Ayah 5:1ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، اے ایمان والو ! معاہدوں کو پورا کرو یعنی ان محکم قول وقراروں کو پورا کرو جو تم نے اللہ سے اور انسانوں سے کئے ہیں، تمہارے لئے مویشی چوپایوں مثلاً اونٹ، گائے اور بکری (وغیرہ) کو ذبح کر کے کھانا حلال کردیا گیا ہے، مگر وہ جانور حلال نہیں کئے گئے جن کی حرمت تم کو آئندہ آیت حرمت علیکم المیتة میں بتائی جا رہی ہے یہ استثناء منقطع ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ متصل ہو، اور تحریم موت وغیرہ کے عارض ہونے کی وجہ سے ہے، لیکن حالت احرام میں شکار کو حلال نہ سمجھو یعنی جب تم محرم ہو، اور غیرَ ، کم (کی طرف لوٹنے والی) ضمیر سے حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے، اللہ تعالیٰ حلت (و حرمت) کے جو احکام چاہتا ہے حکم دیتا ہے، اس پر اعتراض کی گنجائش نہیں۔ اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو، حرم میں شکار کر کے اللہ کے شعائر کی بےحرمتی نہ کرو شعائر شعیرَةٌ کی جمع ہے یعنی خدائی دین کی نشانی، اور نہ حرمت والے مہینے کی، اس میں قتل کر کے (بےحرمتی کرو) اور نہ ہدی کے جانوروں پر دست درازی کر کے ان کی بےحرمتی کرو، ہدی وہ مویشی جانور جس کو (قربانی کے لئے) حرم لیجایا جائے۔ اور نہ ان جانوروں پر دست درازی کرو جن کی گردنوں میں (نذر خداوندی کی علامت کے طور پر حرم کے درخت کے پٹے) پڑے ہوں اور قتال کر کے نہ ان لوگوں کی بےحرمتی کرو جو بیت الحرام کے قصد سے جا رہے ہوں کہ اپنے رب کے فضل اور تجارت کے ذریعہ اپنے رب کے رزق کے اور بزعم خویش بیت اللہ کے قصد سے اس کی رضا مندی کے طالب ہوں، یہ حکم آیت براءت سے منسوخ ہے اور جب تم احرام سے فارغ ہوجائو تو شکار کی اجازت ہے (فاصطادوا) میں امر اباحت کے لئے ہے، اور ان لوگوں کی دشمنی کہ جنہوں نے تمہیں مسجد حرام سے روکا تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم ان پر قتل وغیرہ کے ذریعہ زیادتی کرو (شَنَاٰن) نون کے فتحہ اور سکون کے ساتھ بمعنی بغض ہے، اور نیکی پر اس کام کو کر کے جس کا تم کو حکم دیا گیا ہے اور تقوے پر اس کام کو ترک کر کے جس سے تم کو منع کیا ہے ایک دوسروں کا تعاون کرتے رہو اور گناہ پر اور اللہ کی حدود میں زیادتی (کی باتوں میں) ایک دوسرے کا تعاون مت کرو ( تعاونوا) میں اصل میں دو تائوں میں سے ایک تاء محذوف ہے، اور اللہ کے عذاب سے ڈرتے رہو بایں صورت کہ اس کی اطاعت کرو اور اللہ تعالیٰ اپنی مخالفت کرنے والے کو سخت سزا دینے والا ہے۔
تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد
قولہ : المَائِدة، دستر خوان، جمع موائد۔ قولہ : بالُعُقُوْدِ ، واحد عقد پختہ عہد مصدر ہے بطور اسم استعمال ہوا ہے۔
قولہ : بَھِیْمَةُ ، جمع بَھَائِم، مویشی چوپائے عرف عرب میں بھائم کا اطلاق درندو پرند کے علاوہ ہر حیوان پر ہوتا ہے بھیمة، ابھام سے ماخوذ ہے چونکہ چوپایوں کی آواز میں ابہام ہوتا ہے اسی وجہ سے ان کو بہائم کہا جاتا ہے۔
قولہ : انعام، واحد نَعْمٌ بھیڑ، بکری، گائے، بھینس، اونٹ، انعام میں اونٹ کا شامل ہونا ضروری ہے بغیر اونٹ کی شمولیت کے انعام نہیں کہا جاتا، عرب کے نزدیک اونٹ چونکہ بہت بڑی نعمت ہے اس لئے اس کو نعم کہا جانے لگا۔
قولہ : اَکْلاً ، اس اضافہ کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔
سوال : حلت و حرمت تو افعال کے اوصاف میں سے ہے یہاں ذات یعنی بہیمة الانعام کا وصف قرار دیا گیا ہے جو درست نہیں ہے۔
جواب : اکلاً محذوف مان کر اسی سوال کا جواب دینا مقصود ہے۔
قولہ : تَحْرِیْمُہٗ ، یہ اس سوال کا جواب ہے کہ بھیم، متلو اشیاء میں سے نہیں ہے ؟ جواب : بھیمة متلو نہیں ہے بلکہ متلو تحریم بھیمة ہے۔
قولہ : فَالاِسْتِثْنَاء مُنْقِطعٌ، اسلئے کہ مستثنیٰ منہ جو کہ بھیمة الانعام ہے اور مستثنیٰ جو کہ ما یتلی علیکم ہے ایک جنس کے نہیں ہیں، مستثنیٰ منہ از قبیل ذوات ہے اور مستثنیٰ از قبیل الفاظ۔
قولہ : یَجُوْزُ ان یَّکُوْنَ مُتَّصِلاً ، تقدیر مضاف کی صورت میں الا ما یتلی علیکم، احلت لکم بھیمة الانعام سے مستثنیٰ متصل ہوگا تقدیر عبارت یہ ہوگی ای اِلاَّ محرم ما یتلی علیکم، اور محرم سے مراد میتة ہے۔
قولہ : لِمَاعَرَضَ مِنَ الْمَوْتِ ، اس میں اشارہ ہے کہ انعام مذکورہ کی حرمت ذاتی نہیں بلکہ موت کی وجہ سے طاری ہے۔
قولہ : و انتم حُرُم یہ جملہ غیر محلِّی الصید کی ضمیر مستتر سے حال ہے جو لکم ضمیر کی طرف راجع ہے یعنی غیر محلِّی الصید ذوالجلال ہے اور وانتم حُرُم حال ہے۔ قولہ : وھذا مَنْسُوْخ بآ یَةٍ بَرَآءَ ةٍٍ ” وھی قولہ تعالی، اقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم “۔
تفسیر وتشریح
زمانہ نزول : مسند احمد اور طبرانی میں اسماء بنت یزید سے روایت ہے کہ حجة الوداع کے سفر میں سورة مائدہ کی ابتدائی آیتیں نازل ہوئیں، اس شان نزول کی روایت کی سند میں اسماء بنت یزید کا پروردہ شہر بن حوشب ایک راوی ہے جس کو بعض علماء نے ضعیف اور کثیر الارسال لکھا ہے، لیکن تقریب میں اس کو صدوق لکھا ہے شہر بن حوشب کی یہ روایت چونکہ اسماء بنت یزید سے ہے جو شہر بن حوشب کی پرورش کرنے والی ہیں، اس لئے اس سند میں ارسال کا احتمال بھی باقی نہیں رہتا، اس لئے کہ تابعی اگر واسطہ صحابی کے بغیر آنحضرت ﷺ سے روایت کرے تو اس کو ارسال کہتے ہیں اور اس کی روایت کو مرسل کہتے ہیں اس سند میں وہ بات نہیں ہے۔
