Ayah 5:5ایک اصولی ضابطہ : سابق آیات میں حلال و حرام کی جزئیات کو بیان کرنے کے بعد اب الیوم اُحِلّ لکم الطیبٰت الخ میں ایک اصولی ضابطہ بیان کیا جا رہا ہے جس سے حرام چیزوں کو حلال چیزوں سے بآسانی ممتاز کیا جاسکتا ہے، اس لئے کہ حلال اور حرام اشیاء کی ایک لمبی فہرست ہے جن کا شمار کرنا آسان نہیں ہے، سابقہ آیت میں غور کرنے سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ اشیاء میں اصل حلت ہے حرمت عارض ہے جب تک کسی شئ کی حرمت کی صراحت یا مصرح کی علت نہ پائی جائے حرام نہ ہوگی، بخلاف زمانہ جاہلیت کے کہ ان کے یہاں اس کا عکس تھا کہ ہر شئ میں حرمت اصل ہے الایہ کہ اس کی حلت صراحت سے معلوم ہوجائے۔
الیوم اُحِلّ لکم الطیّبٰت، میں یہ ضابطہ بیان کیا گیا ہے کہ تمہارے لئے صاف ستھری اور پاکیزہ چیزیں حلال کردی گئی ہیں مطلب یہ ہے کہ پاکیزہ چیزیں جس طرح تمہارے لئے پہلے سے حلال تھیں آئندہ بھی حلال رہیں گی اب ان میں تبدیل و تنسیخ کا احتمال ختم ہوگیا اس لئے کہ نسخ و تغیر وحی کے ذریعہ ہی ہوسکتا ہے اور اب وحی کا سلسلہ موقوف ہونے جا رہا ہے لہٰذا اب ردوبدل کی بھی کوئی گنجائش باقی نہیں۔ ایک دوسری آیت ویحرم علیہم الخبائث میں گندی چیزوں کو حرام کرنے کا بیان ہے یعنی تمہارے لئے گندی اور قابل نفرت چیزوں کو حرام کیا جاتا ہے، لغت میں طیبات ستھری اور مرغوب چیزوں کو کہا جاتا ہے اور خبائث اس کے بالمقابل گندی اور قابل نفرت چیزوں کے لئے بولا جاتا ہے، آیت کے اس جملہ نے یہ بتادیا کہ جتنی چیزیں صاف ستھری مفید اور پاکیزہ ہیں وہ انسان کیلئے حلال کی گئیں اور جو گندی قابل نفرت اور مضر چیز ہیں وہ حرام کی گئی ہیں، وجہ یہ ہے کہ انسان دوسرے جانوروں کی طرح نہیں ہے کہ اس کا مقصد زندگی دنیا میں کھانے، پینے، سونے جاگنے اور جینے مرنے تک محدود ہو، اس کو قدرت نے مخدوم کائنات کسی خاص مقصد سے بنایا ہے اور وہ مقصد پاکیزہ اخلاق کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا اسی لئے بداخلاق انسان در حقیقت انسان کہلانے کے قابل نہیں، اسی لئے قرآن کریم نے ایسے انسانوں کیلئے ” بل ھم اضلّ “ فرمایا یعنی ایسے لوگ چوپایوں سے بھی زیادہ گمراہ ہیں، جب انسان کی انسانیت کا مدار اصلاح اخلاق پر ہے تو ضروری ہے کہ جتنی چیزیں انسانی اخلاق کو گندہ اور خراب کرنے والی ہیں ان سے اس کا مکمل پرہیز کرایا جائے، اسی لئے کھانے پینے کی ساری چیزوں میں احتیاط کو لازمی قرار دیا گیا، چوری، ڈاکہ، رشوت، سود، قمار وغیرہ کی حرام آمدنی جس کے بدن کا جزء بنے گی وہ لازمی طور پر اس کو انسانیت سے دور اور شیطنت سے قریب کر دے گی۔ اسی لئے قرآن کریم نے ارشاد فرمایا ” یٰآیّھا الرسل کلوا مِنَ الطیبٰت واعملوا صالحًا “ کیونکہ اکل حلال کے بغیر عمل صالح متصور نہیں۔
طیبٰت اور خبائث کا معیار : اب رہی یہ بات کہ کونسی چیزیں طیب یعنی صاف ستھری مفید اور مرغوب ہیں اور کونسی خبائث یعنی گندی، مضر اور قابل نفرت ہیں، اس کا اصل فیصلہ طبائع سلیمہ کی رغبت و نفرت پر ہے، یہی وجہ ہے کہ جن جانوروں کو اسلام نے حرام قرار دیا ہے ہر زمانہ کے سلیم الطبع انسان ان کو گندہ اور قابل نفرت سمجھتے رہے ہیں جیسے مردار جانور، خون البتہ بعض چیزوں کا خبث مخفی ہوتا ہے، ایسی چیزوں میں انبیاء (علیہم السلام) کا فیصلہ سب کیلئے حجت ہوتا ہے، اس لئے کہ افراد انسانی میں سب سے زیادہ سلیم الطبع انبیاء (علیہ السلام) ہی ہوتے ہیں، اسلئے کہ وہ اللہ رب العزت کے خصوصی تربیت یافتہ ہوتے ہیں اور فرشتے ان کی نگرانی پر مامور ہوتے ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) سے لیکر خاتم الانبیاء (علیہ السلام) کے عہد مبارک تک ہر پیغمبر نے مردار جانور اور خنزیر وغیرہ کی حرمت کا اپنے اپنے زمانہ میں اعلان فرمایا ہے۔
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) تعالیٰ نے حجۃ اللہ البالغہ میں بیان فرمایا ہے کہ جتنے جانور شریعت اسلام نے حرام قرار دئیے ہیں اگر ان میں غور کیا جائے تو وہ سمٹ کردو اصولوں کے تحت آجاتے ہیں، ایک یہ کہ کوئی جانور اپنی فطرت اور طبیعت کے اعتبار سے خبیث ہو، دوسرے یہ کہ اس کے ذبح کرنے کا طریقہ غلط ہو جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ ذبیحہ مردار قرار پائیگا۔ سورة مائدہ کی تیسری آیت میں جن نو چیزوں کی حرمت کا ذکر ہے ان میں خنزیر قسم اول میں داخل ہے باقی آٹھ قسم دوم میں، قرآن کریم نے ” ویحرم علیہم الخبائث “ میں اجمالی طور پر خبیث جانوروں کے حرام ہونے کا ذکر فرمایا، اور چند چیزوں کی حرمت کی صراحت کے بعد باقی چیزوں کی حرمت کا بیان رسول اللہ ﷺ کے سپرد فرما دیا۔
اہل کتاب کے ذبیحہ کی حلت اور مناکحت کی اجازت میں مناسبت اور حکمت : وَالْمحصنتِ مِن المؤمنات والمحصنتِ من الذین
اُوْتوا الکتابَ من قبلکم اِذَا آتیتموھن اجورھُنّ ، ابھی کھانے پینے کی چیزوں کی حلت کا ذکر تھا، اس کے معاً بعد کتابیہ سے نکاح کی حلت کا ذکر ہے مناسبت ظاہر ہے کہ جس طرح مواکلت طبعی ضرورت ہے مناکحت بھی انسان کی طبعی خواہش ہے لہٰذا دونوں کو یکجا ذکر کرنا عین باہمی مناسبت کا تقاضہ ہے۔
