5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 5:114–117

قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوْنُ لَنَا عِیْدًا لِّاَوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا وَ اٰیَةً مِّنْكَ١ۚ وَ ارْزُقْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 5:114 in the Quran reader

تب عیسیٰ بن مریم نے دعا کی کہ اے ہمارے پروردگار ! ہم پر آسمان سے خوان نازل فرما کہ ہمارے لئے (وہ دن) عید قرار پائے یعنی ہمارے اگلوں اور پچھلوں (سب) کیلئے۔ اور وہ تیری طرف سے نشانی ہو اور ہمیں رزق دے تو بہتر رزق دینے والا ہے۔

قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مُنَزِّلُهَا عَلَیْكُمْ١ۚ فَمَنْ یَّكْفُرْ بَعْدُ مِنْكُمْ فَاِنِّیْۤ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُهٗۤ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 5:115 in the Quran reader

خدا نے فرمایا میں تم پر ضرور خوان نازل فرماؤں گا لیکن جو اس کے بعد تم میں سے کفر کرے گا اسے ایسا عذاب دوں گا کہ اہل عالم میں کسی کو ایسا عذاب نہ دوں گا۔

وَ اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ ءَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَ اُمِّیَ اِلٰهَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ سُبْحٰنَكَ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَیْسَ لِیْ١ۗ بِحَقٍّ١ؐؕ اِنْ كُنْتُ قُلْتُهٗ فَقَدْ عَلِمْتَهٗ١ؕ تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَ لَاۤ اَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِكَ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ Open ayah 5:116 in the Quran reader

اور (اس وقت کو بھی یاد رکھو) جب خدا فرمائے گا کہ اے عیسیٰ بن مریم ! کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ خدا کے سوا مجھے اور میری والدہ کو معبود مقرر کرو ؟ وہ کہیں گے کہ تو پاک ہے مجھے کب شایاں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کا مجھے کچھ حق نہیں۔ اگر میں نے ایسا کہا ہوگا تو تجھ کو معلوم ہوگا۔ (کیونکہ) جو بات میرے دل میں ہے تو اسے جانتا ہے اور جو تیرے ضمیر میں ہے اسے میں نہیں جانتا بیشک تو علامّ الغیوب ہے۔

مَا قُلْتُ لَهُمْ اِلَّا مَاۤ اَمَرْتَنِیْ بِهٖۤ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبَّكُمْ١ۚ وَ كُنْتُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْهِمْ١ۚ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ اَنْتَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 5:117 in the Quran reader

میں نے ان سے کچھ نہیں کہا بجز اس کے جس کا تو نے مجھے حکم دیا وہ یہ کہ تم خدا کی عبادت اور جو میرے تمہارا سب کا پروردگار ہے۔ اور جب تک میں ان میں رہا ان (کے حالات) کی خبر رکھتا رہا۔ جب تو نے مجھے دنیا سے اٹھا لیا تو تو ان کا نگران تھا۔ اور تو ہر چیز سے خبردار ہے۔

