانہ کعبہ میں منعکس ہوں گے اور اگر یہ کہا جائے کہ عرش عظیم اور خانہ کعبہ کے درمیان بیت المعمور واقع ہے جو ساتویں آسمان پر فرشتوں کا قبلہ ہے) وہ درمیان میں حائل ہے تو جواب یہ ہے کہ اس کی حیلولت خانہ کعبہ پر عرش عظیم کی تجلی سے مانع نہیں اس لیے کہ بیت المعمور ایک صاف اور شفاف آئینہ کی طرح ہے اور ٹھیک عرش عظیم کی محاذات میں واقع ہے تو تقابل میں کوئی فرق نہ آئے گا اور نہ تعاکس انوار میں کوئی خلل آئے گا اگر آفتاب کے سامنے یکے بعد دیگرے دو صاف و شفاف آئینے بالکل ایک دوسرے کی محاذات میں ہوں تو انعکاس میں کوئی فرق نہ آئے گا۔
مساجد خانہ کعبہ کی محاذات میں ہیں۔
جب یہ معلوم ہوگیا کہ خانہ کعبہ عرش عظیم کی محاذات میں ہے اور یہ سب کو معلوم ہے کہ روئے زمین کی تمام مسجدیں خانہ کعبہ کی سمت پر واقع ہیں تو اس محاذات اور مسامت کی وجہ سے خانہ کعبہ اور مساجد کے درمیان ایک معنوی تعلق اور ربط قائم ہوجائے گا جیسے بجلی کی تاروں کا کسی مرکز سے تعلق ہوتا ہے پس اس معنوی تعلق کی بنا پر خانہ کعبہ اور مساجد کے انوار و تجلیات میں توارد اور تعاکس ہوگا۔ ادھر کے انوار ادھر جائیں گے اور ادھر کے انوار ادھر آئیں گے اور انعکاس کے معنی لغت میں لوٹ کر آنے کے ہیں پس خانہ بمنزلہ مرکزی نقطہ کے ہوگا اوراقطار عالم میں مساجد کی صفوف بمنزلہ دوائر محیط یا بمنزلہ خطوط دائرہ ہوں گی جن کا منتہی وہی مرکزی نقطہ ہوگا جس کو خانہ کعبہ کہتے ہیں جیسے بجلی کے تار کسی مرکز سے متعلق ہوتے ہیں تو بیک وقت تمام قمقمے روش ہوجاتے ہیں اس طرح عرش سے فرش تک اور فرش سے عرش تک آسمانوں اور روئے زمین کی تمام مسجدوں کے انوار تجلیات میں عجیب قسم کا تجاذب اور تعاکس ہوگا۔
تعمیر بیت المقدس
حدیث میں ہے کہ حضرت آدم نے بحکم خداوندی اول خانہ کعبہ تعمیر کیا اور پھر بحکم خداوندی چالیس سال بعد بیت المقدس کو تعمیر کیا۔
جس سے معلوم ہوا کہ خانہ کعبہ اور بیت المقدس میں چالیس سال کا تفاوت ہے بظاہر اس تفاوت کی وجہ یہ ہے کہ خانہ کعبہ بمنزلہ ایوان شاہی کے ہے اور خدا وند کریم کی شان احکم الحاکمین اور شان ارحم الراحمین اور شان محبوبی کا مظہر اور تجلی گاہ ہے۔ اور بیت المقدس بمنزلہ ایوان وزراء اور دیوان حکام اور بمنزلہ عدالت کے ہے جو اس کی شان عدل اور قہر کا مظہر ہے اور قاعدہ یہ ہے کہ عدالت اور ایوان وزراء محل شاہی سے کچھ فاصلہ پر ہوتا ہے اس لیے قبلہ ثانی (بیت المقدس) کی عمارت خانہ کعبہ کی عمارت سے کچھ فاصلے پر رکھی گئی اہل نظر کا خیال ہے کہ شان عدل، شان ارحم الراحمینی سے چالیس درجہ فروتر ہے اس لیے خانہ کعبہ کی تعمیر کے چالس سال بعد بیت المقدس کی تعمیر ہوئی اور بیت المقدس خانہ کعبہ سے چالیس منزل کے فاسلہ پر شمال کی جانت میں واقع ہے۔ پس عجب نہیں کہ اس حدیث میں اسی تفاوت کی طرف اشارہ ہو اور غالبا یہی وجہ ہے کہ انبیاء سابقین کے دور میں بیت المقدس نماز کا تو قبلہ رہا مگر انبیاء سابقین، حج خانہ کعبہ ہی کا کرتے رہے کیونکہ خانہ کعبہ شان محبوبی کا مظہر اور تجلی گاہ ہے اور حج کے تمام افعال سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ سارا عاشقانہ عمل کسی محبوب کی رضا جوئی کے لیے ہے اور ہر سال حج میں جو اجتماع ہوتا ہے اس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہر شخص کسی جمال بےمثال کا دویانہ اور پروانہ بنا ہوا ہے نہ سر پر عمامہ ہے اور نہ پیر میں کوئی موزہ اور جراب ہے اور نہ بدن پر قمیص اور پاجامہ ہے اور نہ کوئی سلا ہوا کپڑا بدن پر صرف ایک ازار اور ایک چادر ہے نہ کوئی خوشبو اور عطر ہے دمبدم خدا کو پکار رہا ہے نہ مرد کو عورت سے مطلب اور نہ عورت کو مرد سے مطلب بہرحال خانہ کعبہ خانہ محبوبیت ہے اور بمنزلہ محل سرائے شاہی کے اور بیت المقدس بمنزلہ عدالت اور کچہری کے ہے جو فقط مظلومین کی داد رسی اور ظالمین کی سزا کے لیے ہوتی ہے۔
اور چونکہ خانہ کعبہ عرش عظیم کی محاذات میں ہے اس لیے یہ معلوم ہوتا ہے کہ خانہ کعبہ کی برکات اور تجلیات کبھی اس سے جدا نہیں ہوتیں اس لیے کہ خانہ کعبہ کی نسبت قرآن کریم میں لفظ مبارکا آیا ہے کہ برکت خانہ کعبہ کی صفت ذاتیہ ہے اور بیت المقدس کے بارے میں بارکنا حولہ آیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بیت المقدس کی برکات عوارض کی طرح ممکن الانفصال ہیں خانہ کعبہ کی طرح لازم الاتصال نہیں یہی وجہ ہے کہ بیت المقدس چند بار محافظوں اور بےدینوں کے ہاتھوں سے خراب اور برباد ہوا اور خانہ کعبہ پر باوجود مخالفین کی کثرت اور شوکت کے آج تک اس کی نوبت نہیں آئی اس کا ایک پتھر بھی مسمار کرنے کی نیت سے اکھاڑ سکے جیسا کہ اصحاب فیل کا قصہ اس کا شاہد ہے اس لیے کہ اس کی برکات ذاتی ہیں اور وہ بمنزلہ سرائے اور دیوان خاص کے ہے اس لیے اس کی نگہبانی ہمیشہ کے لیے ضروری ہے۔
خلاصہ۔
یہ کہ خانہ کعبہ جس طرح آبادی میں اول ہے اس طرح ویرانی اور بربادی میں بھی اس کا اول ہونا ضروری ہے کہ سارے عالم کی ویرانی اور بربادی کی ابتداء اسی سے ہو اور ایسی ہی جگہ قبلہ بنانے کے لیے لائق ہے جو ہر اعتبار سے اول ہو اور انوار تجلیات کا مبداء بھی وہی ہو اور منتہی بھی وہی ہو اور ایسے قبلہ کے لیے اول ہی درجہ کا نبی اور اول ہی درجہ کی امت چاہیے کہ جو کمالات یزدانی اور عنایات ربانی کا مبداء اور منتہی ہو اور ایسا نبی سوائے خاتم النبین محمد رسول اللہ ﷺ کے اور ایسی امت سوائے امت محمدیہ کے اور کوئی نہیں جو کمالات علمیہ یعنی علوم ومعارف میں اور کمالات عملیہ یعنی عبدیت اور عبودیت میں سب سے اول ہے اور کمالات عبودیت اس پر ختم ہیں لہذا ایسے نبی اور ایسی امت کا قبلہ بھی وہی جگہ ہونی چاہے کہ جوا نوار ربانی اور تجلیات یزدانی کا مبداء اور منتہی اور مرکزی نقطہ ہو۔
3۔ بیت اللہ شریف۔ اس خاص بیت اللہ کا نام اس وقت تک ہے جب تک وہ اس خاص مکان اور خاص جو (کلاء) کے ساتھ مقید رہے چناچہ اگر اس کے پتھروں کو اٹھا کر دوسری جگہ رکھ دیں تو وہ بیت اللہ نہیں ممکن ہے کہ کوئی یہ خیال کرے کہ بیت اللہ ایک کو ٹھا ہے جب اس کو منہدم کردیا جائے تو بس حج نہ ہوگا بلکہ اس زمین کا نام بھی نہیں چناچہ اگر تحت الثری تک وہاں کی مٹی اٹھا کر دوسری جگہ ڈال دی جائے تب بھی بیت اللہ موجود ہے پس بیت اللہ درحقیقت اس بعد مجرد کا نام ہے جو تحت الثری سے عنان سماء تک ہے نہ وہ کو ٹھا ہے بیت اللہ ہے۔ اور نہ وہ زمین بیت اللہ ہے چناچہ اگر کوئی بیت اللہ شریف کے اوپر یا کسی مکان کے اوپر نماز پڑھے جو بیت اللہ سے بلند ہو تو اس کی نماز بلاشبہ درست ہے۔
4۔ یہاں سے اس اعتراض کا جواب بھی ہوگیا جو بعض غیر قوموں نے کیا ہے کہ مسلمان بھی بت پرستی کرتے ہیں یعنی کعبہ کی طرف سجدہ کرتے ہیں۔
تقریر جواب۔