سوال : اہل کتاب کے ذبیحہ کا مسلمانوں کیلئے حلال ہونے کا بیان سمجھ میں آتا ہے اسلئے کہ مسلمان قرآنی احکام کے مکلف ہیں مگر یہ کہنا کہ مسلمانوں کا ذبیحہ اہل کتاب کے لئے حلال ہے یہ بات سمجھ میں نہیں آتی اسلئے کہ اہل کتاب تو قرآنی احکام کے مکلف ہی نہیں۔
جواب : ایک جواب تو یہ ہے کہ دراصل یہ حکم بھی مسلمانوں ہی کو ہے اس لئے کہ اگر مسلمانوں کا کھانا (ذبیحہ) اہل کتاب کیلئے حرام ہوتا تو کسی مسلمان کے لئے یہ جائز نہ ہوتا کہ کسی اہل کتاب کو اپنا ذبیحہ کھلائے اور اگر کھلاتا تو گنہگار ہوتا مسلمانوں کے ذبیحہ کو اہل کتاب کیلئے حلال کرکے بتادیا کہ اگر مسلمان اہل کتاب کو اپنا ذبیحہ کھلا دے تو گنہگار نہ ہوگا، لہٰذا مسلمان اپنی قربانی کا گوشت کتابی کو دے سکتے ہیں، اگر مذکورہ حکم نہ ہوتا تو کتابی کو اہل اسلام کے ذبیحہ کا گوشت دینا جائز نہ ہوتا۔
دوسرا جواب : جب نص قرآنی کی رو سے مسلمان کیلئے کتابیہ سے نکاح جائز ہے تو یہ ضروری تھا کہ ذبیحہ کی حلت طرفین سے ہو ورنہ تو ازدواجی زندگی میں نہایت دشواری پیش آتی اسلئے کہ مسلمان کو ذبیحہ اہل کتاب کیلئے حلال نہ ہونے کی صورت میں معاشرتی دشواریاں ازدواجی زندگی میں پیچیدگیاں پیدا ہوتیں یا تو اہل کتاب کے ذبیحہ پر اکتفاء کرنا پڑتا جو دونوں کیلئے حلال تھا یا پھر دونوں کیلئے دو ہانڈیاں الگ الگ پکانی ہوتیں جو کہ ایک امر دشوار ہے۔
سوال : قرآنی نص سے معلوم ہوتا ہے کہ کتابیہ عورت مسلمان کیلئے حلال ہے مگر مومنہ کتابی کیلئے حلال نہیں ہے اس کی کیا وجہ ہے
جواب : اس میں حکمت یہ ہے کہ مسلمان چونکہ تمام انبیاء سابقین پر اجمالی ایمان رکھتے ہیں اور ان کا احترام سے نام لیتے اور ان کے نام کیلئے (علیہ السلام) کو لازمی جز سمجھتے ہیں لہٰذا اگر کوئی کتابیہ مسلمان کے نکاح میں ہوگی تو وہ روزمرہ کی زندگی میں اپنے نبی کا نام اداب و احترام سے سنے گی جس سے موافقت وانسیت میں اضافہ ہوگا اور ازدواجی زندگی کی ہم آہنگی کو تقویت حاصل ہوگی اس کے برخلاف اہل کتاب چونکہ نبی آخر الزمان محمد ﷺ کی نبوت کے قائل نہیں ہیں لہٰذا وہ آپ ﷺ کا اسم گرامی احترام نبوت کے ساتھ نہ لیں گے بلکہ ہوسکتا ہے کہ آپ ﷺ کی شان میں بعض اوقات ہتک آمیز کلمات استعمال کریں جن کو سنکر ایک مسلمان عورت جو کسی کتابی کے نکاح میں ہو کبیدہ خاطر ہو، اس کا لازمی اور غیر مختلف نتیجہ یہ ہوگا کہ موافقت کے بجائے ناموافقت اور انس و محبت کے بجائے نفرت و عداوت پیدا ہوجائے جس کے نتیجے میں زندگی کا گلستان محبت وادی پر خار بن جائے۔
کتابیات سے نکاح کے بارے میں ائمہ کا اختلاف : مسلمات اور کتابیات کے درمیان اصلاً قدر مشترک سلسلہ وحی ونبوت پر ایمان ہے، یہود و یصاری کے اعمال فاسقانہ ہوں یا عقائد غالیانہ بہرحال اصلاً یہ لوگ توحید کے قائل اور سلسلہ وحی ونبوت کے ماننے والے ہیں، اور عقائد کے باب میں یہی دو عنوان اہم ترین ہیں البتہ یہ خیال رہے کہ نصرانیت موجودہ یوروپی قوموں کی مسیحیت کے مرادف نہیں ہے۔ کتابیہ سے نکاح بالکل جائز ہے نفس جواز نکاح میں کوئی گفتگو نہیں ہے اور نص کی موجودگی میں گفتگو کی گنجائش بھی نہیں ہوسکتی، البتہ فقہاء نے مفاسد پر نظر کرتے ہوئے اور مصلحت شرعی کا لحاظ رکھتے ہوئے فتویٰ یہ دیا ہے کہ بلا ضرورت شدیدہ ایسے نکاحوں سے بچنا چاہیے۔
یَجُوزُ تزوج الکتابیات والاولیٰ ان لا یفعل، (فتح القدیر) وصح نکاح الکتابیۃ واِنْ کرِہ تنزیھًا، (درمختار) البتہ کتابیہ حربیہ کے نکاح کی کراہت میں شبہ نہیں، تکرہ الکتابیۃ الحربیۃ اجماعاً لافتتاح باب الفتنۃ (فتح القدیر) حنفیہ کے اس قول کا ماخذ حضرت علی ؓ کا ایک اثر ہے جس میں آپ نے کتابیہ مقیم دار الحرب سے نکاح پر کراہت ظاہر فرمائی ہے۔ (مسبوط)
علامہ شامی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ غیر حربیہ سے نکاح مکروہ تنزیہی ہے اور حربیہ سے مکروہ تحریمی۔ (ردالمحتار)
جمہور کا مسلک : جمہور صحابہ وتابعین کے نزدیک اگرچہ ازروئے نص قرآن اہل کتاب کی عورتوں سے فی نفسہٖ نکاح حلال ہے، لیکن ان سے نکاح کرنے پر جو دوسرے مفاسد اپنے لئے اور اپنی اولاد کیلئے بلکہ پوری امت مسلمہ کیلئے ازروئے تجربہ لازمی طور سے پیدا ہوں گے ان کی بناء پر اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کو وہ بھی مکروہ سمجھتے تھے۔ جصاص نے احکام القرآن میں شفیق بن سلمہ کی روایت سے نقل کیا ہے کہ حضرت حذیفہ بن یمان ؓ جب مدائن پہنچے تو وہاں ایک یہودی عورت سے نکاح کرلیا، حضرت فاروق اعظم کو جب اس کی اطلاع ملی تو ان کو خط لکھا کہ اس کو طلاق دیدو، حضرت حذیفہ ؓ نے جواب میں لکھا کہ کیا وہ میرے لئے حرام ہے، تو اس کے جواب میں امیر المؤمنین فاروق اعظم نے لکھا، میں حرام نہیں کہتا لیکن ان لوگوں کی عورتیں عام طور پر عفیف اور پاکدامن نہیں ہوتیں اس لئے مجھے خطرہ ہے کہ کہیں آپ لوگوں کے گھرانوں میں اس راہ سے فحش و بدکاری داخل نہ ہوجائے، اور امام محمد بن حسن (رح) تعالیٰ نے کتاب الآثار میں اس واقعہ کو روایت امام ابوحنیفہ سے اس طرح نقل کیا ہے کہ دوسری مرتبہ فاروق اعظم نے جب حضرت حذیفہ ؓ کو خط لکھا تو اس کے الفاظ مندرجہ ذیل تھے۔
اعزم عَلَیْکَ أن لاتَضَع کتابی ھذا حتیّٰ تخلی سبیلھا فانی اخاف ان یقتدیکَ المسلمون فیختا روا لنساءَ اھل الذمۃ لجمالھِنّ وکفی بذلک فتنۃ لِنساء المسلمین۔ (کتاب الآثار، معارف)