عقد : عقد کسے کہتے ہیں : تفسیر ابن جریر میں علی بن طلحہ کے واسطہ سے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی جو روایت ہے اس میں حلال و حرام چیزوں کے جو احکام عہد کے طور پر قرآن مجید میں بیان ہوئے ہیں ان ہی کو عقود کی تفسیر قرار دیا ہے۔
بھیمة الانعام : مویشی چوپایوں کو کہتے ہیں ان میں پالتو جانور اونٹ، گائے، بھیڑ بکری اور جنگلی شکار کر کے کھانے کے قابل جانور مثلاً نیل گائے، ہرن وغیرہ بھی داخل ہیں انعام کے مفہوم میں چوپائے درندے شامل نہیں ہیں اس لئے کہ عرب کے محاورے میں درندوں کے نام الگ الگ ہیں، اسی حکم کو بیان کرنے کے لئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سب درندے چوپائے حرام ہیں، چناچہ صحیح مسلم میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اور حضرت جابر ؓ سے جو روایتیں ہیں ان میں آنحضرت ﷺ نے درندے جانوروں کے حرام ہونے کا ارشاد فرمایا ہے، اسی طرح آپ نے پھاڑنے والے پرندوں کو بھی حرام قرار دیا ہے جس کے پنجے ہوتے ہیں، جو دوسرے جانوروں کو شکار کرتے ہیں یا مردار خور ہوتے ہیں ابن عباس ؓ کی روایت میں ہے ” نھی رسول اللہ ﷺ عن کل ذی ناب من السباع وکل ذی مخلب من الطیر “۔
اِلاَّ مَا یتلیٰ علیکم، کا مطلب ہے کہ آئندہ آیت ” حرمت علیکم المیتة “ میں جن جانوروں کا ذکر فرمایا ہے وہ حرام ہیں غیر محلی الصید وانتم حرم کا مطلب ہے کہ حاجیوں کو احرام کی حالت میں خشکی کے جانوروں کا شکار حرام ہے غیر محلی الصید وانتم حرم کا مطلب ہے کہ حاجیوں کو احرام کی حالت میں خشکی کے جانوروں کا شکار حرام ہے البتہ دریائی جانوروں کا شکار بحالت احرام روا ہے بعض جانوروں کے حلال اور بعض کے حرام کرنے کی مصلحت اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے، اللہ حاکم مطلق ہے اسے پورا اختیار ہے کہ جو چاہے حکم دے، بندوں کو اس کے حکم پر چوں وچرا کرنے کا حق نہیں، اگرچہ اس کے تمام احکام حکمت و مصلحت پر مبنی ہیں لیکن بندہ مسلم اس کے حکم کی اطاعت اس حیثیت سے نہیں کرتا کہ وہ اسے مناسب پاتا ہے یا مبنی پر مصلحت سمجھتا ہے بلکہ صرف اس بنا پر کرتا ہے کہ یہ مالک کا حکم ہے۔
شعائر کیا ہیں ؟ ہر وہ چیز جو کسی مسلک یا عقیدے یا طرز فکر وعمل یا کسی نظام کی نمائندگی کرتی ہو وہ اس کا شعار کہلاتی ہے، کیونکہ وہ اس کے لئے علامت یا نشانی کا کام دیتی ہے، سرکاری پرچم، فوج، پولیس وغیرہ کی وردی (یونیفارم) سکے اور اسٹامپ حکومتوں کے شعائر ہیں، اور وہ اپنے محکموں سے بلکہ جو بھی اس کے زیر اقتدار ہے اس سے احترام کا مطالبہ کرتی ہے گرجا اور قربان گاہ اور صلیب مسیحیت کے لئے، چوٹی اور زنار اور مندر برہمنیت کے لئے شعائر ہیں، کیس، کڑا اور کرپان وغیرہ سکھ مذہب کے شعائر ہیں ہتھوڑا اور درانتی اشتراکیت کا شعار ہے یہ سب مسلک اپنے اپنے پیروئوں سے اپنے شعائر کے احترام کا مطالبہ کرتے ہیں، اگر کوئی شخص کسی نظام کے خلاف دشمنی رکھتا ہے، اور اگر وہ توہین کرنے والا خود اس نظام سے تعلق رکھتا ہو تو اس کا یہ فعل اپنے نظام سے ارتداد اور بغاوت کا ہم معنی ہے۔
شعائر اللہ کا احترام : شعائر اللہ کے احترام کا عام حکم دینے کے بعد چند شعائر کا نام لے کر ان کے احترام کا خاص طور پر حکم دیا گیا کیونکہ اس وقت جنگی حالات کی وجہ سے یہ اندیشہ پیدا ہوگیا تھا کہ جنگ کے جوش میں کہیں مسلمانوں کے ہاتھوں ان کی توہین نہ ہوجائے ان چند دخائر کو نام بنام بیان کرنے سے یہ مقصود نہیں ہے کہ صرف یہی احترام کے مستحق ہیں، شعائر اسلام ان اعمال وافعال کو کہا جاتا ہے جو عرفاً مسلمان ہونے کی علامت سمجھے جاتے ہیں اور محسوس ومشاہد ہیں، جیسے نماز، اذان، حج، ختنہ، اور سنت کے مطابق داڑھی، مگر صاف اور صحیح بات وہ ہے جو بحر محیط اور روح المعانی میں حضرت حسن بصری اور علماء سے منقول ہے اور وہ یہ کہ شعائر اللہ سے مراد تمام شرائع اور دین کے مقرر کردہ واجبات و فرائض اور ان کی حدود ہیں۔
احرام بھی من جملہ شعائر اللہ ہے، اور اس کی پابندیوں میں سے کسی پابندی کو توڑنا اس کی بےحرمتی کرنا ہے۔
Ayah 5:2شان نزول : یٰایَّھَا الذین آمنوا لا تُحِلُّوْا شَعائر اللہ، (الآیۃ) ابن جریر نے عکرمہ اور سدی سے روایت کی ہے کہ ایک شخص شریح بن ہند مدینہ آکر مسلمان ہوگیا تھا اور اپنے وطن جا کر پھر مرتد ہوگیا، اس واقعہ کے ایک سال بعد اس نے حج کا قصد کیا صحابہ نے آنحضرت ﷺ سے درخواست کی کہ اگر آپ اجازت دیں تو شریح بن ہند کے ساتھ جو نیاز کعبہ کے جانور اور تجارت کا مال ہے اس کو لوٹ لیں، آپ نے فرمایا یہ کیونکر ہوسکتا ہے وہ تو نیاز کے جانور لے کر حج کے ارادہ سے جا رہا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیت نازل فرمائی۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ مشرکین خود کو ملت ابراہیمی کا پابند سمجھ کر حالت شرک میں بھی حج کیا کرتے تھے، سورة براءت میں مشرکین کو حج بیت اللہ سے روکنے کے حکم سے پہلے روکنے کی ممانعت تھی، سورة براءت میں جب یہ حکم نازل ہوا کہ مشرکین نجس ہیں آئندہ سال سے وہ لوگ مسجد حرام کے پاس نہ آئیں جس سے سورة مائدہ کی اس آیت کا حکم منسوخ ہوگیا، ابن جریر نے اپنی تفسیر میں اس آیت کے منسوخ ہونے پر اجماع نقل کیا ہے، مفسرین کی ایک جماعت اس آیت سے منسوخ ہونے کی قائل نہیں ہے، اور شاہ ولی اللہ (رح) تعالیٰ نے بھی فوز الکبیر میں اس آیت کے نسخ کو تسلیم نہیں کیا، بلکہ حکم میں تخصیص قرار دیا ہے، یعنی پہلے مشرکین اور مسلمین سب کو حج کی اجازت تھی سورة براءت کے اس حکم سے تخصیص ہوگئی کہ آئندہ مشرکین مسجد حرام کے پاس نہ آیا کریں، اور شاہ صاحب تخصیص کو نسخ نہیں مانتے۔
