Ayah 5:44آیت 44 تا 50
ترجمہ : ہم نے تورات نازل کی جس میں گمراہی سے ہدایت اور روشنی تھی (یعنی) احکام کا بیان تھا، بنی اسرائیل کے تمام انبیاء جو کہ
مسلمان اللہ کے تابع فرمان تھے، یہودیوں کیلئے اسی کے ذریعہ فیصلہ کرتے تھے اور ان کے علماء اور فقہاء بھی (اسی کے ذریعہ فیصلے کرتے تھے) اس سبب سے کہ ان کو اللہ نے اس کا محافظ بنایا تھا یعنی ان کو اس پر امین بنایا تھا بایں طور کہ ان سے کتاب اللہ کی حفاظت کا مطالبہ کیا تھا، اس میں ردوبدل کرنے سے، اور وہ اس کے برحق ہونے پر شاہد تھے، پس اے یہود تم محمد ﷺ کی ان صفات کے اور رجم وغیرہ کے اظہار کے بارے میں جو تمہارے پاس ہیں لوگوں سے مت ڈرو (بلکہ) ان کے چھپانے کے بارے میں مجھ سے ڈرو اور میری آیتوں کو دنیوی قلیل معاوضہ کے بدلے جس کو تم اس کو چھپانے کے عوض میں لیتے ہو مت بیچو، اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں اور ہم نے ان پر تورات میں مقرر کردیا ہے کہ جان کو جان کے بدلے قتل کیا جائیگا جب (قاتل) ان کو قتل کرے، اور آنکھ، آنکھ کے بدلے پھوڑی جائیگی اور ناک ناک کے بدلے کاٹی جائے گی، اور کان کان کے بدلے کاٹا جائیگا، اور دانت دانت کے بدلے اکھاڑا جائیگا اور ایک قراءت میں چاروں جگہ رفع کے ساتھ ہے، اور زخموں میں برابری ہے (جروح) میں بھی دونوں وجہ (رفع و نصب) ہیں، یعنی ان میں برابری کی جائیگی جبکہ ممکن ہو، جیسا کہ ہاتھ، پیر اور ذکر وغیرہ میں اور جس میں برابری ممکن نہ ہو اس میں عادل کے فیصلہ کا اعتبار ہوگا یہ (مذکورہ) حکم اگرچہ ان پر فرض کیا گیا ہے مگر وہ ہماری شریعت میں بھی ثابت ہے پھر جو قصاص کا صدقہ کر دے اس طور پر وہ اپنی ذات پر قدرت دیدے تو اس کا یہ عمل اس کے فعل (قتل) کا کفارہ ہے اور جو لوگ قصاص وغیرہ کے معاملہ میں اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی ظالم ہیں اور ہم نے ان نبیوں کے بعد عیسیٰ ابن مریم کو ان سے پہلی کتاب تورات کی تصدیق کرنے والا بنا کر بھیجا، اور ان کو انجیل عطا کی جس میں گمراہی سے رہنمائی تھی اور احکام کا بیان تھا حال یہ ہے کہ وہ اپنے سے سابق کتاب تورات یعنی اس کے احکام کی تصدیق کرنے والی ہے اور خدا ترس لوگوں کے لئے سراسر ہدایت اور نصیحت تھی، اور ہم نے حکم دیا کہ اہل انجیل ان احکام کے مطابق فیصلہ کریں جو ہم نے اس میں نازل کئے ہیں اور ایک قراءت پر عطف کرتے ہوئے، اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی فاسق ہیں، اور اے محمد ہم نے آپ کے پاس کتاب قرآن حق کے ساتھ نازل کی ہے (بالحق) انزلنا کے متعلق ہے، اور اس کتاب کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے ہے اور اس پر شاہد ہے اور کتاب بمعنی کتب ہے، لہٰذا تم اہل کتاب کے درمیان جب وہ تمہارے پاس فیصلہ لائیں تو آپ نازل کردہ خدائی قانون کے ذریعہ فیصلہ کریں، اور جو حق آپ کے پاس آیا ہے اس سے روگردانی کرکے ان کو خوہشات کی پیروی نہ کریں، اور تم میں سے ہر ایک کے لئے اے لوگو ہم نے ایک شریعت اور دین کا واضح طریقہ متعین کیا ہے کہ جس پر تم چلو، اور اگر خدا چاہتا تو تم کو ایک امت بھی بنا سکتا تھا ایک شریعت کے ماننے والی، لیکن اس نے تم کو مختلف فرقے بنایا تاکہ وہ تم کو ان شرائع مختلفہ میں آزمائے جو تم کو دی ہیں تاکہ وہ تم میں سے فرمانبردار اور نافرمان کو دیکھے، لہٰذا بھلائیوں میں سبقت کرنے کی کوشش کرو یعنی اس کی طرف جلدی کرو تم سب کو بعث کے بعد خدا ہی کی طرف پلٹ کر جانا ہے پھر وہ تم کو اس کی اصل حقیقت بتادے گا جس میں تم اختلاف کیا کرتے تھے یعنی دینی امور میں، اور تم میں سے ہر ایک کو اس کے عمل کی جزاء دے گا اور آپ ان کے درمیان نازل کردہ خدائی قانون کے ذریعہ فیصلہ کرتے رہئے اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کیجئے اور محتاط رہئے کہ کہیں یہ لوگ آپ کو ان میں سے جو آپ پر اللہ نے نازل کی ہیں بعض باتوں سے منحرف نہ کردیں، پس اگر یہ لوگ نازل کردہ حکم سے انحراف کریں اور اس کے علاوہ کا قصد کریں تو سمجھ لو کہ اللہ نے ان کے بعض گناہوں کی پاداش میں جن کے وہ مرتکب ہوئے ہیں ان کو دنیا ہی میں مصیبت میں مبتلا کرنے کا ارادہ کر ہی لیا ہے، ان میں سے انحراف بھی ہے اور ان سب کی سزا تو آخرت میں دے گا، اور یہ حقیقت ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں، اگر یہ (خدائی قانون) سے انحراف کرتے ہیں تو کیا یہ پھر جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں (یبغون) یاء اور تاء کے ساتھ ہے، اور استفہام انکاری ہے حالانکہ جو لوگ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں ان کے نزدیک اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا کوئی نہیں ہے، اور اہل ایمان کو خاص طور پر اس لئے ذکر کیا گیا کہ وہی اس (فیصلہ میں) غور و فکر کرتے ہیں۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : الَذِیْنَ ھَادُوْا، اس کا تعلق یحکم سے ہے یعنی یہودیوں سے متعلق فیصلے کرتے تھے۔ قولہ : اَلذین اَسْلَمُوا، النبین کی صفت ہے۔
قولہ : اَلربّانیُونَ ، یہ خلاف قیاس رب کی طرف نسبت ہے، راء کے کسرہ کے ساتھ بھی بولا جاتا ہے۔
قولہ : اَلْاَحبار، یہ کسرہ اور فتحہ کے ساتھ حبر کی جمع ہے بمعنی فقہاء فراء نے کہا ہے کسرہ فصیح ہے یہ تحبیر سے ماخوذ ہے بمعنی تحسین۔
قولہ : اُسْتُحْفِظوا، اِسْتِحْفَاظ سے ماضی مجہول جمع مذکر غائب وہ نگہان مقرر کئے گئے، یعنی احبار کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ تورات کی تحریف سے حفاظت کریں۔
قولہ : وفِی قِرَاء ۃٍ بالرَّفْعِ فی الاَرْبَعَۃِ ، چاروں جگہ مبتداء و خبر ہونے کی وجہ سے ایک قراءت میں مرفوع بھی پڑھا گیا ہے۔
