Ayah 6:1آیت نمبر 1 تا 10
ترجمہ : ہر تعریف اللہ کے لئے ثابت ہے (اور) یا تو اس جملہ خبر یہ سے مراد ثبوت حمد پر ایمان کی خبر دینا ہے یا مراد انشاء حمد (تعریف کرنا) ہے یا دونوں مراد ہیں (یہ تین) احتمالات ہیں تیسری صورت زیادہ مفید ہے، اس کو شیخ جلال الدین محلی نے سورة کہف میں بیان کیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ان دونوں کو خاص طور پر اس لئے بیان کیا ہے کہ یہ دونوں ناظرین کی نظر میں اعظم مخلوقات ہیں اور جس نے ظلمتوں اور روشنی کو پیدا فرمایا یعنی ہر ظلمت اور نور کو، ظلمات کو جمع لائے ہیں نہ کہ نور کو، ظلمات کے اسباب کثیر ہونے کی وجہ سے، اور یہ اللہ کی وحدانیت کے دلائل میں سے ہے پھر بھی کافر اس دلیل کے قائم ہونے کے باوجود غیر اللہ کو اپنے رب کے برابر قرار دیتے ہیں یعنی غیر اللہ کو عبادت میں اللہ کے برابر قرار دیتے ہیں، وہ ایسی ذات ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا تمہارے دادا آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کرکے، پھر اس نے تمہارے لئے مدت مقرر کی کہ جس کے پورے ہونے پر تم مرجاؤ گے، اور دوسرا وقت خاص اللہ کے نزدیک معین ہے جو کہ تمہارے بعث کا ہے، پھر بھی تم اے کافر و شک کرتے ہو (یعنی) بعث بعد الموت میں شک کرتے ہو، باوجودیکہ تم اس بات کو جانتے ہو کہ اس نے تم کو ابتداء پیدا کیا، اور جو ابتداء پیدا کرنے پر قادر ہے وہ دوبارہ پیدا کرنے پر بطریق اولی قادر ہے، وہی اللہ مستحق عبادت ہے آسمانوں اور زمین میں تمہاری پوشیدہ اور ظاہری باتوں کو جانتا ہے یعنی جس کو تم آپس میں پوشیدہ رکھتے ہو اور ظاہر کرتے ہو، اور جو تم کرتے ہو اس کو جانتا ہے (یعنی) جو خیر و شر تم کرتے ہو اس سے واقف ہے اور اہل مکہ کے پاس قرآن کی جو آیت بھی آئی ہے اس سے اعراض ہی کرتے ہیں، مِن آیۃٍ ، میں مِن زائدہ ہے انہوں نے حق یعنی قرآن کو جھٹلا دیا جب ان کے پاس آیا سو جلد ہی ان کو اس کے انجام کی خبر مل جائے گی جس کا یہ مذاق اڑایا کرتے تھے کیا یہ لوگ اپنے شام وغیرہ کے سفر کے دوران نہیں دیکھتے کہ ہم نے ان سے پہلے سابقہ امتوں میں سے کتنی ہی امتوں کو ہلاک کردیا، کم خبر یہ بمعنی کثیر ہے، جن کو ہم نے دنیا میں اسی قوت اور وسعت دی تھی کہ جو تم کو نہیں دی اس میں غیبت سے (خطاب) کی جانب التفات ہے، اور ہم نے ان پر خوب مسلسل بارشیں برسائیں اور ہم نے ان کے نیچے نہریں بہا دیں پھر ہم نے ان کو انبیاء کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کردیا اور ہم نے ان کے بعد دوسری قومیں پیدا کردیں اور اگر ہم کاغذ پر لکھا ہوا کوئی نوشتہ ان کی تجویز کے مطابق نازل کرتے پھر اس کو یہ لوگ اپنے ہاتھوں سے چھو بھی لیتے، (لَمَسُوہ بایدیھم) عاینوہ سے ابلغ ہے اسلئے کہ چھو کر دیکھ لینا شک کی زیادہ نفی کرنے والا ہے، جب بھی یہ کافر لوگ تعصب اور عناد کی وجہ سے یہی کہتے کہ یہ کچھ نہیں محض کھلا ہوا جادو ہے، اور ان لوگوں کا کہنا ہے کہ محمد ﷺ پر کوئی فرشتہ کیوں نہ نازل کیا گیا جو ان کی تصدیق کرتا اور اگر ہم ان کی تجویز کے مطابق کوئی فرشتہ نازل کردیتے (پھر۔۔ ) یہ ایمان نہ لاتے تو ان کو ہلاک کرکے ان کا قصہ ہی ختم ہوجاتا پھر ان کو توبہ یا معذرت کیلئے مہلت نہ دی جاتی جیسا کہ اس سے پہلی امتوں میں فرمائشی معجزہ ظاہر کرنے کے بعد جبکہ وہ ایمان نہ لائے ان کو ہلاک کرنے کا اللہ کا دستور رہا ہے اگر ہم ان کی طرف فرشتہ نازل کرتے تو ظاہر سی بات ہے کہ وہ فرشتہ انسانی شکل میں ہوتا تاکہ یہ اس کو دیکھ سکیں، اسلئے کہ ان میں فرشتہ کو دیکھنے کی قوت نہیں، اور اگر ہم فرشتہ نازل کردیتے اور اس کو انسانی شکل میں رکھتے تو ہم ان پر اشتباہ ڈال دیتے جیسا کہ اب ان کو تباہ ہو رہا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ یہ تو تمہارے جیسا ہی انسان ہے درحقیقت آپ سے پہلے جو انبیاء ہوئے ہیں ان کے ساتھ بھی استہزاء کیا گیا اس میں نبی ﷺ کو تسلی ہے تو ان کو اسی عذاب نے آگھیرا جس کا انہوں نے مذاق اڑایا، اور وہ عذاب تھا، اسی طرح جو آپ کے ساتھ استہزاء کرے گا اس کو بھی عذاب آگھیرے گا۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : ھَلِ المُرَادُ اَلْاِعْلامُ بذلک، اس سوالیہ جملہ سے شارح علام کا مقصد یہ بتانا ہے کہ الحمد (ثابت) للہ، جملہ یہ کے ذریعہ جو ثبوت حمد کی خبر دی گئی ہے اس سے تین چیزیں مراد ہوسکتی ہیں، (1) یا تو اس بات کی خبر دینا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اوصاف کمالیہ ازلی اور ابدی ہیں اور ہمارا اس پر ایمان ہے، استمرار پر دلالت جملہ کے اسمیہ ہونے کی وجہ سے ہوگی اس صورت میں یہ لفظاً و معنی خبر یہ ہوگا، (2) یا مقصد انشاء حمد ہے، اسی کو مفسر علام نے اوالثناء بہ، سے تعبیر فرمایا ہے، اس صورت میں جملہ ما خبریہ اور معنی انشائیہ ہوگا۔ (3) دونوں مقصود ہوں اس کی طرف اپنے قول اَوْھُمَا سے اشارہ فرمایا ہے، اس صورت میں دونوں معنی میں استعمال حقیقۃً ہوگا، اور پہلی صورت میں خبر میں حقیقت اور انشاء حمد میں مجاز ہوگا اور دوسری صورت میں انشاء حمد میں حقیقت اور خبر میں مجاز ہوگا، مطلب یہ کہ پہلی دونوں صورتوں میں ایک میں جملہ کا استعمال بالاصل اور دوسری میں بالتبع ہوگا، اور دوسری صورت میں دونوں میں جملہ کا استعمال بالاصل ہوگا اسی وجہ سے تیسری صورت پہلی دو صورتوں سے مفید تر ہے اس لئے کہ دونوں میں استعمال مقصود بالذات ہے، (مزید تفصیل کیلئے سورة کہف جلد چہارم ملاحظہ فرمائیں) ۔
