6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة الانعام بسم اللہ الرحمن الرحیم سورۃ نمبر 6 رکوع 20 آیات 165 الفاظ وکلمات 3100 حروف 12935 مقام نزول مکہ مکرم ٰ 60 آیات مدینہ منورہ میں نازل ہوئیں۔ ٭خصوصیت : یہ سورة ایک ہی رات میں ستر ہزار فرشتے لے کر نازل ہوئے۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم انعام ” نعم “ کی جمع ہے (یعنی جانور) مویشی ‘ چوپائے جانوروں کو کہا جاتا ہے۔ اس سورة کے سولہویں ستر ھویں رکوع میں بعض جانوروں کے حلال و حرام ہونے کو بیان کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں کفار کہ کے بعض توہمات کو بھی دور کیا گیا ہے جو عرب میں عا م تھے۔ اسی لیے اس سورة کا نام ” الانعام “ رکھا گیا ہے۔ اگرچہ یہ سوۃ مکی کلاتی ہے مگر اس میں وہ ساٹھ آیتیں بھی شامل ہیں جو مدینہ منورہ میں نازل ہوئیں بقیہ ایک سو پانچ آیتیں ہجرت سے کچھ پہلے مکہ مکرمہ نازل ہوئیں۔ اس سورة کی ایک خصویت یہ ہے کہ اس سورة کی ایک سو پانچ آیتیں ایک ہی رات میں نازل ہوئیں جنہیں اسی رات نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لکھنے کا حکم دیا۔ متعدد احادیث میں اس سورة کے نازل ہونے کی ایک بہت بڑی شان بیان فرمائی گئی ہے۔ احدیث میں آتا ہے کہ جس رات پر سورة نازل ہوئی اس رات زمین سے آسمان تک نور ہی نور پھیلا ہوا تھا۔ تمام فرشتے اللہ کی حمد وثناء کررہے تھے۔ ان کی تسبیحات کی گونج سے زمین و آسمان میں ایک عجیب سا سماں تھا۔ اسی دوران ستر ہزار فرشتے اس سورة کو لے کر نازل ہوئے۔ وہ اللہ کی تسبیح کررہے تھے اور اللہ کو سجدے کررہے تھے۔ فرشتوں کی تسبیح اور سجدوں سے زمین و آسمان منور تھے۔ یہاں تک کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اللہ کی تسبیح کرتے ہوئے سجدے میں چلے گئے۔ احادیث میں اس سورة کی بہت سی فضیلتیں آئی ہیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ جو شخص سورة الانعام کی پہلی تین آیتوں کی تلاوت کرے گا اللہ تعالیٰ ایسے چالیس فرشتوں کو نازل فرمائے گا جو عبادت کریں گے جس کا ثواب اس شخص کو بھی عطا کیا جاتا رہے گا جو اس کی تلاوت کرے گا فرشتے اس کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہوئے اللہ کی رحمتوں کو اس شخص پر نازل کرتے رہیں گے۔ جو شخص اس سورة کو پڑھتا ہے تو ایک فرشتہ آسمان سے اترتا ہے جس کے ہاتھ میں لوہے کا ایک گرز ہوتا ہے۔ شیطان اگر پڑھنے والے کے دل میں وسوسہ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے تو فرشتہ اس گرز سے شیطان کی خبر لیتا ہے اور شیطان اور اس کے درمیان ستر حجاب (پردے) ڈال دیئے جاتے ہیں۔ اس سورة کو پڑھنے والے کے لئے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائیں گے کہ اے میرے بندے تو میرے نور کے سائے میں چل ‘ جنت کے پھلوں سے لذت حاصل کر ‘ حوض کوثر سے پانی پی ‘ اور نہر سلسبیل میں غسل کر تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا پروردگار ہوں۔ اس سورة کا مرکزی مضمون توحید و رسالت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دور جہالت میں کفار ایسے تو ہمات اور فضولیات میں مبتلا تھے جن توہمات کی تردید کی گئی ہے جن کی کوئی اصل اور بنیاد نہیں ہے۔ اہل ایمان کو کفار کے ظلم و ستم کے مقابلے میں تلی اور جنت کی بشاری دی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ زندگی کے ان بنیادی اصولوں کو بیان فرمایا گیا جو انسان کو زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھاتے ہیں۔ ٭کفار نے بہت سی چیزوں کو خود ہی حرام اور حلال کر رکھا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حقیقت میں جو چیزیں حرام اور ناجائز ہیں ان پر تم غور نہیں کرتے اور دوسری فضول بحثوں میں الجھے ہوئے ہو۔ فرمایا کہ اللہ نے جن چیزوں کو حرام قرار دیا ہے (١) اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک قرار دینا (٢) والدین سے بد سلوکی کرنا۔ (مفلسی کے ڈر سے اولاد کو قتل کرنا حرام ہے کیونکہ رازق تو اللہ ہے۔ (٤) چھپے ہوئے یا ظاہری گناہ کے کام کرنا (٥) کسی کو ناحق قتل کرنا (٦) یتیم بچے کے مال کو کھاجانا (٧) ماپ تول میں کمی کرنا (٨) وعدے کا پورا نہ کرنا۔ (٩) جب گواہی دینے کا وقت آجائے تو اس سے پیچھے ہٹ جانا (١٠) اللہ کے بتائے ہوئے سیدھے راستے سے ہٹ کر غلط اور گمراہی کے راستے پر چلنا یہ سب ناجائز باتیں ہیں ان سے بچنا ہر صاحب ایمان کے لیے ضروری ہے۔

Ayahs 6:1–3

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوْرَ١ؕ۬ ثُمَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ Open ayah 6:1 in the Quran reader

تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ اندھیرا اور اجالا بنایا۔ پھر بھی یہ کفار (غیر اللہ کو) اپنے رب کے برابر ٹھہرا رہے ہیں۔

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِیْنٍ ثُمَّ قَضٰۤى اَجَلًا١ؕ وَ اَجَلٌ مُّسَمًّى عِنْدَهٗ ثُمَّ اَنْتُمْ تَمْتَرُوْنَ Open ayah 6:2 in the Quran reader

ہاں وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر اپنے حکم سے ایک مدت ٹھہرادی۔ اور پھر دوسری مدت بھی اس کے نزدیک معین اور مقرر ہے۔ مگر تم لوگ شک میں پڑے ہوئے ہو۔

وَ هُوَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الْاَرْضِ١ؕ یَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَ جَهْرَكُمْ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْسِبُوْنَ Open ayah 6:3 in the Quran reader