قولہ : یُقْتَصُّ ، قصاص کی تفسیر یُقتَصُّ سے کرنے کا مقصد حمل کو درست کرنا ہے۔
قولہ ؛ نحو ذلک، کالسفتین والانثیین والقدمین، اور جس زخم میں برابری اور مساوات ممکن نہ ہو مثلاً زخم لگا دینا یا بدن کے کسی حصہ سے گوشت اتار لینا یا ہڈی توڑ دینا، اس میں چونکہ مساوات ممکن نہیں ہے اسلئے حاکم عادل کا فیصلہ معیار ہوگا۔
قولہ : ای بالقصاص بان مَکَّنَ مَنْ نفسہٖ ، یہ تشریح امام شافعی (رح) تعالیٰ کے مذہب کے مطابق ہے، ورنہ امام ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ کے نزدیک تَصَدَّقَ کے معنی معاف کے ہیں یعنی اگر مقتول کے ورثاء نے قاتل کا قصاص معاف کردیا تو یہ انکے حق میں صدقہ ہے۔
قولہ : قلنا۔ سوال : یہاں قلنا محذوف ماننے سے کیا فائدہ ہے ؟ جواب : تاکہ قَفَّیْنَا پر اس کا عطف صحیح ہوجائے۔
قولہ : بنصب لیحکم، لام کیْ کے بعد اَنِ مقدرہ کی وجہ سے یَحْکُمْ منصوب ہے۔
قولہ : عطفاً عَلیٰ مَعْمُوْلِ آتینا، اور وہ معمول مقدر ھدًی وموعظۃً ، ہے، آتَیْنُاہٗ کا مفعول لہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہے، تقدیر عبارت یہ ہوگی، وآتَیْنَاہ الاِنْجیلَ للھدی والموعظۃ وحکمھم بہٖ ۔
تفسیر و تشریح
اِنَّا اَنْزَلْنَا التوراۃ فیھا حکم اللہ، سابقہ آیت کے شان نزول کے سلسلہ میں سازش کا ایک قصہ ابن جریر ابن ابی حاتم نے ابن عباس کے حوالہ سے بیان کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ عبد اللہ بن صوریا جو کہ اپنے زمانہ میں تورات کا بڑا ماہر عالم سمجھا جاتا تھا اور
شماس بن قیس اور دیگر چند یہودی علماء کا ایک وفد آنحضرت ﷺ کی خدمت میں فریب دہی کے ارادہ سے حاضر ہوا، اور ایک فرضی مقدمہ میں آپ سے غلط فیصلہ کرانا چاہا مگر آپ نے منع فرما دیا اور فرمایا کہ تورات میں اس مقدمہ کا حکم لکھا ہوا ہے اس کے مطابق فیصلہ کرلو، اسی دوران آپ کو آگاہ کرنے کیلئے یہ آیت نازل فرمائی، جس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر یہ لوگ آپ سے اپنے مقدمات کا فیصلہ کرانا ہی چاہیں تو آپ عدل و انصاف سے فیصلہ کریں اللہ کو یہی پسند ہے، اگر ان لوگوں کو انصاف منظور ہوتا تو یہ لوگ تورات کے ان احکام سے انحراف نہ کرتے جن پر تمام انبیاء بنی اسرائیل اور علماء و فقہاء کا عمل رہا ہے، اس آیت میں آپ ﷺ کے زمانہ کے یہود سے ان کے اسلاف کا طرز عمل یاد لا کر کہا جا رہا ہے کہ تم لوگوں کو اپنے بااثر سرگردہ لوگوں کے ڈر سے یا مالداروں سے رشوت لینے کے لالچ سے تورات کے احکام بدلنے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرنا چاہیے، ورنہ تمہارا شمار احکام الہیٰ کے منکریں میں ہوگا، اگرچہ مذکورہ آیات یہود کے بارے میں نازل ہوئی ہیں لیکن اس امت میں سے بھی اگر کوئی دانستہ قرآنی آیات کا منکر ہو اور اس میں تحریف کرے تو وہ بھی اسی حکم میں داخل ہوگا، اور اگر کوئی شخص قرآنی آیت کے حق ہونے کے اقرار کے باوجود اس پر عمل نہ کرے تو گناہ گار ہوگا۔
Ayahs 5:45–50وَکتبنا عَلَیھم فیہا اَن النفس بالفس (الآیۃ) سابقہ آیت میں یہود کی اس کارستانی کا بیان تھا کہ انہوں نے تورات میں آیت رجم کا انکار کیا تھا، اس آیت میں ان کی دوسری کارستانی کا ذکر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ تورات کے حکم کے مطابق ان پر قصاص فرض تھا، لیکن یہود کے بعض قبیلوں نے اس پر عمل چھوڑ دیا تھا، اور اپنی طرف سے حکم الہیٰ کے بر خلاف ایک اور دستور گھڑ لیا تھا۔
واقعہ کی تفصیل : مدینہ کے گردو نواح میں یہودیوں کے دو قبیلے آباد تھے، بنو قریظہ اور بنو نضیر، بنو قریظہ کے ہاتھوں اگر بنو نضیر کے کسی شخص کا قتل ہوجاتا تو اس کا قصاص لیا جاتا تھا، اور دیت بھی اور اگر بنو قریظہ کا کوئی بنو نضیر کے ہاتھوں مارا جاتا تو قصاص نہیں لیا جاتا تھا، صرف دیت دی جاتی تھی۔
بنو قریظہ اور بنو نضیر کا مقدمہ آپ کی خدمت میں : بنو قریظہ و بنو نضیر کا قتل کا ایک مقدمہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پیش ہوا، بنو نضیر نے بنو قریظہ کو اپنی قوت و طاقت کے بل بوتہ پر مذکورہ خود ساختہ پر مجبور کر رکھا تھا، اس آیت میں حق تعالیٰ نے ان لوگوں کی اس زور زبردستی اور بددیانتی کا پردہ فاش فرما دیا کہ خود تورات میں بھی قصاص کے معاملہ میں مساوات کے احکام موجود ہیں یہ لوگ دانستہ ان سے انحراف کرتے ہیں، اور محض حیلہ جوئی کیلئے اپنا مقدمہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں لائے ہیں۔
Ayah 5:51آیت نمبر 51 تا 56
ترجمہ : اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو، یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ، کہ ان سے دلی دوستی اور محبت کرنے لگو، یہ تو آپس ہی میں ان کے کفر میں متحد ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کے دوست ہیں اور اگر تم میں سے کوئی ان کو اپنا دوست بناتا ہے تو وہ بھی منجملہ ان ہی میں شمار ہوگا یقیناً اللہ تعالیٰ کفار سے دوستی کرکے ظلم کرنے والوں کی رہنمائی نہیں کرتا، تم دیکھتے ہو کہ جن کے دلوں میں (نفاق کی) بیماری ہے یعنی ضعف اعتقاد ہے جیسا کہ عبد اللہ بن ابی منافق ان کی دوستی میں سبقت کرتے ہیں، اور عذر بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمیں اندیشہ ہے کہ ہم کسی چکر میں یہ پھنس جائیں، یعنی گردش زمانہ ہمارے اوپر قحط سالی یا مغلوبیت نہ ڈال دے، اور (ادھر) محمد ﷺ کا مشن پایہ تکمیل کو نہ پہنچے تو یہ لوگ ہمیں غلہ بھی نہ دیں، مگر بعید نہیں کہ اللہ اپنے نبی کی نصرت کے ذریعہ اس کے دین کو غالب کرکے اس کو فتح عطا فرما دے، یا کوئی دوسری صورت