حالت احرام میں محرم کے لئے خشکی کے جانوروں کے شکار کی ممانعت کردی گئی تھی جو احرام سے فارغ ہونے کے بعد باقی رہی اور غیر محرم کا، محرم کو شکار کا گوشت دینا اور محرم کے لئے لینا اور کھانا جائز ہے بشرطیکہ محرم کی خاطر شکار نہ کیا گیا ہو اور محرم اس شکار میں اشارة یا دلالۃ شریک نہ ہو۔
شان نزول کا دوسرا واقعہ : بعض مفسرین نے مذکورہ آیت کے شان نزول میں ایک دوسرا واقعہ نقل کیا ہے جس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔
یمامہ کا ایک دولت مند حطیم نامی تاجر بڑے کروفر کے ساتھ مدینہ آیا، ابھی یہ شخص مسجد نبوی تک نہ پہنچا تھا کہ آنحضرت ﷺ نے صحابہ کرام کو آگاہ کرتے ہوئے فرمایا، تمہارے پاس قبیلہ یمامہ کا ایک شخص آرہا ہے جو شیطان کی طرح باتیں بناتا ہے، ادھر حطیم نے یہ کیا کہ اہل قافہ کو مدینہ کے باہر چھوڑ کر تنہا آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا آپ کس بات کی دعوت دیتے ہیں ارشاد ہوا کہ خدائے پاک کو ایک ماننا محمد ﷺ کو پیغمبر تسلیم کرنا نماز پڑھنا، زکوٰة دینا، حطیم نے عرض کیا کہ کچھ اور لوگ بھی میرے شریک معاملہ ہیں جن کے بغیر میں کوئی قدم نہیں اٹھا سکتا میں خود بھی اسلام قبول کرلوں گا اور بقیہ اصحاب کو بھی جناب کی خدمت میں حاضر کر دوں گا تاکہ وہ بھی مشرف باسلام ہو سکیں، گفتگو کے بعد جب یہ شخص باہر نکلا تو آپ نے صحابہ سے فرمایا کہ یہ شخص آیا تو تھا کافر ہو کر اور گیا ہے دھوکہ باز ہو کر، چناچہ فوراً مع قافلہ واپس ہوگیا اور جاتے وقت مدینہ کی چراگاہ کے سارے مویشی ہانک لے گیا، اتنی تیزی سے واپس چلا گیا کہ تعاقب کے باوجود ہاتھ نہ آیا، اگلے سال آپۖ صحابہ کے ہمراہ عمرة القضا کے لئے تشریف لے جا رہے تھے تو راستہ میں یمامہ کے مشرک حاجیوں کے قافلہ کی آوازیں آئیں، آپ نے فرمایا یہ حطیم اور اس کے قافلہ والے آرہے ہیں تحقیق سے یہ بات صحیح ثابت ہوئی۔ حطیم قافلہ کے ساتھ اس طرح مکہ جا رہا تھا کہ مشرک حاجیوں کا ایک ہجوم ہے اور اونٹوں پر تجارتی سامان لدا ہوا ہے جو جانور مدینہ سے لوٹ کر لایا تھا ان کے گلے میں پٹے ڈال کر کعبۃ اللہ کی نذرکیلئے ہدی بنا کرلے جا رہا ہے۔
صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا اگر ہمیں اجازت ملے تو ہم اس دغا باز کو مزا چکھا دیں اور اپنے مویشی واپس لے لیں۔ ارشاد ہوا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ وہ خود حاجی بن کر جا رہا ہے اور جانور نیاز بیت کے لئے لے جا رہا ہے آپ نے صحابہ کو اس کی اجازت نہ دی، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (ھدایت القرآن ملخصا)
Ayah 5:3آیت نمبر 3 تا 5
ترجمہ : تمہارے لئے مردار اور بہنے والا خون (حرام کردیا گیا ہے) جیسا کہ سورة انعام میں مذکور ہے، اور خنزیر کا گوشت اور وہ جانور جس پر (بوقت ذبح) غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو بایں صورت کہ غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو، کا کھانا حرام کردیا گیا ہے اور گلا گھٹ کر مرا ہوا جانور اور چوٹ کھا کر مرا ہوا جانور اور اوپر سے گر کر مرا ہوجانور، اور وہ جانور جو دوسرے جانور کے سینگ مارنے سے مرا ہو اور وہ جانور کہ جس میں سے درندہ نے کھالیا ہو (کھانا حرام کردیا گیا ہے) الا یہ کہ تم نے اس کو ذبح کرلیا ہو (تو وہ حرام نہیں ہے) اور وہ جانور جو بتوں کے نام پر ذبح کیا گیا ہو نصب، نصاب کی جمع ہے اور وہ بت ہیں (حرام کردیا گیا ہے) اور پانسوں کے ذریعہ قسمت آزمائی کرنا اور نتیجہ معلوم کرنا (حرام کردیا گیا ہے) ازلام، زلم کی جمع ہے زاء کے فتحہ اور ضمہ کے ساتھ مع لام کے فتحہ کے قدح چھوٹا تیر جس میں نہ پر لگے ہوں اور نہ اس میں انّی ہو، قدح قاف کے کسرہ کے ساتھ ہے اور وہ سات تیر تھے جو بیت اللہ کے خادم کے پاس رہا کرتے تھے، ان پر علامتیں لگی رہتی تھیں ان سے جواب مانگا کرتے تھے (فال لیا کرتے تھے) اگر وہ ان کو اجازت دیتے تو اس کام کو کرتے اور اگر جواب ممانعت میں نکلتا تو نہ کرتے، یہ فسق ہے یعنی اطاعت سے خروج ہے، اور (آئندہ آیت) حجۃ الوداع کے موقع پر عرفات میں نازل ہوئی، اب کافر تمہارے دین (اسلام) سے مرتد ہونے کے بارے میں خواہش رکھنے کے باوجود مایوس ہوچکے ہیں، اس لئے کہ وہ اس دین کی قوت دیکھ چکے ہیں، لہٰذا تم ان سے نہ ڈرو اور مجھ ہی سے ڈرو آج میں نے تمہارے دین (یعنی) اس کے احکام و فرائض کو مکمل کردیا چناچہ اس کے بعد حلال و حرام کا کوئی حکم نازل نہیں ہوا اور تم پر میں نے دین مکمل کر کے اپنا انعام تام کردیا اور کہا گیا ہے کہ مکہ میں مامون طریقہ پر داخل کر کے (انعام تام کردیا) اور میں نے تمہارے لئے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کرلیا، پس جو شخص شدت بھوک سے بیتاب ہو اس کے لئے حرام کردہ چیزوں میں کچھ کھا لینا تو مباح ہے۔ بشرطیکہ معصیت کی جانب میلان نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے کھانے کو معاف کرنے والا ہے، اور اس کے لئے اس (کھانے کو) مباح کر کے رحم کرنے والا ہے، بخلاف اس شخص کے کہ جو معصیت کی طرف مائل ہو یعنی (معصیت) کا مرتکب ہو، جیسا کہ راہ زن، باغی، مثلاً ، تو اس شخص کے لئے (مذکورہ چیزوں) میں سے کھانا حلال نہیں ہے، اے محمد ﷺ آپ سے لوگ سوال کرتے ہیں کہ ان کے لئے کون سا کھانا حلال کیا گیا ہے ؟ آپ کہہ دیجئے تمہارے لئے پاکیزہ لذیذ چیزیں حلال کردی گئی ہیں اور ان شکاری جانوروں کا کیا ہوا شکار جن کو تم نے سدھایا ہے خواہ کتے ہوں یا درندے یا پرندے، بشرطیکہ تم ان کو شکار کے پیچھے چھوڑو (مکلبین) علمتم، کی ضمیر سے حال ہے، اور کلبت الکلب بالتشدید سے ماخوذ ہے ای ارسلت علی الصید حال یہ کہ تم نے اللہ کے سکھائے ہوئے آداب صید میں سے ان کو سکھایا ہو (تعلمونھن) مکلبین کی ضمیر سے حال ہے، ای تؤدبونھن، تو تم اس شکار کو کھا سکتے ہو جو اس نے تمہارے لئے کیا ہے، اگرچہ اس کو مار ڈالا ہو بشرطیکہ اس میں سے کچھ کھایا نہ ہو، بخلاف بغیر سدھے ہوئے شکاری جانور کے کہ اس کا کیا ہوا شکار حلال نہیں ہے، اور سدھے ہوئے کی پہچان یہ ہے کہ جب اس کو شکار کے پیچھے دوڑایا جائے تو دوڑ پڑے اور جب روکا جائے تو رک جائے، اور شکار کو پکڑ کر اس سے کچھ کھائے نہیں، اور کم سے کم علامت کہ جس کے ذریعہ جانور کا معلم ہونا معلوم ہو تین بار (شکار کے پیچھے) چھوڑنا ہے، اگر شکاری جانور نے اس شکار سے کچھ کھالیا تو سمجھ لو کہ یہ اس نے اپنے مالک کے لئے نہیں پکڑا لہٰذا ایسی صورت میں اس شکار کا کھانا حلال نہیں ہے جیسا کہ صحیحین کی حدیث میں ہے اور اس میں ہے کہ تیر سے کیا ہوا شکار جبکہ تیر چھوڑتے وقت بسم اللہ کہی ہو تو یہ تیر کا شکار شکاری جانور کے شکار کے مانند (حلال) ہے اور صید معلم کو چھوڑتے وقت اللہ کا نام لو اور اللہ سے ڈرتے رہو یقینا اللہ جلد حساب لینے والا ہے، آج تمام پاکیزہ چیزیں تمہارے لئے حلال کردی گئی ہیں اور اہل کتاب کا کھانا تمہارے لئے یعنی یہود و نصاریٰ کا ذبیحہ حلال کردیا گیا اور تمہارا ذبیحہ ان کے لئے حلال ہے، اور پاکدامن مومن عورتیں اور اہل کتاب (یہود ونصاری) کی آزاد عورتیں تمہارے لئے حلال کردی گئی ہیں یعنی تمہارے لئے ان سے نکاح کرنا جائز ہے جبکہ تم ان کے مہر ادا کردو، حال یہ کہ تم ان سے نکاح کرنے والے ہو، نہ کہ ان سے اعلانیہ (زنا کے ذریعہ) شہوت رانی کرنے والے اور نہ پوشیدہ طور پر ان سے آشنائی کرنے والے کہ ان سے زنا کو چھپانے والے ہو اور جو شخص ایمان کا منکر ہوا یعنی مرتد ہوگیا تو اس کے سابقہ اعمال صالحہ ضائع ہوگئے لہٰذا وہ کسی شمار میں نہ ہوں گے اور نہ ان پر اجر دیا جائے گا، اور وہ آخرت میں زیاں کاروں میں سے ہوگا جبکہ وہ ارتداد ہی پر فوت ہوا ہو۔
تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد
قولہ : المَیْتَة، اسم صفت ہے، مردار، وہ جانور جو بلا ذبح شرعی کسی حادثہ یا طبعی موت سے مرجائے۔
قولہ : اَکْلُھا، مضاف محذوف مان کر اشارہ کردیا کہ حلت و حرمت کا تعلق افعال سے ہوتا ہے نہ کہ ذات سے۔
قولہ : اَلمنخَنِقَۃ، اسم فاعل واحد مؤنث (اِنْخِنَاق، انفعال) خَنِقًا (ن) گلا گھونٹنا۔
قولہ : اُھِلَّ ، اَلْاِھْلال رفع الصوت، لغیر اللہ بہ میں لام بمعنی باء اور باء بمعنی عند، المعنی، مارفع الصوت عند ذکاتہ باسم غیر اللہ۔
قولہ : المَوْقُوْذَةُ وَقذ (ض) اسم مفعول واحد مؤنث، چوٹ کھا کر مرا ہوا۔
قولہ : المُتَرَدِّیةُ اسم فاعل واحد مؤنث تَرَدّی (تفعل) اونچائی سے گر کر مرنے والا جانور۔
قولہ : النَطِیْحَۃُ صیغہ صفت بروزن فَعِیْلۃ بمعنی منطوحَۃ نطع (ف، ن) وہ بکری جو دوسرے کے سینگ کی چوٹ سے مری ہو، بعض اہل لغت نے بکری کی تخصیص نہیں کی ہے۔
سوال : نطیحۃ، بروزن فعیلة ہے فعیلة کے وزن میں مذکر اور مؤنث دونوں برابر ہوتے ہیں، لہٰذا یہاں تاء کی ضرورت نہیں ہے ؟
جواب : نطیحۃ میں تاء انتقال من الوصفیۃ الی الاسمیۃ کے لئے ہے نہ کہ تانیث کے لئے جیسا کہ ذبیحۃ میں ہے۔
قولہ : منہ، مِنْہ کے اضافہ کا مقصد اس سوال کا جواب ہے کہ فَاَکَلَ السَبُعُ ، کا مطلب ہے کہ جس کو درندہ نے کھالیا ہو اور یہ بات ظاہر ہے کہ درندے نے جس کو کھالیا وہ معدوم ہوگیا اور معدوم سے حلت یا حرمت کا کوئی متعلق نہیں ہوتا، مِنہ، کہ کر اس کا یہ جواب دیا کہ جس شکار میں سے کچھ حصہ درندے نے کھالیا ہو جس کی وجہ سے وہ جانور مرگیا ہو تو اس کا کھانا حلال نہیں ہے۔
قولہ : اِلاَّ ما ذکَّیْتُمْ ، یہ المنخقۃ اور اس کے مابعد سے استثناء ہے۔ قولہ : عَلیٰ اِسْمِ النُّصُبِ ۔ سوال : لفظ ’ اسم ‘ کے اضافہ کا کیا فائدہ ہے ؟
جواب : تاکہ ذبح کا صلہ عَلیٰ درست ہوجائے، لہٰذا علی بمعنی لام لینے کی ضرورت نہ ہوگی۔ (کما قال البعض) ۔
قولہ : ذلک، ای الاستقسام بالازلام خَاصۃً فسق۔
قولہ : رَضِیْتُ ، یہ بیان حال کے لئے جملہ مستانفہ ہے، اس کا عطف اکملتُ پر نہیں ہے، اس لئے کہ اس سے لازم آئیگا کہ اسلام سے دین ہونے کے اعتبار سے آج راضی ہوا اس سے پہلے راضی نہیں تھا حالانکہ اسلام اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ دین رہا ہے اور ہر نبی کا دین السلام ہے رضیت متعدی بیک مفعول ہے، اور وہ الاسلام ہے، اور دِینًا تمیز ہے۔
قولہ : اِخْتَرْتُ ، بعض حضرات نے کہا ہے کہ رضیت بمعنی اخترتُ ہے جو کہ متعدی بدو مفعول ہے اور اول مفعول، اَلاسلامَ اور دوسرا دِینًا ہے، لہٰذا اس صورت میں دِیْناً کو حال یا تمیز قرار دینے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