قولہ : خَلَقَ ، جَعَلَ کی تفسیر خَلَقَ سے کرکے اشارہ کردیا ہے کہ جَعَلَ بمعنی خلق وأنشأ ہے نہ کہ بمعنی صَیَّرَ یہی وجہ ہے کہ ایک مفعول کی جانب متعدی ہے۔
قولہ : لِکَثْرَۃِ اَسْبَابِھَا، ظلمت کے اسباب چونکہ کثیر ہیں اسلئے ظلمات کو جمع لائے ہیں، اور نور کی قسم چونکہ ایک ہی ہے اسلئے اس کو واحد لائے ہیں۔ قولہ : عَوَاقبُ ۔ سوال : عواقِبُ مضاف محذوف ماننے کا کیا فائدہ ہے ؟ جواب : اسلئے کہ نفس انباء تو دنیا ہی میں معلوم ہوجائیں گی، ابتہ ان اک انجام اور نتیجہ آخرت میں معلوم ہوگا، اسی فائدہ کیلئے لفظ عواقب، محذوف مانا گیا ہے۔
قولہ : لِأَنَّہٗ اَنْفٰی للشَّکِّ ، یعنی معانیہ کے بجائے لمس کا استعمال نفی شک میں زیادہ ہے اسلئے کہ دیکھنے میں تو کبھی سحر یا نظر بندی کا دھوکا بھی ہوسکتا ہے مگر لمس اور ٹٹول کر معلوم کرنے میں دھوکہ اور مغالطہ کا اندیشہ نہیں ہوتا۔
قولہ : لَلَبَسْنَاہ، یہ شرط محذوف کا جواب ہے، تقدیر عبارت یہ ہے، ” ای لَوْ جَعَلْنَاہُ رَجُلاً لَلَبَسْنا “۔
تفسیر و تشریح
فضائل سورة انعام : مستدرک حاکم نے حضرت جابر سے روایت کی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب یہ سورت نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے سبحان اللہ العظیم فرمایا اور یہ فرمایا کہ آسمان سے زمین تک ستر ہزار فرشتے اس سورت کے نازل ہونے کے وقت ساتھ تھے، حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔
سورت کا نام : اس سورت کے رکوع 16، 17 میں بعض انعام (مویشیوں) کی حرمت اور بعض کی حلت کا ذکر ہے اسی مناسبت سے اس سورت کا نام ” انعام “ رکھا گیا ہے، بجز چھ آیات کے یہ پوری مکی ہے۔
سورة انعام کے مضامین کا خلاصہ : خدا کی توحید، پیغمبروں کی رسالت، توحید کے سلسلہ میں چند انبیاء کرام کے واقعات، قرآن کی صداقت، آخرت کی زندگی ثبوت، منکرین حق و صداقت کے کردار کی وضاحت اور ان کا انجام، یہ ہے اس سورت کے مضامین کا خلاصہ۔ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالارْضِ وَجَعَلَ الظُّلُمٰتِ والنورِ ۔
یہاں خلق، ایجاد و ابداع یعنی نیست سے ہست کرنے کے معنی ہئ (قرطبی) پوری کائنات دو قسموں میں منحصر ہے، جو ہر اور عرض، السَمٰوٰتِ والْاَرض، سے جوہر کی طرف اور الظلمٰت والنور سے عرض کی طرف اشارہ ہے مطلب یہ ہے کہ اس کائنات میں جوہر ہو یا عرض ہر چیز کا خالق بلا اسثناء وہی ایک خدا ہے الظلمٰت، کو جمع کے صیغہ کے ساتھ اور النور کو صیغہ واحد کے ساتھ ذکر کرنے میں اسطرف اشارہ ہے کہ گمراہیاں ایک نہیں بہت سی ہوسکتی ہیں اور راہ حق صرف ایک ہی ہوتی ہے، دو نقطوں کے درمیان خطوط منحنی بیشمار ہوسکتے ہیں مگر خط مستقیم ایک ہی ممکن ہے، اور یہ نقطہ قابل غور ہے کہ قرآن مجید میں نور، جہاں بھی آیا ہے مفرد ہی آیا ہے، یہاں ثُمَّ ، باوجود یا اس پر بھی کے معنی میں ہے (ماجدی) مذکورہ آیات کا مقصود توحید کی حقیقت اور اسکے واضح دلائل کو بیان فرما کر دنیا کی ان تمام قوموں کو تنبیہ کرنا ہے جو یا تو سے سے توحید کی قائل ہونے کے باوجود توحید کی حقیقت سے نا آشنا ہیں۔ مجوس دنیا کے دو خالق مانتے ہیں یزدان اور اہر من، یزدان کو خیر کا خالق اور اہرمن کو شر کا خالق قرار دیتے ہیں اور انہی دونوں کو نور و ظلمت سے تعبیر کرتے ہیں، قرآن مجید نے اس آیت میں اللہ تعالیٰ کو آسمان و زمین ظلمت و نور کا خالق بتا کر ان سے خیالات کی تردید کردی کہ نور و ظلمت اور آسمان و زمین اور ان میں موجودتمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی ہیں پھر کسی کو کیسے خدا تعالیٰ کا شریک وسہیم ٹھہریا جا
سکتا ہے۔
Ayahs 6:2–6ھُوا الذی خَلَقکم مِنْ طِیْنٍ ثمَّ قضٰی اجلاً ، بلاواسطہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا فرمایا، حضرت ابو موسیٰ اشعری، فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو مٹی کی ایک خاص مقدار سے پیدا فرمایا جس میں پوری زمین کے اجزاء شامل کئے گئے، یہی وجہ ہے کہ اولاد آدم رنگ و روپ اور اخلاق و عادات میں مختلف ہیں۔ یہ تو انسان کی ابتداء آفرینش کا ذکر تھا، اس کے بعد انتہاء کی دو منزلوں کا ذکر ہے، ایک انسان کی شخصی انتہاء جس کو موت کہا جاتا ہے دوسرے پوری نوع انسانی اور اس کے کائناتی خدام کی انتہاء جس کو قیامت کہا جاتا ہے انسان کی شخصی انتہاء کیلئے فرمایا ثمَّ قضیٰ اَجَلاً ، اس کے بعد پورے عالم کی انتہا یعنی قیامت کا ذکر فرمایا ہے واَجَلٌ مسمًّی عندہ، سے فرمایا، یعنی کائنات کی انتہاء کی ایک میعاد مقرر ہے جس کا صحیح علم اللہ کے پاس ہے۔
ثُمَّ اَنْتُمْ تمترون، یعنی توحید اور بعث بعد الموت کے ایسے واضح دلائل کے باوجود تک شکوک شبہات نکالتے ہو۔
تیسری آیت میں پہلی دو آیتوں کے مضمون کا نتیجہ بیان فرمایا ہے کہ اللہ ہی وہ ذات ہے جو آسمانوں اور زمین میں لائق عبادت و اطاعت ہے وہی تمہارے ظاہر و باطن اور ہر قول و فعل سے پورا واقف ہے۔
اَلَمْ یَرَواکم اَھْلکنا مِن قبلِھِم، یعنی جب گناہوں کی پاداش میں تم سے پہلی امتوں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں حالانکہ وہ طاقت و قوت میں بھی تم سے کہیں زیادہ تھیں اور خوشحالی اور وسائل رزق کی فراوانی میں بھی تم سے بہر بڑھ کر تھیں تو تمہیں ہلاک کرنا ہمارے لئے کیا مشکل ہے ؟ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی قوم کی محض مادی ترقی اور خوشحالی سے یہ نہیں سمجھ لینا چاہیے کہ وہ بہت کامیاب و کامران ہے، یہ استدارج اور امہال کی دو صورتیں ہیں جو بطور امتحان اللہ تعالیٰ قوموں کو عطا فرماتا ہے لیکن جب یہ مہلت عمل ختم ہوجاتی ہے تو پھر یہ ساری ترقیاں اور خوشحالیاں انھیں اللہ کے عذاب سے بچانے میں کامیاب نہیں ہوتیں۔