اپنی جانب سے منافقین کی پردہ دری کرکے اور ان کو رسوا کرکے ظاہر فرما دے، تو یہ (منافق) اس نفاق اور کفار سے دوستی پر جسے اپنے دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں نادم ہوں گے، اس وقت اہل ایمان آپس میں تعجب سے کہیں گے (یقولُ ) رفع کے ساتھ بطور استیناف کے، واؤ کے ساتھ اور بغیر واؤ کے اور نصب کے ساتھ، یاتی پر عطف کی وجہ سے جبکہ ان کی پردہ داری کردی جائے گئ، کیا یہی ہیں وہ لوگ جو اللہ کی بڑی زور دار قسمیں کھایا کرتے تھے، کہ بلاشبہ ہم دین میں تمہارے ساتھ ہیں ان کے سب اعمال صالحہ ضائع ہوگئے اور دنیا میں رسوائی کی وجہ سے اور آخرت میں عذاب کی وجہ سے زیاں کاروں میں ہوں گے، اے لوگو جو ایمان لائے ہو تم میں سے جو اپنے دین سے کفر کی طرف پھرتا ہے (تو پھر جائے) (یَرْتَدُّ ) ادغام اور ترک ادغام (دونوں جائز ہیں) بمعنی یَرْجعُ ، یہ اس واقعہ کی خبر دینا ہے جس کے وقوع سے اللہ واقف ہے، چناچہ آپ ﷺ کی وفات کے بعد ایک جماعت مرتد ہوگئی، عنقریب اللہ تعالیٰ ان کے بدلے میں ایسے لوگ پیدا کر دے گا کہ جو اللہ کو محبوب ہوں گے اور اللہ ان کو محبوب ہوگا، آنحضرت ﷺ نے ابو موسیٰ اشعری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا وہ اس کی قوم ہوگی، اس کو حاکم نے اپنے صحیح میں روایت کیا ہے، جو مومنین کے بارے میں نرم (مہربانی) اور کفار کے معاملہ میں سخت ہوں گے اور اللہ کے راستے میں جہاد کریں گے اور اس معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے، جیسا کہ منافق کافروں کی ملامت سے ڈرتے ہیں یہ مذکورہ اوصاف اللہ کا فضل ہے اللہ جس کو چاہتا ہے عطا فرمایا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے اور فضل کا کون اہل ہے ؟ اسے خوب جاننے والا ہے (آئندہ آیت اس وقت نازل ہوئی) جب عبد اللہ بن سلام نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم کو ہماری قوم نے چھوڑ دیا (آپ نے فرمایا) تمہارے رفیق تو حقیقت میں صرف اللہ اور اس کا رسول اور وہ اہل ایمان ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور وہ عاجزی اختیار کرتے ہیں یا نفلی نماز پڑھتے ہیں، اور جس نے اللہ کو اور اس کے رسول کو اور ایمان والوں کو اپنا رفیق بنا لیا تو وہ ان کی اعانت اور نصرت کرے گا، (وہ سمجھ لے) کہ اللہ کی حمایت ہی اس کی مدد کی وجہ سے غالب رہے گی، اِنّھُمْ ، کے بجائے، حِزْبُ اللہ، یہ بیان کرنے کے لئے فرمایا کہ یہ لوگ اس کی جماعت اور اس کے متبعین میں سے ہیں۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : تُوَ الُوانَھُمْ وَتُوادّونَھُمْ ۔ قولہ : تُوالونَھُمْ اصل میں تُوَالِیُونَھُمَ تھا ضمہ یاء پر دشوار ہونے کی وجہ سے لام کو دیدیا واؤ اور یاء دو حروف ساکن جمع ہوئے یاء کو حذف کردیا، لام کا کسرہ ساقط ہونے کے بعد تُوَالُونَھم ہوگیا توادّون اصل میں تواددون تھا، دال کو دال میں ادغام کردیا توادّون ہوگیا (دونوں صیغے مفاعلہ) سے مضارع جمع مذکر حاضر کے ہیں، اَوْلیاء، وَلِیَّ کی جمع ہے، وَلِی کے مختلف معنی آتے ہیں، محبت کرنے والا، دوست، مدد گار، قریب، پڑوسی، حلیف، تابع وغیرہ، اس لئے تعیین معنی کی ضرورت ہوئی۔ مفسر علام نے توَادّوھم، کہہ کر معنی کی تعیین کردی۔
قولہ : مِن جُمْلَتِھِمْ ، یہودونصاری ٰ سے اجتناب میں شدت کو بیان کونے کے لئے یہ جملہ لایا گیا ہے، مطلب یہ ہے کہ حکمہ کحکمھم۔
قولہ : اِنّ اللہ لا یَھْدِی القَوْمَ الظَّالَمَیْنَ ، یہ اَنَّھم مِنْھُمْ کی علت ہے۔
قولہ : یُسارِعُوْنَ یہ قلوبھم کی ضمیر ھم سے حال ہے۔
قولہ : دَائِرَۃ، گردش، مصیبت، یہ دور ٌ سے مشتق ہے جس کے معنی گھومنے پھرنے کے ہیں، دَائرَۃ، ان صفات میں سے ہے کہ جن کا موصوف مذکور نہیں ہوتا، دائرۃ موصوف یَدُورُبھا اس کی صفت ہے۔
قولہ : اَلمِیرَۃ، غلہ، کھانا، ای الیھود والنصاریٰ لا یعطونَنا المِیْرۃ، یعنی یہود و نصاریٰ ہم کو غلہ دینا بند کردیں گے۔
تفسیر وتشریح
یٰآ یُّھَا الَّذین آمنو الَا تتخذوا الیھود والنصاریٰ اَوْلیاء، اس آیت میں یہودونصاریٰ سے دلی محبت اور دوستی کا تعلق قائم کرنے سے سختی سے منع کیا گیا ہے، اور اس پر سخت وعید فرمائی ہے کہ جو ان سے دلی دوستی کرے گا وہ انہی میں سے رواداری ہمدردی، خیرخواہی عدل اونصاف اور احسان و سلوک سب کچھ کرنا چاہیے، اسلئے کہ اسلام کی یہی تعلیم ہے اسلام تو جانوروں کے حقوق کی حقوق کی حفاظت کا بھی علم بردار ہے چہ جائیکہ انسان ! البتہ ان سے ایسی گہری دوستی اور اختلاط جس سے اسلام کے امتیازی نشانات کو نقصان پہنچے اس کی اجازت نہیں، یہی وہ مسئلہ ہے جو ترک موالات کے نام سے مشہور ہے۔
شان نزول : مذکورہ آیت کے شان نزول کے سلسلہ میں مفسرین نے متعدد واقعات نقل کئے ہیں۔
پہلا واقعہ : حضرت عبادہ بن صامت ؓ انصاری اور رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی دونوں زمانہ جاہلیت سے یہود کے قبیلے بنی قینقاع کے حلیف چلے آرہے تھے، اسلام کے ظاہر ہونے کے بعد عبادہ بن صامت نے یہود کی دوستی سے اظہار بیزاری کردیا رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہ دیا کہ میرے لئے اللہ اور اس کے رسول کی دوستی کافی ہے مگر عبد اللہ بن ابی یہود کے ساتھ دوستی قائم رکھنے پر مصر رہا، حضرت عبادہ بن صامت کے ساتھ عبد اللہ بن ابی کی اس مسئلہ میں ایک مرتبہ تیز کلامی بھی ہوگئی عبد اللہ بن ابی یہود کے ساتھ دوستی قائم رکھنے پر مصر تھا اس کا کہنا تھا کہ اسلام کا ابھی کوئی ٹھکانہ نہیں ہے نہ معلوم اونٹ کس کروٹ بیٹھے، اور محمد ﷺ اپنے مشن میں کامیاب ہوں یا نہ ہوں، اس لئے ضروری ہے کہ یہود کے ساتھ تعلقات و رابط قائم رکھے جائیں تاکہ آڑے وقت میں کام آئیں، اسی واقعہ میں یہ آیت نازل ہوئی۔