ہاں وہی اللہ آسمانوں میں بھی ہے اور زمین میں بھی۔ جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو اسے وہ جانتا ہے۔ اور جو کچھ تم کما رہے ہو اس سے بھی واقف ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 3 : جعل (اس نے بنایا) ‘ الظلمت (ظلمۃ) ۔ اندھیرے ‘ النور (روشنی) ‘ یعدلون (عدل) برابر کرتے ہیں۔ (شرک کرتے ہیں) ‘ طین (مٹی) ‘ قضی (مقرر کردیا۔ فیصلہ کردیا) ‘ اجل (ایک مدت) ‘ مسمی (مقرر۔ متعین) تمترون (تم شک کرتے ہو) سر (بھید ‘ چھپی ہوئی چیز) ‘ جھر (کھلاہوا۔ ظاہر) تکسبون (تم کماتے ہو) تشریح : آیت نمبر 1 تا 3 : اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور رحمت کو دیکھنے اس پر غور کرنے اور پھر دل سے تعریف کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ ایسا کون ہے جو آسمان و زمین کی ٹھہری ہوئی اور حرکت کرتی ہوئی چیزوں کو دیکھے ‘ اس آنے والی اور جانے والی تاریکیوں اور روشنیوں کو دیکھے ‘ اس سکونی اور گردشی نظام کائنات کو دیکھے کہ سب کچھ انسان کو زندگی اور اس کی نعمتیں بخشنے کے لئے بنے ہیں۔ اور پھر بھی اس کا دل حیرت اور احسان مندی سے عش عش نہ کر اٹھے۔ الحمد کے معنی تعریف کے بھی ہیں اور شکر کے بھی۔ یعین حسن آفرینش کی قدرو قیمت پہچاننا بھی اور قولی و عملی احسان مندی بھی۔ یعنی معرفت بھی اور بندگی بھی۔ اس آیت نے ان دو سوالوں کا جواب دے دیا ہے جن کی طرف سائنس نے اپنی مصلحت سے اب تک رخ نہیں کیا۔ ہر چیزچاند ‘ سورج ‘ پہاڑ ‘ انسان کے ساتھ چند سوالات لازمی اٹھتے ہیں۔ یہ کیا ہے ؟ اسے کس نے بنایا ؟ اور کیوں بنایا ؟ سائنس اپنے آپ کو کیا اور کیسے میں الجھائے رکھتی ہے۔ ‘ کون ‘ اور ‘ کیوں ‘ سے دور بھاگتی ہے۔ تمام سائنس داں جانتے ہیں کہ اگر ہم نے ‘ کون ‘ اور ’ کیوں ‘ میں تحقیق کی تو ہمیں دین اسلام میں دخل ہونا پڑے گا اور یہ ان کی سیاسی مصلحتوں کے خلاف ہے۔ اسے کس نے بنایا۔ اس کا جواب لفظ اللہ میں ہے۔ اسے کیوں بنایا اس کا جواب لفظ الحمد میں ہے۔ الحمد للہ ہی سے قرآن شروع ہوتا ہے۔ الحمد للہ ہی تمام حقائق کی بنیاد ہے۔ لازم تو یہ تھا کہ انسان یہ سارے انسان کائنات کو اپنے لئے کام کرتے ہوئے دیکھتا تو اس کا سر خالق ومالک کے سامنے تحسین و تشکر میں جھک جاتا لیکن حیرت کا مقام ہے کہ کفار اور مشرکین غیر اللہ کو معبود ٹھہرا رہے ہیں۔ ذرا انسان یہ تو سمجھے کہ اسے کس نے پیدا کیا ‘ کس چیز (مٹی) سے پیدا کیا ‘ کس نے اس کی زندگی کی مدت مقرر کردی۔ کس نے اس کی موت کی تاریخ مقرر کردی اور پھر موت کے بعد قیامت تک کی مدت مقرر کردی۔ ذرا یہ سمجھئے کہ جو اسے موت دے سکتا ہے وہ مارنے کے بعد جلا بھی سکتا ہے اور جلانے کے بعد جزا و سزادے سکتا ہے۔ ذرا انسان یہ تو سمجھے کہ وہ جو آسمانوں ‘ زمین اور ہر چیز کو بنا سکتا ہے ‘ ایک نظام میں لگا کر سب کو مختلف حرکتوں اور منزلوں سے گزار سکتا ہے ‘ وہ انسان کی ایک ایک رکت کو کیوں نہیں دیکھ سکتا خواہ وہ پوشیدہ ہو یا ظاہر۔ اور پھر وہ ہر ایک کا اعمال نامہ کیوں نہیں مرتب کرسکتا۔ مگر جو بد نصیب ہے وہ ابھی تک شک میں پڑا ہے۔ اور مدت عمل گزرتی چلی جارہی ہے۔
Ayahs 6:4–6

وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ Open ayah 6:4 in the Quran reader

جب کبھی ان کے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ان کے پاس پہنچی تو انہوں نے اس سے روگردانی ہی کی۔

فَقَدْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ؕ فَسَوْفَ یَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 6:5 in the Quran reader

اب وہ اس حق کو بھی جھٹلا رہے ہیں جو ان کے پاس آیا ہے جس بات کا وہ اب تک مذاق اڑاتے رہے ہیں اس کی خبریں (حقیقت بن کر) ان کے سامنے عنقریب آئی جاتی ہیں۔

اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّنْ لَّكُمْ وَ اَرْسَلْنَا السَّمَآءَ عَلَیْهِمْ مِّدْرَارًا١۪ وَّ جَعَلْنَا الْاَنْهٰرَ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 6:6 in the Quran reader

کیا ایسے لوگوں نے نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے ہم کتنی ایسی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں جن کی اپنے اپنے دور میں (طاقت اور حکومت کو ہم نے اتنا گہرا اور) مضبوط بنایا تھا جو تمہیں ہم نے نہیں بنایا ہے ۔ ان پر ہم نے آسمان سے مسلسل بارشیں برسائیں اور ہم نے ان کے نیچے نہریں جاری کی تھیں۔ لیکن جب وہ گناہ پر گناہ ہی کرتے چلے گئے تو ہم نے انہیں نیست و نابود کردیا اور ان کی جگہ نئی قوموں کو اٹھا کھڑا کیا۔

لغات القرآن : آیت نمبر 4 تا 6 : ماتاتی (نہیں آتی) ‘ معرضین (اعراض کرنے والے۔ منہ پھیرنے والے) ‘ کذبوا ( انہوں نے جھٹلایا) انبوا (سچی خبریں) ‘ یستھزء ون ( وہ مذاق کرتے ہیں) ‘ الم یروا (کیا انہوں نے نہیں دیکھا) ‘ اھلکنا ( ہم نے ہلا کردیا) ‘ قرن (امتیں۔ جماعتیں) ‘ مکنا ( ہم نے جمایا۔ قوت دی) ‘ لم نمکن (ہم نے قوت نہیں دی) ‘ ارسلنا (ہم نے بھیجا) ‘ مدرار (لگاتار برسنا۔ مسلسل) ‘ انشانا ( ہم نے پیدا کیا) ‘ اخرین (دوسرے) ۔ تشریح : آیت نمبر 4 تا 6 : ہر شخص اپنے آپ کو عقلمند سمجھنے اور دوسروں کی نگاہوں میں مہا عاقل دکھانے کے لیے پریشان رہتا ہے۔ اللہ کی طرف سے بڑے بڑے پیغمبر آئے ‘ انہوں نے بڑے بڑے معجزے دکھائے ‘ توحید اور اسلام کے حق میں بڑے بڑے دلائل پیش کئے گئے مگر ان خود ساختہ عقل مندوں نے ان پر کوئی نہ کوئی اعتراض جڑ دیا اور پیچھے ہٹ گئے۔ اسلام کے اندر آنا ایک فرماں برداری ‘ ایک تنظیم ‘ ایک اور امرو نواہی کے اندر آنا ہے۔ وہ لگو جنہوں نے عقل مندی اور سرداری کی پوزیشن حاصل کرلی تھی کس طرح اس نظم و ضبط کو مان سکتے تھے۔ اب اس وقت مکہ کے کفار و مشرکین کے سامنے قرآن ہے جس نے چیلنج کررکھا ہے کہ اس کی چھوٹی سے چھوٹی سورت جیسی ایک سورت بنا لائو۔ بڑے سے بڑے نثر اور نظم والے اس چیلنج کے سامنے سر نہ اٹھا سکے۔ ان کے سامنے خود پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کی ہستی ہے جنہوں نے ساری زندگی ان ہی کے درمیان گزاری ہے۔ جن کے سارے شب و روز ان کو معلو م ہیں اور انہیں اب تک کوئی بات قابل اعتراض نظر نہیں آئی۔ جنہیں سب لوگ صادق اور امین کہتے ہیں۔ مگر نہ ماننے والے طرح طرح کے بہانے بنا رہے ہیں۔ ناماننے والوں کے لئے فرمایا گیا کہ بہت جلد قیامت تمہارے سامنے آئی جاتی ہے۔ اگر آج علم و عقل کے ذریعہ یقین نہیں کرتے توکل آنکھوں سے دیکھ کر یقین کر لوگے۔ اور اس وقت یقین سے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ ان آیات کے معنی بعض مفسرین نے یہ بھی لئے ہیں کہ یہ اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ اے اہل مکہ تم اس وقت اسلام اور پیغمبر اسلام کو کمزور اور بےطاقت سمجھ رہے ہو۔ بہت جلد مدنی دور آرہا ہے جب اسلام ایک عظیم طاقت بن کر ابھرے گا نہ صرف یہ کہ مکہ فتح ہوجائے گا بلکہ تم سیاسی اور مذہبی طور پر ناچیز بن کر رہ جائو گے۔ قرآن تاریخ کے واقعات کو عبرت اور نصیحت بنا کر پیش کرتا ہے کہ اے مشرکو اور کافرو ! آج اپنی سیاسی اور مالی طاقت پر نہ اترائو۔ تم سے پہلے بھی بڑی بڑی طاقتیں دنیا میں آئیں اور جب وہ پیغمبر وقت کے سمجھانے کے باوجود گناہوں میں غرق ہوتی چلی گئیں تو آنا فانا خس و خاشاک کی طرح بہہ گئیں۔ ایک فرعون ہی کو دیکھ لو۔ فراعنہ کے انسا خاندان یکے بعد دیگرے آئے سب نے ملاکر تین ہزار سال سے زیادہ مصر پر حکومت کی۔ اس حکومت مصر کے ذریعہ وہ ایشیا افریقہ اور یورپ پر اثر انداز رہے۔ کیا کوئی کہہ سکتا تھا کہ ایک ہی دن میں یہ عظیم الشان طاقت دریائے نیل میں یوں غرق ہو کر ہمیشہ کے لئے ملیا میٹ ہوجائے گی کہ کوئی ان کا نام لیوا تک نہ رہے گا۔ فرمایا جارہا ہے کہ پھر تمہاری کیا حیثیت ہے۔ ساتھ ہی ساتھ قرآن نے یہ بھی تہدید کردی کہ تم مٹ جائو گے تو سرزمین عرب بےرونق نہیں ہوجائے گی۔ عادو ثمود اور اہل فرعون آئے اور گئے۔ کیا دنیا ویران ہوگئی ؟ نہیں۔ ان کی جگہ لینے کے لئے نئی قومیں وجود میں آگئیں۔ اللہ نے انہیں آزمائش کا موقع دیا۔ جس طرح ایک انسان مرتا ہے تو جگہ خالی نہیں رہتی۔ وہاں دوسرا انسان آجاتا ہے۔ اسی طرح جب ایک قوم مٹادی جاتی ہے تو دوسری نئی قوم اس کی جگہ پکڑ لیتی ہے۔ دنیا کی رونق میں کبھی کمی نہیں آئی۔ کیونکہ اس نظام کائنات کو چلانے والی ایسی ذات ہے کہ جس کو موت نہیں آتی وہ زندہ ہے اور سارے نظام کائنا ت کو سنبھالنے والی ہے۔
Ayahs 6:7–11

