6. Surah Al-An'aam
الأنعامThe Cattle · 165 ayahsبصیرتِ قرآن
تعارف
تعارف
تعارف سورة الانعام بسم اللہ الرحمن الرحیم سورۃ نمبر 6 رکوع 20 آیات 165 الفاظ وکلمات 3100 حروف 12935 مقام نزول مکہ مکرم ٰ 60 آیات مدینہ منورہ میں نازل ہوئیں۔ ٭خصوصیت : یہ سورة ایک ہی رات میں ستر ہزار فرشتے لے کر نازل ہوئے۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم انعام ” نعم “ کی جمع ہے (یعنی جانور) مویشی ‘ چوپائے جانوروں کو کہا جاتا ہے۔ اس سورة کے سولہویں ستر ھویں رکوع میں بعض جانوروں کے حلال و حرام ہونے کو بیان کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں کفار کہ کے بعض توہمات کو بھی دور کیا گیا ہے جو عرب میں عا م تھے۔ اسی لیے اس سورة کا نام ” الانعام “ رکھا گیا ہے۔ اگرچہ یہ سوۃ مکی کلاتی ہے مگر اس میں وہ ساٹھ آیتیں بھی شامل ہیں جو مدینہ منورہ میں نازل ہوئیں بقیہ ایک سو پانچ آیتیں ہجرت سے کچھ پہلے مکہ مکرمہ نازل ہوئیں۔ اس سورة کی ایک خصویت یہ ہے کہ اس سورة کی ایک سو پانچ آیتیں ایک ہی رات میں نازل ہوئیں جنہیں اسی رات نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لکھنے کا حکم دیا۔ متعدد احادیث میں اس سورة کے نازل ہونے کی ایک بہت بڑی شان بیان فرمائی گئی ہے۔ احدیث میں آتا ہے کہ جس رات پر سورة نازل ہوئی اس رات زمین سے آسمان تک نور ہی نور پھیلا ہوا تھا۔ تمام فرشتے اللہ کی حمد وثناء کررہے تھے۔ ان کی تسبیحات کی گونج سے زمین و آسمان میں ایک عجیب سا سماں تھا۔ اسی دوران ستر ہزار فرشتے اس سورة کو لے کر نازل ہوئے۔ وہ اللہ کی تسبیح کررہے تھے اور اللہ کو سجدے کررہے تھے۔ فرشتوں کی تسبیح اور سجدوں سے زمین و آسمان منور تھے۔ یہاں تک کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اللہ کی تسبیح کرتے ہوئے سجدے میں چلے گئے۔ احادیث میں اس سورة کی بہت سی فضیلتیں آئی ہیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ جو شخص سورة الانعام کی پہلی تین آیتوں کی تلاوت کرے گا اللہ تعالیٰ ایسے چالیس فرشتوں کو نازل فرمائے گا جو عبادت کریں گے جس کا ثواب اس شخص کو بھی عطا کیا جاتا رہے گا جو اس کی تلاوت کرے گا فرشتے اس کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہوئے اللہ کی رحمتوں کو اس شخص پر نازل کرتے رہیں گے۔ جو شخص اس سورة کو پڑھتا ہے تو ایک فرشتہ آسمان سے اترتا ہے جس کے ہاتھ میں لوہے کا ایک گرز ہوتا ہے۔ شیطان اگر پڑھنے والے کے دل میں وسوسہ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے تو فرشتہ اس گرز سے شیطان کی خبر لیتا ہے اور شیطان اور اس کے درمیان ستر حجاب (پردے) ڈال دیئے جاتے ہیں۔ اس سورة کو پڑھنے والے کے لئے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائیں گے کہ اے میرے بندے تو میرے نور کے سائے میں چل ‘ جنت کے پھلوں سے لذت حاصل کر ‘ حوض کوثر سے پانی پی ‘ اور نہر سلسبیل میں غسل کر تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا پروردگار ہوں۔ اس سورة کا مرکزی مضمون توحید و رسالت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دور جہالت میں کفار ایسے تو ہمات اور فضولیات میں مبتلا تھے جن توہمات کی تردید کی گئی ہے جن کی کوئی اصل اور بنیاد نہیں ہے۔ اہل ایمان کو کفار کے ظلم و ستم کے مقابلے میں تلی اور جنت کی بشاری دی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ زندگی کے ان بنیادی اصولوں کو بیان فرمایا گیا جو انسان کو زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھاتے ہیں۔ ٭کفار نے بہت سی چیزوں کو خود ہی حرام اور حلال کر رکھا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حقیقت میں جو چیزیں حرام اور ناجائز ہیں ان پر تم غور نہیں کرتے اور دوسری فضول بحثوں میں الجھے ہوئے ہو۔ فرمایا کہ اللہ نے جن چیزوں کو حرام قرار دیا ہے (١) اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک قرار دینا (٢) والدین سے بد سلوکی کرنا۔ (مفلسی کے ڈر سے اولاد کو قتل کرنا حرام ہے کیونکہ رازق تو اللہ ہے۔ (٤) چھپے ہوئے یا ظاہری گناہ کے کام کرنا (٥) کسی کو ناحق قتل کرنا (٦) یتیم بچے کے مال کو کھاجانا (٧) ماپ تول میں کمی کرنا (٨) وعدے کا پورا نہ کرنا۔ (٩) جب گواہی دینے کا وقت آجائے تو اس سے پیچھے ہٹ جانا (١٠) اللہ کے بتائے ہوئے سیدھے راستے سے ہٹ کر غلط اور گمراہی کے راستے پر چلنا یہ سب ناجائز باتیں ہیں ان سے بچنا ہر صاحب ایمان کے لیے ضروری ہے۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوْرَ١ؕ۬ ثُمَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ Open ayah 6:1 in the Quran reader
تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ اندھیرا اور اجالا بنایا۔ پھر بھی یہ کفار (غیر اللہ کو) اپنے رب کے برابر ٹھہرا رہے ہیں۔
هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِیْنٍ ثُمَّ قَضٰۤى اَجَلًا١ؕ وَ اَجَلٌ مُّسَمًّى عِنْدَهٗ ثُمَّ اَنْتُمْ تَمْتَرُوْنَ Open ayah 6:2 in the Quran reader
ہاں وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر اپنے حکم سے ایک مدت ٹھہرادی۔ اور پھر دوسری مدت بھی اس کے نزدیک معین اور مقرر ہے۔ مگر تم لوگ شک میں پڑے ہوئے ہو۔
وَ هُوَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الْاَرْضِ١ؕ یَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَ جَهْرَكُمْ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْسِبُوْنَ Open ayah 6:3 in the Quran reader
ہاں وہی اللہ آسمانوں میں بھی ہے اور زمین میں بھی۔ جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو اسے وہ جانتا ہے۔ اور جو کچھ تم کما رہے ہو اس سے بھی واقف ہے۔
وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ Open ayah 6:4 in the Quran reader
جب کبھی ان کے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ان کے پاس پہنچی تو انہوں نے اس سے روگردانی ہی کی۔
فَقَدْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ؕ فَسَوْفَ یَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 6:5 in the Quran reader
اب وہ اس حق کو بھی جھٹلا رہے ہیں جو ان کے پاس آیا ہے جس بات کا وہ اب تک مذاق اڑاتے رہے ہیں اس کی خبریں (حقیقت بن کر) ان کے سامنے عنقریب آئی جاتی ہیں۔
اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّنْ لَّكُمْ وَ اَرْسَلْنَا السَّمَآءَ عَلَیْهِمْ مِّدْرَارًا١۪ وَّ جَعَلْنَا الْاَنْهٰرَ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 6:6 in the Quran reader
کیا ایسے لوگوں نے نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے ہم کتنی ایسی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں جن کی اپنے اپنے دور میں (طاقت اور حکومت کو ہم نے اتنا گہرا اور) مضبوط بنایا تھا جو تمہیں ہم نے نہیں بنایا ہے ۔ ان پر ہم نے آسمان سے مسلسل بارشیں برسائیں اور ہم نے ان کے نیچے نہریں جاری کی تھیں۔ لیکن جب وہ گناہ پر گناہ ہی کرتے چلے گئے تو ہم نے انہیں نیست و نابود کردیا اور ان کی جگہ نئی قوموں کو اٹھا کھڑا کیا۔
وَ لَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ كِتٰبًا فِیْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْهُ بِاَیْدِیْهِمْ لَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 6:7 in the Quran reader
اے نبی ﷺ ! اگر ہم آپ پر کا غذ میں لکھی لکھائی کتاب بھی اتاردیتے جسے منکرین ہاتھ سے چھو لیتے ہٹ دھرم کفار یہی کہتے کہ یہ تو صریح جادو کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔
وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ مَلَكٌ١ؕ وَ لَوْ اَنْزَلْنَا مَلَكًا لَّقُضِیَ الْاَمْرُ ثُمَّ لَا یُنْظَرُوْنَ Open ayah 6:8 in the Quran reader
وہ کہتے ہیں اس (نبی ﷺ پر فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا۔ (اللہ نے فرمایا کہ ) اگر ہم فرشتہ اتار دیتے تو قصہ اچانک طے ہوجاتا۔ پھر انہیں کوئی مہلت نہ ملتی۔
وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ مَلَكًا لَّجَعَلْنٰهُ رَجُلًا وَّ لَلَبَسْنَا عَلَیْهِمْ مَّا یَلْبِسُوْنَ Open ayah 6:9 in the Quran reader
اگر ہم فرشتہ اتار بھی دیتے تو وہ بھی انسانی شکل و صورت میں ہوتا۔ تو جس شک میں وہ آج پڑے ہیں اسی شک میں پھر بھی پڑے رہ جاتے۔
وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 6:10 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ ! فکر نہ کیجئے) آپ سے پہلے بھی لوگ رسولوں کا مذاق اڑاتے رہے تھے اپنی گرفت میں لے لیا۔
قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 6:11 in the Quran reader
کہہ دیجئے کہ اے لوگو ! ذرا دنیا میں چلو پھرو اور خود دیکھ لو جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہو کر رہا ۔
قُلْ لِّمَنْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلْ لِّلّٰهِ١ؕ كَتَبَ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ١ؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:12 in the Quran reader
اے نبی ﷺ ! کہہ دیجئے کہ جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے وہ کس کی ملکیت ہے ؟ ۔ کہہ دیجئے کہ اللہ ہی کی ملکیت ہے۔ اسی نے اپنے اوپر رحم و کرم لازم کرلیا ہے۔ البتہ وہ تمہیں قیامت کے اس دن اکٹھا کرے گا جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ ہاں جنہوں نے خود ہی اپنے آپ کو نقصان میں ڈال کر رکھا ہے وہ ایمان نہ لائیں گے۔
وَ لَهٗ مَا سَكَنَ فِی الَّیْلِ وَ النَّهَارِ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 6:13 in the Quran reader
دن اور رات میں جو چیز بھی ٹھہری ہوئی ہے وہ اللہ ہی کی ہے۔ وہ سب کچھ سنتا ہے اور جانتا ہے۔
قُلْ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَتَّخِذُ وَلِیًّا فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ هُوَ یُطْعِمُ وَ لَا یُطْعَمُ١ؕ قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَسْلَمَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:14 in the Quran reader
آپ ان سے کہہ دیجئے کہ کیا میں اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کو معبود بنالوں وہ اللہ جس نے آسمانوں اور زمین کو بنایا ہے۔ وہ اللہ جو خود نہیں کھاتا مگر سب کو کھلاتا پلاتا ہے۔ (اے نبی ﷺ ! ) کہہ دیجئے مجھے حکم ہوا ہے کہ اللہ کی فرماں برداری میں پیش رہوں۔ اور آپ بہر حال مشرکوں میں سے ہر گز نہ ہوں۔
قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 6:15 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ ! ) کہہ دیجئے اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں قیامت کے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔
مَنْ یُّصْرَفْ عَنْهُ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَهٗ١ؕ وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ Open ayah 6:16 in the Quran reader
اس دن جس سے عذاب ٹل گیا اس پر اللہ نے بڑا رحم کیا۔ اور یہی بہت کھلی ہوئی کامیابی ہے۔
وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ بِخَیْرٍ فَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 6:17 in the Quran reader
اور اے مخاطب اگر اللہ تجھے کسی تکلیف میں ڈال دے تو اس کے سوا کوئی دور کرنے والا نہیں ہے۔ اگر اللہ تجھ پر کرم کردے تو اسے ہر بات پر قدرت حاصل ہے۔
وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:18 in the Quran reader
وہ اپنے بندوں پر کامل اختیارات رکھتا ہے۔ وہی حکمت والا اور علم رکھنے والا ہے۔
قُلْ اَیُّ شَیْءٍ اَكْبَرُ شَهَادَةً١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ۫ شَهِیْدٌۢ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١۫ وَ اُوْحِیَ اِلَیَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَ مَنْۢ بَلَغَ١ؕ اَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُوْنَ اَنَّ مَعَ اللّٰهِ اٰلِهَةً اُخْرٰى١ؕ قُلْ لَّاۤ اَشْهَدُ١ۚ قُلْ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ اِنَّنِیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۘ Open ayah 6:19 in the Quran reader
