5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 5:97–99

جَعَلَ اللّٰهُ الْكَعْبَةَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ قِیٰمًا لِّلنَّاسِ وَ الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَ الْهَدْیَ وَ الْقَلَآئِدَ١ؕ ذٰلِكَ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 5:97 in the Quran reader

خدا نے عزت کے گھر (یعنی) کعبے کے لوگوں کے لئے موجب امن مقرر فرمایا ہے۔ اور عزت کے مہینوں کو اور قربانی کو اور ان جانوروں کو جن کے گلے میں پٹے بندھے ہوں۔ یہ اس لئے کہ تم جان لو کہ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے خدا سب کو جانتا ہے اور یہ کہ خدا کو ہر چیز کا علم ہے۔

اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ وَ اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌؕ Open ayah 5:98 in the Quran reader

جان رکھو کہ خدا سخت عذاب دینے والا ہے۔ اور یہ کہ (خدا بخشنے والا مہربان بھی ہے۔

مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 5:99 in the Quran reader

پیغمبر کے ذمے تو صرف (پیغام خدا کا) پہنچا دینا ہے۔ اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ مخفی کرتے ہو خدا کو سب معلوم ہے۔

جعل اللہ الکعبۃ البیت الحرام قیٰماً الخ، کعنہ کو البیت الحرام اسلئے کہا جاتا ہے کہ اس کی حدود میں شکار کرنا درخت وغیرہ کاٹنا حرام ہے قیاماً للناس بیت الحرام لوگوں کے قیام اور گزران کا باعث قرار دیا، مطلب یہ ہے کہ کعبہ اور اس کے متعلقات لوگوں کی دینی و دنیوی بقا کے اسباب اور ذریعہ ہیں، الناس اگرچہ عام انسانوں کیلئے بولا جاتا ہے مگر قرینہ کی وجہ سے یہاں اہل مکہ مراد ہیں یا اہل عرب بھی مراد ہوسکتے ہیں اور عام دنیا کے انسان بھی، اسلئے کہ حج بیت اللہ کا پورے عالم کی اقتصادیات سے گہرا تعلق ہے۔ کعبہ کی مرکزی حیثیت : عرب میں کعبہ کی حیثیت محض ایک عبادت گاہ ہی کی نہ تھی بلکہ اپنی مرکزیت اور اپنے تقدس کی وجہ سے کعبہ ہی پورے ملک کی معاشی و تمدنی زندگی کا سہارا ہوتا تھا حج اور عمرہ کیلئے سار املک اس کی طرف کھینچ کر چلا آتا اور اس اجتماع کی بدولت انتشار کے مارے ہوئے عربوں میں وحدت کا ایک رشتہ پیدا ہوتا، مختلف علاقوں اور قبیلوں کے لوگ باہم تمدنی روابط قائم کرتے، شاعری کے مقابلوں سے ان کی زبان و ادب کی ترقی نصیب ہوتی اور تجارتی لین دین سے سارے ملک کی معاشی ضروریات پوری ہوتیں، قابل احترام مہینوں کی بدولت عربوں کو پورا ایک تہائی زمانہ امن کا نصیب ہوجاتا تھا، بس یہی ایک زمانہ ایسا تھا کہ جس میں ان کے قافلے ملک کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک امن وامان کے ساتھ بسہولت آتے جاتے تھے قربانی کے جانوروں اور قلادوں کی موجودگی سے بھی اس نقل و حمل میں بڑی مدد ملتی تھی، کیونکہ نذر کی علامت کے طور پر جن جانوروں کی گردنوں میں پٹے پڑے ہوئے ہوتے، انہیں دیکھ کر عربوں کی گردنیں احترام سے جھک جاتیں اور کسی غارت گر قبیلہ کو بھی ہاتھ ڈالنے کی جرأت نہ ہوتی۔
Ayah 5:100

قُلْ لَّا یَسْتَوِی الْخَبِیْثُ وَ الطَّیِّبُ وَ لَوْ اَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِیْثِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 5:100 in the Quran reader

کہہ دو کہ ناپاک چیزیں اور پاک چیزیں برابر نہیں ہوتیں گو ناپاک چیزوں کی کثرت تمہیں خوش ہی لگے۔ تو عقل والو خدا سے ڈرتے رہو تاکہ رستگاری حاصل کرو

قل لا یستوی الخبیث والطیب الخ، الخبیث، کا لفظ نافرمان یا نافرمانی، حرام اور ردی، کفر و شرک وغیرہ سب کو شامل ہے، خواہ ازقبیل ذات یا ازقبیل مال یا اعمال (قرطبی) اور طیب، فرمانبرداری اور فرمانبرداری پاک اور لطیف سب کو شامل ہے، ظاہر بین نظروں میں ہزار روپے سو کے مقابلہ میں یقیناً کم ہیں، مگر خدا کی نافرمانی کرکے، حاصل کئے گئے ہوں تو وہ ناپاک اور خبیث ہیں، اور سو روپے جو خدا کی فرمانبرداری کرتے ہوئے حاصل کئے گئے ہوں وہ پاک اور طیب ہیں، ناپاک مقدار میں خواہ کتنا ہی زیادہ ہو بہرحال وہ پاک قلیل کے برابر نہیں سکتا، غلاظت کے ایک ڈھیر سے عطر کا ایک قطرہ زیادہ قدر رکھتا ہے لہٰذا دانشمند شخص کو حلال ہی پر قناعت کرنی چاہیے خواہ وہ ظاہر میں کتنا ہی کم کیوں نہ ہو۔
Ayahs 5:101–105

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْئَلُوْا عَنْ اَشْیَآءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَسْئَلُوْا عَنْهَا حِیْنَ یُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَكُمْ١ؕ عَفَا اللّٰهُ عَنْهَا١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ Open ayah 5:101 in the Quran reader

مومنو ایسی چیزوں کے بارے میں مت سوال کرو کہ اگر (ان کی حقیقتں) تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں بری لگیں۔ اور اگر قرآن نازل ہونے کے زمانے میں ایسی باتیں پوچھو گے تو تم پر ظاہر کردی جائیں گی۔ (اب تو) خدا نے ایسی باتوں (کے پوچھنے) سے درگزر فرمایا ہے اور خدا بخشنے والا بردبار ہے۔

قَدْ سَاَلَهَا قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ ثُمَّ اَصْبَحُوْا بِهَا كٰفِرِیْنَ Open ayah 5:102 in the Quran reader

اسی طرح کی باتیں تم سے پہلے لوگوں نے بھی پوچھی تھیں (مگر جب بتائی گئیں تو) پھر ان سے منکر ہوگئے۔

مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنْۢ بَحِیْرَةٍ وَّ لَا سَآئِبَةٍ وَّ لَا وَصِیْلَةٍ وَّ لَا حَامٍ١ۙ وَّ لٰكِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ وَ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 5:103 in the Quran reader

خدا نے نہ تو بحیرہ کچھ چیز بنایا اور نہ سائبہ اور نہ وصیلہ اور نہ حام بلکہ کافر خدا پر جھوٹ افتراء کرتے ہیں۔ اور یہ اکثر عقل نہیں رکھتے۔

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ قَالُوْا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 5:104 in the Quran reader

اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے جو (کتاب) خدا نے نازل فرمائی ہے اس کی اور رسول اللہ ﷺ کی طرف رجوع کرو تو کہتے ہیں جس طریق ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے وہی ہمیں کافی ہے۔ بھلا ان کے باپ دادا نہ تو کچھ جانتے ہوں اور نہ سیدھے راستے پر ہوں (تب بھی ؟ )

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْكُمْ اَنْفُسَكُمْ١ۚ لَا یَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَیْتُمْ١ؕ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:105 in the Quran reader

اے ایمان والوں ! اپنی جانوں کی حفاظت کرو۔ جب تم ہدایت پر ہو تو کوئی گمراہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ تم سب کو خدا کی طرف لوٹ جانا ہے اس وقت وہ تم کو تمہارے سب کاموں سے جو (دنیا) (میں) کئے تھے آگاہ کریگا اور ان کا بدلہ دے گا