وَ لَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ كِتٰبًا فِیْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْهُ بِاَیْدِیْهِمْ لَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 6:7 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ! اگر ہم آپ پر کا غذ میں لکھی لکھائی کتاب بھی اتاردیتے جسے منکرین ہاتھ سے چھو لیتے ہٹ دھرم کفار یہی کہتے کہ یہ تو صریح جادو کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔

وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ مَلَكٌ١ؕ وَ لَوْ اَنْزَلْنَا مَلَكًا لَّقُضِیَ الْاَمْرُ ثُمَّ لَا یُنْظَرُوْنَ Open ayah 6:8 in the Quran reader

وہ کہتے ہیں اس (نبی ﷺ پر فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا۔ (اللہ نے فرمایا کہ ) اگر ہم فرشتہ اتار دیتے تو قصہ اچانک طے ہوجاتا۔ پھر انہیں کوئی مہلت نہ ملتی۔

وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ مَلَكًا لَّجَعَلْنٰهُ رَجُلًا وَّ لَلَبَسْنَا عَلَیْهِمْ مَّا یَلْبِسُوْنَ Open ayah 6:9 in the Quran reader

اگر ہم فرشتہ اتار بھی دیتے تو وہ بھی انسانی شکل و صورت میں ہوتا۔ تو جس شک میں وہ آج پڑے ہیں اسی شک میں پھر بھی پڑے رہ جاتے۔

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 6:10 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ ! فکر نہ کیجئے) آپ سے پہلے بھی لوگ رسولوں کا مذاق اڑاتے رہے تھے اپنی گرفت میں لے لیا۔

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 6:11 in the Quran reader

کہہ دیجئے کہ اے لوگو ! ذرا دنیا میں چلو پھرو اور خود دیکھ لو جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہو کر رہا ۔

لغات القرآن : آیت نمبر 7 تا 11 : قرطاس (کاغذ) ‘ لمسوا ( انہوں نے چھو کر دیکھا) ‘ ملک (فرشتہ) ‘ قضی الامر (معاملہ کا فیصلہ کردیا گیا) ‘ لاینظرون (وہ مہلت نہ دئیے جائیں گے) ‘ لبسنا (ہم نے پہنا دیا۔ ڈال دیا) ‘ یلبسون ( وہ شبہ کررہے ہیں) ‘ حاق (گھیرلیا) ‘ سخروا (انہوں نے مذاق کیا) سیروا (چلو پھرو) ‘ انظروا (دیکھو) ‘ عاقبۃ (انجام) ‘ المکذبین (جھٹلانے والے) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 7 تا 11 : فرمایا گیا کہ یہ ضدی ‘ ہٹ دھرم قسم کے لوگ کیسے کیسے مطالبات اٹھاتے ہیں۔ ایک مرتبہ عبد اللہ بن ابی امیہ نے رسول اللہ ﷺ سے کہہ دیا کہ میں اس وقت تک آپ پر ایمان نہیں لاؤں گا جب تک اپنی آنکھوں سے یہ نہ دیکھ لوں کہ آپ آسمان پر چڑھ گئے ہیں۔ آپ وہاں سے ایک اییم کتاب لے کر آگئے ہیں جسے ہم لوگ دیکھ سکیں اور چھو سکیں جس کتاب میں میرا نام لے کر یہ خط ہو کہ اس رسول کی تصدیق کرو۔ یہ سب کچھ کہنے کے بعد اس شخص نے یہ بھی کہہ دیا کہ میں پھر بھی ایمان نہیں لاؤں گا۔ دوسری مرتبہ یہی عبد اللہ بن ابی امیہ اور نضر بن حارث اور نوفل بن خالد مل کر حضور ﷺ کے پاس آئے اور کہا ہم تو آپ پر اس وقت تک ایمان نہ لائیں گیے جب تک آپ آسمان سے ایک کتاب لیکر نہ آجائیں۔ اس کے ساتھ چار فرشتے اتریں جو کہیں کہ واقعی یہ کتاب اللہ کی طرف سے آئی ہے اور آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ یہی عبد اللہ بن ابی امیہ خود بخود ایمان لائے۔ جہاد میں حصہ لیا اور غزوہ طائف میں شہید ہوگئے۔ ان مطالبات کا جواب ان آیا ت میں دیا گیا ہے۔ فرمایا ہے کہ اگر ان کا مطالبہ مان لیا جائے۔ کوئی ایسی کتاب آسمان سے اترے جسے یہ چھو سکیں اور پڑھ سکیں تب بھی یہ ایمان لاکر نہ دیں گے۔ ان کے اندر جو نفس پرستی کا بت بیٹھا ہے وہ پھر کوئی نہ کوئی بہانہ تراش لے گا۔ اب رہا فرشتہ۔ اگر وہ انسان کی صورت میں بھیجا جائے تو ان کا شک و شبہ اپنی جگہ قائم رہ جائے گا۔ وہ کیسے فرق کرسکیں گے کہ یہ انسان ہے اور یہ فرشتہ۔ اگر فرشتہ کو فرشتہ کی شکل میں بھیجا جائے تو اول کوئی انسان فرشتہ کی شکل میں اس کو دیکھ نہیں سکتا۔ ما رہے ہیبت کے اس کا دم نکل جائے گا۔ فرشتہ تو فرشتہ کی صورت میں اسی وقت نظر آتا ہے جب دم کا نکالنا ہی مقصود ہو۔ اور جب عالم سکرات میں تسلیم کیا تو وہ ایمان کہاں ؟ ایمان کی مہلت وہیں تک ہے جب ماننے یا نہ ماننے کی دونوں طاقتیں موجود ہوں۔ جب غیب پر یقین کیا جائے جب کہ وہ ابھی غیب ہی ہے۔ جب جان نرخرہ تک پہنچ چکی اس وقت فرشتہ موت کو سامنے دیکھ کر یقین کیا تو وہ ایمان نہیں ہے۔ جب غیب حضور بن گیا پھر کون ہے جو مان کر نہ دے۔ بڑے سے بڑا کافر بھی ماننے پر مجبور ہے۔ فرعون اور موجودہ زمانے میں اسٹالن نے بھی موت کے وقت اللہ کو مانا تھا۔ مگر اس وقت ماننے سے ان کو کوئی فائدہ نہ ہوا۔ تو اے نبی ﷺ ! ان بددماغوں کو بکنے دیجئے اور مذاق اڑرانے دیجئے۔ آپ سے پہلے بھی پیغمبروں کو یہی تجربہ ہوچکا ہے۔ آپ بےفکر ہو کر اپنے کام میں لگے رہیے۔ ہاں بطور نصیحت و عبرت ان سے کہیئے کہ زمین کے مختلف علاقوں میں چل پھر کر دیکھ لو کہ ان قوموں کا کیا انجام ہوا جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی ذات کو جھٹلایا اور پیغمبروں کی باتوں پر یقین نہیں کیا۔
Ayahs 6:12–14