یعنی تم کو قسم دیتا ہوں کہ میرا یہ خط اپنے ہاتھ سے رکھنے سے پہلے ہی اس کو طلاق دیکر آزاد کردو، کیونکہ مجھے خطرہ ہے کہ دوسرے مسلمان بھی تمہاری اقتداء کریں گے اور اہل ذمہ (اہل کتاب) کی عورتوں کو ان کے حسن و جمال کی وجہ سے مسلمان عورتوں پر ترجیح دینے لگیں تو مسلمان عورتوں کیلئے اس سے بڑی مصیبت اور کیا ہوگی۔
فاروق اعظم کی نظر دوربین : فاروق اعظم کا زمانہ تو خیر القرون کا زمانہ تھا، اس وقت اس کا احتمال بہت کم تھا کہ کوئی یہودی یا نصرانی عورت کسی مسلمان کی بیوی بن کر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازش کرسکے، اس وقت تو صرف یہ خطرات سامنے تھے کہ کہیں ان کے ذریعہ ہمارے گھروں میں بدکاری نہ داخل ہوجائے جس کی وجہ سے ہمارے گھر گندے ہوجائیں، یا ان کے حسن و جمال کی وجہ سے لوگ ان کو ترجیح دینے لگیں، جس کے نتیجے میں مسلمان عورتیں تکلیف میں پڑجائیں، مگر فاروقی نظروں نے اتنے ہی نتائج کو سامنے رکھ کر ان حضرات کو طلاق پر مجبور کیا، اگر آج کا نقشہ اور صورت حال ان کے سامنے ہوتی تو اندازہ کیجئے کہ ان کا اس کے متعلق کیا عمل ہوتا۔ اول تو آج یہودیوں اور مسیحیوں کی بہت بڑی تعداد مردم شماری کے رجسٹروں میں تو یہود اور نصاری ہیں مگر حقیقت میں وہ بےدین لامذہب دھرئیے ہیں یہودیت اور نصرانیت کو ایک لعنت سمجھتے ہیں نہ ان کا ایمان تورات پر ہے اور نہ انجیل پر، ظاہر ہے کہ ان لوگوں کی عورتیں مسلمانوں کیلئے کس طرح حلال ہوسکتی ہیں اور بالفرض وہ اپنے مذہب کی پابند بھی ہوں تو ان کو کسی مسلمان گھرانے میں جگہ دینا اپنے پورے خاندان کے لئے دینی اور دنیوی تباہی کو دعوت دینا ہے، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جو سازشیں اس راہ سے اس آخری دور میں ہوئیں اور ہوتی رہتی ہیں اور ہو رہی ہیں جن کے عبرتناک انجام آئے دن آنکھوں کے سامنے آتے ہیں کہ ایک لڑکی نے پوری مسلم قوم اور سلطنت کو تباہ کردیا، یہ ایسی چیزیں ہیں کہ حلال و حرام سے قطع نظر بھی کوئی سمجھدار ذی ہوش انسان اس کے قریب جانے کے لئے تیار نہیں ہوسکتا۔
محصنت کے معنی : مذکورہ آیت میں دو جگہ محصنٰت کا لفظ آیا ہے جس کے معنی عربی لغت نیز عرف و محاورہ کے اعتبار سے دو ہیں ایک آزاد جو باندی کے بالمقابل ہے علامہ سیوطی (رح) تعالیٰ نے یہی معنی مراد لیے ہیں دوسرے عفیف و پاکدامن لغت کے اعتبار سے یہاں یہ معنی بھی مراد ہوسکتے ہیں جیسا کہ بعض مفسرین سے یہ معنی مراد لئے ہیں، پہلے معنی کی رو سے مطلب یہ ہوگا کہ مسلمانوں کیلئے اہل کتاب کی آزاد عورتیں حلال ہیں باندیاں نہیں مجاہد نے یہاں یہی معنی مراد لئے ہیں، مگر جمہور علماء نے دوسرے معنی، یعنی عفیف مراد لئے ہیں جس طرح عفیف و پاکدامن مومن عورت سے نکاح افضل واولی ہے گو غیر عفیف سے نکاح جائز ہے یہی مطلب اہل کتاب کی عفیفاؤں کے بارے میں ہے۔
Ayahs 5:6–10آیت نمبر 6 تا 11
ترجمہ : اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو جب تم نماز کیلئے اٹھو یعنی اٹھنے کا ارادہ کرو حال یہ کہ تم بےوضو ہو تو اپنے چہرت اور اپنے ہاتھ کہنیوں سمیت دھولیا کرو یعنی مع کہنیوں کے، جیسا کہ اس کو سنت نے بیان کیا ہے، اور سروں پر ہاتھ پھیرلیا کرو باء الصاق کے لئے ہے، یعنی مسح کو سروں سے بغیر پانی بہائے متعلق کردو مسح اسم جنس ہے لہٰذا جس پر مسح صادق آئے اس کا کم سے کم کافی ہے، اور وہ سر کے بعض بالوں کا مسح ہے اور یہی امام شافعی (رح) تعالیٰ کا مذہب ہے اور ٹخنوں سمیت پیر دھولیا کرو جیسا کہ سنت نے بیان کیا ہے (اَرْجُلَکم) نصب کے ساتھ ہے اَیْدِیَکم پر عطف کرتے ہوئے اور جر پڑوس کی رعایت کی وجہ سے ہے، اور (کعبین) دو ابھرئی ہوئی ہڈیاں ہیں ہر پیر میں پنڈلی اور قدم کے جوڑ کے مقام پر، اور ہاتھ اور پیر اعضاء مغسولہ کے درمیان اس ممسوح کا فصل ان اعضاء کی طہارت میں وجوب ترتیب کا فائدہ دیتا ہے، اور یہی امام شافعی (رح) تعالیٰ کا مذہب ہے اور وجوب وضوء میں نیت دیگر عبادات کے مانند سنت (اِنما الاعمال بالنیات) سے ماخوذ ہے اور اگر تم جنبی ہو تو اچھی طرح طہارت حاصل کرلیا کرو، یعنی غسل کرلیا کرو اور اگر تم کو مرض ہو ایسا مرض کہ جس میں پانی مضر ہو یا حالت سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی شخص قضائے حاجت سے آیا ہو یعنی حدث کیا ہو، یا تم نے عورتوں سے صحبت کی ہو، اور جستجو کے باوجود پانی دستیاب نہ ہو تو پاک مٹی کا قصد کرو (یعنی مٹی سے کام لو) تو اپنے چہروں کو اور ہاتھوں کو کہنیوں سمیت مسح کرو مٹی پر دو ضرب لگا کر، اور باء الصادق کیلئے ہے، اور سنت نے یہ بات واضح کردی ہے کہ دونوں اعضاء کے مسح سے مراد استیعاب بالمسح ہے، اللہ تعالیٰ تمہارے اوپر وضوء اور غسل اور تیمم فرض کرکے تمہارے کئے کسی قسم کی تنگی کرنا نہیں چاہتا، لیکن وہ چاہتا ہے کہ تم کو حدث سے اور گناہوں سے پاک کرے، اور دین کے قوانین بیان کرکے تمہارے اوپر اہنی نعمت تام کرنا چاہتا ہے تاکہ تم اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو اور تم اپنے نعمت اسلام کو یاد کرو اور اپنے اس عہد کا خیال رکھو جو اس نے تم سے اس وقت لیا کہ جب تم نے نبی سے بیعت کرتے وقت کہا تھا کہ ہم نے سنا اور قبول کیا، ہر اس بات میں جس کا آپ حکم فرمائیں اور منع فرمائیں، خواہ ہم پسند کریں یا ناپسند کریں، اور اللہ سے کئے ہوئے عہد کے بارے میں نقض