آیت 101 تا 107 ترجمہ : لوگوں نے جب آپ ﷺ سے کثرت سے سوالات کرنے شروع کئے تو یہ آیت نازل ہوئی اے ایمان والو ایسی (فضول) باتوں کا سوال نہ کرو کہ اگر تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں اس لئے کہ اس میں دشواری ہو، اور اگر تم نزول قرآن کے دوران یعنی آپ ﷺ کے زمانہ حیات میں ان باتوں کا سوال کرو گے تو تم کو جواب دیدیا جائیگا، مطلب یہ کہ جب تم آپ کے زمانہ حیات میں چیزوں کے بارے میں سوال کرو گے تو قرآن (ان کا جواب) ظاہر کرنے کے بارے میں نازل ہوگا اور جب قرآن ان چیزوں کا جواب ظاہر کر دے گا تو تمہیں ناگواری ہوگی، لہٰذا ایسی چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو، اللہ نے تمہارے (ماضی میں) سوال کرنے کو معاف کردیا، آئندہ ایسی حرکت نہ کرنا اللہ بڑا معاف کرنے والا بڑا بردبار ہے، ایسی باتیں تم سے پہلی قوم نے اپنے انبیاء سے پوچھی تھیں ان کے احکام بیان کرکے ان کا جواب دیدیا گیا، پھر وہ ان احکام پر ترک عمل کرکے ان احکام کے منکر ہوگئے اللہ نے نہ بحیرہ کو مشروع کیا اور نہ سائبہ کو اور نہ وصیلہ کو اور نہ حام کو جیسا کہ اہل جاہلیت اس کو کرتے تھے، امام بخاری نے سعید بن مسیب سے روایت کی ہے کہ بحیرہ اس جانور کو کہتے ہیں کہ جس کا دودھ دوہنا بتوں کے نام پر موقوف کردیا جاتا تھا، چناچہ کوئی شخص ان کا دودھ نہیں دوہتا تھا، اور سائبہ اس جانور کو کہتے ہیں جس کو وہ اپنے معبودوں کے نام پر آزاد چھوڑ دیتے تھے، چناچہ وہ اس کو بار برداری کے کام میں نہیں لیتے تھے، اور وصیلہ اس نوجوان اونٹنی کو کہتے تھے جو پہلی ہی بار مادہ بچہ جنے پھر دوبارہ بھی مادہ بچہ جنے کہ ان کے درمیان نر بچہ نہ ہو، اور حام وہ اونٹ جو دس بار جفتی کرے، جب وہ مذکورہ تعداد پوری کرلیتا تو اس کو بتوں کے نام پر آزاد چھوڑ دیتے، اور اس پر بار برداری ترک کردیتے کہ اس پر کوئی چیز نہ لادتے، اور اس کا نام حام رکھتے تھے، لیکن (یہ) کافر اس معاملہ میں اس کی جانب نسبت کرنے میں اللہ پر چھوٹی تہمت لگاتے تھے، اور ان میں اکثر لوگ نہیں جانتے کہ یہ تہمت ہے اسلئے کہ انہوں نے اس معاملہ میں اپنے آباء کی تقلید کی ہے، اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس کی طرف آؤ جو اللہ نے نازل کیا ہے اور رسول کی طرف آؤ یعنی اسکے حکم کی طرف کہ وہ جس کو تم نے حرام کیا ہے اس کو حلال کرنا ہے تو کہتے ہیں کہ جس دین و شریعت پر ہم نے اپنے آباء (و اجداد) کو پایا ہے وہ ہمارے لئے کافی ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا یہ ان کیلئے کافی ہوگا اگرچہ ان کے آباء کچھ نہ جانتے ہوں ؟ اور راہ حق کی طرف ہدایت یافتہ نہ ہوں استفہام انکار کیلئے ہے، اے ایمان والو ! تم اپنی فکر کرو یعنی اپنی حفاظت کرو اور اس کی اصلاح کیلئے مستعد ہوجاؤ کسی کی گمراہی سے تمہارا کچھ نہیں بگڑتا اگر تم خود راہ راست پر ہو کہا گیا ہے کہ مراد اہل کتاب ہیں اور کہا گیا ہے کہ مراد غیر اہل کتاب ہیں، ابو ثعلبہ الخشنی کی حدیث کی وجہ سے، (ابو ثعلبہ نے فرمایا) کہ میں نے مذکورہ آیت کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا بھلی بات کا حکم کرو اور بری بات سے روکو، اور جب تم دیکھو کہ بخل کی پیروی کی جارہی ہے اور خواہشات کی اتباع کی جارہی ہے اور دنیا کو (دین) پر ترجیح دی جا رہی ہے اور ہر شخص اپنی رائے میں مست ہے، تو تم اپنی فکر کرو، (اس کو حاکم وغیرہ نے روایت کیا ہے) تم سب کو اللہ کے پاس لوٹ کر جانا ہے تو وہ تم کو وہ سب کچھ بتادے گا جو تم کیا کرتے تھے کہ وہ اس کی جزا دے گا، اے ایمان والو جب تم میں سے کسی کی موت آجائے یعنی اس کے اسباب ظاہر ہونے لگیں اور وصیت کرنے کا وقت ہو تو اس کے لئے شہادت کا (نصاب) یہ ہے کہ تمہاری جماعت میں سے دو عادل آدمی گواہ بنائے جائیں، خبر بمعنی امر ہے، یعنی ان کو شہادت دینی چاہیے، اور شھادۃ کی اضافت بین کی جانب وسعت کی بناء پر ہے، اور حین اِذَا سے بدل ہے یا حَضَرَ کا ظرف ہے، اور اگر دوران سفر تم پر موت کی مصیبت آجائے تو تمہارے غیروں یعنی غیر مسلموں میں سے دو گواہ لے لئے جائیں، اگر تم (اے وارثو) ان دونوں کے بارے میں شک میں پڑجاؤ تو ان دونوں کو عصر کی نامز کے بعد روک لو (تحبسونھما) آخرانِ کی صفت ہے تو وہ اللہ کی قسم کھا کر کہہ دیں کہ ہم اللہ کی قسم کا عوض نہیں چاہتے کہ اس کے بدلے میں دینوی عوض لے لیں کہ ہم دنیا کے لئے قسم کھالیں یا اس کیلئے جھوٹی شہادت دیدیں، اگرچہ جن کے فائدے کیلئے قسم کھائی جا رہی ہے یا جن کے فائدہ کیلئے شہادت دی جارہی ہے ہمارے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں، اور نہ ہم اللہ کی شہادت کو چھپائیں گے جس کے ادا کرنے کا ہم کو حکم دیا گیا ہے، اگر ہم نے چھپایا تو ہم گنہگاروں میں شمار ہوں گے، پس اگر ان کے قسم کھانے کے بعد (کسی طرح) یہ سراغ لگ جائے کہ وہ دونوں گناہ کے مستحق ہوئے ہیں یعنی انہوں نے ایسے فعل کا ارتکاب کیا ہو جو خیانت کو یا کذب فی الشہادتین کو واجب کرے بایں طور کہ مثلاً وہ چیز جس کے بارے میں ان کو اتہام لگایا گیا ہے وہ ان کے پاس سے برآمد ہو، اور انہوں نے یہ دعویٰ کیا ہو کہ انہوں نے میت سے یہ چیز خریدی ہے یا میت نے ان کیلئے اس کی وصیت کی ہے تو دوسرے دو گواہ جو ان دونوں کے قائم مقام ہوں یمین کو ان کی طرف متوجہ کرنے میں ان لوگوں کی جانب سے کہ جو وصیت کے مستحق قرار پائے ہیں اولین، آخر ان سے بدل ہے اور وہ ورثاء ہیں جو میت کے اولیا یعنی میت کے رشتہ دار ہیں اور ایک قراءت میں اَوَّلِین اول کی جمع ہے الذین کی صفت یا بدل ہے تو وہ شاہدین کی خیانت پر اللہ کی قسم کھائیں، اور کہیں کہ ہماری شہادت ان کی شہادت سے راست تر ہے اور ہم نے قسم میں حق سے تجاوز نہیں کیا ہے، بیشک ہم اس وقت ظالموں میں شمار ہوں گے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : اَشیاءَ ، اَشیَاءُ کی اصل شَیْئاءُ تھی بروزن فَعْلاءُ ، کحمراء، کہ عرب کے نزدیک دو ہمزوں کے درمیان الف ثقیل النطق ہے جس کی وجہ سے پہلے ہمزہ کو جو کہ لام کلمہ ہے قلب مکانی کرکے شین سے مقدم کردیا اب اس کا وزن اشیاء بروزن لفعاء ہوگیا اب یہ الف تانیث ممدود کی وجہ سے غیر منصرف ہوگیا۔ (اعراب القرآن) قولہ : ان تَسْئَلُوا عنھا حین یُنَزّلُ القرآنُ تُبْدَلکم، اِن حرف شرط، تسئلوا فعل شرط عنھا، تسئلوا کے متعلق، ھا ضمیر ما سبق میں مذکور اشیاء کی طرف راجع ہے حین ینزل القرآن، تسئلوا کا ظرف ہے اور تُبْدَلکم جواب شرط ہے۔ قولہ : اَلْمَعْنی اِذَا سَئَلْتُم الخ، مفسر علام کا مقصد اس عبارت کے اضافہ سے یہ بتانا ہے کہ یہاں دو شرطیہ جملے اور نہی ہیں، دراصل نہی جو کہ مقدم ہے دونوں جملوں سے مؤخر ہونی چاہیے، اور دونوں شرطیہ جملوں میں پہلا جملہ مؤخر اور ثانیہ مقدم ہونا چاہیے، نہی کو مع اس کے نتیجے کے اہتمام زجر کی وجہ سے مقدم کردیا گیا اور یہ تقدیم و تاخیر باعتبار معنی کے ہے اسلئے کہ واؤ ترتیب کا تقاضہ نہیں کرتا۔ قولہ : اذا سَئَلْتُم عن اَشْیَاءَ ، یہ جملہ ثانیہ کے معنی ہیں اور متیٰ اَبدأھا سائتکم یہ جملہ اولی کے معنی ہیں۔ قولہ : فلا تَسْئَلُوا عَنْھَا یہ معنی نہی ہیں۔ قولہ : اِذَا سَئَلْتُمْ عَنْ اَشْیَاءَ مبتداء ہے یُنَزَّلُ القرآنُ عن اِبْدائِھا اس کی جزا ہے۔ قولہ : عن مَسْئَلَتِلُم اس میں اشارہ ہے کہ عنھا کی ضمیر مسئلۃ کی طرف لوٹ رہی ہے جو یسئلون سے مفہوم ہے۔ قولہ : شَرَعَ ، جَعَلَ کی تفسیر شرع سے اشارہ کردیا کہ جَعَلَ ، شَرَعَ کے معنی کو متضمن ہونے کی وجہ سے متعدی بیک مفعول ہے اور وہ بحیرۃ ہے من زائدہ ہے۔ قولہ : بَحِیْرَۃ، باء کے فتحہ اور حاء کے کسرہ کے ساتھ بروزن فعیلۃ بمعنی مفعولۃ اس کے آخر میں تاء غیر قیاسی طور لاحق ہوئی ہے اسلئے کہ اس کو وصفیت سے اسمیت کی طرف منتقل کیا ہے جس کی وجہ سے بمنزلہ جامد کے ہوگیا، بحیرہ کی تعریف میں علماء کا بہت اختلاف ہے منجملہ ایک قول یہ ہے کہ جو قوی تر ہے جب اونٹنی پانچ مرتبہ بچہ جنتی تھی اور پانچواں بچہ نر ہوتا تو اس کا کان چیر کر اپنے بتوں کے نام پر آزاد کردیتے تھے اور اس پر بار برداری اور سواری کرنا حرام سمجھتے تھے، اور کوئی شخص اس کو گھاس پانی سے نہیں روکتا تھا۔ (اعراب القرآن للدرویش) قولہ : سَائِبَۃ، یہ ساب یسیب سے اسم فاعل ہے آزاد کرنا، اس کی صورت یہ ہوتی تھی کہ زمانہ جاہلیت میں اسطرح نذر مانتے تھے، مثلاً ، اگر میں سفر سے صحیح سلامت واپس آگیا یا میں مرض سے شفایاب ہوگیا تو میری اونٹنی آزاد ہے، اس طریقہ پر چھوڑی ہوئی اونٹنی کو سائبہ کہا جاتا تھا۔ (اعراب القرآن ایضاً ) قولہ : البر بقتح الباء والکاف جو ان اونٹنی تَبَکَّرَ فی اول نتاج الابل بالانثی ای تَلدَ فی اول مرۃ بالانثیٰ ، وہ نوجواب اونٹنی جس نے پہلا بچہ مادہ جنا ہو۔ قولہ : وَصِیْلہ، وہ نوجوان اونٹنی جس کے پہلے حمل میں مادہ بچہ پیدا ہوا ہو، اور دوسری مرتبہ بھی مادہ بچہ جنے تسلسل کے ساتھ چونکہ مادہ بچے جنے اسلئے اس اونٹنی کو وصیلہ کہتے ہیں ایسی اونٹنی کو عرب بتوں کے نام پر آزاد کردیتے تھے، اور اس سے کسی قسم کی خدمت نہیں لیتے تھے۔ قولہ : حام، حمیٰ یحمی حَمْیًا وحِمَایَۃً روکنا سے اسم فاعل، اِذَا مُنِعَ بعض حضرات نے کہا ہے کہ حام وہ اونٹ جس کی پشت سے دس بچے پیدا ہوئے ہوں، گویا کہ اس کی پشت بار برداری اور سواری سے محفوظ ہوگئی ای لا یرکب ولایحملُ ولا یمنع من ماء لامرعی۔ قولہ : واِضَافَۃُ شَھَادَۃ لِبَین علی الاتِّسَاعِ یعنی ظرف کو قائم مقام فاعل کے اتساعاً کردیا گیا ہے، لہٰذا یہ اعتراض ختم ہوگیا کہ مصدر فاعل یا مفعول کی جانب مضاف ہوتا ہے۔ تفسیر و تشریح شان نزول : یآیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لاتسئلوا عن اشیاء (الآیۃ) ، اس آیت میں فرضی اور دوراز مقصد سوالات کرنے سے منع کیا گیا ہے، مذکورہ آیت کے شان نزول کے بارے میں صحیح ترین روایت وہ ہے جو ابوہریرہ ، انس بن مالک نے روایت کی ہے، ” آپ ﷺ ایک روز “ اپنے گھر سے نکلے اور مسجد میں تشریف فرما ہوئے صحابہ کرام آپ ﷺ کے اطراف میں جمع ہوگئے، آپ ﷺ نے فرمایا جس کو جو سوال کرنا ہے کرے، تو ایک صاحب کھڑے ہوئے اور سوال کیا یا رسول اللہ میرا اصل باپ کون ہے ؟ تو آپ نے فرمایا تیرا باپ حذافہ ہے، ایک دوسرے صاحب کھڑے ہوئے سوال کیا کہ میرے والد کہاں ہیں آپ نے فرمایا دوزخ میں، قفال نے فرمایا کہ اہل کتاب نے مومنین سے کہا تھا کہ تم اپنے بنی سے یہ سوال کرو اور وہ سب سوالات فرضی تھے تو اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیت نازل فرمائی۔ دوسرا واقعہ : مسلم کی روایت کے مطابق مذکور آیت کے شان نزول کا یہ واقعہ مذکور ہوا ہے، جب حج کی فرضیت نازل ہوئی تو۔۔ بن حابس ؓ نے آپ سے سوال کیا، کیا ہر سال ہمارے ذمہ حج فرض ہے ؟ آپ نے سکوت فرمایا تو مکرروہی سوال کیا آپ پھر بھی خاموش رہے جب تیسری مرتبہ وہی سوال کیا تو آپ نے عتاب کے لہجہ میں فرمایا، اگر میں تمہارے سوال کا جواب میں ہاں کہہ دیتا تو ایسا ہی ہوجاتا اور پھر اس کو پورا نہ کرسکتے، اسکے بعد فرمایا ” جب چیزوں کے بارے میں تم کو کوئی حکم نہ دوں تو ان کو اسی طرح رہنے دو ، ان کی کھود کرید کرکے سوالات نہ کرو، تمہارے سے پہلے بعض امتیں اسی کثرت سوالات کی وجہ سے ہلاک ہوچکی ہیں آپ ﷺ کا کثرت سے سوال سے منع فرمانا : خود نبی ﷺ بھی صحابہ کو کثرت سوال سے منع فرماتے تھے، آپ نے فرمایا ” اِنَّ اعظم المسلمین فی المسلمین جرماً مَن سَأل عَن شئ لم یحرم علی الناس فحرم من اجل مسئلتہٖ “ ، مسلمانوں میں سے سب سے بڑا مجرم وہ شخص ہے جس نے کسی ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا جو لوگوں پر حرام نہیں کی گئی تھی اور پھر محض اس کے سوال کی وجہ سے وہ چیز حرام کردی گئی۔ (بخاری، مسلم) کس قسم کے سوالات سے ممانعت ہے ؟ ایسے سوالات سے منع کیا گیا ہے جو سراسر فضول ہوں نہ ان سے کوئی دینی معاملہ متعلق اور نہ دنیوی ضرورت، یا مثلاً لوگوں کی جزئیات زندگی سے سوالات کرنا، البتہ معاشی یا معادی واقعی ضرورت پیش آجائے یا پیش آنے کا قوی احتمال ہو تو ایسے سوالات کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، دور دور کے احتمالات پیدا کرکے محض سوال برائے سوال کرنا، اپنے دل سے گھڑ کر محض امتحان یا ضیق میں ڈالنے کیلئے فرضی سوالات کرنا منع ہے یہاں ایسے ہی سوالات سے ممانعت کی جارہی ہے۔ مسند سعید بن منصور اور تفسیر اب جریر میں حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ مذکورہ آیت میں جو بحیرہ اور سائبہ وغیرہ کا ذکر ہے، ان کے بارے میں بعض صحابہ نے آپ ﷺ سے سوال کیا تھا جس کے جواب میں مذکورہ آیت نازل ہوئی تھی، حاصل آیت کا یہ ہے کہ ملت ابراہیمی میں اللہ نے ان جانوروں کو حرام نہیں ٹھہرایا قریش میں یہ رسم عمرو بن عامر خزاعی کی ایجاد کردہ ہے، صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ان جانوروں کو حرام کرنے کی رسم قریش میں عمر و بن عامر نے جاری کی اور آپ نے یہ فرمایا کہ میں نے اس کو دوزخ میں دیکھا اس کی انتڑیاں دوزخ کی آگ میں نکلی ہوئی پڑی تھیں اور وہ ان کو کھینچتا ہوا پھر رہا تھا، اور جل رہا تھا۔ (احسن التفاسیر) اپنی اصلاح پر اکتفاء کافی نہیں : بعض لوگوں کو یایھا الذین آمنوا علیکم انفسکم لایضرکم من ضَلَّ الخ کے ظاہری الفاظ سے یہ شبہ پیدا ہوا کہ اپنی اصلاح اگر کرلی جائے تو کافی ہے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ضروری نہیں، لیکن یہ مطلب صحیح نہیں ہے اس لئے کہ امر بالمعروف کا فریضہ بھی نہایت اہم ہے، اگر ایک مسلمان یہ فریضہ ہی ترک کر دے گا، تو اس کا تارک ہدایت پر قائم رہنے والا کہاں رہے گا ؟ جبکہ قرآن نے اِذَا اھتدیتم کی شرط عائد کی ہے، یہی وجہ ہے کہ جب حضرت ابوبکر صدیق کے علم میں یہ بات آئی تو فرمایا اے لوگو تم آیت کو غلط جگہ استعمال کر رہے ہو میں نے نبی ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ جب لوگ برائی ہوتے دیکھیں اور اس کی اصلاح کی کوشش نہ کریں تو قریب ہے کہ اللہ ان کو اپنے عذاب کی گرفت میں لے لے (مسند احمد، ترمذی) اس لئے آیت کا صحیح مطلب یہ ہے کہ تمہارے سمجھانے کے باوجود اگر لوگ نیکی کا راستہ اختیار نہ کریں یا برائی سے باز نہ آئیں تو تمہارے لئے یہ نقصان دہ نہیں جبکہ تم خود نیکی پر قائم اور برائی سے مجتنب ہو اگر عملی یا لسانی طور پر لوگوں کو برائی سے باز رکھنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو دل سے برا سمجھنا ایمان کا آخری درجہ ہے۔
Ayahs 5:106–107