دوسرا واقعہ : آنحضرت ﷺ نے حضرت ابو البابہ کو بنی قریظہ سے فہاش کرنے کے لیے اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا، بنو قریظہ سے ابولبابہ کے دیرینہ تعلقات تھے، بنو قریظہ نے ابولبابہ سے معلوم کیا کہ اگر ہم لڑائی موقوف کرکے اپنے قلعہ سے اتر آئیں تو آخر ہمارا انجام کیا ہوگا ؟ حضرت ابولبابہ نے ہاتھ اپنے گلے پر پھیر کر اشارہ کردیا کہ تمہارا قتل ہوگا، حالانکہ یہ ایک راز داری کی بات تھی جس کا اظہار ابولبابہ کو نہیں کرنا چاہیے تھا، مگر تعلقات اور دوستی کی بنا پر خفیہ راز سے بنو قریظہ کو آگاہ کردیا، اس پر مذکورہ آیت نازل ہوئی۔
Ayahs 5:52–56فَتَرَی الّذین فی قلوبھم مرض یسارعون فیھم، (الآیۃ) یعنی ترک موالات کا حکم شرعی سنکر وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض نفاق ہے اپنے کافر دوستوں کی طرف دوڑنے لگے اور کہنے لگے کہ ان سے قطع تعلق کرنے میں تو ہمارے لئے خطرات ہیں، اگر کوئی حادثہ پیش آگیا تو یہ لوگ آڑے وقت میں ہمارے کام آسکتے ہیں۔
Ayah 5:57آیت نمبر 57 تا 66
ترجمہ : اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو تمہارے پیش رو اہل کتاب کو جنہوں نے تمہارے فین کو مذاق اور سامان تفریح بنایا ہے اور من بیانیہ ہے اور کافروں مشرکوں کو (اپنا) دوست نہ بناؤ ھزوا بمعنی مھزوابہ ہے، یعنی مصدر بمعنی مفعول ہے نصب کے ساتھ ہے، ان سے ترک موالات کرکے اللہ سے ڈرو اگر تم مومن ہوم (یعنی) اپنے ایمان میں سچے ہو اور ان لوگوں کو بھی کہ جو تم نماز کیلئے اذان دیتے ہو تو وہ اس نماز کا مذاق اڑاتے ہیں اور کھیل بناتے ہیں اس طریقہ پر کہ اس کا استہزاء کرتے ہیں اور اس کی تضحیک کرتے ہیں اور ان کا یہ استہزاء وغیرہ کرنا اس وجہ سے ہے کہ وہ ناسمجھ لوگ ہیں جب یہود نے نبی ﷺ سے کہا رسولوں میں سے تم کس رسول پر ایمان رکھتے ہو ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا ! اللہ پر اور اس پر جو ہماری جانب نازل کیا گیا (الآیۃ) جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا تو کہنے لگے ہم تمہارے دین سے کسی دین کو بدتر نہیں سمجھتے، تو (آئندہ) آیت نازل ہوئی، ان سے کہو، اے اہل کتاب تم ہم کو صرف اس وجہ سے ناپسند کرتے ہو کہ ہم اللہ پر ہر جو ہماری طرف نازل کیا گیا ایمان رکھتے ہیں اور اس پر جو انبیاء سابقین پر نازل کیا گیا ہے ایمان رکھتے ہیں اور بلاشبہ تم میں سے اکثر فاسق ہیں، اس کا عطف اَن آمَنّا پر ہے معنی یہ ہیں کہ تم صرف ہمارے ایمان کو ناپسند کرتے ہو اور تم سے ہماری مخالفت ایمان قبول نہ کرنے کی وجہ سے ہے جس کو فسق سے تعبیر کیا گیا ہے جو کہ ایمان کے عدم قبول کو لازم ہے اور یہ ناپسندیدہ باتوں میں سے نہیں ہے، ان سے کہو کیا میں ان لوگوں کی نشاندہی کر دوں (بتلا دوں) جو سزا کے اعتبار سے اللہ کے نزدیک ان سے بدتر ہیں جن کو تم سمجھتے ہو مثوبۃً بمعنی جزاءً ہے اور وہ، وہ شخص ہے جس پر اللہ نے لعنت کی یعنی جس کو اپنی رحمت سے دور کردیا، اور اس پر غضبناک ہوا، اور ان میں سے بعض کو مسخ کرکے بندر بنادیا اور بعض کو سور بنادیا اور وہ شخص ہے جس نے شیطان کی بندگی کی اس کی اطاعت کرکے، اور مِنْھُمْ میں، مَنْ کے معنی کی رعایت کی ہے اور اس کے ماقبل میں مَنْ کے لفظ کی رعایت کی ہے اور وہ یہود ہیں، اور ایک قراءت میں عَبْد، کی باء کے ضمہ اور اس کی مابعد کی طرف اضافت کے ساتھ ہے، عَبْد اسم جمع ہے اور (طاغوت) کا نصب، القردۃ پر عطف کی وجہ سے ہے، یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کے درجے اور بھی زیادہ برے ہیں مکاناً تمیز ہے اس لئے کہ ان کا ٹھکانا آگ ہے اور راہ راست سے زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں، (یعنی) طریق حق سے، اور سواءٌ کی اصل وسط ہے اور شرٌّ اور اضَلُّ کا ذکر ان کے قول ” لانعلم دینا شراً من دینکم “ کے مقابلہ میں ہے، اور جب یہ منافق یہودی تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں، حالانکہ کفر لئے ہوئے آئے اور وہ تمہارے پاس سے کفر ہی لئے ہوئے واپس گئے، اور ایمان نہیں لائے، اور اللہ خوب جانتا ہے اس نفاق کو جس کو یہ چھپاتے ہوئے ہیں اور آپ ان میں سے یعنی یہود میں سے بہت سوں کو دیکھتے ہیں کہ گناہ کذب اور ظلم کی طرف لپکتے ہیں یعنی گناہ میں بعجلت ملوث ہوجاتے ہیں اور حرام کھاتے ہیں جیسا کہ رشوت، یقیناً یہ جو کچھ کرتے ہیں بہت بری حرکت ہے اور کیوں ان کے علماء اور مشائخ گناہ یعنی جھوٹ بات کہنے سے اور حرام مال کھانے سے نہیں روکتے ؟ ان کو منع نہ کرنا یقیناً بہت بری حرکت ہے اور جب یہود پر نبی کریم ﷺ کی تکذیب کی وجہ سے تنگدستی ڈال دی گئی حالانکہ وہ لوگوں میں کثیر المال تھے تو انہوں نے کہا کہ اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں یعنی ہمارے اوپر رزق میں کشادگی کرنے سے بندھے ہوئے ہیں، (ید اللہ مغلولۃ) سے بخل کی طرف کنایہ کیا ہے (حالانکہ) اللہ تعالیٰ بخل سے بری ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ان کے ہاتھ نیک کام سے روک دئیے گئے ہیں (یہ) ان کیلئے بددعاء ہے، اور ان کی بکواس کی وجہ سے ان پر لعنت کی گئی بلکہ (حقیقت یہ ہے) کہ اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں یہ صفت سخاوت میں مبالغہ ہے، کثرت کا فائدہ دینے کیلئے یَدْ کو تثنیہ لایا گیا ہے، اس لئے کہ سخی اپنے مال سے جس چیز کی سخاوت کرتا ہے، اس کا انتہائی درجہ یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں سے لٹائے، اور جس طرح چاہے خرچ کرے خواہ وسعت سے یا تنگی سے، اس پر کسی کو انگلی