عہد کرنے سے اللہ سے ڈرو بلاشبہ اللہ تعالیٰ دلوں کے رازوں سے واقف ہے، تو اس کے علاوہ سے بطریق اولی واقف ہے، اے لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ کے لئے اسکے حقوق کے ساتھ راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بنو کسی گروہ کی دشمنی تم کو اس پر آمادہ نہ کرے کہ تم ان کے ساتھ انصاف نہ کرو، کہ تم ان سے دشمنی کی وجہ سے ان سے اپنا مقصد حاصل کرو، دوست و دشمن ہر ایک کے ساتھ انصاف کرو اور عدل خدا ترسی کے زیادہ مناسب ہے اللہ سے ڈرتے رہو جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے سو وہ تم کو اس کی جزاء دیگا ان لوگوں کیلئے جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں اچھا وعدہ ہے کہ ان کیلئے مغفرت ہے اور اجر عظیم ہے اور وہ جنت ہے، اور جو لوگ کفر کریں اور ہماری آیتوں کو جھٹلائیں تو وہ جہنمی ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ کے اس احسان کو یاد کرو جو اس نے تمہارے اوپر کیا ہے جب ایک قوم یعنی قریش نے ارادہ کیا تھا کہ تم پر دست درازی کریں تاکہ تم کو نقصان پہنچائیں (قتل کریں) مگر اللہ نے ان کے ہاتھوں کو تمہارے اوپر اٹھنے سے روک دیا اور تم کو اس سے محفوظ رکھا جس کا وہ تمہارے ساتھ کرنے کا ارادہ کرچکے تھے، اللہ سے ڈرتے رہو ایمان والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیر فوائد
قولہ : ای اَرَدتُّمْ الِقَیامَ اس اضافہ کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔ سوال : اِذَا قُمتم الی الصلوۃِ فاغسلوا وجوھَکم، سے معلوم ہوتا ہے کہ طہارت شروع فی الصلوۃ کے بعد واجب ہے حالانکہ نماز شروع کرنے پہلے ہی طہارت کا ہونا ضروری ہے۔
جواب : یہ ہے کہ اِذَا قمتم کا مطلب ہے اِذَا اَرَدتم الیقامَ ، یعنی جب تم نماز پڑھنے کا ارادہ کرو تو طہارت حاصل کرو۔
سوال : قمتم بول کر اردتم کا ارادہ کس مناسبت سے ہے اس میں کونسا علاقہ ہے ؟
جواب : مسبب بول کر سبب مراد لیا گیا ہے ارادہ چونکہ قیام کا سبب ہے اور قیام مسبب ہے، لہٰذا یہاں قیام بول کر ارادہ مراد لیا گیا ہے
قولہ : وَانْتُمْ مُحْدِثُونَ ، یہ اضافہ بھی ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔
سوال : مذکورہ آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی قیام الی الصلوۃ کا ارادہ ہو تو طہارت حاصل کرنا ضروری ہے خواہ پہلے سے طہارت حاصل ہو یا نہ ہو ؟
جواب : وضوء اسی وقت ضروری ہے کہ جب طہارت نہ ہو، اسی پر علماء کا اتفاق ہے، مگر ہر نماز کے لئے تازہ وضوء کرنا بہتر ہے۔
قولہ : المَرَافِق، یہ مرفق، میم کے کسرہ اور فاء کے زبر کے ساتھ ہے اس میں ایک لغت میم کے فتحہ اور فاء کے کسرہ کے ساتھ بھی ہے، اس جوڑ کو کہتے ہیں جو بازو اور پہنچے کے درمیان ہوتا ہے جس کو اردو زبان میں کہنی کہتے ہیں۔
قولہ : اَلْبَاءُ لِلْاِلْصَاقِ ، بعض حضرات نے کہا ہے کہ باز ائدہ ہے اور بعض نے کہا ہے کہ تبعیض کے لئے ہے، ابن ہشام اور زمخشری نے کہا ہے کہ الصاق کیلئے ہے یعنی مسح کو خواہ پورے سرکا ہو یا بعض کا سر سے متعلق کردو، امام مالک اور احمد نے احتیاطاً استیعاب کو واجب کہا ہے اور امام شافعی (رح) تعالیٰ نے اقل مقدار کو واجب کہا ہے اسلئے کہ یہ یقینی مقدار ہے، اور امام ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ نے ربع رأس کا مسح واجب قرار دیا ہے اور دلیل آپ ﷺ کی وہ حدیث ہے جس میں وارد ہوا ہے، ” اَنَّہٗ مسح علی الناصیۃِ ، الناصیۃ مقدم الراس وھو بقدر ربع الرأس “۔
قولہ ؛ بالَصْبِ ، اَرْجلکم، میں دو قراءتیں ہیں لام کے فتحہ کے ساتھ یہ نافع اور ابن عامر اور کسائی اور حفص کی عاصم سے۔
قولہ ؛ بالجَرّ یہ باقی قراء سبعہ کی ہے، اسی اختلاف قراءت کہ وجہ سے پیروں کے دھونے یا مسح کرنے کے بارے میں مسلمانوں کے درمیان اختلاف ہوا ہے، اہل سنت کے نزدیک صرف غسل ہی واجب ہے اور اہل تشیع کے نزدیک مسح ہی ضروری ہے اور داؤد بن علی اور فرقہ زیدیہ میں سے ناصر للحق دونوں کے درمیان جمع کے قائل ہیں۔
قولہ : والجَرِّ للجوار، یہ ایک سوال کا جواب ہے۔
سوال : بہت سے قراء ” ارجلکم “ میں لام کے کسرہ کے ساتھ پڑھتے ہیں جر کی قراءت کی صورت میں رؤسکم پر عطف ہونے کی وجہ سے مسح کا حکم ہوگا حالانکہ یہ مذہب خوارج اور اہل تشیع کا ہے جو کہ سنت رسول اور سنت صحابہ کے عمل کے خلاف ہے۔
جواب : حاصل جواب یہ ہے کہ اَرْجُلِکم کسرہ لام رعایت جوار کی وجہ سے ہے نہ کہ عطف علی المجرور کی وجہ سے اور اس کی مثالیں قرآن اور غیر قرآن میں بکثرت ہیں۔
تفسیر و تشریح