Ayah 6:7شان نزول : وَلَوْ نزلنا عَلَیْکَ کتاباً فی قرطاسٍ فلمسُوْہ الخ، مقاتل بن سلیمان اور کلبی نے اپنی تفسیر میں کہا ہے کہ نضر بن الحارث اور عبد اللہ بن امیہ نے ایک روز آنحضرت ﷺ سے کہا کہ ہم اس صورت میں ایمان لاسکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے ایک نوشتہ اس مضمون کا ہمارے پاس آئے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور چار فرشتے اس نوشتہ کے ساتھ آکر اس کی تصدیق کریں کہ یہ اللہ کی طرف سے نوشتہ ہے اور اس کا مضمون حق ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
اس کا جواب حق تعالیٰ نے ایک تو یہ دیا کہ یہ غفلت شعار ایسے مطالبات کرکے اپنی ہلاکت کو دعوت دے رہے ہیں اس لئے کہ دستور الہیٰ یہ ہے کہ جب کوئی قوم کسی پیغمبر سے کسی خاص معجزہ کا مطالبہ کرے اور اللہ تعالیٰ ان کا فرمائشی معجزہ دکھلا دے تو وہ لوگ اگر اسلام لانے میں ذرا تاخیر کریں تو پھر ان کو عام عذاب کے ذریعہ ہلاک کردیا جاتا ہے اور بہت سی سابقہ امتیں اسی دستور الہیٰ کے مطابق ہلاک کی جاچکی ہیں، یقین ہے کہ یہ اہل مکہ بھی اپنے جحود وعناد کی وجہ سے قرطاسی نوشتہ آسمانی کو ماننے کیلئے تیار نہ ہوں گے، اور اسے ایک ساحرانہ کرتب قرار دیں گے، جیسا کہ قرآن میں دوسرے مقام پر فرمایا گیا ہے، ” لَوْ فَتَحْنَا علیہم باباً من السماء فَظلّوا فیہ یعرجون لقالوا اِنّما سکرت ابصارنا بل نحن قوم مسحورون “ اگر ہم ان پر آسمان کا کوئی دروازہ کھول دیں اور یہ اس پر چڑھنے بھی لگیں تب بھی کہیں گے ہماری آنکھیں متوالی ہوگئی ہیں بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے۔
Ayah 6:8قالوا لَوْلاَ انزلَ عَلَیہ مَلَک، (الآیۃ) اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے جتنے بھی انبیاء و رسل بھیجے وہ سب انسان ہی تھے، اور یہ اس لئے کیا گیا کہ اس کے بغیر کوئی نبی اور رسول فریضہ تبلیغ و دعوت ادا ہی نہیں کرسکتا تھا، مثلاً فرشتوں کو اگر اللہ تعالیٰ رسول بنا کر بھیجتا ایک تو وہ انسانی زبان میں گفتگو نہ کر پاتے دوسرے وہ انسانی جذبات سے عاری ہونے کی وجہ سے انسان کی مختلف کیفیات و جذبات کے سمجھنے سے بھی قاصر رہتے، ایسی صورت میں وہ ہدایت و رہنمائی کا فریضہ کیسے انجام دے سکتے تھے ؟ انسان پر اللہ تعالیٰ کا ایک بڑا احسان ہے کہ اس نے انسانوں کو ہی نبی اور رسول بنا کر بھیجا، چناچہ اللہ تعالیٰ نے بھی اس کو بطور احسان ہی قرآن کریم میں ذکر فرمایا ہے، ” لَقَدْ مَنَّ اللہ علی المؤمنین اِذ بعث فیھم رسولاً من انفسھم “ اللہ نے مومنوں پر احسان فرمایا جبکہ ان ہی میں سے ایک شخص کو رسول بنا کر بھیجا لیکن پیغمبروں کی بشریت کافروں کیلئے حیرت اور استعجاب کا باعث رہی وہ سمجھتے تھے کہ رسول انسانوں میں سے نہیں فرشتوں میں سے ہونا چاہیے، گویا ان کے نزدیک بشریت رسالت کے شایان شان نہیں تھی، جیسا کہ آج کل کے اہل بدعت بھی یہی سمجھتے ہیں، مشرکین مکہ رسولوں کی بشریت کے تو منکر نہ تھے اسلئے کہ وہ ان کے حسب و نسب اور خاندانوں سے واقف تھے لیکن رسالت کا وہ انکار کر رہے تھے جبکہ آجکل کے بدعتی رسالت کا انکار تو نہیں کرتے لیکن بشریت کو رسالت کے منافی سمجھنے کی وجہ سے رسولوں کی بشریت کا انکار کرتے ہیں۔
Ayahs 6:9–10لَوْ جَعَلْناہ مَلَکًا الخ، یعنی اگر ہم فرشتے ہی کو رسول بنا کر بھیجتے تو ظاہر بات ہے کہ وہ فرشتے کی اصل شکل میں تو آ نہیں سکتا تھا، کیوں کہ انسان اس سے خوف زدہ ہوتے اور قریب و مانوس ہونے کے بجائے دور بھاگتے اسلئے ناگزیر تھا کہ اسے انسانی شکل میں بھیجا جاتا اس میں بھی یہی شبہ ہوتا کہ یہ تو انسان ہی ہیں تو پھر فرشتے کو بھیجنے سے کیا فائدہ ہوتا، حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس جو فرشتے آئے تھے وہ انسان ہی کے شکل میں آئے تھے۔
Ayahs 6:11–20آیت نمبر 11 تا 20
ترجمہ : آپ ان سے کہیے زمین میں چلو پھرو پھر دیکھو رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کا کیا انجام ہوا، تاکہ تم عبرت حاصل کرو، آپ ان سے پوچھئے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ کس کا ہے ؟ اگر وہ اس کا جواب نہ دیں تو کہئے اللہ کا ہے اس لئے کہ اس کے علاوہ کوئی (صحیح) جواب ہی نہیں ہے ازراہ کرم اس نے اپنے اوپر رحمت لازم کرلی ہے اس میں ان کو دعوت دینے میں نرمی ہے تم کو اللہ قیامت کے دن جمع کرے گا تاکہ تم کو تمہارے اعمال کا بدلہ دے اس میں کوئی شک نہیں کہ جن لوگوں نے خود کو عذاب پر پیش کرکے اپنا نقصان کیا ہے یہ ایمان لانیوالے نہیں ہیں (الذین الخ) مبتداء ہے (فھو لا یؤمنون) مبتداء کی خبر ہے، اور اللہ تعالیٰ ہی کی ہے ہر وہ چیز جو رات اور دن میں ٹھہری ہے یعنی ہر شئ کا وہی رب اور وہی خالق اور وہی مالک ہے اور جو کچھ کہا جاتا ہے اس کا سننے والا جو کچھ کیا جاتا ہے اس کا جاننے والا ہے کیا میں اللہ کے غیر کی بندگی کروں وہ اللہ کہ جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اور اس اور کھلاتا ہے اور اس کو کوئی نہیں کھلا تا ہے (ہرگز) نہیں، آپ کہئے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اس امت کے پہلے اسلام لانے والوں میں ہوں اور مجھ سے کہا گیا ہے کہ تم ہرگز اس کے ساتھ شرک کرنے والوں میں سے نہ ہونا آپ کہہ دیجئے میں بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں اور وہ قیامت کا دن ہے اگر میں غیر اللہ کی بندگی کرکے اپنے رب کی نافرمانی کروں، اور جو شخص اس روز عذاب سے بچا لیا گیا (یُصرف) میں مجہول اور معروف دونوں قراءتیں ہیں (معروف کی صورت میں) فاعل اللہ ہوگا اور عائد محذوف ہوگا، یقیناً اللہ نے اس پر بڑا رحم کیا، یعنی اس کے لئے خیر کا ارادہ کیا، یہی بڑی کامیابی ہے کھلی کامیابی ہے، اور اگر اللہ تجھ کو کسی آزمائش مثلاً مرض اور فقر کے ذریعہ تکلیف پہنچانا چاہے تو اس کو اللہ کے سوا کوئی دور کرنے والا نہیں اور اگر تجھ کو کوئی خیر مثلاً صحت پہنچائے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے، اور اسی میں سے وہ بھی ہے جو تجھ کو لاحق ہوئی، اور تجھ سے اللہ کے سوا کوئی اس کو دفع کرنے والا نہیں اور وہ اپنے بندوں پر ایسا قادر ہے کہ کوئی چیز اس کے غالب ہونے کی وجہ سے عاجز نہیں کرسکتی اور وہ اپنی مخلوق کے بارے میں باحکمت اور ان کے سرائر سے ان کے ظواہر کے مانند خبر رکھنے والا ہے اور جب (اہل مکہ) نے آپ ﷺ سے کہا کہ اس شخص کو پیش کرو جو تمہاری نبوت کی شہادت دے اس لئے کہ اہل کتاب آپ (کی نبوت) کا انکار کرچکے ہیں، تو یہ آیت نازل ہوئی، آپ ان سے پوچھئے کہ کس کی گواہی سب سے بڑھ کر ہے ؟ (شھادۃً ) مبتداء سے منقول ہو کر تمیز ہے، اگر وہ یہ جواب نہ دیں تو تم کہو میری صداقت پر میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے اسلئے کہ اس کے علاوہ کوئی جواب نہیں ہے، اور یہ قرآن میرے پاس وحی کے طور پر بھیجا گیا ہے تاکہ اے اہل مکہ میں تم کو اور اس شخص کو اس کے ذریعہ ڈراؤں جس کو قرآن پہنچا ہے (مَنْ بَلَغَ ) کا عطف انذرکم کی ضمیر پر ہے، یعنی جس کو قرآن پہنچا ہو خواہ انسانوں میں سے ہو یا جنات میں سے، کیا تم سچ مچ یہی گواہی دو گے کہ خدا کے ساتھ اور معبود بھی ہیں، استفہام انکاری ہے آپ ان سے کہہ دیجئے میں اسکی گواہی نہیں دوں گا آپ کہہ دیجئے کہ بس وہ تو ایک ہی معبود ہے اور بیشک میں ان بتوں سے بری ہوں جن کو تم اسکے ساتھ شریک کرتے ہو، جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ محمد ﷺ کو ان کی کتاب میں اس کی صفات پائے جانے کی وجہ سے ایسا پہچانتے ہیں جیسا کہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں، ان میں جن لوگوں نے خود کو نقصان میں ڈالا وہ اس پر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : اَلَّذِیْن خَسِرُوْا اَنْفُسَھُم فَھُمْ لا یؤمنُونَ ، الذین خَسِروا انفسھم مبتداء فَھُمْ لاَ یُؤمنون خبر۔ سوال : خبر پر فاء کس وجہ سے داخل ہے ؟
جواب : اس لئے کہ موصول میں شائبہ شرط ہے جس کی وجہ سے خبر میں شائبہ جزاء ہے، اسی وجہ سے فاء داخل ہے۔
قولہ : حَلَّ ، سَکَنَ کی تفسیر حَلَّ بمعنی استقرَّ سے کرکے اشارہ کردیا کہ سکون اگرچہ حرکت کی ضد کو کہتے ہیں مگر یہاں مطلقا استقرار مراد ہے، یہ عرب کے قول تقیکم الحر کے قبیل سے ہے ای تقیکم الحر والبردَ ۔
قولہ : العِائدُ مَحْذُوْفٌ، یہ یَصْرِف کو معروف پڑھنے کی صورت میں ہوگا، ظاہر یہ ہے کہ العذابَ محذوف ہوگا اس لئے کہ نحوی قاعدہ ہے غیر موصول کی طرف عائد کا حذف جائز نہیں ہے۔
قولہ : النَجَاۃُ الظَّاھِرَۃُ ، اس لئے کہ یہ کامیابی بالکل ظاہر اور دائمی ہوگی بخلاف دنیوی کامیابی کے۔
قولہ : مُستَعْلِیًا، اس میں اشارہ ہے کہ فوقَ عبادہٖ ، القاھِرُ کی ضمیر سے حال ہے، اور استعلاءً سے علو فی القدر الشان ہے۔
قولہ : قل اللہ، ای قل اللہ اکبر، لفظ اکبر محذوف ہے اس لئے کہ مقولہ مفرد نہیں ہوا کرتا۔
قولہ : ھو شھیدٌ اس میں اشارہ ہے کہ شھیدٌ، ھو مبتداء محذوف کی خبر ہے۔
سوال : اللہ کو مبتداء اور شھید کو خبر ماننے میں کیا قباحت ہے ؟ جبکہ اس صورت میں ھُوَ مبتداء محذوف ماننے کی ضرورت بھی نہ ہوگی
جواب : اللہ کو مبتداء اور شھیدٌ کو خبر اس لئے قرار دینا درست نہیں ہے کہ اللہ شھیدٌ کا ایُّ شئ اکبر شھادۃً کا جواب واقع ہونا درست نہ ہوگا، اسلئے کہ تقدیر عبارت یہ ہوگی، اَیُّ شئ اکبر شھادۃ اللہ شھید بینی وبینکم، اس میں جواب سوال کے مطابق نہیں ہے۔
قولہ : عَطْفٌ عَلیٰ ضَمِیْرِ اُنْذِرَکُمْ ، یعنی مَنْ بَلَغَ کا عطف انذرکم کی ضمیر مفعول کُمْ پر ہے نہ کہ انذر کی ضمیر مستتر فاعل پر۔
قولہ : ای بَلَغَہٗ القرآنُ اس میں بَلَغَ کی ضمیر فاعل کی تعین کی طرف اشارہ ہے۔
تفسیر و تشریح
ربط آیات : مذکورہ آیات میں قریش کو تنبیہ کی جا رہی ہے کہ اگر تم بھی سابقہ امتوں کی طرح آپ ﷺ سے استہزاء کرتے رہو گے تو تمہارا بھی وہی حشر ہوگا جو اس جرم میں سابقہ امتوں کا ہوا، عبرت حاصل کرنے کیلئے ملک شام و یمن وغیرہ کا سفر کرو اور سابقہ امتوں کی اجڑی ہوئی معذب بستیوں کو دیکھ کر عبرت حاصل کرو۔
قُلُ لَھُمْ سیروا فی الارض، امام بغوی نے کہا ہے کہ سیر سے مراد سیر بالعقول والافکار، بھی ہوسکتی ہے یعنی کائنات اور قدیم آثار و خرابات میں غور کرو اور اس سے عبرت حاصل کرو، اور سیر بالاقدام بھی مراد ہوسکتی ہے، یعنی دنیا جہان کی سیر کرو اور خدا کی کائنات اور عبرتناک مقامات سے عبرت حاصل کرو۔
نکتہ : ثُمَّ انظروا۔ امام رازی کی نکتہ سنجی نے یہاں ایک عجیب نکتہ پیدا کیا ہے فرماتے ہیں کہ اگر یہاں فانظروا ہوتا تو اس کے معنی یہ ہوتے کہ اسی عبرت پذیری کی غرض سے سفر کرو یعنی مقصد سفر عبرت پذیری ہونی چاہیے، لیکن ثم انظروا نے سفر کا دارومدار عبرت پذیری پر نہیں رکھا، بلکہ مزید وسعت پیدا کرتے ہوئے فرمایا سفر کرو اور پھر عبرت آمیز واقعات و حادثات نیز آثار و خرابات سے عبرت بھی حاصل کرو، یعنی سفر پر جائز غرض کے لئے مباح ہے مگر دوران سفر عبرت پذیری واجب ہے، اَمّا قولہ سیروا فی الارض ثم انظروا فمعناہ اباحۃ السیر فی الارض للتجارۃ وغیرھا من المنافع وایجاب النظر فی آثار الھالکین۔ (کبیر)