اٹھانے کا حق نہیں، جو چیز آپ کے رب کی جانب سے آپ پر نازل کی گئی ہے (یعنی) قرآن یقیناً اس نے ان میں سے اکثر کی سرکشی اور کفر میں اضافہ کیا ان کے اس (قرآن) سے منکر ہونے کی وجہ سے اور (اس کی پاداش) میں ہم نے ان کے درمیان قیامت تک کیلئے عداوت اور بغض ڈال دیا ہے اور جب کبھی یہ لوگ آپ ﷺ کے ساتھ جنگ کی آگ بھڑکاتے ہیں اللہ اس کو ٹھنڈا کردیتا ہے یعنی جب بھی وہ حملہ آور ہونے کا ارادہ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو پس پاکر دیتا ہے، یہ لوگ زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں یعنی معصیت کے ذریعہ فساد کرنے والے ہیں، اللہ تعالیٰ مفسدہ پردازوں کو پسند نہیں فرماتے، مطلب یہ کہ وہ ان کو سزا دیگا، اور اگر (اس سرکشی کے بجائے) اہل کتاب محمد ﷺ پر ایمان لے آتے اور کفر سے بچتے تو ہم ان کے گناہوں کو معاف کردیتے اور ان کو نعمت بھری جنتوں میں پہنچا دیتے اگر ان لوگوں نے تورات و انجیل میں مذکور (احکام) پر عمل کرکے ان کو قائم کیا ہوتا اور ان ہی میں سے نبی ﷺ پر ایمان لانا بھی ہے اور ان (دوسری) کتابوں کو قائم کیا ہوتا جو ان پر ان کے رب کی جانب سے نازل کی گئیں، تو ان کے لئے اوپر سے بھی رزق برستا اور نیچے (زمین) سے بھی رزق ابلتا، بایں طور کہ ان پر رزق کی وسعت کردی جاتی اور چاروں طرف سے رزق کی ریل پیل ہوتی، ان میں کچھ لوگ اعتدال پسند بھی ہیں جو اسی پر عمل کرتے ہیں، اور یہ وہ لوگ ہیں جو نبی ﷺ پر ایمان لائے جیسا کہ عبد اللہ بن سلام اور ان کے ساتھی، لیکن ان کے اکثر لوگ سخت بدعمل ہیں۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : لاتَتَّخِذُوا، الخ، کلام مستانف ہے، لاتتخذوا، فعل مضارع مجزوم بلا، اس کے اندر ضمیر فاعل اَلّذی اسم موصول اتخذوا فعل بافاعل دینکم مفعول بہ اول، ھُزُواً معطوف علیہ لَعِباً معطوف، معطوف بامعطوف علیہ مفعول بہ ثانی، جملہ ہو کر صلہ۔ موصول صلہ سے مل کر مفعول اول لاتتخذوا کا، اَوْلیاءَ مفعول ثانی، لاتتخذوا ضمیر فاعل اور مفعول سے مل کر جواب ندا، ندا اپنے منادیٰ اور جواب ندا سے مل کر جملہ ندائیہ ہوکر، قُلْ فعل محذوف کا مقولہ۔
قولہ : مَھْزُوًا بہ، یعنی ھُزُوًا مصدر، مفعول کے معنی میں ہے۔ قولہ : بالجرِّ ، جر الّذین پر عطف کی وجہ سے ہے۔
قولہ : النصبُ ، اور کفّار کا نصب، اَلَّذِینَ اِتخذوا پر عطف کی وجہ سے۔
قولہ : فقال باللہ ومَا اُنزِلَ الینا (الآیۃ) مطلب یہ ہے کہ یہود کے جواب میں آپ ﷺ نے سورة بقرہ کی مذکورہ آیت تلاوت فرمائی جس میں حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کی نبوت کا بھی ذکر ہے۔
قولہ : تَنْقِمُوْنَ ، تم انکار کرتے ہو تم دشمنی رکھتے ہو، تم عیب جوئی کرتے ہو، یہ نَقَمٌ سے ماخوذ ہے، مضارع جمع مذکر حاضر ہے۔
قولہ : المعنی ما تُنْکِرُوْنَ اِلاّ اِیْمَانَنَا، اس اضافہ کا مقصد یہ بتانا ہے کہ ھل تنقمونَہ میں استفہام انکاری ہے۔
قولہ : ثواباً ، اس میں اشارہ ہے کہ مَثُوْبَۃً مصدر میمی ہے نہ کہ ظرف۔
قولہ : وذُکِرَ شَرٌُ وَاَضَلُّ فی مُقَابَلَۃِ الخ اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔
سوال : شرٌُ اور اَضَلُّ اسم تفضیل کے صیغے ہیں جن کیلئے مفضل علیہ کی ضرورت ہوتی ہے، پیش نظر آیت میں یہود مفضل اور مسلمان مفضل علیہ ہیں، اور مفضل اور مفضل علیہ نفس وصف میں شریک ہوا کرتے ہیں لہٰذا یہود اور مسلمان نفس شرارت اور ضلالت میں شریک ہوں گے گو یہود مسلمانوں سے وصف شرارت اور ضلالت میں بڑھے ہوئے ہوں گے، حالانکہ یہ خلاف واقعہ ہے ؟
جواب : یہاں شرارت اور ضلالت کا استعمال مقابلہ اور مشاکلۃ کے طور پر ہوا ہے اسلئے کہ یہود نے کہا تھا، لانعلم دیناً شراً من دینکم، جیسا کہ جزاء السیئۃ سیئۃ میں جزاء ظلم کو مشاکلۃً سیئۃ کہا گیا ہے۔ دوسرا جواب : بعض اوقات اسم تفضیل نفس زیادتی کو بیان کرنے کیلئے بھی آتا ہے اس وقت کو مفضل علیہ کی ضرورت نہیں ہوتی، یعنی اسم تفضیل اسم فاعل کے معنی میں آتا ہے اور قرآن کریم میں اس کا استعمال بکثرت ہے۔ قولہ : مُقْتَصِدَۃ، یہ اقتصاد (افتعال) سے ماخوذ ہے اسم فاعل واحد مؤنث، سیدھے راستہ پر قائم رہنا۔
تفسیر و تشریح
یایھا الَّذِیْنَ آمَنُوا لا تتخذوا الَّذِیْنَ اتخذُوْا دِیْنَکم ھُزُوًا الخ اہل کتاب سے یہود و نصاری اور کفار سے مشرکین مراد ہیں، یہاں یہ تاکید کی جا رہی ہے کہ دین کا مذاق اڑانے والے چونکہ اللہ اور اس کے رسول کے دشمن ہیں ایسے لوگوں کے ساتھ اہل ایمان کی دوستی نہیں ہونی چاہیے۔
شان نزول : تفسیر ابن جریر اور تفسیر ابو الشیخ ابن حبان میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ بعض یہودی ظاہر میں تو مسلمان ہوگئے تھے مگر باطن میں اسلام کے مخالف تھے، بعض سیدھے سادے مسلمان، یہودیوں کو سچا مسلمان سمجھتے تھے، جس کی وجہ سے ان سے دلی دوستی اور گہرے تعلقات رکھتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر بتلا دیا کہ یہ لوگ دین اسلام کا مذاق اڑانے والے اور مسلمانوں کی تضحیک کرنے والے ہیں لہٰذا ان سے دلی دوستی اچھی نہیں۔
Ayah 5:58واِذا نَادیتم الی الصلوۃ، ابن جریر اور ابن ابی حاتم سے روایت کی ہے کہ جب مدینہ میں اذان ہوتی تھی تو ایک نصرانی اشھدان محمد الرسول اللہ سن کر کہا کرتا تھا کہ خدا اس جھوٹے مؤذن کو چولھے میں ڈالے، ایک روز اس نصرانی کے گھر میں آگ لگی وہ اس کے اہل و عیال سب جل کر خاکستر ہوگئے تو رات اور انجیل میں یہ بات صاف لکھی ہوئی ہے کہ مکہ کے پہاڑوں میں سے جس نبی کا ظہور ہونے والا ہے وہ نبی آخر الزمان ہوگا، اس کے باوجود اس نصرانی نے دانستہ اللہ کے رسول کی شان میں گستاخی کی اس پر اللہ تعالیٰ کی خفگی ہوئی۔