قولہ : غیرَ مُتجانِفٍ ، تفاعل سے اسم فاعل واحد مذکر ہے، بدی کی طرف مائل ہونے والا، حق سے روگردانی کرنے والا، غَیْرَ ، منصوب علی الحال ہے۔ قولہ : مَخْمَصَۃٍ ، اسم، ایسی بھوک کہ جس میں پیٹ لگ جائے۔
قولہ : فَمَنِ اضْطُرَّ فی مخمصۃٍ ، یہ آیت تین جگہ آئی ہے یہاں اور سورة بقرہ میں اور سورة نحل میں۔ جواب شرط کی طرف اشارہ کردیا ہے اور بعض حضرات نے، فَلَا اثم عَلَیْہ محذوف مانا ہے، فَمَنْ اضطر الخ، یہ آیت سابقہ آیت کا تتمہ ہے اور ذلکم فسق سے یہاں تک جملہ معترضہ ہے، جو کہ دو کلاموں کے درمیان واقع ہوا ہے۔ قولہ : کقَا طِعِ الطَّرِیْق، ای اِذَا کانا مسافِرَیْنِ ۔
تفسیر و تشریح
حرمَتْ علیکم المیتۃ الخ، آیت نمبر 1 میں حلال جانوروں کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ان حلال جانوروں کے علاوہ کچھ حرام جانور بھی ہیں جن کی تفصیل آئندہ آئے گی، گویا کہ حرمَتْ عَلَیکُمُ الْمَیْتَۃُ الخ، اِلاّ مَا یُتْلیٰ عَلَیْکم، کی تفصیل ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اُحِلّت لکم بھِیْمَۃُ الْاَنْعَام، میں عمومی طور پر چوپایوں کے حلال ہونے کا حکم دیا گیا ہے ان میں سے وہ چوہائے حرام ہیں جن کا ذکر اس آیت میں ہے۔ مسند امام احمد، ابن ماجہ اور مستدرک حاکم میں حضرت عبد اللہ بن عمر کی یہ حدیث مروی ہے کہ مردار جانوروں میں دو مردار جانور مچھلی اور ٹڈی حلال ہیں اس حدیث کی سند میں بعض علماء نے عبد اللہ بن زید بن اسلم کو اگرچہ ضعیف کہا ہے لیکن امام احمد نے عبد اللہ بن زید کو ثقہ کہا ہے۔
مردہ اور حرام گوشت والے جانوروں کی مغفرت : جن جانوروں کا گوشت انسان کیلئے مضر ہے خواہ جسمانی طور پر یا روحانی طور پر یا روحانی طور پر کہ اس سے انسان کے اخلاق اور قلبی کیفیات پر منفی اثر پڑنے کا خطرہ ہے ان کو قرآن مجید نے خبائث قرار دیکر حرام کردیا
حرمَتْ علیکم الْمَیْتَۃُ الخ، اس آیت میں مردار جانور کو حرام قرار دیا گیا، مردار جانور سے وہ جانور مراد ہے جو شرعی طریقہ پر ذبح کئے بغیر کسی بیماری کے سبب طبعی یا حادثاتی موت مرجائے ایسے جانور کا گوشت طبی طور پر بھی انسان کیلئے سخت مضر ہے اور روحانی طور پر بھی۔ دوسری چیز جس کو اس آیت نے حرام قرار دیا ہے وہ خون ہے اور قرآن کریم کی دوسری آیت اودما مسفوحًا نے بتلا دیا کہ خون سے مراد بہنے والا خون ہے گوشت میں لگا ہوا خون حرام نہیں ہے، جگر و تلیّ باوجود خون ہونے کے اس حکم سے مستثنیٰ ہیں حدیث مذکور میں جہاں مردار سے مچھلی اور ٹڈی کو مستثنیٰ کیا ہے وہیں جگر اور طحال کو خون سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔
تیسری چیز لَحْمُ الْخِنْزِیْرِ ہے : اوپر سے چونکہ جانوروں کے گوشت کا ذکر چل رہا ہے اس لئے یہاں بھی لحم الخنزیر فرما دیا ورنہ خنزیر کے بدن کی ہر چیز حرام ہے، یا اس لئے کہ جانور میں اعظم مقصود گوشت ہی ہوتا ہے اس لئے لحم الخنزیر فرمایا۔ اکلہ نجسٌ وَاِنّما خصّ اللحم لِاَنَّہ معظم المقصود۔ سُوَرْ کے گوشت کی جسمانی مضرتوں سے طبی لڑیچر بھرا پڑا ہے، اخلاقی اور روحانی نقصانات کا ذکر ہی کیا ! ؟ بریدۃ الاسلمی کی حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے جس کو صحیح مسلم، ابو داؤد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا ! چوسر کھیلنے والا شخص جب تک چوسر کھیلتا ہے تو اس کے ہاتھ گویا سور کے خون میں ڈوبے رہتے ہیں، اگرچہ بعض مفسرین نے خنزیر کے بعض اجزاء کو حرمت سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔
بعض اجزاء کو پاک قرار دینے والے علماء کا استدلال : سورة انعام میں یہ بحث شروع کردی ہے کہ لحم الخنزیر میں ترکین اضافی ہے اور اس طرح کی ترکیب کے بعد جو ضمیر آتی ہے وہ مضاف کی طرف لوٹتی ہے، اس لئے فَاِنَّہٗ میں جو ضمیر ہے وہ لحم کی طرف لوٹے گی، اور معنی یہ ہوں گے کہ سور کا گوشت ناپاک ہے اس معنی کے اعتبار سے سور کے تمام اجزاء کا ناپاک ہونا ثابت نہ ہوگا۔
مذکورہ استدلال کا جواب : بعض علماء نے اس استدلال کا جواب دیا ہے کہ آیت ” کمثل الحمار یحمل اسفارا “ اور آیت واشکروا نعمۃ اللہ علیکم ان کنتم ایاہ تعبدون کی بھی یہی ترکیب ہے اور ان میں یحمل کا ضمیر اور ایاہ کی ضمیر مضاف الیہ کی طرف راجع ہے نہ کہ مضاف کی طرف اس لئے یہ ضروری نہیں کہ اس طرح کی ترکیب میں ہمیشہہ ضمیر کا مرجع مضاف کی طرف ہی راجع ہو۔
عیسائیوں کے نزدیک سور کا گوشت حرام ہے : اگرچہ اب عیسائی سور کے گوشت کو حرام نہیں سمجھتے تورات کے حصہ استثناء کے باب 14 کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل عیسائی مذہب مذہب میں سور قطعی حرام ہے۔
بائبل میں سور کے گوشت کی حرمت و نجاست : اور سور کہ اس کا کھر دو حصہ (چرواں) ہوتا ہے پر وہ جگالی نہیں کرتا وہ بھی تمہارے لئے ناپاک ہے۔ (اخبار 8: 11)
مزید تفصیل کے لئے جلد اول کے صفحہ نمبر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دیکھئے۔