قُلْ لِّمَنْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلْ لِّلّٰهِ١ؕ كَتَبَ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ١ؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:12 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ! کہہ دیجئے کہ جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے وہ کس کی ملکیت ہے ؟ ۔ کہہ دیجئے کہ اللہ ہی کی ملکیت ہے۔ اسی نے اپنے اوپر رحم و کرم لازم کرلیا ہے۔ البتہ وہ تمہیں قیامت کے اس دن اکٹھا کرے گا جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ ہاں جنہوں نے خود ہی اپنے آپ کو نقصان میں ڈال کر رکھا ہے وہ ایمان نہ لائیں گے۔

وَ لَهٗ مَا سَكَنَ فِی الَّیْلِ وَ النَّهَارِ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 6:13 in the Quran reader

دن اور رات میں جو چیز بھی ٹھہری ہوئی ہے وہ اللہ ہی کی ہے۔ وہ سب کچھ سنتا ہے اور جانتا ہے۔

قُلْ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَتَّخِذُ وَلِیًّا فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ هُوَ یُطْعِمُ وَ لَا یُطْعَمُ١ؕ قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَسْلَمَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:14 in the Quran reader

آپ ان سے کہہ دیجئے کہ کیا میں اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کو معبود بنالوں وہ اللہ جس نے آسمانوں اور زمین کو بنایا ہے۔ وہ اللہ جو خود نہیں کھاتا مگر سب کو کھلاتا پلاتا ہے۔ (اے نبی ﷺ ! ) کہہ دیجئے مجھے حکم ہوا ہے کہ اللہ کی فرماں برداری میں پیش رہوں۔ اور آپ بہر حال مشرکوں میں سے ہر گز نہ ہوں۔

لغات القرآن : آیت نمبر 12 تا 14 : علی نفسہ (اپنی ذات پر) لیجمعن (البتہ وہ ضرور جمع کرے گا) ‘ خسروا (نقصان میں پڑگئے) ‘ سکن ( وہ ٹھہرا) اللیل (رات) ‘ النھار (دن) فاطر (پیدا کرنے والا) ‘ یطعم (وہ کھلاتا ہے) لایطعم (وہ نہیں کھلایا جاتا۔ یعنی وہ نہیں کھاتا) امرت (مجھے حکم دیا گیا ہے) ۔ ان اکون ( یہ کہ میں ہوں) اسلم (گردن کھادی۔ اسلام قبول کیا) ‘ لاتکونن (تم ہرگز نہ ہونا) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 12 تا 14 : سارے انسان مانتے ہیں کہ یہ کائنات اللہ ہی نے بنائی اور اسی کے حکم پر چل رہی ہے۔ وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ انسان کا خالق ومالک اللہ ہی ہے۔ اگر ان کفار سے پوچھا جائے تو وہ یہی جواب دیں گے کہ ان تمام چیزوں کو اللہ نے پیدا کیا ہے۔ جب اس نے اپنی قدرت سے یہ سب کچھ بنایا اور سجایا تو پھر اپنی قدرت سے انہیں توڑ پھوڑ بھی سکتا ہے۔ وہ توڑ پھوڑ کا دن قیامت کا دن ہوگا۔ کیا وہ توڑ پھوڑیوں ہی بےمقصد ہے ؟ نہیں۔ اس دن ہر انسان کے اعمال کا حساب و کتاب ہوگا۔ ایک نیا دور شروع ہوگا ۔ جس کا نام آخرت ہے۔ اس حساب وکتاب میں اللہ تعالیٰ سختی سے نہیں بلکہ بہت نرمی سے پیش آئے گا۔ اس نے خود اپنے اوپر فرض کرلیا ہے کہ میں بہت رحم و کرم سے پیش آؤں گا ۔ مگر کچھ بد نصیب ایسے بھی ہیں جو اس رحم و کرم سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔ یہی لوگ کافر ‘ مشرک اور منافق ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی یہ بےنیازی ہے کہ وہ خود نہیں کھاتا مگر سارے جہان والوں کو ساری مخلوقات کو کھلاتا پلاتا ہے۔ دوسرے تمام معبود خود کھاتے ہیں۔ کھلاتے نہیں یعنی وہ عام انسانوں کی مدد کے محتاج ہیں۔
Ayahs 6:15–20

قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 6:15 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ ! ) کہہ دیجئے اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں قیامت کے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔

مَنْ یُّصْرَفْ عَنْهُ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَهٗ١ؕ وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ Open ayah 6:16 in the Quran reader

اس دن جس سے عذاب ٹل گیا اس پر اللہ نے بڑا رحم کیا۔ اور یہی بہت کھلی ہوئی کامیابی ہے۔

وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ بِخَیْرٍ فَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 6:17 in the Quran reader

اور اے مخاطب اگر اللہ تجھے کسی تکلیف میں ڈال دے تو اس کے سوا کوئی دور کرنے والا نہیں ہے۔ اگر اللہ تجھ پر کرم کردے تو اسے ہر بات پر قدرت حاصل ہے۔

وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:18 in the Quran reader

وہ اپنے بندوں پر کامل اختیارات رکھتا ہے۔ وہی حکمت والا اور علم رکھنے والا ہے۔

قُلْ اَیُّ شَیْءٍ اَكْبَرُ شَهَادَةً١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ۫ شَهِیْدٌۢ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١۫ وَ اُوْحِیَ اِلَیَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَ مَنْۢ بَلَغَ١ؕ اَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُوْنَ اَنَّ مَعَ اللّٰهِ اٰلِهَةً اُخْرٰى١ؕ قُلْ لَّاۤ اَشْهَدُ١ۚ قُلْ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ اِنَّنِیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۘ Open ayah 6:19 in the Quran reader

ان سے پوچھئے کہ سب سے بڑی چیز گواہی دینے کے اعتبار سے کون سی ہے ؟ ۔ آپ کہ دیجئے کہ اللہ ہی تو ہے جو تمہارے اور میرے درمیان سب سے بڑا گواہ ہے۔ اسی نے یہ قرآن مجھ پر بطور وحی بھیجا ہے کہ میں تمہیں اور جس جس کو یہ پہنچے خبردار کردوں۔ کیا واقعی تم لوگ یہ مانتے ہو کہ اللہ کے ساتھ دوسرے معبود بھی شریک کار ہیں ؟ کہہ دیجئے جہاں تک میرا تعلق ہے میں ہر گز ایسی شہادت نہ دوں گا۔ کہہ دیجئے وہی ایک معبود ہے اور جنہیں تم شریک ٹھہراتے ہو میں اس سے قطعی بیزار ہوں۔

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ١ۘ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 6:20 in the Quran reader