Ayahs 5:59–60قل یا اھل الکتاب ھل تنقمون منا الا أن آمَنّا، (یعنی) اے اہل کتاب تم ہم سے بلاوجہ ناراض ہو جبکہ ہمارا قصور اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم اللہ پر اور اسکے رسول پر اور اس سے پہلے اتاری ہوئی کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں، کیا یہ بھی کوئی قصور اور عیب کی بات ہے، البتہ ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ بدترین اور قابل نفرت کون لوگ ہیں ؟ یہ وہ لوگ ہیں کہ جن پر اللہ کی لعنت اور غضب ہوا جن میں سے بعض کو اللہ نے بندر اور بعض کو سور بنادیا، اور جنہوں نے طاغوت کی پوجا کی، اس آئینہ میں تم اپنا چہرو دیکھو تم کو صاف نظر آئے گا کہ یہ کن کی تاریخ ہے ؟ اور وہ کون لوگ ہیں ؟ کیا یہ تم ہی نہیں ہو ؟ یاد رہے کہ یہود کے اسلاف کو یوم السبت کی خلاف ورزی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کے جوانوں کو بندر اور بوڑھوں کو سور بنادیا تھا۔
شان نزول : معتبر سند سے تفسیر ابن جریر میں ہے کہ بعض یہود آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سوال کیا کہ آپ کن کن نبیوں کو برحق مانتے ہیں، آپ ﷺ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور دیگر انبیاء کا نام لیا یہود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نام سنکر چنگاری زیرپا ہوگئے اور بہت چڑے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
Ayahs 5:61–62وَاِذَا جَاءَوکُمْ ، (الآیۃ) یہ منافقین جب دعوائے اسلام کے ساتھ آپ کی خدمت میں آتے ہیں تو کفر لے کر آتے ہیں اور کفر ہی لے کر واپس چلے جاتے ہیں، آپ ﷺ کی کیمیا تاثیر گفتگو بھی ان کے سنگ لاخ دلوں پر کچھ اثر نہیں کرتے اسلئے کہ ان کے دل کفر و نفاق کی گندگی سے آلودہ ہوتے ہیں، آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کا مقصد ہدایت کا حصول نہیں بلکہ فریب اور دھوکہ ہوتا ہے، اور اللہ ان کے دلوں کے مخفی رازوں کو بخوبی جانتا ہے، آپ دیکھیں کہ ان میں سے اکثر لوگ گناہ کے کاموں اور ظلم و زیادتی کی طرف لپکتے ہیں اور حرام خوری ان کا شیوہ ہے۔
Ayah 5:63لَوْلاینھٰھُم الر بّٰنیون (الآیۃ) یہ علماء اور مشائخ دین پر نکیر ہے کہ عوام کی اکثر یت تمہارے سامنے فسق و فجور اور حرام خوری کا ارتکاب کرتی ہے لیکن تم انہیں منع نہیں کرتے، ایسے حالات میں تمہارا یہ بڑا جرم ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر، کتنی اہم اور ضروری چیز ہے اور اس کے ترک پر سخت وعید وارد ہوئی ہے۔
قدرت کے باوجود امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے غفلت بڑا جرم ہے : ترمذی، ابو داؤد و ابن ماجہ وغیرہ میں معتبر سندوں سے جو روایتیں اس باب میں نقل ہوئی ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ جو کوئی اچھا آدمی کسی برے آدمی کو کوئی برا کام کرتے دیکھے اور قدرت کے باوجود منع نہ کرے تو اس کو دنیا ہی میں منع نہ کرنے کا وبال ضرور بھگتنا پڑے گا۔
Ayahs 5:64–66شان نزول : وقالت الیھودُ ید اللہ مغلولۃ، طبرانی اور ابوالشیخ نے جو شان نزول اس آیت کا حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ شماس نے جو یہود کے قبیلہ قینقاع کا سردار تھا ایک دوسرے یہودی سے جس کا نام نباش بن قیس تھا ایک روز کہا کہ یہود کی طرف سے اللہ نے سخاوت اور کشائش رزق کا ہاتھ روک لیا ہے اسلئے کہ نعوذ باللہ، اللہ بخیل ہوگیا ہے اس پر یہ آیت نازل فرمائی۔
Ayah 5:67آیت نمبر 67 تا 77
ترجمہ : اے رسول ! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ سب (لوگوں تک) پہنچا دو اور اس خوف سے کہ اس کی وجہ سے تم کو کوئی پریشانی لاحق ہوگی، اس میں سے کچھ نہ چھپاؤ، اور اگر تم نے یہ کام نہ کیا یعنی جو کچھ تمہاری طرف نازل کیا گیا ہے وہ سب (لوگوں تک) نہ پہنچایا تو تم نے اس کی رسالت کا حق ادا نہ کیا، (رسالۃ) افراد اور جمع کے ساتھ ہے، اس لئے کہ بعض کا چھپانا کے مانند ہے، اللہ تم کو لوگوں کے شر سے بچائیگا کہ تم کو قتل کریں، اور نبی ﷺ کی حفاظت کی جاتی تھی یہاں تک کہ آیت ” یعصمک من الناس “ نازل ہوئی، تو آپ نے فرمایا میرے پاس سے چلے جاؤ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے میری حفاظت کردی ہے رواہ حاکم، یقین رکھو کہ اللہ کافروں کو (تمہارے مقابلہ میں کامیابی کی) راہ نہ دکھائیگا، آپ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب تم معتدبہ دین پر قائم نہیں ہو جب تک کہ تم تورات اور انجیل اور اس کے (احکام) پر قائم نہ ہو کہ جو تمہارے رب نے تمہاری طرف نازل کیے ہیں، بایں طور کہ جو اس میں ہے اس پر عمل کرو اور ان (احکام میں) میری تصدیق کرنا بھی شامل ہے جو قرآن آپ کی جانب آپ کے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے وہ ان میں سے بہت سوں کی سرکشی اور کفر میں اضافہ کر دے گا، ان کے منکر ہونے کی وجہ سے، اگر منکر قوم رب پر ایمان نہ لائے تو آپ افسوس نہ کریں یعنی ان پر غم زدہ نہ ہوں، اس میں کوئی شک نہیں کہ (خواہ) مومن ہوں یا یہودیت اختیار کرنے والے ہوں اور وہ یہودی ہیں مبتداء ہے اور صابی اور نصاریٰ (یا ہوں) (صابی) یہود کا ایک فرقہ ہے اور مَنْ آمَنَ ، مبتداء سے بدل ہے، ان میں سے جو بھی اللہ پر اور یوم آخرت پر حقیقت میں ایمان لائیگا اور نیک عمل کرے گا آخرت میں نہ ان پر خوف ہوگا اور نہ غم (فلا خوف علیھم ولاھم یحزنون) مبتداً کی خبر ہے کہ جو اِنَّ کی خر پر دال ہے، ہم نے بنی اسرائیل سے اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لانے کا پختہ عہد کیا تھا اور ہم نے ان کی طرف بہت