چوتھے وہ جانور جو غیر اللہ کے لئے نام زد کردیا گیا ہو، اگر ذبح کرتے وقت بھی اس پر غیر اللہ کا نام کیا جائے تو وہ کھلم شرک ہے اور جانور بالاتفاق مردار کے حکم میں ہے۔ جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں دستور تھا کہ جانور ذبح کرتے وقت بتوں کا نام لیا کرتے تھے، حضرت علی ؓ کے پاس آپ ﷺ کے ارشادات کی ایک تحریر تھی جسے وہ حفاظت کے خیال سے ہمیشہ تلوار کی میان میں رکھا کرتے تھے، اس تحریر کے الفاظ یہ تھے، اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے جس نے غیر اللہ کا نام لے کر ذبح کیا اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے جس نے زمین کی مخصوص علامات بدل دیں، اللہ اس پر لعنت فرمائے جس نے اپنے باپ پر لعنت کی، اللہ اس پر لعنت کرے کہ جس نے ایسے شخص کو پناہ دی کہ جو دین میں نئے شوشے نکالتا رہتا ہے۔ (رواہ مسلم)
پانچویں منخنقہ، یعنی وہ جانور جو گلاگھونٹ کر یا گردن مروڑ کر مار دیا گیا، یا خود ہی کسی جال یا پھندے میں پھنسنے کی وجہ سے دم گھٹ کر مرگیا ہو۔ چھٹی موقوذۃ، یعنی وہ جانور جو ضرب شدید کی وجہ سے مرگیا ہو، جیسے لاٹھی یا پتھر وغیرہ، تیرا گرانی کی طرف سے لگنے کے بجائے دستہ کی طرف سے لگا جس کی ضرب سے شکار مرگیا تو یہ بھی موقوذۃ کے حکم میں ہے جیسا کہ حضرت عدی بن حاتم ؓ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے۔ جو شکار بندوق کی گولی سے ہلاک ہوگیا ہو اس کو فقہاء نے موقوذۃ میں شمار کیا ہے، امام جصاص نے حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے نقل کیا ہے کہ فرماتے تھے، المقتولۃ بالبندقۃ تلک الموقوذۃُ ، گولی کے ذریعہ جو شکار مرا ہو وہ بھی موقوذہ ہے، امام ابو حنیفہ، شافعی، مالک ؓ وغیرہ اسی پر متفق ہیں۔
ساتویں متردیۃ، وہ جانور کہ جو کسی اونچی جگہ مثلاً پہاڑ ٹیلہ وغیرہ سے گر کر مرا ہوا سی طرح کنویں وغیرہ میں گر کر مرنے والا بھی اس میں داخل ہے اسی طرح تیر لگا ہوا جانور اگر پانی میں گر کر مرا تو وہ بھی متردیۃ میں شامل ہوگا، اس لئے کہ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس کی موت پانی میں ڈوبنے کی وجہ سے ہوئی ہو۔ آٹھویں نطیحۃ، وہ جانور جو کسی دوسرے جانور کے سینگ مارنے یا ٹکر مارنے یا کسی تصادم مثلاً ریل، موٹر وغیرہ کی زد میں آکر مرجائے تو ایسا جانور بھی حرام ہے۔ نویں وہ جانور کہ جسے کسی درندے نے پھاڑ دیا ہو جس کے صدمہ سے وہ مرگیا ایسا جانور بھی حرام ہے۔
اِلاّ ما ذکیتم، یہ ماقبل میں مذکور نو جانوروں سے استثناء ہے، مطلب یہ ہے کہ اگر تم نے مذکور جانوروں میں سے کسی کو زندہ پالیا اور ذبح کرلیا تو وہ حلال ہے یہ استثناء اول چار قسموں سے متعلق نہیں ہے، اسلئے کہ مردار اور خون میں تو اس کا امکان ہی نہیں اور خنزیر اور مَا اُھِلَّ لغیر اللہ اپنی ذات سے حرام ہیں، ان کا ذبح کرنا نہ کرنا برابر ہے۔
دسویں استھانوں پر ذبح کیا ہوا جانور بھی حرام ہے، نُصُبْ ان پتھروں کو کہا جاتا ہے کہ جو دیوی دیوتاؤں کے نام پر نصب کئے جاتے ہیں اسی قسم کے 360 پتھر کعبۃ اللہ کے اطراف میں نصب کئے ہوئے تھے زمانہ جاہلیت میں مشرکین ان کی پوجا کیا کرتے تھے اور ان کے پاس جانور لاکر ذبح کیا کرتے تھے موجودہ اصطلاح میں ان کو استھان اور آستانہ کہتے ہیں اور اس کو عبادت سمجھتے تھے۔
گیارہویں استقسام بالازلام تیروں کے ذریعہ قسمت آزمائی کرنا، نزول قرآن کے وقت عرب میں یہ طریقہ رائج تھا کہ جب کوئی اہم معاملہ درپیش ہوتا خواہ سفر سے متعلق ہو یا شادی و بیاہ وغیرہ سے تو اس کو کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ تیروں سے معلوم کرتے، کعبۃ اللہ میں دس تیر رکھے رہتے تھے ان میں سے بعض پر نعم اور بعض پر لا لکھا رہتا اور بعض خالی ہوتے جب کسی کو کسی اہم معاملہ میں فیصلہ مطلوب ہوتا تو وہ بیت اللہ کے خادم کے پاس جاتا اور اس کو اول کچھ نذرانہ پیش کرتا اس کے بعد قریش کے بت ہبل کی بندگی کے اقرار کے ساتھ چمڑے کے تھیلے میں جس میں وہ تیر رکھے رہتے تھے مجاور ہاتھ ڈال کر تیر نکالتا اگر نعم والا نکل آتا تو وہ اجازت کا اشارہ سمجھا جاتا اور اگر ’ لا ‘ موالا نکل آتا تو یہ ممانععت کا اشارہ سمجھا جاتا، اور خالی نکل آتا تو وہ عمل مکرر کیا جاتا تاآنکہ نعم یا لا والا تیر نکل آتا۔ استقسام کی دوسری صورت یہ ہوتی کہ دس لوگ موٹی اور فربہ بکریاں خریدتے ان کو ذبح کرنے کے بعد ان کا گوشت یکجا کردیتے اس کے بعد تھیلے میں سے ہر شریک، ایک تیر نکالتا، ہر تیر پر مختلف حصے لکھے ہوتے تھے کل اٹھائیس ہوتے تھے اور بعض تیر خالی بھی ہوتے تھے تیروں کی کل تعداد دس ہوتی تھی جس کے حصے میں جو تیر آتا اس لکھے ہوئے حصہ کا وہ حق دار ہوتا اور بعض لوگوں کے حصہ میں خالی تیر نکلتا تو وہ گوشت سے محروم رہتا، اس کے علاوہ اور بھی قسمت آزمائی کی صورتیں تھیں جو کہ قمار ہی کی قسمیں تھیں۔
ذلک فسق، یعنی قسمت آزمائی کا مذکورہ طریقہ فسق ہے، ذلک فسق، کا مصداق صرف استقسام بالازلام بھی ہوسکتا ہے، اور ما قبل میں مذکور تمام ممنوعات بھی۔
الیومَ یئسَ الذین کفروا مِنْ دینکم، الیوم سے مراد یوم فتح مکہ بھی ہوسکتا ہے اور مطلقا زمان حاضر بھی مراد ہوسکتا ہے مطلب یہ ہے کہ آج کفار تمہارے دین پر غالب آنے سے مایوس ہوچکے ہیں اسلئے اب تم ان سے کوئی خوف نہ رکھو صرف مجھ سے ڈرتے رہو۔