ہم نے جن لوگوں کو کتاب دی ہے وہ رسول کو اتنا ہی یقینی پہچانتے ہیں جتنا اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں مگر جن لوگوں نے اپنے آپ کو خود ہی نقصان میں ڈال لیا ہے وہ کبھی مان کر نہ دیں گے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 15 تا 20 : عصیت ( میں نے نافرمانی کی) یصرف (پھیردیا گیا۔ ہٹادیا گیا) ‘ یومئذ (اس دن) ‘ یمسسک (پہنچائے تجھے) ‘ کاشف (کھولنے والا) ‘ القاھر (زبردست۔ (اللہ کی ایک صفت ہے) ‘ ای شیء ( کونسی چیز) ‘ اکبر (زیادہ بڑا۔ زیادہ بڑی) ‘ اوحی (وحی کی گئی) ‘ الی (میری طرف) ‘ انذر (ڈرایا گیا) ‘ من بلغ (جس کو پہنچا) ‘ اخری ( دوسرے۔ دوسری) ‘ اننی بریء ( بیشک میں دور ہوں۔ میں بیزار ہوں) ‘ یعرفون ( وہ پہچانتے ہیں) ابناء ھم (اپنے بیٹوں کو) ۔ تشریح : آیت نمبر 15 تا 20 : ان آیات میں عذاب کی ہولناکی کا ذکر ہے۔ پیغمبر اسلام ﷺ کی زبانی یہ کہلوا کر کہ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو عذاب دوزخ سامنے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ جتادیا کہ ثواب و عذاب کا معیار صرف اور صرف اللہ کی فرماں برداری یا نافرمانی ‘ اسلام یا کفر ہے۔ یہاں کوئی فرزندی ‘ کوئی طرفداری ‘ کوئی رعایت نہیں ۔ یہ بھی جتادیا کہ قیامت ضرور آئے گی۔ جس دن جزا او سزا کا فیصلہ ہوگا۔ آیات 15 تا 18 میں اللہ تعالیٰ کی قہاری اور غفاری کی شان نہایت تو ازن اور تناسب کے ساتھ پیش کی گئی ہے۔ خوف اور امید قدم بہ قدم ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کیا ہے ؟ عذاب کا ٹلنا اور یہی سب سے بڑی کامیابی ہے ۔ کیونکہ جس سے عذا ب ٹل گیا وہ اللہ کی رحمت اور جنت میں داخل ہوجائے گا۔ آیت نمبر 17 میں فرمایا گیا ہے اگر اللہ نے عذاب کا فیصلہ کردیا تو کوئی اور دیوی ‘ دیوتا ‘ فرزند اور مقرب خاص بچانے والا نہیں ہے۔ ‘ اگر اس نے ثواب کا فیصلہ کردیا تو یہ اس کی مہربانی اور قدرت ہے۔ آیت 18 میں اسی بات کو دوسرے انداز میں کہا گیا ہے۔ کہ وہ قادر مطلق بھی ہے اور صاحب حکمت اور صاحب خیر بھی۔ اس سے کوئی راز چھپا ہوا نہیں ہے۔ وہ جو کچھ کرتا ہے حکمت کے تحت کرتا ہے۔ اور وہ انپے فے صل کو نافذ کرنے کی تمام طاقتیں رکھتا ہے۔ ان آیات نے خصوصاً آیت 15 نے تمام ایمان والوں میں لرزہ پیدا کردیا تھا اور وہ خاص طور پر چوکنے ہوگئے تھے ۔ صحیح احادیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے ” اے اللہ ! آپ جو دینا چاہیں اسے کوئی روک نہیں سکتا۔ اور جس چیز کو آپ نے روک دیا اسے کوئی دینے والا نہیں ہے۔ اور کسی کوشش والے کی کوشش آپ کے ہاں نفع نہیں دے سکتی “۔ آگے کی آیات کا نزول ایک خاص واقعہ سے ہے۔ مشرکین مکہ کا ایک وفد حضور ﷺ کے پاس آیا اور کہا آپ جو اللہ کے رسول ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تو اس پر آپ کا گواہ کون ہے ؟ یہودو نصاریٰ میں کوئی شخص بھی آپ کی تصدیق نہیں کرتا۔ اس پر آیات نمبر 19 اور 20 ناز ل ہوئیں۔ اللہ کی گواہی سے مراد قرآن ہے۔ وحی خفی ہے اور وہ معجزات ہیں جو آپ سے صادر ہوئے۔ سب سے بڑی گواہی تو خود قرآن ہے جو آپ پر بذریعہ وحی نازل کیا گیا۔ اس کے بعد مشرکین مکہ کے وفد کو للکارا گیا کہ کیا واقعی تم لوگ شہادت دے سکتے ہو کہ اللہ کے ساتھ معبودیت میں دوسرے بھی شریک ہیں ؟ ۔ حضور ﷺ کی زبان سے کہلوایا گیا کہ کہ دیجئے اللہ ایک ہی ہے اور میرا اس شرک سے کوئی تعلق نہیں ہے جس میں تم لوگ مبتلا ہو۔ اس وفد کا یہ کہنا ک یہودو نصاریٰ میں کوئی بھی آپ کی تصدیق نہیں کرتا۔ تو اس کا جواب یہ دیا کہ حضور ﷺ کی قطعی پہچان حلیہ اور کمالات کی پیشین گوئیاں توریت اور انجیل میں موجود ہیں۔ چناچہ یہ اہل کتاب آپ کو پیغمبر کی حیثیت سے اچھی طرح پہچانتے ہیں جس طرح باپ اپنے بیٹے کو پہچانتا ہے ظاہری طور پر بیں اور باطنی طور پر بھی ‘ اسی طرح یہ اہل کتاب آپ کو پیغمبر اسلام کی حیثیت سے اچھی طرح پہچانتے ہیں مگر یہ ان کی دنیاوی مصلحتیں ہیں جو ان کو تصدیق اقرار اور تسلیم سے روک رہی ہیں۔ وہ ایمان نہیں لاتے تو نہ لائیں۔ اگر وہ ایمان نہ لائے تو دوزخ ان کا مقدر ہے۔ آگے کی آیت بھی اسی سلسلے میں ہے۔
Ayah 6:21

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:21 in the Quran reader

اور اس سے زیادہ اپنے آپ پر ظلم کرنے والا کون ہے جو اللہ پر چھوٹا بہتان باندھتا ہے۔ اور اس کی آیات کو جھٹلاتا ہے۔ بیشک ظالم کبھی فلاح نہیں پائیں گے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 21 : من اظلم ممن (اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا) ‘ لایفلح (کامیابی نہ پائے گا) ‘ تشریح، آیت نمبر 21 : گزشتہ آیت میں فرمایا ہے (بلکہ اس سے پہلے بھی) کہ وہی لوگ ایمان نہیں لائیں گے جو اپنے نفس پر ظلم کرنے والے ہیں۔ ایمان نہ لانا۔ اپنے آپ پر سب سے بڑا ظلم کرنا ہے۔ مشرکین مکہ کے وفد کو خاص طور پر مخاطب کیا گیا ہے کہ اللہ کی ذات اور صفات میں اللہ کے بندوں کو شریک کرنا اللہ پر بھی اور اس کے پیغمبروں پر بھی سب سے بڑا الزام ہے۔ چناچہ اللہ کا فیصلہ ہے۔ ظالم کبھی فلاح نہیں پائیں گے۔ ایک اور جگہ کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ظالموں پر لعنت بھیجتا ہے۔
Ayahs 6:22–26

وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَیْنَ شُرَكَآؤُكُمُ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 6:22 in the Quran reader

وہ دن جب ہم میدان حشر میں سب کو اکٹھا کریں گے اور پھر مشرکین سے پوچھیں گے کہ وہ شرکاء جن کو تم لوگوں نے گھڑ رکھا تھا کہاں ہیں ؟

ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا وَ اللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:23 in the Quran reader

( ان کے پاس بچنے کا کوئی حیلہ اور بہانہ نہ رہ جائیگا) ۔ وہ یہی کہیں گے۔ اس اللہ کی قسم جو ہمارا رب ہے ‘ ہم مشرک نہ تھے۔

اُنْظُرْ كَیْفَ كَذَبُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:24 in the Quran reader

ذرا دیکھو تو یہ اپنی جانوں پر کیسا جھوٹ بول رہے ہیں۔ اور وہ سارے معبود لاپتہ ہوجائیں گے جنہیں انہوں نے گھڑ رکھا تھا۔