Ayahs 6:21–24آیت نمبر 21 تا 30
ترجمہ : اور اس سے بڑھ کرنا انصاف کون ہوگا ؟ جو اللہ پر اس کی طرف شریک کی نسبت کرکے جھوٹا بہتان لگائے ؟ کوئی نہیں، یا اس کی آیتوں (یعنی) قرآن کو جھٹلائے یقینی بات ہے کہ اس قسم کے ظلم کرنے والے کبھی فلاح نہیں پاسکتے اس دن کو یاد کرو کہ جس دن ہم سب کو جمع کریں گے پھر ان مشرکوں سے سرزنش کے طور پر پوچھیں گے کہ تمہارے وہ شرکاء کہاں ہیں جن کے بارے میں تم یقین رکھتے تھے کہ وہ اللہ کے شریک ہیں پھر ان کے پاس اس کے سوا کوئی عذر (جواب) باقی نہ رہے گا کہ یہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب ہم مشرک نہیں تھے، (تکن) تاء اور یاء، کے ساتھ ہے، (اور) (فِتْنَتُھم) نصب اور رفع کے ساتھ ہے (اور فتنۃٌ) کے معنی معذوۃٌ کے ہیں، (رَبَّنا) جر کے ساتھ اللہ کی صفت ہونے کی وجہ سے اور نصب کے ساتھ نداء کی وجہ سے، اللہ تعالیٰ فرمائیگا، اے محمد ﷺ دیکھو تو انہوں نے اپنے شرک کا انکار کرکے اپنی جانوں پر کس طرح جھوٹ بولا، اور جن شرکاء کو لیکر یہ لوگ اللہ پر بہتان تراشا کرتے تھے وہ سب ان سے غائب ہوجائیں گے، اور ان مشرکوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو آپ کی (بات کی) طرف جب آپ تلاوت کرتے ہیں کان لگاتے ہیں اور ہم نے ان کے کانوں پر پردے ڈال رکھے ہیں تاکہ وہ اس قرآن کو نہ سمجھیں، اور ان کے کانوں میں گرانی ہے یعنی ثقل ہے، جس کی وجہ سے وہ قبولیت کے کان سے نہیں سنتے، خواہ وہ کوئی نشانی دیکھ لیں اس پر ایمان لانیوالے نہیں حتی کہ یہ لوگ جب آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ سے جھگڑتے ہیں، یہ لوگ جو کافر ہیں کہ یہ قرآن پہلے لوگوں کی جھوٹی داستانوں کے سوا کچھ نہیں ہیں، (اَسَاطیر) بروزن اَضَاحیک اور عَاجیب، (اساطیر) اُسْطورَۃ کی جمع ہے (ہمزہ) کے ضمہ کے ساتھ اور یہ لوگوں کو آپ سے یعنی آپ ﷺ کی اتباع سے روکتے ہیں اور خود بھی ان سے دور دور رہتے ہیں جس کی وجہ سے یہ لوگ آپ پر ایمان نہیں لاتے، اور کہا گیا ہے کہ یہ آیت ابو طالب کے بارے میں نازل ہوئی کہ (لوگوں کو) آپ کی ایذاء رسانی سے روکتے تھے اور خود ایمان نہیں لاتے تھے، اور آپ سے دور دور رہنے سے وہ خود کو ہی ہلاکت میں ڈالتے ہیں اس لئے کہ اس کا نقصان ان ہی کو پہنچے گا، مگر ان کو اس کا شعور نہیں اے محمد کاش آپ ان کی اس حالت کو دیکھتے کہ جب ان کو دوزخ پر پیش کیا جائیگا تو اس وقت کہیں گے کہ کاش ہم کو دنیا میں لوٹا دیا جائے اور ہم اپنے رب کی آیتوں کو بہ جھٹلائیں اور ایمان لانے والوں میں شامل ہوں دونوں فعلوں کے رفع کے ساتھ جملہ مستانفہ ہونے کی وجہ سے، اور جواب تمنی ہونے کی وجہ سے دونوں نصب کے ساتھ ہیں اور اول کا رفع اور ثانی کا نصب بھی جائز ہے اور لَوْ کا جواب لَرَأیتَ اَمرًا عظیمًا (محذوف) ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا بلکہ جس چیز (شرک) کو اس سے پہلے چھپایا کرتے تھے وہ چیز (آج) ان کے سامنے آگئی ہے، یعنی اپنے قول، ” واللہ ربنا ما کنا مشرکین “ کے ذریعہ چھپایا کرتے تھے، وہ ان کے اعضاء کی شہادت کے ذریعہ ظاہر ہوجائے گی، تو اس قوت اس کی تمنا کریں گے، اور اگر بالفرض ان کو دنیا میں لوٹا دیا جائے تو یہ وہی شرک کرنے لگیں جس سے ان کو منع کیا گیا ہے اور یقیناً یہ لوگ اپنے وعدہ ایمان میں بالکل جھوٹے ہیں اور منکرین بعث یہ کہتے ہیں کہ صرف یہی دنیاوی زندگی ہی ہماری زندگی ہے اور ہم زندہ ہو کر اٹھنے والے نہیں ہیں اور اگر آپ اس وقت دیکھیں جب ان کو ان کے رب کے روبرو پیش کیا جائیگا تو آپ ﷺ ایک امر عظیم دیکھیں گے (اللہ تعالیٰ ) ان سے فرشتوں کی زبانی سرزنش کے طور پر کہے گا، کیا یہ بعث و حساب حق نہیں ہے ؟ تو یہ لوگ کہیں گے بیشک قسم ہے اے ہمارے پروردگار یقیناً حق ہے اللہ تعالیٰ فرمائیگا تو تم اس عذاب کا مزا چکھو جس کا تم دنیا میں انکار کیا کرتے تھے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : انّھم شُرَکاءُ اللہ، اس میں اشارہ ہے کہ تَزْعَمُوْنَ کے دونوں مفعول ما قبل کی دلالت کی وجہ سے محذوف ہیں۔
قولہ : بالنَصْبِ والرَفْعِ ، فتنتَھم پر نصب کان کی خبر مقدم ہونے کی وجہ سے ہے اور اِلاَّ أن قالُوا اسم مؤخر ہونے کی وجہ سے ورنہ محلاً
مرفوع ہے، اور فع اس کے برعکس ہونے کی وجہ سے ہے۔ قولہ : ای مَعْذِرَتھُم، یہ فتنۃ کی تفسیر ہے۔
قولہ : ای قَوْلَھم اس میں اشارہ ہے کہ (أن قالوا) میں أن مصدریہ ہے، تاکہ استثناء درست ہوجائے۔
قولہ : بالجرِّ نَعْتٌ والنَصْبِ نداءٌ، یعنی یا رَبَّنَا میں دو قراءتیں ہیں اگر ربنا لفظِ اللہ کی صفت ہو تو اس پر جر ہوگا اور اگر یا حرف نداء محذوف کا منادیٰ ہو تو نصب ہوگا، ای رَبَّنَا۔ قولہ : اَلْاُسطورۃ، ای ما سَطَرہُ الاوَّلون مِنَ الا کا ذیب۔
قولہ : یَنْأون، مضارع جمع مذکر غائب (ف) نَأیًا دور رہنا۔ قولہ : یا، للتنبیہ ای مثل، ألا واما۔
قولہ : استینافاً ، یعنی لا نکذب الخ سوال مقدر کا جواب ہے، ای مَا ذاتفعلون لو رددتم ؟ ای لا نکذب ونکونُ من المومنین، اور واؤ کے بعد اَن کی تقدیر کے ساتھ جواب تمنی واقع ہونے کی وجہ سے منصوب ہے، اور ایک قراءت رفع نکذب اور نصب نکون کے ساتھ ہے، اول کا رفع تمنی اور اس کا جواب کے درمیان خبر واقع ہونے کی وجہ سے ہے اور ثانی یعنی نکون ، کا نصب جواب تمنیّ واقع ہونے کی وجہ سے، لَو تریٰ کا جواب محذوف ہے جیسا کہ مفسر علام نے لَرَأیتَ امْرًا عظِیمًا کہہ کر ظاہر کردیا ہے۔