ان سے پوچھئے کہ سب سے بڑی چیز گواہی دینے کے اعتبار سے کون سی ہے ؟ ۔ آپ کہ دیجئے کہ اللہ ہی تو ہے جو تمہارے اور میرے درمیان سب سے بڑا گواہ ہے۔ اسی نے یہ قرآن مجھ پر بطور وحی بھیجا ہے کہ میں تمہیں اور جس جس کو یہ پہنچے خبردار کردوں۔ کیا واقعی تم لوگ یہ مانتے ہو کہ اللہ کے ساتھ دوسرے معبود بھی شریک کار ہیں ؟ کہہ دیجئے جہاں تک میرا تعلق ہے میں ہر گز ایسی شہادت نہ دوں گا۔ کہہ دیجئے وہی ایک معبود ہے اور جنہیں تم شریک ٹھہراتے ہو میں اس سے قطعی بیزار ہوں۔
اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ١ۘ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 6:20 in the Quran reader
ہم نے جن لوگوں کو کتاب دی ہے وہ رسول کو اتنا ہی یقینی پہچانتے ہیں جتنا اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں مگر جن لوگوں نے اپنے آپ کو خود ہی نقصان میں ڈال لیا ہے وہ کبھی مان کر نہ دیں گے۔
وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:21 in the Quran reader
اور اس سے زیادہ اپنے آپ پر ظلم کرنے والا کون ہے جو اللہ پر چھوٹا بہتان باندھتا ہے۔ اور اس کی آیات کو جھٹلاتا ہے۔ بیشک ظالم کبھی فلاح نہیں پائیں گے۔
وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَیْنَ شُرَكَآؤُكُمُ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 6:22 in the Quran reader
وہ دن جب ہم میدان حشر میں سب کو اکٹھا کریں گے اور پھر مشرکین سے پوچھیں گے کہ وہ شرکاء جن کو تم لوگوں نے گھڑ رکھا تھا کہاں ہیں ؟
ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا وَ اللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:23 in the Quran reader
( ان کے پاس بچنے کا کوئی حیلہ اور بہانہ نہ رہ جائیگا) ۔ وہ یہی کہیں گے۔ اس اللہ کی قسم جو ہمارا رب ہے ‘ ہم مشرک نہ تھے۔
اُنْظُرْ كَیْفَ كَذَبُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:24 in the Quran reader
ذرا دیکھو تو یہ اپنی جانوں پر کیسا جھوٹ بول رہے ہیں۔ اور وہ سارے معبود لاپتہ ہوجائیں گے جنہیں انہوں نے گھڑ رکھا تھا۔
وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ وَ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْكَ یُجَادِلُوْنَكَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 6:25 in the Quran reader
اور ان میں کچھ وہ لوگ ہیں جو (اے نبی ﷺ آپ کی طرف کان لگائے رکھتے ہیں (کہ کس بات کو بڑھا گھٹا کر اپنا رنگ دے دیں) اور ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال رکھے ہیں تاکہ اس کو سمجھ نہ سکیں۔ اور ہم نے ان کے کانوں میں گرانی پیدا کردی ہے کہ اگر وہ اللہ کی تمام نشانیاں بھی دیکھ لیں تب بھی ایمان نہ لائیں گے۔ حدیہ ہے کہ جب وہ آپ کے پاس (جھوٹ موٹ بحث کرنے کو) آتے ہیں تو وہ جنہوں نے کفر کا راستہ اختیار کر رکھا ہے کہتے ہیں کہ یہ سب پرانی کہانیوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔
وَ هُمْ یَنْهَوْنَ عَنْهُ وَ یَنْئَوْنَ عَنْهُ١ۚ وَ اِنْ یُّهْلِكُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 6:26 in the Quran reader
یہ ہی وہ لوگ ہیں جو دوسروں کو اس پیغام حق سے روکتے ہیں اور خود بھی بھاگے بھاگے پھرتے ہیں۔ اور یہ اپنی جان کے سوا کسی اور کو ہلاک نہیں کررہے ہیں مگر اس کو سمجھنے سے محروم ہیں۔
وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلَى النَّارِ فَقَالُوْا یٰلَیْتَنَا نُرَدُّ وَ لَا نُكَذِّبَ بِاٰیٰتِ رَبِّنَا وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 6:27 in the Quran reader
کاش آپ دیکھ سکتے جب وہ دوزخ کے سامنے کھڑے کئے جائیں گے۔ اس وقت وہ چلا چلا کر دہائی دیں گے کہ کاش ! اگر ہم پھر دنیا میں واپس بھیج دیئے جائیں تو ہم اپنے رب کی نشانیوں کو نہ جھٹلائیں گے اور ماننے سے انکار بھی نہیں کریں گے بلکہ ہم ایمان لانے والوں میں شامل ہوجائیں گے۔
بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُوْا یُخْفُوْنَ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ لَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 6:28 in the Quran reader
مگر اب ان کے سامنے وہ بات حقیقت بن کر آچکی ہوگی جس کو وہ پہلے سے چھپایا کرتے تھے۔ اگر واپس بھیج دیئے جائیں تو پھر بھی وہی کچھ کریں گے جس سے وہ منع کئے جاتے تھے۔ یقیناً یہ جھوٹے ہیں۔