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ وَ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْكَ یُجَادِلُوْنَكَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 6:25 in the Quran reader

اور ان میں کچھ وہ لوگ ہیں جو (اے نبی ﷺ آپ کی طرف کان لگائے رکھتے ہیں (کہ کس بات کو بڑھا گھٹا کر اپنا رنگ دے دیں) اور ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال رکھے ہیں تاکہ اس کو سمجھ نہ سکیں۔ اور ہم نے ان کے کانوں میں گرانی پیدا کردی ہے کہ اگر وہ اللہ کی تمام نشانیاں بھی دیکھ لیں تب بھی ایمان نہ لائیں گے۔ حدیہ ہے کہ جب وہ آپ کے پاس (جھوٹ موٹ بحث کرنے کو) آتے ہیں تو وہ جنہوں نے کفر کا راستہ اختیار کر رکھا ہے کہتے ہیں کہ یہ سب پرانی کہانیوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔

وَ هُمْ یَنْهَوْنَ عَنْهُ وَ یَنْئَوْنَ عَنْهُ١ۚ وَ اِنْ یُّهْلِكُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 6:26 in the Quran reader

یہ ہی وہ لوگ ہیں جو دوسروں کو اس پیغام حق سے روکتے ہیں اور خود بھی بھاگے بھاگے پھرتے ہیں۔ اور یہ اپنی جان کے سوا کسی اور کو ہلاک نہیں کررہے ہیں مگر اس کو سمجھنے سے محروم ہیں۔

لغات القرآن : آیت نمبر 22 تا 26 : این (کہاں ؟ ) ‘ تزعمون (تم گھمنڈرکھتے ہو۔ دعویٰ رکھتے ہو) ‘ ماکنا ( ہم نہ تھے) ‘ یستمع (وہ کان لگاتا ہے۔ وہ غو سے سنتا ہے) ‘ اکنۃ (پردہ) ان یفقھو ہ ( یہ کہ وہ اس کو سمجھیں) ‘ وقر (ڈاٹ۔ بوجھ) ‘ ان یروا (اگر وہ دیکھیں) ‘ یجادلون ( وہ جھگڑتے ہیں) ‘ اساطیر (کہانیاں) ‘ ینھون ( وہ روکتے ہیں) ینئون ( وہ خود رکتے ہیں۔ دور بھاگتے ہیں) ‘ یھلکون (وہ ہلاک کرتے ہیں) ‘ مایشعرون ( وہ سمجھتے نہیں ہیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 22 تا 26 : میدان حشر میں سب کو اکٹھا کرنے اور مشرکوں سے پوچھنے کے درمیان ایک کشمکش وقفہ ہوگا۔ یہ وقفہ سینکڑوں ہزاروں سال بلکہ زیادہ طویل بھی ہو سکتا ہے۔ مجرموں کے لئے کشمکش کا عالم نفسیاتی طور پر اصلی سزا سے بدتر ہو سکتا ہے وہ بوکھلا کر کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم نے شرک نہیں کیا ہے۔ وہ اس اللہ کے سامنے جھوٹ بولیں گے جس کو ذرہ ذرہ کی نفسیات کا علم ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں یہ آزادی عطا کرے گا تاکہ اہل محشر خود دیکھ لیں کہ دیکھو مجرم اپیس جان بچانے کے لئے کتنا دلیرانہ جھوٹ گھڑ سکتے ہیں۔ آپس میں مشورہ کر کے طے کرسکتے ہیں۔ ان کا یہ سارا کھیل عظیم ترین مجمع کے سامنے ہوگا ۔ اس طرح یہ سارا تما شا ان کے خلاف کھلم کھلا شہادت بن جائیگا۔ یہ مشرکین اور کفار۔ ان کے سامنے تلاش حق نہیں۔ تلاش مفاد ہے۔ تلاش جنت نہیں ‘ تلاش مال و اقتدار ہے۔ فرمایا جارہا ہے کہ اے نبی ﷺ یہ آپ کی محفل میں ایمان حاصل کرنے نہیں آتے بلکہ لوگوں کو بھڑکانے آتے ہیں کہ ان پر انے قصے کہانیوں میں کیا رکھا ہے (نعوذ باللہ) اللہ نے ان کو بہرا اندھا اور ان کے دلوں مردہ بنا ڈالا ہے ان کو شعور نہیں کہ ان حرکتوں کی سزا کیا ہے۔ ان آیات سے ظاہر ہ کہ جھوٹ اور قسم میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ قسم کی ضرورت جھوٹے ہی کو ہوتی ہے۔ جھوٹ بولنا فطرت ثانیہ ہے۔ ایک جھوٹ کے لئے بہت سارے جھوٹے تراشنے پڑتے ہیں۔ اور کامیاب جھوٹ تراشنا تقریباً ناممکن ہے۔ رسول کریم ﷺ سے پوچھا گیا وہ عمل کون سے ہے جس سے آدمی دوزخ میں جاتا ہے آپ نے فرمایا جھوٹ بولنا ہے۔ (مسند احمد) اور معراج میں رسول اللہ نے دیکھا کہ ایک شخص کی دونوں باچھیں چیر دی جاتی ہیں۔ وہ پھر درست ہوجاتی ہیں ۔ پھر چیر دی جاتی ہیں آپ نے جبرائیل امین (علیہ السلام) سے دریافت کیا کہ یہ شخص کس قصور کی سزا بھگت رہا ہے۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا کہ یہ شخص جھوٹ بولا کرتا تھا۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ جھوٹ انسان کے رزق کو گھٹا دیتا ہے۔ ایک اور حدیث میں آتا ہے آپ نے فرمایا کہ آدمی اس وقت تک مومن کامل نہیں بن سکتا جب تک جھوٹ بالکل نہ چھوڑ دے۔ یہاں تک کہ مذاق میں بھی جھوٹ نہ بولے۔ اگلی چند آیات بھی جھوٹ کی مذمت ہی سے متعلق ہیں۔
Ayahs 6:27–30

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلَى النَّارِ فَقَالُوْا یٰلَیْتَنَا نُرَدُّ وَ لَا نُكَذِّبَ بِاٰیٰتِ رَبِّنَا وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 6:27 in the Quran reader

کاش آپ دیکھ سکتے جب وہ دوزخ کے سامنے کھڑے کئے جائیں گے۔ اس وقت وہ چلا چلا کر دہائی دیں گے کہ کاش ! اگر ہم پھر دنیا میں واپس بھیج دیئے جائیں تو ہم اپنے رب کی نشانیوں کو نہ جھٹلائیں گے اور ماننے سے انکار بھی نہیں کریں گے بلکہ ہم ایمان لانے والوں میں شامل ہوجائیں گے۔

بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُوْا یُخْفُوْنَ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ لَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 6:28 in the Quran reader

مگر اب ان کے سامنے وہ بات حقیقت بن کر آچکی ہوگی جس کو وہ پہلے سے چھپایا کرتے تھے۔ اگر واپس بھیج دیئے جائیں تو پھر بھی وہی کچھ کریں گے جس سے وہ منع کئے جاتے تھے۔ یقیناً یہ جھوٹے ہیں۔

وَ قَالُوْۤا اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ Open ayah 6:29 in the Quran reader

وہ کہتے ہیں کہ جو کچھ ہے بس یہی دنیا کی زندگی ہے اور ہمیں مرکر پھر دوبارہ زندہ نہیں ہونا ہے۔

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ؕ قَالَ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا١ؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 6:30 in the Quran reader

کاش آپ وہ نظارہ دیکھ سکیں جب یہ اپنے رب کے سامنے کھڑے کئے جائیں گے۔ وہ پوچھے گا کیا یہ (نئی زندگی اور سز اوجزا) واقعی حقیقت نہ تھی ؟ وہ کہیں گے ہمارے رب کی قسم یہ واقعی بات تھی۔ پھر اللہ حکم دے گا کہ اب تم اس کفر کے سبب جو کیا کرتے تھے عذاب کا مزہ چکھو۔