قولہ : بلْ للاضراب، ای لابطال ما یُفھَمُ من التمنّی، یعنی تمنائے ایمان سے اضراب ہے اسلئے کہ ان کی یہ تمنا عزم تصدیق کی وجہ سے نہیں ہوگی، بلکہ اعضاء کی شہادت کے سبب زجر اور رسوائی کی وجہ سے ہوگی۔
قولہ : وقالوا، اس کا عطف لَعَادُوا پر ہے، ای لو رُوّوا لَعَادوا لما نُھُوا عنہ وقالوا۔
تفسیر و تشریح
فَمَنْ اَظْلَمُ ، یعنی جس طرح نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والا سب سے بڑا ظالم ہے اسی طرح وہ بھی سب سے بڑا ظالم ہے جو اللہ کے سچے رسولوں اور اس کی آیتوں کی تکذیب کرے پوری کائنات میں چاروں طرف پھیلی ہوئی نشانیاں ایک ہی حقیقت کی طرف رہنمائی کرتی ہیں اور وہ یہ کہ موجودات عالم میں خدا صرف ایک ہی ہے، باقی سب اس کے بندے ہیں، ظاہر ہے کہ جو شخص اس کائناتی مشاہدے اور تجربے کے بغیر محض قیاس و گمان یا آبائی تقلید کی بنا پر دوسروں کو الوہیت کی صفات سے متصف اور خداوندی حقوق کا مستحق ٹھہراتا ہے اس سے بڑھ کر ظالم اور کوئی نہیں ہوسکتا ایسا شخص حقیقت و صداقت پر ظلم کرتا ہے، اپنے نفس پر ظلم کرتا ہے اور کائنات کی ہر اس چیز پر ظلم کرتا ہے جس کے ساتھ وہ اس غلط نظریہ کی بنا پر کوئی معاملہ کرتا ہے، ظاہر ہے کہ ایسے ظالموں کی فلاح و کامرانی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
ثمَّ لم تکن فِتنتُھُمْ ، فتنۃ کے متعدد معنی آتے ہیں، حجت، معذرت، جواب، مطلب یہ ہے کہ کفار خدا کی پیشی کے وقت حیل و حجت اور معذرت کے ذریعہ چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کریں گے کہ ہم تو مشرک نہ تھے، اور یہ جھوٹ اس وقت بولیں گے کہ جب ان کے اعضاء خود ان کے خلاف گواہی دیں گے تو اس وقت وہ لا جواب اور تنگ ہو کر کذب بیانی وردروغ گوئی کا سہارا لیں گے، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ جب مشرکین دیکھیں گے کہ اہل توحید جنت میں جا رہے ہیں تو مشرکین آپس میں مشورہ کرکے اپنے شرک سے انکار کردیں گے، تب اللہ انکے مونہوں پر مہر لگا دے گا، اور ان کے اعضاء ان کے خلاف گواہی دیں گے
Ayah 6:25شان نزول : ومنھم مَنْ یستَمِعُ اِلَیْکَ الخ کلبی اعر ابن جریر نے مجاہد کے قول کے مطابق اپنی تفسیر میں اس آیت کا جو شان نزول بیان کیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ابو سفیان، ابو جہل، ولید بن مغیرہ، نضر بن حارث، عتبہ بن شیبہ، ایک روز سب نے قرآن کی چند آیتیں سنیں، نضر بن حارث پچھلے زمانہ کے قصے بہت جانتا تھا اس لئے ان سب نے نضر بن حارث سے مخاطب ہو کر کہا کہ تم نے سنا محمد ﷺ نے کیا پڑھا ؟ نضر بن حارث نے کہا جس طرح میں تم کو پچھلی کہانیاں سنا تارہتا ہوں اسی طرح یہ بھی ایک کہانی ہے ابو سفیان نے کہا باتیں تو اس کلام کی حق معلوم ہوتی ہیں ابو جہل نے کہا ایسی باتوں کے ماننے سے ہم کو موت بہتر ہے، اس قصہ پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ابوجہل کے دل پر پردہ پڑجانے کے سبب سے جو بات اس نے اپنے منہ سے نکالی تھی کہ ایسی باتوں سے موت بہتر ہے چناچہ ازلی شقاوت نے اس کے حق میں وہی کیا کہ بدر کی لڑائی میں مارا گیا اور ابو سفیان نے سعادت ازلی کے سبب جو بات منہ سے نکالی تھی آخر کار ان کو اسلام نصیب ہوا مطلب یہ ہے کہ ابو جہل اور نضر بن حارث جیسے لوگوں کی شان میں فرمایا کہ ایسے لوگوں کو ہزارہا معجزے دکھلائے جائیں اور قرآن کی تمام آیات سنائی جائیں تب بھی یہ سخت دل اور بہرے بنے رہیں گے نہ کسی معجزے کو دیکھ کر ان کے دل پر سے غفلت کا پردہ اٹھے گا نہ کسی آیت قرآن کو کون کھول کر سنیں گے۔
Ayahs 6:26–30شان نزول : وھم یِنْھَوْنَ عنہُ الخ، طبرانی اور مستدرک حاکم میں حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ خواجہ ابو طالب یوں تو آپ ﷺ کی ہمہ وقت حمایت کرتے رہتے تھے کہ قریش میں سے کوئی شخص آپ کو ایذاء نہ پہنچائے، مگر آنحضرت ﷺ جب خوابہ ابو طالب کو کوئی ہدایت کی بات کہتے تو اس سے ابو طالب دور بھاگتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی طبرانی کی سند میں اگرچہ ایک راوی قمیس بن ربیع کو بعض علماء نے ضعیف کہا ہے لیکن شعبہ نے اس کو ثقہ کہا ہے اسلئے یہ روایت معتبر ہے، صحیح بخاری میں ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ ایک روز آپ ﷺ کے روبرو خوابہ ابو طالب کا ذکر آیا آپ نے فرمایا شاید ابو طالب کو میری شفاعت کچھ نفع تخفیف عذاب میں پہنچا دے، اسی طرح صحیح بخاری میں عروہ سے مرسلاً روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت عباس نے ابو لہب کو خواب میں دیکھا کہ بری حالت میں ہے جب حضرت عباس ؓ نے ابو لہب سے حال پوچھا تو ابولہب نے کہا جب سے میں مرا ہوں ہمیشہ بری حالت میں رہتا ہو لیکن پیر کے دن محمد ﷺ کی پیدائش کی خبر سن کر میں نے اسی خوشی میں اپنی باندی ثوبیہ کو آزاد کردیا تھا اس لئے اس روز میرے اس عذاب میں ذرا تخفیف کردی جاتی ہے، اس ختلافی مسئلہ کی مزید تفصیل کے لئے کتب احادیث کی طرف رجوع کریں۔
وَلوتریٰ اِذْ وَقفوا علی ربّھِمْ ، (الآیۃ) یعنی عالم آخرت میں عذاب کا مشاہدہ کرلینے کے بعد تو وہ اعتراف کرلیں گے کہ آخرت کی زندگی واقعی برحق ہے لیکن وہاں سے اعتراف کا کوئی فائدہ نہ ہوگا، اللہ تعالیٰ ان سے فرمائیگا کہ اب تو اپنے کفر کے بدلے میں عذاب کا مزا چکھ
Ayahs 6:31–32آیت نمبر 31 تا 41