ربط آیات : اوپر کی آیات میں انسان کی راحت کی حلال چیزوں کا ذکر تھا، جو کہ اللہ تعالیٰ کا ایک بڑا انعام ہے لہٰذا انسان پر لازم ہے کہ منعم کا شکر گزار ہو، اور شکرگزاری کا ایک طریقہ نماز ہے اور نماز کیلئے طہارت ضروری ہے، اور طہارت کے لئے طریقہ طہارت کا جاننا ضروری ہے اسی واسطے مذکورہ آیت میں نماز کے بیان کے ساتھ طہارت کا طریقہ بھی بیان فرمایا۔ جب نماز پڑھنے کا ارادہ کرے اور بےوضو یا بےغسل ہو تو وضو یا غسل کرکے طہارت حاصل کرلے اور اگر پانی دستیاب نہ ہو یا پانی کے استعمال پر قدرت نہ ہو تو اس صورت میں تیمم کرے وضوء اور جنابت سے طہارت حاصل کرنے کیلئے تیمم ایک ہی طرح ہوگا، اگر پہلے سے وضو ہو تو وضوء کرنا ضروری نہیں ہے البتہ مستحب ہے، ایک وضوء سے متعدد نمازیں پڑھنا جائز ہیں، صحیح مسلم میں حضرت بریدہ ؓ کی روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ فتح مکہ کے دن آنحضرت ﷺ نے ایک وضوء سے چند نمازیں پڑھیں، حضرت عمر ؓ نے عرض کیا کہ ایک وضوء سے چند نمازیں پڑھنا آپ کی عادت شریفہ نہیں ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے یہ کام قصداً کیا ہے، آپ ﷺ کا مقصد یہ بیان کرنا تھا کہ اگرچہ ہر نماز کے لئے تازہ وضوء بہتر ہے مگر ایک وضوء سے چند نمازیں پڑھنا جائز ہے گویا آپ نے مذکورہ عمل بیان جواز کے لئے فرمایا۔ وضو میں کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا امام احمد (رح) تعالیٰ کے نزدیک فرض ہے دیگر علماء اس کو سنت کہتے ہیں اسی طرح ڈاڑھی کے بالوں کی جڑ تک پانی پہنچانے کو بعض علماء فرض کہتے ہیں مگر اکثر علماء اس کو بھی سنت کہتے ہیں۔
کہنیاں غسل یدین میں داخل ہیں یا نہیں ؟ ہاتھوں کا مع کہنیوں کے دھونا ضروری ہے سوائے امام زفر (رح) تعالیٰ کے، حضرت جابر کی روایت جس کو دار قطنی اور بیہقی نے روایت کیا ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ہاتھ دھوتے وقت کہنیوں کو بھی دھویا، اس حدیث کو اگرچہ منذری اور ابن صلاح وغیرہ نے ضعیف کہا ہے لیکن صحیح مسلم میں ابوھریرہ کی حدیث مذکور ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت ابوھریرہ نے مونڈھے تک اپنے ہاتھ دھوئے اور کہا کہ میں نے آنحضرت ﷺ کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا، اس حدیث سے جمہور علماء کے اس قول کی تائید ہوتی ہے کہ کہنیاں غسل یدین میں داخل ہیں بلکہ اجر کے لحاظ سے اس سے بھی کچھ بڑھانا چاہیے، چناچہ ابوھریرہ کی اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ نے مونڈھوں تک ہاتھ دھو کر فرمایا کہ قیامت کے دن وضوء کے اعضاء میں اللہ کی قدرت سے ایک چمک پیدا ہوگی اس لئے جس سے ہوسکے اپنی اس چمک کو بڑھائے۔
مذکورہ حدیث پر اعتراض : بعض علماء نے ابوہریرہ کے اس فعل پر اعتراض کیا ہے کہ ابوہریرہ ؓ کا یہ فعل عمرو بن شعیب کی اس حدیث کے خلاف ہے کہ جو مسند امام احمد، نسائی، ابو داؤد وغیرہ میں ہے، جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا، ” جو شخص وضو میں تین دفعہ کی حد سے بڑھا اس نے اپنے نفس پر ظلم کیا “۔
مذکورہ اعتراض کا جواب : مذکورہ اعتراض کا جواب بعض علماء نے یہ دیا ہے کہ عمرو بن شعیب کی اس حدیث میں وضوء کے اعضاء کو تین مرتبہ دھونے کا ذکر ہے اس لئے اس حدیث کے معنی یہ ہیں کہ جو شخص تین دفع دھونے کی حد سے بڑھا اس نے اپنے نفس پر ظلم کیا، اس سے معلوم ہوا کہ ابوہریرہ اور عمروبن شعیب کی حدیث میں کوئی تضاد نہیں ہے اسلئے کہ عمرو بن شعیب کی روایت میں تعداد میں حد سے بڑھنے کی ممانعت ہے اور ابوہریرہ کی روایت میں مقدار میں زیادتی کی سفارش ہے۔ حضرت ابوہریرہ کی اس روایت پر ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ ابوہریرہ اس روایت میں تنہا ہیں کسی اور صحابی سے یہ روایت مروی نہیں ہے، مگر یہ اعتراض بھی صحیح نہیں ہے، اسلئے کہ مصنف ابن ابی شیبہ کی صحیح روایتوں میں یہ فعل حضرت عبد اللہ بن عمر کا بھی موجود ہے۔
سر کا مسح اور ائمہ کا اختلاف : وضوء میں سر کا مسح فرض ہے امام مالک اور امام احمد کے نزدیک پورے سر کا مسح فرض ہے امام ابو
حنیفہ (رح) تعالیٰ کے نزدیک چوتھائی سر کا اور امام شافعی (رح) تعالیٰ کے نزدیک کم سے کم حصے کا مسح کرلینے سے بھی فرض ادا پو جائیگا، ان دونوں حضرات کے نزدیک پورے سر کا مسح بہتر ہے۔ پاؤں دھونے کے سلسلہ میں شیعہ حضرات کے علاوہ امت میں سے کسی کا اختلاف نہیں ہے، شیعہ حضرات کا مسلک یہ ہے کہ پیروں پر مسح فرض ہے نہ کہ دھونا۔ (تفسیر ھدایۃ القرآن)
وَاِنْ کنتم جنبًا فاطّھَّروا، جنابت خواہ مباشرت سے ہو یا بیداری و خواب میں خروج منی سے دونوں صورتوں میں غسل واجب
ہے۔ (مزید تفصیل کے لئے سورة نساء کی آیت 43 ملاحظہ کریں) ۔
یَآیُّھا الذین آمنوا کونوا قوامین للہ شھَدَاء بالقسط (الآیۃ) پہلے کی تشریح سورة نساء کی آیت نمبر (135) میں اور دوسرے جملے کی سورة المائدہ کے آغاز میں گزر چکی ہے۔
عاد لانہ گواہی کی اہمیت : نبی کریم ﷺ کے نزدیک عادلانہ گواہی کی کتنی اہمیت ہے اس کا اندازہ اس واقعہ سے بخوبی ہوتا ہے، حدیث میں آتا ہے کہ، حضرت نعمان بن بشر ؓ کہتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے عطیہ دیا تو میری والدہ نے کہا اس عطیہ پر آپ جب تک اللہ کے رسول کو گواہ نہ بنائیں گے میں راضی نہیں ہوں گی چناچہ میرے والد نبی ﷺ کی خدمت میں آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا، اللہ نے ڈرو اور اولاد کے درمیان انصاف کرو، اور فرمایا کہ میں ظلم پر گواہ نہیں بنوں گا۔ (صحیح بخاری و مسلم)