ہم خانہ کعبہ کی عبادت اور پرستش نہیں کرتے اور نہ ہم خانہ کعبہ کو معبود اور مسجود سمجھتے ہیں ہم عبادت صرف خدا کی کرتے ہیں اور البتہ منہ قبلہ کی طرف کرتے ہیں چناچہ لفظ استقبال کعبہ اور لفظ بت پرستی خود اس پر شاہد ہے استقبال کے معنی صرف اس کی طرف منہ کرنے کے ہیں اور بت پرستی کے معنی یہ ہیں کہ بت معبود ہیں ہاں اگر اہل اسلام کعبہ پرستی کے قائل ہوتے تو اعتراض بجا تھا۔ دوم یہ کہ اہل اسلام کے نزدیک نماز کے صحیح ہونے کے لیے فقط کعبہ کی طرف منہ ہوجانا کافی ہے استقبال کی نیت کی بھی ضرورت نہیں مقصود معبود ہے اس کی نیت ضروری ہے جہت قبلہ اس کا وسیلہ ہے اور وسیلہ کی نیت ضروری نہیں معاذ اللہ اگر خانہ کعبہ کی عبادت ہوتی تو معبود کی نیت ضروری ہوتی۔ سوم یہ کہ نماز کے شروع سے لے کے اخیر تک کوئی لفظ بھی ایسا نہیں جو خانہ کعبہ کی تعظیم پر دلالت کرے شروع سے اخیر ہر لفظ اور ہر فعل اللہ کی تعظیم اور کبریائی اور اس کی حمد وثناء اور تسبیح تقدیس پر ہی دلالت کرتا ہے اول سے آخر تک خانہ کعبہ کا نام تک نہیں آتا اور بت پرستی میں ان پتھروں اور مورتوں کی تعظیم ہوتی ہے جن کو آپ مہادیو اور شب وغیرہ بتاتے ہیں غرض یہ کہ بت پرستی کو نماز سے کیا نسبت۔ ببیں تفاوت راہ از کجاست تا بکجا۔
چہارم یہ کہ خانہ کعبہ ان اینٹوں اور پتھروں کا نام نہیں اور نہ انہدام کعبہ کے بعد نماز موقوف ہوجاتی ہے یہی وجہ سے کہ جس زمانہ میں خانہ کعبہ کی اور اس کی دیواریں منہدم ہوئیں نماز بدستور قدیم جاری رہی اگر دیوار کعبہ مسجود و معبود یا مقصود ہوتی تو اس زمانہ میں نماز موقوف ہوجاتی بہت ہوتا تو یہ کہ بعد تعمیر ایام گزشتہ عبادت کی قضا کی جاتی اور بت پرستی میں ظاہر ہے کہ بت ہی معبود اور مسجود اور مقصود ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کسی شوالے یا مندر سے بتوں کو اٹھا کر کہیں اور رکھ دیں تو پھر سارے فرائض وہاں ادا ہوتے ہیں مکان اول کو کوئی نہیں پوچھتا۔ اور یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی شخص خانہ کعبہ کی چھت پر نماز پڑھے تو اس کی نماز درست ہے اگر کعبہ مسلمانوں کا معبود ہوتا تو اس کے اوپر چڑھ کر نماز درست نہ ہوتی اس لیے کہ خانہ اب اس کے سامنے نہیں نیز معبود پر چڑھنا گستاخی ہے معترضین نے اپنے اوپر قیاس کیا ہوگا کہ وہ گائے اور بیل کو دیوتا اور معبود بھی سمجھتے ہیں پھر ان پر سوار بھی ہوتے ہیں اور سامان بھی لادتے ہیں اور اگر دیوتا جلدی جلدی نہیں چلتا تو پیچھے سے اس کے ڈنڈے بھی مارتے ہیں۔ بریں عقل و دانش بباید گریست۔
پنجم۔ خانہ کعبہ کو اہل اسلام بیت اللہ کہتے ہیں اللہ یا خدا نہیں کہتے اور ظاہر ہے کہ اگر کوئی شخص کسی مکان کی طرف جاتا ہے تو مکین مقصود ہوتا ہے اور وہاں جا کر جو آداب ونیاز بجالاتا ہے تو ہر شخص اس آداب ونیاز کو صاحب خانہ کے لیے سمجھتا ہے جیسے تخت کی طرف جھک کر سلام کرنا تو وہ سلام صاحب تخت کو ہوتا ہے خود تخت کو نہیں ہوتا اور بت پرستی اپنے بتوں کو خانہ خدا یا تخت خدا نہیں سمجھتے بلکہ وہ بت خود مقصود اور معبود ہوتے ہیں اور ان کو مہادیو یا شب یا گنیش وغیرہ سمجھ کر ان کی عبادت کرتے ہیں حضرت مولانا محمد قاسم قدس اللہ سرہ کی تحریر کا خلاصہ ختم ہوا تفصیل کے لیے حضرات اہل علم قبلہ نما کی مراجعت فرمائیں۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