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا شَهَادَةُ بَیْنِكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِیْنَ الْوَصِیَّةِ اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَیْرِكُمْ اِنْ اَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَاَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةُ الْمَوْتِ١ؕ تَحْبِسُوْنَهُمَا مِنْۢ بَعْدِ الصَّلٰوةِ فَیُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ اِنِ ارْتَبْتُمْ لَا نَشْتَرِیْ بِهٖ ثَمَنًا وَّ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ۙ وَ لَا نَكْتُمُ شَهَادَةَ١ۙ اللّٰهِ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الْاٰثِمِیْنَ Open ayah 5:106 in the Quran reader

مومنو جب تم میں سے کسی کی موت آموجود ہو تو شہادت (کا نصاب) یہ ہے کہ وصیت کے وقت (تم مسلمانوں میں) سے دو مرد عادل (یعنی صاحب اعتبار) گواہ ہوں یا اگر مسلمان نہ ملیں اور جب تم سفر کر رہے ہو اور اس وقت تم پر موت کی مصیبت واقع ہو تو کسی دوسرے مذہب کے دو شخصوں کو گواہ کرلو اگر تم کو ان گواہوں کی نسبت کچھ شک ہو تو ان کو عصر کی نماز کے بعد کھڑا کرو اور دونوں خدا کی قسمیں کھائیں کہ ہم شہادت کا کچھ بھی عوض نہ لیں گے گوہ ہمارا رشتہ دار ہی ہو اور نہ ہم اللہ کی شہادت کو چھپائیں گے اور اگر ایسا کرینگے تو گناہ گار ہونگے

فَاِنْ عُثِرَ عَلٰۤى اَنَّهُمَا اسْتَحَقَّاۤ اِثْمًا فَاٰخَرٰنِ یَقُوْمٰنِ مَقَامَهُمَا مِنَ الَّذِیْنَ اسْتَحَقَّ عَلَیْهِمُ الْاَوْلَیٰنِ فَیُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ لَشَهَادَتُنَاۤ اَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا وَ مَا اعْتَدَیْنَاۤ١ۖ٘ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 5:107 in the Quran reader

پھر اگر معلوم ہوجائے کہ ان دونوں نے جھوٹ بول کر گناہ حاصل کیا ہے تو جن لوگوں کا انہوں نے حق مارنا چاہا تھا ان میں ان کی جگہ دو گواہ کھڑے ہوں جو میت سے قرابت قریبہ رکھتے ہوں پھر وہ خدا کی قسم کھائیں کہ ہماری شہادت ان کی شہادت سے بہت سچی ہے۔ اور ہم نے کوئی زیادتی نہیں کی ایسا کیا ہو تو ہم بےانصاف ہیں۔

شان نزول : یآیُّھَا الَّذِیْنَ آمنُوْا شھادۃُ بینکم اذا حَضَرَ احدکم الموت، مذکورہ آیات کے نزول کا واقعہ یہ ہے کہ ایک مسلمان جس کا نام بُدَیل تھا دو شخص کے ساتھ جن کا نام تمیم اور عدی تھا جو اس وقت نصرانی تھے تجارت کیلئے ملک شام گئے شام پہنچ کر بدیل بیمار ہوگیا اس نے اپنے مال کی فہرست لکھ کر اپنے سامان میں رکھ دی مگر اس کی اطلاع اپنے ساتھیوں کو نہ کی جب مرض زیادہ بڑھا تو اس نے اپنے دونوں نصرانی ساتھیوں کو وصیت کی کہ میرا یہ سامان میرے وارثوں کو پہنچا دینا، انہوں نے سب سامان لاکر وارثوں کے حوالہ کردیا مگر چاندی کا ایک پیالہ جس پر سونے کے نقش و نگار تھے سامان میں سے نکال لیا، وارثوں نے جب سامان کھولا تو اس میں ایک فہرست نکلی وارثوں نے اوصیاء سے معلوم کیا کہ کیا مرنے والے نے کچھ سامان فروخت کیا تھا ؟ یا بیماری کے علاج معالجہ میں خرچ ہوا تھا اس کا جواب ان دونوں نے نفی میں دیا، آخر معاملہ نبی ﷺ کی خدمت میں پیش ہوا چونکہ وارثون کے پاس گواہ نہیں تھے تو دونوں نصرانیوں سے قسم لی گئی کہ ہم نے میت کے مال میں کسی قسم کی خیانت نہیں کی، نہ اس کی کوئی چیز چھپائی آخر کار ان سے قسم لے کر ان کے حق میں فیصلہ ہوگیا، کچھ روز کے بعد معلوم ہوا کہ ان دونوں نے وہ پیالہ مکہ میں کسی سنار کے ہاتھ فروخت کیا ہے، جب ان سے معلوم کیا گیا تو انہوں نے کہا ہم نے تو میت سے خریدا تھا، چونکہ خریداری کے گواہ موجود نہ تھے اسلئے ہم نے اس کا ذکر نہیں کیا تھا۔ میت کے وارثوں نے پھر آپ ﷺ کی طرف رجوع کیا اب صورت حال بدل گئی اسلئے کہ اب اوصیاء خریداری کے مدعی اور ورثاء منکر تھے، اوصیاء کے پاس گواہ نہ ہونے کی وجہ سے ورثاء میں اے دو آدمیوں نے قسم کھالی کہ پیالہ میت کی ملک تھا، اور یہ دونوں نصرانی اپنی قسم میں جھوٹے ہیں، چناچہ جس قیمت پر انہوں نے فروخت کیا تھا وہ قیمت اوصیاء سے ورثاء کو دلائی گئی۔ مسئلہ : میت جس کا مال سپرد کرے یا کسی کو دینے لینے وغیرہ کیلئے کہہ جائے تو وہ وصی ہے اور وصی ایک سے زیادہ بھی ہوسکتے ہیں۔ مسئلہ : وصی میں مسلمان اور عادل ہونا خواہ حالت سفر میں ہو یا حضر میں افضل ہے لازم نہیں۔ مسئلہ : نزاع میں جو زیادہ کا مثبت ہو وہ مداعی کہلاتا ہے اور دوسرا مدعا علیہ کہلاتا ہے۔ مسئلہ : اول مدعی سے گواہ طلب کئے جاتے ہیں اگر شریعت کے مطابق گواہ پیش کر دے تو مقدمہ کا فیصلہ اس کے حق میں ہوتا ہے، اور اگر مدعی گواہ پیش نہ کرسکے تو مدعا علیہ سے قسم لی جاتی ہے اور مقدمہ کا فیصلہ ان کے حق میں ہوتا ہے، البتہ مدعا علیہ قسم سے انکار کرے تو مقدمہ کا فیصلہ مدعی کے حق میں ہوتا ہے۔ مسئلہ : اگر مدعا علیہ کسی فعل کے متعلق قسم کھائے تو الفاظ یہ ہوتے ہیں کہ مجھے اس فعل کی اطلاع نہیں۔ مسئلہ : اگر میراث کے مقدمہ میں وارث مدعا علیہ ہوں تو جن کو شرعاً میراث پہنچی ان پر قسم آئے گی اور جو وارث نہ ہوں ان پر قسم نہ ہوگی۔ (معارف القرآن، ملخصاً ) کافر کی شہادت کافر کے حق میں قابل قبول ہے : یایھا الذین آمنوا شھادۃ بینکم (الخ) او آخران من غیرکم، اس آیت میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کی موت آنے لگے تو دو ایسے آدمیوں کو وصی بناؤ جو تم میں سے ہوں اور نیک ہوں اور اگر اپنی قوم کے آدمی نہ ہوں تو غیر قوم کے وصی بناؤ۔ اس سے امام ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ نے یہ مسئلہ کا استنباط کیا ہے کہ کفار کی شہادت بعض کی بعض کے حق میں جائز ہے کیونکہ اس آیت میں کفار کی شہادت مسلمانوں پر جائز قرار دی ہے، جیسا کہ اَوْ آخرانِ من غیرکم سے ظاہر ہے، تو کفار کی شہادت بعض کی بعض پر بطریق اولی جائز ہے لیکن بعد میں یا ایھا الذین آمنوا اذا تداینتم بدین اِلیٰ اجل مسمًّی فاکتبوہ، (الی قولہ) واستشھدوا شھیدین من رِّجالکم سے کفار کی شہادت مسلمانوں کے حق میں منسوخ ہوگئی لیکن کفار میں بعض کی بعض پر اسی طرح باقی ہے۔ (معارف) قولہ : من بعد الصلوٰۃ، اس وقت کی تخصیص کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت کی اہل کتاب بہت تعظیم کرتے تھے، صلوۃ سے مراد صلوۃ عصر ہے، اس سے معلوم ہوا کہ قسم کیلئے کسی خاص وقت یا کسی خاص جگہ کی تعین قسم میں میں تغلیظ کیلئے جائز ہے۔ (قرطبی)
Ayah 5:108

ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یَّاْتُوْا بِالشَّهَادَةِ عَلٰى وَجْهِهَاۤ اَوْ یَخَافُوْۤا اَنْ تُرَدَّ اَیْمَانٌۢ بَعْدَ اَیْمَانِهِمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اسْمَعُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 5:108 in the Quran reader

اس طریق سے بہت قریب ہے کہ یہ لوگ صحیح صحیح گواہی دیں یا اس بات سے خوف کریں کہ ہماری قسمیں اب کی قسموں کے بعد رد کردی جائیں گی اور خدا سے ڈرو اور اس کی حکموں کو گوش وہوش سے سنو اور خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا

آیت نمبر 108 ترجمہ : (مذکورہ دونوں آیتوں کا) مطلب یہ ہے کہ قریب المرگ شخص اپنی وصیت پر دو آدمیوں کو گواہ بنا لے اپنی ملت یا غیر ملت کے دو آدمیوں کو وصی بنالے اگر سفر وغیرہ کی وجہ سے اپنی ملت کے گواہ میسر نہ ہوں، اگر ورثاء وصیوں کے بارے میں شک و شبہ کریں اور دعویٰ کریں کہ ان دونوں نے (ترکہ میں سے) کوئی چیز لیکر یا ایسے شخص کو کچھ دیکر جس کے بارے میں وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ میت نے اس کے لئے وصیت کی تھی تو ان دونوں سے قسم لی جائے اگر علامات سے ان دونوں وصیوں کی دروغ گوئی کا پتہ چلے بایں طور کہ وہ دونوں موصیٰ لہ کو دینے کا دعویٰ کریں تو ورثاء کا قریب ترین شخص ان کے کذب اور ورثاء کے دعوے کی صداقت پر قسم کھائے، اور حکم وصیوں کے بارے میں باقی ہے، اور شاہدین کے بارے میں منسوخ ہے، اسی طرح غیر اہل ملت کی شہادت کے بارے میں آیت منسوخ ہے، اور عصر کی نماز کے وقت کا تعین کے اعتبار تغلیظ کیلئے ہے اور (میت کے) قریب ترین ورثاء کی تخصیص اس مخصوص واقعہ کی وجہ سے ہے جس کے بارے میں آیت نازل ہوئی اور وہ (واقعہ) وہ ہے جس کو بخاری نے روایت کیا ہے، کہ بنی سہم کا ایک شخص تمیم داری اور عدی بن بدّاء کے ساتھ (تجارت کے لئے) نکلا اور یہ دونوں نصرانی تھے سہمی کا انتقال ایسی سرزمین میں ہوگیا کہ وہاں کوئی مسلمان نہیں تھا، تو (مذکورہ) آیت نازل ہوئی، چناچہ جب یہ دونوں حضرات (ملک شام سے) مرھوم کا ترکہ لے کر آئے تو چاندی کا ایک پیالہ جس پر سونے کے نقش و نگار تھے لے لیا یہ دونوں (تمیم داری اور عدی) آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کئے گئے تو اس وقت مذکورہ آیت نازل ہوئی، ان دونوں سے قسم لی گئی، بعد ازاں وہ پیالہ مکہ میں پایا گیا تو اس شخص نے (جس کے پاس پیالہ پایا گیا) کہا میں نے اس کو تمیم داری اور عدی سے خریدا ہے، تو مذکورہہ آیت نازل ہوئی، سہمی کے اولیاء میں سے دو آدمی کھڑے ہوئے اور قسم کھائی (کہ یہ پیالہ ہمارے مورث کا ہے) اور ترمذی کی ایک روایت میں ہے کہ عمرو بن عاص اور ان میں کا ایک دوسرا شخص کھڑا ہوا اور دونوں نے قسم کھائی اور یہ دونوں میت کے قریبی رشتہ دار تھے، (ترمذی کی) ایک (دوسری) روایت میں ہے کہ جب سہمی بیمار ہوئے تو دونوں کو وصی بنایا اور ان سے کہا کہ اس کا متروکہ مال اس کے ارثاء کو پہنچا دیں جب اس کا انتقال ہوا (میت کے متروکہ مال میں سے) ایک پیالہ لے لیا اور باقی ماندہ مال میت کے ورثاء کو پہنچا دیا یہ مذکورہ حکم یعنی قسم کے حق کو ورثاء کو لوٹا دینا اس بات کا قریبی ذریعہ ہے کہ شاہد یا اوصیاء اس شہادت کو جس کے وہ متحمل ہوئے ہیں ٹھیک ٹھیک بغیر کسی تحریف و خیانت کے ادا کریں گے یا اس بات کے زیادہ قریب ہے کہ وہ اس بات کا خوف کریں گے کہ کہیں (ان کی) قسموں کی جو مدعی ورثاء کے خلاف ہیں تردید کردی جائے بایں طور کہ ورثاء (اوصیاء کی) دروغ گوئی اور خیانت پر قسم کھالیں جس کی وجہ سے وہ رسوا ہوجائیں اور تاوان دینا پڑے، تو وہ جھوٹ نہ بولیں خیانت و کذب کو ترک کرکے اللہ سے ڈرو اور جس کا حکم دیا جائے اس کو قبولیت کے کان سے سنو اللہ فاسق لوگوں کی یعنی اس کی طاعت سے خارج ہونے والوں کی راہ خیر کی طرف رہنمائی نہیں کرتا۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : المعنی یعنی مذکورہ دونوں آخری آیتوں کے معنی۔ قولہ : لِیُشھِد المحتضَر الخ، اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ شَھَادۃُ بَیْنَکم مصدر بمعنی امر ہے، یعنی قریب المرگ شخص کو چاہیے کہ اپنی وصیت پر دو آدمیوں کو گواہ بنا لے۔ قولہ : او یُوْصِی اِلَیْھِمَا، اس اضافہ سے اشارہ کردیا کہ آیت کی دو تفسیریں ہیں، خازن کی عبارت یہ ہے، واختلفوا فی ھَذَیْبِ الاِثنین فقیل ھما الشاھد ان اللّذان یشھد ان علی وصیۃ الوصی وقیل ھما وصیان لِانِّ الآٰہ نزلتْ فیھما ولانہ تعالیٰ قال فیقسمان باللہ والشھد لا یلزمہ الیمین، مطلب یہ کہ شھادۃ اثنین سے کیا مراد ہے ؟ بعض حضرات نے کہا ہے کہ اِثنٰن سے وہ دو شاہد مراد ہیں جن کو موصی نے بوقت مرگ وصیت پر گواہ بنایا ہو، بعض حضرات نے کہا ہے خود وصی مراد ہے، اس لئے کہ مذکورہ واقعہ اوصیاء ہی سے متعلق ہے، دوسری بات یہ کہ شاہدوں پر قسم لازم نہیں ہوئی، ثانی صورت میں شھادت بمعنی حضور ہوگا مثلاً تو کہے شھدت وَصِیْۃ فلانٍ ، بمعنی حضرتھا۔ تفسیر و تشریح ترمذی، ابو داؤد تفسیر ابن جریر وغیرہ میں امام المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس سے جو روایتیں مروی ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ تین شخص دو نصرانی اور ایک مسلمان تجارت کی غرض سے ملک شام کی طرف گئے مسلمان جس کا نام بزیل یا بُدَیْل سہمی تھا سخت بیمار ہو کر قریب المرگ ہوگیا تو اس نے اپنے مال سامان کی ایک فہرست بنا کر اپنے سامان میں رکھ دی اور وہ سامان اپنے دونوں نصرانی ساتھیوں کو دیکر وصیت کی کہ میرا یہ سامان میرے وارثوں کو دیدینا، اس سامان میں چاندی کا کٹورا (پیالہ) بھی تھا جس پر سونے کے نقش و نگار بنے ہوئے تھے، یہ کٹورا نصرانیوں نے اس سامان میں سے نکال لیا اور باقی سامان مسلمان سہمی کے ورثاء کو دیدیا نصرانی ساتھیوں کی نظر اس فہرست پر نہیں پڑی، سہمی کے ورثاء نے جب سامان کھولا تو وہ فہرست برآمد ہوئی، اس فہرست کے مطابق وہ کٹورا موجود نہیں تھا، سہمی کے ورثاء نے اس کٹورے کا دعوی آنحضرت ﷺ کے روبرو پیش کیا آپ ﷺ نے ان نصرانیوں کو قسم دی انہوں نے قسم کھالی کہ سہمی نے جو مال مرتے وقت ہمارے سپرد کیا تھا ہم نے وہ پورا مال اس کے ورثاء کو پہنچا دیا کچھ مدت بعد وہ کٹورا ایک سنار کے پاس ملا سہمی کے ورثاء نے پہچان لیا اور قسم کھائی کہ وہ کٹورا ان کے مورث کا ہے، چناچہ اس کٹورے کی قیمت سہمی کے ورثاء کو دلوا دی گئی۔ اس روایت کو اگرچہ ترمذی نے حسن غریب کہ ہے لیکن ابن جریر کی سند معتبر ہے، اس کے علاوہ یہ روایت علی بن مدینی کے حوالہ سے صحیح بخاری میں بھی ہے علی بن مدینی نے جو یہ کہا ہے کہ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن ابی القاسم معلوم الحال ہے، یہ ابن ابی القاسم ہے جس کو یحییٰ بن معین اور ابو حاتم نے ثقہ کہا ہے جس کی وجہ سے ابن ابی القاسم کے نامعلوم ہونے کا شبہ رفع گیا۔ آیت کا حاصل یہ ہے کہ جب کوئی مسلمان حالت سفر وغیرہ میں اپنے ورثاء سے دور ہو اور اس کے پاس کچھ مال ہو تو اس کو چاہیے کہ اس مال کو ورثاء تک پہنچانے کیلئے دو مسلمانوں کو وصی اور وصیت کا گواہ بنا دے، اگر یہ واقعہ ایسی سرزمین میں پیش آئے کہ جہاں مسلمان نہ ہوں جن کو وصی بنایا جاسکے تو پھر اسلام کی شرط باقی نہ رہے گی، اگر اوصیاء کے بیان پر ورثاء کو کوئی اعتراض نہ ہو اوصیاء کے بیان کے مطابق فیصلہ کردیا جائے گا اسلئے کہ یہ دونوں حضرات وصی بھی ہیں اور وصیت کے گواہ بھی، اور اگر ورثاء کو اوصیاء کے بارے میں کچھ بدظنی باقی ہے تو اگر ورثاء کے پاس اوصیاء کی غلط بیانی کا کوئی ثبوت ہو تو پیش کرنے کو کہا جائیگا، ورنہ اوصیاء کی غلط بیانی میت کے ورثاء سے حلف لیا جائیگا، اور اسی کے مطابق فیصلہ کردیا جائیگا، جن علماء نے مدعی اور گواہوں سے قسم لینے کی ممانعت کی ہے انہوں نے اوصیاء سے قسم لینے کے بارے میں مختلف قسم کے شبہات کا اظہار کیا ہے لیکن حقیقت میں فریقین کا یہ حلف اسی طرح کا ہے جس طرح لعان کے مسئلہ میں فریقین کو حلف دیا جاتا ہے۔ من بعد الصلوۃ کی تفسیر بعض علماء نے صلوۃ العصر سے کی ہے یہ تغلیظ اور شدت ظاہر کرنے کیلئے ہے اسلئے کہ عصر کے بعد کا وقت قبولیت دعاء کے بارے میں خا ص اہمیت رکھتا ہے صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے عصر کے بعد جھوٹی قسم کو خافناک اور رحمت خداوندی سے دور ہونے کا سبب قرار دیا ہے۔ ورثاء کی قسم کی مصلحت : آگے فرمایا کہ ورثاء کو قسم کا حکم اسلئے ہے کہ جب وصیت کے گواہوں کو یہ خوف رہے گا کہ ورثاء کی قسم کے مقابلہ میں ان کی قسم جھوٹی ٹھہرائی جاسکتی ہے جس کی وجہ سے انکی رسوائی ہوگی تو وہ گواہی میں دروغ گوئی کی جرأت نہ کریں گے ابو موسیٰ اشعری کا واقعہ : ابو داؤد میں معتبر سند سے ابو موسیٰ اشعری کا واقعہ مذکور ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ کوفہ کا رہنے والا ایک مسلمان شخص حالت سفر میں جب مرنے لگا تو اس نے اہل کتاب میں سے دو شخصوں کو اپنی وصیت کا گواہ قرار دیا، ابو موسیٰ اشعری کوفی کے حاکم تھے اسلئے یہ مقدمہ ان کی عدالت میں پیش ہوا، انہوں نے اس آیت کے مطابق گواہوں سے قسم لے کر مقدمہ کا فیصلہ کردیا، اس سے معلوم ہوا کہ بعض مفسرین نے اس آیت کو منسوخ العمل قرار نہیں دیا اسلئے کہ نسخ تو آنحضرت ﷺ کی مدت حیات ہی میں ممکن تھا۔ (احسن التفاسیر ملخصاً )
Ayah 5:109

یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اُجِبْتُمْ١ؕ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ Open ayah 5:109 in the Quran reader

(وہ دن یاد رکھنے کے لائق ہے) جس دن خدا پیغمبروں کو جمع کرے گا اور ان سے پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب ملا تھا ؟ وہ عرض کریں گے کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں۔ تو ہی غیب کی باتوں سے واقف ہے۔