سے رسول بھیجے، (مگر) جب بھی ان کا کوئی رسول ان کی خواہشات نفس کے خلاف حق لے کر آیا تو اس کی تکذیب کی، ان میں سے بعض کی تکذیب کی اور ان میں سے بعض کو قتل کر ڈالا جیسا کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) اور یحییٰ (علیہ السلام) کو اور قَتَلُوْا کے بجائے یقتلون سے تعبیر حکایت حال ماضیہ کے طور پر ہے اور فواصل کی رعایت بھی مقصود ہے اور وہ بزعم خویش یہ سمجھے کہ کوئی فتنہ رونما نہ ہوگا یعنی ان کے رسولوں کی تکذیب اور قتل کی وجہ سے ان پر کوئی عذاب واقع نہ ہوگا، (الاّ تکونُ ) رفع کے ساتھ، اس صورت میں اَن مخففہ عن المشقلہ ہوگا، اور نصب کے ساتھ بھی ہے، اس صورت میں اَن ناصبہ ہوگا، اَن تکونَ ، بمعنی اَن تقع ہے، حق سے اندھے ہوگئے کہ اس کو دیکھتے نہیں ہیں اور اسی کے سننے سے بہرے ہوگئے پھر جب انہوں نے توبہ کی تو اللہ نے ان کی توجہ قبول کرلی پھر دوبارہ ان میں سے اکثر لوگ اندھے بہرے ہوگئے اور (کثیرٌ مِنھم) صَمُّوْا کی ضمیر سے بدل ہے، یہ لوگ جو کچھ کرتے ہیں اللہ وہ سب کچھ دیکھتا ہے تو ان کو اس کی سزا دیگا، یقیناً ان لوگوں نے کفر کیا جنہوں نے کہا اللہ وہ عیسیٰ ابن مریم ہی ہے، اسی قسم کی آیت گذر چکی ہے، اور ان سے مسیح (علیہ السلام) نے کہا تھا اے بنی اسرائیل اللہ کی بندگی کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے کیونکہ میں بندہ ہوں معبود نہیں ہوں، جس نے عبادت میں غیر کو اللہ کا شریک ٹھہرایا تو اللہ نے اس کیلئے جنت کو حرام کردیا، یعنی جنت میں اس کے داخلہ پر پابندی لگا دی، اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور ایسے ظالموں کا کوئی مددگار نہیں، کہ ان کو اللہ کے عذاب سے بچا سکے، مِن زائد ہے یقیناً ان لوگوں نے کفر کیا جنہوں نے کہا کہ اللہ تین معبودوں میں سے ایک ہے یعنی ایک اللہ اور دوسرے دو عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ یہ نصاریٰ کا ایک فرقہ ہے حالانکہ ایک خدا کے سوا کوئی خدا نہیں اگر یہ لوگ تثلیث کی بکواس سے باز نہ آئے اور توحید کے قائل نہ ہوئے تو جس نے ان میں سے کفر کیا ہوگا یعنی کفر پر قائم رہا ہوگا تو ان کو دردناک سزا دی جائے اور وہ آگ کی سزا ہے تو پھر کیا لوگ اپنی کہی ہی باتوں کے بارے میں اللہ سے توبہ نہ کریں گے اور اس سے معافی نہ مانگیں گے اللہ اس سے جس نے توبہ کی درگزر کرنے والے اور اس پر رحم کرنے والے ہیں، مسیح ابن مریم اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ ایک رسول ہیں ان سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں یہ بھی ان کی طرح گزر جائیں گے وہ معبود نہیں ہیں جیسا کہ انہوں نے مان رکھا ہے ورنہ تو وہ نہ گزرتے، ان کی والدہ ایک راست باز عورت تھی، صداقت میں مبالغہ کرنے والی، اور وہ دونوں کھانا کھاتے تھے جس طرح دیگر جاندار کھاتے ہیں اور جو ایسا ہو وہ معبود نہیں ہوسکتا اپنے مرکب ہونے کی وجہ سے اور اپنے ضعف کی وجہ سے اور اس سے بول و براز خارج ہونے کی وجہ سے دیکھو امر تعجب کیلئے ہے ہم ان کیلئے اپنی وحدانیت پر کیسی نشانیاں بیان کرتے ہیں پھر دیکھو دلیل قائم ہونے کے باوجود حق سے کیسے الٹے پھرے جا رہے ہیں ؟ آپ ان سے کہو کہ کیا تم اللہ کو چھوڑ کر دوسرے کی بندگی کرتے ہو جو تمہارے نہ نقصان کا مالک ہے اور نہ نفع کا حالانکہ اللہ ہی سب کی باتوں کا سننے والا اور سب کے احوال کا جاننے والا ہے، استفہام انکار کیلئے ہے، کہو اے اہل کتاب یہودو نصاریٰ ناحق اپنے دین میں غلونہ کرو یعنی اپنے دین میں حد سے تجاوز نہ کرو، بایں طور کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی تحقیر کرو یا ان کے رتبہ سے زیادہ ان کو بڑھا دو اور لوگوں کے خیالات کی پیروی نہ کرو جو تم سے پہلے اپنے غلو کی وجہ سے گمراہ ہوچکے ہیں اور وہ ان کے اسلاف ہیں، اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کرچکے ہیں اور راہ راست سے بھٹک گئے تھے، یعنی راہ حق سے، سواء کے معنی در حقیقت وسط کے ہیں۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : لَاِنَّ کتمانَ بَعْضِھا کِکتْمانِ کلّھا، یہ رسالات کو جمع لانے کی علت ہے۔ قولہ : اَنْ یَقْتُلُوا، اس جملہ کو مقدر ماننے کا مقصد ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔
سوال : اللہ تعالیٰ کے قول ” واللہ یعصمک من الناس “ کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو انسانوں کی جانب سے ہر قسم کی گزند سے محفوظ رکھیں گے، حالانکہ آپ ﷺ کو انسانوں کی طرف سے گزند پہنچی تھی، مثلاً غزوہ احد میں آپ کے چہرہ انور کا زخمی ہوجانا آپ کی رباعی مبارک کا ٹوٹ جانا وغیرہ وغیرہ۔
جواب : حفاظت سے مراد قتل سے حفاظت ہے نہ کہ مطلقًا گزند سے حفاظت لہٰذا اب کوئی اعتراض نہیں۔
قولہ : مِن الدِّیْنِ مُعْتَدٍّبہ یہ سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال : یہود و نصاری و مشرکین کیلئے یہ کہنا کہ تم کسی شئ پر نہیں ہو درست نہیں ہے اسلئے کہ وہ جس دین دھرم پر تھے وہ بھی تو ایک شئ تھی اس کا جواب دیا۔ جواب : شئ سے مراد عبد اللہ دین معتدبہ ہے، نہ کہ ان کا اختیار کردہ دین و دھرم۔
قولہ : الصّٰبِئونَ ، صَابیٌّ، کی جمع ہے اسم فاعل دین سے خارج ہونے والا، جب کوئی شخص اسلام لاتا تو عرب کہتے قد صبَأَ ، وہ دین سے نکل گیا یہ فرقہ اس نام سے اسلئے موسوم ہوا کہ وہ یہودیت اور نصرانیت سے نکل کر ستاروں کی پرستش کرنے لگا ان کا مرکز حزان ہے، ابو اسحاق صابی اسی فرقہ سے تعلق رکھتا تھا۔
قولہ : اِنَّ الَّذِیْنَ آمَنُوْا، اس جملہ میں ن ترکیبیں ہوسکتی ہیں ان میں سے آسان تین ترکیبیں لکھی جاتی ہیں۔