لغات القرآن : آیت نمبر 27 تا 30 : وقفوا (وہ کھڑے کئے گئے) ‘ یلتنا (اے کاش کہ ہم) ‘ نرد (ہم واپس کئے جائیں گے) ‘ بدا (ظاہر ہوگیا ) ‘ یخفون (وہ چھپاتے ہیں) عادوا (وہ پلٹ گئے) نھوا (وہ منع کئے گئے) ‘ حیاتنا (ہماری زندگی) مبعوثین (بھیجے گئے۔ اٹھائے گئے) ‘ بلی ( جی ہوں۔ کیوں نہیں) ‘ ذوقوا (چکھو) ۔ تشریح : آیت نمبر 27 تا 30 : جھوٹ کس طرح ناقابل اصلاح حد تک دل کو سیاہ کردیتا ہے اس کی ایک بہت بڑی مثال ان آیات میں دی گئی ہے۔ کفار و مشرکین و منافقین جن کی فطرت ہر دم جھوٹ بولنے پر پختہ ہوچکی ہے۔ جب قیامت میں دوزخ کی آگ کے سامنے جھونکے جانے کو کھڑے کئے جائیں گے تو چلا چلا کر یہ وعدہ کریں گے کہ اگر ہم پھر واپس دنیا میں بھیج دئے جائیں تو کفر کا راستہ چھوڑ کر ایمان کا راستہ اختیار کریں گے۔ دوزخ کی آگ سامنے دیکھ کر کون ہے جو اس حقیقت کو نہ مانے گا۔ کون ہے جس کا دل مارے خوف کے پگھل نہ جائے گا ‘ کون ہے جو کفر کے راستے سے پلٹ نہ جائے گا اگر پھر موقع ملے ‘ مگر وہ جو عالم الغیب ہے جو تمام باتوں کو جانتا ہے گواہی دے رہا ہے کہ اس وقت بھی یہ لوگ جو کچھ وعدہ کررہے ہیں سرتاپا جھوٹ بک رہے ہیں۔ اگر پھر واپس دنیا میں بھیج دئے جائیں تو وہی کچھ کریں گے جواب تک کرتے آئے ہیں۔ یہ جو ان کی ہائے وائے اور چیخ و پکار ہے وہ صرف سزا سے بچ نکلنے کے لئے ہے۔ ورنہ ان کے پیچھے کوئی سچائی نہیں ہے۔ جب جھوٹ کی عادت جڑ پکڑ لیتی ہے تو پھر کہاں چھوٹتی ہے۔ لیکن پھر انہیں واپس نہیں بھیجا جائیگا۔ ہاں جہنم میں ڈالنے سے پہلے ان سے پوچھا جائے گا کیا تم مرکر زندہ نہیں ہوئے ؟ کیا جنت دوزخ جزا و سزا حقیقت نہیں ہے ؟ وہ کہیں گے بیشک بےشک۔ کہا جائے گا مگر تم تو دنیا میں یہ سب مانتے نہیں تھے۔ تم کہا کرتے تھے کہ جو کچھ ہے وہ یہی دنیا کی زندگی ہے تو اب اس کے بدلے میں ہماری سزا بھگتو اور اس طرح ان کو جہنم کی آگ میں جھونک دیا جائیگا۔
Ayahs 6:31–32

قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُوْا یٰحَسْرَتَنَا عَلٰى مَا فَرَّطْنَا فِیْهَا١ۙ وَ هُمْ یَحْمِلُوْنَ اَوْزَارَهُمْ عَلٰى ظُهُوْرِهِمْ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ Open ayah 6:31 in the Quran reader

وہ لوگ کتنے بھاری نقصان میں پڑگئے جو اللہ سے ملاقات پر یقین نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ جب ان پر اچانک وہ گھڑی آپہنچے گی تو اس وقت وہ حسرت و افسوس سے پکاریں گے ہائے افسوس ہم سے اس معاملہ میں کیسی کوتاہی ہوگئی۔ اور وہ (گناہوں کا) بوجھ اپنی پیٹھ پر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ دیکھو کیسا برا بوجھ ہے جو یہ اٹھائے ہوئے ہوں گے۔

وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ لَلدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 6:32 in the Quran reader

دنیا کی زندگانی ایک کھیل تماشا ہے اور اہل تقویٰ کے لئے آخرت کا گھر سب سے اچھا ہے کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے ؟ ۔

لغات القرآن : آیت نمبر 31 تا 32 : لقاء (ملاقات۔ ملنا) ‘ الساعۃ (گھڑی۔ قیامت) ‘ بغتۃ (اچانک) یحسرتنا ( اے ہماری حسرت۔ ہائے افسوس) ‘ مافرطنا (ہم نے کمی نہ کی) یحملون (وہ اٹھاتے ہیں) آوزار (وزر) ۔ بوجھ) ظھور (ظھر) پیٹھ (ساء) برا کیا ‘ یزرون (وہ بوجھ اٹھا رہے ہیں) الدار (گھر) ۔ تشریح : آیت نمبر 31 تا 32 : اس دنیا کے انقلابات اس بات پر گواہ ہیں کہ اس دنیا کی زندگی ایک کھیل تماشے سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے۔ جو شخص کل یہاں ڈکٹیٹر اعظم بنا ہوا تھا آج اسے انقلاب نے یا موت نے کہاں لاکر پھینک دیا۔ جو فقیر تھا وہ امیر بن گیا۔ جو امیر تھا وہ فقیر بن گیا۔ اس زندگی کے عیش کو عیش سمجھنا ‘ دولت کو دولت سمجھنا ‘ اقتدار کو اقتدار سمجھنا اور اسی کھیل کود میں لگے رہنا کیا یہ زبردست بیہوشی اور قاتل نشہ نہیں ہے۔ موت ‘ اچانک آپکڑے گی اور قیامت ؟ وہ بھی اچانک آکھڑی ہوگی۔ پھر قیامت کے دن کا مالک جزا و سزا کا فیصلہ سنادے گا۔ اس وقت وہ لوگ جو آئندہ زندگی ‘ قیامت کا دن اور اللہ پیشی میں حاضر ہونے کا یقین نہ رکھتے تھے۔ حسرت و افسوس سے ہاتھ ملیں گے کہ ہم کتنی غفلت میں پڑے رہے مگر اب کیا ہو سکتا ہے۔ وہ قیامت کے میدان میں کھڑے ہو نگے اپنے اپنے گناہوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے جو ان کی کمر توڑ رہا ہوگا۔ دنیا میں جن مجرموں کے پاؤں میں بیڑیاں پڑی ہوتی ہیں وہ کتنی مشکل سے ایک ایک قدم اٹھا سکتے ہیں اس سے بھی لاکھوں اور کروڑوں گنا مشکل ان گنہ گاروں کو پڑے گی جو آخرت کے منکر ہیں۔ یہ زندگی اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ اسی زندگی کے ذریعہ ہم اللہ کی تمام اخروی نعمتیں حاصل کرسکتے ہیں جو کچھ کرنا ہے موت سے پہلے کرلیا جائے اور موت وہ اچانک آجائے گی۔ ایسا نہ ہو کہ اس وقت حسرت و افسوس مقدر بن جائے ۔
Ayahs 6:33–36

قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَیَحْزُنُكَ الَّذِیْ یَقُوْلُوْنَ فَاِنَّهُمْ لَا یُكَذِّبُوْنَكَ وَ لٰكِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 6:33 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ ہم جانتے ہیں کہ : وہ باتیں جو یہ لوگ کرتے ہیں آپ کو رنج پہنچاتی ہیں مگر یہ لوگ آپ کو نہیں جھٹلاتے۔ بلکہ یہ ظالم خود اللہ کی آیات کا انکار کررہے ہیں۔

وَ لَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰى مَا كُذِّبُوْا وَ اُوْذُوْا حَتّٰۤى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا١ۚ وَ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَكَ مِنْ نَّبَاِی الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 6:34 in the Quran reader

آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول جھٹلائے جا چکے ہیں۔ گر جتنا کچھ بھی وہ جھٹلائے گئے اور جتنا کچھ بھی انہیں تکلیف دی گئی وہ صبر ہی کرتے رہے۔ یہاں تک کہ انہیں ہماری مدد پہنچ گئی۔ اور اللہ کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں ہے۔ اور گذشتہ رسولوں کی کچھ خبریں آپ تک پہنچ چکی ہیں۔

وَ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكَ اِعْرَاضُهُمْ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغِیَ نَفَقًا فِی الْاَرْضِ اَوْ سُلَّمًا فِی السَّمَآءِ فَتَاْتِیَهُمْ بِاٰیَةٍ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدٰى فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 6:35 in the Quran reader

اور اگر ان لوگوں کی بےرخی آپ پر گراں گزرتی ہے (تو انہیں تسلی دینے کے لئے) آپ اپنی طاقت لگا کر زمین میں سرنگ ڈھونڈ لیجئے یا آسمان تک سیڑھی لگا کر ان کے لئے کوئی معجزہ لے آیئے۔ بات یہ ہے اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو راہ ہدایت پر لے آتا۔ اس لئے آپ ہر گز نادانوں میں سے نہ ہوں۔

اِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُوْنَ١ؔؕ وَ الْمَوْتٰى یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ ثُمَّ اِلَیْهِ یُرْجَعُوْنَؐ Open ayah 6:36 in the Quran reader

دعوت حق کو وہی مانتے ہیں جو سمجھ کر سنتے ہیں ( رہے یہ مردہ دل) ۔ اللہ انہیں جب دوبارہ زندگی دے گا تو وہ اس کے سامنے حاضر کئے جائیں گے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 33 تا 36 : لیحزنک (البتہ وہ تجھے رنجیدہ کرتے ہیں) ‘ یجحدون ( وہ انکار کرتے ہیں) ‘ کذبت (جھٹلائی گئی۔ (جھٹلائے گئے) اوذوا ( تکلیف دیئے گئے) لامبدل (بدلنے والا نہیں ہے) ‘ کلمت اللہ ( اللہ کی باتیں) ‘ کبر (ناگوار گزرنا) ۔ بڑا ہے) ‘ استطعت (تیری طاقت ہے) ‘ تبتغی (تو تلاش کرتا ہے) ‘ نفق (کوئی سرنگ) ‘ سلم (سیڑھی) یستجیب ( وہ جواب دیتا ہے۔ قبول کرتا ہے) یسمعون ( وہ سنتے ہیں) الموتی (مردے) یبعث (وہ اٹھاتا ہے) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 33 تا 36 : یہ آیات وہ تصویر پیش کررہی ہیں جو اہل کفر کی ہٹ دھرمی اور کج بحثی سے خود رسول اللہ کے دل پر گزر رہی تھی۔ یہ بھی پیش کررہی ہیں کہ آپ کیا چاہتے تھے۔ مگر اللہ کی تکوینی اسکیم کیا تھی۔ اور وہ کس طرح اپنی مصلحت سمجھا رہا تھا۔ آپ تو یہ چاہتے تھے کہ ہر کافر ایمان لے آئے اور اللہ کے عذاب سے بچ جائے۔ آپ اس کے فائدے کے متلاشی تھے مگر وہ بد بخت آپ کو اور قرآن کو جھٹلاتے تھے اور طرح طرح کی کٹھ حجتی کرتے تھے۔ یہ دیکھ کر آپ کی تمام کوششوں کے باوجود وہ جہنم جانے پر تلے ہوئے تھے۔ آپ کے قلب مبارک کو سخت اذیت اور تکلیف پہنچ رہی تھی۔ اللہ کا ارشاد ہے کہ یہ ظالم نادان آپ کو نہیں جھٹلا رہے ہیں۔ یہ تو اللہ کو جھٹلا رہے ہیں۔ ابو جہل نے میدان بدر میں اخنس بن شریق سے کہا تھا کہ محمد ﷺ کو نہیں جھٹلاتا وہ تو سچے آدمی ہیں۔ آج تک ایک جھوٹ نہیں بولا۔ میں تو قرآن کو اس لئے نہیں مانتا کہ سارے عہدے بنی قصی میں جمع ہوگئے ہیں۔ سقایہ بھی بیت اللہ کی حفاظت بھی اور اب نبوت بھی اسی خاندان کے حصے میں آگئی ہے۔ ایک روایت ناجیہ ابن کعب سے منقول ہے کہ ابو جہل نے خود ایک مرتبہ حضور ﷺ سے کہا تھا کہ ہمیں آپ پر جھوٹ کا کوئی گمان نہیں اور ہ ہم آپ کی تکذیب کرتے ہیں۔ ہاں ہم اس دین کو جھٹلاتے ہیں جسے آپ لے کر آئے ہیں۔ کفار اسی منطقی تضاد کا شکار تھے۔ اگر رسول اللہ سچے تھے تو جو کچھ آپ پیش فرما رہے تھے اسے بھی سچ ہونا چاہیے تھا۔ اگر سب کچھ جو آپ پیش فرما رہے تھے وہ غلط تھا تو پھر آپ سچے نہ تھے۔ (نعوذ باللہ) ۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو دو نصیحتیں کی ہیں۔ اول یہ کہ کفار کی حرکتوں پر صبر کیجئے جس طرح آپ سے پہلے پیغمبروں نے صبر کیا جن کے کچھ حالات سے آپ وحی کے ذریعہ واقف ہوچکے ہیں۔ وہ ہلا ہلا مارے گئے۔ وہ چیخ اٹھے کہ اللہ کی نصرت کب آئے گی ؟ ۔ وہ آکر رہی کیونکہ یہ اللہ کا وعدہ تھا جو سچ ہو کررہا۔ دوسری نصیحت جو فرمائی ہے وہ یہ کہ مشرکین اور کفار آپ سے نئے نئے معجزات طلب کررہے ہیں۔ اور آپ کی دلی خواہش ہے کہ کاش یہ معجزات آجائیں تاکہ وہ دین کی سچائیوں کو مان لیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! اگر آپ پر ان کفار کی بےرخی ایسی ہی ناگوار گذررہی ہے تو جائیے زمین میں سرنگ کھود کر یا آسمان میں سیڑھی لگا کر ان کے لئے کوئی معجزہ لے آیئے۔ جو ناممکن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہماری مصلحت کیا ہے ؟ جو نہیں مانتا نہ مانے۔ وہ قیامت کے دن اپنا حشر دیکھ لے گا۔ اگر ہم چاہتے تو نبی اور کتاب کے بغیر ہی سب کو راہ ہدایت پر لے آتے۔ مگر ہم نے جو اتنے پیغمبر بھیجے اور اتنی کتابیں نازل کیں کس لئے ؟ کفار کے مقابلے میں مومنوں کی ایک تحریک برباد کرنے کے لئے ؟ مومنوں کو آزمائش میں ڈالنے کے لئے ؟ ان کی ہمتوں ‘ صلاحیتوں اور سیرتوں کو مانجھنے کے لئے۔ نہیں ہرگز نہیں۔ ہم نے جو آزادی فکر اور آزادی عقیدہ و عمل عطا کیا ہے تو اسی لئے کہ دیکھیں کون ادھر آتا ہے اور کو ن ادھر جاتا ہے۔ اللہ کی مدد یوں نہیں آجاتی اس کی چند شرطیں ہیں یعنی جب (1) تبلیغ کا پورا حق ادا ہوجائے ۔ (2 ض نیک اور صالح طبعتیں کھنچ کر ادھر آجائیں اور ان کی تنظیم بن جائے۔ (3) تحریک کے ذریعہ مومنین صالحین کی کڑی آزمائش کی جائے۔ چنانچہ اے نبی ﷺ ! ہمار مدد بھی اپنے وقت پر آئے گی۔ حیرت میں ڈال دینے والے معجزات دکھا کر کچی اور پھیلنے والی طبیعتوں کو ذرا اوپر کے لئے مائل کرلینا آسان ہے لیکن یہ ہماری مصلحت اور منشا نہیں ہے۔ ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ لوگ اللہ کے نبی کی سیرت اور زندگی دیکھ کر غیب پر ایمان لائیں۔ ان ہی لوگوں کے لئے آخرت کی نجات ہے۔