Ayah 5:11یٰاَیھا الذین آمنوا اذکروا نعمت اللہ علیکم اذھم قوم، (الآیہ) اس آیت کے شان نزول میں مفسرین نے متعدد واقعات بیان کئے ہیں مثلاً کعب بن اشرف اور اس کے ساتھیوں نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے اصحاب کے خلاف سازش کرکے آپ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی اللہ تعالیٰ نے بروقت آپ کو بذریعہ وحی سازش کی اطلاع فرما دی آپ ﷺ فوراً وہاں سے اٹھ کر چلے آئے، بعض نے کہا ہے کہ ایک مسلمان کے ہاتھوں غلط فہمی سے دو عامری شخصوں کا قتل ہوگیا تھا ان کی دیت کی ادائیگی میں حسب معاہدہ بنو نضیر سے تعاون لینا تھا اسی سلسلہ میں آپ ان کے یہاں تشریف لے گئے تھے، اور ایک دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے تھے، یہود نے سازش کرکے اوپر سے ایک پتھر گرا کر آپ کو شہید کرنے کی کوشش کی تھی اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی اس سازش کی اطالع دیدی، ایک تیسرا واقعہ نزول آیت کے بارے میں غوث بن حارث کا نقل کیا ہے، جس کو عبد الرزاق نے حضرت جابر ؓ کی روایت سے اپنی تفسیر میں اس آیت کا شان نزول قرار دیا ہے، اس کی سند معتبر ہے۔
غوث بن حارث کا واقعہ : امام بخاری نے حضرت جابر ؓ سے روایت کی ہے کہ غزوہ ذات الرقاع کے لیے جاتے وقت درختوں کے سایہ میں لوگ ٹھہرگئے حضرت جابر کہتے ہیں کہ میری آنکھ لگ گئیں اور دیگر ساتھی بھی سوگئے، آنحضرت بھی اپنی تلوار ایک درخت پر لٹکاکر استراحت فرمانے لگے، غوث بن حارث نے چپکے سے آکر آپ کی تلوار درخت سے اتارلی اور تلوار سونت کو آپ سے کہنے لگا اب تم کو مجھ سے کون بچائے گا ؟ آپ نے فرمایا اللہ، ابن اسحٰق کی ورایت میں اتنا مزید ہے کہ حضرت جبرائیل نے آکر غوث کے سینہ پر ایک تھپکی ماری جس پر تلوار اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر گرپڑی آنحضرت ﷺ نے وہ تلوار اٹھالی اور غوث بن حارث سے پوچھا اب تجھ کو کون بچاسکتا ہے اس نے کہا کوئی نہیں آپ نے اس کو معاف کردیا، واقدی نے اس واقعہ میں اتنا اور اضافہ کیا ہے کہ غوث اس واقعہ کو دیکھ کر مسلمان ہوگیا اور اس کے واسطہ سے بہت سے لوگوں کو ہدایت نصیب ہوئی، اس واقعہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر یہ احسان فرمایا کہ آپ کو ایک دشمن کے حملے سے بچالیا پھر اس احسان میں امت کو شریک فرمایا گویہ آیت اس تنبیہ کے ساتھ نازل فرمائی کہ امت کی ہدایت کے لئے رسول کا آنا ایک بڑا احسان ہے۔ (احسن تفاسیر )
Ayahs 5:12–19آیت نمبر 12 تا 19
ترجمہ : اور اللہ نے بنی اسرائیل سے آئندہ مذکور باتوں کے بارے میں یہ پختہ عہد لیا تھا، اور ان میں سے ہم نے بارہ نقیب مقرر کئے تھے، اس میں غیبت سے (تکلم کی جانب) التفات ہے، (بَعَثْنَا بمعنی اقمنا ہے نہ کہ بمعنی ارسلنا) ہر قبیلہ سے ایک نقیب (نگراں) کہ وہ اپنی قوم پر ایفاء عہد کی تاکید رکھے اور ان سے کہا تھا کہ میں اعانت اور نصرت کے اعتبار سے تمہارے ساتھ ہوں قسم ہے اگر تم نے نماز قائم رکھی اور زکوٰۃ ادا کی اور میرے رسولوں پر ایمان لائے اور ان کی مدد کی اور راہ خدا میں خرچ کرکے خدا کو قرض حسن دیتے رہے تو یقین رکھو میں تمہاری برائیاں تم سے زائل کر دوں گا، اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کروں گا کہ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، اس عہد کے بعد جس نے تم میں سے کفر کیا تو وہ راہ راست سے بھٹک گیا، یعنی راہ حق سے خطا کر گیا، اور سواء، کے معنی اصل میں وسط کے ہیں، تو بنی اسرائیل نے عہد شکنی کی، تو ان کے نقض عہد کی وجہ سے ہم نے ان کو اپنی رحمت سے دور کردیا اور ہم نے ان کے دلوں کو سخت کردیا جس کی وجہ سے قبول حق کے لئے نرم نہیں ہوتے، (اب ان کا حال یہ ہے) کہ محمد ﷺ کی ان صفات وغیرہ کو کہ جو تورات میں موجود ہیں ان کے اس اصل مفہوم سے کہ جو اللہ نے متعین کیا ہے ردوبدل کرکے کچھ کا کچھ کردیتے ہیں یعنی ان کو بدل دیتے ہیں، اور جس چیز یعنی اتباع محمد کا ان کو تورات میں حکم دیا گیا تھا اس کا اکثر حصہ انہوں نے پس پشت ڈال دیا تھا، اور آئے دن تمہیں یہ آپ ﷺ کو خطاب ہے، ان کے نقض عہد وغیرہ کی کسی نہ کسی خیانت کا پتہ چلتا رہتا ہے، ان میں سے بہت کم لوگ جو اسلام لائے ہیں، (اس عیب سے) بچے ہوئے ہیں (جب ان کی یہ حالت ہے) تو ان کو معاف کردو اور (ان حرکتوں) سے چشم پوشی کرتے رہو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو احسان کی روش پسند کرتے ہیں یہ (حکم) آیت سیف سے منسوخ ہے، اور ان لوگوں سے بھی ہم نے پختہ عہد لیا جنہوں نے کہا کہ ہم نصاری ہیں جیسا کہ ہم نے بنی اسرائیل یہود سے عہد لیا تھا، مگر ان کو بھی جو (سبق) انجیل میں ایمان وغیرہ کا یاد کرایا گیا تھا اس کا ایک بڑا حصہ فراموش کردیا، اور عہد شکنی کی، تو ہم نے ان کے اندر تفریق کے ذریعہ اور ان کے نظریات میں اختلاف کے ذریعہ قیامت تک کے لئے بغض و عدات ڈالدی جس کے نتیجے میں ہر فریق دوسرے کی تکفیر کرتا ہے، عنقریب آخرت میں اللہ تعالیٰ ان کو بےا دے گا جو حرکتیں (دنیا میں) وہ کیا کرتے تھے ؟ تو ان کو اس کی سزا دے گا، اب اہل کتاب یہود و نصاری تمہارے پاس ہمارا رسول آگیا جو کتاب الہیٰ تورات و انجیل کی بہت سی ان باتوں کو جیسا کہ آیت رجم اور آپ ﷺ کی صفات جن پر تم پردہ ڈالا کرتے تھے تمہارے سامنے کھول کھول کر بیان کر رہا ہے اور ان میں سے بہت سی باتوں کو نظر انداز بھی کرجاتا ہے، کہ ان کو ظاہر نہیں کرتا جن میں تمہاری فضیحت کے علاوہ کوئی مصلحت نہ ہو یقیناً تمہارے پاس اللہ کی طرف سے روشنی آگئی اور وہ (محمد ﷺ نبی ﷺ ہیں، اور ایک ایسی حق نما کتب قرآن کہ اس کے ذریعہ اللہ اس شخص کو جو اس کی رضا کا طالب ہے کہ اس پر ایمان لائے سلامتی کے طریقے بتاتا ہے اور اپنے ارادہ سے ان کو کفر کی ظلمت سے ایمان کے نور کی جانب نکالتا ہے اور راہ راست (یعنی) دین اسلام کی جانب رہنمائی کرتا ہے یقیناً ان لوگوں نے کفر کیا جنہوں نے کہا یقیناً مسیح ابن مریم ہی خدا ہے بایں طور کہ انہوں نے مسیح کو معبود قرار دیا اور وہ فرقہ یعقوبیہ ہے جو کہ نصاری کا ایک فرقہ ہے، ان سے پوچھو اگر خدا مسیح ابن مریم کو اور ان کی والدہ کو ہلاک کرنا چاہتا ہے تو کسی کی مجال کہ اللہ کے عذاب کا کچھ بھی دفاع کرسکے، یعنی اس کی کسی کو مجال نہیں، اور اگر مسیح خدا ہوتے تو اس پر قادر ہوتے، یہود و نصاری یعنی ان میں سے ہر ایک کہتا ہے کہ ہم اللہ کے بیٹے ہیں یعنی قرب و منزلت میں، اور وہ ہمارے لئے شفقت و رحمت میں باپ کے مانند ہے اور اس کے چہیتے ہیں اے محمد ﷺ ان سے پوچھو تو پھر وہ تم کو سزا کیوں دیتا ہے ؟ اگر تم اس دعوت میں سچے ہو، اور باپ بیٹے کو سزا نہیں دیا کرتا اور نہ محبوب اپنے محبوب کو اور وہ یقیناً تم کو سزا سے گا، لہٰذا تم (اپنے دعوے میں) جھوٹے ہو، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تم بھی ویسے ہی انسان ہو جیسے دوسرے انسان پیدا کئے تمہارے لئے وہی اجر وثواب ہے جو ان کے لئے ہے اور تمہارے لئے وہی سزا ہے جو ان کے لئے ہے، وہ جسے معاف کرنا چاہے معاف کرتا ہے اور جس کو عذاب دینا چاہتا ہے عذاب دیتا ہے اس پر کوئی اعتراض نہیں آسمانوں اور زمین میں اور ان کے درمیان جو کچھ ہے اللہ کی ملک ہے اور اسی کی طرف لوٹنا ہے اے اہل کتاب ہمارا رسول محمد ﷺ تمہارے پاس آیا ہے اور دین کے احکام کی واضح تعلیم دے رہا ہے جبکہ رسولوں کی آمد کا سلسلہ ایک مدت سے بند تھا اس لئے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کے درمیان کوئی رسول نہیں تھا، اور توقف کی مدت 569 سال ہے جب تم کو سزا دی جائے تو تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہمارے پاس نہ کوئی خوشخبری دینے والا آیا اور نہ ڈرنے والا، مِنْ ، زائدہ ہے، لہٰذا اب تمہارے لئے کسی عذر کی گنجائش نہیں ہے اور اللہ ہر شئ پر قادر ہے اسی میں تم کو سزا دینا بھی شامل ہے اگر تم اس کی اتباع نہ کرو۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : نَقِیْب، جمع نُقَبَاء، سردار، قوم کی طرف سے وفاء عہد کا ذمہ دار، قوم کے حالات کی نگرانی کرنے والا، یہ فعیْل بمعنی فاعل ہے
قولہ : لَئِنْ اَقَمْتُمْ لام حذف قسم پر دلالت کرنے کیلئے ہے، اور ان شرطیہ ہے تقدیر عبارت یہ ہے واللہ لَئِنْ اَقَمْتُمُ الصلوٰۃ، لَاُکَفِّرَنَّ ، جواب قسم ہے جو کہ قائم مقام ہے جواب شرط کے۔
قولہ : عَزّرتموا۔ تعزیر سے ماضی جمع مذکر حاضر ہے، واؤ اشباع کا ہے تم نے مدد کی۔
قولہ : یُحَرِّفونَ الکلِمَ ، یہ جملہ مستانفہ ہے مقصد یہود کی قسادت قلبی کو بیان کرنا ہے۔
قولہ : خیانۃٍ مؤنث ہے، جواب کا حاصل یہ ہے کہ خائنۃٍ فاعل کے وزن پر مصدر ہے جیسا کہ عَافِیَۃً اور عَاقِبَۃ، اس کی تائید اعمش کی قراءت سے ہوتی ہے کہ انہوں نے خائنۃٍ کے بجائے خیانۃً پڑھا ہے، نیز منھم اور فاعْفُ عنھم بھی اس پر دلالت کرتے ہیں۔
قولہ : بآیَۃ السَیْفِ ، ای اقتلوا المشرکین حیث وَجَدتموھم۔
قولہ : متعلق بقولہ، یعنی مِنْ جار، اپنے مجرور جملہ سے ملکر اخذنا کے متعلق ہے۔
قولہ : اَغْرَیْنَا ای اَلْصقنا وَاَلْزَمْنَا، اِغراء سے ماضی جمع متکلم ہے، ہم نے ڈالدی ہم نے لگا دی۔
قولہ : بَیْنَھم، ای فِرَق النصاری۔ (1) نسطوریہ جن کا عقیدہ ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں، (2) یعقوبیہ جن کا عقیدہ ہے کہ مسیح ابن مریم ہی خدا ہیں، (3) ملکانیہ جن کا عقیدہ ہے کہ خدا تین میں کا ایک ہے۔
قولہ : لآیَۃِ الرَجْمِ وَصِفَتِہٖ یہ یہود کے کتمان کی مثال ہے اور نصاری کے چھپانے کی مثال مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد ہے۔
قولہ : اِن صَدَقْتُمْ فِی ذٰلِکَ ، فَلِمَ یعذبکم بذنوبکم، شرط محذوف کی جزاء ہے، لہٰذا عطفِ انشاء علی الاخبار کا اعتراض وارد نہ ہوگا۔ (ترویح الارواح) قولہ : لان لا تقولوا، لام محذوف مان کر اشارہ کردیا کہ جملہ لاجلہ ہے۔
تفسیر و تشریح
ولَقَدْ اَخذَ اللہ مِیْثَاقَ بَنِیْ اِسْرَائیلَ (الآیۃ) سابقہ آیات میں مسلمانوں کے عہد اور اس عہد پر قائم رہنے کی تاکید کا ذکر تھا، ان آیات میں اہل کتاب کی عہد شکنی اور اس کے انجام بد کا ذکر ہے، مقصد مسلمانوں کو آگاہ کرنا ہے کہ عہد شکنی بڑے وبال کا باعث ہوتی ہے، ان آیات میں یہود کی دو عہد شکنیوں کا ذکر ہے۔