مایوس ہونے کا دوسرا مطلب : جب تک مکہ فتح نہیں ہوا تھا تو مشرکین مکہ کو یہ امید تھی کہ شاید اسلام کمزور اور ضعیف ہوجائے اور جو لوگ مسلمان ہوچکے ہیں وہ مرتد ہو کر واپس اپنے آبائی مذہب بت پرستی کی طرف پلٹ آئیں، فتح مکہ کے بعد مشرکین کی مذکورہ امید ناامیدی میں تبدیل ہوگئی اسی کا ذکر مذکورہ آیت میں ہے، کہ مشرکوں کا خوف تو اب ختم ہوا مگر ہر ایماندار کو اللہ کا خوف دل میں رکھنا ضروری ہے، ایسا ہو کہ اللہ سے نڈر ہو کر مسلمان کچھ ایسے کاموں میں مشغول ہوجائیں جن کی وجہ سے اللہ کی جو مدد مسلمانوں کے شامل حال ہے وہ موقوف ہوجائے جس کے نتیجے میں اسلام میں ضعف آجائے اور کافر غالب ہوجائیں۔ صحیح مسلم میں حضرت جابر ؓ کی روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جزیرۃ العرب میں شیطان کے بہکانے سے بت پرستی جو پھیلی ہوئی تھی وہ تو ایسی گئی کہ اب شیطان اس سے مایوس ہوگیا، لیکن آپس میں لڑانے کے لئے شیطان کا اثر باقی ہے
دین مکمل کردینے سے کیا مراد ہے ؟ دین کو مکمل کردینے سے مراد اس کو ایک مستقل نظام فکر اور اس کو ایک ایسا مکمل نظام تہذیب و تمدن بنادینا ہے جس میں زندگی کے جملہ مسائل کا جواب اصولاً یا تفصیلاً موجود ہو اور ہدایت و رہنمائی حاصل کرنے کے لئے اس سے باہر جانے کی ضرورت پیش نہ آئے۔
الیوم اکملت لکم دینکم، یہ آیت بہت اہم موقع پر نازل ہوئی تھی ذوالحجہ کی 9 تاریخ تھی جمہ کا دن تھا عصر کے بعد کا وقت تھا آپ حجۃ الوداع کے موقع پر دعاء میں مصروف تھے، گویا ہر لحاظ سے نہایت مبارک موقع تھا۔ یہ آیت ایک طرف بےانتہاء مسرت کا پیغام تھا دوسری طرف اس میں ایک غم کا پہلو بھی تھا، یعنی اس آیت میں اس بات کا کھلا اشارہ تھا کہ تکمیل دین ہوچکی اور صاحب نبوت کا فرض پورا ہوچکا، چناچہ اس آیت کے نزول کے بعد آپ صرف 4 ماہ بقید حیات رہے جب حضرت عمر ؓ نے یہ آیت سنی تو بےاختیار رونے لگے آپ ﷺ نے حضرت عمر سے معلوم کیا عمر کیوں روتے ہو ؟ عرض کیا جب تک دین مکمل نہ ہوا تھا ہمارے کمالات میں اضافہ ہوتا رہتا تھا، اب تکمیل کے بعد اس کی گنجائش کہاں ؟ اسلئے کے ہر کمال کیلئے زوال ہے آپ ﷺ نے فرمایا سچ ہے۔ صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ کی روایت ہے جس میں آپ ﷺ نے پہلے صاحب شریعت نبی حضرت نوح (علیہ السلام) سے لیکر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک کی شریعتوں کو ایک خوشنما مکان سے تشبیہ دیکر فرمایا کہ اس مکان میں ایک آخری اینٹ کی کسر تھی وہ آخری اینٹ میں ہوں کیونکہ میں خاتم النبیین ہوں۔
احکامی آخری آیت : حضرت عبد اللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ الیوم اکملت لکم دینکم الخ، نزول کے اعتبار سے تقریبا آخری آیت ہے اس کے بعد احکام سے متعلق کوئی آیت نازل نہیں ہوئی، اس کے بعد صرف چند آیتیں ترہیب و ترغیب کی نازل ہوئیں، مذکورہ آیت جویں ذی الحجہ 10 ھ میں نازل ہوئی اور 11 ھ بارہ ربیع الاول کو آنحضرت ﷺ کا وصال ہوا۔
غیرَ متجانفٍ لاثمٍ ، اسی مضمون کو سورة بقرہ آیت 173، فَمَنِ اضْطُرَّ غیرَ باغ ولا عادٍ فلا اثم علیہ، میں مزید وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے، اس آیت میں حرام چیز کے استعمال کی اجازت تین شرطوں کے ساتھ دی گئی ہے، (1) یہ کہ واقعی مجبوری کی حالت ہو مثلاً بھوک یا پیاس کی وجہ سے جان بلب ہوگیا ہو یو بیماری کی وجہ سے جان کا خطرہ لاحق ہوگیا ہو اور اس حرام چیز کے علاوہ اور کوئی چیز میسر نہ ہو، (2) دوسرے یہ کہ خدائی قانون کو توڑنے کی نیت نہ ہو، (3) تیسرے یہ کہ ضرورت کی حد سے تجاوز نہ کرے مثلاً حرام چیز کے چند لقمے یا چند گھونٹ یا چند قطرے اگر جان بچا سکتے ہوں تو ان سے زیادہ اس چیز کا استعمال نہ ہونے پائے، احناف کے نزدیک مذکورہ آیت کا یہی مطلب ہے، مفسر علام نے متجانف کی تفسیر قطاع الطریق اور باغی سے اپنے مسلک شافعی کے مطابق کی ہے۔
Ayah 5:4ربط آیات : یَسْئَلُوْنَکَ مَاذَآ اُحِلّ لَھُمْ ، سابقہ آیات میں حلال و حرام جانوروں کا ذکر تھا اس آیت میں اسی معاملہ کے متعلق ایک سوال کا جواب ہے بعض صحابہ کرام کے رسول اللہ ﷺ سے شکاری کتے اور باز سے شکار کرنے کا حکم دریافت کیا تھا اس آیت میں اس کا جواب مذکور ہے۔
شان نزول : مستدرک حاکم، ابن ابی حاتم اور ابن جریر میں ابو رافع کی شان نزول کی روایت ہے جس کو حاکم نے صحیح کہا ہے، اس روایت کا حاصل یہ ہے کہ ایک دفعہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) آنحضرت ﷺ کے پاس آکر دروازہ پر رک گئے، آنحضرت نے اس کا سبب معلوم کیا تو جواب دیا، جس گھر میں کتا ہو اس میں فرشتے نہیں آتے، تلاش سے معلوم ہوا کہ گھر میں کتے کا ایک پلا (بچہ) تھا، آنحضرت نے اس کو نکلوا دیا اور کتوں کو مارنے کا حکم دیا اسی ذیل میں بعض صحابہ نے کتے کے شکار کا حکم آنحضرت سے دریافت کیا، اس پر مذکورہ آیت نازل ہوئی۔
شکاری جانور : عام طور پر جو جانور شکاری کہلاتے ہیں وہ کتا، چیتا، باز وغیرہ ہیں۔ امام ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ کے نزدیک ضروری ہے کہ شکاری جانور کو زخمی بھی کر دے، اگر شکار کو زخمی نہ کیا محض پکڑا تھا اور وہ جانور مرگیا تو یہ جانور حلال نہ ہوگا، البتہ اگر زخم خوردہ ہو کر مرجائے تو حلال ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ کے نزدیک وہ تمام شکاری بنائے جاسکتے ہیں جو پھاڑ کھانے والے شمار ہوتے ہیں خواہ ان کا تعلق پرندوں سے ہو یا درندوں سے امام ابو یوسف (رح) تعالیٰ نے شیر اور بھیڑئیے کو شکاری جانوروں میں شمار نہیں کیا، امام احمد بن حنبل (رح) تعالیٰ کے نزدیک مکمل سیاہ کتا بھی شکاری جانوروں میں شامل نہیں ہے، امام احمد بن حنبل کا مستدل حضرت عبد اللہ بن مغفل ؓ کی حدیث ہے، (ابو داؤد، ترمذی، دارمی) ایک دوسری حدیث جس کو حضرت جابر ؓ نے روایت کیا ہے جس میں آپ ﷺ نے کتوں کو مارنے کا حکم دیا ابتداء یہ حکم مطلق تھا، پھر آپ نے فرمایا کالا کتا جس کی ییشانی پر نشان ہو اس کو ہرگز نہ چھوڑو کیونکہ وہ شیطان ہوتا ہے۔