آیت نمبر 109 تا 115 ترجمہ : یاد کرو اس دن کو جس سن اللہ تمام رسولوں کو جمع کرے گا وہ قیامت کا دن ہوگا، ان کی امتوں کو سرزنش کرنے کے لئے ان سے پوچھے گا جب تم نے ان کو توحید کی دعوت دی تھی تو تم کو ان کی طرف سے کیا جواب ملا تھا ؟ انبیاء جواب دیں گے ہمیں اس کی کچھ خبر نہیں آپ ہی پوشیدہ باتوں کو بخوبی جانتے ہیں (یعنی) ان چیزوں کو جو بندوں سے پوشیدہ ہیں، قیامت کے دن کی ہول اور خوف کی شدت کی وجہ سے (امتوں کے جواب) کا ذ ہول ہوجائیگا، اور جب ان کو سکون ہوگا تو اپنی اپنی امتوں کے خلاف گواہی دیں گے، اس وقت کو یاد کرو جب اللہ تعالیٰ عیسیٰ ابن مریم سے فرمائیگا، اے عیسیٰ ابن مریم شکریہ کے ساتھ ان امتوں کو یاد کرو جو میں نے تمہارے اور تمہاری والدہ کے اوپر کی تھیں، جب میں نے روح القدس جبرائیل کے ذریعہ تمہاری مدد کی تھی تم گہوارہ یعنی حالت طفولیت میں لوگوں سے بات کرتے تھے (تکلّم الّناس) ایدتکَ کی کاف ضمیر سے حال ہے، اور بڑی عمر میں بھی، اس سے حضرت عیسیٰ کا قیامت سے پہلے نزول مستفاد ہوتا ہے اسلئے کہ ان کو کہولت کی عمر سے پہلے ہی اٹھا لیا گیا تھا، جیسا کہ آل عمران میں گزر چکا ہے، اور جبکہ میں نے تم کو کتاب اور حکمت کی باتیں اور تورات اور انجیل سکھائی تھیں اور جب کہ تم مٹی سے میری اجازت سے پرندے کی صورت کا پتلا بناتے تھے (کھیئۃِ ) میں کاف اسم ہے اور مفعول ہے بہ معنی مثل کے پھر تم اس میں پھونک مار دیتے تھے وہ میرے ارادہ سے پرند ہوجاتا تھا اور تم مادرزاد اندھے کو اور کوڑھی کو میری اجازت سے اچھا کردیتے تھے اور جبکہ مردوں کو ان کی قبروں سے میری اجازت سے زندہ کرکے نکالتے تھے، اور میں نے بنی اسرائیل کو تم سے باز رکھا جبکہ انہوں نے تیرے قتل کا ارادہ کرلیا تھا جبکہ تم ان کے پاس معجزات لے کر آئے تھے، تو ان میں جو کافر تھے انہوں نے کہا جو تم لے کر آئے ہو وہ تو کھلا جادو ہے، اور ایک قراءت میں ساحرٌ ہے یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) اور جب میں نے حواریوں کو اشارہ کیا۔۔۔۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبانی ان کو حکم دیا کہ مجھ پر اور میرے رسول عیسیٰ پر ایمان لاؤ تو انہوں نے کہا ہم دونوں پر ایمان لائے اور آپ شاہد رہئے کہ ہم مسلم ہیں وہ وقت یاد کرنے کے قابل ہے کہ جب حواریوں نے کہا اے عیسیٰ ابن مریم کیا آپ کا رب ایسا کرسکتا ہے کہ ہم پر آسمان سے ایک نوجوان نازل کرے اور ایک قراءت میں تستطیعُ تاء کے ساتھ ہے اور مابعد یعنی (ربُّکَ ) کے نصب کے ساتھ ہے، یعنی کیا آپ اس سے (خون) کا سوال کرسکتے ہیں، عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے کہا تم فرمائشی معجزے نصب کرنے کے بارے میں اللہ سے ڈرو اگر تم (حقیقت میں) مومن ہو، وہ بولے ہمارا مقصد خوان کا سوال کرنے سے یہ ہے کہ ہم اس میں سے کھائیں اور یقین کے اضافہ سے ہمارا دل مطمئن ہوجائے اور ہمارا یہ یقین اور بڑھ جائے کہ آپ نے دعوائے نبوت میں ہم سے سچ بولا اَن مخففہ (عن الثقیلہ) ہے ای اَنَّکَ ، اور ہم نبوت پر گواہی دینے والوں میں ہوجائیں، عیسیٰ ابن مریم نے دعاء کی اے اللہ اے ہمارے پروردگار تو ہمارے لئے آسمان سے خوان نازل فرما تاکہ خوان کے نزول کا دن ہمارے لئے خوشی کا دن ہو تاکہ ہم اس دن کی تعظیم و توقیر کریں اور ہم سے پہلوں کے لئے لِاَوَّلِنَا، اعادہ جار کے ساتھ لَنَا سے بدل ہے اور اسے بعد والوں کیلئے (یعنی) جو ہمارے بعد آئیں، اور تیرے لئے تیری قدرت پر اور میری نبوت پر ایک نشانی ہوجائے، اور اس خوان کو ہمارے لئے رزق بنا اور تو عطا کرنے والوں میں سب سے بہتر عطا کرنے والا ہے اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعاء قبول کرتے ہوئے فرمایا میں اس خوان کو تمہارے اوپر نازل کرنے والا ہوں تخفیف اور تشدید کے ساتھ سو اس کے بعد یعنی اس کے نزول کے بعد جو تم میں سے ناشکری کرے گا میں اس کو ایسی سخت سزا دوں گا کہ وہ سزا دنیا جہاں والوں میں سے کسی کو نہ دوں گا چناچہ آسمان سے فرشتے خوان لیکر نازل ہوئے جس پر سات روٹیاں اور ساتھ مچھلیاں تھیں سب نے اس میں سے کھایا، حتیٰ کہ سب سیر ہوگئے، ابن عباس ؓ نے فرمایا، آسمان سے ایک خوان نازل کیا گیا کہ اس پر روٹیاں تھیں اور گوشت تھا، ان کو حکم دیا گیا کہ خیانت نہ کریں اور نہ کل کے لئے ذخیرہ کریں مگر انہوں نے خیانت بھی کی اور ذخیرہ بھی کیا چنانچہ خوان اٹھا لیا گیا اور ان کو بندروں اور خنزیروں کی شکل میں مسخ کردیا۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : تَوْبِیْخاً لِقَوْمِھِمَ ، یہ عبارت ایک سوال کا جواب ہے، سوال یہ ہے کہ اللہ تو علام الغیوب ہے اسے کسی شئ کے بارے میں سوال کرنے کی ضرورت نہیں ہے جواب یہ ہے کہ سوال سرزنش (توبیخ) کیلئے ہوگا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے قول ” اِن الْمَوْؤُدَۃُ سُئِلَتْ بِاَیِّ ذنبٍ قُتِلَتْ “ ، میں سوال توبیخی ہے۔ قولہ : ای اَلّذی، یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال : ذَا، اسم اشارہ محسوس کیلئے ہے یہاں اس کا مشارٌ الیہ جواب ہے جو کہ غیر محسوس ہے ؟ جواب : یہ ہے کہ ذَا، بمعنی الذی اسم موصول ہے فلا اعتراض۔ قولہ : ذَھَبَ عَنْھُمْ عِلْمُہٗ ، الخ یہ ایک سوال کا جواب ہے۔ سوال : انبیاء کو دنیا میں ان کی دعوت توحید کے جواب میں ان کی امتوں نے کیا جواب دیا تھا یہ تو ان کو معلوم ہونا چاہیے، پھر انبیاء کا محشر میں خدا کے روبرو یہ کہنا ہم نہیں جانتے کہ ہماری امتوں نے ہمیں کیا جواب دیا تھا ؟ اس سے کذب لازم آتا ہے جو کہ انبیاء کی شایان شان نہیں اور وہ بھی باری تعالیٰ کے حضور میں۔ جواب : علم کی نفی کذب کی وجہ سے نہیں بلکہ قیامت کی ہولناکی اور خوف کی وجہ سے ہوگی اسلئے کہ روز محشر ہر نفس پر جلال خداوندی کی اس قدر ہیبت چھائی ہوگی کہ انبیاء کے ذہن سے بھی ذہول ہوجائیگا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” تذھل کلُّ مرضع۔۔ عَمّا ارضعت “ مگر یہ جواب ضعیف ہے اسلئے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کے بارے میں فرمایا ہے ” لاَیَحْزنھم الفز۔۔۔ الاکبر “ امام فخر الدین رازی نے مذکورہ اعتراض کا یہ جواب دیا ہے، انبیاء کا جواب سے سکوت و انکار ادب و تعظیم کی وجہ سے ہوگا، جیسا کہ صحابہ کرام آنحضرت ﷺ کے سوال کے جواب میں اکثر اللہ اعلم فرمایا کرتے تھے حالانکہ ان کو بعض سوالوں کے جواب معلوم ہوتے تھے۔ قولہ : طِفْلاً ، فی المھد کی تفسیر طفلاً سے کرکے اشارہ کردیا کہ مہد سے مراد حالت طفولیت ہے نہ کہ نفس مہد اسلئے کہ مہد مقابلہ کھْلاً ، سے لائے ہیں مقصد نقصان عقل اور کمال عقل کا تقابل ہے۔ قولہ : اَکَمَہَ ، مادرزاد اندھا، کَمْہٌ سے صیغہ صفت مشبہ۔ قولہ : ابرص برص کوڑھی ایک قسم کا مشہور مرض ہے۔ قولہ : اَمَرتُھم علی لسانہٖ یہ اس سوال کا جواب ہے کہ حواری تو نبی نہیں تھے پھر ان کی طرف وحی کرنے کا کیا مطلب ہے ؟ جواب کا حاصل یہ ہے کہ براہ راست وحی مراد نہیں ہے بلکہ مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے واسطہ سے ان کو حکم دینا ہے، فلا اشکال۔ قولہ : تَسْتَطِیْعُ ربَّک، ای سوال رَبِّکَ حذف مضاف کے ساتھ اس لئے کہ ذات رب سے سوال کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ قولہ : مِن اَجْل، اس میں اشارہ ہے کہ اَن ناکل، مفعول لِاجلہٖ ہے۔ تفسیر و تشریح یوم یجمع اللہ الرسل، الخ انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ ان کی قوموں نے اچھا برا جو بھی معاملہ کیا، اس کا علم تو یقیناً انہیں ہوگا لیکن وہ اپنے علم کی نفی یا تو محشر کی پولنا کی اور اللہ جل جلالہ کی ہیبت و عظمت کی وجہ سے کریں گے، یا اس کا تعلق ان کی وفات کے بعد کے حالات سے ہوگا، علاوہ ازیں باطنی امور کا کلیتاً علم تو صرف اللہ ہی کو ہے اس لئے انبیاء کہیں گے کہ علام الغیوب تو تو ہی ہے نہ کہ ہم، صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے انس بن مالک اور سہل بن سعد وغیرہ سے روایت مذکور ہے کہ بعض لوگوں کو روز محشر حوض کوثر سے ہٹا دیا جائیگا، آپ ﷺ فرشتوں سے کہیں گے یہ لوگ تو فرمانبرداروں میں سے ہیں تو فرشتے جواب دیں گے کہ آپ کی وفات کے بعد یہ لوگ فرمانبرداری پر قائم نہیں رہے، یہ حدیثیں اور اس قسم کی اور حدیثیں آیت کی تفسیر ہیں جن سے پوری امت کی حالت کو اللہ کے علم کے حوالہ کرنے کا حال اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے، اس سے آپ ﷺ کا عالم الغیب نہ ہونا بھی بخوبی معلوم ہوگیا۔
Ayah 5:110

اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِیْ عَلَیْكَ وَ عَلٰى وَ الِدَتِكَ١ۘ اِذْ اَیَّدْتُّكَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١۫ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا١ۚ وَ اِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ١ۚ وَ اِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّیْنِ كَهَیْئَةِ الطَّیْرِ بِاِذْنِیْ فَتَنْفُخُ فِیْهَا فَتَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِیْ وَ تُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ بِاِذْنِیْ١ۚ وَ اِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتٰى بِاِذْنِیْ١ۚ وَ اِذْ كَفَفْتُ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَنْكَ اِذْ جِئْتَهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 5:110 in the Quran reader

جب خدا عیسیٰ سے فرمائے گا اے عیسیٰ بن مریم ! میرے ان احسانوں کو یاد کروں جو میں نے تم پر اور تمہاری والدہ پر کئے۔ جب میں روح القدس (جبرائیل) سے تمہاری مدد کی۔ تم جھولے میں اور جوان ہو کر (ایک ہی طریق پر) لوگوں سے گفتگو کرتے تھے اور جب میں نے تم کو کتاب اور دانائی اور تورات اور انجیل سکھائی۔ اور جب تم میرے حکم سے مٹی کا جانور بنا کر اس میں پھونک مار دیتے تھے تو وہ میرے حکم سے اڑنے لگتا تھا۔ اور مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو میرے حکم سے چنگا کردیتے تھے اور مردے کو (زندہ کرکے قبر سے) نکال کھڑا کرتے تھے۔ اور جب میں نے بنی اسرائیل (کے ہاتھوں) کو تم سے روک دیا۔ جب انکے پاس کھلے ہوئے نشان لیکر آئے تو جو ان میں سے کافر تھے کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادو ہے۔

یُکلّمُ الناسَ فی المھد وکَھْلاً ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے گود میں اس وقت کلام کیا تھا جب حضرت مریم اس نومولود کو لیکر اپنی قوم میں آئیں اور انہوں نے اس بچہ کو دیکھ کر تعجب کا اظہار اور اس کی بابت استفسار کیا تو اللہ کے حکم سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے شیرخوارگی کے عالم میں کلام کیا۔ فائدہ : عالم طفولیت میں کلام کرنے کا معجزہ ہونا تو ظاہر ہے اسلئے کہ کوئی بچہ ماں کی گود میں بڑوں کی طرح بولنے لگے تو یہ اس کا امتیاز اور اعجاز ہوگا، اب رہا ادھیڑ عمر میں کلام کرنا تو یہ نہ کوئی قابل تعجب بات ہے اور نہ قابل ذکر اسلئے کہ بڑے ہو کر ہر آدمی کلام کرتا ہی ہے، لیکن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے خصوصی حال پر غور کریں تو اس کا بھی معجزہ ہونا واضح ہوجائیگا، کیونکہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو ادھیڑ عمر کو پہنچنے سے پہلے ہی 33 سال کی عمر میں آسمانوں کی طرف اٹھا لیا گیا، اب دنیا کے انسانوں سے بات کرنا ادھیڑ عمر کو پہنچنے کے بعد ہی ہوسکتا ہے جب اس دنیا میں تشریف لائیں گے جیسا کہ مسلمانوں کا اجماعی عقیدہ ہے جو قرآن و حدیث کی تصریحات سے ثابت ہے، اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا حالت طفولیت میں کلام کرنا معجزہ تھا اسی طرح عالم کہولت میں پہنچنے کے بعد کلام کرنا بھی بوجہ اس دنیا میں دوبارہ آنے کے معجزہ ہی ہے۔
Ayah 5:111

وَ اِذْ اَوْحَیْتُ اِلَى الْحَوَارِیّٖنَ اَنْ اٰمِنُوْا بِیْ وَ بِرَسُوْلِیْ١ۚ قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ اشْهَدْ بِاَنَّنَا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 5:111 in the Quran reader

اور جب میں نے حواریوں کی طرف حکم بھیجا کہ مجھ پر اور میرے پیغمبر پر ایمان لاؤ وہ کہنے لگے کہ (پروردگار) ہم ایمان لائے تو شاہد رہیو کہ ہم فرمانبردار ہیں

وَاِذْ اَوْ حَیْتُ الی الحواریین، حَوَاریین، حَوَارِیٌّ کی جمع ہے، یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اصحاب کا خطاب ہے، حضرت عبد اللہ بن عباس سے منقول ہے کہ چونکہ ان کے کپڑے سفید تھے اس واسطے یہ لوگ حواری کہلائے، ابن ابی حاتم نے ضحاک سے نقل کیا ہے کہ حواری نبطی زبان میں دھوبی کو کہتے ہیں، ان کی تعداد بارہ تھی یہاں وحی سے مراد وحی تشریعی نہیں ہے بلکہ یہاں اشارہ اور الہام کے معنی میں ہے۔
Ayahs 5:112–113

اِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ هَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّكَ اَنْ یُّنَزِّلَ عَلَیْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ١ؕ قَالَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:112 in the Quran reader

(وہ قصہ بھی یاد کرو) جب حواریوں نے کہا کہ اے عیسیٰ بن مریم ! کیا تمہارا پروردگار ایسا کرسکتا ہے کہ ہم پر آسمان سے (طعام کا) خوان نازل کرے ؟ انہوں نے کہا کہ اگر ایمان رکھتے ہو تو خدا سے ڈرو۔

قَالُوْا نُرِیْدُ اَنْ نَّاْكُلَ مِنْهَا وَ تَطْمَئِنَّ قُلُوْبُنَا وَ نَعْلَمَ اَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا وَ نَكُوْنَ عَلَیْهَا مِنَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 5:113 in the Quran reader

وہ بولے کہ ہماری خواہش ہے کہ تم اس میں سے کھائیں اور ہمارے دل تسلّی پائیں۔ اور ہم جان لیں کہ تم نے ہم سے (سچ کہا ہے اور ہم اس (خوان کے نزول) پر گواہ رہیں۔

اذ قال الحواریون یٰعیسیٰ ابن مریم الخ، مشہور صحابی حضرت سلمان فارسی فرماتے ہیں کہ جب حواریوں کی جانب سے اس آسمانی کھانے کی درخواست پیش ہوئی تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بہت ناگوار گزری، آپ نے ارشاد فرمایا کہ تم لوگوں کو جس طرح روزی ملتی رہی ہے اسی پر قناعت کرو ایسے دسترخوان کی درخواست نہ کرو، اگر مطلوبہ دسترخوان نازل کردیا گیا تو پھر اللہ تعالیٰ کی حجت پوری ہوجائیگی، قوم ثمود کا بھی یہی معاملہ ہوا تھا، اس کے بعد حواریوں نے جب نیک ارادہ کا اظہار کیا تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے دعاء فرمائی تو یہ دسترخوان اس شان کے ساتھ نازل ہوا کہ اس کا رنگ سرخ تھا اس کے اوپر نیچے بادل تھے وہ نظروں کے سامنے بڑے تیزی سے نیچے اترا جب یہ دسترخوان نیچے اترا تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اختیار رونے لگے اور دعاء کی کہ اے اللہ ہم کو اس نعمت کا شکر ادا کرنے والا بنا دے اے اللہ تو اسے ہمارے لئے رحمت بنا دے، مگر یہود نے اس نعمت عظمی اور خوان یغمیٰ کی ناشکری کی جس کے نتیجے میں ان کو سخت عذاب سے دوچار کردیا جس کے صلہ میں ان کو بندر اور خنزیر کی شکل میں تبدیل کردیا۔ (اللّٰھم احفظنا من سخطک والنار) ۔