(1) اِنّ حرف مشبہ بالفعل ناصب، الذین اسم موصول آمنوا صلہ، موصول صلہ سے مل کر، اِنَّ کا اسم، فلا خوف علیہم ولا ھم یحزنون، جملہ ہو کر اِنّ کی خبر محذوف۔ وَالذین ھادوا والصابئون والنصاری مَن آمَنَ باللہ والیوم الآخر وعمل صالحاً فلا خوف علیھم ولاھم یحزنون۔
(2) واو، استینافیہ الّذین اسم موصول ھَادُوا صلہ۔ موصول صلہ سے مل کر معطوف علیہ، والصابئون معطوف علیہ معطوف والنصاری معطوف تینوں معطوف تینوں معطوفات مل کر مبدل منہ مَنْ آمَنَ باللہ والیوم الآخر جملہ ہو کہ معطوف علیہ، وعمل صالحاً معطوف، معطوف معطوف علیہ سے مل کر بدل، بدل مبدل منہ سے مل کر مبتداء، فلا خوف علیہ ولاھم یحزنون، جملہ ہو کر مبتداء کی خبر ہے۔
(3) اِنَّ حرف مشبہ بالفعل الذین اسم موصول آمنوا، صلہ، موصول صلہ سے مل کر معطوف علیہ واؤ عاطفہ الذین اسم موصول ھادوا صلہ اسم موصول صلہ سے ملکر معطوف علیہ واؤ عاطفہ الصابئون معطوف علیہ معطوف واؤ حرف عطف النصاری معطوف تینوں معطوفات مل کر مبدل منہ مَنْ اٰمَنَ باللہ، بدل، بدل مبدل منہ سے مل کر اِنّ کا اسم فلا خوف علیہ ولاھم یحزنون، اِنّ کی خبر۔
قولہ : کَذَّبُوہٗ یہ کلّما کی جزاءِ محذوف ہے۔
قولہ : والتَعْبِیْرُ بہ یعنی موقع ماضی کا تھا مگر یقتلون مضارع استعمال ہوا ہے ایک تو حکایت حال ماضیہ کے طور پر یعنی یہ بتانے کیلئے کہ گویا کہ قتل کا معاملہ اس وقت ہو رہا ہے، دوسرا مقصد فواصل کی رعایت ہے۔
قولہ : تَقَعَ ، اس میں اشارہ ہے کہ تکون تامہ ہے لہٰذا اس کو خبر کی ضرورت نہیں ہے، فِتنۃٌ، تکون کا فاعل ہے۔
قولہ : بَدَلٌ مِنَ الضَّمِیْرِ یعنی کثیرٌ منھم، عَموا وصمّوا، کی ضمیر سے بدل البعض ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کثیرٌ منھم، اُوْلٰئِکَ مبتداء محذوف کی خبر ہو۔
قولہ : فِرْقَۃٌ مِنَ النَصَارَیٰ اس میں اشارہ ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو ثالث ثلثٰۃ کہنے والا نصاری کا ایک فرقہ ہے اس کے علاوہ دیگر فرقے بھی ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو الٰہ مانتے ہیں لہٰذا دونوں باتوں میں کوئی تعارض نہیں ہے۔
تفسیر و تشریح
یٰآیُّھا الرسول بَلّغْ مَا اُنْزِلَ (الآیۃ) آپ ﷺ کو اس آیت میں تاکیدی حکم دیا جا رہا ہے کہ آپ پر جو کچھ نازل کیا جاتا ہے اس کو آپ بےکم وکاست اور بلا خوف لومۃ لائم لوگوں تک پہنچا دیں چناچہ آپ ﷺ نے ایسا ہی کیا، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ جو شخص یہ گمان کرے کہ نبی ﷺ نے کچھ چھپالیا ہے اس نے یقیناً جھوٹ بولا، (صحیح بخاری) حضرت علی ؓ سے جب سوال کیا گیا کہ آپ کے پاس قرآن کے علاوہ وحی کے ذریعہ سے نازل شدہ اور کوئی بات ہے ؟ تو آپ نے قسمیہ منع فرمایا، اِلاّ فَھْماً یعطیہ اللہ رجلاً ، البتہ قرآن کا فہم ہے جسے اللہ کسی کو بھی عطا فرما دے۔ (صحیح بخاری) حضرت عائشہ صدیقہ نے کیسی لطیف اور سچی بات اس موقع پر فرمائی، کہ اگر آپ نے قرآن کا کوئی جز چھپایا ہوتا تو وہ یہی جز ہوتا، قَالَت لَوْ کَانَ محمد کماتماً شیئاً مِنَ القرآن لکَتَمَ ھذہ الآیۃ۔ (ابن کثیر) ۔ حجۃ الوداع کے موقع پر آپ نے صحابہ کے لاکھوں کے مجمع میں فرمایا تم میرے بارے میں کیا کہو گے ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا ” نَشھَدُ اَنّکَ قد بَلَّغْتَ واَدَّیْتَ ونَصَحْتَ “ ہم گواہی دیں گے کہ آپ نے اللہ کا پیغام دیا اور اس کا حق ادا کردیا، اور خیر خواہی فرما دی، آپ ﷺ نے آسمان کی طرف انگلی کا اشارہ کرتے ہوئے فرمایا، ” اَللّٰھُمَّ قَدْ بلغتُ “ (تین مرتبہ)
واللہ یَعْصِمُکَ مِنَ الناس، آپ کی حفاظت اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طریقہ پر بھی فرمائی اور دنیاوی اسباب کے تحت بھی، اس آیت کے نزول سے قبل آپ کی حفاظت کے ظاہری اسباب کے طور پر اللہ تعالیٰ نے آپ کے چچا ابو طالب کے دل میں آپ کی طبعی محبت ڈال دی اور وہ آپ کی حفاظت کرتے رہے، ان کی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ نے بعض قریش کے سرداروں کے ذریعہ پھر انصار مدینہ کے ذریعہ آپ کا تحفظ فرمایا، جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ نے تحفظ کے ظاہری اسباب جن میں صحابہ کرام کا پہرہ بھی شامل تھا اٹھوا دیا اس کے بعد بار بار سنگین خطرے پیش آئے لیکن اللہ نے آپ کی حفاظت فرمائی، چناچہ بذریعہ وحی ” وقتا فوقتاً “ اللہ نے یہودیوں کے مکرو کید سے مطلع فرما کر خطرہ سے بچا لیا۔
Ayahs 5:68–77قل یٰااھْل الکتاب لَسْتُمْ علی شیْءٍ الخ، یہ ہدایت اور گمراہی اس اصول کے مطابق ہے جو سنت اللہ رہی ہے یعنی جس طرح بعض نیک کاموں سے اہل ایمان کے ایمان و تصدیق و عمل صالح اور علم نافع میں اضافہ ہوتا ہے، اسی طرح معاصی اور تمرد سے کفر و طغیان میں بھی زیادتی ہوتی ہے، یہ مضمون قرآن کریم میں متعدد جگہ بیان ہوا ہے۔
قل یا اھل الکتاب لاتغلوا فی دینکم غیر الحق، یعنی اتباع حق میں حد سے تجاوز نہ کرو اور جس کی تعظیم کا حکم دیا گیا ہے اس میں مبالغہ کرکے انہیں منصب نبوت سے اٹھا کر مقام الوہیت پر فائز مت کرو جیسے حضرت مسیح (علیہ السلام) کے معاملہ میں تم نے غلو کیا، غلو ہر دور میں شر اور گمراہی کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے، انسان کو جس سے عقیدت و محبت ہوتی ہے اس کی شان میں خوب مبالغہ کرتا ہے، وہ ولیوں اور بزرگوں کو پیغمبروں کی طرح معصوم سمجھنے لگتا ہے، اور پیغمبروں کی خدائی صفات سے متصف کردیتا ہے۔
وَلا تتبعوا اھواءَ قوم قد ضلوا من قبل، یعنی اپنے سے پہلے لوگوں کے پیچھے مت لگو جو ایک نبی کو الٰہ بنا کر خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا۔