آیت نمبر 116 تا 120 ترجمہ : اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے کہ جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن عیسیٰ (علیہ السلام) سے اس کی قوم کو سرزنش کرنے کیلئے فرمائیگا، کہ اے عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم کیا تم نے ان لوگوں سے کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو بھی اللہ کے علاوہ معبود قرار دے لو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نپتے ہوئے عرض کریں گے آپ تو ہر اس چیز (یعنی) شریک وغیرہ سے پاک ہیں جو آپ کی شایان شان نہیں، اور میرے لئے کسی طرح ایسی بات کہنا لائق نہیں جس کے کہنے کا مجھے کوئی حق نہیں (بحق) لیس کی خبر ہے اور (لی) تبیین کیلئے (زائد) ہے اگر میں نے (یہ بات) کہی ہوگی تو آپ کو اس کا علم ہوگا اس لئے کہ تو تو میرے دل کی بات بھی جانتا ہے اور میں تیرے دل کی بات کو نہیں جانتا، یعنی تیری مخفی معلومات کا مجھے علم نہیں، تمام مغیبات کے جاننے والے آپ ہی ہیں میں نے تو ان سے صرف وہی بات کہی جس کو کہنے کا تو نے حکم فرمایا وہ یہ کہ تم اللہ کی بندگی اختیار کرو جو کہ میرا اور تمہارا (سب کا) رب ہے، میں ان کا نگران تھا جب تک میں ان کے درمیان تھا ان کو ایسی بات کہنے سے روکے رہا اور جب آپ نے مجھے رفع آسمانی کے ذریعہ واپس بلا لیا تو آپ ان کے اعمال کے نگہبان تھے اور آپ تو ہر چیز سے واقف ہیں (خواہ) میری بات ہو جو میں نے ان سے کہی یا ان کی بات جو انہوں نے میرے بعد کہی وغیرہ وغیرہ، ان میں سے جو کفر پر قائم رہا اگر آپ ان کو سزا دیں تو وہ آپ کے بندے ہیں اور آپ ان کے مالک ہیں ان میں جس طرح چاہیں تصرف کرنے کا اختیار رکھتے ہیں آپ پر کوئی اعتراض نہیں، اور اگر آپ انہیں معاف کردیں تو آپ اس پر غالب ہیں اور اپنی صنعت میں باحکمت ہیں اللہ تعالیٰ فرمائیں گے یہ قیامت کا دن وہ دن ہے کہ اس دن میں دنیا میں سچائی اختیار کرنے والوں کی سچائی نفع پہنچائیگی جیسا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) ، اسلئے کہ یہ صلہ دینے کا دن ہے، ان کو ایسے باغات ملیں گے کہ جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے اللہ ان سے ان کی اطاعت کی وجہ سے خوش اور وہ اس سے اس کے اجر پر راضی، یہی بڑی کامیابی ہے اور دنیا میں جھوٹوں کو قیامت میں ان کی سچائی کچھ نفع نہ دے گی، جیسا کہ کفار، جبکہ عذاب کو دیکھ کر ایمان لائیں گے، زمین اور آسمانوں اور جو کچھ ان میں ہے سب کی بادشاہت اللہ ہی کی ہے (یعنی) بارش اور نباتات اور رزق وغیرہ کے خزانے سب اسی کی ملک میں ہیں (بجائے مَنْ کے) ما، کا استعمال غیر ذوی العقول کو غلبہ دینے کی وجہ ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ان ہی میں سے سچے کو اجر عطا کرنا اور جھوٹے کو سزا دینا بھی ہے، اور عقل نے باری تعالیٰ کو (تحت القدرۃ) ہونے سے خاص کردیا چناچہ وہ اپنی ذات پر قدرت نہیں رکھتا۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : ای یَقُوْلُ ، قَالَ ماضی کی تفسیر یَقُوْلُ مضارع سے کرکے اس سوال کا جواب دیدیا کہ سیاق وسباق سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ مکالمہ قیامت کے دن ہوگا اور قال سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں ہوچکا قال کی تفسیر یقول سے کرکے بتادیا کہ ماضی بمعنی مضارع ہے قولہ : تَوْبِیْخاً لِقَوْمِہ، اس اضافہ کا مقصد بھی ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال : سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ علام الغیوب ہے اس سے کوئی شئ مخفی نہیں ہے ان ہی میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی امت سے کہنا یا نہ کہنا بھی ہے۔ جواب : جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ سوال برائے استفہام نہیں ہے بلکہ توبیخ کیلئے ہے، لہٰذا اب کوئی اعتراض نہیں ہے۔ قولہ : لِقَوْمِہٖ ، کا اضافہ کرکے اشارہ کردیا کہ تقصیر اور کوتاہی قوم کی تھی نہ کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی۔ قولہ : اُرْعِدَ لرزید از ترس، عیسیٰ (علیہ السلام) خوف کی وجہ سے لرزہ بر اندام ہوگئے۔ قولہ : ولِیْ ، للِتَّبْیِیْن، اس میں ان لوگوں پر رد ہے جو، لی، کو حق سے متعلق مانتے ہیں اور وجہ ردیہ ہے کہ جار پر مجرور کے صلہ کی تقدیم ممتنع ہے۔ قولہ : بالرَّفْعِ الی السَّمَاءِ ، اس عبارت میں اشارہ ہے کہ یہاں توفّٰی کے معنی موت کے نہیں ہیں اس لئے کہ توفّٰی کے معنی اخذ الشئ وافیا، کسی چیز کو پورا پورا لینا کے ہیں، موت بھی اس کی ایک نوع ہے نہ کہ عین موت، لہٰذا اب یہ اعتراض ختم ہوگیا کہ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ توفَّیْتَنِی سے مراد موت ہو حالانکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا انتقال نہیں ہوا ہے۔ قولہ : وخصَّ العقلُ ذاتَہ تعالی، اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔ سوال : سوال یہ ہے کہ ” علی کل شئ قدیر “ میں خود اللہ تعالیٰ بھی شئی میں داخل ہے اسلئے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو شئ میں داخل نہ مانیں تو اللہ تعالیٰ کا لاشئ ہونا لازم آتا ہے جو ظاہر البطلان ہے لہٰذا اللہ تعالیٰ کو اشیاء کا ایک فرد ماننا ضروری ہے اور کل شئی ھالک سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر شئی ہلاک ہونے والی ہے۔ جواب : کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ شئی تو ہے مگر دیگر اشیاء کے مانند نہیں، لہٰذا عقل نے ذات باری تعالیٰ کو اشیاء سے خاص کرلیا یعنی اللہ تعالیٰ ہر شئی پر قادر ہے مگر اپنی ذات پر قادر نہیں ہے اسلئے کہ قدرت کا تعلق ممکنات سے ہوتا ہے نہ کہ واجبات اور محالات سے لہٰذا شئی سے مراد کل موجود یمکن ایجادہ ہے۔ (جمل) تفسیر و تشریح وَاِذْ قَالَ اللہ یٰعیسٰی ابن مریمء اَنْتَ قلتَ للَناس الخ عیسیٰ (علیہ السلام) سے یہ سوال روز قیامت میں ہوگا جس کو یقینی الوقوع ہونے کی وجہ سے ماضی سے تعبیر کردیا ہے، خطاب اگرچہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو ہے مگر مقصد ان لوگوں کو زجر و توبیخ کرنا ہے جنہوں نے غیر اللہ کو معبود بنا لیا تھا، اسلئے کہ جن کو معبود بنایا گیا ہے وہ تو خود اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہیں۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ان کی والدہ مریم کو بھی معبود بنایا تھا، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ من دون اللہ میں صرف سونے چاندی یا پتھر لوہے وغیرہ کے بت ہی شامل نہیں ہیں بلکہ اللہ کے وہ نیک بندے بھی مِنْ دَوْنِ اللہ میں شامل ہیں جن کو لوگوں نے کسی انداز سے عبادت کی، جیسے حضرت عیسیٰ و مریم اور حضرت عزیز (علیہم السلام) وغیرہ۔ مسیحیوں کا شرک : عیسائیوں نے اللہ کے ساتھ صرف مسیح (علیہ السلام) اور روح القدس ہی کو خدا بنانے پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ مسیح (علیہ السلام) کی والدی ماجدہ حضرت مریم (علیہما السلام) کو بھی ایک مستقل معبود بنا ڈالا، حضرت مریم کی الوہیت یا قدوسیت کے متعلق کوئی اشارہ تک بائبل میں موجود نہیں ہے مسیح (علیہ السلام) کے بعد ابتدائی تین سو سالوں تک عیسائی دنیا اس تخیل سے بالکل نا آشنا تھی، تیسری صدی عیسوی کے آخر میں اسکندریہ کے بعض علماء نے پہلی مرتبہ حضرت مریم کیلئے، ” ام اللہ “ مادرِ خدا، کے الفاظ استعمال کئے، اس کے بعد بتدریج الوہیت مریم کا عقیدہ اور مریم پرستی کا طریقہ عیسائیوں میں پھیلنا شروع ہوا، لیکن اول اول چرچ اس عقیدہ کو باقاعدہ طور پر تسلیم کرنے کیلئے تیار نہ تھا، بلکہ مریم پرستوں کو فاسد العقیدہ قرار دیتا تھا، پھر جب نسطور لَیْس کے اس عقیدہ پر کہ مسیح کی واحد ذات میں دو مستقل جدا گانہ شخصیتیں جمع تھیں، مسیحی دنیا میں بحث وجدال کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا تو اس کا تصفیہ کرنے کیلئے 431 ء میں شہر افسوس میں ایک کونسل منعقد ہوئی اور اس کونسل میں پہلی مرتبہ کلیسا کی سرکاری زبان میں حضرت مریم کیلئے مادر خدا، کا لقب استعمال کیا گیا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مریم پرستی کا جو مرض اب تک کلیسا کے باہر پھیل رہا تھا وہ اس کے بعد کلیسا کے اندر بھی تیزی کے ساتھ پھیلنے لگا، حتی کہ نزول قرآن کے زمانہ تک پہنچتے پہنچتے حضرت مریم اتنی بڑی دیوی بن گئیں کہ باپ، بیٹا اور روح القدس تینوں اس کے سامنے ہیچ ہوگئے، ان کے مجسمے جگہ جگہ کلیساؤں میں نصب کئے ہوئے تھے، ان کے آگے عبادت کے جملہ مراسم ادا کئے جاتے تھے، ان ہی سے دعائیں مانگی جاتی تھیں اور ان ہی کو فریاد رس اور مشکل کشا سمجھا جاتا تھا۔ توفیتنی کا مطلب : توفیتنی کا مطلب یہ ہے کہ جب تو نے مجھے دنیا سے اٹھا لیا، تَوقَّیْتَنِیْ کا مادہ وَفِیٌّ ہے جس کے اصل معنی پورا پورا لینے کے ہیں انسان کی موت پر جو وفات کا لفظ بولا جاتا ہے وہ اسی لئے بولا جاتا ہے کہ اس کے جسمانی اختیارات مکمل طور پر سلب کر لئے جاتے ہیں اس اعتبار سے موت اس کے معنی کی مختلف صورتوں میں سے محض ایک صورت ہے نیند میں بھی چونکہ انسانی اختیارات عارضی طور پر معطل کر دئیے جاتے ہیں اس لئے نیند پر بھی قرآن نے وفات کے لفظ کا اطلاق کیا ہے، جس سے معلوم ہوا کہ اس کے حقیقی اور اصلی معنی پورا پورا لینے کے ہیں بعض نے اس کے مجازی معنی مشہور استعمال کے مطابق موت ہی کے کئے ہیں لیکن اس کے ساتھ انہوں نے کہا ہے کہ الفاظ میں تقدیم و تاخیر ہے یعنی رَافِعُکَ ، کے معنی مقدم ہیں اور مُتَوَفِّیْک، کے معنی متاخر ہیں، یعنی میں تم کو آسمان پر اٹھالوں گا اور پھر جب دنیا میں نزول ہوگا تو اس وقت موت سے ہمکنار کروں گا، یعنی یہود کے ہاتھوں تیرا قتل نہیں ہوگا بلکہ تجھے طبعی موت ہی آئے گی۔ (فتح القدیر، ابن کثیر)
Ayahs 5:118–120

اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ١ۚ وَ اِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 5:118 in the Quran reader

اگر تو انکو عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں۔ اور اگر بخش دے تو (تیری مہربانی ہے) بیشک تو غالب (اور) حکمت والا ہے۔

قَالَ اللّٰهُ هٰذَا یَوْمُ یَنْفَعُ الصّٰدِقِیْنَ صِدْقُهُمْ١ؕ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 5:119 in the Quran reader

خدا فرمائے گا کہ آج وہ دن ہے کہ راست بازوں کو ان کی سچّائی ہی فائدہ دے گی۔ ان کے لئے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں ابد الآ باد ان میں بستے رہیں گے۔ خدا ان سے خوش ہے اور وہ خدا سے خوش ہیں۔ یہ بڑی کامیابی ہے۔

لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا فِیْهِنَّ١ؕ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 5:120 in the Quran reader

آسمان اور زمین اور جو کچھ ان (دونوں) میں ہے سب پر خدا ہی کی بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

اِن تعذبھم فاِنّھُم عبادک مطلب یہ ہے کہ اے اللہ ان کا معاملہ تیرے سپرد ہے اسلئے کہ تو فَعَّال لِّما یُرید بھی ہے، اور تجھ سے کوئی باز پرس کرنے والا بھی نہیں ” لایُسئلُ عما یفعلُ وھم یسئلون “ اللہ جو کچھ کرتا ہے اس سے باز پرس نہیں ہوگی، لوگوں سے ان کے کاموں کی باز پرس ہوگی، گویا آیت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے بندوں کی عاجزی و بےبسی کا اظہار بھی ہے اور اللہ کی عظمت و جلالت اور اس کے قادر مطلق اور مختار کل ہونے کا بیان بھی، پھر ان دونوں باتوں کے حوالہ سے عفو و مغفرت کی التجا بھی سبحان اللہ ! کسی عجیب وبلیغ آیت ہے، اسی لئے حدیث میں آتا ہے کہ ایک رات نبی ﷺ پر نوافل میں اس آیت کو پڑھتے ہوئے ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ بار بر ہر رکعت میں اسی آیت کو پڑھتے رہے حتیٰ کہ صبح ہوگئی۔ (مسند احمد) تمّٰ بحمد اللہ