ترجمہ : یقیناً وہ لوگ نقصان میں پڑگئے جنہوں نے بعث (سے انکار کے ذریعہ) اللہ کی ملاقات کی تکذیب کی (حَتّٰی) تکذیب کی غایب ہے، یہاں تک کہ جب قیامت ان پر دفعۃً آپہنچے گی تو یہ لوگ کہیں گے ہائے افسوس دنیا میں ہماری کوتاہی پر یہ شدت الم کا اظہار ہے، اور حسرت کو ندا دینا مجاز ہے، (یعنی) اے حسرت یہ تیری حاضری کا وقت ہے لہٰذا تو حاضر ہوجا، اور حال ان کا یہ ہوگا کہ وہ اپنے گناہوں کا بوجھ اپنی پیٹھوں پر اٹھائے ہوں گے، بایں صورت کہ انکے اعمال بعث کے وقت نہایت بری صورت اور بدترین بدبو کے ساتھ آئیں گے اور ان کے اوپر سوار ہوجائیں گے، خوب سن لو بری ہوگی وہ چیز جس کو وہ لادے ہوئے ہوں گے، یعنی ان کا ان اعمال کو اٹھانا (برا ہوگا) دنیاوی زندگی یعنی اس میں مشغول رہنا لہو ولعب کے سوا کچھ نہیں رہی طاعات اور اس پر مدد کرنے والی چیزیں تو یہ امور آخرت میں سے ہیں اور دار آخرت شرک سے بچنے والوں کیلئے بہتر ہے، اور ایک قراءت میں وَلَدَارُ الآخرۃِ (اضافت کے ساتھ ہے) یعنی جنت کیا یہ لوگ اس کو سمجھتے نہیں ہیں ؟ کہ ایمان لے آئیں (یعقلون) یاء اور تاء کے ساتھ ہے ہم خوب جانتے ہیں کہ آپ کی باتیں آپ کو مغموم کرتی ہیں سو یہ لوگ (درحقیقت) آپ کی تکذیب نہیں کرتے بلکہ اللہ کی آیتوں قرآن کی تکذیب کرتے ہیں دل سے یہ بات جاننے کی وجہ سے کہ آپ سچے ہیں، اور ایک قراءت میں (یکذبوک) تخفیف کے ساتھ ہے یعنی کذب کی نسبت آپ کی طرف نہیں کرتے بلکہ درحقیقت اللہ کی طرف کرتے ہیں، اسم ضمیر کی جگہ اسم ظاہر لایا گیا ہے آپ سے پہلے بہت سے رسولوں کی تکذیب کی جا چکی ہے اس میں نبی ﷺ کیلئے تسلی ہے، سو انہوں نے اس پر صبر ہی کیا اور ان کو ایذاء پہنچائی گئی یہاں تک کہ ہماری مدد ان کو پہنچی ان کی قوم کو ہلاک کرکے، لہٰذا آپ بھی صبر کریں حتی کہ آپ کی قوم کو ہلاک کرکے آپ کی نصرت کی جائے اور اللہ کی باتوں یعنی وعدوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور آپ کے پاس بعضے رسولوں کی خبریں آچکی ہیں جس سے آپ کے قلب کو تسکین ہوگی، اور اگر ان کا اسلام سے اعراض آپ کے ان پر حریص ہونے کی وجہ سے گراں گزرتا ہے تو اگر آپ سے ہوسکے تو زمین میں سرنگ بنا لو یا آسمانوں میں سیڑھی لگا لو اور ان کافر مائشی معجزہ لاسکتے ہو تو لے آؤ، مطلب یہ کہ یہ آپ سے نہ ہوسکے گا لہٰذا خدا کا حکم آنے تک صبر کرو، اور اگر اللہ کو ان کی ہدایت مقصود ہوتی تو ان سب کو (راہ) ہدایت پر جمع کردیتا، لیکن اس نے نہ چاہا جس کی وجہ سے یہ لوگ ایمان نہیں لائے، سو آپ اس معاملہ میں نادانوں میں سے نہ ہوجائیے آپ کی دعوت پر وہی لوگ لبیک کہتے ہیں جو عبرت اور سمجھنے کے ارادہ سے سنتے ہیں اور مردوں یعنی کافروں کو مردوں سے عدم سماع میں شیبہ دی ہے اللہ تعالیٰ آخرت میں زندہ کریگا پھر سب اللہ کی طرف لائے جائیں گے اور ان کے اعمال کی جزا دی جائے گی، اور کفار مکہ نہ کہا ان کے اوپر ان کے رب کی جانب سے کوئی نشانی مثلاً اونٹنی اور عصا اور خوان کیوں نازل نہیں کی گئی ؟ آپ ان سے فرما دیجئے کہ اللہ تعالیٰ کو بلاشبہ اس کی قدرت حاصل ہے کہ مطلوبہ معجزہ نازل فرما دے (ینزل) تشدید اور تخفیف کے ساتھ ہے لیکن اکثر لوگ اس حقیقت سے واقف نہیں ہیں یقیناً ان کا نزول ان کیلئے آزمائش ہوگا ان معجزوں کو تسلیم نہ کرنے کی صورت میں ان کی ہلاکت کے واجب ہونے کی وجہ سے نہ زمین پر چلنے والے جو نوروں کی کوئی قسم مِن زائدہ ہے اور نہ ہوا میں اپنے بازؤں سے اڑنے والے پرندوں کی کوئی قسم ایسی کہ جو ان کی تخلیق اور ان کے رزق اور ان کے احوال کی منصوبہ بندی میں تمہارے مانند نہ ہو، ہم نے کوئی چیز نہیں چھوڑی کہ لوح محفوظ میں نہ لکھ لی ہو من زائدہ ہے پھر سب اپنے پروردگار کے پاس جمع کئے جائیں گے، چناچہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کر دے گا، اور بےسینگ جانور کا بدلہ سینگ والے جانور دلوایا جائیگا، پھر ان سے اللہ فرمائیگا مٹی ہوجاؤ، اور جو لوگ ہماری آیتوں قرآن کی تکذیب کرتے ہیں وہ ان کو قبولیت کے کانوں سے سننے سے بہرے ہیں، اور حق بات کہنے سے گونگے ہیں، کفر کی ظلمتوں میں ہیں اللہ جس کو گمراہ کرنا چاہے اس کو گمراہ کردیتا ہے اور جس کی ہدایت چاہے تو اس کو راہ مستقیم یعنی دین اسلام پر گامزن کردیتا ہے اے محمد ﷺ آپ اہل مکہ سے پوچھئے کہ مجھے بتاؤ اگر تمہارے اوپر دنیا میں عذاب آجائے یا اچانک قیامت آجائے جو عذاب پر مشتمل ہو تو کیا تم اللہ کے سوا کسی کو پکارو گے، اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ بت تم کو نفع دیں گے تو ان کو پکارو، بلکہ خاص اسی کی نہ کہ اس کے غیر کو مصائب میں پکارو گے، اگر وہ اس مصیبت کو ہٹانا چاہے تو جس کے ہٹانے کیلئے اس سے دعا کر رہے ہو ہٹا سکتا ہے اور جن بتوں کو تم اس کے ساتھ شریک کرتے ہو بھول بھال جاؤ (اور) ان کو نہ پکارو
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : حتّٰی غَایَۃٌ، للتکذیب، مطلب یہ ہے کہ حتیّ تکذیب کی غایت ہے نہ کہ خَیرَ کی اسلئے کہ ان کے خسران کی کوئی غایت نہیں ہے بخلاف تکذیب کے کہ دنیا میں تو تکذیب کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے مگر قیام قیامت کے بعد تکذیب کا سلسلہ موقوف ہوجائیگا۔
قولہ : بَغْتَۃً یہ باغتۃً کے معنی میں ہو کر حال ہے۔
قولہ : نِدَائُھا مجازٌ، اسلئے کہ ندا اس کو دی جاتی ہے جس میں متوجہ ہونے کی صلاحیت ہو، حسرت میں متوجہ ہونے کی صلاحیت نہیں ہوتی لہٰذا حسرت کو علاء کے درجہ میں اتار کر ندا دی ہے۔