شکاری جانور کو سدھانے کے اصول :
پہلی اصل : یہ ہے کہ جب تم شکاری جانور کو شکار کے پیچھے چھوڑو تو فوراً دوڑ پڑے اور جب روکو تو رک جائے اور شکار کر کے تمہارے پاس لے آئے یا اس کی حفاظٹ کے لئے اس کے پاس بیٹھا رہے بغیر مالک کی اجازت کے اس میں سے کھانے نہ لگے اور باز، شکرہ وغیرہ شکاری پرندوں کے سدھا ہوا ہونے کی یہ علامت ہے کہ جب تم اس کو شکار کے پیچھے لگاؤ تو فوراً لگ جائے اور جب بلاؤ تو فوراً واپس آجائے اب ان شکاری جانوروں کا کیا ہوا شکار تمہارا کیا ہوا شکار سمجھا جائیگا، اور اگر سدھایا ہوا شکاری جانور کسی وقت اس تعلیم کے خلاف کرے، مثلاً کتا خود شکار کھانے لگے یا باز بلانے پر واپس نہ آئے تو یہ شکار تمہارا نہیں رہا اس لیے اس کا کھانا جائز نہیں۔
دوسری اصل : یہ ہے کہ شکاری جانور تمہارے چھوڑنے سے شکار کے پیچھے دوڑے نہ کہ ازخود آیت مذکورہ میں مکلّبین سے اسی اصل کی طرف اشارہ ہے یہ تکلیف سے ماخوذ ہے جس کے معنی کتے کو سکھانا ہیں اب مطلقاً شکار کے پیچھے چھوڑنے کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے، جیسا کہ مفسر علام نے اَرْسَلْتُہٗ عَلَی الصید، کہ کر اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے۔
تیسری اصل : یہ کہ شکاری جانور شکار کو خود نہ کھانے لگے (بشرطیکہ شدید بھوکا نہ ہو) مِمّا اَمْسَکَ علیکم سے اسی شرط کا بیان ہے۔
چوتھی اصل : چوتھی شرط یہ کہ شکار کو جب شکار کے پیچھے چھوڑا ہو تو بسم اللہ کہہ کر چھوڑا ہو، مذکورہ چاروں شرطیں پوری کرنے کے بعد اگر شکار کو تمہارے پاس لانے یا تمہارے شکار کے پاس پہنچنے سے پہلے وہ شکار مرجائے تو حلال ہے ورنہ بغیر ذبح حلال نہ ہوگا
مسئلہ : بعض فقہاء کے نزدیک کتے پر قیاس کرتے ہوئے شکاری پرندے کیلئے بھی یہ شرط ہے کہ شکاری پرندے نے شکار میں سے کچھ کھایا نہ ہو مگر امام ابوحنیفہ کے نزدیک پرندے کے لئے یہ شرط نہیں ہے۔
مسئلہ : اگر کسی شخص نے ذبح کرنے کیلئے مثلاً ایک بکری لٹائی اس پر بسم اللہ پڑھی اور معاً اس کو چھوڑ کر دوسری بکری ذبح کر ڈالی ازسر نو بسم اللہ نہیں پڑھی تو یہ دوسری بکری حلال نہ ہوگی، اور اگر بکری تو وہی رہی مگر چھری بدل دی تو ذبح کردہ بکری حلال رہے گی
مسئلہ : اگر ایک شخص نے بسم اللہ بڑھ کر ایک شکار پر تیر چلایا لیکن وہ تیر دوسرے شکار کا لگا یہ شکار حلال ہے۔
مسئلہ : اگر کسی شخص نے تیر نکالا اور اس پر بسم اللہ پڑھی پھر معاً تیر بدل کر اسی پہلے شکار پر دوسرا تیر چلایا اور ازسر نو بسم اللہ نہیں پڑھی تو یہ شکار حلال نہ ہوگا۔
مسئلہ : اگر سدھائے ہوئے کتے کے ساتھ ایک بغیر سدھایا ہوا کتا بھی شکار کرنے میں شریک ہوگیا یا کسی غیر مسلم کا کتا شکار کرنے میں شامل ہوگیا ان تمام صورتوں میں شکار بغیر ذبح کئے حلال نہ ہوگا۔
متفرق مسائل : مسئلہ : حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تمام درندے جانور حرام ہیں۔
مسئلہ : حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے بلی کا گوشت کھانے اور اسے بیچ کر قیمت کھانے سے منع فرمایا ہے۔ مسئلہ : بجو اور لومڑی امام ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ کے نزدیک حرام۔ امام مالک (رح) تعالیٰ کے نزدیک مکروہ اور امام شافعی کے نزدیک حلال ہے، زمین کے تمام جانور اور کیڑے مکوڑے حرام ہیں، اس سلسلہ میں امام مالک (رح) تعالیٰ کے علاوہ باقی تمام ائمہ کرام کا اتفاق ہے۔
مسئلہ : گوہ، امام ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ کے نزدیک حرام ہے، باقی تین ائمہ کرام کے نزدیک حلال ہے۔
مسئلہ : ٹڈی امام مالک (رح) تعالیٰ کے علاوہ باقی تمام ائمہ کرام کے نزدیک حلال ہے، خواہ مری ہوئی ملے یا ماری جائے۔ امام مالک (رح) تعالیٰ کے نزدیک ایسی ٹڈی مکروہ ہے جو مری ہوئی ملے۔
مسئلہ : گدھا اور خچر امام مالک (رح) تعالیٰ کے سوا باقی تمام ائمہ کرام کے نزدیک حرام ہے۔
مسئلہ : گھوڑے کا گوشت امام ابو یوسف (رح) تعالیٰ امام محمد (رح) تعالیٰ اور بیشتر ائمہ کرام کے نزدیک حلال ہے، البتہ امام ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ اور امام مالک (رح) تعالیٰ کے نزدیک مناسب نہیں ہے۔
مسئلہ : گدھ اور اس جیسے وہ تمم پرندے جو مردار کھاتے ہیں، امام مالک (رح) تعالیٰ کے نزدیک مکروہ اور باقی تمام ائمہ کرام کے نزدیک حرام ہیں۔
مسئلہ : پانی کے جانوروں میں امام ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ کے نزدیک صرف مچھلی حلال ہے، امام مالک (رح) تعالیٰ کے نزدیک سمندری خنزیر کے علاوہ باقی سب حلال ہیں، امام احمد (رح) تعالیٰ کے نزدیک مینڈک اور مگرمچھ کے علاوہ باقی سب بحری جانور حلال ہیں، البتہ مچھلی کے علاوہ جانور امام موصوف کے نزدیک ذبح کرنے سے حلال ہوں گے۔
مسئلہ : جو مچھلی مرنے کے بعد پانی پر تیرتی ہوئی ملے، امام ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ کے علاوہ باقی تمام ائمہ کرام کے نزدیک حلال ہے، (ھدایۃ القرآن) مسئلہ : خرگوش اور مرغی تمام ائمہ کرام کے نزدیک حلال ہے۔