پہلی عہد شکنی : پہلی عہد کنی کا حاصل یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے مصر میں قیام کے زمانہ میں بنی اسرائیل ملک شام سے ہجرت کرکے مصر میں سکونت پذیر ہوگئے تھے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں فرعون کی ہلاکت کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا کہ بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر ملک شام چلے جائیں، ملک شام پر چونکہ قوم عاد کے باقی ماندہ کچھ لوگ قابض ہوگئے ہیں ان سے لڑ کر ملک شام کو آزاد کرائیں اور وہیں سکونت اختیار کریں، قوم عاد کے لوگوں میں ایک شخص تھا جس کا نام عملیق بن آذر تھا، ملک شام پر قابض لوگ اسی شخص کی اولاد تھے اسیلئے ان کو عمالقہ کہا جانے لگا تھا، عمالقہ قوم کے لوگ بڑے۔۔ توش کے مالک اور شہ زور اور قد آور تھے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب شام کے قریب پہنچے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے بارہ قبیلوں میں سے بارہ سردار منتخب کئے جن کو اپنے اپنے قبیلوں کی دینی و اخلاقی نگرانی کی ذمہ داری سپرد کی، مذکورہ بارہ سرداروں کو قوم عمالقہ کے حالات معلوم کرنے کیلئے بھیجا اور ان سے یہ عہد لیا کہ قوم عمالقہ کی قوت و طاقت اور شہ زوری کی کوئی ایسی بات یہاں آکر بیان نہ کریں جس سے بنی اسرائیل کے حوصلے پست ہوجائیں اور ان سے خوف زدہ ہو کر ان سے لڑنے سے ہمت ہار بیٹھیں، چناچہ قوم عمالقہ کے حالات معلوم کرکے آنے کے بعد بارہ آدمیوں میں سے دس نے بدعہدی کی اور اپنے عزیزوں اور دوستوں سے قوم عمالقہ کی شہ زوری کی حالات بیان کر دئیے جس کی وجہ سے بنی اسرائیل ہمت ہار گئے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ لڑنے کیلئے جانے سے انکار کردیا، ان آیتوں میں بنی اسرائیل کی عہد شکنی اور بارہ سرداروں کی بدعہدی کا ذکر ہے۔
دوسری عہد شکنی : دوسرا عہد تورات کے احکام کی پابندی کا تھا، اس دوسرے عہد میں نماز، زکوۃ وغیرہ کا بنی اسرائیل کو پابند کیا گیا تھا جو انہوں نے پورا نہ کیا جس کا ذکر سورة آل عمران میں تفصیل سے گزر چکا ہے، ان آیات میں اسی سابقہ عہد کو یاد دلایا گیا ہے، غرض یہ کہ اس عہد کے مطابق یہود کو عیسیٰ (علیہ السلام) اور نبی آخر الزمان کی فرمانبرداری اور پیروی کا پابند کیا گیا تھا انہوں نے اس کو پورا نہ کیا جس کی وجہ سے تورات کے بھی پابند نہ رہے، اسلئے کہ تورات کی جن آیات میں عیسیٰ (علیہ السلام) اور نبی آخر الزمان ﷺ کے اوصاف علامات مذکور تھیں ان میں لفظی اور معنویی تحریف کر ڈالی، اسی تحریف کی جانب ویُحَرِفونَ الکلم عن مواضعہٖ ، سے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے، یہود چونکہ اپنے پختہ عہد پر قائم نہ رہ سکے، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ طرح طرح کی سزاؤں میں گرفتار ہوئے اور اس طرح ذلت سے دوچار ہوئے کہ تاریخ میں یہود کا نام ہمیشہ ذلت سے لیا گیا، یہ سب کچھ عہد شکنی کی وجہ سے ہوا، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے قلوب قبول حق کے معاملہ میں سخت پتھر کے مانند ہوگئے، اس سنگدلی کا اثر یہ ہوا کہ اپنے اندر تبدیلی کے بجائے خدا کے کلام میں تبدیلی کرنے لگے جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ ان کو جو نصیحت کی گئی تھی اس کا اکثر حصہ فراموش کر بیٹھے، ان کی اس تحریف خیانت کا سلسلہ ہنوز جاری ہے جس کی اطلاع آپ کو ہوجاتی ہے، البتہ بہت تھوڑے لوگ ان میں ایسے بھی ہیں کہ اس ناشائستہ حرکت سے محفوظ رہے، آپ ان کو معاف کیجئے اور درگزر سے کام لیجئے۔
سابق میں بنی اسرائیل کی بداعمالیوں اور بداخلاقیوں کا جو بیان آیا بظاہر اس کا مقتضیٰ یہ تھا کہ رسول کریم ﷺ ان سے انتہائی نفرت و حقارت کا معاملہ کریں ان کو پاس نہ آنے دیں اس آیت کے آخری جملہ میں آپ ﷺ کو ہدایت دی جا رہی ہے۔ ” ماعفُ عنھم واصفح انّ اللہ یحب المحسنین “ یعنی آپ ان کو معاف کریں اور ان کی بدکرداریوں کو نظر انداز کریں، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ حسن سلوک کرنے والوں کو پسند کرتے ہیں۔
وَمِنَ الذین قالوا انا نصاریٰ سابقہ آیت میں یہود کی عہد شکنی اور اس کے انجام بد کا ذکر تھا، اس آیت میں کچھ نصاری کا حال بیان کیا جا رہا ہے، کہ نصاری نے بھی عہد شکنی کی، اور اس کی سزا کا بیان ہے کہ ان کے آپس میں افتراق اور بغض و عداوت ڈالدی گئی جو تاقیامت باقی رہے گی۔
سوال : آج کل عیسائیوں کے حالات سے یہ شبہ پیدا ہوسکتا ہے کہ وہ باہم متحد نظر آتے ہیں ؟
جواب : مذکورہ آیت میں ان عیسائیوں کا حال بیان کیا جارہا ہے کہ واقعی عیسائی ہیں، اور عیسائی مذہب کے پابند ہیں اور جو خود اپنے مذہب کو بھی چھوڑ کر دہرئیے اور بےدین ہوچکے ہیں وہ درحقیقت عیسائیوں کی فہرست سے خارج ہیں، چاہے وہ قومی طور پر خود کو عیسائی کہتے ہوں، ایسے لوگوں میں اگر وہ افتراق اور عداوت نہ ہو تو وہ اس آیت کے منافی نہیں، اسلئے کہ افتراق واختلاف تو مذہب کی بنیاد پر تھا جب مذہب ہی نہ رہا تو اختلاف بھی نہ رہا۔
انجیل میں آپ ﷺ کی بشارت : آج جو صحیفے انجیلوں کے نام سے مسیحی ہاتھوں میں موجود ہیں، صدگونہ تحریفات کے باوجود بشات محمدی ﷺ ان میں آج تک باقی ہے حضرت یحییٰ کے بارے میں ہے، جب یہودیوں نے یروشلم سے کاہن اور لاوی یہ پوچھنے کو یحییٰ (علیہ السلام) کے پاس بھیجے کہ تو کون ہے ؟ (آیا تو مسیح ہے) تو اس نے کہا میں تو مسیح نہیں ہوں، پھر انہوں نے اس سے پوچھا پھر تو کون ہے ؟ کیا تو ایلیا ہے اس نے کہا میں نہیں ہوں، کیا تو وہ نبی ہے، اس نے جواب دیا نہیں تو انہوں نے اس سے سوال کیا کہ اگر تو نہ مسیح ہے نہ ایلیا نہ وہ نبی تو بپتسمہ کیوں دیتا ہے ؟ (یوحنا، 25: 1)
مذکورہ گفتگو میں بار بار وہ نبی کے کیا معنی ہیں ؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی معروف نبی کی پیش گوئی یہود میں مدت سے
چلی آرہی تھی اور یہ نبی یقیناً مسیح سے الگ ہے جیسا کہ اوپر کے سوالات سے ظاہر ہے۔