وَ قَالُوْۤا اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ Open ayah 6:29 in the Quran reader
وہ کہتے ہیں کہ جو کچھ ہے بس یہی دنیا کی زندگی ہے اور ہمیں مرکر پھر دوبارہ زندہ نہیں ہونا ہے۔
وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ؕ قَالَ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا١ؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 6:30 in the Quran reader
کاش آپ وہ نظارہ دیکھ سکیں جب یہ اپنے رب کے سامنے کھڑے کئے جائیں گے۔ وہ پوچھے گا کیا یہ (نئی زندگی اور سز اوجزا) واقعی حقیقت نہ تھی ؟ وہ کہیں گے ہمارے رب کی قسم یہ واقعی بات تھی۔ پھر اللہ حکم دے گا کہ اب تم اس کفر کے سبب جو کیا کرتے تھے عذاب کا مزہ چکھو۔
قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُوْا یٰحَسْرَتَنَا عَلٰى مَا فَرَّطْنَا فِیْهَا١ۙ وَ هُمْ یَحْمِلُوْنَ اَوْزَارَهُمْ عَلٰى ظُهُوْرِهِمْ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ Open ayah 6:31 in the Quran reader
وہ لوگ کتنے بھاری نقصان میں پڑگئے جو اللہ سے ملاقات پر یقین نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ جب ان پر اچانک وہ گھڑی آپہنچے گی تو اس وقت وہ حسرت و افسوس سے پکاریں گے ہائے افسوس ہم سے اس معاملہ میں کیسی کوتاہی ہوگئی۔ اور وہ (گناہوں کا) بوجھ اپنی پیٹھ پر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ دیکھو کیسا برا بوجھ ہے جو یہ اٹھائے ہوئے ہوں گے۔
وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ لَلدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 6:32 in the Quran reader
دنیا کی زندگانی ایک کھیل تماشا ہے اور اہل تقویٰ کے لئے آخرت کا گھر سب سے اچھا ہے کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے ؟ ۔
قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَیَحْزُنُكَ الَّذِیْ یَقُوْلُوْنَ فَاِنَّهُمْ لَا یُكَذِّبُوْنَكَ وَ لٰكِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 6:33 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ ہم جانتے ہیں کہ : وہ باتیں جو یہ لوگ کرتے ہیں آپ کو رنج پہنچاتی ہیں مگر یہ لوگ آپ کو نہیں جھٹلاتے۔ بلکہ یہ ظالم خود اللہ کی آیات کا انکار کررہے ہیں۔
وَ لَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰى مَا كُذِّبُوْا وَ اُوْذُوْا حَتّٰۤى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا١ۚ وَ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَكَ مِنْ نَّبَاِی الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 6:34 in the Quran reader
آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول جھٹلائے جا چکے ہیں۔ گر جتنا کچھ بھی وہ جھٹلائے گئے اور جتنا کچھ بھی انہیں تکلیف دی گئی وہ صبر ہی کرتے رہے۔ یہاں تک کہ انہیں ہماری مدد پہنچ گئی۔ اور اللہ کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں ہے۔ اور گذشتہ رسولوں کی کچھ خبریں آپ تک پہنچ چکی ہیں۔
وَ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكَ اِعْرَاضُهُمْ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغِیَ نَفَقًا فِی الْاَرْضِ اَوْ سُلَّمًا فِی السَّمَآءِ فَتَاْتِیَهُمْ بِاٰیَةٍ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدٰى فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 6:35 in the Quran reader
اور اگر ان لوگوں کی بےرخی آپ پر گراں گزرتی ہے (تو انہیں تسلی دینے کے لئے) آپ اپنی طاقت لگا کر زمین میں سرنگ ڈھونڈ لیجئے یا آسمان تک سیڑھی لگا کر ان کے لئے کوئی معجزہ لے آیئے۔ بات یہ ہے اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو راہ ہدایت پر لے آتا۔ اس لئے آپ ہر گز نادانوں میں سے نہ ہوں۔
اِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُوْنَ١ؔؕ وَ الْمَوْتٰى یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ ثُمَّ اِلَیْهِ یُرْجَعُوْنَؐ Open ayah 6:36 in the Quran reader
دعوت حق کو وہی مانتے ہیں جو سمجھ کر سنتے ہیں ( رہے یہ مردہ دل) ۔ اللہ انہیں جب دوبارہ زندگی دے گا تو وہ اس کے سامنے حاضر کئے جائیں گے۔