قولہ : ای الدنیا یہ فیھا کی ضمیر کے مرجع کا اظہار ہے حالانکہ ماقبل قریب میں کہی دنیا کا ذکر نہیں مگر چونکہ ذہنی طور پر دنیا معلوم و متعین ہے اسلئے ضمیر اس کی طرف لوٹا دی گئی ہے لہٰذا اضمار قبل الذکر کا اعتراض وارد نہ ہوگا۔ قولہ : حَمْلُھُم ذلک یہ مخصوص بالذم ہے
قولہ : وَلزار الآخرۃ، اس میں اضافت موصوف الی الصفت ہے جو کہ اضافت الشئ الی نفسہٖ کے قبیل سے ہے لہٰذا مضاف الیہ محذوف مان کر تقدیر عبارت یہ ہوگی وَلَدار الساعۃِ الاٰخرۃِ ۔ قولہ : ذلک یہ تعقلون کا مفعول ہے۔ سوال : فی البرِّ کے اضافہ کا کیا فائدہ ہے ؟
جواب : اس کا مقصد تعارض کا دفع کرنا ہے، (تعارض) لا یکذبوک اور یجحدون میں تعارض ہے، اسلئے کہ لا یکذبون کا مطلب ہے تکذیب نہ کرنا اور یجحدون کا مطلب ہے تکذیب کرنا، (دفع) یعنی تکذیب نہیں کرتے قلب سے اور تکذیب کرتے ہیں زبان سے۔
قولہ : وَضَعَہُ مَوْضِعَ المُضْمَر، مطلب یہ ہے کہ لکنّھم کے بجائے لکن الظلمین استعمال ہوا ہے، حالانکہ ضمیر کافر تھی، مگر چونکہ مقصد کافروں کی صفت ظلم کو بیان کرنا تھا جو ھم ضمیر سے نہیں ہوسکتا تھا، اسی لئے اسم ضمیر کی جگہ اسم ظاہر لائے ہیں۔
قولہ : یکذبون، یَجْحَدُوْنَ کی تفسیر یکذبون سے کرکے اشارہ کردیا کہ یجحدون کا تعدیہ بالباء، یکذبون کے معنی کو متضمن ہونے کی وجہ سے ہے۔ قولہ : فَافْعَلْ یہ استطعت کا جواب ہے، اور یہ جمہ شرطیہ ہو کر وَاِنْ کان کبُرَ ، کا جواب ہے۔
قولہ : فی الظلمٰت یہ مبتداء کی خبر ثالث ہے۔ قولہ : فَادْعُوْھٰا، یہ ان کنتم صادقین کا جواب محذوف ہے۔
تفسیر و تشریح
قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ کذّبوا بلقاءِ اللہ (الآیۃ) اللہ کی ملاقات کی تکذیب کرنے والے جس خسارے اور نامرادی سے دو چار ہوں گے اپنی کوتاہیوں پر جس طرح نادم و پشیمان ہوں گے اور برے اعمال کا جو بوجھ اپنے اوپر لادے ہوئے ہوں گے اس آیت میں اس کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ کل قیامت کے دن آخرت کی بہبودی کے کام کرنے والے جب قسم قسم کے عیش و آرام میں ہوں گے اور اللہ کے ملاقات کے منکر نیز فکر آخرت سے عاری مختلف قسم کے عذابوں میں مبتلا ہوں گے تو یہ لوگ اپنے قصور پر نادم ہو کر حسرت اور افسوس کریں گے مگر اس حسرت و ندامت سے ان کو کوئی مائدہ نہ ہوگا، قتادہ کے قول کے مطابق ایسے لوگوں کی پیٹھ پر بوجھ ہونیکا یہ مطلب ہے کہ جب بدکار لوگ اپنی قبروں سے اٹھیں گے تو ان کے اعمال بد کو ایک بدصورت انسان کی شکل میں تبدیل کردیا جائیگا اور وہ بدشکل آدمی ان لوگوں پر سوار ہو کر ان کو میدان حشر تک گھیر کرلیجائے گا، ایک روایت میں ہے کہ بد اعمال شخص کے قبر سے نکلتے ہی اس کے برے اعمال اس پر سوار ہوجائیں گے اور اسے کہیں گے کہ دنیا میں تو ہمارے اوپر سوار رہا اب تم تیرے اوپر سوار ہوں گے
سوال : یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ گناہ ایک غیر مادی شئ ہے، غیر مادی شئ پیٹھ پر کیسے لدے گی ؟
جواب : بعض نے یہ جواب دیا ہے کہ یہاں محض مجاز اور محاورہ مراد ہے، (قرطبی) لیکن یہ تسلیم کرنے میں بھی کہ آخرت میں مجردات بھی مادیات کی طرح باوزن اور مجسم ہوں گے اہل سنت والجماعت میں سے متعدد حضرات تجسیم اعمال کے قائل ہوئے ہیں
Ayahs 6:33–34شان نزول : قد نعلم اِنّہ لیحزنک الّذی یقولون (الآیۃ) ترمذی اور حاکم نے حضرت علی ؓ سے روایت کی ہے، اور ترمذی نے اس روایت کو صحیح کہا ہے اور حاکم نے اس کو شرط شیخین پر صحیح کہا ہے کہ ایک روز ابوجہل نے آنحضرت ﷺ سے کہا کہ معاملات دنیا میں ہم تم کو سچا اور امانتدار مانتے ہیں، لیکن جس کلام کو تم خدا کی طرف سے نازل کردہ کہتے ہو ہم اس کی تصدیق نہیں کرسکتے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، اور چونکہ آنحضرت ﷺ مشرکین کے جھٹلانے کی وجہ سے رنجیدہ ہوتے تھے اس آیت میں آپ کو تسلی دینا بھی مقصود ہے مطلب یہ ہے کہ مشرکین کو آپ کی ذات سے کوئی غرض اور بحث نہیں ہے بلکہ وہ تو آپ کو ذاتی طور پر پسندیدہ امانتدار سمجھتے ہیں ان کی تکذیب کا مقصد تو اس کلام کی تکذیب ہے جس کو ہم آپ پر نازل کرتے ہیں، ابو جہل جو آپکا سب سے بڑا دشمن تھا اس کے بارے میں حضرت علی ؓ کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ اس نے خود نبی ﷺ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا انا نکذبک الکن نکذب ما جئت بہ، ہم آپ کو تو جھوٹا نہیں کہتے مگر جو کچھ آپ پیش کر رہے ہیں اسے جھوٹ قرار دیتے ہیں جنگ بدر کے مواقع پر اخنس بن شریق نے تنہائی میں ابوجہل سے پوچھا کہ یہاں میرے اور تمہارے سوا کوئی تیسرا موجود نہیں ہے سچ بتاؤ کہ تم محمد کو سچا سمجھتے ہو یا جھوٹا، اس نے جواب دیا خدا کی قسم محمد ایک سچا آدمی ہے عمر بھر کبھی جھوٹ نہیں بولا، مگر جب لواء اور سقایہ اور حجابہ اور نبوت سب کچھ ابن قصی ہی کے حصہ میں آجائے تو بتاؤ باقی تمام قریش کے پاس کیا رہ گیا ؟ اسی بناء پر یہاں اللہ تعالیٰ اپنے بنی کو تسلی دے رہا ہے کہ تکذیب دراصل تمہاری نہیں بلکہ ہماری کی جا رہی ہے اور جب ہم تحمل و بربادی کے ساتھ اسے برداشت کئے جا رہے ہیں اور ڈھیل پر ڈھیل دئیے جا رہے ہیں تم کیوں مضطرب ہوتے ہو، آگے مزید تسلی کیلئے فرمایا، یہ پہلا واقعہ نہیں ہے کہ کافر اللہ کے پیغمبروں کا انکار کر رہے ہیں بلکہ اس سے پہلے بھی بہت رسول گزر چکے ہیں جن کی تکذیب کی جاتی رہی، جس طرح انہوں نے صبر و حوصلے سے کام لیا آپ بھی صبر و حوصلے سے کام لیجئے، جس طرح سابق رسولوں کے پاس ہماری مدد آئی آپ کے پاس بھی ہماری مدد آجائے گی۔